111 - سورة اللّھب (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 5

مضمون: نبیؐ کے دشمن کی بربادی کی بشارت۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول: سورۂ اللھب ، غالبا رسول اللہؐ کے قیامِ مکہ کے دوسرے دور میں اعلانیہ تبلیغ کے بعد 4 سن نبوی میں نازل ہوئی جب آپؐ نے کوہ صفاء پر چڑھ کر اعلانیہ تبلیغ کی جس پر ابولہب نے آپؐ کیلئے "تبّاً لَکَ" کے الفاظ استعمال کئے(بخاری) یا پھر ہوسکتاہے کہ جب آپؐ کو شعبِ ابی طالب میں جو 3سال کیلئے (7تا10نبوی) نظربندکیا گیا ۔جس میں ابو لہب نے اپنے خاندان ،بنوہاشم کو چھوڑدیا ،یہ سورت نازل ہوئی۔

نظمِ کلام: سورۂ الملک، سورۂ الھمزۃ

پہلی آیت کی تاویل:اس ربط کی ایک لطیف مثال اس آیت میں بھی ہے۔ "جن لوگوں نے کہا کہ ہمارارب اللہ ہے پھر اس پر جمے رہے، ان پر ملائکہ یہ بشارت لے کر اترتے ہیں کہ نہ خوف کرونہ غم اور تمہارے لیے اس بہشت کی خوشخبری ہے جس کے وعدے کیے  جاتے رہے"۔مفصل بحث معوذتین کی تفسیر میں آئے گی۔ یہاں صرف اشارہ کافی ہے۔ اس تمہید سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ تمام سورتیں (سورۂ نصر، سورۂ اخلاص اور معوذتین)باہم دگرمربوط ہیں۔۔۔۔۔اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مکسور الید (شکست دست)سے مراد وہ شخص ہوتاہے جو مقابلہ سے عاجز ہو اور تلوار اٹھانے کی قدرت نہ رکھتاہو۔پس آیت تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَهَبٍ (ابوالہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے)نہ تو بددعا ہے اور نہ اس میں کوئی پہلو ہجو اور ندمت کا ہے بلکہ ابولہب کا ذکر کنیت کے ساتھ کیا گیا ہے ،جس سے عزت و احترام کا پہلونکلتاہے ،اس لیے اس آیت کی ظاہر تاویل یہ ہے کہ یہ دشمنانِ خدا کے سرغنہ اور قریش کے فرعون کی ہلاکت کی بشارت ہے،اسی طرح مَا اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ۔(نہ اس کا مال کام آیا نہ اس کی کمائی)بھی ایک پیشین گوئی ہے جس کی تفصیل بعد میں آئے گی۔یہ سوال کیا جاسکتاہے کہ ہم نے ابولہب کو اس امت کا فرعون کہا،حالانکہ آنحضرتؐ اور آپ کے صحابہؓ کی مخالفت میں ابولہب کی سرگرمیاں ابوجہل اور ابوسفیان کی سرگرمیوں اور صف آرائیوں کے مقابل میں کوئی وزن نہیں رکھتی  ہیں؟اس کا سادہ اور واضح جواب تو یہ ہے کہ خدانے تمام دشمنوں میں سے اسی کا ذکر خاص طورپر کیا ہے اور دوسرے جواب جو غوروفکر کے بعد سامنے آتے ہیں ان کا ذکر ذیل میں آئے گا۔(تفسیر فراہی)

