19 - سورة مریم (مکیہ)

رکوع - 6 آیات - 98

مضمون:۔ خدا کے پیغمبروں کا لایا ہوا دین توحید ہے۔ ان کے ناہنجار پیروؤں ،مثلاً عیسائیوں نے خدا کی اولاد مان کر شرک کو رواج دیا۔یہ لوگ دنیاوی کامیابیوں کو اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں جبکہ یہ خدا کی طرف سے ان کیلئے ڈھیل ہے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحی)

مرکزی مضمون :  عیسائیوں کو تثلیث   کا عقیدہ  ترک کرکے  خالص توحید  اختیار  کرنا چاہئے ۔

نام : مریم ( حضرت  مریم  کے  تفصیلی حالات )

ـــــ اس سورۂ کا نام مریم اس لئے ہے کہ اس میں سیدہ مریم کے حالات کا تفصیلی ذکرآیا ہے اور یہی ایک خاتون ہیں جن کا قرآن میں نام مذکور ہے اور کم از کم تیس مقامات پر ان کا نام آیاہے۔(تیسیر القرآن)

شان نزول : سورۃ  کہف مریم اور طہ  تین سورتیں ، ہجرت  حبشہ سے پہلے  نازل ہوئیں  جبکہ  اس  سے  پہلے  آٹھ  سورتیں ( یونس تا بنی اسرائیل )  ہجرت مدینہ  سے  پہلے ۔

نظم کلام :  سورۃ یونس – 14 + 1 ( سورۃ نور ) 

اہم کلیدی مضامین:

سورت (مریم)میں دلائل کیلئے ایک عجیب و غریب اسلوب : سورۂ (مریم )کا ایک عجیب و غریب اسلوب یہ بھی ہے کہ یہاں دلیل توحید کیلئے"برھان"یا"آیۃ"کے بجائے "ذکررحمۃ"اور "واذکر فی الکتاب "کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس طرح کے اسلوب کا مطلب ہوتاہے کہ ایک اور دلیل پیش کیجیے۔"ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّا "(آیت:2)"وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ"(آیت:16)"وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ"(آیت:41)"وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى"(آیت:51)"وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ"(آیت:54)"وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ"(آیت:56) )قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی(

ترتیب مطالعہ : (1 )  ر- 1 ( حضرت یحی ؑ  کی معجزانہ پیدائش  کا تذکرہ )    ( 2 )    ر- 2  ( حضرت  عیسی  ؑ کی پیدائش  بھی حضرت  یحیٰؑ  کی طرح  ایک معجزہ)     ۔ ( 3 )     ر – 3 ( حضرت  ابراھیم ؑ  کے  ابتدائی  حالات،  باپ سے  مکالمہ  اور ہجرت  )   (4)  ر -  4  ( حضرت موسی ؑ  اور دیگر  انبیاء کا تذکرہ  - سب  کا ایک ہی  مشن)   (5 )  ر – 5 /6  ( کفار  کی  گمراہیوں پر  شدید  تنقید  اور مسلمانوں کو تسلی  )

تاریخی  پس منظر   جس دور میں یہ سورہ نازل ہوئی اس کے حالات کی طرف ہم کسی حدتک سورۂ کہف کے دیباچے میں اشارہ کرچکے ہیں۔لیکن وہ مختصراشارہ اس سورہ کو اور اس دور کی دوسری سورتوں کو سمجھنے کیلئے کافی نہیں ہے،اس لیے ہم ذرا اس وقت کے حالات زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔قریش کے سردار جب تضحیک ،استہزاء،اطماع،تخویف اور جھوٹے الزامات کی تشہیر سے تحریکِ اسلامی کو دبانے میں ناکام ہوگئے تو انہوں نے ظلم و ستم ،مارپیٹ اور معاشی دباؤکے ہتھیار استعمال کرنے شروع کیے۔۔۔۔چنانچہ صحیحین میں حضرت خبابؓ بن ارت کی یہ روایت موجود ہے کہ:"میں مکے میں لوہار کا کام کرتاتھا، مجھ سے عاص بن وائل نے کام لیا،پھر جب میں اس سے اجرت لینے گیا تو اس نے کہا کہ میں تیری اجرت نہ دونگا جب تک تو محمدؐ کا انکار نہ کرے"۔۔۔اسی زمانے کا حال بیان کرتے ہوئے حضرت خباب کہتے ہیں کہ ایک روز نبی ﷺ کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا"یا رسول اللہ، اب تو ظلم کی حد ہوگئی ہے،آپ خدا سے دعا نہیں فرماتے"؟یہ سن کر چہرۂ مبارک تمتا اٹھا ۔آپؐ نے فرمایا یقین جانو کہ اللہ اس کام کو پورا کر کے رہے گا یہاں تک کہ ایک وقت وہ آئے گا کہ ایک آدمی صنعاء سے حضر موت تک  بے کھٹکے سفر کرے گا اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا خوف نہ ہوگا ،مگر تم لوگ جلد بازی کرتے ہو"(بخاری)۔ یہ حالات جب ناقابلِ برداشت حدتک پہنچ گئےتو رجب 45 عام الفیل (سنہ5 نبوی) میں حضورؐ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ"اچھا ہو کہ تم لوگ ہجرت کر کے حبش چلے جاؤ ۔وہاں ایک ایسابادشاہ ہے جس کے ہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا اور وہ بھلائی کی سرزمین ہے۔جب تک اللہ تمہاری اس مصیبت کو رفع کرنے کی کوئی صورت پیدا کرے،تم لو گ وہاں ٹھہرے رہو"۔۔۔اس ارشاد کی بناپر پہلے گیارہ مردوں اور چار خواتین نے حبش کی راہ لی۔۔۔پھر چند مہینوں کے اندر مزید لوگوں نے ہجرت کی یہاں تک کہ 83مردگیارہ عورتیں اور 7 غیر قریشی مسلمان حبش گئے اور مکے میں نبیؐ کے ساتھ صرف 40 آدمی رہ گئے۔۔۔۔اس ہجرت سے مکے کے گھر گھرمیں کہرام مچ گیا۔۔۔حضرت عمر کی ایک قریبی رشتہ وار لیلیٰ بنت جثمہ بیان کرتی ہیں کہ میرے شوہر عامر بن ربیعہ کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے ۔اتنے میں عمر آئے اور کھڑےہوکر میری مشغولیت  کو دیکھتے رہے ۔کچھ دیرکے بعد کہنے لگے"عبداللہ کی ماں جارہی ہو"؟ میں نے کہا "ہاں ، خداکی قسم تم لوگوں نے ہمیں بہت ستایا۔خدا کی زمین کھلی پڑی ہے،اب ہم کسی ایسی جگہ چلے جائیں گے جہاں خداہمیں چین دے۔یہ سن کر عمر کے چہرے پر رقت کے ایسے آثار طاری ہوئے جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔۔۔۔۔ہجرت کے بعد قریش کے سردار سرجوڑ کر بیٹھ گئےاور انہوں نے طے کیا کہ عبداللہ بن ابی ربیعہ (ابوجہل کے ماں جائے بھائی)اور عمروبن العاص کوبہت سے قیمتی تحائف کے ساتھ حبش بھیجا جائے اور یہ لوگ کسی نہ کسی طرح نجاشی کو اس بات پر راضی کریں کہ وہ ان مہاجرین کو مکہ واپس بھیج دے۔۔۔۔یہ دونوں ماہر سیاست سفیر تعاقب میں پہنچے۔۔۔انہوں نے نجاشی کے اعیانِ سلطنت میں خوب ہدئیے تقسیم کرکے سب کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ مہاجرین کو واپس کرنے کیلئےنجاشی پر بالاتفاق زوردیں گے۔۔۔اہل دربار ہرطرف سے بولنے لگے کہ"ایسے لوگوں کو ضرور واپس کردینا چاہیے۔۔۔مگر نجاشی نے بگڑ کرکہا۔۔۔جن لوگوں نے دوسرے ملک کو چھوڑکر میرے ملک پر اعتماد کیا اور یہاں پناہ لینے کے لیے آئے ان سے میں بے وفائی نہیں کر سکتا۔۔۔پہلے میں انہیں بلاکر تحقیق کروں گا۔۔۔نجاشی کا پیغام پاکرسب مہاجرین جمع ہوئے اور انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ بادشاہ کے سامنے کیا کہناہے۔آخر سب نے بالاتفاق یہ فیصلہ کیا کہ نبی ؐ نے جو تعلیم ہمیں دی ہے ہم تو وہی بے کم و کاست پیش کریں گے خواہ نجاشی ہمیں رکھے یا نکال دے۔۔۔ دربار میں پہنچے تو چھوٹتے ہی نجاشی نے سوال کیا کہ یہ تم لوگوں نے کیا کیا کہ اپنے لوگوں کا دین بھی چھوڑا، نہ ہی میرے دین میں داخل ہوئے، نہ دوسرے ادیان میں سے کسی کو اختیار کیا،آخر یہ تمہارا نیا دین ہے کیا؟۔۔۔جعفر بن ابی طالب نے ایک برجستہ تقریر کی جس میں پہلے عرب جاہلیت کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں کو بیان کیا ،پھر نبی ؐ کی بعثت کا ذکرکرکےبتایا کہ آپ کیا تعلیمات پیش فرماتے ہیں۔پھر ان مظالم کا ذکر کیا جو آنحضورؐ کی پیروی اختیار کرنےوالوں پر قریش کے لوگ ڈھا رہے تھے اوراپنا کلام اس بات پر ختم کیا کہ دوسرے ملکوں کے بجائے ہم نے آپ کے ملک کا رخ اس امید پر کیا ہے کہ یہاں ہم پر ظلم نہ ہوگا۔نجاشی نے تقریر سن کر کہا کہ ذرا مجھے وہ کلام تو سناؤجو تم کہتے ہو کہ خدا کی طرف سے تمہارے نبی پر اترا ہے ۔حضرت جعفر نے جواب میں سورۂ مریم کا وہ ابتدائی حصہ سنایا جو حضرت یحیٰ اور حضرت عیسیٰ سے متعلق ہے ۔نجاشی اس کو سنتا رہااور روتا رہایہاں تک کہ اس کی ڈاڑھی تر ہوگئی ۔جب حضرت جعفرؓ نے تلاوت ختم کی تو اس نے کہا کہ"یقیناً یہ کلام اور جو کچھ عیسیٰ لائے تھے دونوں ایک ہی سرچشمے سے نکلے ہیں،خدا کی قسم میں تمہیں ان لوگوں کے حوالے نہ کروں گا"دوسرے روز عمروبن العاص نے نجاشی سے کہا کہ ذرا ان لوگوں سے بلاکر یہ تو پوچھیے کہ عیسیٰ بن مریم کے بارے میں ان کا عقیدہ کیا ہے۔۔۔موقع بڑا نازک تھا۔ مگر پھر بھی اصحاب رسول ؐ نے یہی فیصلہ کیا کہ جوکچھ ہوتا ہے ہوجائے ہم تو وہی بات کہیں گے جو اللہ نے فرمائی اور اللہ کے رسول نے سکھائی۔۔۔جعفر بن ابی طالب نے اُٹھ کر بلاتامل کہا"وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی طرف سے ایک روح اور ایک کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری مریم پر القا کیا"نجاشی نے سن کر ایک تنکا زمین سے اٹھایا اور کہا"خدا کی قسم ،جو کچھ تم نے کہا ہے عیسیٰؑ اس سے اس تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں تھے۔"۔۔۔اس کے بعد نجاشی نے قریش کے تمام ہدیے یہ کہہ کر واپس کردیے کہ میں رشوت نہیں لیتا۔پہلے دو رکوعوں میں حضرت یحیٰ ؑ اور عیسیٰؑ کا قصہ سنانے کے بعد پھر تیسرے رکوع میں حالاتِ زمانہ کی مناسبت سے حضرت ابراہیم ؑ کا قصہ سنایا گیاہے کیونکہ ایسے ہی حالات میں وہ بھی اپنے باپ اور خاندان اور اہل ملک کے ظلم سے تنگ آکر وطن سے نکل کر کھڑے ہوئے تھے۔اس سے ایک طرف کفارِ مکہ کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ آج ہجرت کرنے والے مسلمان ابراہیمؑ کی پوزیشن میں ہیں اور تم لوگ ان ظالموں کی پوزیشن میں ہو۔جنہوں نے تمہارے باپ اور پیشوا ابراہیمؑ کو گھرسے نکالاتھا۔دوسری طرف مہاجرین کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ جس طرح ابراہیمؑ وطن سے نکل کر تباہ نہ ہوئے بلکہ اور زیادہ سربلند ہوگئے ایسا ہی انجامِ نیک تمہارا انتظار کررہاہے۔اس کے بعد چوتھے رکوع میں دوسرے انبیاء کا ذکر کیا گیا ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام انبیاءؑ وہی دین لے کر آئے تھے جو محمدؐ لائے ہیں،مگر انبیاء کے گزرجانے کے بعد کی امتیں بگڑتی رہی ہیں اور آج مختلف امتوں میں جو گمراہیاں پائی جارہی ہیں یہ اسی بگاڑ کا نتیجہ ہیں۔آخری دورکوعوں میں کفارِ مکہ کی گمراہیوں پر سخت تنقید کی گئی ہے اور کلام ختم کرتے ہوئے اہل ایمان کو مژدہ سنایا گیا ہے کہ دشمنانِ حق کی ساری کوششوں کے باوجود بالآخر تم محبوبِ خلائق ہوکر رہوگے۔(تفہیم القرآن)


