16 - سورة النحل (مکیہ)

رکوع - 16 آیات - 128

مضمون: خدا کی نعمتیں ان گنت ہیں۔متکبرین ان کی ناقدری کرتے اور قرآن سے لوگوں کو برگشتہ کررہے ہیں۔ان کا انجام عبرت ناک ہوگا۔ اللہ اپنے متقی اور خوب کاربندوں کا ساتھی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی  مضمون :  توحید  کے عقلی دلائل (  تذکیر  بآلااللہ )  - منکرین سے مجادلہ – آخرت  پر یقین  لانے  کی دعوت  - مسلمانوں  کو صبر  وتقویٰ  ، حکمت  اور احسان کے ساتھ  دعوت  و تبلیغ  جاری  رکھنے کی ہدایت ۔

سورت کا نام :  آیت  : 68  میں النحل  کا لفظ  آیا ہے  ۔

شان نزول : سورۃ یونس  تا  سورۃ  بنی اسرائیل   آٹھ  سورتوں  کا سلسلہ  شروع  ہوا  ہے  جو حضور ؐ کی مکی  زندگی  کے آخری دور  ( 11 تا  13  سن نبوی ) میں  ہجرت  مدینہ سے قبل   نازل  ہوئیں ۔ اس سورت  کو سورۃ  انعام اور سورۃ روم سے بھی  گہری  مشابہت  ہے ۔  ۔ سورۃ  انعام سے  پہلے  سورۃ  النحل  نازل  ہوئی  -  بعض  آیات  دور قحط  ( 7 نبوی )  اور بعض  دور  تشدد  میں نازل  ہوئیں  جس میں  مسلمانوں  کو  رخصت  دی گئی  کہ وہ  ایمان  پر قلبی  ثابت  قدمی  کے ساتھ  جان بچانے  کیلئے  زبان سے کلمہ کفر  بھی  ادا کرسکتے  ہیں ۔ آیت  نمبر :  106  کے بارے  میں کہا جاتا ہے  کہ یہ عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ  کے بارے  میں نازل  ہوئی ۔

نظم سورۃ :  سورۃ یونس   - 14+1 (  سورۃ نور  تک ) 

ترتیب مطالعہ : بنیادی  طور  پر آیات  لٰہی  اور توحید  کا اثبات  ( بیک  وقت  اور علیحدہ  علیحدہ   رکوع  بھی  پڑھے  جا سکتے  ہیں ) (i) ر۔ 1/2 (آیات الٰہی) (ii)  ر۔ 3 تا 6 (متکبرین بمقابلہ مؤمنین) ((iii ر۔ 7/ 8 (توحید کے دلائل اور مشرکین کو انتباہ) (iv) ر۔ 9تا 12 (آیاتِ الٰہی،  مشرکین کو  ملامت اور حضورؐ کو تسلّی) (v) ر۔13 (معاشرے کا اصلاحی نظام اور یہود کو ملامت) (vi) ر۔14 تا 16 (مخالفین کے اعتراضات کے جوابات،حضرت ابراہیم کے اسوہ کی پیروی اور مسلمانوں کو تسلّی) (vii) ر۔ 16 کی آخری چار آیات (خاتمۂ سورۃ، دعوت و تبلیغ کے اصول)۔

سورت کی خصوصیات:۔

سورۃ النحل،سورۃ الانعام سے پہلے نازل ہوئی، ایسا لگتاہے کہ یہ اُس کی تمہید ہے،چنانچہ مدینے میں اسلامی معاشرے کے قیام کیلئے حلال و حرام کے ابتدائی احکام(آیات:115 اور 116)،عدل و احسان کی تعلیم(آیت:90)اور عہد و پیمان کی پاسداری کا سبق بھی دیا گیا ہے۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ﴿1﴾ یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ ﴿2﴾ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ﴿3﴾ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ ﴿4﴾ وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ ﴿5﴾ وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ ﴿6﴾ وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ ﴿7﴾ وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ﴿8﴾ وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿9ع النحل 16﴾
1. خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس کے لیے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔ 2. وہی فرشتوں کو پیغام دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو۔ 3. اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی برحکمت پیدا کیا۔ اس کی ذات ان (کافروں) کے شرک سے اونچی ہے۔ 4. اسی نے انسان کو نطفے سے بنایا مگر وہ اس (خالق) کے بارے میں علانیہ جھگڑنے لگا۔ 5. اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو۔ 6. اور جب شام کو انہیں (جنگل سے) لاتے ہو اور جب صبح کو (جنگل) چرانے لے جاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے۔ 7. اور (دور دراز) شہروں میں جہاں تم زحمتِ شاقّہ کے بغیر پہنچ نہیں سکتے وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار نہایت شفقت والا اور مہربان ہے۔ 8. اور اسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لیے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیدا کرتا ہے جن کی تم کو خبر نہیں۔ 9. اور سیدھا رستہ تو خدا تک جا پہنچتا ہے۔ اور بعض رستے ٹیڑھے ہیں (وہ اس تک نہیں پہنچتے) اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو سیدھے رستے پر چلا دیتا۔

تفسیر آیات

سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ”فیصلہ“ کیا تھا اور کس شکل میں آیا ؟ ہم یہ سمجھتے ہیں (اللہ اعلم بالصواب) کہ اس فیصلے سے مراد نبی ﷺ کی مکہ سے ہجرت ہے جس کا حکم تھوڑی مدت بعد ہی دیا گیا۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی جن لوگوں کے درمیان مبعوث ہوتا ہے ان کے حجود و انکار کی آخری سرحد پر پہنچ کر اسے ہجرت کا حکم دیا جاتا ہے اور یہ حکم ان کی قسمت کا فیصلہ کردیتا ہے۔ اس کے بعد یا تو ان پر تباہ کن عذاب آجاتا ہے، یا پھر نبی اور اس کے متبعین کے ہاتھوں ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی جاتی ہے۔ یہی بات تاریخ سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ ہجرت جب واقع ہوئی تو کفار مکہ سمجھے کہ فیصلہ ان کے حق میں ہے۔ مگر آٹھ دس سال کے اندر ہی دنیا نے دیکھ لیا کہ نہ صرف مکہ سے بلکہ پوری سرزمین عرب ہی سے کفر و شرک کی جڑیں اکھاڑ پھینک دی گئیں۔ (تفہیم القرآن)

روح کے مختلف معانیروح کا لفظ قرآن میں مندرجہ ذیل تین معنوں میں استعمال ہواہے:۔1۔ روح بمعنی وہ لطیف جوہر جو ہرجاندار میں موجود ہے اور جس کی وجہ سے اس جاندار کے اعضاء و جوارح حرکت کرتے  ہیں اور جب یہ روح نکل جاتی ہے تو جاندار بے جان ہوجاتایا مرجاتاہے جس طرح اس روح کی حقیقت کا علم انسان کو بہت کم دیا گیا ہے اسی طرح روح کے معانی پر احاطہ کرنا بھی انسان کی دسترس سے باہر ہے۔(17: 85)۔2۔روح بمعنی فرشتہ۔جیسے فرمایا"فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا"(19:17)(یعنی ہم نے مریم کی طرف اپنی روح یا فرشتہ بھیجا جو ایک تندرست انسان کی شکل بن گیا)روح سے مراد عام فرشتہ بھی ہوسکتاہے اور جبرائیلؑ بھی۔ مگر جب روح القدس یا روح الامین کا لفظ آئے تو اس سے مراد صرف سیدنا جبرائیلؑ ہوں گے۔3۔روح بمعنی وہ پیغام جو فرشتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے اور اس سے مراد وہ وحی بھی ہوسکتاہے اور سارا قرآن بھی۔روح کے ساتھ جب من الامر یا من امر کے الفاظ آئیں تو اس سے مراد وحی ہی ہوتی ہے جیساکہ اس مقام پر ہے بالروح من امرہ اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا "وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا"(42: 54)اس مقام پر روح سے مراد پورا قرآن ہے نیز ایک دوسرے مقام پر وحی یا رسالت کے معنوں میں اس طرح آیا ہے "یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِه"(40: 15)یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتاہے اپنا پیغام نازل کرتاہے۔اور اس مقام پر جو وحی کیلئے روح کا لفظ استعمال  فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح جسمانی زندگی کیلئے روح کی ضرورت ہوتی ہے کہ اگر روح نہ رہے تو زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح صالح طرزِ زندگی یا نظام حیات کیلئے وحی الٰہی کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بغیر صالح نظام قائم ہوہی نہیں سکتااور اگر وحی الٰہی کے مطابق عمل نہ کیا جائے تو اس نظام کا شیرازہ بکھر جاتاہے اور اس کی جگہ کوئی اور فاسد نظام رائج ہوجاتاہے۔(تیسیر القرآن)

۔ یعنی روح نبوت کو جس سے بھر کر نبی کام اور کلام کرتا ہے۔ یہ وحی اور یہ پیغمبرانہ اسپرٹ چونکہ اخلاقی زندگی میں وہی مقام رکھتی ہے جو طبعی زندگی میں روح کا مقام ہے، اس لیے قرآن میں متعدد مقامات پر اس کے لیے روح کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے عیسائیوں نے روح القدس کو تین خداؤں میں سے ایک خدا  بنا   ڈالا۔(تفہیم القرآن)

3۔ بِالْحَقِّ۔ دوسرے بہت سے مقامات کی طرح زوریہاں بھی اس پر دیا ہے کہ سارے کارخانۂ کائنات کی تخلیق مقصدیت سے ہوئی ہے۔(تفسیر ماجدی)


دوسرا رکوع

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ ﴿10﴾ یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ ﴿11﴾ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ ﴿12﴾ وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ ﴿13﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ﴿14﴾ وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ ﴿15﴾ وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ ﴿16﴾ اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ﴿17﴾ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿18﴾ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ ﴿19﴾ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ ﴿20﴾ اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿21ع النحل 16﴾
10. وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی (شاداب ہوتے ہیں) جن میں تم اپنے چارپایوں کو چراتے ہو۔ 11. اسی پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور (اور بےشمار درخت) اُگاتا ہے۔ اور ہر طرح کے پھل (پیدا کرتا ہے) غور کرنے والوں کے لیے اس میں (قدرتِ خدا کی بڑی) نشانی ہے۔ 12. اور اسی نے تمہارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا۔ اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سمجھنے والوں کے لیے اس میں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔ 13. اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں (سب تمہارے زیر فرمان کردیں) نصیحت پکڑنے والوں کے لیے اس میں نشانی ہے۔ 14. اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس لیے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو تاکہ اس کا شکر کرو۔ 15. اور اسی نے زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے کہ تم کو لے کر کہیں جھک نہ جائے اور نہریں اور رستے بنا دیئے تاکہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک (آسانی سے) جاسکو۔ 16. اور (راستوں میں) نشانات بنا دیئے اور لوگ ستاروں سے بھی رستے معلوم کرتے ہیں 17. تو جو (اتنی مخلوقات) پیدا کرے۔ کیا وہ ویسا ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرسکے تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے؟ 18. اور اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو گن نہ سکو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 19. اور جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب سے خدا واقف ہے۔ 20. اور جن لوگوں کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی تو نہیں بناسکتے بلکہ خود ان کو اور بناتے ہیں۔ 21. لاشیں ہیں بےجان۔ ان کو یہ بھی تو معلوم نہیں کہ اٹھائے کب جائیں گے۔

تفسیر آیات

11۔ النَّخِیْل۔ کھجور ،زمین کے گرم ملکوں کا عام پھل ہے،نہایت لذیذ،نہایت مفید اور غذائیت سے لبریز،درازی عموماً 20 سے 30 فٹ تک ہوتی ہے اور بعض کے قد سو سوفٹ کے بھی پائے گئے ہیں،خوشوں یا گچھوں کی شکل میں ہوتی ہیں،نباتات میں شاید یہی ایک ایسا درخت ہے جس میں نرمادہ کی تفریق پائی جاتی ہے۔آٹھ سال سے درخت پھل دینا شروع کردیتاہےاور پھر سو سو برس تک بلکہ دو دوسو ،تین تین سو برس تک پھل دیتاہے۔(تفسیر ماجدی)

13۔ایک ہی سطح زمین پر،ایک ہی آفتاب کی روشنی میں ایک ہی فضائے ہوائی میں ایک ہی بارش سے،اور بعض اوقات تو فضا میں ایک دوسرے سے بالکل متصل ہی ،مختلف شکل و صورت کے، مختلف جسامت کے مختلف مزہ اور بوباس کے، مختلف رنگوں کے مختلف خاصیتوں کے پھول، پھل ،میوے ،غلے پیدا کرتے رہنا جس قدر حکیمانہ انتظام قدرت پر دلالت کرسکتاہے کسی صاحبِ اور اہل بصیرت سے مخفی نہیں ۔(تفسیر ماجدی)

۔توحید کی دلیل توافق کے پہلو سے۔۔۔۔آخرت کی دلیل ربوبیت کے پہلو سے۔۔۔۔ہر پتہ معرفتِ کردگار کا دفتر ہے (تدبر ِقرآن)

۔ انسان کو دعوت تفکر و تذکر : یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ انسان کی جو صلاحیتیں اس دنیا میں اس کی صحیح رہنمائی کرتی ہیں ان کو بالترتیب یَتَفکَرُون، یَعقِلُون، اور یَذکُرُون سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ اعلیٰ سے ادنیٰ کی طرف نزول ہے۔ انسان کی سب سے اعلٰی صفت تو یہ ہے کہ وہ اس کائنات میں تفکر کرے، اسی تفکر سے اس کو اس کثرت کے اندر وحدت کی طرف رہنمائی اور اس کائنات کی اصل غایت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ یہ نہ ہو تو کم از کم یہ تو ہو کہ وہ اپنی عقل سے کام لے اور اس کائنات کی ایک ایک چیز جس نشان منزل کی طرف انگلی اٹھا اٹھا کر اشارہ کر رہی ہے اس کی اس یاد دہانی سے فائدہ اٹھائے اور اندھے بھینسے کی طرح نہ چلے۔ انہی صفات کا حوالہ آگے اسی سورة کی آیات 65، 67 ، 69 میں بالترتیب یسمعون، یعقلون اور یتفکرون کے الفاظ سے آیا ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف صعود ہے یعنی ایک معقول آدمی کے اندر کم از کم جو بات ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ وہ معقول بات کو سنے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اگر یہ نہ ہو تو وہ سرے سے آدمی ہی نہیں ہے بلکہ نرا دو ٹانگوں پر چلنے والا ایک جانور ہے۔ اور اس کا اعلٰی وصف یہ ہے کہ وہ اس کائنات میں تفکر کرے اس لیے کہ اسی تفکر سے علم صحیح اور معرفت حقیقی کے دروازے کھلتے ہیں اور قرآن درحقیقت انسان کی اسی صلاحیت کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

16۔ستاروں سے رہنمائی:۔رات کے وقت انسان ستاروں کی چال سے وقت بھی معلوم کرسکتاہے کہ رات کا کتنا حصہ گزرچکا ہے اور کتنا باقی ہے اور سمت بھی۔ رات کے وقت  سفر میں ستارے پوری رہنمائی کا کام دیتے ہیں خواہ یہ سفر بحری ہو یا بری۔آجکل سفر میں عموماً قطب نما سے مدد لی جاتی ہے جبکہ حقیقتاً یہ بھی ستاروں سے بالواسطہ رہنمائی ہے۔آپ دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہوں قطب نما کی سوئی عین شمال یا قطبی ستارہ کی طرف ہوجاتی ہے جس سے دوسری سمتوں کے نشان اس قطب نما پر لگادئیے جاتے ہیں۔ (تیسیر القرآن)

