107 - سورة الماعون (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 7

مضمون:قریش نے بیت اللہ کے مقاصد برباد کردیے ہیں۔وہ حرم کی تولیت کے اہل نہیں رہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول: سورۂ الماعون کی ابتدائی آیات مکی ہیں لیکن آیات 4تا6 مدنی معلوم ہوتی ہیں کیونکہ ان میں منافقین کا ذکر ہے جو دکھاوے کی نماز پڑھا کرتے تھے۔لیکن صاحب ِ تدبرقرآن کی رائے زیادہ وزنی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔

نظمِ کلام: سورۂ الملک ،سورۂ الھمزہ


اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُكَذِّبُ بِالدِّیْنِؕ  ﴿1﴾ فَذٰلِكَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَۙ  ﴿2﴾ وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ  ﴿3﴾ فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ  ﴿4﴾ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ  ﴿5﴾ الَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ  ﴿6﴾ وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠  ﴿7ع الماعون 107﴾
1. بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو (روزِ) جزا کو جھٹلاتا ہے؟ 2. یہ وہی (بدبخت) ہے، جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ 3. اور فقیر کو کھانا کھلانے کے لیے (لوگوں کو) ترغیب نہیں دیتا۔ 4. تو ایسے نمازیوں کی خرابی ہے۔ 5. جو نماز کی طرف سے غافل رہتے ہیں۔ 6. جو ریا کاری کرتے ہیں۔ 7. اور برتنے کی چیزیں عاریتہً نہیں دیتے۔

تفسیر آیات

1۔ "اَلَّذِیْ" سے کون مراد ہے؟ قرینہ دلیل ہے کہ اشارہ ابولہب کی طرف ہے۔یہ ایک نہایت مالدار بخیل تھا جو حرم کے بیت المال (رفادہ) پر قابض تھا ۔ اس کا تذکرہ سورۂ لہب میں نمایاں طورپر آرہاہے ۔اس نے رفادہ کو اپنی ذاتی جائداد بنالیا تھا۔ اس کی آمدنی اس نے اپنے ذاتی مقاصد میں استعمال کی اور اس کی بدولت مکہ کا قارون بن گیا ۔یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ کی بہترین تفسیر سورۂ اللیل (92: 5-10)(تدبرقرآن)

ــــ یہاں دیکھنے کے معنی آنکھوں سے دیکھنا نہیں بلکہ اس سے مراد غور و فکر کرنا ہے۔دین کے معنی ضابطۂ حیات ،طریقِ زندگی اور پوری زندگی کا وقف کرنا ہے۔ دین کے دوسرے معنی جزاو سزا کے بھی ہیں جیسے مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ(1: 2)یہاں حضرت ابن عباسؓ نے دین کے معنی طریق ِ زندگی کے کئے ہیں۔(خرم مراد)

۔الدین کا لفظ قرآن کی اصطلاح میں آخرت کی جزائے اعمال کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور دین اسلام کے لیے بھی۔ (تفہیم القرآن)

 ایک واقعہ ۔ابوجہل ایک یتیم کا وصی تھا ۔اس حالت میں اُسکے پاس آیا کہ اس کے بدن پر کپڑے تک نہ تھے۔ ابو جہل نے کوئی پرواہ نہ کی اور وہ مایوس لوٹا ۔قریش کے سرداروں نے ازراہِ شرارت کہاکہ محمدؐ کے پاس جاؤ۔بچہ بے چارہ ناواقف تھا۔ وہ آپؐ کے پاس آیا۔ آپؐ اُسے ساتھ لیکر ابوجہل کے ہاں تشریف لے گئے ۔ ابو جہل حضورؐ کو دیکھ کر اندر گیا اور اس کا مال لا کر اُسے دے دیا ۔ سرداروں نے لعن طعن کی تو ابوجہل نے کہا کہ ایسا محسوس ہواکہ محمدؐ کے دائیں اور بائیں ایک ایک حربہ ہے ۔ یہ حضورؐ کا اخلاقی رعب تھا ۔(تفہیم القرآن)