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ كٓهٰیٰعٓصٓ۫ ۚ ﴿1﴾ ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖ ۚ ﴿2﴾ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا ﴿3﴾ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا ﴿4﴾ وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ ﴿5﴾ یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا ﴿6﴾ یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا ﴿7﴾ قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا ﴿8﴾ قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا ﴿9﴾ قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا ﴿10﴾ فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا ﴿11﴾ یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ ﴿12﴾ وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ ﴿13﴾ وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا ﴿14﴾ وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ ۧ ۧ ﴿15ع مريم 19﴾
1. کہیٰعص۔ 2. (یہ) تمہارے پروردگار کی مہربانی کا بیان (ہے جو اس نے) اپنے بندے زکریا پر (کی تھی)۔ 3. جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا۔ 4. (اور) کہا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں اور سر (ہے کہ) بڑھاپے (کی وجہ سے) شعلہ مارنے لگا ہے اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔ 5. اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما۔ 6. جو میری اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو۔ اور (اے) میرے پروردگار اس کو خوش اطوار بنائیو۔ 7. اے زکریا ہم تم کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا۔ 8. انہوں نے کہا پروردگار میرے ہاں کس طرح لڑکا ہوگا۔ جس حال میں میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں۔ 9. حکم ہوا کہ اسی طرح (ہوگا)۔ تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھے یہ آسان ہے اور میں پہلے تم کو بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے۔ 10. کہا کہ پروردگار میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما۔ فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو کر تین (رات دن) لوگوں سے بات نہ کرسکو گے۔ 11. پھر وہ (عبادت کے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام (خدا کو) یاد کرتے رہو۔ 12. اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو۔ اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی۔ 13. اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی دی تھی۔ اور پرہیزگار تھے۔ 14. اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے۔ 15. اور جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ ان پر سلام اور رحمت (ہے)۔

تفسیر آیات

اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ۔آپ کو اپنے ان عزیزوں کی طرف سے اندیشہ یہی تھا کہ یہ بدمذہب ،بدعمل لوگ ہیں، ہیکل کی خدمت میں قاصر رہیں گے۔ یہ مراد نہیں کہ میری ملک و جائداد ان کے قبضے میں چلی جائے گی۔(تفسیر ماجدی)

یَرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ۔وراثت سے یہاں مراد مال و دولت کی وراثت نہیں۔حقائق عالیہ اور اخلاق فاضلہ کی میراث ہے۔  ۔۔۔ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اول تو حضرت زکریاؑ نجاری سے کسب معیشت کرتے تھے،اور ایسے اہلِ حرفہ عموماً صاحبِ جائداد نہیں ہوتے پھر آپؐ بھی تو پیمبر بھی تھے ،مال دنیوی سے بے تعلقی رکھتے تھے۔۔۔۔اور انبیاء سے مال وجائداد کی وراثت تو چلتی بھی نہیں، جیساکہ حدیث صحیح میں وارد بھی ہوچکا ہے۔۔۔۔صحابیوں، تابعین،اکابرمفسرین سب سے ارث کی تفسیر علومِ نبوت و شریعت منقول ہے اور لفظ ارث کا اطلاق نبوت پر بالکل جائزہے۔(تفسیر ماجدی)