۔ سمندر  کی نشانیوں  کی طرف اشارہ۔۔۔۔۔ زمین اور آسمان کی نشانیوں  کی طرف اشارہ۔ (تدبرِ قرآن)

21۔ یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں خاص طور پر جن بناوٹی معبودوں کی تردید کی جا رہی ہے وہ فرشتے، یا جن، یا شیاطین، یا لکڑی پتھر کی مورتیاں نہیں ہیں، بلکہ اصحاب قبور ہیں۔ اس لیے کہ فرشتے اور شیاطین تو زندہ ہیں، ان پر اَمْواتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ کے الفاظ کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ اور لکڑی پتھر کی مورتیوں کے معاملہ میں بعث بعد الموت  کا کوئی سوال نہیں ہے، اس لیے مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ کے الفاظ انہیں بھی خارج از بحث کردیتے ہیں۔ اب لا محالہ اس آیت میں اَلَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ سے مراد وہ انبیاء، اولیاء، شہداء، صالحین اور دوسرے غیر معمولی انسان ہی ہیں جن کو غالی معتقدین داتا، مشکل کشا، فریاد رس، غریب نواز، گنج بخش، اور نامعلوم کیا کیا قرار دے کر اپنی حاجت روائی کے لیے پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کے جواب میں اگر کوئی یہ کہے کہ عرب میں اس نوعیت کے معبود نہیں پائے جاتے تھے تو ہم عرض کریں گے کہ یہ جاہلیت عرب کی تاریخ  سے اس کی نا واقفیت کا ثبوت ہے۔ کون پڑھا لکھا نہیں جانتا ہے کہ عرب کے متعدد قبائل، ربیعہ، کلب، تغلِب، قُضَاعَہ، کِنانہ، حَرث، کعب، کِندَہ وغیرہ میں کثرت سے عیسائی اور یہودی پائے جاتے تھے، اور یہ دونوں مذاہب بری طرح انبیاء اولیاء اور شہدا کی پرستش سے آلودہ تھے۔ پھر مشرکین عرب کے اکثر نہیں تو بہت سے معبود وہ گزرے ہوئے انسان ہی تھے جنہیں بعد کی نسلوں نے خدا بنا لیا تھا۔ بخاری میں ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ ودّ ، سُواع، یغوث، یعُوق، نسر، یہ سب صالحین کے نام ہیں جنہیں بعد کے لوگ بت بنا بیٹھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت ہے کہ اساف اور نائلہ دونوں انسان تھے۔ اسی طرح کی روایات لات اور مناۃ اور عُزّیٰ کے بارے میں موجود ہیں۔ اور مشرکین کا یہ عقیدہ بھی روایات میں آیا ہے کہ لات اور عزّیٰ اللہ کے ایسے پیارے تھے کہ اللہ میاں جاڑا لات کے ہاں اور گرمی عزّیٰ کے ہاں بسر کرتے تھے۔ سُبْحٰنَہ وَ تَعَالیٰ عَمَّا یَصِفُوْنَ۔ (تفہیم القرآن)


تیسرا رکوع

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ ﴿22﴾ لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ ﴿23﴾ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ ﴿24﴾ لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿25ع النحل 16﴾
22. تمہارا معبود تو اکیلا خدا ہے۔ تو جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور وہ سرکش ہو رہے ہیں۔ 23. یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں خدا اس کو ضرور جانتا ہے۔ وہ سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ 24. اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہے تو کہتے ہیں کہ (وہ تو) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔ 25. (اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ سن رکھو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں۔

تفسیر آیات

 22۔آخرت کا انکار تکبر ہے:۔ تکبر اس لحاظ سے ہے کہ یوم جزاء و سزا کے قائم ہونے سے انکار دراصل اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا انکار ہے ۔ایک اللہ کا عادل ہونا دوسرے قادر مطلق ہونا اور جو شخص اتنے واضح اور فطری دلائل کو دیکھتے ہوئے بھی اللہ کی قدرت مطلقہ سے انکار کرتاہے تو اس سے بڑھ کر اوراکڑ باز کون ہوسکتاہے؟جبکہ رسول اللہؐ نے تکبر کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرادیا جائے اور دوسروں کو حقیر سمجھاجائے۔(مسلم، کتاب الایمان۔باب تحریم الکبیر وبیانہ)(تیسیر القرآن)

23۔ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ قریش میں نضر بن الحارث بن کلدہ  کی یہ حالت تھی کہ حب رسول اللہؐ توحید و آخرت اور عذاب یافتہ قوموں کا حال بیان کرکے کسی مجلس سے تشریف لے جاتے تو وہ آپؐ کی جگہ آبیٹھتا،اور رستم پہلوان اور اسفندیار شاہانِ فارس کے قصے بیان کرکے کہتا۔"واللہ محمد مجھ سے بہتر بیان کرنے والا نہیں اور اس کی باتیں ہیں کیا،بجز اساطیر اولین  کے جنہیں اس نے اسی طرح لکھ لیا ہے جیسامیں نے لکھ لیا ہے "گپیں ہانک دینا یہ قرآن کی شان نہیں، یہ عادت تو ائمہ جاہلین کی طرح آج کے بڑے بڑے روشن خیالوں اور عقلیین کی ہے۔(تفسیر ماجدی)

24۔یہاں سے تقریر کا رخ دوسری طرف پھرتا ہے۔ نبی ﷺ کے مقابلہ میں جو شرارتیں کفار مکہ کی طرف سے ہو رہی تھیں، جو حجتیں آپ کے خلاف پیش کی جا رہی تھیں، جو حیلے اور بہانے ایمان نہ لانے کے لیے گھڑے جا رہے تھے، جو اعتراضات آپ پر وارد کیے جا رہے تھے ان کو ایک ایک کر کے لیا جاتا ہے اور ان پر فہمائش، زجر اور نصیحت کی جاتی ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔ اَسَاطِيْرُ ، اُسطُورۃ کی جمع ہے۔ اسطورۃ بےاصل اور بےحقیقت بات کو کہتے ہیں جس کی حیثیت محض افسانے کی ہو۔ (تدبرِ قرآن)

۔ قرآن میں بس پہلے لوگوں کی کہانیاں ہی ہیں:۔  جب رسول اللہؐ اور آپؐ کی دعوت کا چرچا حدودمکہ سے نکل کر آس پاس کے علاقوں میں بھی پھیل گیا تو کفار مکہ جہاں کہیں جاتے اور لوگ  ان سے پوچھتے  کہ تم میں جو نبی پیدا ہواہے اس کی تعلیم کیا ہے اور وہ کس چیز کی دعوت دیتاہے تو یہ لوگ بڑی بے نیازی اور لاپروائی سے  کہہ دیتے کہ بس کچھ پہلے لوگوں کی داستانیں اور قصے کہانیاں ہی سنادیتاہے۔ کوئی نئی یا کام کی بات ان میں نہیں ہوتی اور ایسی باتیں ہم پہلے ہی بہت سن چکے ہیں۔(تیسیر القرآن)


چوتھا رکوع

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ ﴿26﴾ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ ﴿27﴾ الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿28﴾ فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ ﴿29﴾ وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ ﴿30﴾ جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ ﴿31﴾ الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿32﴾ هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ ﴿33﴾ فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿34ع النحل 16﴾
26. ان سے پہلے لوگوں نے بھی (ایسی ہی) مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان کی عمارت کے ستونوں پر آپہنچا اور چھت ان پر ان کے اوپر سے گر پڑی اور (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آ واقع ہوا جہاں سے ان کو خیال بھی نہ تھا۔ 27. پھر وہ ان کو قیامت کے دن بھی ذلیل کرے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ آج کافروں کی رسوائی اور برائی ہے۔ 28. (ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے لگتے ہیں (اور یہ) اپنے ہی حق میں ظلم کرنے والے (ہوتے ہیں) تو مطیع ومنقاد ہوجاتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے۔ ہاں جو کچھ تم کیا کرتے تھے خدا اسے خوب جانتا ہے۔ 29. سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ اب تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔ 30. اور (جب) پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ بہترین (کلام) ۔ جو لوگ نیکوکار ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے۔ اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اور پرہیز گاروں کا گھر بہت خوب ہے۔ 31. (وہ) بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے، ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہاں جو چاہیں گے ان کے لیے میسر ہوگا۔ خدا پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتا ہے۔ 32. (ان کی کیفیت یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی جانیں نکالنے لگتے ہیں اور یہ (کفر وشرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہوجاؤ۔ 33. کیا یہ (کافر) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس (جان نکالنے) آئیں یا تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے۔ اسی طرح اُن لوگوں نے کیا تھا جو اُن سے پہلے تھے اور خدا نے اُن پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔ 34. تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے ملے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا کرتے تھے اس نے ان کو (ہر طرف سے) گھیر لیا۔

تفسیر آیات

28۔ عذاب قبر اور اس کی کیفیت:۔فرشتوں کی یہ دھمکی مجرموں کو اسی دنیا میں مل جاتی ہے یعنی موت کی آخری ہچکی کے ساتھ ہی ہر شخص کو اپنا انجام نظر آنے لگتا ہے بلکہ فرشتے اسے واضح طورپر بتادیتے ہیں۔موت کی آخری ہچکی سے لیکر دوبارہ روز آخرت کو جی اٹھنے تک کے عرصہ کا نام برزخ ہے اور اسی عرصہ کو حدیث میں"قبراور جدث"کے الفاظ سے تعبیر کیا گیاہے خواہ میّت فی الواقع مکمل ہو یا نہ ہو یاکسی دوسرے طریقے سے ٹھکانے لگادی گئی ہو۔ کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو یا پانی میں غرق ہوگئی ہو۔ منکرین حدیث جو عذاب قبر کے منکر ہیں ان آیات میں ان کی تردید موجودہے۔جب روح بدن سے نکل جاتی ہے جسے موت کہا جاتاہے تو اس وقت بھی روح نہ مرتی ہے نہ فنا ہوتی ہے بلکہ اپنی شخصیت کے ساتھ قائم رہتی ہے اور یہی روح دوبارہ حشر و نشر کے دن اپنے جسم میں داخل کی جائے گی جو اسے اسی  دن مہیا کیا جائے گا۔اسی کا نام دوسری زندگی ہے اور عالم برزخ میں جو عذاب یا ثواب ہوتاہے جس کا مذکورہ آیات میں ذکر  ہے وہ صرف روح کو ہوتاہے  جیسے کہ انسان کو خواب میں بسا اوقات دکھ پہنچتا ہے اسے یوں معلوم ہوتاہے کہ اس کی پٹائی ہو رہی ہے اور اس پٹائی کی اسے تکلیف بھی ہوتی ہے حالانکہ یہ سب واردات روح سے پیش آتی ہے اور جسم اپنے بستر پر پڑا ہوتاہے ۔پھر جب وہ جاگتاہے تو خواب میں پٹائی کے اثرات صرف اس کے ذہن میں ہی نہیں بلکہ بعض دفعہ جسم پر بھی پائے جاتے ہیں اور وہ خوفزدہ معلوم ہوتاہے۔بالکل ایسی ہی کیفیت عذاب قبر کی بھی ہوتی ہے۔اسی طرح خواب میں انسان کو راحت و مسرت کے واقعات بھی پیش آتے ہیں اور جب وہ اٹھتاہے ۔تو وہ خود ہشاش بشاش ہوتاہے اور سب کو اس کا چہرہ خوشی سے کھلا ہوانظر آتاہے۔ثواب قبر کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔گویا عالم برزخ ایسی نیم زندگی کی کیفیت ہوتی ہے جس میں موت کے اثرات چونکہ زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اس لیے برزخ کی اس نیم  زندگی کی حالت کو موت ہی سے تعبیر کیا گیا ہے(مزید تفصیل کیلئے میری تصنیف "روح،عذابِ قبر اور سماع موتیٰ")ملاحظہ فرمائیے۔)(تیسیر القرآن)

29۔ عالمِ برزخ  کے متعلق تفصیلی گفتگو۔ حاشیہ: 26 صفحہ 536۔ 537 (تفہیم القرآن)

۔  کلام کا انطباق حال پر : یہ دو آیتیں بطور تضمین ہیں۔ اس تضمین سے اہل علم کی بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ صرف مستقبل کی ایک حکایت نہیں ہے بلکہ ان لوگوں پر بھی ٹھیک ٹھیک منطبق ہو رہی ہے جو آج اپنے غرور میں مست ہیں اور اسی حال میں مرتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

30۔آیت نمبر 24میں ابھی مکذبین  قرآن کا ذکر آچکاہے، کہ جب ان سے پوچھا  جاتاہےکہ کیا چیز اتری  ہے،تووہ کہتے ہیں کہ "اساطیر اولین"اب ٹھیک ان کے مقابل  گروہ مومنین کا ذکرہے کہ جب ان سے قرآن کی بابت سوال کیا جاتاہے تو وہ جواب میں اسے سرتاسر خیر و برکت بتاتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

31۔ الْمُتَّقِیْنَ یہ وہی ہیں جن کا ذکر ایک آیت قبل للذین اتقوا سے آچکا ہے،یعنی اہل ایمان و تقویٰ اور انہیں مایوس دل اور شکستہ خاطر کسی حال میں بھی نہ ہونا چاہئے۔۔۔۔ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ۔ایک بڑی گہری اور اصولی حقیقت ان دومختصر لفظوں کے اندر آگئی ہے، جنت میں جو ہوا بھی چلے گی،سب اہل جنت کی مرضی کے مطابق چلے گی۔ جو کچھ بھی جس کا جی چاہے گا سب مل کر رہے گا ،ہرتمنا پوری ہوکر ،ہر آرزو حاصل ہوکر ،ہر حسرت نکل کر رہے گی ،ایک ایک نعمت اور اس کے جزئیات وتفصیلات کہاں تک بیان کئے جاسکتے ہیں ، بس ایک جامع جواب ہر مذاق اور ہردرجہ کے سائلین کیلئے آگیا۔۔۔۔۔ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ۔ آیت کا یہ ٹکڑا قرآن مجید میں بڑی کثرت سے دہرایا گیاہے،ایک مسلم فاضل نے عرصہ ہوااپنی تحریر میں لکھا ہے کہ اس منظر کا پورا لطف بغیر ملک شام کا سفر کئے نہیں آئے گااس لئے اس تفسیر کو بس مولانا ابوالحسن علی ندوی سے لکھ کر دریافت کیا کہ آپ کے مشاہداتی تأثرات کیا ہیں، مولانا کا جواب ذیل میں درج ہے:۔"۔۔۔۔۔صاحب نے بالکل صحیح لکھا ہے، میں نے شام میں جنٰت تجری من تحتھا الانھارکامنظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے صرف شہر دمشق سے سات نہریں گذرتی ہیں، جن میں ایک مشہور نہر بردہ ہے جس کا ذکر اشعار عرب میں بہت آیا ہے ،بہت سے گھروں سے لوگوں نے نہر گذارا ہے اس سے سیرابی و آبپاشی کا کام بھی لیتے ہیں اور صفائی کا بھی ،اور غوطۂ دمشق تو انہی  نہروں کیلئے مشہور ہے ان میں بہت سےپہاڑی چشمے ہیں اور انہی سے آبپاشی ہوتی ہے۔"جنٰت عدن۔ باغ سدا بہار و گلشن بے خزاں۔۔۔۔ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَ۔ایک عام قانون الٰہی ان الفاظ میں بیان کردیا ہے یعنی یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہ ہوگی اہل تقویٰ و احسان کیلئے جزائے حسن تو ہمارا عام قاعدہ ہی ہے۔(تفسیر ماجدی)


