17 - سورة بنی اسرائیل (مکیہ)
| رکوع - 12 | آیات - 111 |
مضمون: نبی ؐ مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ ،دونوں کےانوار وبرکات کے محافظ و امین ہیں اور قرآن مجید فطرت کی سیدھی راہ کی طرف رہنمائی دینے والی کتاب ہے۔ ان کی مخالفت کرنے والے اپنے انجام بد سے نہیں بچ پائیں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
نام: بنی اسرائیل ۔اسراء (پہلی آیت)
۔ یہ سورۃ، سابق سورۃ، سورۃ نحل کی، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں، توام سورۃ ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے، صرف تفصیل و اجمال کا فرق ہے۔ پچھلی سورۃ میں جو باتیں اشارات کی شکل میں ہیں وہ اس سورۃ میں نہایت واضح صورت میں آگئی ہیں۔۔ ۔۔۔اس سورۃ میں تفصیل کے ساتھ ان کو مخاطب کرکے، ان کی اپنی تاریخ کی روشنی میں، یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اگر تم اس غرے میں مبتلا ہو کہ تم خدا کے محبوب اور چہیتے ہو تو یہ غرہ محض خود فریبی پر مبنی ہے۔۔۔۔جب جب تم نے خدا سے بغاوت کی ہے تم پر مار بھی بڑی ہی سخت پڑی ہے۔ ۔۔۔۔ قرآن جس فطری اور سیدھے طریقہ زندگی کی دعوت دے رہا ہے، پچھلی سورۃ میں صرف اس کی اساسات کی طرف اجمالی اشارہ تھا۔ اوامر میں عدل، احسان اور قرابت مندوں کے حقوق کی ادائی کا حوالہ تھا اور منہیات میں فحشاء، منکر اور بغی کا، اس سورۃ میں اس کی پوری تفصیل آگئی ہے۔ اس تفصیل سے تورات کے احکام عشرہ کے ساتھ اس کی مطابقت واضح ہوتی ہے۔۔۔۔ہجرت کا ذکر بھی ہے لیکن اشارے کی شکل میں ہے۔ اس سورۃ میں اس کا ذکر نہایت واضح طور پر ہوا ہے اور اس کے لیے جن تیاریوں کی ضرورت ہے۔ ان کی ہدایت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کو ایسے انداز میں دی گئی ہے جس سے یہ نمایاں ہورہا ہے کہ اس کا وقت بہت قریب ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ سورۃ ہجرت کے قریب زمانہ میں نازل ہوئی۔ (تدبرِ قرآن)
شانِ نزول:۔سورۂ یونس تاسورۂ بنی اسرائیل آٹھ سورتیں زیر مطالعہ ہیں جو حضورؐ کی مکی زندگی کے آخری دور (11 تا 13 سنِ نبوی)میں ہجرت ِ مدینہ سے قبل نازل ہوئیں سورۂ بنی اسرائیل کا نزول سفرِ معراج کے بعد نبوت کے دسویں سال میں ہوا۔مکی دور کی سورتوں میں بنی اسرائیل سے پہلی دفعہ کھلا خطاب۔
- اس سورۂ کی پہلی آیت ہی بتارہی ہے کہ اس کا نزول سفرِ معراج کے بعد ہوا۔اور معراج ہجرت سے ایک سال پہلے نبوت کے دسویں سال ہوئی۔)ضیاء القرآن(
نظمِ کلام:سورۂ یونس۔1+14(سورۂ نورتک)
مرکزی مضمون: تنبیہ ،تفہیم اور تعلیم۔تنبیہ کفار اور ضمناً بنی اسرائیل کو۔تفہیم منکرین کو اور استدلال کے ساتھ انکی جہالتوں پر زجر و توبیخ۔تعلیم میں اسلام کا منشور اعظم (ایک ایسا خاکہ جس پر حضورؐ اپنے ملک اور پوری انسانیت کی زندگیوں کی تعمیر کرنا چاہتے تھے۔)روایا ت سے معلوم ہوتاہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پنج وقتہ نماز پابندی اوقات کے ساتھ فرض کی گئ۔ (تفہیم القرآن)
- عام مضامین کے لحاظ سے اس سورۂ کو ان سورتوں سے گہری مناسبت ہے جو مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئیں۔لیکن دوچیزیں یہاں ایسی موجود ہیں جو دیگر سورتوں میں نظر نہیں آتیں ۔ذکر اسراء کے فوراً بعد بنی اسرائیل کو خطاب فرمایا گیا۔۔۔یہ آیات جو مکہ میں نازل ہوئیں جہاں بنی اسرائیل کا کوئی فرد اقامت پذیر نہ تھا ان میں بنی اسرائیل کوخطاب اور ان کو اصلاح احوال کی دعوت بتارہی ہے کہ مستقبل قریب میں انہیں دعوتِ قرآن کا مخاطب بنایا جانے والا ہے۔نیز اس کے رکوع نمبر2،3 میں اس نظامِ حیات کی تفصیل بیان کردی گئی ہیں جو اسلام ، اقوام ِ عالم کے سامنے پیش کرنا چاہتاہے۔۔۔نیز وہاں اسلام کی پہلی حکومت قائم ہوئی جس میں قرآن کے لائے ہوئے لائحہ عمل اور نظامِ حیات پر عمل کیا گیا۔۔۔لیکن سورۂ کے اس مختصر تعارف میں میں قرآن کا مطالعہ کرنے والے کی توجہ آیات 61 تا 65 کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں۔۔۔ان آیات میں انسان کو مسجود ملائکہ بنانے کے شرف سے مشرف فرمانے کے بعد شیطان کے ایک چیلنج کا ذکر ہے۔ ابلیس کہتاہے کہ یہ آدم خاکی جس کے سر پر تُونے تاجِ کرامت رکھا ہے۔اگر تونے مجھے مہلت دی تو (لاحتنکنّ ذرِّیتہ)میں اس کی اولاد سے یہ تاجِ کرامت چھین لونگا بلکہ اس کو ایسی پٹی پڑھاؤں گا کہ وہ شرفِ انسانیت کی خلعتِ فاخرہ کو خود اتار پھینکے گا۔جلالِ کبریائی اُس لعین کے اس چیلنج کو قبول کرتاہے اور اُسے صاف صاف بتادیا کہ وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ الایۃ تجھے کُھلی چھٹی ہے۔ ان کو گمراہ کرنے کا جو ذریعہ تو اختیار کر۔تجھے اجازت ہے۔۔۔۔۔میرے بندوں پر تیراقابو نہیں چل سکتا۔(ضیاء القرآن(
ترتیبِ مطالعہ:(i)ر۔1/2 (واقعۂ معراج ،تاریخ بنی اسرائیل سے شہادت،اور اعمال کے نتائج کی بنیاد نیت) (ii) ر۔3/ 4 : (اسلام کا منشورِ اعظم )۔ تورات کے احکام عشرہ (iii)ر۔5/6 (کفار کی قرآن سے بیزاری کا اصل سبب اور عذاب سے متعلق سنتِ الٰہی)(iv)ر۔7تا9 (کفار کا تکبر ۔حضور ؐ کو حق پر جمے رہنے کی تاکید ) (v) ر۔10 تا 12 (مخالفین کے اعتراضات کا جواب)۔
پہلا رکوع |
| پارہ:15 پہلا رکوع: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ﴿1﴾ وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ ﴿2﴾ ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا ﴿3﴾ وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا ﴿4﴾ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا ﴿5﴾ ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا ﴿6﴾ اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا ﴿7﴾ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا ﴿8﴾ اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ ﴿9﴾ وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ ۧ ۧ ﴿10ع الإسراء 17﴾ |
| 1. وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔ 2. اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما مقرر کیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہرانا۔ 3. اے اُن لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا۔ بےشک نوح (ہمارے) شکرگزار بندے تھے۔ 4. اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے۔ 5. پس جب پہلے (وعدے) کا وقت آیا تو ہم نے سخت لڑائی لڑنے والے بندے تم پر مسلط کردیئے اور وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔ اور وہ وعدہ پورا ہو کر رہا۔ 6. پھر ہم نے دوسری بات تم کو اُن پر غلبہ دیا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کی۔ اور تم کو جماعت کثیر بنا دیا۔ 7. اگر تم نیکوکاری کرو گے تو اپنی جانوں کے لئے کرو گے۔ اور اگر اعمال بد کرو گے تو (اُن کا) وبال بھی تمہاری ہی جانوں پر ہوگا پھر جب دوسرے (وعدے) کا وقت آیا (تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے) تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد (بیت المقدس) میں داخل ہوگئے تھے اسی طرح پھر اس میں داخل ہوجائیں اور جس چیز پر غلبہ پائیں اُسے تباہ کردیں۔ 8. امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم کرے، اور اگر تم پھر وہی (حرکتیں) کرو گے تو ہم بھی (وہی پہلا سلوک) کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ 9. یہ قرآن وہ رستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لئے اجر عظیم ہے۔ 10. اور یہ بھی (بتاتا ہے) کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ |
تفسیر آیات
1۔تسبیح کا لفظ لایا ہی ایسے موقع پر جاتاہے جہاں کسی امر اہم و عظیم کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہو۔ اور لفظ سبحٰن بجز اللہ تعالیٰ کے اور کسی کے حق میں استعمال نہیں ہوتا۔۔۔اور سُبْحٰنَ اصلاًمصدر ہےغفران کے وزن پر اور اسے تسبیح سے اسم علم میں لیا گیاہے۔۔۔لفظ لَیْلًا نکرہ لانے سے اشارہ اس حقیقت کی طرف ہوگیاکہ اتنا بڑا سفر جو عادۃً کئی ہفتہ میں یا 40 دن میں طے پاتاتھا،فوق العادۃ طورپر رات کی چند گھڑیوں کے اندر انجام پا گیا۔۔۔محققین نے کہاہے کہ رسول اللہ ؐ کیلئےاگرکوئی لقب عبد سے زیادہ تعظیمی ہوتاتو اس موقع پر ضرور ہی لایا جاتا۔۔۔عبد کی اضافت ہ کے ساتھ عبد کے اظہار شرف و تکریم کیلئے ہے۔۔۔ الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ۔یعنی ملک شام ۔بٰرکنا کے تحت میں مادی و روحانی ہرقسم کی برکتیں آگئیں۔ملک کی سرسبزی و شادابی ،سرزمین سے (بہ زبان توریت)دودھ اور شہد کی نہروں کا ابلنا ،برکت مادی کی مثال ہوئی،اور انبیاء کرام کا کثرت سے اسی سرزمین سے اٹھنا اور اسی کی خاک میں مدفون ہونا، روحانی برکتوں کو واضح کررہاہے۔۔۔ لِنُرِیَهٗ۔اوپرسے صیغۂ غائب چلا آرہاتھا،اب صیغۂ متکلم کی طرف انتقال ہوگیا،عربی ادب و انشاء میں اس کو صنعت التفات کہتے ہیں ۔اس کا استعمال کلام عرب اور خود قرآن مجید میں بھی عام ہے اس کا ذکر ان حواشی میں پہلے بھی آچکاہے۔انتقالِ صیغہ برکات و آیات کے اظہار عظمت وتکریم کیلئے ہے۔۔۔ مِنْ اٰیٰتِنَا۔یہ عجائبات جو کچھ بھی تھے ان کی حیثیت محض آیات الٰہی ہی کی تھی جن سے معرفت و حکمت کے بڑے بڑے سبق ملتے ہیں،تفریح و تماشہ کی نہ تھی۔۔۔ السَّمِیْعُ۔سمیع جب اسماء الٰہی میں آتاہے تو اس سے مراد ایسے سننے والے سے ہوتی ہے جس سے باریک ترین آواز بھی غیر مسموع نہیں رہ سکتی اور جو بغیر کسی آلہ یا عضو کے سنتاہے اور سمیع صیغہ مبالغہ کا ہے۔)تفسیر ماجدی(
۔ مولانا نے واقعہ معراج پر تفصیلی بحث کی ہے اور یہ عنوانات باندھےہیں: (i)معراج کا واقعۂ خواب نہیں تھا۔(ii)معراج جسمانی طورپر ہوئی۔(iii)واقعہ معراج کے عقلی دلائل ۔ ان عنوانات کے علاوہ یہ بھی لکھا کہ معراج کے واقعہ کی تقریباً 30 احادیث ہیں۔علماء کی اصطلاح میں مکہ سے بیت المقدس تک کے سفر کو اسرا اور وہاں سے سدرۃ المنتہیٰ کو معراج کہتے ہیں (تفسیر عثمانی)۔۔۔ حج کے دوران میرا مشاہدہ اور میرے گائیڈکی وضاحت: باب عبدالعزیز اور مطاف کے درمیان ایک منفرد ستون ہے جسے آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ اس ستون کے ساتھ براق کو باندھا گیا۔اسی طرح مطاف کی براؤن پٹیاں ہیں جو بیت اللہ کے مختلف ادوار کی تعمیرات کو ظاہر کرتی ہیں۔حج پر جانے والوں کو ان تاریخی معلومات کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔(مرتب)
- بعثتِ نبویؐ کے دسویں سال مہربان و چچا نے وفات پائی۔اس جانکاہ صدمہ کا زخم ابھی مندمل نہ ہونے پایا تھا کہ مونس و ہمدم دانش ور عالی حوصلہ رفیقۂ حیات حضرت خدیجہؓ بھی داغ مفارقت دے گئیں۔کفارِ مکہ کو اب ان کی انسانیت سوز کارستانیوں سے روکنے والا اور ان کے سفاکانہ روش پر ملامت کرنے والا بھی کوئی نہ رہا جس کے باعث ان کی ایذا رسانیاں ناقابل برداشت حدتک بڑھ گئیں۔حضورؐ اہل مکہ سے مایوس ہوکر طائف تشریف لے گئے۔۔۔ان حالات میں جب بظاہر ہر طرف مایوسی کا اندھیرا پھیل چکا تھا اور ظاہری سہارے ٹوٹ چکے تھے۔ رحمت الٰہی نے اپنی عظمت و کبریائی کی آیات بینات کا مشاہدہ کرانے کیلئے اپنے محبوب کو عالمِ بالا کی سیاحت کیلئے بلایاتاکہ حضورؐ کو اپنے رب کریم کی تائید و نصرت پر حق الیقین ہوجائے اور حالات کی ظاہری ناسازگاری خاطر عاطر کو کسی طرح پریشان نہ کرسکے۔غور کیا جائے تو سفر اسریٰ کیلئے اس سے موزوں ترین اورکوئی وقت نہیں ہوسکتا۔)ضیاء القرآن(
واقعہ معراج کے جسمانی دلائل:۔ یہ واقعہ ہجرت نبوی سے تقریباً ایک سال پہلے پیش آیاتھا۔اس واقعہ کے دوحصے ہیں۔مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کو"اسراء"کہا جاتاہے اور قرآن میں صرف واقعہ اسراء کا ہی ذکر ہے۔دوسرا حصہ مسجد اقصیٰ سے آسمانوں کی سیاحت اور واپسی ہے اسے "معراج"کہا جاتاہے اور واقعہ معراج بہت سی احادیث میں مذکور ہے حتیٰ کہ واقعہ کے راوی صحابہ کی تعداد پچیس سے زائد ہی ہے کم نہیں۔جمہور امت کا قول یہ ہے کہ یہ سفر جسمانی تھا۔محض روحانی(جیسے خواب میں ہوتاہے)یا کشفی قسم کا نہ تھا۔تاہم بعض لوگ اسے روحانی بھی سمجھتے ہیں اور منکرین حدیث تو واقعہ معراج کا انکار ہی کردیتے ہیں اور واقعہ اسراء چونکہ قرآن میں مذکور ہے۔اس لیے اس کی غلط سلط تاویل کرلیتےہیں۔)تیسیر القرآن(
۔ واقعہ معراج ایک مدلل نوٹ۔ ص 588 تا ص 590 (تفہیم القرآن)
۔ اسرا کے معنی شب میں سفر کے ہیں۔لیلاً کی قید سے اس بات کو مؤکد کرنا مقصود ہے کہ یہ واقعہ شب ہی میں پیش آیا۔ عبدہٖ کالفظ حضورؐ سے غایت درجہ کی محبت اختصاص اور ساری خدائی سے تمیز۔دوسرے یہ کہ اتنے بڑے واقعہ کے بعد کوئی حضرت عیسیٰ کی طرح خدانہ بنالے۔(تدبر قرآن)
