اہم نکات
قرآن کی فریاد
طاقوں میں سجایا جاتا ہوں ، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
تعویذ بنایا جاتا ہوں ، دھودھو کے پلایا جاتا ہوں
جزدان حریر وریشم کے ، اور پھول ستارے چاندی کے
پھر عطر کی بارش ہوتی ہے ، خوشبو میں بسایا جاتا ہوں
جیسے کسی طوطے مینا کو ، کچھ بول سکھائے جاتے ہیں
اس طرح پڑھایا جاتا ہوں ، اس طرح سکھایا جاتا ہوں
دل سوز سے خالی رہتے ہیں ، آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی ہی نہیں
کہنے کو میں اک اک جلسہ میں ، پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں
جب قول وقسم لینے کے لیے ، تکرار کی نوبت آتی ہے
پھر میری ضرورت پڑتی ہے ، ہاتھوں پہ اُٹھایا جاتا ہوں
نیکی پہ بدی کا غلبہ ہے ، سچائی سے بڑھ کر دھوکا ہے
اک بار ہنسایا جاتا ہوں ، سو بار رولا یا جاتا ہوں
یہ میری عقیدت کے دعوے ، قانون پہ راضی غیروں کے
یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں ، ایسے بھی ستایا جاتا ہوں
کس بزم میں میرا ذکر نہیں ، کس عُرس میں میری دُھوم نہیں
پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں ، مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں
)ماہر القادریؒ(
قرآن حکیم: اہم نکات
1۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا : جو یہ جاننا چاہتاہے کہ اللہ کے نزدیک اس کا مقام کیا ہے،وہ یہ دیکھے کہ اللہ کا مقام اس کے نزدیک کیا ہے۔ اس کا بہترین ٹیسٹ یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ اللہ کاکلام موجود ہے مگر ہمارا رویہ اس کے متعلق کیا ہے، عامیانہ یا محبت والا؟
۔پروفیسراحمدرفیق اختر کہتے ہیں کہ : Allah Should be the only top intellectual priority(ترجمہ: صرف اللہ ہی بلند ترین فکری ترجیح ہوناچاہیے)
2- قر آ ن کےسائے میں:
قرآن کے سائے میں زندگی بسر کرنا نعمت عظمٰی ہے اور اس کی قدر وہی جانتا ہے جو اس سے لطف اندوز ہوا ہو۔ یہ نعمت زندگی کی شان بلند کر دیتی ہے، اسے با برکت بنا دیتی ہےاور اسے پاک کر دیتی ہے۔ مجھ پر اللہ تعالی کایہ کرم عظیم ہے کہ اس نے مجھے ایک عرصہ تک قرآن کے سائے میں جینے کا موقع عنایت فرمایا۔ اس عرصہ میں میری کیفیت یہ تھی کہ گویا میں براہ راست اللہ تعالی سے ہمکلام ہوں۔ میں، اللہ کا ایک حقیر اور بے بضاعت بندہ، اور ذات باری۔
چہ نسبت خاک را با عالم پاک
انسان کے لیے عالم بالا کے اس جلیل القدر اعزاز سے بڑھ کر کوئی اعزاز نہیں ہو سکتا۔ کیا ہیں وہ بلندیاں جہاں تک اللہ کا یہ کلام انسانی زندگی کو پہنچاتا ہے اور کیا ہے وہ مقام بلند، جوبندہ ناچیز کا خالق اسے مرحمت فرماتا ہے، ہاں تو قرآن کے سائے میں جیتے ہوئے ، میں نہایت بلندی سے دیکھتا رہا کہ اس زمین پر جاہلیت کا سیلاب امنڈ رہا ہے۔ میں اس جاہلیت کے پیروکاروں کے حقیر و صغیر تکلفات کو بھی دیکھتا رہا۔ اہل جاہلیت کے خامکارانہ معارف و تصورات طفلانہ اہتمامات کو میں ایک فرزانہ اور جہاندیدہ شخص کی نظر سے دیکھتا رہاکہ وہ کھیلتے ہیں گھروندے بناتے ہیں اور بچوں کی سی باتیں کرتے ہیں۔ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس گندے اور وبائی ماحول میں خطرناک حد تک گھرے ہوئے ہیں اور اس جلیل القدر آسمانی آواز کو نہیں سن رہے جو انہیں مسلسل پکار رہی ہے اور جو ان کی زندگی کو بلند، بابرکت اور پاکیزہ بنانا چاہتی ہے۔
عقیدہ ہی اس کا خاندان قرار پایا، ایک مومن بھائی کا درجہ سگے بھائی سے بلند اور مضبوط ہوگیا۔ چنانچہ انسانیت کا مستحکم اجتماع اور اکٹھ ہمیشہ عقیدے ہی کی بنیاد پر ہوا اور کبھی وہ حیوانات اور بہائم کی طرح باڑے، چراگاہ، چارے اور ریوڑ کی بنیاد پر جمع نہ ہوئی۔
ذرا دیکھیے تو سہی مومن کا نسب کس قدر بلند ہے۔ اس کا شجرہ نسب تاریخ انسانیت میں دور دور تک جا پہنچا ہے۔ وہ ایک ایسے معزز خاندان کا فرد ہے جس کی قیادت اونچے درجے کے معزز حضرات کے ہاتھ میں ہے۔ یعنی حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ، حضرت اسحاقؑ، حضرت یعقوبؑ، حضرت یوسفؑ، حضرت موسیؑ، اور آخر میں حضرت محمد ﷺ۔ اِنَّ هٰذِهٖ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ " یہ ہے امت ایک اور میں تمہارا رب ہوں پس میری ہی بندگی کرو۔")فی ظلال القرآن--- سید قطب)
3۔محمد مارما ڈیوک پکتھال۔ (The Meaning of The Glorious Qura’n) کے نام سے قرآن کا انگریزی ترجمہ کرنے والے وہ پہلے انگریز مترجم ہیں جو بمقابلہ مستشرقین اپنے ترجمہ میں گاڈ (God) کی بجائے اللہ کالفظ استعمال کرتے ہیں ۔مئی 1936ء میں آپ کی وفات کے بعد صبح ان کے ڈیسک سے سورہ بقرہ کی آیت 112ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ملی.
بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ (ترجمہ: ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے)
“Nay, but whosoever surrendereth his purpose to Allah while doing good, his reward is with his Lord; and there shall no fear come upon them neither shall they grieve”
(The Meaning of The Glorious Qura’n by Muhammad Marmaduke William Pickthall: 1875-1936)
Nay, but whosoever surrenders his purpose to God while doing good, his reward is
with his Lord; and there shall no fear come upon them neither shall they grieve.
4۔ قرآن کا اعجاز:
i۔حضورؐ کے سب سے بڑے دشمن ابوجہل ،ابوسفیان اور اخنس بن شریق جو صبح کی روشنی میں نبیؐ کی مخالفت میں کوئی کسر نہ اٹھاتے رات کے اندھیرے میں چھپ کر قرآن سنتے۔ ایک مرتبہ فجر سے کچھ دیر پہلےقرآن سنتے ہوئے جب ان کا ایک دوسرے سے آمنا سامنا ہوا تو شرمندہ ہوگئے۔
ii ۔قرآنِ حکیم کا یہ اعجاز کہ اس کا یہ چیلنج آج تک موجود ہے کہ قرآن کا کوئی بدل پیش کرو۔ سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ طور میں کہا گیا ہے کہ اس جیسا قرآن لے آؤ۔ سورۃ ھود میں کہا گیاہے کہ اس جیسی دس سورتیں لے آؤ۔ سورۃ یونس اور سورۃ بقرۃ میں فرمایا گیاہے کہ اس جیسی کوئی ایک سورۃ لے آؤ۔ مگر فصاحت و بلاغت کے اس شاہکار کا اعجاز ہے کہ اس وقت کے بڑے بڑے شعراء ، خطیب ، ساری دنیا کو عجم کہنے والے اور آج کے بڑے بڑے مستشرقین ایک سورۃ بھی نہ لا سکے۔ قرآن کا چیلنج ملاحظہ کریں؛ ۔ (1) قُل لَّئِنِ ٱجْتَمَعَتِ ٱلْإِنسُ وَٱلْجِنُّ عَلَىٰٓ أَن يَأْتُوا۟ بِمِثْلِ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِۦ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍۢ ظَهِيرًۭا "کہہ دو کہ اگر انسان اور جِن سب کے سب مل کر اِس قرآن جیسی کوئی چیزلانے کی کوشش کریں تو نہ لا سکیں گے، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں (بنی اسرائیل: 88)۔۔۔۔ (2) اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ "کیا یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے۔ اگر یہ اپنے اس قول میں سچے ہیں تو اسی شان کا ایک کلام بنا لائیں۔" (الطور: 33 -34)۔۔۔۔ (3) اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ "کیا یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ کتاب خود گھڑ لی ہے؟ کہو، "اچھا یہ بات ہے تو اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں تم بنا لاؤ اور اللہ کے سوا اور جو جو (تمہارے معبود) ہیں اُن کو مدد کے لیے بلا سکتے ہو تو بلا لو اگر تم (انہیں معبود سمجھنے میں) سچے ہو" ( ھود: 13)۔۔۔۔ (4) اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ " کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر ؐ نے اسے خود تصنیف کر لیا ہے؟ کہو، ”اگر تم اپنے اس الزام میں سچے ہو تو ایک سُورة اس جیسی تصنیف کر لاوٴ اور ایک خدا کو چھوڑ کر جس جس کو بُلا سکتے ہو مدد کے لیے بلا لو۔" (سورۂ یونس: 38 )۔۔۔۔۔ (5) وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَ ةُ ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ " اوراگر تمھیں اس امرمیں شک ہےکہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے ،یہ ہماری ہے یا نہیں،تو اس کے مانند ایک ہی سورۃ بنا لاوٴ،اپنے سارے ہم نواوٴں کو بُلالو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو، مدد لےلو،اگر تم سچے ہو۔ تو یہ کام کرکے دکھاوٴ۔لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ،اور یقینًا کبھی نہیں کر سکتے ،تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر ،جومہیّاکی گئی ہےمنکرینِ حق کے لیے" (بقرہ: 23 -24 )
iii۔ قرآن کی زبان عربی ہے اور عربی بھی وہ عربی جو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے معجزے کی حد کو پہنچی ہوئی ہے.. جن و بشر میں سے کسی کو یہ قدرت حاصل نہیں ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کر سکے.شعرائے سبعہ معلقہ میں "لبید" آخری شاعر ہیں.. ان کے ایک شعر پر "سوق عکاظ" (عکاظ کا میلہ) میں تمام شعرائے وقت نے ان کو سجدہ کیا اور عرب کی روایت کے مطابق اعزاز کے طور پر ان کا قصیدہ خانہ کعبہ پر آویزاں کیا گیا۔ یہ لبید بعد میں مسلمان ہو گئے.. مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے شعر کہنا ترک کر دیا.. جو شاعر تمام عرب کے شعرا کا مسجود ہو۔ وقت کا ملک الشعرا اور عرب کی فصاحت و بلاغت کا مظہرِ کامل مانا جائے , اس کے یوں ترک شعر پر لوگوں کو بڑا تعجب ہوا.. کسی نے ان سے پوچھا کہ اب آپ شعر نہیں کہتے..؟ اس کے جواب میں انہوں ہے فرمایا کہ "ابعد القرآن".؟ کیا قرآن نازل ہو جانے کے بعد بھی اس کے لیے کوئی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ (تدبرِ قران ،صفحہ : 14)
iv۔ روایت ہے کہ کسی نے اس وقت کے رواج کے مطابق ایک کاغذ پر سورۃ کوثر لکھ کر خانہ کعبہ کے دروازے پر لٹکا دی۔ ۔ اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ ؕفَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕاِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ۠ ۧ (اے نبیؐ) ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دیا۔ پس تم اپنے ربّ ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ تمہارا دُشمن ہی جَڑ کٹا ہے " (سورۂ کوثر)۔۔۔۔ یہ اس بات کی دعوت تھی کہ اگر کوئی ہمت کر سکے تو کاغذ کے حاشیے پر اس کی اصلاح کر دے۔ کئ دن تک کسی میں یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ اس پر کوئی ترمیم و اضافہ کرسکے۔ آخر ایک دن کسی نے لکھا۔ "ما ھذٰا قول البشر"۔ یعنی یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہے۔ (تفسیرِ حقانی)
V۔ ایک دن مشرکینِ مکہ کے بڑے بڑے سردار بیت اللہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور حضورِ اکرمؐ کے بارے گفتگو ہو رہی تھی۔خطیبِ عرب، مانے ہوئے سفارت کار اور ابو سفیان کے سسر عتبہ بن ربیعہ نے کہا کہ اگر مجھے اجازت ہو تو میں محمؐد سے بات کروں۔۔۔۔۔ چنانچہ عتبہ اٹھ کر پیارے نبی ﷺ کے پاس آیااور بولا: بھتیجے! تمہیں معلوم ہے کہ تم کتنے اونچے خاندان کے فرزند ہو۔ ہمارے دل میں تمہارا کیامقام ہے؟ اس سے بھی خوب واقف ہو، مگر تم نے تو بہت بری آواز اٹھائی ہے۔ دیکھ رہے ہو۔ پوری قوم تتر بتر ہو گئی ۔ اور سارا نظام درہم برہم ہو گیا۔ اچھا سنو، میں کچھ باتیں رکھتا ہوں ۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی بات دل کو لگ جائے۔ اور تم اپنا یہ کام چھوڑ دو۔ پیارے نبیؐ نے فرمایا: " ہاں ہاں، کہیے ابو الولید! میں شوق سے سنوں گا۔" عتبہ بولا: " بھتیجے ! قوم میں پھوٹ ڈالنے سے کیا فائدہ؟ دولت چاہتے ہو، تو بتاؤ، تمہارے سامنے ہم دولت کے ڈھیر لگا دیں۔ سرداری کا شوق ہو تو تمہیں اپنا سردار بنا لیں۔ بادشاہی کی تمنا ہو، تو اس کےلیے بھی ہم تیار ہیں۔ پھر تمہارے بغیر کوئی فیصلہ نہ ہو گا۔ اور جو تم کہو گے، وہی ہو گا۔ اور اگر آسیب کا اثر ہو گیا ہے، اور اس کے مقابلے میں تم بے بس ہو جاتے ہو، تو بتاؤ، ہم علاج کا اچھے سے اچھا انتظام کریں گے، اور جب تک اچھے نہیں ہو جاؤ گے پانی کی طرح دولت بہائیں گے۔" اس طرح عتبہ وہی باتیں کرتا رہا، جو اس سے پہلے لوگ کر چکے تھے۔ پھر عتبہ اپنی بات سے فارغ ہو ا تو آپؐ نے فرمایا: " ابوالولید! ذرا سنیے، میں بھی کچھ سناتا ہوں،"اس کے بعد آپؐ نے سورۃ سجدہ کی تلاوت کی۔ عتبہ پوری توجہ سے سنتا رہا۔ اور کئی جگہ تو اس کا دل دہل دہل گیا۔ پھر آپ ﷺ تلاوت سے فارغ ہوئے تو وہ اٹھا۔ اور قریش کی طرف لوٹ پڑا۔ لیکن اب اس کی رائے پہلی جیسی نہ تھی۔ اب اس کے دل کی دنیا بدل چکی تھی۔چنانچہ ساتھیوں کی نظر پڑی ، تو انہوں نے دور ہی سے کہا: خدا کی قسم ! یہ وہ چیز نہیں جو یہاں سے لے کر یہ گیا تھا۔" پھر وہ قریب ہوا تو سب نے پوچھا: "کہو ! ابو الولید! کیا رہا؟"۔ ابو الولید بولا: " خدا کی قسم میں نے شاعروں کے قصیدے سنے ہیں۔ کاہنوں کے کلام بھی سنے ہیں۔ لیکن یہ چیز ہی اور ہے۔ اس جیسی چیز تو میرے کانوں نے اب تک نا سنی۔ بھائیو! میری بات مان لو اور جو کچھ وہ کرتا ہے، کرنے دو۔ اس کو عرب پر چھوڑ دو۔ اگر وہ غالب آ گئے تو تمہارا مقصد حاصل ہے بھائی کے خون سے ہاتھ رنگنے سے بچ جاؤ گے۔ اور اگر وہ اس کے سامنے جھک گئے،تو اس کی عزت تو تمہاری عزت ہے۔ اس کی طاقت تو تمہاری طاقت ہے"۔ قریش بولے: ابو الولید!۔۔۔ خدا کی قسم ۔۔۔تم بھی اس کے جادو سے بچ نہ سکے" ("محمدِ عربی " مرتبہ: محمد عنایت اللہ سبحانی۔ صفحہ: 106-107)
vi۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ جس شخص کے سینے میں قرآن نہیں اس کی مثال اجڑے گھر کی ہے۔۔vii ۔جامعۃ الازہر کے فارغ التحصیل ایک پاکستانی نوجوان نے بتایا کہ عربی زبان بولنے والے تمام ممالک میں ایک عامی عربی ہے جو عوام الناس بولتے ہیں اور ایک علمی عربی ہے جو بہت بلند پایہ علمی محفلوں میں بولی جاتی ہے او ر اعلیٰ درجے کے دانشوروں اور علماء کی تحریروں میں نظر آتی ہے۔ علمی عربی پر قرآن کی چھاپ نمایا ں طور پر نظر آتی ہے۔ تمام عرب یونیورسٹیوں میں ، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ،عربی ادب کا مطالعہ قرآنِ حکیم کے بغیر مکمل نہیں ہو تا اور ان کے تمام لٹریچر کا معیار قرآنِ حکیم کے اسلوب سے جانچا جاتا ہے (مرتب) ۔۔۔۔ viii ۔ روایت ہے کہ بعض غیر مسلم نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ ؑ عصا اور ید بیضا لائے تھے۔ عیسیٰ ؑ اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو اچھا کرتے تھے۔ دوسرے پیغمبر بھی کچھ نہ کچھ معجزے لائے تھے۔ آپ فرمائیں کہ آپ کیا لائے ہیں ؟ اس پر آپ نے سورۃ آل عمرآن کی آیات 90 تا 95 تلاوت فرمائیں اور ان سے کہا کہ میں تو یہ لایا ہوں۔۔۔۔چونکہ تمام اہلِ زبان تھے، اس لیے وہ قرآن کے اعجاز کوسمجھ گئے اور پلٹ کر کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہم تو کوئی حِسی معجزہ مانگ رہے تھے، اورآپؐ نے قرآن پڑھ کر سنا دیا۔ آپؐ کی ذات قرآن کے اس عظیم معجزے کے ساتھ تمام معجزات کا حسین مرکب ہے۔ (تفہیم القرآن)
