101 - سورةالقارعہ (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 11 |
مضمون: قیامت کے روز لوگوں کے اعمال تو لے جائیں گے اور انہی کی بنیاد پر انجام کا فیصلہ ہوگا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شانِ نزول: سورۂ الزلزال(99)
نظمِ کلام: سورۃ الملک، سورۂ الزلزال
| اَلْقَارِعَةُۙ ﴿1﴾ مَا الْقَارِعَةُۚ ﴿2﴾ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ ﴿3﴾ یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ ﴿4﴾ وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ ﴿5﴾ فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ ﴿6﴾ فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ ﴿7﴾ وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ ﴿8﴾ فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ ﴿9﴾ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ ﴿10﴾ نَارٌ حَامِیَةٌ۠ ﴿11ع القارعة 101﴾ |
| 1. کھڑ کھڑانے والی۔ 2. کھڑ کھڑانے والی کیا ہے؟ 3. اور تم کیا جانوں کھڑ کھڑانے والی کیا ہے؟ 4. (وہ قیامت ہے) جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے۔ 5. اور پہاڑ ایسے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون۔ 6. تو جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔ 7. وہ دل پسند عیش میں ہو گا۔ 8. اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔ 9. اس کا مرجع ہاویہ ہے۔ 10. اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ کیا چیز ہے؟ 11. دہکتی ہوئی آگ ہے۔ |
تفسیر آیات
1۔ اس مقام پر یہ بات نگاہ میں رہنی چاہئے کہ یہاں قیامت کے پہلے مرحلے سے لیکر عذاب و ثواب کے آخری مرحلے تک پورے عالمِ آخرت کا یکجا ذکر ہورہاہے ۔(تفہیم القرآن)
۔ یہ قیامت کے مختلف ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس کے معنی ہیں ٹھونکنے والی، کھٹکھٹانے والی۔ ’قَرَعَ الْبَابَ‘ کے معنی ہیں اس نے دروازہ کو ٹھونکا یا کھٹکھٹایا؛ اس نام سے قیامت کے اس خاص پہلو کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ جس طرح کوئی رات میں آنے والا دروازے کو ٹھونکتا اور گھر کے تمام سونے والوں کو دفعۃً ہڑبڑا دیتا ہے، وہی حال قیامت کا بھی ہو گا۔ اس کا وقت کسی کو نہیں معلوم کہ کب آ دھمکے۔ اس کا ظہور اچانک ہو گا اور وہ بالکل دفعۃً سارے عالم میں ایک ہلچل برپا کر دے گی۔ اس کے اسی نام کے اندر یہ تنبیہ بھی مضمر ہے کہ جب یہ اس کائنات کی سب سے بڑی ہلچل ہے اور اس کا وقت کسی کو نہیں معلوم ہے تو سلامتی اسی میں ہے کہ اس کا کھٹکا ہر وقت لگا رہے۔ (تدبرِ قرآن)
3۔ یہ اندازِ بیان بھی اس لئے ہے کہ سننے والے کی پوری توجہ اسی واقعہ کے اوپر مرکوز ہوجائے جس کا اس سورہ میں تذکرہ کیا گیا ہے تاکہ اس واقعے کی عظمت اور ہیبت پوری طرح اجاگر ہوجائے ۔دراصل ان تین آیات میں ایک ایک کرکے الفاظ پڑھے جارہے ہیں۔ اندازِ بیان بدلا جارہاہے اور ایک سماں باندھا جارہاہے تاکہ لوگ پوری طرح یکسو ہوجائیں ۔(خرم مراد)
