2 - سورة البقرة (مدنیہ)

رکوع - 40 آیات - 286

مضمون:قرآن مجید اور نبی ؐ پر ایمان لانے کی دعوت۔ یہود کی عہد شکنیوں کی تاریخ بیان کرکے ان کو منصب امامت سے معزول کیا ہے اور یہ امانت بنی اسماعیل کے حوالہ کی ہے۔(ترجمہ :مولانا امین احسن اصلاحی)

-البقرہ(گائے)  سورتوں کےلئے عنوانات کی بجائے نام جو محض علامت ہیں ۔(تفہیم القرآن)

- اس کا بیشتر حصہ ہجرت مدینہ کے بعد مدنی زندگی کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوا ۔کچھ آیات بعد   میں نازل ہوئیں   مثلاً آخری دوآیات معراج مصطفیٰؐ کے موقع پر عنائت ہوئیں۔آیات ربا حضورؐ کی زندگی کے بالکل آخری زمانہ میں نازل ہوئیں۔

    شان نزول: مدنی سورتوں کا جامع تعارف: (i) ہجرت کے بعد سابقہ یہودیوں سے (توحید ،رسالت، وحی ،آخرت،اور ملائکہ کے قائل)لیکن صدیوں کے مسلسل انحطاط نے ان کو اصل دین سے بہت دور ہٹادیاتھا(حضرت موسیٰؑ کو گذرے 19 صدیاں)۔۔۔۔ان کی عملی زندگی میں فضول رسوم  و رواج  ۔۔۔۔توراۃ کو اصل  دین کے اندر خلط ملط۔۔۔۔دین کی حقیقی روح نکل چکی تھی اور ظاہری مذہبیت ۔۔۔۔اعتقادی،اخلاقی، اور عملی حالت بگڑ گئی۔۔۔۔۔حقیقت  میں بگڑے ہوئے مسلمان ۔۔۔۔اللہ کے دین کو انہوں نے محض نسل اسرائیلی کی آبائی وراثت قرار دے دیا۔۔۔۔امت کے بگاڑ کی نوعیت(رسمی دینداری کے مقابلہ میں حقیقی دینداری۔۔۔۔دین حق کے بنیادی اصولوں سے انحراف (ii) مدینہ پہنچ کر اسلامی دعوت ایک نئے مرحلے میں ۔۔۔۔تمدن ،معاشرت، معیشت، قانون اور سیاست کے متعلق اصولی ہدایات۔(iii)ہجرت کے بعد اسلام اور کفر کی کشمکش ۔۔۔۔ایک طرف ایک چھوٹی سی بستی اور دوسری طرف تمام عرب اس کا استیصال کرنے پر تلاہوا۔(iv) منافقین کا عنصر اوران سے متعلق ہدایات(تفہیم القرآن)

ــــ یہ سورہ ایک تمہید ،چار ابواب (زوال یہود،حضرت ابراہیمؑ، احکام(نئی امت کےلئے)، جہاد و انفاق)  اور خاتمہء سورۃ (آخری آیات) پر مشتمل ہے۔ (تدبرِ قرآن)

ــــ سنام القرآن(قرآن کی چوٹی)۔۔۔۔۔اس کا جوڑا سورۂ آلِ عمران۔۔۔۔دونوں سورتوں  کو،      زھراوین (بہت روشن) کا نام بھی دیا گیا ہے۔  (بیان القرآن)

پہلے چاررکوع:  یہ چار رکوع  قرآن کے دو تہائی حصہ یعنی مکی قرآن  کا خلاصہ ہیں۔پہلا رکوع مومنین اورکفار سے متعلق ہے، دوسرارکوع منافقین تیسرا رکوع دعوت قرآنی کا خلاصہ اور چوتھا رکوع تخلیقِ آدم سے متعلق ہے۔ (مرتب)


پہلا رکوع

الٓمّٓۚ   1 الم۔
 ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ   2 یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے۔
 الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ 3 جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ   4 اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں۔
 اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 5 یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ  6 جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے۔
 خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠  7 خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب (تیار) ہے۔

تفسیر آیات

1۔الم: یہ اور اس طرح کے جتنے حروف بھی مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں چونکہ الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں ۔۔۔۔ جہاں تک ان حروف کا تعلق ہے، یہ اہل عرب کے لئے کوئی بیگانہ چیز نہیں تھے بلکہ وہ ان کے استعمال سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس واقفیت کے بعد قرآن کی سورتوں کا ان حروف سے موسوم ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے قرآن کے ایک واضح کتاب ہونے پر کوئی حرف آتا ہو۔ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حروف سے نام بنا لینا عربوں کے مذاق کے مطابق تھا بھی یا نہیں تو اس چیز کے مذاق عرب کے مطابق ہونے کی سب سے بڑی شہادت تو یہی ہے کہ قرآن نے نام رکھنے کے اس طریقہ کو اختیار کیا۔ اگر نام رکھنے کا یہ طریقہ کوئی ایسا طریقہ ہوتا جس سے اہل عرب بالکل ہی نامانوس ہوتے تو وہ اس پر ضرور ناک بھوں چڑھاتے اور ان حروف کی آڑ لے کر کہتے کہ جس کتاب کی سورتوں کے نام تک کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتے اس کے ایک کتاب مبین ہونے کے دعوے کو کون تسلیم کر سکتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

3۔صلوٰۃ کے لفظی معنی دعاکے ہیں ،اصطلاح شریعت میں ایک مخصوص ہئیت کی معروف عبادت کا نام ہے اور یہ نام بھی اسی سے پڑاکہ دعاہی اس عبادت کا جزواعظم ہے۔۔۔کسی شے کی اقامت کرنے کے معنیٰ عربی میں یہ ہوتے ہیں کہ اسے اس طرح اداکیا جائے جو اس کا حق ہے۔)تفسیر ماجدی(        

۔ یُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ: ایمان، امن سے ہے۔ ایمان کے اصل معنی امن دینے کے ہیں۔ اگر اس کا صلہ لام کے ساتھ آئے تو اس کے معنی تصدیق کرنے اور ب  کے ساتھ آئے تو یقین اور اعتماد کرنے کے ہوجاتے ہیں۔ اس لفظ کی حقیقی روح یقین، اعتماد اور اعتقاد ہے۔ جو یقین، خشیت، توکل اور اعتقاد کی خصوصیات کے ساتھ پایا جائے اس کو ایمان کہتے ہیں۔ (تدبر قرآن)

       3 ۔4:  ان دو آیات میں متقین کی چھ صفات بیان کی گئی ہیں:  (1) غیب پر ایمان   (2)اقامتِ صلوٰۃ   ( 3 ) انفاق  ( 4) جو کچھ حضورؐ   پر نازل ہوا اس پر ایمان    (5 ) جو آپ سے پہلے انبیا پر نازل ہوا اس پر ایمان    (6 ) آخرت پر یقین     (تیسیر القرآن)

4۔ آیت کی عبارت سے یہ مسئلہ صاف ہوجاتاہے کہ تین چیزیں الگ الگ ہیں(i)ایک کلام کا نازل کرنے والا یعنی اللہ تعالیٰ (ii)دوسرے وہ شخص جس پر کلام نازل ہواہے یعنی اللہ کا رسول برحق(iii)تیسرے خودکلام،بروز،تمثل،حلول،اور وحدۃ الوجود(اپنے عوامی مفہوم میں)ان سب مشرکانہ و نیم مشرکانہ  عقائد کی جڑ اس سے کٹ جاتی ہے ،نہ کلام متمثل ہواہے ،اور نہ رسول (نعوذباللہ) اللہ کے اوتار انسانی قالب میں خداہیں، بلکہ ایک مستقل انسانی شخصیت رکھتے ہیں۔۔۔۔ محققین نے دونوں ایمانوں بما انزل الیک وماانزل من قبلک کے درمیان فرق یہی کیا ہے کہ پہلا ایمان تفصیلی ہونا چاہیے،سارے اصول و فروع پر لازمی اور دوسرا ایمان محض اجمالی و عمومی کافی ہے۔۔۔۔وبالآخرۃ ھم یوقنون۔ یقین کا مرتبہ یوں بھی محض علم سے قوی ترتھا ،پھر فقرہ کی ترکیب یعنی فعل یوقنون کے تأخر وبالآخرۃ ِ کے تقدم اور ھم کے اضافہ نے قوت کئی درجہ اور بڑھادی مطلب یہ ہوا کہ مومنین متقین کے نزدیک آخرت اس درجہ اہم ہے کہ گویا وہ بس اسی پر یقین رکھتے ہیں یہی عقیدہ ان کی زندگی میں رچا بسارہتاہے ،عقیدۂ آخرت کی جو اہمیت اسلام میں ہے وہ اسی سے ظاہر ہے کہ اس کا ذکر اس مستقل عنوان سے کیا گیا اور وہ بھی ایسے پُرزور طریقہ پر۔(تفسیرماجدی)

 ــــ قرانِ حکیم اور احادیثِ نبوی میں اقامتِ صلوٰۃ پر بہت زور دیا گیا ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ نماز اس طرح پڑھو  جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس کی مکمل تفصیل ہمیں  احادیثِ نبوی میں ملتی ہے۔  اقامتِ صلوٰۃ کا ایک اہم پہلو  با جماعت نماز ہے۔ جس کا اجر اکیلے نماز پڑھنے کی نسبت 27 گنا  زیادہ ہے۔  ایک موقع پر حضرتِ عمر نے فرمایا کہ اگر کسی نے عشاء اور فجر کی نماز با جماعت پڑھی تو  گویا  اس نے تمام رات قیام الیل میں گزار دی۔ (مرتب)

۔ مَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ۔ اس صفت کی وجہ سے امت مسلمہ میں انسانی اتحاد کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح پوری انسانیت کا دین ایک ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک معبود قرار پاتا ہے اور اس کی طرف سے جو رسول بھیجے گئے سب کے نزدیک وہ رسولان برحق ہو جاتے ہیں۔ اس صفت کی وجہ سے دوسرے ادیان اور ان کے ماننے والوں کے خلاف مذموم تعصب ختم ہو جاتا ہے، جب تک وہ صحیح راہ پر ہوں۔ (فی ظلال القرآن)

۔ عقیدہ ختم نبوت:  اس موقع پر یہ نہیں فرمایا گیا وما ینزل من بعدک یعنی اس کلام پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ کےبعد نازل کیا جائے گا بلکہ قرآن پاک میں کسی جگہ بھی یہ ارشاد نہیں ہوا جیسا کہ اس سے پہلے تمام آسمانی کتب میں صراحۃ یہ بات بیان کی گئی کہ بعد میں بھی انبیاء کا ظہور ہو گا اور کتب سماویہ نازل ہوں گی اور تمام اہل ایمان کو بعد میں آنے والی کتب پر ایمان لانے کا پابند کیا گیا۔ یوں کلام الہی صرف وہی بنتا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ پر یا آپ سے قبل رسولوں پر نازل ہو چکا ہے۔ (انوار القرآن)

طبیب حاذق اپنے علم کی روسے مدتوں پیشتر خبردے دیتاہے کہ فلاں بدپرہیز ،خودرائے مریض اچھا نہ ہوگا، کیا اس پیش خبری،اس اخبار غیب میں اُس شفیق طبیب کی خواہش و مرضی کو بھی کچھ دخل ہوتاہے؟۔۔۔۔ بقول مفسر تھانویؒ اس کا فرکاناقابل ایمان ہونا اللہ کے اس خبردینے کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ خود اللہ تعالیٰ کا یہ خبردینا اس کا فرکا ناقابل ایمان ہونے کی وجہ سے واقع ہوا ہے۔۔۔۔ اس نے اپنے لئے جو کچھ اختیار کیا وہی اللہ تعالیٰ اسے بحیثیت علّت العلل و مسبّب الاسباب اپنے قانون تکوینی (نہ کہ قانون رضا) کے ماتحت دینے لگتاہے اور یہی معنی ہیں ،انسان کے عقل و حواس پر مُہر لگ جانے کے، ورنہ ظاہر ہے کہ یہ مہر خداوندی کوئی مادّی چیزنہیں ۔(تفسیر ماجدی)


