12 - سورة یوسف (مکیہ)

رکوع - 12 آیات - 111

مضمون:تقویٰ اور صبرواستقامت انجام کار کی فیروزمندی کی ضامن ہے۔کامیابی کی منزل پر آزمائشوں کے مختلف مراحل سے گزر کرہی پہنچنا ہوگا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

الر۔ سورۂ یونس اور سورۂ ھود کی طرح یہ اس سورۂ کا قرآنی نام ہے۔

شانِ نزول: سورۂ یونس تا سورۂ بنی اسرائیل آٹھ سورتوں کا سلسلہ زیر مطالعہ ہے جو غالباً 11تا 13 سنہ نبوی (ہجرت مدینہ سے قبل) نازل ہوئیں۔(i) کفار ِ مکہ نے غالباً یہودیوں کے اشارے پر ) حضورؐ کا امتحان لینے کےلئے پوچھا کہ بنی اسرائیل مصر کیسے پہنچے ؟ قصۂ یوسف سے اہل مکہ قطعی ناواقف تھے۔(ii) مشرکین ِ مکہ کو آئینہ دکھایا ۔حضورؐ اور مومنین کو تسلی اور بشارت۔

نظمِ سورۃ: نظم سورۂ یونس کے مطابق۔۔۔۔سورۂ یوسف کی منفرد حیثیت۔ مکمل قصہ صرف ایک دفعہ (پورے قرآن مجید میں) صرف ایک  پیغمبر ۔

مرکزی مضمون:  رسول اللہ کو فتح مکہ اور کامل اقتدار و غلبۂ اسلام کی بشارت ۔قریش ِ مکہ بھی برادرانِ یوسف کی طرح ایک دن رسول اللہ کے رحم و کرم پر

ترتیب مطالعۂ:  پوری سورۃ بیک وقت ۔پہلے دوآیات تعارفی اور آخری رکوع اختتامی۔

احسن القصص: اسرائیلیات اور قصہ یوسف زلیخا ( پچھے یوسف دس زلیخا)۔یعقوب نے اپنے کپڑے پھاڑے ،ٹاٹ لپیٹا، آہ و زاری ۔ احسن القصص  ہونے کی وجوہ: (i)۔ہر پڑھنے والا اس کے اندر اپنے ایمان کےلئے غذا اور روح کےلئےلذت و حلاوت محسوس کرتاہے۔(ii) حضورؐ مومنین اور مشرکین ِ مکہ کےلئے ایک آئینہ(iii) عام طورپر قصوں میں حسن و عشق کی چاشنی ۔یہاں چاشنی بھی مگر اصل اہمیت ہدایت کو ۔تقلید کا جذبہ ابھرتاہے(تقلید ناممکن نہیں بلکہ ممکن محسوس ہوتی ہے) (iv) حیرت انگیز واقعات مگر مربوط ،منضبط اور رفتارِ حالات سے جڑے ہوئے۔(v)  حضرت یوسف ؑ حسنِ ظاہر اور حسن باطن کے جامع ۔بیک وقت ذہانت ،پاکیزگی ،نبوت، بادشاہی ،پاکدامنی اور قدرت کے ساتھ عفوو درگذر کی ایک زندہ مثال ۔ (تدبرِ قرآن)

حسن یوسف ،دمِ عیسیٰ ، یدبیضاداری                                                                                 آنچہ خوباں ہمہ دارند توتنہا داری


پہلا رکوع

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫  ﴿1﴾ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ﴿2﴾ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ ﴿3﴾ اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ ﴿4﴾ قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ﴿5﴾ وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠   ۧ ۧ ﴿6ع يوسف 12﴾
1. الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔ 2. ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔ 3. (اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے۔ 4. جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ 5. انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ 6. اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (وممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بےشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

تفسیر آیات

3۔ احسن القصص:۔  سورۃ تقریباً ایک مسلسل قصہ پر شامل ہے۔اسے بہترین قصہ کیوں فرمایا گیاہے؟ قصہ سے بہترین اخلاقی سبقوں کا نکلنا ظاہر ہی ہے،باقی مختلف اہل تفسیر نے اس کی مختلف توجیہیں اپنے اپنے مذاق کے لحاظ سے کی ہیں ۔عجب نہیں جو بڑی وجہ یہ ہوکہ جو متعدد اور مختلف بصیرتیں مختلف قصوں سے مقصود رہی ہیں۔وہ سب اس میں یکجا کردی گئی ہوں،اور یہ توبہرحال واقعہ ہے کہ فطرتِ بشری کی کارفرمائیاں اور اس کے جتنے حقائق اور اسرار اس ایک سورۂ میں اکٹھے مل جاتے ہیں ان کے لحاظ سے تو یہ سورت بس اپنی نظیرآپ ہے۔ہوسکتا ہے کہ أحسن القصص میں یہ پہلو بھی ہو کہ حضرت یوسفؑ اور برادران یوسفؑ کے درمیان جو واقعات پیش آئے وہ اس صورت حال کا نقشہ پیش کررہے تھے جو رسول اللہؐ اور قریش کے مابین پیش آنے والی تھی۔(تفسیر ماجدی)

 اِنِّیْ رَاَیْتُ۔یعنی خواب میں دیکھا ،رأیت "رویت"سے بھی ہوسکتاہے اور رؤیا سے بھی، لیکن مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہاں رؤیا ہی ہے۔اور مفسرین کے اتفاق سے قطع نظر خود قرآن مجید کی تصریح اگلی ہی آیت میں آرہی ہے ۔"لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ"  تورات میں بھی ذکر خوابوں ہی کا ہے۔(تفسیر ماجدی)

5۔ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا۔آیت اس امر کی واضح دلیل ہے کہ شیطان کے اثر اور کید کے اخلاقی مرض سے محفوظ رکھنے کیلئے پیمبرزادگی ہی ہر گز کافی نہیں،چہ جائیکہ محض بزرگ زادگی ۔یوسفؑ کا خاندان پیمبرزادگی میں بھی ممتاز تھا،آپ کے والد ماجد ،دادا،پرداد ،سب پیمبر ہوتے چلے آرہے تھے،پیمبری روایتیں  گھروالوں کے نس نس میں پیوست تھیں۔اس پر بھی بشری لغزشوں اور نفسانی کمزوریوں سے مطلق پناہ نہ مل سکی، سورۂ احسن القصص کے اور بھی جتنے سبق ہوں وہ اپنی جگہ پر لیکن یہ ایک بڑا اور گہراسبق شروع ہی میں مل گیا۔(تفسیر ماجدی)

ــــ سجدہ تعظیمی؟  رہی یہ بات کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا تو شرک ہے پھر باپ نے جو نبی تھے اور بیٹے نے جو نبی ہونے والے تھے ۔اس بات کو درست کیسے تسلیم کرلیا تو اس کا جواب بعض علماء نے یہ دیا ہے کہ یہ سجدہ تعظیمی ہے جو پہلی شریعتوں میں تو جائز تھا مگر ہماری شریعت محمدیہ میں ایسا تعظیمی سجدہ بھی حرام قراردیا گیاہے اور بعض علماء کے نزدیک یہاں سجدہ سے مراد اصطلاحی سجدہ نہیں جو نماز میں اداکیا جاتاہے بلکہ سجدہ سے مراد محض جھک جانا ہے اور یہی اس کا لغوی معنی ہے۔مگر اسی سورہ کے آخر میں "خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا"کے الفاظ آئے ہیں اور لفظ"خروا"سے پہلے قول کی ہی تصدیق ہوتی ہے۔(تیسیر القرآن)

6۔ سیدنا یوسفؑ کے خواب کے واضح نتائج:۔اس خواب سے سیدنا یعقوبؑ نے خود نتائج نکالے اور سیدنا یوسفؑ کو بتائے وہ یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ سیدنا یوسفؑ سے اپنے دین کی خدمت کا کام لے گا اور انہیں تاویل الاحادیث سکھائے گا۔تاویل الاحادیث سے مراد صرف خوابوں کی تعبیر ہی نہیں بلکہ ہر بات کے موقع و محل کو سمجھنا ، معاملات کے نتائج کو فوراًپرکھ لینا ، اللہ تعالیٰ کے ارشادات کے مضامین کی تہ تک پہنچ جانا وغیرہ سب کچھ شامل ہے اور تیسرا یہ کہ اللہ انہیں نعمت نبوت سے فیض یاب فرمائے گاجوان کے دوباپوں سیدنا اسحٰقؑ اور سیدنا ابرہیمؑ کو عطا کرچکاہے۔اس مقام پر سیدنا یعقوب ؑ نے ازراہ تواضع اور انکساری اپنا نام لینا مناسب نہ سمجھا  ورنہ آپ خود بھی جلیل القدر نبی تھے اور آپ کی اولاد ہی میں آئندہ سلسلہ نبوت جاری رہا۔ماسوائے نبی آخر الزمانؐ کے جو سیدنا اسماعیلؑ کی اولاد سے تھے۔  اسی حقیقت پر درج ذیل حدیث سے روشنی پڑتی ہے:۔سیدنا یوسف ؑ سب سے مکرم:۔  سیدنا ابوہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا ":یارسول اللہؐ سب سے زیادہ مکرم کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا:جو سب سے زیادہ متقی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں پوچھتے ۔ پھر آپؐ نے فرمایا یوسفؑ اللہ کے نبی، اللہ کے نبی کے بیٹے،اللہ کے نبی کے پوتے، اللہ کے نبی کے پڑپوتے ،سب سے زیادہ مکرم ہیں۔(بخاری ، کتاب الانبیاء،باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ ابراہیم خلیلاً)(تیسیر القرآن)


دوسرا رکوع

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ ﴿7﴾ اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚ ۖ ﴿8﴾ اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ ﴿9﴾ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ﴿10﴾ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ ﴿11﴾ اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ﴿12﴾ قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ ﴿13﴾ قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ ﴿14﴾ فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ﴿15﴾ وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ  ﴿16﴾ قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ ﴿17﴾ وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ ﴿18﴾ وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ ﴿19﴾ وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿20ع يوسف 12﴾
7. ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہیں۔ 8. جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں۔ 9. تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے۔ 10. ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو)۔ 11. (یہ مشورہ کر کے وہ یعقوب سے) کہنے لگے کہ اباجان کیا سبب ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں۔ 12. کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیئے کہ خوب میوے کھائے اور کھیلے کودے۔ ہم اس کے نگہبان ہیں۔ 13. انہوں نے کہا کہ یہ امر مجھے غمناک کئے دیتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ (یعنی وہ مجھ سے جدا ہوجائے) اور مجھے یہ خوف بھی ہے کہ تم (کھیل میں) اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے۔ 14. وہ کہنے لگے کہ اگر ہماری موجودگی میں کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں، اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بڑے نقصان میں پڑگئے۔ 15. غرض جب وہ اس کو لے گئے اور اس بات پر اتفاق کرلیا کہ اس کو گہرے کنویں میں ڈال دیں۔ تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور ان کو (اس وحی کی) کچھ خبر نہ ہوگی۔ 16. (یہ حرکت کرکے) وہ رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔ 17. (اور) کہنے لگے کہ اباجان ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کو گو ہم سچ ہی کہتے ہوں باور نہیں کریں گے۔ 18. اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے۔ 19. (اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب) ایک قافلہ آوارد ہوا اور انہوں نے (پانی کے لیے) اپنا سقا بھیجا۔ اس نے کنویں میں ڈول لٹکایا (تو یوسف اس سے لٹک گئے) وہ بولا زہے قسمت یہ تو (نہایت حسین) لڑکا ہے۔ اور اس کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے خدا کو سب معلوم تھا۔ 20. اور اس کو تھوڑی سی قیمت (یعنی) معدودے چند درہموں پر بیچ ڈالا۔ اور انہیں ان (کے بارے) میں کچھ لالچ نہ تھا۔

