11 - سورة ھود (مکیہ)
| رکوع - 10 | آیات - 123 |
مضمون: حق و باطل کی کشمکش میں مومنین کو غلبہ اور کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے آزمائشوں سے گزرنا پڑتاہے۔اس سفر میں صبر و استقامت ان کی فیروزمندی کا باعث بنتی ہے۔(ترجمہ:مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شانِ نزول: سورۂ یونس تا سورۂ بنی اسرائیل آٹھ سورتوں کا سلسلہ زیر مطالعہ ہے۔ جو غالباً 11 تا 13 سن نبوی (ہجرتِ مدینہ سے قبل )نازل ہوئیں۔
ــــ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے حضورؐ سے کہا کہ آپ بوڑھے ہوتے جارہے ہیں ۔آپؐ نے فرمایا ،مجھے سورۂ ھود اور اس کی ہم مضمون سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے ۔محسوس ہوتاہے کہ کہیں اللہ کی دی ہوئی مہلت ختم نہ ہوجائے جیسے ایک سیلاب کا بند ٹوٹنے کو ہے۔
نظمِ سورۃ: سورۂ یونس سے سورتوں کا تیسرا گروپ شروع ہے جو سورۂ نور پر ختم ہوگا۔ اس میں 14 مکی سورتیں (یونس تا مومنون)اور 15 ویں سورۂ نور ،مدنی سورۃ ہے۔ان میں قدرِ مشترک ۔پیغمبرؐ کی دعوت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا ہوچکی تھی وہ بلآخر سورۂ یونس اور سورۃ ہود میں اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔۔۔۔یہ سورۃ سورۂ اعراف سے ملتی جلتی ہے۔
مرکزی مضمون: دعوت الی اللہ ،تبشیر و انذار، فہمائش و گرنہ پچھلی قوموں کی طرح کا عذاب۔
ترتیب مطالعۂ: (i) پہلے دورکوع ۔تمہیدی۔(ii)ر۔3 تا 8۔ چھ اقوام کی ہلاکت کا تذکرہ۔(iii) آخری دورکوع۔خاتمۂ سورۃ۔
پہلا رکوع |
| الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ ﴿1﴾ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ ﴿2﴾ وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ ﴿3﴾ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴿4﴾ اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴿5﴾ وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ﴿6﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ ﴿7﴾ وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿8ع هود 11﴾ |
| 1. الٓرٰ۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہے۔ 2. (وہ یہ) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے تم کو ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔ 3. اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تو تم کو ایک وقت مقررہ تک متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی (کی داد) دے گا۔ اور اگر روگردانی کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ 4. تم (سب) کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 5. دیکھو یہ اپنے سینوں کو دوھرا کرتے ہیں تاکہ خدا سے پردہ کریں۔ سن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے۔ 6. اور زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے وہ جہاں رہتا ہے، اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے۔ 7. اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ 8. اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز وہ ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزاء کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی۔ |
تفسیر آیات
1۔ محکم آیات کا مفہوم: سورۂ آل عمران کی آیت نمبر7 میں بیان کیا گیاہے کہ قرآن کریم کی بعض آیات محکم ہیں اور بعض دوسری متشابہ ۔لغوی لحاظ سے تو محکم ہراس چیز کو کہا جاسکتاہےجسے حکمت ،دانائی اور تجربہ سے اس کو ساخت میں مضبوط بنادیا گیا ہو جیسے ارشاد باری ہے"ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ"(22: 52)اور جب محکم کے مقابلے میں تشابہ کا لفظ آئے تو محکم کا معنی ایسی آیات ہیں جن میں کوئی لفظی یا معنوی اشتباہ نہ ہو۔(تیسیر القرآن)
ـــــ قرآن مجید کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ تعلیم وتربیت کے نقطۂ نظر سے اس کی تعلیمات پہلے گٹھے ہوئے مختصر اور جامع جملوں کی شکل میں نازل ہوئیں،پھر بتدریج واضح اور مفصل ہوتی گئیں۔چنانچہ مکہ کے ابتدائی دور کی سورتیں اختصار، جامعیت اور اعجاز بیان کا کامل نمونہ ہیں۔ مدنی دور میں دین کی وہی بنیادی باتیں ایک جامع اور ہمہ گیر نظام زندگی کی شکل میں نمایاں ہوگئیں۔(ترجمہ:مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ الرٰ اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ یہی نام پچھلی سورة کا بھی ہے اور یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ عمود و مضمون کے اعتبار سے دونوں سورتیں باہم ملتی جلتی ہیں چنانچہ آگے آپ دیکھیں گے کہ ان دونوں میں فرق صرف اجمال و تفصیل کا ہے۔ پچھلی سورة میں جو پہلو مجمل رہ گئے تھے وہ اس میں وضاحت سے سامنے آگئے ہیں۔ یہ فرق یوں تو ہر پہلو میں نمایاں ہے لیکن خاص طور پر واقعات کے بیان میں یہ فرق بہت زیادہ نظر آئے گا۔ اجمال کے بعد تفصیل کا یہ طریقہ، جو قرآن نے اختیار کیا ہے، یہ صرف تنوع کی خاطر نہیں اختیار کیا ہے بلکہ تعلیم و تربیت اور تبلیغ وو دعوت کے نقطہ نظر سے یہی طریقہ مفید اور بابرکت ہے۔ (تدبرِقرآن)
2۔ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ و استغفار کرنے اور نیک اعمال بجالانے والوں کا بڑا قدردان ہے کسی نے جتنے بھی نیک اعمال کیے ہوں گےاللہ تعالیٰ اسے اتناہی بلند درجہ عطافرمائے گاواضح رہے کہ توبہ استغفار کرتے رہنا بجائے خود بہت بڑا نیک عمل ہے۔(تیسیر القرآن)
۔نذیر کا ترجمہ ڈرانے والے کا کیا جاتا ہے لیکن یہ لفظ ڈرانے والے دشمن یا درندے یا دوسرے نقصان پہنچانے والوں کے لئے نہیں بولا جاتا، بلکہ نذیر اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی اپنے عزیز کو شفقت و محبت کی بناء پر ایسی چیزوں سے ڈرائے اور بچائے جو اس کے لئے دنیا یا آخرت یا دونوں میں مضرت پہنچانے والی ہیں۔ (معارف القرآن)
3۔ یعنی دنیا میں تمہارے ٹھیرنے کے لیے جو وقت مقرر ہے اس وقت تک وہ تم کو بری طرح نہیں بلکہ اچھی طرح رکھے گا۔ اس کی نعمتیں تم پر برسیں گی۔ اس کی برکتوں سے سرفراز ہوگے۔ خوش حال و فارغ البال رہو گے۔ زندگی میں امن اور چین نصیب ہوگا۔ ذلت و خواری کے ساتھ نہیں بلکہ عزت و شرف کے ساتھ جیو گے۔۔۔۔۔۔۔۔ایک وہ سروسامان ہے جو خدا سے پھرے ہوئے لوگوں کو فتنے میں ڈالنے کے لیے دیا جاتا ہے اور جس سے دھوکا کھا کر ایسے لوگ اپنے آپ کو دنیا پرستی و خدا فراموشی میں اور زیادہ گم کردیتے ہیں۔ یہ بظاہر تو نعمت ہے مگر بباطن خدا کی پھٹکار اور اس کے عذاب کا پیش خیمہ ہے۔ قرآن مجید اس کو " مَتَاعٌ غُرُوْرٌ " کے الفاظ سے یاد کرتا ہے۔ دوسرا وہ سروسامان ہے جس سے انسان خوشحال اور قوی بازو ہو کر اپنے خدا کا اور زیادہ شکر گزار بنتا ہے، خدا اور اس کے بندوں کے اور خود اپنے نفس کے حقوق زیادہ اچھی طرح ادا کرتا ہے، خدا کے دیے ہوئے وسائل سے طاقت پا کر دنیا میں خیر و صلاح کی ترقی اور شروفساد کے استیصال کے لیے زیادہ کارگر کوشش کرنے لگتا ہے۔ یہ قرآن کی زبان میں "مَتَاعٌ حَسَنٌ " ہے، یعنی ایسا اچھا سامان زندگی جو محض عیش دنیا ہی پر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ نتیجہ میں عیش آخرت کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ بزرگوں نے فرمایا ہے کہ آئندہ کو گناہ سے بچنے کا پختہ عزم اور اہتمام کئے بغیر محض زبان سے استغفار کرنا کذابین یعنی جھوٹے لوگوں کی توبہ ہے (قرطبی) اور ایسے ہی استغفار کے متعلق بھی بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ "معصیت را خندہ می آیدز استغفار ما" یا یہ کہ ایسی توبہ خود قابل توبہ ہے۔ (معارف القرآن)
5۔ اِنَّهُمْ۔۔ مِنْهُ۔ رسول اللہؐ کو بھی ہر مزاج و طبیعت اور ہرذہنیت کے مخالفین سے سابقہ پڑا تھا ایک گروہ ان عقلمندوں میں ایسا بھی تھا کہ جب یہ لوگ آپس میں چپکے چپکے اسلام و رسول اسلام کے خلاف سازشیں کرتے،تو ان سرگوشیوں کے وقت افراط سعی اخفاء میں اس اس طرح سمٹ سمٹ کر رہتے کہ گویا اپنے سینوں کو دہراکئے ڈالتے ہیں اور کپڑے اپنے اوپر ڈالتے چلے جاتے ،بلکہ نام بھی اخنس بن شریق اور بعض دوسرے منافقوں کے روایتوں میں آئے۔قرآن مجید نے ان کی ہئیت کذائی کو بے نقاب کردیا،اور ان پر گرفت ہوئی کہ کیا تمہاری یہ رازداری حق تعالیٰ عالم الغیب کے مقابلہ میں بھی چل جائے گی؟۔(تفسیر ماجدی)
ــــاس آیت کا مقصد تو اللہ تعالیٰ کے علم محیط کی وسعت کو بیان کرناہے کہ کھلی اور چھپی چیزیں تو کجا وہ تو دلوں کے ارادوں تک سے واقف ہے مگر اس آیت کے ابتدائی جملہ کی تفسیر میں مفسرین نے بہت اختلاف کیا ہے ان میں سے ہم صرف سیدنا ابن عباسؓ کی بخاری میں مذکور روایت پر اعتماد کرتے ہیں جو درج ذیل ہے:۔محمد بن عبید بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباسؓ سے پوچھا کہ یہ آیت کس باب میں اتری ہے تو انہوں نے کہا: کچھ لوگ رفع حاجت کے وقت یا اپنی بیویوں سے صحبت کرتے وقت آسمان کی طرف ستر کھولنے سے (پروردگارسے)شرماتے اور شرم کے مارے جھکے جاتے تھے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔(بخاری،کتاب التفسیر)یعنی اگر تمہیں بوقت ضرورت بدن کھولنے میں اللہ سے حیا آتی ہے اور اس طرح جھکے جاتے ہوتو کیا جس وقت کپڑے اتارتے اور پہنتے ہو اس وقت تمہارا ظاہر و باطن اللہ کے سامنے نہیں ہوتا؟اور جب انسان اللہ سے کسی وقت بھی چھپ نہیں سکتا تو پھر ضرورت بشریہ سے متعلق اس قدر غلو سے کام لینا درست نہیں۔(تیسیر القرآن)
6۔ قرآن کے الفاظ ہیں مُسْتَقَرّ(قرارگاہ)اور مُسْتَوْدَع(سونپے جانے کی جگہ )اور مستودع اس گودام کو بھی کہتے ہیں جہاں کوئی چیز ذخیرہ کی جاتی ہے یا امانتیں بطور حفاظت رکھی جاتی ہیں ان دونوں الفاظ کی تعبیر میں مفسرین کا خاصا اختلاف ہے ان میں سے ہم ابن عباسؓ کے قول کو اختیار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مستقر سے مراد وہ جگہ ہے جہاں کسی نے اس دنیا میں زندگی (کا اکثر حصہ)بسر کیا ہو اور مستودع سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ دفن ہوا اور ہرجاندار کے ان دونوں مقامات کا اللہ کو پوری طرح علم ہے۔(تیسیر القرآن)
۔ مُسْتَقَرّ، اور مستودع پر انعام آیت 98 کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ مستقر، سے مراد وہ ٹھکانا ہے جہاں انسان زندگی کے دن گزارتا ہے۔ اور مستودع سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ مرنے کے بعد زمین کے سپرد کیا جاتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
7۔ آیت کے اس جزء سے ادھر بھی اشارہ ہوگیا کہ عرش الٰہی قدیم تر ہے ،زمین و آسمان کا ہم عمر نہیں ،جب زمین تھی نہ آسمان ،تب وہ عالم آب پر اسی طرح قائم تھا۔(تفسیر ماجدی)
ــــ آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پہلے تو اللہ کا عرش پانی پر تھا اور تخلیق کے بعد یہ عرش سات آسمانوں اور کرسی کے بھی اوپر ہے۔(تیسیر القرآن)
دوسرا رکوع |
| وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ ﴿9﴾ وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ ﴿10﴾ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ ﴿11﴾ فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ ﴿12﴾ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿13﴾ فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ﴿14﴾ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ ﴿15﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿16﴾ اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ ﴿17﴾ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ ﴿18﴾ الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ ﴿19﴾ اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ ﴿20﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ﴿21﴾ لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ ﴿22﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿23﴾ مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿24ع هود 11﴾ |
