14 - سورة ابراہیم (مکیہ)
| رکوع - 7 | آیات - 52 |
مضمون:حق و باطل کی کشمکش میں حق اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ وہ صبرواستقامت سے جدوجہد کریں گے تو کامیاب ہوں گے اور باطل کا قصہ پاک ہوجائے گا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
سورۂ کا نام: الرٰ۔یہ مکی سورۃ ہے جو مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی ۔اس میں انبیاء کے ظہور اور ان کے احوال و نتائج کو مجموعی طورپر پیش کیا گیاہے۔(تعلیم القرآن)
شانِ نزول: سورۂ یونس (یاسابقہ سورۂ)
نظم ِ سورۂ: سورۂ یونس۔
مرکزی مضمون: انسان کو قرآن کے انذار کی روشنی میں ، ایام اللہ سے عبرت حاصل کرکے ،کفر ،ناشکری اور کفران نعمت کا رویہ ترک کرنا اور توحید و شرک کا رویہ اختیار کرنا چاہئے ۔
ترتیب ِ مطالعۂ: (i) ر۔ 1تا 5 (قرآن ، توحید، شکر اور کفر، احوال آخرت، کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ) (ii) ر۔6 (ملت ابراہیم کی وضاحت) (iii) ر۔7 ( خاتمۂ سورۂ ۔ حضورؐ کو تسلی اور کفار کودھمکی)
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ ﴿1﴾ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ ﴿2﴾ اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ ﴿3﴾ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ﴿4﴾ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ ﴿5﴾ وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ ۧ ۧ ﴿6ع ابراهيم 14﴾ |
| 1. الٓرٰ۔ (یہ) ایک (پُرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاؤ (یعنی) ان کے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے رستے کی طرف۔ 2. وہ خدا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور کافروں کے لیے عذاب سخت (کی وجہ) سے خرابی ہے۔ 3. جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں۔ 4. اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انہیں (احکام خدا) کھول کھول کر بتا دے۔ پھر خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ غالب (اور) حکمت والا ہے۔ 5. اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ۔ اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ اس میں ان لوگوں کے لیے جو صابر وشاکر ہیں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں۔ 6. اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جب کہ تم کو فرعون کی قوم (کے ہاتھ) سے مخلصی دی وہ لوگ تمہیں بُرے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور عورت ذات یعنی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی۔ |
تفسیر آیات
1۔حضور کا منصب: ۔۔۔۔۔معنی آیت کے یہ ہیں کہ یہ کتاب ہم نے اس لیے آپ کی طرف نازل کی ہے کہ آپ اس کے ذریعہ تمام عالم کے انسانوں کو کفر و شرک اور برے کاموں کی اندھیریوں سے نجات دلا کر ایمان اور حق کی روشنی میں لے آئیں۔۔۔۔۔ شاید اسی معنوی اثر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے قرآن کریم میں جہاں رسول کریم ﷺ کی بعثت کے مقاصد بتلائے گئے ہیں وہاں تعلیم معانی سے پہلے تلاوت کا جداگانہ ذکر کیا گیا ہے يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ۔ (معارف القرآن)
3۔ قرآن کی روسے کافر کون ہیں؟یعنی جن کی تمام ترکوششیں دنیوی مفادات اور ان کے حصول میں لگی ہوئی ہیں آخرت کی انہیں کچھ فکر نہیں۔وہ دنیا کیلئے آخرت کی کامیابیوں اور خوشحالیوںکو تو قربان کرنے پر تیار ہیں لیکن آخرت کی فلاح و نجات حاصل کرنے کی خاطر اس دنیا کا کوئی نقصان برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔پھر ان کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ دوسروں کو بھی انہی دنیوی مفادات کی ترغیب دے کر اللہ کی راہ کی طرف نہ آنے دیں یاراہ حق کی طرف چلنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے اور انہیں اپنے ظلم اور زیادتیوں کا نشانہ بناتے ہیں یا اسی قرآن میں سے گمراہی کی راہیں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے کافروں کو تباہ کن عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔(تیسیر القرآن)
4۔ قرآن کا بیان کیا چیز ہے؟ یعنی رسول کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی قوم کو ہم زبان ہونے کے باوجودقرآن کا بیان بتائے یا سکھائے۔یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ بیان محض قرآن کے الفاظ کو دہرادینے کا نام نہیں بلکہ بیان میں قرآن کے الفاظ کا صحیح صحیح مفہوم بتانا ،اس کی شرح و تفسیر،اس کی حکمت عملی اور طریق امثال بتانا سب کچھ شامل ہے ۔قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کے نازل کرنے والے اور جس پر نازل کیا گیا ہے دونوں کے نزدیک قرآن کے الفاظ کا مفہوم متعین ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے صرف الفاظ ہی نہیں نازل فرمائے بلکہ ان کا مفہوم بھی مخاطب (رسول اللہؐ )کے ذہن میں القا کردیا تاکہ امتثال امر میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔یعنی مفہوم کو مخاطب کے ذہن میں متعین کردینا ہی قرآن کا بیان ہے۔۔۔۔۔