تفسیر آیات

7۔ قصہ یوسف اور سائلین یعنی کفار ِ کے حالات میں مماثلت کی وجوہ:۔یہ پوچھنے والے کفار مکہ تھے انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے جواب میں جو سیدنا یوسفؑ اور ان کے بھائیوں کے حالات زندگی آئے ہیں وہ خود انہی کے حالات پر منطبق ہونے والے ہیں کفارمکہ اور برادران یوسف کے تقابلی مطالعہ میں جو عبرت کی نشانیاں یا وجوہ مماثلت پائی جاتی ہیں ان کا ذکر پہلے کیا جاچکاہے۔(تیسیر القرآن) 

8۔ لیکن عجیب بات ہے کہ بائیبل میں برادران یوسف ؑ کے حسد کی ایک ایسی وجہ بیان کی گئی ہے جس سے الٹا الزام حضرت یوسف ؑ پر عائد ہوتا ہے۔ اس کا بیان ہے کہ حضرت یوسف ؑ بھائیوں کی چغلیاں باپ سے کھایا کرتے تھے اس وجہ سے بھائی ان سے ناراض تھے۔۔۔۔۔ ا س فقرے کی روح سمجھنے کے لیے بدویانہ قبائلی زندگی کے حالات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ جہاں کوئی ریاست موجود نہیں ہوتی اور آزاد قبائل ایک دوسرے کے پہلو میں آباد ہوتے ہیں، وہاں ایک شخص کی قوت کا سارا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ اس کے اپنے بیٹے، پوتے، بھائی، بھتیجے بہت سے ہوں جو وقت آنے پر اس کی جان و مال اور آبرو کی حفاظت کے لیے اس کا ساتھ دے سکیں۔۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

۔ اور اپنے والد کے بارے میں جو یہ کہا کہ   اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚ     اس میں لفظ ضلال کے لغوی معنی گمراہی کے ہیں مگر یہاں گمراہی سے مراد دینی گمراہی نہیں ورنہ ایسا خیال کرنے سے یہ سب کے سب کافر ہوجاتے کیونکہ یعقوب ؑ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبرا ور نبی ہیں ان کی شان میں ایساخیال قطعی کفر ہے۔ (معارف القرآن)

10۔ قَآىٕلٌ مِّنْهُمْ سے بعض اہل تفسیر نے یہ استنباط کیا ہے کہ جس نے قتل کی رائے دی تھی ،وہ ان بھائیوں میں سے نہ تھا، کوئی  غیر تھا۔۔۔ غَیٰبَتِ الْجُبِّ۔توریت میں ہے کہ یہ ایک اندھا کنواں تھا ،جس میں پانی مطلق نہ تھا، اور اسے اٹھا کر گڑھے میں ڈال دیا، وہ گڑھا سوکھا تھا ،اس میں ذرا بھی پانی نہ تھا۔(پیدائش 37: 24)(تفسیر ماجدی) 

15۔ متن میں وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ کے الفاظ کچھ ایسے انداز سے آئے ہیں کہ ان سے تین معنی نکلتے ہیں اور تینوں ہی لگتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم یوسف ؑ کو یہ تسلی دے رہے تھے اور اس کے بھائیوں کو کچھ خبر نہ تھی کہ اس پر وحی جاری ہے۔ دوسرے یہ کہ تو ایسے حالات میں ان کی یہ حرکت انہیں جتائے گا جہاں تیرے ہونے کا انہیں وہم و گمان تک نہ ہوگا۔ تیسرے یہ کہ آج یہ بےسمجھے بوجھے ایک حرکت کر رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ آئندہ اس کے نتائج کیا ہونے والے ہیں۔ (تفہیم القرآن)

18۔  انا ڑی مجرم:۔  سیدنا یعقوبؑ ان کی طرف سے پہلے ہی مشکوک تھے۔ جب قمیص کو دیکھا تو انہیں پختہ یقین ہوگیا کہ یہ سب مکراور فریب کاری ہے۔کیونکہ قمیص کسی جگہ سے بھی نوچی ہوئی یا پھٹی ہوئی نہ تھی۔ان نو آموز مجرموں کو یہ خیال ہی نہ آیا کہ اگر قمیص کو خون لگانا ہی ہےتو اسے پہلے بے ترتیبی سے کچھ پھاڑ بھی لیں تاکہ وہ کسی درندے کی نوچی ہوئی معلوم ہوسکے۔یہ قمیص دیکھ کر سیدنا یعقوبؑ کہنے لگے وہ بھیڑیا یا تو بڑا سمجھدار ہوگا جس نے پہلے آرام سے یوسف کی قمیص کو اتارا پھر انہیں پھاڑ کھانے کے بعد کچھ لہو بھی اس پر لگادیا۔حقیقت حال کا تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔مگر معلوم یہی ہوتاہے کہ تم نے یوسف کو کہیں گزند پہنچایا ہے یا غائب کردیا ہے اورتمہاری یہ آہ و بکا اور قمیص کو خون آلود کرکے دکھانا اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے ملمع سازیاں ہیں۔(تیسیر القرآن)

20ــــ یوسف کو بیچنے والے کون تھے؟  برادران یوسف یا قافلے والے:۔ بائبل کی روایت کے مطابق تو قرآن کے لفظ "وَ شَرَوْهُ"کی ضمیر کا مرجع برادران یوسف ہیں۔یعنی برادران یوسف نے سیدنا یوسفؑ کو معمولی سی قیمت کے عوض قافلہ والوں کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ کیونکہ وہ یوسف کی خبرگیری رکھتے تھے اور بروقت جھگڑا کھڑا کردیا کہ یہ لڑکا ہماراغلام ہے  جو گھر سے بھاگ آیا تھا اور ہم اس کی تلاش میں تھے۔بلآخر انہوں نے ان قافلہ والوں سے معمولی سی قیمت کے عوض اس کی سودا بازی کرلی۔ کیونکہ یہ جو رقم انہیں مل رہی تھی مفت میں مل رہی تھی  ۔لہذا انہوں نے اتنی قیمت کو بھی غنیمت سمجھا ۔ان کی اصل غرض تو یہی تھی کہ یوسف یہاں سے دور کسی  ملک میں پہنچ جائے اور یہ مقصد پورا ہورہاتھا۔اور یہی قصہ عوام میں زبان زدعام ہے۔ لیکن قرآن کا سیاق و سباق اس مفہوم کی تائید نہیں کرتا۔ قرآن کے مطابق اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ قافلہ والوں نے مصر میں جاکر اس لڑکے(یوسفؑ )کو فروخت کرڈالا اور اسے معمولی قیمت میں اس لیے بیچ ڈالا کہ انہیں بھی یہ مال مفت میں ہاتھ لگ گیا تھا۔ لہذا زیادہ قیمت لگانے میں ان کی کوئی دلچسپی نہ تھی۔(تیسیر القرآن)


تیسرا رکوع

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿21﴾ وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ﴿22﴾ وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ﴿23﴾ وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ ﴿24﴾ وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿25﴾ قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ ﴿26﴾ وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ﴿27﴾ فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ ﴿28﴾ یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿29ع يوسف 12﴾
21. اور مصر میں جس شخص نے اس کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے (جس کا نام زلیخا تھا) کہا کہ اس کو عزت واکرام سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے یوسف کو سرزمین (مصر) میں جگہ دی اور غرض یہ تھی کہ ہم ان کو (خواب کی) باتوں کی تعبیر سکھائیں اور خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 22. اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ اور نیکوکاروں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ 23. تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا اور دروازے بند کرکے کہنے لگی (یوسف) جلدی آؤ۔ انہوں نے کہا کہ خدا پناہ میں رکھے (وہ یعنی تمہارے میاں) تو میرے آقا ہیں انہوں نے مجھے اچھی طرح سے رکھا ہے (میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا) بےشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔ 24. اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا،اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے۔ 25. اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے۔ 26. یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا۔ 27. اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچا ہے۔ 28. اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں۔ 29. یوسف اس بات کا خیال نہ کر۔ اور (زلیخا) تو اپنے گناہوں کی بخشش مانگ، بےشک خطا تیری ہے۔

تفسیر آیات

21۔ بائیبل میں اس شخص کا نام فوطیفار لکھا ہے۔ قرآن مجید آگے چل کر اسے ”عزیز“ کے لقب سے یاد کرتا ہے، اور پھر ایک دوسرے موقع پر یہی لقب حضرت یوسف ؑ کے لیے بھی استعمال کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مصر میں کوئی بہت بڑا عہدہ دار یا صاحب منصب تھا، کیونکہ ”عزیز“ کے معنی ایسے بااقتدار شخص کے ہیں جس کی مزاحمت نہ کہ جاسکتی ہو۔ بائیبل اور تلمود کا بیان ہے کہ وہ شاہی جلوداروں (باڈی گارڈ) کا افسر تھا، اور ابن جریر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ شاہی خزانے کا افسر تھا۔ (تفہیم القرآن)

۔ لِامْرَاَتِهٖ۔عزیز کی اس بیوی کا نام توریت میں تو نہیں البتہ روایات یہود  میں زلیخاآیاہے اور وہیں سے مسلمانوں میں بھی چل پڑا ۔ ان کے لئے عام طور پر یہ مشہور ہے کہ بعد کو حضرت یوسفؑ کے عقد نکاح میں آگئی تھیں۔لیکن اس کی سند نہ قرآن مجید سے ملتی ہے ،نہ حدیث صحیح سے ،نہ توریت سے۔۔۔تاویل الاحادیث۔ پر حاشیہ ابھی اوپر گذرچکا ۔الفاظ قرآن کی جامعیت اور عموم حضرت یوسفؑ کے ہر قسم کے انتظامی تجربے ،علم حقائق اشیاء اور واقفیت تدبیر منزل پر شامل ہے ۔محض خوابوں کی تعبیر تک ہرگز محدود نہیں۔ توریت میں :"اوریوں ہواکہ جس وقت  سے اس نے اسے گھر پر اور اپنی سب چیزوں پر مختار کیا خداوند نے اس مصری کے گھر میں یوسفؑ کے سبب سے برکت بخشی اور اس کی سب چیزوں میں جو گھر میں اور کھیت میں تھیں ،خدا کی طرف سے برکت ہوئی اور اس نے اپنا سب کچھ یوسفؑ کے قبضہ میں کردیا اور اس نے روٹی کے سوا جسے کھالیتا تھا کسی چیز سے کام نہ رکھا اور یوسفؑ خوبصورت اور نور پیکر تھا۔ "(پیدائش 39=4-6) (تفسیر ماجدی)