دوسرا رکوع

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ   8 اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ   9 یہ (اپنے پندار میں) خدا کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں مگر (حقیقت میں) اپنے سوا کسی کو چکما نہیں دیتے اور اس سے بے خبر ہیں۔
فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ  10 ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ 11 اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
 اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ 12 دیکھو یہ بلاشبہ مفسد ہیں، لیکن خبر نہیں رکھتے۔
 وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ 13 اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے، تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں، بھلا جس طرح بےوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں؟ سن لو کہ یہی بےوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے۔
وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ 14 اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں اور (پیروانِ محمدﷺ سے) تو ہم ہنسی کیا کرتے ہیں۔
اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ  15 ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ  16 یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے۔
 مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ 17 ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے۔
صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ   18 (یہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے۔
 اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ 19 یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور الله کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے۔
یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۠   20 قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر الله چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ۔ بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر آیات

8۔۔۔۔۔ منافقین کی چار خصوصیات  :(i)یہ لوگ جب بات کرتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں۔(ii) کسی سے جھگڑا ہوجائے تو گالیاں دیتے ہیں ۔(iii)کوئی امانت رکھے تو خیانت کرتے ہیں۔(iv) کسی سے عہد کرتے ہیں تو اسے پورا نہیں کرتے(بخاری)۔۔۔۔کیا کفر و نفاق عہد نبویؐ کے ساتھ مخصوص تھا یا اب بھی موجودہے؟ ۔ (معارف القرآن)

10۔  فی قلوبھم مرض  : مرض کا  لفظ قرآن میں عموما دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔  ایک کینہ اور حسد کے معنی میں۔ دوسرے نفاق کے معنی میں۔ جن مقامات میں یہ تنہا استعمال ہوا ہے وہاں یا تو دونوں معنی اس کے اندر جمع ہیں یا  قرینہ اس کے دونوں معنی میں سے کسی ایک معنی کو متعین کرتا ہے۔یہاں واضع قرینہ اس بات کے لیے موجود ہے کہ اس سے مراد حسد ہے۔ ۔۔۔۔ یہاں حسد کے بڑھانے کے فعل کو اللہ تعالی نے جو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے تو یہ درحقیقت اس سنت کو اس نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے جس کے تحت یہ فعل انجام پاتا ہے۔ (تدبرقرآن) 

11۔ان کی   بسیار خوری  اور بے حساب فضول خرچی  کی وجہ سے  پہلے ہی موسموں میں خطرناک تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ قطبین کی برف پگھلنے سے  سمندروں کا پانی چڑھ رہا ہے، دریاؤں کا پانی  صنعتوں کے فضلات سے خراب ہو چکا ہے،  آسمان کی اوزون  والی چھت میں شگاف  پڑ چکا ہے، ہوا  صنعتی  گردوغبار سے گندی ہو چکی ہے،امن برباد ہو چکا ہے لیکن  اس فساد کے ذمہ دار، انسانیت کے یہ دشمن پھر بھی یہی پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ ہم تو معاش اور صنعت کوترقی دے رہے ہیں۔(کتاب زندگی)

12۔ فساد فی الارض قرآن مجید کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم اس نظام حق کو بگاڑنا یا اس کو بگاڑنے کی کوشش کرنا ہےجو اللہ واحد کی عبادت اور اس کے احکام و قوانین کی اطاعت پر مبنی ہوتا ہے اور جس کی دعوت انبیاءکرام علیہم السلام لے کرآتے ہیں۔ (تدبرقرآن) 

13۔ الناس۔ ناس ال کے داخلہ کے بعد معرفہ ہوگیا،اب مراد ساری نوع انسانی نہ رہی،بلکہ وہ متعلقین و مخصوص افراد رہ گئےجو مخاطبین کیلئے معلوم و معروف تھے،روایتوں میں عبداللہ بن سلام وغیرہ حق شناس یہود کے نام آئے ہیں جنہوں نے اسلام کی صداقت کو قبول کرلیا تھا۔۔۔۔یہ بھی جائز ہے کہ الناس کو انسانِ کامل کے معنی میں لیا جائے ،اور اس صورت میں مراد ہوگی کہ ایمان ان کی طرح لاؤ جو صفتِ انسانیت میں کامل ہیں ۔اور واقعی انسان کہلانے کے مستحق ہیں۔۔۔۔۔السفہاء۔ یہ طنز ہے اس وقت کے پکے اور سچے مسلمانوںپر،رسولؐ کے صحابیوں ؓ پر۔۔۔۔ یہی سنت آج تک چلی آرہی ہے۔"ترقی پسندوں" روشن خیالوں اور اہل تجدد کے دربار سےآج بھی جمود پسند،رجعت پسند تاریک خیال وغیرہ کیسے کیسے خطابات خالص و مخلص اہل ایمان کو عطاہوتے رہتے ہیں ۔(تفسیر ماجدی)

15۔ وحی الٰہی کی روشنی سے محرومی کے بعد بڑے بڑے روشن خیال انسان کی بھی واقعی یہی حالت ہوجاتی ہے، اپنی محدود و ناقص"عقل"کے سہارے وہ چاروں طرف ہاتھ پاؤں مارتاہے ،طرح طرح کے نظریے قائم کرتاہے ،اصول و کلیات بناتاہے ہرطرف ظن و تخمین کے گھوڑے دوڑاتاہے، کھلا ہواراستہ جس سے قلب کو سکون کامل حاصل ہوجائے کوئی نہیں سجھائی دیتاہے ،شک،ارتیاب،بے اطمینانی کے دلدل میں اور زیادہ پھنستاجاتاہے۔(تفسیر ماجدی)

آیات: 8-16: ان آیات میں قرآن  اور پیغمبر ؐ کے ان مخالفوں کے لیے  جو لفظ استعمال ہوۓ ہیں وہ بظاہر سخت معلوم ہوتے ہیں ، ممکن ہےان کی وجہ سے بعض لوگوں کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہو کہ یہ انداز کلام اس حکمت دعوت کے منافی ہے جس کی نصیحت خود قرآن نے فرمائی ہے ۔ قرآن مجید نے خود یہ تعلیم دی ہے کہ اللہ کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور اہل کتاب کے بارے میں تو خاص طور پر اس کی یہ ھدایت ہے کہ ان سے صرف خوبصورت طریقہ ہی سے دین کے معاملے میں بحث و گفتگو کی جاۓ۔ پھر یہاں قرآن نے انھی اہل کتاب کے ایک گروہ کے بارے میں سفہاء اور مفسدیں اور ان کے اکابر اور لیڈروں کے لیے شیاطین تک کے الفاظ کیوں استعمال فرمائے۔۔۔۔یہ سورہ بقرہ جس میں یہ الفاظ استعمال ہوے ہیں ، بنی اسرائیل کے لیے صرف دعوت کی سورہ نہیں بلکہ ان کے لیے ملامت کی سورہ بھی ہے۔ اس میں ان کےان جرائم کی فہرست پوری تفصیل کے ساتھ پیش کی گئ ہے جو انھوں نے خدا کی شریعت اور اس کے نبیوں  اور رسولوں کے خلاف کئے ہیں اور جن کی بنا  پر اللہ تعالی نے  ان کو  اس بات کا  مستحق قرار دیا ہے کہ وہ قوموں کی امامت کے منصب سے ہٹائے جائیں اور ان کی جگہ ایک دوسری امت منصب پر سرفراز کی جائے۔۔۔۔ حضرت مسیح  ؑ نے بھی یہود کے علماء اور لیڈروں کے لئے جو سخت الفاظ استعمال فرمائے ہیں وہ بھی اس طرح کے اتمام حجت کے بعد استعمال فرمائے ہیں ، حضرت مسیح کے یہ الفاظ انجیلوں میں موجود ہیں۔ اگر قرآن کے الفاظ سے ان کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ قرآن کے الفاظ بہت ہی نرم ہیں۔ حضرت مسیح ء نے تو ان کے لئے " سانپ کے بچوں " اور " سفیدی پھری ہوئی قبروں " تک کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ (تدبرقرآن) 

20۔ پہلی مثال ان منافقین کی تھی جو دل میں قطعی منکر تھے اور کسی غرض و مصلحت سے مسلمان بن گئے تھے۔ اور یہ دوسری مثال ان کی ہے جو شک   اور تذبذب اور ضعف ایمان میں مبتلا تھے۔ ، کچھ حق کے قائل بھی تھے ، مگر ایسی حق پرستی کے قائل نہ تھے کہ اس کی خاطر تکلیفوں اور مصیبتوں کو برداشت کر جائیں۔ اس مثال میں بارش سے مراد اسلام ہے جو  انسانیت کے لئے رحمت بن کر آیا۔ اندھیری گھٹا  اور کڑک اور  چمک سے مراد مشکلات و مصائب کا  ہجوم اور وہ سخت مجاہدہ ہے جو تحریک اسلامی کے مقابلہ میں اہل جاہلئت کی شدید مزاحمت  کے سبب  پیش آ رہا تھا۔ مثال کے آخری حصہ میں ان منافقین کی اس  کیفیت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جب معاملہ ذرا سہل ہوتا ہے تویہ چل پڑتے ہیں ، اور جب مشکلات کے  بادل چھانے لگتے ہیں ، یا ایسے احکام دئے جاتے ہیں جن سے ان کی خواہشات نفس اور  تعصبات جاہلیئت پر ضرب پڑتی ہے ، تو ٹھٹھک کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)

 آیات 17 تا20:۔ عام طور پر تو ، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک گروہ کٹر منکرین کا ہے اور دوسرا گروہ منافقین کا۔۔۔۔ ہمارے نزدیک یہ دونوں گروہ ہیں تو یہود ہی کے اور دونوں اسلام اور قرآن کے مخالف بھی ہیں لیکن دونوں کی مخالفت کے مزاج الگ الگ ہیں۔ پہلے گروہ کی مخالفت کا مزاج جمود اور ہٹ دھرمی ہے ۔۔۔۔ دوسرے کی مخالفت کا مزاج حاسدانہ لیکن ساتھ ہی بزعم خود مصلحت اندیشانہ بھی ہے۔ یہ ان تمام خطرات کو بھانپ رہا ہے جو اسلام کے ظہور سے یہودیت اور نصرانیت سب کے لئے پیدا ہوگئے ہیں۔(تدبر قرآن)

۔ آپ نے دیکھا کہ قرآن نے ان آیات میں تین قسم کے لوگوں کی تصویر کشی کی ہے ۔ ان میں سے اس تیسرے فریق نے لوح قرطاس میں نسبتاً زیادہ وسیع جگہ لی ۔ اس کے وسیع خاکے میں ہمیں مختلف رنگ بھرے ہوئے نظر آتے ہیں ، جو پہلی اور دوسری تصویر میں نہیں ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی اور دوسری تصویر میں جو لوگ دکھائے گئے ہیں ان کی راہ ورسم کسی نہ کسی شکل میں متعین ہے۔ وہ سیدھی طرح ایک مخصوص روش پر قائم ہیں ۔ پہلی تصویر میں ایک ایسا کردار نظر آتا ہے جو فکر مستقیم کا مالک ہے ۔ ایک سیدھی راہ ہے جس پر وہ بالکل سیدھا جارہا ہے ۔ دوسری تصویر میں ایک نابینا شخص دکھایا گیا ہے جو حیران وسرگردان ہے اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ماررہا ہے ۔ لیکن تیسرے شخص کی نفسیاتی حالت اس قدر پیچیدہ اس کا دل اس قدر بیمار ہے اور فکر اس قدر پریشان ہے کہ اس پر مزید آخری ، ایک آخری تبصرے کی ضرورت ہے ۔ اس تصویر میں کچھ مزید خاکے ہیں اور ان میں رنگ بھرے گئے ہیں تاکہ اس گروہ کی مکروہ اور متلون شخصیت کے خدوخال اچھی طرح واضح ہوسکیں ۔ (فی ظلال القرآن)

