10 - سورة یونس (مکیہ)

رکوع - 11 آیات - 109

مضمون:    سورہ یونس سے سورہ نور تک قرآن مجید کی پندرہ سورتوں کا تیسرا گروپ ہے۔اس گروپ میں بشارت دی گئی ہے کہ پیغمبرؑ کی دعوت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا ہوچکی ہے وہ بلآخر پیغمبرؐ اور اہل ایمان کی فتح مندی اور قریش کی ہزیمت پر منتہی ہوگی۔سورہ یونس اہل ایمان کے لیے  بشارت کی سورہ ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول:یہاں سے آٹھ سورتوں کا سلسلہ (سورۂ یونس، تا سورۂ بنی اسرائیل )شروع ہوتاہے جو غالباً گیارہ سے 13 سنہ نبوی کے لگ بھگ (ہجرتِ مدینہ سے قبل )نازل ہوئیں۔

ترتیب ِ مطالعہ: (i) ر۔1 تا 7 (فلسفۂ قرآن اور رب کی نشانیاں)(ii) ر۔8/9 حضرت نوحؑ اور حضرت موسیؑ کی اقوام (انبیاء و رسل) (iii)   ر۔ 10/11۔ اختتامی ،قومِ یونس کا استثنا، حضورؐ کو بشارت اور کفار کو آخری تنبیہ۔

خلاصہ مضامین:(i) ر۔1(کتاب الٰہی ،توحید،رسالت اور آخرت کے دلائل۔(ii)ر۔2(دعوت حق ،قوموں پر عذاب کا طریقِ کار ،ایک امت ہونے کے اصول،دین اسلام کا غلبہ)(iii)ر۔3(دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور انسانوں کا غرور ِ باطل۔تمام طاقتیں اللہ کے پاس ہیں۔(iv)ر۔4(غوروفکر کی دعوت ،عقل سلیم سے کام لینا ،قرآن کی جامعیت اور اس سے انکار کا انجام)(v)ر۔5(منکرین ِ حق کا انجام ۔اللہ کے عذاب سے کوئی بچانہیں سکے گا(vi)ر۔6(دنیاوی خواہشات میں مگن رہنے کا انجام ،قرآن کے چار اوصاف ،آخرت کے انکار کا انجام(vii)ر۔7( ہمیشہ حق ہی غالب ہوا اور باطل مٹ گیا (viii)ر۔8/9(تذکیر بایام اللہ۔حضرت نوح ؑاورحضرت موسیٰؑ) (ix) ر۔10/11(حکمتِ الٰہی کافیصلہ۔ جبری ایمان سنت اللہ کے خلاف ،منکرین کےلئے اتمامِ حجت اور حضورؐ کا فیصلہ کن جواب۔


پہلا رکوع

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ ﴿1﴾ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ ﴿2﴾ اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ﴿3﴾ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ ﴿4﴾ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ﴿5﴾ اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ ﴿6﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ ﴿7﴾ اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ ﴿8﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ﴿9﴾ دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿10ع يونس 10﴾
1. ا لٓرٰ۔ یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں۔ 2. کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے۔ 3. تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا۔ وہی ہر ایک کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کیے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتا، یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے۔ 4. اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لیے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیوں کہ (خدا سے) انکار کرتے تھے۔ 5. وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیات کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔ 6. رات اور دن کے (ایک دوسرے کے پیچھے) آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں (سب میں) ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ 7. جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطئمن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں۔ 8. ان کا ٹھکانہ ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے۔ 9. اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ 10. (جب وہ) ان میں (ان نعمتوں کو دیکھیں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان الله۔ اور آپس میں ان کی دعا سلامٌ علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول یہ (ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے۔

تفسیر آیات

4۔ضِیَآء۔وہ روشنی ہے جو اپنی ذاتی، مستقل حیثیت رکھتی ہو۔نُوْر۔وہ روشنی ہے جو ضیاء سے مستعار ہو، اس کا انعکاس ہو۔قرآن مجید نے(چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کے عرب کے ایک امی کے لائے ہوئے قرآن نے)دولفظ الگ الگ لاکر جدید سائنس کے اس بیان پر مہرتصدیق لگادی کہ چاند بذات خود بے نورہے ،اس میں چمک دمک جو کچھ ہے وہ سورج کے عکس سے ہے۔(تفسیرماجدی) 

6۔ اس سلسلہ میں ایک اور اہم مضمون بھی بیان فرما دیا گیا ہے جو گہری توجہ کا مستحق ہے۔ فرمایا کہ ”اللہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں“ اور ”اللہ کی پیدا کی ہوئی ہر چیز میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غلط بینی و غلط روی سے بچنا چاہتے ہیں“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہایت حکیمانہ طریقے سے زندگی کے مظاہر میں ہر طرف وہ آثار پھیلا رکھے ہیں جو ان مظاہر کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقتوں کی صاف صاف نشان دہی کر رہے ہیں۔ لیکن ان نشانات سے حقیقت تک صرف وہ لوگ رسائی حاصل کرسکتے ہیں جن کے اندر یہ دو صفات موجود ہیں ایک یہ کہ وہ جاہلانہ تعصبات سے پاک ہو کر علم حاصل کرنے کے ان ذرائع سے کام لیں جو اللہ نے انسان کو دیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان کے اندر خود یہ خواہش موجود ہو کہ غلطی سے بچیں اور صحیح راستہ اختیار کریں۔ (تفہیم القرآن)

7۔ (اور مادی زندگی پر شادو شادماں ہوکر آخرت کی طرف سے بالکل ہی بے پرواہوبیٹھے ہیں)گمراہی کی یہ تیسری منزل ہوئی ،پہلے تو یہ ہوتاہے کہ نعمتِ آخرت کی تمنا و طلب دل سے مٹ جاتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ یہ ہوجاتاہے کہ اپنے اپنے انجام و عاقبت کی طرف خیال ہی نہیں جاتا ،اسی دنیوی زندگی کی دلچسپیوں اور رنگینیوں میں ایسا انہماک ہوجاتاہےکہ"اُدھر"کی کھٹک کبھی بھی نہیں پیدا ہوتی،بلکہ جب کوئی اس مستقل زندگی کی یاددلاتا بھی ہے تو اُلٹا اسی پر مضحکہ  شروع کردیا جاتاہے کہ اس بدعقل کو دیکھو! نقد کو چھوڑ کر ہمیں اُدھار کی طرف، اور آگے کے بجائے پیچھے کی طرف لئے جارہاہے،اور سیاسیات و معاشیات و طبعیات کے زندہ و رنگین مشغلوں سے ہٹ کر ہمیں دینیات کے خشک و بے حاصل مسائل میں پھنسانا چاہتاہے۔(تفسیرماجدی )