پانچواں رکوع

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ﴿35﴾ وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ ﴿36﴾ اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ﴿37﴾ وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ ﴿38﴾ لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ ﴿39﴾ اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ ۧ ۧ ﴿40ع النحل 16﴾
35. اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی چیز کو پوجتے اور نہ ہمارے بڑے ہی (پوجتے) اور نہ اس کے (فرمان کے) بغیر ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ (اے پیغمبر) اسی طرح ان سے اگلے لوگوں نے کیا تھا۔ تو پیغمبروں کے ذمے (خدا کے احکام کو) کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔ 36. اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ 37. اگر تم ان (کفار) کی ہدایت کے لیے للچاؤ تو جس کو خدا گمراہ کردیتا ہے اس کو وہ ہدایت نہیں دیا کرتا اور ایسے لوگوں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا۔ 38. اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ جو مرجاتا ہے خدا اسے (قیامت کے دن قبر سے) نہیں اٹھائے گا۔ ہرگز نہیں۔ یہ (خدا کا) وعدہ سچا ہے اور اس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 39. تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کردے اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔ 40. جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہماری بات یہی ہے کہ اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔

تفسیر آیات

35۔ مشرکین کی اس حجت کو سورة انعام آیات نمبر 148 – 149 میں بھی نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے۔ وہ مقام اور اس کے حواشی اگر نگاہ میں رہیں تو سمجھنے میں زیادہ سہولت ہوگی۔ (ملاحظہ ہو سورة انعام، حواشی نمبر 124 تا نمبر 126 )   (تفہیم القرآن)

۔ اہل کتاب کا اپنے احبار و رہبان  کو رب بنالینے کا مفہوم:۔اللہ تعالیٰ کی کسی حلال کردہ چیز کو حرام اور حرام کو حلال بنالینا بھی واضح شرک ہےجیساکہ سیدنا عدیؓ بن حاتم نے "اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہ"(19: 3)کی تفسیر رسول اللہؐ سے پوچھی تھی ۔سیدنا عدیؓ پہلے عیسائی تھے پھر اسلام لائے تھے۔جب سورۂ توبہ کی یہ آیت نازل ہوئی تو کہنے لگے یا رسول اللہؐ ہم اپنے علماء و مشائخ کو رب تو نہیں سمجھتے تھے۔آپؐ نے فرمایا کہ"جس چیز کو وہ حلال یا حرام کہہ دیتے تم اسے جوں کا توں تسلیم نہیں کرلیتے تھے؟"سیدنا عدی کہنے لگے"یہ بات تو تھی"آپؐ نے فرمایا "یہی رب بناناہوتاہے "(ترمذی،ابواب التفسیر،تفسیر آیت مذکورہ)۔۔۔۔اگر اللہ کو مشرکوں کا یہ شرک گوارا یا منظور ہوتا تو چاہئے تھا کہ اللہ مشرکوں کے اس کام پر سکوت اختیار فرماتا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیج کر ان افعال  کی پرزور تردید اور مذمت کی ہے ۔پھر وہ یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے یہ کام اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہیں۔(تیسیر القرآن)

36۔طاغوت کے معنی:۔ طاغوت کا اطلاق ہر اس شخص ،ادارے، بادشاہ یا حکومت پر ہوسکتاہے جو اللہ کا نافرمان ہواور لوگ اس کی اطاعت پر مجبور ہوں۔ ایسا شخص یا ادارہ یا بادشاہ اللہ کا باغی ہوتاہے اور اپنے زیر اثر لوگوں کو اپنی بات منوانا چاہتاہے اور یہی کام شیطان کا ہوتاہے لہذااس لفظ کا ترجمہ عموماًشیطان سے کردیا جاتاہے اور اگر انسان اللہ کے احکام کی پروانہ کرتے ہوئے اپنے ہی نفس کی اتباع کرنے لگے تو اس کے نفس پر بھی طاغوت کا اطلاق ہوسکتاہے۔(تیسیر القرآن)

40۔ یہ اس استبعاد کو رفع فرمایا ہے جس کی بنا پر کفار قیامت کا انکار کرتے تھے۔ فرمایا کہ ہم جب کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے لیے کسی اہتمام و انتظام کی ضرورت پیش نہیں آتی، ہم تو بس اتنا کہتے ہیں کہ ہوجا اور وہ کام ہوجاتا ہے تو ہمارے لیے لوگوں کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے۔ (تدبرِ قرآن)


چھٹا رکوع

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ ﴿41﴾ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ ﴿42﴾ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ ﴿43﴾ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ ﴿44﴾ اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ ﴿45﴾ اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ ﴿46﴾ اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ﴿47﴾ اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ ﴿48﴾ وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ ﴿49﴾ یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ ۞ ۧ ۧ ﴿50ع النحل 16﴾
41. اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد خدا کے لیے وطن چھوڑا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں گے۔ اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ (اسے) جانتے۔ 42. یعنی وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں۔ 43. اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔ 44. (اور ان پیغمبروں کو) دلیلیں اور کتابیں دے کر (بھیجا تھا) اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو اور تاکہ وہ غور کریں۔ 45. کیا جو لوگ بری بری چالیں چلتے ہیں اس بات سے بےخوف ہیں کہ خدا ان کو زمین میں دھنسا دے یا (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آجائے جہاں سے ان کو خبر ہی نہ ہو۔ 46. یا ان کو چلتے پھرتے پکڑ لے وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے۔ 47. یا جب ان کو عذاب کا ڈر پیدا ہوگیا ہو تو ان کو پکڑلے۔ بےشک تمہارا پروردگار بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔ 48. کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں۔ 49. اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے۔ 50. اور اپنے پروردگار سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں اور جو ان کو ارشاد ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔

تفسیر آیات

ر ہی نہ ہو۔ 46. یا ان کو چلتے پھرتے پکڑ لے وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے۔ 47. یا جب ان کو عذاب کا ڈر پیدا ہوگیا ہو تو ان کو پکڑلے۔ بےشک تمہارا پروردگار بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔ 48. کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں۔ 49. اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے۔ 50. اور اپنے پروردگار س42۔ ( چنانچہ وطن چھوڑتے وقت یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ کیا کھائیں  گے،کہاں سے پائیں گے) خیال رہے کہ یہ سفر بیسویں صدی کے وسط آخر کا نہیں، ساتویں صدی عیسوی کے شروع کا تھا، خشکی اور تری دونوں کے راستے کو طے کرکے مکہ سے سیکڑوں میل دورحبشہ کا تھا، آج پُرتکلف ریل گاڑیوں اور موٹروں اور پر تعیش جہازوں میں نہ تھا۔الذِینَ صَبَرُوا۔ یعنی ہر طرح کی تکلیفوں اور ناخوشگوار واقعات پر صبر سے کام لیتے رہتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

۔ ہجرت کی حقیقت :  ان آیتوں سے ہجرت کی حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ ہر نقل مکان کو ہجرت نہیں کہتے۔ ہجرت یہ ہے کہ آدمی اپنے دین کے معاملے میں ستایا جائے یہاں تک کہ وہ اپنا محبوب وطن اور اپنا عزیز آشیانہ چھوڑ کر وہاں سے نکلنے اور دوسری سرزمین کو اپنی پناہ گاہ بنانے پر مجبور ہوجائے۔ اس راہ میں صبر کا مفہوم یہ ہے کہ خواہ اس کے سر پر آرے ہی کیوں نہ چل جائیں لیکن دین حق کی جو نعمت اس کو مل چکی ہے وہ اس سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہ ہو اور توکل کا مفہوم یہ ہے کہ خواہ حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں لیکن وہ یہ اعتماد رکھے کہ اللہ اس کو تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ اس کی دست گیری فرمائے گا۔ یہی صبر و توکل ہجرت کی راہ میں زاد راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

43۔(نہ کہ کسی فرشتہ،جن یا مافوق البشر کو رسول بناکر )مشرکین عرب دیوتا ،اوتار وغیرہ کے تخیل سے تو خوب آشنا تھے،لیکن نفسِ رسالت ،یا کسی بشر محض کا پیمبری سے سرفراز ہوجا نا ان کی سمجھ سے باہر تھا ،اس میں وہ باربار  الجھتے تھے،اور ذات مصطفویؐ پر اپنے نزدیک بڑا اصولی اور گہرا اعتراض یہی کرتے تھے کہ یہ کھاتے پیتے، چلتے پھرتے،بشر ہوکر کیسے نبی ہوگئے؟یہ انہی منکروں کو سناکر  آنحضرتؐ سے ارشاد ہورہاہے کہ انسانوں کیلئے سلسلۂ نبوت تو  ازل سے برابر بشر کے ذریعہ سے قائم ہے۔رِجَالاً۔  قرآن میں بجائے بشر کے لفظ رجال کا آیاہے اور اس نے قدرۃً یہ بحث پیدا کردی ہے کہ آیا عورت کیلئے مرتبۂ رسالت و نبوت کی گنجائش ہے؟ لفظ سے یہ استدلال اور بالکل صحیح  استدلال کیاگیاہے کہ مرتبۂ نبوت مردوں کیلئے محدود و محصور ہے،اور کسی عورت کیلئے اس منصب کی گنجائش ہی نہیں۔۔۔۔۔خطاب مشرکین عرب سے ہے ،اور ان سے ارشاد ہورہاہے کہ جنہیں تم بھی اہل علم سمجھتے ہو،یعنی اہل کتاب یہود و نصاریٰ ، ذرا انہی سے اس مسئلہ کے متعلق پوچھ گچھ کرکے اپنا اطمینان کرلو، مسئلہ رسالت میں اور بشرہی کے رسول ہونے میں ،تو وہ بھی مسلمانوں ہی کے ہم زبان ہیں۔أَھلُ الذِّکرِ۔کے معنی اہل کتاب کے، صحابہ، تابعین،ائمہ لغت و اکابر مفسرین سب سے منقول ہیں۔خود الذکر کے معنی کتاب و کتاب الٰہی کے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

44۔ یہ آیت جس طرح ان منکرین نبوت کی حجت کے لیے قاطع تھی جو خدا کا ”ذکر“ بشر کے ذریعہ سے آنے کو نہیں مانتے تھے اسی طرح آج یہ ان منکرین حدیث کی حجت کے لیے بھی قاطع ہے جو نبی ﷺ کی تشریح و توضیح کے بغیر صرف ”ذکر“ کو لے لینا چاہتے ہیں۔ وہ خواہ اس بات کے قائل ہوں کہ نبی ﷺ نے تشریح و توضیح کچھ بھی نہیں کی تھی صرف ذکر پیش کردیا تھا، یا اس کے قائل ہوں کہ ماننے کے لائق صرف ذکر ہے نہ نبی ﷺ کی تشریح، یا اس کے قائل ہوں کہ اب ہمارے لیے صرف ذکر کافی ہے نبی ﷺ کی تشریح کی کوئی ضرورت نہیں، یا اس بات کے قائل ہوں کہ اب صرف ذکر ہی قابل اعتماد حالت میں باقی رہ گیا ہے، نبی ﷺ کی تشریح یا تو باقی ہی نہیں رہی یا باقی ہے بھی تو بھروسے کے لائق نہیں ہے، غرض ان چاروں باتوں میں سے جس بات کے بھی وہ قائل ہوں، ان کا مسلک بہرحال قرآن کی اس آیت سے ٹکراتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

49۔ ضمنا اس آیت سے ایک اشارہ اس طرف بھی نکل آیا ہے کہ جاندار مخلوقات صرف زمین ہی میں نہیں ہیں بلکہ عالم بالا کے سیاروں میں بھی ہیں۔ یہی بات سورة شوریٰ آیت 29 میں بھی ارشاد ہوئی ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔ اس تکوینی شہادت کی روشنی میں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ کوئی شخص اگر سورج یا کواکب میں سے کسی چیز کی پرستش کرتا ہے تو اس کا اپنا سایہ اس کے اس فعل کی نفی کرتا ہے۔ وہ خود تو سورج کے آگے جھکتا ہے لیکن اس کا سایہ اس کی مخالف سمت میں جھکتا ہے۔ وہ طوعاً جس خدا کو سجدہ کرنے پر راضی نہیں ہے کرہاً اسی کے آگے سر بسجود ہے اس لیے کہ اس کا سایہ خدا ہی کے آگے جھکا ہوا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف سورة رعد کی یہ آیت اشارہ کر رہی ہے۔ وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ: اور جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خوشی سے ، خواہ مجبور ہو کر اور ان کے سائے بھی ہر صبح و شام اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

50ــ سجدہ تلاوت واجب نہیں:۔ اس آیت پر سجدہ کرنا چاہیے تاہم سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے۔ چنانچہ ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر تیمی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا عمرؓ نے جمعہ کے دن منبر پر سورۂ النحل پڑھی۔جب سجدے کی آیت پر پہنچے تو منبر پر سے اترے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا۔دوسرے جمعہ کو بھی یہی سورۂ پڑھی ۔جب سجدہ کی آیت پر پہنچے توکہنے لگے:"لوگو! ہم سجدہ کی آیت پڑھتے چلے جاتے ہیں پھر جو کوئی سجدہ کرے اس نے اچھا کیا اور جو کوئی نہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں اور سیدنا عمرؓ نے سجدہ نہیں کیا اور نافع نے ابن عمرؓ سے نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا اسے ہماری خوشی پر رکھا۔(بخاری،کتاب الصلوٰۃ۔ باب من راٰی ان اللہ عزوجل لم یوجب السجود)(تیسیر القرآن)


ساتواں رکوع

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ ﴿51﴾ وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ ﴿52﴾ وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ ﴿53﴾ ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ ﴿54﴾ لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ﴿55﴾ وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ ﴿56﴾ وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ ﴿57﴾ وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ ﴿58﴾ یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ ﴿59﴾ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ ۧ ۧ ﴿60ع النحل 16﴾
51. اور خدا نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ۔ معبود وہی ایک ہے۔ تو مجھ ہی سے ڈرتے رہو۔ 52. اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ تو تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو۔ 53. اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو۔ 54. پھر جب وہ تم سے تکلیف کو دور کردیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں سے خدا کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں۔ 55. تاکہ جو (نعمتیں) ہم نے ان کو عطا فرمائی ہیں ان کی ناشکری کریں تو (مشرکو) دنیا میں فائدے اٹھالو۔ عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہوجائے گا۔ 56. اور ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے ایسی چیزوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو جانتے ہی نہیں۔ (کافرو) خدا کی قسم کہ جو تم افتراء کرتے ہو اس کی تم سے ضرور پرسش ہوگی۔ 57. اور یہ لوگ خدا کے لیے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔ (اور) وہ ان سے پاک ہے اور اپنے لیے (بیٹے) جو مرغوب ودلپسند ہیں۔ 58. حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑ جاتا ہے اور (اس کے دل کو دیکھو تو) وہ اندوہناک ہوجاتا ہے۔ 59. اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے۔ 60. جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان ہی کے لیے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلیٰ (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

