105 - سورة الفیل (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 5

مضمون: اللہ تعالیٰ اپنے گھر کی حفاظت کے لیے قریش سے بے نیاز ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول:سورۂ الزلزال(99)

نظمِ کلام: سورۂ الملک،سورۂ الھمزہ

تاریخی پسِ منظر:تفہیم القرآن (462)

سورہ کا مخاطب کون ہے؟: اس سورہ میں مخاطب آنحضرت ؐ نہیں بلکہ قریش ہیں ۔اور واحد کے صیغہ سے اس بات کی طرف اشارہ ہورہاہے کہ قریش کے ایک ایک فرد کو مخاطب کرکے اس کی ذمہ داری یاددلائی گئی ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر گزار بنے۔(تفسیر فراہی)

خانہ کعبہ اور بنی اسماعیل کے فضائل و خصوصیات: خانہ کعبہ کی فضیلت کا دوسرا پہلو اس کے بانی کی عظمت ہے۔اس کی تعمیر حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے مقدس ہاتھوں سے ہوئی ہے۔اس کے برعکس بیت المقدس کو، جیساکہ تورات میں تصریح اور قرآن میں اشارہ ہے، پابند اور محکوم مزدوروں نے بنایا ہے۔پھر حضرت ابراہیمؑ نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت جو دعا فرمائی وہ بجائے خود نہایت  عظیم الشان چیز ہے۔۔۔۔۔مسجد یروشلم قیمتی پتھروں اور سونے چاندی کی ایک تعمیر تھی جو مقہور و مجبور مزدوروں کے ہاتھوں بنی تھی (دیکھو سلاطین ب۔5 تا 12)اور اس کے برعکس بیت اللہ سادگی اور بنانے والوں کی نیاز مندی کا ایک مرقع تھا۔خانہ کعبہ کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے اس کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنایا۔۔۔۔۔یہ بری سنت ان کی اولاد میں بھی باقی رہی چنانچہ بنی اسحاق بنی اسماعیل کو کنیز کی اولاد کہتے تھے ،حالانکہ یہ بات بالکل خلاف حقیقت تھی،بالآخر اس کا انجام یہ ہواکہ حضرت سارہ کی اولاد مصر میں غلام ہوکر بکی۔۔۔۔۔اس روایت میں بھی ایک  اہم بات بالکل چھپادی گئی ہے لیکن اس وقت ہم اس کو کریدنا نہیں چاہتے ۔یہاں صرف یہ دکھانا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسفؑ کو اسماعیلیوں کے ہاتھ بیچ دیا۔یہ ان کی غلامی کی تمہید تھی۔ اس کے بعد ایرانیوں،مصریوں اور رومیوں نے یکے بعد دیگرے ان کو گرفتار کیا اور غلام بنایا۔اس کے برخلاف حضرت ہاجرہ کی اولاد، اپنی پوری تاریخ میں کبھی غلامی کی ذلت سے آشنا نہیں ہوئی۔۔۔۔۔ایک قابل لحاظ حقیقت یہ بھی ہے کہ بنی اسماعیل کو بنی اسرائیل کے مقابلہ میں خدا سے زیادہ لگاؤ رہاہے۔۔۔۔۔انہوں نے خدا سے بالکلیہ علیحدگی کبھی  اختیار نہیں کی ، وہ بیت اللہ کا حج کرتے تھے ان کے نام کی تکبیر کہتے تھے ، اس کی عبادت و پرستش کرتے تھے ۔یہ ساری باتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ یہود کا کفر عربوں کے کفر سے زیادہ سخت تھا۔۔۔۔۔یہود کے مقابل میں بنی اسماعیل کا عذر بھی زیادہ واضح ہے۔و ہ اپنے دین سے اس وقت ہٹے ۔جب امتداِ زمانہ  کے بعد حضرت ابراہیمؑ کی تعلیمات بالکل فراموش ہوگئیں اور کوئی دوسرا نبی تذکیر و یاددہانی کے لیے مبعوث نہیں ہو ابلکہ اس کے باوجود ان میں ایسے لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد باقی رہی  جو دین حنیفی پر قائم رہے اور جو بت پرستی سے متنفر تھے۔برعکس اس کے یہود نے عین اس نبی کے سامنے گوسالہ پرستی کی جس پر ایمان لائے تھے اور جس کے حیرت انگیز معجزات کا قدم قدم پر مشاہدہ کررہے تھے ،پھر نبی کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد باربار بت پرستی کی لعنتوں میں گرفتار ہوئے ۔تورات کی کتاب القضاۃ اور سلاطین میں یہ تفصیلات مذکور ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ انذار اور اتمام حجت کے بغیر وہ کسی قوم پر عذاب نہیں نازل کرتا ۔اس وجہ سے اس نے عربوں کو اپنے غضب سے محفوظ  بھی رکھا ۔(تفسیر فراہی)

چند اشارات:  پس اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ اطاعت اور تقویٰ ہے ۔دین کے تمام شعائر اسی مقصد کے حصول کے لیے قائم کیے گئے ہیں ۔بندہ کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے پروردگار کا شکر گزار اور اس کی رحمتوں کا امیدوارر ہے۔یہ وسوسہ دل میں گزرنے نہ دے کہ وہ کسی چیز کا حقدار ہے۔(تفسیر فراہی)