یہاں سے پھر دعوے کے ساتھ ساتھ اس کی دلیل بھی اشارۃً بیان کردی گئی ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ عقیدہ آخرت کے انکار کا لازمی اور قطعی نتیجہ جہنم ہے، اور دلیل ہے کہ اس عقیدے سے منکر یا خالی الذہن ہو کر انسان ان برائیوں کا اکتساب کرتا ہے جن کی سزا جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک حقیقت ہے اور ہزارہا سال کے انسانی رویے کا تجربہ اس پر شاہد ہے۔ جو لوگ خدا کے سامنے اپنے آپ کو ذمہ دار اور جواب دہ نہیں سمجھتے، جو اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے کہ انہیں آخرکار خدا کو اپنے پورے کارنامہ حیات کا حساب دینا ہے، جو اس مفروضے پر کام کرتے ہیں کہ زندگی بس یہی دنیا کی زندگی ہے، جن کے نزدیک کامیابی و ناکامی کا معیار صرف یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی نے کس قدر خوشحالی، آسائش، شہرت اور طاقت حاصل کی، اور جو اپنے انہی مادہ پرستانہ تخیلات کی بنا پر آیات الہٰی کو ناقابل توجہ سمجھتے ہیں، ان کی پوری زندگی غلط ہو کر رہ جاتی ہے۔ وہ دنیا میں شتر بےمہار بن کر رہتے ہیں، نہات برے اخلاق و اوصاف کا اکتساب کرنے میں، خدا کی زمین کو ظلم و فساد اور فسق و فجور سے بھر دیتے ہیں، اور اس بنا پر جہنم کے مستحق بن جاتے ہیں۔ یہ عقیدہ آخرت پر ایک اور نوعیت کی دلیل ہے۔ پہلی تین دلیلیں عقلی استدلال کے قبیل سے تھیں، اور یہ تجربی استدلال کے قبیل سے ہے۔ یہاں اسے صرف اشارۃً بیان کیا گیا ہے، مگر قرآن میں مختلف مواقع پر ہمیں اس کی تفصیل ملتی ہے۔ اس استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کا انفرادی رویہ اور انسانی گروہوں کا اجتماعی رویہ کبھی اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک یہ شعور اور یہ یقین انسانی سیرت کی بنیاد میں پیوست نہ ہو کہ ہم کو خدا کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ اب غور طلب یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے ؟ کیا وجہ ہے کہ اس شعور و یقین کے غائب یا کمزور ہوتے ہی انسانی سیرت و کردار کی گاڑی برائی کی راہ پر چل پڑتی ہے۔ اگر عقیدہ آخرت حقیقت نفس الامری کے مطابق نہ ہو اور اس کا انکار حقیقت کے خلاف نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اس اقرار و انکار کے نتائج ایک لزومی شان کے ساتھ مسلسل ہمارے تجربے میں آتے۔ ایک ہی چیز سے پیہم صحیح نتائج کا برآمد ہونا اور اس کے عدم سے نتائج کا ہمیشہ غلط ہوجانا اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ وہ چیز بجائے خود صحیح ہے۔ اس کے جواب میں بسا اوقات یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ بہت سے منکرین آخرت ایسے ہیں جن کا فلسفہ اخلاق اور دستور عمل سراسر دہریت و مادہ پرستی پر مبنی ہے پھر بھی وہ اچھی خاصی پاک سیرت رکھتے ہیں اور ان سے ظلم و فساد اور فسق و فجور کا ظہور نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اپنے معاملات میں نیک اور خلق خدا کے خدمت گزار ہوتے ہیں۔ لیکن اس استدلال کی کمزوری بادنی ٰتامل واضح ہوجاتی ہے۔ تمام مادہ پرستانہ لادینی فلسفوں اور نظامات فکر کی جانچ پڑتال کر کے دیکھ لیا جائے۔ کہیں ان اخلاقی خوبیوں اور عملی نیکیوں کے لیے کوئی بنیاد نہ ملے گی جن کا خراج تحسین ان ”نیکوکار“ دہریوں کو دیا جاتا ہے۔ کسی منطق سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ ان لادینی فلسفوں میں راست بازی، امانت، دیانت، وفائے عہد، عدل، رحم، فیاضی، ایثار، ہمدردی، ضبط نفس، عفت، حق شناسی، اور ادائے حقوق کے لیے محرکات موجود ہیں۔ خدا اور آخرت کو نظر انداز کردینے کے بعد اخلاق کے لیے اگر کوئی قابل عمل نظام بن سکتا ہے تو وہ صرف افادیت (utilitarianism) کی بنیادوں پر بن سکتا ہے۔ باقی تمام اخلاقی فلسفے محض فرضی اور کتابی ہیں نہ کہ عملی۔ اور افادیت جو اخلاق پیدا کرتی ہے اسے خواہ کتنی ہی وسعت دی جائے، بہرحال وہ اس سے آگے نہیں جاتا کہ آدمی وہ کام کرے جس کا کوئی فائدہ اس دنیا میں اس کی ذات کی طرف، یا اس معاشرے کی طرف جس سے وہ تعلق رکھتا ہے، پلٹ کر آنے کی توقع ہو۔ یہ وہ چیز ہے جو فائدے کی امید اور نقصان کے اندیشے کی بنا پر انسان سے سچ اور جھوٹ، امانت اور خیانت، ایمانداری اور بےایمانی، وفا اور غدر، انصاف اور ظلم، غرض ہر نیکی اور اس کی ضد کا حسب موقع ارتکاب کرا سکتی ہے۔ ان اخلاقیات کا بہترین نمونہ موجودہ زمانہ کی انگریز قوم ہے جس کو اکثر اس امر کی مثال میں پیش کیا جاتا ہے کہ مادہ پرستانہ نظریہ حیات رکھنے اور آخرت کے بہترین تصور سے خالی ہونے کے باوجود اس قوم کے افراد بالعموم دوسروں سے زیادہ سچے، کھرے، دیانت دار، عہد کے پابند، انصاف پسند اور معاملات میں قابل اعتماد ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ افادی اخلاقیات کی ناپائیداری کا سب سے زیادہ نمایاں عملی ثبوت ہم کو اسی قوم کے کردار میں ملتا ہے۔ اگر فی الواقع انگریزوں کی سچائی، انصاف پسندی، راستبازی اور عہد کی پابندی اس یقین و اذعان پر مبنی ہوتی کہ یہ صفات بجائے خود مستقل اخلاقی خوبیاں ہیں تو آخر یہ کس طرح ممکن تھا کہ ایک ایک انگریز تو اپنے شخصی کردار میں ان کا حامل ہوتا مگر ساری قوم مل کر جن لوگوں کو اپنا نمائندہ اور اپنے اجتماعی امور کا سربراہ کار بناتی ہے وہ بڑے پیمانے پر اس کی سلطنت اور اس کے بین الاقوامی معاملات کے چلانے میں علانیہ جھوٹ، بدعہدی، ظلم، بےانصافی اور بددیانتی سے کام لیتے اور پوری قوم کا اعتماد ان کو حاصل رہتا ؟ کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ یہ لوگ مستقل اخلاقی قدروں کے قائل نہیں ہیں بلکہ دنیوی فائدے اور نقصان کے لحاظ سے بیک وقت دو متضاد اخلاقی رویے اختیار کرتے ہیں اور کرسکتے ہیں ؟ تاہم اگر کوئی منکر خدا و آخرت فی الواقع دنیا میں ایسا موجود ہے جو مستقل طور پر بعض نیکیوں کا پابند اور بعض بدیوں سے مجتنب ہے تو درحقیقت اس کی یہ نیکی اور پرہیزگاری اس کے مادہ پرستانہ نظریہ حیات کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ان مذہبی اثرات کا نتیجہ ہے جو غیر شعوری طور پر اس کے نفس میں متمکن ہیں۔ اس کا اخلاقی سرمایہ مذہب سے چرایا ہوا ہے اور اس کو وہ ناروا طریقے سے لامذہبی میں استعمال کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ اپنی لامذہبی و مادہ پرستی کے خزانے میں اس سرمائے کے ماخذ کی نشان دہی ہرگز نہیں کرسکتا۔ (تفہیم القرآن)

10۔ یہاں ایک لطیف انداز میں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے دارالامتحان سے کامیاب ہو کر نکلنے اور نعمت بھری جنتوں میں پہنچ جانے کے بعد یہ نہیں ہوگا کہ یہ لوگ بس وہاں پہنچتے ہی سامان عیش پر بھوکوں کی طرح ٹوٹ پڑیں گے اور ہر طرف سے لاؤ حوریں لاؤ شراب اور بجے چنگ درباب کی صدائیں بلند ہونے لگیں گی جیسا کہ جنت کا نام سنتے ہی بعض کج فہم حضرات کے ذہن میں اس کا نقشہ گھومنے لگتا ہے بلکہ درحقیقت صالح اہل ایمان دنیا میں افکار عالیہ اور اخلاق فاضلہ اختیار کر کے اپنے جذبات کو سنوار کر اپنی خواہشات کو سدھار کر اور اپنی سیرت و کردار کو پاکیزہ بنا کر جس قسم کی بلند ترین شخصیتیں اپنی ذات میں بہم پہنچائیں گے وہی دنیا کے ماحول سے مختلف، جنت کے پاکیزہ ترین ماحول میں اور زیادہ نکھر کر ابھر آئیں گی اور ان کے وہی اوصاف جو دنیا میں انہوں نے پرورش کیے تھے وہاں اپنی پوری شان کے ساتھ ان کی سیرت میں جلوہ گر ہوں گے ان کا محبوب ترین مشغلہ وہی اللہ کی حمد و تقدیس ہوگا جس سے دنیا میں وہ مانوس تھے اور ان کی سوسائٹی میں وہی ایک دوسرے کی سلامتی چاہنے کا جذبہ کار فرما ہوگا جسے دنیا میں انہوں نے اپنے اجتماعی رویے کی روح بنایا تھا۔ (تفہیم القرآن)

۔ ۔۔۔مستحب ہے کہ دعا کرنے والا آخر میں یہ کہا کرے وَ اٰخِرُ دَعْوٰىنا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اور قرطبی نے فرمایا کہ اس کے ساتھ بہتر یہ ہے کہ سورة صف کی آخر آیتیں بھی پڑھے یعنی (آیت) سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلٰمٌ عَلَي الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ (معارف القرآن)


دوسرا رکوع

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ ﴿11﴾ وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿12﴾ وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ﴿13﴾ ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ ﴿14﴾ وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ﴿15﴾ قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ﴿16﴾ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ ﴿17﴾ وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ﴿18﴾ وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ ﴿19﴾ وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿20ع يونس 10﴾
11. اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں۔ تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔ 12. اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہیں تو (بےلحاظ ہو جاتا ہے اور) اس طرح گزر جاتا ہے گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کرکے دکھائے گئے ہیں۔ 13. اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم کا راستہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ 14. پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو۔ 15. اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے۔ 16. (یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا) بھلا تم سمجھتے نہیں۔ 17. تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بےشک گنہگار فلاح نہیں پائیں گے۔ 18. اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے۔ 19. اور (سب) لوگ (پہلے) ایک ہی اُمت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے۔ اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا۔ 20. اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا کو ہے سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

تفسیر آیات

11۔ (کہ فوراً عذاب لے آنا حکمت تکوینی کے منافی ہے) یَعْمَهُوْنَ۔ نذیر احمدی زبان میں "ٹامک ٹوئیے مارتے ہوئے"یعنی اندھوں کی طرح ہاتھ کبھی ادھر مارتے ہوں،کبھی اُدھر مارتے ہوں۔(تفسیرماجدی)

۔ ۔۔ایک یہ کہ اس تقریر سے تھوڑی مدت پہلے وہ مسلسل اور سخت بلا انگیز، قحط ختم ہوا تھا جس کی مصیبت سے اہل مکہ چیخ اٹھے تھے۔۔۔۔۔۔دوسرے یہ کہ نبی ﷺ جب کبھی ان لوگوں کو انکار حق کی پاداش سے ڈراتے تھے تو یہ لوگ جواب میں کہتے تھے کہ تم جس عذاب الہٰی کی دھمکیاں دیتے ہو وہ آخر آ کیوں نہیں جاتا۔ اس کے آنے میں دیر کیوں لگ رہی ہے۔۔۔۔۔۔اسی پر فرمایا جا رہا ہے کہ خدا لوگوں پر رحم و کرم فرمانے میں جتنی جلدی کرتا ہے ان کو سزا دینے اور ان کے گناہوں پر پکڑ لینے میں اتنی جلدی نہیں کرتا۔ (تفہیم القرآن)

15۔ عَلَیْهِمْ۔ اوپر سے صیغۂ مخاطب چلا آرہاتھا ،یہاں معاً صیغۂ  غائب ہوگیا اور اس صنعت التفات کا استعمال اسلوب قرآنی میں کثرت سے ہے۔۔۔علاوہ بلاغت کے دوسرے نکتوں کے ایک کھلا ہواپہلوتو یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کردیتاہے کہ ایسے نالائق مخاطبین اس قابل کب ہیں کہ ان سے مخاطبہ براہ راست جاری رہے۔۔۔۔فقہاء نے یہیں سے یہ مسئلہ بھی نکالا ہے کہ بدعت حرام ہے ،دین میں نئی بات پیدا کرنے کا حق جب پیمبر معصومؑ تک کو نہ حاصل ہوسکا تو کسی غیر معصوم کو اس کا حوصلہ کب ہوسکتا ہے ۔اور علماءے حق نے جو لکھا ہے کہ سنت بعض حالات میں قرآن کی ناسخ ہوجاتی ہے ،سو"نسخ"سے ترمیم و تبدیل ہرگز مراد نہیں کہ یہ تو بالاتفاق حرام ہے "نسخ"سے ان کی اصطلاح میں مراد صرف اس قدر ہے کہ قرآن میں جو حکم مجمل تھا ،سنت نے اس کی تفصیل کردی اور جس باب میں اجمال تھا ،اس کی تصریح کردی، یا یہ کہ جو حکم مؤقت تھا اور اس کا مؤقت ہونا ہم پر مخفی تھا اسے واضح کردیا۔اور جو سنت کسی معنی میں بھی قرآن کو"نسخ"کرتی ہے ،وہ بھی رسولؐ کی اپنی رائے و فہم کا نتیجہ نہیں ہوتی ،بلکہ وہ بھی وحی الٰہی ہی ہوتی ہے۔(تفسیر ماجدی)