ـــــ تاویل الاحادیث سے مراد رموزِ مملکت اور اصول حکمرانی ہیں:۔  عزیز مصر کے ہاں سیدنا یوسفؑ کو اس طرح کا باوقار مقام حاصل ہوجانا اس مستقبل کی طرف پہلا زینہ تھا جس میں آپ کو پورے ملک مصر کی حکومت اللہ کی طرف سے عطا ہونے والی تھی۔ آپ کی سابقہ زندگی خالصتاً بدوی ماحول میں گزری تھی  اس سابقہ زندگی میں بدوی زندگی کے محاسن اور سیدنا ابراہیمؑ کے خاندان سے ہونے کی وجہ سے صرف اکیلے اللہ کی پرستش اور دینداری کے عنصر ضرور شامل تھے مگر اللہ تعالیٰ اس وقت کے سب سے زیادہ متمدن اور ترقی یافتہ ملک یعنی مصر میں آپ سے جو کام لینا چاہتا تھا اور اس کام کیلئے جس واقفیت تجربے اور بصیرت کی ضرورت تھی وہ آپ کو عزیز مصر کے گھر میں مختار کی حیثیت سے رہنے میں میسر آگئی۔اس آیت میں تاویل الاحادیث سے مراد یہی رموزِ مملکت ہیں اور اس غرض کیلئے اللہ تعالیٰ نے جس طرح اسباب کے رخ کو موڑدیا وہ اکثرلوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا۔(تیسیر القرآن)

24ــــ واضح نشانی سے مراد وہ نوریز دانی ہے جو اللہ تعالیٰ ہر انسان کی فطرت کے اندر ودیعت فرماتاہے۔جن لوگوں کے اندر یہ نور قوی ہوتاہے وہ نہایت سخت آزمائش کے موقع پر بھی اس کی رہنمائی میں نفس اور شیطان کے فتنوں میں مبتلا ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ حضرت یوسفؑ کا یہی نور اس موقع پر ان کے باطن میں چمکا اور ان کو گناہ سے محفوظ رکھنے کا باعث ہوا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

27۔ اس آیت میں "شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا"کے الفاظ آئے ہیں یعنی زلیخا کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی۔حالانکہ موقع پر کوئی گواہ موجود نہ تھا۔بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ شہادت ایک شیر خوار بچے نے دی تھی مگر اس روایت کی سند درست نہیں ۔دوسرے یہ کہ اگر یہ روایت صحیح تسلیم کی جائے تو یہ معجزہ کی صورت ہوگی اور معجزہ کی صورت میں عقلی دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔تیسرے یہ کہ جس صحیح روایت میں تین شیر خوار بچوں کے بولنے کا ذکر ہے وہاں اس بچے کا ذکر مفقود ہے۔لہذا یہ روایت ہر لحاظ سے ناقابل اعتماد ہے۔(تیسیر القرآن)

28۔ ۔۔۔بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس آیت میں "اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ"عزیز مصر کا قول نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ چنانچہ کسی بزرگ سے منقول ہے وہ کہا کرتے تھے کہ میں شیطان سے زیادہ عورتوں سے ڈرتاہوں۔اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کا ذکر کیا تو فرمایا کہ شیطان کا مکر کمزور ہے۔ (4: 76)اور جب عورتوں کا ذکر کیا تو فرمایا کہ تمہارا مکربہت بڑا ہے اور درج ذیل حدیث بھی اسی مضمون پر دلالت کرتی ہے۔سیدنا اسامہ بن زیدؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا :"میں نے اپنے بعد مردوں کیلئے عورتوں سے زیادہ سخت کوئی فتنہ نہیں چھوڑا"(بخاری،کتاب النکاح،باب مایتقی من شؤم المرأۃ)اسی طرح "وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ"سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یوسف سے اپنے گناہ کی معافی مانگواور یہ بھی کہ اللہ سے اپنے گناہ کی معافی مانگو۔(تیسیر القرآن)


چوتھا رکوع

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ﴿30﴾ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ ﴿31﴾ قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ ﴿32﴾ قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ ﴿33﴾ فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ﴿34﴾ ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠   ۧ ۧ ﴿35ع يوسف 12﴾
30. اور شہر میں عورتیں گفتگوئیں کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہے۔ اور اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ ہم دیکھتی ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہے۔ 31. جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔ 32. تب زلیخا نے کہا یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنے دیتی تھیں۔ اور بےشک میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر یہ بچا رہا۔ اور اگر یہ وہ کام نہ کرے گا جو میں اسے کہتی ہوں تو قید کردیا جائے گا اور ذلیل ہوگا۔ 33. یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا۔ 34. تو خدا نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کر دیا۔ بےشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے۔ 35. پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں۔

تفسیر آیات

35۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی شخص کو شرائط انصاف کے مطابق عدالت میں مجرم ثابت کیے بغیر، بس یونہی پکڑ کر جیل بھیج دینا، بےایمان حکمرانوں کی پرانی سنت ہے۔ اس معاملہ میں بھی آج کے شیاطین چار ہزار برس پہلے کے اشرار سے کچھ بہت زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ فرق اگر ہے تو بس یہ کہ وہ ”جمہوریت“ کا نام نہیں لیتے تھے، اور یہ اپنے ان کرتوتوں کے ساتھ یہ نام بھی لیتے ہیں۔ وہ قانون کے بغیر اپنی غیر قانونی حرکتیں کیا کرتے تھے، اور یہ ہر ناروا   زیادتی کے لیے پہلے ایک ”قانون“ بنا لیتے ہیں۔ وہ صاف صاف اپنی اغراض کے لیے لوگوں پر دست درازی کرتے تھے اور یہ جس پر ہاتھ ڈالتے ہیں اس کے متعلق دنیا کو یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس سے ان کو نہیں بلکہ ملک اور قوم کو خطرہ تھا۔ غرض وہ صرف ظالم تھے۔ یہ اس کے ساتھ جھوٹے اور بےحیا بھی ہیں۔ (تفہیم القرآن)


پانچواں رکوع

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ﴿36﴾ قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ ﴿37﴾ وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ ﴿38﴾ یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ  ﴿39﴾ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿40﴾ یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ  ﴿41﴾ وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠   ۧ ۧ ﴿42ع يوسف 12﴾
36. اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زندان ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے (ہیں تو) ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجیئے کہ ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں۔ 37. یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں۔ جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں۔ 38. اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایاں نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ 39. میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا وغالب؟ 40. جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 41. میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے۔ 42. اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے۔

تفسیر آیات

36۔ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی تھا، دوسرا شاہی نان پُز ،الزام دونوں پر یہ تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہردینا چاہاتھا ،تحقیقات اسی جرم کی ہورہی تھی،اور یہ لوگ جیل کی حوالات میں بند کردئیے گئے تھے۔توریت میں ہے:۔ "بعد ان باتوں کے یوں ہواکہ شاہ مصر کا ساقی اور نان پُز اپنے خداوند شاہ مصر کے مجرم ہوئے،اور فرعون اپنے دوسرداروں پر جن میں ایک ساقیوں کا دوسرانان پُزوں کا داروغہ تھاغصہ ہواور اس نے ان کی نگہبانی کیلئے جلوداروں کے سردار کے گھر میں اسی جگہ جہاں یوسف ؑ بند تھا،قید خانہ میں ڈالا"۔(پیدائش:40: 1۔3)۔۔۔آپ کو ضرور تعبیر رویا میں دخل ہوگا۔حُسن وجمال کی طرح اخلاقی فضل و روحانی کمال بھی چھپنے والی چیزنہیں، اور اس کا اثر منکر اور بیگانے تک محسوس کرلیتے ہیں، قدیم قوموں میں" غیب دانی"کی باقاعدہ و متعین شکل معروف و متعارف بھی بہت تھی۔جیل کے جو قیدی ساتھ میں تھے ظاہرہے کہ ان میں، مسلم و موحد کوئی نہ تھا،سب شرک ہی کے پیرو تھے ،لیکن حضرت یوسفؑ ؑ کی روحانیت کا یہ ایک معجزہ تھا کہ آپ کے فضائل اخلاق و اطوار سے وہ منکرین بھی مسخر اور آپ کی بزرگی کے قائل ہوگئے تھے۔ ایک معجزہ کمالِ صفت و تقویٰ کا مصر لیڈیوں پر ضیافت زلیخا کے موقع پر ہواتھا ،دوسرا یہ کمال توریت میں ہے:۔"وہ وہاں قید خانہ میں رہاکرتاتھا،لیکن خداوند یوسفؑ کے ساتھ تھا۔"(پیدائش39: 2۔ 21)قتادہ ؒ تابعی کے قول میں ہے کہ آپ مریضوں کا علاج کرتے تھے،غمگینوں کو تسلّی دیتے تھے،اور عبادت میں منہمک رہتے تھے،اور دوسرے اقوال بھی ایسے ہی نقل ہوئے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

ــــ دو قیدیوں کا اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر پوچھنا:۔  اسی زمانہ میں دو اور قیدی قید خانہ میں ڈالے گئے،ان میں ایک شاہ مصرکا نانبائی تھااور دوسرا اس کا ساقی یعنی شراب پلانے والا تھا۔ ان دونوں پر الزام یہ تھا کہ  انہوں نے بادشاہ کو زہر دینے کی کوشش کی ہے اور بقول بعض مفسرین ،الزام یہ تھا کہ انہوں نے ایک دعوت کے موقعہ پر صفائی کا پورا خیال نہیں رکھا تھا۔کچھ دنوں  کے بعدان دونوں نے ایک ہی رات الگ الگ خواب دیکھا اور چونکہ سیدنا یوسفؑ پورے قید خانہ میں اپنی پاک سیرت، بلندی اخلاق اور اعلیٰ کردار کی وجہ سے مشہور ہوچکے تھے۔لہذا  ان قیدیوں نے اپنے اپنے خواب کی تعبیر معلوم کرنے کیلئے انہی کی طرف رجوع کیا۔ ساقی نے اپنا خواب بیان کیا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں انگوروں سے شراب نچوڑ رہاہوں اوریہ خواب اس کے پیشہ سے تعلق رکھتا تھا اور نانبائی نے کہا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میرے سرپر بہت سی روٹیاں رکھی ہوئی ہیں اور پرندے ان روٹیوں کو نوچ نوچ کرکھارہے ہیں اور یہ خواب اس کے پیشہ سے تعلق رکھتاتھا ۔اپنے اپنے خواب بیان کرکے ان سے التجا کی کہ اس کی تعبیر بتائی جائے۔(تیسیر القرآن) 

41۔ یہ تقریر جو اس پورے قصے کی جان ہے اور خود قرآن میں بھی توحید کی بہترین تقریروں میں سے ہے، بائیبل اور تلمود میں کہیں اس کی طرف ادنیٰ اشارہ تک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔یہ تقریر ایسی نہیں ہے کہ اس پر سے یونہی سرسری طور پر گزرا  جائے۔ اس کے متعدد پہلو ایسے ہیں جن پر توجہ اور غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔یہ پہلا موقع ہے جبکہ حضرت یوسف ؑ ہم کو دین حق کی تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔یہ بھی پہلا موقع ہے کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے اپنی اصلیت ظاہر کی۔۔۔۔۔۔۔پھر حضرت یوسف ؑ نے جس طرح اپنی تبلیغ کے لیے موقع نکالا اس میں ہم کو حکمت تبلیغ کا ایک اہم سبق ملتا ہے۔۔۔۔۔اس سے یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ لوگوں کے سامنے دعوت دین پیش کرنے کا صحیح ڈھنگ کیا ہے۔۔۔۔۔۔حضرت یوسف دین کے اس نقطہ آغاز کو پیش کرتے ہیں جہاں سے اہل حق کا راستہ اہل باطل کے راستوں سے جدا ہوتا ہے، یعنی توحید اور شرک کا فرق۔ (تفہیم القرآن)