قرآن کا بیان کیوں ضروری ہے؟:۔ نیز اللہ تعالیٰ نے سورہ القیامہ میں واضح طورپر فرمایا کہ قرآن کے ساتھ اس کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے اور قرآن اور بیان دونوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اور یہی بیان رسول اللہؐ نے امت کو سکھایاتھا۔مثلاًقرآن میں بے شمار مقامات پر "اقیموا الصلوٰۃ"کا لفظ آیاہے۔اس آیت میں صلوٰۃ کو قائم کرنے کا حکم ہے اور جب تک یہ معلوم نہ ہوکہ صلوٰۃ ہے کیا چیز ،تب تک تعمیل ناممکن ہے۔ لغت میں اس کے معنی دیکھنے سے تو کام نہیں چلے گا۔کیونکہ یہ ایک شرعی اصطلاح ہے جس کی لمبی چوڑی تفصیل کی ضرورت ہے۔مثلاً نماز اداکرنے کی ترتیب،کتنی رکعات پڑھی جائیں۔اس سے پہلے طہارت کا حکم،نمازوں کے اوقات وغیرہ یہ سب کچھ امت کو بتانارسول اللہؐ کا کام تھا اور یہی قرآن کا بیان ہے۔یہی حال دوسری شرعی اصطلاحات کا ہے اور وہ بھی بکثرت ہیں۔مثلاًالٰہ،دین،عبادت، صلوٰۃ،صوم،حج،مناسک حج،طواف،تلبیہ،رکوع، سجود،قیام،عمرہ،آخرت،معروف و منکر وغیرہ ان سب اصطلاحات کا وہی مفہوم معتبر سمجھا جائے گا جو اللہ کے رسول نے بیان فرمایا ہو۔۔۔۔۔قرآن کا بیان آپ کی ذمہ داری ہے:۔ علاوہ ازیں کئی الفاظ کثیر المعانی ہوتے ہیں۔کچھ محاورۃً استعمال ہوتے ہیں۔کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کے عرفی معانی اور ہوتے ہیں اور لغوی اور ۔ان سب الفاظ کی تفسیر و تشریح کا نام قرآن کا بیان ہے۔کتاب کا محض اس زبان میں اترناہی کافی نہیں جو قومی زبان ہو۔بلکہ بہت سے مقامات ایسے ہوتے ہیں جن کے بیان کی ضرورت ہوتی ہے ۔قرآن کا بیان آپؐ کی ذمہ داری تھی اور اسی بیان کو سنت کہا جاتاہے۔(تیسیر القرآن)
5۔ کیونکہ گمراہی کی سینکڑوں صورتیں ہیں اس لئے ظلمات جمع استعمال کیا گیا اور ہدایات (صراط مستقیم ) ایک ہی ہے اس لئے نور واحد کا لفظ استعمال کیا گیا۔(ضیاء القرآن)
ــ تذکیر بایامِ اللہ سے مراد ؟ ایام اللہ کے لفظی معنی ہیں اللہ کے دن اور اس سے ایسے دن مراد ہوتے ہیں جو تاریخ انسانی میں یادگار دن بن جاتے ہیں خواہ یہ خوشی کے ہوں یا مصیبت کے۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
6۔ نِسَآءَكُمْ۔ بجائے بناتکم کے نسائکم لانے سے ادھر بھی اشارہ ہوگیا کہ لڑکیوں کو محض زمانہ طفلی تک کیلئے نہیں بلکہ بڑی عمر تک کیلئے جینے دیا جاتا تھا۔(تفسیر ماجدی)
دوسرا رکوع |
| وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ ﴿7﴾ وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ ﴿8﴾ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ ﴿9﴾ قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ﴿10﴾ قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ﴿11﴾ وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿12ع ابراهيم 14﴾ |
| 7. اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کہ) میرا عذاب بھی سخت ہے۔ 8. اور موسیٰ نے (صاف صاف) کہہ دیا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو خدا بھی بےنیاز (اور) قابل تعریف ہے۔ 9. بھلا تم کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور جو ان کے بعد تھے۔ جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں (جب) ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیئے (کہ خاموش رہو) اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہیں کرتے اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک میں ہیں۔ 10. ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے بارے) میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور (فائدہ پہنچانے کے لیے) ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔ وہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا یہ منشاء ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوجتے رہے ہیں ان (کے پوجنے) سے ہم کو بند کر دو تو (اچھا) کوئی کھلی دلیل لاؤ (یعنی معجزہ دکھاؤ)۔ 11. پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ 12. اور ہم کیونکر خدا پر بھروسہ نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) رستے بتائے ہیں۔ جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ |
تفسیر آیات
9۔ ۔۔۔۔لیکن بہت سی ایسی اقوام بھی تھیں جن کے حالات کا علم ان کی دسترس سے باہر تھا اور ان سے کہیں دور کے علاقوں میں آباد تھیں اور ان پر بھی انکار حق کی بناپر عذاب آیاتھا۔لہذا قرآن نے ان کا تفصیل سے ذکر نہیں کیا محض اشارہ کردیا ہے۔(تیسیر القرآن)
۔ حضرت موسیٰ ؑ کی تقریر اوپر ختم ہو گئی۔ اب براہِ راست خطاب کفّارِ مکہ سے شروع ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ان الفاظ کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان بہت کچھ اختلاف پیش آیا ہے اور مختلف لوگوں نے مختلف معنی بیان کیے ہیں۔ ہمارے نزدیک ان کا قریب ترین مفہوم وہ ہے جسے ادا کرنے کے لیے ہم اردو میں کہتے ہیں کانوں پر ہاتھ رکھے، یا دانتوں میں انگلی دبائی۔ اس لیے کہ بعد کا فقرہ صاف طور پر انکار اور اچنبھے، دونوں مضامین پر مشتمل ہے اور کچھ اس میں غصے کا انداز بھی ہے۔ (تفہیم القرآن)