یحیٰ اللہ کا اپنا تجویز کردہ نام:۔  اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کرکے بیٹے کی بشارت دی تو ساتھ ہی نام بھی خود ہی تجویز فرمادیا اور نام بھی ایسا انوکھا کہ پہلے کسی آدمی کا یہ نام نہیں رکھا گیا تھا۔یحیٰ :دعائیہ نام ہے یعنی اللہ کرے تادیر زندہ رہے ۔جیسے ہمارے ہاں جیونا یا جیونی نام رکھتے ہیں اور عرب میں عائش اور عائشہ،نیز اسم بمعنیٰ صفت بھی ہوسکتاہے جیسے وللہ الاسماء الحسنیٰ کے معنیٰ "اللہ کے بہترین نا م"بھی ہوسکتے ہیں اور "بہترین صفات"بھی،اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہوگا کہ ایسی اچھی سیرت والا آدمی پہلے کوئی نہیں ہوا۔(تیسیر القرآن)

10۔نشانی کی درخواست کا مقصد یہ تھا کہ پورا اطمینان ہوجائے کہ یہ بشارت رب ہی کی طرف سے ملی ہے،اس میں نفس یا شیطان کو کوئی دخل نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہواکہ ہاتف غیب کی باتیں قبول کرنے کے معاملہ میں انبیائے کرام بڑی احتیاط برتتے تھے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ـــــ اس ایک لفظ کے اضافہ سے قرآن مجید کا مقصد انجیل کی اس غلط بیانی کا ازالہ ہے کہ (نعوذباللہ)آپ بطور عتاب عارضی طورپر گونگے کردئیے گئے تھے،ملاحظہ ہو،سورہ آل عمران آیت41،حاشیہ 109۔اور اسی لیے اس لفظ پر اتنے طویل حاشیہ کی بھی ضرورت پڑی۔لیکن آیت کی ایک دوسری ترکیب بھی صحیح ہوسکتی ہے،اور بعض بزرگ اسی طرف گئے ہیں یعنی سویّاکو بجائے ضمیر مخاطب سے متعلق کرنے کے تین راتوں کی صفت قرار دیا جائے اور اس صورت میں سویا مرادف ہوگا متتابعات کے"یعنی تم لوگوں سے بول نہ سکوگے تین راتیں متواتر"۔چنانچہ ابن جریر ہی میں ایک قول حضرت ابن عباسؓ سے اس معنی میں بھی منقول ہے۔(تفسیر ماجدی)

12۔لفظ " حکم" سے مراد حق و باظل میں امتیاز  کی قوت و صلاحیت ہے۔ (تدبرِ قرآن)

13۔ " حنان" کے معنی محبت، ذوق و شوق اور سوز و گداز کے ہیں۔۔۔۔۔ ہیکل میں تقریر کرتے لوگوں کے دل دہل جاتے لیکن اس دنیا سے ان کا تعلق صرف دینے کے لیے تھا اس سے لیا انہوں نے کچھ بھی نہیں۔ جنگل کے شہد اور اس کی ٹڈیوں پر گزارہ کرتے۔ کمبل کی پوشاک سے تن ڈھانکتے اور جس سر کو چھپانے کے لیے اس دنیا میں کوئی چھت نہیں بنائی اس کو خدا کی کتاب کی خاطر کٹوا کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ (تدبرِ قرآن)


دوسرا رکوع

ڈوَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ ﴿16﴾ فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا ﴿17﴾ قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا ﴿18﴾ قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا ﴿19﴾ قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا ﴿20﴾ قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا ﴿21﴾ فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا ﴿22﴾ فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا ﴿23﴾ فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا ﴿24﴾ وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ ﴿25﴾ فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ ﴿26﴾ فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا ﴿27﴾ یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖ ۚ ﴿28﴾ فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا ﴿29﴾ قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ ﴿30﴾ وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا۪ ۖ﴿31﴾ وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا ﴿32﴾ وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا ﴿33﴾ ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ ﴿34﴾ مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ ﴿35﴾ وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ﴿36﴾ فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ﴿37﴾ اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ﴿38﴾ وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ﴿39﴾ اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ﴿ء 19مريم 40﴾ع
16. اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی مذکور کرو، جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف چلی گئیں۔ 17. تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا۔ (اس وقت) ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا۔ تو ان کے سامنے ٹھیک آدمی (کی شکل) بن گیا۔ 18. مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں۔ 19. انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں۔ 20. مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں۔ 21. (فرشتے نے) کہا کہ یونہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا کہ یہ مجھے آسان ہے۔ اور (میں اسے اسی طریق پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہٴ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے۔ 22. تو وہ اس (بچّے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں۔ 23. پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مرچکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی۔ 24. اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔ 25. اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی۔ 26. تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لئے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہیں کروں گی۔ 27. پھر وہ اس (بچّے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں۔ وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تُونے برا کام کیا۔ 28. اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بداطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی۔ 29. تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں۔ 30. بچے نے کہا کہ میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔ 31. اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰة کا ارشاد فرمایا ہے۔ 32. اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش وبدبخت نہیں بنایا۔ 33. اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام (ورحمت) ہے۔ 34. یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ہیں (اور یہ) سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ 35. خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ہے ۔جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ 36. اور بےشک خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے۔ 37. پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا۔ سو جو لوگ کافر ہوئے ہیں ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے۔ 38. وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے، کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں۔ 39. اور ان کو حسرت (وافسوس) کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کردی جائے گی۔ اور (ہیہات) وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے۔ 40. ہم ہی زمین کے اور جو لوگ اس پر (بستے) ہیں ان کے وارث ہیں۔ اور ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہوگا۔

تفسیر آیات

16۔ (غسل کیلئے یا نماز کیلئے یا کسی اور ضرورت سے)یہ مریم بنت عمران بن ماثان بنی اسرائیل کے ایک شریف ترین گھرانے میں ہیکل سلیمانی کے مجاوروں کے ہاں پیدا ہوئیں ۔والدہ ماجدہ کا نام حنّہ تھا۔،جن کی ایک بہن کے فرزند یحیٰؑ بن زکریاؑ پیمبر تھے۔مریمؑ اپنے والدین کی ضعیفی اولاد تھیں بڑی تمناؤں کے بعد پیدا ہوئی تھیں۔ماں نے نذریہ مانی تھی کہ اولاد کو خدمت ہیکل کیلئے وقف کردوں گی،جب بجائے فرزند کے دختر کی ولادت ہوئی تو انہیں بڑی مایوسی ہوئی ،اس لئے کہ لڑکیوں سے خدمت ہیکل لینے کا دستور نہ تھا، لیکن یہ خلاف دستور لے لی گئیں اور ان کی تربیت حضرت زکریا کے سپرد رہی۔رشد ،سعادت و صالحیت کے آثار بچپن ہی سے نمایاں تھے، عصمت و عفت میں اپنی نظیرآپ تھیں،مسیحی روایتوں کے بموجب شادی قصبۂ ناصرہ کے یوسف نجار کے ساتھ ہوئی ،لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ ولادت عیسیٰؑ مسیح کی ایک اعجازی طورپر ہوگئی۔اس کے بعد اور بھی اولادیں آپ کے بطن سے ہوئیں ،عہدجدید میں باربارذکر یسوع کے بھائیوں کا آیا ہے ۔(متی 12: 46 و 13: 55 وغیرہ)اور بعض روایتوں میں تصریح چاربھائیوں اور دوبہنوں کی ہے،بھائیوں کے نام بھی۔(متی۔13: 55 میں)یعقوب اور یوسف اور شمعون اور یہوداہ دئیے ہیں ۔یہ بھی روایتوں میں آتاہے کہ حضرت مریمؑ حضرت مسیح ؑ کی مصلوبی کے وقت موجود تھیں ۔تفسیری روایتوں (قرطبی وغیرہ)میں ہے کہ آپ کی عمر تقریباً 50 سال کی ہوئی،مسیحی روایتوں سے اتنا بھی پتا نہیں چلتا۔مسیحی دنیا کے ایک بڑے (مشرقی کلیسا اور رومن کیتھولک کلیسا)کا عقیدہ یہ ہے کہ آپ بعد وفات آسمان پر اٹھالی گیں۔دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ شہر افسوس میں یا یروشلم میں کوہ زیتون کے دامن میں دفن ہیں۔۔۔۔ مَكَانًا شَرْقِیًّا۔اس کی تعبیر دوطرح سے ممکن ہے۔۔۔اور اصل حقیقت کا حال اللہ ہی کو معلوم ہے۔۔۔ایک یہ کہ آپؑ اپنے والوں سے آڑ تلاش کرکے ہیکل سے اپنے مکان کے مشرقی حصہ میں چلی گئیں ،غالباً تخلیہ میں عبادت کیلئے ۔دوسرے یہ کہ آپ اپنے میکے کے گھر بار کو چھوڑکرسمت مشرق میں اپنی سسرال چلی گئیں۔آپ کے منگیتر یوسف نجار ناصرہ علاقۂ ارض گلیل میں رہتے تھے جو بیت اللحم شمال و مشرق میں واقع ہے۔۔۔۔ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا۔مفسرین نے اس انتباذ یا اعتزال کے تحت میں مختلف وجوہ اسباب گنائے ہیں،لیکن چونکہ ایسی تفسیریں جو محض ظن و تخمین پر مبنی ہوں ان میں سے کسی ایک متعین شقِ پر زور دینا اور اسے جزم و وثوق سے بیان کرنا خود ایک غلطی ہے ۔۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ دونوں قصوں کے مجموعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ سوال و طلب سے بھی ۔جیسے زکریاؑ کو دیا۔ اور بلا سوال و طلب بھی دیتا ہے جیسے حضرت مریمؑ کو دیا۔ اور اسی سے یہ بات نکلی کہ اللہ کامعاملہ ہر شخص کے ساتھ جدا جدا ہے۔(تفسیر ماجدی)