تفسیر آیات

51ــــ عہد نبویؐ میں ایران میں مجوسی مذہب رائج تھایہ لوگ سورج پرست اور آتش پرست تھے۔ اپنے آپ کو سیدنا نوحؑ کا پیروکار بتاتے اور باقی سب نبیوں کے دشمن تھے۔ان کے عقیدہ کے مطابق خدا ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔یہ لوگ اپنی الہامی کتابوں کا نام زند اور اوستا بتاتے تھے۔(تیسیر القرآن)

57۔ اہل عرب کی دیویاں ان کے مقام اور ان کے پرستار:۔ ہندی، یونانی اور مصری تہذیبوں کی طرح مشرکین عرب کے بھی دیوتا کم اور دیویاں زیادہ تھیں اور ان دیویوں کے متعلق انکا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ،اسی طرح وہ فرشتوں کو بھی اللہ کی بیٹیاں قراردیتے تھے۔ان کی تین مشہور دیویاں، لات، عزیٰ اور منات تھیں۔لات الٰہ کی مونث ہے۔عزیٰ عزیز کی اور منات ،منان کی۔لات کا استھان یا آستانہ طائف میں تھا اور بنو ثقیف اس کے پرستار تھے۔ عزیٰ قریش مکہ کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان یا آستانہ مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں مقام حراص پر واقع تھا۔چناچہ ابوسفیان سپہ سالار قریش نے احد کے میدان میں جنگ میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے اس دیوی کا نعرہ لگایا اور کہا تھا     لنا عزی ولاعزی لکم اور منات کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے قدید کے مقام پر واقع تھا۔بنوخزاعہ،اوس اور خزرج اس دیوی کے پرستار تھے۔ نیز اس کا باقاعدہ حج اور طواف کیا جاتاتھا۔زمانہ حج میں جب حجاج طواف بیت اللہ اور عرفات اور منیٰ سے فارغ ہوجاتے تو وہیں سے منات کی زیارت کیلئے لبیک لبیک کی صدائیں بلند ہونے لگتیں اور جو لوگ اس دوسرے حج کی نیت کرلیتے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرتے تھے۔گویا مشرکین عرب دوہرا ظلم ڈھاتے تھے۔ایک تو ان کو اللہ کا شریک بنانے کا  دوسرے شریک بھی ایسے جنہیں وہ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔(تیسیر القرآن)

59۔ (یہ سوال مشرک باپ کے دل میں برابر گردش کرتارہتاہے)عرب میں قبیلہ تمیم اس بلا میں خاص طورپر مبتلا تھا ،لیکن دنیا کی تاریخ میں اور بھی مشرک قوموں نے بہ کثرت اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیاہے۔ہسٹورینس ہسٹری آف دی ورلڈمیں ہے:۔"دختر نوزادکو زندہ  دفن کردینے کا دستور بہت عام رہاہے"(جلد 8 ص8) ملاحظہ ہوانگریزی تفسیر،  تفسیر القرآن۔دختر کشی کے اسباب و محرکات دوگانہ تھے، کہیں تو لڑکی کا وجود باعثِ عار سمجھتے تھے،اور شرم و حیا کے مارے اسے مارڈالتے تھے، اور کہیں اس کے بار مصارف کے خیال سے۔(تفسیر ماجدی)


آ ٹھواں رکوع

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ﴿61﴾ وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ ﴿62﴾ تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿63﴾ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ﴿64﴾ وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿65ع النحل 16﴾
61. اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ 62. اور یہ خدا کے لیے ایسی چیزیں تجویز کرتے ہیں جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور زبان سے جھوٹ بکے جاتے ہیں کہ ان کو (قیامت کے دن) بھلائی (یعنی نجات) ہوگی۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لیے (دوزخ کی) آگ (تیار) ہے اور یہ (دوزخ میں) سب سے آگے بھیجے جائیں گے۔ 63. خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے تو شیطان نے ان(امتوں) کے کردار (ناشائستہ) ان کو آراستہ کر دکھائے تو آج بھی وہی ان کا دوست ہے اور ان کے لیے عذاب الیم ہے۔ 64. اور ہم نے جو تم پر کتاب نازل کی ہے تو اس کے لیے جس امر میں ان لوگوں کو اختلاف ہے تم اس کا فیصلہ کردو۔ اور (یہ) مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ 65. اور خدا ہی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا۔ بےشک اس میں سننے والوں کے لیے نشانی ہے۔

تفسیر آیات

 61۔کفر و شرک ظلم ہے۔  " ظلم " کے اصل معنی حق تلفی کے ہیں۔ چونکہ شرک و کفر سب سے بڑی حق تلفی ہے، جس کا ارتکاب کرکے بندہ اپنے رب کے سب سے بڑے حق کو بھی تلف کرتا ہے اور خود اپنی جان پر بھی سب سے بڑا ظلم ڈھاتا ہے، اس وجہ سے قرآن نے جگہ جگہ کفر و شرک کو ظلم تعبیر کیا ہے۔ (تدبرِ قرآن)


نواں رکوع

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ ﴿66﴾ وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ﴿67﴾ وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ ﴿68﴾ ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ ﴿69﴾ وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ ۧ ۧ ﴿70ع النحل 16﴾
66. اور تمہارے لیے چارپایوں میں بھی (مقام) عبرت (وغور) ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس سے ہم تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے۔ 67. اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزیں تیار کرتے ہو کہ ان سے شراب بناتے ہو) اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے۔ 68. اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے ہیں گھر بنا۔ 69. اور ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف رستوں پر چلی جا۔ اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی شفا ہے۔ بےشک سوچنے والوں کے لیے اس میں بھی نشانی ہے۔ 70. اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہیں۔ بےشک خدا (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے۔

تفسیر آیات

ر66۔دودھ کی پیدائش میں اللہ کی قدرتیں: ۔۔۔۔۔۔لیکن مادہ میں اسی ایک ہی خوراک سے ایک تیسری چیز دودھ بھی بنتا ہے اور وہ صرف مادہ میں ہی بنتا ہے نر میں نہیں بنتا ۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ خون اور گوبر جیسی دو حرام اور گندی چیزوں سے تیسری چیز دودھ جو حاصل ہوتاہے وہ حلال، نہایت سفید،خوش رنگ،پاکیزہ،خوشگوار اور مزیدار ہوتاہے پھر یہ محض ایک مشروب ہی نہیں بلکہ انسانی جسم کی تربیت کیلئے مکمل غذا کا کام دیتا ہے۔(تیسیرالقرآن)

۔۔۔۔ "عِبْرَة" کے معنی ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک پہنچ جانا ہے۔ یہی عبرت علم کی کلید ہے۔ جس کے اندر یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ان کے لیے ایک دروازہ کھل جائے تو اس کی روشنی میں دوسرے دروازے خود کھلتے جاتے ہیں۔ جو لوگ اپنی اس صلاحیت کو مردہ کردیتے ہیں، ان کے عقل و دل کی آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں، وہ دیکھتے سب کچھ ہیں لیکن ان کو سوجھتا کچھ بھی نہیں۔ (تدبرِ قرآن)

67۔ سَكَرًا۔سکر کے لفظ پر سوال پیدا ہواہے کہ نشہ کا ذکر محل مدح پر قرآن مجید نے کیسے کردیا؟۔۔۔جواب اس کا یہ ہے کہ اول تو یہاں مقصود مدح نہیں،بلکہ ذکر صرف اس کا ہے کہ خرمے اور انگور سے فلاں فلاں کام لئے جاسکتے ہیں، اور مخاطب صرف مؤمنین نہیں بلکہ کافر بھی شامل ہیں اور وہ برابر ان پھلوں سے نشہ کا کام لیتے رہتے ہیں ،اس لئے اس کے ذکر میں مطلق مضائقہ نہیں، دوسرے یہ کہ آیت مکی ہے، اور نشہ کی حرمت اس وقت تک ہوئی نہیں تھی،اس پر بھی قرآن مجید نے سکر کو رزق حسن سے علیحدہ و ممتاز کرکے ظاہر کردیا کہ یہ دو بالکل مختلف قسم کے کام انہی پھلوں سے لئے جاسکتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

ــــ مکی دور میں شراب کی ناپسندیدگی پر اشارہ:۔ چار قسم کے مشروب ہیں جو اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں اور یہ مشروب انسان کو اللہ نے اس دنیا میں عطافرمائے ہیں اور اہل جنت کو جنت میں بھی بافراط عطا فرمائےگا۔ایک پانی ،دوسرے دودھ،تیسرے شراب ،چوتھے شہد(47: 15)ان میں سے دو کا ذکر پہلی دو آیات میں گزرچکا ہے۔اس آیت میں شراب کا ذکر اوراس سے بعد کی آیت میں شہد کا۔۔۔۔یہ بات ملحوظ رکھنا چاہیے کہ یہ سورت مکی ہے اور شراب مدنی دور میں حرام ہوئی تھی ۔مکی دور میں اگرچہ شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔تاہم اسے عمدہ رزق سے خارج کردیا گیا ۔(تیسیر القرآن)

68۔ وحی کے لغوی معنی ہیں خفیہ اور لطیف اشارے کے جسے اشارہ کرنے والے اور اشارہ پانے والے کے سوا کوئی اور محسوس نہ کرسکے۔ اسی مناسبت سے یہ لفظ القاء (دل میں بات ڈال دینے) اور الہام (مخفی تعلیم و تلقین) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو جو تعلیم دیتا ہے وہ چونکہ کسی مکتب و درسگاہ میں نہیں دی جاتی بلکہ ایسے لطیف طریقوں سے دی جاتی ہے کہ بظاہر کوئی تعلیم دیتا اور کوئی تعلیم پاتا نظر نہیں آتا، اس لیے اس کو قرآن میں وحی، الہام اور القاء کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اب یہ تینوں الفاظ الگ الگ اصطلاحوں کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ لفظ وحی انبیاء کے لیے مخصوص ہوگیا ہے۔ الہام کو اولیاء اور بندگان خاص کے لیے خاص کردیا گیا ہے۔ اور القاء نسبۃً  عام ہے۔ اور یہ وحی صرف  شہد کی  مکھی  تک محدود نہیں ۔  مچھلی  کو تیرنا  ،  پرندے  کو اڑنا  اور  نوزائدہ   بچے کو  دودھ  پینا  بھی  وحی  سکھاتی ہے  - دنیا میں  جتنے  اکتشافات  ہوئے  ، جتنی  ایجادیں  ہوئیں  سب وحی ہیں- بلکہ  عام انسانوں کو آئے  دن اس طرح  کے  تجربات  ہوتے رہتے  ہیں۔ بیٹھے بیٹھے یا خواب میں کچھ اشارے ملتے ہیں ۔۔۔۔۔مگر   انبیاء کی   وحی  بالکل  مختلف-  خدا سے  براہ راست  تعلق  کا یقین  - پہلی  وحی   کو جبلی  اور فطری  وحی  کہ سکتے  ہیں۔(تفہیم القرآن)

ـــــ  شہد  کی مکھی  میں اللہ  کی نشانیاں:  نہایت   کاریگری  اور باریک  صنعت  سے  چھتوں کی تیاری جو مسدس متساوی  الاضلاع کی شکل پر ہوتے ہیں   بغیر  مسطر  و پرکار   ذرہ  بھر  جگہ  بیکار  نہیں ہوتی - ایک  بڑی مکھی  کے ماتحت  رہ کر  پوری  فرمانبرداری سے کام کرتی ہیں اور ان کے  سردار کو  ( یعسوب )  کہتے ہیں  - (تفسیر عثمانی )

ـ امتیازی  شان  کا خطاب  : ۔ اوحیٰ،وحی یہاں اپنے اصطلاحی مفہوم میں نہیں ہے، بلکہ لغوی معنی میں ہے،وہ یہ کہ متکلم مخاطب کو کوئی خاص بات مخفی طورپر اس طرح سمجھا دے کہ دوسرا شخص اس بات کو نہ سمجھ سکے ۔النحل، شہد کی مکھی اپنی عقل و فراست اور حسن تدبیر کے لحاظ سے تمام حیوانات میں ممتاز جانور ہے ،اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو خطاب بھی امتیازی شان کا کیا ہے،باقی حیوانات کےبارے میں تو قانون کلی کے طریقہ پر اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى فرمایا، لیکن اس ننھی سی مخلوق کے بارے میں خاص کر کے اَوْحٰى رَبُّكَ فرمایا جس سے  اشارہ اس بات کی طرف کردیا کہ یہ دوسرے حیوانات سے بہ نسبت عقل و شعور اور سُوجھ بوجھ میں ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔۔۔۔شہد کی مکھیوں کی فہم و فراست کا اندازہ ان کے نظامِ حکومت سے بخوبی ہوتاہے۔۔۔"ملکہ"تین ہفتوں کے عرصہ میں چھ ہزار سے بارہ ہزار انڈے دیتی ہے ،یہ اپنے قد و قامت اور وضع و قطع کے لحاظ سے دوسری مکھیوں سے ممتاز ہوتی ہے یہ ملکہ تقسیم کار کے اصول پر اپنی رعایا کو مختلف امور پر مامور کرتی ہے،ان میں سے بعض دربانی کے فرائض انجام دیتی ہیں۔ بعض انڈوں کی حفاظت  کرتی ہیں،بعض نابالغ بچوں کی تربیت کرتی ہیں،بعض معماری اور انجینرنگ کے فرائض اداکرتی ہیں، ان کے تیارکردہ اکثر چھتوں کے خانے بیس ہزار سے تیس ہزار تک ہوتے ہیں، بعض موم جمع کرکے معماروں کے پاس پہنچاتی رہتی ہیں جن سے وہ اپنے مکانات تعمیر کرتے ہیں یہ موم نباتات پر جمے ہوئے سفید قسم کے سفوف سے حاصل ہوتی ہے۔ ان میں سے بعض مختلف قسم کے پھولوں اور پھلوں پر بیٹھ کر اس کو چوستی ہیں۔۔۔یہ مختلف پارٹیاں نہایت سرگرمی سے اپنے اپنے فرائض سرانجام دیتی ہیں ۔۔۔ان میں سے اگر کوئی گندگی پر بیٹھ جائے تو چھتے کے دربان اسے باہر روک لیتے ہیں،اور ملکہ اس کو قتل کردیتی ہے۔۔۔ان کے گھر عام جانوروں کے گھروں سے ممتاز ہوتے ہیں، جن کو دیکھ کر انسانی عقل بھی ششدررہ جاتی ہے،ان کے گھر مسدس شکل کے ہوتے ہیں،پرکار اور مسطر سے بھی اگر ان کی پیمائش کی جائے تو بال برابر بھی فرق نہیں رہتا،مسدس شکل کے علاوہ وہ دوسری کسی شکل مثلاً مربع اور مخمس وغیرہ کو اس لئے اختیار نہیں کرتیں کہ ان کے بعض کونے بیکاررہ جاتے ہیں۔۔۔ پہلی ھدایت: مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَ،یعنی ان گھروں کی تعمیر پہاڑوں، درختوں  اور بلند عمارتوں پر ہونی چاہئے،تاکہ شہد بالکل محفوظ طریقہ سے تیار ہوسکے۔۔۔ ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ۔ یہ دوسری ہدایت ہے جس میں مکھی کو حکم دیا جارہاہے کہ اپنی رغبت اور پسند کے مطابق پھل پھول سے رس چُو سے۔۔۔یہ مکھی ایسے ایسے لطیف اور قیمتی اجزاء چُوستی ہے کہ آج کے سائنسی دور میں مشینوں سے بھی وہ جو ہر نہیں نکالا جاسکتا۔ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا،یہ مکھی کو تیسری ہدایت دی جارہی ہے کہ اپنے رب کے ہموار کئے ہوئے راستوں پر چل پڑ۔۔۔اس کے بعد  وحی کے اس حکم کا جو حقیقی ثمرہ تھا، اس کو بیان فرمایا یَخْرُ جُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ۔"کہ اس کے پیٹ میں سے مختلف رنگ کا مشروب نکلتا ہے ،جس میں تمہارے لئے شفاء ہے"۔۔۔فیہ شفاء للناس،شہد جہاں قوت بخش غذاء اور لذت و طعم کا ذریعہ ہے، وہاں ْامراض کیلئے نسخۂ شفاء بھی ہے۔۔۔اطباء معجونوں میں بطورِ خاص اس کو شامل کرتے ہیں، اس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ خود بھی خراب نہیں ہوتا اور دوسری اشیاء کی بھی طویل عرصہ تک حفاظت کرتاہے۔۔۔شہد مسہل ہے اور پیٹ سے فاسد مادہ نکالنے میں بہت مفید ہے۔ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک صحابی نے اپنے بھائی کی بیماری کا حال بیان کیا تو آپ نے اسے شہد پلانے کا مشورہ دیا دوسرے دن پھر آ کر اس نے بتلایا کہ بیماری بدستور ہے آپ نے پھر وہی مشورہ دیا تیسرے دن جب اس نے پھر کہا کہ اب بھی کوئی فرق نہیں ہے تو آپ نے فرمایا صدق اللہ و کذب بطن اخیک  یعنی اللہ کا قول بلا ریب سچاہے ،تیرے بھائی کا پیٹ جُھوٹا ہے،مراد یہ ہے کہ دواکا قصور نہیں ، مریض کے مزاج خاص کی وجہ سے جلدی اثر ظاہرنہیں ہوا، اس کے بعد پھر پلایا تو بیمار تندرست ہوگیا ۔۔۔شہد کی مکھی کی ایک خصوصیت یہ بھی ہےکہ اس کی فضیلت میں حدیث وارد ہوتی ہے ،رسول کریمؐ نے فرمایا۔"یعنی دوسری ایذا رساں جانداروں کی طرح مکھیوں کی بھی تمام قسمیں جہنم میں جائیں گی ،جو وہاں جہنمیوں پر بطور عذاب مسلط کردی جائیں گی،مگر شہد کی مکھی جہنم میں نہیں جائے گی۔"۔۔۔نیز ایک اور حدیث میں آپؐ نے اس کو مارنے سے منع فرمایا ہے(ابوداؤد)(معارف  القرآن)

