106 - سورة القریش (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 4

مضمون: بیت اللہ کے تعلق سے قریش کو جومنافع حاصل ہیں وہ رب کی خالص بندگی کو واجب کرتے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول : سورۃ الزلزال(99)

نظمِ کلام: سورۃ الملک،سورۂ الھمزہ

تاریخی پسِ منظر: تفہیم القرآن(474)


لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ  ﴿1﴾ اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ  ﴿2﴾ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ  ﴿3﴾ الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠  ﴿4ع قريش 106﴾
1. قریش کے مانوس کرنے کے سبب۔ 2. (یعنی) ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے سبب۔ 3. لوگوں کو چاہیئے کہ (اس نعمت کے شکر میں) اس گھر کے مالک کی عبادت کریں۔ 4. جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا۔

تفسیر آیات

1۔ اِیْلٰفِ، الف سے ہے جس کے معنی خوگر ہونے، مانوس ہونے، پھٹنے کے بعد مل جانے اور کسی چیز کی عادت اختیار کرنے کے ہیں ۔اردو زبان میں الفت او رمالوف کےالفاظ بھی اسی سے ماخوذ ہیں ۔اس سے پہلے جو "ل" آیا ہے عربی زبان کے ماہرین کے مطابق ،یہ تعجب کے معنی میں ہے۔لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ کا مطلب ہے کہ قریش کا رویہ بڑا ہی قابل تعجب ہے کہ اللہ کے فضل کی بدولت وہ منتشر ہونے کے بعد جمع ہوئے اور ان تجارتی سفروں کے خوگر ہوگئے جو ان کی خوشحالی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں اور وہ اللہ ہی کی بندگی سے روگردانی کررہے ہیں۔(تفہیم القرآن)

ــــ لیکن اس کا ایک غریب ترجمہ یا معنی"ٹریڈنگ لائسنس" کے بھی ہیں ۔ڈاکٹر حمیداللہ اور دیگر نے کیا ہے کہ ایلٰف کا لفظ یہاں لغوی معنیٰ میں استعمال نہیں ہوا بلکہ یہ اُن اجازت ناموں کیلئے استعمال ہواہے جو قریش نے مختلف حکومتوں سے حاصل کئے تھے۔ حضورؐ کے پرداداہاشم اور ان کے تین بھائیوں نے حبشہ، یمن، شام اور مصر کی حکومتوں سے تجارتی معاہدے کئے ۔چنانچہ علامہ آلوسی کے نزدیک ایلٰف کے معنی ہیں تجارتی معاہدہ ہوا۔(خرم مراد)

2۔ پہلے بات مجمل طورپر کر کے ناتمام چھوڑدی ہے تاکہ سننے والوں میں سوال پیدا ہوجائے کہ قریش کی کونسی وابستگی ،کس پہلو سے زیر بحث ہے؟یہاں توجہ دلانا مقصود ہےکہ ان کی وہ وابستگی جو ان کو اپنے گرمی و سردی کے دونوں تجارتی سفروں کے ساتھ ہے۔سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام و فلسطین کی طرف۔یہ تجارتی گزرگاہیں صحیح معنوں میں محفوظ صرف قریش کیلئے تھیں ،دوسروں کو ان میں وہ تحفظ حاصل نہیں تھا جو قریش کو حاصل تھا۔وہ اپنے تمام سامانِ تجارت کے ساتھ بے خطر گزرتے اور کسی کا ان سے تعرض کرنا تودرکنار ،راہ کے قبائل اپنے اپنے حدود میں ان کیلئے بدرقہ فراہم کرتے کہ یہ لوگ بیت اللہ کے خادم ،متولی اور حاجیوں کی خدمت کرنیوالے تھے۔(تدبرقرآن)

4۔ چنانچہ جب رسول اللہؐ نے ان بتوں اور اس بت پرستانہ نظام کے خلاف صدا  بلند کی تو قریش نے اس کا یہ جواب دیا تھا کہ اگر ہم تمہاری بات  مان لیں تو پھر ہم زمین سے اچک لیے جائیں گے ۔ہمارے تجارتی قافلے بھی لوٹ مارکی زد میں آجائیں گے۔قبائل عرب میں جو ہمارا احترام اور عزت کی جاتی ہے وہ سب کچھ خاک میں مل جائے گا اور ہمارے سیاسی تفوق کا بھی جنازہ نکل جائے گا۔ان حالات میں ہم تمہاری باتوں کو کیونکر قبول کرسکتے ہیں؟ (تیسیر القرآن) 

۔فائدہ عظیمہ۔  ابو الحسن قزوینی نے فرمایا کہ جس شخص کو کسی دشمن یا اور کسی مصیبت کا خوف ہو اس کے لئے لایلاف قریش کا پڑھنا امان ہے، اس کو امام جزری نے نقل کر کے فرمایا کہ یہ عمل آزمودہ اور مجرب ہے۔ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے تفسیر مظہری میں اس کو نقل کر کے فرمایا کہ مجھے میرے شیخ حضرت مرزا مظہر جان جاناں نے خوف و خطر کے وقت اس سورة کے پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ہر بلا و مصیبت کے دفع کرنے کے لئے اس کی قرات مجرب ہے۔ حضرت قاضی صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ میں نے بھی بارہا اس کا تجربہ کیا ہے۔ (معارف القرآن)