ــــ  یتیم کی کفالت اور اس کی تعلیم وتربیت کی بڑی فضیلت ہے۔جیسے رسول اللہؐ نے فرمایا:"میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا دونوں بہشت میں اس طرح قریب ہوں گے ۔"آپ نے اپنی شہادت کی اُنگلی اور بیچ کی اُنگلی (دونوں ملاکر)اشارہ کیا ۔(صحیح بخاری، الادب،باب: 24۔حدیث 6005) (احسن الکلام)

3۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ اور عمرفاروقؓ نے خلیفہ بننے کے بعد پہلے ہی خطبہ میں اس بات کی تشریح فرمائی تھی کہ جو تم میں سے کمزور ہے اور اس کا حق ماراگیا ہے وہ میرے نزدیک سب سے زیادہ طاقتور ہے، جب تک کہ میں اُسےحق نہ دلوادوں ۔جو حق سے محروم ہیں گوان کا کوئی خاندان نہیں،سرپرست نہیں، کوئی باپ نہیں ،طاقتور قبیلہ نہیں کہ جواُن کی پشت پر کھڑا ہوجائے یا کوئی ایم پی اے ،ایم این اے یا وزیر نہیں جو ان کا حق دلوائے بلکہ اسلامی ریاست کی پوری ریاستی و قانونی طاقت ان کی پشت پر ہوگی ۔ (خرم مراد)

۔اِطعَامِ الْمِسْكِيْنِ نہیں بلکہ طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اگر اطعام مسکین کہا گیا ہوتا تو معنی یہ ہوتے کہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتا۔ لیکن طعام المسکین کے معنی یہ ہیں کہ وہ مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا۔ بالفاظ دیگر جو کھانا مسکین کو دیا جاتا ہے وہ دینے والے کا کھانا نہیں بلکہ اسی مسکین کا کھانا ہے، وہ اس کا حق ہے جو دینے والے پر عائد ہوتا ہے، اور دینے والا کوئی بخشش نہیں دے رہا ہے بلکہ اس کا حق ادا کر رہا ہے، یہی بات ہے جو سورة ذاریات آیت 19 میں فرمائی گئی ہے کہ  وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ " اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق ہے "۔ (تفہیم القرآن)

5۔ فیْ  صَلَاتِہِمْ سَاھُونَ نہیں کہا گیا بلکہ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاھُونَ کہاگیا ۔فی صلاتھم کا مطلب ہوتا کہ وہ اپنی نمازمیں بھولتے ہیں لیکن نماز پڑھتےپڑھتے کچھ بھول جانا کوئی گناہ نہیں،اس کیلئے سجدۂ سہو کا طریقہ ہے۔ خود نبی اکرمؐ اور صحابہ بھی نماز میں بھول جاتے ۔عن صلاتھم کے معنی ہیں کہ وہ اپنی نماز سے غافل ہیں ۔نمازپڑھی تو اور نہ پڑھی تو۔کبھی پڑھتے ہیں اور کبھی نہیں پڑھتے ۔پڑھتے ہیں تو نماز کے وقت کو ٹالتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔اس مقام پر یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نماز میں دوسرے خیالات کا آجانا اور چیز ہے اور نماز کی طرف کبھی متوجہ ہی نہ ہونا اور اس میں ہمیشہ دوسری باتیں ہی سوچتے رہنا بالکل دوسری چیز۔ پہلی حالت تو بشریت کا تقاضا ہے، بلا ارادہ دوسرے خیالات آ ہی جاتے ہیں، اور مومن کو جب بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ نماز سے اس کی توجہ ہٹ گئی ہے تو وہ پھر کوشش کر کے اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ دوسری حالت نماز سے غفلت برتنے کی تعریف میں آتی ہے، کیونکہ اس میں آدمی صرف نماز کی ورزش کرلیتا ہے، خدا کی یاد کا کوئی ارادہ اس کے دل میں نہیں ہوتا، نماز شروع کرنے سے سلام پھیرنے تک ایک لمحہ کے لیے بھی اس کا دل خدا کی طرف متوجہ نہیں ہوتا، اور جن خیالات کو لیے ہوئے وہ نماز میں داخل ہوتا ہے انہی میں مستغرق رہتا ہے۔(تفہیم القرآن)

