103 - سورة العصر (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 3 |
مضمون: دنیا کی زندگی کی اصل قدرو قیمت ایمان و عمل صالح سے ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شانِ نزول: سورۂ الزلزال۔۔۔۔۔ سابقہ سورہ میں ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی گئی ہے جو ساری عمر اسی دنیا کے مال و متاع جمع کرنے کی فکر میں گنوابیٹھتے ہیں ۔۔۔۔یہ عمر عزیز اللہ تعالیٰ نے انہیں کس مقصدِ بلند کی خاطر عطا فرمائی اور وہ اس کو کس بوالہوسی و بے حاصلی میں برباد کربیٹھے۔۔۔اب اس سورہ میں بتایا ہے کہ زندگی کی اصل قدروقیمت کیا ہے؟ کیاچیز اس کو ابدی فلاح کی ضامن بناتی ہے اور کیا چیز اس کو دائمی خسران میں تبدیل کردیتی ہے؟۔۔۔۔۔گویا جو بات قرآن کی ایک سوچودہ سورتوں میں سمجھائی گئی ہے وہ اس سورہ کی تین آیتوں میں سمو دی گئی ہے۔اسی حقیقت کی طرف حضرت امام شافعیؒ نےیوں اشارہ فرمایا ہے کہ" اگر تنہا اسی سورہ العصر پر غور کریں تو ان کے لیے کفایت کرے۔"(تدبر قرآن)
نظمِ کلام: سورۂ الملک،سورۂ الزلزال
لفظ عصر کی تحقیق:اسی تیز روی اور گزرنے کے مفہوم کی وجہ سے تیز و تند ہواکے لیے اعصار کا لفظ استعمال ہوا۔ دن کے آخری حصہ کو جب دن گزرکرگویا نچڑ جاتاہے عصر کہتے ہیں۔عصرالشئ میں بھی اسی معنی کا لحاظ ہے۔(تفسیر فراہی)
زمانہ کی قسم کیوں کھائی: ۔۔۔۔۔وہ یہ کہ انسان کا اصل راس المال زمانہ ہی ہے اور اس کا حال یہ ہے کہ تیز روی اور برق رفتاری میں کوئی چیز بھی اس سے بڑھ کر نہیں۔۔۔۔(تفسیر فراہی)
| وَ الْعَصْرِۙ ﴿1﴾ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ ﴿2﴾ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ ﴿3ع العصر 103﴾ |
| 1. عصر کی قسم۔ 2. کہ انسان نقصان میں ہے۔ 3. مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے۔ |
تفسیر آیات
1۔ عصر زمانے کو کہتے ہیں جس میں انسان کی عمر بھی داخل ہے۔ کاروباری دنیا میں خاص مشغولیت کا وقت ۔شرعی نقطۂ نظر سے نہایت فضیلت کا وقت۔حضورؐ کا زمانۂ مبارک۔حضورؐ نے فرمایا کہ جس کی نمازِ عصر فوت ہوگئی اس کا سب کچھ لٹ گیا ۔)تفسیر عثمانی(
ـــ اس کی مثال بالکل اس تاجر کی ہے جو برف کی تجارت کرتاہے لیکن جلد از جلد اس کو بیچ کردام کھرے کرنے کی بجائے اس کو اس نے رکھ چھوڑا ہے اور اس کی چمک اور ٹھنڈک کاتماشادیکھ رہاہے۔(تدبرقرآن)
ــــ عصر کے معنی نچوڑنے کے بھی ہوتے ہیں اس لئے عرب ممالک میں پکنے والے پھلوں کے رس کو "عصر" کہا جاتاہے۔ عصر کے معنی اس زمانے کے ہیں جو گزرچکا ہو اور اس کے ساتھ ہی تیزی سے گزرنے کا مفہوم بھی ظاہر کرتاہے۔گویا اجتماعی طورپر "عصر" کے معنی انسانی تاریخ کے ہوں گے اور انفرادی طورپر اس کے معنی ایک آدمی کیلئے مقررہ مدت ِ زندگی ،یعنی اس کی عمر۔(خرم مراد)