42۔حضرت یوسف نے اس خواہش کا اظہار اس توقع کی بنا پر کیا ہوگا کہ جہاں داد فریاد اور عدل و انصا ف کے سارے دروازے بند ہیں، شاید اسی راہ سے اس مظلومانہ قید سے چھوٹنے کی کوئی شکل پیدا ہو۔ کسی جائز مقصد کے لیے جائز تدابیر و وسائل کا اختیار کرنا توکل اور اعتماد علی اللہ کے منافی نہیں ہے۔ (تدبرِ قرآن)

ــــتوریت میں غالباً فرعونِ موسیٰ پر قیاس کرکے اس بادشاہ کا لقب بھی فرعون ہی درج کیا ہے(پیدائش باب۔40-41)لیکن تاریخ سے پتہ چلتاہے کہ فرعون  اس وقت تک شاہی لقب نہیں تھا ،یہ لقب فرمانروان ِ مصر کا بہت بعد کو چلا۔قرآن مجید توریت مروجہ کی کیسی کیسی باریک غلطیوں کی بھی اصلاح کرتاجاتاہے۔قرآن مجید اسی لئے بجائے اس اصطلاحی سرکاری لقب فرعون کے محض عام لفظ ملک لایا ہے۔آج کوئی بادشاہ ایسا خواب دیکھے تو شاید پرواہ بھی نہ کرے،لیکن اس وقت مصر میں سحر ،نجوم و کہانت کے علوم کے ساتھ ساتھ خوابوں کی بڑی اہمیت تھی،ملاحظہ ہوانگریزی تفسیر القرآن۔توریت میں ہے:۔"اور فرعون جاگا اور دیکھا کہ وہ خواب تھا، اور یوں ہواکہ صبح کو اس کا جی گھبرایا ،تب اس نے مصر کے سارے جادوگروں اور اس کے سب دانشمندوں کو بلا بھیجا اور فرعون نے اپنا خواب اُن سے کہا پر ُان میں سے کوئی فرعون کے خواب کی تعبیر نہ کرسکا "۔(پیدائش:41۔8) (تفسیر ماجدی)

ـــــ "بِضْعَ سِنِیْنَ"کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس کا اطلاق دس سے کم طاق اعداد پر ہوتاہے اور مفسرین کے اقوال کے مطابق آپ کی قید کی مدت 7 سال یا 9 سال تھی۔(تیسیر القرآن)


چھٹا رکوع

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ ﴿43﴾ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ ﴿44﴾ وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ ﴿45﴾ یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ ﴿46﴾ قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ ﴿47﴾ ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ ﴿48﴾ ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿49ع يوسف 12﴾
43. اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ۔ 44. انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی۔ 45. اب وہ شخص جو دونوں قیدیوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دے دیجیئے۔ 46. (غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتایئے کہ سات موٹی گائیوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں۔ اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا (کر تعبیر بتاؤں) ۔ عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں۔ 47. انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہوگے تو جو (غلّہ) کاٹو تو تھوڑے سے غلّے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا۔ 48. پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سال) آئیں گے کہ جو (غلّہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ اس سب کو کھا جائیں گے۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔ 49. پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے۔

تفسیر آیات

45۔ قرآن نے یہاں اختصار سے کام لیا ہے۔ بائیبل اور تلمود سے اس کی تفصیل یہ معلوم ہوتی ہے (اور قیاس بھی کہتا ہے کہ ضرور ایسا ہوا ہوگا) کہ سردار ساقی نے یوسف ؑ کے حالات بادشاہ سے بیان کیے، اور جیل میں اس کے خواب اور اس کے ساتھی کے خواب کی جیسی صحیح تعبیر انہوں نے دی تھی اس کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ میں ان سے اس کی تاویل پوچھ کر آتا ہوں، مجھے قید خانہ میں ان سے ملنے کی اجازت عطا کی جائے۔ (تفہیم القرآن)

49۔ ۔۔۔(مصر میں سیرابی و شادابی یقیناً بارش کے پانی سے نہیں ہوتی بلکہ دریائے نیل کی طغیانی سے ہوتی ہے ،لیکن خود نیل  میں طغیانی کہاں سے آتی ہے،دریاکا منبع سوڈان میں ہے اور سوڈان میں بارش ہی کے پانی سے نیل میں طغیانی آجاتی ہے۔)(تفسیر ماجدی)

۔ " یَعْصِرُوْنَ " کے لفظ سے بھی مقصود اس کے لازم کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ یعنی خوب بارش ہوگی۔ انگور کی بیلیں خوب پھلیں پھولیں گی، لوگ خوب انگور نچوڑیں گے۔ ساتھ ہی اس میں ایک لطیف تلمیح بھی پیدا ہوگئی ہے۔ وہ یہ کہ پوچھنے والا جیسا کہ اوپر گزرا ہے، بادشاہ کا خاص ساقی تھا۔ اس مناسبت سے " یعصرون " کے لفظ نے کلام میں ایک خاص لطف پیدا کردیا ہے جو اہل ذوق سے مخفی نہیں ہے۔ (تدبرِ قرآن)


ساتواں رکوع

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ ﴿50﴾ قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ﴿51﴾ ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ ﴿52﴾ وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿53﴾ وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ ﴿54﴾ قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ ﴿55﴾ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ﴿56﴾ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿57ع يوسف 12﴾
50. (یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میرے پاس لے آؤ۔ جب قاصد ان کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بےشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے۔ 51. بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے۔ 52. (یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا۔ 53. اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔ 54. بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو۔ 55. (یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں۔ 56. اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔ 57. اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے۔

تفسیر آیات

50۔ حضرت یوسف ؑ نے اپنی رہائی اور بادشاہ کے تقرب کے مقابلہ میں زیادہ اہمیت اس الزام سے براءت کو دی جس کو بہانہ بناکر ان کو جیل بھیجا گیا تھا۔۔۔۔۔گویا عورتوں کا اپنے ہاتھوں کو زخمی کرنا ایک چال کے طورپر تھاتاکہ حضرت یوسفؑ کو اپنے ڈھب پر لاسکیں ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

نوٹ: حضرت یوسفؑ سے بادشاہ کی ملاقات کی خوبصورت تصویر  کشی  کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن صفحہ 407

 52۔ حاشیہ نمبر 39 میں بیان ہوچکاہے کہ مصری تہذیب و تمدن میں زنا بجائے خود کوئی جرم نہ تھا،جتنا ایک شادی شدہ عورت کا اپنے شوہر کے حقوق خصوصی میں خیانت ۔(تفسیر ماجدی)

54۔(اور اونچے اور بھروسہ کے عہدہ و منصب کے لائق)بادشاہ اس انٹرویو سے بالکل مطمئن ہوگیا،اور یوسفؑ کا انتخاب کسی اعلیٰ منصب کیلئے کرلیا ،بادشاہ اور پھر مشرک بادشاہ سے اگر ملنا جلنااور سرکاری تعلقات قائم کرنا مطلق اور ہرصورت میں حرام ہوتاتو ظاہرہے کہ ایک پیمبربرحق اسے اپنے لئے کیوں کر روارکھتے؟سرکاری تعلق جب نبوت کے ساتھ جمع ہوسکتاہےتو ولایت و عام صالحیت کے ساتھ بدرجہ اولیٰ۔بادشاہ دین و عقیدہ میں یوسفؑ سے بالکل جداتھا اور نسل و نسب میں بھی ۔توریت میں ہے:۔"اور فرعون نے یوسف ؑ سے کہا از بسکہ خدانے اس سبب میں تجھے بینائی دی ہے سو کوئی تجھ ساعاقل و دانشور نہیں ہے،میرے گھر کا مختار ہو۔اور اپنا حکم میری سب رعیت پر جاری کر،فقط تخت نشینی میں میں تجھ سے بزرگ تر رہوں گا"۔(پیدائش: 41: 39، 40)۔(تفسیر ماجدی)

55ــــ بادشاہ نے حضر ت یوسفؑ کے سامنے حکومت میں بڑے سے بڑے منصب کی پیش کش کی تو انہوں نے اپنے علم و تجربہ کے مطابق ملک کے ذرائع پیداوار کا اہتمام و انصرام سنبھالنا پسند کیا جو مملکت کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ تھا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ــ سیدنا یوسف نے شاہ مصر سے کس چیز کا مطالبہ کیا تھا:۔  اس کے جواب میں سیدنا یوسفؑ نے کہا کہ پھر آپ مجھے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنادیجئے اور یہ بات تو آپ لوگ بھی سمجھ چکے ہیں کہ میں اس نظم و نسق کو پوری احتیاط کے ساتھ چلانے کی اہلیت رکھتاہوں۔بادشاہ سے آپ کے اس مطالبہ سے متعلق چند امور غور طلب ہیں:بعض مفسرین نے خَزَآىٕنِ الْاَرْضِ کے مطالبہ سے یہ سمجھا کہ آپ نے محکمہ مال کے افسر اعلیٰ یا وزیر خزانہ کا عہدہ طلب کیا تھا۔ جو ملکی معیشت سے تعلق رکھتاتھاکیونکہ آپ نے خواب کی جو تعبیر بتلائی تھی وہ اسی شعبہ سے تعلق رکھتی تھی اور آئندہ جو برادران یوسفؑ کے مصر میں آنے کا ذکر ہے وہ بھی اسی شعبہ سے متعلق ہے لیکن اس پر یہ اعتراض ہوتاہے کہ آیا ایک نبی کسی کافرانہ حکومت کا کل پرزہ بن کر رہ سکتاہے؟ظاہرہے کہ ایک نبی کیلئے کسی بھی صورت یہ شایان شان نہیں کہ وہ اس بات کو گوارا کرلے۔لہذا یہاں خزائن الارض سے مراد مکمل اقتدار یا ملک کے سیاہ و سفید کا مختار ہونا ہے۔بالخصوص اس لحاظ سے کہ ان الفاظ میں اس معنی کی بھی گنجائش موجود ہے اور اس لیے بھی کہ اس سے اگلی آیت میں واضح طورپر یہ الفاظ موجود ہیں۔"وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِۚ-یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ"لہذا عَلٰى خَزَآىٕنِ الْاَرْضِ سے محض وزارت خزانہ یا شعبہ مالیات مراد لینا درست نہیں۔۔۔۔قرآن نے بھی اس منتقلی اقتدار کے بعد بادشاہ کیلئے ملک کا لفظ استعمال نہیں کیا۔نیز دیکھئے سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 82 کا حاشیہ(تیسیر القرآن)

56ــــ بادشاہ نے اپنے اختیارات حضرت یوسفؑ کو تفویض کردیے۔وہ جس حصۂ ملک میں جانا چاہتے چلے جاتے۔جہاں جو نظم و نسق ضروری سمجھتے اس کے لیے احکام دیتے۔حکومت کے عمال بے چون وچرا ان کے احکام کی تعمیل کرتے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔۔۔۔۔ یہ گویا اس کامل تسلط اور ہمہ گیر اقتدار کا بیان ہے جو حضرت یوسف ؑ کو اس ملک پر حاصل تھا۔۔۔۔۔۔۔دوسرا قول علامہ موصوف نے مجاہد کا نقل کیا ہے جو مشہور ائمہ تفسیر میں سے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بادشاہ مصر نے یوسف ؑ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا تھا۔ (تفہیم القرآن)

