104 - سورة الھمزہ (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 9 |
مضمون: قریش کے بخیل سرمایہ داروں کا کردار ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شانِ نزول: اعلانِ عام کے بعد قیامِ مکہ کے دوسرے دور (4تا 5) کے آغاز میں نازل ہوئی جب امیہ بن خلف جیسے قریشی قیادت کے اخلاقی اور معاشی رویے زیر بحث تھےجو آخرت فراموشی کا نتیجہ تھے۔
نظمِ کلام: سورۂالملک، سورۂ الھمزہ ۔۔۔۔۔ اگلی آٹھ سورتیں (ابولھب تک) قریشی قیادت کے رویوں کے بارے میں ہیں جنہیں بد اخلاق ، منکرِ آخرت ، بخیل، کنجوس، احسان فراموش، زر پرست کے القابات سے نوازا گیا ہے۔
اسلام کی اخلاقی تعلیمات کا احاطہ: سورۃ زلزال سے لے کر الھمزۃ تک (صفحہ 456 تفہیم القرآن)
| وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِۙ ﴿1﴾ اِ۟لَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ ﴿2﴾ یَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗۚ ﴿3﴾ كَلَّا لَیُنْۢبَذَنَّ فِی الْحُطَمَةِ٘ۖ ﴿4﴾ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُؕ ﴿5﴾ نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُۙ ﴿6﴾ الَّتِیْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْئِدَةِؕ ﴿7﴾ اِنَّهَا عَلَیْهِمْ مُّؤْصَدَةٌۙ ﴿8﴾ فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ۠ ﴿9ع الهمزة 104﴾ |
| 1. ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے۔ 2. جو مال جمع کرتا اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے۔ 3. (اور) خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کی ہمیشہ کی زندگی کا موجب ہو گا۔ 4. ہر گز نہیں وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا۔ 5. اور تم کیا سمجھے حطمہ کیا ہے؟ 6. وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ 7. جو دلوں پر جا لپٹے گی۔ 8. (اور) وہ اس میں بند کر دیئے جائیں گے۔ 9. (یعنی آگ کے) لمبے لمبے ستونوں میں۔ |
تفسیر آیات
1۔ اصل لفظ تو ھمز اور لمز ہیں۔ ان کے آگے جو چھوٹی "ۃ" لگی ہے یہ مبالغے کیلئے ہیں ۔ جیسے علام(بہت جاننے والا)اور علامۃ(بہت زیادہ جاننے والا)حضرت ابنِ عباس ؓ کے قول کے مطابق ھمزۃ تو وہ ہے جو سامنے برائی کو بیان کرے، طعنے دے، برابھلا کہے اور لمزۃ وہ ہے جو غیبت کی شکل میں ہو ۔ھمز کے معنی بعض علمانےاشارہ بازی کرنے کے بھی لئے ہیں یعنی اشاروں کنایوں سے کسی کا مذاق اڑایا جائے۔اور لمز وہ ہے جو زبان سے بول کر کسی کا عیب یا برائی بیان کرے۔(خرم مراد)
ــــ اس آیت میں بعض اخلاقی قباحتوں سے روکا گیا ہے۔ احادیث میں بھی ان کوتاہیوںسے منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہؐ نے فرمایا:"تم بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے ۔تم دوسروں کی ٹوہ میں نہ رہا کرو،کسی کے عیب (خواہ مخواہ) نہ ٹٹولواورنہ ایک دوسرے سےبڑھنے کی بے جا ہوس کرو اور نہ آپس میں حسد و بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو۔اے اللہ کے بندو! (جیسااللہ نے فرمایا ہے)آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔"(صحیح بخاری،الادب،باب: 58،حدیث: 6066)دوسری روایت میں فرمایا :"چغل خوربہشت میں نہیں جائے گا"۔(صحیح بخاری،الأدب باب:50،حدیث: 6056)ایک اور حدیث میں آتاہے :نبیؐ کا گزر دوقبروں پر سے ہوا ،تو آپؐ نے فرمایا:"ان قبروں والوں کو عذاب ہورہاہے۔۔۔کیونکہ ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھااور دوسرا چغل خور تھا۔"(صحیح بخاری،الأدب،حدیث: 6052)(احسن الکلام)
۔یہاں چونکہ دونوں لفظ ایک ساتھ آئے ہیں اور هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اس لیے دونوں ملکر یہ معنی دیتے ہیں کہ اس شخص کی عادت ہی یہ بن گئی ہے کہ وہ دوسروں کی تحقیر و تذلیل کرتا ہے، کسی کو دیکھ کر انگلیاں اٹھاتا اور آنکھوں سے اشارے کرتا ہے، کسی کے نسب پر طعن کرتا ہے، کسی کی ذات میں کیڑے نکالتا ہے، کسی پر منہ در منہ چوٹیں کرتا ہے، کسی کے پیٹھ پیچھے اس کی برائیاں کرتا ہے، کہیں چغلیاں کھا کر اور لگائی بجھائی کر کے دوستوں کو لڑواتا اور کہیں بھائیوں میں پھوٹ ڈلواتا ہے، لوگوں کے برے برے نام رکھتا ہے، ان پر چوٹیں کرتا ہے اور ان کو عیب لگاتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