؎ حسن یوسف، دم عیسیٰ ،یدبیضاداری آنچہ خوباں ہمہ دارند،تو تنہا داری
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگرقرآن ایک معجزہ ہے تو ہمارے لیے کیوں نہیں ہے۔ اس کا جواب ہماری ذات کے اندر پوشیدہ ہے (i) مسلمانوں کا اخلاقی انحطاط، اور بدیانتی (ii)انفاق سے بے زاری اور جہاد سے گریز ۔ (iii) دل سوز سے خالی ہے،نگاہ پاک نہیں ہے۔ (iv) دلوں پر تالے / دل پتھر ہو گئے ۔(v) شریعت کی بجائے مغربی قانون پر رضا مند۔
یاراں عجب اندازِ دو رنگی دارند
مصحف بہ بغل، دینِ فرنگی دارند
) vi (کردار کی کمی۔ اے لَا اِلٰہ کے وارث! باقی نہیں ہے تجھ میں گُفتارِ دلبرانہ، کردارِ قاہرانہ۔
(vii)تارکِ قرآن ہونا ۔ (viii) اللہ کی وارننگ (دوسروں کو تمہاری جگہ) (مرتب)
5۔قرآن سے فیضیاب ہونے کا مناسب طریقہ ۔ ایک ماحول جیسے (i) روح کو تقویت دینے والا مطالعہ(ii)تصوف و روحانی کتابیں(iii)نیک لوگوں اور بزرگوں کی صحبت(iv)مجالس میں باقاعدگی سے شرکت۔(v)بزرگوں کے واقعات سے تذکیر۔۔۔مثلاً حضرت امام ابوحنیفہؒ سورۂ یٰسین کی آیت:59 پڑھکر ساری رات روتے رہے ۔ سَلٰمٌ۰ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ۵۸ وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّہَا الْمُجْرِمُوْنَ۵۹ )رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے۔ اور اے مجرمو، آج تم چھَٹ کر الگ ہو جاوٴ۔(
۔قرآن نہ تو علمی چٹنی یا مسالے دار چاٹ ہے اور نہ ہی اقوال زریں کا مجموعہ ۔(ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ)
6۔نظم قرآن کےسات گروپ۔(i)اگر نظم ضروری نہ ہوتاتو بہترین ترتیب، ترتیبِ نزولی ہوتی۔(ii)دوسری مناسب ترتیب مقدار پر ہو سکتی تھی، یعنی ہر سورت میں برابر آیتیں رکھ دی جاتیں۔(iii)مفسرین کے تدبر کا نتیجہ ہے کہ آج ہم قرآن کریم کو مکی اور مدنی سورتوں کے ملے جلے سات گروپوں میں تقسیم کر سکتے ہیں جن میں سے ہر گروپ ایک یا ایک سے زائد مکی سورتوں سے شروع ہوتاہےاور ایک یا ایک سے زیادہ مدنی سورتوں پر تمام ہوتاہے اور ہر گروپ کی سورتیں ایک خاص موضوع کا احاطہ کرتی ہیں ۔ہر گروپ میں پہلے مکی سورتیں ہیں ۔ان کے بعد مدنی سورتیں ہیں۔ یاد رہے کہ قرآن فہمی کے سلسلے میں دریافت شدہ یہ سات گروپ قرآن کی ان سات منزلوں سے مختلف ہیں جو تلاوتِ قرآن کو سات دنوں میں ختم کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
(i)پہلا گروپ فاتحہ سے شروع ہوتاہے ،مائدہ پر ختم ہوتاہے۔اس گروپ میں فاتحہ مکی ہے باقی چار مدنی سورتیں ہیں (پہلے گروپ کا عمود: دنیا کی امامت سے یہود و نصاریٰ کی معزولی اور امت مسلمہ کو اس پر فائز کرنا۔ بحوالہ ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی۔ مرتبہ خالد مسعود)۔
(ii)دوسرا گروپ انعام اور اعراف دومکی سورتوں سے شروع ہوتاہے اور انفال و توبہ دومدنی سورتوں پر ختم ہوتاہے (دوسرے گروپ کا عمود: توحید کے تقاضوں کی وضاحت اور قریش کے دعویٰ کا ابطال کہ وہ ملت ابراہیم ہیں۔ بحوالہ ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی)۔
(iii)تیسرے گروپ میں پہلے 14 سورتیں یونس تامومنون مکی ہیں آخر میں سورہ نور ہے جو مدنی ہے(عمود: اہل ایمان کی فتح مندی اور قریش کی ہزیمت۔ اہل ایمان کے لیے بشارت۔ بحوالہ ایضاً)۔
(iv)چوتھا گروپ فرقان سے شروع ہوتاہے ،اوراحزاب پر ختم ہوتاہے ۔اس میں 8 مکی سورتیں ہیں آخر میں ایک احزاب مدنی ہے (عمود: حضورؐ کی رسالت اور قرآن کی دعوت کا دفاع۔ بحوالہ ایضاً )۔
(v) پانچواں گروپ سبا سے شروع ہوتاہے اور حجرات پر ختم ہوتاہے۔اس میں 13 مکی سورتیں ہیں اور آخری تین سورتیں مدنی ہیں (عمود: اثبات توحید اور شکر توحید کی بنیاد۔ بحوالہ ایضاً)۔
(vi)چھٹا گروپ ق سے شروع ہوکر تحریم پر ختم ہوتاہے۔اس میں سات مکی سورتیں ہیں اس کے بعد دس مدنی (عمود: بعث بعد الموت اور حشر و نشر۔ بحوالہ ایضاً) ۔
(vii)ساتواں گروپ ملک سے شروع ہوکر الناس پرختم ہوتاہے ہمارے نزدیک اس میں بھی مکیات اور مدنیات کی ترتیب اسی طرح ہے جس طرح دوسرے گروپوںمیں ہیں (عمود: قیامت کا انذار۔ بحوالہ ایضاً)۔(تدبرقرآن)
7۔قرآن آسان ۔چند غلط فہمیاں:
اگر کوئی شخص صرف یہ جاننا چاہے کہ قرآن نے عملی زندگی کیلئے کیا احکام دیے ہیں تو اس کیلئے اسے کسی بڑی کاوش کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگرکوئی شخص دین کی حکمت معلوم کرنا چاہے تو اسے بہرحال قرآن کے اندر معتکف ہونا اور اس کیلئے ساری زندگی قربان کرنا پڑے گی۔۔۔اس کی نوعیت کسی سپاٹ کتاب کی نہیں کہ آپ اس کو دوچار مرتبہ پڑھ لیں اور اس کے اندر جو کچھ ہے اس کو اخذ کرلیں بلکہ اس کی حیثیت ایک معدن کی سی ہے جس کے اندر جتنی ہی گہری کھدائی کی جائے اتنے ہی اس سے خزانے پر خزانے نکلتے آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس کو صرف ایک دوبار پڑھ لینے کی ہدایت نہیں ہوئی بلکہ باربار مختلف شکلوں اور مختلف مقداروں میں تلاوت کرتے رہنے کی ہدایت ہوئی۔(تدبرقرآن )
8۔قرآن کے طالبوں کیلئے چند ہدایات:
۔۔۔جنگ کیلئے صرف ہتھیار ہی کافی نہیں ہوتے بلکہ اس کی فتح وشکست میں اصلی عامل کی حیثیت دل کوحاصل ہوتی ہے۔۔۔جو اس کے منکر ہیں وہ اس بات کا تو ایک حد تک اعتراف کرتے ہیں کہ ایک خاص دور میں اس کتاب کے ذریعے سے کچھ اصلاحات واقع ہوئیں ۔لیکن ان کے خیال میں اب وہ زمانہ گزر چکا۔عرب کے بدوؤں کیلئے، جن کے مسائل سیدھے سادے تھے،یہ کتاب مفید ہوسکتی تھی،لیکن موجودہ زمانے کے اُلجھے ہوئے مسائل کو سلجھانے کیلئے یہ کتاب کافی نہیں۔جو اس کے ماننے والے ہیں ان میں سے بہت سے لوگ اسے محض حرام و حلال کے بتانے کا ایک فقہی ضابطہ سمجھتے ہیں۔ چناچہ فقہ کے احکام علیحدہ مرتب ہوجانے کے بعد ان کی نگاہوں میں اگر اس کی کوئی اہمیت باقی رہ گئی ہے تو صرف تبرک کے نقطہ نظر سے باقی رہ گئی ہے۔بہت سے لوگ اس کو بس متبرک کلمات اور دعاؤں کا مجموعہ سمجھتے ہیں جن کا ورد تو ضروری ہے لیکن وہ اس کوغور و فکر کا محل نہیں سمجھتے۔بہت سے لوگ اس کو نزع کی سختیوں کو دور کرنے یا ایصالِ ثواب کی کتاب سمجھتے ہیں اور جب بھی وہ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اسی قسم کی غرض کیلئے متوجہ ہوتے ہیں۔بہت سے لوگ اس کو دفع آفات و بلیات کا تعویذ سمجھتے ہیں اور ان کی ساری دلچسپی اس کے ساتھ بس اسی پہلو سے ہوتی ہے۔ اسی طرح کی غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے مسلمان ناممکن ہے کہ قرآن حکیم سے وہ فائدہ اٹھاسکیں جس کیلئے فی الحقیقت وہ نازل ہواہے۔ان لوگوں کی مثال بالکل ایسی ہے کہ ان کو توپ دی گئی کہ وہ اس کے ذریعے سے شیطان کے قلعے مسمار کریں لیکن وہ اسے مچھر مارنے کی مشین سمجھ بیٹھے۔۔۔(تدبرِ قرآن)
