110 - سورة النصر (مدنیہ)

رکوع - 1 آیات - 3

مضمون:نبیؐ کو فتح و نصرت اور مشن کی تکمیل کی بشارت۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول: یہ آخری مکمل سورت ہے جو وفات سے پہلے مدینہ منورہ میں نازل ہوئی (مسلم)دوسری رائے کے مطابق حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ  میں نازل ہوئی ۔اس سورت میں آپؐ کو بتادیا گیا کہ آپؐ کا مشن مکمل ہوگیا اور بہت جلد آپ کو رختِ سفر باندھناہے۔

- صحیح مسلم میں حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ سورۂ نصر قرآن کی آخری سورۃ ہے ۔مطلب یہ ہے کہ متفرق آیات کے علاوہ کوئی مکمل سورۂ نازل نہیں ہوئی جیساکہ سورۂ فاتحہ کو قرآن کی سب سے پہلی سورۂ اسی معنی میں کہا جاتاہے کہ مکمل سورۃ سب سے پہلے فاتحہ نازل ہوئی ۔سورۂ اقراء اور سورۂ مدثر کی چند آیات کا اس سے پہلے نازل ہونا اس کے منافی نہیں ۔)معارف القرآن(

ــــ  حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ یہ سورۃ حجۃ الوداع میں نازل ہوئی اس کے بعد آیت ۔الْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ نازل ہوئی ۔ان دونوں کے نزول کے بعد حضورؐ اس دنیا میں صرف  اسی روز رہے ۔ان دونوں کے بعد آیتِ کلالہ نازل ہوئی جس کے بعد عمر شریف کے کل پچاس دن باقی رہ گئے ۔اس کے بعد آیت لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ نازل ہوئی جس کے بعد عمر شریف کے 35 روزباقی تھے۔ اس کے بعد آیت اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ  نازل ہوئی جس کے بعد اکیس روز اور مقاتل کے مطابق صرف سات روز کے بعد وفات ہوگئی۔(معارف القرآن)

ــــ بخاری کی روایت کے مطابق حضرت عمر فاروقؓ   حضرت عبداللہ بن عباسؓ  کو  عموما شیوخ کی محفل میں بلاتے۔اعتراض ہوا کہ آپ  ہمارے بچوں کو تو نہیں بلاتے ۔حضرت عمرؓ نے سب  بزرگ صحابہ کے ساتھ حضرت ابن عباس کو بلایا۔ سب سے اس سورۃ کا مفہوم پوچھا۔ لیکن حضرت عبد اللہ ابن عباس نے فرمایا کہ یہ حضورؐ کے وصال کی اطلاع ہے۔ ان کے اس تبصرے پر حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ وجہ ہے کہ میں عبد اللہ  کو ایسی مجلسوں میں بلاتا ہوں۔ (تفہیم القرآن)

نظمِ کلام:سورۂ الملک، سورۂ الھمزہ

سورۂ نصر کا مقامِ نزول: سورۃ کا مقامِ نزول منیٰ (مضافاتِ مکہ)ہے ، اس لیے جغرافی اعتبار سے اسے مکی ہونا چاہیے ،لیکن چونکہ زمانۂ نزول عہدِ مدنی کا ہے یعنی ذی الحجہ سنہ 9ھ ،اس لیے تاریخی اعتبار سے یہ مدنی سورتوں میں شما ر ہوتی ہے،اور یہ آخری سورت ہے جو ساری ایک ہی وقت میں نازل ہوئی ہے۔(تفسیرماجدی)


اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ  ﴿1﴾ وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ  ﴿2﴾ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠  ﴿3ع النصر 110﴾
1. جب خدا کی مدد آ پہنچی اور فتح (حاصل ہو گئی)۔ 2. اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔ 3. تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہ معاف کرنے والا ہے۔

تفسیر آیات

1۔ وضاحت نہیں کہ کون سی فتح  مراد ہے لیکن ہر شخص سمجھتاہے کہ اس سے فتح مکہ مراد ہے ۔نہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی پر ان کا یہ اثر پڑا کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد کی نیکیوں میں تفاوت ہوا، کفر نے اسلام کے آگے گھٹنےٹیک دئیے ،بعثت محمدی کا اصل مقصد پورا ہوگیا ۔(تفہیم میں فتح سے مراد مکمل غلبۂ اسلام  ،وگرنہ عبداللہ بن عباس کی روایت کے خلاف کہ یہ آخری مکمل سورۂ ہے  کیونکہ سورۂ توبہ فتح مکہ کے بعد مکمل نازل)(تدبرقرآن)