20۔( اور ان کی آنکھیں خیرہ ہوکر رہ جائیں )تشبیہ مرکب کے سلسلہ میں بیان ہورہاہے آثار غلبۂ اسلام کی قوت و شدت کا ،کہ یہ منافقین کی آنکھوں کو خیرہ کردینے کیلئے اور انہیں مرعوب کرنے کیلئے کافی ہے ۔۔۔۔ یعنی جب اسلام کی مادی فتح مندیاں اور کامیابیاں دیکھتے ہیں تو ان منافقین و مذبذبین کے قدم گویا اضطراراً اسلام کی طرف بڑھنے لگتے ہیں، طلب حق تو ان کے دل میں ہوتی ہی نہیں ،البتہ مرعوبیت کچھ دیر کیلئے آمادہ کردیتی ہے لیکن جب اہل ایمان کو ابتلاء پیش آنے لگتے ہیں تو یہ منافقین و مذبذبین انکار اور بے یقینی کے مقام پر پھر ٹھٹک جاتے ہیں اور اسلام کی طرف ان کے بڑھتے ہوئے قدم رک جاتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)


تیسرا رکوع

یٰۤاَیُّهَاالنَّاسُ اعْبُد ُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ   21 لوگو! اپنے پروردگار کی عبات کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو۔
الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 22 جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کے لیے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے۔ پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ۔ اور تم جانتے تو ہو۔
وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ  23 اور اگر تم کو اس (کتاب) میں، جو ہم نے اپنے بندے (محمدﷺ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو۔
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ 24 لیکن اگر (ایسا) نہ کر سکو اور ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے (اور جو) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
 وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ 25 اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے (نعمت کے) باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔
 اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ   26 الله اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے۔ جو مومن ہیں، وہ یقین کرتے ہیں وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے۔ اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا تو نافرمانوں ہی کو۔
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ  27 جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہٴ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا الله نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
 كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ 28 (کافرو!) تم خدا سے کیوں کر منکر ہو سکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔
 هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ 29 وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لیے پیدا کیں پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنا دیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے۔

تفسیر آیات

21۔  مذکورہ بالا تین قسم کے لوگوں کی تصویر کشی کے بعد سیاق کلام اب پوری انسانیت کو دعوت دینے کی طرف مڑجاتا ہے ۔ پوری انسانیت سے کہا جاتا ہے کہ وہ ان تین تصاویر میں سے سیدھی اور شریفانہ ، پاک وخالص ، سرگرم عمل اور نفع بخش اور ہدایت یافتہ اور کامیاب تصویر یعنی متقین کی تصویر کو اختیار کرے ۔ (فی ظلال القرآن)

۔مولانا اصلاحی کے نزدیک یہ خطاب مشرکین عرب سےہے  (تدبرقرآن ) 

22  ۔ربکم الذی جعل لکم، الخ،دوسری تعلیم ساتھ ہی ساتھ یہ ملی کہ زمین و آسمان ،انسان کیلئے خلق ہوئے ہیں، انسان زمین و آسمان کیلئے خلق نہیں ہواہے ، مقصود و مطلوب انسان ہے،زمین و آسمان دونوں باذن الٰہی اسی خلیفۃ اللہ کے خادم ہیں ،پھر یہ کیسی شدید حماقت ہے کہ انسان اپنے ان خادموں کے آگے خود ہی جھکنے لگے اور اُلٹا انہیں معبود قرار دے کر ان کی پرستش شروع کرنے لگے۔۔۔۔بہہٖ۔ یعنی پانی کے واسطہ یا ذریعہ سے۔۔۔۔اندادا۔ ندّ عربی میں کہتے ہیں مثل و مشابہ کو بھی اور مخالف و مدمقابل کو بھی۔۔۔۔لفظ کی جامعیت میں نکتہ یہ ہے کہ شرک دنیا میں دونوں قسم کا مروج رہاہے ،بہت سی قوموں نے اپنے دیوتاؤں کو محض  ایک خدا ئے اصغر یا ماتحت خداتسلیم کیاہے اور مجوس نے اہرمن کو یزداں کے حریف و مدمقابل کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔  افسوس کہ منافقین کی حماقتوں سے اب اس مضبوط چھت  کو بھی نقصان پہنچنا  شروع ہو گیا ہے۔ اس چھت کا ایک حصہ اوزون کی تہہ (Ozone Layer) پرمشتمل  ہے جس سے سورج کی سخت قسم کی شعاعیں (Ultraviolet Radiations) اس سے ٹکرا کر واپس ہو جاتی ہیں اور یوں زمینی مخلوق ان کے خطرات سے محفوظ رہتی ہے لیکن اب مختلف گندی گیسوں کی وجہ سے جن میں سے ایک گیس وہی ہے جو ریفریجریٹروں میں استعمال ہوتی ہے اوزون کی یہ چھت پھٹنے لگی ہے۔ اور ایک جگہ تو اس میں اتنا بڑا شگاف ہو گیا ہے کہ زمین پر ہزاروں مربع میل کا رقبہ اب براہ راست الٹراوائیلٹ شعاعوں کی زد میں آ چکا ہے۔ اگر یہ سلسلہ بڑھتا گیاتو زمین پر ہر قسم  کی مخلوق کوسخت خطرہ لاحق ہو جاۓ گا۔ کاش کہ فسادی اقوام  زمینی ماحول کو مزید خراب نہ کریں جس کی حفاظت کے لیے اللہ تعالی نے قرآن حکیم میں حکم دیا ہے (لا تفسدوا فی الارض)۔ جدید سائنس یہ ثابت کرتی ہے کہ زمین پر فضائی چھت سات حصوں پر مشتمل ہے اور یوں سورۃ نباء کی عظیم آیت "فوقکم سبعا شدادا" "اور تمہارے اوپر سات مضبوط رکاوٹیں" کی تصدیق کرتی ہے۔ (کتاب زندگی)

23۔  اگر تم اپنے اس خیال مین سچے ہو کہ خدا کے سوا تمہارے  کچھ اور حمایتی اور مدد گار بھی ہیں۔ اگر فی الواقع تمہارے کچھ حمایتی اور مدد گار موجود ہیں تو ان کو مدد کے لیے بلاؤ، اس سے زیادہ ان کی مدد طلب کرنے اور ان کے تمہاری مدد کے لیے اٹھنے کا اور کون سا موقع اہم ہو سکتا ہے۔ (تدبر قرآن)

ــــ من مثلہ کی تفسیر میں مفسرین کے اقوال کثرت سے مثلہ فی البلاغۃ اور حسن نظم کے منقول ہوئے ہیں لیکن اعجاز میں من وجہ المعنیٰ کاپہلو بھی اہل تحقیق سے چھوٹنے نہیں پایاہے۔امام رازی نے اپنی تفسیر کبیر میں متعدد پہلو اختیار کئے ہیں ۔بسورۃ۔میں پورا قرآن نہ سہی، اس کا نصف یا ثُلث بھی نہیں، اس کی کسی ایک سورۃ ہی کے برابر تم تصنیف کردیکھو۔من مثلہ بعض نے کہا تبعیض کیلئے ہے ،بعض نے کہا تبیین کیلئے اور بعض نے کہا کہ زائد ہے۔مثلہ کی ضمیر قرآن کی جانب ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔لوگ اس مخالفت میں مختلف قسم کی باتیں کہتے تھے۔ کبھی کہتے کہ یہ محمدﷺ کی خود اپنی تصنیف ہے جس کو یہ ہمارے اوپر اپنی نبوت کی دھونس جمانے کے لیے خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں، کبھی کہتے کہ کچھ لوگ ان کے شریک سازش ہیں اور وہ اس کتاب کی تیاری میں ان کی مدد کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ جس طرح شاعروں اور کاہنوں پر جنات القا کرتے ہیں اسی طرح ان پر بھی کوئی جن  یہ کلام القا کرتا ہے، کبھی دعویٰ کرتے کہ یہ کلام  کوئی مافوق کلام نہیں ہے، ہم بھی چاہیں تو اس قسم کا کلام بڑی آسانی کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔ اس طرح کی باتوں سے وہ اس کے ایک خدائی کلام  ہونے کو جھٹلانا چاہتے تھے تاکہ نبیﷺ کے دعوے کی تردید ہو سکےاوریہ کتاب آپ کی نبوت اور رسالت کی دلیل نہ بن سکے۔ (تدبرقرآن)

24۔ اللہ اکبر کس زور کی تحدّی ہے اور وہ بھی ایک اُمی کی زبان سے ،اپنی عقل و حکمت ،اپنی زبان و ادب،اپنے علوم و فنون پر ناز رکھنے والوں کوکیسا کیسا جوش اُس وقت بھی آیا ہوگا اور آج بھی آرہاہے"لیکن خدا کی بات جہاں تھی وہیں رہی!"کتنے نئے نئے مسلک روز بروز پیدا ہورہے ہیں کیسی کیسی ISMہرروز اُٹھ رہی ہیں،یہ سب گویا قرآن کے جوابات ہی ہیں ،ہر جواب ناکام اور شرمناک حد تک ناکام۔۔۔۔جدید جاہلی متمدن و مہذب قوموں کا ذوق سنگ تراشی و مجسمہ سازی بھی بت پرستی سے کچھ بہت زیادہ نہیں ۔۔۔۔اُعدت للکٰفرین۔ یہیں سے اہل سنت نے یہ استنباط کیا ہے کہ جہنم کی اصل غایت کافروں ہی کی تعذیب ہے نہ کہ محض اہل فسق و عصیاں کی۔۔۔۔ ہاں عارضی طورپر تادیب کیلئے اہلِ فسق و عصیاں بھی اس میں داخل کردیے جائیں تو یہ اس حقیقت کے منافی نہیں۔(تفسیر ماجدی)

۔جناب مولانا  مفتی محمد شفیع  صاحب نے  اعجاز قرآنی   کی تشریح کے ضمن میں دس وجوہات بیان کی ہیں۔ (تفصیل کیلیے ملاحظہ ہو معارف القرآن صفحہ 144 تا 159)

۔ایک رومی غلام جو مدینہ میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا اور کچھ تورات اور انجیل پڑھا ہوا تھا، کبھی کبھی آنحضرتﷺ سے ملتا تھا ، عرب کے کچھ جاہلوں نے تعصب اور عنادسے یہ مشہور کیا کہ  انحضرت ﷺ کو یہ قرآنی مضامین اس نے سکھائے ہیں۔  (معارف القرآن) 