16۔ آپ کی اس زندگی میں دو باتیں بالکل عیاں تھیں جنہیں مکہ کے لوگوں میں سے ایک ایک شخص جانتا تھا: ایک یہ کہ نبوت سے پہلے کی پوری چالیس سالہ زندگی میں آپ ﷺ نے کوئی ایسی تعلیم، تربیت اور صحبت نہیں پائی جس سے آپ ﷺ کو وہ معلومات حاصل ہوتیں جن کے چشمے یکایک دعوائے نبوت کے ساتھ ہی آپ ﷺ کی زبان سے پھوٹنے شروع ہوگئے۔۔۔۔ دوسری بات جو آپ ﷺ کی سابق زندگی میں بالکل نمایاں تھی، وہ یہ تھی کہ جھوٹ، فریب، جعل، مکاری، عیاری اور اس قبیل کے دوسرے اوصاف میں سے کسی کا ادنیٰ شائبہ تک آپ کی سیرت میں نہ پایا جاتا تھا۔ (تفہیم القرآن)

19۔(اورایک گروہ ان میں کا شرک میں مبتلا ہوگیا ) كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً یعنی ابتداً سب کے سب موحد تھے۔قرآن کھلے ہوئے الفاظ میں ،دین میں "ارتقاء"کی قطعی تردید کررہاہے ،ابتداً صرف دین توحید ہی تھا اس کے بعد ارتقاء کے نہیں ،انحطاط کے اثر سے شرک اور بت پرستی کی مختلف صورتیں ظہور میں آنے لگیں ،چنانچہ اب جدید ترین ماہرین علم الاصنام و ماہرین اثریات پروفیسر شمڈٹ پروفیسر لینگڈن،سرچارلس مارسٹن وغیرہ سب تسلی کررہے ہیں کہ دین ابتدائی صورت میں توحید ہی تھا ،نہ کہ وہ نظریہ جو "فیشن"کے طورپر "علمی" دنیا میں انیسویں صدی عیسوی کے آخرمیں رائج تھا،یعنی انسان فطرۃً وطبعاً مشرک تھا،ترقی کرتے کرتے توحید تک پہنچا ہے۔قرآن مجید اس کی تکذیب و تردید میں اس کا مدعی ہے کہ انسان فطری اور طبعی طورپر موحد ہے،خارجی گمراہیوں نے اسے رفتہ رفتہ مشرک بنادیا۔(تفسیر ماجدی)

۔۔۔ كَان النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً  ، یعنی تمام اولاد آدم شروع میں ایک ہی امت ایک ہی قوم موحدین کی تھی۔۔۔۔ہاں جب ایمان کے خلاف کفر و شرک پھیلا تو کافر و مشرک کو الگ قوم الگ ملت قرار دے کر فاخْتَلَفُوْا ارشاد فرمایا، قرآن کریم کی آیت هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤ ْمِنٌ، نے اس مضمون کو اور بھی زیادہ واضح کردیا کہ اللہ کی مخلوق اولاد آدم کو مختلف قوموں میں بانٹنے والی چیز صرف ایمان و اسلام سے انحراف ہے، نسبی وطنی رشتوں سے قومیں الگ الگ نہیں ہوتیں، زبان اور وطن یا رنگ و نسل کی بناء پر انسانوں کو مختلف گروہ قرار دینے کی جہالت یہ نئی حماقت ہے جو نئی روشنی نے پیدا کی ہے اور آج کے بہت سے لکھے پڑھے اس نیشنلزم کے پیچھے لگ گئے جو ہزاروں فتنے اور فساد اپنے دامن میں رکھتا ہے اعاذ اللہ المسلمین منہ۔(معارف القرآن)


تیسرا رکوع

 وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ ﴿21﴾ هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ ﴿22﴾ فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿23﴾ اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ ﴿24﴾ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﴿25﴾ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿26﴾ وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿27﴾ وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ ﴿28﴾ فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ ﴿29﴾ هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿30ع يونس 10﴾
21. اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں۔ 22. وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کرکے اس سے دعا مانگنے لگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں۔ 23. لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ 24. دنیا کی زندگی کی مثال مینھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ 25. اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔ 26. جن لوگوں نے نیکو کاری کی ان کے لیے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور ان کے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 27. اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی۔ اور کوئی ان کو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اُڑھا دیئے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ 28. اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے۔ 29. ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بےخبر تھے۔ 30. وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

تفسیر آیات

21۔ اس آیت میں قحط کی طرف اشارہ ہے جس کا اسی سورہ کی آیت نمبر 11 میں ذکر آیا ہے۔یہ قحط مکہ پر مسلسل سات سال تک مسلط رہاپھر آپؐ کی دعاسے یہ مصیبت دورہوئی اب سوال یہ ہے کہ اس قحط میں اور اس کے دور ہونے میں تمہارے لیے کوئی نشانی نہیں کہ تم اب کسی اور معجزہ کا مطالبہ کرنے لگے ہو اس قحط کے دوران تم نے دیکھ لیا کہ باوجود تمہاری فریادوں کے تمہارے معبود تمہاری اس مصیبت کو تم سے دورنہ کرسکے پھر جب اللہ نے تمہاری مصیبت دور کردی تو پھر تم اپنے وعدوں سے فرار کی راہ سوچنے لگے اور ایسے مکر اور بہانے بنانے شروع کردیے جس سے تمہیں اپنے قدیم شرک پر جمے رہنے کیلئے تائید حاصل ہواور توحید کے اقرار سے بچ سکو جو کچھ بھی چالیں تم چل رہے ہو اس کا وبال تمہی پر پڑے گااور تمہاری ان سب چالوں کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے۔(تیسیر القرآن)

22۔ قرآن مجید میں جو کچھ آبی کشتیوں (الفلک)اور ہواکی تندی کے سلسلہ میں آیا ہے وہ ذراسے توسع سے کام لینے کے بعد ہوائی کشتیوں اور ہوائی سفر پر بھی صادق آجاتاہے۔۔۔منقول ہے کہ کسی نے حضرت جعفر صادقؓ کی خدمت میں آکر عرض کی کہ پروردگار عالم کی بابت کچھ مجھے ارشاد فرمائیے آپ نے کہا کہ تم کرتے کیا ہو؟اس نے کہا کہ تجارت بحری میراپیشہ ہے،آپ نے فرمایا کہ اچھا تم اس کا کچھ حال بیان کرو اس نے کہا کہ ایک بار میری کشتی عین دریا میں ٹوٹ گئی ،اور میں ایک تختہ پر بیٹھابہا جارہاتھا کہ ہوائے تیز و تند کا تھپیڑا آیا ،آپ نے فرمایا اچھا یہ بتاؤ، اس وقت تمہارے دل میں خشوع و شکستگی کی کیفیت پیدا ہوئی تھی؟اس نے کہا بے شک آپ نے فرمایا کہ جس کی طرف تمہاری تضرع و شکستگی نے رخ کیا تھا ،بس وہی پروردگار عالم ہے(کبیر)۔(تفسیر ماجدی)

24۔ "فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ"کے دومفہوم ہیں ایک یہ کہ بارش کے پانی سے پیداوار اس کثرت سے پیداہوئی کہ آپس میں ایک دوسرے سے گتھ گئی ایک پودے کی شاخیں دوسرے میں جاگھسیں اور دوسرے کی پہلے میں اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ پانی سے جو پیداوار یا نباتات حاصل ہوئی وہ انسانوں اور چوپایوں کیلئے ملی جلی یا مشترکہ تھی جیسے گندم کے دانے تو انسان کی خوراک ہیں اور بھوسہ چوپایوں کی ۔اور نباتات کی اقسام میں یہی صورت حال ہوتی ہے۔(تیسیر القرآن)

ــــ  یہاں دنیا کی بے ثباتی کو مثال کی صورت میں یوں پیش کیا ہے کہ جیسے آسمان سے خوب زور و شور کی بارش ہو ہر قسم کے نباتات کی رؤیدگی خوب ہے ،آدمی کے کھانے کے قابل پھل پھلا ری ،میوہ ،غلہ اور جانوروں کے کھانے کے لئے پتیاں ،بھوسہ وغیرہ کی خوب پیداوار ہو پھر جب ہر طرف خوب سرسبزی و شادابی پھیل جائے ،لہلہاتے کھیت ،سرسبز درخت،شاداب باغ، ہرطرف پورے زیب و زینت کے ساتھ نظر آنے لگیں ،اور انسان سمجھنے لگے کہ بس ہم ان تمام لذتوں اور نعمتوں سے لطف اٹھانے کے پوری طرح مالک و مختار ہیں کہ یک بیک حکم الٰہی سے کوئی ایسا آسمانی یا زمینی حادثہ پیش آجائے کہ سارا گل و گلزار تہس نہس ہوکر رہ جائے اور حالت یہ ہوجائے کہ گویا کل یہاں کچھ تھا ہی نہیں ! یہ مرقع ہے انسانی زندگی کا کہ بڑے بڑے نامور و بااقبال انسان کا بھی خاتمہ دفعۃً موت ہوکر رہ جاتاہے۔اور یہ حال ہے دنیا کا جس کی ادھیڑ بُن میں غافل انسان ہمہ تن ہمہ وقت لگارہتاہے۔(تفسیر ماجدی) 

25۔ یعنی دنیا میں زندگی بسر کرنے کے اس طریقے کی طرف جو آخرت کی زندگی میں تم کو دارالسلام کا مستحق بنائے۔ دارالسلام سے مراد ہے جنت اور اس کے معنی ہیں سلامتی کا گھر، وہ جگہ جہاں کوئی آفت، کوئی نقصان، کوئی رنج اور کوئی تکلیف نہ ہو۔ (تفہیم القرآن)

۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ دارالسلام جنت کے سات ناموں میں سے ایک نام ہے۔ (تفسیر قرطبی)۔۔۔۔۔اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی گھر کا نام دارالسلام رکھنا مناسب نہیں، جیسے جنت یا فردوس وغیرہ نام رکھنا بھی درست نہیں۔ (معارف القرآن)

29۔ اہل شرک کو سب تکلیفوں اور عذابوں سے بڑھ کر اس منظر کا بھی سامنا کرنا ہوگا کہ خود انہی کے معبود الٹے ان سے تبرّیٰ و بیزاری کا اظہار کررہے ہیں۔(تفسیر ماجدی) 