ابرہہ کے حملہ کا سبب،اہلِ مکہ کا فرار،عبدالمطلب سے گفتگو:  خود واقعات کی نوعیت سے صاف پتہ چلتاہے کہ یہ تمام باتیں دشمنوں کی گھڑی ہوئی ہیں۔ ان میں عربی غیرت و حمیت کی علانیہ تحقیر اور قریش کے غیور سردار عبدالمطلب کی بیباکانہ توہین کا پہلو بالکل نمایاں ہے۔نیز ابرہہ کے کیریکٹر کو بہت شاندار دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ایک شخص پر ایک کنیسہ کی توہین کا الزام تراش کر بیت اللہ الحرام پر اس کے حملہ کو ثابت کیا گیا ہے۔اس پوری داستان کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتاہے کہ ذلت و دناءت اور بے غیرتی و پست ہمتی کا کوئی ایسا الزام نہیں ہے جو عربوں پر عموماً اور قریش اور ان کے سردار پر خصوصاً نہ تھوپا گیا ہو۔ ان خرافات کی تردید پر زیادہ وقت ضائع کرنے کا موقع نہیں ہے تاہم مختصراً ان وجوہ کو دکھانا ہے، جن سے ان روایات  کی اصل حقیقت واضح ہوسکے۔۔۔۔۔علمائے سیر کے بیان کے مطابق،ابرہہ کا حملہ، موسم حج میں ہواتھا۔ ۔۔۔۔اس وجہ سے اگر تھوڑی دیر کے لیے یہ بھی مان لیا جائے کہ قریش ہمت ہارگئے تھے،تو کیا سارا عرب ہمت ہار بیٹھا تھا؟۔۔۔۔ابرہہ کے ساتھ قبیلہ ثقیف کی ساز باز پر تمام روایات متفق ہیں اور ابورغال ثقفی کی قبر اس گناہ پر کہ اس نے ابرہہ کی فوج کو رستہ بتایا تھا ،سنگسارکی گئی۔پھر جانچنے کی بات ہے کہ اگر ثقیف کی طرح تمام عرب بھاگ گئے تھے تو آخر قبیلہ ثقیف ہی کا کیا قصور تھا کہ ان کی ہجوکی گئی پھر ان کا عذر بھی بالکل واضح تھا۔۔۔۔قرآن مجید میں تصریح ہے کہ اصحاب فیل نے ایک مخفی چال(کید)چلی تھی۔۔۔۔کید (مخفی چال)کے چند پہلو سامنے آتے ہیں ۔1۔ اس نے احترام کے مہینوں میں حملہ کیا، کیونکہ اس کو خیال تھا کہ عرب ان مہینوں میں جنگ و خونریزی سے احتراز کرتے ہیں۔2۔ اس نے مکہ میں ایسے وقت میں داخل ہونا چاہا جب تمام اہل مکہ دوسرے عربوں کے ساتھ حج کے مراسم اداکرنے میں مشغول ہوتے ہیں۔3۔ اس نے خاص طورپر قیام منیٰ کے دنوں میں حملہ کرنا چاہا کہ عرب یا تو منیٰ میں قربانی میں مصروف ہوں گے یا سفر کے تھکے ہارے گھروں کو واپس آرہے ہوں گے۔ان باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب یہ دیکھو کہ خداوند تعالیٰ نے ان کی چالوں کو کس طرح ناکام بنادیا۔1۔ ان کی فوج کو بطن محسر ہی میں روک دیا ۔2۔ محسر کے پتھروں سے عربوں نے اسلحہ کا کام لیا۔ 3۔ خدانے خانہ کعبہ کے ان دشمنوں پر آسمان سے سنگریزے برسانے والی آندھی بھیجی۔ان تفصیلات سے معلوم ہوا کہ اہل مکہ نے پوری قوت سے اصحاب فیل کا مقابلہ کیا اور ان پر پتھراؤ کیا۔باقی رہی ابرہہ کی بردباری اور شرافت کی داستان تو یہ عقل و نقل کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے بھی خلاف ہے۔(تفسیر فراہی)

ہم نے کہا ہے کہ چڑیاں مکہ کو مقتولین کی لاشوں سے صاف کرنے کے لیے آئی تھیں۔ حالانکہ مشہور روایت ہے کہ وہ اصحاب فیل کو سنگسار کرنے کے لیے بھیجی گئی تھیں ۔۔۔۔(تفسیر فراہی)

۔ تفسیر فراہی  کے مقابلہ میں مولانا مودودی کا بیان کافی وزنی ہے  ۔ تفصیل کے لیے  تفہیم القرآن صفحہ 471 اور سورۃ کا دیباچہ (مرتب)


اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ  ﴿1﴾ اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ  ﴿2﴾ وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ  ﴿3﴾ تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ  ﴿4﴾ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ ﴿5ع الفيل 105﴾
1. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا۔ 2. کیا ان کا داؤں غلط نہیں کیا؟ (گیا)۔ 3. اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور بھیجے۔ 4. جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے۔ 5. تو ان کو ایسا کر دیا جیسے کھایا ہوا بھس۔

