18 - سورة الکھف (مکیہ)
| رکوع - 12 | آیات - 110 |
مضمون: دنیا کی کامیابیاں مغرور کفار کو حق کی مخالفت پر جری کردیتیں اور اہل حق کو ان کا طویل ابتلاء پریشان کردیتا ہے تو یہ خدا کی حکمتوں کو نہ سمجھنے کے سبب سے ہے۔ان حکمتوں کی وضاحت۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شان نزول : سورۃ کہف، مریم اور طٰہ تین سورتیں ہجرت حبشہ سے پہلے نازل ہوئیں جبکہ اس سے پہلے آٹھ سورتیں ( یونس تا بنی اسرائیل ) ہجرت مدینہ سے پہلے - یہ سورۃ مشرکین مکہ کے تین سوالات کے جواب میں نازل ہوئی ۔ اصحاب کہف کون تھے ؟ قصہ خضر کی حقیقت کیا ہے ؟ (روح کی حقیقت کیا ہے ؟) اور ذولقرنین کا قصہ کیا ہے ؟
نظم کلام : سورۃ یونس 14+ 1 ( سورۃ نور )۔۔۔۔۔۔ آیت 19 ( ر۔ 3) لفظ " وَلْيَتَلَطَّفْ " نصف قرآن باعتبار عدد الحروف ت نصف اول ، ل – آغاز نصف آخر ۔(احسن الکلام)
مرکزی مضون : توحید و آخرت سراسر حق ہیں اور کامیابی صرف انہی کا مقدر ہے جو ہر قسم کی آزمائش سے سرخرو ہوکرنکلتے ہیں ،خواہ یہ آزمائش زینت دنیا ( مال و اولاد ، عزت و اقتدار ) ہو یا اقتدار ملنے پر ثابت قدم رہنے پر ہو۔
ترتیب مطالعہ: (1 ) آیات : 1 تا 8 ( تمہید )۔۔ ( 2 ) آیات : 9 تا 26 ( ر- ا کی آخری آیات ، رکوع 2 / 3 اور 4 کی آیات 23 تا 26 ) - قصہ اصحاب کہف ۔۔ ( 3 ) ر – 4 ( آیات : 27 تا 31 ) ر - 5 تا 8 دنیا وی زندگی، دعوت قرآنی اور ابلیس ،دشمن انسانیت۔۔ (4 ) ر - 9 /10 قصہ خضر وموسی)۔۔(5 ) ر11۔ ( ذوالقرنین اور یاجوج و ماجوج )۔۔ ( 6 ) ر – 12 ( اختتامی )
فضائل سورۂ کہف : ۔احادیث میں آیا ہے کہ جو جمعہ کے روز سورۃ کہف تلاوت کرے گا اگلے جمعہ تک اس کے سب گناہ معاف ہوجائیں گے ۔ معتبر روایات میں ہے کہ اسکی پہلی دس آیات ( اور بعض میں اسکی آخری دس آیات ) تلاوت ( یا حفظ ) کرنے والا دجالی فتنہ سے محفوظ رہے گا ۔ (معارف القرآن)
ـــــ سورۂ کہف کی فضیلت میں مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔(1)براء بن عازبؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رات کو گھرمیں یہ سورت پڑھ رہاتھا اور گھوڑا بھی وہیں بندھا ہواتھا گھوڑا بدکنے لگا۔اس نے اوپر سر اٹھا کر دیکھا تو ایک نور دکھائی دیا جو بادل کی طرح سایہ کیے ہوئے تھا صبح اس نے یہ واقعہ رسول اللہؐ سے ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا یہ سکینہ (نور اطمینان )ہے جو اس کے پڑھنے سے نازل ہوتی تھی۔(ترمذی۔ابواب فضائل القرآن۔باب ماجاء فی سورۂ کہف)اس واقعہ کو بخاری اور مسلم نے بھی روایت کیا ہے۔(2)سیدنا ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا جو شخص اس سورہ کی ابتدائی تین آیات پڑھتا رہے وہ فتنہ دجال سے محفو ظ رہے گا۔(ترمذی،ابواب فضائل القرآن۔باب ماجاء فی سورہ کہف)اور مسلم میں اس طرح ہے کہ جو شخص سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔(مسلم بحوالہ مشکوٰۃ۔کتاب فضائل القرآن۔پہلی فصل)۔(تیسیر القرآن)
۔اس زمانے کا سب سے بڑا فتنہ مادہ پرستی ( کیونکہ مادی اسباب کے پیچھے بھاگ دوڑ اور مسبب سے غفلت ) (بیان القرآن)
۔اصحاب کہف: (i) معارف القرآن(551 تا 562)،(ii) اطلس القرآن (238 تا 240)،(iii)ضمیمہ تفہیم القرآن(769)
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ ﴿1﴾ قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ ﴿2﴾ مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ ﴿3﴾ وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ ﴿4﴾ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا ﴿5﴾ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا ﴿6﴾ اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ﴿7﴾ وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ ﴿8﴾ اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا ﴿9﴾ اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا ﴿10﴾ فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ ﴿11﴾ ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ ۧ ۧ ﴿12ع الكهف 18﴾ |
| 1. سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمدﷺ) پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی (اور پیچیدگی) نہ رکھی۔ 2. سیدھی (اور سلیس اتاری) تاکہ لوگوں کو عذاب سخت سے جو اس کی طرف سے (آنے والا) ہے ڈرائے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ اُن کے لئے (ان کے کاموں کا) نیک بدلہ (یعنی) بہشت ہے۔ 3. جس میں وہ ابدا لاآباد رہیں گے۔ 4. اور ان لوگوں کو بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ خدا نے (کسی کو) بیٹا بنا لیا ہے۔ 5. ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو تھا۔ (یہ) بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (اور کچھ شک نہیں) کہ یہ جو کہتْے ہیں محض جھوٹ ہے۔ 6. (اے پیغمبر) اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم ان کے پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کردو گے۔ 7. جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لئے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے۔ 8. اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو (نابود کرکے) بنجر میدان کردیں گے۔ 9. کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ہمارے نشانیوں میں سے عجیب تھے۔ 10. جب وہ جوان غار میں جا رہے تھے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما۔ اور ہمارے کام درستی (کے سامان) مہیا کر۔ 11. تو ہم نے غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر (نیند کا) پردہ ڈالے (یعنی ان کو سلائے) رکھا۔ 12. پھر ان کو جگا اُٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدّت وہ (غار میں) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کس کو خوب یاد ہے۔ |
تفسیر آیات
5۔ لفظ اٰبا سے عجب نہیں جو ایک لطیف اشارہ مسیحی پادریوں کے لقب آباء(FATHER)کی جانب بھی ہو۔۔۔رکوع میں عقائد شرکیہ میں سے سب سے زیادہ پرزور تردید عقیدہ ولدیت الٰہی کی ہورہی ہے۔(تفسیر ماجدی)
9۔ کہف اور رقیم کے معنیٰ:۔ کہف کسی پہاڑ کی اس کھوہ کو کہتے ہیں جو کھلی اور کشادہ ہو اور اگر تنگ ہو تواسے غار کہتے اور رقیم ،مرقوم کے معنوں میں ہے یعنی اصحاب کہف یک دم معاشرہ سے غائب ہوگئے اور تلاش بسیار کے باوجود انکا پتہ نہ چل سکاتو ان سرکاری مفرور مجرموں کے نام اور پتے قلمبند کرلیے گئے جو مدتوں حکومت کے ریکارڈ میں رہے اور بعض لوگوں کے خیال کے مطابق یہ نام اس وقت ریکارڈ کیے گئے تھے جب لوگوں کو ان کا پتہ چل گیاان کا چرچا عام ہوا اور یہ لوگ دوبارہ اس غار میں داخل ہوگئے تو لوگوں نے ان کے نام اور پتے وغیرہ لکھ کرغار سے باہر کتبہ لگادیا اور ان کے مختصر حالات بھی درج کردئیے گئے۔(تیسیر القرآن)
۔ الکھف۔کھف کے لفظی معنی وسیع پہاڑی غار کے ہیں۔۔۔۔الرقیم۔رقیم سے مراد کتبہ یا لوح مزار ہے۔اصحاب کہف کے مزار پر ایک برنجی تختی لگادی گئی تھی،جن پر ان کے نام، نسب اور مختصر حکایت درج تھی،اور اسی مناسبت سے یہ اصحاب الرقیم بھی کہلائے۔۔۔۔شہر "افسوس"(بہ کسرۂ اول )(EPHESUS)جس کے کھنڈر پر موجودہ شہر "ایاسلوک"قائم ہے،اور اسی کا نواح غالباً یہاں مراد ہے۔مسیحی ادبیات میں اس کا ذکر کثرت سے آتاہے ۔ رومیوں کے عہد میں اس کی اہمیت اس درجہ کی تھی، کہ نئے فرماں روا کیلئے لازم تھا،کہ پہلے اسی شہر میں داخل ہو،زمام سلطنت اپنے ہاتھ میں لے۔ہمارے قدیم جغرافیہ نویسوں نے بھی اس کا ذکر اسی شہر اصحاب الکہف کی حیثیت سے کیا ہے۔" (تفسیر ماجدی)
ــــ کہف کے معنی غار کے ہیں اور رقیم اس بستی کا نام ہے جہاں سے نکل کر کچھ نوجوانوں نے غار میں پناہ لی۔ان کا واقعہ رومیوں کے ہاتھوں عیسائیوں کے ابتلاء کے زمانے کا ہے۔ نصاریٰ ہی نے اس واقعہ کے متعلق نبیؐ سے سوال کیا اور مکہ کی اس وقت کی صورت حال سے مماثلت کے باعث قرآن نے اس کا جواب دیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ دورِ حاضر کے بعض محققین کی رائے میں رقیم وہی شہر ہے جسے پیٹرا کے نام سے شہرت ملی اور عرب اسے بطرہ کے نام سے جانتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
10۔ اصحاب کہف کا غار میں پناہ لینا۔ عام روایات ،کتب سیر اور قرآن کریم کے اشارہ کے مطابق یہ نوجوان سات تھے توحید پرست تھے اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے جبکہ ان کے معاشرہ میں ہر سو شرک اور بت پرستی کا دور دورہ تھا اس وقت کا رومی بادشاہ دقیانوس(DECIUS)(عہد حکومت 249ء تا 251ء )خود بت پرست اورمشرک تھا عیسائیوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے معاملہ میں بہت بدنام ہے۔ان ایام میں عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث تاہنوز وضع نہیں ہواتھا یہ عقیدہ مدتوں بعد چوتھی صدی عیسوی میں رائج ہوا لہذا ان ایام میں عیسائی توحید پرست ہی ہوتے تھے ۔ان نوجوانوں نے جب دیکھا کہ توحید پرستوں پر کس طرح سختیاں کرکے انہیں شرک و بت پرستی پر مجبور کیا جارہاہےتو انہوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کیلئے مناسب یہی سمجھا کہ لوگوں کی نظروں سے روپوش ہوجائیں چنانچہ انہوں نے ایک پہاڑ کی ایک کھلی ہوئی غار میں روپوش ہوجانے پر اتفاق کرلیا اور اپنے گھربار چھوڑ کر منتخب کردہ غارمیں جاپناہ لی اور یہ طے کیا کہ ہم میں سے باری باری ایک شخص اپنابھیس بدل کر شہر جایا کرے وہاں سے کچھ کھانے کو لے آئے اور اپنے متعلق لوگوں کی چہ میگوئیاں بھی سن آئے اور موجودہ صورت حال سے باقی ساتھیوں کو بھی مطلع کرتا رہے۔ساتھ ہی ساتھ وہ اللہ سے دعا بھی کرتے جاتے تھےکہ ہمیں اس معاملہ میں ثابت قدم رکھ اور ہم پر اپنی رحمت فرما اور ہماری صحیح رہنمائی کے سامان بھی مہیا فرما۔(تیسیر القرآن)