چوتھا رکوع

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ﴿31﴾ فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ ﴿32﴾ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ﴿33﴾ قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ ﴿34﴾ قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ ﴿35﴾ وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ ﴿36﴾ وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫  ﴿37﴾ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿38﴾ بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ ﴿39﴾ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿40ع يونس 10﴾
31. (ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا۔ تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں؟ 32. یہی خدا تو تمہارا پروردگار برحق ہے۔ اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو۔ 33. اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ 34. (ان سے) پوچھو کہ بھلا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ مخلوق کو ابتداً پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے؟ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اُکسے جارہے ہو۔ 35. پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا رستہ دکھائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا رستہ دکھاتا ہے۔ بھلا جو حق کا رستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے رستہ نہ بتائے رستہ نہ پائے۔ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو؟ 36. اور ان میں سے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بےشک خدا تمہارے (سب) افعال سے واقف ہے۔ 37. اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (ہاں یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں۔ ان کی تصدیق کرتا ہے اور ان ہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے۔ 38. کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو۔ 39. حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔ 40. اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمھارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے۔

تفسیر آیات

32۔ خیال رہے کہ خطاب عام لوگوں سے ہے اور ان سے سوال یہ نہیں کیا جا رہا کہ ”تم کدھر پھرے جاتے ہو“ بلکہ یہ ہے کہ ”تم کدھر پھرائے جا رہے ہو“۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی ایسا گمراہ کن شخص یا گروہ موجود ہے جو لوگوں کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ پر پھیر رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)

33۔اہل سنت نے کہاہے کہ اس آیت سے رد نکل رہاہے ،فرقہ قدریہ کا یعنی اس عقیدہ کا کہ انسان کی تقدیر تمام تر اس کے ہاتھ میں ہے۔(تفسیر ماجدی)

35۔ فقہاء نے بھی اس آیت سے خوب خوب مسائل مستنبط کئے ہیں۔مثلاً (1)یقین شک سے زائل نہیں ہوسکتا۔(2)نص کے مقابلہ میں کوئی قیاس معتبر نہیں۔(3)اطلاق و عموم قرآنی کی تحدید و تقیید اخبار آحاد سے جائز نہیں۔(4)وہ دلائل جو ثبوت میں یا دلالت میں ظنی ہوں، قطعی و یقینی کے معارض و مقابل نہ ہوسکیں گے۔(5)ایمانیات و اعتقادیات امرثابت و حق سے متعلق ہیں،اس لئے ان میں دلائل ظنی کافی نہیں۔(6)جب کوئی دلیل قطعی نہ موجودہو تو دلائل ظنی پر عمل ممنوع نہیں ،اس لئے کہ ظن کی عدم کفایت بہ مقابل حق مذکور ہے نہ کہ مطلقاً۔(7)مسائل فقہی میں اختلاف اجتہاد معتبر ہے، اس لئے کہ اجتہاد ظن ہے، اور یہاں ظن مفید اور مسائل اعتقادی میں تاویل وا ختلاف ممنوع اس لئے کہ ان کا مدار یقین پر ہے ،پس فرق ضالہ دائرہ اہل حق سے خارج ہیں۔۔۔۔۔ ان۔۔۔ شیئاً ۔ مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ اس سے علماء رسوم بہت کم محفوظ ہیں ،چنانچہ اکثر متکلمین اہل ظاہر کے دلائل (ذات و صفات کے بارہ میں)باہم متعارض پائے جاتے ہیں ،جو ظنیات کی شان ہوتی ہے پس جو کوئی اس سے بچنا چاہے ،چاہئے کہ وہ سلف صالح کی اتباع میں لگا رہے،اور فلسفیات میں مشغول نہ ہو، جس سے بجز شک بڑھنے کے اور کچھ حاصل نہیں۔(تفسیرماجدی)

37۔ ۔۔۔ تورات  کے نزول سے پہلے یعنی موسیٰؑ پر تورات نازل ہونے سے پہلے سیدنا آدمؑ سے لے کر سیدنا موسیٰؑ تک تمام انبیاء پر جو وحی نازل ہوتی رہی اس کے بھی کلیات دین وہی تھے جو تورات میں مذکور ہیں تو پھر آخر تورات کی بھی کیا ضرورت تھی؟۔۔۔اور اس اعتراض کا حقیقی جواب یہ ہے کہ سابقہ تمام الہامی کتب میں کسی کتاب کا بھی اصل متن محفوظ نہیں رہا جس زبان میں وہ نازل ہوئی تھیں ان کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے انبیاء متعلقہ کے بعد ان کے علماء پر ڈالی تھی۔خود ان کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی تھی۔(تیسیرالقرآن)

38۔اس جیسا قرآن لانے کا چیلنج 4 دفعہ مکہ میں اور ایک دفعہ مدینہ میں دیا گیا۔ تفصیل یہ ہے: (i)الطور (33،34) اس جیسا کلام (کوئی ایک بات)۔ (ii) بنی اسرائیل(88)   اس قرآن کی مثل، تمام انسان اور جن مل کر (iii) ھود(13)،اس جیسی دس سورتیں ۔ (iv) سورۂ یونس(36) اس جیسی ایک سورۃ ۔ (v) البقرہ(23،24) اس جیسی ایک سورۃ ــــ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ۚۖ-اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ (پھر اگر تم یہ نہ کرسکواور تم ہر گز نہ کرسکو گے تو اس آگ سے ڈروجس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔ وہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔)۔۔۔۔۔عام خیال ہے کہ معجزہ اس کی فصاحت و بلاغت اور ادبی خوبیوں کی وجہ سے ہے لیکن اصل معجزہ اس کی تعلیمات اور مضامین ہیں۔اعجاز القرآن فصاحت و بلاغت بھی ہے اور تعلیمات و مضامین بھی(تفہیم القرآن ۔جلد 5، ص175تا 179)(تفہیم القرآن)

ـــــجس طرح خدا کی زمین جیسی زمین، خداکے سورج جیسا سورج اور خدا کے آسمان جیسا آسمان بنانے سے دنیا عاجز ہے ،خدا کے قرآن جیسا قرآن بنانے سے بھی دنیا عاجز رہے گی۔(تفسیر عثمانی)


پانچواں رکوع

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ ﴿41﴾ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ ﴿42﴾ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ ﴿43﴾ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ ﴿44﴾ وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ ﴿45﴾ وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ ﴿46﴾ وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ﴿47﴾ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿48﴾ قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ﴿49﴾ قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ ﴿50﴾ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ﴿51﴾ ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ ﴿52﴾ وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿53ع يونس 10﴾
41. اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کے جواب دہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں۔ 42. اور ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سنتے) سمجھتے نہ ہوں۔ 43. اور بعض ایسے ہیں کہ تمھاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں۔ 44. خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ 45. اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہیں تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑ گئے اور راہ یاب نہ ہوئے۔ 46. اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے پھر جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ 47. اور ہر ایک اُمت کی طرف سے پیغمبر بھیجا گیا۔ جب ان کا پیغمبر آتا ہے تو اُن میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا۔ 48. اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب؟ 49. کہہ دو کہ میں اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں۔ 50. کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے۔ 51. کیا جب وہ آ واقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤ گے (اس وقت کہا جائے گا کہ) اور اب (ایمان لائے؟) اس کے لیے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔ 52. پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزہ چکھو۔ (اب) تم انہی (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دنیا میں) کرتے رہے۔ 53. اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے۔ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہیں کرسکو گے۔

تفسیر آیات

43۔مطلب یہ ہے کہ سننے سمجھنے اور فہم و بصیرت رکھنے والے لوگ قرآن کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔رہے وہ لوگ جو اپنی شامت اعمال سے گونگے بہرے اور ااندھے بن چکے ہیں تو اللہ کی سنت کے تحت ان کو ہدایت حاصل نہیں ہوسکتی۔(ترجمہ:مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

45۔ یَوْمَ یَحْشُرُ چونکہ مدید بھی ہوگا اور شدید بھی ،اس لئے دنیا اور برزخ کی مدت اور تکلیف سب بھول کر ایسا سمجھیں گے کہ وہ زمانہ بہت جلد گزرگیا۔(تھانویؒ) سَاعَة۔بعض نے کہا ہے کہ کوئی متعین مقدار اور مدت نہیں، بلکہ صرف قلت مدت بتانا مقصود ہے ،اور گھڑی بھر سے کنایہ قلیل مدت ہی کا ہوتاہے۔۔۔(اور اسی لئے اپنی زندگی و اشغال زندگی کے سارے پروگرام  میں کوئی دفعہ یاد آخرت کی آنے ہی نہ دی)کتنا حسب حال آج کی"مہذب و ترقی یافتہ"قوموں کے ہے۔(تفسیر ماجدی)

47۔  امت“ کا لفظ یہاں محض قوم کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ ایک رسول کی آمد کے بعد اس کی دعوت جن جن لوگوں تک پہنچے وہ سب اس کی امت ہیں۔ نیز اس کے لیے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ رسول ان کے درمیان زندہ موجود ہو، بلکہ رسول کے بعد بھی جب تک اس کی تعلیم موجود رہے اور ہر شخص کے لیے یہ معلوم کرنا ممکن ہو کہ وہ درحقیقت کس چیز کی تعلیم دیتا تھا، اس وقت تک دنیا کے سب لوگ اس کی امت ہی قرار پائیں گے اور ان پر وہ حکم ثابت ہوگا جو آگے بیان کیا جا رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)

49۔قوموں کی ہلاکت کی اجل اخلاقی پیمانہ سے ناپ کر اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہوتی کہ گھڑی کی سوئی کب اپنے آخری نشان پرپہنچے گی جس کے بعد عذاب نازل ہوگا۔ خدا کا رسول بھی اس سے بے خبر ہوتاہے۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)


چھٹا رکوع

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ﴿54﴾ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿55﴾ هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ﴿56﴾ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ﴿57﴾ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ﴿58﴾ قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ ﴿59﴾ وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿60ع يونس 10﴾
. اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو (پچھتائیں گے اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا۔ 55. سن رکھو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 56. وہی جان بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔ 57. لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفا ، اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے۔ 58. کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہیئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ 59. کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمھارے لئے جو رزق نازل فرمایا تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھہرایا اور (بعض کو) حلال۔ (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تم کو اس کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افتراء کرتے ہو۔ 60. اور جو لوگ خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ بےشک خدا لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

تفسیر آیات

56۔ هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ۔مشرکوں کی طرح یہاں یہ نہیں کہ خدا کی خدائی تین حصوں میں تقسیم ہو، ایک پیدا کرنے والا،ایک خدا قائم و سلامت رکھنے والا،اور ایک خدا موت و ہلاکت لانے والا۔یہاں پیدا ،باقی رکھنا، فناطاری کرنا،سب ایک ہی خدائے واحد کا کام ہے۔(تفسیر ماجدی)