ــــ سائنس کو اب آکر یہ بات معلوم ہوئی کہ شہد مادہ مکھی تیارکرتی ہے ۔  آیت  میں   تین دفعہ  مؤنث  کا صیغہ  آیاہے ۔۔۔۔۔1 : " اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ  "    ( پہاڑوں  میں  گھر  بنا – مادہ  مکھی  سردار  - صیغہ مؤنث )۔۔۔۔۔2 :   " ثُمَّ كُلِي مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ "  (  پھر  ہر قسم  کے  میوے  کھا – صیغہ  مؤنث ) ۔۔۔۔۔3 :  " فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا "  (  اپنے  رب کے صاف راستوں  پر چلی  جا – صیغہ مؤنث )  ۔۔۔۔۔آج  سے ڈیڑھ  ہزار سال  پہلے  کسی ڈاکٹر  ، طبیب  یا سائنسدان  تک  کو  یہ معلوم  نہ تھا  ۔(انوار القرآن)

ــــ نحل شہد کی مکھی کو کہتے ہیں جو عام مکھی یعنی ذباب سے بڑی ہوتی ہے اور اس سورہ کا نام"النحل"اسی نسبت سے ہے کہ صرف اسی سورت میں نحل کا ذکر آیا ہے اور اس مکھی کی طرف وحی کرنے سےمراد فطری اشارہ یا تعلیم ہےجو اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کی جبلت میں ودیعت کررکھی ہے جیسے کہ بچہ پیدا ہوتے ہی ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکتا ہے تاکہ وہاں سے اپنے لیے غذا حاصل کرسکے حالانکہ اس وقت اسے کسی بات کی سمجھ نہیں ہوتی۔(تیسیر القرآن)

69: " إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةًلِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ  "  ( 65 )  - ایسے  حقائق  جو بدیہات  فطرت  کے حکم  میں داخل  ہیں   "إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةًلِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ - جہاں  مقدمات کی   ایک ترتیب   ہوتی ہے   اور پھر  ان سے  نتائج   اخذ  (  پہلے سے اونچا  مرتبہ )    - "إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةًلِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ "  ( 69 )  - یہ ان  لوگوں کا مقام ہے  جو اسرار  کائنات  میں  برابر  غور  کرتے  اورعلم کے  مدارج  برابر  طے کرتے  رہتے  ہیں  - یہ  حکما کا درجہ  ہے  ( سب  سے اونچامقام ) 

اے اہل  نظر  ذوق   نظر  خوب  ہے لیکن                         جو شے  کی حقیقت  کو نہ  سمجھے  وہ نظر  کیا  (تدبر قرآن)

ــــ شراب:۔ اس شیریں مشروب کو شہد کہتے ہیں، پھولوں کا رس جو مکھیاں چوس کر لاتی ہیں، وہ ابتداءمیں پھولوں کی ناصاف شکر ہوتی ہے،مکھیاں اس کو اپنے خصوصی نظام ہضم کے ذریعہ نہایت لطیف قسم کی شکرمیں تبدیل کردیتی ہے شہدمیں 40 تا 50فیصدی یہی شکر ہوتی ہے اور پھر 30 تا 37 فیصدی  ایک دوسرے قسم کی شکر ہوتی ہے، باقی حصوں میں تحلیل کرنے والے اجزاء ،خمیر کرنے والے اجزاء ،دیگر کیمیاوی اجزاء اور نمکیات حیاتین ہوتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

70۔ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا میں لکی کا صحیح حق ادا کیجیے تو اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ قدرت کچھ لوگوں کو ارذل عمر تک پہنچا کر یہ حقیقت ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ علم و عقل اور قدرت و اختیار سب خدا ہی کا عطیہ ہے ۔وہی انسان جس کو اپنے علم اور اپنی عقل پر بڑا ناز ہوتا ہے ایک وقت اس پر ایسا آتا ہے جب وہ خود بھی دیکھ لیتا ہے اورد وسرے بھی دیکھ لیتے ہیں کہ وہ شیرخوار بچو کی طرح عقل و علم اور قدرت و اختیار سے بالکل عاری ہو کر رہ گیا ہے اس کو اپنے تن بدن تک کا کچھ ہوش نہیں رہ جاتا۔(تدبرقرآن)

۔ ارذل العمر کی تعریف میں اور بھی اقوال ہیں بعض نے اسی سال کی عمر کو ارذل العمر قرار دیا ہے اور بعض نے نوے سال کو حضرت علی سے بھی پچھتر سال کا قول منقول ہے (صحیحین بحوالہ مظہری) ۔۔۔۔۔ان اللہ  علیم  قدیر  -  چاہیں  تو  طاقتور   نوجوان   پر  ارذل  العمر   طاری  کردیں  اور  چاہیں   تو  100  سال  کا آدمی  بھی  جوان   رہے ۔(معارف القرآن)


دسواں رکوع

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ ﴿71﴾ وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ ﴿72﴾ وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ ﴿73﴾ فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ﴿74﴾ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿75﴾ وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ ۧ ۧ ﴿76ع النحل 16﴾
71. اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے تو جن لوگوں کو فضیلت دی ہے وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہیں نہیں کہ سب اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہیٰ کے منکر ہیں۔ 72. اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لیے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں۔ تو کیا بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہو۔ 73. اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ کسی اور طرح کا مقدور رکھتے ہیں۔ 74. تو (لوگو) خدا کے بارے میں (غلط) مثالیں نہ بناؤ۔ (صحیح مثالوں کا طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ 75. خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں؟ (ہرگز نہیں) الحمدلله۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے۔ 76. اور خدا ایک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک اُن میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار وناتواں) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اُسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں؟

تفسیر آیات

71۔ زمانہ حال میں اس آیت سے جو عجیب و غریب معنی نکالے گئے ہیں وہ اس امر کی بدترین مثال ہیں کہ قرآن کی آیات کو ان کے سیاق وسباق سے الگ کر کے ایک ایک آیت کے الگ معنی لینے سے کیسی کیسی لا طائل تاویلوں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ لوگوں نے اس آیت کو اسلام کے فلسفہ معیشت کی اصل اور قانون معیشت کی ایک اہم دفعہ ٹھیرایا ہے۔ ان کے نزدیک آیت کا منشاء یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ نے رزق میں فضیلت عطا کی ہو انہیں اپنا رزق اپنے نوکروں اور غلاموں کی طرف ضرور لوٹا دینا چاہیے، اگر نہ لوٹائیں گے تو اللہ کی نعمت کے منکر قرار پائیں گے۔ ۔۔۔آیت کو اس کے سیاق وسباق میں رکھ کر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اسکے بالکل برعکس مضمون بیان ہو رہا ہے۔ یہاں استدلال یہ کیا گیا ہے کہ تم خود اپنے مال میں اپنے غلاموں اور نوکروں کو جب برابر کا درجہ نہیں دیتے حالانکہ یہ مال خدا کا دیا ہوا ہے تو آخر کس طرح یہ بات تم صحیح سمجھتے ہو کہ جو احسانات اللہ نے تم پر کیے ہیں ان کے شکریے میں اللہ کے ساتھ اس کے بےاختیار غلاموں کو بھی شریک کرلو اور اپنی جگہ یہ سمجھ بیٹھو کہ اختیارات اور حقوق میں اللہ کے یہ غلام بھی اس کے ساتھ برابر کے حصہ دار ہیں ؟ (تفہیم القرآن)

74۔  شرک کے بیشتر دروازے خدا کو اپنے اوپر یا دنیاوی بادشاہوں کے اوپر قیاس کرکے اس کی صفتیں بیان کرنے سے کھلے ہیں ۔یہاں اس سے منع کرکے شرک کے فتنہ کے اس دروازے کو بند کردیا ۔فرمایا کہ اپنی جو صفتیں خدا بیان کرتاہے ان کو مانو اور ان پر ایمان لاؤ۔اس معاملہ میں تشبیہ و قیاس کو رہنما نہ بناؤ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

75۔ سوال اور الحمد للہ کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے بھرنے کے لیے خود لفظ الحمد للہ ہی میں بلیغ اشارہ موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ نبی ﷺ کی زبان سے یہ سوال سن کر مشرکین کے لیے اس کا یہ جواب دینا تو کسی طرح ممکن نہ تھا کہ دونوں برابر ہیں۔ لا محالہ اس کے جواب میں کسی نے صاف صاف اقرار کیا ہوگا کہ واقعی دونوں برابر نہیں ہیں، اور کسی نے اس اندیشے سے خاموشی اختیار کرلی ہوگی کہ اقراری جواب دینے کی صورت میں اس کے منطقی نتیجے کا بھی اقرار کرنا ہوگا اور اس سے خود بخود ان کے شرک کا ابطال ہوجائے گا۔ لہٰذا نبی نے دونوں کا جواب پا کر فرمایا الحمد للہ۔ اقرار کرنے والوں کے اقرار پر بھی الحمد للہ، اور خاموش رہ جانے والوں کی خاموشی پر بھی الحمد للہ۔ پہلی صورت میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ ”خدا کا شکر ہے، اتنی بات تو تمہاری سمجھ میں آئی“۔ دوسری صورت میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ”خاموش ہوگئے ؟ الحمد للہ۔ اپنی ساری ہٹ دھرمیوں کے باوجود دونوں کو برابر کہہ دینے کی ہمت تم بھی نہ کرسکے“۔ (تفہیم القرآن)

76۔ مشرکوں کی دوسری مثال:  ۔۔۔۔۔بعض علماء نےاس مثال کا اطلاق بتوں اور ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ پر کیا ہے۔اور بعض نے اس کا اطلاق مشرکوں اور ان کے مقابلہ میں مومنوں یا خود رسول اللہؐ پر کیا ہے۔(تیسیر القرآن)

۔ پہلی مثال میں اللہ اور بناوٹی معبودوں کے فرق کو صرف اختیار اور بےاختیاری کے اعتبار سے نمایاں کیا گیا تھا۔ اب اس دوسری مثال میں وہی فرق اور زیادہ کھول کر صفات کے لحاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور ان بناوٹی معبودوں کے درمیان فرق صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ ایک با اختیار مالک ہے اور دوسرا بےاختیار غلام۔ بلکہ مزید برآں یہ فرق بھی ہے کہ یہ غلام نہ تمہاری پکار سنتا ہے، نہ اس کا جواب دے سکتا ہے، نہ کوئی کام با ختیار خود کرسکتا ہے۔ اس کی اپنی زندگی کا سارا انحصار اس کے آقا کی ذات پر ہے۔ اور آقا اگر کوئی کام اس پر چھوڑ دے تو وہ کچھ بھی نہیں بنا سکتا۔ بخلاف اس کے آقا کا حال یہ ہے کہ صرف ناطق ہی نہیں ناطق حکیم ہے، دنیا کو عدل کا حکم دیتا ہے۔ اور صرف فاعل مختار ہی نہیں، فاعل برحق ہے، جو کچھ کرتا ہے راستی اور صحت کے ساتھ کرتا ہے۔ بتاؤ یہ کونسی دانائی ہے کہ تم ایسے آقا اور ایسے غلام کو یکساں سمجھ رہے ہو ؟ (تفہیم القرآن)


گیارہواں رکوع

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴿77﴾ وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ﴿78﴾ اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ﴿79﴾ وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ ﴿80﴾ وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ ﴿81﴾ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ﴿82﴾ یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿83ع النحل 16﴾
77. اور آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے اور (خدا کے نزدیک) قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ 78. اور خدا ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل (اور اُن کے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو۔ 79. کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اُڑتے رہتے) ہیں۔ ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لیے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔ 80. اور خدا ہی نے تمہارے لیے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اُسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لیے ڈیرے بنائے۔ جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام میں لاتے ہو اور اُن کی اون، پشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں (بناتے ہو جو) مدت تک (کام دیتی ہیں)۔ 81. اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لیے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کُرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں۔ اور (ایسے) کُرتے (بھی) جو تم کو اسلحہ جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو۔ 82. اور اگر یہ لوگ اعتراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے۔ 83. یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں۔ مگر (واقف ہو کر) اُن سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں۔