| 9. اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اس کو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا) ہے۔ 10. اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بےشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنے والا ہے۔ 11. ہاں جنہوں نے صبر کیا اور عمل نیک کئے۔ یہی ہیں جن کے لیے بخشش اور اجرعظیم ہے۔ 12. شاید تم کچھ چیز وحی میں سے جو تمہارے پاس آتی ہے چھوڑ دو اور اس (خیال) سے کہ تمہارا دل تنگ ہو کہ (کافر) یہ کہنے لگیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ نازل ہوا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ اے محمدﷺ! تم تو صرف نصیحت کرنے والے ہو۔ اور خدا ہر چیز کا نگہبان ہے۔ 13. یہ کیا کہتے ہیں کہ اس نے قرآن ازخود بنا لیا ہے؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور خدا کے سوا جس جس کو بلاسکتے ہو، بلا بھی لو۔ 14. اگر وہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ وہ خدا کے علم سے اُترا ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تمہیں بھی اسلام لے آنا چاہئیے۔ 15. جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوں ہم ان کے اعمال کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔ 16. یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آتش (جہنم) کے سوا کوئی چیز نہیں اور جو عمل انہوں نے دنیا میں کئے سب برباد اور جو کچھ وہ کرتے رہے، سب ضائع۔ 17. بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیل رکھتے ہوں اور ان کے ساتھ ایک (آسمانی) گواہ بھی اس کی جانب سے ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ہو جو پیشوا اور رحمت ہے (تو کیا وہ قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے) یہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو کوئی اور فرقوں میں سے اس سے منکر ہو تو اس کا ٹھکانہ آگ ہے۔ تو تم اس (قرآن) سے شک میں نہ ہونا۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ 18. اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے ایسے لوگ خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ بولا تھا۔ سن رکھو کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہے 19. جو خدا کے رستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی چاہتے ہیں اور وہ آخرت سے بھی انکار کرتے ہیں۔ 20. یہ لوگ زمین میں (کہیں بھاگ کر خدا کو) نہیں ہرا سکتے اور نہ خدا کے سوا کوئی ان کا حمایتی ہے۔ (اے پیغمبر) ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا کیونکہ یہ (شدت کفر سے تمہاری بات) نہیں سن سکتے تھے اور نہ (تم کو) دیکھ سکتے تھے۔ 21. یہی ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہا۔ 22. بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان پانے والے ہیں۔ 23. جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی۔ یہی صاحب جنت ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ 24. دونوں فرقوں (یعنی کافرومومن) کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہرا ہو اور ایک دیکھتا سنتا۔ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے؟ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟ |
تفسیر آیات
11۔ اس جگہ صبر کا لفظ مزاج کے استقلال کے معنوں میں استعمال ہواہےیعنی وہ لوگ جو نہ تو دل برداشتہ اور مایوس ہوں بلکہ اسے صبر استقلال سے برداشت کریں اور نہ ہی کسی خوشی کے موقعہ پر آپے سے باہر ہوں بلکہ اپنے آپ کو قابومیں رکھیں اور ہر حال میں اللہ کا شکر بجالائیں اور مصیبت یا خوشی کے مواقع پر ان کی طبیعت میں غیر سنجیدہ قسم کا اتار چڑھاؤ نمایاں نہ ہو بلکہ وہ ہرحال میں اپنے ذہنی توازن کو برقرار رکھتے ہیں نہ مال و دولت اور آسودگی ان کا مزاج خراب کرتی ہے اور نہ ہی تنگی ترشی کے دوران اپنی ہمت ہاربیٹھتے ہیں ایسے لوگوں کے اللہ قصور بھی معاف کرتاہے اور ان کے نیک کاموں کے عوض انہیں بہت زیادہ اجر بھی عطافرماتاہے۔(تیسیر القرآن)
13۔ قرآن جیسی سورت بنا لانے کا چیلنج:۔ واضح رہے کہ یہاں تو کفار سے دس سورتیں بناکر لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ سورۂ یونس کی آیت نمبر37، 38 میں صرف ایک سورت بنالانے کا مطالبہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سورۂ یونس ،سورۂ ہود کے بعد نازل ہوئی تھی اسی طرح سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 23 میں بھی صرف ایک ہی سورت بنالانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور یہ سورۂ ہود اور سورۂ یونس کے بعد نازل ہوئی۔ یہ دونوں سورتیں مکی ہیں جبکہ سورۂ بقرہ مدنی سورتوں میں سے پہلی سورت ہے اور قرآن جیسی سورت بنالانے کے چیلنج اور قرآن کی امتیاز کی خصوصیات کی تفصیل کیلئے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 23 پر حاشیہ نمبر 27 ملاحظہ فرمائیں۔(تیسیر القرآن)
17۔ دونوں شہادتوں کے بعد ایمان نہ لانے والے:۔ یہاں واضح دلیل سے مراد داعیہ فطرت یا عہد الست ہے جو ہر انسان کے تحت الشعور میں موجود ہے(تفصیل کیلئے دیکھئے الاعراف کی آیت نمبر172، 173)اب اگر اس آیت میں شخص سے مراد رسول اللہؐ کی ذات لی جائے تو شاہد سے مراد جبرائیل ؑ ہیں اور اگر شخص سے مراد عام آدمی لیا جائے تو شاہد سے مراد رسول اللہ ؐ ہیں۔یعنی یہ داعیہ فطرت ہر انسان کے تحت الشعور میں پہلے سے ہی موجود ہے کہ اس کائنات کا اور خود ہمارابھی خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہوسکتا پھر اس داعیہ کی تائید میں خارج سے دوقوی شاہد بھی مل جائیں جن میں سے ایک تو رسول اللہؐ اور قرآن ہے اور دوسرے تورات جو آپ سے مدتوں پہلے نازل ہوئی تھی تو کیا ایسے شخص کے ایمان لانے میں کوئی چیزآڑے آسکتی ہے۔اسے فوراً اس داعیہ فطرت پر لبیک کہتے ہوئے ایمان لے آنا چاہیے اور جو پھربھی ایمان نہیں لاتااس کا علاج دوزخ کے سوا اور کیا ہوسکتاہے خواہ وہ شخص کسی بھی مذہب اور فرقہ سے تعلق رکھتاہو؟ (تیسیر القرآن)
19۔ یعنی وہ اس سیدھی راہ کو جو ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہے پسند نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ یہ راہ کچھ ان کی خواہشات نفس اور ان کے جاہلانہ تعصبات اور ان کے اوہام و تخیلات کے مطابق ٹیڑھی ہوجائے تو وہ اسے قبول کریں۔ (تفہیم القرآن)
21۔یعنی وہ سب نظریات پا در ہوا ہوگئے جو انہوں نے خدا اور کائنات اور اپنی ہستی کے متعلق گھڑ رکھے تھے، اور وہ سب بھروسے بھی جھوٹے ثابت ہوئے جو انہوں نے اپنے معبودوں اور سفارشیوں اور سرپرستوں پر رکھے تھے، اور وہ قیاسات بھی غلط نکلے جو انہوں نے زندگی بعد موت کے بارے میں قائم کیے تھے۔ (تفہیم القرآن)
22۔ لَا جَرَمَ۔ کا مفہوم عربی میں وہی ہے جو جو اردو میں لامحالہ یا "ناگزیر ہے"سے ظاہر کیا جاتاہے ۔(تفسیر ماجدی)
تیسرا رکوع |
| وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ ﴿25﴾ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ ﴿26﴾ فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ ﴿27﴾ قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ ﴿28﴾ وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ ﴿29﴾ وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ﴿30﴾ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ﴿31﴾ قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ﴿32﴾ قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ﴿33﴾ وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ ﴿34﴾ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿35ع هود 11﴾ |
| 25. اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (تو انہوں نے ان سے کہا) کہ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے اور پیغام پہنچانے آیا ہوں۔ 26. کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے۔ 27. تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ ہم تم کو اپنے ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں۔ اور وہ بھی رائے ظاہر سے (نہ غوروتعمق سے) اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ 28. انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل (روشن) رکھتا ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت بخشی ہو جس کی حقیقت تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ تو کیا ہم اس کے لیے تمہیں مجبور کرسکتے ہیں اور تم ہو کہ اس سے ناخوش ہو رہے ہو۔ 29. اور اے قوم! میں اس (نصیحت) کے بدلے تم سے مال وزر کا خواہاں نہیں ہوں، میرا صلہ تو خدا کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، میں ان کو نکالنے والا بھی نہیں ہوں۔ وہ تو اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو۔ 30. اور برادران ملت! اگر میں ان کو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لیے) کون میری مدد کرسکتا ہے۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے؟ 31. میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ان لوگوں کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ خدا ان کو بھلائی (یعنی اعمال کی جزائے نیک) نہیں دے گا جو ان کے دلوں میں ہے اسے خدا خوب جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو بےانصافوں میں ہوں۔ 32. انہوں نے کہا کہ نوح تم نے ہم سے جھگڑا تو کیا اور جھگڑا بھی بہت کیا۔ لیکن اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو وہ ہم پر لا نازل کرو۔ 33. نوح نے کہا کہ اس کو خدا ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔ اور تم (اُس کو کسی طرح) ہرا نہیں سکتے۔ 34. اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیرخواہی کروں اور خدا یہ چاہے وہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیرخواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے اور تمہیں اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ 35. کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں۔ |
تفسیر آیات
25۔ ۔۔وہ آنے والے خطرے کا اس طرح اعلان کرتا ہے گویا اپنی دونوں آنکھوں سے اس کو دیکھ رہا ہے۔ یہاں لفظ مبین میں ایک لطیف تلمیح بھی ہے اس کو بھی نگاہ میں رکھیے۔ عرب میں دستور رہا ہے کہ ہر قوم کے لوگ کسی بلند ٹیلہ یا پہاڑی پر دیدبان بناتے جہاں ہر وقت ایک نگران مقرر رہتا جس کا کام یہ ہوتا کہ جب وہ دیکھتا کہ کسی طرف سے حملہ آوروں کی کوئی جماعت اس کی قوم پر حملہ کیا چاہتی ہے تو وہ اپنے کپڑے پھاڑ کر ننگا ہوجاتا اور واصباحا کا نعرہ لگاتا۔ یہ پوری قوم کے لیے الارم ہوتا اور سب تلواریں سونت سونت کر مدافعت کے لیے باہر نکل آتے۔ اس کو " نذیر عریاں " کہتے تھے۔ خدا کے رسول بھی اپنی قوم کو آنے والے عذاب سے آگاہ کرنے کے لیے آئے اور انہوں نے بالکل اس طرح لوگوں کو اس سے آگاہ کیا گویا وہ عقب سے نمودار ہی ہونے والا ہے اس وجہ سے قرآن میں ان کے لیے نذیر مبین کے الفاظ استعمال ہوئے۔ (تدبرِ قرآن)
26۔قوم نوحؑ اپنے پانچ فوت شدہ بزرگوں کے مجسموں کی پجاری تھی یعنی وہ ود،سواع،یغوث،یعوق اور نسرکے مجسموں کو پوجتے تھے۔اس کی تفصیل پہلے سورۂ اعراف میں گذرچکی ہے اور سورۂ نوح میں بھی یہ ذکر آئےگا۔(تیسیر القرآن)
۔ حضرت نوح کی دعوت : اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ ۭ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ۔ یہ حضرت نوح ؑ کی دعوت کا نقطہ آغاز ہے۔ پیچھے مڑ کر اس سورة کی آیت 3 پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ بعینہ اسی نقطہ سے نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی دعوت کا آغاز فرمایا پھر مزید آگے بڑھیے تو معلوم ہوگا کہ جس قسم کا معارضہ قوم نوح نے حضرت نوح ؑ کے ساتھ کیا اسی قسم کا معارضہ نبی ﷺ کی قوم نے آپ کے ساتھ کیا۔ حالات واقعات کی یہ مطابقت ہی ہے جس کو دکھانے کے لیے یہ سرگزشتیں سنائی جا رہی ہیں کہ نبی اور اس کی قوم دونوں کے سامنے ماضی کے آئینے میں حاضر اور مستقبل کا پورا نقشہ آجائے۔ تاریخ کی جو قدروقیمت ہے وہ اسی پہلو سے ہے۔ اگر یہ پہلو نگاہوں سے اوجھل ہوجائے تو تاریخ کی حیثیت مجرد داستان سرائی کی رہ جاتی ہے۔ (تدبرِ قرآن)