9۔قرآن کے تقاضوں کے مطابق بدلنے کا عزم:۔قرآن حکیم سے صحیح استفادے کیلئے تیسری ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر ،قرآن مجید کے تقاضوں کے مطابق ،اپنے ظاہر و باطن کو بدلنے کا مضبوط ارادہ موجودہو۔ایک شخص جب قرآن مجید کو گہری نگاہ سے پڑھتا ہے تو وہ ہر قدم پر یہ محسوس کرتاہے کہ قرآن کے تقاضے اور مطالبے اس کی اپنی خواہشوں اور چاہتوں سے بالکل مختلف ہیں ۔وہ دیکھتاہے کہ اس کے تصورات و نظریات بھی قرآن سے بیشترالگ ہیں اور اس کے معاملات و تعلقات بھی قرآن کے مقرر کردہ حدود سے ہٹے ہوئے ہیں۔وہ اپنے باطن کو بھی قرآن سے دور پاتاہے اور اپنے ظاہر کو بھی اس سے بالکل منحرف دیکھتاہے۔ اس فرق و اختلاف کو محسوس کرکے ایک صاحب عزم اور حق طلب آدمی تو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ خواہ کچھ ہو میں اپنے آپ کو تاحدِ امکان قرآن کے مطالبات کے مطابق بنانے کی کوشش کروں گا۔وہ ہر قسم کی قربانیاں کرکے، ہر طرح کے مصائب جھیل کر،ہرنوع کی ناگواریاں برداشت کرکے اپنے آپ کو قرآن کے مطابق بنانے کی کوشش کرتاہے اور اپنی نیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سےاس کی توفیق پاتا ہے۔ لیکن جو شخص صاحب ِ عزم نہیں ہوتاہے وہ اس خلیج کو پاٹنے کی ہمت نہیں کرتا جو وہ اپنے اور قرآن کے درمیان حائل پاتاہے۔وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اگرمیں اپنے عقائد و تصورات کو قرآن کے مطابق بنانے کی کوشش کروں تو مجھے ذہنی اور فکری اعتبار سے نیاجنم لینا پڑے گا۔اسے یہ نظر آتاہےکہ اگر میں اپنے اعمال و اخلاق کو قرآن کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کروں تو میرا اپنا ماحول میرے لیے بالکل اجنبی بن کے رہ جائے گا۔اسے یہ اندیشہ ہوتاہے کہ اگرمیں اپنے آپ کو ان مقاصد کی تکمیل میں سرگرم کروں جن کا مطالبہ مجھ سے قرآن کررہاہےتو میں جن فوائد اور جن لذات سے متمتع ہورہاہوں ان سے متمتع ہونا تو الگ رہا،عجب نہیں کہ جیل اور پھانسی کی سزاؤں سے دوچار ہونا پڑے ۔وہ یہ دیکھتاہے کہ اگرمیں اپنے وسائل معاش کو قرآن کے ضابطۂحرام و حلال کی کسوٹی پر پرکھوں تو آج جو عیش مجھے حاصل ہے اس سے محروم ہوکر شاید اپنی نانِ شبینہ کیلئے بھی فکر مند ہونا پڑے ۔ان خطروں کے مقابل ڈٹ جانا اور ان سے مقابلے کیلئے کمرہمت باندھ لینا ہر شخص کا کام نہیں ہے۔صرف مردانِ کار ہی ان گھاٹیوں کو پارکرسکتے ہیں۔کمزور ارادے اور پست حوصلے کے لوگ یہیں سے اپنے رخ بدل لیتے ہیں۔بعض ،جو اپنی کمزوریوں پر زیادہ پردہ ڈالنے کے خواہشمند نہیں ہوتے ،وہ تو یہ کہتے ہوئے اپنی خواہشوں کے پیچھے چل کھڑے ہوتے ہیں کہ قرآن مجید کا راستہ ہےتو بالکل صحیح لیکن اس پر ہمارے لیے چلنا نہایت مشکل ہے اس لیے ہم اسی راستے پر چلتے رہیں گےجس پر چلتے آئے ہیں۔لیکن جو لوگ اپنی کمزوریوں کو عزیمت اور اپنے نفاق کو ایمان کے روپ میں پیش کرنے کا شوق رکھتے ہیں،وہ اپنا یہ شوق مختلف تدبیروں سے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔بعض اضطراری و مجبوری کے بہانوں سے اپنے لیے ناجائز کو جائز اورحرام کو حلال بناتے ہیں۔بعض جھوٹی اورباطل تاویلات کے ذریعے سے باطل پر حق کا ملمع چڑھاتے ہیں۔بعض وقت کے مصالح اور حکمت عملی کے تقاضوں کی آڑ تلاش کرتے ہیں۔بعض کتاب الٰہی میں اس قسم کی تحریف کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس قسم کی تحریفوں کے مرتکب یہود اور نصاریٰ ہوئے ہیں۔بعض کفر و ایمان کے بیچ سے ایک راہ نکالنے کی کی کوشش کرتے ہیں، قرآن کے جس حصے کو اپنی خواہشوں کے مطابق پاتے ہیں اس کو تولے لیتے ہیں اور جس حصے کو اپنی خواہشوں کے مطابق نہیں پاتے اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔یہ ساری راہیں شیطان کی نکالی ہوئی ہیں۔ان میں سے جس راہ کو بھی آدمی اختیار کرے گا وہ اس کو سیدھا ہلاکت کے گڑھے کی طرف لے جائے گی۔کامیابی اور فلاح کی راہ صرف یہ ہے کہ آدمی قرآن کے سانچے میں اپنے آپ کو ڈالنے کی ہمت کرے اور اس کیلئے ہر قربانی پر آمادہ ہوجائے۔کچھ عرصے تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے اس ارادے کی آزمائش ہوتی ہے ۔اگر آدمی اس آزمائش میں اپنے آپ کو مضبوط ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے تو پھر اس کیلئے کامرانی کی راہیں کھلنی شروع ہوجاتی ہیں ۔اگرایک دروازہ بندہوتاہے تو خدا اس کیلئے دوسرا دروازہ کھول دیتاہے۔اگر ایک ماحول سے وہ پھینکا جاتاہے تو دوسرا ماحول اس کے خیر مقدم کیلئے آگے بڑھتاہے۔اگرایک زمین اس کو پناہ دینے سے انکار کردیتی ہے تو دوسری زمین اس کیلئے اپنی آغوش کھول دیتی ہے۔اسی حقیقت کی طرف قرآن حکیم نے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے۔(اور جو ہماری راہ میں جدوجہد کرینگے ہم ضرور ان پر اپنی راہیں کھولیں گےاور اللہ خوب کاروں کے ساتھ ہے۔ ) ۔۔۔افلا یتدبرون القرآن ام علیٰ قلوب اقفالا۔(کیا یہ لو گ قرآن پرغور نہیں کرتے یا دلوں پر تالے چڑھے ہوئے ہیں)۔۔۔محض تبرک کے طورپر الفاظ کی تلاوت کرلینا اور معانی کی طرف دھیان نہ کرنا حضرات صحابہ کرام کا طریقہ نہیں ہے۔یہ طریقہ تو اس وقت سے رائج ہواہے جب لوگوں نے قرآن مجید کو ایک صحیفۂ ہدایت کی بجائے محض حصول برکت کی ایک کتاب سمجھنا شروع کردیا۔۔۔دنیا کی شاید ہی کوئی کتاب ہو جس نے قرآن حکیم سے زیادہ اس بات پر زوردیا ہو کہ اس کا حقیقی فائدہ صرف اسی صورت میں حاصل کیا جاسکتاہے جب اس کو پورے غور و تدبر کے ساتھ پڑھا جائے لیکن یہ عجیب ماجراہے کہ یہی ایک کتاب ہے جو ہمیشہ آنکھ بند کرکے پڑھی جاتی ہے ۔معمولی سے معمولی کتاب بھی پڑھنے کیلئے سب سے پہلے اپنے دماغ کو حاضر کرتے ہیں لیکن قرآن کے ساتھ لوگوں کی یہ انوکھی روش ہے کہ جب اس کو پڑھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو بالعموم سب سے پہلے اپنے دماغ پر پٹی باندھ لیتےہیں۔۔۔جہاں تک حکمت کا تعلق ہے اس کے دروازے تو آخر شب کی خلوتوں کے بغیر کھلتے ہی نہیں۔(تدبرقرآن)
10۔خاص ہدایات: (i)نیت کی پاکیزگی(ii)قرآن کو ایک برتر کلام ماناجائے ۔قرآن ایک خاص دورکےلئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ یہ کہنا کہ چودہ سوسال گذرگئے اس لیے یہ آج کے حالات کے مطابق نہیں، ایک غلط تصور ہے۔۔۔۔آج اسے ماننے والے محض حلال و حرام کی کتاب سمجھتے ہیں جو چند فقہی مسائل کو بیان کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے متبادل کے طور پر ،فقہ یا حضرت صاحب کی کوئی کتاب ہی کافی ہے ۔(iii)قرآن کے تقاضوں کے مطابق بدلنے کا عزم(iv)تدبر (v) اللہ تعالیٰ سے رہنمائی کی دعا۔ یہ درخواست کرتاہوں کہ تو قرآں کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور،میرے غم کا مداوا اور میرے فکر و پریشانی کا علاج بنادے۔ (تدبرقرآن)
11۔ مکی اور مدنی ادوار:
1۔پہلا دور آغاز ِ بعثت سے لے کر اعلانِ نبوت تک تقریباً تین سال جس میں دعوت خفیہ طریقے سے خاص خاص آدمیوں کو دی جارہی تھی اور عام اہل مکہ کو اس کا علم نہ تھا۔2
۔دوسرا دور اعلانِ نبوت سے لے کر ظلم و ستم اور فتنہ کے آغاز تک تقریباً دوسال جس میں پہلے مخالفت شروع ہوئی پھر اس نے مزاحمت کی شکل اختیار کی۔پھر تضحیک ،استہزاء،الزامات،سب و شتم، جھوٹے پروپیگنڈے اورمخالفانہ جتھہ بندی تک نوبت پہنچی۔بلآخر ان مسلمانوں پر زیادتیاں شروع ہوگئیں جو نسبتاً زیادہ غریب ،کمزور اور بے یارومددگار تھے۔3۔تیسرا دور آغاز ِ فتنہ سن5 نبویؐ سے لے کر ابوطالب ؓ اور حضرت خدیجہؓ کی وفات سن10 نبویؐ تک تقریباً پانچ چھ سال۔ اس میں مخالفت انتہائی شدت اختیار کرتی چلی گئی بہت سے مسلمان کفار مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر حبش کی طرف ہجرت کرگئے ۔نبیؐ اور آپؐ کے خاندان اور باقی ماندہ مسلمانوں کا معاشی و معاشرتی مقاطعہ کیا گیا۔آپؐ اپنے حامیوں اور ساتھیوں سمیت شعب ابی طالب میں محصور کردئیے گئے۔