2۔ جب دولت کسی کے پاس آتی ہے تو وہ دولت ہی کو سب کچھ سمجھتاہے ۔وہ لوگ جن کے پاس دولت نہیں ہوتی وہ انکو کمتر اور حقیر سمجھنے لگتاہے۔پھر وہ دوسروں کی عزت نفس پر ہاتھ ڈالنا بھی شروع کردیتاہے ۔مال فی نفسہ کوئی بری شئی نہیں (خیر اور فضل) لیکن مال ہی کو مطلوب و محبوب بنانا اور مال ہی کے پیچھے پوری زندگی لگادینا ۔مال سے مراد صرف روپیہ پیسہ نہیں بلکہ اس سے مراد دنیا کا سارا مال و اسباب ہے۔(خرم مراد)
ــــ ویْلٌ ۔۔۔لُمَزَۃٍ۔ اس فقرے میں مجلسی و اجتماعی زندگی کے دوشدید ترین امراض کا ذکر آگیا:ایک پس پشت عیب جوئی، دوسرے رُو در رُو طعنہ زنی۔ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ۔ ھمز کہتے ہیں سامنے طعنہ زنی کرنے کو اور لمز کہتے ہیں پسِ پشت عیب جوئی کرنے کو،اور بعض سے اس کے برعکس منقول ہے۔۔۔۔۔وَعَدَّدَہُ۔ مال و دولت کا شمار باربار کرتے رہنا ،اس کے حساب و کتاب میں دن رات لگے رہنا دلیل ہے افراط و حبِ مال کی اور اس میں شغف و انہماک کی۔بینک کے کاغذات کی دن رات اُلٹ پلٹ اور صرافہ و شئیر مارکیٹ کی خبروں کی ہمہ وقتی ادھیڑ بن،سٹے کے کاروبار میں مشغولی ،ایسی ساری ہی کاروائیاں مال کے گننے کے حکم میں داخل ہیں اور مومن کی شان سے بہت بعید۔(تفسیر ماجدی)
3۔ وہ مال جس کے بارے میں وہ سمجھتاہے کہ وہ ہمیشہ اس کے پاس رہے گا ،اسے حیاتِ جاوداں دے گا، اس کے مرتے ہی ہمیشہ کیلئے اس سے جدا ہوجائیگا ۔یہ ایک کردار ہے جو قرآن مجید نے سامنے رکھ دیا ہے ۔زرپرستی اور انسانوں کی بیعزتی کرنا قریشی سرداروں کی روش تھی ۔آج بھی ایسے کردار پائے جاتے ہیں۔(خرم مراد)
4۔ اس آگ کو حُطَمَۃ یعنی چورچور کردینے والی کی صفت سے تعبیر کرنے کی حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ بخیل سرمایہ دار اپنی دولت اس زمانے میں سونے چاندی کی اینٹوں ،زیورات ،ظرف اور جواہرات وغیرہ کی شکل میں محفوظ کرتے تھے ۔اس طرح کی دولت کو چور چور کردینے اور پراگندہ کردینے کی تعبیر زیادہ موزوں ہے۔جو لوگ اس کو حیاتِ جاوداں کی ضامن سمجھے بیٹھے تھے وہ اس کا حشر دیکھیں۔(تدبرقرآن)
ــــ کَلَّا کہہ کر اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر اس کا یہ خیال ہے کہ اس کا یہ مال اُس کے کام آئے گا ،ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ حُطَمَۃ کے معانی ہیں جو چیز روند ڈالے ،کچل دے، اور کوٹ کر ریزہ ریزہ کردے ،چورا چورا کردے۔ (خرم مراد)
5۔ یہ سوال اس کی ہولناکی کے بیان کیلئے ہے کہ اس کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھو وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی ہے۔(تدبرقرآن)
7۔ اس سے مراد وہ آگ ہے جو جسم کو کھاتی ہوئی دل تک پہنچ جائے گی۔ دل کا ذکر اس لئے فرمایا کہ دل ہی ان سارے امراض کا مرکز ہے۔(تدبرقرآن)
8۔ یہ ایسے ہی ہے جس طرح بھٹے سلگاتے ہیں اور ان کے اندر اینٹیں پکاتے اور ان کو اوپر سے بندکردیتے ہیں۔(تدبرقرآن)
ــــ اس آیت کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ آگ ہی لمبے لمبے ستونوں کی طرح بلند ہوگی۔جس میں یہ بند کیے جائیں گے۔دوسرا یہ کہ آگ کے لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ جکڑ کر اوپر سے منہ بند کردیا جائے گا اور تیسرا یہ کہ دوزخ کا منہ بند کرنے کے بعد اس کے اوپر لمبے لمبے ستون کھڑے کردیے جائیں گے۔(تیسیر القرآن)
9۔ یعنی آگ کے شعلے لمبے لمبے ستونوں کی مانند بلند ہونگے یا یہ کہ دوزخیوں کو لمبے ستونوں سے باندھ کر خوب جکڑ دیا جائے گا کہ جلتے وقت ذرا حرکت نہ کرسکیں۔(تفسیر عثمانی)
ــــ اربابِ اشارات سے منقول ہے کہ یہ عذاب رُوحانی ہوگا جو عذاب ِ جسمانی سے شدید ترہوتا ہے۔(تفسیر ماجدی)