100 - سورة العاديات (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 11

مضمون: انسان کے ناشکرے پن پر اس کو تنبیہ  اور ملامت۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول : سورۃ العادیات ، قیام مکہ کے پہلے دور(0تا3نبوی) میں نازل ہوئی جب اسلام کی دعوت خفیہ طور پر دی جارہی تھی۔اور جب آپؐ پر اعلیٰ ادبی اسلوب میں مختصر ، محکم، اور جامع سورتیں نازل کی جارہی تھیں۔

نظمِ کلام :سورہ الملک، سورہ  الزلزال(99)

تعارف: اُس وقت عرب میں عام بدامنی تھی ہرطرف کشت و خون برپا تھا ۔لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ قبیلوں پر قبیلے چھاپے ماررہے تھے اور کوئی بھی شخص رات چین سے نہیں گزار سکتاتھا کیونکہ ہر وقت یہ کھٹکا لگارہتاتھا کہ کب کوئی دشمن صبح سویرے اس کی بستی پر ٹوٹ پڑے ۔اگرچہ لٹنے والا اس پر ماتم کرتاتھا اور لوٹنے والا اس پر خوش ہوتاتھا لیکن جب کسی لوٹنے والے کی اپنی شامت آجاتی تھی تو وہ بھی یہ محسوس کرلیتاتھا کہ یہ کیسی بری حالت ہے جس میں ہم لوگ مبتلا ہیں۔

ــــ اس سورۂ کی پہلی پانچ آیات میں دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ کسی چیز کی قسم اس لئے نہیں کھائی جاتی کہ وہ مقدس ہے بلکہ اس لئے کھائی جاتی ہے کہ جو مضمون بیان کیا جارہاہے اس کے اوپر گواہی، شہادت، دلیل و ثبوت کے طور پر سامنے آسکے ۔بعض سورتوں میں جس مضمون پر قسم سے گواہی اور دلیل دی جاتی ہے وہ فوراً ہی بیان کردیا جاتاہے ۔بعض جگہ کچھ فاصلے پر اور بعض جگہ پوری سورۂ کا مضمون اسی قسم پر مبنی ہوتاہے۔(تفہیم القرآن /خرم مراد)


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًاۙ ﴿1﴾ فَالْمُوْرِیٰتِ قَدْحًاۙ ﴿2﴾ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًاۙ ﴿3﴾ فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ ﴿4﴾ فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ ﴿5﴾ اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ ﴿6﴾ وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌۚ ﴿7﴾ وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ ﴿8﴾ اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ ﴿9﴾ وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ ﴿10﴾ اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۠ ﴿11ع العاديات 100﴾
1. ان سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جو ہانپ اٹھتےہیں۔ 2. پھر (پتھروں پر نعل) مار کر آگ نکالتے ہیں۔ 3. پھر صبح کو چھاپہ مارتے ہیں۔ 4. پھر اس میں گرد اٹھاتے ہیں۔ 5. پھر اس وقت دشمن کی فوج میں جا گھستے ہیں۔ 6. کہ انسان اپنے پروردگار کا احسان ناشناس (اور ناشکرا) ہے۔ 7. اور وہ اس سے آگاہ بھی ہے۔ 8. وہ تو مال سے سخت محبت کرنے والا ہے۔ 9. کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا کہ جو (مردے) قبروں میں ہیں وہ باہر نکال لیے جائیں گے۔ 10. اور جو (بھید) دلوں میں ہیں وہ ظاہر کر دیئے جائیں گے۔ 11. بےشک ان کا پروردگار اس روز ان سے خوب واقف ہوگا۔

تفسیر آیات

1۔ عادیات کے معنی دوڑنے والے کے ہیں یہاں یہ جنگی گھوڑوں کی صفت  کے طورپرآیا ہے ۔دلیل اس کی یہ ہے کہ آگے چار صفتیں ،جوترتیب کے ساتھ آئی ہیں وہ جنگی گھوڑوں کے سوا کسی اور چیز پر منطبق نہیں ہوتیں۔ بعض لوگوں نے اس سے مزدلفہ میں اونٹوں کو مراد لیا ہے ۔لیکن اس کا کوئی قرینہ موجود نہیں ۔ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس سے غازیوں کے گھوڑے مراد ہیں ۔لیکن خاص طورپر مقسم علیہ (اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ) سے یہ بات بالکل بے جوڑ ہوجائیگی۔ضَبْحٌ اُس خاص آواز کیلئے آتاہے جو گھوڑے ہانپتے ہوئے اپنے نتھنوں سے نکالتے ہیں ۔(تدبرقرآن)