تیسرا رکوع |
| وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ ﴿13﴾ وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ ﴿14﴾ وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ ﴿15﴾ مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ ﴿16﴾ یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ ﴿17﴾ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ ﴿18﴾ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ ﴿19﴾ وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ ﴿20﴾ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ ۧ ۧ ﴿21ع ابراهيم 14﴾ |
| 13. اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا ہمارے مذہب میں داخل ہو جاؤ۔ تو پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دیں گے۔ 14. اور ان کے بعد تم کو اس زمین میں آباد کریں گے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو (قیامت کے روز) میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے اور میرے عذاب سے خوف کرے۔ 15. اور پیغمبروں نے (خدا سے اپنی) فتح چاہی تو ہر سرکش ضدی نامراد رہ گیا۔ 16. اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ 17. وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پیئے گا اور گلے سے نہیں اتار سکے گا اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا۔ اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔ 18. جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال راکھ کی سی ہے کہ آندھی کے دن اس پر زور کی ہوا چلے (اور) اسے اڑا لے جائے (اس طرح) جو کام وہ کرتے رہے ان پر ان کو کچھ دسترس نہ ہوگی۔ یہی تو پرلے سرے کی گمراہی ہے۔ 19. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کر دے اور (تمہاری جگہ) نئی مخلوق پیدا کر دے۔ 20. اور یہ خدا کو کچھ بھی مشکل نہیں۔ 21. اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے۔ |
تفسیر آیات
13۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے اپنی گمراہ قوموں کی ملت میں شامل ہوا کرتے تھے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ نبوت سے پہلے چونکہ وہ ایک طرح کی خاموش زندگی بسر کرتے تھے، کسی دین کی تبلیغ اور کسی رائج الوقت دین کی تردید نہیں کرتے تھے، اس لیے ان کی قوم یہ سمجھتی تھی کہ وہ ہماری ہی ملت میں ہیں، اور نبوت کا کام شروع کردینے کے بعد ان پر یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ ملت آبائی سے نکل گئے ہیں۔ حالانکہ وہ نبوت سے پہلے بھی کبھی مشرکین کی ملت میں شامل نہ ہوئے تھے کہ اس سے خروج کا الزام ان پر لگ سکتا۔ (تفہیم القرآن)
15۔ ذکر بظاہر پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے واقعات کا ہے مگر چسپاں ہو رہا ہے وہ ان حالات پر جو اس سورة کے زمانہ نزول میں آ رہے تھے۔ (تفہیم القرآن)
20۔ دعوے پر دلیل پیش کرنے کے بعد فورا ہی یہ فقرہ نصیحت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے اور ساتھ ساتھ ایک شبہہ کا ازالہ بھی ہے جو اوپر کی دو ٹوک بات سن کر آدمی کے دل میں پیدا ہوسکتا ہے۔ ایک شخص پوچھ سکتا ہے کہ اگر بات وہی ہے جو ان آیتوں میں فرمائی گئی ہے تو یہاں ہر باطل پرست اور غلط کار آدمی فنا کیوں نہیں ہوجاتا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نادان ! کیا تو سمجھتا ہے کہ اسے فنا کردینا اللہ کے لیے کچھ دشوار ہے ؟ یا اللہ سے اس کا کوئی رشتہ ہے کہ اس کی شرارتوں کے باوجود اللہ نے محض اقربا پروری کی بنا پر اسے مجبورا چھوٹ دے رکھی ہو ؟ اگر یہ بات نہیں ہے، اور تو خود جانتا ہے کہ نہیں ہے، تو پھر تجھے سمجھنا چاہیے کہ ایک باطل پرست اور غلط کار قوم ہر وقت اس خطرے میں مبتلا ہے کہ اسے ہٹا دیا جائے اور کسی دوسری قوم کو اس کی جگہ کام کرنے کا موقع دے دیا جائے۔ اس خطرے کے عملا ًرونما ہونے میں اگر دیر لگ رہی ہے تو اس غلط فہمی کے نشے میں مست نہ ہوجا کہ خطرہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ مہلت کے ایک ایک لمحے کو غنیمت جان اور اپنے باطل نظام فکر و عمل کی ناپائیداری کو محسوس کر کے اسے جلدی سے جلدی پائیدار بنیادوں پر قائم کرلے۔ (تفہیم القرآن)
چوتھا رکوع |
| وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿22﴾ وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ ﴿23﴾ اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ ﴿24﴾ تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ ﴿25﴾ وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ ﴿26﴾ یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ ۧ ۧ ﴿27ع ابراهيم 14﴾ |