57۔قرآن کی چار صفتیں :  (i) موعظت(خطرات سے آگاہی اور لاپرواہوں کو عذاب کی خبر)(ii) دلوں کے روگ کیلئے شفا (دل بیدارفاروقی دل بیدار کراری۔۔۔۔۔ مس آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری) بعض مفسرین جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی شفا قرار دیتے ہیں (iii)ہدایت(iv)رحمت۔(تدبرقرآن)

- مَوْعِظَة اور وعظ کے معنی ایسی چیزوں کا بیان کرنا ہے جن کو سن کر انسان کا دل نرم ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے ،دنیا کی غفلت کا پردہ چاک ہو اور آخرت کی فکر سامنے آجائے۔(معارف القرآن)

ــــ رزق کا وسیع تر مفہوم:۔ رزق سے عموماً کھانے پینے کی چیزیں ہی مراد لی جاتی ہیں ۔حالانکہ یہ لفظ بڑے وسیع مفہوم میں استعمال ہوتاہے ۔مثلاً آپؐ یہ دعا مانگتے تھے۔ "اللھم ارزقنی علماً نافعاً"(یا اللہ مجھے نفع دینے والا علم عطا فرما) ۔اسی طرح ایک مشہور دعاہے۔"اللھم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ" ۔اس پہلی دعامیں رزق کا لفظ عطا کرنے یا عطیہ کے معنوں میں آیا ہے ۔اور دوسری دعا میں توفیق عطاکرنے کے معنوں میں۔ اور اصل یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو انسان کی جسمانی یاروحانی تربیت میں کوئی ضرورت پوری کرتی ہووہ رزق ہے چناچہ "وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ"میں بھی رزق سے مراد صرف مال و دولت ہی نہیں جس سے صدقہ فرضی یا نفلی اداکیا جائے بلکہ اگر اللہ نے علم عطا کیا ہے تو وہ بھی رزق ہے اور اسے بھی خرچ کیا جائے یعنی دوسروں کو سکھلایا جائے اور اگر صحت عطاکی ہے تو کمزوروں کی مدد کرکے صحت سے صدقہ اداکیا جائےگا۔(تیسیر القرآن)

59۔ اردو زبان میں رزق کا اطلاق صرف کھانے پینے کی چیزوں پر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہاں گرفت صرف اس قانون سازی پر کی گئی ہے جو دستر خوان کی چھوٹی سی دنیا میں مذہبی اوہام یا رسم و رواج کی بنا پر لوگوں نے کر ڈالی ہے۔ اس غلط فہمی میں جہلا اور عوام ہی نہیں علماء تک مبتلا ہیں۔ حالانکہ عربی زبان میں رزق محض خوراک کے معنی تک محدود نہیں ہے بلکہ عطاء اور بخشش اور نصیب کے معنی میں عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی دنیا میں انسان کو دیا ہے وہ سب اس کا رزق ہے، حتیٰ کہ اولاد تک رزق ہے۔ (تفہیم القرآن)


ساتواں رکوع

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ﴿61﴾ اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ ۖ ﴿62﴾ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ  ﴿63﴾ لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ  ﴿64﴾ وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ﴿65﴾ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ ﴿66﴾ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ﴿67﴾ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ﴿68﴾ قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ  ﴿69﴾ مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿70ع يونس 10﴾
61. اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔ 62. سن رکھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔ 63. (یعنی) جو لوگ ایمان لائے اور پرہیزگار رہے۔ 64. ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔ 65. اور (اے پیغمبر) ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے وہ (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے۔ 66. سن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب خدا کے (بندے اور اس کے مملوک) ہیں۔ اور یہ جو خدا کے سوا (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو پکارتے ہیں۔ وہ (کسی اور چیز کے) پیچھے نہیں چلتے۔ صرف ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔ 67. وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہٴ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لیے ان میں نشانیاں ہیں۔ 68. (بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنا لیا ہے۔ اس کی ذات (اولاد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اسی کا ہے (اے افتراء پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطل) کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں۔ 69. کہہ دو جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔ 70. (ان کے لیے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو شدید عذاب (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے۔

تفسیر آیات

61۔ (توہم کوکسی کے بھی حال سے کسی حال میں غافل نہ سمجھنا۔)قرآن مجید کی متعدد آیتوں کی طرح یہ آیت بھی پوری طرح واضح اس وقت ہوتی ہے،جب اہل ضلال کے عقائد پیش نظر ہوں،بعض جاہلی قوموں کا عقیدہ ہے کہ خداموجود تو ہے،اور صفت علم سے متصف بھی ہے لیکن اس کا علم صرف قدیم ہے،اس کی واضح تردید میں ارشاد ہورہاہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم اس وقت بھی ہوتارہتاہے ،جب کوئی فعل واقعۃً و عملاً وقوع میں آنے لگتاہے۔(تفسیرماجدی)

 62۔ اولیاء اللہ کی پہچان:  ۔۔۔عرف عام میں اولیاء اللہ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو ایمان و تقویٰ کے بلند درجات پر فائز ہوں اس کی مثال یوں سمجھیے کہ پچاس روپیہ بھی مال و دولت ہے لیکن مالدار اسی شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس ہزاروں اور لاکھوں روپے اپنی ضروریات زندگی سے زائد موجود ہوں اسی لحاظ سے بعض صحابہ سے ولی کی یہ صفت منقول ہے کہ ولی وہ مسلمان ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آئے اور مخلوق خدا سے انہیں بے لوث محبت ہو۔(تیسیر القرآن)

64۔ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ، یہاں کلمات اللہ، سے مراد خدا کے وعدے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہیں۔ یہ پورے ہو کے رہیں گے اور اصلی اور بڑی کامیابی یہی ہے جس کا وعدہ اہل ایمان کے لیے کیا جا رہا ہے۔ (تدبر ِ قرآن)

67۔ مشرکین نے خالص وہم پر اپنی تلاش کی بنیاد رکھی ہے۔۔۔۔۔ اشراقیوں اور جو گیوں نے اگرچہ مراقبہ کا ڈھونگ رچایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ہم ظاہر کے پیچھے جھانک کر باطن کا مشاہدہ کرلیتے ہیں، لیکن فی الواقع انہوں نے اپنی اس سراغ رسانی کی بنا گمان پر رکھی ہے۔ وہ مراقبہ دراصل اپنے گمان کا کرتے ہیں، اور جو کچھ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نظر آتا ہے اس کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ گمان سے جو خیال انہوں نے قائم کرلیا ہے اسی پر تخیل کو جما دینے اور پھر اس پر ذہن کا دباؤ ڈالنے سے ان کو وہی خیال چلتا پھرتا نظر آنے لگتا ہے۔۔۔۔۔ اصطلاحی فلسفیوں نے قیاس کو بنائے تحقیق بنایا ہے جو اصل میں تو گمان ہی ہے لیکن اس گمان کے لنگڑے پن کو محسوس کر کے انہوں نے منطقی استدلال اور مصنوعی تعقل کی بیساکھیوں پر اسے چلانے کی کوشش کی ہے اور اس کا نام ”قیاس“ رکھ دیا ہے۔۔۔۔۔ سائنس دانوں نے اگرچہ سائنس کے دائرے میں تحقیقات کے لیے علمی طریقہ اختیار کیا ہے، مگر مابعد الطبیعیات کے حدود میں قدم رکھتے ہی وہ بھی علمی طریقے کو چھوڑ کر قیاس و گمان اور اندازے اور تخمینے کے پیچھے چل پڑے۔۔۔۔۔ پھر ان سب گروہوں کے اوہام اور گمانوں کو کسی نہ کسی طرح سے تعصب کی بیماری بھی لگ گئی جس نے انہیں دوسرے کی بات نہ سننے اور اپنی ہی محبوب راہ پر مڑنے، اور مڑ جانے کےبعد مڑے رہنے پر مجبور کردیا۔۔۔۔۔۔۔ اس کے مقابلہ میں قرآن فلسفیانہ تحقیق کے لیے صحیح علمی و عقلی طریقہ یہ بتاتا ہے کہ پہلے تم حقیقت کے متعلق ان لوگوں کا بیان کھلے کانوں سے، بلاتعصب سنو جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم قیاس و گمان یا مراقبہ و استدراج کی بنا پر نہیں بلکہ ”علم“ کی بناپر تمہیں بتا رہے ہیں کہ حقیقت یہ ہے۔ پھر کائنات میں جو آثار (باصطلاح قرآن ”نشانات“) تمہارے مشاہدے اور تجربے میں آتے ہیں ان پر غور کرو، ان کی شہادتوں کو مرتب کر کے دیکھو، اور تلاش کرتے چلے جاؤ کہ اس ظاہر کے پیچھے جس حقیقت کی نشاندہی یہ لوگ کر رہے ہیں اس کی طرف اشارہ کرنے والی علامات تم کو اسی ظاہر میں ملتی ہیں یا نہیں۔ اگر ایسی علامات نظر آئیں اور ان کے اشارے بھی واضح ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں تم خواہ مخواہ ان لوگوں کو جھٹلاؤ جن کا بیان آثار کی شہادتوں کے مطابق پایا جا رہا ہےــــــــــــ یہی طریقہ فلسفہ اسلام کی بنیاد ہے جسے چھوڑ کر افسوس ہے کہ مسلمان فلاسفہ بھی افلاطون اور ارسطو کے نقش قدم پر چل پڑے۔ (تفہیم القرآن)

68۔۔ان کا گمان یہ ہے کہ خدا بھی انسان کی طرح جذباتی میلانات رکھتا ہے اور اپنے بیشمار بندوں میں سے کسی ایک کے ساتھ اس کو کچھ ایسی محبت ہوگئی ہے کہ اس نے اسے بیٹا بنا لیا ہے ۔ (تفہیم القرآن)

