114 - سورة الناس (مکیہ)
| رکوع - 1 | آیات - 6 |
مضمون:خزانۂ توحید کی حفاظت کے لیے شیطان کے شرسے پناہ پکڑنے کی تلقین۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شانِ نزول: سورۂ الفلق
نظمِ کلام: سورۂ الملک، سورۂ الاخلاص، سورۂ الفلق
کلیدی الفاظ اور مضامین: "ملک"بادشاہ،بااختیار حاکم، صاحب اقتدار،سب سے بڑی قوت، جو پناہ دے سکے۔۔۔۔۔"اِلٰہٌ"الٰہ کا مطلب سات مفاہیم پر مشتمل ہے۔(1)پناہ دینے والا(2)سکون بخشنے والا (3)حاجت روائی کرنے والا(4)پُراسرار(5)جس کو جاننے کے لیے لوگ متلاشی اور مشتاق ہوں،(6)بالاتر اور بالادست قوت، جو پناہ د ے سکے(7)معبود ، جس کی اطاعت و عباد ت کی جائے ۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
| قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ ﴿1﴾ مَلِكِ النَّاسِۙ ﴿2﴾ اِلٰهِ النَّاسِۙ ﴿3﴾ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ١ۙ۬ الْخَنَّاسِ۪ۙ ﴿4﴾ الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ ﴿5﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠ ﴿6ع الناس 114﴾ |
| 1. کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں۔ 2. (یعنی) لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی۔ 3. لوگوں کے معبود برحق کی۔ 4. (شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے جو (خدا کا نام سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ 5. جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ 6. وہ جنّات میں سے (ہو) یا انسانوں میں سے۔ |
تفسیر آیات
تفسیر آیات :
2۔ رسول اللہؐ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا:"میں بادشاہ ہوں،زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟"(صحیح بخاری،التوحید،باب:6، حدیث:7382))احسن الکلام(
3۔ یہاں جبکہ پہلے جملہ میں ربُّ النَّاسِ آچکا تو بظاہر تقاضامقام کا یہ تھا کہ آگے اس کی طرف ضمیریں راجح کرنے کا اہتمام کیا جاتا مَلِکُھُمْ، اِلٰہُھُمْ فرمایا جاتامگر اس لفظ کا بار بار تکرار اس لئے ہے کہ مقامِ دعاہے اور مدح و ثنا کا ہے اس میں تکرار ہی بہتر ہے۔(معارف القرآن)
ــــ یہ اللہ تعالیٰ کی پناہ اس کی تین صفتوں کے واسطہ سے چاہی گئی ہے ۔(تدبرقرآن)
4۔ الفاظ میں اگر چہ تصریح نہیں ہے لیکن ان صفات اور آگے کی تصریح سے واضح ہے کہ مراد اس سے شیطان ہی ہے ۔یہ شیطان کی تکنیک کی وضاحت ہے کہ اس کا سارا اعتماد وسوسہ اندازی ،پراپیگنڈے اور پرفریب وعدوں پر ہے۔ انہی چیزوں سے وہ لوگوں کو اپنے دامِ فریب میں پھنساتاہے پھر جب پھنسالیتاہے تو اپنے کو بری قرار دیکر بیوقوفوں کی بدانجامی کا تماشا دیکھتاہے۔ وسواس(وسوسہ ڈالنے والوں)اورخناس( دبک رہنے والے) کے درمیان صرف ربط نہیں ۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دونوصفتیں موصوف میں بیک وقت موجود ہیں خناسیت کا مظاہرہ یہود(بعض کے نزدیک شیطان) نے جنگ بدر کے موقعہ پر قریش کے ساتھ کیا ۔شیطان کے اسی کردار کو قرآن اس دنیا اور آخرت کیلئے بھی بیان کرتاہے ۔جیسے قرآن میں جگہ جگہ آخرت کے وقت گمراہ لیڈروں اور ان کے پیروکاروں کے توتکار کی تصویر کھینچی گئی ہے۔۔۔۔۔۔ لفظ خناس یہاں اسی کردار کی تصویر پیش کررہاہے تاکہ لوگ صرف اس کے چاؤ اور پیار ہی کو نہ دیکھیں جو وہ اس وقت ظاہر کرتاہے جب وہ ان کے پاس فریب دینے کیلئے آتاہے ۔بلکہ اس کی غداری و بیوفائی کو بھی پیشِ نظر رکھیں جس کا مظاہرہ وہ اس وقت کرتاہے جب آدمی اس کے دامِ فریب میں پھنس جاتاہے ۔(تدبرقرآن)