| 22. جب (حساب کتاب کا) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہا مان لیا۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے۔ 23. اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی صاحب سلامت سلام ہوگا۔ 24. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں۔ 25. اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل لاتا (اور میوے دیتا) ہو۔ اور خدا لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ 26. اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے گا اس کو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں۔ 27. خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ |
تفسیر آیات
22۔ یہاں پھر شرک اعتقادی کے مقابلہ میں شرک کی ایک مستقل نوع یعنی شرک عملی کے وجود کا ایک ثبوت ملتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ شیطان کو اعتقادی حیثیت سے تو کوئی بھی نہ خدائی میں شریک ٹھیراتا ہے اور نہ اس کی پرستش کرتا ہے۔ سب اس پر لعنت ہی بھیجتے ہیں۔ البتہ اس کی اطاعت اور غلامی اور اس کے طریقے کی اندھی یا آنکھوں دیکھے پیروی ضرور کی جا رہی ہے۔ (تفہیم القرآن)
24۔ کلمہ طیبہ کی مثال شجرطیبہ ہے:۔ پاکیزہ درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے اور پاکیزہ درخت کی مومن سے مثال پیش کی گئی ہے جس کے دل میں کلمہ طیبہ یا کلمہ توحید رچ بس گیا ہو۔جیساکہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتاہے۔۔۔۔اور اللہ تعالیٰ نے شجرہ طیبہ کی چار صفات بیان فرمائیں(1)وہ طیب اور پاکیزہ ہے ۔اس کی یہ عمدگی خواہ شکل و صورت کے اعتبار سے ہو یا پھل پھول کے اعتبار سے یا پھل کے خوش ذائقہ ،شیریں اور خوشبودار ہونے کے اعتبار سے ہو۔(2)اس کی جڑیں زمین میں خوب مستحکم اور گہرائی تک پیوست ہوچکی ہیں اور اس قدر مضبوط ہیں جو اپنے طویل القامت درخت کا بوجھ سہار سکتی ہیں (3)اس کی شاخیں آسمانوں میں یعنی بلندی تک چلی گئی ہیں لہذا اس سے جو پھل حاصل ہوگا وہ ہوا کی آلودگی اور گندگی وغیرہ کے جراثیم سے پاک و صاف ہوگا۔(4)یہ عام درختوں کی طرح نہیں بلکہ ہر موسم میں پورا پھل دیتاہے اور یہ باتیں کھجور کے درخت اور پھل میں پائی جاتی ہیں ۔اسی لیے اس درخت کو حدیث میں شجرہ طیبہ کہا گیا ہے اور ممکن ہے کہ اللہ کے علم میں کوئی ایسا درخت بھی ہو جو ہروقت پھل دیتا ہو جیساکہ آیت کے الفاظ سے متبادر ہوتاہے ۔نیز اللہ نے شجرہ طیبہ کو کلمہ طیبہ کے مثل قراردیا ہے اور کلمہ طیبہ میں یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہے۔وہ سدا بہار ہے اور ہروقت اپنے مصالح برگ و بار لاتارہتاہے۔(تیسیر القرآن)
۔ رسولؐ نے فرمایا کہ شجرہ طیبہ (جس کا ذکر قرآن) میں ہے کھجور کا درخت ہے اور شجرہ خبیثہ حنظل کا درخت (مظہری) (معارف القرآن)
۔کلمہ طیبہ کے لفظی معنی ”پاکیزہ بات“ کے ہیں، مگر اس سے مراد وہ قول حق اور عقیدہ صالحہ ہے جو سراسر حقیقت اور راستی پر مبنی ہو۔ یہ قول اور عقیدہ قرآن مجید کی رو سے لازما ًوہی ہوسکتا ہے جس میں توحید کا اقرار، انبیاء (علیہم السلام) اور کتب آسمانی کا اقرار، اور آخرت کا اقرار ہو، کیونکہ قرآن انہی امور کو بنیادی صداقتوں کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین سے لے کر آسمان تک چونکہ سارا نظام کائنات اسی حقیقت پر مبنی ہے جس کا اقرار ایک مومن اپنے کلمہ طیبہ میں کرتا ہے، اس لیے کسی گوشے میں بھی قانون فطرت اس سے نہیں ٹکراتا، کسی شے کی بھی اصل اور جبلت اس سے ابا نہیں کرتی، کہیں کوئی حقیقت اور صداقت اس سے متصادم نہیں ہوتی۔ اسی لیے زمین اور اس کا پورا نظام اس سے تعاون کرتا ہے، اور آسمان اور اس کا پورا عالم اس کا خیر مقدم کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
25۔ کلمہ طیبہ کی جڑ اس لحاظ سے مضبوط ہے کہ انسانی زندگی میں اس کا آغاز سیدنا آدم ؑ سے ہوا اور تاقیامت یہ کلمہ برقرار رہے گا ۔آندھیوں کے جھکڑیا باطل کے بلاخیز طوفان اسے متزلزل نہیں کرسکے۔اور باطنی لحاظ سے اس کلمہ کا مستقر مومن کا دل ہے اور مومن کے دل میں اس کلمہ کی جڑیں اس قدر راسخ ہوتی ہیں کہ زمانہ بھر کی مشکلات اور مصائب اسے اس عقیدہ سے متزلزل نہیں کرسکتے ۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
۔ یعنی وہ ایسا بار آور اور نتیجہ خیز کلمہ ہے کہ جو شخص یا قوم اسے بنیاد بنا کر اپنی زندگی کا نظام اس پر تعمیر کرے، اس کو ہر آن اس کے مفید نتائج حاصل ہوتے رہتے ہیں۔ وہ فکر میں سلجھاؤ، طبیعت میں سلامتی، مزاج میں اعتدال، سیرت میں مضبوطی، اخلاق میں پاکیزگی، روح میں لطافت، جسم میں طہارت و نظافت، برتاؤ میں خوشگواری، معاملات میں راست بازی، کلام میں صداقت شعاری، قول وقرار میں پختگی، معاشرت میں حسن سلوک، تہذیب میں فضیلت، تمدن میں توازن، معیشت میں عدل و مواساۃ، سیاست میں دیانت، جنگ میں شرافت، صلح میں خلوص اور عہدوپیمان میں وثوق پیدا کرتا ہے، وہ ایک ایسا پارس ہے جس کی تاثیر اگر کوئی ٹھیک ٹھیک قبول کرلے تو کندن بن جائے۔ (تفہیم القرآن)
26۔ ”یہ لفظ کلمہ طیبہ کی ضد ہے جس کا اطلاق اگرچہ ہر خلاف حقیقت اور مبنی بر غلط قول پر ہوسکتا ہے، مگر یہاں اس سے مراد ہر وہ باطل عقیدہ ہے جس کو انسان اپنے نظام زندگی کی بنیاد بنائے، عام اس سے کہ وہ دہریت ہو، الحادو زندقہ ہو، شرک و بت پرستی ہو، یا کوئی اور ایسا تخیل جو انبیاء (علیہم السلام) کے واسطے سے نہ آیا ہو۔۔۔۔۔۔دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ عقیدہ باطل چونکہ حقیقت کے خلاف ہے اس لیے قانون فطرت کہیں بھی اس سے موافقت نہیں کرتا۔ کائنات کا ہر ذرہ اس کی تکذیب کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
