113 - سورة الفلق (مکیہ)

رکوع - 1 آیات - 5

مضمون: خزانۂ توحید کی پاسبانی کے لیے تمام آفتوں سے رب کی پناہ پکڑنے کی تلقین۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

شانِ نزول:معوذتین:۔  اس سورۃ میں ان امور کا ذکر کیا گیا جو انسان کی جسمانی نشونما اور صحت و عافیت کیلئے خطرناک ہیں (یعنی بیرونی امور) اور دوسری سورۃ میں ان خطرات کا ذکر کیا گیا ہے جو اس کے ایمان و ایقان (روحانی /اندرونی امور) کو چھین لینا چاہتے ہیں۔)ضیاء القرآن(

ــــ  اعلانِ عام کے بعد دوسرے دور(4تا5 نبوی) میں نازل ہوئی جب نومسلم صحابہؓ کیلئے مخالفین کے شرکا آغاز ہوچکاتھا ۔بعض کے نزدیک یہ مدنی سورت ہے اور یہ اُس وقت نازل ہوئی جب آپؐ پر جادوکیا گیا ۔حضورؐ سورۂ الاخلاص اور معوذتین سونے سے پہلے پڑھ کر پھونکتے اور اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتے(بخاری)معوذتین آفاتِ سماوی میں پڑھنے والے کو پناہ فراہم کرتی ہیں (ابوداؤد) جادو کے اثر سے محفوظ رکھتی ہیں۔(طبرانی) حضرت عائشہؓ  نے  مرضِ موت میں ان دونوں سورتوں کو پڑھ کر آپؐ پر دم کیا تھا(بخاری)

نظمِ کلام: سورۂ الملک، سورۂ الاخلاص۔۔۔۔۔ جادوکی کیفیت، معوذتین کی قرآنیت اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت،حضورؐ پر جادو اور منصبِ نبوت،اسلام میں جھاڑ پھونک کی اہمیت وغیرہ ۔ برا ۓ مطالعہ: (تفہیم :546 تا562) جھاڑ پھونک کے بارے اسلام کا حکم اور شرک پر رائے(ضیاء :725)


قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِۙ ﴿1﴾ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَۙ ﴿2﴾ وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَۙ ﴿3﴾ وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِۙ ﴿4﴾ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠ ﴿5ع الفلق 113﴾
1. کہو کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں۔ 2. ہر چیز کی بدی سے جو اس نے پیدا کی۔ 3. اور شب تاریکی کی برائی سے جب اس کااندھیرا چھا جائے۔ 4. اور گنڈوں پر (پڑھ پڑھ کر) پھونکنے والیوں کی برائی سے۔ 5. اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب حسد کرنے لگے۔

تفسیر آیات

 1۔ اَلْفَلَقُ کا ترجمہ عام طورپر لوگوں نے صبح کیا ہے لیکن اس کے اصل معنی پھاڑنے کے ہیں۔ صبح شب کے پردے کو چاک کرکے نمودار ہوتی ہے۔ پھاڑ کر نمودار ہونے والی صرف صبح ہی نہیں ہے۔ گٹھلی  سے پودا ،زمین کو پھاڑ کر نباتات ،پہاڑوں کا سینہ چاک کرکے چشمے اور دریا ،انڈے کو پھاڑ کر بچے ،رحم کے منہ کو کھول کر بچے ۔ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى۔(تدبرقرآن)

2۔ فرمایا کہ جس خداوند نے تمام عالم کو نمودار کیا ہے اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے شر سے پناہ ان کے پیدا کرنے والے ہی سے مانگو،کسی دوسرے سے نہیں ۔(تدبرقرآن)

3۔ رات کی جو تاریکی تمہاری راحت کیلئے ناگزیر ہے اسی کے ظلال و آثار میں سے یہ چیز بھی ہے کہ اس میں چور، قاتل، دشمن  اور حشرات و ہوام  نکلتے ہیں جن سے تمہیں نقصان پہنچ سکتاہے ۔اسی نے رات کا سکون بخشاہے اور وہی اس میں خلل انداز ہونے والی آفتوں سے پناہ دے سکتاہے۔(تدبرقرآن)

ــــ  اس سے مراد وہ تاریکی بھی ہے جورات کے وقت طاری ہوتی ہے اور وہ تاریکی بھی جو دنیا کے اندر گمراہی کی تاریکی ہے اور وہ تاریکی بھی جو گناہ کی تاریکی ہے جس سے دل پر سیاہ داغ لگ جاتاہے ۔رات کی تاریکی کے اندر بے شمار خطرات لاحق ہوتے ہیں اور بے شمار فتنے اس میں پوشیدہ ہوتے ہیں۔چوری بھی رات کو ہوتی ہے ،ڈاکے بھی عموماً رات کو ،گناہ کے بے شمار کام بھی رات کی تاریکی میں ،اسی لئے برائی کیلئے ظلمات کا لفظ اور نورِ ہدایت کیلئے "نور" کا لفظ ۔اندھیرا ظلم کیلئے بھی استعمال ہوتاہے۔(خرم مراد)