۔۔۔۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ بادشاہ مصر نے ایک سال تجربہ کرنے کے بعد دربار میں ایک جشن منایا جس میں تمام عمال دولت اور معززین حکومت کو جمع کیا اور یوسف ؑ کے سر پر تاج رکھ کر اس مجلس میں لایا گیا اور صرف خزانہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے امور مملکت کو عملاً ان کے سپرد کر کے خود گوشہ نشین ہوگیا (قرطبی ومظہری وغیرہ) (معارف القرآن)

57۔ یہ  تنبیہ ہے اس امر پر کہ  کوئی شخص دنیوی حکومت و اقتدار کو نیکی و نیکو کاری کا اصلی اجر اور حقیقی اجرِ مطلوب نہ سمجھ بیٹھے بلکہ خبردار رہے کہ بہترین  اجر اور وہ اجر جو مومن کو مطلوب ہونا چاہیے ، وہ ہے جو اللہ تعالیٰ آخرت میں عطا فرمائے گا۔ (تفہیم القرآن)


آ ٹھواں رکوع

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ ﴿58﴾ وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ ﴿59﴾ فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ ﴿60﴾ قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ ﴿61﴾ وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ ﴿62﴾ فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ﴿63﴾ قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ﴿64﴾ وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ ﴿65﴾ قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ ﴿66﴾ وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ ﴿67﴾ وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿68ع يوسف 12﴾
58. اور یوسف کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلّہ خریدنے کے لیے) آئے تو یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے۔ 59. جب یوسف نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کر دیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں۔ 60. اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلّہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے۔ 61. انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد سے تذکرہ کریں گے اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے۔ 62. (اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں۔ 63. جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔ 64. (یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ 65. اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے۔ 66. (یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے۔ 67. اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے،۔ 68. اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر آیات

62۔ بِضَاعَتَهُمْ۔بضاعتہ کے معنی نقدی کے نہیں جیساکہ اس تفسیر کے طبع اول میں لکھدیا گیا تھا،بلکہ پونجی یا مال تجارت کے ہیں ۔۔۔دنیا ئے قدیم میں خرید و فروخت ہمیشہ روپئے پیسے کے ذریعہ سے نہ تھی ۔نقدی اور سکّہ کا رواج تو بہت بعد کو عام ہوا ،ایک زمانہ تک تو صرف مبادلۂ اجناس ہی ذریعہ تجارت تھا، پھر ایک عرصہ تک دونوں طریقے ساتھ ساتھ چلے ۔اس زمانۂ قحط مصر میں معلوم ہوتاہے کہ شاہی گودام سے جو راشن ملتا تھا وہ نقد قیمت کے معاوضہ میں نہیں بلکہ(BARTER SYSTEM)(مبادلۂ اجناس)کے ماتحت ملتا  تھا ۔اللہ اکبر قرآن مجید کا یہ اعجاز کچھ تھوڑا ہے کہ ہر زمانہ کا ذکر کرتے ہوئے ،تاریخی ،معاشی وغیرہ جزئیات کا کتنا لحاظ رکھا ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ اس حیرت انگیز خاموشی کا ہمیشہ یہی جواب دل میں آیا کرتا تھا کہ غالباً اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ کے ما تحت یوسف ؑ کو اپنے اظہار سے روک دیاہو گا تفسیر قرطبی میں اس کی تصریح مل گئی کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی حضرت یوسف ؑ کو روک دیا تھا کہ اپنے گھر اپنے متعلق کوئی خبر نہ بھیجیں۔ (معارف القرآن)

63۔فرزندان یعقوبؑ نے آکر اپنے والد ماجد سے عرض کیا ہے کہ ہمیں اپنے گیارہویں بھائی کا حصہ  تو ملا نہیں، بلکہ آئندہ کیلئے یہ فرمان ہواہے کہ ہم لوگ اگر اسے نہ لے گئے تو یہ سمجھا جائے گا کہ ہم لوگ دغا سے گیارہویں کا حصہ وصول کرنا چاہتے تھےاور اس کی سزا میں غلہ کا حصہ ہم میں سے کسی ایک کو بھی نہ ملے گا،تو اب اس کا علاج صرف یہ ہے کہ اب کی بن یامین کو بھی ہمارے ہمراہ کردیجئے۔ (تفسیر ماجدی)

65۔ رقم واپس مل جانےکے بعد برادران یوسف نے نعرہ لگایا کہ اب ہماری راہ میں کیا رکاوٹ باقی رہی! اب تو ہم ضرورہی جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے ۔ان کی خوشی فقرے  فقرے سے ابلی پڑتی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

67۔ یہ ایک تدبیر تھی حضرت یعقوبؑ کے خیال میں مختلف مکروہات مثلاً شبہ جاسوسی اور نظر بدوغیرہ سے بچنے کی ۔۔۔غیر ملکی واردین و صادرین آج جو ملک میں جس بدگمانی اور بے اعتباری کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں اس وقت بھی اسی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔۔۔ مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ۔زمانۂ قدیم میں ہر بڑے شہر کے گردا گرد شہرپناہ یا فصیل ہوتی تھی اور اس میں شہر کے اندر داخلہ کے پھاٹک متعدد ہوتے تھے۔نظربد کا اعتقاد قدیم شریعتوں میں عام تھا،اور اس عقیدہ کے خلاف کوئی عقلی و تجربی دلیل اب بھی قائم نہیں اس لئے اگر اس سے تحفظ حضرت یعقوبؑ کی غرض مانی جائے جب بھی کوئی مضائقہ نہیں ،لیکن ایک دوسرے معنی بھی ممکن ہیں،حضرت یعقوبؑ گویا یہ فرمارہے ہیں کہ اب مصر کے لوگ تمہیں جان پہچان گئے ہیں اور عزیز مصر کی نظر عنایت تم پر معلوم و معروف ہوچکی ہے ،اب شہر پناہ کے ایک ہی دروازہ سے داخل ہوگئے تو تم ٹھہرے غیر ملکی تمہاری وجاہت،تمہاری جمعیت،خوامخواہ اہل مصر کی نظر میں کھٹکے گی اور ان کے جذباتِ حسد کو حرکت میں لائے گی ،اس لیے بہتر یہ ہے کہ تم لوگ بجائے ایک ساتھ کے، الگ الگ متفرق پھاٹکوں سے داخل ہو تو ممکن ہے لوگوں کی نظر نہ پڑے اور تم ہدف حسد ہونے سے بچ جاؤ۔(تفسیر ماجدی)

68۔ یعنی سیدنا یعقوبؑ کے دل کا ارمان یہ تھا کہ یہ سب بھائی بخیر و عافیت مصر جائیں اور وہاں سے غلہ لے کر بخیر و عافیت واپس پہنچ جائیں۔سیدنا یعقوبؑ کی تدبیر اور ان کا بھروسہ اس اندیشے میں توکام آگیا کہ انہیں نظر نہیں لگی۔لیکن ان کے دل کا ارمان پورا نہ ہوسکا ۔کیونکہ اللہ کو کچھ اور ہی منظورتھا ۔لہذا ان کی یہ تدبیر اللہ کی اس تقدیر کے مقابلہ میں کچھ کام نہ آسکی ۔جس کے متعلق انہیں خیال تک بھی نہیں آسکتا تھا۔(تیسیر القرآن)

۔ ان میں سے جس کے ذہن پر ظاہر کا غلبہ ہوتا ہے وہ توکل سے غافل ہو کر تدبیر ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے اور جس کے دل پر باطن چھا جاتا ہے وہ تدبیر سے بےپروا ہو کر نرے توکل ہی کے بل پر زندگی کی گاڑی چلانا چاہتا ہے۔ (تفہیم القرآن)


نواں رکوع

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿69﴾ فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ ﴿70﴾ قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ ﴿71﴾ قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ ﴿72﴾ قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ ﴿73﴾ قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ ﴿74﴾ قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ﴿75﴾ فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ ﴿76﴾ قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ ﴿77﴾ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ﴿78﴾ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿79ع يوسف 12﴾
69. اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا۔ 70. جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو۔ 71. وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے۔ 72. وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں۔ 73. وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں۔ 74. بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا۔ 75. انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔ 76. پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔ 77. (برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے۔ 78. وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں۔ 79. (یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں۔

تفسیر آیات

69۔ ۔۔۔جب یہ لوگ مصر میں داخل ہوئے تو سیدنا یوسفؑ نے ان کا استقبال کیا اور شاہی مہمان خانہ میں ٹھہرایا۔دودو بھائیوں کو الگ الگ کمرہ رہنے کو دیا۔بن یمین اکیلا رہ گیا تو آپ نے اسے کہا میں تمہارے پاس رہوں گا۔چنانچہ جب تنہائی میسر آئی تو سیدنا یوسفؑ نے بن یمین کو بتایا کہ میں ہی تمہارا گم شدہ بھائی ہوں۔(تیسیر القرآن)

70۔یہ ندا کرنے والا یقیناً مہمان خانہ کا کوئی افسر ہوگا ،اب سوال یہ ہے کہ یہ اس نے بطور خود کہا،یا حضرت یوسفؑ کے حکم سے؟ قرینہ تو یہ کہتاہے کہ از خود کہا ہوگا، وزیر تک اس صاف اور باضابطہ کارروئی کیلئے جانے کی ضرورت کیا تھی،اور نہ قرآن مجید ہی میں اس کی طرف کوئی اشارہ ہے،صرف بعض مفسرین کی یہ رائے ہے،اور اگر اسے تسلیم کرلیا جائے تو زیادہ سے زیادہ صورت توریہ کی لازم آتی ہے یعنی سرقہ سے حقیقۃً مراد وہ سرقہ تھا کہ یوسفؑ کو حضرت یعقوبؑ سے غائب کردیا تھا، لیکن سامعین معنی قریب یعنی پیمانہ کا سرقہ سمجھے۔لیکن اگر یوسفؑ کا اذن و حکم نہ فرض کیا جائے تو اس توجیہ و تاویل کی ضرورت نہیں، اور اس صورت میں بات بالکل صاف ہوکر رہتی ہے کہ مہمان خانہ کے اہل کاروں اور عملہ والوں نے از خود قیاس کرکے یہ صدا اٹھائی ۔۔۔حضرت یوسفؑ کو ملزم قرار دینے کی ذمہ داری توریت کے بیان پرہے،چنانچہ اس میں ہے:۔ "جوں ہی صبح کی روشنی ہوئی، وہ سب اپنے گدھے لیکر چل نکلے جب وہ شہر سے تھوڑی دورباہر گئے ،یوسفؑ نے اپنے گھر کے داروغہ کو کہا کہ اُٹھ اور ان لوگوں کا پیچھا کر،اور جب تو انہیں پاوے تو انہیں کہہ کہ تم نے کس لئے نیکی کے عوض یہ بدی کی"(پیدائش۔ 44: 4، 5)(تفسیر ماجدی)