70۔ مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا۔کہہ کر قرآن مجید نے منکر ومکذب قوموں کی بالکل صحیح تصویر کھینچ دی ہے،اجمال کی تفصیل کیلئے مشاہدہ ہوں،روس اور امریکہ اور برطانیہ اور بڑی بڑی "مہذب ،"ترقی یافتہ"،"اقبال مند" قوموں کے حالات۔ ان کے آپس کے رشک وحسد کا حال ، ان کی حرام کاریوں کا حال ،ان کی شراب نوشیوں کا حال، ان کی غیر طبعی اور حیوانی شہوت رانیوں کا حال، ان کی سود خوریوں کا حال، ان کے جرائم کا حال،ان کے ہاں کے امراض خبیثہ کا حال، ان کے اسٹرائیکوں اور ہڑتالوں کا حال ،زندگی سے اُکتا اُکتا کر ان کی خود کشیوں کا حال،ان کے ہاں کی کثرتِ فواحش کاحال ،ان کے ہاں کی معاشی ابتری اور بے روزگاری کا حال، اور پھر فیصلہ کیجئے کہ متاع دنیاکا زیادہ سے زیادہ ذخیرہ رکھنے کے بعد بھی ان منکرین حق کو باوجود اپنی انتہائی "ترقیوں "کے فلاح کسی معنی میں بھی حاصل ہے؟اور آج جو کج فہم "ہمدردانِ قوم"قوم وملت کو انہیں "ترقی یافتہ قوموں "کی روش پر چلانا چاہتے ہیں، وہ ملت کو فلاح کی جنت کی طرف لئے جارہے ہیں،یا دنیا ہی میں دوزخ کے عذاب کی طرف ؟ قرآن مجید تو ہرجگہ اور باربار یہی بتارہاہے،اور ہمارے مشاہدہ سے اس کی تصدیق کرارہاہے کہ جو قومیں ایمان  صحیح اور تقویٰ سے عاری ہیں،وہ عیش ابدی سے تو خیر محروم ہی ہیں،دنیا میں بھی ان کا تنعم محض ظاہری و سطحی ہوتاہے،اندرسے بالکل کھوکھلا!متاع ٌ میں تنوین تقلیل کی ہے۔یعنی متاع دنیوی تو خود ہی قلیل ہے پھر منکرین کے حصہ میں اور بھی قلیل تر۔(تفسیر ماجدی)


آ ٹھواں رکوع

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ ﴿71﴾ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ﴿72﴾ فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ ﴿73﴾ ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ ﴿74﴾ ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ ﴿75﴾ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ ﴿76﴾ قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ ﴿77﴾ قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ ﴿78﴾ وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ ﴿79﴾ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ ﴿80﴾ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ ﴿81﴾ وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿82ع يونس 10﴾
71. اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنادو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تم کو میرا تم میں رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے اور پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو۔ 72. اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں۔ 73. لیکن ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچا لیا اور انہیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو غرق کر دیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیا انجام ہوا۔ 74. پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔ 75. پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے۔ 76. تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ 77. موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے۔ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے۔ 78. وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیردو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ 79. اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔ 80. جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا تم کو جو ڈالنا ہے ڈالو۔ 81. جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا کہ جو چیزیں تم (بنا کر) لائے ہو جادو ہے۔ خدا اس کو بھی نیست ونابود کردے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا۔ 82. اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کردے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں۔

تفسیر آیات

73۔ اس طوفان کے آثار قدیم ماہرین سائنس کو آج بھی ارضِ نوحؑ میں مل رہے ہیں،یہ طوفان ملک عراق میں، دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیانی علاقہ میں آیاتھا،اس علاقہ کا رقبہ موجودہ ماہرین اثریات کے تخمینہ کے مطابق 400میل طول اور 100 میل عرض میں تھا۔۔۔ الْفُلْك۔کشتی نوحؑ ،حسب تصریح توریت، طول  300 ہاتھ کا، عرض 50 ہاتھ کااور بلندی 30 ہاتھ کی تھی،جیسے آج کل کے برطانیہ اور امریکہ کے درمیان چلنے والے مسافروں کے جہاز یا (LINER) ۔۔۔غرقابی قوم نوحؑ کے بعد، آپ کے مخلص رفیق پھر اسی علاقہ میں آباد ہوئے اور انہی سے سلسلۂ نسل آدمؑ چلا،نوع انسانی کی آبادی،تاریخ کے اس ابتدائی دور میں ،صرف اسی سرزمین کے حدود تک محدود تھی۔۔۔اور اس لئے جن مفسرین نے طوفانِ نوح ؑ کے عالمگیر ہونے کا دعویٰ کیا ہے انہوں نے کچھ غلط نہیں کہا،آبادی عالم اس وقت جو تھی، وہ تو محدود اس خطۂ عراق تک تھی۔۔۔یہ بیان کہ خداوند تعالیٰ نے غصہ ہوکر ساری نسل انسانی کو ہلاک کرڈالنا چاہا،قرآن نہیں، بائبل کا ہے،بائبل ہی میں یہ تصریحات ملتی ہیں کہ "خداوند زمین پر انسان کے پیدا کرنے سے پچھتایااور نہایت دل گیر ہوا،اور خداوند نے کہا کہ میں انسان کو جسے میں نے پیدا کیا ،روئے زمین پر اسے مٹا ڈالوں گا، انسان کو اور حیوان کو بھی، اور کیڑے مکوڑے آسمان کے پرندوں تک ،کیونکہ میں ان کے بنانے سے پچھتاتاہوں۔"(پیدائش۔ 6: 5۔ 7) (تفسیر ماجدی)

۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پہلے مکذبین کے غرق کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ حضرت نوح اور ان کے باایمان ساتھیوں کی نجات کا ذکر فرمایا۔ اس لیے کہ سنت الٰہی یہی ہے کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں پر جب عذاب آیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے اہل ایمان کی حفاظت کا اہتمام فرمایا ہے۔ وَجَعَلْنٰھُمْ خَلٰۗىِٕفَ ، یعنی مکذبین کو غرق کر کے ان کی جگہ زمین کی وراثت حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں کو بخشی۔ (تدبرِ قرآن)

75۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون فرعون اور اس کے اعیان کے پاس رسول کی حیثیت سے گئے تھے اس وجہ سے انہوں نے لازماً ان کے اوپر اللہ کی حجت تمام کی۔ اس کے بغیر رسول کا مشن پورا نہیں ہوتا اس وجہ سے ان لوگوں کا خیال صحیح نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے ایک قوم پرست لیڈر کی طرح فرعون سے صرف بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا، اس کے آگے ایمان و اسلام کی کوئی دعوت نہیں پیش کی۔ (تدبرِ قرآن)

81۔ السِّحْرُ۔ یہاں "ال"کے ساتھ معرفہ کی صورت میں لانا اسی لئے ہے کہ وہ قول فرعون هٰذَا سِحْرٌ نکرہ کے جواب میں ہے۔(تفسیر ماجدی)


نواں رکوع

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ ﴿83﴾ وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ ﴿84﴾ فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ  ﴿85﴾ وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ ﴿86﴾ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿87﴾ وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ﴿88﴾ قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿89﴾ وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ﴿90﴾ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ﴿91﴾ فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿92ع يونس 10﴾
83. تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا۔ مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے۔ اور فرعون ملک میں متکبر ومتغلب اور (کبر وکفر) میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔ 84. اور موسیٰ نے کہا کہ بھائیو! اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسہ رکھو۔ 85. تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال۔ 86. اور اپنی رحمت سے قوم کفار سے نجات بخش۔ 87. اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لیے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھہراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔ 88. اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) سازو برگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مال یہ ہے کہ تیرے رستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ان کے مال کو برباد کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔ 89. خدا نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے رستے نہ چلنا۔ 90. اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں۔ 91. (جواب ملا کہ) اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا۔ 92. تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بےخبر ہیں۔

تفسیر آیات

83۔ ذرّیت کے معنی نوجوان جرأتمند نسل:۔  لفظ ذرّیت کا لغوی معنی اولاد ہے اور یہاں ذرّیت سے مراد بنی اسرائیل کی نوجوان نسل ہے ان نوجوانوں میں سے بھی چند آدمیوں نے ہمت کرکے سیدنا موسیٰؑ پر ایمان لانے کا اعلان کردیا ورنہ بڑے بوڑھے لوگ تو فرعون کی چیرہ دستیوں سے اس قدر خائف تھے کہ دل سے ایمان لانے کے باجود اپنے ایمان کا اظہار کرنے میں اپنی موت سمجھتے تھے۔طویل مدت کی غلامی، بڑھاپے کی کمزوری اور فرعون کے مظالم نے انہیں اتنا پست ہمت بنادیا تھا کہ وہ اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے۔جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بنی اسرائیل کے یہ چند نوجوان ہی اتنے دلیر ثابت ہوئے کہ انہوں نے پیش آنے والے مصائب و مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا تہیہ کرلیا اور اپنے ایمان کا برملا اعلان کردیا ۔اس طرح موسیٰؑ کو کچھ تقویت حاصل ہوگئی اور آپ نے ان نومسلموں کی تربیت شروع کردی اور سمجھا یا کہ اب تمہیں نہایت ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ میرا ساتھ دینا ہوگا اور اگر تم اللہ کے فرمانبردار بن کر رہے اور اسی پر بھروسہ کیا تو فرعون تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا۔۔۔موسیٰؑ کے اس دور کے حالات اور آپؐ کے حالات کی مماثلت ۔۔۔۔نوجوان صحابہ اور ان کی عمریں:۔ بالکل ایسی صورت حال مکہ میں بھی پیش آئی تھی ۔آپ پر جو لوگ ایمان لائے تھے ان میں اکثر نوجوان طبقہ ہی تھا۔مثلاً سیدنا علیؓ ،جعفر طیارؓ ،زبیر بن عوامؓ،سیدنا طلحہ ؓ،سعد بن ابی وقاصؓ ،عبداللہ بن مسعودؓ وغیرہم ، یہ سب قبول اسلام کے وقت بیس سال سے کم عمر کے تھے۔عبدالرحمن بن عوفؓ ،بلال بن رباح اور صہیبؓ کی عمریں بیس سے تیس  سال کے درمیان تھیں۔لے دے کر دوصحابہ کو ہی بڑا کہا جاسکتاہے ایک سیدنا ابوبکرؓ ،آپؐ سے دوسال چھوٹے یعنی 38 سال کے تھے اور سیدنا عمار بن یاسر ؓ آپؐ کے ہم عمر تھے۔بالفاظ دیگر ان"السابقون الاولون"میں سے بوڑھا کوئی بھی نہ تھا۔ابتدائی مراحل میں حق کا ساتھ دینے اور مشکلات کے سامنے سینہ سپر ہوجانے کیلئے نوجوان خون اوران کی جرأت ہی کام آتی ہے۔بوڑھوں کی مصلحت کوشیاں کام نہیں آتیں الاماشاء اللہ۔(تیسیر القرآن)

ــــ ذُرِّیَّةٌ۔یہاں قلتِ عدد کے اظہار کیلئے ہے،جیسے اُردو میں کہتے ہیں کہ بس مٹھی بھر لوگ۔ابن عباسؓ کا قول منقول ہواہے کہ یہ لفظ جب کسی قوم پر بولا جاتاہے،تو مقصود اس کی تحقیر یا تصغیر ہوتی ہے۔اور چونکہ یہاں تحقیر کا کوئی قرینہ ہے نہیں،اس لئے مقصود تصغیر ہی ہے۔ مِنْ قَوْمِهٖ۔کی ضمیر نے دوبالکل مختلف معنی پیدا کردئے ہیں،مراد قوم موسیٰؑ بھی ہوسکتی ہے،اور قوم فرعون بھی ۔پہلی صورت میں مراد یہ لی جائے گی کہ فرعون اور فرعونیوں کے ڈرسے شروع شروع اسرائیلیوں کی بھی بہت ہی تھوڑی تعداد نے حضرت موسیٰؑ کی تصدیق کی۔اور دوسری شق کو مان کر اشارہ ان چند فرعونی ساحروں کی طرف سمجھاجائے گا،جو بعد مقابلہ حضرت موسیٰؑ پر ایمان لے آئے تھے،اس عاصی کا ذوق پہلی شق کو ترجیح دیتاہے،سلف سے منقول دونوں قول ہیں۔ (تفسیر ماجدی)