25۔ بشرّ۔گویا مومنین ،صالحین اس کے مستحق ہیں کہ مخاطب انہیں مبارک باد پہنچائے اور اس میں ان لوگوں کی تکریم زائد ہے۔بہ مقابلہ اس کے کہ انہیں براہ راست خود ہی بشارت دے دی جاتی ۔۔۔۔ فقہاء مفسرین نے کہاہے کہ آیت میں اٰمنو اور عملوا الصالحات دو الگ الگ چیزیں بیان ہورہی ہیں، دونوں کے درمیان عطف ہے اور معطوف و معطوف علیہ کے علاوہ ہوتاہے ،یہ دلیل ہے اس گروہ کے خلاف جو ایمان اور عمل صالح کو مترادف سمجھتاہے۔۔۔۔ (دنیا میں یا جنت میں )یعنی جنتیوں کو جب کوئی پھل پھلاری کھانے میں آئے گاتو انہیں پچھلا مزہ بھی تازہ ہوجائے گا اور اس کی شکل دیکھتے ہی وہ بول اٹھیں گے کہ ارے یہ تو وہی لذیذ میوہ ہے جس کا مزہ ہمیں خوب یاد ہے۔ من قبل والےپھل دنیا کےباغوں کےبھی ہوسکتے ہیں اور جنت کے باغوں کے بھی،اہل تفسیر سے دونوں منقول ہیں۔ماحصل دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے یعنی اہل جنت میں شوق آفرینی و رغبت افزائی ۔۔۔۔ یہ نکتہ ملحوظ خاطر رہےکہ دنیا میں تو انسان کیلئے اکل و شرب ایک ضرورت ِ طبعی کی چیز ہے بدل مایتحلل کیلئے زندگی قائم رکھنے کیلئے ۔جنت میں اس قسم کی کوئی ضرورت ظاہر ہے کہ باقی نہ رہے گی ،وہاں جنتیوں کا کھانا پینا جو کچھ بھی ہوگا محض لذت حاصل کرنے کیلئے۔۔۔۔ لیکن اگر دنیا کے پھلوں سے تشابہ مراد لی جائے تو یہ لحاظ رکھنا ضروری ہوگا کہ یہ مشابہت صرف صوری اور ظاہری ہی ہوگی ورنہ اصل لذت ،ذائقہ،خوشبو وغیرہ کے لحاظ سے جنت اور دنیا کی نعمتوں میں آسمان وزمین کی نسبت ہے، چناچہ محققین نے کہہ دیا ہے کہ دونوں میں اشتراک صرف نام کا ہوگا۔۔۔۔غذا کی طرح صحبت کی نفس لذت ہی وہاں مقصود رہ جائےگی۔(تفسیر ماجدی)

۔اس ٹکڑے میں رزق کا لفظ بھی قابل غور ہے۔ یہ لفظ عربی  زبان میں بھی اور قرآن میں بھی رزق مادی  اور رزق روحانی دونوں ہی کیلئے استعمال ہوا ہے۔۔۔۔ اصلی رزق وہ علم و معرفت ہے جو قرآن اور پیغمبر ﷺ سے ہمیں حاصل ہوا ہے۔ اسی وجہ سے وحی کو  قرآن نے رزق سے تعبیر فرمایا ہے۔ اور حضرت مسیح  کا  ارشاد ہے  کہ آدمی صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خدا کی طرف سے آتا ہے۔۔۔۔ اہل ایمان  نیکیوں کی لذت و حلاوت سے بقدر استعداد اس دنیا میں بھی محظوظ ہوتے ہیں۔ (تدبرقرآن)

۔ بعض دفعہ یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ جنت میں مردوں کے لیے تو حور و مستورات ہوں گی، عورتوں کے لیے کیا ہو گا؟ اس کا قرآن کریم ہی سے یہ جواب ملتا ہے کہ وہاں ہر ایک کی خواہش کے مطابق نعمتیں ہوں گی۔ عورتوں کو بھی وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گی اور ہر کوئی اپنی جگہ مطمئن اور خوش ہو گا۔ بعض اوقات یہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ جنتی عورت کو حوروں سے رشک یا حسد ہو گا کہ نہیں۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جنت ہر طرح کے سفلی جذبات سے پاک ہو گی اس لیے وہاں حسد کا جذبہ نہیں ہو گا بلکہ اس کی جگہ باہمی محبت اور مروت کا جذبہ ہو گا، اس لیے جنتی عورت  کا کسی سے حسد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔)کتاب زندگی)

26- فسق کہتے ہیں احکام سے تجاوز کرجانے کو اور فاسق وہ ہے جو دائرہ اطاعت سے باہر نکل جائے ۔۔۔۔جس اصطلاحی معنی میں اس کا استعمال اب عربی بلکہ اردو میں عام ہے اس میں یہ تمام تر ایک اسلامی لفظ ہے اور ان چند لفظوں میں سے ہے جو قرآن نےآکر عربی زبان کودیے۔۔۔۔ جاہلی عربی کی طرح آج انگریزی زبان بھی باوجود اپنی اتنی وسعت کے حلّت،حرمت،طہارت، تقویٰ کے دائرہ کے بہت سے الفاظ سے محروم ہے۔

ع: ایں حدیثے رابیانِ دیگراست (تفسیر ماجدی)

۔قرآن مجید نے مشرکین کے معبودوں کی بے بسی کاذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مکھی بھی ان خداؤں سے کوئی چیز چھین لے تو یہ اس کا بھی کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اسی طرح شرکا اور شفعا پر ان کو جو اعتماد تھا، اس کی بے حقیقتی کی مثال مکڑی کے جالے سے دی ہے۔  یہود، دین کے اصولوں سے بے پرواہ  ہو کر اس کی جزئیات کا جو اہتمام کرتے تھے  حضرت مسیحؑ نے اس کو مچھر کے چھاننے اور اونٹ کے نگل جانے سے تشبیہ دی ہے۔ (تدبر قرآن)

27۔  وَ یَقطَعُونَ مَآ اَمَرَ اللہ ُ بِہٖٓ اَن یُّوصَلَ ” اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹتے ہیں ۔ “ اللہ تعالیٰ نے کس قسم کے روابط وتعلقات کو قائم رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ اس نے یہ حکم دیا ہے کہ عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کی جائے ، اس نے یہ حکم دیا ہے کہ پوری انسانیت کی عظیم برادری قائم کی جائے اور ہر انسان دوسرے کا بھائی ہو۔ اور ان سب سے مقدم درجے میں اس نے حکم دیا ہے کہ ایک نظریاتی اخوت اور ایمانی برادری قائم کی جائے کیونکہ کوئی ربط اور تعلق ایمان ونظریہ کے سوا مضبوط نہیں ہوسکتا۔ جب وہ تعلقات و روابط ٹوٹ جائیں جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے تو پھر تمام رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور تمام روابط ختم ہوجاتے ہیں ۔ زمین پر افراتفری عام ہوجاتی ہے اور شر و فساد پھیل جاتا ہے۔ (فی ظلال القرآن)

۔ یہ کون سا  عہد ہے؟ قرآن کریم سے واضح ہوتا ہے کہ اس میں ایک تو وہ عہد ہے جو  روحوں نے عالم ازل میں اللہ سے باندھا تھا  اور دوسرا وہ جوبندہ کلمہ طیبہ کے اقرار سے کر لیتا ہے۔ (کتاب زندگی)

۔  ان تین جملوں میں فسق اور فاسق کی مکمل تعریف بیان کردی گئی ہے۔ خدا اور بندے کے تعلق اور انسان اور انسان کے تعلق کو کاٹنے یا بگاڑنے کا لازمی نتیجہ فساد ہے، اور جو اس فساد کو برپا کرتا ہے، وہی فاسق ہے۔ (تفہیم القرآن)

28۔زندگی و موت کے چار مراحل:اس آیت  میں انسان پر وارد ہونے والی چار کیفیات کا ذکرہے۔پہلے موت،پھر زندگی ،پھر موت۔روح اور جسم کے اتصال کا نام زندگی اور ان کے انفصال کانام مو ت ہے۔ پہلی حالت موت ہے یعنی جملہ انسانوں کی ارواح تو پیدا ہوچکی تھیں لیکن جسم اپنے اپنے وقت پر عطاء ہوئے ،اسی عرصہ میں عہد الست لیا گیا تھا۔ دوسری حالت انسان کی پیدائش سے لے کر اس کے مرنے تک ہے،جس میں وہ اچھے یا برے اعمال کرنے کا اختیار رکھتاہے ۔تیسری حالت موت سے لے کرحشر تک اور چوتھی اور آخری حالت جی اٹھنے (حشر)کے بعد لامتناہی زندگی ہے ۔۔۔۔یاد رہے کہ جن حالتوں کو موت سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ان میں بھی زندگی کی کچھ نہ کچھ رمق موجود ہوتی ہے ۔مگر چونکہ غالب اثرات موت کے ہوتے ہیں ۔لہذا انہیں موت سے تعبیر کیا گیا ۔کیونکہ پہلی موت کے درمیان ہی عہدِ الست لیا گیا تھا اور دوسری موت میں ہی انسان کو قبر کا عذاب ہوتاہے اور دنیا میں بھی یہ حالت خواب سے سمجھا دی گئی ہے۔(تیسیر القرآن)

29۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنی جس نعمت کا ذکر فرما رہے ہیں اور اس کے کفران پر نکیر ہورہی ہے وہ صرف یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین کی تمام نعمتوں سے نوازا بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان ان تمام چیزوں کا مالک اور متصرف بھی ہے اور یہ کہ انسان کی قدر و قیمت ان تمام مادی اقدار سے برتر ہے جن پر یہ زمین حاوی ہے ۔ جس انعام کا یہاں ذکر ہے ملکیت کائنات اور زمین کے ذخائر سے انتفاع سے بھی آگے ، وہ انسانی شرافت اور انسان کی برتری کی نعمت ہے۔ (فی ظلال القرآن)

۔ لفظ ثُمّ سے یہ لازم نہیں آتا کہ آفرینش ارض ومافی الارض کے بعد تسویہ سماء ہوا ہے ،ثم کا استعمال عام ہے محض فرق زمانی ظاہر کرنے کو ،دوعلیحدہ زمانے ظاہر کرنے کو،نہ کہ لازمی طورپر تقدیم و تاخیر ظاہر کرنے کو ۔۔۔۔سوّٰھن َّ ۔تسویہ کے معنی ہیں تکمیل تک پہنچادینے اور ہرطرح درست کردینے کے ۔ضمیر ھنّ السماء کی طرف راجع ہے،خواہ اس کی تفسیر اجرام سے کی جائے یا خود اس کو معنیً جمع قرار دیا جائے (بیضاوی)۔۔۔۔فسوّٰھُنَّ کا ترجمہ ٹھیٹھ اردو میں یہ بھی ہوسکتاہے کہ "انہیں ٹھیک ٹھاک کردیا"۔)تفسیر ماجدی(

۔پہلی موت اور زندگی کے درمیان چونکہ کوئی فاصلہ نہ تھا، اس لئے اس میں حرف  "فاء " استعمال کیاگیا ، "فاحیاکم"، اورچونکہ دنیا کی حیات اور موت کے درمیان  اور اسی طرح اس موت اور قیامت کی زندگی کے درمیان خاصا فاصلہ تھا، اس لئے وہاں لفظ  "ثم" اختیار کیا گیا،  " ثم یمیتکم ثم یحیکم"  کیوں کہ  لفظ " ثم" بُعدِ مدت کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔۔۔۔۔یہ برزخی زندگی اس طرح کی زندگی نہیں  ہے جو انسان کو دنیا میں حاصل ہے، یا آخرت میں پھر ہو گی، بلکہ ایک درمیانی صورت مثل خواب کی زندگی کے ہے، اس کو دنیا کی زندگی کا تکملہ بھی کہا جا سکتا ہے اورآخرت کی زندگی کا مقدمہ بھی۔ (معارف القرآن)