تفسیر آیات

80۔ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا۔متاع کا مفہوم اثاث سے وسیع ترہے،اور سامان ِ تجارت ،اسباب آرائش و زیب وغیرہ سب پر شامل ہے،اور امام رازیؒ نےیہ بھی کہا ہے کہ اثاث تو وہ ہے جو انسان کی پوشش اور دوسری ضروریات میں کام آتاہے، اور متاع وہ سامان ہے جن سے مکانوں میں فرش اور زینت کا کام لیا جاتاہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ قولہ مِنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَام وقولہ مِنْ اَصْوَافِهَا وَاَوْبَارِهَا سے ثابت ہوا کہ جانوروں کی کھال اور بال اور اون سب کا استعمال انسان کے لئے حلال ہے اس میں یہ بھی قید نہیں کہ جانور مذبوح ہو یا مردار اور نہ یہ قید ہے کہ اس کا گوشت حلال ہے یا حرام ان سب قسم کے جانوروں کی کھال دباغت دے کر استعمال کرنا حلال ہے اور بال اور اون پر تو جانور کی موت کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا وہ بغیر کسی خاص صنعت کے حلال اور جائز ہے امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے البتہ خنزیر کی کھال اور اس کے تمام اجزاء ہر حال میں نجس اور ناقابل انتفاع ہیں۔ (معارف القرآن)

81۔ یہ سب اللہ کی مختلف نعمتوں ہی کی تفصیل ہورہی ہے۔ سَرَابِیْل۔سربال کا لفظ عام ہے ہر قسم کے پیراہن کیلئے۔یہاں اس قمیص یا بالائی جسم کی پوشش کی دوخاص قسمیں ارشاد ہورہی ہیں۔ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ۔ ایک وہ پوشش  جوموسم کی سختیوں  سے جسم کو محفوظ رکھے ۔سردی کو چھوڑکر یہاں صرف گرمی کی تخصیص کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ سردی سے حفاظت کا ذکر کچھ ہی اوپر آچکا ہے۔۔۔ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ اور دوسری بات یہ کہ مخاطبین اول عرب تھے، اور عرب میں لباس کی اصلی ضرورت بادِ مسمو م کی تند لپٹ اور آفتاب کی گرم کڑی کرنوں ہی سے بچنے کیلئے ہی تھی۔۔۔ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ۔ پوشش کی دوسری قسم ہے، مراد ہیں جنگی پیراہن ،زرہ جوشن وغیرہ۔(تفسیر ماجدی)

۔ سردی سے بچانے کا ذکر یا تو اس لیے نہیں فرمایا گیا کہ گرمی میں کپڑوں کا استعمال انسانی تمدن کا تکمیلی درجہ ہے اور درجہ ٔ کمال کا ذکر کردینے کے بعد ابتدائی درجات کے ذکر کی حاجت نہیں رہتی۔ (تفہیم القرآن)

82۔(تو آپ ان کیلئے غم وتردد میں ہرگز نہ پڑیں۔) فَاِنْ تَوَلَّوْا۔ف سے اشارہ  ادھر ہوگیا کہ وضوحِ دلائل کے بعد بھی اگر یہ تو حید و ایمان سے برگشتہ رہیں ،صیغۂ مخاطب سے غائب کی طرف انتقال کو عربی فن بلاغت میں صنعتِ التفات کہتے ہیں، جس کا ذکر پہلے آچکا ہے،قرآن نے اس حقیقت کو باربار واضح کیا ہے کہ پیمبر کا کام صرف تبلیغ و تلقین ہے، کسی بات کا زبردستی کسی کے دل میں اتار دینا یا کسی عقیدہ کا بہ جبر کسی کے سر چیپک دینا اس کے اختیار میں نہیں۔(تفسیر ماجدی)


بارہواں رکوع

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ ﴿84﴾ وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ ﴿85﴾ وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ ﴿86﴾ وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ﴿87﴾ اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ ﴿88﴾ وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿89ع النحل 16﴾
84. اور جس دن ہم ہر اُمت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ اُن کے عذر قبول کئے جائیں گے۔ 85. اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو اُن کے عذاب ہی میں تخفیف کی جائے گی اور نہ اُن کو مہلت ہی دی جائے گی۔ 86. اور جب مشرک (اپنے بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پُکارا کرتے تھے۔ تو وہ (اُن کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) اُن سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو۔ 87. اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب اُن سے جاتا رہے گا۔ 88. جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا ہم اُن کو عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس لیے کہ شرارت کیا کرتے تھے۔ 89. اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر اُمت میں سے خود اُن پر گواہ کھڑے کریں گے۔ اور (اے پیغمبر) تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔

تفسیر آیات

 84۔ (کہ اب کچھ عذر معذرت پیش کرسکیں۔) مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا۔ یہ گواہ اسی امت رسول کا ہوگا ،یہ شہادت دے گا کہ میں نے تمام احکام کی تبلیغ پوری پوری کردی تھی، اس پر بھی امت منکر و باغی رہی ،اور امت کے جو گروہ زمان رسول کے بعد آئیں گے،ان پر گواہی دینے والے نائب  رسول ہوں گے۔اُمۃ۔امۃ سے مراد ظاہر ہے کہ امت دعوت ہے، یعنی وہ قوم جو نبی کے پیام کی مخاطب رہی یہ مراد نہیں کہ جنہوں نے اس پیام کو قبول بھی کیا۔(تفسیر ماجدی)

89ــــ ہمارے   نبی  ؐ  دو  بعثتوں  کے ساتھ  مبعوث   ( اہل  عرب  کی طرف  براہ  راست   اور تمام  خلق  کی طرف  آپکی  امت  کے واسطہ  سے   (  امت وسط )  تا قیامت   )  (تدبر قرآن)


تیرہواں رکوع

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ﴿90﴾ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ ﴿91﴾ وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ ﴿92﴾ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿93﴾ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ﴿94﴾ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿95﴾ مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿96﴾ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿97﴾ فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ﴿98﴾ اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ ﴿99﴾ اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿100ع النحل 16﴾
90. خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔ 91. اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو اُن کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے۔ 92. اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا۔ 93. اور اگر خدا چاہتا تو تم (سب) کو ایک ہی جماعت بنا دیتا۔ لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اُس دن) اُن کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔ 94. اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑ کھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے رستے سے روکا، تم کو عقوبت کا مزہ چکھنا پڑے۔ اور بڑا سخت عذاب ملے۔ 95. اور خدا سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو۔ (کیونکہ ایفائے عہد کا) جو صلہ خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔ 96. جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے کہ (کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم اُن کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔ 97. جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) اُن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے۔ 98. اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو۔ 99. کہ جو مومن ہیں اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں اُن پر اس کا کچھ زور نہیں چلتا۔ 100. اس کا زور ان ہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسوسے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں۔

تفسیر آیات

  90-  قرآن   کی جامع  ترین  آیت  - حضرت  عمر بن عبدالعزیز    کا خطبۂ جمعہ   میں شامل  کرنا    ۔(تفسیر عثمانی)

ــــ یہ قرآنی احکام میں امر و نہی کی بنیادیں بیان ہوئی ہیں۔ عدل ہر کسی کے حق واجب کا اداکرنا ہے۔احسان کا تقاضا یہ ہوتاہے کہ حق کی ادائیگی نہایت کریمانہ اور فیاضانہ ہو۔ رشتہ داروں کا حق یہ ہے کہ ان پر فیاضی سے خرچ کیا جائے۔بے حیائی کے کاموں میں بدکاری سرفہرست ہے۔ برائی میں وہ تمام کام شامل ہیں جو معروف اور عقل کے نزدیک پسندیدہ طریقہ کے خلاف ہوں۔سرکشی یہ ہے کہ آدمی اپنی قوت اور اپنے زور و اثر سے ناجائز فائدہ اٹھائے اور اس سے دوسروں کو دبانے کی کوشش کرے۔ان سب کی تفصیل اگلی سورہ میں بیان ہوئی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ــــ اجمال  کی تفصیل    سورۃ  بنی اسرائیل  ر – 3 /4  (  اسلام کا منشور  اعظم )  (تدبرقرآن)

ــــ عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں  کہ حضور ؐ  نے یہ آیت  ولید  بن مغیرۃ  کو  پڑھ  کر سنائی  تو  اس نے  کہا  بھتیجے  ایک  بار  پھر پڑھو حضور ؐ نے اسے  پھر پڑھا  تو وہ  دشمن اسلام اور منکر  قرآن  یہ کہنے  پر  مجبور   ہوگیا  کہ بخدا  یہ تو  بڑی شیرین  ہے  اس کا ظاہر  بڑا  رنگین ہے ۔  اس کا  تنا  پتوں والا  ہے اور  اسکی  شاخیں  پھلوں  سے  لدی  ہیں ۔  بخدا  یہ کسی   بشر  کا کلام نہیں ۔۔۔۔۔حضرت  عبداللہ  بن مسعود  رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: یہ قرآن کی جامع  ترین آیت ہے (ضیاء القرآن)

ــــ  عدل  ( افراط  و تفریط  نہ ھو  - سخت  سے سخت  دشمن  سے  بھی  انصاف  -  قریب ترین  عزیز  رشتے  دار  ، دوست  ہونے  کے باوجود  حق  بات )  جو  اپنے  لئے  پسند  نہ کرے  اپنے  بھائی  کیلئے  بھی  نہ کرے  ۔۔۔۔۔احسان :  مقام عدل  و انصاف  سے بلند تر  فضل و عفو  تلطف و ترحم – انصاف  کے ساتھ  مروت   - صحیح  بخاری  ( حدیث جبریل ) :  عبادت کے وقت  خدا کو  دیکھ رہا ہے  وگر نہ  خدا  تو اسے دیکھ  ہی رہا ہے  ۔۔۔۔۔فحشاء  ، منکر ، بغی  : انسان میں تین قوتیں   (1 ) قوت بہیمہ  شہوانیہ  (2 )  قوت وہمیہ  شیطانیہ ( 3  )  قوت غضبیہ  ۔ فحشاء  ( بےحیائی  کی باتیں  جن  میں  منشا  شہوت  وبہیمیت  کی افراط ہو  ۔۔۔۔۔منکر : معروف کی ضد  (  وہ نا معقول  کام جن پر فطرت  سلیمہ  اور  عقل  صحیح  انکار  کرے  گویا  قوت وہمیہ شیطانیہ  کے   غلو  سے  قوت عقلیہ  دب جائے  )  ۔ بغی : سرکشی  کرکے  حد سے  نکل  جانا ۔ظلم و تعدی  پر کمر بستہ  ہوکر  درندوں  کی طرح  کھانے  پھاڑنے  کو دوڑنا   ۔ دوسروں  کے حق  و مال پر دست  درازی  -  قوت  غضبیہ کا بیجا استعمال ۔(تفسیر  عثمانی )

ــــ قرآن کی جامع  ترین  آیت:امام قرطبی ؒ  نے فرمایا   کہ جس  شخص  کے  گھر  میں اس کی  بلّی  کو  اسکی خوراک  اور   ضروریات   نہ  ملیں  اور جس کے  پنجرے  میں  بند  پرندوں  کی پوری  خبر گیری  نہ  ہوتی  ہو  وہ  کتنی  ہی  عبادت  کرے  محسنین  میں شمار  نہ ہوگا  ۔(معارف القرآن)

ــــ عدل ، انصاف  سے  زیادہ  وسیع   - توازن  و تناسب  نہ کہ  برابری  - کہیں  مساوات اور کہیں  عدم مساوات   ( حقوق  شہریت  بمقابلہ  والدین  اور اولاد  کے حقوق  ، اعلی  درجے  کی خدمات  دینے  والے  اور ادنی  درجے کی خدمات  بمقابلہ   یکساں  مواقع ۔)  ۔۔۔۔۔احسان :   دوسرے  کو اس  کے حق سے کچھ  زیادہ  دینا  اور خود  اپنے  حق  سے  کچھ کم  پر  راضی   ہوجانا۔  عدل اگر  معاشرے  کی اساس ہے  تو  احسان اس کا جمال  وکمال  -  عدل  اگر  معاشرے کو ناگواریوں  اور   تلخیوں  سے   بچاتا ہےتو  احسان  اس میں خوشگوار یاں  اور   شیرینیاں  بھرتا ہے  ۔۔۔۔۔صلۂ رحمی :   شریعت   الٰہی   ہر خاندان  کے خوشحال  افراد  کو اس امر  کا ذمہ   دار  قرار  دیتی  ہے  کہ وہ  اپنے   خاندان   کے لوگوں  کو  بھوکا ننگا  نہ  چھوڑیں  - خاندان  کے خوشحال  افراد  پر پہلا   حق  انکے  اپنے   غریب  رشتہ  داروں   کا ہے   پھر  دوسروں  کا   (  مگردےکر  اکڑ  دکھانا  : جہالت   ، کمینہ پن  اور ذلیل  حرکت )  ۔  متعدد  احادیث   میں  اس کی تصریح  ہے  کہ آدمی  کے اولین  حقدار  اسکے  والدین  ،  بیوی  بچے  بھائی  بہن  اور پھر   وہ جو قریب  تر  ۔۔۔۔۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ   نے ایک  یتیم  بچے  کے چچا  زاد  بھائیوں    کو مجبور  کیا کہ   وہ   اسکی  پرورش   کے  ذمہ  دار  ہوں ۔۔۔۔۔  ایک  اور یتیم  کے  بارے میں حضرت عمر نے کہا کہ اگر اس کا  کوئی  دور کا رشتہ دار بھی ہوتا تو میں اس کی پرورش اس کے ذمہ ڈالتا  ۔۔۔۔۔جس معاشرے  کا ہر  واحدہ(Unit )  اس طرح  اپنے  اپنے  افراد کو سنبھال لے  اس میں  معاشی  حیثیت  سے  کتنی  خوشحالی  اور معاشرتی  حیثیت   سے  کتنی  حلاوت     اور اخلاقی حیثیت سے کتنی پاکیزگی و بلندی پیدا ہو جائے گی۔(تفہیم القرآن)

ــــ اس آیت میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین باتوں سے منع کیا گیا ہے اور یہ چھ الفاظ اس قدر وسیع المعنیٰ ہیں کہ ساری اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ان میں آگیا ہے۔اس لیے بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر قرآن میں کوئی آیت نہ ہوتی تو صرف یہی آیت انسان کی ہدایت کیلئے کافی تھی اور سیدنا عثمان بن مظعون فرماتے ہیں کہ اسی آیت کو سن کر میرے دل میں ایمان راسخ ہوا اور میرے دل میں محمدؐ کی محبت جاگزیں ہوئی۔۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ان اوامر ونواہی پر عمل کیا جائے تو معاشرہ کی اخلاقی ، معاشرتی اور معاشی حالت بہترین بن سکتی ہے۔۔۔۔فحاشی کے کام:۔ فحشاء کے معنی ہر وہ قول یا فعل ہے جو قباحت اور برائی میں حد سے بڑھا ہواہو(مفردات)اور اس لفظ کا اطلاق عوماً ایسے اقوال و افعال پر ہوتاہے جو زنا یا اس جیسی دوسری شہوانی حرکات کے قریب لے جاتے ہوں نیز سب بے حیائی کے کام اور اقوال اس میں شامل ہیں۔ مثلاًبرہنگی،عریانی، لواطت، محرمات نکاح، تہمت تراشی،گالیاں بکنا، پوشیدہ جرائم کی تشہیر، بدکاریوں پر ابھارنے والے افسانے اور ڈرامے اور فلمیں ،عریاں تصاویر ،عورتوں کا بن سنور کر منظر عام پر آنا،مردو زن کا آزادانہ اختلاط ،عورتوں کا سٹیج پر ناچنا اور تھرکنا اور نازو ادا کی نمائش سب کچھ فحشاء کے زمرہ میں آتاہے۔(تیسیر القرآن)

91۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرت موسیٰ ؑ شریعت کے ایک ایک حکم کو پوری جماعت کے سامنے پیش کرتے اور اللہ کو گواہ اور ضامن بنا کر لوگوں سے اس کی پابندی کا عہد لیتے اور لوگ قسم کھا کر اس کی پابندی کا عہد کرتے۔ اس طرح ان کی پوری شریعت کی حیثیت اللہ تعالیٰ اور بنی اسرائیل کے درمیان ایک عہد نامہ کی تھی۔ چناچہ اسی بنا پر تورات کو عہد نامہ کہتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

92۔ ”یہاں خصوصیت کے ساتھ عہد شکنی کی اس بدترین قسم پر ملامت کی گئی ہے جو دنیا میں سب سے بڑھ کر موجب فساد ہوتی ہے اور جسے بڑے بڑے اونچے درجے کے لوگ بھی کار ثواب سمجھ کر کرتے اور اپنی قوم سے داد پاتے ہیں۔ قوموں اور گروہوں کی سیاسی، معاشی اور مذہبی کشمکش میں یہ آئے دن ہوتا رہتا ہے کہ ایک قوم کا لیڈر ایک وقت میں دوسری قوم سے ایک معاہدہ کرتا ہے اور دوسرے وقت میں محض اپنے قومی مفاد کی خاطر یا تو اسے علانیہ توڑ دیتا ہے یا درپردہ اس کی خلاف ورزی کر کے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہ حرکتیں ایسے ایسے لوگ کر گزرتے ہیں جو اپنی ذانی زندگی میں بڑے راستباز ہوتے ہیں۔ اور ان حرکتوں پر صرف یہی نہیں کہ ان کی پوری قوم میں سے ملامت کی کوئی آواز نہیں اٹھتی، بلکہ ہر طرف سے ان کی پیٹھ ٹھونکی جاتی ہے اور اس طرح کی چالبازیوں کو ڈپلومیسی کا کمال سمجھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر متنبہ فرماتا ہے کہ ہر معاہدہ دراصل معاہدہ کرنے والے شخص اور قوم کے اخلاق و دیانت کی آزمائش ہے اور جو لوگ اس آزمائش میں ناکام ہوں گے وہ اللہ کی عدالت میں مؤاخذہ سے نہ بچ سکیں گے۔۔۔۔ یعنی یہ فیصلہ تو قیامت ہی کے روز ہوگا کہ جن اختلافات کی بنا پر تمہارے درمیان کشمکش برپا ہے ان میں برسر حق کون ہے اور برسر باطل کون۔ لیکن بہرحال، خواہ کوئی سراسر حق پر ہی کیوں نہ ہو، اور اس کا حریف بالکل گمراہ اور باطل پرست ہی کیوں نہ ہو، اس کْے لیے یہ کسی طرح جائز نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے حریف کے مقابلہ میں عہد شکنی اور کذب و افترا اور مکر و فریب کے ہتھیار استعمال کرے۔  (تفہیم القرآن)

93۔ یہ پچھلے مضمون کی مزید توضیح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اپنے آپ کو اللہ کا طرفدار سمجھ کر بھلے اور برے ہر طریقے سے اپنے مذہب کو (جسے وہ خدائی مذہب سمجھ رہا ہے) فروغ دینے اور دوسرے مذاہب کو مٹا دینے کی کوشش کرتا ہے، تو اس کی یہ حرکت سراسر اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف ہے۔ (تفہیم القرآن)

94۔ کسی کو دھوکہ دینے کے لئے قسم کھانے میں سلب ایمان کا خطرہ ہے:  اس آیت میں ایک اور عظیم گناہ اور وبال سے بچانے کی ہدایت ہے وہ یہ کہ قسم کھاتے وقت ہی اسے اس قسم کے خلاف کرنے کا ارادہ ہو صرف مخاطب کو فریب دینے کے لئے قسم کھائی جائے تو یہ عام قسم توڑنے سے زیادہ خطرناک گناہ ہے جس کے نتیجہ میں یہ خطرہ ہے کہ ایمان کی دولت ہی سے محروم ہوجائے۔۔۔۔ (معارف القرآن)

95۔ اجر آخرت کے مقابلہ میں دنیا کا کثیر ترین نفع بھی ہر حال میں قلیل ہی ہے، یہ مراد نہیں کہ دنیا کا نفع اگر کثیر ہو رہاہو تو احکام کی خلاف ورزی جائز ہے ،مراد یہ ہے کہ اجر آخرت کو دنیا کے کسی معاوضہ پر بھی ہر گز فروخت نہ کردینا۔۔۔ بِعَهْدِ اللّٰهِ۔ عہد اللہ سے مراد رسول اللہؐ کے ہاتھ پر بیعت ِ ایمانی ہے، جس کے اندر سارے ہی احکامِ شریعت آگئے۔۔۔یعنی ہر گناہ سے کسی نہ کسی طرح کی عہد شکنی اللہ و رسول سے لازم آتی ہے۔(تفسیر ماجدی)

97۔  اس آیت میں مسلم اور کافر دونوں ہی گروہوں کے ان تمام کم نظر اور بےصبر لوگوں کی غلط فہمی دور کی گئی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ سچائی اور دیانت اور پرہیزگاری کی روش اختیار کرنے سے آدمی کی آخرت چاہے بن جاتی ہو مگر اس کی دنیا ضرور بگڑ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا ہے کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے۔ اس صحیح رویہ سے محض آخرت ہی نہیں بنتی، دنیا بھی بنتی ہے۔ جو لوگ حقیقت میں ایماندار اور پاکباز اور معاملہ کے کھرے ہوتے ہیں ان کی دنیوی زندگی بھی بےایمان اور بد عمل لوگوں کے مقابلہ میں صریحا ً بہتر رہتی ہے۔ جو ساکھ اور سچی عزت اپنی بےداغ سیرت کی وجہ سے انہیں نصیب ہوتی ہے وہ دوسروں کو نصیب نہیں ہوتی۔ (تفہیم القرآن)

98 ۔مسائل  متعلقہ   تعوذ(ص: 401 )  زیادہ   غصہ   آئے   تو  اعوذ   باللہ من ۔ (معارف القرآن)


چودھواں رکوع

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿101﴾ قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ ﴿102﴾ وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ ﴿103﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿104﴾ اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ ﴿105﴾ مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ﴿106﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ ﴿107﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ﴿108﴾ لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ﴿109﴾ ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ ۧ ۧ ﴿110ع النحل 16﴾
101. اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں۔ 102. کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لے کر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے۔ 103. اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔ 104. یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے۔ 105. جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں۔ 106. جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو ایسوں پر الله کا غضب ہے۔ اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔ 107. یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 108. یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے۔ اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ 109. کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔ 110. پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا۔ پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بےشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت کرنے والا ہے۔

تفسیر آیات

101۔ (اے مدعی نبوت و رسالت) وَ اِذَا۔۔۔آیۃ۔ مثلاً کسی آیت کے حکم کی تعمیم میں تخصیص پیدا کردیتے ہیں،یا اس کے برعکس تخصیص میں تعمیم، نسخ آیات پر مفصل حاشیہ بقرہ پارہ نمبر 1 میں وماننسخ من آیۃ او ننسھا کے تحت میں گذرچکا ۔ ۔۔ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ۔یعنی یہ تو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ مکلفین و مخاطبین کے اعتبار سے  کون سا حکم کس وقت  مناسب و برمصلحت ہے۔۔۔۔ قَالُـوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ۔یہ بکواس معاندین ِ رسولؐ کی ہوتی تھی ،جب کبھی وہ کوئی ایسا حکم سنتے، جو ان کے خیال میں کسی سابق حکم کے معارض ہوتا تو چٹ یہی کہنے لگتے کہ یہ کیا؟ یہ تو تم اپنے قصد و ارادہ سے ،اور اپنی مصلحت وقت دیکھ کر احکام میں ادل بدل کرتے رہتے ہو۔ گویا تبدیلی کا انتساب ایک انسان کی جانب تو ہوسکتا تھا،لیکن حق تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا کوئی امکان ہی نہ تھا اتنی موٹی سی بات جس طرح ان جاہلین قدیم کی سمجھ نہیں آتی تھی ،بہت سے جاہلین جدید کی بھی سمجھ میں نہیں آرہی ہے، اور یہ لوگ محض ان "ترمیمات "کے وقوع سے نتیجہ یہ نکال رہے ہیں  کہ قرآن خدا کا نہیں ،انسان کا کلام ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ سورة نحل کی یہ آیت مکی دور میں نازل ہوئی ہے، اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے اس دور میں تدریج فی الاحکام کی کوئی مثال پیش نہ آئی تھی۔ اس لیے ہم یہاں ”ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرنے“ کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کے مختلف مقامات پر کبھی ایک مضمون کو ایک مثال سے سمجھایا گیا ہے اور کبھی وہی مضمون سمجھانے کے لیے دوسری مثال سے کام لیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)

102۔۔۔۔ اس کلام کو ایک ایسی روح لے کر آرہی ہے جو بشری کمزوریوں اور نقائص سے پاک ہے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

103۔ اورابن قتیبہ نے ادب الکاتب میں "اعجمی"اور "عجمی"کے درمیان فرق بتایا ہے کہ عجمی تو وہ ہے جو غیر عرب ہو۔خواہ فصیح اللسان ہو،اور اعجمی وہ ہے جو فصاحت پر قادر نہ ہو، خواہ بادیہ عرب ہی کا باشندہ کیوں نہ ہو۔(تفسیر ماجدی)

106۔  یہ آیت ان صحابہ کرام ؓ اجمعین کے بارے نازل ہوئی جن کو مشرکین نے گرفتار کرلیا تھا اور کہا تھا کہ یا وہ کفر اختیار کریں ورنہ قتل کردیئے جائیں گے۔ یہ گرفتار ہونے والے حضرات حضرت عمار اور ان کے والدین یاسر اور سمیہ اور صہیب اور بلال اور خباب ؓ تھے جن میں سے حضرت یاسر اور ان کی زوجہ سمیہ نے کلمہ کفر بولنے سے قطعی انکار کیا حضرت یاسر کو قتل کردیا گیا اور حضرت سمیہ کو دو اونٹوں کے درمیان باندھ کر ان کو دوڑایا گیا جس سے ان کو دو ٹکڑے الگ الگ ہو کر شہید ہوئیں اور یہی دو بزرگ ہیں جن کو اسلام کی خاطر سب سے پہلے شہادت نصیب ہوئی اسی طرح حضرت خباب نے کلمہ کفر بولنے سے قطعی انکار کر کے بڑے اطمینان کے ساتھ قتل کئے جانے کو قبول کیا ان میں سے حضرت عمار نے جان کر خوف سے زبانی اقرار کفر کا کرلیا مگر دل ان کا ایمان پر مطمئن اور جما ہوا تھا جب یہ دشمنوں سے رہائی پاکر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو بڑے رنج وغم کے ساتھ اس واقعہ کا اظہار کیا آنحضرت محمد ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ جب تم یہ کلمہ بول رہے تھے تو تمہارے دل کا کیا حال تھا انہوں نے عرض کیا کہ دل تو ایمان پر مطمئن اور جما ہوا تھا اس پر رسول کریم ﷺ نے ان کو مطمئن کیا کہ تم پر اس کا کوئی وبال نہیں آپ کے اس فیصلہ کی تصدیق میں یہ آیت نازل ہوئی (قرطبی ومظہری)

                 کیا ڈر  ہے  جو ساری خدائی  ہو مخالف                                            کافی  ہے  اگر  ایک خدامیرے  لئے  ہے(معارف القرآن)

107۔ ہدائت و ضلالت کے باب میں سنتِ الٰہی:  انہوں نے اپنی دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہے۔ اور خدا کی پکڑ سے بےپروا ہو کر اپنے آپ کو کفر کے حوالے کردیا۔ اللہ ان لوگوں کے لیے تو اپنی ہدایت کی راہ کھولتا ہے جو ہر حال میں اس کی ہدایت ہی کو اپنا نصب العین بناتے ہیں لیکن ان لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا جو مشکلات سے گھبرا کر کفر ہی کو اپنا ملجا و ماویٰ بنا لیتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

110 -  عرب  طلبا   انگلینڈ میں شراب پی رہے تھے- میں نے پوچھا کیا تم  نے  قرآن  نہیں  پڑھا- کہنے لگے وہ غفور  الرحیم ہے- میں نے کہا کیا اخلاقی   قوانین  ( Moral Laws) میں ہی غفور الرحیم ہے۔ ذرا  تیسری   منزل  سے   چھلانگ لگاؤ یا  زہر   پیو   - کیا   جب  ہم اخلاقی   قوانین  توڑتے  ہیں  تو  وہ  غفور  الرحیم  ہے     ، اور اگر طبعی  قوانین  توڑتے ہیں  تو  وہ  غفور  الرحیم نہیں  رہتا – آزماؤ۔۔۔۔۔" وَإِنِّي لَغَفَّارٌلِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًاثُمَّ اهْتَدَىٰ "( اور بیشک  میں غفار  ہو ں اس کیلئے  جس نے  توبہ  کی ،  ایمان لایا ، صالح عمل کئے  اور سیدھے  راستے  پر  چلا ۔(انوار القرآن)

۔ اشارہ ہے مہاجرینِ حبشہ کی طرف۔  (تفہیم القرآن)


پندرہواں رکوع

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ﴿111﴾ وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ ﴿112﴾ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ ﴿113﴾ فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ ﴿114﴾ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿115﴾ وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ ﴿116﴾ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿117﴾ وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ ﴿118﴾ ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ ۧ ۧ ﴿119ع النحل 16﴾
111. جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا۔ 112. اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا۔ 113. اور ان کے پاس ان ہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے۔ 114. پس خدا نے جو تم کو حلال طیّب رزق دیا ہے اسے کھاؤ۔ اور الله کی نعمتوں کا شکر کرو۔ اگر اسی کی عبادت کرتے ہو۔ 115. اس نے تم پر مُردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 116. اور یوں ہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں ہوگا۔ 117. (جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اس کے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا۔ 118. اور چیزیں ہم تم سے پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔ 119. پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا۔ پھر اس کے بعد توبہ کی اور نیکوکار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور ان پر رحمت کرنے والا ہے۔