84۔ ظاہر ہے کہ یہ الفاظ کسی کافر قوم کو خطاب کر کے نہیں کہے جاسکتے تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا یہ ارشاد صاف بتارہا ہے کہ بنی اسرائیل کی پوری قوم اس وقت مسلمان تھی، اور حضرت موسیٰ ؑ ان کو یہ تلقین فرما رہے تھے کہ اگر تم واقعی مسلمان ہو، جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے، تو فرعون کی طاقت سے خوف نہ کھاؤ بلکہ اللہ کی طاقت پر بھروسہ کرو۔ (تفہیم القرآن)

85۔ یہ جواب ان نوجوانوں کا تھا جو موسیٰ ؑ کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوئے تھے یہاں قالوا کی ضمیر قوم کی طرف نہیں بلکہ ذریہ کی طرف پھر رہی ہے جیسا کہ سیاق کلام سے خود ظاہر ہے۔۔۔۔۔۔۔ان صادق الایمان نوجوانوں کی یہ دعا کہ ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا، بڑے وسیع مفہوم پر حاوی ہے۔ گمراہی کے عام غلبہ و تسلط کی حالت میں جب کچھ لوگ قیام حق کے لیے اٹھتے ہیں، تو انہیں مختلف قسم کے ظالموں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ایک طرف باطل کے اصلی علمبردار ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف نام نہاد حق پرستوں کا ایک اچھا خاصا گروہ ہوتا ہے جو حق کو ماننے کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر باطل کی قاہرانہ فرماں روائی کے مقابلہ میں اقامت حق کی سعی کو غیر واجب، لا حاصل، یا حماقت سمجھتا ہے۔(تفہیم القرآن)

87۔ کیونکہ ایک بگڑی ہوئی اور بکھری ہوئی مسلمان قوم میں دینی روح کو پھر سے زندہ کرنے اور اس کی منتشر طاقت کو از سر نو مجتمع کرنے کے لیے اسلامی طرز پر جو کوشش بھی کی جائے گی اس کا پہلا قدم لازماً یہی ہوگا کہ اس میں نماز باجماعت کا نظام قائم کیا جائے۔ ان مکانوں کو قبلہ ٹھیرانے کا مفہوم میرے نزدیک یہ ہے کہ ان مکانوں کو ساری قوم کے لیے مرکز اور مرجع ٹھیرایا جائے، اور اس کے بعد ہی نماز قائم کرو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ متفرق طور پر اپنی اپنی جگہ نماز پڑھ لینے کے بجائے لوگ ان مقرر مقامات پر جمع ہو کر نماز پڑھا کریں، کیونکہ قرآن کی اصطلاح میں اقامت صلوۃ جس چیز کا نام ہے اس کے مفہوم میں لازماً نماز باجماعت بھی شامل ہے۔(تفہیم القرآن)

ــــ  یہ تدبیر ارشاد ہوئی اس صبر اور توکل کے حصول کی جس کی تعلیم اوپر کی آیات میں دی گئی ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو حکم ہوا کہ مصر کے مختلف حصوں میں کچھ مقام نماز باجماعت کے لیے مخصوص کرلو جن میں بنی اسرائیل معین اوقات پر نماز کے لیے جمع ہوا کریں اور تم اپنے گھروں کو قبلہ قرار دے کر نماز باجماعت کا اہتمام کرو۔ یہ بعینٖہ اسی طرح کی ہدایت ہے جس طرح کی ہدایت نبی ﷺ کو مکہ کی پر مصائب زندگی میں دی گئی تھی۔۔۔۔۔ مصر کی غلامانہ زندگی میں بنی اسرائیل اپنی مذہبی تنظیم کی خصوصیات سے محروم ہوگئے تھے۔ ازاں جملہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں اجتماعی نماز و دعا کی بھی کوئی شکل باقی نہیں رہ گئی تھی۔ اب جب کہ حضرت موسیٰ نے ان کے اندر تجدید کا کام شروع کیا تو ظاہر ہے کہ اس کا آغاز اسی نقطہ سے ہونا تھا جو دینی تنظیم کا ابتدائی نقطہ ہے۔ چناچہ ان کو نماز کے قیام و اہتمام کا حکم ہوا۔ (تدبر قرآن)

۔ جب متعدد مسجدیں ہوئیں تو ان میں وحدت پیدا کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہوا کہ کوئی مسجد سب کے قبلہ کی حیثیت سے معین ہو۔ اس لیے حکم ہوا۔ وَ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً، اپنے گھروں کو قبلہ بناؤ۔ (تدبرِ قرآن)

88۔ لِیُضِلُّوْا۔میں ل عاقبت کا ہے،یعنی تیری ان بخششوں اور انعامات کا نتیجہ ہوا،یہ مطلب نہیں کہ تیری بخشش و انعا  م سے مقصود ہی یہ تھا،اگر چہ یہ مفہوم بھی تکوینی اعتبار سے بالکل درست ہوسکتاہے۔۔۔ اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ۔ان کے مال پر جھاڑو پھیردے ۔ٹھیٹھ اُردو میں نذیر احمدی ترجمہ ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ جیسا کہ ابھی ہم بتا چکے ہیں، یہ دعا حضرت موسیٰ ؑ نے زمانہ قیام مصر کے بالکل آخری زمانے میں کی تھی، اور اس وقت کی تھی جب پے در پے نشانات دیکھ لینے اور دین کی حجت پوری ہوجانے کے بعد بھی فرعون اور اس کے اعیان سلطنت حق کی دشمنی پر انتہائی ہٹ دھرمی کے ساتھ جمے رہے۔ ایسے موقع پر پیغمبر جو بددعا کرتا ہے وہ ٹھیک ٹھیک وہی ہوتی ہے جو کفر پر اصرار کرنے والوں کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، یعنی یہ کہ پھر انہیں ایمان کی توفیق نہ بخشی جائے۔ (تفہیم القرآن)

۔ حضرت موسیٰ ؑ نے قوم فرعون کی اصلاح سے مایوس ہونے کے بعد ان کے مال و دولت سے دوسروں کی گمراہی کا خطرہ محسوس کرکے بد دعا کی (آیت) رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓي اَمْوَالِهِمْ یعنی اے میرے پروردگار ان کے اموال کی صورت بدل کر مسخ و بیکار کردے۔۔۔۔۔۔۔ حضرت قتادہ کا بیان کہ اس دعا کا اثر یہ ظاہر ہوا کہ قوم فرعون کے تمام زر و جواہرات اور نقد سکے اور باغوں کھیتوں کی سب پیداوار پتھروں کی شکل میں تبدیل ہوگئے، حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں ایک تھیلا پایا گیا جس میں فرعون کے زمانہ کی چیزیں تھیں ان میں انڈے اور بادام بھی دیکھے گئے جو بالکل پتھر تھے۔۔۔۔۔۔ ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام پھلوں، ترکاریوں اور غلہ کو پتھر بنادیا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کی ان نو آیات (معجزات) میں سے ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے، (آیت) وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍ بَيِّنٰتٍ۔ (معارف القرآن)

90۔۔۔اس غرقابئ فرعون میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ کسی میّت کا تدفین سے محروم رہ جانا اور دریا یا سمندر میں ڈال دیا جانا ایک بڑی بے عزّتی اور تحقیر کی موت تھی ،ملاحظہ ہو مارگریٹ مرے کی کتاب(THE SPLENDOR THAT WAS EGYPT) ۔(مطبوعہ لندن)(تفسیر ماجدی)

91۔۔۔فرعون کے معاملہ میں تو دوباتیں اکٹھی ہوگئی تھیں ۔ایک عذاب دوسرے موت ۔لہذا اس وقت اس کا ایمان کیسے قبول ہوسکتاتھا؟۔ (تیسیر القرآن)

ــــ آیت میں قبلۃ کا لفظ قرآن مجید کا ایک دشوار ترین لفظ ہے، جس کی تشریح جزم کے ساتھ نہیں کی جاسکتی ہے،بہرحال قبلۃ کے ایک مشہور معنی تو اس مکان کے ہیں،جس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جائے۔۔۔یہ معنی لے کر مراد یہ ہوگی کہ گوامت میں یکجہتی پیدا کرنے کیلئے کسی ایک متعین مکان کی طرف عبادت کا رخ ضروری ہے لیکن تمہارے لئے حالات موجودہ میں یہی کافی ہے کہ اپنے گھروں میں انہی کی طرف رخ کرلیا کرو۔۔۔لیکن یہاں معنی علی العموم "نمازکی جگہ"یا مصلے کے لئے گئے ہیں۔اور مراد حکم سے یہ ہے کہ نمازیں اپنے اپنے ہی گھروں میں  پڑھ لیا کرو۔۔۔اور عجب نہیں جو مظالم فرعونی میں سے ایک چیز یہ بھی رہی ہو کہ بنی اسرائیل اپنی اپنی عبادت گاہوں تک نہ پہنچنے پائیں۔۔۔۔۔ حیرت ہے کہ قرآن کی ان تصریحات کے باوجود بھی بعض صوفیہ غیر محققین کو فرعون کی نجات اور صحت ایمان پر اصرار ہے،اور بعض اکابر سے جو فرعون کے ایمان کی صحت منقول ہے ،وہ کسی شخص نے ان کی تصنیف میں الحاق کردیاہے،چناچہ البواقیت والجواہر میں اس کی تفصیل موجود ہے(تھانویؒ)(تفسیر ماجدی)

92۔ عاشورہ کا روزہ:۔  فرعون کی غرقابی کا واقعہ 10 محرم کو پیش آیا تھا اسی لیے یہود فرعون سے نجات کی خوشی کے طورپر روزہ رکھتے تھے چنانچہ آپؐ نے بھی مسلمانوں کو اس دن روزہ  رکھنے کا حکم دیا اور یہود کی مخالفت کیلئے ساتھ 9 محرم یا 11 محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیا پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوئے تو اس دن کے روزہ کی حیثیت نفلی روزہ کی سی رہ گئی۔(تیسیر القرآن)