ــــ بعض علماء فرماتے ہیں کہ جب شیطان ،انسان کو ذکرالٰہی سے غافل پاتاہے تو اس کے حملے شروع ہوجاتے ہیں اور جب انسان اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگتاہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتاہے اور کسی کو نے میں چھپ جاتاہے ۔بعینہ اسی چور کی طرح جو نقب لگارہاہو اور اچانک کہیں سے روشنی ظاہر ہوجائے تو وہ دبک کر بیٹھ جاتاہے اور پتھر کی طرح ایک جگہ ساکت ہوجاتاہے اور روشنی کے غائب ہونے کے ساتھ ہی اپنا کام دوبارہ شروع کردیتاہے۔(ضیاء القرآن)
- اس مقام پر یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ وسوسہ عملِ شر کا نقطۂ آغاز ہے۔ وہ جب ایک غافل یا خالی الذہن آدمی کے اندر اثرانداز ہوجاتاہے توپہلے اس میں برائی کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔پھر مزید وسوسہ اندازی اُس بری خواہش کو بری نیت اور برے ارادے میں تبدیل کردیتی ہے۔۔۔۔تو ارادہ عزم بن جاتاہے ۔۔۔۔۔پھر عمل شر۔۔۔۔۔کھلے کھلے کفر،شرک،دہریت، یا اللہ اور رسول سے بغاوت اور اللہ والوں کی عداوت پر اُکساتے ہیں۔۔۔۔کسی نہ کسی بدعت کی راہ سُجھاتے ہیں۔۔۔۔۔چھوٹے چھوٹے گناہ کرلینے میں تو کوئی مضائقہ نہیں۔۔۔۔دین حق کو بس اپنے آپ تک ہی محدود رکھے، اُسے غالب کرنے کی فکرنہ کرے۔۔۔۔پھر شیاطینِ جن و انس کی پوری پارٹی ایسے آدمی پر پل پڑتی ہے۔۔۔۔۔ہرطرف بدنام اور رسواکرنے کی کوشش کرتی ہے۔ پھر شیطان اُس مردِ مومن کو آکر غصہ دلاتاہے۔۔۔۔اگر داعی حق بچ نکلے تو شیطان اُس کے آگے بے بس ہوجاتاہے۔(تفہیم القرآن)
ــــ شیاطین جن و انس کے شر سے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔وسوسوں کی ترتیب کچھ یوں ہوتی ہے: سب سے پہلے تو وہ گمراہ معاشرہ (شیاطین انس)کے ذریعہ ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں،ایسا نظام تعلیم نافذ کرواتے ہیں کہ اللہ رسول کی طرف توجہ نہ کی جاسکے۔ اگر کچھ اہلُ اللہ کی کوشش سے دین کی دعوت کا سلسلہ چل اٹھے تو پھر وہ کفر،شرک، دہریت یا اللہ اور رسول سے عداوت پر مختلف "دانشورانہ"طریقوں سے اکساتے ہیں۔ اس میں ناکامی ہو تو کبیرہ گناہوں کو حسین و مزیّن بناکر پیش کرتے ہیں۔ اس میں بھی ناکامی ہو تو یہ خیال ڈالتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں میں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ ان شیاطین جن و انس کی ایک خطرناک چال یہ ہوتی ہے کہ انسان کے تصوردین کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں اور یہ سمجھاتے ہیں کہ انسان دینِ حق کو بس اپنی ذات تک محدود رکھے ،اسے غالب و نافذ کرنے کی فکر نہ کرے۔ اگر کوئی شخص ان تمام چالوں سے بچ نکلے تو پھر شیاطین جن و انس کا گروہ ایسے شخص پر پل پڑتا،اس پر پوری طاقت سے حملہ کرتاہے ،اس کی کردار کشی کرتاہے اور اسے ہر طرف سے بدنام اور رسواکرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس موقعہ پر خود شیطان ہی اس شخص کو غُصّہ و غیرت دلاکر کہتاہے کہ ان حملہ آوروں کا مقابلہ کر۔ اس حربہ سے وہ پھر اس انسان کو اپنی ذات کے دفاع اور دین کے کام سے غفلت میں ڈالنے کی کوشش کرتاہے ۔اس موقع پر بھی اگر انسان بچ نکلے تو شیطان بے بس ہوجاتاہے ۔یہی وہ مواقع ہیں جن میں انسان کو اپنی ذاتی قوت کی نفی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حفاظت و پناہ میں آجانا چاہئےکہ ان شیاطین سے نمٹنا ربُّ الناس،ملک الناس اور الٰہ الناس ہی کاکام ہے۔(انوار القرآن)
۔ پس ناس کا اطلاق لغت عرب کی رو سے جنوں پر نہیں ہوسکتا، اور آیت کے صحیح معنی یہ ہیں کہ " اس وسوسہ انداز کے شر سے جو انسانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا خود انسانوں میں سے "(تفہیم القرآن)
ــــ اس سے مراد شیطان ہے، تاہم نفس انسانی بھی اس میں شامل ہے کیونکہ وہ بھی انسان کو بالعموم برائی ہی کی طرف لے جاتا ہے جیساکہ حدیث میں ہے،رسول اللہؐ نے فرمایا:"دوزخ نفسانی خواہشات میں گھری ہوئی ہے اور بہشت ان امور میں گھری ہوئی ہے جو نفس کو برے معلوم ہوتے ہیں۔"(صحیح بخاری، الرقاق،باب:28 ،حدیث:6487)یعنی نفسانی خواہش اور حیوانی جذبے دوزخ کی آگ کی طرف راہنمائی کرتے ہیں جبکہ ضبط نفس، صبر، پاک دامنی، بھلائی کے دیگر کام، اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت جنت کی طرف لے جاتے ہیں۔جو افعال جہنم کا سبب بنتے ہیں ان کا کرنا آسان معلوم ہوتاہے جبکہ جنت کے حصول کے اعمال بظاہر مشقت طلب دکھائی دیتے ہیں اور نفس پر گراں گزرتے ہیں۔ تاہم انسان کا کمال اور اس کی نجات انہی اعمال صالحہ کے اختیار کرنے میں ہے۔(احسن الکلام)
ــــ خناس میں ایک پہلو تو یہ آیاہے کہ یہ کشمکش ایک مسلسل کشمکش ہے۔ شیطان وسوسہ ڈالتاہے اور پھر چھپ جاتاہے ۔پھر موقع پاتاہے اور پھر وسوسہ ڈالتاہے ۔کوئی لمحہ ایسانہیں آتاکہ جب آدمی اس سے فارغ ہوجائے ۔یہ لڑائی شیطان کے ساتھ انسان کی موت تک جاری رہتی ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ شیطان مخفی دشمن ہے ۔دشمن اگر سامنے ہو تو اس سے لڑنا آسان ہوتاہے ۔شیطان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ جب بھی اللہ کا ذکر ہوتاہے وہ فوراً بھاگ کھڑا ہوتاہے ۔اس لئے اس سورۂ میں اللہ کی یاد میں پناہ لینے کی تعلیم دی گئی ہے ۔(خرم مراد)
ــــ شیطان دوقسم کے ہوتے ہیں ۔ایک وہ شیطان جس نے حضرت آدم کے ساتھ معرکہ کیا اور دوسرے اس کی ذریت یا چیلے چانٹے ۔مشہور واقعہ ہے کہ حضورؐ ایک دفعہ اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے ۔آپ کی زوجہ محترمہ حضرت صفیہ بن حیؓ ۔آپؐ ان کو دروازے تک چھوڑنے ۔دوانصاری صحابیؓ ۔ٹحہرو! یہ میری بیوی صفیہ ہیں ۔انہوں نے کہا سبحان اللہ۔۔۔۔فرمایا : لیکن شیطان تو اس طرح انسان کے ساتھ ہے جس طرح اس کی رگوں میں خون دوڑتاہے(مسلم، بخاری) وہ کثرت سے وسوسہ ڈالتاہے ۔صبح و شام پیچھے لگاہواہے تو تم بھی اللہ کا ذکر کثرت سے کرو ، صبح و شام ،ہرحال میں کرو۔اگر کبھی کوئی وسوسہ آئے تو فوراً دھیان دوسری طرف لگالو،جیسے غصے کی حالت میں حکم ہے کہ وضو کرلو، اس کے بعد بیٹھ جاؤ یا لیٹ جاؤ۔ اس طرح توجہ ہٹ جاتی ہے ۔(خرم مراد)
6 ۔ شیطان کے مشن کے ساتھ ساتھ یہ اس کی ذات برادری کی بھی نشان دہی کردی گئی ۔(تدبرقرآن)