4۔ مادی اور محسوس آفات سے پناہ مانگنے کے بعد غیر مادی اور غیر محسوس آفتوں سے پناہ مانگنے کی تلقین ہے۔ عربیت کے قاعدہ سے آپ"نفَّاثَاتٌ" سے ارواحِ خبیثہ اور نفوسِ خبیثہ مراد لے سکتے ہیں ۔عام اس سے کہ وہ مرد ہوں یا عورتیں۔گرہوں میں پھونک مار نے کا یہ طریقہ ٹونے ٹوٹکے اور گنڈے کا عمل کرنے والے اختیار کرتے ہیں ۔منفعل مزاجی ،وہمی پن اور شیطانی گردش سے اپنے آپکو محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ اس سورۂ نے یہی بتایا ہے کہ آدمی اپنے کو ہمیشہ اپنے رب کی پناہ میں رکھے جس کا بہترین ذریعہ دونوں سورتیں ہیں۔(تدبرقرآن)

ــــ واقعہ کچھ یوں ہے کہ یہودیوں (لبید اور اس کی بہنوں) نے آپؐ پر جادوکیا ۔انہوں نے رسیوں اور بالوں پر گرہیں دے کر ، پھونک کرانہیں کنوئیں میں ڈال دیا۔اثر یہ ہوا کہ آپؐ کوئی کام نہیں کرتے تھے لیکن خیال ہوتاتھا کہ یہ کام کرلیا ہے یا کوئی کام  کیا ہو تو سمجھ لیا کہ نہیں کیا ہے۔انسان کی حیثیت سے یہ چیزیں(سجدہ سہو، بیماربھی ہوتے،زخمی بھی)۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اس جادو سے فریضۂ رسالت کی ادائیگی میں کوئی خلل نہیں پڑنے دیا ۔(خرم مراد)

ــــ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپؐ صلح حدیبیہ سے واپس لوٹے تو آپ پر جادو کیا گیا جس کا اثر یہ ہواکہ آپؐ کو معلوم ہوتاکہ آپؐ ایک کام کررہے ہیں حالانکہ وہ کرنہیں رہے ہوتے تھے۔آخر آپؐ نے ایک روز دعا کی (کہ اللہ اس جادو کا اثر زائل کردے)پھر فرمانے لگے:"عائشہؓ! تجھے معلوم ہوکہ اللہ نے مجھے تدبیر بتادی جس سے مجھے اس تکلیف سے شفا ہوجائے ۔ہوایہ کہ (خواب میں)دوآدمی میرے پاس آئے۔ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا پائتی کی طرف"ایک شخص نے دوسرے سے پوچھا : "اس شخص کو کیا تکلیف ہے؟"دوسرے نے کہا" اس پر جادو کیا گیا ہے "پہلے نے پوچھا" کس نے جادو کیا ہے؟"دوسرے نے جواب دیا:"لبید بن اعصم(یہودی)نے "پہلے نے پوچھا :"کس چیز میں جادو ہے؟دوسرے نے جواب دیا "گنگھی اور آپ کے بالوں اور نرکھجور کے خوشہ کے پوست میں"پہلے نے پوچھا:"یہ کہا ں رکھا ہے ؟"دوسرے نے جواب دیا:"ذروان کے کنوئیں میں"غرض آپؐ اس کنوئیں پر تشریف لے گئے جب وہاں سےپلٹے تو سیدہ عائشہؓ سے فرمایا:"اس کنوئیں کے درخت ایسے ڈراؤنے ہوگئے تھے جیسے ناگوں کے پھن ہوں "سیدہ عائشہؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہؐ ! آپؐ نے اس کو (یعنی جادو کے سامان کو)نکالا کیوں نہیں؟"آپؐ نے فرمایا" مجھے اللہ نے اچھا کردیا ۔اب میں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ لوگوں میں ایک جھگڑا کردوں"پھر وہ کنواں مٹی ڈال کر بھردیا گیا۔(بخاری۔کتاب بدء الخلق باب صفۃ ابلیس وجنودہ)(تیسیر القرآن)

5۔ اگرچہ لفظ"حاسد" یہاں عام ہے اور اس کو عام ہی رکھنا چاہئیے  بھی لیکن بنی آدم کا سب سے بڑا حاسد شیطان ہے اوراس کو خاص کدعقیدہ توحید سے ہے۔(تدبرقرآن)

ــــ  یہ تین چیزیں ہیں جن کا یہاں خاص طورپر ذکر کیا گیا ہے اور ان سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے یعنی(i)شر(ii) رات کی تاریکی (iii)حسد۔ صراط مستقیم پر چلنے کی دعا قرآن پاک کے شروع میں آئی اور صراط مستقیم پر چلنے کے دوران جو خطرات ہیں ان کا ذکر یہاں آیاہے ۔(خرم مراد)

ــــ حاسد جب اپنی قلبی کیفیت کو ضبط نہ کرسکے اور عملی طورپر حسد کا اظہار کرنے لگے اس کی بدی سے پناہ مانگنا چاہئیے۔(تفسیر عثمانی)

­­ــــ سحر مادِّیت ہی ایک سفلی قسم کے علم کا نام ہے اور اس سے نبی کا متاثر ہوجانا ایسا ہی ہے جیسے نزلہ ،زکام، بخار، دردسروں سے متاثر ہونا، جو کسی طرح قادحِ نبوت نہیں۔ سحر کا رواج یہود کے یہاں بہت زیادہ تھا اور ان کے ہاں بڑے بڑے ماہرینِ فن اس کے پیدا ہوتے رہتے تھے اور ان کی انسائیکلوپیڈیا میں آج تک ان کے کمالات کا ذکر چلا آرہاہے۔(تفسیر ماجدی)