2۔ امام رازی : میں نے سورۂ عصر کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا ۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہم اُس طالبعلم سے جو امتحان کے مقررہ وقت کو اپنا پرچہ حل کرنے کی بجائے کسی اور کام میں لگا رہاہو، کمرے کے اندر لگے گھڑیال کی طرف اشارہ کرکے کہیں کہ تم اپنا نقصان کررہے ہو۔ (تفہیم القرآن)
ــــ یہ وہ اصل بات ہے جس کو ثابت کرنے کیلئے زمانہ کی قسم کھائی گئی ہے۔(تدبرقرآن)
ــــ یہ کوئی محض دینی یا مذہبی تصور ہی نہیں بلکہ جدید ManagementاورBusinessکی کتابوں میں بھی یہی لکھا ہے کہ اصل چیز روپیہ نہیں جس سے تجارت ہوتی ہے بلکہ اصل سرمایہ وقت ہے۔ روپیہ، پیسہ جمع کیا جاسکتاہے لیکن وقت نہ جمع کیا جاسکتاہےنہDeposit۔ وقت ایک ایسی دولت ہے جو تیزی سے ضائع ہورہی ہے ۔جیسے ہی وقت ختم ہوگا ،زندگی ختم ہوگی تو یہ سب چیزیں بھی ختم ہوجائیں گی ۔اب وہ شخص چیک بک پر دستخط نہیں کرسکتا ،بہترین کھانے نہیں کھاسکتا ، قیمتی لباس نہیں پہن سکتا ۔اگر عمر بھر کی یہی کمائی ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ یہ ختم ہورہاہے ۔ لہذاگھاٹے اور خسارے کا سودا ۔کھنڈرات اور آثار قدیمہ ۔ایمان والے وقت کو بھی Cash کررہے ہیں اور اپنی زندگی کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محفوظ کررہے ہیں۔وقت کو اگرخرچ کرو تو ہمیشہ باقی رہنے والا نفع کماؤ۔(خرم مراد)
ــــ خسْرٍ۔لفظ کی تنوین خسران کی بڑائی ظاہر کرنے کو ہے۔والتنکیر للتعظیم(بیضاوی،ج5/ص:194)أی فی خسرٍ عظیم۔(روح، ج۔3/ص: 22)(تفسیر ماجدی)
3۔ اس وجہ سے ایمان کے دوشاہد : قول و عمل۔ یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اٰمِنُوْا (النساء:136)
ــــ تَوَاصِی ۔ اوپر انسان کی انفرادی زندگی یہاں معاشرتی کیونکہ وہ فطرتاً معاشرتی مزاج رکھنے والی مخلوق ہے۔ دوسروں کو حق کی تلقین اور صبر و عزیمت کی بھی ۔بات یہ نہیں کہی کہ ایمان اور عمل صالح کی دعوت دیتے ہیں بلکہ کہاکہ حق اور صبر کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہیں ۔ حق کا مفہوم((i)وہ بات جس کا واقع ہونا قطعی ہو(ii)جو عقل سلیم کے نزدیک مسلم(iii) جو اخلاقاً فرض ہو)
ــــ استقامت کی بنیاد ۔ ’صبر‘ کا اصل مفہوم قرآن نے خود کھول دیا: وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ. (البقرہ ۲: ۱۷۷)اور صبر کرنے والے سختی میں، تکلیف میں اور لڑائی کے وقت۔‘‘ ’’اس آیت میں صبر کے تین موقعے ذکر ہوئے ہیں: غربت، بیماری اور جنگ۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ تمام مصائب و شدائد کے سرچشمے یہی تین ہیں جو ان تینوں امتحانوں میں ثابت قدم رہتے ہیں وہ صابر ہیں۔‘‘ ۔تَوَاصِی۔ واعظ ِ بے عمل کی برائی اس قدر واضح ہے ۔کہیں بھی حق کو مظلوم و مقہور اور باطل کو غالب و فتحمند دیکھے تو تڑپ اٹھے اور دوسروں کو بھی اس کے خلاف ابھارے۔(تدبرقرآن)