27 صحیح بخاری ومسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ آخرت سے مراد اس آیت میں برزخ یعنی قبر کا عالم ہے۔۔۔۔۔اسی طرح تقریبًا چالیس صحابہ کرام ؓ اجمعین سے معتبر اسانید کے ساتھ اسی مضمون کی حدیثیں منقول ہیں جن کو امام ابن کثیر نے اس جگہ اپنی تفسیر میں جمع کیا ہے ۔۔۔۔۔ان سب حضرات صحابہ کرام ؓ اجمعین نے آیت مذکورہ میں آخرت سے مراد قبر اور اس آیت کو قبر کے عذاب وثواب سے متعلق قرار دیا ہے۔ (معارف القرآن)
۔قبر میں سوال و جواب:۔ دنیا اور آخرت کے علاوہ ایک تیسرامقام عالم ِ برزخ یا قبر کا مقام ہےیعنی قبر میں جب فرشتے میت سے سوال کریں گے تو اس وقت بھی مومن ثابت قدم رہے گا جیساکہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔سیدنا براء بن عازب کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا"مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوگا تو وہ کہےگا "اشہد ان لا الہ الااللہ وان محمدا رسول اللہ"اس آیت میں قول الثابت سے یہی مراد ہے"(بخاری، کتاب التفسیر ،نیز کتاب الجنائز، باب ما جاء فی عذاب القبر)۔۔۔۔اور ترمذی کی روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ جب قبر میں اس سے پوچھا جائے گاکہ تیرا پروردگار کون ہے؟ دین کیا ہے؟ اور نبی کون ہے"(ترمذی ،کتاب التفسیر)۔۔۔۔۔سیدنا انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:"جب آدمی اپنی قبر میں رکھا جاتاہے اور اس کے ساتھی واپس لوٹتے ہیں تو بلا شبہ وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتاہے اس وقت اس کے پاس دو فرشتےآتے ہیں جو اسے اٹھا کر بٹھا دیتے ہیں اور کہتے یں:تو اس شخص یعنی محمدؐ کے بارےمیں کیا عقیدہ رکھتا تھا؟ اگر وہ ایماندار ہو تو کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ؐہیں۔پھر اس سے کہا جاتاہے ۔تو دوزخ میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تجھے جنت میں ٹھکانہ دیاتودونوں ٹھکانوں کو ایک ساتھ دیکھے گا ۔قتادہ کہتے ہیں کہ ہم سے یہ بھی بیان کیا گیاکہ اس کی قبر کشادہ کردی جاتی ہے۔پھر انس کی حدیث بیان کرتے ہوئے کہا :اگر وہ منافق یا کافرہے تو اس سے پوچھا جاتاہے کہ تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتاہے؟وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا میں تو وہی کچھ کہہ دیتاتھا جو لوگ کہتے تھے"اس سے کہا جائے گاکہ نہ تو تو خود سمجھا اور نہ خود پڑھا پھر لوہے کے ہنٹروں سے اسے ایسی مار پڑے گی کہ وہ بلبلا اٹھے گا اور اس کی یہ چیخ و پکار جن و انس کے سوا آس پاس کی تمام چیزیں سنتی ہیں۔(بخاری، کتاب الجنائز،باب ماجاء فی عذاب القبر)(تیسیر القرآن)
پانچواں رکوع |
| اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ ﴿28﴾ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ ﴿29﴾ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ ﴿30﴾ قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ ﴿31﴾ اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ ﴿32﴾ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ ﴿33﴾ وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ ۧ ۧ ﴿34ع ابراهيم 14﴾ |
| 28. کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے احسان کو ناشکری سے بدل دیا۔ اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا۔ 29. (وہ گھر) دوزخ ہے۔ (سب ناشکرے) اس میں داخل ہوں گے۔ اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔ 30. اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کئے کہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کریں۔ کہہ دو کہ (چند روز) فائدے اٹھا لو آخرکار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ 31. (اے پیغمبر) میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ نماز پڑھا کریں اور اس دن کے آنے سے پیشتر جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہوگا اور نہ دوستی (کام آئے گی) ۔ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے درپردہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں۔ 32. خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں (اور جہازوں) کو تمہارے زیر فرمان کیا تاکہ دریا (اور سمندر) میں اس کے حکم سے چلیں۔ اور نہروں کو بھی تمہارے زیر فرمان کیا۔ 33. اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا۔ 34. اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے۔ |
تفسیر آیات
33۔ ”تمہارے لیے مسخر کیا“ کو عام طور پر لوگ غلطی سے ”تمہارے تابع کردیا“ کے معنی میں لے لیتے ہیں، اور پھر اس مضمون کی آیات سے عجیب عجیب معنی پیدا کرنے لگتے ہیں۔ حتٰی کہ بعض لوگ تو یہاں تک سمجھ بیٹھے کہ ان آیات کی رو سے تسخیر سمٰوات و ارض انسان کا منتہائے مقصود ہے۔ حالانکہ انسان کے لیے ان چیزوں کو مسخر کرنے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے قوانین کا پابند بنا رکھا ہے جن کی بدولت وہ انسان کے لیے نافع ہوگئی ہیں۔۔۔۔۔(تفہیم القرآن)