27۔ ۔لفظ " مَلَاُ " کی تحقیق ہم دوسرے مقام میں بیان کرچکے ہیں کہ اس سے مراد کسی قوم کے لیڈر، سرپنچ، زعماء اور اکابر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ قومِ نوح کے ان لیڈروں نے حضرت نوح کی دعوت کے جواب میں بیک وقت تین معارضے پیش کیے۔ایک یہ کہ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا، یعنی تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو۔ دوسرا یہ کہ وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ یعنی تمہارے پیرو ہمارے اندر کے صرف وہ لوگ بنے ہیں جو رذالے اور ادنیٰ درجہ کے لوگ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ تیسرا یہ کہ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ یعنی اگر تم خدا کے ایسے ہی چہیتے ہو کہ اس نے تم کو رسول بنا کر بھیجا تو چاہیے تو یہ تھا کہ تم پر اور تمہارے ساتھیوں پر ہُن برستا، تم خزانوں کے مالک ہوتے اور خدم و حشم تمہارے ہم رکاب چلتے۔۔۔(تدبرِ قرآن)
۔ ۔۔خلاصہ یہ ہے کہ غرباء و فقراء کو رذیل سمجھنا ان کی جہالت تھی، حقیقت میں رذیل تو وہ ہے جو اپنے پیدا کرنے والے اور پالنے والے مالک کو نہ پہچانے، اس کے احکام سے روگردانی کرے اسی لئے سفیان ثوری ؒ سے کسی نے پوچھا کہ کمینہ اور رذیل کون ہے ؟ تو فرمایا وہ لوگ جو بادشاہوں اور افسروں کی خوشامد میں لگے رہیں، اور ابن الاعرابی نے فرمایا وہ شخص جو اپنا دین برباد کرکے کسی دوسرے کی دنیا سنوارے، امام مالک ؒ نے فرمایا کہ کمینہ وہ شخص ہے جو صحابہ کرام کو برا کہے کیونکہ وہ پوری امت کے سب سے بڑے محسن ہیں جن کے ذریعہ دولت ایمان و شریعت ان کو پہنچی ہے۔ (معارف القرآن)
28۔مطلب یہ کہ تم نے اپنی ناشکریوں اور بداعمالیوں سے اپنی فطرت کے نور کو گل کردیا ہے جس کے باعث تمہارے اندر قبول ہدایت کی صلاحیت سرے سے باقی ہی نہیں رہ گئی ہے۔اس صورت میں میں تم پر اس ہدایت کو کس طرح چپکا دوں جو مجھے اپنے رب کی طرف سے عطاہوئی ہے اور جو اس کی رحمت کا خاص مظہر ہے؟(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ اب اس آیت میں اور آگے کی آیت میں مذکورہ بالا معارضات میں سے ایک ایک کا جواب آرہا ہے۔ حضرت نوح نے پہلی بات تو یہ فرمائی کہ میں جو کچھ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اس کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک تو اس نور فطرت (بینہ) پر جو میرے اندر پہلے سے موجود تھا اور دوسرے اس وحی الٰہی (رحمت) پر جس سے میرے رب نے مجھے نوازا۔۔۔ (تدبرِ قرآن)
30۔ یعنی اگر میں تمہاری نازبرداری میں اللہ پر ایمان لانےوالے ان غریبوں کو دھتکاروں تو کل کو خدا کی پکڑ سے مجھے کون بچانے والاہوگا؟۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
33۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ ایسا ہی کہنا اہل حق کی شان ہے ورنہ اہل باطل کی زبان پر توبڑے بڑے دعوے رہتے ہیں کہ جومیرا مخالف ہے اس کا حال یہ کردوں گا اور وہ کردوں گا۔(تفسیر ماجدی)
35۔ انداز کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی زبان سے حضرت نوح ؑ کا یہ قصہ سنتے ہوئے مخالفین نے اعتراض کیا ہوگا کہ محمد ﷺ یہ قصے بنا بنا کر اس لیے پیش کرتا ہے کہ انہیں ہم پر چسپاں کرے۔ جو چوٹیں وہ ہم پر براہ راست نہیں کرنا چاہتا ان کے لیے ایک قصہ گھڑتا ہے اور اس طرح ”در حدیث دیگراں“ کے انداز میں ہم پر چوٹ کرتا ہے۔ لہٰذا سلسلہ کلام توڑ کر ان کے اعتراض کا جواب اس فقرے میں دیا گیا۔ (تفہیم القرآن)
چوتھا رکوع |
| وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚ ۖ ﴿36﴾ وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ ﴿37﴾ وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ ﴿38﴾ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ ﴿39﴾ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ ﴿40﴾ وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿41﴾ وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ ﴿42﴾ قَالَ ]سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ ﴿43﴾ وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ﴿44﴾ وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ ﴿45﴾ قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ ﴿46﴾ قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴿47﴾ قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿48﴾ تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿49ع هود 11﴾ |
| 36. اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان (لاچکے)، ان کے سوا کوئی اور ایمان نہیں لائے گا تو جو کام یہ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے غم نہ کھاؤ۔ 37. اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیئے جائیں گے۔ 38. تو نوح نے کشتی بنانی شروع کردی۔ اور جب ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان سے تمسخر کرتے۔ وہ کہتے کہ اگر تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو جس طرح تم ہم سے تمسخر کرتے ہو اس طرح (ایک وقت) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے۔ 39. اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ 40. یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور جوش مارنے لگا تو ہم نے نوح کو حکم دیا کہ ہر قسم (کے جانداروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی) دو (دو جانور۔ ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) لے لو اور جس شخص کی نسبت حکم ہوچکا ہے (کہ ہلاک ہوجائے گا) اس کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کو جو ایمان لایا ہو اس کو کشتی میں سوار کر لو اور ان کے ساتھ ایمان بہت ہی کم لوگ لائے تھے۔ 41. (نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لے کر (کہ اسی کے ہاتھ میں اس کا) چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔ 42. اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو۔ 43. اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا، وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج خدا کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر جس پر خدا رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آحائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا۔ 44. اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔ تو پانی خشک ہوگیا اور کام تمام کردیا گیا اور کشتی کوہ جودی پر جا ٹھہری۔ اور کہہ دیا گیا کہ بےانصاف لوگوں پر لعنت۔ 45. اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے۔ 46. خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو۔ 47. نوح نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں۔ اور اگر تو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہوجاؤں گا۔ 48. حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہوں گی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر ان کو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا۔ 49. یہ (حالات) منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں۔ اور اس سے پہلے نہ تم ہی ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم (ہی ان سے واقف تھی) تو صبر کرو کہ انجام پرہیزگاروں ہی کا (بھلا) ہے۔ |
تفسیر آیات
37۔ الْفُلْك۔ مسیحی علماء کی تحقیق کے مطابق یہ کشتی طول میں 535 فٹ،عرض میں 87 و نصف فٹ اور بلندی میں 52و نصف فٹ ۔۔۔توریت میں ہے:۔"تو اپنے واسطے گوپھر کی لکڑی کی ایک کشتی بنا،اس کشتی میں کوٹھریاں تیار کر اور اس کے باہر اور بھیتررال لگا اور اس کو ایسی بنا کہ اس کی لمبائی تین سو ہاتھ اور اس کی چوڑائی پچاس ہاتھ اور اس کی اونچائی تیس ہاتھ کی ہو اور اس کشتی میں ایک روشندان بنا ۔اوپر سے لے کر ہاتھ بھر میں اسے تمام کر اور کشتی کے ایک طرف دروازہ بنا اور نیچے کا طبقہ اور دوسرا اور تیسرا بھی بنا۔" (پیدائش۔6: 14- 16)(تفسیر ماجدی)
۔ تورات کی تصریح کے مطابق اس کشتی کی لمبائی تین سو ہاتھ ،چوڑائی پچاس ہاتھ اور اونچائی تیس ہاتھ تھی اور اس کے تین درجے یا منزلیں تھیں اور اس میں روشن دان اور دروازے اور کھڑکیاں اور کوٹھڑیاں تھیں اور اندر و باہر رال لگادی گئی تھی۔ گویا یہ موجودہ دور کے لحاظ سے بھی ایک درمیانے درجے کا بحری جہاز تھا جسے بنی نوع انسان کی تاریخ میں سیدنا نوحؑ نے غالباً پہلی بار بنایا تھا اور اس کے بنانے کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے خود بذریعہ وحی سکھلایاتھا۔(تیسیر القرآن)
38۔اس کا یہ مطلب لازمی طور پر نہیں کہ خود اپنے ہاتھ سے بنانے لگے ،اپنی نگرانی میں کاریگروں سے بنوانا بھی اپنے ہی بنانے کے حکم میں داخل ہے ۔خیر وہ کشتی یا جہاز اپنے ہاتھ سے بنا ہویا اپنی نگرانی میں دوسروں سے بنوایا ہو بہرحال اس کی دلیل صریح ہے کہ حضرت نوحؑ انجینرنگ کے اس شعبہ یعنی فن جہاز سازی سے خوب واقف تھے اور یہ صاف نظر آتا ہے کہ کوئی بڑی سے بڑی بھی صناعی یا صنعت کاری مرتبہ نبوت کے منافی نہیں اور مرتبہ ولایت کے غیر منافی ہونا تو اور بھی ظاہر ہے۔۔۔۔(کہ یہ کیسے خبطی ہیں پانی کا نام نہ نشا ن اور یہ خواہ مخواہ اپنے کو اس زحمت میں ڈالے ہوئے ہیں)اور کوئی کوئی اس طرح کے فقرہ بھی کہہ گزرتا کہ واہ نبوت کرتے کرتے نجّاری بھی کرنے لگے۔یقولون لہ صرت نجارا بعدماکنت نبیاً(بیضاوی)۔۔۔۔رہایہ شبہ کہ تمسخرپیغمبری کی شان سے فروتر ہے اور تمسخر بالکل ہی سطحی ہے جواب و مقابلہ کے موقع پر اس قسم کے الفاظ کا استعمال محاورۂ قرآنی میں عام ہے۔۔۔مرشدتھانویؒ نے فرمایا کہ انتقام کے موقع پر جواب بالمثل سےکام لینا مکارم اخلاق کے منافی نہیں ۔(تفسیر ماجدی)
40۔ تَنُّوْرُ۔ اہل لغت نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ لفظ اصلاً عربی نہیں بلکہ فارسی سے معرب ہوکر آیا ہے۔۔۔تاج العروس میں ہے کہ دیباج ۔دینار ۔سندس ۔ استبرق وغیرہ کی طرح اس باہر سے آئے ہوئے لفظ کو بھی عرب اپنا چکے ہیں۔۔۔تنورکے دوسرے معنی وہی ہیں جو اردو میں متداول ہیں، یعنی وہ تندور جس میں روٹیاں لگائی جاتی ہیں اور بہت سے مفسرین نے یہی معنی لئے ہیں۔۔۔اور یہ معنی لے کر بعض لوگوں نے مخصوص و متعین تنور مراد لیاہے ،اور بعض نے جنس تنور ،یعنی وہاں کے جتنے تنور تھے سب سے پانی ابلنا شروع ہوگیا۔۔۔یہ صراحت کہ اس چھوٹے جہاز میں پاک و ناپاک پرندے اور چارپائے اور حشرات الارض ہرقسم کے جانور آگئے تھے،صرف بائبل میں ملتی ہے،وہاں وعدۂ الٰہی بھی یہی ملتا ہے کہ سب وہ جاندار موجودات کو جنہیں میں نے بنایا زمین پر سے مٹا ڈالوں گا۔"(پیدائش7: 4)اور عمل بھی اسی وعید کے مطابق ہوا چنانچہ "سب جاندار جو زمین پر چلتے تھے،چرندے اور پرندے اور جنگلی جانور ،اور کیڑے مکوڑے جو زمین پر رینگتے تھے،اور سب انسان مرگئے،سب جن کے نتھنوں میں زندگی کا دم تھا ان میں سے جو خشکی پر رہتے تھے مرگئے ،بلکہ سب موجودات جوروئے زمین پر جان رکھتی تھیں مٹ گئیں ،انسان سے لے کر حیوان تک اور کیڑے مکوڑوں اور آسمان کے پرندوں تک وہ سب زمین سے مٹ گئیں"۔(پیدائش7: 21- 23)۔۔۔ وَ مَا اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ۔ابن عباسؓ کی روایت میں تعداد 80 کی آتی ہے(قرطبی)(تفسیر ماجدی)