دوسرا رکوع |
| نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ ﴿13﴾ وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا ﴿14﴾ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ ﴿15﴾ وَ اِذِاعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا ﴿16﴾ وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ ۧ ۧ ﴿17ع الكهف 18﴾ |
| 13. ہم اُن کے حالات تم سے صحیح صحیح بیان کرتے ہیں۔ وہ کئی جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت دی تھی۔ 14. اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا۔ جب وہ (اُٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی۔ 15. ان ( ہماری قوم کے ) لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے) پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے۔ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔ 16. اور جب تم نے ان (مشرکوں) سے اور جن کی یہ خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ہے تو غار میں چل رہو۔ تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کردے گا اور تمہارے کاموں میں آسانی (کے سامان) مہیا کرے گا۔ 17. اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جس کو خدا ہدایت دے وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے۔ |
تفسیر آیات
16۔ڈائنا دیوی کے مندر کی شہرت اورشرکیہ رسوم و رواج:۔جس زمانے میں ان توحید پرست نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تھی اس وقت شہر اِفسس جس کےیہ لوگ باشندے تھے،ایشائے کوچک میں بت پرستی اور جادوگری کا سب سے بڑا مرکز تھا وہاں ڈائنا دیوی کا ایک عظیم الشان مندر تھا جس کی شہرت تمام دنیا میں پھیلی ہوئی تھی اور دور دورسے لوگ اس کی پوجا پاٹ کیلئے آتے تھے۔وہاں جادوگر،عامل، فال گیر اور تعویذ لکھنے والے دنیا بھر میں مشہور تھے۔ شام و فلسطین اور مصر تک ان کا کاروبار چلتا تھا اور اس کاروبار میں یہودیوں کا بھی خاصہ حصہ تھا جو اپنے فن کو سیدنا سلیمان ؑ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ شرک و اوہام پرستی کے اس ماحول میں توحیدپرستوں کا جو حال ہورہاتھا اس کا اندازہ اس فقرے سے کیا جاسکتا ہے جو اگلے رکوع میں آرہاہےکہ اگر انہیں ہم پر اختیار مل گیا تو وہ لوگ یاتو ہمیں سنگسار کرڈالیں گے یاپھر ہمیں اسی بت پرستی اور شرک والےمذہب میں واپس چلے جانے پر مجبور کردیں گے۔(تیسیر القرآن)
۔ ترکِ دنیا کے حق میں ارباب تصوف کا غلط استدلال : اس واقعہ سے بعض صوفی حضرات نے گوشہ نشینی اور ترک دنیا کی زندگی کی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ بات ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ ان لوگوں نے اس غار میں پناہ اس وقت لی ہے جب وہ اپنے ماحول کی اصلاح کے لیے جان کی بازی کھیل کر اپنی قوم کے ہاتھوں سنگسار کردیے جانے کے مرحلہ تک پہنچ گئے ہیں۔ مرحلہ بعینٖہ وہی مرحلہ ہے جو ہمارے نبی کریم ﷺ کو پیش آیا اور آپ کو غار ثور میں پناہ لینی پڑی۔ ان لوگوں نے یہ غار نشینی رہبانیت کے لیے نہیں اختیار کی تھی بلکہ اعدائے حق کے شر سے اپنی جانیں بچانے کے لیے اختیار کی تھی۔ (تدبرِ قرآن)
17۔ یعنی ان کے غار کا دہانہ شمال کے رخ تھا جس کی وجہ سے سورج کی روشنی کسی موسم میں بھی اندر نا پہنچتی تھی اور باہر سے گزرنے والا یہ نہ دیکھ سکتا تھا کہ اندر کون ہے۔ (تفہیم القرآن)
تیسرا رکوع |
| وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا ﴿18﴾ وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا ﴿19﴾ اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا ﴿20﴾ وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا ﴿21﴾ سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ ۧ ۧ ﴿22ع الكهف 18﴾ |
| 18. اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوتے ہیں۔ اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے تھے۔ اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آجاتے۔ 19. اور اس طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کون سا ہے۔ تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے۔ 20. اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔ 21. اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال) سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (جس کا وعدہ کیا جاتا ہے) اس میں کچھ شک نہیں۔ اس وقت لوگ ان کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان (کے غار) پر عمارت بنا دو۔ ان کا پروردگار ان (کے حال) سے خوب واقف ہے۔ جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے۔ 22. (بعض لوگ) اٹکل پچو کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتّا تھا۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے۔ ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملے) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو۔ اور نہ ان کے بارے میں ان میں کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا۔ |
تفسیر آیات
19۔یعنی اللہ نے ان کو نیند سے بیدار کیا کہ ان کے اندر باہم اس امر میں سوال و جواب ہو کہ یہ خواب کی حالت ان پر کتنی مدت طاری رہی اور بلآخر وہ اس نتیجہ تک پہنچیں کہ اس مدت کا اندازہ کرنے سے وہ بالکل قاصر ہیں ۔یہیں سے ان پریہ حقیقت بھی واضح ہوجائے کہ قیامت کے روز برزخ کی زندگی کی مدت کا اندازہ کرنے سے بھی ہر شخص قاصر رہے گا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
21۔ فحوائے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صالحین نصاریٰ کا قول تھا۔ ان کی رائے یہ تھی کہ اصحاب کہف جس طرح غار میں لیٹے ہوئے ہیں اسی طرح انہیں لیٹا رہنے دو اور غار کے دہانے کو تیغا لگا دو ، ان کا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں، کس مرتبے کے ہیں اور کس جزا کے مستحق ہیں۔۔ ۔۔۔ اس سے مراد رومی سلطنت کے ارباب اقتدار اور مسیحی کلیسا کے مذہبی پیشوا ہیں جن کے مقابلے میں صالح العقیدہ عیسائیوں کی بات نہ چلتی تھی۔ پانچویں صدی کے وسط تک پہنچتے پہنچتے عام عیسائیوں میں اور خصوصاً رومن کیتھولک کلیسا میں شرک اور اولیاء پرستی اور قبر پرستی کا پورا زور ہوچکا تھا، بزرگوں کے آستانے پوجے جا رہے تھے، اور مسیح، مریم اور حواریوں کے مجسمے گرجوں میں رکھے جا رہے تھے۔ اصحاب کہف کے بعث سے چند ہی سال پہلے 431 میں پوری عیسائی دنیا کے مذہبی پیشواؤں کی ایک کونسل اسی افسس کے مقام پر منعقد ہوچکی تھی جس میں مسیح ؑ کی الوہیت اور حضرت مریم (علیہا السلام) کے " مادر خدا " ہونے کا عقیدہ چرچ کا سرکاری عقیدہ قرار پایا تھا۔ اس تاریخ کو نگاہ میں رکھنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اَلَّذِیْنَ غَلَبُوْ اعَلٰٓی اَمْرِھِمْ سے مراد وہ لوگ ہیں جو سچے پیروان مسیح کے مقابلے میں اس وقت عیسائی عوام کے رہنما اور سربراہ کار بنے ہوئے تھے اور مذہبی و سیاسی امور کی باگیں جن کے ہاتھوں میں تھیں۔ یہی لوگ دراصل شرک کے علم بردار تھے اور انہوں نے ہی فیصلہ کیا کہ اصحاب کہف کا مقبرہ بنا کر اس کو عبادت گاہ بنایا جائے۔ ۔۔۔۔۔ مسلمانوں میں سے بعض لوگوں نے قرآن مجید کی اس آیت کا بالکل الٹا مفہوم لیا ہے۔ وہ اسے دلیل ٹھہرا کر مقبر صلحاء پر عمارتیں اور مسجدیں بنانے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہاں قرآن ان کی اس گمراہی کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جو نشانی ان ظالموں کو بعث بعد الموت اور امکان آخرت کا یقین دلانے لیے دکھائی گئی تھی اسے انہوں نے ارتکاب شرک کے لیے ایک خداداد موقع سمجھا اور خیال کیا کہ چلو، کچھ اور ولی پوجا پاٹ کے لیے ہاتھ آگئے۔ (تفہیم القرآن)
۔سیدنا ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا "تمام روئے زمین نماز کے قابل ہے سوائے قبرستان اور حمام کے"(ترمذی ،ابوداؤد،دارمی،بحوالہ مشکوٰۃ،کتاب الصلوٰۃ باب المساجد ومواضع الصلوٰۃ فصل ثانی۔)۔۔۔۔رسول اللہؐ نے اپنے متعلق ارشاد فرمایاکہ"میری قبر کو عید (عرس،میلہ)نہ بنانا اور جہاں کہیں تم ہو وہیں سے درود پڑھ لیا کرو۔تمہارادرود مجھے پہنچادیا جاتاہے"(نسائی بحوالہ مشکوٰۃ۔باب الصلوٰۃ علی النبیؐ و فضلہا۔فصل ثانی) (تیسیر القرآن)