ــــ وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ ۔۔۔۔ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ(البقرہ)
یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا (بیان القرآن)
ــــ ایمان کے خاص معنی اور اس کا سیاسی مفہوم:۔ لیکن ایمان کے خاص معنی،،ایقان کے بھی ہیں۔۔۔۔قرآن مجید کے اس استعمال سے بعضوں کو خیال ہواکہ ایمان معتبر و حقیقی یہی ایقان ہے۔اور یہ ایک یقین محض کی حالت ہے۔اس وجہ سے عمل سے اس میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہوسکتی ۔یقین اور عمل دوبالکل الگ الگ چیزیں ہیں ،پس عمل یقین کا جزء کیسے ہوسکتاہے۔پھر ان لوگوں کو یہ خیال ہواکہ یہی رائے ہے جو ایمان و عمل کے باب میں حضرت امام ابوحنیفہؒ نے بھی اختیار فرمائی ہے۔اس سے ان لوگوں کے خیال کو مزید تقویت ہوئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ ایک واضح مسئلہ میں تاویل و توجیہ کے نہایت دوراز کا رپہلو اختیار کرلیے گئے۔لیکن ہمارے نزدیک یہ مسئلہ بالکل علیٰحدہ نوعیت رکھتاہے ۔امام ابوحنیفہؒ نے اس مسئلہ کو بالکل اس نگاہ سے دیکھا ہے جس نگاہ سے ایک قاضی و فقیہ ان مسائل کو دیکھتاہے یا جس نگاہ سے امیر اسلام وراثت و نکاح اور خراج و جزیہ وغیرہ کے معاملات اور سیاسی مسائل کے فیصلے کرتاہے ۔یہ قانون و سیاست کی نگاہ ہے،جو حکمت و فلسفہ کی نگاہ سے بالکل مختلف ہے۔ اس اعتبار سے ہر وہ شخص مومن ہوگا جو اقرار کرے کہ وہ مسلمانوں کی جماعت میں سے ہے ۔ یا جو مسلمانوں کے شعاراور ان کے ظاہر حالات میں بالکل ان کے طریقہ پر ہو۔ایسے اشخاص کے متعلق یہی حکم لگایا جائے کہ یہ مسلمان ہیں۔ان میں صادق و کاذب اور متقی و فاجر کی تفریق نہیں کی جائے گی ۔ اس قانونی ایمان پر سب برابر ہوں گے۔اس میں کمی بیشی نہیں واقع ہوتی، کیونکہ قانون اور سیاست کی نگاہ خدا اور بندہ کے درمیان کے باطنی احوال و معاملات کی جستجو نہیں کیا کرتی۔یہ معاملات صرف قیامت کے دن بے نقاب ہوں گے۔۔۔۔۔بلاشبہ قرآن سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایقان و عمل دونوں ہر حالت میں یکساں نہیں رہتے بلکہ ان میں مختلف حالات کے ماتحت تغیر و تفاوت ہوتارہتاہے۔یہ کبھی کم ہوتے ہیں کبھی زیادہ۔ عقل سلیم اس صداقت کی تائید کرتی ہے۔(تفسیر فراہی)
ــــ عمل صالح کی حقیقت:۔ اس نکتہ کو دوسرے لفظوں میں یوں سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کائنات کی ایک مجموعی مشین کا ایک پرزہ ہے۔اس وجہ سے اس کے اعمال میں سے صالح اعمال صرف وہی ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی اس حکمت و تدبیر کے موافق ہوں جو اس نے اس کلی نظام کے لیے پسند فرمائی ہے۔(تفسیر فراہی)
ــــ حَقٌ اصل میں تو موجود قائم کو کہتے ہیں لیکن استعمال کے لحاظ سے اس کے معانی مختلف ہوگئے ہیں۔ کم از کم تین معنوں میں تو اس کا استعمال عام ہے۔1۔ وہ بات جس کا واقع ہونا قطعی ہو۔2۔ وہ بات جو عقل کے نزدیک مسلم ہو۔ 3۔ وہ بات جو اخلاقاً فرض ہو۔(تفسیر فراہی)