4۔ چوتھا دور10 سن نبوی سے لے کر 13 نبویؐ تک تقریباً تین سال۔ یہ نبیؐ اور آپؐ کے ساتھیوں کیلئے انتہائی سختی و مصیبت کا زمانہ تھا۔مکہ میں آپؐ کیلئے زندگی دوبھر کردی گئی تھی۔طائف گئے تو وہاں بھی نارواسلوک ہوا۔حج کے موقع پر عرب کے ایک ایک قبیلہ سے آپ اپیل کرتے رہے کہ وہ آپؐ کی دعوت قبول کرے اور آپؐ کا ساتھ دے مگر ہر طرف سے کورا جواب ہی ملتا رہا۔ادھر اہل مکہ بار بار یہ مشورے کرتے رہے کہ آپؐ کو قتل کردیں یا قید کردیں یا اپنی بستی سے نکال دیں۔آخر کار اللہ تعالیٰ کے فضل سے انصار کے دل اسلام کیلئے کھل گئے اور ان کی دعوت پر آپؐ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔۔۔
مدنی دور:(الف)۔ اس نئی منظم اسلامی سوسائٹی کا نشوونما جس کی بناء ہجرت کے ساتھ ہی مدینہ طیبہ اور اس کے اطراف و جوانب میں پڑچکی تھی۔اس میں جاہلیت کے پرانے طریقوں کو مٹاکر اخلاق،تمدن،معاشرت ،معیشت اور تدبیر مملکت کے نئے اصول رائج کیے جارہے تھے۔(ب)دوسرے اس کش مکش کا مقابلہ جو مشرکین،عرب،یہودی قبائل اور منافقین کی مخالف اصلاحی طاقتوں کے ساتھ پوری شدت سے جاری تھی۔(ج)تیسرے اسلام کی دعوت کو ان مزاحمتی طاقتوں کے باوجود پھیلانا اور مزید دلوں اور دماغوں کو مسخر کرنا۔اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس موقع پر جتنے احکام نازل کیے گئے وہ سب ان ہی تین شعبوں سے متعلق ہیں۔
اسلامی سوسائٹی کی تنظیم کیلئے سورۂ بقرہ میں جو ہدایات دی گئی تھیں اب یہ سوسائٹی ان سے زائد ہدایات کی طالب تھی ،اس لیے سورۂ نساء کے ان خطبوں میں زیادہ تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ مسلمان اپنی اجتماعی زندگی کو اسلام کے طریق پر کس طرح درست کریں۔خاندان کی تنظیم کے اصول بتائے گئے ۔نکاح کیلئے بعض شرائط عائد کی گئیں۔معاشرت میں عورت اور مرد کے تعلقات کی حدبندی کی گئی۔یتیموں کے حقوق معین کیے گئے ۔(اسلامیات بی اے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی(216تا218)
12۔مکی اور مدنی آیتوں کی خصوصیات:
علماء تفسیر نے مکی اور مدنی سورتوں کا استقراء کرکے ان کی بعض ایسی خصوصیات بیان فرمائی ہیں جن سے پہلی نظر میں یہ معلوم ہوجاتاہے کہ یہ سورت مکی ہے یا مدنی؟ان میں سے بعض خصوصیات قاعدہ کلیہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور بعض اکثری ہیں، قواعد کلیہ یہ ہیں:۔ (1)ہر وہ سورت جس میں لفظ کلا (ہرگزنہیں )آیا ہے وہ مکی ہے،یہ لفظ پندرہ سورتوں میں 33 بار استعمال ہواہے۔اور یہ ساری صورتیں قرآن کریم کے آخری نصف حصہ میں ہیں۔(2)ہر وہ سورت جس میں(حنفی مسلک کے مطابق )کوئی سجدہ کی آیت آئی ہے،مکی ہے۔(3)سورہ بقرہ کے سوا ہروہ سورت جس میں آدم و ابلیس کا واقعہ مذکور ہے وہ مکی ہے۔(4)ہر وہ سورت جس میں جہاد کی اجازت یا اس کے احکام مذکور ہیں مدنی ہے۔(5)ہر وہ آیت جس میں منافقوں کا ذکر آیا ہے ،مدنی ہے۔اور مندرجہ ذیل خصوصیات عمومی اور اکثری ہیں،یعنی کبھی کبھی ان کے خلاف بھی ہوجاتاہے لیکن اکثروبیشتر ایسا ہی ہوتاہے۔1۔ مکی سورتوں میں عموماً یاایھاالناس(اے لوگو)کے الفاظ سے خطاب کیا گیا ہے، اور مدنی سورتوں میں یاایھاالذین اٰمنوا(اے ایمان والو)کے الفاظ سے۔2۔ مکی آیتیں اور سورتیں عموماً چھوٹی چھوٹی اور مختصر ہیں،اور مدنی آیات و سور طویل اور مفصل ہیں۔3۔مکی سورتیں زیادہ تر توحید، رسالت اور آخرت کے اثبات ،حشر و نشر کی منظر کشی،آنحضرتؐ کو صبروتسلی کی تلقین اور پچھلی امتوں کے واقعات پر مشتمل ہیں، اور ان میں احکام و قوانین کم بیان ہوئے ہیں ،اس کے برعکس مدنی سورتوں میں خاندانی اور تمدنی قوانین ،جہاد و قتال کے احکام اور حدود و فرائض بیان کیے گئے ہیں۔4۔مکی سورتوں میں زیادہ ترمقابلہ بت پرستوں سے ہے اور مدنی سورتوں میں اہل کتاب اور منافقین سے۔ 5۔ مکی سورتوں کا اسلوبِ بیان زیادہ پرشکوہ ہے،اس میں استعارات و تشبیہات اور تمثلیں زیادہ ہیں ،اور ذخیرہ الفاظ بہت وسیع ہے،اس کے برخلاف مدنی سورتوں کا انداز نسبۃً سادہ ہے۔مکی اور مدنی سورتوں کے انداز و اسلوب میں یہ فرق دراصل حالات ،ماحول اور مخاطبوں کے اختلاف کی وجہ سے پیدا ہواہے ،مکی زندگی میں مسلمانوں کا واسطہ چونکہ زیادہ ترعرب کے بت پرستوں سے تھا،اور کوئی اسلامی ریاست وجود میں نہیں آئی تھی ،اس لئے اس دور میں زیادہ زور عقائد کی درستی ،اخلاق کی اصلاح،بت پرستوں کی مدلل تردید اور قرآن کریم کی شانِ اعجاز کے اظہار پر دیا گیا ،اس کے برخلاف مدینہ طیبہ میں ایک اسلامی ریاست وجود میں آچکی تھی۔لوگ جوق در جوق اسلام کے سائے تلے آرہے تھے ،علمی سطح پر بت پرستی کا ابطال ہوچکا تھااور تمام تر نظریاتی مقابلہ اہل کتاب سے تھا،اس لیے یہاں احکام و قوانین اور حدود و فرائض کی تعلیم اور اہل کتاب کی تردید پر زیادہ توجہ دی گئی اور اسی کے مناسب اسلوب بیان اختیار کیا گیا۔(معارف القرآن)
13۔نفاق سے بچنے کا طریقہ: (Preventive) یعنی پرہیزی علاج ۔کثرت ذکر (مطالعہ قرآن)(Curative)……. علاج۔علاج نفاق بالانفاق۔ (بیان القرآن)
14۔ مفسرین کی مختلف جماعتیں اور منہاج :بمطابق الفوز الکبیر فی اصول التفسیر:شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔(i)محدثین (ii)متکلمین (iii)نحویین(iv)ادباء(v)قرآء(قرآن مجید کی قرآتیں)(vi)صوفیا(علم سلوک)(vii)جامعین۔
15۔عما نویل کانٹ: "میں یہ تو نہیں کہہ سکتاکہ جوکچھ میں نے سوچا وہ سب لکھ دیا لیکن یہ ایک امر واقعی ہے کہ جوکچھ لکھاہے وہ اچھی طرح سوچ سمجھ کے لکھاہے"(تدبرِ قرآن)
16۔ قرآن نہ پڑھنا اور اس پر تبصرہ کرنا ۔Intellectualیا فکری بددیانتی ۔۔۔بمقابل ساری عمر دین فہمی میں مصروف علماء کو غلط ٹھہرانا۔
17۔کثرت سوال کی ممانعت: راوی حضرت ابوھریرہ۔حضورؐ نے فرمایا کہ جس چیز سے تمہیں روکوں اس سے بچو اور جس چیز کا حکم دوں اسے بجالاؤ۔تم سے پہلے لوگوں کو ان کے سوالات کی کثرت اور انبیاسے اختلاف ہی نے ہلاک کیا ۔
صحابہ کے کس قسم کے سوالات:
جہاں عمل میں دقت ہو ،پورے قرآن میں کل 17یا 19سوال۔ 7سوال صرف سورۂ بقرہ میں ۔۔۔مثلاً یسئلونک ماذا ینفقون۔ "یسئلونک" کا جواب ماں باپ، رشتہ دار ،یتیم ،مسکین اور مسافر پر خرچ کرو۔ وماتفعلومن خیر فان اللہ بہ علیم۔تم جوکچھ بھلائی کروگے اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے۔
دوسری دفعہ "یسئلونک" کا جواب۔ العفو۔ جو ضرورت سے زائد ہو وہ خرچ کرو۔ علاوہ ازیں قبولیت کا پیمانہ: لن تنالوالبرحتی تنفقوا مماتحبون۔تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی وہ چیز یں (خداکی راہ میں)خرچ نہ کروجنہیں تم عزیز رکھتے ہو۔( آل عمران:92)
العفو اور علامہ اقبال کی دعوت فکر:
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں۔۔۔۔اللہ کرے تجھ کو عطا جِدّتِ کردار
جو حرفِ ’قُلِ العَفو‘ میں پوشیدہ ہے اب تک۔۔۔اس دَور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار!