72۔ صُوَاع  کے معنیٰ ۔نیز ان آیات میں دوبار صواع کا لفظ آیا ہے۔صواع کو بعض لوگوں نے صاع سے مشتق سمجھ کر اس کا معنیٰ غلہ ماپنے کا معروف پیمانہ(پنجابی ٹوپہ)کردیا ہے۔حالانکہ یہ لفظ صاع سے مشتق یا ماخوذ نہیں ہے ۔بلکہ اس کا معنی پانی پینے کا ایسا پیالہ ہے جس میں جواہرات وغیرہ جڑے ہوئے ہوں اور اگر یہ پیالہ شیشہ کا ہو تو اسے قدح ،لکڑی کا ہو تو عُس ،چمڑے کا ہو تو علبہ اور مٹی کا ہو تو مرکن کہتے ہیں۔(الجمال والکمال ص74 از سلمان منصور پوری)(تیسیر القرآن)

75۔یعنی ہماری شریعت اسرائیلی میں چور کی سزا یہی ہے ۔توریت میں جوسزائیں درج ہیں،خیال رہے کہ وہ شریعت موسوی کی ہیں،شریعتِ اسرائیلی اس سے مدتوں قبل کی ہے۔(تفسیر ماجدی)

76ــــ یہ تدبیر جو مصلحت حق کی خاطر اختیار کی گئی توریہ کی قسم کی تھی جس میں ہر بات بجائے خود سچی اور صحیح تھی لیکن اس کے کہنے یا کرنے کے انداز سے فریق  ثانی کو مغالطہ ہوا۔ اس میں نہ حضرت یوسفؑ کسی جھوٹ میں ملوث ہوئے نہ ان کے آدمی۔البتہ وقتی طورپر بن یمین پر ایک الزام کا دھبالگالیکن انہی کو سوتیلے بھائیوں کے ظلم و ستم سے بچانے ہی کے لیے تو یہ تدبیر اختیار کی گئی تھی اور ان کو پہلے آگاہ بھی کردیا گیا تھا۔اس تدبیر سے ملکی قانون کا احترام باقی رہا اور بھائیوں کے اپنے قول کی روسے حضرت یوسفؑ بن یمین  کو روک لینے کے مجاز ہوگئے۔ان وجوہ کی بناپر اس تدبیر کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحی)

۔ یہاں یہ امر غور طلب ہے کہ اس پورے سلسلہ واقعات میں وہ کون سی تدبیر ہے جو حضرت یوسف کی تائید میں براہ راست خدا کی طرف سے کی گئی ؟۔۔۔۔۔۔۔۔برادران یوسف مصری رعایا نہ تھے، ایک آزاد علاقے سے آئے ہوئے لوگ تھے، لہذا اگر وہ خود اپنے ہاں کے دستور کے مطابق اپنے آدمی کو اس شخص کی غلامی میں دینے کے لیے تیار تھے جس کا مال اس نے چرایا تھا، تو پھر مصری قانون تعزیرات سے اس معاملہ میں مدد لینے کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی، یہی وہ چیز ہے جس کو بعد کی دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان اور اپنی علمی برتری سے تعبیر فرمایا ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔اور بعض حضرات کی یہ توجیہ کہ منادی کا ان کو چور کہنا یوسف ؑ کے علم و اجازت سے نہ ہوگا ایک بےدلیل دعوٰی اور صورت واقعہ کے لحاظ سے بےجوڑ بات ہے۔ اسی طرح یہ تاویل کہ ان بھائیوں نے یوسف ؑ کو والد سے چرایا اور فروخت کیا تھا اس لئے ان کو چور کہا گیا یہ بھی ایک تاویل ہے۔۔۔۔۔ اس آیت میں واضح طور پر اس حیلہ و تدبیر کو حق تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے کہ یہ سب کام جب کہ بامر خداوندی ہوئے تو ان کو ناجائز کہنے کے کوئی معنی نہیں رہتے ان کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے حضرت موسیٰ ٰاور خضر (علیہما السلام) کے واقعہ میں کشتی توڑنا، لڑکے کو قتل کرنا وغیرہ جو بظاہر گناہ تھے اسی لئے موسیٰ ؑ نے ان پر نکیر کیا مگر خضر ؑ یہ سب کام باذن خداوندی خاص مصالح کے تحت کر رہے تھے اس لئے ان کا کوئی گناہ نہ تھا۔ (معارف القرآن)

77۔(اس لئے اس کی چوری پر کچھ ایسا تعجب نہیں)برادرانِ یوسف کی سیرت شروع سے نمودار ہورہی ہے،اب اس میں ایک اور عنوان کا اضافہ ہوا، جھٹ ایک الزام یوسفؑ پر اور دھردیا،روایتوں میں آیاہے (مگر کوئی روایت بھی  مستند نہیں) کہ انہوں نے اپنے بچپنے میں اپنے ناناکے یہاں ایک سونے کی مورتی اٹھا کر غائب کردی تھی،اس خیال سے کہ اب تو بت پرستی سے بازرہیں گے،تو بھائیوں نے یہ حوالہ اس واقعہ کا دیا۔۔۔باقی برادران یوسف کی جو سیرت شروع سے اب تک ظاہر ہوئی ہے اس کے بعد اس چھان بین کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔(تفسیر ماجدی)

۔ یوسف ؑ کے جانے کے بعد یہ شہرت دی کہ میرا پٹکا چوری ہوگیا پھر تلاشی لی گئی تو وہ یوسف کے پاس نکلا، شریعت یعقوب ؑ کے حکم کے مطابق اب پھوپھی کو یہ حق ہوگیا کہ یوسف ؑ کو اپنا مملوک بنا کر رکھیں یعقوب ؑ نے جب یہ دیکھا کہ شرعی حکم کے اعتبار سے پھوپھی یوسف ؑ کی مالک بن گئی تو ان کے حوالے کردیا اور جب تک پھوپھی زندہ رہیں یوسف ؑ انہی کی تربیت میں رہے۔ (معارف القرآن)

79۔ احتیاط ملاحظہ ہو کہ " چور " نہیں کہتے بلکہ صرف یہ کہتے ہیں کہ " جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے " اسی کو اصطلاح شرع میں " توریہ " کہتے ہیں، یعنی حقیقت پر پردہ ڈالنا، یا امر واقعہ کو چھپانا۔ (تفہیم القرآن)


دسواں رکوع

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ ﴿80﴾ اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ ﴿81﴾ وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ﴿82﴾ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ ﴿83﴾ وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ ﴿84﴾ قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ ﴿85﴾ قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ﴿86﴾ یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ ﴿87﴾ فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ ﴿88﴾ قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ ﴿89﴾ قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ﴿90﴾ قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ ﴿91﴾ قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ﴿92﴾ اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿93ع يوسف 12﴾
80. جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ 81. تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے۔ 82. اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں۔ 83. (جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے۔ 84. پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا۔ 85. بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے۔ 86. انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ 87. بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں۔ 88. جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے۔ 89. (یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا۔ 90. وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ 91. وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے۔ 92. (یوسف نے) کہا کہ آج کے دن سے تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔ 93. یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہو جائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل وعیال کو میرے پاس لے آؤ۔

تفسیر آیات

80ــــ بڑے سے عمر میں بڑا مراد لینا ضروری نہیں بلکہ درجہ اور مرتبہ یا عقل ورائے میں بڑا مرادلینا زیادہ ا قرب ہے۔ تورات میں اس بھائی کانام یہوذاآیاہے۔معلوم ہوتاہے اس کے دل میں حضرت یوسفؑ  کے لیے کوئی نرم گوشہ تھا۔ غالباً اسی نے ان کے قتل کے بجائے کنویں میں ڈالنے کا مشورہ بھی دیا ہوگا تاکہ قتل کے گناہ سے بچ جائیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

83۔ گمشدہ سامان کی برآمدگی سے چوری ثابت نہیں ہوجاتی:۔ یہ بعینٖہ وہی الفاظ ہیں جو سیدنا یعقوبؑ نے اس وقت بھی کہے تھے جب برادران یوسف نے یوسفؑ کو کنویں میں ڈالنے کے بعد رات کو روتے ہوئے باپ کے پاس آئے تھے اور ایک چھوٹا ساواقعہ بناکر انہیں سنادیا تھا۔اب کی بار آپ نے بیٹوں سے پورا واقعہ سننے کے بعد جو انہیں تنبیہ کی تو اس سے ان کی مرادیہ تھی کہ کیا تم یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ کسی شخص کے سامان سے کسی گم شدہ چیز کا برآمد ہونا اس بات کا یقینی ثبوت کب ہوتاہے کہ اس شخص نے ضرور چوری کی ہے ۔ممکن ہے کسی دوسرے نے اس کے سامان میں وہ چیز رکھ دی ہو؟پھر تم نے یوسف پر چوری کا مزید الزام لگاکر بن یمین پر لگے ہوئے الزام کو پختہ تربنادیا۔ اس تنبیہ سے دوباتوں کا پتہ چلتاہے ایک یہ کہ سیدنا یعقوبؑ کو اس بات کا پختہ یقین تھا کہ میرے بیٹے چور نہیں ہوسکتے اور دوسرے یہ کہ برادران یوسف اپنے ان دونوں چھوٹے بھائیوں سے ہمیشہ بدگمان ہی رہتے تھے۔۔۔۔سب سے مراد یوسف بن یمین اور ان کا وہ بڑا بھائی ہے جو شرم و ندامت کے مارے مصر میں ہی رہ گیا تھا۔(تیسیر القرآن) 

۔ حضرتِ یعقوبؑ نے جب یہ دیکھا کہ یوسفؑ کے بعد وہ بن یامین اور یہودہ سے بھی محروم ہو گئے تو انہیں دفعتہً یہ  روشنی نظر آئی کہ اب انشا اللہ سب کے جمع ہو جانے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

84۔جسے فطرت بشری سے ذرابھی واقفیت ہے،وہ جانتاہے کہ نئی چوٹ سے پرانی چوٹ تازہ ہوجاتی ہے ،اور تازہ غم سے پرانا غم ہراہوجاتاہے،یہ امر انسان کیلئے طبعی ہے،چنانچہ اسی کے اقتضاء سے آپؑ بھی حضرت یوسفؑ کو از سرنوشدت کے ساتھ یادکرنے لگے۔پیمبر اپنے جذبات و احساسات کے لحاظ سے بالکل بشر ہوتاہے،مافوق البشر نہیں ہوتا،یہ سبق قصّہ یوسفی کے ایک ایک جزئیہ سے باربار دہرایا جارہاہے۔(تفسیر ماجدی)

ــــ رونا دھونا وہ برا ہوتاہے جو خدا کے سواکسی اور کے آگے ہو، جو امید کے بجائے یاس کا مظہر ہواور جس میں انسان اپنی بے صبری کا اظہار اس طرح کرے جس سے ایمان اور توکل مجروح ہو۔ اللہ کے آگے رونا اس کی رحمت کو جوش میں لانے کا باعث ہوتاہے۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)

86۔ یعنی خدا کے معاملہ میں میرا تجربہ یہ ہے کہ وہ مشکل کشا ہے اور مجھے اس کی رحمت کی روشنی نظر آرہی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