تفسیر آیات

1۔ اَلَمْ تَرَ كَیْفَ،کیا تم نے نہیں دیکھا ؟ یہ کس سے خطاب ہے؟سب کا معروف مشاہدہ ۔نصف صدی قبل کا ایک تازہ ترین واقعہ تھا ،اس لئے سب اس سے واقف تھے اور اس کو اچھی طرح جانتے تھے۔(خرم مراد)

ــــ جس واقعے کا ذکر سورت میں آرہاہے اس کی اہمیت عربوں نے اس درجہ محسوس کی تھی کہ اپنی تازہ تاریخ کا آغاز اسی سے کیا اور اس سنہ کا نام ہی عام الفیل (سنہ فیل)رکھ دیا۔(تفسیر ماجدی)

 اصل میں لفظ کَیْدٌ استعمال کیا گیا ہے جو کسی شخص کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ تدبیر کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہاں خفیہ کیا چیز تھی ؟ ساٹھ ہزار کا لشکر کئی ہاتھی لیے ہوئے علانیہ یمن سے مکہ آیا تھا، اور اس نے یہ بات چھپا کر نہیں رکھی تھی کہ وہ کعبہ کو ڈھانے آیا ہے۔ اس لیے یہ تدبیر تو خفیہ نہ تھی۔ البتہ جو بات خفیہ تھی وہ حبشیوں کی یہ غرض تھی کہ وہ کعبہ کو ڈھا کر قریش کو کچل کر، اور تمام اہل عرب کو مرعوب کر کے تجارت کا وہ راستہ عربوں سے چھین لینا چاہتے تھے جو جنوب عرب سے شام و مصر کی طرف جاتا تھا۔ اس غرض کو انہوں نے چھپا رکھا تھا اور ظاہر یہ کیا تھا کہ ان کے کلیسا کی جو بےحرمتی عربوں نے کی ہے اس کا بدلہ وہ ان کا معبد ڈھا کرلینا چاہتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)

3۔ اصل میں "طَیْرًا اَبَابِیْلَ" کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔اردوزبان میں چونکہ ابابیل ایک خاص قسم کے پرندے کو کہتے ہیں اس لئے ہمارے ہاں لوگ عام طورپر یہ سمجھتے ہیں کہ ابرھہ کی فوج پر ابابیلیں بھیجی گئیں لیکن عربی زبان میں ابابیل کے معنی ہیں بہت سے متفرق گروہ جو پے درپے مختلف سمتوں سے آئیں خواہ وہ آدمیوں کے ہوں یا جانوروں کے ،عکرمہ اور قتادہ کہتے ہیں کہ یہ جھنڈ کے جھنڈ پرندے بحرِ احمر کی طرف سے آئے ۔سعید بن جبیر اور عکرمہ کہتے ہیں کہ اس طر ح کے پرندے نہ پہلے کبھی دیکھے گئے اور نہ بعد میں ۔یہ نہ نجد کے پرندے تھے ،نہ حجاز کے اور نہ بحر احمر کے ۔سب راویوں کے مطابق پرندے کی چونچ میں ایک اور پنجوں میں دو دو پتھر تھے ۔بعض لوگوں کے پاس یہ کنکر ایک مدت تک محفوظ رہے ۔سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ ہم نے ابرہہ کے دو فیل بانوں کو دیکھا جو اندھے اور بہرے ہوگئے تھے اور لشکر سے پیچھے رہ گئے اور مکہ مکرمہ میں بھیک مانگا کرتے تھے۔(تفہیم القرآن)

ابن ہشام کی روایت میں اتنا اور آتاہے کہ چیچک کی وباعرب میں اس سال پہلی بار پھیلی۔(ابن ہشام،ج1/ص: 54)۔۔۔۔سرسید اور ان کے ہم خیالوں نے لشکر ابرہہ کی تباہی کا سبب جو بجائے چڑیوں کی سنگ باری کے چیچک ِ وبائی کو قراردیا ہے،عجب نہیں کہ اس کی بنیادیہی روایت ہو!۔(تفسیر ماجدی)

5۔ اس کے بعد آنے والی سورۂ جو قریش کے نام سے موسوم ہے دراصل وہ مل کر اس سورۂ کے مضمون کو مکمل کرتی ہے ۔اس کے اندر یہ دعوت ہے فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِ:انکو چاہیے کہ اس گھر کے رب کی ہی بندگی کریں۔(خرم مراد)

ــــ ابن ہشام نے لکھا ہے کہ اس واقعہ سے اہل عرب کے دل میں قریش کی عظمت و ہیبت بیٹھ گئی کہ یہ اہل اللہ ہیں۔اللہ نے ان کے دشمنوں کو ذلیل وناکام کرکے رکھا ہے۔(ابن ہشام ،ج1/ص:56)۔۔۔سورۂ فیل کے معاً بعد سورۂ قریش کا آنا اس  ربط ِ معنوی کی طرف اشارہ کررہاہے۔(تفسیر ماجدی)