1 - سورة الفاتحہ (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 7 |
مضمون: سورہ فاتحہ سے سورہ مائدہ تک قرآن مجیدکی سورتوں کا پہلا گروپ ہے جس کا مرکزی مضمون دنیا کی امامت سے یہود و نصاریٰ کی معزولی اور امت مسلمہ کو اس پر فائز کرناہے۔۔۔۔۔ سورہ فاتحہ میں اس جذبہ شکر کی تعبیر ہے جو اللہ تعالیٰ کی پروردگاری ،بے پایاں رحمت اور اس کے قانون عدل کے مشاہدات سے انسان پر طاری ہونا چاہیے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحی)
- تلاوت سے پہلے تعوذ کا حکم :۔ قرآن کریم کی تلاوت شروع کرنے سے پہلے (اَعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرّجیم) ضرور پڑھ لینا چاہیے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے: فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ (النحل: 98) جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کیجئے۔ (تیسیر القرآن)
- شیطان چار مرتبہ خاص طورپر رویا چلّایاہے،اور ان چار میں سے ایک موقع نزول سورۂ فاتحہ کا ہے۔(تفسیر ماجدی)
- اس سورة کا ترتیب نزولی کے لحاظ سے پانچواں نمبر ہے۔ گویا یہ اسلام کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی اور یہی پہلی سورت ہے جو پوری کی پوری یکبارگی نازل ہوئی۔ (تیسیر القرآن)
- حمد باری کی یہ زبردست مناجات ،سلیس اتنی کہ مزید تشریح سے بے نیاز ۔اس پر معنویت سے بھی لبریز۔(تفسیر ماجدی)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
میری انتہائے نگارش یہی ہے تیرے نام سے ابتدا کررہاہوں
ــــحدیث قدسی: نصفہالی و نصفہالعبدی (حدیثِ قدسی میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ سورۃ فاتحہ کا نصف میرے لئے اور نصف میرے بندے کے لئے ہے)۔ (مسلم)
حنفی فقہ کے مطابق یہ ہر سورت کا حصہ نہیں ہے ۔ سورۂ توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی جاتی ۔قرآن میں یہ صرف ایک دفعہ سورۂ نمل میں لکھی گئی ۔ جب حضرت سلیمان ؑ کا خط ملکہ سباکے نام لکھا گیا: اِنَّہٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۳۰ۙ
بسم اللہ: اللہ کے نام کے ساتھ۔،اللہ کے نام کی مدد سے ،اللہ کے نام کی برکت سے،(نحوی قاعدے کے مطابق) شروع کرتاہوں ۔یہ اسلامی آداب معاشرت کا حصہ ہے کہ دروازہ بندکرو تو اللہ کا نام لیا کرو، دیا بجھاؤ تو اللہ کا نام لیا کرو،اپنے برتن ڈھانپو یا اپنی مشک کا منہ باندھوتو اللہ کا نام لیا کرو۔۔۔۔۔ امام قرطبی نے صحیح سندسے یہ حدیث نقل کی ہے کہ عثمان ابن ابی العاص نے یہ شکایت کی کہ یا رسول اللہؐ جب سے مشرف با سلام ہوا ہوں جسم میں درد رہتا ہے۔ تو حضوراکرمؐ نے فرمایا کہ جہاں درد ہو وہاں ہاتھ رکھ کر تین مرتبہ بسم اللہ الخ پڑھو اور سات بار یہ جملہ کہو أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِن شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحاذِرُ (ضیاء القرآن)
- اللہ اسم نکرہ نہیں کہ معبود واحد کے علاوہ دوسروں کیلئے بھی بولاجاسکے ،اس کی نہ جمع آئی ہے،نہ تثنیہ، نہ یہ کسی لفظ سے مشتق ہے،اور نہ اس کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں ممکن ہے۔۔۔ رحمٰن کا صحیح ترجمہ دشوار ہے ۔ یہ مصدر رحمۃ سے صیغۂ مبالغہ ہے۔ فعلان کے وزن پر،زیادتی ِ صفت کیلئے جس کے بعد زیادتی کا کوئی درجہ نہ ہو۔۔۔ اسم ذات "اللہ" کی طرح اسم صفت "رحمٰن" کا اطلاق بھی صرف ذات باری ہی پر ہوتاہے۔۔۔ رحیم بھی اسمِ صفت صیغۂ مبالغہ ہے،فعیل کے وزن پر ۔تکرار و تواتر کے اظہار کیلئے ہے۔(تفسیر ماجدی)