18۔ضیاءالقرآن۔(i)کتاب ہدایت: آج ہمیں قرآن مجید کے اسی پہلو پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینی چاہیئے لیکن شومئی تقدیر ملاحظہ ہو آج قرآن کا یہی پہلو متروک اور مہجور ہے ii)) بربادشدہ قوموں کےاعمال سے اپنا موازنہ : ہم اکثر بگڑی ہوئی قوموں کے حالات اور ان کےحسرت ناک انجام کے متعلق قرآن میں پڑھتے ہیں اور ایک لمحہ توقف کیے بغیر آگے نکل جاتے ہیں ۔ ہم یہ زحمت بہت کم گوارہ کرتے ہیں کہ اپنے اعمال کا موازنہ ان برباد شدہ قوموں کے اعمال سے کریں اور یہ سوچیں کہ کہیں ہم بھی انھی نا فرمانیوں کا شکار تو نہیں اور اگر خدانخواستہ ہیں تو اپنے انجام کی ہولناکیوں سے غافل کیوں ہیں؟ کیا مکافاتِ عمل کا قانون قدرت کا اٹل قانون نہیں؟ کیا ہم نے یہ نہیں پڑھا کہ " ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا" (iii) اہل سنت والجماعت کا آپس میں اختلاف: اس باہمی اور داخلی انتشار کا سب سے المناک پہلو اہلِ سنہ والجماعت کا آپس میں اختلاف ہے جس نے انھیں دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے۔ دین کے اصولی مسائل میں دونوں متفق ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی توحیدِ ذاتی و صفاتی، حضورِ اکرمؐ کی رسالت اور ختمِ نبوّ ت ، قرآنِ کریم، قیامت اور دیگر ضروریاتِ دین میں کلی موافقت ہے لیکن بسا اوقات طرزِ تحریر میں بے احتیاطی اور اندازِ تقریر میں بے اعتدالی کے باعث غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور باہمی سؤ ظن ان غلط فہمیوں کو ایک بھیانک شکل دے دیتا ہے۔ اگر تقریر و تحریر میں احتیاط و اعتدال کا مسلک اختیار کیا جائے اور اس بد ظنی کا قلع قمع کر دیا جائے تو اکثر و بیشتر مسائل میں اختلاف ختم ہو جائے۔ (ضیاء القرآن)
19۔ قرآن کا موضوع /مضامین ۔
موضوع : انسان اور اس کی ہدایت (صراط مستقیم)
مضامین: (i) عقائد: توحید ،رسالت،آخرت (ii) احکام ،عبادات،معاملات(iii)اخلاق ،تزکیہ،احسان(iv)امم سابقہ کا تذکرہ اور قصص ا لقرآن(v) موت و ما ابعد الموت کا تذکرہ۔ (مرتب)۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے مطابق مضامین قرآن: (i) آیات الٰہی (ii) ایام الٰہی (iii) مخاصمہ (بنی اسرائیل، نصاریٰ، مشرکین، اور منافقین کے دلائل کا توڑ اور ان کو تنبیہ) (iv) موت اور ما بعد الموت (v) آیات البر و آیات الاحکام (عکس قرآن مرتبہ محمد الیاس ڈار)
20۔مزرعۂ آخرت۔یہ دنیا کھیل تماشا نہیں بلکہ مزرعۂ آخرت ہے ۔اس کا پھل آخرت میں ملے گا ۔تمثیل۔ایک دانہ ،اس دانہ سے سات بالیاں اور ہر بالی میں سودانے ۔700 گنا اجر۔اس سے زیادہ بھی مل سکتا ہے۔سورۂ بقرہ(آیت:261)
21۔ امتِ وسط اور بہترین امت:
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۰ۭ)البقرہ: 143(
ترجمہ: اور اس طرح ہم نےتمہیں درمیانی امت بنایا تاکہ تم انسانیت پر گواہ ہواور رسول تم پر گواہ بنیں۔)اسلامیات بی اے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی(283) ،ڈاکٹر خالد مسعود )
گواہی کیسے؟
كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۰ۭ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ۰ۭ مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ۱۱ ) آل عمران:110(
ترجمہ: تم ان تمام امتوں سے بہترہوجولوگوں میں پیداہوئیں کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پرایمان رکھتے ہو۔علامہ اقبالؒ نے اسی آیت کے حوالے سے اسلامی تہذیب کے اصول و عناصر پر بحث کی ہے۔خطبات میں کہتے ہیں کہ نبی اکرمؐ تاریخ میں قدیم اور جدید دور کے درمیان میں تشریف لائے۔قدیم دور یونانی فکر اور فلسفےکادور۔جو محض فکروخیال کی دنیا(حقائق کے برعکس)۔
ـــ تحویل قبلہ اور امت وسط ساتھ ساتھ ۔ایک امت کی معزولی اوردوسری کی امامت ۔امت وسط کالفظ ۔یہ امت محمدؐ کی امامت کا اعلان ہے۔"اسی طرح کا اشارہ دونوں طرف ہے :اللہ کی اُس رہنمائی کی طرف بھی، جس سے محمدؐ کی پیروی قبول کرنے والوں کو سیدھی راہ معلوم ہوئی اور وہ ترقی کرتے کرتے اس مرتبے پر پہنچے کہ"امت وسط"قراردیے گئے،اور تحویل قبلہ کی طرف بھی کہ نادان اسے محض ایک سمت سے دوسری سمت کی طرف پھرنا سمجھ رہے ہیں،حالانکہ دراصل بیت المقدس سے کعبے کی طرف سمت قبلہ کا پھرنا یہ معنی رکھتاہےکہ اللہ نے بنی اسرائیل کو دنیا کی پیشوائی کے منصب سے باضابطہ معزول کیا اور امتِ محمدیہ کو اس پر فائز کردیا۔"امت وسط"کا لفظ اس قدر وسیع معنویت اپنے اندر رکھتا ہےکہ کسی دوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا حق ادانہیں کیا جاسکتا۔اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے، جو عدل و انصاف اور توسط کی روش پر قائم ہو،جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتاہو،جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہواور ناحق،ناروا تعلق کسی سے نہ ہو۔پھریہ جو فرمایا کہ تمہیں "امت وسط"اس لیے بنایاگیا ہے کہ"تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو"۔۔۔درحقیقت اس کا امامت اور پیشوائی کے مقام پر سرفراز کیا جانا ہے۔اس میں جہاں فضیلت اور سرفرازی ہے وہیں ذمہ داری کا بہت بڑا بار بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح رسول اللہؐ اس امت کیلئے خدا ترسی ،راست روی ،عدالت اور حق پرستی کی زندہ شہادت بنے،اسی طرح اس امت کو بھی تمام دنیا کیلئے زندہ شہادت بنناچاہیے،حتیٰ کہ اس کے قول اور عمل اور برتاؤمیں، ہر چیز کو دیکھ کر دنیا کو معلوم ہوکہ خداترسی اس کا نام ہے،راست روی یہ ہے،عدالت اس کو کہتے ہیں اور حق پرستی ایسی ہوتی ہے۔پھر اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جس طرح خداکی ہدایت ہم تک پہنچانے کیلئے رسول اللہؐ کی ذمہ داری بڑی سخت تھی ،حتیٰ کہ اگر وہ اس میں ذراسی کوتاہی بھی کرتے تو خداکے ہاں ماخوذ ہوتے،اسی طرح دنیا کے عام انسانوں تک اس ہدایت کو پہنچانے کی نہایت سخت ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔اگر ہم خداکی عدالت میں واقعی اس بات کی شہادت نہ دے سکے کہ ہم نے تیری ہدایت، جوتیرے رسول کے ذریعے سے ہمیں پہنچی تھی ،تیرے بندوں تک پہنچادینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے،تو ہم بہت بری طرح پکڑے جائیں گےاور یہی امامت کا فخر ہمیں وہاں لے ڈوبے گا۔ ہماری امامت کے دور میں ہماری واقعی کوتاہیوں کے سبب سے خیال اور عمل کی جتنی گمراہیاں دنیا میں پھیلی ہیں اور جتنے فساد اورفتنے خداکی زمین پر برپاہوئے ہیں، اُن سب کیلئے ائمہ شر اور شیاطین ِ انس و جن کے ساتھ ساتھ ہم بھی ماخوذ ہوں گے۔ہم سے پوچھا جائے گاکہ جب دنیا میں معصیت،ظلم اور گمراہی کا یہ طوفان برپا تھا،تو تم کہاں مرگئے تھے۔(تفہیم القرآن)
---خداترسی ،راست روی، حق پرستی اور عدالت کی شہادت۔حضورؐ کی طرح اور یہی صحیح سنت نبوی ہے۔جب دنیا میں معصیت ،ظلم اور گمراہی کا طوفان برپاتھا توتم کہاں مرگئے تھے۔(بہت بڑی ذمہ داری) (تفہیم القرآن)