ــــ یہاں نصرت اور فتح کا ذکر جس طرح ساتھ ساتھ ہواہے۔ کوئی فتح اللہ کی  مدد کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ یہ جائز نہیں کہ کوئی اپنی فتح پر اترائے اور اپنی تدبیر جنگ کے گھمنڈ میں ہو۔ (تدبرقرآن)

ــــ ضرورت سب چیزوں کی ہوگی یعنی تدبر، سوجھ بوجھ، گفت و شنید، محنت ، جدوجہد، لگن، شجاعت و بہادری اور اگر جنگ اور لڑائی کی ضرورت پڑی تو اس کی بھی لیکن یہ یقین اور ایمان ضروری ہے کہ فتح ہمیشہ اللہ کے چاہنے سے ہوگی ۔یہی عقیدۂ توحید ہے۔(خرم مراد)

2۔ یہ اس عظیم بشارت کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو ہے جو اوپر مذکور ہوئی ۔لیڈروں کے جبرو استبداد کے بند ٹوٹتے ہی لوگ رکے ہوئے سیلاب کی طرح قبولِ اسلام کیلئے ٹوٹ پڑے ۔ اس سے قبل انصار کے بعض وفود حضورؐ  سے بیعت کیلئے آئے تو قریش نے ان کو ڈرایا کہ آپ لوگ ان سے بیعت کررہے ہیں تو یادرکھیں کہ یہ اسود و احمر سے جنگ کے ہم معنی ہے ۔(تدبرقرآن)

۔یہ کیفیت 9 ھ کے آغاز سے رونما ہونی شروع ہوئی جس کی وجہ سے اس سال کو سال وفود کہا جاتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

3۔ اس پر اترانے اور فخر کرنے کے بجائے لوگ اپنے رب کی حمد و تسبیح کریں۔ دوسرے حضورؐ کیلئے بشارت ۔اس حالت میں حضورؐ کیلئے سب سے بڑی بشارت کوئی ہوسکتی ہے کہ وہ دن آئے کہ آپ اس بارِ عظیم سے سبکدوش ہوں اور باعزت طریقہ سے ہوں ۔حضراتِ انبیاء سے اتباعِ ھوا کے قسم کے گناہ   صادر نہیں ہوتے لیکن بعض اوقات کوئی نیک محرک ان کو کسی نیکی میں حدِ مطلوب سے متجاوز کردیتاہے۔(تدبرقرآن)

ــــ حضرت عائشہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ آپؐ اتنی کثرت سے سبحان اللہ   وبحمدہ کہتے تھے کہ میں نے کہا کہ آپؐ اتنی کثرت سے پڑھتے ہیں تو فرمایا کہ مجھ سے کہاگیا تھا کہ ایک علامت ظاہر ہوگی اور جب یہ ظاہر ہوجائے تو پھر کثرت سے تسبیح اور حمد کرنا اور وہ علامت یہی سورۃ تھی ۔جب آپؐ نے حمدوتسبیح و استغفار کی بہت زیادہ کثرت کردی تو حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تو آپؐ کی ساری غلطیاں معاف کردی ہیں تو پھر آپؐ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ کہ پاؤں سوج جاتے ہیں ،نیندپوری نہیں کرپاتے تو فرمایا افلااکون عبدا شکورا ۔کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں۔(خرم مراد)

ــــ فریضۂ اقامتِ دین کی ادائیگی کے دوران اور عام لوگوں کو دین کے راستے پر ساتھ لیکر چلتے ہوئے استغفار کرنا چاہئیے ۔یہ ساری غلطیاں ہوسکتی ہیں اور اس کیلئے چوکس اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، اپنے اوپر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے اور اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کوئی کام ایسا سرزد نہ ہوجائے جو اللہ کے حکم اور اس کی مرضی کے خلاف ہو ۔اس لئے کہ اصل کام تو نہ لوگوں کی تعداد سے ہوتاہے ،نہ مال و اسباب سے اور نہ ساز و سامان سے بلکہ اللہ کی نصرت سے ہوتاہے اور جو اللہ کو ناراض کرے گا ،اس کے حصے میں نہ اس کی نصرت آسکتی ہے نہ فتح۔(خرم مراد)