۔ اس سے ان مؤرخین اور علماء انساب کے نظریہ کی تردید ہوتی ہے جو تمام انسانی نسلوں کا شجرہ نسب حضرت نوح ؑ کے تین بیٹوں تک پہنچاتے ہیں۔ دراصل اسرائیلی روایات نے یہ غلط فہمی پھیلا دی ہے کہ اس طوفان سے حضرت نوح ؑ اور ان کے تین بیٹوں اور ان کی بیویوں کے سوا کوئی نہ بچا تھا (ملاحظہ ہو بائیبل کی کتاب پیدائش 6:1 و 7:7 و 1:9 و 19:9)لیکن قرآن متعدد مقامات پر اس کی تصریح کرتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کے خاندان کے سوا ان کی قوم کی ایک معتدبہ تعداد کو بھی اگرچہ وہ تھوڑی تھی، اللہ نے طوفان سے بچا لیا تھا۔ نیز قرآن بعد کی نسلوں کو صرف نوح ؑ کی اولاد نہیں بلکہ ان سب لوگوں کو اولاد قرار دیتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کشتی میں بٹھایا تھا، ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ (بنی اسرائیل آیت 3) اور مِنْ ذُرِّ یَّۃِ اٰدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ (مریم، آیت 58)۔ (تفہیم القرآن)
۔ مَجْرٖؔىهَا۔عربی تلفظ میں ی کی آواز صرف یاء معروف کی ہے چناچہ قرآن مجید کے قاری بھی ہرجگہ اسی قاعدہ کا لحاظ رکھتے ہیں،لیکن اس خاص موقع پر مجری کی ی کی آواز یائے مجہول کی نکلے گی اور اسے بجائے "مجریٰ"کے"مجرے"ہی بڑھاجائے گا۔(تفسیر ماجدی)
۔اس سے معلوم ہوا کہ کشتی نوح میں ساری دنیا بھر کے جانور جمع نہیں کئے گئے تھے بلکہ صرف وہ جانور جو نر و مادہ کے جوڑے سے پیدا ہوتے ہیں اور پانی میں زندہ نہیں رہ سکتے، اس لئے تمام دریائی جانور اس سے نکل گئے اور خشکی کے جانوروں میں بھی بغیر نر و مادہ کے پیدا ہونے والے حشرات الارض سب نکل گئے صرف پالتو جانور گائے، بیل بھینس، بکری وغیرہ رہ گئے۔۔۔۔۔ اس سے وہ شبہ دور ہوگیا جو سطحی نظر میں پیدا ہوسکتا ہے کہ کشتی میں اتنی وسعت کیسے ہوگئی کہ دنیا بھر کے جانور سما گئے۔ (معارف القرآن)
42۔ آخر یہ بھی تو ممکن تھا کہ یہ منظر ان کو نہ دکھایا جاتا، جس طرح دوسرے بہت سارے کفار ان کی نگاہوں سے اوجھل رہ کر ڈوبے اسی طرح یہ بھی نگاہوں سے دور کہیں کسی موج کا لقمہ بن جاتا۔ لیکن نہیں، اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ حضرت نوح بیٹے کے ڈوبنے کا عبرت انگیز تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ یہ حضرت نوح ؑ کی وفاداری کا آخری امتحان تھا۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرات انبیاء کیسے کیسے امتحانوں سے گزارے جاتے ہیں لیکن اللہ کی توفیق سے وہ ہر امتحان میں ثابت قدم رہتے ہیں۔ نیز اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ خدا کا قانون جب اتنا بےلاگ ہے نوح کا بیٹا بھی نافرمان ہو تو وہ اس کی گردن بھی عین باپ کے سامنے دبا دیتا ہے تو تابہ دیگراں چہ رسد۔ (تدبرقرآن)
44۔ الْجُوْدِیِّ کوہستان اراراط کی ایک چوٹی کا نام ہے۔اس سے طوفان کی ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتاہے کہ چند دنوں میں پانی کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا۔ (تدبرقرآن)
۔ یہ طوفان جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے، عالمگیر طوفان تھا یا اس خاص علاقے میں آیا تھا جہاں حضرت نوح ؑ کی قوم آباد تھی ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا فیصلہ آج تک نہیں ہوا۔ اسرائیلی روایات کی بنا پر عام خیال یہی ہے کہ یہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا تھا (پیدائش 7: 18-24) مگر قرآن میں یہ بات کہیں نہیں کہی گئی ہے۔ قرآن کے اشارات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ بعد کی انسانی نسلیں انہی لوگوں کی اولاد سے ہیں جو طوفان نوح سے بچالیے گئے تھے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا ہو، کیونکہ یہ بات اس طرح بھی صحیح ہوسکتی ہے کہ اس وقت بنی آدم کی آبادی اسی خطہ تک محدود رہی ہو جہاں طوفان آیا تھا، اور طوفان کے بعد جو نسلیں پیدا ہوئی ہوں وہ بتدریج تمام دنیا میں پھیل گئی ہوں۔ اس نظریہ کی تائید دو چیزوں سے ہوتی ہے ایک یہ کہ دجلہ وفرات کی سرزمین میں تو ایک زبردست طوفان کا ثبوت تاریخی روایات سے آثار قدیمہ سے اور طبقات الارض سے ملتا ہے۔ لیکن روئے زمین کے تمام خطوں میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا جس سے کسی عالمگیر طوفان کا یقین کیا جاسکے۔ دوسرے یہ کہ روئے زمین کی اکثر وبیشتر قوموں میں ایک طوفان عظیم کی روایات قدیم زمانے سے مشہور ہیں، حتیٰ کہ آسٹریلیا، امریکہ اور نیوگنی جیسے دور دراز علاقوں کی پرانی روایات میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ کسی وقت ان سب قوموں کے آباؤ و اجداد ایک ہی خطہ میں آباد ہوں گے جہاں یہ طوفان آیا تھا۔ اور پھر جب ان کی نسلیں زمین کے مختلف حصوں میں پھیلیں تو یہ روایات ان کے ساتھ گئیں۔ (ملاحظہ ہو سورة اعراف 47) (تفہیم القرآن)
ـــــ ایک دفعہ عرب کے فصحا و بلغانے قرآن کی مثل پیش کرنے کا عزم کر لیا۔ چالیس روز تک شراب و کباب سے اپنی فصاحت و بلاغت کی قوتوں کو تیز بلکہ برافروختہ کرتے رہے۔ اچانک یہ آیت ان کے کان میں پڑی تو ہتھیار ڈال دیے اور کہنے لگے ھذا الکلام لا یشبہ کلام المخلوقین۔ ابن مقفع ایک ملحد جو عہد عبا سی کا نامور عالم و ادیب تھا اس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کے زمانہ میں فصاحت و بلاغت میں کوئی اس کا ہم پلہ نہ تھا۔ اس نے بڑی دماغ سوزی، دیدہ ریزی اور جگر کاری سےایک سورۃ بنائی تاکہ اسے قرآن کے مقابلہ میں پیش کرے۔ ایک روز اس کا گزر ایک مکتب کے پاس سے ہوا جہاں بچے قرآن حفظ کر رہے تھے۔ کوئی بچہ یہ آیت پڑھ رہا تھا، اسے سن کر دم بخود ہو گیا۔ الٹے پاؤں واپس گھر پہنچا اور اپنی تحریر کو دھو ڈالا اور کہا کہ اس کلام کا مقابلہ ممکن نہیں۔(روح المعانی)۔(ضیاء القرآن)
ـــــ قِيلَ۔یہ ارشاد اس وقت ہو جب طوفان اپنا کام کرچکا اور منکروں کو ڈبو چکا تھا۔ تو ریت میں اس طوفان کی مدت ایک جگہ چالیس دن درج ہے ،اور ایک جگہ 5 مہینہ چالیس دن طوفان کی باڑھ زمین پر رہی"(پیدائش7: 17)اور" پانی کی باڑھ ڈیڑھ سو دن تک زمین پر رہی"۔(پیدائش7: 24)۔۔۔۔اس آیت کی معجزانہ فصاحت و بلاغت کی دادمنکرین اسلام نے بھی دی ہے ،ابن مقفع نامی ایک ملحد طبع شخص گذراہے،اس نے بہ زعم خود قرآن کا جواب لکھنا شروع کیا تھا جیسے ایک دوسرے کے جواب میں شاعر اپنا کلام پیش کرتے ہیں،جب اس آیت پر پہنچا ،تو قلم جواب سے رُک گیا ،عاجز ہوکر بولا کہ اس کلام کا جواب بشر کی طاقت سے باہر ہے۔(بحر) (تفسیر ماجدی)
۔ سیلاب کے اترنے کے متعلق تورات میں ہے:سمندر کے سوتے اور آسمان کے دریچے بند کیے گئے اور آسمان سے جو بارش ہو رہی تھی تھم گئی اور پانی زمین پر سے گھٹتے گھٹتے ایک سو پچاس دن کے بعد کم ہوا اور ساتویں مہینے کی سترہویں تاریخ کو کشتی اراراط کے پہاڑوں پر ٹک گئی اور پانی دسویں مہینے تک برابر گھٹتا رہا اور دسویں مہینے کی پہلی تاریخ کو پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آئیں ۔(پیدائش باب 8، آیت 2 تا 5) (ضیاء القرآن)
45۔ یہ دعا حضرت نوح نے اس وقت فرمائی ہے جب بیٹے کو ڈوبتے دیکھا اس وجہ سے بظاہر اس کا حوالہ آیت 43 کے ساتھ آنا تھا لیکن بلاغت کلام کے اقتضا سے اس کا ذکر مؤخر ہوگیا۔ گویا خدا کی نگاہوں میں یہ شخص، حضرت نوح کا بیٹا ہونے کے باوجود ایسا نابکار تھا کہ جب تک خدا نے اس کو غرق نہیں کرلیا۔ اس کے باب میں حضرت نوح کی دعا کو زیر بحث لانا بھی پسند نہیں فرمایا۔ اس غضب کی وجہ ظاہر کہ اس دنیا میں اگر کسی انسان کو سب سے بڑی سعادت اور خوش بختی حاصل ہوسکتی ہے تو وہ یہی ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالی اس کو کسی پیغمبر کے گھر میں جنم دے لیکن یہی خوش بختی سب سے بڑی بد بختی بھی ہو سکتی ہے اگر وہ اس کی قدر نہ کرے اور ولی کے گھر میں شیطان بن کر اٹھے۔ چنانچہ کلام کی ترتیب ہی سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ اس شخص کو خدا نے سب سے زیادہ مبغوض قرار دیا۔ گویا سارے طوفان کا اصلی ہدف تھا ہی یہی کہ جب یہ ڈوب گیا تو معاً طوفان کے خاتمہ کا اعلان ہوگیا۔(تدبرقرآن)
ـــــ ص 365 (جلد دوم)پر۔۔۔۔۔اگر کوئی نعمتِ ایمان سے محروم ہے تو اس کو کسی بزرگ کا بیٹا ہونا کوئی فائدہ نہ دے گا خواہ وہ باپ نوحؑ جیسا عظیم المرتبت نبی ہو۔۔۔۔اس غلط نظریہ نے ان شریف خاندانوں کو جتنا نقصان پہنچایا ہے شاید ہی کسی اور حادثہ نے پہنچایا ہو۔(ضیاء القرآن)
46۔ (ہمارے علم ازلی میں)اہل سے مراد وہی اہل ایمان گھر والے ہیں جن کیلئے نجات کا وعدہ ہوچکا تھا۔اور یہیں سے علماء محققین نے یہ نکالا ہے کہ شریعت میں معتبر قرابتِ ایمانی ہے نہ کہ قرابتِ نسبی۔۔۔(اور آئندہ پھر کبھی ایسی ہی درخواست پیش کرنے لگو۔)منشائے خداوندی یہ معلوم ہوتاہے کہ اے نوحؑ ہماراوعدۂ نجات جو تمہارے گھروالوں کیلئے تھا،وہ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ کے ساتھ مقید تھااور اس کے مصداق کو عمداً مبہم و غیر متعین رکھا گیا تھا،سوتمہارایہ فرزند اسی استثناء کے تحت میں آجاتاہے ایسے مشتبہ اشخاص کے حق میں دعاکرنے سے احتیاط مناسب تھی ۔(تفسیر ماجدی)
46۔ نبی کا گھرانہ ایمان و عملِ صالح سے بنتاہے۔(تدبر قرآن)
ـــــ آج کل جو وطنی،لسانی یا لونی بنیادوں پر قومیت کی تعمیر کی جاتی ہے، عرب برادری ایک قوم، ہندی، سندھی دوسری قوم قرار دی جاتی ہے۔یہ قرآن و سنت کے خلاف اور رسولِ کریمؐ کے اصولِ سیاست سے بغاوت کے مترادف ہے۔
؎ یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟ (علامہ اقبال)
48۔ اهْبِطْ۔ جہاز سے کوہ جودی پر اترنے کا حکم تو اوپر مل چکا تھا اب حکم ہورہاہے کہ پہاڑ سے زمین پر اترو۔(روح )۔۔۔آیت میں مِنَّا کا اضافہ حضرت نوحؑ کے مرتبہ عرفان و صدیقیت کے لحاظ سے ہے۔ اُمَم۔تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہےواُمَمٌ مِنھُم اور مفسرین محققین نے لکھا ہے کہ آیت کے دونوں مکررات میں ایک طرف مؤمنین قیامت تک کیلئےاور دوسری طرف کفار قیامت تک کیلئے شامل ہوگئے ایک کیلئے سلامتی کا وعدہ اور دوسرے کیلئے عذاب کی وعید۔(تفسیر ماجدی)
49۔ فخر المفسرین امام رازی ؒ نے آیت کے تحت میں اپنی سیاحت ہند کا ذکر کیاہے، اور اپنا مشاہدہ درج کیاہے کہ وجود باری کے منکر مشرکین ہند بھی نہ تھے،صرف اس کی توحید کے منکر تھے اور بت پرستی میں مبتلا۔۔۔یہی بیماری پہلے بھی تھی ،اوریہی آج بھی ہے، کاش کوئی صاحب ذرا تلاش کرکے اس کا پتہ لگاتے کہ امام موصوف ہندوستان میں کب آئے تھے، اور کہاں کہاں کی سیاحت کی تھی کس کس کی عملداری دیکھی ۔کل کتنے دن رہے تھے ۔وقس علیٰ ہذا۔یہ خدمت دین کی نہیں تو ایک بڑے خادم دین کی ضرور ہوجاتی۔امام کی وفات 606ہجری میں ہوئی تھی اور ہندوستان غوریوں کے قبضہ میں 558ہجری میں آیا ہے،امام نے اگر سیاحت ہند اپنی عمر کے اخیر حصوں میں کیا ہے۔یہاں غوریوں ہی کی حکومت ہوگی۔(تفسیر ماجدی)
ــــکیا نوحؑ کے آدمؑ ثانی ہونے کا نظریہ درست ہے؟:۔ اور دوسری قابل تحقیق بات یہ ہے کہ طوفان نوح کے بعد نسل انسانی صرف نوحؑ کی اولاد سے ہی پھیلی تھی یا یہ ان تمام لوگوں کی اولاد سے ہے جو کشتی میں سوار تھے؟عام مورخین کا خیال ہے کہ اس طوفان کے بعد صرف نوحؑ کے تین بیٹوں حام،سام،یافث سے ہی پھیلی ہے اور اس خیال کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے بھی ہوجاتی ہے۔"وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ"(37، 77)اور ہم نے دنیا میں نوح کی اولاد کو ہی باقی رکھا ) اسی لحاظ سے نوح ؑ کو آدم ثانی بھی کہا جاتاہے۔لیکن قرآن کریم کی ہی دوآیات ایسی ہیں جن سے پتہ چلتاہےہے کہ طوفان نوح کے بعد نسل انسانی ان تمام لوگوں کی اولاد سے چلی جو اس کشتی میں سوار تھے مثلاً(1)"ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ"(17: 3)تم ان لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ سوار کرلیا تھا۔اور(2)"مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَۗ-وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ"(19: 58)آدم کی اولاد سے اور ان لوگوں کی اولاد سے جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ سوار کرلیا تھا۔اس دوسری آیت سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ طوفان نوح پوری دنیا پر نہیں آیاتھا۔واللہ اعلم بالصواب۔زیادہ قرین قیاس بات یہی ہے کہ اس طوفان کے بعد نسل انسانی ان تمام لوگوں سے چلی جو کشتی میں سوار تھے۔(تیسیر القرآن)