22۔ اصحاب کہف کی تعداد اور بے کار بحثوں سے اجتناب کا حکم: ۔۔۔۔اسی طرح کی بے کار بحثوں کی ایک مثال یہ ہے کہ جس درخت سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدمؑ کو منع کیا تھا وہ کون سا درخت تھا؟ یا یہ کہ سیدنا موسیٰؑ کی ماں کا نام کیا تھا؟ یا یہ کہ نماز وسطیٰ کون سی ہے؟ اور اس بات پر بعض مفسرین نے صفحوں کے صفحے سیاہ کردئیے ہیں جن کا ماحصل یہ نکلتا ہے کہ پانچوں نمازیں ہی مختلف ترتیب سے نماز وسطیٰ بن سکتی ہیں حالانکہ احادیث میں یہ صراحت موجود ہےکہ نمازوسطیٰ سے مراد نماز عصر ہے یا یہ بحث کہ آیا کوا حلال ہے یا حرام؟ حالانکہ اگر یہ حلال ثابت ہوبھی جائے تو کوئی اسے کھانا گوارانہیں کرے گا۔اسی طرح کی ایک بحث گوہ کے حلال یا حرام ہونے کی ہے جس پر بحث و تکرار اور مناظرے بھی ہوچکے ہیں حالانکہ عملی زندگی سے ان باتوں کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔معتزلہ اور مسئلہ خلق قرآن:۔ اور جب ایسی باتیں صفات الٰہی کے بارے میں چھڑ جاتی ہیں تو فرقہ بازی تک نوبت جاپہنچتی ہے اور اپنے ایمان تک کو سلامت رکھنا غیر محفوظ ہوجاتاہے جیسے کچھ مدت پیشتر یہ بحث چھڑ گئی کہ اللہ تعالیٰ تو ہر بات پرقادرہے تو کیا وہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے اور اسی مسئلہ پر دو متحارب فریق بن گئے۔ایسی ہی ایک بحث یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ جو ہر چیز کا علم رکھتا ہے توکیا وہ جادو کا علم بھی جانتاہے ؟اور اس کی سب سے واضح مثال مسئلہ خلق قرآن ہے جو معتزلہ نے پیدا کیا تھا ور وہ قرآن کو غیر مخلوق سمجھنے والوں کو مشرک قرار دیتے تھے۔خلفائے بنوعباس بالخصوص مامون الرشید معتزلہ کے عقائد سے شدید متاثر تھا۔اس نے بہت سےعلماء کو محض اس بناپر قتل کردیا تھا کہ وہ قرآن کو غیر مخلوق سمجھتے تھےاور امام احمد بن حنبل نے اسی مسئلہ کی خاطر مدتوں قیدوبند اور مارپیٹ کی سختیاں جھیلی تھیں۔بلآخر خلیفہ واثق باللہ کے عہد میں ایک سفید ریش بزرگ خلیفہ کے پاس آیا اور درباری معتزلی عالم ابن ابی داؤد سے مناظرہ کی اجازت طلب کی۔ خلیفہ نے اجازت دیدی تو اس بزرگ نے ابن ابی داؤد سے کہا :میں ایک سادہ سی بات کہتاہوں جس بات کی طرف نہ اللہ کے رسول نے دعوت دی اور نہ خلفائے راشدین نے،تم اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہو اور اسے منوانے کیلئے زبردستی سے کام لیتے ہو تو اب دوہی باتیں ہیں۔ایک یہ کہ ان جلیل القدر ہستیوں کو اس مسئلہ کا علم تھا لیکن انہوں نے سکوت اختیار فرمایا تو تمہیں بھی سکوت اختیار کرنا چاہیے اور اگر تم کہتے ہو کہ ان کو علم نہ تھا تو اے گستاخ ابن گستاخ ! ذرا سوچ جس بات کا علم نہ اللہ کے رسول کو تھا اور نہ خلفائے راشدین کو ہوا تو تمہیں کیسے اس کا علم ہوگیا؟ ابن ابی داؤد سے اس کا کچھ جواب نہ بن پڑا ۔واثق باللہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور دوسرے کمرہ میں چلا گیا۔ وہ زبان سے باربار یہ فقرہ دہراتا تھا کہ جس بات کا علم نہ اللہ کے رسول کو ہوانہ خلفائے راشدین کو ہوا اس کا علم تجھے کیسے ہوگیا؟ مجلس برخاست کردی گئی خلیفہ نے بزرگ کو عزت و احترام سے رخصت کیا اور اس کے بعد امام احمد بن حنبل پر سختیاں بند کردیں اور حالات کا پانسا پلٹ گیا اور آہستہ آہستہ مسئلہ خلق قرآن کا فتنہ جس نے بے شمار مسلمانوں کی ناحق جان لی تھی، ختم ہوگیا۔غور فرمائیے کہ اس مسئلے کا انسان کی عملی زندگی سے کچھ تعلق ہے؟بفرض محال اس کے مخلوق ثابت ہوجانے کے بعد اس کےاحکام میں کوئی فرق پڑسکتا ہے؟ ایسی بےکار بحثوںمیں پڑنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ایسی بحثوں میں پڑنے کاہدایت سے کچھ تعلق نہیں ہوتابلکہ شیطانی راہیں بے شمار کھل جاتی ہیں۔(تیسیر القرآن)
۔ تاہم چونکہ تیسرے قول کی تردید اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی ہے اس لیے یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ صحیح تعداد سات ہی تھی۔ (تفہیم القرآن)
چوتھا رکوع |
| وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ ﴿23﴾ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا ﴿24﴾ وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا ﴿25﴾ قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا ﴿26﴾ وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا ﴿27﴾ وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا ﴿28﴾ وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا ﴿29﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ ﴿30﴾ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ ۧ ۧ ﴿31ع الكهف 18﴾ |
| 23. اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کردوں گا۔ 24. مگر (انشاء الله کہہ کر یعنی اگر) خدا چاہے تو (کردوں گا) اور جب خدا کا نام لینا بھول جاؤ تو یاد آنے پر لے لو۔ اور کہہ دو کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے۔ 25. اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے۔ 26. کہہ دو کہ جتنی مدّت وہ رہے اسے خدا ہی خوب جانتا ہے۔ اسی کو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں (معلوم) ہیں۔ وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے۔ اس کے سوا ان کا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے۔ 27. اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے۔ 28. اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو۔ اور تمہاری نگاہیں ان میں (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائشِ زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ۔ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا۔ 29. اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے۔ ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیر رہی ہوں گی۔ اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) مونہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری۔ 30. (اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ 31. ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے (اور) تختوں پر تکیئے لگا کر بیٹھا کریں گے۔ (کیا) خوب بدلہ اور (کیا) خوب آرام گاہ ہے۔ |
تفسیر آیات
ْ24۔وعدہ کے وقت ان شاء اللہ کہنے کی ہدایت:۔ہوا یہ تھا کہ جب کفارمکہ نے آپ سے اصحاب کہف وغیرہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے انہیں جواب دیا کہ میں کل ان کا جواب دوں گا۔آپ کا خیال یہ تھا کہ دریں اثناء شاید جبرائیل آئے تو ان سے پوچھ کربتادوں گایااللہ تعالیٰ از خود کل تک بذریعہ وحی مطلع کردے مگر کل تک ان دونوں میں کوئی بات بھی نہ ہوئی پھر چند دن بعد جبرائیل وحی لیکر اس سورہ کی آیات لے کر آئے اور ساتھ ہی آپ کیلئے یہ ہدایت بھی نازل ہوئی کہ کسی سے ایسا حتمی وعدہ نہ کیا کریں کہ میں کل تک یہ کام کردوں گا اور اگر وعدہ کرنا ہی ہو تو ساتھ الا ماشاء اللہ ضرور کہا کریں(یعنی اگر اللہ کو منظور ہوا تو فلاں وقت کام کروں گا)اور اگرکبھی آپ یہ بات کہنا بھول جائیں توجس وقت یا د آئے اسی وقت کہہ لیا کریں۔مطلب یہ ہے کہ ہرکام اللہ کی مشیت کے تحت ہی ہوتاہے لہذا اس بات کو ہر وقت ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ۔یہ ہدایت اس لیے دی گئی تھی کہ کسی کو یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ وہ کل تک یا فلاں وقت تک فلاں کام کرسکے گا یا نہیں یا کسی کو غیب کا علم حاصل ہے اور نہ کوئی اپنے افعال میں خود مختار ہے کہ جو چاہے کرسکے لہذا کوئی شخص خواہ پورے صدق دل اور سچی نیت سے بھی کوئی وعدہ یا مستقبل کے متعلق بات کرے تو اسے ان شاء اللہ ضرور کہہ لینا چاہئیے۔۔۔۔اس جملہ کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں مثلاًایک یہ کہ آئیندہ کوئی موقع ہی ایسا نہ آئے کہ میں ان شاءاللہ یا ماشاءاللہ کہنا بھول جاؤں دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ اصحاب کہف سے بھی زیادہ حیران کن طریقے سے میری مدد فرمائے جیساکہ غار ثور کے قصہ میں ہوا۔ تیسرا یہ کہ جس کام کے کرنے کو آپ کہہ رہے ہیں آپ کو یہ علم نہیں کہ یہی کام بہتر ہے یا کوئی دوسرا کام اس سے بہتر ہے لہذا اللہ پر توکل کرتے ہوئے یوں کہا کرو کہ میرا رب اس معاملہ میں صحیح بات یا صحیح طرزِ عمل کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا۔(تیسیر القرآن)
ــــ آیت کے شان نزول یا آج کل کی اصطلاح میں پس منظر یہ ہے کہ ایک بار منکرین نے آکر رسول اللہؐ سے تین سوالات بہ طور امتحان دریافت کئے،ایک یہ کہ ماہیت روح کیا ہے؟دوسرے یہ کہ اصحاب کہف کون تھے؟ تیسرے یہ کہ ذوالقرنین کا کیا قصّہ ہے؟ آپؐ نے وحی الٰہی کے بھروسہ پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔اتفاق سے وحی 15 دن تک نہ آئی ۔آپؐ کو قدرۃً غم و صدمہ رہا۔اس کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔(تفسیر ماجدی)
31۔ اَرَآىٕك جمع ہے اریکہ کی۔ اریکہ عربی زبان میں ایسے تخت کو کہتے ہیں جس پر چتر لگا ہوا ہو۔ اس سے بھی یہی تصور دلانا مقصود ہے کہ وہاں ہر جنتی تخت شاہی پر متمکن ہوگا۔ (تفہیم القرآن)