17۔  سیدہ مریم کی بیت المقدس کے حجرہ میں عبادت:۔  سیدنا یحیٰؑ کی خرق عادت پیدائش کے بعد اب سیدنا عیسیٰؑ کی معجزانہ بغیر باپ پیدائش کا آغاز ہورہاہے۔ سیدہ مریمؑ بیت المقدس کے مشرقی جانب کے ایک حجرہ میں گوشہ نشین ہوکر اللہ کی عبادت میں مشغول رہاکرتیں ۔پھر اس کمرہ میں بھی ایک پردہ ڈال لیا تاکہ دوسرے لوگوں سے بھی الگ تھلگ رہ کر پوری یکسوئی سے ذکر و فکر میں مشغول رہ سکیں اور اس کا دوسرامطلب یہ لیا گیا ہے کہ جب جوان ہوئیں تو انہیں حیض آگیا اور بہت زیادہ شرم محسوس ہوئی تو اس وقت سب لوگوں سے پردہ کرلیا ۔پھر اسی علیحدگی میں غسل حیض بھی کیا۔(تیسیر القرآن)

20۔ حضرت مریمؑ کے یہ الفاظ بائیبل کی اس روایت کی مکمل تردید کرتے ہیں کہ ان کا نکاح یوسف نامی کسی شخص سے ہواتھا۔ سورہ آل عمران کے مطابق مریمؑ اپنی والدہ کی منت کے مطابق ہیکل کی خدمت کے لیے وقف تھیں۔ اس وجہ سے ان کے نکاح اور بیاہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

21۔ سیدنا عیسیٰؑ کی پیدائش خود ایک معجزہ تھی:۔   یعنی ناممکن ہونے کے باوجود ممکن ہے اور ایسا ہوکے رہے گا کیونکہ اللہ کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔اور یہ اس لئے ہوگا کہ ہم اس لڑکے کو تمام لوگوں کیلئے ایک زندہ و جاوید معجزہ بنادیں۔ پھر یہ لڑکا ہماری طرف سے تمہارے لئے ازراہ رحم و کرم عطیہ بھی ہے اور تمام لوگوں کیلئے بھی رحمت ثابت ہوگا۔واضح رہے کہ تخلیق کیلئے چار ہی صورتیں  ہوسکتی ہیں۔ایک یہ کہ ماں اور باپ دونوں سے پیدا ہو،یہ صورت عام ہے اور سب انسان یا جاندار ایسے ہی پیدا ہوئے ہیں۔دوسری یہ کہ ماں اور باپ دونوں کے بغیرپیدا ہو۔اس طرح سیدنا آدمؑ کو پیدا کیا گیا ۔تیسری یہ کہ صرف مرد سے پیدا ہو۔جیسے سیدہ حوا کو آدمؑ سے پیدا کیا گیا ۔اور چوتھی یہ کہ صرف عورت سے پیدا ہو۔یہ صورت ابھی تک وجود میں نہ آئی تھی جو سیدنا عیسیٰؑ کی پیدائش سے پوری ہوگئی۔(تیسیر القرآن)

۔ علاوہ بریں اگر کذلک کا مطلب یہ لے لیا جائے کہ بشر تجھے چھوئے گا اور تیرے ہاں اس طرح لڑکا ہوگا جیسے دنیا بھر کی عورتوں کے ہاں ہوا کرتا ہے، تو پھر بعد کے دونوں فقرے بالکل بےمعنی ہوجاتے ہیں۔ اس صورت میں یہ کہنے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے کہ تیرا رب کہتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیئے بہت آسان ہے، اور یہ کہ ہم اس لڑکے کو ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں۔ نشانی کا لفظ یہاں صریحاً معجزہ کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے۔ (تفہیم القرآن)

22۔حمل کی وجہ سے سیدہ مریم کا بیت المقدس سے چلے جانا:۔ جب آپ حاملہ ہوگئیں تو اب شرم کے مارے وہاں رہنا گوارانہ کیا اور آپ بیت المقدس کا حجرہ چھوڑ کر دور کسی مقام پر چلی گئیں۔کہتے ہیں کہ یہ مقام بیت اللحم تھا جو وہاں سے تقریباً آٹھ میل دور ہے۔(تیسیر القرآن)

حضرت  یحٰی ؑ  کاتفصیلی تذکرہ : ص 473 تا 476 (تعلیم القرآن)

حضرت مریم اور حضرت  عیسٰی ؑ  کا  تفصیلی تذکرہ  :۔ص 477 تا 483 (تعلیم القرآن)

25۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کو کھجور کا درخت ہلانے کا حکم دیا، حالانکہ اس کی قدرت میں یہ بھی تھا کہ بغیر ان کے ہلانے کے خود ہی کھجوریں ان کی گود میں گر جاتیں مگر حکمت یہ ہے کہ تحصیل رزق کے لئے کوشش کرنے کا سبق ملتا ہے اور یہ بھی بتلانا ہے کہ رزق کے حاصل کرنے میں کوشش اور محنت کرنا توکل کے خلاف نہیں۔ (رُوح المعَانی) (معارف القرآن)

29۔  قرآن کی معنوی تحریف کرنے والوں نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ " ہم اس سے کیا بات کریں جو کل کا بچہ ہے " یعنی ان کے نزدیک یہ گفتگو حضرت عیسیٰ کی جوانی کے زمانے میں ہوئی اور بنی اسرائیل کے بڑے بوڑھوں نے کہا کہ بھلا اس لڑکے سے کیا بات کریں جو کل ہمارے سامنے گہوارے میں پڑا تھا۔ مگر جو شخص موقع و محل اور سیاق وسباق پر کچھ بھی غور کرے گا وہ محسوس کرے گا یہ محض ایک مہمل تاویل ہے جو معجزے سے بچنے کے لیے کی گئی ہے۔(تفہیم القرآن)