ابولہب کے خاص طورپر ذکر کے اسباب:۔ ۔۔۔اپنے منصب دینی کی وجہ سے دین الٰہی کا اصلی دشمن یہی تھا۔ باقی سارا قریش اسی کے تابع فرمان تھا۔ پس جب یہ کہا گیا کہ ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ خود ڈھ گیا۔تو گویا یہ اعلان کردیا گیا کہ بنیادِ کفر ہل گئی اور قلعہ شرک و فساد مسمار ہوگیا۔۔۔۔۔جب قریش نے حمایت شرک اور حمیتِ جاہلیت کے جوش سے بے قابو ہوکر پورے خاندان بنی ہاشم کے خلاف و ہ مشہورظالمانہ معاہدہ لکھا اور ان کے مشرک و مومن سب سے مقاطعہ کرلیا تو ابولہب نے تمام تعلقات رحم و قرابت سے بے پرواہوکر بنی ہاشم کے خلاف قریش کا ساتھ دیا۔۔۔۔۔ابولہب نے اس نازک وقت میں بنی ہاشم سے قطع تعلق کرکے اپنے لیے سب سے بڑی ذلت خود پسندکرلی۔۔۔۔قریش کے لیے سب سے بڑی مذہبی جنگ بدر کا معرکہ تھا۔ اس معرکہ میں تمام سردارانِ قریش حمیت مذہب کے نشہ سے سرشار ہوکر پیغمبر اسلام کو شکست دینے کے لیے میدان میں اُترے لیکن ابولہب اس موقع پر گھر میں بیٹھارہا۔۔۔۔۔کعبہ سے سونے کے ہرن کی چوری کا الزام اسی پر لگایا گیا۔۔۔۔۔بلکہ اس کا تمام بغض و عناد آنحضرتؐ کی تعلیم کے سبب سے تھا۔آپؐ فیاضی کا حکم دیتے تھے ،بخل کی مذمت فرماتے تھے ،یتیموں اور مسکینوں کی دستگیری کی لوگوں کو نصیحت کرتے تھے ،غلام آزاد  کرنے کا اجرو ثواب بیان فرماتے تھے،اور قحط و مصیبت کے ایام میں بنی ہاشم کی طرف سے غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کی جو مقدس سنت حضرت ابراہیمؑ کی یادگارتھی اس کو قائم رکھنے کی نصیحت فرماتے تھے ۔یہ تمام تعلیم تزکیۂ نفس اور تولیتِ بیت اللہ کے منصبِ عظیم کے لیے ضروری تھی، لیکن ابولہب کے لیے اس کا ایک ایک لفظ برق خرمن سوز تھا کیونکہ اس سے اس کے بخل و خیانت کا تمام اندوختہ معرض خطرمیں پڑگیا۔۔۔۔۔دوسرے موقع پر اسی امر الٰہی کی تعمیل کے لیے آپؐ نے دعوت کا سامان کیا اور اپنے تمام قرابت داروں کو بلایا جب لوگ کھانے سے فارغ ہوچکے تو آپؐ نے کچھ ارشاد فرمانا چاہالیکن ابولہب نے بات کاٹ دی اور لوگوں کو مخاطب ہوکر کہا "تم لوگوں پر یہ پہلے سے ہی جادو چلا رہے تھے" یہ سن کر تمام لوگ منتشر ہو گئے اور آپؐ کو کچھ کہنے کا موقع نہ ملا۔۔۔۔جب آنحضرتؐ خاندان کے لوگوں سے مایوس ہوگئے تو آپؐ نے موسم حج میں عام قبائلِ عرب کے سامنے اپنی دعوت پیش کی۔ اس وقت ابولہب آپ کے پیچھے پیچھے ہوتااور لوگوں کو آپؐ سے بدگمان کرنے کے لیے یہ منادی کرتاتھا۔اے بنی فلاں! یہ شخص چاہتاہے کہ تم لات و عزیٰ سے برگشتہ ہوکر اور بنی مالک ابن قیس کےجنابت خلفاء سے قطع تعلق کرکے اس کی لائی ہوئی بدعت و ضلالت قبول کرلو۔پس تم اس کی بات ہر گز نہ مانو۔وہ اسی اسلام دشمنی اور عداوت حق پر قائم رہا۔ یہاں تک کہ اسی رنج و غم نے اس کو ہلاک کردیا۔  مفصل بحث تیسری آیت کی تفسیر کے ذیل میں آئے گی۔۔۔۔یہ بددعا اور مذمت نہیں ہے لیکن ابولہب کاخاص طورپر ذکرکرنے کا ایک اور پہلو بھی ہے، دشمنانِ خدا سے براءت اور سب سے کٹ کر خدائے واحد سے رشتہ جوڑنے کا مضمون پنہاں ہے۔۔۔۔۔جن کے اعمال خدا سے دور کرنے والے ہوں گے وہ نیکیوں کے رشتہ و قرابت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔یہاں تک کہ اس نبی کا رشتہ بھی ان کے لیے کچھ سودمند نہیں ہوسکتا جو خداکو سب سے زیادہ محبوب ہے۔۔۔۔۔پیغمبر عالمؐ نے اپنے چچا کے خلاف اعلانِ حق کردیا۔ ابولہب کے لیے یہ زخم نہایت کاری تھا کیونکہ یہ اعلان اس ذاتِ اقدس کی طرف سے ہواتھا جو تمام دنیا کے لیے عموماً اور اپنے رشتہ داروں کے لیے خصوصاً سراپا مہرو محبت تھی۔(تفسیر فراہی)