چھٹا رکوع |
| وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ ﴿35﴾ رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿36﴾ رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ ﴿37﴾ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ﴿38﴾ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ ﴿39﴾ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ ﴿40﴾ رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ ۧ ۧ ﴿41ع ابراهيم 14﴾ |
| 35. اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے پروردگار اس شہر کو (لوگوں کے لیے) امن کی جگہ بنا دے۔ اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھ۔ 36. اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے۔ اور جس نے میری نافرمانی کی تو تُو بخشنے والا مہربان ہے۔ 37. اے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو میدان (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لابسائی ہے۔( اے پروردگار) تاکہ یہ نماز پڑھیں۔ تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میووں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں۔ 38. اے پروردگار جو بات ہم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں تو سب جانتا ہے۔ اور خدا سے کوئی چیز مخفی نہیں (نہ) زمین میں نہ آسمان میں۔ 39. خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بےشک میرا پروردگار سننے والا ہے۔ 40. اے پروردگار مجھ کو (ایسی توفیق عنایت) کر کہ نماز پڑھتا رہوں اور میری اولاد کو بھی (یہ توفیق بخش) اے پروردگار میری دعا قبول فرما۔ 41. اے پروردگار حساب (کتاب) کے دن مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور مومنوں کو مغفرت کیجیو۔ |
تفسیر آیات
35۔ وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ۔یہ ذکر اُس وقت کا ہے، جب حضرت ابراہیمؑ خانۂ کعبہ کے قریب صغیر السن حضرت اسماعیلؑ اور ان کی والدہ ہاجرہ کو لاکر چھوڑ گئے ہیں،اور شہر مکہ کی بنیاد پڑرہی ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ عام احسانات کا ذکر کرنے کے بعد اب ان خاص احسانات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قریش پر کیے تھے اور اس کے ساتھ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے باپ ابراہیم ؑ نے یہاں لا کر کن تمناؤں کے ساتھ تمہیں بسایا تھا، اس کی دعاؤں کے جواب میں کیسے کیسے احسانات ہم نے تم پر کیے، اور اب تم اپنے باپ کی تمناؤں اور اپنے رب کے احسانات کا جواب کن گمراہیوں اور بداعمالیوں سے دے رہے ہو۔ (تفہیم القرآن)
۔ قریش اپنے مذہب شرک کی حمایت میں سب سے بڑی دلیل جو پیش کرتے تھے وہ یہ تھی کہ یہ دین ان کو اپنے جد اعلیٰ حضرت ابراہیم سے وراثت میں ملا ہے۔ آگے اسی دعوے کی تردید آرہی ہے۔۔۔۔۔اس وادی غیر ذی زرع میں امن و رزق کی تمام برکتیں حضرت ابراہیم ؑ کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
37۔ اقامتِ صلوٰۃ تعمیر ِ کعبہ کا اصل مقصد ۔ خانہ کعبہ اصل میں نماز کا مرکز ہے اس وجہ سے اس کی تولیت کے اصل حق دار وہ ہیں جو نماز کا اہتمام کریں نہ کہ وہ جو توحید اور نماز سب کچھ ضائع کر بیٹھے لیکن اس کی تولیت کے مدعی ہیں۔ یہاں حضرت ابراہیم نے نماز کا ذکر خانہ کعبہ کے ابتدائی مقصد تعمیر کی حیثیت سے کیا ہے۔ بعد میں جب اس کے لیے ان کو حج کی منادی کا حکم ہوا تو یہ حج کا بھی مرکز بن گیا اور حضرت اسمعیل کی قربانی کی یادگار میں قربانی کا بھی۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ " اقامت صلوٰۃ " کا مفہوم صرف نماز پڑھنا ہی نہیں ہے بلکہ یہ چیز بھی اس میں شامل ہے کہ لوگوں کو اس کی دعوت دی جائے اور اس امر کا اہتمام و انتظام کیا جائے کہ لوگ نماز پڑھیں۔دعائے ابراہیمی کے اصل اجزا (i) لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوں۔(ii) بے آب و گیاہ ہونے کے باوجود رزق و فضل کی کشائش۔(تدبر قرآن)
ــــیہ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جب حضرت ابراہیمؑ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی اہلیہ سمیت اپنے شیر خوار بچے (اسماعیلؑ)کو بے آب و گیاہ بستی میں چھوڑ آئے تھے۔چناچہ ابن عباسؓ سے مروی ہے طویل حدیث میں مذکور ہے :حضرت ابراہیمؑ نے اسماعیلؑ اور ان کی والدہ ماجدہ کو جوابھی اسماعیل کو دودھ پلاتی تھیں،بیت اللہ کے قریب زمزم کے پاس لاکر آباد کیا اور ان دونوں کے پاس ایک تھیلے میں کھجوریں اور ایک مشکیزے میں پانی رکھ دیا۔اس وقت مکہ مکرمہ میں کوئی انسانی آبادی تھی نہ پانی تھا۔جب حضرت ابراہیمؑ ان دونوں کو چھوڑ کر واپس جانے لگے تو حضرت اسماعیلؑ کی والدہ نے ان سے عرض کیا:"اے ابراہیمؑ ! آپ ہمیں ایک ایسی وادی کہ جس کے اندر کوئی انسان اور شے نہیں ،چھوڑکرکہاں جارہے ہیں؟"