ــــ قرآن مجید کسی مخصوص زمانے کیلئے کتاب نہیں ۔آج سے چودہ سوسال کے بعد اس طرح کے :"مصلین" پائے جاتے ہیں کہ جو سمجھتے ہیں کہ دین تو بس یہی ہے کہ نماز پڑھ لیں اور اپنی وضع قطع نمازیوں کی سی بنالیں اور نماز سے فراغت کے بعد بچوں سے، یتیموں سے جس طرح چاہیں سلوک کریں،عورتوں کو جس طرح چاہیں پھٹکاریں ،نوکروں کے ساتھ جس طرح کا چاہیں سلوک کریں۔غفلت کے حوالے سے دوچیزیں اہم ہیں۔ایک یہ کہ وہ نماز کی طرف آتے  ہیں تو کسل مندی اور لاپرواہی سے، اور انفاق سے گریز کرتے ہیں ۔اگر کوئی شخص نماز پڑھتاہو اور فحش و منکرات کا ارتکاب کرتاہو تو یہ بھی نماز سے غفلت ہے(رب سے دور)(خرم مراد)

۔ابن عباس فرماتے ہیں " اس سے مراد منافقین ہیں جو دکھاوے کی نماز پڑھتے تھے، اگر دوسرے لوگ موجود ہوتے تو پڑھ لیتے اور کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا تو نہیں پڑھتے تھے " (تفہیم القرآن)

6-7: نماز کی اصل حقیقت اخلاص ہے:  سردارانِ قریش محض دکھاوے کی نماز پڑھتے تھے کہ ان کے عوام ان کو مذہبی سمجھیں ۔اس طرح کی نماز ظاہرہے کہ محض ایکٹنگ ہوتی ہے ۔فلسفۂ دین کے اعتبار سے جذبۂ شکر کی تحریک سے سب سے پہلے نماز وجود میں آتی ہے۔اور پھر نماز انفاق کیلئے محرک بنتی ہے اور پھر انہی دوچیزوں پر شریعت کا پورا نظام قائم ہے۔ ماعون روزمرہ استعمال کی ان چیزوں کیلئے آتاہے جن کی عاریت لین دین میں کوئی قباحت خیال نہیں کی جاتی بلکہ ہر پڑوسی اپنے پڑوسی سے ان کو بعض اوقات مانگنے پر مجبور ہوتاہے اور ان کا مانگنا اور دینا دونوں ،اچھے معاشرے میں حسنِ معاشرت کی علامت خیال کیا جاتاہے۔ بعض لوگوں نے اسی فویل للمصلین والے ٹکڑے کی بناپر اس سورۂ کو مدنی قرار دیا  ہے، حالانکہ اس سے مراد وہ نماز ہے جس کے قیام کا حکم حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی ذریت کو بیت اللہ کی تعمیر کے ساتھ ہی دیا گیا تھا۔اور جس کی رعایت بعد کے ادوار میں بھی باقی رہی ،اگرچہ اس کا حلیہ بدعات کے غلبہ کے سبب سے بہت بگڑ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔نمازوں کی بے حقیقتی کی وضاحت: یہ ان کی نمازوں کی بے حقیقتی کی وضاحت ہے کہ یہ محض دکھاوے کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی بخیل ہیں۔ یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان کی نمازوں کے بے روح و بے جان ہونے پر دو چیزوں سے دلیل قائم کی ہے۔ ایک ان کی ریاکاری سے دوسرے ان کی خِسّت سے۔ (تدبرقرآن)

۔اسی ماعون کی تعریف میں یہ بھی آتا ہے کہ کسی کے ہاں مہمان آجائیں اور وہ ہمسائے سے چارپائی یا بستر مانگ لے، یا کوئی اپنے ہمسائے کے تنور میں اپنی روٹی پکا لینے کی اجازت مانگے۔ یا کوئی کچھ دنوں کے لیے باہر جارہا ہو اور حفاظت کے لیے اپنا کوئی قیمتی سامان دوسرے کے ہاں رکھوانا چاہے۔ پس آیت کا مقصود یہ بتانا ہے کہ آخرت کا انکار آدمی کو اتنا تنگ دل بنا دیتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے کوئی معمولی ایثار کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ (تفہیم القرآن)