۔ جنت اور دوزخ کے احوال سے متعلق ہم یہ لکھ چکے ہیں کہ یہ متشابہات میں داخل ہیں۔ جن تمثیلات و تشبیہات سے اس نادیدہ عالم کے احوال کو ہمارے ذہن کے قریب لایا جاسکتا ہے، قرآن ان کےذ ریعہ سے ان کو ہمارے ذہن کے قریب کرتا ہے۔ رہی ان کی اصل حقیقت تو اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ دوزخ کے محل یا جنت کے کنگن اور سندس اور استبرق کی حقیقت یہاں نہیں معلوم کی جاسکتی۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ قرآن ان چیزوں کے بیان میں اہل عرب ہی کی معلومات اور انہی کے ذوق کو ملحوظ رکھتا ہے اس لیے کہ تشبیہ و تمثیل میں موثر وہی چیزیں ہوتی ہیں جن سے مخاطب واقف ہوں۔ (تدبرِ قرآن)
پانچواں رکوع |
| وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ ﴿32﴾ كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ ﴿33﴾ وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا ﴿34﴾ وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ ﴿35﴾ وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا ﴿36﴾ قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ ﴿37﴾ لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا ﴿38﴾ وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ ﴿39﴾ فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ ﴿40﴾ اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا ﴿41﴾ وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا ﴿42﴾ وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ ﴿43﴾ هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ ۧ ۧ ﴿44ع الكهف 18﴾ |
| 32. اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کئے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی۔ 33. دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے۔ اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی۔ 34. اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا۔ کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں۔ 35. اور (ایسی شیخیوں) سے اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو۔ 36. اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو (وہاں) ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا۔ 37. تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس (خدا) سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا مرد بنایا۔ 38. مگر میں تو یہ کہتا ہوں کہ خدا ہی میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ 39. اور (بھلا) جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے ماشاالله لاقوة الابالله کیوں نہ کہا۔ اگر تم مجھے مال واولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتے ہو۔ 40. تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (تمہارے باغ) پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہوجائے۔ 41. یا اس (کی نہر) کا پانی گہرا ہوجائے تو پھر تم اسے نہ لاسکو۔ 42. اور اس کے میووں کو عذاب نے آگھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر (حسرت سے) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا۔ 43. (اس وقت) خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔ 44. یہاں (سے ثابت ہوا کہ) حکومت سب خدائے برحق ہی کی ہے۔ اسی کا صلہ بہتر اور (اسی کا) بدلہ اچھا ہے۔ |
تفسیر آیات
37۔ اگرچہ اس شخص نے خدا کی ہستی سے انکار نہیں کیا تھا (سابقہ آیت کا ترجمہ ) لیکن اس کے باوجود اسکے ہمسائے نے اسے کفر باللہ کا مجرم قرار دے دیا ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ کفر باللہ محض ہستی باری کا انکار نہیں بلکہ تکبر و تفاخر ، غرور اور انکار آخرت بھی اللہ سے کفر ہے ۔ (تفہیم القرآن)
38۔ شرک کا مخفی خناس - اگر کوئی اپنے مال وجاہ پر مغرور ہے ۔ اسے اپنی قابلیت کا ثمرہ و نتیجہ اور اپنے ذاتی استحقاق کا کرشمہ خیال کرتا ہے اور یہ خناس اسکے دماغ میں سمایا ہوا ہے کہ اس سے اسکو کوئی نہیں چھین سکتا تو یہ بھی شرک ہے ۔ (تدبر قرآن)
39۔" مَاشَاءَاللَّه ُلَاقُوَّةَإِلَّابِاللَّهِ " پسند آنے والی چیز کو دیکھ کر یہ کہے تو نہ اسے کوئی نقصان پہنچے گا نہ نظر لگے گی ۔(معارف القرآن)
42 ۔ کہیں کسی دیوی ، دیوتا سورج چاند ستارہ کا ذکر نہیں ۔ اب انکا شرک ختم – اب مادہ پرستی کا شرک ( لکشمی دیوی )(بیان القرآن)
چھٹا رکوع |
| وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا ﴿45﴾ اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا ﴿46﴾ وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ ﴿47﴾ وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا ﴿48﴾ وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ ۧ ۧ ﴿49ع الكهف 18﴾ |
| 45. اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا۔ تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی۔ پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں۔ اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 46. مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی (رونق و) زینت ہیں۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے پروردگار کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں۔ 47. اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف میدان دیکھو گے اور ان (لوگوں کو) ہم جمع کرلیں گے تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ 48. اور سب تمہارے پروردگار کے سامنے صف باندھ کر لائے جائیں گے (تو ہم ان سے کہیں گے کہ) جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح آج) تم ہمارے سامنے آئے لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (قیامت کا) کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا۔ 49. اور (عملوں کی) کتاب (کھول کر) رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا) ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو۔ (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے۔ اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ |
تفسیر آیات
46۔۔۔۔۔اور عقیلی نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سبحان اللہ والحمد للہ ولآالہ الا اللہ واللہ اکبر یہی باقیات صالحات ہیں، یہی مضمون طبرانی نے بروایت حضرت سعد بن عبادہ بھی روایت کیا ہے، اور صحیح مسلم و ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کلمہ یعنی سبحان اللہ والحمد للہ ولآالہ الا اللہ واللہ اکبر میرے نزدیک ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر آفتاب کی روشنی پڑتی ہے، یعنی سارے جہان سے۔ (معارف القرآن)
47۔ یعنی اس پر کوئی روئیدگی اور کوئی عمارت باقی نہ رہے گی، بالکل ایک چٹیل میدان بن جائے گی۔ یہ وہی بات ہے جو اس سورے کے آغاز میں ارشاد ہوئی تھی کہ " جو کچھ اس زمین پر ہے اسے ہم نے لوگوں کی آزمائش کے لیے ایک عارضی آرائش بنایا ہے۔ ایک وقت آئے گا جب یہ بالکل ایک بےآب وگیاہ صحرا بن کر رہ جائے گی "۔ (تفہیم القرآن)
ساتواں رکوع |
| وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا ﴿50﴾ مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا ﴿51﴾ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا ﴿52﴾ وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ ۧ ۧ ﴿53ع الكهف 18﴾ |
| 50. اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔ کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا بدل ہے۔ 51. میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت۔ اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا۔ 52. اور جس دن خدا فرمائے گا کہ (اب) میرے شریکوں کو جن کی نسبت تم گمان (الوہیت) رکھتے تھے بلاؤ تو وہ ان کو بلائیں گے مگر وہ ان کو کچھ جواب نہ دیں گے۔ اور ہم ان کے بیچ میں ایک ہلاکت کی جگہ بنادیں گے۔ 53. اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں۔ اور اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہ پائیں گے۔ |
تفسیر آیات
50۔ ذُرِّیَّتَهٗ۔ذریت کے معنی نسل یا اولاد کے ہیں ۔اور سلسلۂ نسل جس طرح انسانوں میں چل رہاہے، جنات میں بھی قائم ہے۔ابلیس کے فرشتہ نہ ہونے پر محققین نے اس لفظ ذریۃ سے استشہاد مزید کیا ہے سلسلۂ نسل تو جنات ہی میں قائم ہے نہ کہ فرشتوں میں۔(تفسیر ماجدی)
۔ رہا یہ سوال کہ جب ابلیس فرشتوں میں سے نہ تھا تو پھر قرآن کا یہ طرز بیان کیونکر صحیح ہوسکتا ہے کہ " ہم نے ملائکہ کو کہا کہ آدم کو سجدہ کرو پس ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا " ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فرشتوں کو سجدے کا حکم دینے کے معنی یہ تھے کہ وہ تمام مخلوقات ارضی بھی انسان کی مطیع فرمان بن جائیں جو کرۂ زمین کی عملداری میں فرشتوں کے زیر انتظام آباد ہیں۔ چنانچہ فرشتوں کے ساتھ یہ سب مخلوقات بھی سر بسجود ہوئیں۔ مگر ابلیس نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ (لفظ ابلیس کے معنی کے لیے ملاحظہ ہو المومنون حاشیہ 73) (تفہیم القرآن)
52۔ مھلکہ یعنی تباہی اور ہلاکت کا کھڈ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ مفسرین نے اس آیت کے دو مفہوم بیان کیے ہیں۔ ایک وہ جو ہم نے اوپر ترجمے میں اختیار کیا ہے۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ " ہم ان کے درمیان عداوت ڈال دیں گے "۔ یعنی دنیا میں ان کے درمیان جو دوستی تھی آخرت میں وہ سخت عداوت میں تبدیل ہوجائے گی۔ (تفہیم القرآن)
