102 - سورةالتکاثر (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 8

مضمون: دنیا کے لیے کی گئی تگ و دو قیامت کے دن بالکل بے وقعت ثابت ہوگی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول: سورۂ الزلزال

نظمِ کلام:سورۃ الملک ،سورۃ الزلزال


اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ  ﴿1﴾ حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ  ﴿2﴾ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ  ﴿3﴾ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ  ﴿4﴾ كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ  ﴿5﴾ لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ  ﴿6﴾ ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ  ﴿7﴾ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠    ﴿8ع التكاثر 102﴾
1. (لوگو) تم کو (مال کی) بہت سی طلب نے غافل کر دیا۔ 2. یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ 3. دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا۔ 4. پھر دیکھو تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا۔ 5. دیکھو اگر تم جانتے (یعنی) علم الیقین (رکھتے تو غفلت نہ کرتے)۔ 6. تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے۔ 7. پھر اس کو (ایسا) دیکھو گے (کہ) عین الیقین (آ جائے گا)۔ 8. پھر اس روز تم سے (شکر) نعمت کے بارے میں پرسش ہو گی۔

تفسیر آیات

1۔ شب وروز یہی دھن کہ جس طرح بن پڑے مال و دولت کی بہتات ہو اور میرا کنبہ اور جتھا سب کنبوں اور جتھوں پر غالب رہے۔)تفسیر عثمانی(

ــــ الْھَاءٌ کے معنی غافل اور مبتلائے فریب رکھنے کے ہیں ۔تکاثر کے معنی ہیں مال و اولاد کی کثرت میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی تگ و دو۔ ان کے ان مال کے تکاثر کے ساتھ اولاد کے تکاثر کے جذبہ کو بھی بہت قوی کردیا تھا۔اب موجودہ دور میں خاندانی منصوبہ بندی کے تصور نے اولاد کی کثرت کے رجحان کو دبا دیا اور اس کی جگہ معیارِ زندگی کے رجحان کو غالب کردیا ۔اس دور کی عام بیماری یہی ہے۔ مشکل ہی سے اس زمانے میں کوئی شخص اس وبا کے اثر سے محفوظ ملے گا۔ اور چونکہ اس کی کوئی حد معین نہیں ،ہر قدم پہلا قدم معلوم ہوتاہے ۔جب معیار کی کوئی حد معین نہیں ہے تو مال کی حرص میں بھی کسی کمی کا امکان نہیں۔یہی چیز ہے جس کو قرآن نے تکاثر سے تعبیر کیا ہے ۔اسی معیار یا تکاثر کے فریب میں عمر بیت جاتی ہے اور کسی کو اس سوال پر غور کرنے کی توفیق ہی نہیں ہوتی کہ اس زندگی کے بعد بھی کوئی زندگی ہے یا نہیں اور ہے تو اس کیلئے بھی کچھ کرنا ہے یا نہیں۔(تدبرقرآن)

ــــ  اَلْھٰکُمْ لہو سے ہے جس کے اصل معنی  غفلت کے ہیں لیکن عربی زبان میں یہ لفظ ہر اس شغل کیلئے بولاجاتاہے جس سے آدمی کی دلچسپی اتنی بڑھ جائے کہ وہ اس میں منہمک ہوکر دوسری اہم تر چیزوں سے غافل ہوجائے۔ اس مادے سے جب الھٰکم کا لفظ بولا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کسی لہونے تم کو اپنے اندر ایسا مشغول کرلیا ہے کہ تمہیں کسی اور چیز جو اس سے اہم تر ہے ،ہوش باقی نہیں رہا۔اُس کی دھن تم پر سوار ہے۔ اس انہماک نے تم کو اہم باتوں سے غافل کردیا ہے۔(تفہیم القرآن)

ــــ تین چیزیں تکاثر کے معنوں میں آتی ہیں یعنی زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا ،اس دوڑ میں دوسروں سے آگے بڑھنا اور دوسروں سے زیادہ حاصل کرنا اورپھر اس کو فخر کا ذریعہ سمجھنا ،فخر جتانا اور اپنے سے کم تر کو حقیر سمجھنا ،برترسے خود کو حقیر جاننا ۔تکاثر سے مراد دراصل دنیا اور دنیا کے مال ، دنیا کے اندر عزت ،جاہ و اقتدار ،طاقت اور دنیا کے مختلف پہلوہیں ۔دنیا حاصل کرنا اور دنیا طلب کرنا،اپنی جگہ پر کوئی قابل ِ مذمت چیز نہیں ۔مگر یہ عیش و عشرت ،جسمانی لذتیں اور قوت و طاقت کا حصول محض افراد کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اقوام بھی اس کے اندر شریک ہوتی ہیں ۔یہ سب تکا ثر ہیں۔(خرم مراد)