پانچواں رکوع |
| وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ ﴿50﴾ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ﴿51﴾ وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ ﴿52﴾ قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ ﴿53﴾ اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ ﴿54﴾ مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ ﴿55﴾ اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﴿56﴾ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ ﴿57﴾ وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ ﴿58﴾ وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ﴿59﴾ وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ ۧ ۧ ﴿60ع هود 11﴾ |
| 50. اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (کو بھیجا) انہوں نے کہا کہ میری قوم! خدا ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تم (شرک کرکے خدا پر) محض بہتان باندھتے ہو۔ 51. میری قوم! میں اس (وعظ و نصیحت) کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو اس کے ذمّے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ بھلا تم سمجھتے کیوں نہیں؟ 52. اور اے قوم! اپنے پروردگار سے بخشش مانگو پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار مینہ برسائے گا اور تمہاری طاقت پر طاقت بڑھائے گا اور (دیکھو) گنہگار بن کر روگردانی نہ کرو۔ 53. وہ بولے ہود تم ہمارے پاس کوئی دلیل ظاہر نہیں لائے اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ہیں۔ 54. ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا کر (دیوانہ کرْ) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔ 55. (یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل کر میرے بارے میں جو تدبیر (کرنی چاہو) کرلو اور مجھے مہلت نہ دو۔ 56. میں خدا پر جو میرا اور تمہارا (سب کا) پروردگار ہے، بھروسہ رکھتا ہوں۔ (زمین پر) جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ بےشک میرا پروردگار سیدھے رستے پر ہے۔ 57. اگر تم روگردانی کرو گے تو جو پیغام میرے ہاتھ تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے۔ اور میرا پروردگار تمہاری جگہ اور لوگوں کو لابسائے گا۔ اور تم خدا کا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتے۔ میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔ 58. اور جب ہمارا حکم عذاب آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور ان کو عذاب شدید سے نجات دی۔ 59. یہ (وہی) عاد ہیں جنہوں نے خدا کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر وسرکش کا کہا مانا۔ 60. تو اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) دیکھو عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ (اور) سن رکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔ |
تفسیر آیات
52۔ توبہ کی دعوت اور اس کی برکات : یہ قوم کو توبہ کی دعوت ہے کہ شرک اور نافرمانی سے تائب ہو کر خالص اپنے رب سے اپنے تعلق کو استوار کرو ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ توبہ کے دو رکن ہیں۔ ایک منفی دوسرا مثبت۔ منفی تو یہ ہے کہ آدمی نے جو غلط عقائد و اعمال اختیار کر رکھے ہیں ان سے دست بردار ہو، مثبت یہ ہے کہ ان کی جگہ صحیح عقائد و اعمال اختیار کرے۔ پہلے کے لیے استغفار کا لفظ ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنے رب سے ملتجی ہو کہ وہ اس کے گناہوں سے درگزر فرمائے اور ان پر اپنے عفو و کرم کا پردہ ڈالے۔ دوسرے کے لیے توبہ کا لفظ ہے جس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں۔ یعنی بندہ زندگی کی اس صراط مستقیم کی طرف رجوع کرے جو خدا نے اس کو بتائی ہے اور جو اس کو خدا تک پہنچانے والی ہے۔ ان میں سے پہلے کی بنیاد خشیت پر ہے اور دوسرے کی محبت پر، پھر شعور اور احساس ان کا لازمی جزو ہے۔ جب تک یہ تمام عناصر جمع نہ ہوں۔ مجرد، توبہ توبہ، یا استغفر اللہ، کے ورد سے وہ توبہ وجود میں نہیں آتی جو خدا کے ہاں قبولیت کا درجہ پائے یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ۔ خوب خوب بارش برسانا رزق و فضل میں زیادتی کی تعبیر ہے۔ وَ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ سے سیاسی قوت و شوکت میں اضافہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ اجتماعی توبہ کی برکتیں بیان ہوئی ہیں۔ مطلب یہ کہ یہ خیال نہ کرو کہ آسمان سے بارش تمہارے دیوتا برساتے ہیں اور میدان جنگ میں فتح تمہیں وہ دلاتے ہیں اس وجہ سے اگر تم نے ان کو چھوڑ دیا تو رزق سے بھی محروم ہوجاؤ گے اور تمہاری سیاسی جمعیت بھی پارہ پارہ ہوجائے گی۔ تمہارے یہ خیالات بالکل وہم پر مبنی ہیں۔ ۔ (تدبرِ قرآن)
55۔ اعلان براءت کے ساتھ یہ چیلنج ہے کہ اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ تمہارے یہ معبود مجھے کوئی ضرر پہنچا سکتے ہیں تو تم اور تمہارے یہ سارے معبود مل کر میرے ساتھ جو داؤ گھات کرنا چاہتے ہو کر ڈالو اور پھر مجھے ذرا مہلت نہ دو۔ یعنی اپنے ترکش کے آخری تیر بھی آزما دیکھو کہ دل میں کوئی ارمان باقی نہ رہ جائے۔ (تدبرِ قرآن)
56۔ یہ ہے مومن و موحد کی وہ ڈھال جس کے بل پر حضرت ہود نے مذکورہ بالا چیلنج دیا۔ فرمایا کہ میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب بھی ہے۔ (تدبرِ قرآن)
چھٹا رکوع |
| وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ ﴿61﴾ قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ ﴿62﴾ قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ ﴿63﴾ وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ ﴿64﴾ فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ ﴿65﴾ فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ ﴿66﴾ وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ ﴿67﴾ كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ ۧ ۧ ﴿68ع هود 11﴾ |
| 61. اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے۔ 62. انہوں نے کہا کہ صالح اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) امیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہوگئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں کے پوجنے سے منع کرتے ہو جن کو ہمارے بزرگ پوجتے آئے ہیں؟ اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو، اس میں ہمیں قوی شبہ ہے۔ 63. صالح نے کہا اے قوم! بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے (نبوت کی) نعمت بخشی ہو تو اگر میں خدا کی نافرمانی کروں تو اس کے سامنے میری کون مدد کرے گا؟ تم تو (کفر کی باتوں سے) میرا نقصان کرتے ہو۔ 64. اور یہ بھی کہا کہ اے قوم! یہ خدا کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی (یعنی معجزہ) ہے تو اس کو چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں (جہاں چاہے) چرے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دینا ورنہ تمہیں جلد عذاب آپکڑے گا۔ 65. مگر انہوں نے اس کی کانچیں کاٹ ڈالیں۔ تو (صالح نے) کہا کہ اپنے گھروں میں تم تین دن (اور) فائدہ اٹھا لو۔ یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا۔ 66. جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچالیا۔ اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا) ۔ بےشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے۔ 67. اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو چنگھاڑ (کی صورت میں عذاب) نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ 68. گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے۔ |
تفسیر آیات
61۔ ۔۔۔ مندرجہ بالا مفہوم کے لحاظ سے اس جملہ میں قریب اور مجیب دونوں اللہ تعالیٰ کی الگ الگ صفات ہیں لیکن بعض لوگوں نے قریب کو بھی مجیب کی صفت قراردیا ہے ۔اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا:"بلاشبہ میرا پروردگار جلد ہی (دعائیں )قبول کرنے والا ہے"(تیسیر القرآن)
۔۔۔ عاد کے بعد عرب کی قدیم اقوام میں ثمود نے اپنی تمدنی و تعمیری ترقیوں کے اعتبار سے بڑی شہرت حاصل کی۔ اعراف 74 کے تحت ان کی تعمیری ترقیوں کا ذکر گزر چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔تم کو تعمیر و تمدن میں جو ترقی نصیب ہوئی ہے تو یہ بھی خدا ہی کا عطیہ ہے۔ (تدبرِ قرآن)
62۔ ۔۔انبیاء کی قوموں کا معاملہ بالعموم اس کے برعکس رہا ہے۔ جس شخص کو وہ زندگی بھر صادق اور امین مانتے رہے جو نہی اس نے اپنی نبوت کا اظہار کیا اس کو کذاب اور مفتری کہنے لگے۔۔ (تدبرِ قرآن)
ـــیعنی تمہیں عقل مند ،ہونہار اور دیانتدار سمجھ کر ہم نے تم سے اپنی بہت سی توقعات وابستہ کررکھی تھیں کہ تم باپ دادا کا نام روشن کروگے تم نے تو باپ دادا کے دین سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے ۔بلکہ ہمیں بھی اس سے روک رہے ہو۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اور ہمارے آباو اجداد سب کے سب غلط کارہیں۔)تیسیر القرآن(
64۔ نَاقَةُ اللّٰهِ۔اضافت تعظیم و احترام کیلئے جیسے بیت اللہ،کعبۃ اللہ وغیرہ میں۔)تفسیر ماجدی(
66۔جزیرہ نمائے سینا میں جو روایات مشہور ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ثمود پر عذاب آیا تو حضرت صالح ؑ ہجرت کر کے وہاں سے چلے گئے تھے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ والے پہاڑ کے قریب ہی ایک پہاڑی کا نام نبی صالح ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہی جگہ آنجناب کی جائے قیام تھی۔ (تفہیم القرآن)
67۔ اس قوم پر اللہ تعالیٰ نے سرما کی بادِ صر صر اور کڑک دمک، اولے اور زلزلے کا عذاب بھیجا۔ (تدبرِ قرآن)
ساتواں رکوع |
| وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ ﴿69﴾ فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ ﴿70﴾ وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ ﴿71﴾ قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ ﴿72﴾ قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ ﴿73﴾ فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ ﴿74﴾ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ ﴿75﴾ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ ﴿76﴾ وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ ﴿77﴾ وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ ﴿78﴾ قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ ﴿79﴾ قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ ﴿80﴾ قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ ﴿81﴾ فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ ﴿82﴾ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ ۧ ۧ ﴿83ع هود 11﴾ |