33۔گود میں کلام کرنے والے تین بچے   واضح رہے کہ بخاری و مسلم دونوں میں ایک طویل حدیث موجود ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ بنی اسرائیل کے تین بچوں نے مہد میں کلام کیا تھا۔ان میں سے ایک تو یہی سیدنا عیسیٰؑ ہیں۔ان کے مخاطب یہود تھے اور آپ کے اس کلام کا مقصود پہلے بیان ہوچکا ہے۔دوسرا ابن جریج راہب کا قصہ ہے جسے بالخصوص مسلم نے بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ابن جریج راہب پر زنا کی تہمت لگائی گئی تو انہوں نے اللہ سے بریت کی دعا کی پھر حرامی نومولودبچہ کو کچوکا لگا کر پوچھا کہ بتاؤکہ تمہارا باپ کون ہے؟ تو بچہ بول اٹھا کہ فلاں چرواہا۔اسی طرح اللہ نے ابن جریج راہب کو زنا کی تہمت سے بری فرمادیا۔اورتیسرے بچہ کی مخاطب اس کی ماں تھی جو سامان دنیاپر ریجھی ہوئی تھی تو بچہ نے بول کر اپنی ماں کی گمراہ کن غلط فہمی کو دور کردیا۔اور مہدمیں کلام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ شیر خوارگی کے عالم میں کلام کرے جب کہ ابھی اس نے کلام کرنا نہ سیکھا ہو۔اور یہ مہد کا کلام تینوں واقعات میں صرف ایک ہی بار وقوع پذیر ہوا۔یہ نہیں کہ ان بچوں نےاس عالم میں متعدد بار کلام کیا ہو۔(تیسیر القرآن)

39۔  یوم حسرت اور موت کو مینڈھے کی شکل میں ذبح کرنا:۔ کافروں کے پچھتانے کے مواقع تو بہت ہونگے مگر آخری موقع غالباً وہ ہوگا جب اہل جنت کو جنت میں جانے کا اور اہل دوزخ کو دوزخ میں جانے کا فیصلہ سنایا جائے گا جیساکہ درج ذیل حدیث میں آیا ہے:"سیدنا ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے  فرمایا: (قیامت کے دن)موت کو ایک چتکبر ےمینڈھے کی شکل میں لے کر آئیں گے۔ پھر ایک پکارنے والا پکارے گا:"اے اہل جنت !"وہ ادھر دیکھیں گے تو فرشتہ کہے گا: "تم اس مینڈھے کو پہنچانتے ہو"وہ کہیں گے (ہاں )یہ موت ہے اور ہم سب اس کا مزہ چکھ چکے ہیں"پھر وہ پکارے گا ،"دوزخ والو!"وہ لوگ بھی گردن اٹھا کر ادھر دیکھنے لگیں گے تو فرشتہ کہے گا:"تم اس مینڈھے کو پہنچانتے ہو؟"وہ کہیں گے "ہاں"یہ موت ہے، ہم سب اس کو دیکھ چکے ہیں۔اس وقت وہ مینڈھا ذبح کردیا جائے گا۔اس کے بعد وہ فرشتہ کہے گا "جنت والو! تمہیں ہمیشہ بہشت میں رہنا ہے اور دوزخ والو!تمہیں ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے ۔اب کسی کو موت نہیں آئے گی۔پھر یہ آیت پڑھی "وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ۔۔۔۔لَا یُؤْمِنُوْنَ"۔(بخاری، کتاب التفسیر، ترمذی، ابواب التفسیر)اس دن کافر سب کچھ خوب دیکھ رہے ہوں گے  اور سن بھی رہے ہونگےمگر ہر طرف سے ناامیدہوکر حسرت سے اپنے ہاتھ کاٹیں گے۔مگر اس کا کچھ فائدہ نہ ہوگا"۔(تیسیر القرآن)

۔۔۔۔۔ اور بغوی بروایت ابوہریرہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر مرنے والے کو حسرت و ندامت سے سابقہ پڑے گا۔ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ یہ ندامت و حسرت کس بناء پر ہوگی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نیک اعمال کرنے والے کو اس پر حسرت ہوگی کہ اور زیادہ نیک اعمال کیوں نہ کر لئے کہ اور زیادہ درجات جنت ملتے اور بدکار آدمی کو اس پر حسرت ہوگی کہ وہ اپنی بدکاری سے باز کیوں نہ آگیا۔ ْ(مظہری) (معارف القرآن)


تیسرا رکوع

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا (41) اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا ﴿42﴾ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا ﴿43﴾ یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا ﴿44﴾ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا ﴿45﴾ قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا ﴿46﴾ قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا ﴿47﴾ وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا ﴿48﴾ فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا ﴿49﴾ وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ ۧ ۧ ﴿50ع مريم 19﴾
41. اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو۔ بےشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے۔42. جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابّا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں۔ 43. ابّا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا ہے تو میرے ساتھ ہوجیئے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلا دوں گا۔ 44. ابّا شیطان کی پرستش نہ کیجیئے۔ بےشک شیطان خدا کا نافرمان ہے۔ 45. ابّا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں۔ 46. اس نے کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا۔ 47. ابراہیم نے سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے۔ 48. اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا۔ 49. اور جب ابراہیم ان لوگوں سے اور جن کی وہ خدا کے سوا پرستش کرتے تھے اُن سے الگ ہوگئے تو ہم نے ان کو اسحاق اور (اسحاق کو) یعقوب بخشے۔ اور سب کو پیغمبر بنایا۔ 50. اور ان کو اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں۔ اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا۔

تفسیر آیات

43۔ (جوتوحید ،ایمان اور نجات کا راستہ ہے) الْعِلْم۔یعنی علم بالوحی جس میں غلطی کا احتمال ہی نہیں۔فقہاء نے یہاں سے مسائل ذیل کا استنباط کیا ہے۔1۔بے علموں پر علماء کی اتباع و اقتداء لازم ہے۔2۔باپ کو بیٹے سے استفادہ و تلمذ جائز ہے۔3۔ فضل نسب، فضل علم و کمال کا ہم سطح نہیں۔(تفسیر ماجدی)

44۔ اصل الفاظ ہیں لا تعبد الشیطن، یعنی " شیطان کی عبادت نہ کریں " اگرچہ حضرت ابراہیم کے والد اور قوم کے دوسرے لوگ عبادت بتوں کی کرتے تھے، لیکن چونکہ اطاعت وہ شیطان کی کر رہے تھے۔ اس لیئے حضرت ابراہیم نے ان کی اس اطاعت شیطان کو عبادت شیطان قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عبادت محض پوجا اور پرستش ہی کا نام نہیں بلکہ اطاعت کا نام بھی ہے۔۔۔ (تفہیم القرآن)

45۔ حضرت ابراہیمؑ کی تقریر کے بنیادی نکات یہ ہیں کہ کسی کو معبود بنالینا کوئی شوق اور تفریح کی چیز نہیں ہے۔ خدا کو ماننا تو اس لیے ضروری ہے کہ وہی ہماری دعاو فریاد کو سنتااور ہرمشکل میں دستگیری فرماتاہے۔دوسری چیزیں ہماری کون سی احتیاج کو پوراکرتی ہیں؟ پھر خدا کے معاملہ میں یہ طے کرنا کہ اس کا کوئی شریک ہے یا نہیں،محض ظن و گمان سے ممکن نہیں ہے۔اس کے لیے وحی کی رہنمائی ضروری ہے۔شرک میں مبتلا ہونا شیطان کی اطاعت ہے کیونکہ اس نے انسان کو توحید کی صراط مستقیم سے گمراہ کرنے کی قسم کھارکھی ہے۔شیطان اور اس کے پیروؤں کا انجام عذابِ جہنم ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

49۔ ۔۔۔ہمارے نزدیک یہاں حضرت اسماعیل کا ذکر نا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آگے ان کا ذکر مستقلاً آ رہا ہے۔  (تدبرِ قرآن)

50۔ یہ حرف تسلی ہے ان مہاجرین کے لئے جو گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے تھے۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح ابراہیم ؑ اپنے خاندان سے کٹ کر برباد نہ ہوئے بلکہ الٹے سر بلند و سرفراز ہو کر رہے اسی طرح تم بھی برباد نہ ہو گے بلکہ وہ عزت پاؤ گے جس کا تصور بھی جاہلیت میں پڑے ہوئے کفار قریش نہیں کرسکتے۔ (تفہیم القرآن)