اس پر حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا :" مجھے اللہ تعالیٰ نے یہی حکم دیا ہے۔"جب یہ کھجوریں اور پانی ختم ہوگیا تو حضرت ہاجرہؑ نے پانی کی تلاش شروع کی اور صفا ومروہ کے درمیان اضطرار کے عالم میں چکرلگاتی رہیں۔بلآخر اللہ کے حکم سے ایک فرشتے نے اس مقام پر اپنی ایڑی یا پر مارا ،جس سے زمزم کا چشمہ جاری ہوگیا۔پانی کی وجہ سے پھر یہاں قبیلہ "جرہم"بھی آباد ہوگیااور اسی قبیلے کی دولڑکیوں سے یکے بعد دیگرے حضرت اسماعیلؑ کی شادی ہوئی۔کچھ عرصے بعد حضرت ابراہیمؑ اپنے چھوڑے ہوئے افراد کا حال معلوم کرنے کیلئے تشریف لائے اور پھر باپ اور بیٹے دونوں نے مل کر بیت اللہ کی بنیادیں اٹھانا شروع کردیں۔حضرت اسماعیلؑ پتھر اٹھا کر لاتے رہے اور حضرت ابراہیم ؑ تعمیر کرتے رہے اور دونوں اللہ تعالیٰ کے حضور یہ عرض کرتے رہے:"اے ہمارے رب! ہم سے(یہ خدمت)قبول فرمالے بے شک توہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔"(سورۂ بقرہ:2/127)رسول اللہؐ نے فرمایا :"دونوں (ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ)بیت اللہ کی تعمیر کرتے رہے اور اس کے گرد پھرتے رہے اور اللہ سے (باربار)مذکورہ دعا کرتے رہے۔"(ملخص از صحیح بخاری۔احادیث الانبیاء،باب:9حدیث:3364)(احسن الکلام)
ــــ بعض فقہاء نے یہاں تصریح کردی ہے کہ ایک بے آب و گیاہ ملک میں لاکر اپنے بیوی بچوں کو ڈال دینا اور اس امر کو اسوۂ ابراہیمی سمجھنا اب جائز نہیں۔۔۔۔حضرت ابراہیمؑ نے جو کچھ کیا تھا وہ صریح حکمِ الٰہی پاکر کیا تھا،اس طرح حضرت اسمٰعیلؑ کے ذبح کردینے کا اقدام بھی ایک مخصوص وحی خفی کے ماتحت تھا،کوئی عام قانون ایسے احکام خصوصی و امتیازی کی بناپر نہیں بن سکتا۔۔۔ لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ۔میں حضرت اسمٰعیلؑ کو کعبہ کے گرد بسانے کی غرض ،خدمت کعبہ بتاکر یہو د ونصاریٰ کے اس خیال کی تردید کردی کہ حضرت ابراہیمؑ کا حضرت اسمٰعیلؑ کو وہاں وادی مکہ میں چھوڑآنا،محض حضرت سارہ کو خوش کرنے کیلئے تھا۔۔۔۔ لِیُقِیْمُوا۔کے ل کا قوی تعلق اسکنت سے ہے، یعنی میں نے اپنی اولاد کی نوآبادی جویہاں قائم کی ہے، اس کی غرض و غایت ہی یہ ہے کہ اقامت صلوٰۃ کا اہتمام رکھا جائے۔۔۔۔(اوراسی شکر گزاری کی ایک فرد یہ ہے کہ تیری ہی عبادت میں لگے رہیں گے۔) فَاجْعَلْ۔۔۔ اِلَیْهِمْ۔ ابراہیم خلیل ؑ عرض کررہے ہیں کہ اے پروردگار میں نے جویہاں اپنی اولاد کو بسایا ہے،تو اول تو اس سرزمین میں کوئی مادی کشش ہی نہیں ،کوئی یہاں آنے کیوں لگا،توہی اپنی قدرت سے خلقت کے دل میں یہاں کی حاضری کی تمنا و آرزو ڈال دے کہ خود بخود کھچے چلے آئیں،اور پھر اس خشک اور بے آب و گیاہ سرزمین میں پھل پھلاری کہاں، تو انہیں اپنی قدرت سے یہ بھی نصیب کردے!۔یہ دعاء ابراہیمی پوری ہوئی اور جس معجزانہ حدتک پوری ہوئی،اس کا کچھ اندازہ سفر مکہ کے بعد ہی ہوسکتاہے، وہ ہزار ہا لاکھوں انسانوں کا چین سے اور روس سے ،جاپان سے اور جاوا سے، مصر سے اور ایران سے ،افغانستان سے اور ہندوستان سے ،مراکش سے اور برما سے ،حج کے موقع پر اس شہر میں جمع ہوجانا اور آج سے نہیں بلکہ اس وقت سے جب یہ شہر ایک وادی بے آب و گیاہ (واد غیر ذی ذرع)تھا اگر افئدۃ من الناس تھوی الیھم۔کی عملی تفسیر نہیں تو اور کیا ہے؟ اسی طرح مکہ کی منڈیوں کا اور منیٰ کے بازاروں کا تروتازہ سیب و انار ،انگور اور سنترے اور ہرہر طرح کے شاداب میوؤں اور رسیلے پھلوں سے پٹے پڑے رہنا اگر وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ کا حیرت انگیز عملی ظہور نہیں تو اور کیا ہے؟۔(تفسیر ماجدی)
41۔ دعا کی خصوصیات:۔ اس دعا میں دیکھیے تو معلوم ہوگاکہ سات مرتبہ ربَّ،یا ربنّا ،کا لفظ آیا ہے۔یوں بظاہر تو یہ ایک تکرار سی محسوس ہوتی ہے لیکن درحقیقت یہ چیز دعا کی خصوصیات ،بلکہ اس کے لوازم میں سے ہے۔دعا کا اصل مزاج تضرع ،استمالت،استغاثہ اور التجا وفریاد ہے۔یہ چیز مقتضی ہوتی ہے کہ جس سے دعا کی جارہی ہے اس کو باربار متوجہ کیا جائے۔جب بندہ خدا کو "ربّی"سے خطاب کرتا ہے تو وہ گویا اس لطف خاص کو اپنی دعا کے حق میں سفارشی بناتاہےجس کا تجربہ اسے خود ہے او رجب اس کو ربّنا ،سے خطاب کرتاہے تو وہ اس کے اس کرم عام کو اپنی دعا کے حق میں سفارشی بناتاہےجس کا مشاہدہ تمام خلق میں ہورہاہے۔یہاں وہ بات پھر ذہن میں تازہ کرلیجیے جو اوپر گزرچکی ہے کہ یہ قریش کو اس لیے سنائی گئی کہ وہ سوچیں کہ وہ کس مقصد سے اس وادی غیرذی زرع میں بسائے گئے تھے اور اب کیا بن کے رہ گئے ہیں،نیز وہ اس امر پر بھی غور کریں کہ وہ تمام نعمتیں جو اس سرزمین پر ان کو حاصل ہوئیں،وہ حاصل تو ہوئیں حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی برکت اور خاص اللہ تعالیٰ کے فضل سے لیکن انہوں نے ان تمام نعمتوں کا منبع اپنے خیالی معبودوں کو قراردے رکھا ہے۔(تدبرقرآن)
- حضرت ابراہیم نے اس دعائے مغفرت میں اپنے باپ کو اس وعدے کی بنا پر شریک کرلیا تھا جوانہوں نے وطن سے نکلتے وقت کیا تھا مگر بعد میں اس سے تبریٰ فرمادیا۔(تفہیم القرآن)
ساتواں رکوع |
| وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ ﴿42﴾ مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ ﴿43﴾ وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ ﴿44﴾ وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ ﴿45﴾ وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ ﴿46﴾ فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ ﴿47﴾ یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ﴿48﴾ وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ ﴿49﴾ سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ ﴿50﴾ لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ﴿51﴾ هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ ۧ ۧ ﴿52ع ابراهيم 14﴾ |
| 42. اور (مومنو) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بےخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ 43. (اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے۔ 44. اور لوگوں کو اس دن سے آگاہ کردو جب ان پر عذاب آجائے گا تب ظالم لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں تھوڑی سی مدت مہلت عطا کر۔ تاکہ تیری دعوت (توحید) قبول کریں اور (تیرے) پیغمبروں کے پیچھے چلیں (تو جواب ملے گا) کیا تم پہلے قسمیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ تم کو (اس حال سے جس میں تم ہو) زوال (اور قیامت کو حساب اعمال) نہیں ہوگا۔ 45. اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں۔ 46. اور انہوں نے (بڑی بڑی) تدبیریں کیں اور ان کی (سب) تدبیریں خدا کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔ 47. تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا۔ بےشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے۔ 48. جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی (بدل دیئے جائیں گے) اور سب لوگ خدائے یگانہ وزبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔ 49. اور اس دن تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ 50. ان کے کرتے گندھک کے ہوں گے اور ان کے مونہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی۔ 51. یہ اس لیے کہ خدا ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے۔ 52. یہ قرآن لوگوں کے نام (خدا کا پیغام) ہے تاکہ ان کو اس سے ڈرایا جائے اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی اکیلا معبود ہے اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں۔ |
تفسیر آیات
44۔اس دن سے مراد یا تو ان کی موت کا دن ہے اور اس معنی کی تائید سورہ مومنون کی آیت نمبر 100 سے ہوتی ہے اور یا آخرت کا دن ہے اور اس معنی کی تائید سورہ السجدہ کی آیت نمبر12 سے ہوتی ہے۔نیز اس سے اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی تباہ کرنے والا عذاب مراد لیا جاسکتاہے۔(تیسیر القرآن)
48۔ مختصراً۔قرآن کے اشارات اور حدیث کی تصریحات سے یہ بات ثابت ہے کہ حشر اسی زمین پربرپاہوگا۔یہیں عدالت قائم ہوگی یہیں میزان لگائی جائے گی اور قضیۂ زمین بر سرِ زمین ہی چکایاجائے گا۔نیز یہ بھی قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ ہماری وہ دوسری زندگی جس میں یہ معاملات پیش آئیں گے ۔محض روحانی نہیں ہوگی بلکہ ٹھیک اُسی طرح جسم و روح کے ساتھ زندہ کئے جائیں گے جس طرح آج زندہ ہیں اور ہرشخص ٹھیک اُسی شخصیت کے ساتھ وہاں موجود ہوگا جسے لئے ہوئے وہ دنیا سے رخصت ہواتھا۔ (تفہیم القرآن)
ــ زمین و آسمان کی صفات اور شکل و صورت بدل دی جائے مثلاً احادیث میں ہے کہ پوری زمین سطح مستوی جس میں مکان ، درخت،ٹیلہ ،پہاڑ ،غار اور گہرائی و غیرہ کی کوئی روکاوٹ نہ ہوگی ۔دوسری صورت، بالکل نئے آسمان و زمین ۔ہوسکتاہے کہ نفخۂ صور کے وقت اسی موجودہ زمین کی صفات تبدیل کی جائیں اور حساب کتاب کےلئے کسی دوسری زمین کی طرف منتقل ہواجائے۔(معارف القرآن)
ــ زمین و آسمان بھی دوسرے ۔نہ کسی کے قلعے اور گڑھیاں ہونگی ۔نہ کسی کے ایوان و محل ۔(تدبر قرآن)
ــ اس زمین کو کھینچ کر طویل کردیاجائے گا۔ زمین کے اندر کا لاوہ جہنم ہوگا۔(بیان القرآن)
50۔ قَطِرَان۔ کا ترجمہ قدیم مترجم حضرات نے گندھک سے کیا ہے ،لیکن المنجد (عربی)کا جو اردو ترجمہ ہے، اس میں "تارکول"لکھا ہے ،اور بعض اور لغتوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔بہرحال دوزخیوں کے جسم پر لباس ایسا ہوگا جو آگ کو خوب اور زیادہ تیزی کے ساتھ قبول کرلے۔(تفسیر ماجدی)
52۔ نزول قرآن کے تین مقاصد:۔ یعنی قرآن کا پیغام ایسی چیز ہے جسے تمام لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے اور اس کے تین فائدے ہیں ایک یہ کہ لوگوں کو ان کے برے اعمال کے انجام سے بروقت خبردار کیا جائے اور ڈرایا جائے۔دوسرے یہ کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ ان کے اعمال پر گرفت کرنے والی صرف ایک ہی ہستی ہے۔لہذا ہر حال میں صرف اسی کی طرف رجوع کیا جائے، اس کی بندگی کی جائے اور اپنے نفع و نقصان کے وقت اسی کو پکارا جائے اور تیسرے یہ کہ اس قرآن میں مذکور آیات اور واقعات سے اہل دانش عبرت اور سبق حاصل کریں۔(تیسیر القرآن)