---شہادت دین کا جو فرض حضورؐ پر بحیثیت رسول کے تھا آپکے بعد آپکی امت کی طرف منتقل ہوا ۔دنیامیں شہادت (دعوت دین) کی بنیاد پرآخرت میں شہادت۔اور پھرآخری نبی کی امت کی حیثیت سے بھی گواہی ۔امتِ مسلمہ کو امتِ وسط کے منصب پرکسی حسب ونسب کی بنیادپرفائز نہیں کیا گیا بلکہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی وجہ سے فائز کیا گیا ہے۔تحویلِ قبلہ کے ذریعہ سے امت کے منصبِ امامت کا اعلان کیا گیا ۔(تدبرقرآن)
---انسان کامل کہلانے کا مستحق صرف وہی شخص ہوسکتاہے جو جسمانی اعتدال کے ساتھ روحانی و اخلاقی اعتدال بھی رکھتاہو۔۔۔۔۔حشر میں امت مسلمہ کا امتیاز (تمام انسانوں پر گواہی) ۔ (معارف القرآن)
---وسط ۔درمیان۔بہترین /عمدہ ترین۔انسانی زندگی کا درمیانی عرصہ عہد شباب ۔دن کا درمیانی حصہ(روشنی اپنے عروج پر )۔اخلاق میں میانہ روی۔بخل اور فیاضی میں میانہ روی، سخاوت ۔بزدلی اور طیش کی درمیانی حالت ،شجاعت۔کیا ایسی امت جس کا ایک طبقہ غاصب اور جابر اور دوسرا طبقہ ڈرپوک اور بے حس ہو ،کیا وہ خیر الامم ہوسکتی ہے؟ (ضیاء القرآن)
-تمام اقوام اور ادیان کے درمیان Inter link( ڈاکٹر اسرار)
---یہ امت وسط ہے۔لوگوں پر گواہ ہے۔وہ تمام دنیا کے لوگوں کی اقدار ،ان کے نظریات،ان کے رسم و رواج اور ان کے قومی شعاروں کا بغور جائزہ لے اور اپنافیصلہ سنادے۔یہ حق ہے اور یہ باطل۔وہ کوئی ایسی امت نہیں کہ دوسری اقوام سے نظریات ،اقدار اور معیارِ حسن و قبح حاصل کرے۔وہ لوگوں پر گواہ ہے اور ایک منصف اور جج کے منصب پر فائز ہے۔(فی ظلال القرآن)
(i)امت وسط، عقائد و نظریات میں وسط ،میانہ رو،نہ روحانی تجرد میں ڈوبی ہوئی اور نہ مادہ پرستی میں گرفتار ۔(ii) فکر و شعور کے میدان میں علم سے فائدہ بھی اور علم و معرفت کی تحقیق بھی مگر ہر نعرہ باز کے پیچھے بھی نہیں۔(iii)نظم و ضبط میں بھی وسط ۔نہ مادر پدر آزادی نہ خشک قانونی جکڑبندی اور جبری اصلاح۔(iv)روابط و تعلقات میں بھی ۔فردبمقابلہ جماعت(v)جغرافیہ کےلحاظ سے ،زمین کے وسط میں(vi)زمانی نقطۂ نظر سے۔عہدطفولیت کے بعد۔۔۔۔یہ تھا وہ مقام جو کبھی اللہ میاں نے اس امت کو بخشا تھا ،کیا وہ آج دوبارہ اسے حاصل نہیں کرسکتی؟مقامِ قیادت کےلئےکچھ ذمہ داریاں اور کچھ فرائض۔۔۔۔۔۔ مقام قیادت کے لئے جو کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں ۔ کچھ فرائض ہوتے ہیں ۔ مقام قیادت کے حصول سے پہلے آزمائشیں ضروری ہوتی ہیں تاکہ معلوم ہو کہ امت ، اللہ کے معاملے میں کس قدر مخلص ویکسو ہے ۔ اور وہ کس حد تک ایک صالح قیادت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے تیار ہے۔۔۔۔ (مختلف تفاسیر کا خلاصہ: مرتب)
امت وسط، سید قطب کی نظر میں:
- (i) اب جماعت مسلمہ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اس کی زندگی اور اس کی زندگی کا نظام حیات دواساسی قواعد پر مبنی ہے۔ یہ دونوں اساسی قواعد ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں یعنی اخوت اور ایمان۔یہ دومرکزی ستون ہیں جن پر جماعت مسلمہ کا ڈھانچہ قائم ہے ۔ اور ان دونوں کے ساتھ وہ اپنا گراں اور عظیم رول ادا کررہی ہے ۔ اگر ان دونوں میں ایک پلر (Pillar) بھی گرجائے تو جماعت مسلمہ کا ڈھانچہ گرجائے گا اور اس کے بعد اس جہاں میں اس کا کوئی کردار نہ رہے گا۔
(ii) واعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَفَرَّقُوا……………” سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ “ یہ اخوت جس کی اساس اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے پر ہے ‘ اللہ تعالیٰ پہلی جماعت اسلامی پر اپنا احسان عظیم بتاتے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ یہ وہ نعمت ہے ‘ جس سے اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کو سرفراز فرماتے ہیں جن سے اللہ کو محبت ہوتی ہے ۔
(iii)كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ……………” اب دنیا میں بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے نکالا گیا ہے ۔ “ یہ ہے وہ بات جس کا ادراک امت مسلمہ کو اچھی طرح کرلینا چاہئے تاکہ اسے اپنی حقیقی قدر و قیمت کا احساس ہوجائے کہ اسے تو تمام انسانوں کی اصلاح کے لئے نکالا گیا ہے تاکہ وہ ہر اول دستے کا کام دے اور اس کو اس کائنات میں قیادت کا مقام حاصل ہو ۔ اس لئے کہ صرف امت ہی نہیں بلکہ وہ بہترین امت ہے ۔ اور اللہ کی مرضی یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر خیر کی قیادت ہو ‘ شر کی قیادت نہ ہو ‘ یہی وجہ ہے کہ یہ بات اس کی شان قیادت سے فروتر قرار دی گئی ہے کہ وہ دوسری جاہلی امتوں سے ہدایت لے ۔ اس کا فرض تو یہ ہے کہ دوسری جاہلی اقوام کو اپنے خزانہ علم واخلاق سے عطیات دے ۔ اور اس کے ذخائر میں ہمیشہ ایسی اجناس موجود ہونی چاہئیں جنہیں وہ دوسری محروم اقوام وملل کو عطا کرتی رہے ۔ وہ ان اقوام وملل کو صحیح عقائد و تصورات دے ‘ صحیح فکر دے ‘ صحیح نظام حیات دے ‘ صحیح اخلاق دے ‘ صحیح علم ومعرفت عطاکرے ۔ یہ وہ فریضہ ہے جو اس کی اعلیٰ حیثیت کی وجہ سے اس پر عائد ہوتا ہے اور اس پر یہ فریضہ اس کے مقصد وجود کی وجہ سے فرض ہوجاتا ہے ۔ یہ بات اس کے فرائض منصبی میں داخل ہے کہ وہ ہر میدان میں دوسری امم کے لئے ہر اول دستہ رہے ۔ وہ ہمیشہ قیادت کے مقام ومنصب پر رہے اور ہمیشہ مرکز امم ہو۔ لہٰذا اس کے اس منصب کے کچھ آثار ونتائج ہیں ۔ وہ منصب محض دعویٰ سے حاصل نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس امت کے سپرد کیا جاتا ہے جو اس کی اہل ہوا کرتی ہے ‘ وہ اپنے تصورات و افکار کی وجہ سے اور اپنے اعلیٰ نظام حیات کی وجہ سے جب اس کے اہل ہوتی ہے ‘ تب ہی یہ اسے دیا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ امت کو علمی میدان میں بھی سب امم سے آگے ہونا چاہئے اور ترقی وتعمیر کے اعتبار سے بھی اسے اقوام وملل سے آگے ہونا چاہئے ‘ تاکہ وہ مقام خلافت فی الارض پر فائز ہو اور اپنے آپ کو اس کے لئے اہل ثابت کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ جس نظام حیات کی داعی ہوگی وہ نظام اس سے بہت کچھ کمالات کا مطالبہ کرتا ہے ‘ اور اس سے اس کا اولین مطالبہ یہ ہے کہ وہ ہر میدان میں سب سے آگے رہے اگر وہ اس منصب پر بدستور فائز رہنا چاہتی ہو اور اس کے تقاضوں اور اس کے فرائض کو پورا کرتی ہو ۔
(iv) اس امت کے منصب اور مقام کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس زندگی کو شر اور فساد سے پاک کردے اور اس کے پاس اس قدر قوت ہونا چاہئے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دے سکے ۔ اور وہ خیر امت محض اللہ کی جانب سے کسی مجاملت یا خصوصی تعلق محبوبیت کی وجہ سے نہیں بنی ‘ اللہ کے ہاں اعزاز اور شرف ان خام خیالیوں کی بنا پر نہیں ملتا ‘ جن میں یہ اہل کتاب مبتلا ہوگئے تھے اور کہتے تھے نَحنُ اَبنَآءُ اللّٰہِ وَاَحِبَّآؤہٗ ” ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب ہیں ۔ “
