108 - سورة الکوثر (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 3 |
مضمون: نبیؐ کو بیت اللہ پر قبضہ کی بشارت۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شانِ نزول : سورۂ الکوثر ، حضور اکرمؐ کے قیام مکہ کے پہلے دور(0تا3 نبوی) میں نازل ہوئی جب اسلام کی دعوت خفیہ طورپر دی جارہی تھی ۔یہ ان دل شکن حالات میں نازل ہوئی جب آپؐ کے صاحبزادے ،حضرت قاسم کے انتقال پر عاص بن وائل سہمی نے"ابتر" کہا تھا۔
نظمِ کلام : سورۂ الملک، سورۂ الھمزۃ
ــــ ان اقوال کا ماخذ اور اس امر کا بیان کہ ان سب کا مرجع ایک ہی جامع حقیقت ہے: ۔۔۔۔اس تفصیل سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ لفظ کوثر کی تحقیق میں بہت سے مذہب نہیں ہیں،جیساکہ بادی النظر میں معلوم ہوتاہے ۔صرف دو مذہب ہیں۔ایک یہ کہ کوثر سے کوئی خاص چیز مراد لی جائے۔یعنی حوض محشر،یا نہر جنت ،یا حکمت، یا قرآن، یا اسی قسم کی کوئی اور چیز ۔دوسرا مذہب یہ ہے کہ یہ عام ہے،ہرچیز جس میں خیر کثیر ہو اس کے دائرہ میں داخل ہے۔۔۔۔۔سعید بن جبیر ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے۔ اس کے کنارے سونے اور چاندی کے ہیں اور وہ موتیوں اور یاقوت پر بہتی ہے۔اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے۔(تفسیر فراہی)
چند اشارات کہ کوثر، خانہ کعبہ اور اس کا ماحول ہے: مگر میں اس سے وہ چیز مراد لوں گا جس کو اس حوض یا نہر سے نہایت واضح مشابہت ہے جس کی کیفیات آنحضرتؐ نے بیان فرمائی ہیں،اور جس کی حقیقت و روحانیت ،شب معراج میں، آپؐ کے سامنے بے نقاب ہوئی۔کیونکہ یہ ثابت ہے کہ اس مبارک رات میں ، جب پروردگار عالم نے آب و گل کی بہت سی چیزوں کے حقائق آپؐ کے لیے بے حجاب کیے تو اس کوثر کی روحانیت کا بھی آپؐ کو مشاہدہ کرایا جو اس دنیا میں آپؐ کو بخشا گیا۔(تفسیر فراہی)
تمام ملتوں پر ملت مسلمہ کی فضیلت: وہ یہ کوثر کی عظیم الشان نعمت صرف ہمارے لیے مخصوص کرنے اور نماز اور قربانی کے ایک ساتھ ذکرکرنے سے کیا خاص نتائج نکلتے ہیں؟۔۔۔۔1۔ امت مسلمہ کو تمام دوسری ملتوں پر فضیلت حاصل ہے۔ 2۔ یہود اور نصاریٰ کے توبہ کی قبولیت ان کے اسلام لانے پر منحصر ہے۔3۔ حضرت ابراہیمؑ کے وارث صرف وہ لوگ ہیں جو اسلام لائے ہیں۔۔۔۔تمام قدیم مذاہب میں خدا کے تقرب کا سب سے بڑا ذریعہ قربانی تھا۔یعنی ہمارے یہاں جو رتبہ نماز کو حاصل ہے ۔وہی رتبہ دوسرے مذاہب میں قربانی کو حاصل ہے یہود کے ہاں بھی یہی رجحان پایا جاتاہے ۔انہوں نے نماز کا تو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا ہے۔۔۔۔۔۔نصاریٰ کا حال دینی مراسم میں یہود کے بالکل برعکس ہے۔ان کے یہاں صرف نماز ہے۔۔۔۔۔قرآن میں سب سے زیادہ ذکر نماز کا آتاہے اور "نحْرٌ"کا لفظ بجز اس سورہ کے پورے قرآن میں کہیں نہیں آیا ہے۔۔۔۔۔مشرکین اور ملاحدہ کا ذکر تو بالکل نظر انداز کردینا چاہیے ۔ان کی نماز اور قربانی خداکے لیے ہوتی ہی نہیں۔۔۔۔۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ نصاریٰ کا مذہب تجرد اور ترک دنیا کا مذہب تھا۔ اس میں ہر شخص پر صرف اس کے اپنے نفس کی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا گیا تھا، اس وجہ سے ان کو جہاد کا حکم نہیں دیا گیا۔(تفسیر فراہی)