4۔ فراش سے مراد پتنگے ہیں جو پروانوں کی طرح چراغ کے گرد جمع ہوجاتے ہیں برسات میں نکل آتے ہیں اور اڑنا شروع کردیتے ہیں ۔پروانوں کا ہجوم ہوتاہے ،بکھرے ہوئے ،الگ الگ ، ہر ایک اپنی فکر میں مست۔ اگر کہیں کسی مجمع کے اندر خوف و ہراس پھیل جائے تو کیسی بھگدڑ مچ جاتی ہے؟ لوگ کیسے ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں۔ اسی طرح اگر گولی چل جائے ،آگ لگ جائے یا کوئی اور آفت آجائے تو کس طرح مجمع کے اندر بھگدڑ مچ جاتی ہے۔یہی پروانوں کی مثال ہے جب وہ بد حواس ہوکر اسی آگ کے اندر گرنے لگتے ہیں جوکہ ان کو جلانے والی ہے ۔اس روزیہی حال انسانوں کا ہوگا جب سارے کے سارے انسان ایک آواز پر گروہ در گروہ نکل کھڑے ہوں گے۔(خرم مراد)
5۔ کالْعِھْنِ کے معانی بعض لوگوں نے اُون کے لئے ہیں اور بعض نے رنگین اون کے بھی ۔اگر رنگین اون معنی لئے جائیں تو اس کا مفہوم یہ ہوسکتاہے کہ کالے ،سفید ،سلیٹی ،پیلے ،سنگ مرمر،سنگ سرخ مختلف رنگوں کے پہاڑ جب ریزہ ریزہ ہوں گے تو ان کی کیفیت رنگین اون کی مانند ہوجائیگی۔(خرم مراد)
ــــ قرآن کا یہ کہنا کہ اللہ نے پہاڑوں کو زمین پر کیلوں کی طرح ٹھونک دیا ہے جس سے زمین کو قرار نصیب ہوا،یقیناً ایک عام بدو کیلئے بھی قابلِ فہم تھا۔لیکن آج سائنس نے اس بات کو ایک سائنسی حقیقت کے طورپر ثابت کردیا ہے ۔جدید تحقیق کے مطابق ایک زمانہ ایسا تھا کہ زمین زلزلوں کی وجہ سے لرزتی رہتی تھی ۔پھر ایک عظیم الشان زلزلہ آیا، اس کے بعد دنیا کے جتنے پہاڑی سلسلے ہیں ، ہمالیہ ، جودی پہاڑ وغیر ہ سب اسی کے نتیجے میں وجود میں آئے ۔ پہلے یہاں پر سب سمندر تھے ۔اب بھی کوہ ہمالیہ کی چوٹی پر ان کے نشانات ملتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتاہے کہ سمندر کی تہ سے اٹھا کر یہ پہاڑ بنادئیے گئے اور اس کے بعد پھر زمین کو سکون نصیب ہوا اور اس کو قرار آیا۔ اب بھی جو زلزلے آتے ہیں انہی پہاڑوں کے جو شگاف رہ گئے ہیں ان کے ہلنے کی وجہ سے آتے ہیں۔(خرم مراد)
5۔ پہاڑوں کا ذکر خاص طورپر اس وجہ سے ہوا کہ قیامت کے منکرین پہاڑوں کو غیر فانی خیال کرکے بطور استہزا آنحضرتؐ سے سوال کرتے تھے کہ جب قیامت آئے گی تو وہ پہاڑوں کو بھی اکھاڑ پھینکے گی ۔عِھْنٌ اس اون کو کہتے ہیں جو دھنک کراور رنگ کرکاتنے کیلئے تیار کی جاچکی ہو۔اس اون کا ریزہ ریزہ الگ ہوتاہے ۔اس تشبیہ میں اصل مقصود اون کی پراگندگی کو نمایاں کرنا ہے نہ کہ اس کے رنگ کو ۔(تدبرقرآن)
6۔ یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکر شروع ہوتا ہے جب دوبارہ زندہ ہو کر لوگ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوں گے۔(تفہیم القرآن)
۔ انسان کے ذہن میں بہت سے سوالات اس حوالے سے اٹھتے رہتے ہیں کہ نیک اعمال کا کیا ہوگا ؟کافروں کے نیک اعمال کے بارے میں اللہ کیا معاملہ کرے گا اصل فکراس بات کی ہونی چاہئیے کہ میں کہاں جاؤنگا ۔میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟دوسروں کی فکر کی بجائے ۔(خرم مراد)
9۔ ھَاوِیَۃٌ کے معنی اونچی جگہ سے نیچی جگہ گرنے کے ہیں اور ھاویہ اُس گہرے گڑھے کیلئے بولا جاتاہے جس میں چیز گرے ۔اہلِ جہنم اس میں اوپر سے پھینکے جائیں گے ۔اس کی ماں جہنم ہوگی کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ماں کی گود بچے کے لئے ٹھکانہ ہوتی ہے اسی طرح آخرت میں اہل جہنم کیلئے جہنم کے سوا کوئی اور ٹھکانہ نہ ہوگا۔ (تفہیم القرآن)
ــــ اُمٌّ کے معنی ماں کے ہیں لیکن یہاں یہ ملجا اور ٹھکانہ کے معنی میں ہے (یعنی اُس کی ماں کی گود ہاویہ ہوگی(۔(تدبرقرآن)