۔    آیہ مبارکہ  : خلق لکم ما فی الارض جمیعا میں ایک بہت بڑی سائنسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ زمین میں سب کا سب انفرادی اور مجموعی طور پر صرف انسان کی خاطر پیدا کیا گیا ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں جمادات، نباتات،حیوانات، پہاڑ، ہوائیں  غرض  کوئی ایسا نہیں  جو انسان کے لیے نہیں حتیٰ کہ وہ بھی جو بظاہر نقصان دہ ہیں مثلاً موت۔اگر موت نہ ہوتی تو کیا زمین پر زندگی کی تازگی برقرار رہتی؟۔۔۔۔۔۔ لہٰذا یہ آیت سائنس کے لیے اس مقصد کا تعین کرتی ہے کہ سائنسدان چیزوں کی غرض و غائت کو سمجھیں کہ وہ  کیسے انسان کے مقصد حیات کو پورا کر رہی ہیں اور یہ بھی کہ  سائنس کا مقصد بھی انسان  ہی کی خد مت ہونا چاہئے۔ ۔۔۔۔۔۔ اس آیت سے کائنات میں انسان کا مقام  بھی ظا ہر ہوتا ہے۔ جب سب کی سب چیزیں انسان کے لیے ہیں  تو قدرتی بات ہے کہ انسان ہر چیز سے بلند تر مقام پر فائز ہو گا۔ ۔۔اگر باقی چیزوں کا مقصد حیات  انسان ہے تو انسان کا مقصد حیات کیا ہے؟ ۔۔ قرآن بتاتا ہے کہ انسان کا مقصد حیات اس کا رب ہے۔(کتاب زندگی)


چوتھا رکوع

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 30 اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ  31 اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ۔
 قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ 32 انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے۔
قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ 33 . (تب) خدا نے (آدم کو) حکم دیا کہ آدم! تم ان کو ان (چیزوں) کے نام بتاؤ۔ جب انہوں نے ان کو ان کے نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو (سب) مجھ کو معلوم ہے۔
وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ 34 اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سجدے میں گر پڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آکر کافر بن گیا۔
وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ 35 اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے۔
 فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ  36 پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش ونشاط) میں تھے، اس سے ان کو نکلوا دیا۔ تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں سے) چلے جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے۔
 فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ 37 پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کر دیا بے شک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے۔
قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ 38 ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠   39 اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہ دوزخ میں جانے والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

تفسیر آیات

آغاز رکوع: اس رکوع میں تخلیق آدم کا مختصر تذکرہ کیا گیا ہے(سورۂ الحجر میں تفصیلی تذکرہ ہے)۔۔۔۔خلیفہ سے مراد نائب ہے جیسے وائسرائے  جبکہ بادشاہ کوئی اور ہو ۔۔۔۔۔اسی طرح اصل بادشاہ اللہ ہے اور انسان اس کا خلیفہ ۔ اس لئے اسلام میں صرف خلافت مسلمین جائز ہے اور جب تک یہ قائم نہ ہو مسلمانوں پر مسلسل کوشش کی ذمہ داری ہے۔۔۔سورۂ کہف میں شیطان کو جن کہا گیا ہے ۔۔۔۔یہاں تخلیقِ آدم کا  یہ قصہ ساتویں مرتبہ آیا ہے جو مدنی سورۃ ہے۔۔۔۔ اس سے پہلے ہر دفعہ  مکی سورتوں ہی میں آیا ہے ۔۔۔۔ابلیس شیطان کی صفت ہے( یعنی رحمت سے مایوس)۔)ڈاکٹر اسرار /بیان القرآن)

تفسیر آیات:

30۔" اذ " ظرف زمان ہے،کسی گذشتہ واقعہ کی یاددلانے کے موقع پر آتاہے جس طرح " اذا   "کسی واقعۂ مستقبل پر آتاہے۔۔۔۔سورہ کے رکوع اول میں بیان فطرت انسانی کا تھا کہ قرآن کے مخاطبین میں دوطرح کے لوگ ہیں ،ایک اس کے پیام کو قبول کرنے والے ،صالح و سلیم فطرت رکھنے والے ،دوسرے بدفطرت یعنی پیام الٰہی سے انکار کرنے والے ،دوسرے رکوع میں مخاطبین کی ایک تیسری نوع کا بیان تھا،تیسرے رکوع میں اصل پیام کا لب لباب سنادیاگیا یعنی توحید و رسالت کی تبلیغ کردی گئی ،اب اس چوتھے رکوع میں اس تبلیغ کی تاریخ شروع ہوتی ہے یعنی پیام ابتداً نسل انسانی کے بانی و مورث حضرت آدمؑ کو دیا گیا اور ان سے نسل بہ نسل منتقل ہوتاآیاہے۔)تفسیر ماجدی(

ــــفرشتوں کا یہ قیاس کہ"بنی آدم دنیا میں فتنہ فساد اور قتل و غارت ہی کریں گے۔"یا تو اس لحاظ سے تھا کہ جن بھی زمین میں پہلے یہی کچھ کرچکے تھےاور یا اس لحاظ سے کہ جس ہستی کو اختیارات تفویض کرکے اسے اپنے اختیارو ارادہ کی قوت بھی دی جارہی ہےوہ افراط و تفریط سے بچ  نہ سکے گااور اس طرح فتنہ و فسادرونما ہوگا۔)تیسیر القرآن(

ــــاصل برتری علم و معرفت کی ہے،نفلی عبادات یاتسبیح و تقدیس سے نہیں ۔حضورؐ نے فرمایا:" ایک فقیہ ہزاروں عابدوں کے مقابلہ میں شیطان پر زیادہ بھاری ہے"                        )انوار القرآن(

ــــ تسبیح و تقدیس کا فرق: اس آیت میں جو تسبیح  و تقدیس کے الفاظ آئے ہیں۔تسبیح کے معنی سبحان اللہ کہنا یا سبحان اللہ کا ذکر کرنا یا اس ذات کی زبان قال یا زبان حال سے صفت بیان کرنا ہے جو ہر قسم کے عیب ،نقص اور کمزور یوں سے پاک ہے۔گویا یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی خوبیوں کو مثبت انداز میں بیان کرنے اور اس کی حمد یا تعریف بیان کرنے کیلئے آتاہے اور تقدیس کے معنی ایسی باتوں کی نفی کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں۔اور قدوس معنی وہ ذات ہے جو دوسروں کی شرکت کی احتیاج اور شرک جیسی دوسری نجاستوں سے پاک ہو یعنی اضداد اور انداد دونوں سے پاک ہو(مقاییس اللغۃ)تسبیح سے حمد بیان کرنا مقصود ہوتاہے اور تقدیس سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان کرنا ۔)تیسیر القرآن( 

31۔  یہ تو لفظی معنی ہوئے آیت کی تفسیر میں محققین نے مراد معلومات اشیاء سے لی ہے اور اسماء کے ساتھ مسمّیات اور ذوات و خواص اشیاء کو شامل کیا ہے اور اشیاء کے اسماء سے مراد ان کے آثار و خواص کا علم لیا ہے،گویا سارے علومِ تکوینی آدم و بنی آدم کو ودیعت کردیے گئے۔۔۔۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ مراد اسماء سے اسماء الٰہی ہیں ،ان کا علم اجمالی کامل آپ کو مل گیا تھا اور ہر اسم و صفت کے ساتھ ایسی مناسبت تامہ آپ کو پیدا ہوگئی تھی کہ آپ جس کسی اسم یا صفت کی طرف توجہ کرتے وہ اسم یا صفت فوراً متجلی ہو جاتی مثلاً جب اسم پاک الاول کی تجلی آپ پر ہوئی تو ہر گزری ہوئی چیز آپ پر منکشف ہوگئی،اسی طرح جب اسم پاک الآخر کی تجلی ہوئی تو ہر آنے والی چیز معلوم ہوگئی اور اسی پر قیاس سارے اسماء الٰہی کا کیا جاسکتاہے۔،اللہ اکبر یہ مقام ہے انسان کی فضیلت کبریٰ کا،حیف ہے کہ خلیفۃ اللہ دیوتاپرستی ،ملائکہ پرستی میں مبتلا ہوجائے ۔۔۔۔کُلھا کی تصریح سے ذہن اسی طرف منتقل ہوتاہے کہ تکوینی سلسلہ میں معرفت اشیاء ساری کی ساری انسان کو ہوکر رہے گی اور اسی لئے علوم کے سلسلے میں بھی اسے بے شمار منزلیں طے کرنا ہیں۔)تفسیر ماجدی(

۔وعلم ادم الاسماءکلہا اللہ تعالی نے آدم کو کن کے نام سکھائے؟ اس سوال کے جواب میں تین قول ہیں۔ ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد تمام چیزوں کے نام ہیں، دوسرا قول  یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتوں کے نام  ہیں اور تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد آدم کی ذریت کے نام ہیں۔۔۔۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں بھیجنے سے پہلے اللہ تعالی نے عالم غیب میں ایک مرتبہ تمام نسلِ آدمؐ  کے ایک اجتماع عام میں ان سے اپنی ربوبیت کا اقرار کرایا ہے۔ اسی اجتماع عام میں آدم  کو ان کی ذرّیت کےنام بھی بتائے گئے ہوں گےاور اسی  موقع پر فرشتوں کے سامنے ان کو پیش کر کے وہ سوال و جواب بھی ہوا ہو گا جس کا یہاں حوالہ ہے۔(تدبر قرآن)

33۔ باسماءھم ۔ضمیر جمع مذکر غائب اشیاء کائنات یا مسمیات کی جانب ہے۔)تفسیر ماجدی(

34۔ اب تعظیمی سجدہ بھی ہماری شریعت میں حرام ہے۔۔۔۔ ایک سجدہ دیتاہے تجھے سوسجدوں سے  نجات۔۔۔۔ کَانَ  ( ہوگیا تھا(۔ )ضیاء القرآن(

۔ اس تقریب میں شریر مخلوق مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے خود ذات اقدس کی بارگاہ میں باری تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہے اور صاحب فضیلت کے فضل اور اعزاز کا انکار کیا جاتا ہے ۔ یہ شریر مخلوق گناہ پر مصر ہے اور فہم و فراست کے تمام دروازے اس کے لئے بند ہوجاتے ہیں ۔ (فی ظلال القرآن)

۔ جوں ہی پوری سکیم ان کے سامنے آگئی ان کے سارے شبہات دور ہو گئے اور وہ آدمؑ کی خلافت پر پوری طرح راضی ہو گئے۔ اس کے برعکس ابلیس کو آدمؑ کی خلافت پر جو اعترض تھا وہ حسد اور تکبر کی بنا پر تھا۔۔۔۔۔ جو لوگ حق طلب اور معقولیت پسند ہیں ان کو اگر محمد ﷺ کی رسالت یا قرآن کے کسی پہلو میں تردد تھا تو وہ حق کے واضح ہو جانے کے بعد دور ہو گیا ہے یا دور ہو جائے گا لیکن یہود کی ساری مخالفت حسد اور تکبر پر مبنی ہے۔ (تدبر قرآن)

35۔ انت ۔ اس صراحت سے معلوم ہوتاہے کہ مخاطب اصلی حضرت آدمؑ تھے،حضرت حواکی حیثیت تابع کی سی تھی۔۔۔یہ بات بھی مجمل ہی رہی ،ہماری تفسیروں میں مادی درختوں سے گیہوں،خرما،کافور،انجیر،حنظل وغیرہ سے لے کر شجرِ محبت،شجر علم وغیرہ معنوی درختوں تک بہت سے نام گنادیے گئے ہیں۔۔۔ مرشد تھانویؒ نے لاتقربا سے یہ نکتہ خوب پیدا کیا کہ اصلاً صرف اکل ممنوع تھا،لیکن ممانعت قرب شجر سے بھی کردی گئی،اسی طرح مشائخ محققین بعض دفعہ مباحات سے روک دیتے ہیں کہ کہیں غیر مباح کی طرف متحیر نہ ہوجائے۔ )تفسیر ماجدی(