- بعثتِ نبویؐ کے دسویں سال مہربان و شفیق چچانے وفات پائی،فوراً بعد رفیقۂ حیات حضرت خدیجہؓ بھی فوت ہوگئیں(عام الحزن)۔اہل مکہ سے مایوس ہوکر طائف گئے اور وہاں سے بھی ناکام ۔اس غمگین اور حوصلہ شکن ماحول میں، اپنے بندے کو شرف بازیابی۔۔۔۔۔۔ــــ سرسید اور اسی فکر کے دیگر مغرب زدگان کا ا بطال:۔ اسریٰ: رات کو سیر کرانے کو کہتے ہیں ۔لیلاً پر تنوین تقلیل کی ہے کہ یہ سفر رات کے وقت ہوا۔لیکن اس سفر میں ساری رات ختم نہیں ہوئی بلکہ رات کے ایک قلیل حصہ میں بڑے اطمینان اور عافیت سے طے پایا۔اسریٰ کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے ۔حضورؐ کا ذکر بعبدہٖ کے لفظ سے فرمایا گیا۔جس کی متعدد حکمتیں ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ حضورؐ کی بے مثل رفعت شان اور علو مرتبت کو دیکھ کر امت کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجائے۔۔۔اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا بم اشرفک یامحمد اے سراپا حمد و ستائش ! آج میں تجھےکس لقب سے سرفراز کروں تو حضورؐ نے جواباً عرض کی بنسبتی الیک بالعبودیہ۔مجھے اپنا بندہ کہنے کی نسبت سے مشرف فرما۔۔۔کیا معراج کا انکار کرکے آپ نے کسی کو حلقہ بگوش اسلام بنالیا ہے۔کیا آپ کی معذرت خواہی کو انہوں نے قبول کرکے آپ کے پیش کردہ ماڈرن اسلام پر اظہار ناراضگی چھوڑدیا ہے ۔۔۔جومعراج اور دیگر معجزات کا اس لیے انکارکرتے ہیں کہ یہ خلافِ عقل ہیں۔کسی ایسے امر کا ظہور پذیر ہونا جو عادت کے خلاف ہواسے معجزہ کہتے ہیں۔یہ تعریف نہیں کی گئی کہ معجزہ وہ ہے جو قانون ِ فطرت اور نوامیس ِ قدرت کے خلاف ہو۔یہ دعویٰ کرنا کہ فطرت کے تمام قوانین بے نقاب ہوچکے ہیں اور ذہن انسانی نے ان کااحاطہ کرلیا ہے انتہائی مضحکہ خیز اور غیر معقول ہے۔ آج تک کسی فلسفی یا سائنسدان نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا۔ نیز قوانین ِ فطرت کے متعلق یہ خیال کرنا کہ وہ اٹل اور غیر متغیر ہیں، یہ بھی ناقابل تسلیم ہے۔۔۔اس کے علاوہ یہ امر بھی غور طلب ہے کہ کیا آپ اللہ تعالیٰ کے وجود کو مانتے ہیں یا نہیں۔۔۔۔۔اس کا اب اپنی پیدا کردہ دنیا میں کوئی عمل دخل نہیں اور وہ اس میں کسی طرح کا تصرف نہیں کرسکتا۔۔۔زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عام معمول یہ ہے کہ وہ علت اور معلول اور سبب و مسبب کے تسلسل کو قائم رکھتا ہے۔اور ظہور معجزہ کے وقت اس نے اپنی قدرت اور حکمت کے پیش نظر خلاف معمول اس تسلسل کو نظر انداز کردیا ہے کیونکہ وہ ایک بااختیار ہستی ہے۔وہ جب چاہے اپنے معمول کو بدل دے ۔۔۔یعنی قوانین فطرت کو ہم عاداتِ خداوندی کہہ سکتے ہیں ۔معجزات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتاہےکہ اللہ تعالیٰ نے کسی حکمت کے پیش نظر خلاف عادت ایسا کیا ہے اور یہ قطعاً ناروانہیں۔ مغربی فلاسفہ میں سے ہیوم نے معجزات پر بحث کی ہے۔۔۔وہ کہتاہے کہ ہمارا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ عالم ایک مخصوص نہج اور متعین انداز کے مطابق چل رہاہے اور معجزات ہمارے تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف روپذیر ہوتے ہیں۔۔۔انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کا مقالہ نگار ہیوم کے اس نظریہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتاہے کہ ہم تمہارا یہ قاعدہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ معجزات تجربہ اور مشاہدہ کے خلاف ہوتے ہیں ۔کیونکہ تجربات سے تمہاری مراد کیا ہے۔۔۔آپ یہ ثابت کرلیں کہ آپ نے تمام تجربات کا احاطہ کرلیا ہے۔۔۔اور اگر آپ یہ کہیں کہ تجربات سے مراد تجربات عامہ ہیں۔ہوسکتاہے کہ یہ معجزہ کسی تجربہ کے مطابق ہو، لیکن وہ تجربہ آپ کے فہم کی رسائی سے ابھی بلندہو۔۔۔سرسید احمد خان نے ایک مفصل مقالہ لکھا ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ معجزہ اس وقت تک معجزہ نہیں ہوسکتا ۔جب تک وہ قوانین قدرت کیخلاف نہ ہو کیونکہ اگر وہ کسی قانونِ قدرت کے مطابق ہوگا تو اس کا ظہور نبی کے علاوہ کس اور شخص سے بھی ہوسکتاہے۔ ان میں کسی قسم کی تبدیلی یا ردّوبدل کا رونما ہونا قطعاً باطل ہے۔۔۔اس لیے ثابت ہوا کہ معجزہ کا وقوع باطل ہے۔آپ نے سید محترم کا استدلال ملاحظہ فرمالیا۔انہوں نے معجزہ کی من گھڑت تعریف کرکے معجزہ کا بطلان کیا ہے۔حالانکہ ہم پہلے بتاآئے ہیں کہ علماء اسلام نے معجزہ کی یہ تعریف نہیں کی کہ وہ قوانین ِ فطرت کیخلاف ہو،بلکہ معجزہ وہ ہے جو خارق عادت ہو۔نیز معجزات کو قوانین فطرت کیخلاف کہنے کا دعویٰ تو تب درست ہوسکتاجب کہ پہلے تمام قوانین ِ فطرت اور سنن الٰہیہ کا احاطہ کرنے کے دعوے کوکوئی ثابت کرلے اور جب تک یہ ثابت نہ ہو اور جو یقیناً ثابت نہیں تو پھر معجزات کو سننِ الٰہیہ کے خلاف ٹھہرانا سراسر لغو ہے۔۔۔۔اس میں ستم رسیدہ اہل اسلام کیلئے بھی ایک مژدہ ہے کہ شبِ غم اب سحر آشنا ہونے والی ہے ۔تمہارا آفتاب ِ اقبال ابھی طلوع ہوا چاہتاہے۔۔۔۔اس کے انعامات کا شکریہ اداکرنے کے بجائے انہوں نے نافرمانی اور ناشکر گزاری کو اپنا شعار بنالیا تو ہم نے ان پر ایسے سنگدل دشمن مسلط کردیے جنہوں نے ان کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ اور ان کے مقدس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔اسی عبرت آموزی کیلئے واقعہ معراج کے بعد بنی اسرائیل کا ذکر فرمایا۔۔۔وکیل اس کارسازِ حقیقی کو کہتے ہیں جس کے سپرد اپنے تمام امور کردئیے جائیں۔)ضیاء القرآن(
- رسول کریم ﷺ نے شاہ روم قیصر کے پاس اپنا نامہ مبارک دے کر حضرت دحیہ ابن خلیفہ کو بھیجا ۔ شاہ روم ہرقل نے نامہ مبارک پڑھنے کے بعد آنحضرت محمد ﷺ کے حالات کی تحقیق کرنے کے لئے عرب کے ان لوگوں کو جمع کیا جو اس وقت ان کے ملک میں بغرض تجارت آئے ہوئے تھے شاہی حکم کے مطابق ابو سفیان ابن حرب اور ان کے رفقاء جو اس وقت مشہور تجارتی قافلہ لے کر شام میں آئے ہوئے تھے وہ حاضر کئے گئے شاہ ہرقل نے ان سے سوالات کئے جن کی تفصیل صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں موجود ہے۔ابو سفیان کہتے ہیں مجھے اس وقت خیال آیا کہ اس کے سامنے واقعہ معراج بیان کروں جس کا جھوٹ ہونا بادشاہ خود سمجھ لے گا تو میں نے کہا کہ میں ان کا ایک معاملہ آپ سے بیان کرتا ہوں جس کے متعلق آپ خود معلوم کرلیں گے کہ وہ جھوٹ ہے ہرقل نے پوچھا وہ کیا واقعہ ہے ابوسفیان نے کہا کہ یہ مدعی نبوت یہ کہتے ہیں کہ وہ ایک رات میں مکہ مکرمہ سے نکلے اور آپ کی اس مسجد بیت المقدس میں پہنچے اور پھر اسی رات میں صبح سے پہلے مکہ مکرمہ میں ہمارے پاس پہنچ گئے۔ ایلیاء (بیت المقدس) کا سب سے بڑا عالم اس وقت شاہ روم ہرقل کے سرہانے پر قریب کھڑا ہوا تھا اس نے یبان کیا کہ میں اس رات سے واقف ہوں شاہ روم اس کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا کہ آپ کو اس کا علم کیسے اور کیونکر ہوا اس نے عرض کیا کہ میری عادت تھی کہ میں رات کو اس وقت تک سوتا نہیں تھا جب تک بیت المقدس کے تمام دروازے بند نہ کر دوں اس رات میں نے حسب عادت تمام دروازے بند کردیئے مگر ایک دروازہ مجھ سے بند نہ ہوسکا تو میں نے اپنے عملہ کے لوگوں کو بلایا انہوں نے مل کر کوشش کی مگر وہ ان سے بھی بند نہ ہوسکا دروازے کے کواڑ اپنی جگہ سے حرکت نہ کرسکے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ہم کسی پہاڑ کو ہلا رہے ہیں میں نے عاجز ہو کر کاریگروں اور نجاروں کو بلوایا انہوں نے دیکھ کر کہا کہ ان کو اڑوں کے اوپر دروازہ کی عمارت کا بوجھ پڑگیا ہے اب صبح سے پہلے اس کے بند ہونے کی کوئی تدبیر نہیں صبح کو ہم دیکھیں گے کہ کس طرح کیا جاوے میں مجبور ہو کر لوٹ آیا اور دونوں کواڑ اس دروازے کے کھلے رہے صبح ہوتے ہی میں پھر اس دروازے پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ دروازہ مسجد کے پاس ایک پتھر کی چٹان میں روزن کیا ہوا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کوئی جانور باندھ دیا گیا ہے اس وقت میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ آج اس دروازہ کو اللہ تعالیٰ نے شاید اس لئے بند ہونے سے روکا ہے کہ کوئی نبی یہاں آنے والے تھے اور پھر بیان کیا کہ اس رات آپ نے ہماری مسجد میں نماز بھی پڑھی ہے اس کے بعد اور تفصیلات بیان کی ہیں (ابن کثیر ص 24 ج 3)۔۔۔)معارف القرآن(
- حضرت ابوبکرصدیق کی تصدیق اور صدیق اکبر۔)بیان القرآن(
-عبددیگرعبدہ چیزےدگر۔ ایں سراپا انتظار،اومنتظر
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آلباس مجاز میں ۔۔۔کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبین نیاز میں (انوار القرآن(
3۔کیا نوح آدم ثانی ہیں؟۔ اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ موجودہ انسانی نسل صرف سیدنا نوحؑ کے تین بیٹوں حام،سام اور یافث ہی کی اولاد نہیں ہیں جیساکہ مؤرخین کا بیان ہے بلکہ ان تمام لوگوں کی اولاد ہے جو سیدنا نوحؑ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔)تیسیر القرآن(
۔ یعنی نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کی اولاد ہونے کی حیثیت سے تمہارے شایانِ شان یہی ہے کہ تم صرف ایک اللہ ہی کو اپنا وکیل بناؤ، کیونکہ جن کی تم اولاد ہو وہ اللہ ہی کو وکیل بنانے کی بدولت طوفان کی تباہی سے بچے تھے۔ (تفہیم القرآن)
4۔ فسَاد فِی الاَرضِ۔اور علو دونوں سے مراد حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کا اتلاف ہے اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ۔۔۔مرّتین۔یوں تو قوم اسرائیل کی تاریخ تباہیوں اور بربادیوں ہی کی ایک مسلسل سرگزشت ہے تاہم دومرتبہ کی قیامت خیز ہلاکتیں تاریخ کے صفحات پر بہت گہرےالفاظ میں نقش ہیں ایک بارسنہ586 ق م میں بخت نصرتاجدار بابل و نینوا کے ہاتھوں ۔اور دوبارہ سنہ 70ء میں رومی شہنشاہ طیطاؤس کے زمانہ میں۔بنی اسرائیل ملک مصر سے آزادی پاکر اورحضرت موسیٰؑ کی وفات کے بعد شام میں از سرنو آباد ہوگئے تھے،پہلے قبیلہ وار چھوٹی چھوٹی حکومتوں کی صورت میں اور پھر صدیوں بعدایک متحدہ قومی حکومت کی شکل میں۔)تفسیر ماجدی(
5۔ یہ اشارہ ہے بابل اور نینوا کے بادشاہ، بنوخذ نصر (بخت نصر)کے حملہ کی طرف جس نے سن 586 ق م میں یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی اور یہودیوں کو ہزاروں کی تعداد میں غلام بناکر اپنے ساتھ لے گیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
ــــ یہود کی پہلی بار فتنہ انگیزی اور اس کی سزا:۔ سیدنا موسیٰؑ کے ساتھ مصر سے آنے والے بنی اسرائیل جب فلسطین میں داخل ہوگئے تو انہیں حکم یہ تھا کہ فلسطین کا سارا علاقہ فتح کریں اور وہاں کے رہنے والے لوگوں کی اخلاقی اور اعتقادی خرابیوں میں مبتلا ہونے سے اجتناب کریں۔مگر ایک تو انہوں نے سارے علاقہ کو فتح نہ کیا اور جو کرچکے تھے اس پر ہی قناعت کرلی ۔دوسرے وہ قبائلی عصبیت میں مبتلا ہوگئے اور مفتوحہ علاقہ کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ہر قبیلہ نے الگ الگ حکومت قائم کرلی ۔ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی حکومت کو کبھی استحکام نصیب نہ ہوسکا۔نیز سابقہ اقوام کی اخلاقی اور اعتقادی بیماریاں یعنی شرک ،بے حیائی اور بدکاری وغیرہ ان میں بھی پھیلنے لگیں۔اوروہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو یکسر بھول گئے۔سیدنا داؤدؑ اور سیدنا سلیمانؑ نے بہت حدتک اصلاح احوال کی اور ایک دفعہ پھر سے حکومت بنی اسرائیل کو مستحکم بنادیا۔مگر جلد ہی بنی اسرائیل پھر سے انہی بیماریوں اور خرابیوںمیں مبتلا ہوگئے ۔بت پرستی اور بے حیائی عام ہوگئی اور حکومت بھی متزلزل ہوگئی۔یہ صورت حال دیکھ کر بابل کے بادشاہ بخت نصر نے دولت یہود یہ کو مسخر کیا اور بادشاہ کو قید کرلیا۔اس دوران سیدنا یرمیاہ ان کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ان کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے اعمال درست کرنے کے بجائے بابل کے خلاف سازش اور بغاوت کرکے اپنی قسمت بدلنے کی کوشش کرنے لگے۔آخر 587 ق م میں بخت نصر نے ایک زور دار حملہ کرکے سلطنت یہودیہ کے تمام چھوٹے بڑےشہروں کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔کشت و خون کا بازار گرم کیا۔ یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو پیوند خاک کردیا۔بہت سے قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گیا اور جو لوگ بچ رہے وہ ہمسایہ قوموں کے ہاتھ بری طرح ذلیل ہوکر رہے۔یہ تھا وہ پہلا فسادجس سے بنی اسرائیل کو متنبہ کیا گیا تھا۔ جوقیدی وہ اپنے ساتھ لے گیا تھا انہی میں سے ایک عزیر ؑ بھی تھے۔ان قیدیوں کو سات سال بعد بخت نصر نے چھوڑ دیا۔آپ جب واپس اپنے وطن آرہے تھے تو ایک اجڑی ہوئی اور برباد شدہ بستی دیکھی تو کہنے لگے "پروردگار! تو اس بستی کو کیسے دوبارہ زندہ یا آباد کرے گا؟یہ بستی بھی دراصل بخت نصر کے حملے میں ہی تباہ ہوئی تھی۔تو اللہ تعالیٰ نے اسی مقام پر سیدنا عزیرؑ کو موت دے دی۔"اور یہ واقعہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 259 کے تحت پہلے تفصیل سے گزرچکاہے۔رہی یہ بات کہ وہ کون سی کتاب تھی جس میں بنی اسرائیل کے دوبارسرکشی کرنے اور ْسزا پانے کی انہیں اطلاع دی گئی تھی۔بعض مفسرین نے اس سے مراد تورات ہی لی ہے مگر اس وقت تورات کے نام سے جو کتاب اہل کتاب کے پاس ہے اور جسے وہ عہد نامہ عتیق کہتے ہیں اس میں ایسی صراحت کے ساتھ یہ مضمون مذکور نہیں جیسی صراحت سے قرآن میں مذکور ہے البتہ اس کے بعض فقروں سے ایسے اشارے ضرور مل جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتاہے کہ اصلی تورات میں یہ مضمون ضرور موجود ہوگا اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہاں کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے جو جملہ کائنات کی قضا و قدر کی کتاب ہے اور یہ دونوں توجیہات ہی قرین قیاس ہیں۔(تیسیر القرآن)
6۔( کسی ایسی حکومت کے ذریعہ سے جو تمہاری ہمدرد ہوا خواہ ہوگی اور یہ اس وقت جب تم اپنی حرکتوں پر پشیمان ہولوگے۔)دارائے اول سائرس یا خورس شاہ ایران نے کلدانیوں کو شکست دے کر اور خود ان کے ملک پر قابض ہوکر539 ق م میں یہود کوجلاوطنی سے نجات دے کر وطن جانے اور یروشلم کو دوبارہ آباد کرنے کی اجازت دے دی تھی،قرآن مجید کایہ اشارہ اسی تاریخی واقعہ کی جانب ہے۔(تفسیر ماجدی)
7۔یہ تباہی یہود پر سن 70ء میں رومی شہنشاہ ،ٹائی ٹس کے ہاتھوں آئی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)ْ