ــــ تَوَاصِی ۔نجات کیلئے صرف اپنے عمل کی اصلاح کافی نہیں بلکہ دوسرے مسلمانوں کی فکر بھی ۔(معارف القرآن)
ــــ عمل صالح ایک لحاظ سے ایمان کی تفسیر ہے۔ دونوں کی مثال ایسے ہے جیسے بیج اور درخت ۔اچھا بیج ہوگا تو کونپل پھوٹے گی ۔شاخیں نکلیں گی اور پھل پھول پیدا ہونگے۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آدمی بس اپنے کام سے غرض رکھے اور یہ اس کی نجات کیلئے کافی ہے تو یہ سورت اس کی کھل کرتردید کرتی ہے ۔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ۔(البلد:90۔17)جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے تویہ بڑی الوالعزمی کے کاموں میں سے ہے۔(شوریٰ:42-43)(خرم مراد)
ــــ لفظ تواصوا سے خلافت کا وجوب: ۔۔۔۔۔نیکی اور بھلائی کی قسم کی کوئی بات ان کے دائرہ سے باہر نہیں رہ گئی ہے۔ان تمام عقائد کا شیرازہ ہے۔ عمل صالح تمام شریعت کا مجموعہ ہے اور تواصی ایک رتبہ کمال و فضیلت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے مخصوص فرمایا اور اس امت میں سے بھی خاص طورپر ان لوگوں کے لیے جو اس کے رہنما ہیں کیونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اصل ذمہ داری انہی پر ہے۔(تفسیر فراہی)
ــــ حق و صبر کی شرح اور ان کا باہمی تعلق: ۔۔۔۔حَقٌ کے خاص معنی مواسات و ہمدردی کے ہیں۔ اس کے لیے دوسرا معروف لفظ مَرْحَمَةٌ ہے۔ مواسات و ہمدردی کے لیے اس لفظ کے استعمال سے معلوم ہوتاہے کہ جو چیز دوسروں کے نزدیک محض ایک اخلاقی فضیلت کی حیثیت رکھتی ہے،عرب اپنے اوپر اس کو ایک حق واجب خیال کرتے تھے۔۔۔۔۔اب دیکھو تمام بھلائیوں اور نیکیوں میں سے قرآن نے اس نیکی کو کس طرح چھانٹ لیا ہے جو درحقیقت سب نیکیوں کی اصل اور سب کا خلاصہ ہے۔ صرف مرحمت ہی کا رشتۂ محبت ہے جو پراگندہ اور بکھرے ہوئے دلوں کو ایک نقطہ پر مجتمع کرتاہے اور سب کو جود وکرم اور فیاضی و ہمدردی کے جوش سے معمور کرکے زندہ و حساس بنادیتا ہے۔پہلی سورہ(سورہ تکاثر)میں عشق دنیا کی منافسات کا ذکر تھا جو تمام بیماریوں کی جڑہے ۔ اس سورہ میں دعوت حق و مرحمت کا ذکر فرمایا جس نے یہ جڑیک قلم کاٹ دی۔اس کے بعد صبر کی تعلیم فرمائی کیونکہ جب تک آدمی لوگوں کی پہنچائی ہوئی اذیتیں جھیلنے اور ان کی غلطیوں سے چشم پوشی اور درگزر کرنے کا عادی نہ ہوجائے اس وقت تک صحیح مرحمت وجود میں نہیں آسکتی ۔قرآن مجید نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(الشوریٰ۔43)(اور جس نے صبر کیا اور معاف کیا تو یہ کام ہمت کے ہیں)۔۔۔۔۔لیکن یہ یادرکھنا چاہیے کہ عربوں کے نزدیک صبر عجز و تذلل کے قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جو بے بسوں اور درماندوں کا شیوہ ہے بلکہ یہ قوت اور عزم کی بنیاد ہے۔۔۔۔۔صبر کے اصلی معنی قرآن مجید نے خود بھی کھول دیے ہیں۔۔۔۔۔اس آیت میں صبر کے تین موقعے ذکر کیے ہیں۔غربت، بیماری اور جنگ۔(تفسیر فراہی)