۔  آج تک وہ مقام جزیرہ نمائے سینا کے مغربی ساحل پر موجود ہے جہاں فرعون کی لاش سمندر میں تیری ہوئی پائی گئی تھی۔ اس کو موجودہ زمانے میں جبل فرعون کہتے ہیں اور اسی کے قریب ایک گرم چشمہ ہے جس کو مقامی آبادی نے حمام فرعون کے نام سے موسوم کر رکھا ہے۔ اس کی جائے وقوع ابو زنیمہ سے چند میل اوپر شمال کی جانب ہے، اور علاقے کے باشندے اسی جگہ کی نشان دہی کرتے ہیں کہ فرعون کی لاش یہاں پڑی ہوئی ملی تھی۔ اگر یہ ڈوبنے والا وہی فرعون منفتہ ہے جس کو زمانہ حال کی تحقیق نے فرعون موسیٰ قرار دیا ہے تو اس کی لاش آج تک قاہرہ کے عجائب خانے میں موجود ہے۔ سن 1907 میں سر گرافٹن الیٹ سمتھ نے اس کی ممی پر سے جب پٹیاں کھولی تھیں تو اس کی لاش پر نمک کی ایک تہ جمی ہوئی پائی گئی تھی جو کھاری پانی میں اس کی غرقابی کی ایک کھلی علامت تھی۔ (تفہیم القرآن)

۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ دریا سے عبور کرنے کے بعد جب حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ہلاک ہونے کی خبر دی تو وہ لوگ فرعون سے کچھ اس قدر مرعوب و مغلوب تھے کہ اس کا انکار کرنے لگے اور کہنے لگے کہ فرعون ہلاک نہیں ہوا، اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی اور دوسروں کی عبرت کے لئے دریا کی ایک موج کے ذریعہ فرعون کی مردہ لاش کو ساحل پر ڈال دیا جس کو سب نے دیکھا اور اس کے ہلاک ہونے کا یقین آیا۔  (معارف القرآن)


دسواں رکوع

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ ﴿93﴾ فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ  ﴿94﴾ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴿95﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ  ﴿96﴾ وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ ﴿97﴾ فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ ﴿98﴾ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ﴿99﴾ وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ ﴿100﴾ قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ ﴿101﴾ فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ ﴿102﴾ ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿103ع يونس 10﴾
93. اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کو عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن وہ باوجود علم ہونے کے اختلاف کرتے رہے۔ بےشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا۔ 94. اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔ 95. اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے۔ 96. جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پاچکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے۔ 97. جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آجائے۔ 98. تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا ہاں یونس کی قوم۔ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا۔ 99. اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں۔ 100. حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ خدا کے حکم کے بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے۔ 101. (ان کفار سے) کہو دیکھو تو زمین اور آسمانوں میں کیا کچھ ہے۔ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کی نشانیاں اور ڈرواے کچھ کام نہیں آتے۔ 102. سو جیسے (برے) دن ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں اسی طرح کے (دنوں کے) یہ منتظر ہیں۔ کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ 103. اور ہم اپنے پیغمبروں کو اور مومنوں کو نجات دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں۔

تفسیر آیات

93۔ یعنی مصر سے نکلنے کے بعد ارضِ فلسطین۔ (تفہیم القرآن)

94۔شک کا علاج اہل علم  سے تحقیق کرنا ہے:۔   ۔۔تاہم ان میں کچھ انصاف پسند لوگ بھی موجود تھے جن میں سے کچھ ایمان لے آئے اور بعض نے بعض دوسری وجوہ کی بناپر قبول نہیں کیا تھا پھر چونکہ اصولی لحاظ سے سب آسمانی کتابوں کی تعلیم ملتی جلتی ہے لہذا اہل کتاب میں سے بھی منصف لوگ یہ شہادت دے دیتے تھے کہ فی الواقع یہ آسمانی کتاب ہے۔اور آپؐ کے اور صحابہؓ کے شک نہ کرنے کا عملی ثبوت یہ ہے کہ آپؐ نے یا صحابہؓ نےکبھی اہل کتاب سے یہ بات نہ پوچھی۔(تیسیر القرآن)

98۔ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا۔الخ۔ مرشد تھانوی ؒ نے فرمایا کہ ممکن ہے کہ مرید پر کوئی ایسا فیضان ہو جس کی خبر شیخ کو نہ ہو، گو وہ فیضان شیخ کی ہی برکت سے ہو، جیساکہ حضرت یونسؑ کو اپنی امت کے ایمان کی اطلاع نہ ہوئی ،حالانکہ خود وہ ایمان حضرت یونس نبیؑ کی برکات سے تھا۔(تفسیر ماجدی) 

۔سیدنا یونسؑ کا مرکزِ تبلیغ نینوا:۔  سیدنا یونسؑ کا ذکر یہاں پہلی دفعہ آیا ہے اور غالباً اسی وجہ سے اس سورہ کا نام سورۂ یونس ہے البتہ آگے تین مقامات پر بھی اجمالی ذکر ہوگا یعنی سورہ انبیاء کی آیات 87-88 میں اور سورہ الصافات کی آیات 139 تا 148 میں اور سورہ قلم کی آیات 48 تا 50 میں،آپ تقریباً آٹھ سوسال قبل مسیح اہل نینوا کی طرف مبعوث ہوئے ۔نینوا اس زمانے میں دریائے دجلہ کے کنارے ایک بہت بڑا اور بارونق شہر تھا اور اس شہر کے کھنڈرات موجودہ شہر موصل (عراق)کے عین مقابل پائے جاتے ہیں یہی شہراشوریوں (قوم یونس )کا دارالسلطنت تھا اور اس کے کھنڈرات سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ یہ شہر تقریباً ساٹھ مربع میل میں پھیلا ہواتھا۔(تیسیر القرآن)

۔ جب یہ قوم ایمان لے آئی تو اس کی مہلتِ عمر میں اضافہ کر دیا گیا۔ بعد میں اس نے پھر خیال و عمل کی گمراہیاں اختیار کرنی شروع کر دیں۔ ناحوم نبی  (720 سے 698 قبل مسیح ) نے اسے متنبہ کیا ، مگر کوئی اثر نہ ہوا۔ پھر صفنیاہ نبی  (640 سے 609 قبل مسیح ) نے اس کو آخری تنبیہ کی ۔ وہ بھی کارگر نا ہوئی۔ آخر کار   612 قبل مسیح  کے لگ بھگ زمانے میں اللہ تعالیٰ نے میڈیا والوں کو اس پر مسلط کر دیا۔میڈیا کا بادشاہ بابل والوں کی مدد سے اشور کے علاقے پر چڑھ آیا ۔ اشوری فوج شکست کھا کر نینویٰ میں محصور ہو گئی۔ کچھ مدت تک اس نے سخت مقابلہ کیا  ۔ پھر  دجلے کی طغیانی نے فصیلِ شہر توڑ دی  اور حملہ آور اندر گھس گئے۔ پورا  شہر  جلا کر خاک سیاہ کر دیا  گیا۔  گرد و پیش کے علاقے کا بھی یہی حشر ہوا۔ اشور کا بادشاہ  خود اپنے محل میں آگ لگا کر جل مرا اور اس کے ساتھ ہی اشوری سلطنت اور تہذیب بھی  ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ زمانہ  حال میں آثار ِ قدیمہ کی جو کھدائیاں اس علاقے میں ہوئی ہیں ان میں آتش زدگی کے نشانات کثرت سے پائے جاتے ہیں۔  (تفہیم القرآن)

۔ اس لئے قوم یونس ؑ کی توبہ قبول ہوجانا عام ضابطہ الہٰیہ کے خلاف نہیں بلکہ اس کے ماتحت ہے کیونکہ انہوں نے اگرچہ عذاب آتا ہوا دیکھ کر توبہ کی مگر عذاب میں مبتلا ہونے اور موت سے پہلے کرلی، بخلاف فرعون اور دو سرے لوگوں کے جنہوں نے عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد اور غرغرہ موت کے وقت توبہ کی اور ایمان کا اقرار کیا اس لئے ان کا ایمان معتبر نہ ہوا اور توبہ قبول نہ ہوئی۔ (معارف القرآن)

99۔  اس کا یہ  مطلب  نہیں ہے کہ نبیؐ لوگوں کو زبر دستی مومن بنانا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ آپ کو ایسے کرنے سےروک رہا تھا۔۔۔۔۔ مگر اصل میں لوگوں کو وہ بات سنانی مقصود ہوتی ہے  جو نبی کو خطاب کر کے فرمائی جاتی ہے ۔ یہاں جو کچھ کہنا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ لوگو، حجت اور دلیل سے ہدایت و ضلالت کا فرق کھول کر رکھ دینے اور  راہِ راست صاف  صاف دکھا دینے کا جو حق تھا وہ تو ہمارے نبی نے پوراپورا ادا کر دیا ہے۔  (تفہیم القرآن)

102۔ اَیَّام۔محاورۂ عرب میں ایام کا اطلاق اہم ترین و شدید ترین واقعات و حوادث پر ہوتاہے۔(تفسیر ماجدی)


گیارہواں رکوع

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ  ﴿104﴾ وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ ﴿105﴾ وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ ﴿106﴾ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ﴿107﴾ قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ  ﴿108﴾ وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿109ع يونس 10﴾
104. (اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو اگر تم کو میرے دین میں کسی طرح کا شک ہو تو (سن رکھو کہ) جن لوگوں کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔ بلکہ میں خدا کی عبادت کرتا ہوں جو تمھاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ ایمان لانے والوں میں ہوں۔ 105. اور یہ کہ (اے محمد سب سے) یکسو ہو کر دین (اسلام) کی پیروی کئے جاؤ۔ اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہونا۔ 106. اور خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمہارا کچھ بھلا کرسکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔ 107. اور اگر خدا تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر تم سے بھلائی کرنی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 108. کہہ دو کہ لوگو تمہارے پروردگار کے ہاں سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلائی کرتا ہے۔ اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں۔ 109. اور (اے پیغمبر) تم کو جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کئے جاؤ اور (تکلیفوں پر) صبر کرو یہاں تک کہ خدا فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

تفسیر آیات

108۔ اے مکہ کے باشندو!، اے عرب کے رہنے والو! بلکہ اے آدم کی ساری اولاد! کان کھول کر سن لو،تمہارے رب کی طرف سے حق آگیا۔حق کا راستہ اختیار کروگے تو تمہاراہی بھلا ہوگا اور غلط روی (گمراہی) اختیار کی تو اس کا نقصان بھی تمہیں ہی ہوگا۔(ضیاء القرآن)

۔ خطاب ہر چند با اعتبارِ الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن قریش ہی کی طرف ہے۔  (تدبرِ قرآن)