8۔ قوم یہودکی اس مکرر بربادی و تعذیب کا تذکرہ بڑا ہی سبق آموز ہے،یہود بہرحال ایک موحد قوم ہیں۔دونوںمرتبہ (چھ سوا چھ سو صدیوں کے فصل سے)ان کے فاتح ،ان پر غالب آنے والے اور انہیں ہر طرح کے عذاب دردناک میں مبتلا کرنے والے مشرک ہی تھے۔اس سے نکلا ہوا سبق آج کل کے مسلمانوں کو یہ ملتا ہے کہ جب کسی موحد قوم کی عملی حالت ناگفتہ بہ ہوجائے تو مشیت الٰہی کو اس میں ذرا بھی تأمل نہیں ہوتا کہ انہیں پیٹ ڈالنے اور انہیں ہر طرح ذلیل و خوار کرنے کا کام مشرک ومبغوض قوموں ہی سے لے ۔یہود کا اپنا دعویٰ توحید اور انبیاء مقبولین کی جانب اپنا انتساب ذرابھی ان کے کام نہ آیا!صدیوں سے جو مسلمان ،مختلف ملکوں میں عیسائیوں یا ملحدوں کے ہاتھوں پٹ رہے ہیں اور اب اس میں اضافہ یہود اور دوسری غیر مسلم قوموں کا ہوگیاہے،یہ سب اسی قانون الٰہی تکوینی کی مثالیں ہیں اور ذرابھی حیرت انگیز نہیں۔ساتھ ہی ایسے تاریخی واقعات کی تفسیر کیلئے تفسیر نگار کی نظر تاریخ عالم پرہونا کس درجہ ضروری ہے۔(تفسیر ماجدی)
سیدنا عزیرؑ کی خدمات:۔ اس تباہی کے بعد سیدنا عزیرؑ نے دین موسوی کی تجدید کا بہت بڑا کام سرانجام دیا اور آپ نے قوانین شریعت کو نافذ کرکے ان اعتقادی اور اخلاقی برائیوں کو دورکرنا شروع کیا جو بنی اسرائیل کے اندر قوموں کے اثر سے گھس آئی تھیں۔اور بنی اسرائیل سے از سرنو اللہ کی بندگی اور اس کے احکام کی پابندی کا پختہ عہد لیا۔تورات کو از سرنو اپنی ذہنی یاداشت کے مطابق مرتب کرکے شائع کیا اور یہودیوں کی دینی تعلیم کا بھی انتظام کردیا۔اس طرح ڈیڑھ سوسال بعد بیت المقدس پھر سے آباد اور یہودی مذہب وتہذیب کا پھر سے مرکز بن گیا۔۔۔یہود کی دوسری بار فتنہ انگیزی اور اس کی سزا: لیکن بعد میں پھر وہی پہلی قسم کی خرابیاں بنی اسرائیل میں از سر نو پیدا ہوگئیں۔شرک، بے حیائی،بدکاری عام ہوگئی اور جب سلطنت پھر سے کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی تو ان کے علاقہ پر رومیوں کا قبضہ ہوگیا مگر یہود نے اصلاح احوال کے بجائے پھر بغاوت کا راستہ اختیار کیا تو 70ء میں رومی بادشاہ ٹیٹس (قیطوس)نے یروشلم کو بزور شمشیر فتح کرکے پورے علاقہ کو تہس نہس کردیا۔قتل عام میں ایک لاکھ 33 ہزار آدمی مارے گئے اور 67 ہزار کے قریب غلام بنالیے گئے ۔ خوبصورت لڑکیاں فاتحین کیلئے چن لی گئیں۔۔۔یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو پیوند خاک کردیا گیا اور فلسطین سے یہودی اثرو اقتدار کا ایسا خاتمہ ہوا کہ انہیں پھر کبھی سراٹھانے کی جرأت نہ ہوئی۔اور یہ دوسری بڑی سزا تھی جو یہود کو ان کی فتنہ انگیزیوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی تھی۔(تیسیر القرآن)
دوسرا رکوع |
| وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا ﴿11﴾ وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا ﴿12﴾ وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا ﴿13﴾ اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ ﴿14﴾ مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا ﴿15﴾ وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا ﴿16﴾ وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا ﴿17﴾ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا ﴿18﴾ وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا ﴿19﴾ كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا ﴿20﴾ اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا ﴿21﴾ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ ۧ ۧ ﴿22ع الإسراء 17﴾ |
| 11. اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے۔ اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے۔ 12. اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو تاریک بنایا اور دن کی نشانی کو روشن۔ تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل (یعنی) روزی تلاش کرو اور برسوں کا شمار اور حساب جانو۔ اور ہم نے ہر چیز کو (بخوبی) تفصیل کردی ہے۔ 13. اور ہم نے ہر انسان کے اعمال کو (بہ صورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے۔ اور قیامت کے روز (وہ) کتاب اسے نکال دکھائیں گے جسے وہ کھلا ہوا دیکھے گا۔ 14. (کہا جائے گا کہ) اپنی کتاب پڑھ لے۔ تو آج اپنا آپ ہی محاسب کافی ہے۔ 15. جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ ہوتا ہے گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا۔ اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے۔ 16. اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو (فواحش پر) مامور کردیا تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے۔ پھر اس پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوگیا۔ اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا۔ 17. اور ہم نے نوح کے بعد بہت سی اُمتوں کو ہلاک کر ڈالا۔ اور تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے والا کافی ہے۔ 18. جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں۔ پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے۔ جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا۔ 19. اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہوا اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے۔ 20. ہم اُن کو اور ان کو سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں۔ 21. دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ اور آخرت درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے۔ 22. اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ملامتیں سن کر اور بےکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے۔ |
تفسیر آیات
15۔ ولید بن مغیرہ (تم میری پیروی کرو اور محمدؐ کا انکار کرو ،تمہارے سارے بوجھ میں اپنے سر پراٹھالوں گا)عیسائیوں کا عقیدۂ کفارہ ۔(ضیاء القرآن)
۔ مشرک قوموں کا تو ذکر ہی نہیں، خود اہل کتاب(یہود و نصاریٰ )کے ہاں انفرادی ذمہ داری مٹ مٹا کر سارا زور مسئلہ "شفاعت"و "کفارہ"وغیرہ پر رہ گیا تھا۔قرآن مجید میں اسی لئے ان عقائد کی پرزور تردید بار بار مختلف عنوانات سے ہوتی رہتی ہے اور یہاں بھی مقصود شخصی ذمہ داری و مسؤلیت کا اثبات ہے۔(تفسیر ماجدی)
19۔ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ ۔تیسری اور سب سے زبردست شرط یہ تصحیح عقیدہ کی ہوئی ،منکر قانون ِ الٰہی کا عمل کوئی سا بھی مقبول نہیں۔اس مضمون کی جہاں بھی آیتیں قرآن مجید میں آئی ہیں، ہر جگہ قید وھومؤمن کی لگی ہوئی ہے۔(تفسیر ماجدی)
21۔ یعنی دنیا ہی میں یہ فرق نمایاں ہوجاتا ہے کہ آخرت کے طلبگار دنیا پرست لوگوں پر فضیلت رکھتے ہیں۔ یہ فضیلت اس اعتبار سے نہیں ہے کہ ان کے کھانے اور لباس اور مکان اور سواریاں اور تمدن و تہذیب کے ٹھاٹھ ان سے کچھ بڑھ کر ہیں۔ بلکہ اس اعتبار سے ہے کہ یہ جو کچھ بھی پاتے ہیں صداقت، دیانت اور امانت کے ساتھ پاتے ہیں، اور وہ جو کچھ پا رہے ہیں ظلم سے، بےایمانیوں سے، اور طرح طرح کی حرام خوریوں سے پا رہے ہیں۔۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے جبار بادشاہوں اور دولت مند امیروں کے لیے بھی ان کے ہم جنس انسانوں کے دلوں میں کوئی سچی عزت اور محبت اور عقیدت کبھی پیدا نہ ہوئی اور اس کے بر عکس فاقہ کش اور بوریا نشین اتقیاء کی فضیلت کو خود دنیا پرست لوگ بھی ماننے پر مجبور ہوگئے۔ یہ کھلی کھلی علامتیں اس حقیقت کی طرف صاف اشارہ کر رہی ہیں کہ آخرت کی پائدار مستقل کامیابیاں ان دونوں گروہوں میں سے کس کے حصے میں آنے والی ہیں۔ (تفہیم القرآن)
22۔ سور نحل کی آیت 90 میں قرآنی احکام کے امرو نہی کی اساسیات کا ذکر ہواتھا،اگلی آیات میں ان کی وضاحت ہے۔ ان بنیادوں پر صالح معاشرہ اور صالح تمدن کی عمارت استوار ہوتی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
ــــ فَتَقْعُدَ۔قعود سے یہاں مراد جسم کی وہ وضع و ہئیت نہیں جو کھڑے ہونے یا لیٹنے سے ممتاز ہے بلکہ جسے اردو محاورہ میں "بیٹھ رہنے"سے مراد کسی ناخوشگوارحالت میں پڑے رہ جانے سے ہوتی ہے،جیسے ان فقروں میں کہ "صدمہ تو بہت ہوالیکن کرتے کیا ،روپیٹ کربیٹھ رہے،تھک کر بیٹھ رہے"اسی طرح عربی محاورہ میں بھی قعود کسی بری حالت کے مستمر ہوجانے کے موقع پر آتا ہے۔(تفسیر ماجدی)
تیسرا رکوع |
| وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا ﴿23﴾ وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ ﴿24﴾ رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا ﴿25﴾ وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا ﴿26﴾ اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا ﴿27﴾ وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا ﴿28﴾ وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا ﴿29﴾ اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ ۧ ۧ ﴿30ع الإسراء 17﴾ |
| 23. اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا۔ 24. اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما۔ 25. جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔ اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے۔ 26. اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔ اور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ۔ 27. کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفر ان کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے۔ 28. اور اگر تم نے اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو اُن سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو۔ 29. اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل کھول ہی دو (کہ سبھی دے ڈالو اور انجام یہ ہو) کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ۔ 30. بےشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے۔ |
تفسیر آیات
آغاز:۔ حضرت عبداللہ بن عباس کا قول ہے کہ حق تعالیٰ نے تورات کی ساری (اخلاقی)تعلیم سورۂ بنی اسرائیل کی پندرہ آیتوں میں درج کردی ہے۔(آیات:23تا 37)(تفسیر عثمانی)
- حضرت عبداللہ ابن عباس نے سورہ انعام کی آیات 153 تا 155 کو سورہ بنی اسرائیل کے ر۔ 4/5 کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ کوئی ان تین آیات پر مجھ سے بیعت کرناچاہتا ہے؟ (مرتب)
23۔ یہاں وہ بڑے بڑے بنیادی اصول پیش کیے جا رہے ہیں جن پر اسلام پوری انسانی زندگی کے نظام کی عمارت قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ گویا نبی ﷺ کی دعوت کا منشور ہے جسے مکی دور کے خاتمے اور آنے والے مدنی دور کے نقطہ آغاز پر پیش کیا گیا، تاکہ دنیا بھر کو معلوم ہوجائے کہ اس نئے اسلامی معاشرے اور ریاست کی بنیاد کن فکری، اخلاقی، تمدنی، معاشی اور قانونی اصولوں پر رکھی جائے گی۔ اس موقع پر سورة انعام کے رکوع 19 اور اس کے حواشی پر بھی ایک نگاہ ڈال لینا مفید ہوگا۔ (تفہیم القرآن)
۔ والدین کے حقوق :۔ والدین کے ادب و احترام اور اطاعت کی بڑی اہمیت۔ص:463۔۔۔مفتی شفیع صاحب نے اس سلسلہ میں مختلف عنوانات باندھے ہیں: (i)والدین کی اطاعت و خدمت کے فضائلِ روایات حدیث میں۔۔ص:463۔۔۔(ii)والدین کی حق تلفی کی سزا، آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ملتی ہے۔ص:464۔۔۔(iii)والدین کی خدمت اور اچھے سلوک کیلئے ان کا مسلمان ہونا ضروری نہیں۔ص:464تا 465۔۔۔(iv)والدین کے ادب کی رعایت خصوصاً بڑھاپے میں۔ ایک مسلمان کی اپنے والد سے متعلق حضورؐ سے شکایت۔ باپ کو بلایاگیاوجہ پتا چلنے پرباپ کے اشعار۔ص:466تا 467۔اہم اشعار کا ترجمہ:۔(1)میں نے تجھے بچپن میں غذادی اور جوان ہونے کے بعد بھی تمہاری ذمہ داری اٹھائی تمہارا سب کھانا پینا میری ہی کمائی سے تھا۔(2)جب کسی رات میں تمہیں کوئی بیماری پیش آگئی تو میں نے تمام رات تمہاری بیماری کے سبب بیداری و بیقراری میں گزاری۔(3)گویا کہ تمہاری بیماری مجھے ہی لگی ہے تمہیں نہیں جس کی وجہ سے میں تمام شب روتارہا۔(4)میرا دل تمہاری ہلاکت سے ڈرتا رہا حالانکہ میں جانتا تھا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے پہلے پیچھے نہیں ہوسکتی ۔(5) پھر جب تم اس عمر اور اس حدتک پہنچ گئے جس کی میں تمنا کیا کرتا تھا۔(6)تو تم نے میرابدلہ سختی اور سخت کلامی بنادیا گویا کہ تمہی مجھ پر احسان و انعام کرتے رہے ہو۔(7)کاش، اگر تم سے میرے باپ ہونے کا حق ادانہیں ہوسکتا تو کم از کم ایسا ہی کرلیتے جیسا ایک شریف پڑوسی کیا کرتاہے۔(8)تو کم ازکم مجھے پڑوسی کا حق تو دیا ہوتااور خود میرے ہی مال میں میرے حق میں بخل سے کام نہ لیا ہوتا۔ (معارف القرآن)
اسلامی معاشرہ کیلئے چودہ بنیادی احکام، تورات کی تعلیم کاخلاصہ:۔اس آیت سے لے کر آگے پندرہ سولہ آیات میں ایسے بنیادی اصول و احکام بیان کیے جارہے ہیں جو ایک اسلامی معاشرہ کی تعمیر کیلئے بنیادکا کام دیتے ہیں۔ اور جن پر مستقبل قریب میں ایک اسلامی ریاست کی بنیادرکھی جانے والی تھی۔ گویایہ اسلامی ریاست کا دستور اساسی تھا جس کا مکہ کی آخری زندگی میں ہی اعلان کردیا گیا تھاکہ اس نئی ریاست کی بنیاد کن کن نظری ،اخلاقی، معاشرتی ،معاشی اور قانونی اصولوں پر رکھی جائے گی اور سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ تورات کی ساری تعلیم کا خلاصہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بیان فرمادیاہے۔(تیسیر القرآن)
26۔ رشتہ داراپاہج یا اندھا ہو،عورت یا بچہ (جس کے پاس گذارہ کی صورت نہ ہو)رشتہ داروں پر سب کا نفقہ فرض ہے۔حقہ سے اشارہ ہے کہ احسان جتانے کا کوئی موقعہ نہیں کیونکہ ان کا حق اس کے ذمہ فرض ہے۔(معارف القرآن)