| . اور ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو سلام کہا۔ انہوں نے بھی (جواب میں) سلام کہا۔ ابھی کچھ وقفہ نہیں ہوا تھا کہ (ابراہیم) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ 70. جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں جاتے (یعنی وہ کھانا نہیں کھاتے) تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا۔ (فرشتوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجیے، ہم قوم لوط کی طرف (ان کے ہلاک کرنے کو) بھیجے گئے ہیں۔ 71. اور ابراہیم کی بیوی (جو پاس) کھڑی تھی، ہنس پڑی تو ہم نے اس کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔ 72. اس نے کہا اے ہے میرے بچہ ہوگا؟ میں تو بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہیں۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ 73. انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے۔ 74. جب ابراہیم سے خوف جاتا رہا اور ان کو خوشخبری بھی مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں لگے ہم سے بحث کرنے۔ 75. بےشک ابراہیم بڑے تحمل والے، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے؎۔ 76. اے ابراہیم اس بات کو جانے دو۔ تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا ہے۔ اور ان لوگوں پر عذاب آنے والا ہے جو کبھی نہیں ٹلنے کا۔ 77. اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ ان (کے آنے) سے غمناک اور تنگ دل ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے۔ 78. اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم! یہ (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں، یہ تمہارے لیے (جائز اور) پاک ہیں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کھوؤ۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں۔ 79. وہ بولے تم کو معلوم ہے کہ تمہاری (قوم کی) بیٹیوں کی ہمیں کچھ حاجت نہیں۔ اور جو ہماری غرض ہے اسے تم (خوب) جانتے ہو۔ 80. لوط نے کہا اے کاش مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا۔ 81. فرشتوں نے کہا کہ لوط ہم تمہارے پروردگار کے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ تو کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے پھر کر نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت ان پر پڑنے والی ہے وہی اس پر پڑے گی۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے؟ 82. تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (اُلٹ کر) نیچے اوپر کردیا اور ان پر پتھر کی تہہ بہ تہہ (یعنی پےدرپے) کنکریاں برسائیں۔ 83. جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور نہیں۔ |
تفسیر آیات
69۔حضرت ابراہیم ؑ وہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے دنیا میں مہان نوازی کی رسم جاری فرمائی (قرطبی) ان کا معمول یہ تھا کہ کبھی تنہا کھانا نہ کھاتے بلکہ ہر کھانے کے وقت تلاش کرتے تھے کہ کوئی مہمان آجائے تو اس کے ساتھ کھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔قرطبی نے بعض اسرائیلی روایات سے نقل کیا ہے کہ ایک روز کھانے کے وقت حضرت ابراہیم ؑ نے مہمان کی تلاش شروع کی تو ایک اجنبی آدمی ملا جب وہ کھانے پر بیٹھا تو ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ بسم اللہ کہو، اس نے کہا کہ میں جانتا نہیں اللہ کون اور کیا ہے ؟ ابراہیم ؑ نے اس کو دسترخوان سے اٹھا دیا، جب وہ باہر چلا گیا تو جبریل امین آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے تو کفر کے باوجود ساری عمر اس کو رزق دیا اور آپ نے ایک لقمہ دینے میں بھی بخل کیا، یہ سنتے ہی ابراہیم ؑ اس کے پیچھے دوڑے اور اس کو واپس بلایا، اس نے کہا کہ جب تک آپ اس کی وجہ نہ بتلائیں کہ پہلے کیوں مجھے نکالا تھا اور اب پھر کیوں بلا رہے ہیں میں اس وقت تک آپ کے ساتھ نہ جاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت ابراہیم ؑ نے واقعہ بتلا دیا تو یہی واقعہ اس کے مسلمان ہونے کا سبب بن گیا، اس نے کہا کہ وہ رب جس نے یہ حکم بھیجا ہے بڑا کریم ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں، پھر حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ گیا اور مومن ہو کر باقاعدہ بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا۔ (معارف القرآن)
۔ یہ ضیافت نہایت فیاضانہ تھی کہ تین آدمیوں کی میزبانی کے لیے حضرت ابراہیم نے گلے کا ایک بچھڑا ذبح کرادیا۔ ان کی اس فیاضی کو نمایاں کرنے کے لیے گوشت کے بجائے بچھڑے کا ذکر فرمایا۔ (تدبرِ قرآن)
70۔ فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ ۔ توریت موجود ہ میں یہ فقرہ کہ "انہوں نے کھایا"قطعاً ایک ایجاد بندہ ہے اور قرآن مجید کو اسی بیان کی تردید کیلئے یہ تصریح کرنی پڑی ۔)تفسیر ماجدی(
۔ اس انداز کلام سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کھانے کی طرف ان کے ہاتھ نہ بڑھنے سے ہی حضرت ابراہیم ؑ تاڑ گئے تھے کہ یہ فرشتے ہیں۔ اور چونکہ فرشتوں کا علانیہ انسانی شکل میں آنا غیر معمولی حالات ہی میں ہوا کرتا ہے اس لیے حضرت ابراہیم ؑ کو خوف جس بات پر ہوا وہ دراصل یہ تھی کہ کہیں آپ کے گھر والوں سے یا آپ کی بستی کے لوگوں سے یا خود آپ سے کوئی ایسا قصور تو نہیں ہوگیا ہے جس پر گرفت کے لیے فرشتے اس صورت میں بھیجے گئے ہیں۔ اگر بات وہ ہوتی جو بعض مفسرین نے سمجھی ہے تو فرشتے یوں کہتے کہ ”ڈرو نہیں ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں“۔ لیکن جب انہوں نے آپ کا خوف دور کرنے کے لیے کہا کہ ”ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں“ تو اس سے معلوم ہوا کہ ان کا فرشتہ ہونا تو حضرت ابراہیم ؑ جان گئے تھے، البتہ پریشانی اس بات کی تھی کہ یہ حضرات اس فتنے اور آزمائش کی شکل میں جو تشریف لائے ہیں تو آخر وہ بدنصیب کون ہے جس کی شامت آنے والی ہے۔ (تفہیم القرآن)
71۔ امْرَاَتُهٗ۔مراد حضرت ابراہیمؑ کی زوجۂ اُولیٰ حضرت سارہؑ ہیں۔مفسرتھانویؒ نے فرمایا کہ ظاہراً حضرت سارہؑ پہلے اس جگہ نہ تھیں شاید وہ پردہ میں ہوں پھر جب معلوم ہوگیا کہ فرشتے ہیں ان سے کیا پردہ سامنے چلی آئیں ،جیساکہ ایک دوسری جگہ قرآن کے لفظ فاقبلت سے معلوم ہوتاہے۔)تفسیر ماجدی(
72۔محاورہ سے مقصود اظہار حیرت تو ظاہرہی ہے ۔ساتھ ہی ایک ہلکاسا پہلو ذم کا بھی اپنے متعلق سے نکلتاہے زیادہ سن میں عورت کے اولاد ہونے سے اس کو طبعی طورپر شرمندگی بھی ہوتی ہے۔)تفسیر ماجدی(
۔ بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی عمر اس وقت 100 برس اور حضرت سارہ کی عمر 90 برس کی تھی۔ (تفہیم القرآن)
73۔ اھل البیت۔اس آیت نے اسے صاف کردیا کہ پیمبرؑ کے زوج پر"اہل بیت" کا اطلاق تو بہرحال ہوتاہےبلکہ اہل بیت نبوی کا مفہوم اول توازواج نبی ہی ہوتے ہیں۔(جصاص))تفسیر ماجدی(
74۔جھگڑے " کا لفظ اس موقع پر اس انتہائی محبت اور ناز کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ اپنے خدا کے ساتھ رکھتے تھے۔ (تفہیم القرآن)
76۔ پچھلی تاریخ کے یہ واقعات یہاں بیان کیے جا رہے ہیں۔ اس کی مناسبت سمجھنے کے لیے حسب ذیل دو باتوں کو پیش نظر رکھیے۔ (1) مخاطب قریش کے لوگ ہیں جو حضرات ابراہیم ؑ کی اولاد ہونے کی وجہ ہی سے تمام عرب کے پیرزادے، کعبۃ اللہ کے مجاور اور مذہبی و اخلاقی اور سیاسی و تمدنی پیشوائی کے مالک بنے ہوئے ہیں اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہیں کہ ہم پر خدا کا غضب کیسے نازل ہوسکتا ہے۔(2) اس تقریر میں یہ بات بھی قریش کے ذہن نشین کرنی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وہ قانون مکافات جس سے لوگ بالکل بےخوف اور مطمئن بیٹھے ہوئے تھے، کس طرح تاریخ کے دوران میں تسلسل اور باقاعدگی کے ساتھ ظاہر ہوتا رہا ہے اور خود ان کے گردوپیش اس کے کیسے کھلے کھلے آثار موجود ہیں۔ (تفہیم القرآن)
77۔حضرت لوطؑ نے فرشتوں کی آمد سے اندازہ لگالیا کہ یہ عذاب کے فرشتے ہیں اور اب قوم کے لیے دعا و سفارش کا وقت گزرچکا ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
78۔ پہلے مرحلے میں حضرت لوطؑ کو یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے مہمان حقیقت میں فرشتے ہیں۔ ان کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ فرشتے خوبرو نوجوانوں کی شکل میں آئے جو گویا شہر کے سارے غنڈوں کو دعوت دینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت لوطؑ کا یہ اندیشہ صحیح ثابت ہوا ۔ فرشتوں کا اس شکل میں آنا قوم پر اتمام حجت کے لیے تھا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت لوط کا اشارہ قوم کی لڑکیوں کی طرف ہو، کیونکہ نبی اپنی قوم کے لیے بمنزلہ باپ ہوتا ہے اور قوم کی لڑکیاں اس کی نگاہ میں اپنی بیٹیوں کی طرح ہوتی ہیں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کا اشارہ خود اپنی صاحبزادی کی طرف ہو، بہرحال دونوں صورتوں میں یہ گمان کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ حضرت لوط نے ان سے زنا کرنے کے لیے کہا ہوگا، یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں، کا فقرہ ایسا غلط مفہوم لینے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ حضرت لوط کا منشا صاف طور پر یہ تھا کہ اپنی شہوت نفس کو اس فطری اور جائز طریقے سے پورا کرو جو اللہ نے مقرر کیا ہے اور اس کے لیے عورتوں کی کمی نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
83۔ اس آیت کے دومطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ایک کی تو ترجمہ میں ہی قوسین کے ذریعے وضاحت کردی گئی ہے اس صورت میں خطہ سے مراد قوم لوط کا تباہ شدہ خطہ اور ظالموں سے مراد دور نبوی کے منکرین حق ہیں یعنی یہ برباد شدہ علاقہ ان ظالموں سے کچھ دور نہیں یہ سب کچھ وہ بچشم خود ملاحظہ کرسکتے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسا عذاب کچھ قوم لوطؑ سے ہی مخصوص نہیں بلکہ ظالموں اور منکرین حق اور بدکرداروں کو آج بھی ایسا عذاب دینے پر اللہ تعالی پوری قدرت رکھتاہےاور یہ کوئی بعید از عقل بات نہیں۔)تیسیر القرآن(
آ ٹھواں رکوع |
| وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ ﴿84﴾ وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ﴿85﴾ بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ ﴿86﴾ قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ ﴿87﴾ قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ ﴿88﴾ وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ ﴿89﴾ وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ ﴿90﴾ قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ ﴿91﴾ قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ ﴿92﴾ وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ ﴿93﴾ وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ ﴿94﴾ كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ ۧ ۧ ﴿95ع هود 11﴾ |
| 84. اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو) مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیر کر رہے گا۔ 85. اور قوم! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو۔ 86. اگر تم کو (میرے کہنے کا) یقین ہو تو خدا کا دیا ہوا نفع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔ 87. انہوں نے کہا شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ہم ان کو ترک کر دیں یا اپنے مال میں تصرف کرنا چاہیں تو نہ کریں۔ تم تو بڑے نرم دل اور راست باز ہو۔ 88. انہوں نے کہا کہ اے قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے ہاں سے مجھے نیک روزی دی ہو (تو کیا میں ان کے خلاف کروں گا؟) اور میں نہیں چاہتا کہ جس امر سے میں تمہیں منع کروں خود اس کو کرنے لگوں۔ میں تو جہاں تک مجھ سے ہوسکے (تمہارے معاملات کی) اصلاح چاہتا ہوں اور (اس بارے میں) مجھے توفیق کا ملنا خدا ہی (کے فضل) سے ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ 89. اور اے قوم! میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے کہ جیسی مصیبت نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر واقع ہوئی تھی ویسی ہی مصیبت تم پر واقع ہو۔ اور لوط کی قوم (کا زمانہ تو) تم سے کچھ دور نہیں۔ 90. اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار رحم والا (اور) محبت والا ہے۔ 91. اُنہوں نے کہا کہ شعیب تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر (کسی طرح بھی) غالب نہیں ہو۔ 92. انہوں نے کہا کہ قوم! کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر خدا سے زیادہ ہے۔ اور اس کو تم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے۔ میرا پروردگار تو تمہارے سب اعمال پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ 93. اور برادران ملت! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ میں (اپنی جگہ) کام کیے جاتا ہوں۔ تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ رسوا کرنے والا عذاب کس پر آتا ہے اور جھوٹا کون ہے اور تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ 94. اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو تو اپنی رحمت سے بچا لیا۔ اور جو لوگ ظالم تھے، ان کو چنگھاڑ نے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ 95. گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سن رکھو کہ مدین پر (ویسی ہی) پھٹکار ہے جیسی ثمود پر پھٹکار تھی۔ |