(v) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ ساتھ پکا مومن ہونا بھی ضروری ہے ‘ اس لئے اسلامی معاشرے میں حسن وقبح کے پیمانے ایمان ہی کے ترازو کے ساتھ قائم ہوتے ہیں اور معروف اور منکر کی صحیح پہچان ہوسکے ۔ اس لئے کہ کسی ایک گروہ کا صالح ہوجانا ہی کافی نہیں ‘ بعض اوقات شر و فساد اس قدر پھیل جاتا ہے کہ معاشرے کی اجتماعی اقدار بدل جاتی ہیں اور ان میں خلل پڑجاتا ہے ۔ اس لئے خیر وشر کے لئے ایک مستحکم تصور کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس میں فضائل اعمال اور رذائل صفات کے اندر اچھی طرح جدائی ہو ‘ معروف منکر سے جدا ہو ‘ اور یہ تصور حیات اصلاح کی کسی مخصوص اسکیم سے علیحدہ ایک دائمی اصول و مبادی پر مبنی ہو۔
(vi) تم اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ لے اٹھو گے ‘ تو تم موجود تصور ہوگے اور اگر تم یہ فریضہ ترک کردوگے تو تم معدوم تصور ہوگے ‘ اور گویا صفت ایمان اور اسلام معدوم تصور ہوگی۔
(vii) حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں ‘ فرمایا ‘ رسول اللہ ﷺ نے ” اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ تمہیں معروف کا حکم دینا ہوگا اور تمہیں منکر سے روکنا ہوگا ورنہ قریب ہے کہ اللہ ‘ اپنی جانب سے تم پر کوئی عذاب بھیج دے اور پھر صورت حال یہ ہوجائے کہ تم اسے پکارو گے اور وہ تمہاری پکار کا کوئی جواب تمہیں نہ دے۔ “ (ترمذی)
۔۔۔۔ بنی اسرائیل کی امامت ،حضرت یعقوبؑ اور حضرت یوسفؑ کے دور یعنی 1،900 قبل مسیح سے لے کر ،محمدؐ کی بعثت یعنی 610ء تک قائم رہی۔ان کی امامت کا یہ دور ،ڈھائی ہزار سال پر محیط ہے۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
۔۔۔۔ وکذلک۔اسی طرح یعنی ایک اسی مسئلہ پر موقوف نہیں، ہرمعاملہ میں۔یعنی ایسی امت جو ہر اعتبار اور ہر معیار سے غایت اعتدال پر ہو،ہرکجی اور ہر افراط و تفریط سے پاک،اردو محاورہ کے مطابق متوازن۔۔۔ملت اسلامیہ انفرادی و اجتماعی دونوں حیثیتوں سے ساری دنیا کیلئے بہ طور نمونہ کے تیار کی گئی تھی،کائنات کی ہر امت کو اسی سانچہ میں ڈھلنا اور اسی معیار پر پورا اترنا چاہئیے تھا نہ کہ خود یہ امت ،اپنے کو بھول کر ،ہر مشرک،ملحد،بے مذہب امت کی تقلید و نقالی میں لگ جائے ،آیت سے کمال درجہ کی فضیلت امتِ اسلامی کی ثابت ہورہی ہے۔۔۔۔جس طرح دنیا کی ہر امت کیلئے نمونہ اور معیار کاکام دینے کیلئے امت اسلامیہ ہے خود اس امت کیلئے معیار کاکام دینے کیلئے رسول اللہؐ کی ذات مبارک ہے،حضورؐ کی وفات کی خبر پاکر حضرت عمرؓ کا بے خود ہوجانا ایک مشہور و معلوم تاریخی واقعہ ہے،سیرۃ ابن ہشام میں خاتمہ کے قریب خود حضرت عمرؓ کی زبان سے یہ روایت درج ہے کہ اس وقت مجھے غلط فہمی اس آیت سے ہوئی تھی ،میں اس سے یہ سمجھے ہوئے تھا کہ آپ قیامت تک زندہ رہیں گے اور اُس روز اپنی امت کے اعمال پر گواہی دیں گے۔"اس کا باعث یہ تھا کہ میں اس آیت کو پڑھا کرتاتھا۔وکذلک جعلنٰاکم امۃ وسطاً لتکونو شھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیداً۔ اور میں یہ سمجھتاتھا کہ حضورؐ اپنی امت میں قیامت تک زندہ رہ کر ان کے اعمال کے گواہ ہوں گے پس اسی سبب میں نے اُس روز وہ گفتگو کی تھی۔۔۔"رؤف رحیم۔ماہرین زبان کا بیان ہے کہ رأفت کا درجہ رحمت سے بڑھا ہواہے۔(تفسیر ماجدی)
22۔ ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّۃً:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّۃً۰۠ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ۰ۭ اِنَّہٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ (البَقَرَہ: 208)
ترجمہ:اے ایمان والو داخل ہو جاؤ اسلام میں پورے اور مت چلو قدموں پر شیطان کے بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے ۔
۔یعنی کسی استثنا کے بغیر اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ۔ تمہارے خیالات، تمہارے نظریات، تمہارے علوم، تمہارے طور طریقے، تمہارے معاملات، اور تمہاری سعی و عمل کے راستے سب کے سب بالکل تابع اسلام ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ تم اپنی زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے بعض حصوں میں اسلام کی پیروی کرو اور بعض حصوں کو اس کی پیروی سے مستثنیٰ کرلو۔ ۔۔۔اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ۔۔(البَقَرَہ: 85) ترجمہ:۔۔ تو کیا تم کتاب کےایک حصّے پر ایمان لاتے ہو اوردُوسرے حصّے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ ۔۔۔ یہ یہودیوں کا طرزِ عمل ہےاور دنیا میں ذلت و رسوائی کا قاعدہ کلیہ ہے۔ وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (آل عمران: 139) دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔(تفہیم القرآن)
۔صرف مسجد اور عبادات میں مگن مگرمعاملات اور معاشرت سے بیگانہ مسلمان اسلام میں پورے کے پورے داخل نہیں سمجھے جائیں گے۔(معارف القرآن)
ـــ"سِلم" سے مراد اللہ و رسولؐ کی اطاعت یا اسلام ۔(تدبر قرآن)
ــــپورے اطمینان قلب کے ساتھ کہ یہی راہ راست ہے ۔وجود اور موجودات کی مکمل ہم آہنگی ۔کائنات کی روح انسان کی روح کے ساتھ ہم آہنگ ۔مومن کا ہر قدم عبادت اور اس کا عظیم الشان صلہ ،آخرت۔پوری طرح داخل ہوکر اس کے سائے میں امن و امان اور قرار و سکون حاصل کریں۔(فی ظلال القرآن)
۔۔۔ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذَّارِیٰت: 56)
ترجمہ: میں نے جِنّ اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ (تفہیم القرآن)
ـــاسلام pick اور chooseکا نام نہیں بلکہ Package Deal ہے (بیان القرآن)
23۔تدوین قرآن کی ضرورت ۔ مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ ۔سات سو حفاظ صحابہ کی شہادت۔
24- سنت متواترہ اور منکرین حدیث کی جسارت: منکرین حدیث کی یہ جسارت کہ وہ صوم و صلوۃ، حج و زکوۃ ،عمرہ و قربانی کا مفہوم بھی اپنے جی سے بیان کرتے ہیں اور امت کے تواتر نے ان کی جو شکل ہم تک منتقل کی ہے اس میں اپنے ہوائے نفس کے مطابق ترمیم و تغیر کرنا چاہتے ہیں، صریحاً خود قرآن کے انکار کے مترادف ہے اس لیے کہ جس تواتر نے ہم تک قرآن کومنتقل کیا ہے اس ہی تواتر نے ان اصطلاحات کی عملی صورتوں کو بھی ہم تک منتقل کیاہے۔ اگر وہ ان کو نہیں مانتے توپھر خود قرآن کو ماننے کی بھی کوئی وجہ باقی نہیں رہ جاتی۔ اصطلاحات کے معاملے میں تنہا لغت پر اعتماد بھی ایک بالکل غلط چیز ہے۔ صوم و صلوۃ کا لغت میں جو مفہوم بھی ہو لیکن دین میں ان کا وہی مفہوم معتبر ہو گا جو شارع نے واضح فرم]ایا ہے۔(تدبر قرآن)