۔رشتہ داروں کے حقوق کی تفصیل کیلئے سورۂ نساء کی پہلی آیت کا حاشیہ نمبر3 ملاحظہ فرمائیے۔۔۔مسافروں کے حقوق کیلئے دیکھئے سورہ نساء کی آیت نمبر36۔۔۔اسراف اور تبذیر میں فرق:۔ اسراف اور تبذیر میں فرق یہ ہے کہ اسراف ضرورت کے کاموں میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے کو کہتے ہیں مثلاً اپنے کھانے پینے یا لباس وغیرہ میں زیادہ خرچ کرنا اور تبذیر ایسے کاموں میں خرچ کرنے کو کہتے ہیں جن کا ضرورت زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو جیسے فخر ،ریا نمودونمائش اور فسق و فجور کے کاموں میں خرچ کرنا،یہ اسراف سے زیادہ براکام ہے۔اسی لیے ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی قراردیا گیا۔شیطان نے بھی اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تھی۔ایسے شخص نے بھی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت مال کو غلط راستوں میں خرچ کرکے اللہ کی ناشکری کی۔(تیسیر القرآن)
27۔ کسی گناہ یا بالکل بے محل خرچ کرنے کو تبذیر جبکہ ضرورت سے زائد جائز کاموں پرخرچ اسراف ہے۔(معارف القرآن)
29۔ ان تدابیر کے علاوہ معاشرے میں ایک ایسی رائے عام نے بخیلوں کو ذلیل کیا۔ اعتدال پسندوں کو معزز بنایا۔ فضول خرچوں کو ملامت کی اور فیاض لوگوں کو پوری سوسائٹی کا گِل سرِ سَبَد قرار دیا۔ اس وقت کی ذہنی و اخلاقی تربیت کا یہ اثر آج تک مسلم معاشرے میں موجود ہے کہ مسلمان جہاں بھی ہیں کنجوسوں اور زر اندوزوں کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور سخی انسان آج بھی ان کی نگاہ میں معزز و محترم ہے۔ (تفہیم القرآن)
چوتھا رکوع |
| وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا ﴿31﴾ وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا ﴿32﴾ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا ﴿33﴾ وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا ﴿34﴾ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا ﴿35﴾ وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا ﴿36﴾ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا ﴿37﴾ كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا ﴿38﴾ ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا ﴿39﴾ اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ ۧ ۧ ﴿40ع الإسراء 17﴾ |
| 31. اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرنا۔ (کیونکہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے۔ 32. اور زنا کے بھی پاس نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے۔ 33. اور جس جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت) ۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے۔ 34. اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ و ہ جوانی کو پہنچ جائے۔ اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی۔ 35. اور جب (کوئی چیز) ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کر دو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔ 36. اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی۔ 37. اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں (کی چوٹی) تک پہنچ جائے گا۔ 38. ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے۔ 39. اے پیغمبر یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں۔ اور خدا کے ساتھ کوئی معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے۔ 40. (مشرکو!) کیا تمہارے پروردگار نے تم کو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول بات) کہتے ہو۔ |
تفسیر آیات
31۔آیت: 31 پر قرآنی اوامر (عدل، احسان،ایتائے ذی القربیٰ سے متعلق بنیادی مسائل ختم ہوئے۔ اب آگے قرآنی منہیات ،فحشا،منکر،بغی)کے تحت جو چیزیں آتی ہیں ان کا بیان شروع ہورہاہے۔۔۔زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو یعنی ان تمام باتو ں سے بھی دور رہو جو زنا کی محرک ،اس پر اکسانے والی اور اس کے قریب لیجانے والی ہیں۔اس کی تفصیل سورۂ نور میں آئے گی جو اس گروپ کی آخری سورت ہے۔جہاں یہ وضاحت ہے کہ قرآن نے کن کن باتوں سے محض اس بناپر روکا ہےکہ وہ زناکے مقدمات و محرکات ہیں۔(تدبرقرآن)
۔اصل یہ ہے کہ دو مسئلے الگ الگ ہیں، ایک چیز تو ہے نفس افلاس یا اس کا وقوع ،یعنی والدین واقعۃً اور فی الحال افلاس میں مبتلا ہیں،اور اس لئے بچوں کی زندگی ختم کئے دیتے ہیں ۔اور دوسری چیز ہے خوف و افلاس یعنی والدین فی الحال تو افلاس میں مبتلا نہیں لیکن اندیشہ یہ کررہے ہیں کہ اولاد اگر پیدا ہونی شروع ہوگئی تو موجودہ آمدنی کفایت نہ کرے گی ۔ قرآن مجید نے ان دونوں فتنوں کے درمیان ملحوظ رکھا ہے ،اول الذکر کے موقع پر محض من املاق آیا ہے۔اور آخر الذکر کے مو قع پر خشیۃ املا ق لایا گیاہے۔(تفسیر ماجدی)
32۔ مسند امام احمد میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے زنا کی اجازت دے دیجئے۔ حاضرین نے اسے ڈانٹ بتلائی کہ (پیغمبر خدا کے سامنے ایسی گستاخی ؟ ) خبردار چپ رہو۔ حضور ﷺ نے اس کو فرمایا کہ میرے قریب آؤ۔ وہ قریب آکر بیٹھا تو آپ نے فرمایا کہ کیا تو یہ حرکت اپنی ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ میں سے کسی کی نسبت پسند کرتا ہے ؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! خدا مجھ کو آپ پر قربان کرے ہرگز نہیں۔ فرمایا دوسرے لوگ بھی اپنی ماؤں، بیٹیوں، بہنوں، پھوپھیوں اور خالاؤں کے لیے یہ فعل گوارا نہیں کرتے۔ پھر آپ نے دعا فرمائی کہ الٰہی اس کے گناہ کو معاف فرما اور اس کے دل کو پاک اور شرمگاہ کو محفوظ کر دے۔ " ابو امامہ فرماتے ہیں کہ اس دعا کے بعد اس شخص کی یہ حالت ہوگئی کہ کسی عورت وغیرہ کی طرف نگاہ اٹھا کر نہ دیکھتا تھا۔ " اللہم صل علی سیدنا محمدٍ وبارک وسلم " (تفسیر عثمانی)
یہ دفعہ آخرکار اسلامی نظامِ زندگی کے ایک وسیع باب کی بنیاد بنی ۔اس کے منشا کے مطابق زنا اور تہمت ِ زنا کو فوجداری جرم قراردیا گیا،پردے کے احکام جاری کئے گئے فواحش کی اشاعت کو سختی کے ساتھ روک دیا گیا،شراب اور موسیقی اور رقص اور تصاویر پر (جو زنا کے قریب ترین رشتہ دار ہیں)بندشیں لگائی گئیں اور ایک ایسا ازدواجی قانون بنایا گیا جس سے نکاح آسان ہوگیا اور زناکے معاشرتی اسباب کی جڑکٹ گئی۔(تفہیم القرآن)
- حضرت ابوہریرۃؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ زنا کرنے والا زنا کرتے وقت مومن نہیں ہوتا،چوری کرنے والاچوری کرتے وقت مومن نہیں ہوتا اور شراب پینے والا شراب پیتے وقت مومن نہیں ہوتا (بخاری و مسلم)(معارف القرآن)
33۔قتل ِ نفس سے مراد صرف دوسرے انسان کا ہی قتل نہیں بلکہ خود اپنے آپ کو قتل کرنا بھی ہے(خود کشی)دونوں گناہ بھی اور جرم بھی ۔قتل بالحق۔(i)قتل عمد کے مجرم سے قصاص(ii)دین کے مخالفوں سے جنگ(iii)باغیانِ اسلامی حکومت کی سزا(iv)شادی شدہ مرد یا عورت کو ارتکاب زناکی سزا۔(v)مرتد کی سزا۔۔۔اصل الفاظ ہیں"اس کے ولی کو ہم نے سلطان عطا کیا ہے"سلطان سے مراد یہاں"حجت"ہے جس کی بناپر وہ قصاص کا مطالبہ کرسکتاہے ۔اس سے اسلامی قانون کا یہ اصول نکلتاہے کہ قتل کے مقدمے میں اصل مدعی حکومت نہیں بلکہ اولیائے مقتول ہیں اور وہ قاتل کو معاف کرنے اور قصاص کی بجائے خون بہالینے پر راضی ہوسکتے ہیں۔۔۔۔اسلامی حکومت سے مدد مانگی جائے(نہ کہ قبیلے والے یا حلیف خود بدلہ لیں)۔(تفہیم القرآن)
- پورا اختیار (سلطان)دینے کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی حکومت اولیائے مقتول کی مرضی لازماً نافذ کرائے گی۔ان کیلئے یہ بات جائز نہیں کہ قاتل کو قتل کرنے کے معاملہ میں حد سے تجاوز کریں مثلاً یہ کہ اصل قاتل کے علاوہ دوسروں کو بھی قتل کردیں یا قتل کے ایسے طریقے اختیار کریں جن سے اللہ نے منع فرمایا مثلاً آگ میں جلانا یا مثلہ کرنا۔(تدبرقرآن)
ــــ قصاص میں زیادتی کی صورتیں:۔ زیادتی کی کئی شکلیں ممکن ہیں۔جیسے اصل قاتل کی بجائے کسی دوسرے کو پھنسا دے یا اصل قاتل مل نہیں رہاتو اس کے کسی رشتہ دار سے قصاص کی کوشش کرے یا دیدہ و دانستہ کسی دوسرے کو بھی قتل کا ذمہ دار قرار دے۔ یا اگر حکومت مجرم کو قصاص کیلئے اس کے حوالہ کردے تو قصاص میں بہت زیادہ اذیتیں دے یا اگر غصہ کم نہ ہوتو بعدمیں مثلہ وغیرہ کرے۔وغیرہ وغیرہ۔(تیسیر القرآن)
34۔یتیموں کے مال کی حفاظت اور انتظام اس وقت تک جب تک وہ جوان ہوکر اپنے مال کی خود حفاظت نہ کرسکیں(15سے 18 سال)۔(معارف القرآن)
ــــ ایفائے عہد کے سلسلہ میں سورہ اعراف آیت نمبر 102 اور نحل آیت نمبر 91 ،92 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔(تیسیر القرآن)
35۔ منڈیوں اور بازاروں میں اوزان اور پیمانوں کی نگرانی حکومت کا کام ،دوسرے معاشی اور مالی اقدامات۔(تفہیم القرآن)
-حضرات فقہا نے فرمایا ہے کہ آیت میں ناپ تول میں کمی کا جو حکم ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس کا جتنا حق ہے اس سے کم دینا حرام ہے اس لئے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی ملازم اپنے مقررہ کام میں کمی کرے یا جتنا وقت دینا ہے اس سے کم دے یا مزدوراپنی مزدوری میں کام چوری کرے۔(معارف القرآن)
36۔ یہ گمان اور تہمت وغیرہ قسم کی ساری باتوں کی ممانعت ہے قرآن جو معاشرہ قائم کرنا چاہتاہے اس کی بنیاد حسنِ ظن اور اعتماد پر ہے۔گمان اور افواہ جیسی غیر ذمہ دارانہ باتیں کرنے والوں کو یادرکھنا چاہیے کہ کان ،آنکھ اور دل کی بھی ایک روز پرسش ہونی ہے۔(تدبر قرآن)
ــــفقہاء نے اسی آیت کے ذیل میں یہ بھی کہا ہے کہ احکام شرعی محض اپنی اٹکل سے بتادینا ،یا کسی پر بغیر تحقیق کوئی الزام لگادینا دونوں اس آیت سے ناجائز ٹھہرتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
37۔ مطلب یہ ہے کہ جباروں اور متکبروں کی روش سے بچو۔عام مسلمانوْں کی سادگی اور درویشی ۔فاتحین میں بھی اکڑ نہیں۔(تفہیم القرآن)
39۔ ذٰلک کا اشارہ ان تمام باتوں کی طرف ہے جو اوپر سے لیکر یہاں تک بیان ہوئی ہیں۔یہ ساری باتیں حکمت کے اجزاء ہیں۔۔۔ آخر میں توحید کے مضمون کی پھر یا ددہانی کیونکہ توحید ان ساری تعلیمات کیلئے حصار اور شہرپناہ کی حیثیت رکھتی ہے۔(تدبرقرآن)
پانچواں رکوع |
| وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا ﴿41﴾ قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا ﴿42﴾ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا ﴿43﴾ تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا ﴿44﴾ وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ ﴿45﴾ وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا ﴿46﴾ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا ﴿47﴾ اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا ﴿48﴾ وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا ﴿49﴾ قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ ﴿50﴾ اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا ﴿51﴾ یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ ۧ ۧ ﴿52ع الإسراء 17﴾ |
| 41. اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں ۔ مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں۔ 42. کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش کی طرف (لڑنے بھڑنے کے لئے) رستہ نکالتے۔ 43. وہ پاک ہے اور جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس سے (اس کا رتبہ) بہت عالی ہے۔ 44. ساتوں آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں۔ اور (مخلوقات میں سے) کوئی چیز نہیں مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ بےشک وہ بردبار (اور) غفار ہے۔ 45. اور جب قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کر دیتے ہیں۔ 46. اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔ 47. یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس نیت سے یہ سنتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں (یعنی) جب ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔ 48. دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائی ہیں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور رستہ نہیں پاسکتے۔ 49. اور کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور چُور چُور ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہو کر اُٹھیں گے۔ 50. کہہ دو کہ (خواہ تم) پتھر ہوجاؤ یا لوہا۔ 51. یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جِلائے گا؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سرہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا؟ کہہ دو کہ امید ہے جلد ہوگا۔ 52. جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) بہت کم (مدت) رہے۔ |
تفسیر آیات
44۔ خود مادہ کیلئے اب اہلِ سائنس کا فتویٰ یہی ہے کہ وہ کوئی الگ شے نہیں ،بلکہ "انرجی"ہی کی ایک صورت ہے۔اور سائنس کی اصطلاح میں جو شے "انرجی"ہے اس کو مذہب کی زبان میں روح یا زندگی کہیں گے۔(تفسیر ماجدی)