آ ٹھواں رکوع |
| وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا ﴿54﴾ وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا ﴿55﴾ وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا ﴿56﴾ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا ﴿57﴾ وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا ﴿58﴾ وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ ۧ ۧ ﴿59ع الكهف 18﴾ |
| 54. اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔ 55. اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں۔ اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں۔ بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انہیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو۔ 56. اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں۔ اور جو کافر ہیں وہ باطل کی (سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز سے ان کو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا۔ 57. اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اُس نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو رستے کی طرف بلاؤ تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے۔ 58. اور تمہارا پروردگار بخشنے والا صاحب رحمت ہے۔ اگر وہ ان کے کرتوتوں پر ان کو پکڑنے لگے تو ان پر جھٹ عذاب بھیج دے۔ مگر ان کے لئے ایک وقت (مقرر کر رکھا) ہے کہ اس کے عذاب سے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے۔ 59. اور یہ بستیاں (جو ویران پڑی ہیں) جب انہوں نے (کفر سے) ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کر دیا۔ اور ان کی تباہی کے لئے ایک وقت مقرر کردیا تھا۔ |
تفسیر آیات
54۔ انسان فطرتا ً جھگڑالو واقع ہواہے ۔مشیت الٰہی کو بہانہ بنانا :۔ انسان کی ہدایت کیلئے اس کی عقل اور اس کے دل کو اپیل کرنے والی بہت سے دلیلیں مختلف پیرایوں میں اور دل نشین انداز میں بیان کردی ہیں مگر انسان کچھ اس طرح کا جھگڑالو اور ہٹ دھرم واقع ہوا ہے کہ جس بات کو نہ ماننے کا تہیہ کرلے اس پر کئی طرح کے اعتراض وارد کرسکتاہے۔جھوٹے دلائل اور حیلوں بہانوں سے جواب پیش کرسکتاہے۔بات کا موضوع ہی بدل کر گندم کاجواب چنے میں دے سکتاہے مگرحقیقت کو قبول کرلینا گوارا نہیں کرتا اور انسان کی یہ سرشت صرف ضدی ،ہٹ دھرم اور مجرم قسم کے لوگوں میں نہیں ہوتی بلکہ بعض دفعہ ایک نیکو کار مومن بھی اپنےآپ کو حق بجانب ثابت کرنے کیلئے کوئی عذر تلاش کرلیتا ۔چنانچہ سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہؐ ہمارےہاں تشریف لائےاور ہم دونوں (میں اور فاطمہؓ)کو مخاطب کرکےکہا کہ "تم لوگ تہجد کی نمازکیوں نہیں پڑھتے"میں نے جواب دیا "یا رسول اللہؐ ہمارے نفس اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہے گا کہ ہم اٹھیں تو اٹھ جائیں گے"یہ سن کر آپؐ فوراً واپس ہوگئے اور اپنی ران پر ہاتھ رکھ کر فرمایا "وکان الانسان اکثرشئ جدلا"(بخاری،کتاب التھجد۔باب تحریض النبی علی قیام اللیل والنوافل)گویا سیدنا علیؓ نے اپنے قصور کا اعتراف کرنے کی بجائے مشئیت الٰہی کا عذر پیش کردیا اور اس اختیار کی طرف توجہ نہ کی جو انہیں اور ہر انسان کو عطا کیا گیاہے۔(تیسیر القرآن)
59۔ تِلْكَ الْقُرٰۤى۔یعنی ان بستیوں کے باشندے۔(تفسیر ماجدی)
نواں رکوع |
| وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا ﴿60﴾ فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا ﴿61﴾ فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا ﴿62﴾ قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا ﴿63﴾ قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ ﴿64﴾ فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا ﴿65﴾ قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا ﴿66﴾ قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا ﴿67﴾ وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا ﴿68﴾ قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا ﴿69﴾ قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ ۧ ۧ ﴿70ع الكهف 18﴾ |
| 60. اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں۔ 61. جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنالیا۔ 62. جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے۔ 63. (اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا۔ 64. (موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے۔ 65. (وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا۔ 66. موسیٰ نے ان سے (جن کا نام خضر تھا) کہا کہ جو علم (خدا کی طرف سے) آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں۔ 67. (خضر نے) کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے۔ 68. اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو۔ 69. (موسیٰ نے) کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا۔ 70. (خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں۔ |
تفسیر آیات
60۔ اس مرحلے پر یہ قصہ سنانے سے مقصود کفار اور مومنین دونوں کو ایک اہم حقیقت پر متنبہ کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ ظاہر بین نگاہ دنیا میں بظاہر جو کچھ ہوتے دیکھتی ہے اس سے بالکل غلط نتائج اخذ کرلیتی ہے کیونکہ اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی وہ مصلحتیں نہیں ہوتیں جنہیں ملحوظ رکھ کر وہ کام کرتا ہے۔ ظالموں کا پھلنا پھولنا اور بےگناہوں کا تکلیفوں میں مبتلا ہونا۔ نافرمانوں پر انعامات کی بارش اور فرمانبرداروں پر مصائب کا ہجوم، بدکاروں کا عیش اور نیکو کاروں کی خستہ حالی، یہ وہ مناظر ہیں جو آئے دن انسانوں کے سامنے آتے رہتے ہیں، اور محض اس لیے کہ لوگ ان کے کنہ کو نہیں سمجھتے، ان سے عام طور پر ذہنوں میں الجھنیں، بلکہ غلط فہمیاں تک پیدا ہوجاتی ہیں۔ (تفہیم القرآن)
۔سیدنا موسیٰؑ کا اپنے آپ کو سب سے بڑا عالم قراردینا:۔یہاں سے اب قصۂ موسیٰؑ و خضرؑ کا آغازہورہاہے جو قریش مکہ کا دوسرا سوال تھا۔اس کی تشریح کیلئے بخاری شریف کی درجہ ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے۔1۔اللہ کی طرف سے اس کے بندہ(خضر)سے کسبِ فیض کا حکم:۔سیدنا سعید بن جبیرؓکہتے ہیں کہ میں نے ابن عباسؓ کو کہا کہ نوف بکالی(کعب احبار کا بیٹا)کہتاہے کہ جو موسیٰؑ خضر سے ملنے گئے تھے وہ بنی اسرائیل کے موسیٰؑ نہ تھے۔(بلکہ وہ موسٰی بن افراثیم بن یوسف تھے)تو ابن عباس ؓ کہنے لگے وہ اللہ کا دشمن جھوٹ بکتاہے میں نے خود رسول اللہؐ سے سنا :آپؐ نے فرمایا ایک دفعہ موسیٰؑ نے کھڑے ہوکر خطبہ سنایا(سامعین میں سے )کسی نے پوچھا"اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ عالم کون ہے؟ "موسیٰؑ نے کہا "میں"اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انہیں یہ بات اللہ کے حوالہ کرنا چاہیے تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی کی کہ دودریاؤں کےسنگھم پر میرا ایک بندہ(خضر )ہے جو تم سے زیادہ عالم ہے۔موسیٰؑ نے عرض کی "میں اسے کیسے مل سکتا ہوں؟"فرمایا"اپنے ساتھ ایک مچھلی اپنی زنبیل میں رکھ لو جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں وہ بندہ ملے گا"چنانچہ موسیٰؑ نے ایک مچھلی اپنی زنبیل میں رکھ لی اور وہ خود اور ان کا خادم یوشع بن نون سفر پر روانہ ہوئے تاآنکہ وہ(راستہ میں) ایک چٹان پر پہنچے ،وہاں وہ اس چٹان پر اپنا سر رکھ کر سوگئے اس وقت وہ مچھلی زنبیل میں سے نکلی اور دریا میں جاگری اور سرنگ کی طرح کا بناہوا راستہ چھوڑ گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس رستہ سے پانی کی روانی کوروک دیا اور وہ راستہ ایک طاق کی طرح دریا میں بنا رہ گیا ۔جب موسیٰؑ بیدار ہوئے تو ان کا خادم(جو منظر دیکھ رہاتھا )انہیں اس واقعہ کی اطلا ع دینا بھول گیا اور وہ پھر سفر پر چل کھڑے ہوئے وہ دن کا باقی حصہ اور رات بھی چلتے رہے۔۔۔۔یہ واقعہ مصر ہی میں پیش آیا ہوگا اور مصر میں دریاؤں کا سنگھم ایک ہی ہے اور وہ ہے موجودہ شہر خرطوم جہاں دریائے نیل کی دوشاخیں بحر ابیض اور بحر ازرق آپس میں ملتی ہیں ۔یہ سنگھم کا علاقہ بھی کوئی مخصوص مقام نہ تھا بلکہ میلوں میں پھیلا ہواتھا۔(تیسیر القرآن)
ــــ حضرت موسی ؑ کا یہ سفر سوڈان کی جانب تھا جہاں موجودہ شہر خرطوم کے قریب دریائے نیل کی دو بڑی شاخیں البحر الابیض اور البحر الازرق آکر ملتی ہیں ۔ تیسرا کام تو شریعت سے نہیں ٹکراتا مگر پہلے دونوں کام الہام پر عمل کرنا خود صاحب الہام تک کیلئے جائز نہیں جو نص شرعی کے خلاف ہو۔ (تفہیم القرآن)
61۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ یہ تھکاوٹ آپ کو اس وقت ہوئی جب آپ اپنی منزلِ مقصود سے آگے نکلے جارہے تھے اس سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔(تیسیر القرآن)