چوتھا رکوع

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا ﴿51﴾ وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا ﴿52﴾ وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا ﴿53﴾ وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ ﴿54﴾ وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا ﴿55﴾ وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗ ۙ ﴿56﴾ وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا ﴿57﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ ۞ ﴿58﴾ فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ ﴿59﴾ اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ ﴿60﴾ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا ﴿61﴾ لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا ﴿62﴾ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا ﴿63﴾ وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ ﴿64﴾ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ ۧ ۧ ﴿65ع مريم 19﴾
51. اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو۔ بےشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مُرسل تھے۔ 52. اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا۔ 53. اور اپنی مہربانی سے اُن کو اُن کا بھائی ہارون پیغمبر عطا کیا۔ 54. اور کتاب میں اسمٰعیل کا بھی ذکر کرو وہ وعدے کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے نبی تھے۔ 55. اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم کرتے تھے اور اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ (وبرگزیدہ) تھے۔ 56. اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو۔ وہ بھی نہایت سچے نبی تھے۔ 57. اور ہم نے ان کو اونچی جگہ اُٹھا لیا تھا۔ 58. یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے اپنے پیغمبروں میں سے فضل کیا۔ (یعنی) اولاد آدم میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا۔ جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدے میں گر پڑتے اور روتے رہتے تھے۔ 59. پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گویا اسے) کھو دیا۔ اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے۔ سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی۔ 60. ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا۔ 61. (یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو ان کی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے) ۔ بےشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے۔ 62. وہ اس میں سلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے، اور ان کے لئے صبح وشام کا کھانا تیار ہوگا۔ 63. یہی وہ جنت ہے جس کا ہم اپنے بندوں میں سے ایسے شخص کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا۔ 64. اور (فرشتوں نے پیغمبر کو جواب دیا کہ) ہم تمہارے پروردگار کے حکم کے سوا اُتر نہیں سکتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور پیچھے ہے اور جو ان کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں۔ 65. (یعنی) آسمان اور زمین کا اور جو ان دونوں کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت پر ثابت قدم رہو۔ بھلا تم کوئی اس کا ہم نام جانتے ہو۔

تفسیر آیات

51۔ نبی اور رسول کا فرق:۔  سیدنا اسحاقؑ اور یعقوب ؑ کی اولاد میں سے سیدنا موسیؑ کا ذکر غالبا" اس وجہ سے کیا جارہاہے کہ آپ اولوالعزم پیغمبر،مشرع اعظم اور قد آور شخصیت ہیں اور آپؐ لوگوں سے ان کا ذکر کیجئے ۔آپ اللہ کی اطاعت و فرمانبرادری میں انتہائی مخلص تھے۔ آپؐ نبی بھی تھے اور صاحب شریعت رسول بھی ۔نبی اور رسول میں فرق یہ ہے کہ نبی عام ہے اور رسول خاص۔یعنی ہر رسول نبی تو ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔روایات کے مطابق رسولوں کی تعدادصرف 313 یا 315 تھی جبکہ انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ (نبی و رسول میں فرق کیلئے دیکھئے سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 67 کا حاشیہ) (تیسیر القر آن)

52۔ سیدنا موسیٰؑ کی اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی :۔  قرّبنٰہ نجیّٰا۔کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں ۔ایک یہ کہ ہم نے اسے راز کی بات کہنے کیلئے اپنے پاس بلایا،دوسرا یہ کہ ہم نے راز کی بات کہہ کر اسے اپنا مقرب بنالیا اور تیسرا یہ کہ ہم نے سیدنا موسیٰؑ کو آسمانوں پر اٹھالیا اور انہوں نے قلم چلنے کی آواز سنی جو لوح محفوظ پر چلتی ہے۔سیدنا ابن عباسؓ اور تابعین کی ایک جماعت سے یہی مطلب منقول ہے۔(تیسیر القرآن)

53۔ فرشتے کے واسطہ کے بغیر اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰؑ سے کلام کرنا ور ان کی مدد کے لیے ایک مستقل نبی کو ان کا وزیر اور شریک کار مقرر کرنا حضرت موسیٰؑ کے دوخاص امتیازات ہیں جن میں کوئی ان کا ہمسر نہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

57۔ قرآن مجید اس باب میں کوئی تصریح نہیں کرتا۔اور نہ کوئی حدیث صحیح آپ کے رفع جسمانی کے بارے میں وارد ہوئی ہے۔بعض مفسرین نے اسرائیلیات سے اس قصۂ  رفع جسمانی کو نقل کیا ہے ،لیکن محققین کا قول یہی ہے کہ رفعۃ اور مکان اور علو سب معنوی ہیں۔ ان سے مراد محض  شرف نبوت اور تقرب عنداللہ ہے جو ہر نبی کو حاصل ہے۔ جسمانی علو ورفعت اس سے ثابت نہیں ہوتا۔ اور روایت جو اس باب میں نقل ہوئی ہے، خود اس کے اندر کمزوری موجود ہے۔۔۔۔اسرائیلی روایات میں آتاہے کہ آپ ہی علم نجوم اور علم  حساب کے اور فن تحریر و کتابت کے اور خیاطی کے موجد ہوئے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

59۔ خَلف، یہ لفظ بسکون لام برے قائم بقام بری اولاد کے لئے اور بفتح لام اچھے قائم مقام اور اچھی اولاد کے لئے استعمال ہوتا ہے (مظہری) (معارف القرآن)

64۔ یہ قول حضرت جبرائیلؑ کی زبان سے اداکیا گیا ہے۔ رسول اللہؐ پر محبوب حقیقی کے پیامات کا جو اشتیاق غالب رہتاتھا اس کے تقاضہ سے ایک روز آپؐ نےجبرائیل سے کہا کہ اور زیادہ کیوں نہیں آتے ہو،اس کا جواب یہاں جبرائیلؑ کی زبان سے اداہورہاہے،حدیث صحیح  میں یہی تفسیر آئی ہے۔(تفسیر ماجدی)

65۔ مشرکین اور بت پرستوں نے اگرچہ عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ بہت سے انسانوں، فرشتوں، پتھروں اور بتوں کو شریک کر ڈالا تھا اور ان سب کو الٰہ یعنی معبود کہتے تھے مگر کسی نے لفظ اللہ معبود باطل کا نام کبھی نہیں رکھا۔ (معارف القرآن)


پانچواں رکوع

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا ﴿66﴾ اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا ﴿67﴾ فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ ﴿68﴾ ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ ﴿69﴾ ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا ﴿70﴾ وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ ﴿71﴾ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا ﴿72﴾ وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا ﴿73﴾ وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا ﴿74﴾ قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا ﴿75﴾ وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا ﴿76﴾ اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ ﴿77﴾ اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ ﴿78﴾ كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ ﴿79﴾ وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا ﴿80﴾ وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ ﴿81﴾ كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ ۧ ۧ ﴿82ع مريم 19﴾
66. اور (کافر) انسان کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤ گا تو کیا زندہ کرکے نکالا جاؤں گا؟ 67. کیا (ایسا) انسان یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو پہلے بھی پیدا کیا تھا اور وہ کچھ بھی چیز نہ تھا۔ 68. تمہارے پروردگار کی قسم! ہم ان کو جمع کریں گے اور شیطانوں کو بھی۔ پھر ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے (اور وہ) گھٹنوں پر گرے ہوئے (ہوں گے)۔ 69. پھر ہر جماعت میں سے ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو خدا سے سخت سرکشی کرتے تھے۔ 70. اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو ان میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں۔ 71. اور تم میں کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے۔ 72. پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۔ اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔ 73. اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں۔ 74. اور ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتیں ہلاک کردیں۔ وہ لوگ (ان سے) ٹھاٹھ اور نمود میں کہیں اچھے تھے۔ 75. کہہ دو کہ جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے خدا اس کو آہستہ آہستہ مہلت دیئے جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے خواہ عذاب اور خواہ قیامت۔ تو (اس وقت) جان لیں گے کہ مکان کس کا برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے۔ 76. اور جو لوگ ہدایت یاب ہیں خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ تمہارے پروردگار کے صلے کے لحاظ سے خوب اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں۔ 77. بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہنے لگا کہ (اگر میں ازسرنو زندہ ہوا بھی تو یہی) مال اور اولاد مجھے (وہاں) ملے گا۔ 78. کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں (سے) عہد لے لیا ہے؟ 79. ہرگز نہیں۔ یہ جو کچھ کہتا ہے ہم اس کو لکھتے جاتے اور اس کے لئے آہستہ آہستہ عذاب بڑھاتے جاتے ہیں۔ 80. اور جو چیزیں یہ بتاتا ہے ان کے ہم وارث ہوں گے اور یہ اکیلا ہمارے سامنے آئے گا۔ 81. اور ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنالئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے (موجب عزت و) مدد ہوں۔ 82. ہرگز نہیں وہ (معبودان باطل) ان کی پرستش سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن (ومخالف) ہوں گے۔