ابولہب کی بیوی کا ذکر کیوں کیا گیا؟:  جو بخل سے محفوظ رہے، انہی نے فلاح پائی۔ "قرآن پاک میں متعدد سورتیں صرف  بخل کی مذمت کے لیے مخصوص کی گئیں ۔مثلاً سورہ تطفیف ،سورہ تکاثر ،سورہ ہمزہ حالانکہ خالص توحید کے مضمون کے لیے صرف ایک ہی سورہ مخصوص کی گئی ہے۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ بخل کس قدر خوفناک برائی ہے اور عورتوں کا شوقِ زینت اور ادائے حقوق سے مانع ہونا کتنا بڑا فتنہ ہے۔"(تفسیر فراہی)

زمانۂ نزول: یہ سورہ ابولہب کے جواب میں نہیں بلکہ ایک ہونے والے واقعہ کی پیشین گوئی اور خبر ہے،اس وجہ سے لازماً یہ اس وقت اتری ہے جب ابولہب کا کفر پر اصرار بالکل واضح ہوگیا ہے ۔(تفسیر فراہی)


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ ﴿1﴾ مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ ﴿2﴾ سَیَصْلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍۚۖ ﴿3﴾ وَّ امْرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الْحَطَبِۚ ﴿4﴾ فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ۠ ﴿5ع المسد 111﴾
1. ابولہب کے(دونوں) ہاتھ ٹوٹیں اور وہ ہلاک ہو۔ 2. نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا۔ 3. وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا۔ 4. اور اس کی جورو بھی جو ایندھن سر پر اٹھائے پھرتی ہے۔ 5. اس کے گلے میں مونج کی رسّی ہو گی۔

تفسیر آیات

1۔حضورؐ دودفعہ بنوہاشم کو گھربلاکر دین کی دعوت دے چکے تھے۔ اس لئے جب کوہِ صفاء پر چڑھ کر آپؐ نے لوگوں کو خبردار کیا تو ابولہب بخوبی جانتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ کچھ نے کہا"اَبْتَرُ" تورب نے جواب دیا  اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۔تبّاً لَکَ کے جواب میں تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّ۔(بیان القرآن)

ــــ ابولہب کا ذکر نام کے ساتھ کیوں ؟ بیت المال (رفادہ) کا نگران تھا اس کا بڑا حصہ یتیموں، مسکینوں اور حاجیوں کے بجائے اس کی اپنی جیب میں جاتا جس کی بدولت وہ اپنےزمانے کا قارون بن گیا ۔جب اُس نے بیت اللہ کے مقصد تعمیر کی آیتیں سنیں تو اسے محسوس ہوا کہ اس کے احتساب کا وقت قریب آرہاہے ۔چنانچہ وہ کمرباندھ کر آپ کی دعوت کی مخالفت میں اٹھ کھڑا ہوا ۔دوسری وجہ ۔انبیاء کی دعوت نسب و رشتہ کے بغیر ۔حضرت نوحؑ  کے بیٹے ،حضرت ابراہیم کے باپ، حضرت لوط کی بیوی کے واقعات قرآن میں خاص اہتمام سے بیان ہوئے ہیں ۔اسی لئے ابولہب کا ذکر اس اہتمام سے ہوا۔غزوۂ بدر میں قریش کے جو سردار مارے گئے ان میں اس کے بہت خاص آدمی تھے۔ پھر وہ خود چیچک کا شکار ہوا۔ذلت کی موت۔نہ مال کام آیا ،نہ اولاد، نہ دوست۔ غزوۂ بدر میں بزدلی کی وجہ سے اس کی عدمِ شرکت ۔اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ روپیہ کی بڑی سے بڑی مقدار بھی خدا کی پکڑسے نہیں بچا سکتی ۔(تدبرقرآن)