تفسیر آیات
84۔ناپ تول میں کمی ۔۔۔۔اس فن میں ایک سے بڑھ کر ایک ماہر ان میں پیدا ہونے لگا اور کسی کے اندر اس امر کا احساس بھی باقی نہیں رہاکہ یہ ترقی و کامرانی کی راہ نہیں بلکہ فساد فی الارض کی راہ ہے۔(تدبر قرآن)
ــــ شرک اُم الامراض ہے:۔ سیدنا شعیبؑ کا قصہ بھی سورۂ الاعراف کی آیت نمبر 84تا 95 میں گزرچکا ہے۔لہذا وہ حواشی بھی پیش نظر رکھنے چاہئیں۔شرک ایسی بیماری ہےجو تقریباً ہر قوم میں پائی جاتی ہے اور بالخصوص ان اقوام میں ضرور موجود تھی جن کی طرف انبیاء مبعوث ہوتے رہے باقی تمام اخلاقی ،معاشرتی بیماریاں اور برائیاں اسی شرک سے ہی پھوٹتی ہیں گویا جس طرح جسمانی بیماریوں میں قبض کو ام الامراض قراردیا گیاہے اسی طرح روحانی بیماریوں میں شرک ام الامراض ہے۔)تیسیر القرآن(
۔ اس میں حضرت شعیب ؑ نے پہلے تو اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی کیونکہ یہ لوگ مشرک تھے، درختوں کی پوجا پاٹ کیا کرتے تھے، جس کو قرآن میں لفظ ایکہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اسی کی نسبت سے اہل مدین کو اصحب الایکہ کا بھی لقب دیا گیا ہے، اس کفر و شرک کے ساتھ ان میں ایک اور عیب و گناہ نہایت سخت یہ تھا کہ بیو پار اور لین دین کے وقت ناپ تول میں کمی کرکے لوگوں کا حق مار لیتے تھے، حضرت شعیب ؑ نے ان کو اس سے منع فرمایا۔۔۔۔ فائدہ: یہاں یہ بات خاص طور سے قابل غور ہے کہ کفر و شرک سب گناہوں کی جڑ ہے جو قوم اس میں مبتلا ہے اس کو پہلے ایمان ہی کی دعوت دی جاتی ہے، ایمان سے پہلے دوسرے معاملات اور اعمال پر توجہ نہیں دی جاتی، دنیا میں ان کی نجات یا عذاب بھی اسی ایمان و کفر کی بنیاد پر ہوتا ہے، تمام انبیاء سابقین اور ان کی قوموں کے واقعات جو قرآن میں مذکور ہیں اسی طرز عمل کے شاہد ہیں، صرف دو قومیں ایسی ہیں جن پر عذاب نازل ہونے میں کفر کے ساتھ ان کے اعمال خبیثہ کو بھی دخل رہا ہے، ایک لوط ؑ کی قوم، جس کا ذکر اس سے پہلے آچکا ہے کہ ان پر جو عذاب پوری بستی الٹ دینے کا واقع ہوا اس کا سبب ان کے عمل خبیث کو بتلایا گیا ہے، دوسری قوم شعیب ؑ کی ہے جن کے عذاب کا سبب کفر و شرک کے علاوہ ناپ تول میں کمی کرنے کو بھی قرار دیا گیا ہے۔ (معارف القرآن)
86۔ بقیّۃ اللہ سے مراد جائز منافع(بچت)ہے۔اگر ایک تاجر ناپ تول میں ٹھیک ٹھیک عدل کوملحوظ رکھے،جھوٹ،فریب،ملاوٹ اور اس قسم کے دوسرے ہتھکنڈوں سے بچے ،دوسروں کی ریس میں غلط راستے اختیار نہ کرے تو گو وہ اتنا زیادہ منافع نہ لوٹ سکے جتنا دوسروں نے جنہوں نے حرام و حلال کی تمیز اٹھا دی لوٹا ہو لیکن اس کا حاصل کیا ہوا نفع بقیۃ اللہ کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ قلیل بھی ہو تو دوسروں کے کثیر سے ہزار درجہ افضل ہے اس لیے کہ اس میں دنیا اور آخرت دونوں میں برکت ہوگی۔۔۔۔(تدبرقرآن)
87۔ یہ اسلام کے مقابلے میں جاہلیت کے نظریہ کی پوری ترجمانی ہے۔اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اللہ کی بندگی کے سوا جو طریقہ بھی ہے غلط ہے اور اس کی پیروی نہ کرنی چاہئے کیونکہ دوسرے کسی طریقہ عقل ، علم اور کتب آسمانی میں کوئی دلیل نہیں اور یہ کہ اللہ کی بندگی صرف ایک محدود مذہبی دائرے ہی میں نہیں ہونی چاہئے بلکہ تمدن، معاشرت،معیشت،سیاست غرض زندگی کے تمام شعبوں میں ہونی چاہئے۔۔۔۔زندگی کو مذہبی اور دنیاوی دائروں میں الگ الگ تقسیم کرنے کا تخیل آج کوئی نیا تخیل نہیں ہے بلکہ آج سے تین ساڑھے تین ہزار برس پہلے حضرت شعیبؑ کی قوم کو بھی اس تقسم پر ویسا ہی اصرار تھا جیسا آج اہلِ مغرب اور اُن کے مشرقی شاگردوں کو ہے۔ یہ فی الحقیقت کوئی نئی ”روشنی“ نہیں ہے جو انسان کو آج ”ذہنی ارتقاء“ کی بدولت نصیب ہو گئی ہو۔ بلکہ یہ وہی پرانی تاریک خیالی ہے جو ہزار ہا برس پہلے کی جاہلیت میں بھی اسی شان سے پائی جاتی تھی۔ اور اس کے خلاف اسلام کی کش مکش بھی آج کی نہیں ہے، بہت قدیم ہے۔ (تفہیم القرآن)
ـــــ لادینیت محض دین سے انکار کا نام نہیں بلکہ دین کو دنیاوی معاملات سے نکال دینے کا نام ہے اور بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ بہت سے خود ساختہ اور بہ خود غلط نیم ملاؤں نے اسے دل و جان سے قبول کرلیا ہے۔ہمارے ہاں اسلامی بھکشوؤں کا ایک گروہ موجود ہے جو اس لادینیت کو ہی عین دین سمجھتاہے اور اس نے تبلیغ و جہاد کا راستہ مؤثر انداز میں روک رکھاہے۔۔۔۔۔ص۔272تا 273 ۔۔۔۔بہت مؤثر خطاب ۔(انوار القرآن)
88ــــ رزق حسن سے مراد وحی الٰہی ہے۔جس طرح مادی رزق انسان کی مادی زندگی کی بقاکے لیے ضروری ہے اسی طرح وحی الٰہی اس کی روحانی زندگی کے لیے ضروری ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
89۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خلافت کے زمانہ میں ایک شخص کو اس جرم میں گرفتار کیا گیا کہ وہ درہم کو کاٹ رہا تھا، موصوف نے اس کو کوڑوں کی سزا دی اور سر مونڈھوا کر شہر میں گشت کرایا۔ (تفسیر قرطبی)۔ (معارف القرآن)
90۔یہ حقیقت پیشِ نظر رہے کہ توبہ کے دوبنیادی رکن ہیں۔ ایک استغفار ، دوسرا اصلاح۔یعنی اپنے رب سے اپنے جرائم کی معافی بھی مانگے اور صحیح راہ اختیار کرکے عملاً اپنے رویہ کی اصلاح کا ثبوت بھی دے۔ اس کے بغیر کوئی توبہ اللہ کے ہاں درخورِ قبول نہیں ہوگی۔(تدبرقرآن)
94۔اہل مدین پر عذاب کی نوعیت:۔یہاں قوم شعیب کا چنگھاڑ (فرشتہ کی چیخ)سے ہلاک ہونا مذکور ہے اور اعراف میں زلزلہ کا ذکر ہواہے اور سورۂ شعراء میں عذاب یوم الظلۃ کا ذکر ہے یعنی عذاب کے بادل سائبان کی طرح ان پر محیط ہوگئے تھےگویا اس قوم پر تینوں قسم کا عذاب آیا ہے اور قرآن نے ہرمقام پر صرف اس عذاب کا ذکر فرمایا جیساکہ مضمون چل رہاتھا مثلاً اس سورۂ میں قوم کا لہجہ تلخ اور باتیں گستاخانہ تھیں جو سنگسار کرنے کی دھمکی دے رہے تھے تو یہاں سخت قسم کے جگر خراش عذاب یعنی چنگھاڑ کا ذکر فرمایا ۔سورۂ اعراف میں یہ ذکر تھا کہ قوم نے دھمکی دی تھی کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اس سرزمین سے نکال دیں گے تو وہ خود اسی سرزمین کے زلزلے سے ہلاک ہوئے تھے اور سورۂ شعراء میں یہ مضمون ہے کہ قوم نے شعیبؑ سے کہا :"اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرادو"اسی مناسبت سے وہاں عذاب کے بادلوں کا ذکر فرمایا اور یہ ممکن ہے کہ ہرمقام پر عذاب کی مختلف اوقات کی کیفیت مذکور ہو۔)تیسیر القرآن(
نواں رکوع |
| وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ ﴿96﴾ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ ﴿97﴾ یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ ﴿98﴾ وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ ﴿99﴾ ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ ﴿100﴾ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ ﴿101﴾ وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ ﴿102﴾ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ ﴿103﴾ وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ ﴿104﴾ یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ ﴿105﴾ فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ ﴿106﴾ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ﴿107﴾ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ ﴿108﴾ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ ۧ ۧ ﴿109ع هود 11﴾ |
| 96. اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا۔ 97. (یعنی) فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو وہ فرعون ہی کے حکم پر چلے۔ اور فرعون کا حکم درست نہیں تھا۔ 98. وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا اور ان کو دوزخ میں جا اُتارے گا اور جس مقام پر وہ اُتارے جائیں گے وہ برا ہے۔ 99. اور اس جہان میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی (پیچھے لگی رہے گی) ۔ جو انعام ان کو ملا ہے برا ہے۔ 100. یہ (پرانی) بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض کا تہس نہس ہوگیا۔ 101. اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اُوپر ظلم کیا۔ غرض جب تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا تو جن معبودوں کو وہ خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے۔ اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق میں اور کچھ نہ کرسکے۔ 102. اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستیوں کو پکڑا کرتا ہے تو اس کی پکڑ اسی طرح کی ہوتی ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور سخت ہے۔ 103. ان (قصوں) میں اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت سے ڈرے عبرت ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور یہی وہ دن ہوگا جس میں سب (خدا کے روبرو) حاضر کیے جائیں گے۔ 104. اور ہم اس کے لانے میں ایک وقت معین تک تاخیر کر رہے ہیں۔ 105. جس روز وہ آجائے گا تو کوئی متنفس خدا کے حکم کے بغیر بول بھی نہیں سکے گا۔ پھر ان میں سے کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔ 106. تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں (ڈال دیئے جائیں گے) اس میں ان کا چلانا اور دھاڑنا ہوگا۔ 107. (اور) جب تک آسمان اور زمین ہیں، اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔ 108. اور جو نیک بخت ہوں گے، وہ بہشت میں داخل کیے جائیں گے اور جب تک آسمان اور زمین ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے مگر جتنا تمہارا پروردگار چاہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔ یہ (خدا کی) بخشش ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔ 109. تو یہ لوگ جو (غیر خدا کی) پرستش کرتے ہیں۔ اس سے تم خلجان میں نہ پڑنا۔ یہ اسی طرح پرستش کرتے ہیں جس طرح پہلے سے ان کے باپ دادا پرستش کرتے آئے ہیں۔ اور ہم ان کو ان کا حصہ پورا پورا بلا کم وکاست دینے والے ہیں۔ |
تفسیر آیات
96۔ سلطان مبین۔عام مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے اشارہ عصائے موسوی کی جانب ہے اور اسے اس کے امتیاز خصوصی کی بناپر دوسرے خوارق (باٰیتنا)سے الگ کرکے بیان کیا ہے۔)تفسیر ماجدی(
98۔ اسی مضمون کی ترجمانی نبی ﷺ کے اس ارشاد میں پائی جاتی ہے کہ امرا ؤ القیس حامل لوا ء شعر ا ء الجا ھلیۃ الی النار، یعنی” قیامت کے روز جاہلیت کی شاعری کا جھنڈا امرا ؤ القیس کے ہاتھ میں ہو گا اور عرب جاہلیت کے تمام شعراء اسی کی پیشوائی میں دوزخ کی راہ لیں گے“۔ (تفہیم القرآن)
100۔ مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْد ٌ یعنی ان بستیوں میں سے بعض قائم ہیں جن کو دیکھ سکتے ہو اور بعض ان میں سے بالکل ملیا میٹ ہوگئیں۔ حصید، کٹی ہوئی فصل کو کہتے ہیں۔ یہاں یہ ان بستیون کے لیے استعمال ہوا ہے جو عذاب الٰہی سے یک قلم نیست و نابود ہوگئیں۔ قائم کی ایک مثال مصر ہے جس کے اندر سے فرعون اور اس کی قوم کو خدا نے نکالا اور لے جا کر سمندر میں غرق کردیا۔ مکان قائم رہ گئے۔ مکین ناپید ہوگئے۔ حصید سے مراد قوم ہود اور قوم لوط وغیرہ کی بستیاں ہیں جن کے مکان و مکین سب ناپید ہوگئے۔ صرف کسی کسی کے کچھ آثار اپنے مکینوں کی بدبختی کی داستانِ عبرت سنانے کے لیے رہ گئے۔ یہ بات قریش کو سنا کر اس لیے کہی گئی ہے کہ اگر وہ اپنی اس ضدم ضدا کی روش پر قائم ہیں تو لازماً انہیں ان دو فہرستوں میں سے کسی ایک میں اپنا نام لکھانا پڑے گا۔ ان کے اندر رسول کی بعثت کے بعد اب ان کا فیصلہ بھی لازماً ہونا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