ــــ جنت ارضی یا سماوی؟ ۔۔۔۔یہ بحث بھی جاری ہے کہ یہ جنت ارضی تھی یا سماوی،بعض لوگ اسے ارضی سمجھتے اور اس کا مقام عدن یا فسلطین قرار دیتے ہیں ۔مگر ہمارے خیال میں یہ الجنہ وہی ہے جومسلمانوں میں معروف ہے اور وہ اہل سنت کے عقیدہ کے مطابق پیدا کی جاچکی ہے۔۔۔۔شجرممنوعہ گندم کا تھا یا انگور کا یا کسی اور چیز کا ؟ یہ بحث لاحاصل ہے۔)تیسیر القرآن(

36۔ عصمت انبیاء ۔گناہ اس وقت ہوتاہے جب کسی حکم کی نافرمانی کا عزم اور قصد پایا جائے۔۔۔۔ہمارے مفسرین نے بھی ایک طویل قصہ نقل کیا ہے جس میں شیطان ،سانپ،طاؤس سب کا ذکر آتاہے۔۔۔اس کا ماخذ قرآن و سنت نہیں بلکہ اسرائیلی روایات ہیں،اسی لئے جو اہل تفسیر زیادہ محتاط و محقق ہوئے ہیں،وہ اس سے الگ ہی رہے بلکہ اس سے احتیاط ہی کی تنبیہ کرگئے ہیں۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ کاملین بھی شیطان کے مکر سے محفوظ نہیں کہ حضرت آدمؑ کے اس وقت بھی کامل ہونے میں شک نہیں۔۔۔۔اھبطوا۔ خطاب اب بجائے صیغۂ تثنیہ (تم دونوں)کے صیغۂ جمع(تم سب)میں ہورہاہے گویا مخاطب تنہا آدم و حوا ہی نہیں بلکہ ساری نسل بھی ہے۔۔۔ یہ مختصر لفظوں میں کل زمینی زندگی کا نقشہ آگیا یعنی جنت کے سکون و اطمینان کے برعکس کشمکش،بغض،حسد،نفسانیت،خودغرضی کا زور رہاکرے گا۔ ۔۔۔۔متاع الی حین۔یعنی قیام زمین پر دائمی نہ ہوگاصرف ایک مدت موعود تک رہنا ہوگا،متاع میں خود ہی مفہوم ایک محدود الوقت نفع کا ہے۔)تفسیر ماجدی(  

۔ اس مقام پر بے ساختہ یہ خیال پریشان کرنے لگتا ہے کہ کیا انبیاء سے بھی گناہ سرزد ہوتا ہے؟ اس لیے اجمال کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس سلسلہ کے متعلق کچھ عرض کرنا نہایت ضروری ہے۔ علامہ قرطبی نے بڑی عمدگی سے اس مشکل کو حل کیا ہے۔ فرماتے ہیں انھم معصومون من الصغائر کلھا کعصمتھم من الکبائر اجمعھا۔ یعنی مالکی حنفی اور شافعی مسلک کے جمہور فقہا کا یہ مذہب ہے کہ انبیاء جس طرح کبیرہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اسی طرح صغیرہ گناہوں سے بھی پاک ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ان کی مطلق اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر ان سے گناہ کا ارتکاب ہو سکے تو ان کے گناہوں کی اطاعت بھی لازم آئے گی۔ جس سے ہدایت کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔اس پر یہ شبہ وارد ہوتا ہے کہ قرآن حکیم میں جا بجا انبیاء کی طرف ایسی چیزیں منسوب ہیں جو گناہ ہیں اور پھر ان امور پر شدید ندامت اور استغفار بھی منقول ہے۔ ایسے میں مطلق عصمت کا قول کیونکر ممکن ہے۔ اس شبہ کے ازالہ کے لیے ایک چیز کو ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہیے وہ یہ کہ کوئی فعل گناہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ کسی حکم کی نافرمانی کا عزم اور قصد پایا جائے۔ (ضیاء القرآن)

37۔توبہ کے الفاظ اور معافی:    بعض  تفاسیر میں ہے کہ غلطی سر زد ہونے کے بعد حضرت آدم اور اماں حوا  کو زمین پر پھینک دیا گیا اور وہ سینکڑوں سال سرگرداں اپنے گناہ پر روتے رہے۔آخر کاراللہ تعالیٰ نے انہیں مکہ کے نزدیک مقام عرفات میں ملا دیا اور معاف بھی کردیا۔لیکن ہمارے نزدیک یہ کہانی قرآنی شواہد کے مطابق نہیں۔ جو کچھ ہوا جنت میں ہوا  اور جنت میں ہی معافی مل گئی۔ ۔۔۔۔۔  جہاں تک یہ سوال کہ معافی کےالفاظ کیا تھے انہیں سورہء اعراف،آیت :23  میں حضور کی امت کو بھی بتا دیا اور گناہگار سے گناہگار انسان بھی ان الفاظ سے معافی مانگے تو معافی ہو جائے گی: ربنا ظلمنا ٰ انفسنا ،وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکوننامن الخاسرین ۔۔ آیہ مبارک میں جمع کا صیغہ نوٹ فرمائیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معافی مانگتے وقت حضرت آدم اکیلے نہیں تھے اور انکے ساتھ اللہ تعالیٰ نےانکی اولاد کو بھی معاف کر دیا۔اس لیے ہر بچہ معصوم پیدا ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔۔ حضرت آدم  کے واقعہ سےیہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ بڑے سے بڑے آدمی  کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کےحکم اور اس کی حدود کو توڑنے کی قطعاً  گنجائیش نہیں۔ دیکھیں کہ حضرت آدم کو خا ص اپنے ہاتھوں سے بنایا ، ان میں اپنی روح پھونکی، اپنی طرف سے ہر چیز کا علم عطا کیا، فرشتوں سے سجدہ کروایا،  جنت میں رکھا، اس سے بڑی فضیلت اور کیا ہو سکتی ہے لیکن جیسے ہی انہوں نے اللہ کی حد کو توڑا تو فوری سزا کا حکم سنا دیا۔(کتاب زندگی)       موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لئے قطرے جوتھے مرے عرقِ انفعال کے

۔ ایک سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ گناہگار تو دو تھے آدمؑ اور زوجہ آدم،اب یہاں صیغہ واحد مذکر کیوں آیا؟اور جواب یہ دیا گیا ہے کہ عورت مرد کے تابع ہے اور متبوع کے ذکر میں خود تابع کا ذکر آجاتاہے۔(تفسیر ماجدی)

۔تلقی" کے معنی ہیں شوق اور رغبت کے ساتھ کسی کا استقبال کرنا اور اس کو قبول کرنا (روح، کشاف) مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے جب ان کو توبہ کے کلمات کی تلقین  کی گئ تو آدمؐ نے اہتمام کے ساتھ ان کو قبول کیا۔(معارف القرآن)

38۔  کیا نیکی اور بدی کے نتائج لازمی ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور گناہ معاف کردیا۔مگر جنت سے اخراج کا حکم بحال رہنے دیا ،بلکہ اسے مکرر بیان فرمایا کیونکہ آدم ؑ کو جنت میں رہنے کیلئے نہیں بلکہ زمین میں خلافت کیلئے پیدا کیا گیا تھا اور یہی کچھ اقتضائے مشیئت الٰہی تھا۔)تیسیر القرآن(

۔ اس قصے میں اسلام کے تصور خطا اور توبہ کی وضاحت بھی کردی جاتی ہے ۔ گناہ چونکہ ایک فرد سے سرزد ہوتا ہے ۔ لہٰذا توبہ بھی ایک انفرادی عمل ہے ۔ یہ ایک ایسا واضح اور صاف نظریہ ہے جس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ اہل کنیسا کی طرح یہاں کسی ایسے تصور کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان پیدا ہونے سے پہلے خطاکا مرتکب بن جاتا ہو۔ اسلام میں کسی لاہوتی کفارہ معاصی کا کوئی تصور نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انسان کو آدم (علیہ السلام) کے گناہ سے پاک کرنے کے لئے مصلوب ہوئے ۔ یہ ایک غلط تصور ہے ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی ایک لغزش ایک انفرادی عمل تھا۔ اور اس سے چھٹکارا پانے کا طریقہ بھی انفرادی عمل ندامت اور توبہ تھا جو بالکل واضح اور صاف اور قابل فہم ہے ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہر ایک خود اپنے کئے کا ذمہ دار ہے ۔ اور سب کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے ۔ صاف اور سادہ اور آسان ۔

صدبار اگر توبہ شکستی بازآ                                                    (فی ظلال القرآن)

30۔39: 1۔ خلافت اور اس کے مقتضیات:  ان آیات سے پہلی حقیقت تو یہ واضح ہوتی ہے کہ انسان کی حیثیت اس دنیا میں خدا کے خلیفہ اور نائب کی ہے۔ اس کے کچھ لازمی تقاضے ہیں۔ یہ تقاضے بالاجمال یہ ہیں: (i) ایک یہ کہ انسان کو ایک خاص دائرے کے اندر اللہ تعالی کی طرف سے اختیار تفویض ہو۔۔۔ وہ اپنے خلیفہ کو کچھ اختیارات دے کر یہ امتحان کرنا چاہتا ہے کہ یہ ان اختیارات کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ (ii) دوسرا یہ کہ اس کی خلافت اور نیابت کا اقتضا ہے کہ مستخلف کی طرف سےاس کی آزادی کی حدود معین و معلوم ہوں۔ ۔۔ خلافت و نیابت کی فطرت کا اقتضا ہے کہ انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے خدا کی طرف سے شریعت و ہدایت نازل ہو۔ (iii) تیسرا یہ کہ جب انسان خدا کا خلیفہ اور نائب ہے تو اس کے مطلق العنان اور غیر مسئول ہونے کا تصور بنیادی طور پر غلط ہے۔ خلیفہ کو شتر بے مہار بنا کر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ (iv) چوتھا یہ کہ منصب خلافت کی فطرت کا تقاضا ہے کہ یہ منصب صفات کے ساتھ مشروط ہو۔ (v) پانچواں یہ کہ یہ منصب اپنے مزاج کے لحاظ سے صرف ایک انفرادی منصب نہیں ہے بلکہ ایک اجتماعی اور سیاسی منصب بھی ہے۔ (vi) چھٹا یہ کہ خلافت خیر و فلاح کی ضامن اس وقت تک رہ سکتی ہے جب تک یہ اصل مستخلف کے احکام و ہدایات کے مطابق چلائی جائے۔  انسان کی برتری: دوسری حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ یہ بات کسی طرح انسان کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ جنات یا فرشتوں میں سے کسی کو خدا کا شریک سمجھ کر ان کی پرستش کرے۔۔۔ انسان اس حق میں اگر جنوں اور فرشتوں کو بھی شریک کرتا ہے تو صرف اللہ تعالی ہی کی توہین نہیں کرتا بلکہ خود اپنی بھی توہین کرتا ہے۔ گناہ کا سرچشمہ شیطان: تیسری حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ انسان اپنی فطرت کے لحاظ سے کوئی مجرم یا فسادی وجود نہیں ہے۔۔۔ وہ اختیار کی اس نعمت کو جس سے اللہ تعالی نے اس کو مشرف فرمایا ہے غلط استعمال کرنے کے باعث فتنہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس فتنہ میں اس کو شیطان مبتلا کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کی وسیع آزادی پر جو پابندیاں عائد کردی ہیں، شیطان انسان کو ورغلاتا ہے کہ بس یہی پابندیاں ہیں جو اس کے سارے عیش و آرام کو کرکرا کیے ہوئے ہیں، اگر وہ جرات کر کے ان کو توڑ ڈالے تو بس اس کے لیے ترقی و کمال اور عیش و آرام کے تمام دروازے کھلے ہوئے ہیں۔۔۔ اس گناہ سے اس کو پاک کرنے کے لیے اللہ تعالی نے اس کے لیے توبہ اور اصلاح کی راہ کھولی ہے۔۔۔ قرآن کے اس بیان سے عیسائیوں کے اس خیال کی پوری پوری تردید ہو جاتی ہے جو آدم کے ازلی و ابدی گنہگار ہونے سے متعلق ان کے ہاں پایا جاتا ہے اور جس کے حل کے لیے انہوں نے کفارہ کا عقیدہ گھڑا ہے۔  خدا کے ہر کام میں حکمت ہے: چوتھی حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ خدا کی ہر بات کے اندر نہایت گہری حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ نہ ان سے جنات واقف ہو سکتے ہیں نہ فرشتے اور نہ انسان۔  آدمؑ اور ابلیس کے گناہ میں فرق: پانچویں حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ جو گناہ انسان کے محض ارادہ کی کمزوری سے صادر ہوتا ہے اس کا مزاج اس گناہ سے بالکل مختلف  ہوتا ہے جس کا سرچشمہ حسد اور تکبر ہوتا ہے۔ ْنبوت و رسالت کی ضرورت: چھٹی حقیقت یہ کہ اس کی رحمت مقتضی ہوئی کہ وہ انسان کی ہدایت اور اصلاح کے معاملہ کو تنہا اس کی عقل و فطرت ہی پر نہ چھوڑ دے بلکہ اس کی فطرت کو بیدار رکھنے اور اس کی عقل کو کجرویوں اور گمراہیوں سے بچانے کا بھی سامان کرے۔(تدبر قرآن)