ــــ  ہاتھ کا لفظ اردو میں بھی اور عربی میں بھی زور و قوت کیلئے استعمال ہوتاہے۔"میں نے زور بازو سے یہ کام کیا" یہ ہم محاورتاً ااستعمال کرتے ہیں اور بازو ٹوٹ جانا قوت ختم ہوجانے کے معنوں میں آتاہے۔ اس طریقے سے ہاتھ کا لفظ مدد کرنے والوں اور اپنے دوستوں کیلئے بھی استعمال ہوتاہے۔وہ میرادست راست تھا۔ وہ میرا سیدھا ہاتھ تھا وغیرہ۔ٌ وتبٌ  کے معنی ہوئے کہ زور بھی ٹوٹ گیا اور اس کے جوساتھی تھے وہ بھی ختم ہوگئے اور وہ خود بھی ہلاک و برباد ہوگیا ۔آخر ابولہب کا نام کیوں لیا گیا ؟(قرآن نام نہیں لیتا ۔محض چند نام مثلاً فرعون، قارون، ہامان، آذر وغیرہ)(i) یہ اسی ماں سے جس ماں سے حضورؐ کے والد ماجد ،سیدنا عبداللہ تھے۔سگا چچا ہونے کے باوجود حضورؐ کی تمام عمر مخالفت۔(ii) ابولہب کے پاس خزانے کی کنجی تھی ، اس لیے آپ اسے قریش کی ریاست کا وزیر خزانہ کہہ سکتے ہیں، اور خزانہ کو وہ ذاتی مال کی طرح خرچ کرتا تھا۔ اسے خدشہ تھا کہ حضورؐ کی کامیابی کی صورت میں وہ اس منصب پر قائم نہ رہ سکے گا۔(iii) سب سے آگے بڑھ کر (کوہ صفاپر) ابولہب نے مخالفت کی اور کہا کہ آپؐ برباد اور ہلاک ہوں(iv)پھر وہ ہمیشہ آپؐ کے پیچھے لگارہتا اور آپکی تبلیغ میں رکاوٹیں ڈالتا(v)اس کی دیوار آپؐ کے گھر کی دیوار سے ملی ہوئی تھی (آپؐ کو اذیت دینے کے لیے وہ کبھی کانٹے کبھی  گندگی پھینک دیتا) (vi)اس کے دوبیٹے عتبہ اور عتیبہ  کا نکاح آپؐ کی بیٹیوں ام کلثوم اور رقیہ سے ہوا تھا جن  کو  اس نے طلاق دلوا دی (vii) جب حضورؐ  کے دوسرے بیٹے عبداللہ فوت ہوئے تو آپؐ سے ہمدردی کی بجائے دوڑا ہوا گیا اور قریش کو اطلاع دی کہ محمدؐ کی نسل کٹ گئی(viii) جب قریش نے حضورؐ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا  اور آپؐ شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے تو اس کے علاوہ تمام بنو ہاشم نے حضورؐ کا ساتھ دیا(ix) دارلندوہ میں حضورؐ کے قتل کے مشورہ میں شریک رہا اور قاتلوں کا بھی ساتھ دیا(x) اللہ کی راہ میں دولت خرچ کرنا، دعوتِ محمدی کا دوسرا اہم حصہ (توحید کے بعد) اس کی زد اس پر براہ راست  پڑتی ہے۔ (خرم مراد)

2۔ ابولہب سخت بخیل اور زرپرست آدمی تھا ۔اُس پر الزام لگا کہ اس نے کعبہ کے خزانے سے دوہرن چرالئے تھے۔ اس کی زرپرستی کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر جبکہ اس کے مذہب کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا تھا، قریش کے تمام سردار لڑنے کے لیے گئے، مگر اس نے عاص بن ہشام کو اپنی طرف سے لڑنے کے لیے بھیج دیا اور کہا کہ یہ اس چار ہزار درہم قرض کا بدل ہے جو میرا] تم پر آتا ہے۔ اس طرح اس نے اپنا قرض وصول کرنے کی بھی ایک ترکیب نکال لی، کیونکہ عاص دیوالیہ ہوچکا تھا اور اس سے رقم ملنے کی کوئی امید نہ تھی۔(تفہیم القرآن)

ــــ دوسری آیت کی تاویل اور پیشین گوئی کی صداقت: ماکسب سے حضرت ابن عباس کے نزدیک اس کے بیٹے مراد ہیں۔۔۔۔دوسرا پہلو یہ ہوسکتاہے کہ ماکسب سے اس کی وہ کمائی مراد لی جائے جو حرام و حلال ہرراہ سے اس نے جمع کی تھی۔(تفسیرفراہی)

3۔ماکسب سے مراد۔ اس کے وہ اعمال ہیں جو اس نے اپنی دانست میں نیکی سمجھ کر کئے لیکن اس کے خبثِ باطن اور شرک کے سبب  وہ بھی رائیگاں ہوگئے۔ شعبۂ خزانہ کا انچارج تھا اس وجہ سے اسے غریبوں ،مسکینوں، اور حاجیوں کی خدمت کے کچھ کام نمائش  کے لئےکرنے ہی پڑتے تھے ۔جو خدا کے ہاں درخور اعتنانہیں ٹھہرتے ۔(تدبرقرآن)

4۔ معلوم ہوتاہے کہ ابولہب کی بیوی بگڑی ہوئی بیگمات کی طرح فیشن کی دلدادہ ،زیورات کی شوقین، دولت کی حریص اور نمائش کی رسیا تھی ۔ اس نے ابولہب کے بگڑے ہوئے مزاج کو اور بگاڑا اور عذاب میں اپنے شوہر کے ساتھ شریک ہوئی۔ اصل  مقصود لوگوں ،بالخصوص طبقۂ نسواں کو، اس کے انجام سے عبرت دلانا ہے کہ ایک بگڑی ہوئی عورت کس طرح اپنی تباہی اور اپنے شوہر اور اولاد کی تباہی کا سامان کرتی ہے ۔(تدبرقرآن)