104۔ وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ اس دن کے آنے میں اتنی غیر محدود مدت باقی ہے کہ اس کے اندیشہ میں ابھی سے اپنا عیش مکدر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ مدت غیر محدود نہیں، بلکہ شمار کی ہوئی مدت ہے۔ شمار کی ہوئی مدت۔ نہ کوئی مبالغہ کا اسلوب بیان ہے اور نہ یہ بات علم الٰہی کے اعتبار سے ارشاد ہوئی ہے بلکہ یہ ایک حقیقت نفس الامری کا اظہار ہے اس لیے کہ جو شخص مرا تو، جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہے، من مات فقد قامت قیامتہ، اس کی قیامت آگئی۔ برزخ میں جو مدت گزرے گی نفخ صورت کے وقت اس کا کوئی احساس باقی نہیں رہے گا۔ ہر شخص یہ محسوس کرے گا کہ ابھی سوئے تھے ابھی اٹھ بیٹھے ہیں۔ (تدبرَ قرآن)
106۔ دوزخیوں کے چیخنے چلانے کی تعبیر : جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں پڑیں گے اور اس میں ان کا حال یہ ہوگا کہ لہم فیہا زفیر و شہیق، زفیر اور شہیق دونوں لفظ گدھے کی چیخ کے لیے آتے ہیں جب وہ چیختا ہے تو جو سانس وہ باہر کی طرف نکالتا ہے اس کو زفیر کہتے ہیں اور جو سانس اندر کی طرف لے جاتا ہے اس کو شہیق کہتے ہیں۔ یہ دوزخیوں کے چیخنے چلانے اور رونے گھگھیانے کی تعبیر ہے اور ان لفظوں میں جو حقارت کا پہلو ہے وہ بالکل واضح ہے۔ (تدبرِ قرآن)
107۔ یہ الفاظ بطور محاورہ استعمال کیے گئے ہیں کیونکہ اہل عرب دوام اور لامحدود مدت بیان کرنے کیلئے یہی الفاظ استعمال کرتے تھے ورنہ یہ موجودہ زمین و آسمان تو قیامت کے وقت ختمم کردیے جائیں گے۔البتہ ظاہری الفاظ کا لحاظ رکھتے ہوئے ان سے عالم اخروی کے زمین و آسمان مراد لیے جاسکتے ہیں۔)تیسیر القرآن(
108۔مذہب اہل سنت کا یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ عاصی مسلم بہرحال خلودِ نار کا مستوجب نہیں،اگر بالکل معافی نہ ہوئی جب بھی کچھ سزا جھیلنے کے بعد جنت میں لے آیا جائے گا،احادیث میں یہ مضمون بہت صراحت کے ساتھ آیا ہے مفسر نسفی نے لکھا ہے کہ معتزلہ کو جب ان احادیث سے مفر نہ ملا تو خود ان احادیث کی صحت ہی سے انکار کربیٹھے۔)تفسیرماجدی(
۔جو نیک بخت ہوں گے جنت میں داخل ہوں گے اور اسی میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں مگر جو تیرا رب چاہے " مگر تیرا رب جو چاہے " کے استثناء سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ان کے احوال و مراتب میں بھی تبدیلیاں ہوں گی لیکن یہ تبدیلیاں خیر سے شر کی طرف کی نوعیت کی نہیں، بلکہ خوب سے خوب تر کی طرف کی نوعیت کی ہوں گی۔ (تدبرِ قرآن)
109۔اسلام دوسرے مذہبوں کے باطل ہونے کے باب میں کسی گومگو ،تذبذب اور صلح کل پالیسی کا حامی نہیں اسے اصرار ہے کہ سفید کو سفید اور سیاہ کو سیاہ ہی کہا جائے ۔)تفسیر ماجدی(
۔ ہم یہ اسلوب متعدد مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ بعض مرتبہ خطاب بظاہر الفاظ تو آنحضرت ﷺ سے ہوتا ہے لیکن اس کے اندر جو عتاب مضمر ہوتا ہے اس کا رخ مخالفین کی طرف ہوتا ہے۔ وہ چونکہ اپنی ضد کے سبب سے لائق خطاب نہیں رہ جاتے۔ (تدبرِ قرآن)
دسواں رکوع |
| وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ ﴿110﴾ وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ﴿111﴾ فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ﴿112﴾ وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ ﴿113﴾ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ ﴿114﴾ وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ﴿115﴾ فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ﴿116﴾ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ ﴿117﴾ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ ﴿118﴾ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ﴿119﴾ وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ ﴿120﴾ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ ﴿121﴾ وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ ﴿122﴾ وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿123ع هود 11﴾ |
| 110. اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور وہ تو اس سے قوی شبہے میں (پڑے ہوئے) ہیں۔ 111. اور تمہارا پروردگار ان سب کو (قیامت کے دن) ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ بےشک جو عمل یہ کرتے ہیں وہ اس سے واقف ہے۔ 112. سو (اے پیغمبر) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے (اس پر) تم اور جو لوگ تمہارے ساتھ تائب ہوئے ہیں قائم رہو۔ اور حد سے تجاوز نہ کرنا۔ وہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ 113. اور جو لوگ ظالم ہیں، ان کی طرف مائل نہ ہونا، نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آلپٹے گی اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں۔ اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی۔ 114. اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح اور شام کے اوقات میں) اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ ان کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں۔ 115. اور صبر کیے رہو کہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ 116. تو جو اُمتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں، ان میں ایسے ہوش مند کیوں نہ ہوئے جو ملک میں خرابی کرنے سے روکتے ہاں (ایسے) تھوڑے سے (تھے) جن کو ہم نے ان میں سے مخلصی بخشی۔ اور جو ظالم تھے وہ ان ہی باتوں کے پیچھے لگے رہے جس میں عیش وآرام تھا اور وہ گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ 117. اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو جب کہ وہاں کے باشندے نیکوکار ہوں ازراہِ ظلم تباہ کردے۔ 118. اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔ 119. مگر جن پر تمہارا پروردگار رحم کرے۔ اور اسی لیے اس نے ان کو پیدا کیا ہے اور تمہارے پروردگار کا قول پورا ہوگیا کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ 120. (اے محمدﷺ) اور پیغمبروں کے وہ سب حالات جو ہم تم سے بیان کرتے ہیں ان سے ہم تمہارے دل کو قائم رکھتے ہیں۔ اور ان (قصص) میں تمہارے پاس حق پہنچ گیا اور یہ مومنوں کے لیے نصیحت اور عبرت ہے۔ 121. اور جو لوگ ایمان نہیں لائے ان سے کہہ دو کہ تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ۔ ہم اپنی جگہ عمل کیے جاتے ہیں۔ 122. اور (نتیجہٴ اعمال کا) تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ 123. اور آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم خدا ہی کو ہے اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ اور جو کچھ تم کررہے ہو تمہارا پروردگار اس سے بےخبر نہیں۔ |
تفسیر آیات
112۔ اس دنیا میں سب سے زیادہ دشوار کام استقامت ہی ہے اسی لئے محققین صوفیاء نے فرمایا ہے کہ استقامت کا مقام کرامت سے بالاتر ہے، یعنی جو شخص دین کے کاموں میں استقامت اختیار کئے ہوئے ہے، اگرچہ عمر بھر اس سے کوئی کرامت صادر نہ ہو، وہ اعلی درجہ کا ولی ہے۔۔۔۔۔ اور غور کیا جائے تو پورے قرآن میں عام طور پر یہی طرز استعمال ہوا ہے کہ امر کا مخاطب نبی کریم ﷺ کو بنایا گیا ہے اور نہی و ممانعت کا مخاطب امت کو۔۔۔۔۔ (معارف القرآن)
114۔اس میں بدرجۂ اجمال دن رات کی پانچوں فرض نمازیں آگئیں۔طَرَفَیِ النَّهَارِ۔یادن کے دونوں سروں سے مراد ایک طلوع فجر ہے دوسرے بعد زوال پھر بعد زوال بجائے خود ظہر و عصرکے دوحصوں پر شامل ہے۔اور زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ۔کے اندر مغرب و عشاء کے اوقات آگئے قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی اوقات نماز کا ذکر ہے بدرجۂ اجمال ہی ہے تفصیلات صرف سنت رسول کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوں گی ہمارے زمانہ کے جن علماء متجددین نے محض قرآن مجید سے پوری تفصیلات نکالنی چاہی ہیں،انہوں نے عجب عجب مضحکہ خیز غلطیاں کی ہیں۔۔۔(اس لئے ہر نیکی کی کوشش کرتے رہو)یہ صحیفۂ اسلامی کی عجیب و غریب دفعہ ہے،جس کی نظیر مشکل ہی سے کسی دوسرے صحیفۂ دینی میں ملے گی۔ارشاد ہوتاہے کہ ہرحسنہ بجائے خود تو خیر نیکی ہے ہی،ایک خاصہ اذہاب سیّئہ (بدی کو مٹانے )کا بھی رکھتی ہے نیکیوں کی افزائش کی ترغیب کا س سے بہتر نسخہ اور کیا ہوسکتاہے۔اگر بندے اپنے باہمی معاملات میں اللہ کے اس قانون کو یادرکھتے تو آج آپس کی رنجشوں اور شکایتوں کا دفتر کتنا مختصر ہوگیا ہوتا۔۔۔اللہ تو اپنے ہا ں کا یہ قاعدہ رکھے کہ نیکیوں کے ہوتے ہوئے بدیوں پر نظر نہ کی جائے اور بندے اس کے برعکس یہ عمل جاری رکھیں کہ اپنے بھائیوں کی کمزوریوں، لغزشوں ،خطاؤں کے آگے ان کی خوبیوں پر برابر خاک ہی ڈالے رہیں۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ طاعت کے انوار سے معصیت کی ظلمتیں دورہوجاتی ہیں اور ملکۂ طاعت کے غلبہ سے مادۂ معصیت مضمحل ہوتاجاتاہے۔)تفسیر ماجدی(
116۔ الْفَسَاد فِی الْاَرْضِ۔قرآن مجید کی اس جامع اصطلاح میں ہر قسم کی بے دینی اور بددینی آجاتی ہے۔ )تفسیر ماجدی(
117۔ ان آیات میں نہایت سبق آموز طریقے سے ان قوموں کی تباہی کے اصل سبب پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کی تاریخ پچھلے چھ رکوعوں میں بیان ہوئی ہے۔ایک یہ کہ ہر اجتماعی نظام میں ایسے نیک لوگوں کا موجود رہنا ضروری ہے جو خیر کی دعوت دینے والے اور شر سے روکنے والے ہوں۔دوسرے یہ کہ جو قوم اپنے درمیاں سب کچھ برداشت کرتی ہو مگر صرف انہی چند گنے چنے لوگوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو جو اسے برائیوں سے روکتے اور بھلائیوں کی دعوت دیتے ہوں، تو سمجھ لو کہ اس کے برے دن قریب آگئے ہیں۔تیسرے یہ کہ ایک قوم کے مبتلائے عذاب ہونے یا نہ ہونے کا آخری فیصلہ جس چیز پر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں دعوت خیر پر لبیک کہنے والے عناصر کس حد تک موجود ہیں۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
120۔ حضورؐ کے دل کو مضبوط بنانا، اور مومنین کے لئے حق پر مبنی معلومات، پند و نصیحت اور یادہانی۔(تدبرقرآن)
خلاصہ ۔۔۔۔۔(ر۔10) (i)انفرادی خرابیاں عذابِ الٰہی کا باعث نہیں ہوتیں۔عذاب الٰہی اس وقت نازل ہوتاہے جب قوم کی غالب اکثریت کا مزاج فاسد ہوجاتاہے۔(ii)آخر میں سارا معاملہ اللہ کے حوالے کرنے، ہمہ تن اس کی عبادت میں سرگرم رہنے اور اس پر پورا پورا بھروسہ کرنے کی ہدایت۔(تدبر قرآن)
ـــــ قوموں کی تباہی کا معیار: (i) جب کوئی انسانی گروہ اہل خیر سے خالی ہوجائے(یا چند اہل خیر، اور وہ بھی بہت کمزور)اور صرف شریر لوگ باقی رہ جائیں۔(ii) برائیوں کو روکنے اور بھلائیوں کی دعوت دینے والوں کو برداشت نہ کیا جائے۔(iii)فساد کو مٹانے اور نظامِ صالح قائم کرنے والے بے حد کم رہ جائیں۔(تفہیم القرآن)
ــــ انبیاء کے باربار تذکرہ کے تین فائدے:۔ انبیاء کے حالات باربار بیان کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے تین فائدے بتلائے ہیں۔ایک یہ کہ جن مشکلات سے آپؐ اور آپ کے صحابہ کرامؓ دوچار ہیں ایسے ہی حالات سے تمام سابقہ انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کو بھی دوچار ہونا پڑاتھا۔آخر اللہ نے مخالفین کا سرتوڑ دیا اور انبیاء اور مومنوں کو بچالیا اور کامیاب کیا لہذا آپؐ صبر سے کام لیں اور اپنے عزم کو مضبوط رکھیں ۔دوسرے یہ کہ آپ اور آپ کے پیروکار وں تک سابقہ انبیاء کے صحیح صحیح حالات پہنچ جائیں جن کی آپ کو پہلے سے خبر نہیں تھی۔تیسرے یہ کہ ان لوگوں کے حالات میں آپ سب کے لیے بہت سے اسباق موجود ہیں یعنی اللہ کے نافرمانوں کا بلآخر کیا انجام ہوتاہے اور فرماں برداروں کا کیا؟)تیسیر القرآن(