2۔ "ف" کے ذریعہ سے جب عطف ہوتاہے تو ترتیب  پر بھی دلیل ہوتاہے اور اس بات پر بھی کہ تمام صفتیں ایک ہی موصوف سے تعلق رکھنے والی ہیں۔مُوْرِیَاتٌ۔ ایرا سے ہے جس کے معنی چقماق یا کسی چیز سے رگڑ کر آگ لگانے سے ہے۔قَدْحٌ ضرب لگانے ،ٹھوکر لگانے اور ایک کو دوسری چیز سے ٹکرانے کےمعنی میں ہے۔انسان کی مقصد برآری کیلئے گھوڑوں کی سرگرمی اور آتش زیرپائی (آہنی نعل، سموں کی ضرب سے چقماق کی طرح چنگاریاں نکلتی ہیں)۔(تدبرقرآن)

3۔ یہ وہ اصل مقصد بیان ہواہے جس کیلئے وہ جان کی بازی لگاتے ہیں یعنی وہ دشمنوں اور حریفوں پر شب  خون مارتے ہیں۔حرب میں حریفوں پر غارت گری کا سب سے موزوں وقت صبح کا ہی سمجھا جاتاتھا۔(تدبرقرآن)

4۔اِثَارَۃٌ کے معنی اٹھانے اور ابھارنے کے اور نَقْعٌ کے معنی گردو غبار کے ہیں۔(تدبرقرآن)

5۔ بِہِ میں "ب" سے یہاں ملابست کے مفہوم میں اور ضمیر کا مرجع نَقْعاً ہے یعنی وہ اسی آندھی اور طوفان کے ساتھ دشمن کے ایک پورے غول کے اندر گھس جاتے ہیں اور اس کے نیزوں اور تلواروں کی ذرا بھی پروانہیں کرتے ۔انہیں اپنی جانوں سے زیادہ اپنے مالکوں کا مقصد عزیز ہوتاہے۔(تدبرقرآن)

6-8۔قسموں کے ساتھ تین چیزیں فوراً ہی ذکر کردی گئی ہیں ایک یہ کہ انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے(6) دوسری یہ کہ وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے (8)تیسری یہ کہ وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ مدفون ہے اُسے نکال لیا جائے گا اور سینوں میں جوکچھ مخفی ہے اسے برآمد کرکے اس کی جانچ  پڑتال کی جائیگی۔(9-10)(خرم مراد)

6۔ یہ وہ اصل بات ہے جس پر شہادت کیلئے اوپر کی قسمیں کھائی گئی ہیں ۔ کَنُودٌ کے معنی ہیں ناشکرا ،ناسپاس، تنہا خور، اپنے مالک کی عنایتوں کا ناقدرا۔وہ نہایت ناشکرا اور لئیم ہے کیونکہ وہ جانور مالک کا حق نہیں پہنچانتا ۔یہ امر یہاں ملحوظ خاطر رہے کہ گھوڑوں کا ذکر بطور مثال ہے۔ یہی وفاداری و جانثاری ان تمام حیوانات میں پائی جاتی ہے جو اللہ نے انسان کیلئے مسخر کئے ہیں (مثلاًاونٹ ،کتا، مویشی وغیرہ)۔گھوڑوں کے خصوصیت سے ذکرکرنے کی وجہ یہ ہے کہ جنگ اور دفاع کیلئے خاص طورپر (راکٹ لانچر،میزائل، بم وغیرہ اور انسان کی بہہیمیت)گھوڑوں کی یہ قدروقیمت ، ظاہر ہے کہ ان کی خدمات اور جانبازیوں کیلئے ہے جو وہ انسان کیلئے انجام دیتے ہیں ۔اور وہ خود اپنے معاملے میں اس حقیقت کو فراموش کرجاتاہے۔(تدبرقرآن)

ــــ  عربی لغت میں جس زمین سے کوئی چیز پیدا نہ ہو اس کو کَنُود کہاجاتاہے ۔جس کی ذات سے کسی کو نفع نہ پہنچے بلکہ الٹا دوسروں کا حق مارے اور دوسروں پر جبر وتشدد اور زیادتی کرے  اور جوکچھ بھی اللہ نے اس کو بخشا ہے اسے اکیلا ہی ہضم کرنا چاہے تولازمی طورپر وہ شخص کنجوس اور بخیل بھی ہوگا۔قبائل کے درمیان لڑائی اور دشمنی صرف جھگڑوں پر نہیں ہوتی تھی بلکہ لوٹ مار کیلئے اور لونڈی غلام حاصل کرنے کیلئے بھی۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ انسان اللہ کے عطا کردہ رزق کی ناشکری کرتاتھا ۔بے لگام جانور کی طرح جو ہاتھ آتاہے اس پر قبضہ جمالیتاہے ۔یہ ہر اس شخص کی کیفیت  ہوتی ہے جو اپنے نفس کے مطالبات اندھا دھند پوراکرنے میں لگ جاتاہے ،اپنے رب سے غافل اور ناشکرا ہوتاہے۔گھوڑے انسان کے تابع ہوتے ہیں  جبکہ انسان نے ان کو پیدا بھی نہیں کیا اور نہ چارے کو۔ مگر وہ اپنے مالک کے وفادار ۔(خرم مراد)