تفسیر آیات

اکیلا ہمارے سامنے آئے گا۔ 81. اور ان لوگوں نے خدا کے سوا اور معبود بنالئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے (موجب عزت و) مدد ہوں۔ 82. ہرگز نہیں وہ (معبودان باطل) ان کی پرستش 70۔۔۔۔آخر ایسا برخود غلط کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے یہ کہہ سکے کہ فلاں کو آپ نہیں جانتے، میں جانتا ہوں، وہ بڑا نیک آدمی ہے، اس وجہ سے اس کو کچھ نہ کہیے بلکہ سیدھے جنت میں بھیج دیجیے۔(تدبرِ قرآن)

71۔ ورود سے مراد دخول نہیں:۔  بعض روایات میں واردکے معنیٰ دخول لیے گئے ہیں یعنی ہر شخص کو کم از کم ایک دفعہ ضرور جہنم میں داخل ہونا ہوگا۔ یہ بات درست نہیں ۔ایک تو ایسی روایات سنداً   ناقابل اعتماد ہیں۔دوسرے خود قرآن کریم اور بہت سی صحیح احادیث کے خلاف ہیں اور تیسرے لغوی لحاظ سے بھی یہ مفہوم غلط ہے ورود کا معنی کسی جگہ پر پہنچنا ہے۔اس میں داخل ہونا نہیں۔ (تیسیر القرآن)

ــــ جہنم میں داخل ہونے کے حکم کے مخاطب وہی مجرمین ہوں گے جن کا ذکر اوپر سے چلاآرہاہے۔ اوپر کی بات بصیغۂ غائب کہی گئی جوعدمِ التفات یا ان کو اہمیت نہ دینے کے مفہوم کی حامل ہے۔یہ بات ان کو مخاطب کرکے کہی جائے گی جو شدتِ عتاب پر دلیل ہے۔ اسلوب کو نہ سمجھنے کے باعث بعض مفسرین آیت کا مفہوم یہ سمجھتے ہیں کہ ہر شخص ،خواہ نیک ہو یا بد ،جہنم پر سے لازماً گزرے گا حالانکہ سورہ انبیاء آیات 101 تا 102 میں صاف ارشاد ہواہے کہ نیکو کار جہنم سے دور رکھے جائیں گے اور وہ اس کا کھٹکا بھی نہیں سنیں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

74۔ جواب ملتاہے کہ یہ ظاہری ساز وسامان ،یہ دولت و حکومت ،یہ زرق برق لباس، تہذیب و تمدن ہی اگر دلیل حقانیت و ثبوت صداقت ہوتاہے،تو آخر بڑی بڑی پرشوکت،پرقوت،پر ثروت ،نافرمان قومیں کیوں غارت ہوگئیں؟ بابل و کلدانیہ کا تمدن کیا ہوگیا؟اہرام مصر والی عمارتیں کیوں زمین کے برابر ہوگئیں؟ شاہان عجم کا کروفر کیا ہوا؟ یونانیوں کا دم خم کہاں چلا گیا ؟ قیصر و کسریٰ کے تاج و تخت کیوں تاراج ہوکر رہے؟ اور آج آنکھوں کے سامنے،دیکھتے دیکھتے زارروس کی حکومت قاہرہ کا تختہ کیسا الٹ کررہا،قیصر ولیم اور اس کے آہنی ارادے کیوں خاک میں مل گئے! ہٹلر مع اپنےسارے سامان چنگیزی اور اتنے دم داعیہ کے کیوں فنا کے گھاٹ اتر گیا؟(تفسیر ماجدی)

۔ ۔۔۔خدا کوئی کمزور ہستی نہیں ہے کہ اس کو اندیشہ ہو کہ فورًا نہ پکڑا تو شکار نکل جائے گا۔ اس کی تدبیر نہایت محکم ہوتی ہے اس وجہ سے وہ برابر رسی دراز کیے جاتا ہے۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)

77۔ (آخرت میں)قال ۔اس کا یہ طریق تمسخر و استہزاء تھا۔صحاح کی حدیثوں میں یہ روایت آتی ہے کہ ایک صحابی کا قرضہ ایک مشرک کے ذمہ باقی تھا(اور یہ معلوم ہے کہ مشرکین مکہ آخرت کے منکر تھے)جب انہوں نے زائد تقاضا کیا تو اس نے کہا کہ تم جب تک محمدؐ کی صداقت سے انکار نہ کروگے۔میں قرض نہ چکا ؤں گا،انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو ہونے کا نہیں،چاہے تو مرکر پھر زندہ ہوجائے۔وہ یہ سن کر ازراہ تمسخر و تمرد بولا کہ اچھا جب یہ بات ہے کہ میں مرکر دوبارہ بھی آسکتاہوں تو بس جبھی آنا اور اپنا قرضہ چکا نا۔ میں تو اس وقت بھی صاحبِ مال واولاد ہوں گا۔(تفسیر ماجدی)

78۔ یہ ذکر کسی خاص شخص کا نہیں۔ عربی اسلوب کلام میں کسی خاص ذہنیت کو ممثل و مصور کرنا ہو تو یہ انداز اختیار کیا جاتاہے۔گویا مراد اس ذہنیت کے حامل گروہ کا ہر فرد ہوگا۔ ایسے لوگ نعمتوں کو اللہ کا عطیہ نہیں سمجھتے بلکہ اپنے استحقاق ذاتی یا اپنی قابلیت کا کرشمہ سمجھتے ہیں۔اس وجہ سے اس گھمنڈ میں رہتے ہیں کہ وہ ریاست و امارت کے پیدائشی حقدار ہیں۔اگر آخرت ہوبھی تووہ وہاں بھی کوٹھیوں میں عیش کریں گے اور کاروں میں پھریں گے۔ (ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)


چھٹا رکوع

اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ ﴿83﴾ فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ ﴿84﴾ یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ ﴿85﴾ وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ ﴿86﴾ لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ ﴿87﴾ وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ ﴿88﴾ لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ ﴿89﴾ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ ﴿90﴾ اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ ﴿91﴾ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ ﴿92﴾ اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ ﴿93﴾ لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ ﴿94﴾ وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا ﴿95﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ﴿96﴾ فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا ﴿97﴾ وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ ۧ ۧ ﴿98ع مريم 19﴾
83. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ ان کو برانگیختہ کرتے رہتے ہیں۔ 84. تو تم ان پر (عذاب کے لئے) جلدی نہ کرو۔ اور ہم تو ان کے لئے (دن) شمار کر رہے ہیں۔ 85. جس روز ہم پرہیزگاروں کو خدا کے سامنے (بطور) مہمان جمع کریں گے۔ 86. اور گنہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے ہانک لے جائیں گے۔ 87. (تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو۔ 88. اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے۔ 89. (ایسا کہنے والو یہ تو) تم بری بات (زبان پر) لائے ہو۔ 90. قریب ہے کہ اس (افتراء) سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ پارہ پارہ ہو کر گر پڑیں۔ 91. کہ انہوں نے خدا کے لئے بیٹا تجویز کیا۔ 92. اور خدا کو شایاں نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔ 93. تمام شخص جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خدا کے روبرو بندے ہو کر آئیں گے۔ 94. اُس نے ان (سب) کو (اپنے علم سے) گھیر رکھا اور (ایک ایک کو) شمار کر رکھا ہے۔ 95. اور سب قیامت کے دن اس کے سامنے اکیلے اکیلے حاضر ہوں گے۔ 96. اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے خدا ان کی محبت (مخلوقات کے دل میں) پیدا کردے گا۔ 97. (اے پیغمبر) ہم نے یہ (قرآن) تمہاری زبان میں آسان (نازل) کیا ہے تاکہ تم اس سے پرہیزگاروں کو خوشخبری پہنچا دو اور جھگڑالوؤں کو ڈر سنا دو۔ 98. اور ہم نے اس سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا ہے۔ بھلا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا (کہیں) ان کی بھنک سنتے ہو۔

تفسیر آیات

83۔۔۔۔ عربی میں جب کہیں گے " ارسل الکلب علی الصید " تو اس کے معنی ہوں گے کتے کو شکار پر چھوڑ دیا۔ اسی اسلوب پر یہاں فرمایا ہے کہ ہم نے ان کافروں پر شیاطین کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ ان کو دعوت حق کے خلاف جتنا اکسا سکتے ہیں اکسا لیں۔ " اَزَّ یَؤُزُّ " کے معنی برانگیختہ کرنے، بھڑکانے اور اکسانے کے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