سورہ کا موقع نزول اور فتح مکہ کی بشارت: علماء نے یہ تصریح کردی ہے کہ جو صورتیں ہجرت کے بعد مکہ کے قریب نازل ہوئی ہیں،وہ بھی مکی ہی کہلاتی ہیں۔(تفسیر فراہی)
سورہ پر بحیثیت مجموعی ایک نظر:ان تفصیلات سے واضح ہوا کہ یہ سورہ ایک طرف فتح مکہ کی بشارت ہے۔دوسری اس میں آنحضرتؐ کے دشمنوں کے لیے وراثت ابراہیمی سے محرومی کی دھمکی ہے۔اس کا اول اور آخر بالکل مقابلہ کے اسلوب پر ہے اور بیچ کا حصہ گویا برزخ کی طرح دونوں طرف سے متعلق ہے ۔یعنی جو لوگ توحید پر قائم رہ کر نماز اور قربانی کو قائم کریں گے وہ کوثر کی نعمت سے سرفراز ہوں گے۔ اور جوان کو ترک کریں گے ،وہ کوثر سے محروم ہوں گے۔اس سورہ کی مثال ایک ترازوکی ہے، جس میں دوپلڑے ہیں اور بیچ میں اس کی زبان ہے۔ایک پلڑے میں خیر کثیر کی گراں مایہ دولت ہے،دوسرے میں محرومی و نامرادی کی ذلت ،یا یوں سمجھوکہ ایک طرف وجود ہے اور دوسری طرف عدم۔ اور جس طرح میزان کی زبان وزن کی طرف جھکتی ہے، اسی طرح بیچ کی آیت پہلی آیت کی طرف جھکتی ہے ۔اس وجہ سے ان دونوں کے درمیان "ف"کے ذریعہ ربط قائم کیا گیا ہے۔ برعکس اس کے تیسری آیت بالکل علیحدہ ہے۔ گویا سورہ کا اسلوب ہی اعلان کررہاہے کہ حوضِ کوثر ،پیغمبرؐ کے متبعین اور جاں نثاروں کا مخصوص حصہ ہے ۔آپ کے اعداء اور مخالفین اس نعمتِ عظمیٰ سے محروم ہیں۔(تفسیر فراہی)
| اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ ﴿1﴾ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ ﴿2﴾ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۠ ﴿3ع الكوثر 108﴾ |
| 1. (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے۔ 2. تو اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھا کرو اور قربانی دیا کرو۔ 3. کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا۔ |
تفسیر آیات
1۔ (i) کوثر جنت میں ایک نہر(ii)کوثر سے مراد خیر کثیر(iii) حوض ِ کوثر۔)تدبرقرآن(
ــــ رسول اللہؐ نے معراج کے قصے میں فرمایا:"میں ایک نہر پر پہنچا ،اس کے کناروں پر خولدار موتیوں کے خیمے تھے"۔ میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا:"یہ نہر کیسی ہے؟"انہوں نے جواب دیا :"یہ کوثر ہے۔"(صحیح بخاری۔، التفسیر، باب: 1: حدیث: 4964)(احسن الکلام)
ــــ حوضِ کوثر کا ثبوت بعض محدثین کے نزدیک حد تواتر تک پہنچ چکا ہے ۔ہر مسلمان کو اُ س پراعتقاد رکھنا لازم ہے ۔بعض روایات سے اس کا محشر میں اور اکثر سے جنت میں ہونا ثابت ہوتاہے۔اکثر علماء نے تطبیق یوں دی ہے کہ اصل نہر جنت میں ہوگی اور اسی کا پانی میدانِ حشر میں لاکرکسی حوض میں جمع کردیا جائےگا۔دونوں کو "کوثر" ہی کہتے ہونگے۔(تفسیر عثمانی)