6۔ وہ جانوروں سے زیادہ ذلیل و حقیر ہیں۔ ایک گھوڑے کو مالک گھاس اور دانہ کھلاتاہے ۔وہ اتنی سی تربیت پر اپنے مالک کی وفاداری میں جان لڑادیتاہے۔جدھر سوار اشارہ کرتاہے ادھر چلتاہے ۔دوڑتا،ہانپتااور ہوامیں ٹاپیں مارتا اور غبار اٹھاتاہوا گھمسان کے معرکوں میں بے تکلف گھس جاتاہے ۔گولیوں کی بارش میں تلواروں اور سنگینوں کے سامنے سینہ نہیں پھیرتا۔بیشک انسان بڑا ناشکرا اور نالائق ہے وہ ایک گھوڑے بلکہ کتے کے برابر بھی وفادار ی نہیں دکھلا سکتا۔ (تفسیر عثمانی)

7۔یعنی سرفروش مجاہدین کی اور ان کے گھوڑوں کی وفا شعاری اور شکر گذاری اس کی آنکھوں کے سامنے ہے پھر بھی بے حیا ٹس سے مس نہیں ہوتا دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان خود اپنی ناشکری پر زبان ِ حال سے گواہ ہے ۔ذرا اپنے ضمیر کی طرف متوجہ ہوتو سن لے کہ اندر سے خود اس کا دل کہہ رہاہے کہ تو بڑا ناشکرا ہے ۔بعض سلف نے اِنَّہُ کی ضمیر رب کی طرف لوٹائی ہے یعنی اس کا رب اس کی ناسپاسی اور کفرانِ نعمت کو دیکھ رہاہے۔(تفسیر عثمانی)

ــــ  جوباتیں انسانی فطرت کے بدیہی مقتضیات میں سے ہیں وہ دلیل کی محتاج نہیں ہوتیں ۔ان کے حق میں سب سے بڑی گواہی خود انسان کی فطرت اور اس کے ضمیر کے اندر موجود ہوتی ہے۔(تدبرقرآن)

8۔ یہ اس کے ناشکرے پن پر اس کے کردار سے دلیل پیش کی ہے کہ وہ مال کی محبت میں غرق ہے۔ (تدبرقرآن)

ــــ  جب آدمی یہ سمجھتاہے کہ اس کی ساری بھلائی اور خیر دنیا کے مال و متاع میں ہے تو وہ مال کی محبت میں مبتلا ہوجاتاہے جو اس کو گمراہی کی راہ پر لیجاتی ہے۔مولانا روم کے ایک شعر کا مفہوم ہے کہ اگر پانی کشتی کے نیچے ہو تو وہ کشتی کی پشت پناہی کر سکتاہے اور اگر اندر ہو تو کشتی ڈوب جاتی ہے۔  ایسا ہی معاملہ دنیا کے مال اور دل کا ہے۔بقول شخصے اگر مال میں کوئی خرابی نہ بھی ہوتی تو یہی خرابی کافی تھی کہ دنیا کے بعد اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا اور بلآخر سب کچھ چھوڑناپڑتاہے۔ حبِ دنیا و دولت کا علاج یہ ہے کہ آدمی اس گھڑی کو یاد کرلے جب وہ قبر سے نکال کر اللہ کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا اور اپنے ایک ایک عمل کیلئے جواب دہ ہوگا۔(خرم مراد)

10۔ یعنی دلوں میں جو ارادے اور نیتیں ،جو اغراض و مقاصد ،جو خیالات و افکار اور ظاہری افعال کے پیچھے جو باطنی محرکات   چھپے ہوئے ہیں سب کھول کررکھ دئیے جائیں گے اور ان کی جانچ پڑتال کرکے اچھائی اور برائی کو الگ چھانٹ دیا جائے گا۔(تفہیم القرآن)

ــــ  اعمال کے ریکارڈ کے ساتھ محرکات ِ اعمال کا ریکارڈ بھی خدا کے سامنے ہوگا۔ (تدبرقرآن)

11۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آج باخبر نہیں ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ مطلب نہیں ہے ۔مطلب یہ ہے کہ اس دن اُس کے باخبر ہونے کا یہ عالم ہے کہ اس نے ہر چیز کا ریکارڈ بھی رکھا ہے اور وہ ہرچیز سے باخبر بھی ہے۔ سورۂ زلزال سے بات آگے بڑھی ہے ۔وہاں اعمال کا ذکر تھا یہاں دلوں میں چھپی ہوئی باتوں کا ذکر ہے وہاں برائی کا ذکر تھا جس سے اللہ کی خشیت پیدا ہوتی ہے ،یہاں بدعملی  اور گمراہی کی جڑ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یعنی اللہ کی ناشکری اور مال کی اندھی محبت۔(خرم مراد)