46۔یہ بھی خیال رہے کہ کفار مکہ کا اپنا قول تھا جسے اللہ تعالیٰ نے ان پر الٹ دیا ہے۔ سورة حم سجدہ میں ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ " وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْ اَکِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَا اِلَیْہِ وَفِی اٰذَانِنَا وَقْرٌوَّ مِنْۢ بَینِکَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ (آیت 5)یعنی وہ کہتے ہیں کہ " اے محمد ﷺ ، تو جس چیز کی طرف ہمیں دعوت دیتا ہے اس کے لیے ہمارے دل بند ہیں اور ہمارے کان بہرے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان حجاب حائل ہوگیا ہے۔ پس تو اپنا کام کر، ہم اپنا کام کیے جا رہے ہیں“۔ یہاں ان کے اس قول کو دہرا کر اللہ تعالیٰ یہ بتارہا ہے کہ یہ کیفییت جسے تم اپنی خوبی سمجھ کر بیان کر رہے ہو، تو دراصل ایک پھٹکار ہے جو تمہارے انکار آخرت کی بدولت ٹھیک قانون فطرت کے مطابق تم پر پڑی ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ آیت میں دلوں پر پردہ اور کانوں میں ثقل پیدا کرنے سے اشارہ اس سنت الٰہی کی طرف ہے جس کا ذکر سورة بقرہ میں ختم قلوب کے عنوان سے ہوا ہے۔ ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں پوری تفصیل کے ساتھ اس سنت الٰہی کے ہر پہلو کی وضاحت کرچکے ہیں۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔ یہاں اس کے اعادے میں طوالت ہوگی۔ (تدبرِ قرآن)
۔ دشمنوں کی نظر سے مستور رہنے کا ایک عمل: حضرت کعب فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب مشرکین کی آنکھوں سے مستور ہونا چاہتے تو قرآن کی تین آیتیں پڑھ لیتے تھے اس کے اثر سے کفار آپ کو نہ دیکھ سکتے تھے وہ تین آیتیں یہ ہیں ایک آیت سورة کہف میں یعنی اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا (57) دوسری آیت سورة نحل میں ہے اولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَاَبْصَارِهِمْ (108) اور تیسری آیت سورة جاثیہ میں ہے اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَةً (23)۔۔۔۔۔حضرت کعب فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا یہ معاملہ میں نے ملک شام کے ایک شخص سے بیان کیا اس کو کسی ضرورت سے رومیوں کے ملک میں جانا تھا وہاں گیا اور ایک زمانہ تک مقیم رہا پھر رومی کفار نے اس کو ستایا تو وہ وہاں سے بھاگ نکلا ان لوگوں نے اس کا تعاقب کیا اس شخص کو وہ روایت یاد آگئی اور مذکورہ تین آیتیں پڑھیں قدرت نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈالا کہ جس راستہ پر یہ چل رہے تھے اسی راستہ پر دشمن گذر رہے تھے مگر وہ ان کو نہ دیکھ سکتے تھے۔۔۔۔۔امام ثعلبی کہتے ہیں کہ حضرت کعب سے جو روایت نقل کی گئی ہے میں نے رئے کے رہنے والے ایک شخص کو بتلائی اتفاق سے ویلم کے کفار نے اس کو گرفتار کرلیا کچھ عرصہ ان کی قید میں رہا پھر ایک روز موقع پا کر بھاگ کھڑا ہوا ۔یہ لوگ اس کے تعاقب میں نکلے مگر اس شخص نے بھی یہ تین آیتیں پڑھ لیں اس کا یہ اثر ہوا کہ اللہ نے ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ ڈال دیا کہ وہ اس کو نہ دیکھ سکے حالانکہ ساتھ ساتھ چل رہے تھے اورانکےکپڑےانکےکپڑوں سےچھو جاتےتھے۔امام قرطبی کہتے ہیں کہ ان تینوں کے ساتھ وہ آیات سورة یٰسین کی بھی ملالی جائیں جن کو آنحضرت محمد ﷺ نے ہجرت کے وقت پڑھا تھا جبکہ مشرکین مکہ نے آپ کے مکان کا محاصرہ کر رکھا تھا ۔ آپ نے یہ آیات پڑھیں اور ان کے درمیان سے نکلتے ہوئے چلے گئے بلکہ ان کے سروں پر مٹی ڈالتے ہوئے گئے ان میں سے کسی کو خبر نہیں ہوئی وہ آیات سورة یٰسین کی یہ ہیں يٰسۗ وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْم لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اُنْذِرَ اٰبَاۗؤ هُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤ ْمِنُوْنَ اِنَّا جَعَلْنَا فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِىَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ وَجَعَلْنَا مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَيْنٰهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔۔۔۔۔امام قرطبی فرماتے ہیں کہ مجھے خود اپنے ملک اندلس میں قرطبہ کے قریب قلعہ منثور میں یہ واقعہ پیش آیا کہ میں دشمن کے سامنے بھاگا اور ایک گوشہ میں بیٹھ گیا دشمن نے دو گھوڑ سوار میرے تعاقب میں بھیجے اور میں بالکل کھلے میدان میں تھا کوئی چیز پردہ کرنے والی نہ تھی مگر میں سورة یٰسین کی یہ آیتیں پڑھ رہا تھا۔ یہ دونوں سوار میری برابر سے گذرے پھر جہاں سے آئے تھے یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ یہ شخص کوئی شیطان ہے کیونکہ وہ مجھے دیکھ نہ سکے اللہ تعالیٰ نے ان کو مجھ سے اندھا کردیا تھا (قرطبی) (معارف القرآن)
52۔۔۔۔۔ اور یہ جو فرمایا کہ تم اللہ کی حمد کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گے، تو یہ ایک بڑی حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن اور کافر، ہر ایک کی زبان پر اس وقت اللہ کی حمد ہوگی۔ مومن کی زبان پر اس لیے کہ پہلی زندگی میں اس کا اعتقاد یقین اور اس کا وظیفہ یہی تھا۔ اور کافر کی زبان پر اس لیے کہ اس کی فطرت میں یہی چیز ودیعت تھی، مگر اپنی حماقت سے وہ اس پر پردہ ڈالے ہوئے تھا۔ اب نئے سرے سے زندگی پاتے وقت سارے مصنوعی حجابات ہٹ جائیں گے اور اصل فطرت کی شہادت بلا ارادہ اس کی زبان پر جاری ہوجائے گی۔ (تفہیم القرآن)
چھٹا رکوع |
| ے پھر جہاں سے آئے تھے یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ یہ شخص کوئی شیطان ہے کیونکہ وہ مجھے دیکھ نہ سکے اللہ تعالیٰ نے ان کو مجھ سے اندھا کردیا تھا (قرطبی) (معارف القرآن) وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا ﴿53﴾ رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا ﴿54﴾ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا ﴿55﴾ قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا ﴿56﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا ﴿57﴾ وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا ﴿58﴾ وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا ﴿59﴾ وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ ۧ ۧ ﴿60ع الإسراء 17﴾ |
| 53. اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ 54. تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ (بنا کر) نہیں بھیجا۔ 55. اور جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں تمہارا پروردگار ان سے خوب واقف ہے۔ اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت بخشی اور داؤد کو زبور عنایت کی۔ 56. کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔ 57. یہ لوگ جن کو (خدا کے سوا) پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب ہوتا ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔ بےشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔ 58. اور (کفر کرنے والوں کی ایسی) کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلاک کردیں گے یا سخت عذاب سے معذب کریں گے۔ یہ کتاب (یعنی تقدیر) میں لکھا جاچکا ہے۔ 59. اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لئے موقوف کردیں کہ اگلے لوگوں نے اس کی تکذیب کی تھی۔ اور ہم نے ثمود کو اونٹنی (نبوت صالح کی کھلی) نشانی دی۔ تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم جو نشانیاں بھیجا کرتے ہیں تو ڈرانے کو۔ 60. جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لئے آزمائش کیا۔ اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی (سخت) سرکشی پیدا ہوتی ہے۔ |
تفسیر آیات
53۔ یعنی جب کبھی تمہیں مخالفین کی بات کا جواب دیتے وقت غصے کی آگ اپنے اندر بھڑکتی محسوس ہو، اور طبیعت بےاختیار جوش میں آتی نظر آئے، تو فوراً سمجھ لو کہ یہ شیطان ہے جو تمہیں اکسا رہا ہے تاکہ دعوت دین کا کام خراب ہو۔۔۔ (تفہیم القرآن)
54۔ یعنی اہل ایمان کی زبان پر کبھی ایسے دعوے نہ آنے چاہییں کہ ہم جنتی اور فلاں شخص یا گروہ دوزخی ہے۔ اس چیز کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے۔۔۔ (تفہیم القرآن)
55۔مباحثہ کی گرما گرمی میں جو چیز فتنہ کا باعث بنتی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی جس کسی کو اپنا لیڈر اور مقتدا مانتاہے ساری فضیلت بس اسی کے ساتھ باندھ کے رکھ دیتاہے ۔کسی دوسرے کے لیے فضیلت تسلیم کرنے میں وہ اپنی شکست محسوس کرتاہے۔اس زمانہ میں یہود کو اس فتنہ سے خاص دلچسپی تھی، اس لیے یہاں مسلمانوں کو نبیوں کے باب میں صحیح نقطۂ نظر اپنانے کی ہدایت فرمائی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔۔۔ آنحضرت ﷺ کے اختصاص و امتیاز کے جو پہلو ہیں ان کا بھی اظہار و اعلان کریں اور دوسرے نبیوں کے جو امتیازی پہلو ہیں ان کو بھی تسلیم کریں۔ اس مسئلے پر بقرہ آیت 253 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔ حضرت داؤد کو جو زبور عطا ہوئی اس کا خاص امتیازی پہلو یہ ہے کہ آسمانی کتابوں میں یہی ایک کتاب منظوم شکل میں ہے۔ جو تمام تر حمد و تمجید کے نغمات پر مشتمل ہے۔ (تدبرِ قرآن)
۔ امام بغوی نے اپنی تفسیر میں اس جگہ لکھا ہے کہ زبور اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جو حضرت داؤد ؑ پر نازل ہوئی اس میں ایک سو پچاس سورتیں ہیں اور تمام سورتیں صرف دعاء اور حمد وثنا پر مشتمل ہیں ان میں حلال و حرام اور فرائض و حدود کا بیان نہیں ہے۔ (معارف القرآن)
57۔ مراد فرشتے ہیں جن کو یہ خدا کا شریک بنابیٹھے تھے ۔فرمایا کہ وہ ہر وقت خداکے قرب کی طلب میں سرگرم ہیں۔ وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہنے والے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
ــــ یَبْتَغُوْنَ۔صیغہ حال کا ہے ماضی اس سے خود بخود نکل گیا ۔اس لئے مسیحؑ عزیرؐ وغیرہ بزرگان سابق یہاں مراد نہیں ہوسکتے۔
58۔بستی سے مراد وہ مرکزی بستی ہے جو کسی قوم کے لیڈروں اور خوشحال لوگوں کا مرکز ہوتی ہے۔رسول کی بعثت کے دور میں رسول کی تکذیب کی صورت میں ایسی بستی کی ہلاکت کا خطرہ سنگین ہوجاتاہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
ــقیامت سے پہلے سب بستیوں کی تباہی :۔ یعنی کچھ بستیاں تو ایسی ہیں جو عذاب میں ماخوذ ہوکر تباہ کی جاچکی ہیں اور قیامت سے پہلے باقی موجود سب بستیوں کا بھی یہی حشر ہونے والا ہے اور چونکہ قیامت آنے سے پہلے نیک لوگوں کو اٹھالیا جائے گا اور قیامت اشرار الناس پر قائم ہوگی لہذا قیامت کو یہ نظامِ کائنات درہم برہم کرنے سے پیشتر ایسی شریر بستیوں کو پہلے ہی عذاب سے ہلاک کردیا جائے گا۔(تیسیر القرآن)
60۔یہ ان مواقع کا بیان ہے جب قریش نے تنبیہات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔مثلاً سورہ رعد آیت 41 میں اطراف مکہ میں اسلام کے پھیلنے کی خبر دی گئی تھی، معراج کی رؤیا میں مسجد حرام کی تولیت نبیؐ کے حوالہ کرنے کی خبرتھی، دوزخ کے احوال میں جہنم کے پیندے میں اگنے والے درخت زقوم کا حوالہ دیا گیا تھا جو وہاں جہنمیوں کی خوراک بنے گا۔ قریش نے ان سب کا مذاق اڑایا لیکن ان سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ ۔۔یہ بات کہ اللہ نے مخالفین کو گھیرے میں لے رکھا ہے، اور نبی کی دعوت اللہ کی حفاظت میں ہے، مکہ کے ابتدائی دور کی سورتوں میں متعدد جگہ ارشاد ہوا ہے۔ مثلاً سورة بروج میں فرمایا بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا فِیْ تَکْذِیْبٍ وَّاللہُ مِنْ وَّرَآءِھِمْ مُّحِیطٌ (مگر یہ کافر جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں، اور اللہ نے ان کو ہر طرف سے گھیرے میں لے رکھا ہے)۔ (تفہیم القرآن)
۔۔۔ یہ اشارہ ان آیات کی طرف ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ اب ہم کفار مکہ کے زور و اثر کو اس کے اطراف سے کم کرتے ہوئے مکہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
ــــ اشارہ اس واقعۂ اسراء یا معراج کی جانب ہے،جس کا ذکر سورۃ کے بالکل شروع میں آچکا تھا۔۔۔یعنی وہ عجائب قدرت جو ہم نے آپ کو شباشب کے سفر بیت المقدس میں دکھا دئیے تھے۔(تفسیر ماجدی)
ــــ اس سے مراد سورہ بروج کی آیت نمبر 19 اور20 ہیں، یعنی کافر تو آپ کو اور اس دعوت قرآن کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ اللہ انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور سورہ بروج اس سورۂ بنی اسرائیل سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھی۔اور اس سے مراد یہ ہے کہ یہ کفار اپنی معاندانہ سرگرمیوںمیں جتنی بھی کوشش چاہے کرلیں۔یہ ایک حد سے آگے نہ جاسکیں گے اور ان کی کوششوں کے علی الرغم دعوت اسلام پھیل کررہے گی۔ملعون درخت اور معراج دونوں سے کفارِ مکہ کی آزمائش:۔اسی طرح سورۂ صافات میں ایک اور خرق عادت بات کی اطلاع دی گئی تھی جو یہ تھی کہ"جہنم کی تہہ سے تھوہر کا درخت اگے گا۔یہی اہل جہنم کا کھانا ہوگا جس کے علاوہ انہیں کوئی کھانے کی چیز نہ ملے گی"(تیسیر القرآن)
ساتواں رکوع |
| وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ ﴿61﴾ قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا ﴿62﴾ قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا ﴿63﴾ وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا ﴿64﴾ اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا ﴿65﴾ رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا ﴿66﴾ وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا ﴿67﴾ اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ ﴿68﴾ اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا ﴿69﴾ وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ ۧ ۧ ﴿70ع الإسراء 17﴾ |