39۔  خلود فی الجنۃ اور خلود فی النار سے مراد جنت کی نعمتوں یا جہنم کے عذاب کا دوام اور اہل جنت اور اہل جہنم کا کبھی اپنے اپنے مقام سے باہر نہ نکلنا ،اہل جنت کے تنعم اور اہل جہنم کے عذاب کا دائم و غیر منقطع ہونا امت کے اجماعی مسلمات میں سے ہے۔)تفسیر ماجدی(


پانچواں رکوع

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ 40 . اے یعقوب کی اولاد! میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا۔ میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا اور مجھی سے ڈرتے رہو۔
وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١٘ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ 41 اور جو کتاب میں نے (اپنے رسول محمدﷺ پر) نازل کی ہے جو تمہاری کتاب تورات کو سچا کہتی ہے، اس پر ایمان لاؤ اور اس سے منکرِ اول نہ بنو، اور میری آیتوں میں (تحریف کر کے) ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) نہ حاصل کرو، اور مجھی سے خوف رکھو۔
 وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 42 اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ، اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپاؤ۔
 وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ 43 اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰة دیا کرو اور (خدا کے آگے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو۔
 اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 44 . (یہ) کیا (عقل کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے تئیں فراموش کئے دیتے ہو، حالانکہ تم کتاب (خدا) بھی پڑھتے ہو۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ 45 اور (رنج وتکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو اور بے شک نماز گراں ہے، مگر ان لوگوں پر (گراں نہیں) جو عجز کرنے والے ہیں۔
الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ 46 اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

تفسیر آیات

آغازِرکوع:۔ تم بھی آخرکارپچھلی امتوں ہی کی روشن پرچل کررہوگے حتیٰ کہ اگروہ کسی گوہ کے بل میں گھسے ہیں توتم بھی اسی بل میں گھسوگے۔۔۔۔ اس رکوع میں دعوتِ دین بنیادی موضوع ہے۔

42۔ ؎           واعظاں کہ برمنبرجلوہ می کنند چوں بہ خلوت می روندآں کارِدیگرمی کنند

( واعظ جو منبر پر جلوہ افروز ہوتے ہیں جب وہ تنہائی میں جاتے ہیں تو دوسری قسم (یعنی گناہ) کے کام کرتے ہیں)

ع         ۔خودبدلتے نہیں قرآن کوبدل دیتے ہیں

45۔ صبر کی تعریف:"صبر کے لغوی معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں۔اور اس سے مراد  ارادے کی وہ مضبوطی،عزم کی پختگی اور خواہشاتِ نفس کا وہ انضباط ہے جس سے ایک شخص نفسانی ترغیبات اور بیرونی مشکلات کے مقابلہ میں اپنے قلب و ضمیر کے پسند کئے ہوئے راستہ پر لگاتار بڑھتا چلاجائے۔"(ضیاء القرآن بحوالہ  تفہیم القرآن)

۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عربوں کے نزدیک صبر عجز و تذلل کے قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جو بے بسوں اور درماندوں کا شیوہ ہے بلکہ یہ عزم اور قوت کی بنیاد ہے۔ کلام عرب میں اس کا استعمال بہت ہےاور اس کے تمام استعمالات سے اسی مفہوم پر روشنی پڑتی ہے (تدبر قرآن  بحوالہ امام فراہی)

۔"الا علی الخشعین"، خشوع  کی اصل حقیقت  پستی اور فروتنی اور عجز و تذلل ہے۔ آواز پست ہو تو یہ لفظ اس کے لئے بھی بولا جائے گا،نگاہ جھکی ہوئی ہو تو اس کے لئے بھی بولا جائے گا۔ اونٹ کا کوہان لا غری کے سبب بیٹھ جائے تو اس کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہو گا۔ (تدبر قرآن)

46۔ یظنون میں ظن کا معنی عموماً گمان ہوتاہے لیکن اگر اس کے بعد اِنّ کا استعمال ہوتو اس کا معنی "یقین" کیاجاتاہے۔۔۔اور کلامِ عرب میں ظن بمعنی یقین کے استعمال کے نظائر بے انتہاہیں۔(تفسیر ماجدی)


چھٹا رکوع

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ 47 اے یعقوب کی اولاد! میرے وہ احسان یاد کرو، جو میں نے تم پر کئے تھے اور یہ کہ میں نے تم کو جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی۔
وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ 48 . اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش منظور کی جائے اور نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے اور نہ لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کر سکیں۔
 وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ 49 اور (ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قومِ فرعون سے نجات بخشی وہ (لوگ) تم کو بڑا دکھ دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی۔
وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ 50 . اور جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑ دیا تم کو نجات دی اور فرعون کی قوم کو غرق کر دیا اور تم دیکھ ہی تو رہے تھے۔
 وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ 51 . اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا تو تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کو (معبود) مقرر کر لیا اور تم ظلم کر رہے تھے۔
 ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 52 پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کر دیا، تاکہ تم شکر کرو۔
 وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ 53 . اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے، تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔
 وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ 54 اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو، تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھہرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو۔ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پھر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا۔ وہ بے شک معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے۔
وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ 55 اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ موسیٰ، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے، تم پر ایمان نہیں لائیں گے، تو تم کو بجلی نے آ گھیرا اور تم دیکھ رہے تھے۔
 ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ  56 . پھر موت آ جانے کے بعد ہم نے تم کو ازسرِ نو زندہ کر دیا، تاکہ احسان مانو۔
 وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ 57 اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے۔
وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ 58 اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے۔
فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠   59 تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے۔

تفسیر آیات

ــــ پہلی دو آیات اور پندرہویں رکوع کی پہلی دوآیات ایک جیسی ہیں۔

47۔  سوال یہ ہے کہ اس نسل کی افضلیت،سارے عالم پر کس معنی میں ارشاد ہورہی ہے ،اور وہ کون سی ایسی نعمت تھی جو بحیثیت نسل بنی اسرائیل کے ساتھ بلاشرکتِ غیر ے مدتوں مخصوص رہی؟ اگر کہئے کہ دولت یا حکومت یا تجارت یا کثرت ِ آبادی ،تواول تو یہ انعامات اللہ کے خود اس درجہ کے نہیں۔۔۔اللہ کی اعلیٰ ترین نعمت"مسلک توحید" کی تھی۔۔۔جس دور میں ساری قومیں اور ساری نسلیں کم و بیش شرک میں مبتلا تھیں۔نسلِ اسرائیل ہی ایک ایسی قوم تھی جومن حیث القوم توحیدکی علمبردارتھی)تفسیر ماجدی(

48۔یہ درست ہے کہ قیامت کے دن انبیاء اور صلحاء گناہگاروں کیلئے سفارش کریں گے لیکن اس سفارش کی شرائط ایسی ہیں کہ سفارش پر تکیہ کرنا مشکل ہے مثلاً یہ کہ سفارش وہی کرے گا جسے اللہ اجازت دے گا ،اور اتنی ہی کرسکے گا جتنی اللہ کی مرضی ہوگی ،یاصرف اسی گناہ کیلئے سفارش کرسکے گا جس کا اللہ کی طرف سےْ اذن ہوگا،اور صرف اسی شخص کے حق میں کرسکے گاجس کے حق میں سفارش کرنا منظور ہوگا۔(تیسیر القرآن)

ــــ اس سے مقصود اُس اسرائیلی عقیدہ کی تردید ہے جو آج تک جیوش انسائیکلوپیڈیا میں یوں لکھا چلاآتاہے۔"بہت سے لوگ اپنے اسلاف کے اور بہت سے لوگ اپنے اخلاف کے اعمالِ حسنہ کی بناپر بخش دیے جائیں گے"۔(تفسیر ماجدی)

49۔  فرعون ۔یہ کسی معین بادشاہ کا ذاتی نام یا علم نہیں،قدیم شاہانِ مصر کا عام لقب تھا جیسے ہمارے زمانہ میں ابھی کل تک جرمنی کے بادشاہ کو قیصر،روس کے تاجدار کو زار،ترکی کے فرمانرواکو سلطان،والی مصر کو خدیواور والی دکن کو نظام کہتے تھے،مؤرخین کا خیال ہے کہ حضرت موسیؑ کے ہمعصر کوئی ایک بادشاہ نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے دو بادشاہ ہوئے ہیں،اگر صحیح ہے تو اسے بھی قرآن کا اعجاز ہی  کہنا چاہیے کہ وہ بجائے شخصی نام کے عمومی لفظ لایاجس کے بعد شخصیتوں کے ایک یا دویا چند ہونے کا سوال ہی نہیں رہ جاتا۔۔۔نجّینا۔باب تفعیل سے ہے، اور اس باب کی ایک خاصیّت فعل کی تدریج ظاہر کرنابھی ہے بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ سارے اسرائیلی مصر سے دفعۃً نہیں نکلے تھے بلکہ رفتہ رفتہ اور مختلف ٹولیوں میں نکلتے رہے اور ان کا سب سے بڑا اور آخری دستہ وہ تھا جو حضرت موسیؑ کی قیادت میں روانہ ہوا ،اورراہ بھٹک کر سمندر پارہوا۔ہیسٹنگز کی ڈکشنری آف دی بائبل میں ہے"ممکن ہے کہ مصری اسرائیلیوں کے گروہ وقتاً فوقتاً مصر سے نکل کر اپنے اجداد کے مقبروں کے گرد آباد ہوتے رہے ہوں"۔(تفسیر ماجدی)