ــــ حق و صبر کی توضیح اور ان کا باہمی تعلق ۔نجات کا دارو مدار عقلی اور اخلاقی قوتوں کی اصلاح پر ہے۔ عقل اور دل دونوں کے سختی اور نرمی کے اعتبار سے دوپہلو ہیں۔ عقل کی نرمی کا پہلو یہ ہے کہ وہ حق کے سامنے فوراً جھک جانے کے لیے مستعد رہے، وہ جہاں بھی اور جس وقت بھی ظاہر ہو۔اور قلب کی نرمی یہ ہے کہ وہ خالق کی محبت اور مخلوق کی ہمدردی سے ہمیشہ سرشار رہے۔ عقل کا کام یہ ہے کہ وہ حق پر ایمان لاتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کی صفات، اس کی آیات ، اور قلب ، اپنی بندگی کا احساس کرتاہے اور پھر بیتابانہ اپنے مولائے حقیقی کی طرف بڑھتاہے اور خلق کی ہمدردی کا جو فرض اس پر عائد ہوتاہے اس کے جوش و احساس سے معمور ہوجاتاہے۔عقل کی شدت کا پہلو یہ ہے کہ وہ اس حق پر ، جو آنکھوں سے اوجھل ہے، ثابت قدم رہے۔اور اس باطل کو جونگاہوں کے سامنے موجود ہے چھوڑے۔اور اس پہلو سے قلب کا فرض یہ ہے کہ وہ مصائب و شداید کے مقابل میں ڈٹا رہے اور اپنے قدم جادہ مستقیم سے نہ ڈگنے دے اور قابوپاجانے کے بعد عفو و درگزر سے کام لے۔ یہ حق کا تعلق قلب و عقل سے ہوا۔بالکل یہی حال صبر کا ہے۔وہ بھی عقل اور دل دونوں سے لگاؤرکھتاہے۔خلاصہ ان تفصیلات کا یہ ہے کہ حق تمام بھلائیوں کے دروازے کھولتاہے اور صبر تمام برائیوں کے دروازے بندکرتاہے۔یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ حق اصل مطلوب و محبوب ہے، اور صبر اس کے لیے جوش طلب اور سرگرمی ہے۔ قرآن کی ایک آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔۔۔۔۔اہل بصیرت سے یہ راز مخفی نہیں ہے کہ سعادت حاصل ہوجانے کے بعد اصلی چیز اس پر جمے رہنا ہے۔اب غورکرو ،دولفظوں ،حق و صبر کے اندر تمام سعادتیں اور بھلائیاں کس خوبی اور اختصار کے ساتھ جمع ہوگئی ہیں۔اور ان دونوں کے درمیان کس قدر گہرا اور وسیع تعلق ہے۔یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ لحاظ ہے کہ صبر صرف بھلائیوں کو حاصل کرنے ہی کے لیے نہیں مطلوب ہوتاہے بلکہ بھلائیوں کو حاصل کرلینے کے بعد ان پر قائم رہنے اور ان کو قائم رکھنے کے لیے بھی صبر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ انسان مزید نعمت کا مستحق ہوسکے۔ صبر درحقیقت تمام بھلائیوں کا معاون ہے۔اسی لیے تم دیکھتے ہو کہ اس کو انسان کی ترقی کا پہلا زینہ قراردیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیھم السلام کو ابتداء ہی میں صبر کی تعلیم فرمائی۔ حضرت موسیٰؑ اور ان کے ساتھی کا جو واقعہ قرآن مجید نے بیان کیا ہے اس میں حضرت موسیٰؑ کے ساتھی نے سب سے پہلے حضرت موسیٰؑ سے صبر ہی کا مطالبہ کیا اور اسی چیز میں ان کا امتحان لیا ہے۔(تفسیر فراہی)