65۔ اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔ حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔ (تفہیم القرآن)
۔ اس پر بھی اظہار حیرت کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰؑ تو خود ایک پیمبر جلیل القدرتھے اور اس لئے لازمی طورپر اپنے وقت کے اعلم الناس تھے،انہیں کسی اور کے پاس کیسے تعلیم کیلئے بھیجا گیا۔لیکن جیساکہ امام رازیؒ نے ارشاد فرمایا ہے۔یہ بآسانی ممکن ہے کہ ایک شخص بہت سے علوم میں اعلم ہوپھر بھی بعض علوم سے ناواقف ہو اور ان کے سیکھنے کیلئے وہ کہیں اور بھیج دیا جائے۔(تفسیر ماجدی)
69۔ حضرت موسیٰؑ کے خیال میں بھی یہ بات نہ تھی، کہ ایسے مقبول بزرگ کوئی حرکت خلاف شریعت کریں گے۔اسی لئے انہوں نے مطیع رہنے کی ہامی بھر لی،گو حالاً ان کا وعدہ یہ تھا کہ امور مباح میں آپ کا ساتھ دیتا رہوں گا اس پر بھی اتنی احتیاط رکھی کہ لفظ ان شاء اللہ ملا لیا۔جس سے اقرار عہد و پیمان نہین ہونے پایا ۔اور اس لئے ان دونوں باتوں کی بناپر آئندہ آپؑ کیلئے نقض عہد کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔(تفسیر ماجدی)
ـــــ قصۂ خضر و موسیٰؑ:۔(i) ص: 605 تا 615(معارف القرآن)(ii) ص: 34 تا 42(تفہیم القرآن)
دسواں رکوع |
| فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا ﴿71﴾ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا ﴿72﴾ قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا ﴿73﴾ فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا ﴿74﴾ پارہ:16 قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا ﴿75﴾ قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا ﴿76﴾ فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا ﴿77﴾ قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا ﴿78﴾ اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا ﴿79﴾ وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ ﴿80﴾ فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا ﴿81﴾ وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًاؕ ۠ ۧ ۧ ﴿82ع الكهف 18﴾ |
| 71. تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں۔ یہ تو آپ نے بڑی (عجیب) بات کی۔ 72. (خضر نے) کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے۔ 73. (موسیٰ نے) کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے۔ 74. پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی۔ 75. (خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے۔ 76. انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے۔ 77. پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا)۔ 78. خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔ (مگر) جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں۔ 79. (کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)۔ 80. اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا، کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔ 81. تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچّہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو۔ 82. اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے۔ |
تفسیر آیات
71۔ سیدنا خضر سے جب ان دونوں کی ملاقات ہوگئی اور سیدنا موسیٰؑ اور سیدنا خضر میں ابتدائی مکالمہ ہوا اس کے بعد سیدنا یوشع بن نون کا کہیں ذکر نہیں ملتا اگلا سفر صرف سیدنا موسیٰؑ اور سیدنا خضر نے کیا تھا۔شاید سیدنا موسیٰؑ نے سیدنا یوشع کو واپس بھیج دیا ہو۔(تیسیر القرآن)
72۔ (جس پر سکوت کرنا میرے حد عہد سے خارج ہے) اِمْرًا۔کہتے ہیں ایسی بات کو جو انوکھی اور معیوب ہو۔۔۔۔اور مجا ہد تابعی سے اس کی تفسیر منکر سے آئی ہے۔(صحیح بخاری۔کتاب التفسیر )۔۔۔۔(سودیکھئے وہی بات آگے آئی)اس نباہ نہ کرسکنے سے ،جس کا مبنی و منشا تمام تر غیرت دینی و جوش ایمانی تھا، حضرت موسیٰؑ کی منقصت نہیں،بلکہ اور مدح و منقبت ہی نکلتی ہے۔(تفسیر ماجدی)
79۔ یعنی بادشاہ کے حکم سے تمام صحیح و سالم کشتیاں قبضہ میں لی جارہی تھیں۔ میں نے کشتی کو عیب دار کرکے غریبوں کو ان کے ذریعۂ معاش سے محروم ہونے سے بچالیا۔یہ مثال تھی اس امر کی کہ دنیامیں نیکوں اور غریبوں کو اگر کوئی مالی نقصان پہنچتاہے تو اس کے اندر انہی کا کوئی فائدہ مضمر ہوتاہے،اس لیے انہیں اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا چاہئے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
81۔یعنی لڑکے کی موت اس لیے ہوئی کہ اس کی اٹھان کفر پر تھی ۔اس سرکش و نافرمان بیٹے کی جگہ اللہ تعالیٰ مومن ماں باپ کو پاک نفس اور ہمدرد اولاد دینا چاہتاتھا ۔اس سے معلوم ہواکہ اہل ایمان کو اگر کوئی جانی مصیبت پہنچتی ہے تو اس میں بھی ان کے لیے کوئی خیر عظیم مضمر ہوتاہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
82۔ خضر کون تھے؟ یہ سوال مختلف فیہ ہے کہ سیدنا خضر کون اور کیا تھے؟ بعض علماء انہیں نبی تسلیم کرتے ہیں بعض ولی اور بعض ولی بھی نہیں سمجھتے بلکہ ایک فرشتہ سمجھتے ہیں جن کا شمار مدبّرات امر میں شمار ہوتاہے اب ہمیں یہ جائزہ لینا ہے کہ ان میں سے کون سی بات درست ہوسکتی ہے۔(تیسیر القرآن)
۔ اس قصے میں ایک بڑی پیچیدگی ہے جسے رفع کرنا ضروری ہے۔ حضرت خضر نے یہ تین کام جو کیے ہیں ان میں سے تیسرا کام تو خیر شریعت سے نہیں ٹکرا تا، مگر پہلے دونوں کام یقیناً ان احکام سے متصادم ہوتے ہیں جو ابتدائے عہد انسانیت سے آج تک تمام شرائع الہٰیہ میں ثابت رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ خود صاحب الہام تک کے لیے جائز نہیں ہے جو نص شرعی کے خلاف ہو۔ (روح المعانی۔ ج، ص 16-18)۔۔۔۔۔ اس کے بعد ہمارے لیے اس پیچیدگی کو رفع کرنے کی صرف یہی ایک صورت باقی رہ جاتی ہے کہ ہم " خضر " کو انسان نہ مانیں بلکہ فرشتوں میں سے، یا اللہ کی کسی اور ایسی مخلوق میں سے سمجھیں جو شرائع کی مکلف نہیں ہے بلکہ کار گاہ مشیت کی کارکن ہے۔۔۔ ( نبی یا فرشتہ - تفسیر ابن کثیر کا حوالہ )(تفہیم القرآن)
ـــ ابوالبقاء لغوی و نحوی نے اپنے کلیات میں بحث ضمائر میں فصل ض میں ص 230 پر کہاہے کہ خضرؑ نے یہاں اپنے مکالمہ میں ارادۂ فعل تین بار منسوب کیا۔اور تینوں جگہ ضمیر کا استعمال حسب موقع الگ الگ کیا ہے۔اَرَدتُ، اَرَدنَا،اور اَرَادَ رَبُّکَ پہلی جگہ کشتی میں عیب کرنے کا ذکر ہے،وہاں اپنی جانب اسے منسوب کرکے اردت سے تعبیر کیا ہے۔دوسری جگہ جہاں ذکر رحمتِ الٰہی کا ہے وہاں ارادربک کہا ہے اور تیسری جگہ جہاں الزام قتل سے اپنی صفائی پیش کی ہے ،وہاں اپنی ذاتی اہمیت بحیثیت ایک عارف و حکیم کے بتائی ہے۔(تفسیر ماجدی)
گیارہواں رکوع |
| وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ ﴿83﴾ اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ ﴿84﴾ فَاَتْبَعَ سَبَبًا ﴿85﴾ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا ﴿86﴾ قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَْذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا ﴿87﴾ وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ ﴿88﴾ ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا ﴿89﴾ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ ﴿90﴾ كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا ﴿91﴾ ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا ﴿92﴾ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا ﴿93﴾ قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا ﴿94﴾ قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ ﴿95﴾ اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ ﴿96﴾ فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا ﴿97﴾ قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ ﴿98﴾ وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ ﴿99﴾ وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ ﴿100﴾ اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ ۧ ۧ ﴿101ع الكهف 18﴾ |