تفسیر آیات

112۔ یہ اشارہ سبا کی طرف ہے۔ اہل سبا کو امن اور چین کی زندگی حاصل تھی۔ سرسبز و شاداب باغوں کی قطاریں تھیں  لیکن انہوں نے رب کی نعمتوں کی ناقدری کی تو اللہ کے عذاب نے ان کو آ دبوچا۔خانہ کعبہ کے مرکز کی بدولت مکہ بھی امن و امان کا شہر تھا۔اہل مکہ کو امن و اطمینان کی زندگی حاصل تھی لیکن انہوں نے مشرکانہ بدعات کو اختیار کرلیا۔ان کو اہل سبا کے انجام سے سبق سیکھنے کو کہا ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ــ  بندوں کی ناشکری بھی بڑا جرم ہے چہ جائیکہ انسان اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرے۔یہ توبدرجہا زیادہ بڑا جرم ہے۔بندوں کی ناشکری اور اس کی سزا کی مثال ایک حدیث میں بیان کی گئی ہے۔رسول اللہؐ  نے فرمایا :"مجھے دوزخ دکھلائی گئی،پس(میں نے دیکھا کہ)اس میں اکثریت عورتوں کی تھی جو کفر(ناشکری)کیا کرتی تھیں۔"عرض کیا گیا:کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟آپؐ نے فرمایا:"وہ اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہیں،اور (وہ شوہر)ان کے ساتھ جو احسان اور نیک برتاؤ کرتے ہیں اس کی بھی ناشکری کرتی ہیں ۔ اگر تو کسی عورت کے ساتھ ایک زمانے تک احسان کرتارہےپھر وہ تجھ میں ذراسی بھی کوئی ایسی بات دیکھے (جس کو وہ پسند نہ کرتی ہو)تو کہنے لگتی ہے: میں نے تجھ سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پائی۔"(صحیح بخاری،الایمان،باب:21۔حدیث 29)(احسن الکلام)

ــ مکہ میں بھوک کا عذاب:۔اس آیت میں اگرچہ اس بستی کا نام نہیں لیا گیا تاہم اندازِ بیان سے صاف پتہ چل رہاہےکہ روئے سخن مکہ ہی کی طرف ہے۔مکہ کے لوگ اس وقت بھی امن و چین کی زندگی گزاررہے تھےجبکہ عرب بھرمیں ہر طرف لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم رہتاتھا۔بیت اللہ شریف کی تولیت کی وجہ سے لوگ قریش مکہ کا ادب و احترام کرتے تھے۔ان کے تجارتی قافلے پر کسی کو حملہ آور ہونے کی جرائت نہ ہوتی تھی ۔بلکہ جس تجارتی قافلے کو یہ قریش مکہ پروانہ راہداری دے دیتے ۔وہ بھی امن و عافیت کے ساتھ سفر کرسکتے تھے۔پھر سیدنا ابراہیمؑ کی دعا کی وجہ سے اطراف عالم سے اشیاء خوردنی اور پھل وغیرہ بھی مکہ پہنچ جاتے تھے اگرچہ وہاں نہ کوئی پھلدار درخت پیدا ہوتا تھا اور نہ کوئی غلہ وغیرہ حتیٰ کہ مویشیوں کیلئے گھاس پات تک بھی پیدا نہ ہوتاتھا۔پھر جب ان میں رسول اللہؐ مبعوث ہوئے اور آپؐ نے انہیں شرکیہ افعال ترک کرنے اور اکیلے اللہ کی پرستش کرنے کی دعوت دی تو وہ بگڑ بیٹھے۔اور پیغمبر اسلام اور آپؐ کے ماننے والوں کو دکھ دینا شروع کردئیے اور ان کے جانی دشمن بن گئے ۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی نعمتیں چھین لیں اور ان پر قحط کا عذاب مسلط کردیااور یہ قحط سات سال تک ان پر مسلط رہا باہر سے کوئی چیز کھانےکیلئے نہ آتی تھی ۔ پھر ان لوگوں کا یہ حال ہوگیا کہ مردہ جانوروں کے چمڑے اور ہڈیاں تک کھانے پر مجبور ہوگئے اور جسمانی کمزوری اور بھوک کی شدت کا یہ حال تھا کہ اگر آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے تو انہیں دھواں ہی دھواں نظر آتاحالانکہ مطلع بالکل صاف ہوتاتھا۔بھوک کی وجہ سے کچھ لوگ تو مرگئے اور جو باقی تھے انہیں بھی ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتاتھا کہ اگر کچھ عرصہ یہی حالت رہی تو ان کا زندہ رہنا مشکل نظر آتا ہے ۔گویا عذاب صرف بھوک کا نہ تھا بلکہ بھوک کی وجہ سے مرجانے کا خوف بھی مسلط رہتاتھا۔(تیسیر القرآن)

113۔ یہاں جس بستی کی مثال پیش کی گئی ہے اس کی کوئی نشان دہی نہیں کی گئی۔ نہ مفسرین یہ تعین کرسکے ہیں کہ یہ کونسی بستی ہے۔ بظاہر ابن عباس ؓ ہی کا یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ یہاں خود مکہ کا نام لیے بغیر مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس صورت میں خوف اور بھوک کی جس مصیبت کے چھا جانے کا یہاں ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد وہ قحط ہوگا جو نبی ﷺ کی بعثت کے بعد ایک مدت تک اہل مکہ پر مسلط رہا۔ (تفہیم القرآن)


سولہواں رکوع

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ ﴿120﴾ شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﴿121﴾ وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ ﴿122﴾ ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ ﴿123﴾ اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ ﴿124﴾ اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّْ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ ﴿125﴾ وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ ﴿126﴾ وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ ﴿127﴾ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿128ع النحل 16﴾
120. بےشک ابراہیم (لوگوں کے) امام اور خدْا کے فرمانبردار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ 121. اس کی نعمتوں کے شکرگزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا۔ 122. اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی۔ اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے۔ 123. پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ 124. ہفتے کا دن تو ان ہی لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ 125. (اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے۔ 126. اور اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی۔ اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہت اچھا ہے۔ 127. اور صبر ہی کرو اور تمہارا صبر بھی خدا ہی کی مدد سے ہے اور ان کے بارے میں غم نہ کرو اور جو یہ بداندیشی کرتے ہیں اس سے تنگدل نہ ہو۔ 128. کچھ شک نہیں کہ جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکوکار ہیں خدا ان کا مددگار ہے۔

تفسیر آیات

124۔ یہ اختلاف خواہ آپس کے ہوں ،یا ان کےپیمبروں کی ہدایات سے۔آیت کے مفہوم میں اس خاکسار مؤلف کو شرح صدر نہ ہوسکا،بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ یہاں پر اشارہ ان سخت شرائط کی جانب ہے جو احکامِ سبت کے سلسلہ میں یہود پر عائد کئے گئے تھے،ان ہی کی نافرمانیوں اور اپنے پیمبروں سے مخالفت کی بناپر اوپر ذکر دین ابراہیمیؑ کا ہے،اس پر سختیاں کچھ نہ تھیں، مقصود شاید یہاں  متنبہ کرنا ہے کہ ان کی شرارتوں کا وبال ان پر ہورہاہے۔۔۔یوم السبت کے احکام اور یہودیوں کی طرف سے ان احکام کی خلاف ورزی کا ذکر عہد عتیق کے مختلف حصوں میں کثرت سے ہے۔۔۔ لَیَحْكُمُ۔اس فیصلہ سے فیصلۂ عملی و مشاہدی یعنی ترتُّب ِ اجر و عذاب مراد ہے، ورنہ دلائل و شواہد کے لحاظ سے تو فیصلہ آج بھی موجود ہے۔(تفسیر ماجدی)

ـــ ہفتہ کی چھٹی یہود کے اصرار پر مقرر کی گئی:۔  سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایاکہ"ہم پیچھے آئے ہیں مگر قیامت کے دن پہلے ہوں گے ۔فرق صرف یہ ہے کہ اہل کتاب کو کتاب پہلے ملی اورہمیں بعد میں ملی۔پس وہ دن جو اللہ نے ان پر فرض کیا تھا اس میں انہوں نے اختلاف کیا ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ دن بتادیا کہ وہ ہمارے پیچھے ر ہ گئے یہود تو ایک دن پیچھے رہے اور نصاریٰ اس کے بعد مزید ایک دن"(جمعہ،ہفتہ اتوار)(تیسیر القرآن)

۔۔۔ یہ یہود کے ایک اعتراض کا جواب ہے یہود نبی اور مسلمانوں پر ایک اعتراض یہ بھی کرتے تھے کہ یہ لوگ سبت کا احترام نہیں کرتے۔ قرآن نے اس کا یہ جواب دیا کہ سبت کا احترام ملت ابراہیم کا کوئی جزو نہیں ہے بلکہ سبت یہود کے لیے مشروع ہوا تھا اور انہوں نے بھی اس کے باب میں اختلاف پیدا کرکے اس کی حرمت برباد کردی۔۔۔۔ (تدبرِقرآن)

125۔ اوپر کی آیتوں میں مخاطبین کو آگاہ کرنا تھا کہ یہ پیغمبر اصل ملت ابراہیمی لے کر آئے ہیں، اگر کامیابی چاہتے ہو اور " حنیف " ہونے کے دعوے میں سچے ہو تو اس راستہ پر چل پڑو۔ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ الخ سے خود پیغمبر ﷺ کو تعلیم دی جا رہی ہے کہ لوگوں کو راستہ پر کس طرح لانا چاہیے، اس کے تین طریقے بتلائے۔ حکمت، موعظت حسنہ، جدال بالتی ہی احسن " حکمت " سے مراد یہ ہے کہ نہایت پختہ اور اٹل مضامین مضبوط دلائل وبراہین کی روشنی میں حکیمانہ انداز سے پیش کیے جائیں۔ جن کو سن کر فہم و ادراک اور علمی ذوق رکھنے والا طبقہ گردن جھکا سکے۔ دنیا کے خیالی فلسفے ان کے سامنے ماند پڑجائیں اور کسی قسم کی علمی و دماغی ترقیات وحی الٰہی کی بیان کردہ حقائق کا ایک شوشہ تبدیل نہ کرسکیں۔ "موعظت حسنہ " موثر اور رقت انگیز نصیحتوں سے عبارت ہے جن میں نرم خوئی اور دلسوزی کی روح بھری ہو۔ اخلاص، ہمدردی اور شفقت و حسن اخلاق سے خوبصورت اور معتدل پیرایہ میں جو نصیحت کی جاتی ہے، بسا اوقات پتھر کے دل بھی موم ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔ وَجَادِلْہُمْ بالَّتِیْ ھیَ اَحْسَنُ فرما دیا کہ اگر ایسا موقع پیش آئے تو بہترین طریقہ سے تہذیب، شائستگی، حق شناسی اور انصاف کے ساتھ بحث کرو۔ اپنے حریف مقابل کو الزام دو تو بہترین اسلوب سے دو ، خواہ مخواہی دل آزار اور جگر خراش باتیں مت کرو۔ جن سے قضیہ بڑھے اور معاملہ طول کھینچے، مقصود تفہیم اور احقاق حق ہونا چاہیے۔ خشونت، بداخلاقی، سخن پروری اور ہٹ دھرمی سے کچھ نتیجہ نہیں۔ (تفسیر عثمانی)

ــــ 419 تا  431  - امام مالک ؒ  نے فرمایا  کہ علم میں  جھگڑا  اور جدال  نور علم کو  انسان  کے قلب سے  نکال  دیتا ہے ۔(معارف القرآن)

۔امام غزالی نے فرمایا کہ جس طرح شراب ام الخبائث ہے کہ خود بھی بڑا گناہ ہے اور دوسرے بڑے بڑے جسمانی گناہوں کا ذریعہ بھی ہے اسی طرح بحث و مباحثہ میں جب مقصود مخاطب پر غلبہ پانا اور اپنا علمی تفوق لوگوں پر ظاہر کرنا ہو جائے تو وہ بھی باطن کے لیے ام الخبائث ہے۔۔۔۔۔ (معارف القرآن)

ــــ   کاش  یہ بات  ہمارے  مبلغین  کو معلوم  ہوجائے  کہ  گفتگو کے  دوران  دوسروں  پر  چھا جانا  کوئی  خوبی نہیں  ۔  بعض  دفعہ  پیچھے  ہٹ  جانا   اور  دب جانا  بھی  خوبی   ہوتا ہے ۔(انوار القرآن)

ــ تبلیغ کیلئے داعی کو تین ہدایات:۔یہاں سے خطاب رسول اللہؐ کی طرف ہے۔اور اس آیت میں تبلیغ دین کے متعلق تین ہدایات دی گئی ہیں۔پہلی ہدایت حکمت ہے"حکمت"کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو موقع محل دیکھ کر دعوت دی جائے۔یعنی اس وقت دعوت دی جائے جب مخاطب کے دل میں سننے کی خواہش ہو اوروہ سننے کو تیار ہو اور دوسرے جوبات کہی جائے وہ مخاطب کے عقل و فہم کو ملحوظ رکھ کرکی جائے۔عمدہ نصیحت سےمراد یہ ہے کہ جو بات  آپ کہیں میٹھے اور دلنشیں انداز میں کہیں جو مخاطب کے دل میں اترجائے ۔عقلی دلیل کے ساتھ ترغیب و ترہیب اور جذبات کو اپیل کرنے والی باتوں کی طرف بھی توجہ دلائیں آپ کے دل میں اس کیلئے تڑپ ہونی چاہیے ۔حتیٰ کہ مخاطب یہ سمجھے کہ آپ فی الواقع اس کے ہمدرد ہیں۔ایسا نہ ہونا چاہئے کہ آپ مخاطب پر اپنی علمی برتری جتلانے اور اسے مرعوب کرنے کی کوشش کرنے لگیں ۔اور تیسری بات یہ ہے کہ اگر آپس میں دلائل سےبات کرنے کی نوبت آئے تو اس کی بات غورسے سنیں اوراپنی دلیل بھی شائستہ زبان میں پیش کریں اور اس کا مقصد افہام و تفہیم ہو۔ایک دوسرے کو  مات کرنا مقصود نہ ہو۔اور اگر کج بحثی تک نوبت پہنچ جائے تو پھر بحث کو بند کردیں ۔(تیسیر القرآن)

126۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ ہدایات اس دور سے متعلق ہیں جب مسلمان افراد کی صورت میں اپنے مخالفوں کے اندر گھرے ہوئے اور ان کی چیرہ دستیوں کے شکار تھے۔ اس کا تعلق اس دور سے نہیں جب مسلمانوں کی باقاعدہ منظم حکومت قائم ہوگئی۔ ایک باقاعدہ منظم اسلامی حکومت کے حدود کار اور اس کے اختیارات اس سے مختلف ہیں۔ ان کی تفصیل پچھلی سورتوں خاص طور پر سورة انفال اور براءت میں گزر چکی ہے اور آگے مدنی سورتوں میں ان کی مزید تفصیل آئے گی۔ (تدبرِ قرآن)

128۔۔۔۔ جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیت مدنی ہے غزوہ احد میں ستر صحابہ کی شہادت اور حضرت حمزہ ؓ کو قتل کر کے مثلہ کرنے کے واقعہ میں نازل ہوئی صحیح بخاری کی روایت اسی کے مطابق ہے۔۔۔۔۔۔آپ نے فرمایا کہ میں حمزہ کے بدلے میں مشرکین کے ستر آدمیوں کا اسی طرح مثلہ کروں گا جیسا انہوں نے حمزہ کو کیا ہے۔۔۔۔۔۔اس میں چونکہ رسول کریم ﷺ نے فرط غم میں بلا لحاظ تعداد ان صحابہ کے بدلے میں ستر مشرکین کے مثلہ کرنے کا عزم فرمایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اب ہم صبر ہی کریں گے کسی ایک سے بھی بدلہ نہیں لیں گے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔آخری آیت میں پھر ایک عام قاعدہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد حاصل ہونے کے کا یہ بتلادیا ۔۔۔۔۔۔ جس کو اللہ تعالیٰ کی معیت (نصرت) حاصل ہو اس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔ (معارف القرآن)

اللہ کے فضل سے تیسری منزل  اختتام پذیر ہوئی