| 61. اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بولا کہ بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ 62. (اور از راہ طنز) کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔ 63. خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا۔ جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزا جہنم ہے (اور وہ) پوری سزا (ہے)۔ 64. اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدے کرتا رہ۔ اور شیطان جو وعدے ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے۔ 65. جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور (اے پیغمبر) تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے۔ 66. تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کے فضل سے (روزی) تلاش کرو۔ بےشک وہ تم پر مہربان ہے۔ 67. اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی پر لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا۔ 68. کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ۔ 69. یا (اس سے) بےخوف ہو کہ تمہیں دوسری دفعہ دریا میں لے جائے پھر تم پر تیز ہوا چلائے اور تمہارے کفر کے سبب تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اس غرق کے سبب اپنے لئے کوئی ہمارا پیچھا کرنے والا نہ پاؤ۔ 70. اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔ |
تفسیر آیات
61۔ لِاٰدَمَ۔آدم کے کعبۃ اللہ کی طرح صرف جہت سجدہ ہونے نہ کہ خود مسجود ہونے پر حاشیے پہلے گزرچکے۔(تفسیر ماجدی)
62۔قصۂ آدم و ابلیس پہلے سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 30تا 39،سورۂ انعام آیت نمبر 11تا 25 ،سورہ الحجر آیت نمبر 26 تا 42 میں گزرچکاہے۔ان آیات کے حواشی بھی ملحوظ رکھے جائیں۔۔۔۔ ابلیس کا آدم پر قابو پانے کا دعویٰ:۔ احتنک الفرس بمعنی گھوڑے کے منہ میں رسی یا لگام دینا اور المحنک اس آدمی کو کہتے ہیں جسے زمانہ نے تجربہ کاربنادیاہو(منجد)گویا احتنک کے معنی کسی پر عقل اور تجربہ سے قابوپاناہے اور شیطان کا دعویٰ یہ تھا کہ آدم اچھی طرح میرادیکھا بھالا ہے اور میں اس پر اور اس کی اولاد پر پوری طرح قابو پاسکتاہوں۔(تیسیر القرآن)
۔”بیخ کنی کر ڈالوں“ ، یعنی ان کے قدم سلامتی کی راہ سے اکھاڑ پھینکوں۔”احتناک“ کے اصل معنی کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے ہیں۔ چونکہ انسان کا اصل مقام خلافت الہی ہے جس کا تقاضا اطاعت میں ثابت قدم رہنا ہے، اس لیے اس مقام سے اس کا ہٹ جانا بالکل ایسا ہے جیسے کسی درخت کا بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جانا۔ (تفہیم القرآن)
64۔ اور صوتک کے عموم میں شیطانی دعایت اور پروپیگنڈے کے سارے موجودہ طریقے آگئے۔۔۔وعدھم،یعنی ان کو جھوٹے وعدوں کے خوب سبز باغ دکھا ،مثلاً یہی کہ فلاں فلاں بات سے کوئی گناہ نہ ہوگا یایہ کہ ابھی گناہ کرتے ہوتو بے کھٹکے کرتے رہو،بس مرتے وقت توبہ کرلینا یا کہ فلاں فلاں اعمال سے تم کو فلاح و خوش حالی حاصل ہوگی۔۔۔پروپیگنڈے کے فن کا تو شیطان استاد اعظم ہے۔(تفسیر ماجدی)
ــــ شیطان کی آواز سے مراد:۔ شیطان کی آواز سے مراد ہروہ پکار ہے جو اسے اللہ کی نافرمانی پر اکساتی ہو اور یہ آواز عموماً شیطانوں کے چیلوں چانٹوں ہی سے آتی ہے پھر اس شیطانی آواز میں ہر قسم کا گالی گلوچ، لڑائی جھگڑا،گانا بجانا،موسیقی،راگ رنگ اور مزامیر طرب و نشاط کی محفلیں سب کچھ آتاہے جو اللہ کی یاد سے انسان کو غافل بنائے رکھتی ہے اور اس کی اصل فطرت پر پردہ ڈالے رکھتی ہیں۔شیطان کی مال و اولاد میں شرکت کی صورتیں:۔ یعنی مال کمانے کے جتنے ناجائز ذرائع انسان اختیار کرتاہے وہ سب شیطانی انگیخت اور اس کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کرتاہے۔اور حرام خور انسان شیطان کے مشورے ایسے قبول کرتاہے جیسے شیطان بھی اس کے کام کاج میں شریک ہے۔پھر شیطان تو انسان کو یہ راہ دکھا کر الگ ہوجاتاہے اور سارےگناہ کا بار بنی آدم پر پڑجاتاہےاور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ جیسے مشرکین مکہ اپنے اموال کھیتی اور چوپایوں میں سے اللہ کا حصہ الگ نکالتے تھے اور اپنے بتوں کا الگ ۔ اسی طرح جو مال بھی بتوں کے چڑھاوے،قربانی یا غیر اللہ کی نذرونیاز کے طورپر دیاجاتاہے وہ سب بنی آدم کے اموال میں شیطان کی شراکت ہے۔اور اولاد میں شراکت یہ ہے کہ اولاد تو اللہ تعالیٰ عطافرمائے اور اس کا نام پیراں دتہ،غوث بخش، عبدالنبی ،میراں بخش، یا اسی قسم کے دوسرے شرکیہ نام رکھ کر اولاد کوغیراللہ کی طرف منسوب کیا جائے یا اولاد کیلئے اللہ کے سوا دوسروں کے درپر جائے اور ان کے ہاں قربانیاں اور نذرونیاز دے۔شیطان کے وعدے:۔ شیطان کے وعدوں اور وعدوں کی حقیقت کیلئے سورہ ابراہیم کی آیت نمبر22 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔(تیسیر القرآن)
69۔(اور اسے ایک مْعزز مخلوق بنایا ہے)یہودیت و نصرانیت کی طرح اسلام کا یہ عقیدہ ہرگز نہیں کہ انسان پیدائشی گنہگار اور ایک ذلیل ترین مخلوق ہے جسے پیدا کرکے اس کا خالق خود پچھتایا۔ملاحظہ ہوعہد عتیق۔"اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اس کے دل کے تصور اور خیال روز بروز صرف بدہی ہوتے ہیں۔تب خداوند زمین پر انسان کے پیدا کرنے سے پچھتایا اور نہایت دلگیر ہوا۔ اور خداوند نے کہا کہ میں انسان کو جسے میں نے پیدا کیا روئے زمین پر سے مٹا ڈالوں گا۔انسان کو بھی اور حیوان کو بھی اور کیڑے مکوڑے اور آسمان کے پرندوں تک۔ کیونکہ میں ان کے بنانے سے پچھتاتا ہوں"۔ (پیدائش ۔6: 5-8) (تفسیر ماجدی)
70۔انسان بجائے خود ایک معزز و مکرم ہستی ہے، اور بیشتر مخلوقات سے افضل ۔پھر اس کا دوسری مخلوقات سے ڈرنا اور ان کے مقابلہ میں احساس کمتری میں مبتلا رہنا کیا معنی رکھتاہے۔یہاں تک تو نص قرآنی ہی سے ثابت ہوگیا،لیکن بعض نے کثیر کو کل کے معنی میں لے کر انسان کو حق تعالیٰ کی افضل ترین مخلوق ہونے پر بھی استدلال کیا ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ افضل کیسے؟ پہلی بات مثلاً حسنِ صورت۔ اعتدالِ جسم۔ اعتدالِ مزاج۔ اعتدالِ قد و قامت۔۔۔عقل و شعور۔۔۔ایسے مرکبات اورمصنوعات تیار کرے جو اس کے رہنے سہنے اور نقل و حرکت اور طعام و لباس میں اس کے مختلف کام آیئں۔۔۔۔نطق و گو یائی اور فہم و تفہیم کا ملکہ۔۔۔ہاتھ کی انگلیوں سے کھانا۔۔۔ اس کے سوا سارے جانور منہ سے کھاتے ہیں۔۔۔ سب جانور مفرد چیزیں کھاتے ہیں۔۔۔ سب سے بڑی فضیلت عقل و شعور کی ہے جس سے وہ اپنے مالک کو جانے اور پہچانے۔۔۔عام جانوروں میں شہوات اور خواہشات ہیں، عقل و شعور نہیں، فرشتوں میں عقل و شعور ہےشہوات و خواہشات نہیں۔۔۔۔انسان میں یہ دونوں چیزیں جمع ہیں عقل و شعور بھی شہوات و خواہشات بھی ہیں اسی وجہ سے جب وہ شہوات و خواہشات کو عقل و شعور کے ذریعہ مغلوب کرلیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدہ چیزوں سے اپنے آپ کو روک لیتا ہے تو اس کا مقام بہت سے فرشتوں سے بھی اونچا ہوجاتا ہے۔اب صرف معاملہ فرشتوں کا رہ جاتا ہے کہ انسان اور فرشتہ میں کون افضل ہے اس میں تحقیقی بات یہ ہے کہ انسان میں عام مومنین صالحین جیسے اولیاء اللہ وہ عام فرشتوں سے افضل ہیں مگر خواص ملائکہ جیسے جبرئیل میکائیل وغیرہ ان عام صالحین سے افضل ہیں اور خواص مومنین جیسے انبیاء (علیہم السلام) وہ خواص ملائکہ سے بھی افضل ہیں۔ باقی رہے کفار و فجار انسان وہ ظاہر ہے کہ فرشتوں سے تو کیا افضل ہوتے وہ تو جانوروں سے بھی اصل مقصد فلاح و نجاح میں افضل نہیں۔ (معارف القرآن)
آ ٹھواں رکوع |
| اص مومنین جیسے انبیاء (علیہم السلام) وہ خواص ملائکہ سے بھی افضل ہیں۔ باقی رہے کفار و فجار انسان وہ ظاہر ہے کہ فرشتوں سے تو کیا افضل ہوتے وہ تو یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا ﴿71﴾ وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا ﴿72﴾ وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا ﴿73﴾ وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗ ۙ ﴿74﴾ اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا ﴿75﴾ وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا ﴿76﴾ سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ ۧ ۧ ﴿77ع الإسراء 17﴾ |
| 71. جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے۔ تو جن (کے اعمال) کی کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی وہ اپنی کتاب کو (خوش ہو ہو کر) پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا۔ 72. اور جو شخص اس (دنیا) میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور (نجات کے) رستے سے بہت دور۔ 73. اور اے پیغمبر جو وحی ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے قریب تھا کہ یہ (کافر) لوگ تم کو اس سے بچلا دیں تاکہ تم اس کے سوا اور باتیں ہماری نسبت بنالو۔ اور اس وقت وہ تم کو دوست بنا لیتے۔ 74. اور اگر تم کو ثابت قدم نہ رہنے دیتے تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے۔ 75. اس وقت ہم تم کو زندگی میں (عذاب کا) دونا اور مرنے پر بھی دونا مزا چکھاتے۔ پھر تم ہمارے مقابلے میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے۔ 76. اور قریب تھا کہ یہ لوگ تمہیں زمین (مکہ) سے پھسلا دیں تاکہ تمہیں وہاں سے جلاوطن کر دیں۔ اور اس وقت تمہارے پیچھے یہ بھی نہ رہتے مگر کم۔ 77. جو پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے تھے ان کا (اور ان کے بارے میں ہمارا یہی) طریق رہا ہے اور تم ہمارے طریق میں تغیروتبدل نہ پاؤ گے۔ |
تفسیر آیات
71۔ (میدان حشر میں حساب کتاب کیلئے)امام کی تشریح یہاں عام طورپر نامۂ اعمال سے کی گئی ہے،قرآن ہی میں امام ایک اور جگہ لوح محفوظ کے معنی میں آیا ہے۔۔۔لیکن دوسرے معنی یہ بھی اکابر ہی سےمروی ہیں کہ انسان گروہ درگروہ اپنے پیشواؤں اور لیڈروں یا اپنے زمانہ کے انبیاء کے ساتھ بلائے جائیں گے۔(تفسیر ماجدی)
73۔ (گو اس صورت میں آپ حمایت الٰہی و نصرت الٰہی کے دامن سے نکل جاتے۔)روایتیں اپنی تفصیلات میں مختلف ہیں، لیکن اتنا جزء سب میں مشترک ہے کہ قبیلۂ بنی ثقیف یا کہیں اور کچھ کافروں نے آکر نبیؐ کی خدمت میں عرض کی کہ اگر آپ فلاں فلاں احکام میں ہمارے لئے استثناء یا تخفیف کردیں تو ہم ابھی ابھی مسلمان ہوئے جاتے ہیں۔آپؐ کو ان کے ایمان کی طمع سے خیال کچھ ایسا ہی پیدا ہوچلا تھا کہ اتنے میں نزول وحی نے فیصلہ ان کے برخلاف صادر کردیا۔(تفسیر ماجدی)
76۔ یہ صریح پیشین گوئی ہے جو اس وقت تو صرف ایک دھمکی نظر آتی تھی، مگر دس گیارہ سال کے اندر ہی حرف بحرف سچی ثابت ہوگئی۔ اس سورة کے نزول پر ایک ہی سال گزرا تھا کہ کفار مکہ نے نبی ﷺ کو وطن سے نکل جانے پر مجبور کردیا اور اس پر 8 سال سے زیادہ نہ گزرے تھے کہ آپ فاتح کی حیثیت سے مکہ معظمہ میں داخل ہوئے۔ اور پھر دو سال کے اندر اندر سر زمین عرب مشرکین کے وجود سے پاک کردی گئی۔ پھر جو بھی اس ملک میں رہا مسلمان بن کر رہا، مشرک بن کر وہاں نہ ٹھیر سکا۔ (تفہیم القرآن)
77۔یعنی سارے انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ رہا ہے کہ جس قوم نے ان کو قتل یا جلا وطن کیا، پھر وہ زیادہ دیر تک اپنی جگہ نہ ٹھیر سکی۔ پھر یا تو خدا کے عذاب نے اسے ہلاک کیا، یا کسی دشمن قوم کو اس پر مسلط کیا گیا، یا خود اسی نبی کے پیروؤں سے اس کو مغلوب کرا دیا گیا۔ (تفہیم القرآن)
نواں رکوع |
| اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا ﴿78﴾ وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا ﴿79﴾ وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا ﴿80﴾ وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا ﴿81﴾ وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا ﴿82﴾ وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا ﴿83﴾ قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ ۧ ۧ ﴿84ع الإسراء 17﴾ |
| 78. (اے محمدﷺ) سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب، عشا کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ کیونکہ صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور (ملائکہ) ہے۔ 79. اور بعض حصہ شب میں بیدار ہوا کرو (اور تہجد کی نماز پڑھا کرو) ۔ (یہ شب خیزی) تمہاری لئے (سبب) زیادت ہے (ثواب اور نماز تہجد تم کو نفل) ہے قریب ہے کہ خدا تم کو مقام محمود میں داخل کرے۔ 80. اور کہو کہ اے پروردگار مجھے (مدینے میں) اچھی طرح داخل کیجیو اور (مکے سے) اچھی طرح نکالیو۔ اور اپنے ہاں سے زور وقوت کو میرا مددگار بنائیو۔ 81. اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا۔ بےشک باطل نابود ہونے والا ہے۔ 82. اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے۔ 83. اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو روگرداں ہوجاتا اور پہلو پھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے۔ 84. کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے۔ |
تفسیر آیات