ــــ حدیث: آدمی کہتاہے ۔میرا مال، میرا مال حالانکہ اس میں تیرا حصہ تو اتنا ہی ہے جس کو تو نے کھاکرفنا کردیا یا پہن کر بوسیدہ کردیا یا صدقہ کرکے اپنے آگے بھیج دیا  اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ تیرے ہاتھ سے جانیوالا ہے۔تو اس کو دوسروں کیلئے چھوڑنے والا ہے (مسلم، ترمذی، احمد)(معارف القرآن)

2۔ یعنی اسی تگ و دو میں زندگی گزرتی ہے یہاں تک کہ عمر تمام ہوجاتی ہے اور قبروں میں جاپہنچتے ہو اردو کے لفظ"زیارت" کی طرح اس کے اندر کسی شرف و تقدس کا کوئی شائبہ نہیں۔(تدبرقرآن)

ــــ قبر اس بات کی علامت ہے کہ یہ سب کا سب بے وزن ہے ،اس کی کوئی حقیقت نہیں،جتنا بھی ٹھاٹ باٹ ہے سب دھرا کا دھرا رہ جائے گا اور کوئی چیز قبر میں ساتھ جانے والی نہیں۔قبر اس بات کا پہلا ثبوت ہے کہ ان میں سے کسی چیز کی کوئی حقیقت نہیں ۔جیسے ہی آدمی کا سانس بند ہوتاہے ،یہ سب چیزیں چھن جاتی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی چیز کام آنے والی نہیں۔(خرم مراد)

ــــ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا : اگر آدم زادے کیلئے ایک وادی سونے سے بھری ہوئی ہو تو وہ چاہیگا کہ ایسی دووادیاں ہوجائیں اور اس کے منہ کو تو (قبر ) کی مٹی کے سوا کوئی چیز بھر نہیں سکتی۔(بخاری)(معارف القرآن)

ــــ کل ایک پاؤں جو کاسۂ سرپہ آگیا                                                 یکسروہ استخواںشکستوں سے چور تھا

بولا سنبھل کے راہ پہ چل تواے بے خبر                               میں بھی کبھی کسی کا سرپرغرور تھا          (انوار القرآن)

3-4 بعض مفسرین نے کہا ہے کہ پہلی آیت کا مطلب ہے ،موت کا وقت یعنی جلد ہی اپنی موت کے وقت تم یہ جان لوگے کہ جس چیز کی تمہیں کثرت سے طلب تھی ،زیادہ حرص تھی، زیادہ ہوس تھی،وہ چیز کتنی بے وزن اور بے حقیقت ہے۔دوسری دفعہ اس آیت کو اس لئے دہرایا گیا ہے کہ دراصل اس میں اس وقت کا ذکر ہے جب آدمی قبر سے اٹھ کر اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا۔(خرم مراد)

5۔ علم الیقین ،عین الیقین ،حق الیقین ۔۔۔۔خبرآ ۓ کہ  کہیں آگ لگی ہے۔ اٹھتاہوا دھواں دیکھا  (علم الیقین)،جاکر آگ دیکھے ( عین الیقین) اور آگے بڑھکر تپش محسوس کرلے (حق الیقین)۔(بیان القرآن)

ــــ اس آیت کے بہت سارے معنی ہوسکتے ہیں ۔یقین کا علم بھی، یقینی علم بھی ۔علم یقین کے معانی ہیں وہ یقین جو آدمی علم سے حاصل کرلے۔ ایک یقین تو وہ ہے جو آدمی اپنے محسوسات سے حاصل کرتاہے اور دوسرا وہ جو موت اور قیامت سے متعلق ہے۔ دوسرے علم کے حصول کا ایک ذریعہ کائنات (سورج، چاند،دن ،رات)دوسرا ذریعہ وہ ہدایت  جو اللہ نے انبیا کے ذریعہ بھجوائی۔(خرم مراد)