ـــ سورہ فاتحہ کے ساتھ اس کا تعلق:۔یہ بات کہ یہ آیت سورۂ فاتحہ کا ایک جزو ہے اور دوسری سورتوں کے شروع میں زائد ہے ،علماء کے درمیان مختلف فیہ ہے۔ہمارے نزدیک صحیح رائے غالباً ان لوگوں کی ہے جو اس معاملہ میں فاتحہ اور غیرفاتحہ میں کوئی فرق نہیں کرتے،۔۔۔۔اپنے معنی کے لحاظ سے یہ آیت نزول قرآن سے پہلے سے منقول چلی آتی ہے۔حضرت سلیمانؑ نے ملکہ سبا کو جو نامہ لکھا اس میں اس کا ذکر موجود ہے۔ اِنَّہٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۔۔۔۔پھر بسم اللہ اس بات کا اقرار ہے کہ تمام فضل و احسان اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے ہے۔گویا بسم اللہ پڑھ کر اپنی زبان سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو احسانات فرمائے ہیں یہ ہمارے استحقاق کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ سب کچھ اس کے اسمائے حسنیٰ رحمان و رحیم کا فیضان ہے۔تورات کی بھی ایک سے زیادہ آیات اس کی تائید کرتی ہیں۔۔۔۔یہود نے یہ نام (رحمٰن و رحیم)ضائع کردیے تھے جس کی سزا ان کو یہ بھگتنی پڑی کہ اللہ تعالیٰ ان کیلئے یکسر قہر و جلال بن کے رہ گیااور ان کا پیغمبر بھی ان کی سخت دلی کے سبب سے ان کیلئے ہیبت و شدت ہی کے بھیس میں نمودار ہوا اور ان کی سرکشی کے باعث ان کی شریعت بھی ان کیلئے نہایت سخت ہوگئی ۔۔۔۔ یہود کے متعلق توریت سے ثابت ہے کہ عین اس وقت جب انکو شریعت ملنے والی تھی انہوں نے گوسالہ پرستی کی اور اس جرم کے مرتکب ہوکر وہ اس عورت کے مانند بن گئے جس نے پہلی ہی شب میں اپنے شوہر کے ساتھ بے وفائی کی ہو۔۔۔۔(تفسیر فراہی)
۔ فاتحہ کے 25 نام ہیں (علامہ جلال الدین سیوطیؒ)۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں: الفاتحہ۔(Opening Surah of Quran)۔ام القرآن۔ اساس القرآن۔ السبع المثانی۔(باربارپڑھی جانیوالی سات آیات) ۔الشفا۔مناجات۔فاتحہ ایک دعا ہے اور پورا قرآن جواب دعا۔۔۔
۔سورۂ فاتحہ کے کل دس نام معلوم ہوئے ۔سورۂ الفاتحہ،الحمد،السبع المثانی،ام القرآن، ام الکتاب،الشفاء،الرقیہ،الدعاء، تعلیم المسئلہ اور الصلوٰۃ ۔ (تیسیر القرآن(
۔ "اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اس جیسی کوئی سورت نہ تورات میں نازل کی گئی نہ انجیل میں اور نہ زبور اور فرقان میں۔یہ بار بار دہرائی جانے والی سات آیات پر مشتمل "سبع مثانی" اور "قرآن عظیم" ہے جو آپؐ کو دیا گیا"۔(قرآنی سورتوں کا نظم جلی)
۔سورۃفاتحہ پانچویں وحی ہے مگر حضورؐ پر نازل ہونےوالی پہلی مکمل سورۃ ہے۔ ا س سے پہلے العلق،مزمل اور مدثرکی متفرق آیات نازل ہوچکی تھیں۔
۔فاتحہ خلف الامام۔۔۔ ۔جو شخص نماز میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز ہی نہیں (بخاری)۔ امام بخاری نے یہ بات حضور اکرم ؐ کی ایک حدیث کی بنیاد پر کہی۔ امام شافعی کا بھی یہی مسلک ہے۔ لیکن امام ابو حنیفہ نے کہا کہ قرآنِ حکیم میں واضع طور پر کہا گیا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو غور سے سنو اور ظاہر ہے کہ سورۃ فاتحہ بھی قرآن ہی ہے۔ اس لئے ان کا مذہب یہ ہے امام سورۃ فاتحہ بلند آواز سے پڑھے یا آہستہ ، مقتدی کو امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔امام مالکؒ نے درمیانی راہ نکالی اور کہا کہ امام جب بلند آواز سے سورۃ فاتحہ پڑھ رہا ہو تو مقتدیوں کو قرآن کے حکم کے مطابق غور سے سننا چاہیے، البتہ جب وہ آہستہ پڑھ رہا ہو جیسے سِرّی نمازوں میں تو مقتدی کو حدیثِ نبوی کی اتباع میں سورۃ فاتحہ خاموشی سے پڑھ لینی چاہیے۔ (مرتب)