84۔ حضورؐ کا جلدی عذاب چاہنا بعد مایوسی ان کے ایمان لانے کے شاید اس وجہ سے ہوکہ ان کا ضرر کفر دوسروں تک متعدی نہ ہوجاوے۔ پس ایسا استعجال منافی شان ِ رحمت کے نہیں۔"(تھانویؒ) (تفسیر ماجدی)

87۔ شفاعت سے متعلق چند اصولی باتیں:  شفاعت کا مقام صرف انبیائے کرام اور شہدائے امت کو حاصل ہوگا، یہ ایک منصب تکریم و تشریف ہے جس پر اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کو سرفراز فرمائے گا جو اس اکرام و اعزاز کے سزاوار ہوں گے۔۔۔۔۔۔یہ لوگ بھی خدا کی اجازت سے شفاعت کریں گے اور صرف ان لوگوں کے لیے کریں گے جن کے لیے اللہ تعالیٰ اجازت مرحمت فرمائے۔ یہ نہیں ہوگا کہ یہ کسی کی شفاعت کے لیے خود پیش قدمی کریں یا ان لوگوں کے لیے شفاعت کریں جن کے لیے خدا سے ان کو اجازت حاصل نہ ہو۔۔۔۔۔ یہ اپنی شفاعت میں وہی بات کہیں گے جو بالکل حق ہوگی۔ باطل کو حق یا بدی کو نیکی بنانا نہ ان کے شایان شان ہے نہ خدائے علام الغیوب کے آگے کوئی اس کی جسارت کرسکتا ہے۔۔۔۔۔۔جن لوگوں نے شرک و الحاد کی زندگی گزاری یا ایمان کے تو مدعی رہے لیکن ساری زندگی بطالت اور خدا اور رسول کی نافرمانی  میں گزاری ان کے لیے کوئی شفاعت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ شفاعت کے بل پر گناہوں کے لیے لیسنس دینے یا حاصل کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔۔۔۔۔۔۔شفاعت کے بل پر گناہوں ہی کو اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے اور یہود کی طرح امید وار ہیں کہ " سیغفرلنا " ہم امت مرحومہ ہیں، ہمارے سارے گناہ بخش دیے جائیں گے تو قرآن کی روشنی میں اس خوش فہمی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ (تدبرِ قرآن)

۔ مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ عہد سے مراد شہادت لا الہ الا اللہ ہے، بعض نے فرمایا کہ عہد سے مراد حفظ کتاب اللہ ہے خلاصہ یہ ہے کہ شفاعت کرنے کا حق ہر ایک کو نہیں ملے گا بجز ان لوگوں کے جو ایمان کے عہد پر مضبوط رہے۔ (روح) (معارف القرآن)

91۔ یہود کے نزدیک عزیرؑ اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ عیسیٰؑ کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اور دوسرے مشرکین کے دیوتا اور دیویاں سب اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں یا ان کی اولاد ہیں۔(تیسیر القرآن)

96۔ (خلائق کے قلوب میں بلا اسباب ظاہری کے)مشاہدہ یہ ہے کہ بے غرض ،متدین، مخلص،خادم خلق و عبادت گزار سے لوگوں کو محبت پیدا ہوجاتی ہے۔متقیوں کے علاوہ اگر کسی کو کہیں محبوبیت حاصل ہوتی ہے تو وہاں کوئی نہ کوئی دوسرا سبب قریبی اور ظاہری موجود ہوتا ہے۔مثلاًعزیز داری،ذاتی دوستی،ہم وطنی،ہمسائیگی وغیرہ بے غرض و بے لوث محبوبیت صرف اہل صلاح و تقویٰ ہی کو حاصل رہتی ہے ۔"اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے کسی کو بغض نہ ہوگا، بلکہ مقصود قرآن و حدیث کا یہ ہے کہ عام خلائق جن کا نہ کوئی نفع اس مومن سے وابستہ ہے، نہ کوئی ضرر،وہ اس سے محبت کرتے ہیں،چنانچہ مشاہدہ ہے اور اہل انتفاع کا محبت کرنا جیساکہ نفع رساں کفار سے بھی لوگوں کو محبت ہوتی ہے، یا اہلِ تضرر کا بغض کرنا جیساکہ ظالموں کو مسلمانوں سے ہوتاہے،قابل اعتبار نہیں، کیونکہ درحقیقت وہ محبت اور بغض  اپنے نفع اور ضرر سے ہے،اگر دونوں سے قطع نظر کی جاوے،اس وقت مومن کی صفات  میں اثر یہ ہے کہ اس سے عام قلوب کا استجلاب ہوتاہے"۔(تھانوی)(تفسیر ماجدی)

۔۔۔۔۔بخاری، مسلم، ترمذی، وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند فرماتے ہیں تو جبرئیل امین سے کہتے ہیں کہ میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں تم بھی ان سے محبت کرو۔ جبرئیل امین سارے آسمانوں میں اس کی منادی کرتے ہیں اور سب آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر یہ محبت زمین پر نازل ہوتی ہے (تو زمین والے بھی سب اس محبوب خدا سے محبت کرنے لگتے ہیں) اور فرمایا کہ قرآن کریم کی یہ آیت اس پر شاہد ہے یعنی (آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا (روح المعانی) اور ہرم بن حیان نے فرمایا کہ جو شخص اپنے پورے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ تمام اہل ایمان کے دل اس کی طرف متوجہ فرما دیتے ہیں۔ (قرطبی) (معارف القرآن)

۔  آیت سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ زبان قرآن کو صاحبِ قرآن ہی کی زبان پر رکھنا ،اس غرض سے ہے کہ وہ ان کی فہم عالی میں مع اپنے جلی اور خفی پہلوؤں کے پوری طرح آجائے ۔تاکہ وہ اس کے مطالب کو خوب سمجھ کر ان سے حسب موقع انذاروتبشیر دونوں کا کام لیں۔۔۔۔سورہ میں خود لفظ رحمٰن کا باربار آنا،اور مادہ رحمت  کا تو اس سے بھی زیادہ کثرت کے ساتھ آنا ،اس امر پر گواہ ہے کہ سورت کا مقصود سب سے زیادہ خدائے تعالیٰ کی صفت رحم پر زور دینا ،اور اس کی رحمت کو مطلق اور بلا بدل و معاوضہ مودت میں پیش کرنا ہے۔ مسیحیوں کو سب سے بڑا دھوکا اللہ کی صفت رحمت سے لگاہے،اور اسی ایک صفت کے نہ سمجھنے سے وہ مسیح پرستی کے شرک میں جا پڑے ہیں،مسیحیت کا سارا فلسفہ  دو لفظوں میں یہ ہے کہ بندوں کی گنہگاری دیکھ کر خدا ان سے روٹھ گیا،اور اس کی صفتِ عدل کا تقاضا یہ ہوا کہ سب کو جہنم میں جھونک دینا چاہئے،لیکن اس کا رحم و کرم اس پر آمادہ نہیں ہوتاتھا۔اس کی تدبیر اُس نے یہ کی کہ وہ خود ایک انسان کے قالب میں ظاہر ہوکر دنیا میں آئے،اپنے ایک اقنوم کو اپنا بیٹا بناکر بھیجے ،اور ساری مخلوق کے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لے کر سب کی طرف سے کفارہ کو تیار ہوجائے یعنی خود صلیب پر موت پاکر ایک مختصر مدت(تین دن)کیلئے دوزخ میں چلا جائے،اور سب کی طرف سے معاوضہ بن کر، کفارہ ہوکر سب کو نجات دلائے۔۔۔گویا خدا، بلامعاوضہ، بلاکفارہ، بلابدل، رحم و مغفرت سے کام لے ہی نہیں سکتا!۔ مسیحیت کے اس سارے بنیادی فلسفہ کی تردید کیلئے قرآن کا ایک لفظ رحمٰن کافی ہے یعنی اسلام کا خدا ایسا خداہے، جو مطلقاً رحم پر قادر ہے۔اس صفت رحمت کے ظہور کیلئے وہ بے بسی اور مجبوری کے ساتھ کفارہ و معاوضہ کا انتظار نہیں کیا کرتا۔(تفسیر ماجدی)