ــــ اَعْطَیْنٰکَ کی دوحکمتیں۔ ایک تو یہ کہ لوگ حضورؐ کے بے اندازہ کمالات کو دیکھ کر حضورؐکو خدانہ سمجھنے لگیں۔بتادیا کہ یہ کمالات ان کے ذاتی نہیں بلکہ عطیۂ خداوندی ہیں ۔دوسرے یہ کہ کوئی کم نظر ان کمالات کا انکار نہ کرسکے۔(ضیاء القرآن)
ــــ سات کتب حدیث بشمول بخاری، مسلم، ترمذی کا حوالہ دیکر صاحب تفہیم القرآن نے یہ گمان کیا ہے کہ قیامت کے روز موجودہ بحر احمر ہی کو حوض کوثر میں تبدیل کردیا جائے گا۔۔۔۔۔ــــ کوثر پرتفصیلی نوٹ(492، 496)(تفہیم القرآن)
ــــ اردوزبان میں ایک لفظ"کثرت" بولاجاتاہے ۔کوثر کا لفظ بھی انہی معنوں میں آتاہے لیکن یہ لفظ کثرت سے زیادہ مبالغہ اور وسعت رکھتاہے۔جو چیز بھی بڑی کثرت میں ہووہ کوثر ہے، خواہ دولت ہو،تعداد ہو، روحانی برکت ہو یا خیر کثیر۔تقریباً50 سے زائد احادیث میں صحابہ کرام نے اس کے معنی بیان کئے ہیں۔ نہر کوثر،حوض کوثر، دین و دنیا میں ساری بھلائیاں جمع کرنے والی(ابن عباسؓ) خانہ کعبہ(امام حمید الدین فراہی)یہ خانہ کعبہ کی کنجی ہی تھی جس کے ذریعہ پورا عرب مغلوب ہوگیا۔ سورۂ والضحیٰ کا وعدہ یہا ں پورا ہوا۔ آخر آپؐ کی سب سے بڑی خواہش کیا تھی ،لوگ آپؐ کی دعوت قبول کرلیں۔الکوثر کے مفہوم میں قرآن مجید بھی شامل ہے،آپ کی امت کی کثرت بھی۔ حوض کوثر بھی۔ فرمایا کہ قیامت کے روز تم لوگ حوض پر آؤگے ،اس کا مشروب شہد سے زیادہ میٹھا ،دودھ (چاندی) سے زیادہ سفید اور برف سے زیادہ ٹھنڈا۔حضرت ابن عباس ؓ کے شاگرد سعید ابن جبیرؓ ۔کوثر میں وہ خیر اور بھلائی شامل ہے جس کا آپ سے وعدہ کیا گیا ۔(خرم مراد)
2۔ قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ لَا شَرِيْكَ لَهٗ ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ (انعام:رکوع:20)نسک سے مراد مناسک ِحج۔تمام چیزیں چھوڑنے کی قربانی(خوشبو،لباس، بیوی سے تعلق ،اولاد،عزیز،سرمایہ،آرام، اور قربانی کا جانور) (تفسیر عثمانی)
۔کوثر کے لفظی معنی بڑی کثرت اور خیروبرکت والا کے ہیں۔ اس سے مراد خانہ کعبہ ہے جو گوناگوں پہلوؤں سے خیرِ کثیر کا خزانہ اور اس دنیا میں اس حوض کوثر کا مجاز ہے جو نبیؐ کو آخرت میں ملنے والا ہے ۔قریش نے تو نبیؐ کو مکہ سے ہجرت پر مجبور کردیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی کہ ہم نے یہ گھر آ پ کو بخش دیا ہے۔اب تم اس گھر کو خاص اللہ کے لیے نماز اور قربانی کا مرکز بنانا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔پس حکم کا منشا یہ ہے کہ مشرکین کے برعکس تم اپنے اسی رویے پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہو کہ تمہاری نماز اللہ ہی کے لیے ہو اور قربانی بھی اسی کے لیے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ لَا شَرِيْكَ لَهٗ ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ۔ " اے نبی کہہ دو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں "۔ (الانعام۔ 162۔ 163) (تفہیم القرآن)