| 83. اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں۔ 84. ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا۔ 85. تو اس نے (سفر کا) ایک سامان کیا۔ 86. یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی۔ ہم نے کہا ذوالقرنین! تم ان کو خواہ تکلیف دو خواہ ان (کے بارے) میں بھلائی اختیار کرو (دونوں باتوں میں تم کو قدرت ہے)۔ 87. ذوالقرنین نے کہا کہ جو (کفر وبدکرداری سے) ظلم کرے گا اسے ہم عذاب دیں گے۔ پھر (جب) وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ بھی اسے بُرا عذاب دے گا۔ 88. اور جو ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا اس کے لئے بہت اچھا بدلہ ہے۔ اور ہم اپنے معاملے میں (اس پر کسی طرح کی سختی نہیں کریں گے بلکہ) اس سے نرم بات کہیں گے۔ 89. پھر اس نے ایک اور سامان (سفر کا) کیا۔ 90. یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع کرتا ہے جن کے لئے ہم نے سورج کے اس طرف کوئی اوٹ نہیں بنائی تھی؎۔ 91. (حقیقت حال) یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو سب کی خبر تھی۔ 92. پھر اس نے ایک اور سامان کیا۔ 93. یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے۔ 94. ان لوگوں نے کہا ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں۔ 95. ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے۔ تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنا دوں گا۔ 96. تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کر دیا۔ اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو۔ یہاں تک کہ جب اس کو (دھونک دھونک) کر آگ کر دیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس تانبہ لاؤ اس پر پگھلا کر ڈال دوں۔ 97. پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں۔ 98. بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے۔ جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کردے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے۔ 99. (اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے۔ 100. اور اُس روز جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے۔ 101. جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ |
تفسیر آیات
83۔ ذُوالقَرنَین۔طرزسوال سے خود ہی یہ نکل آیا کہ ذوالقرنین کا لقب قرآن کا دیا ہوانہیں،بلکہ یہ کوئی ایسی شخصیت تھی، جس سے یہود خوب واقف تھے، اور عرب میں یہ نام چلا ہواتھا۔چنانچہ راغب کے لغت مفردات القرآن میں اتنا ہی لکھ کر چھوڑ دیا ہے کہ ذُوالقَرنَینِ مَعرُوفٌ۔۔۔۔عرب کا خیال یہ تھا کہ دنیا میں چار بادشاہ آفاق گیر ہوئے ہیں، اور ان ہی میں ایک ذوالقرنین تھا۔۔۔۔قرن کے لفظی معنی سینگ یا شاخ کے ہیں۔ اس لئے ذوالقرنین کے لفظی معنی ہوئے"دو سینگوں والا"اور ایک معنی قوت کے بھی لئے گئے ہیں۔۔۔۔محاورۂ یہود میں قرن یا سینگ ،علامت شوکت و اقتدار کے تھے۔چنانچہ روایات یہود میں ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ کوہ طور سے توریت لے کر واپس ہوئے ہیں،تو آپ کے سرپر دو سینگ بھی نمودار تھے ۔بلکہ آپؑ کی جو قدیم قلمی شبیہیں ملی ہیں ،ان میں سے بعض اسی صورت سے ہیں، اور توریت کے متعدد مقامات پر اس مجاز کو بہ طور حقیقت کے بیان کیا ہے۔مثلاً:"اور یوسف کے حق میں کہا کہ اس کی سرزمین خداوند کے حضورمتبرک ہووے۔۔۔۔اس کی شانداری ایسی ہے جیسے اس کے بیل کے پلوٹھے کی اور اس کے دو سینگ گینڈے کے سے سینگ (استثناء۔33: 13 و 17)"۔"میرا دل خداوند سے خوش ہے،خداوند سے میرا سینگ اونچا ہوا ،میرا منھ میرے دشمنوں کے سامنے کھولا گیا"(سموئیل ۔ 1:2)۔"اس دن میں ایسا کروں گا کہ اسرائیل کے خاندان کا سینگ پھوٹے گا اور تجھے ان کے درمیان منھ کی کشادگی عطا کروں گا"(حزقی ایل۔21:29)۔۔۔۔1۔ ملوک حمیریمن میں سے ا یک پر قوت بادشاہ الصعب بن قرین بن الہمال گزراہے۔عرب اس کو ذوالقرنین کہتے تھے،اور ان کے مورخوں کا خیال یہ تھا کہ یہی قرآنی ذوالقرنین ہے۔2۔ ملک حیرہ(سرحد ایران و عرب)کے خاندان لخمیہ کا فرمان روا منذرابن امرئ القیس جو منذرالاکبر بھی کہلاتا ہے،وہ بھی اسی لقب کا حامل ہے۔اس لئے کہ اس کی پیشانی کے دونوں طرف گھونگھروالے کا کل تھے۔اس کی مدت سلطنت 49 سال رہی ،اور اس کی ماں کا نام ماء السماء تھا۔3۔ مفسرین کا بڑا گروہ اس طرف گیا ہے کہ یہ قرآنی ذوالقرنین ،یونان کا مشہور کشور کشا اسکندر مقدونوی( 356 ق۔ م تا 323 ق-م) ہواہے۔4۔ مفسرین ہی کے ایک گروہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ اسکندر سے مراد یہ مشہور اسکندر مقدونوی نہیں، بلکہ ایک قدیم تر سکندر ہے جو موحّد تھا، اور حضرت ابراہیمؑ کا ہمعصر یعنی سکندرمقدونوی سے دوہزار سال قبل۔5۔ لقب ذوالقرنین کا پانچواں مصداق ایران کے بادشاہ عظیم فورس کو مانا گیا ہے، جس کے نام کے تلفظ مختلف زبانوں میں سایرس ،گوروش اور کیخسرو ہیں۔اس کی وفات 539 ق۔م میں ہوئی ہے۔یہ فارس اور میڈیا دوملکوں کا متفقہ بادشاہ تھا،اور اپنے زمانہ کا بڑا مشہور فاتح و کشورکشا ہواہے۔ موافق و مخالف بحثوں پر نظر کرنے کے بعد ان سطور کے راقم آثم کو مفسرین کے سواد اعظم کی رائے قابل ترجیح معلوم ہوتی ہے ،جس نے ذوالقرنین کا مصداق سکندر یونانی کو قراردیا ہے۔البتہ تذبذب اس بناپر ہے کہ سکندر کے موحد و صاحب ایمان ہونے کی کوئی واضح شہادت نہیں ملتی ۔اور یہ ذرا مستبعد ہی ہے کہ قرآن مجید محل مدح پر ذکر ایسے بادشاہ کاکرے،جونعمت توحید سے محروم ہو۔تاریخی روایتیں جو اس کے حق میں ملتی ہیں ۔وہ یہ ہیں کہ وہ وقت کے دین توحید(یہودیت)کا ہمدرد تھا اور معبد یہودکی عظمت کرتا تھا ، مشرک بادشاہوں کے عام طریقہ کے برخلاف ۔باقی دلائل و شواہد کے لحاظ سے گنجائش اس فریق کے حق میں بھی ہے،جو ذوالقرنین فورس اعظم ایرانی کو قراردیتاہے۔واللہ اعلم(تفسیر ماجدی)
ـــــ جس طرح نصاریٰ نے اصحاب کہف کے بارے میں سوال کیا اسی طرح یہود نے اپنے ایک محسن بادشاہ، ذوالقرنین کے بارے میں پوچھا۔قرآن نے یہاں ذوالقرنین کو ایک سلطان عادل کی حیثیت سے پیش کرکے قریش کے ان سرکش لیڈروں کو عبرت دلائی ہے جو اپنے اقتدار کو لازوال سمجھتے اور خدا اور آخرت کا مذاق اڑاتے تھے۔ ذوالقرنین کا اطلاق ایران کے شہنشاہ کیخسرو پر ہوتاہے جس کا نام خورس یا سائرس میں بھی آیا ہے۔وہ صاحب ایمان تھا۔اس نے یہود پر یہ احسان کیا کہ ان کو بابل کی اسیری سے نجات دلائی اور بیت المقدس کو دوبارہ تعمیر کرایا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
84۔ ذوالقرنین کا واقعہ یہود کی الہامی کتب تورات میں مذکور نہیں بلکہ تورا ت کی شرح و تفاسیر، جنہیں وہ اپنی اصلاح میں تالمود کہتے ہیں مذکور ہے۔۔۔۔چنانچہ مولانا مودودیؒ نے بائبل کے مطالعہ کے بعد جو تحقیق پیش کی ہے وہ یہ ہے کہ ذوالقرنین کا اطلاق ایرانی فرمانروا خورس پر ہی ہوسکتاہے جس کا عروج 549 قبل مسیح کے قریب شروع ہوا اس نے چند سال کے عرصے میں میڈیا(الجبال)اور لیڈیا(ایشیائے کوچک )کی سلطنتوں کو مسخر کرنے کے بعد 539 قبل مسیح میں بابل کو فتح کرلیا تھا جس کے بعد کوئی طاقت اس کی راہ میں مزاحم نہ رہی۔اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور صغد (موجودہ ترکستان )سے لیکر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری طرف تھریس اور مقدونیہ تک وسیع ہوگیا تھا اور شمال میں اس کی سلطنت کیشیا (قفقاز)اور خوارزم تک پھیل گئی تھی۔عملاًاس وقت کی پوری مہذب دنیا اس کی تابع فرمان تھی۔۔۔۔صاحب تفسیر حقانی کی تحقیق یہ ہے کہ ذوالقرنین ایران کانہیں بلکہ عرب کے کسی علاقہ کا بادشاہ ہوسکتا ہے اور یمن کے حمیری خاندان کا بادشاہ تھا۔ دلیل یہ ہے کہ ذوالقرنین عربی لفظ ہے۔فارسی یا ایرانی نہیں۔علاوہ ازیں یمن کے بادشاہ زمانہ قدیم میں ذو کے ساتھ ملقب ہواکرتے تھے جیسے ذونواس،ذوالنون، ذورعین،ذویزن وغیرہ وغیرہ ۔ایسے ہی ذوالقرنین بھی تھے۔ابوریحان البیرونی اس کا نام ابوکرب بن عیر بن افریقس حمیری بتاتے ہیں ۔اس کا اصل نام صعب تھا اور یہ تبع اول کا بیٹا تھااور یہی وہ ذوالقرنین ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے اس کے بعد اس کا بیٹا ذوالمنار ابرہہ،اس کے بعد اس کا بیٹا افریقس ،اس کے بعد اس کا بھائی ذوالاذعار ، اس کے بعد اس کا بھائی شرجیل ، اس کے بعد اس کا بیٹا الہدہاد اور اس کے بعد اس کی بیٹی بلقیس بادشاہ ہوئی جو سیدنا سلیمانؑ کے پاس حاضر ہوئی تھی اور ذوالقرنین کے مفہوم میں بھی اختلاف ہے۔ قرن عربی زبان میں سینگ کو بھی کہتے ہیں اورزمانہ یادور کو بھی ۔۔۔۔ رہی یہ بات کہ سد ذوالقرنین کہاں واقع ہے؟تو اس میں بھی اختلاف ہیں کیونکہ آج تک ایسی پانچ دیواریں معلوم ہوچکی ہیں جو مختلف بادشاہوں نےمختلف علاقوں میں مختلف ادوار میں جنگجو قوموں کےحملے سے بچاؤکی خاطربنوائی تھیں۔ان میں سے زیادہ مشہور دیوار دیوار چین ہے یہ دیوار سب سے زیادہ لمبی ہے اور اس کی لمبائی کا اندازہ بارہ سو میل سے لیکر پندرہ سو میل تک کیا گیا ہے یہ دیوار عجائب روزگار میں شمار ہوتی ہے اور اب تک موجود ہے اور اسے چی وانگئ فغفور چین نے اندازاً 235 قبل مسیح میں تعمیرکروایا تھا۔اور سد ذوالقرنین وہ دیوار ہے جو جبل الطائی کے کسی درہ کو بندکیے ہوئے ہے جس کا ابن خلدون نے بھی ذکرکیا ہے اور اکثرمؤرخین اسلام اس کو سد یاجوج بھی کہتے ہیں۔جبل الطائی منچوریا اور منگولیا میں حائل ہے اور اسی پہاڑ کے بیچ میں ایک درہ کشادہ تھا جہاں یاجوج ماجوج کی قومیں حملہ آور ہوتی تھیں ۔اس درے کو ذوالقرنین حمیری بادشاہ نے بند کروایا تھا اور یہ دیوار اب تک موجود ہے۔(تیسیر القرآن)
86۔مطلب یہ ہے کہ مغرب کی جانب ملکوں کو فتح کرتاہوا ایسی جگہ جاپہنچا جہاں آگے سمندر تھا اور معلوم ہوتاتھا کہ مغرب میں دنیائے معلومہ کی آخری حد یہی ہے اور سورج یہیں ڈوبتاہے۔کیخسرو کی پہلی مہم بھی ایران سے مغرب کی جانب تھی۔ وہ موجودہ عراق،شام اور ترکی کو فتح کرتاہوا بحیرۂ روم کے ساحل تک جاپہنچا تھا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ غروب آفتاب کی حد سے مراد، جیسا کہ ابن کثیر نے لکھا ہے اقصٰی ما یسلک فیہ من الارض میں ناحیۃ المغرب ہے نہ کہ آفتاب غروب ہونے کی جگہ۔ مراد یہ ہے کہ وہ مغرب کی جانب ملک پر ملک فتح کرتا ہوا خشکی کے آخری سرے تک پہنچ گیا جس کے آگے سمندر تھا۔ (تفہیم القرآن)