78۔ قرآن ِ فجر کا مشہود ہونا اور پنجوقتہ نماز کا تعین :۔ قرآن فجر کے مشہود ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے فرشتے اس کے گواہ بنتے ہیں، جیساکہ احادیث میں بتصریح بیان ہوا ہے۔اگرچہ فرشتے ہرنماز اور ہرنیکی کے گواہ ہیں، لیکن جب خاص طورپر نمازِ فجر کی قرأت پر ان کی گواہی کا ذکر کیا گیاہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے نبیؐ نے فجر کی نماز میں طویل قرأت کرنے کا طریقہ اختیار فرمایا اور اس کی پیروی صحابۂ کرام نے کی اور بعد کے ائمہ نے اسے مستحب قرار دیا۔اس آیت میں مجملاً یہ بتایا گیا ہے کہ پنج وقتہ نماز ،جو معراج کے موقع پر فرض کی گئی تھی،اس کے اوقات کی تنظیم کس طرح کی جائے۔حکم ہواکہ ایک نماز تو طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لی جائے۔اور باقی چار نمازیں زوال آفتاب کے بعد سے ظلمتِ شب تک پڑھی جائیں۔پھر اس حکم کی تشریح کیلئے جبرائیل ؑ بھیجے گئے جنہوں نے نماز کے ٹھیک ٹھیک اوقات کی تعلیم نبیؐ کو دی۔ چنانچہ ابوداؤد اور ترمذی میں ابن عباس کی روایت ہے کہ نبی ؐ نے فرمایا:۔"جبرائیل نے دومرتبہ مجھ کو بیت اللہ کے قریب نماز پڑھائی ۔پہلے دن ظہر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جبکہ سورج ابھی ڈھلا ہی تھا اور سایہ ایک جوتی کے تسمے سے زیادہ دراز نہ تھا ،پھر عصر کی نماز ایسے وقت پڑھائی جبکہ ہرچیز کا سایہ اس کے اپنے قد کے برابر تھا،پھر مغرب کی نماز ٹھیک اُس وقت پڑھائی جبکہ روزہ دارروزہ افطار کرتاہے ،پھر عشاء کی نماز شفق غائب ہوتے ہی پڑھادی ،اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جبکہ روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہوجاتاہے۔دوسرے دن انہوں نے ظہر کی نماز مجھے اس وقت پڑھائی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے قدکے برابر تھا، اور عصر کی نماز اس وقت جبکہ ہرچیز کا سایہ اس کے قدسے دوگناہوگیا، اور مغرب کی نماز اس وقت جبکہ روزہ دار روزہ افطار کرتاہے،اور عشاء کی نماز ایک تہائی رات گزرجانے پر اور فجر کی نماز اچھی طرح روشنی پھیل جانے پر ۔پھر جبرائیل ؑ نے پلٹ کر مجھ سے کہا کہ اے محمدؐ یہی اوقات انبیاء کے نماز پڑھنے کے ہیں ،اور نمازوں کے صحیح اوقات ان دونوں وقتوں کے درمیان ہیں"(یعنی پہلے دن ہروقت کی ابتداء اور دوسرے دن ہر وقت کی انتہابتائی گئی ہے۔ہروقت کی نماز ان دونوں کے درمیان اداہونی چاہیے)۔(تفہیم القرآن)
- جیسے فتح مکہ کے موقع پر عکرمہ بن ابی جہل رسول اللہؐ سے ڈرکر بھاگ گئے اور حبشہ جانے کیلئے کشتی پر سوار ہوئے ہی تھے کہ کشتی طوفان میں گھرگئی۔کشتی میں سوار لوگ ایک دوسرے سے ْکہنے لگے:اللہ وحدہ کے سوا تمہیں کوئی نہیں بچاسکتا۔لہذا پورے اخلاص کے ساتھ اس سےدعا کرو عکرمہ نے اپنے جی میں کہا:"اللہ کی قسم! اگر سمندر میں اللہ وحدہ کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتاتوپھر یقیناً زمین پر بھی اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اے اللہ! میں تیرے حضور عہد کرتاہوں کہ اگر تونے مجھے اس (طوفان)سے بچالیا تو میں سیدھا جاکر اپنا ہاتھ نبی کریمؐ کے ہاتھ میں دے دوں گا اور یقیناً وہ مجھ پر شفقت اور مہربانی فرمائیں گے۔"چنانچہ وہ سمندر سے باہر نکل آئے۔عکرمہ سیدھے نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے (اپنا قصہ بیان کیا)اور اسلام قبول کرلیا(جیساکہ انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا)اور ایک کامل مسلمان بن گئے۔(تفسیر ابن کثیر،سورۂ بنی اسرائیل:17/67)(احسن الکلام)
ــــ یہ تفسیر خود حدیث میں آگئی ہے کہ یہ وہ نماز ہے کہ اس کے وقت رات کے فرشتوں اور دن کے فرشتوں دونوں کی حاضری ہوتی ہے۔(تفسیر ماجدی)
ـــــ پانچ نمازوں کاذکر:۔معراج کی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔ اس آیت میں ان نمازوں کے اوقات کا ذکر ہے۔چار نمازیں یعنی ظہر،عصر،مغرب اور عشا تو زوال آفتاب سے لےکر رات کے اندھیروں تک ہوئیں اور پانچویں نماز پوپھٹنے یا طلوع آفتاب سے پیشتر ہے۔اس سے پہلی آیت میں کفار کی ایذا رسانیوں اور ان سے متعلق اللہ کے دستور کا ذکرتھا۔یہاں نمازوں کا ذکر اس وجہ سے لایا گیا ہے اور مشکلات اور مصائب کے وقت صبر اور نماز سے ہی مدد طلب کرنے کا حکم ہے۔ نماز سےتعلق باللہ پیدا ہوتاہے قلبی سکون حاصل ہوتاہے ۔ اور مشکلات کے سامنے سینہ سپر ہوجانے کی قوت پیدا ہوتی ہے ان پانچ نمازوں کے اوقات کا اس آیت میں مجملاً ذکر آیا ہےتفصیل کیلئے سورۂ نساء کی آیت نمبر 103 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔(تیسیر القرآن)
79۔ نماز تہجدکا وقت اور اس کے احکام و مسائل:۔ وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ لفظ تہجد ہجود سے مشتق ہے اور یہ لفظ دو متضاد معانی کیلئے استعمال ہوتاہے اس کے معنیٰ سونے کے بھی آتے ہیں اور جاگنے بیدار ہونے کے بھی ۔ اس جگہ ومن الیل فتھجد بہ کے معنی یہ ہیں کہ رات کے کچھ حصہ میں قرآن کے ساتھ بیدار رہاکرو کیونکہ بہٖ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے(مظہری)قرآن کے ساتھ بیدار رہنے کا مطلب نماز اداکرنا ہے اسی رات کی نماز کو اصطلاح شرع میں نماز تہجد کہاجاتاہے اور عموماً اس کا یہ مفہوم لیا گیا ہے کہ کچھ دیر سوکر اٹھنے کے بعد جو نماز پڑھی جائے وہ نماز تہجد ہے لیکن تفسیر مظہر ی میں ہے کہ مفہوم اس آیت کا اتنا ہے کہ رات کے کچھ حصے میں نماز کیلئے سونے کو ترک کردو اور یہ مفہوم جس طرح کچھ دیر سونے کے بعد جاگ کر نماز پڑھنے پر صادق آتاہے اسی طرح شروع ہی میں نماز کیلئے نیند کو مؤخر کرکے نماز پڑھنے پر بھی صادق ہے اس لئے نماز تہجد کیلئے پہلے نیند ہونے کی شرط قرآن کا مدلول نہیں پھر بھی بعض روایات حدیث سے بھی تہجد کے اسی عام معنی پر استدلال کیا ہے۔(معارف القرآن)
- نافلۃًًلک یعنی یہ تمہارے لئے مزید کمک کے طورپر ہے جو راہ ِ حق کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کیلئے تمہارے صبر و ثبات میں مزید اضافہ کرے گی۔عام امتیوں کیلئے اگرچہ ضروری نہیں۔(مگر صالحین جنہوں نے کوئی بڑا کام کیا ہے، اس کا اہتمام کیا ہے)۔(تدبرقرآن)
ــــ مقامِ محمود:۔ رسول اللہؐ سے اس آیت میں مقام محمود کا وعدہ کیا گیا ہے اور یہ مقام تمام انبیاء میں سے آنحضرتؐ کیلئے مخصوص ہے اس کی تفسیر میں اقوال مختلف ہیں مگر صحیح وہ ہے جو احادیث صحیحہ میں خود رسول اللہؐ سے منقول ہے ۔یہ مقام شفاعت کبریٰ کا ہے کہ میدان حشر میں جسوقت تمام بنی آدم جمع ہوں گے اور ہر نبی و پیغمبر سے شفاعت کی درخواست کریں گے تو تمام انبیاء عذرکردیں گے صرف رسول اللہؐ کو یہ شرف عطا ہوگا کہ تمام بنی آدم کی شفاعت فرمادینگے تفصیل اس کی روایات حدیث میں طویل ہے جو اس جگہ ابن کثیر اور تفسیر مظہری میں لکھی ہے۔(معارف القرآن)
- مقامِ محمود۔"شفاعت عظمیٰ"کا مقام ہے۔مقام ِ محمود کی یہ تفسیر صحیح احادیث میں آئی ہے۔بخاری و مسلم میں اور دیگر کتبِ حدیث میں شفاعتِ کبریٰ کا نہایت مفصل بیان موجود ہے۔شارحین نے حضورؐ کیلئے دس قسم کی شفاعتیں ثابت کی ہیں۔(تفسیر عثمانی)
- مقامِ محمود،وسیلہ،فضیلہ۔ یہ "مقام محمود قیامت کے دن نبیؐ کو عطا کیا جائے گا جس پر فائز ہوکر آپؐ شفاعت فرمائیں گے جیساکہ احادیث سے واضح ہے، مثلاً ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگ اپنے گھٹنوں کے بل پڑ ے ہوئے ہوں گے اور ہر امت اپنے نبی کے پیچھے چلے گی اور لوگ کہیں گے:اے فلاں ! (اے فلاں!)اللہ سے ہماری شفاعت (سفارش)کیجیے حتیٰ کہ شفاعت کا حق نبی(محمدؐ )کو دے دیا جائے گا اور وہ وہی دن ہوگا جب اللہ تعالیٰ نبی کریمؐ کو مقام محمود پر فائز کرے گا"۔(صحیح بخاری،التفسیر،باب:11،حدیث 4718)ایک دوسری روایت میں رسول اللہؐ نے فرمایا :"جو شخص اذان سننے کے بعد یہ دعا پڑھے:۔(اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلوة القائمة اٰت محمد ن الوسیلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودن الذی وعدته) اے اللہ ! اس دعوت کامل اور اس نماز کے رب، جو ابھی قائم ہونے والی ہے، محمدؐ کو وسیلہ اور فضیلت عطافرمااور ان کو مقام محمود پر فائز فرما،جس کا تونے ان سے وعدہ کررکھا ہے۔اس کو قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہوگی۔ (صحیح بخاری۔التفسیر،باب:11۔ حدیث4719) ۔(الوسیلۃ)جنت میں ایک اعلیٰ ترین مقام ہے جو نبی کریمؐ کو بطور خاص عطا کیا جائے گا(الفضیلۃ) عزت و تکریم کا ایک اور خاص درجہ ہے جو نبی کریمؐ کو باقی تمام مخلوق پر بطور تفوق عطا کیا جائے گا۔(احسن الکلام)
۔ یعنی دنیا اور آخرت میں تم کو ایسے مرتبے پر پہنچا دے جہاں تم محمود خلائق ہو کر رہو، ہر طرف سے تم پر مدح و ستائش کی بارش ہو، اور تمہاری ہستی ایک قابل تعریف ہستی بن کر رہے۔ (تفہیم القرآن)
ــــ نمازتہجد کا پُرمشقت ہونا ظاہر ہی ہے لیکن اجر و صلہ بھی اسی درجہ کا ہے۔ احادیث اس کی فضیلتوں سے لبریز ہیں۔اور رسول اللہؐ کیلئے تو اس حکم کے بعد یہ نماز تہجد لازمی ہوگئی تھی خواہ بہ طور فرائض زائد کے،خواہ بہ طورنفل کے۔۔۔عسیٰ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتاہے تو اس کے معنی میں شک کا پہلو نہیں رہ جاتا بلکہ تیقن پیدا ہوجاتاہے۔(تفسیر ماجدی)
80۔مختصراً، یاتومجھے خود اقتدار عطاکر یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنادے تاکہ اس کی طاقت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کرسکوں،فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں اور تیرے قانونِ عدل کو جاری کرسکوں۔ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتاہے وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہوسکتی بلکہ اس کو عمل میں لانے کیلئے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔اللہ نے یہ دعا خود سکھائی ۔اقامت دین اور اس کیلئے حکومت چاہنا مطلوب و مقصود ہے نہ کہ دنیا طلبی اور دنیا پرستی جیسے جہاد کیلئے تلوار ۔(تفہیم القرآن)
- دعا میں ادخلنی کا اخرجنی پر مقدم ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمہارےداخلہ کا انتظام تمہارے نکلنے سے پہلے ہی ہوچکا ہے۔من لدنک کے الفاظ اس طرف اشارہ ہے کہ تمہارا رب اپنے پاس سے تمہارے لیے سارے انتظام فرمائے گا۔(تدبرقرآن)
81۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓسے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن حضورؐ کعبے کے بتوں پر ضرب لگارہے تھے اور آپکی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے۔جاء الحق وزھق الباطل،ان الباطل کان زھوقا۔(بخاری)۔(تفہیم القرآن)
آیات:83تا100۔۔۔مشرکین کے اعتراضات اور مطالبات نقل کئے گئے کہ وہ اس وقت تک رسول اللہؐ کو تسلیم نہیں کریں گے، جب تک وہ(1)زمین سے کوئی چشمہ پھاڑ کر نہ دکھا دیں(2)انگور اور کھجور کا کوئی باغ آپؐ کے پاس ہو،جس میں نہریں ہوں۔(3)یا آسمان سے کوئی ٹکڑا گراکر دکھائیں(4)یا اللہ کو لاکر دکھائیں(5)یا فرشتوں کو سامنے لاکر کھڑاکردیں(6)یا آپؐ کیلئے سونے کا گھر ہوجائے(7)یا آسمان پر چڑھ جائیں(8)پھرکوئی ایسی کتاب اتار کر دکھائیں جسے مشرکین خود پڑھ سکیں ۔اس کا جواب یہ دیا گیا کہ کسی رسول کے پاس ایسے اختیارات نہیں ہوتے۔یہ اختیار تو صرف اللہ کا ہے۔رسول اللہؐ تو ایک انسان بھی ہیں اور رسول بھی ہیں۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
84۔ علیٰ شاکلتہ۔یعنی اپنی افتاد طبیعت اور مزاج کے سانچے کے مطابق ۔شاکلہ کے معنی تابعین سے طبیعت ،نیت ،جبلت،طریقہ سب نقل ہوئے ہیں۔(قرطبی)۔(تفسیر ماجدی)
دسواں رکوع |
| وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا ﴿85﴾ وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ ﴿86﴾ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا ﴿87﴾ قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا ﴿88﴾ وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا ﴿89﴾ وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ ﴿90﴾ اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ ﴿91﴾ اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ ﴿92﴾ اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ ۧ ۧ ﴿93ع الإسراء 17﴾ |
| 85. اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ میرے پروردگار کی ایک شان ہے اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے۔ 86. اور اگر ہم چاہیں تو جو (کتاب) ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اسے (دلوں سے) محو کردیں۔ پھر تم اس کے لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار نہ پاؤ۔ 87. مگر (اس کا قائم رہنا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ کچھ شک نہیں کہ تم پر اس کا بڑا فضل ہے۔ 88. کہہ دو کہ اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہ لاسکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کو مددگار ہوں۔ 89. اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کردی ہیں۔ مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا۔ 90. اور کہنے لگے کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ (عجیب وغریب باتیں نہ دکھاؤ یعنی یا تو) ہمارے لئے زمین سے چشمہ جاری کردو۔ 91. یا تمہارا کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو اور اس کے بیچ میں نہریں بہا نکالو۔ 92. یا جیسا تم کہا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے لا گراؤ یا خدا اور فرشتوں کو (ہمارے) سامنے لاؤ۔ 93. یا تو تمہارا سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ۔ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک کہ کوئی کتاب نہ لاؤ جسے ہم پڑھ بھی لیں۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار پاک ہے میں تو صرف ایک پیغام پہنچانے والا انسان ہوں۔ |
تفسیر آیات