۔ جس طرح ایک گوہر آب دار میں مختلف تابناک پہلو ہوتے ہیں،اسی طرح اس سورہ کے نظام کے بھی مختلف رخ ہیں۔ میں اس کے مختلف رخوں کو ایک ایک کرکے سامنے لانا چاہتا ہوں۔۔۔۔سلف سے لےکر خلف تک علماء کا اتفاق ہے کہ "سبع "سے مراد یہی سورۂ فاتحہ ہے۔۔۔۔پس اگر یہ بات صحیح ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اپنے مصحف میں فاتحہ نہیں لکھی تو اس کی وجہ یہی ہےکہ وہ ہر مسلماان کے سینہ میں لکھی ہوئی ہے ۔۔۔۔ قرآن مجید بالاجمال تین قسم کے علوم پر مشتمل ہے۔توحید، شریعت، معاد۔۔۔۔۔یعنی اگر تم فاتحہ کی تلاوت کرو تو اس سورۃ میں قرآن اپنی پوری نظمی ہیئت میں تمہارے سامنے آ جائے گا۔ گویا یہ ایک چھوٹا سا آئینہ ہے جس کے اندر قرآن عظیم کا پورا عالم جھلک رہا ہے۔(تفسیر فراہی)۔
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّْحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 1 | شروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے |
| اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ 2 | سب طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے |
| الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ 3 | بڑا مہربان نہایت رحم والا |
| مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ 4 | انصاف کے دن کا حاکم |
| اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُؕ 5 | (اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
| اِهْدِنَاالصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ 6 | ہم کو سیدھے رستے چلا |
| صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ١ۙ۬ۦ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ ۧ 7 | ان لوگوں کے رستے جن پر تو اپنا فضل وکرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کے |
تفسیر آیات
الحمد: شکر اور ثنا۔جتنی شکر کی دعائیں ہیں سب الحمد سے شروع ہوتی ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
للہ: اللہ اسم ذات ،للہ، لہُ،ہٗ۔: اللہ ایک ایسا لفظ ہے جس کا ہر جز ایک مفہوم رکھتا ہے جیسے اللہ (اسمِ ذات)، الف ہٹا دیں تو لِلّٰہ (اللہ کے لئے)، لام ہٹا دیں تو لہٗ (اس کے لئے یعنی اللہ کے لئے) اور آخری ہٗ (وہی یعنی اللہ) (مرتب)
ربّ: پالنھار(پروردگار) درجہ بدرجہ ترقی دیکر مقام ِ کمال تک پہنچانا ۔۔۔۔صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی بھی۔
رحمن و رحیم: فعلان کا وزن(جوش و خروش ،ہیجان پر دلیل)فعیل کا وزن(دوام و استمرار اور پائداری و استواری)۔۔۔۔۔اللہ کی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی سب صفات پائی جاسکتی ہیں سوائے رحمٰن کے ۔ایک انسان رحیم،رؤف، کریم وغیرہ سب کچھ ہوسکتاہے مگر رحمن اللہ کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔(تیسیر القرآن) ۔۔۔۔علماء کے ایک گروہ نے کہاکہ کلمۂ الحمد للہ رب العالمین۔تمام کلموں سے افضل و اشرف ہے ،یہاں تک کہ لاالٰہ الا اللہ سے بھی، اس لئے کہ لاالٰہ میں صرف توحید ہے،اور الحمد للہ میں توحید کے ساتھ حمد بھی۔(قرطبی) (تفسیر ماجدی)
۔تو اس کی تمام پروردگاری کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ رحمان اور رحیم ہے۔ یہ اس کی رحمانیت کا جوش ہے کہ اس نے ہم کو وجود بخشا اور یہ اس کی رحیمیت کا فیض ہےکہ وہ برابر ہماری دیکھ بال کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جذبہ شکر کے مقابلے پر جذبہ خوف کو دین کی بنیاد قرار دینے کی لغویت : خوف نام ہے اس چیز کا کہ آپ کو کسی ایسی چیز کے چھن جانے یا اس سے محروم ہو جانے کا اندیشہ یا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جو آپ کو حاصل بھی ہےاور عزیز بھی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر خوف سے پہلے کسی نعمت کا شعور لازمی چیز ہے اور جب نعمت کا شعور پایا گیا تو ایک منعم کا شعور بھی لازمی ہوا اور پھر اس کی شکر گزاری کا جزبہ پیدا ہونا بھی نا گزیر ہوا۔ (تدبر قرآن)