88۔اپنی پیش کردہ رقم کو حقیر و ناقص کہہ کر پیش کرنا،عزیز پر اور زیادہ اپنی مسکنت و احتیاج کا اظہار کرنا تھا، یوسفؑ اپنے بھائیوں کے مزاج کی تمکنت و خودداری بلکہ اکڑ سے خوب واقف تھے، اب جو ان کا لہجہ گدایانہ اور سائلانہ دیکھا ،نہ رہا گیا ،دل پگھل گیا، شفقتِ پیمبری تو غیروں تک کا دکھ نہیں دیکھ سکتی ،چہ جائیکہ یہ تو اپنے بھائی ہی تھے۔(تفسیر ماجدی)

89ــــ بھائیوں کی بدحالی و پریشانی اور ان کی اس لجاجت آمیز درخواست ، بالخصوص صدقہ کی درخواست، نے حضرت یوسفؑ کے دل کو ہلادیا ۔ بیگانگی کا جو پردہ ان کے اور ان کے بھائیوں کے درمیان اب تک حائل تھا اس کو مزید برقرار رکھنا انہوں نے مناسب خیال نہ فرمایا،اس لیے ان کے رویہ کا شکوہ زبان پر لائے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔ حضرت یوسف ؑ بھائی اور شریف بھائی تھے۔ بھائیوں کی اس بدحالی اور پریشانی اور ان کی اس لجاجت آمیز درخواست بالخصوص درخواست صدقہ نے ان کے دل کو ہلا دیا۔ یہ بڑے طنطنہ کے لوگ تھے لیکن اب حالات نے اس طرح ان کے اعصاب ڈھیلے کردیے تھے کہ صدقہ کے لیے درخواست کرنے میں بھی انہیں عار نہ تھا۔ (تدبرِ قرآن)

90۔ عزیز کے زبان سے یہ سوال اداہوتے ہی ان بھائیوں کے سامنے پچھلے واقعات کی یاد بجلی کی تیزی کے ساتھ آگئی ،وہ اپنے رشک و حسد کے جذبات،وہ یوسف کے خواب سے ان جذبات میں ترقی،اور یوسف و بن یامین کے ساتھ غرض دلی بغض ،عداوت، وہ ان کا یوسف کو گھر سے جنگل میں لے جانا،وہاں کنوئیں میں گرانا،پھر انہیں غلام کہہ کر قافلہ والوں کے ہاتھ فروخت کرڈالنا ،غرض اپنی بدسلوکیاں ایک ایک کرکے یاد آگئیں ،اور ساتھ ہی یہ خیال بھی تازہ ہوگیا کہ یوسف کا خواب جھوٹا نہیں ہوسکتا تھا، عجب نہیں کہ یہی اس کی تعبیر ہورہی ہو۔(تفسیر ماجدی)

ــــ یہ حقیقت اس ساری سرگزشت کی روح ہے۔وہ تقویٰ اور صبر، جس کے اندر احسان کی روح ہو،بندے پر دنیا اور آخرت دونوں میں خدا کے فضل کا ضامن ہے۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)

92۔ ہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہی الفاظ حضور نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن قریش کے ان سرغنوں کو خطاب کر کے فرمائے جو برابر آپ کی دشمنی میں سرگرم رہے تھے۔۔۔۔۔وہ بولے کہ آپ شریف بھائی اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں تم سے وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی، اب تم پر کوئی الزام نہیں، جاؤ تم آزاد ہو۔ (تدبرِ قرآن)

93۔ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۔ اس وقت تک حضرت یعقوبؑ کا کنبہ اچھا خاصہ وسیع ہوچکا تھا،بیٹے،بہویں،پوتیاں سب ملاکر بائبل کے حسب بیان ستر نفوس تھے اور شاہ مصر نے ان کا سامان باربرداری لانے کیلئے سرکاری گاڑیاں بھیج دی تھیں۔توریت میں ہے:۔"اور یعقوبؑ اپنی سب نسل سمیت مصر میں آیا،وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے بیٹوں کو جو اس کے ساتھ تھے،اور اپنی بیٹیوں کی بیٹیوں کو اور اپنی نسل کو اپنے ساتھ مصر لایا۔"(پیدائش46: 6و7)"سووہ سب جو یعقوبؑ کے گھرانے کے تھے ،اور مصر آئے ،ستر جانیں تھیں۔"(پیدائش46: 27)"اور اسرائیل کے بیٹے ،اپنے باپ یعقوبؑ کو اور اپنے ماں بچوں اور اپنی بیویوں کو اُن گاڑیوں پر لے گئے،جو فرعون نے ان کو لانے کو بھیجی تھیں۔"(پیدائش 46۔6)(تفسیر ماجدی)

۔ چنانچہ انہوں نے اپنا کرتا بھائیوں کو دیا کہ اس کو لے جاؤ، میرے باپ کے منہ پر اس کو ڈال دینا۔ اس سے ان کی آنکھیں روشن ہوجائیں گی۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ حضرت یعقوب کے سامنے زندگی کا سب سے بڑا غم بھی پیراہن یوسف ہی کی شکل میں آیا تھا جب کہ بھائیوں نے اس پر خون لگا کر بوڑھے باپ کے سامنے پیش کیا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور اب زندگی کی سب سے بڑی خوشی بھی پیراہن یوسف ہی کی شکل میں نمودار ہونے والی تھی۔ (تدبرِ قرآن)

۔ اور ضحاک اور مجاہد وغیرہ ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ یہ اس کرتے کی خصوصیت تھی کیونکہ یہ عام کپڑوں کی طرح نہ تھا بلکہ حضرت ابراہیم ؑ کے لئے جنت سے اس وقت لایا گیا تھا جب ان کو برہنہ کر کے نمرود نے آگ میں ڈالا تھا۔۔۔۔۔ان کی وفات کے بعد حضرت اسحاق ؑ کے پاس رہا ان کی وفات کے بعد حضرت یعقوب ؑ کو ملا آپ نے اس کو ایک بڑی متبرک شے کی حیثیت سے ایک نلکی میں بند کر کے یوسف ؑ کے گلے میں بطور تعویذ کے ڈال دیا تھا تاکہ نظر بد سے محفوظ رہیں۔۔۔۔۔۔جبرئیل امین ہی نے یوسف ؑ کو یہ مشورہ دیا کہ یہ جنت کا لباس ہے اس کی خاصیت یہ ہے کہ نابینا کے چہرے پر ڈال دو تو وہ بینا ہوجاتا ہے اور فرمایا کہ اس کو اپنے والد کے پاس بھیج دیجئے تو وہ بینا ہوجائیں گے۔ (معارف القرآن)


گیارہواں رکوع

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ ﴿94﴾ قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ ﴿95﴾ فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ﴿96﴾ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ ﴿97﴾ قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ﴿98﴾ فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ  ﴿99﴾ وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ ﴿100﴾ رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ ﴿101﴾ ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ ﴿102﴾ وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ ﴿103﴾ وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿104ع يوسف 12﴾
94. اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے۔ 95. وہ بولے کہ والله آپ اسی قدیم غلطی میں (مبتلا) ہیں۔ 96. جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ 97. بیٹوں نے کہا کہ ابا ہمارے لیے ہمارے گناہ کی مغفرت مانگیئے۔ بےشک ہم خطاکار تھے۔ 98. انہوں نے کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 99. جب یہ (سب لوگ) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہو جائیے خدا نے چاہا تو جمع خاطر سے رہیئے گا۔ 100. اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے۔ 101. (جب یہ سب باتیں ہولیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو۔ 102. (اے پیغمبر) یہ اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادران یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے۔ 103. اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ 104. اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلا بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ قرآن اور کچھ نہیں تمام عالم کے لیے نصیحت ہے۔

تفسیر آیات

94۔حضرت یعقوبؑ نے یہ بات اپنے آس پاس کے لوگوں سے فرمائی ،اور چونکہ جانتے تھے کہ لوگ آسانی سے باور نہ کریں گے،پیرایۂ بیان بھی اُسی قسم کا اختیار فرمایا۔ لَوْ لَا اَنْ تُفَنِّدُوْنِ۔حضرات ِ انبیاء کی لطافتِ احساس اور قوت ِادراک کا کیا کہنا !مصر سے کنعان صدہا میل کے فاصلہ پر، ادھرقافلہ کو حرکت ہوئی ،اُدھر اتنی دورآپ ؑکو پیراہن یوسفی کی خوشبو محسوس  ہوگئی ، لیکن یہ حیرت انگیزذکاوتِ حس بھی ان حضرات کی اپنی اختیاری چیز نہیں ہوتی ،اور اسی لئے ہروقت قائم نہیں رہتی،محض فیضانِ الٰہی کے تابع ہے، کشفِ تکوینی ہی کی ایک قسم ہے۔۔۔مرشدتھانویؒ نے فرمایا کہ چونکہ ملاقات کا وقت موعود قریب آلگا تھا،یہ خوشبو اتنے فاصلہ سے مدرک ہوگئی اور جب وہ کنوئیں میں نسبۃً بہت قریب تھے، چونکہ وقت نہ آیا تھا،یہ خوشبو مدرک  نہ ہوئی اور یہی حال حضرات اولیاء کے مکاشفات کاہے۔(تفسیر ماجدی) 

۔ شہر مصر سے کنعان تک ابن عباس ؓ کی روایت کے مطابق آٹھ دن کی مسافت کا راستہ تھا اور حضرت حسن ؓ نے فرمایا کہ اسی (80 )  فرسخ یعنی تقریبا ڈھائی سو میل کا فاصلہ تھا اللہ تعالیٰ نے اتنی دور سے قمیص یوسف ؑ کے ذریعہ حضرت یوسف ؑ کی خوشبو یعقوب ؑ کے دماغ تک پہنچا دی اور یہ عجائب میں سے ہے کہ جب حضرت یوسف ؑ اپنے وطن کنعان ہی کے ایک کنویں میں تین روز تک پڑے رہےتو اس وقت یہ خوشبو محسوس نہیں ہوئی۔ یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ در حقیقت معجزہ پیغمبر کا اپنا فعل و عمل بھی نہیں ہوتا یہ براہ راست فعل اللہ ہوتا ہے۔۔۔۔ (معارف القرآن)

95۔ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ۔ضلال کا ترجمہ ہرجگہ گمراہی نہیں ہوتا،یہاں مفہوم ضلال عقلی ہے، اور اس کیلئے اردو میں"وہم یاخبط"ہی آئے گا۔(تفسیر ماجدی)

98۔ حضرت یعقوب نے ان کی یہ استدعا قبول فرمائی اور ان سے وعدہ کیا کہ میں عنقریب تمہارے لیے اپنے رب سے گناہوں کی معافی کے لیے دعا کروں گا۔ (تدبرِ قرآن)

99۔ اَبَوَیْهِ۔حضرت کی والدہ کا توانتقال ہوچکا تھا،پرورش سوتیلی ماں اور حقیقی خالہ نے کی تھی، یہاں مجازاً انہی کو والدہ کہاگیا۔(تفسیر ماجدی)

100۔(اور اس مرتبۂ سلطنت تک پہنچادیا۔)دنیوی نعمتیں اور راحتیں بھی اللہ کے قانون و شریعت میں حقیر و ناقابلِ التفات نہیں ،جیساکہ متشددین اور اہل غلو نے سمجھ رکھا ہے،بلکہ یہ اللہ کے احسانات میں شمار ہونے کے قابل ہیں اور یہاں ایک نبی برحق ان میں سے ایک ایک چیز کا شکریہ بجالارہے ہیں۔شاعروں اور صوفیاء خام کارنے ان کا حلیہ ہی کس قدر بگاڑ رکھاہے۔۔۔کنعان اس وقت مصر کے مقابلے میں جو مرکز تہذیب و تمدن تھا، ایک دیہات ہی کی حیثیت رکھتاتھا۔(تفسیر ماجدی)