ــــ یہ اس ذمہ داری کا بیان ہے جس کے ساتھ یہ عطیہ مشروط ہے ۔(تدبر قرآن)
ــــ عربی زبان میں نَحْرٌ اونٹ کو ذبح کرنے کو کہتے ہیں عربوں اور بنی اسماعیل میں اونٹ کی قربانی سب سے محبوب قربانی تھی ۔حضورؐ نے آخری حج کے موقع پر منیٰ میں 100 اونٹ قربان فرمائے تھے (63 خود، عمر بھی 63 سال،اور 37 حضرت علیؓ ) اس میں ایک شرط اخلاص کی بھی لگائی گئی ہے اور وہ ہے لِرَبِّکَ ۔مرنا تو شاید اس راہ میں آسان ہو لیکن جینا مشکل ، قدم قدم پر قربانی، یہودیوں نے قربانی کو تو اختیار کیا لیکن نماز کو ترک کیا۔ عیسائیوں نے تو نماز اور قربانی دونوں کو ترک کردیا اور حرام کو حلال کرلیا ،سود، شراب، زنا ۔(خرم مراد)
ــــ نماز اور قربانی میں مناسبت: اسماعیلؑ کے معنی ہیں "اللہ نے سنا"چونکہ ان کی ولادت ابراہیمؑ کی دعاکے مطابق ہوئی تھی ،اس وجہ سے ان کا نام اسماعیلؑ رکھا گیا۔ ۔۔۔۔بندہ نوافل کی راہ سے میری طرف بڑھتارہتاہے ،یہاں تک کہ میں اس کو محبوب بنالیتاہوں۔ اور جب میں اس کو محبوب بنالیتاہوں ،تو اس کا کان بن جاتاہوں جس سے وہ سنتاہے اور اس کی آنکھ بن جاتاہوں جس سے وہ دیکھتاہے، اور اس کا ہاتھ بن جاتاہوں جس سے وہ پکڑتا ہے۔یہ اسی روحانی زندگی کا بیان ہے،جو حقیقی اور واقعی زندگی ہے۔۔۔۔۔دوسرے بازو یعنی بہیمیت کے توڑنے کی تدبیر یہ ہے کہ نفس اس دنیا کی جن مرغوبات میں لذت پاتاہے ان سے اس کو علیحدہ کیا جائے ۔اس کے تین درجے ہیں۔پہلا درجہ یہ ہے کہ خدا کی راہ میں جان قربان کی جائے۔اس کا بلند ترین مقام لختِ جگر کی قربانی ہے۔۔۔۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ اطاعت ِ الٰہی کی راہ میں مصائب و آلام جھیلے جائیں ،اور لذات سے کنارہ کشی اختیار کی جائے ۔۔۔۔۔تیسرا درجہ یہ ہے کہ مال کو، جو تمام لذات کے حصول کا ذریعہ ہے، خدا کے راستہ میں خرچ کیا جائے۔۔۔۔"تم اس وقت تک وفاداری کا درجہ نہیں حاصل کرسکتے جب تک ان چیزوں میں سے نہ خرچ کرو،جو تمہیں محبوب ہیں"۔(آل عمران)۔۔۔۔۔ا۔ قربانی خانہ کعبہ کے پاس ہوتی ہے جو مرکز نماز ہے۔ ب۔ اس کا آغاز بسم اللہ واللہ اکبر سے ہوتا ہے۔ ج۔ قربانی اور قربانی کرنے والے دونوں کا رخ قبلہ کی طرف ہوتاہے۔د۔ اونٹوں کو کھڑے کرکے قربان کیا جاتاہے،جس میں قیام نماز کی جھلک پائی جاتی ہے۔ھ۔ مینڈھوں کو لٹا کر قربان کیا جاتاہے ،جس کو سجدۂ نماز سے مشابہت ہے۔"میں نے ہر طرف سے کٹ کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا،اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔"(انعام:79)،"بے شک میری نماز ،میری قربانی، میری زندگی، میری موت اللہ ر ب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں ہے"(162 تا 163)۔۔۔۔"بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنین سے ان کی جانیں اور ان کا مال جنت کے بدلے خریدلیا ہے۔وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور شہید ہوتے ہیں، یہ ایک سچا اور پکا عہدہے اور توراۃ ،انجیل،قرآن سب میں مذکور ہے۔ جنہوں نے اللہ سے اپنے عہد کو پورا کیا۔ ان کے لیے ہمارا پیام یہ ہے کہ اپنے اس معاملہ کے سبب سے جو تم نے کیا ہے خوشخبری حاصل کرو۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔"(توبۃ۔111)(تفسیر فراہی)
3۔کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار کیسے ابتر ہوجائیں گے ۔کوئی سید ہے ،کوئی علوی ،کوئی عباسی، کوئی ہاشمی، کوئی صدیقی، کوئی فاروقی مگر کوئی ابوجہلی ،ابولہبی نہیں (خیری برادران: ایک استثنا) (مرتب)
۔ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ ابتر حضور ؐ نہیں بلکہ آپؐ کے دشمن تھے اور ہیں (تفہیم القرآن)
ــــ مسلمانوں کے ذہن میں نبی اکرمؐ کی دعوت سے یہ حقیقت اچھی طرح راسخ ہوچکی تھی کہ بیت اللہ پر قریش کا غاصبانہ قبضہ ہے اور ایک دن اس کوان کے قبضہ سے آزاد کرانا بعثت ِ محمدی کی اصل غایت ہے۔ یہ بات بھی فریقین پرواضح تھی کہ جو اس گھر سے کٹا وہ ایک شاخ بریدہ ہوکے رہ جائے گا اور اس کی جڑ سارے عرب سے کٹ جائیگی ۔(تفہیم القرآن)
ــــ جب حضورؐ کا کوئی بیٹا زندہ نہ رہا تو لوگوں نے کہا کہ آپؐ کی تو نسل ہی مٹ گئی ۔اس میں ہجرت کی طرف بھی اشارہ تھا۔ آپؐ اپنے قبیلے سے بھی کٹے، اللہ کے گھر سے بھی کٹے اور مدینہ میں بھی کوئی بڑا سہارا نہیں ملے گا اور بلآخر ان کےدین کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا ۔لیکن انصار نے کہا کہ آپؐ کہیں گے کہ سمندر میں کود جاؤ تو وہ سمندر میں کود جائیں گے ، وہ انصار جو اوس و خزرج تھے وہ عرب جہاں سارا تعلق نسب و قبیلے کی بنیادپر ہوتاتھا وہ آپؐ کے ایسے جانثار بن گئے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔(خرم مراد)
ــــ جب آنحضرتؐ نے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو قریش نے خیال کیا کہ آپ نے رشتۂ رحم کاٹ کر ایک طرف عرب کے معززین خاندان کی تمام عظمتوں اور حمایتوں سے اپنے کو محروم کرلیا اور دوسری طرف تولیت کعبہ اور اس کی ہمجواری کی جو عزت و سعادت اس خاندان کے واسطے سے آپؐ کو حاصل تھی،وہ بھی آپؐ نے اپنے ہی ہاتھوں برباد کردی۔اس کے بعد آپؐ کی حیثیت ان کی نظر میں محض ایک شاخِ بریدہ کی تھی جو اپنے تناسے الگ ہوکر،خشک اور فنا ہوجانے کے لیے چھوڑدی گئی ہو۔۔۔۔۔کعب بن اشرف مکہ آیا۔تو قریش نے اس سے کہا،تم اہلِ مدینہ کے سردار ہو۔اس شخص کو دیکھتے ہو،جو اپنی قوم سے کٹ کر علیحدہ ہوگیا ہے اور پھر بھی اپنے آپ کو ہم سے افضل خیال کرتاہے!حالانکہ حجاج کے نگران، ان کو پانی پلانے والے، اور خانہ کعبہ کے کلید بردار اور متولی ہم ہیں۔ کعب نے جواب دیا تم اس سے افضل ہو۔ اس پر اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ والی آیت اتری۔ (تفسیر فراہی)