مالک یوم الدین: بدلے کے دن کا مالک۔عدل۔۔۔۔عدل و رحمت میں کوئی تضاد نہیں بلکہ عدل عین رحمت ہے۔۔۔۔۔ابن قیم ؒ نےکہا کہ سورہ میں پانچ اسمائے الٰہی آئے ہیں،اور پانچوں کی تشریح الگ الگ ہے ۔خلاصہ یہ کہ اسم اللہ صفاتِ جلال و جمال کا جامع ہے،اور اس کے اندر وہ سب کچھ بالاجمال آگیا جس کی تفصیل اسمائے حسنیٰ ہیں۔۔۔۔ اور اسم الرّب کے تحت سارے صفاتِ فعل و قدرت ،ضرر و نفع ،عطاء و منع وغیرہ کے آگئے۔۔۔۔اور اسم الرحمٰن کے تحت میں ،صفاتِ جود و احسان ،بخشش وکرم،لطف و رافت آگئے۔۔۔۔ اور اسم الرحیم کے معنی ہیں اپنے بندوں پر رحم کرنے والا۔۔۔۔ والرحیم الراحم لعبادہ اور اسم مالک کے تحت صفاتِ عدل،جزاوسزا،اور اعزاز و اذلال وغیرہ آگئے۔(تفسیر ماجدی )
ایاک نعبد و ایاک نستعین: مضارع(حال اور استقبال) عبادت کرتے ہیں اور مدد مانگتے ہیں (حقیقت حال)کریں گے یا کرتے رہیں گے ،ایک وعدہ اپنے رب سے (مستقبل کے لئے)۔ چنانچہ اس سورۃ سے متعلق جو مشہور حدیثِ قدسی ہے اس میں خاص اس ٹکڑے سے متعلق حضور ؐ نے اللہ تعالیٰ کے یہ الفاظ نقل فرمائے ہیں کہ جب بندہ ایاک نعبد و ایاک نستعین کے الفاظ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ٹکڑا میرے اور میرے بندے کے درمیاں مشترک ہے اور میں نے اپنے بندے کو وہ دیا جو اس نے مانگا۔ (تدبر قرآن)
- عبادت کا مفہوم: عبادات تین قسم کی ہیں۔التحیات للہ والصلوٰت والطیبات۔"یعنی ہماری تمام قلبی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کیلئے ہیں"۔قلبی عبادت میں توکل،خوف و رجاء، محبت، تذلل اور خشوع و خضوع شامل ہیں۔بدنی عبادات سے مرادفرض نماز اور نوافل نمازیں ،روزہ اور حج اور دوسرے احکام الٰہی کی پیروی کرنا ہے اور مالی عبادات سے مراد زکوٰۃ ،صدقات وخیرات ،قربانی اور نذرونیاز وغیرہ ہیں۔(تیسیر القرآن)
- بزرگوں سے منقول ہے کہ قرآن مجید کا لُب لُباب سورۂ فاتحہ ہے،اور سورۂ فاتحہ کالُب لُباب یہ آیت ہے:۔ ایّاک نعبد وایّاک نستعین۔ (معارف القرآن)
اھدناالصراط المستقیم: پورے قرآن میں بار بار ہدایت کا ذکر آیا ہے۔ قرآنِ حکیم میں ہے " وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ"(العنکبوت: 69) (اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے۔ اسی ہدایت کے لیے انبیا بھیجے گئے اور یہی ہدایت رسالت کی ضرورت پر ایک دلیل ہے۔
- نعبد ،نستعین،اھدنا سب میں ضمیر متکلم کا صیغۂ جمع میں آنا بہت ہی پُرمعنی ہے، خواہ اظہار ِ عبودیت کرنے والا اپنی جگہ پر فرد واحد ہی ہو،اس میں یہ تعلیم بھی آگئی کہ فرد کا رابطہ امت سے کسی حال میں نہ چھوٹنے پائے۔۔۔۔صراط۔ اس کا مفہوم شاہراہ ،شارعِ عام کا ہے،محض گلی یا گزرگاہ کا نہیں۔۔۔۔ مرشد تھانویؒ نےفرمایا کہ مطلوب و مقصود صراط مستقیم تشریعی ہے نہ کہ تکوینی جو ساری مخلوق کیلئے خود بخود عام ہے۔(تفسیر ماجدی)
انعام یافتہ : انبیاء، صدیقین، شہداء ،صالحین(سورۂ نساء:69)
مغضوب: پچھلی امتوں میں اس کی واضح مثال یہود ہیں۔ مائدہ: 60، و بقرہ : 61۔ ضالین: اس کی نہایت واضح مثال نصاریٰ ہیں۔ مائدہ: 77 (تدبر قرآن)
- سورۂ کے ختم پر آمین کہنا مستحب ہے، آمین خود ایک دُعا ہے، اس کے معنی ہیں استجب یعنی اے رب قبول فرما۔(تفسیر ماجدی)