87۔ ذوالقرنین کا مغربی قوم سے سلوک:۔ چنانچہ ذوالقرنین نے دوسری راہ اختیار کی کہ اس قوم کو پوری طرح سمجھا یا جائے اور انہیں اسلام کی دعوت دی جائے اور یہ فیصلہ کیا کہ اس کے نتیجہ میں جو لوگ اکڑ جائیں گے اور ظالموں کی روش اختیار کرینگے ہم صرف انہیں ہی سزادیں گے اور انہی سے سختی کا برتاؤکرینگے پھر موت کے بعد جب ایسا آدمی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوگا تو وہ اسے سخت عذاب بھی دے گا لیکن جو لوگ اس دعوت کو قبول کرلیں گے اور اپنا طرز زندگی بدل کرنیک کام کرنے لگیں گے ان کو اللہ کے ہاں اچھا اجر ملے گا اور ہم بھی ان سے نرمی کا برتاؤ کرینگے جیساکہ ہر عادل بادشاہ کی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ غلبہ پانے کے بعد بدکردار لوگوں سے سختی سے پیش آتے ہیں اور بھلے لوگوں سے مہربانی کرتے اور ان سے مہربانی سے پیش آتے ہیں۔(تیسیر القرآن)
90ـــــ دوسری مہم مشرق کی سمت میں تھی، جہاں آگے ایسے قبائل آباد تھے جو گھر در اور تعمیر و تمدن سے بالکل ناآشنا اپنی وحشت کے ابتدائی دور میں تھے۔کیخسرو کی یہ مہم مکران اور قندھار کی طرف تھی اور اس نے ان علاقوں تک اپنی مملکت کی توسیع کرلی تھی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
91۔ذوالقرنین کی دوسری مہم مشرق کو:۔ لفظ کذٰلک کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ دوسرے لوگ یا مؤرخ خواہ ذوالقرنین کے کیسے حالات بتائیں اصل واقعہ یہی ہے جو ہم بیان کررہے ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں کہ ذوالقرنین کو کیا کیا حالات پیش آئے اور اس کے پاس کیا کچھ موجود تھا اور کذٰلک کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ذوالقرنین نے اس قوم سے بھی اسی طرح کا سلوک کیا جیسا مغربی قوم سےکیا تھا یعنی انہیں اسلام کی تعلیم اور دعوت دی جن لوگوں نے سرکشی کی ان کے ساتھ سختی کی گئی اور جنہوں نے فرماں برداری کی راہ اختیار کی ان سے نرمی کا سلوک کیا گیا۔(تیسیر القرآن)
94۔ ذوالقرنین کی تیسری مہم شمال کو۔یاجوج ماجوج کون ہیں؟۔ ذوالقرنین کے تیسرے سفر کی سمت کا قرآن میں ذکر نہیں ہے تاہم قیاس یہی ہے کہ یہ شمالی جانب تھا اور شمالی جانب قفقاز (کاکیشیا)کے پہاڑی علاقہ تک چلا گیا ۔ذوالقرنین اور اس کےساتھی ان لوگوں کی زبان نہیں سمجھتے تھے اور وہ ان کی زبان نہیں سمجھتے تھے ۔ایسی صورتوں میں کسی ترجمان کی وساطت سےہی بات چیت ہوئی ہوگی یا بسا اوقات اشاروں سے بھی مطلب سمجھا یا جاسکتاہے اور مسلم مؤرخین کے بیان کے مطابق یاجوج ماجوج سے مراد وہ انتہائی شمالی علاقہ کی وحشی اقوام ہیں جو انہی دروں کے راستوں سے یورپ اور ایشیا کی مہذب اقوام پر حملہ آور ہوتی رہی ہیں اور انہیں مؤرخین سیدنا نوحؑ کے بیٹے یافث کی اولاد قراردیتے ہیں۔ ان لوگوں نے ذوالقرنین کے حسنِ سلوک سے متاثر ہوکر یہ التجا کی کہ ہمیں یاجوج ماجوج حملہ کرکے ہروقت پریشان کرتے رہتے ہیں اگر ممکن ہو تو ان دوگھاٹیوں کے درمیان جو درے ہیں انہیں پاٹ دیجئے اور اس سلسلہ میں جولاگت آئے وہ ہم دینے کو تیار ہیں یا اس کے عوض ہم پر کوئی ٹیکس لگادیجئے وہ ہم اداکرتے رہیں گے۔(تیسیر القرآن)
ـــــ یاجوج و ماجوج قبائل کے نام ہیں جو بحر خزر کے شمال کی جانب آباد تھے۔جنوبی علاقوں پر ان کی تاخت ترکستان کے رستے سے بھی ہوتی تھی اور کوہ قفقاز کے درہ داریال کی راہ سے بھی، جس کی طرف اشارہ ہے۔ اس درے کو ذوالقرنین نے بند کروادیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
96۔ نزول قرآن کے صدیوں بعد سیاحوں کے مشاہدہ میں ایک آہنی دیوار مقام، دربند میں آئی۔اور اس کا نام سد سکندری ہی مشہور تھا اور وہ پھاٹک باب الحدید ہی کہلاتاتھا۔یہ دربند وہ نہیں جو بحر قزوین کے مشرقی ساحل پر علاقہ قفقاز میں واقع ہے جیساکہ بعض مفسرین جدید کو دھوکا ہواہے۔بلکہ یہ وہ دربند ہے جو علاقہ وسط ایشیا کے مشرقی حصہ میں ضلع حصار میں واقع ہے اس کا ذکر مشہور یورپین سیاح مارکو پولونے اپنے سفرنامہ میں بھی کیا ہے۔نیز انسائیکلوپیڈیابرٹانیکا طبع یازدہم جلد 13 ص 536 پر ہے۔(تفسیر ماجدی)
99۔ یَوْمَىٕذٍ کی جو دونوں تفسریں نقل ہوئیں ان میں باہم کوئی منافات نہیں،ہدم دیوار کا وقوع عین قرب قیامت ہی میں تو ہوگا۔۔۔ یَمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ۔کا صحیح ترجمہ لہریں مارنا ہی ہے۔۔۔مراد یہ ہے کہ یہ قومیں سمندر کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی موجوں کی طرح ایک دوسرے سے گتھی ہوئی ،ایک دوسرے پر پلی پڑتی ہوئی،نکل پڑیں گی۔موج سے تشبیہ اس لحاظ سے بھی ہوسکتی ہے کہ ایک قوم دوسرے سے ڈرتی ہوئی سہمتی ہوئی اس سے چمٹ جائےگی۔قدیم مفسرین اس پہلو سے یکسرنا آشنا نہیں۔۔۔اور آج فرنگی قوموں پر تو یہ پوری طرح صادق ہے۔۔۔آج کل جو انگریزی اصطلاح(INFILTRATION)(ایک دوسرے میں سرایت کرجانے پیوست ہوجانے)کی جو چل پڑی ہے عجب نہیں کہ اس جانب بھی اشارہ اس لفظ میں ہو۔(تفسیر ماجدی)
بارہواں رکوع |
| اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا ﴿102﴾ قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ ﴿103﴾ اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا ﴿104﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا ﴿105﴾ ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا ﴿106﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ ﴿107﴾ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا ﴿108﴾ قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا ﴿109﴾ قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ ۧ ۧ ﴿110ع الكهف 18﴾ |
| 102. کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کارساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے۔ 103. کہہ دو کہ ہم تمہیں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں۔ 104. وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی۔ اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں۔ 105. یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے۔ 106. یہ ان کی سزا ہے (یعنی) جہنم۔ اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور ہمارے پیغمبروں کی ہنسی اُڑائی۔ 107. جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے۔ 108. ہمیشہ ان میں رہیں گے اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے۔ 109. کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے) لئے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائے اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لائیں۔ 110. کہہ دو کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں۔ (البتہ) میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہیئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔ |
تفسیر آیات
102۔ یہ پوری سورت کا خاتمۂ کلام ہے، اس لیے اس کی مناسبت ذو القرنین کے قصے میں نہیں بلکہ سورة کے مجموعی مضمون میں تلاش کرنی چاہیے۔ سورة کا مجموعی مضمون یہ ہے کہ نبی ﷺ اپنی قوم کو شرک چھوڑ کر توحید اختیار کرنے اور دنیا پرستی چھوڑ کر آخرت پر یقین لانے کی دعوت دے رہے تھے۔ (تفہیم القرآن)
104۔ اور دوسرا یہ کہ " جن کی ساری سعی و جہد دنیا کی زندگی ہی میں گم ہو کر رہ گئی "۔ (تفہیم القرآن)
105۔ کافروں کے نیک اعمال کیلئے ترازو کیوں نہ رکھا جائےگا؟۔ یعنی دنیا کے حصول میں ایسے منہمک رہے کہ اللہ کبھی بھولے سے بھی یادنہ آیااور نہ ہی آخرت کیلئے کوئی نیکی کاکام کیا ایسے لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہوں نے دنیامیں اگر کچھ نیک کام کیے بھی ہوں گے تو انہیں اس کا کچھ بدلہ نہیں ملےگا اس لیے کہ انہوں نے یہ نیک کام آخرت کیلئے نہیں کیے تھے تودنیا میں انہیں ان کا بدلہ مل گیا۔(تیسیر القرآن)
108۔ الْفِرْدَوْس۔فردوس جنت کے وسط میں واقع ہے اور اس کی بہترین و بلند ترین منزل کا نام ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔۔۔۔یہ اقوال توہمارے اہل لغت کے ہیں ،لیکن انگریزی لغات میں لفظ (PARADISE)کو خود فارسی و عربی کے لفظ فردوس سے مشتق بتایا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو آکسفرڈ انگلش ڈکشنری۔ غرض یہ لفظ ہے مشترک کئی زبانوں میں ۔اورفیصلہ مشکل ہے کہ کس میں کس سے آیاہے؟۔۔۔۔بہر حال اب عربی میں اس کے معنی چمن و گلشن کے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
قصہ ذوالقرنین اوریاجوج و ماجوج : معارف ( 628 تا 633 ) یاجوج ماجوج اور سد ذوالقرنین ( 638 تا 655 ) تفہیم ( ضمیمہ :771 تا 772)
اہم آیات کا حوالہ : زینت دنیا ( سورۃ کا مرکزی مضمون ) سورۃ کہف کی پہلی اور آخری دس آیات جمعہ کے روز دن اور رات کے وقت (خصوصا پہلی آٹھ اور آخری : 9 - مضمون کے لحاظ سے اہم ) حوالہ : ر – 1 ( 7 – 8 ) ر- 12 ( 103 تا 105 )
تین قصوں کے بارے اختتامی گفتگو : اصحاب کہف ( مرنے کے بعد اٹھایا جانا ) قصہ خضر و موسٰی ( چیزیں جو ہمیں نظر آتی ہیں ویسی نہیں ہوتیں - مشیت ایزدی ) قصہ ذوالقرنین ( جاہ و اقتدار بذات خود بری چیز نہیں بلکہ قابل تحسین اور مسلمان حکمرانوں کا صحیح رویہ )