6۔لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَ سے کلام کا پھر آغاز نہیں ہورہابلکہ یہ لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ کے مفعول کے محل میں ہے یعنی اگر تم یقین کے ساتھ جانتے کہ جہنم کو لازماً دیکھوگے ۔یہ اور اس کے بعد کی دوآیات "لو" کے تحت ہیں ۔(تدبرقرآن)

8۔ اللہ نے انسان کو جتنی قوتیں و صلاحیتیں عطافرمائی ہیں اور جو وسائل و ذرائع بھی بخشے ہیں وہ سب نعیم میں داخل ہیں ۔ان کا فطری حق یہ ہے  کہ ان کیلئے خدا کا شکر گزار رہاجائے۔(تدبرقرآن)

ــــ  نَعِیم ٌ  کا لفظ ہر طرح کی نعمتوں پر حاوی ہے ۔انسان کو جو کچھ ملا ہے یہ اللہ کی نعمت ہے۔ (خرم مراد)

ــــ دیکھنے ،سننے، بولنے کی صلاحیت ،ہاتھ پاؤں، مال و دولت ،عزت و اقتدار و غیرہ ۔ ایک حدیث میں ہے کہ آدمی کے قدم اللہ کے سامنے سے ہٹنے نہ پائیں گے جب تک وہ پانچ باتوں کا جواب نہ دے لے ۔عمر کیسے گذاری ،جوانی، مال کیسے کمایا ، کیسے خرچ کیا، علم (عمل کہاں تک) ایک حدیث میں آتاہے کہ سایہ دار گھر کے بارے میں بھی سوال ہوگا حتٰی کہ ٹھنڈے پانی کے بارے میں بھی سوال ہوگا کہ یہ بھی نعمتیں ہیں ۔دین کی اصل بنیاد تو نعمتوں پر شکر گذاری ہے ۔ جن نعمتوں سے وہ لطف اندوز ہورہاہے وہ سب خدا کی عطاکردہ ہیں مثلاً ہوا، پانی، زمین، پیداوار، لوہا آگ وغیرہ۔(خرم مراد)

۔ ان احادیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سوال صرف کفار ہی سے نہیں، مومنین صالحین سے بھی ہوگا۔ رہیں خدا کی وہ نعمتیں جو اس نے انسان کو عطا کی ہیں، تو وہ لا محدود ہیں، ان کا کوئی شمار نہیں کیا جاسکتا، بلکہ بہت سی نعمتیں تو ایسی ہیں کہ انسان کو ان کی خبر بھی نہیں ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا۔ " اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گنو تو تم ان کا پورا شمار نہیں کرسکتے " (ابراہیم،34) ان نعمتوں میں سے بےحدو حساب نعمتیں تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے براہ راست انسان کو عطا کی ہیں، اور بکثرت نعمتیں وہ ہیں جو انسان کو اس کے اپنے کسب کے ذریعہ سے دی جاتی ہیں۔ انسان کے کسب سے حاصل ہونے والی نعمتوں کے متعلق اس کو جواب دہی کرنی پڑے گی کہ اس نے ان کو کن طریقوں سے حاصل کیا اور کن راستوں میں خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ کی براہ راست عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں اسے حساب دینا ہوگا کہ ان کو اس نے کس طرح استعمال کیا۔ اور مجموعی طور پر تمام نعمتوں کے متعلق اس کو بتانا پڑے گا کہ آیا اس نے اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ یہ نعمتیں اللہ کی عطا کردہ ہیں اور ان پر دل، زبان اور عمل سے اس کا شکر ادا کیا تھا ؟ یا یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ اسے اتفاقاً مل گیا ہے ؟ یا یہ خیال کیا تھا کہ بہت سے خدا ان کے عطا کرنے والے ہیں ؟ یا یہ عقیدہ رکھا تھا کہ یہ ہیں تو خدا ہی کی نعمتیں مگر ان کے عطا کرنے میں بہت سی دوسری ہستیوں کا بھی دخل ہے اور اس بنا پر انہیں معبود ٹھہرا لیا تھا اور انہی کے شکریے ادا کیے تھے ؟ (تفہیم القرآن)