۔اگر سجدے سے مراد وہ چیز ہو جسے اسلامی اصطلاح میں سجدہ کہا جاتا ہے، تو وہ خدا کی بھیجی ہوئی کسی شریعت میں کبھی کسی غیر اللہ کے لیے جائز نہیں رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔ حضرت یوسف ؑ نے اپنے والدین کو تعظیماً تخت پر جگہ دی۔ بقیہ لوگ حسب دستور عام لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ پر بیٹھے ہوں گے۔ اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف نمودار ہوئے اور قاعدے کے مطابق ان کے خدم و حشم ان کی تعظیم کے لیے جھکے تو ماحول سے متاثر ہو کر یہ لوگ بھی بےاختیارانہ ان کی تعظیم کے لیے جھک پڑے۔ (تدبرِ قرآن)

101۔توریت میں حضرت یعقوبؑ کی اس وصیت کا بھی ذکر ہے کہ مجھے سرزمین مصر میں دفن نہ کیا جائے بلکہ کنعان لے جاکر میرے آباواجداد کے پہلو میں دفن کیا جائے۔(تفسیر ماجدی)

۔ ۔۔۔حضرت یوسفؑ کی اس قیمتی تقریر نے بھی بائبل اور تلمود میں کوئی جگہ نہیں پائی ہے۔ ۔۔ (تفہیم القرآن)

۔۔۔۔حمدو ثناکے بعد دوبارہ آپ نے اعتراف فرمایا کہ توہی میرا کارساز،حامی،سرپرست اور نگہبان ہے۔لہذا مجھے اپنی فرمانبرداری پر قائم رکھنا ۔مجھے موت آئے تو تیری فرمانبرداری کی حالت میں آئے اور مرنے کے بعد مجھے نیک لوگوں یعنی میرے آباؤاجداد سیدنا ابراہیم ؑ ،سیدنااسماعیلؑ اور سیدنا یعقوبؑ کے ساتھ ملادینا،نیز اس سے تمام نیک لوگ بھی مراد لیے جاسکتے ہیں، جیساکہ الفاظ کے عموم سے واضح ہوتاہے۔۔۔۔جب تک سیدنا یعقوبؑ زندہ رہے ۔سیدنا یوسفؑ حکومت کرتے رہے ۔لیکن جب والد فوت ہوگئے تو آپ اپنی مرضی سے اقتدار سے دستبردار ہوگئے سیدنا یعقوبؑ نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹوں کو جو وصیتیں کی تھیں ان کا ذکر سورہ بقرہ میں گذرچکا ہے۔منجملہ ایک یہ بھی تھی کہ میری میت کو شام لے جاکر وہاں آباؤاجداد کے ساتھ دفن کرنا۔چنانچہ سیدنا یوسفؑ خود انہیں دفن کیلئے شام لے گئےاور دفن کے بعد واپس چلے گئے۔ایک دفعہ آپؑ (سیدنا یوسفؑ)نے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گاجب بنی اسرائیل مصر سے نکل جائیں گے ،اس وقت وہ میری میت کو ساتھ لے جائیں چنانچہ تقریباً پانچ سوسال بعد جب موسیٰؑ بنی اسرائیل کو لے کرمصر سے روانہ ہوئے تو سیدنا یوسف کا تابوت بھی ساتھ لے گئے۔۔۔۔سیدنا یوسفؑ کا زلیخا سے نکاح کا افسانہ:۔  بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ زلیخا بعد میں مسلمان ہوگئی اور سیدنا یوسفؑ نے ان سے نکاح کرلیا تھا۔ لیکن جس قدر تکلف و تصنع سے اسرائیلی روایات سے کھینچ تان کر یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔اسی سے معلوم ہوجاتاہے کہ اس میں حقیقت کا حصہ کس قدر ہوسکتا ہے۔قرآن و احادیث اس بارے میں مطلق خاموش ہیں۔ ویسے بھی کسی پیغمبر کے شایان شان نہیں ہوتاکہ زلیخا جیسی حیا باختہ اور مکروفریب کرنے والی عورت سے نکاح کرے۔(تیسیر القرآن)

102۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ تورات میں حضرت یوسف کا قصہ اگر ہے بھی تو آنحضرت ﷺ کے لیے اس سے واقف ہونے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اس لیے کہ آپ امی تھے۔ پھر تورات کے بیان اور قرآن کے بیان میں قدم قدم پر اختلاف ہے اور ان تمام اختلافات پر جو شخص بھی غور کرے گا وہ یہ تسلیم کیے بغیر نہی رہ سکتا کہ قرآن کا بیان بالکل عقل و فطرت کے مطابق ہے اس لیے کہ یہ براہ راست وحی الٰہی پر مبنی ہے۔ (تدبرِ قرآن)


بارہواں رکوع

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ ﴿105﴾ وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ ﴿106﴾ اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ﴿107﴾ قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ ﴿108﴾ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ﴿109﴾ حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ ﴿110﴾ لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿111ع يوسف 12﴾
105. اور آسمان و زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں اور ان سے اعراض کرتے ہیں۔ 106. اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں۔ 107. کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔ 108. کہہ دو میرا رستہ تو یہ ہے میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (از روئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ 109. اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔ اور متّقیوں کے لیے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟ 110. یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اپنی نصرت کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا۔ اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگار لوگوں سے پھرا نہیں کرتا۔ 111. ان کے قصے میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

تفسیر آیات

105۔ اوپرے کے گیارہ رکوعوں میں حضرت یوسف کا قصہ ختم ہوگیا، اگر وحی الہی کا مقصد محض قصہ گوئی ہوتا تو اسی جگہ تقریر ختم ہوجانی چاہیے تھی۔ (تفہیم القرآن)

106۔ مشرکین ِ مکہ کا تلبیہ:۔ پھر اس کے ساتھ دوسروں کو شریک  بھی بناتے جاتے ہیں اور یہ بات صرف مشرکین مکہ سے مختص نہیں بلکہ ان سے پہلے بھی یہی ہوتا رہا اور ان کے بعد آج تک بھی یہی صورتحال  ہے۔مشرکین مکہ کے اصل عقیدہ کی وضاحت اس تلبیہ سے صاف واضح  ہوتی جو وہ حج و عمرہ کے احرام باندھتے وقت یوں پکارتے تھے:۔(لبيك لا شريك لك الا شريكا هولك تملكه وما ملك)(مسلم،کتاب الحج،باب التلبیہ۔)یعنی اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس کے جسے تو نے اختیار دے رکھا ہے وہ خود کوئی اختیار نہیں رکھتا۔یہی عقیدہ شرک کی سب سے بڑی بنیاد ہے اور یہ آج بھی ویسے ہی پایا جاتاہے۔ جیساکہ مشرکین ِ مکہ میں یا ان سے بھی پہلے پایا جاتاتھا۔آج بھی لوگ اولیاء اللہ کے تصرفات کے بڑی شدت سے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تصرفات اور اختیارات انہیں اللہ ہی نے عطاکئے ہوئے ہیں جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ یہ بات تم کسی الہامی کتاب سے دکھلا سکتے ہوکہ اللہ نے فلاں فلاں قسم کے اختیارات فلاں فلاں لوگوں کو تفویض کررکھے ہیں؟(تیسیر القرآن)

109ـــــ کوئی عورت نبیہ نہیں ہوئی:۔ اس آیت میں ضمناً دوباتیں مزید معلوم ہوئیں۔ایک یہ کہ کوئی عورت کسی دور میں نبی نہیں بنائی گئی۔دوسرے یہ کہ کوئی نبی کسی بدوی یا جنگلی علاقہ میں مبعوث نہیں کیا گیا۔ وہ بڑی بستیوں یا شہروں میں ہی پیدا ہوئے اور وہی ان کا مرکز تبلیغ رہا۔(تیسیرالقرآن )

110۔ اللہ کی  مددمیں تاخیر سے مومنوں پر اثر:۔  اس آخری جملہ کی تشریح کیلئے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے:سیدنا عروہ بن زبیرؓ نے سیدہ عائشہؓ سے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کو جن لوگوں نے مانا اور ان کی تصدیق کی ۔جب ایک مدت دراز تک ان پر آفت اور مصیبت آتی رہی اور اللہ کی مدد آنے میں دیر ہوگئی اور پیغمبر جھٹلانے والوں کے ایمان لانے سے ناامید ہوگئے اور یہ گمان کرنے لگے کہ جو لوگ ایمان لاچکے ہیں اب وہ بھی ہمیں جھوٹا سمجھنے لگیں گے۔اس وقت اللہ کی مدد آن پہنچی۔(بخاری،کتاب التفسیر)۔۔۔۔۔اب جو لوگ ایمان لاکر منکرینِ حق کے ظلم و ستم برداشت کررہے تھے اور ان سے جو وعدہ و نصرت کیا جارہاتھا۔ایک تو وہ پورا نہیں ہورہاتھا۔دوسرے منکرین ِ حق کو یہ یقین ہوگیا کہ نبیوں کے یہ عذاب کے وعدے سب ڈھکوسلے ہیں۔ لہذا ایمان لانے والے بھی یہ سمجھنے لگے کہ ان پیغمبروں نے ہمارے ساتھ کہیں جھوٹ ہی نہ بولا ہو۔یا ایسے وعدے جھوٹے ہی نہ ثابت ہوں ۔ایسے مایوس کن حالات میں بعض دفعہ پیغمبروں کے پائے ثبات میں بھی لغزش آنے لگی ہو جیساکہ سورہ بقرہ میں ہے"وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ"(2: 214)(تیسیر القرآن)

111۔  قرآن کی تین صفات:۔ قرآن کا موضوع ،نوع انسان کی ہدایت ہے۔لہذا جوبات بھی انسان کی ہدایت سے تعلق رکھتی ہے ۔اس کی تفصیل اس کتاب میں آگئی ہے۔تفصیل کل شئی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اس میں سے علم طب یا حساب یا جغرافیہ  وغیرہ کی تفصیلات تلاش کرنے لگیں ۔نیز یہ کتاب صرف ان لوگوں کو ہدایت کا کام دیتی ہے جویہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ پھر ان لوگوں کیلئے رحمت بھی ہے۔بھلا جس شخص کو بلاکسی معاوضہ اور تکلیف کے زندگی کے ہرپہلو میں بہترین رہنمائی مل جائے اس کیلئے اس سے زیادہ نعمت اور رحمت کیا ہوسکتی ہے؟اور اس میں جو اقوام سابقہ کےاور انبیاء و رسل کے قصے بیان ہوئے ہیں وہ اپنے اندر اہل عقل و خرد کیلئے عبرتوں کے بے شمارپہلو سمیٹے ہوئے ہیں اور یہی چیز اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کسی انسان کی تصنیف کردہ کتاب نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔جو قرون اولیٰ کے صحیح صحیح واقعات بیان کرنے کے ساتھ ان تاریخی واقعات اور قصوں میں بھی ہدایت اور عبرت کیلئے بے شمار اسباق سمودیتاہے۔(تیسیر القرآن)