85۔ روح کے بارے میں آنحضرتؐ سے سوال : ۔ ۔۔"روح "کیا ہے؟ جو ہر ہے یا عرض؟ مادی ہے یا مجرد؟بسیط ہے یا مرکب؟ ۔۔۔بڑے بڑے حکماء اور فلاسفر آج تک خود"مادہ "کی حقیقت پر مطلع نہ ہوسکے"روح"جو بہرحال "مادہ"سے کہیں زیادہ لطیف و خفی ہے اس کی اصل ماہیت و کنہ تک پہنچنے کی پھر کیا امید کی جاسکتی ہے۔۔۔عالمِ امر اور عالم خلق کی علمی تحقیق۔۔۔اتنا جاننا کافی ہے کہ اللہ کے حکم سے ایک چیز بدن میں آپڑی ،وہ جی اٹھا،جب نکل گئی مرگیا۔۔۔(1)انسان میں اس مادی جسم کے علاوہ کوئی اور چیز موجود ہے جسے "روح"کہتے ہیں ،وہ "عالم امر "کی چیز ہے ۔۔۔(2)روح کی صفاتِ علم و شعور وغیرہ بتدریج کمال کو پہنچتی ہیں اور ارواح میں حصول کمال کے اعتبار سے بیحد تفاوت و فرق مراتب ہے۔۔۔(3)مگر اس کے یہ کمالات ذاتی نہیں ۔وہاب حقیقی کے عطاکئے ہوئے ہیں اور محدود ہیں۔(4)کتنی ہی بڑی کامل روح ہو،حق تعالیٰ کو یہ قدرت حاصل ہے کہ جس وقت چاہے اس سے کمالات سلب کرلے۔۔۔لفظ امر قرآن کریم میں بیسیوں جگہ آیا اور اس کے معنی کی تعیین میں علماء نے کافی کلام کیا ہے لیکن میری غرض اس وقت سورۂ اعراف کی آیت الالہ الخلق والامر کی طرف توجہ دلانا ہے۔جہاں امر کو خلق کے مقابل رکھا ہے۔جس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ خدا کے یہاں دومد بالکل علیحدہ علیحدہ ہیں ایک "خلق"دوسرا"امر"دونوں میں کیا فرق ہے؟اس کو ہم سیاق آیات سے بسہولت سمجھ سکتے ہیں پہلے فرمایا ۔۔۔درمیان میں استویٰ علی العرش کا ذکر کرکے جو شان حکم رانی کو ظاہر کرتاہے فرمایا یغشی اللّیل النهار یطلبه حثیثاً والشمس ۔۔۔جب تمام مشینیں فٹ ہوکر کھڑی ہوجاتی ہیں ،تب الیکڑک ،بجلی کے خزانہ سے ہرمشین کی طرف جدا جدا راستہ سے کرنٹ چھوڑدیا جاتاہے آن واحد میں ساکن و خاموش مشینین اپنی اپنی ساخت کےموافق گھومنے اور کام کرنے لگ جاتی ہیں۔۔۔اسی طرح سمجھ لو حق تعالیٰ نے اول آسمان و زمین کی تمام مشینین بنائیں جس کو"خلق"کہتے ہیں، ہرچھوٹا بڑا پرزہ ٹھیک اندازہ کے موافق تیار کیا جسے "تقدیر"کہا گیا ہے۔۔۔غرض ادھر سے حکم ہوا "چل"فوراً چلنے لگے۔۔۔کلمہ کن کا خطاب "خلق"کے بعد تدبیر و تصریف وغیرہ کیلئے ہوتاہوگا۔۔۔"روح"کے ساتھ اکثر جگہ قرآن میں امر کا لفظ استعمال ہواہے۔۔۔لہذا ثابت ہواکہ"روح"کا مبداء حق تعالیٰ کی صفت کلام ہے جو صفت علم کے ماتحت ہے۔شاید اسی لئے نفخت فیہ من روحی میں اسے اپنی طرف منسوب کیا"کلام "اور"امر"کی نسبت متکلم اور آمر سے"صادر"و"مصدر"کی ہوتی"مخلوق"و"خالق"کی نہیں ہوتی۔اسی لئے" الاله الخلق والامر "میں"امر"کو"خلق "کے مقابل رکھا ۔(تفسیر عثمانی)
ــــ یہاں روح سےمراد روح حیات نہیں بلکہ وحی یا وحی لانے والا فرشتہ ہے۔(تفہیم القرآن)
ـــــ ۔۔۔۔۔حضورؐ کے دعوائے نبوت کے متعلق قریش مکہ کا ایک وفد یہود مدینہ کے پاس گیا ۔انہوں نے کہا کہ ان سے تین سوال کرو۔۔۔۔یہ تین سوال اصحاب کہف،ذوالقرنین اور روح سے متعلق تھے۔۔۔۔۔ اگر تینوں کا جواب دے دیا یا کسی کا نہ دیا تو نبی نہیں،اگر دوکا جواب دے دیا اور تیسرے کا نہیں تو نبی ہیں (معارف القرآن)
گیارہواں رکوع |
| وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا ﴿94﴾ قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا ﴿95﴾ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا ﴿96﴾ وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا ﴿97﴾ ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا ﴿98﴾ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا ﴿99﴾ قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ ۧ ۧ ﴿100ع الإسراء 17﴾ |
| 94. اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوئی کہ کہنے لگے کہ کیا خدا نے آدمی کو پیغمبر کرکے بھیجا ہے۔ 95. کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے (کہ اس میں) چلتے پھرتے (اور) آرام کرتے (یعنی بستے) تو ہم اُن کے پاس فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے۔ 96. کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ وہی اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے۔ 97. اور جس شخص کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہے۔ اور جن کو گمراہ کرے تو تم خدا کے سوا اُن کے رفیق نہیں پاؤ گے۔ اور ہم اُن کو قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے اور بہرے (بنا کر) اٹھائیں گے۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ جب (اس کی آگ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو (عذاب دینے کے لئے) اور بھڑکا دیں گے۔ 98. یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا کئے جائیں گے۔ 99. کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (لوگ) پیدا کردے۔ اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کر دیا ہے جس میں کچھ بھی شک نہیں۔ تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا (اسے) قبول نہ کیا۔ 100. کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے۔ اور انسان دل کا بہت تنگ ہے۔ |
تفسیر آیات
95۔ رسول اس لیے آتا ہے کہ اس کی زندگی لوگوں کے لیے اسوہ اور نمونہ بنے۔ آخر کسی فرشتہ کی زندگی انسانوں کے لیے اسوہ اور نمونہ کیسے بن سکتی ہے۔( تدبرِ قرآن)
بارہواں رکوع |
| وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا ﴿101﴾ قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا ﴿102﴾ فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ ﴿103﴾ وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ ﴿104﴾ وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ ﴿105﴾ وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا ﴿106﴾ قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ ﴿107﴾ وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا ﴿108﴾ وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ ۞ ﴿109﴾ قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا ﴿110﴾ وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ ۧ ۧ ﴿111ع الإسراء 17﴾ |
| 101. اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے۔ 102. انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا ان کو کسی نے نازل نہیں کیا۔ (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ 103. تو اس نے چاہا کہ ان کو سر زمین (مصر) سے نکال دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبو دیا۔ 104. اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کرکے لے آئیں گے۔ 105. اور ہم نے اس قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ 106. اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو ٹھیر ٹھیر کر پڑھ کر سناؤ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اُتارا ہے۔ 107. کہہ دو کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (یہ فی نفسہ حق ہے) جن لوگوں کو اس سے پہلے علم (کتاب) دیا ہے۔ جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ تھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ 108. اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بےشک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہو کر رہا۔ 109. اور وہ تھوڑیوں کے بل گر پڑتے ہیں (اور) روتے جاتے ہیں اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے؎۔ 110. کہہ دو کہ تم (خدا کو) الله (کے نام سے) پکارو یا رحمٰن (کے نام سے) جس نام سے پکارو اس کے سب اچھے نام ہیں۔ اور نماز نہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ آہستہ بلکہ اس کے بیچ کا طریقہ اختیار کرو۔ 111. اور کہو کہ سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے اور نہ اس وجہ سے کہ وہ عاجز وناتواں ہے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہو۔ |
تفسیر آیات
101۔ (ان کے متدین اہل علم سے اس کی تصدیق و تحقیق کرلیجئے) فَسْــٴَـلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ۔تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے، (ولقد اٰتینا موسیٰ تسع اٰیات بینٰت اذ جاء بنی اسرائیل فسئلھم(کبیر۔بحر)تسع اٰیات بینٰت۔بصائر کا لفظ جو اگلی آیت میں آرہاہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہاں مراد توریت کے "احکام عشر ہ" نہیں بلکہ مراد وہ خوارق و معجزات ہیں جو حضرت موسیٰؑ کو فرعون اور فرعونیوں کے مقابلہ میں عطاہوئے تھے سورۃ الاعراف کی دو آیتوں 130 تا 133 میں ان کے نام حسب ذیل آئے ہیں۔طوفان بہ معنی وبا ، موت کثیر(بخاری)(کل حادثۃ تحبط بالانسان ۔راغب)۔جراد یعنی ٹڈی دل،قمل یعنی جوں پسووغیرہ ۔ضفادع یعنی مینڈک ۔دم یعنی دریا کا خون بن جانا۔سنین یعنی قحط ۔نقص من الثمرات ،یعنی پھلوں میں کمی۔ان سات کے علاوہ دواور معجزے تو مشہور ہی ہیں۔اور قرآن مجید میں بار بار مذکور ہوئے ہیں ،یعنی عصا اور یدبیضا ۔توریت میں نوکی تعداد یوں گنائی گئی ہے۔دریا کا خون بن جانا،مینڈکوں کی کثرت،جوں ،مچھر،مویشیوں کی موت،بچھوؤں کی وبا،ژالہ باری،ٹڈی دل،تاریکی۔لیکن امام رازی نے لکھا ہے کہ ان خوارق کی تفصیل میں سات کے عدد تک تو مفسرین میں اتفاق ہے اس کے بعد دو کی تعیین میں خود ان میں سخت اختلاف ہے اور ان میں سےہر ایک یہ دو معجزے الگ الگ بیان کرتاہے جن پر کوئی دلیل قطعی تو الگ رہی،دلیل ظنی بھی موجود نہیں۔ اس لئے میں ان روایتوں کو ترک کرکے حدیث نبوی کا اتباع کرتاہوں جو صفوان بن عسال نے بیان کی ہے یعنی آپؐ نے ایک یہودی کے سوال کے جواب میں ان آیات بینات کی تفسیر ان نواحکام موسوی سے کی:۔شرک نہ کرنا، اسراف نہ کرنا،زنانہ کرنا،قتل نہ کرنا،سحر نہ کرنا، سود نہ کھانا، پاک دامن عورت پر تہمت نہ لگانا۔جہاد سے نہ بھاگنا ،میت کی بے حرمتی نہ کرنا۔(تفسیر ماجدی)
ــــ سیدناموسیٰؑ کے نومعجزات:۔ یہ نوواضح آیات یا معجزے قرآن کریم میں سورہ اعراف میں مذکور ہیں اور یہ ہیں عصائے موسیٰ،یدبیضا،بھری مجلس میں برسرعام جادوگروں کی شکست ،سارے ملک میں قحط واقع ہونا، یکے بعد دیگرے طوفان ،ٹڈی دل،جوؤں،مینڈکوں،اور خون کی بلاؤں کا نازل ہونا۔۔۔۔شاید یہود نے ان احکامِ عشرہ کے متعلق پوچھا ہو جو تورات کے شروع میں بطور وصایا لکھے جاتے تھے۔(تیسیر القرآن)
۔ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، میں ایک لطیف تلمیح ہے۔ وہ یہ کہ اس مرحلے میں بنی اسرائیل اسلام کی مخالفت کی مہم میں پوری طرح شریک ہوگئے تھے اور قریش یہ معجزات کے مطالبے زیادہ تر انہی کی شہ پر کرتے تھے۔۔۔۔ انہی سے پوچھو کہ یہ سارے معجزے دکھانے کا نتیجہ کیا نکلا ؟ اگر نتیجہ یہی نکلا کہ فرعون اور اس کی قوم غرق ہو کے رہی تو آخر یہ راستہ وہ قریش کو کیوں دکھاتے ہیں۔(تدبرِ قرآن)
104۔ اسْكُنُوا الْاَرْضَ ۔یعنی اب تم فرعون مصر کی محکومی و غلامی سے آزاد ہو،جہاں چاہو رہوبسو۔الارض کا مفہوم عام وسیع ہے۔روئے زمین کا کوئی سابھی حصہ۔اور خطاب چونکہ خصوصی صرف بنی اسرائیل سے ہے، نہ کہ عام بنی آدم سے۔اس لئے مراد قدرۃً بنی اسرائیل ہی کی مختلف شاخیں اور قبیلے ہوں گے۔گویا مراد یہ ہوئی کہ اے اسرائیلیو!اب تم آزادہو،روئے زمین پر چاہے جہاں رہو بسو۔قرب قیامت کے وقت تم کو تمہاری مختلف سکوتوں ،مختلف بولیوں،مختلف معاشروں ،مختلف تہذیبوں کے باوجود اکٹھا کردیا جائے گا۔ اور یہ اسی کا ظہور ہے جو آج ارض فلسطین اور حکومت اسرائیل میں دکھائی دے رہاہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ یہ ہے اصل غرض اس قصے کو بیان کرنے کی۔ مشرکین مکہ اس فکر میں تھے کہ مسلمانوں کو اور نبی ﷺ کو سر زمین عرب سے ناپید کردیں۔ اس پر انہیں یہ سنایا جا رہا ہے کہ یہی کچھ فرعون نے موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کے ساتھ کرنا چاہا تھا۔ مگر ہوا یہ کہ فرعون اور اس کے ساتھی ناپید کردیے گئے اور زمین پر موسیٰ ؑ اور پیروان موسیٰ ؑ ہی بسائے گئے۔ اب اگر اسی روش پر تم چلو گے تو تمہارا انجام اس سے کچھ بھی مختلف نہ ہوگا۔ (تفہیم القرآن)
105۔اہل عرب کے ادب و انشاء میں یہ طریقہ عام تھا، کہ ایک ذکر میں دوسرا اور پھر تیسرا اور پھر چوتھا ذکر نکالتے چلے آتے اور پھر اسی پہلے ذکر کی طرف رجوع کرتے۔۔ فَرَقْنٰهُ۔یعنی اسے سورتوں، آیتوں وغیرہ کے ذریعہ سے الگ الگ رکھا گیا ہے۔(تفسیر ماجدی)
106۔ یہ مخالفین کے اس شبہہ کا جواب ہے کہ اللہ میاں کو پیغام بھیجنا تھا تو پورا پیغام بیک وقت کیوں نہ بھیج دیا ؟ یہ آخر ٹھیر ٹھیر کر تھوڑا تھوڑا پیغام کیوں بھیجا جا رہا ہے ؟ کیا خدا کو بھی انسانوں کی طرح سوچ سوچ کر بات کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ؟ اس شبہہ کا مفصل جواب سورة نحل آیات 101، 102 میں گزر چکا ہے اور وہاں ہم اس کی تشریح بھی کرچکے ہیں، اس لیے یہاں اس کے اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
110۔ زمانۂ جاہلیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اسم رحمان اہل کتاب کے ہاں زیادہ مستعمل تھا۔قریش نے نبیؐ کے خلاف تعصب بھڑکانے کے لیے یہیں سے یہ نکتہ پیدا کرلیا کہ یہ شخص اللہ کے بجائے رحمان کہہ کر ہمارے مذہب اور روایات پر اہل کتاب کے مذہب کو مسلط کررہاہے۔فرمایا کہ مجرد نام کا تعصب قبول حق میں مانع نہیں ہونا چاہیے،خدا کو ہر اچھے نام سے پکارا جاسکتاہے۔۔۔۔۔مشرکین کے طریقۂ عبادت میں شوروغل ،سیٹی اور تالی وغیرہ کو خاص اہمیت حاصل تھی جبکہ اہل کتاب خاموشی سے عبادت کرتے تھے ۔معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں نماز کی ہئیت پر بھی اعتراض کیا گیا جس پر حکم ہوا کہ تمہاری نمازیں اور دعائیں بہت زیادہ جہری ہوں نہ بالکل ہی سری۔ تمہاری نمازوں اور دعاؤں میں بھی امت وسط کی شان نمایاں ہونی چاہیے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)