ــــ سفیانِ ثوریؒ کہتے ہیں کہ وہ لوگوں میں فساد ڈلوانے کیلئے چغلیاں کھاتی پھرتی تھی۔ اس لئے عربی محاورے کے مطابق لکڑیاں ڈھونے والی کہاگیا۔"حَمَّالَةَ الْحَطَبِ" کے معنی ٹھیک ٹھیک وہی ہیں جو اردو میں "بی جمالو" کے ہیں۔اس کا نام اروی تھا اور ام جمیل اس کی کنیت تھی ۔یہ ابوسفیان کی بہن تھی اور شوہر سے حضورؐ کی عداوت میں کچھ کم نہ تھی ۔حضرت اسماء کا بیان ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو یہ بپھری ہوئی حضورؐ کی تلاش میں ، ہاتھ میں مٹھی بھر پتھر اور آپ کی ہجو میں میں اشعار پڑھتی ہوئی آئ ۔حرم میں حضورؐ اور حضرت ابوبکر تشریف فرما تھے۔۔۔ وہ آپؐ کو دیکھ نہ سکی۔ اس نے حضرت ابو بکر سے کہاکہ میں نے سنا ہے کہ تمہارے صاحب نے میری ہجو کی ہے۔ حضرت ابو بکر نے جواب دیا، اس گھر کے رب کی قسم انہوں نے تمہاری کوئی ہجو نہیں کی۔۔۔ حضرت ابو بکر کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ اس کی ہجو حضورؐ نے نہیں بلکہ اللہ نے کی ہے ۔(تفہیم القرآن)

ــــ  حَمَّالَةَ الْحَطَبِ چغل خور کو بھی کہتے ہیں ۔حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا کہ تین اعمال ایسے ہیں جو انسان کے تمام اعمال کو ضائع کردیتے ہیں،روزہ دار کا روزہ اور وضو والے کا وضو خراب کردیتے ہیں یعنی غیبت ،چغل خوری اور جھوٹ ۔(معارف القرآن/ضیاء القرآن)

ــــ  بنو ہاشم سے حضورؐ کا تعلق تھا وہ ہاشم کی اولاد میں سے تھے اور امیہ کی اولاد میں سے ابوسفیان اور ابوجہل تھے۔ وہ ابوسفیان کی بہن ،بنو امیہ کے بڑے سردار حرب کی بیٹی تھی اور ابولہب عبدالمطلب کا بیٹا تھا۔(خرم مراد)

5۔ جس ہار کو پہن کر وہ دنیا میں اتراتی تھی قیامت کے دن وہ موٹی رسی کی شکل میں بدل جائیگا جس کے سبب اس کی مثال اس لونڈی کی ہوجائیگی جو گلے میں رسی ڈال کر لکڑیاں چننے جارہی ہو۔(تدبرقرآن)

ــــ  جیْدٌ کا لفظ اس گردن کیلئے استعمال ہوتاہے جو ہار اور زیورات سے بھری ہوئی ہو ۔ایک بیٹے عتیبہ نے تو دشمنی میں آکر حضورؐ کی بیٹی کو طلاق دی، حضورؐ کی تضحیک  کی اور حضور کی بددعا۔اس کا بڑا بیٹا عتبہ طلاق نہیں دینا چاہتا تھا ۔مجبورا  ً دی مگر دل میں ہمیشہ شرمندہ رہا اور فتح مکہ کے موقع پر معافی مانگی اور مسلمان ہوگیا۔ابولہب کی ایک بیٹی درۃ اور ایک تیسرے بیٹے نے بھی اسلام قبول کیا ۔گویا نہ اس کا مال اور نہ اولاد اس کے کام آئے ۔اللہ کی عدالت میں  رشتوں کا لحاظ نہیں جیسے حضرت نوح کا بیٹا وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ۔رشتوں کے بارے ۔سورۂ توبہ (آیت:24) وَلَا  تَهِنُوْا  وَلَا  تَحْزَنُوْا  وَ  اَنْتُمُ  الْاَعْلَوْنَ  اِنْ  كُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ (دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو۔3: 139)دنیا میں اس کے دشمنوں کو تباہ و برباد کردے گا اور بلآخر حق غالب آکر رہے گا۔(خرم مراد)