50۔  توریت میْں اس کو خروج بنی اسرائیل سے موسوم کیا ہے زمانہ کی تعیین جزم کے ساتھ مشکل ہے ۔جدید ترین تحقیقات کے مطابق پندرہویں صدی قبل مسیح کا وسط قرار پایا ہے،بلکہ بعض نے جرأت کرکے سنہ بھی متعین کردیاہے۔1447 ق۔م۔۔۔چناچہ جنوری 1934ء (رمضان1352ھ) میں جو عظیم الشان زلزلہ بہار و اطراف بہار میں آیا ،اس موقع صوبہ بہار کے صدر مقام شہر پٹنہ میں دن دوپہر کوئی ڈھائی بجے کے وقت ایک مجمع کثیرنے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ گنگا جیسے وسیع و عریض دریا کا پانی چشم زدن میں غائب ہوگیا ،اور اتنے چوڑے پاٹ میں بجائے دریا کے دھارے کے خشک زمین نکل آئی اور یہ حیرت انگیز اور دہشت ناک منظر چند سیکنڈ نہیں،چارپانچ منٹ تک قائم رہا،یہاں تک کہ دریا اُسی برق رفتاری کے ساتھ یک بیک زمین سے اُبل کرپھر جاری ہوگیا! واقعہ کی مفصل روئداد ایک وقائع نگار کے قلم سے انگریزی روزنامہ"پانیر"(لکھنوء) کی ۔2 جنوری 1934ء کی اشاعت میں درج ہے۔۔۔البحر ۔بحر سے سے مراد یہاں دریائے نیل نہیں، جیساکہ بعض ثقات کو دھوکا ہوگیا ہے بلکہ بحر قلزم (یا بحر احمر) مراد ہے ،دریائے نیل تو بنی اسرائیل کے مسکن اور محلہ سے مغرب جانب واقع تھا ،اور اسرائیلیوں کا راستہ شام کیلئے مشرق کی طرف تھا ،نیل سے اس راستہ کو دورکا بھی واسطہ نہ تھا ،مصر سے شام کی راہ کے قریب بحر قلزم تھا، اسی کے تنگ شمالی سرے کی جانب یہاں اشارہ ہے مصر کے مشرق میں جہاں بعد کو نہر سوئز کُھدگئی اور پہلے خشک تھی ،اس سے متصل جنوب میں (نقشہ اٹھا کردیکھئے) سمندردو مثلثوں کی شکل میں تقسیم نظر آئے گا ،یہاں ان دومیں سے مغربی مثلث مراد ہے اسرائیلیوں نے اسی کو عبور کرکے جزیرہ نمائے سینامیں قدم رکھا تھا۔۔۔"اسرائیلیوں نے مصریوں کی لاشیں دریا کے کنارہ پر دیکھیں"(خروج:14۔21)(تفسیر ماجدی)

۔"فرقنا بکم البحر"  کا  ترجمہ یہ ہو گاکہ ہم نے تمہیں ساتھ لے کر دریا کو پھاڑتے ہوے عبور کیا۔ مطلب یہ ہو گا کہ جس طرح کوئی کسی کو گود میں اٹھا کر دریا پار کرا دے اسی طرح ہم نے تمہں پار کرایا۔  "وانتم تنظرون" یعنی اپنی نجات کے بعد فرعون اور اس کے غرق ہونے کاماجرا تم نے ساحل پر کھڑے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ (تدبر قرآن)

51۔ موسیٰ ۔موسیٰ بن عمران سلسلۂ اسرائیلی کے سب سے زیادہ مشہور و جلیل القدر پیمبر کا نام ہے ،توریت میں ہے کہ "عمر ایک سوبیس سال کی پائی"(استثناء 7:24)۔۔۔آپ کا زمانہ مؤرخین اور اثرئین کا تخمینہ ہے کہ پندرھویں اور سولہویں صدی قبل مسیح کاتھا ۔سال ولادت غالباً 1520 ق۔م۔ سال وفات غالباً1400 قبل مسیح۔(تفسیر ماجدی)

52۔ اگر حضرت موسیٰ  علیہ السلام کے سامنے مقصد کشور کشائی ہوتا تو فرعون اور اس کی افواج کی تباہی کے بعد وہ مصر واپس چلے جاتے اور اپنی حکومت قائم کر لیتے لیکن یہاں تو بات ہی اور تھی۔ مصر ناقابل اصلاح ہو چکا تھا وہاں کی باقیات بھی خطرناک تھیں۔مسلمانوں کا گروہ ان کے ساتھ تھا جس کی تربیت مقصود تھی اور مصر واپس جانا ان کے لیے زہر کھا لینے کے مترادف ہوتا۔ اس لیے فرعون کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ مصر واپس نہیں گئے بلکہ وہ پیغمبروں کی سرزمین شام کی طرف ہجرت کر گئے اور قوم کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرنے لگے۔۔۔ اندر سے بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں کے ہیرو  اب بھی فراعنہ ہی تھے اور ان کو پرانے آقاؤں کے طور طریقے ہی محبوب تھے۔ جدید تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ قدیم مصری بھی ہندوؤں کی طرح گائے کی پرستش کرتے تھے۔ ان کا معبود بیل تھا جو ان کی زراعت کے لیے طاقت کا بنیادی ذریعہ تھا۔(کتاب زندگی)

53۔الفرقان: حق و باطل میں تمیز کی قوت۔کتاب سے مراد تورات اور فرقان سے مراد وہ معجزات ہیں جن کے ذریعہ حق کا بول بالا ہوا اور باطل سرنگوں اور شرمسار ہوا۔(ضیاء القرآن)

54۔ قال،قیل ،اقل وغیرہ کے بعد "ل" ہوتو اس کا ترجمہ کےلئے کی بجائے "سے" کیا جاتاہے۔

-گئوسالہ پرستوں کا قتل عام: موسیٰ علیہ السلام جب کوہ طور سے تورات لے کر واپس لوٹے تو انہیں بنی اسرائیل کی اس گئوسالہ پرستی کا علم ہوا اور اس بات سے سخت دکھ ہوا۔قوم سے کہا کہ اب اس ظلم کی سزا یہ ہے کہ جن جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی انہیں چن چن کے مار ڈالو۔اس وقت بنی اسرائیل کے تین گروہ بن گئے تھے۔ ایک وہ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔دوسرے وہ جو انہیں گئوسالہ پرستی سے منع کرتے تھے۔ تیسرے وہ جو غیر جانبدار رہے۔ نہ خود گئوسالہ پرستی کی اور نہ ہی کرنے والوں کو منع کیا ۔انہیں یہ حکم دیا گیا کہ منع کرنے والے بچھڑا پوچنے والوں کو قتل کریں اور جو غیر جانبدار رہے انہیں معاف کردیا گیا۔(تیسیر القرآن)

- الفرقان ۔قرآ ن کا بھی ایک نام ہے ،اس مناسبت سے کہ قرآن حق و باطل ،حرام و حلال کے درمیان فارق ہے اور اسی مناسبت سے اس کا اطلاق علاوہ قرآن کے توریت و انجیل پر بھی ہوسکتاہے کہ یہ کتابیں بھی فارق ہیں بہ لحاظ عقائد ،حق و باطل کے درمیان، بہ لحاظ اقوال صد ق وکذب کے درمیان اور بہ لحاظ اعمالِ نیک و بد کے درمیان (راغب)اس مقام پر الفرقان کی متعدد تفسیر یں نقل ہوئی ہیں۔مثلاً 1۔یہ کہ الکتاب و الفرقان کے درمیان عطف تفسیری ہے اور مراد دونوں سے ایک ہی ہے یعنی توریت ۔توریت ہی کی دوصفتیں ہیں۔ ایک صفت کتابت ،دوسری صفت فرقانیت ،اول کے لحاظ سے وہ الکتٰب ہے اور دوسری کے لحاظ سے الفرقان ۔۔۔مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیؑ کوعطاء ہوئے تھے ،مثلاًمعجزۂ عصا،یدبیضا وغیرہما یہی مذہب مجاہد تابعی کا ہے۔۔۔ (تفسیر ماجدی)

54۔ فتوبوا میں فاء سببیہ ہے کہ نہ انہوں نے ظلم  کیا ہوتا نہ آج توبہ کی نوبت آتی۔۔۔بارئکم۔ اسماء حسنیٰ میں سے ایک اسم "الباری" بھی ہے جو قرآن مجید میں صرف تین جگہ آیا ہے ،دوجگہ تو کُم کے ساتھ مضاف ہوکر۔اسی آیت میں اور ایک جگہ الباری ہوکر سورۃ الحشر (پ28) کے ختم کے قریب۔۔۔برئ کے معنی خلق کے ہیں اور الباری متقارب ہے معنی میں الخالق کے،گودونوں میں فرق کیا گیا ہے۔۔۔اپنے ہاتھ سے یعنی غیر مجرمین کو قتل کریں۔۔۔فاقتلوا انفسکم میں قتل سے مراد یہی اہلاک ہے جسے سب جانتے ہیں اور مخفقین کا گروہ اسی معروف میں قتل کا قائل ہے۔۔۔اس کھلے ہوئے معنی کو چھوڑ کر ،بلاوجہ ضرورت قتل کے مجازی معنیٰ مجاہدہ یا ریاضت یا نفس کُشی کے کرنا نہ کسی نقلی سند کے مطابق ہے نہ کسی عقلی دلیل کے ماتحت ،یہ واقعۂ قتل تاریخ بنی اسرائیل کا ایک مشہور و مسلم واقعہ ہے۔ توریت کی سند ابھی گزرچکی ۔تاریخ کی سب کتابیں اس کو دُہرارہی ہیں ۔سارے دفتر نقل و روایت میں کوئی لفظ اس کے خلاف موجود نہیں ۔رہی "عقل" سوخدا معلوم دنیا کے پردہ پر آج بھی وہ کون سی گورنمنٹ ہے جو اپنے قانون فوجداری کے شدید مجرموں ،لٹیروں،ڈاکؤں،نقب زنوں کو محض معافی طلب کرنے پر چھوڑدیتی ہے۔(تفسیر ماجدی)

55۔قلتم۔ تم نے کہا تھایعنی تمہاری قوم کے ستر بڑے بوڑھے نمائندوں نے ۔(تفسیرِ ماجدی)

- صاعقہ کے اصل معنی شدید فضائی آواز (کڑک،گرج)کے ہیں، اس سے بھی وہی مفہوم موت اور عذاب اور آگ کے پیدا ہوگئے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

57۔ من۔( کاربوہائیڈریٹ، شوگر)  سلویٰ ( بٹیرے پروٹین)(ڈاکٹر اسرار )

- انزل "اتارا" سے یہ مراد لازمی طورپر نہیں ہوتی کہ وہ چیز کسی غیر طبعی،معجزانہ طریق پر اُتری ہو،پانی،لباس،لوہا،کھانے کے سامان وغیرہ جو اپنے معمولی اور طبیعی طریقوں پر انسان کے کام کیلئے پیدا ہوتے رہتے ہیں،ان سب کیلئے قرآن مجید کی زبان میں اتارنے ہی کا لفظ آیا ہے۔۔۔"من"  کے متعدد معنی بیان کئے گئے ہیں، میٹھا گوند،شربت وغیرہ لیکن اکثر خیال ہے کہ یہ ترنجبین کے مرادف ہے ۔۔۔اور ترنجبین سے متعلق قدیم طب کی کتابوں میں یہ درج ہے کہ شہد کی طرح جمی ہوئی لذیذ اور دانہ دار آسمان سے گرنے والی شبنم کی قسم کی چیز ہے ۔۔۔۔۔- سلویٰ۔ ایک قسم کا بٹیر جزیرہ نمائے سینا کا خاص جانور ہے،بڑی کثرت سے پایا جاتاہے ،گرمی میں شمال کی جانب چلاجاتاہے ،جاڑے میں جنوب کی طرف پھر آجاتاہے ،اُڑتا اونچا نہیں ۔بہت نیچے رہتاہے ۔تھک بہت جلد جاتاہے اور شکار بڑی آسانی سے ہوجاتاہے )جیوش انسائیکلوپیڈیا جلد10،285) اس کا شمالی سفر مصر سے فلسطین کی جانب عموماً مارچ میں ہوتاہے اور جنوبی فلسطین سے مصر کی طرف عموماً نومبر میں یہ اسرائیلی بٹیروہ تھے جو مارچ اپریل میں رات  کےوقت اپنے شمالی پرواز میں ہوتے ہیں ،بحر قلزم شمال میں جہاں دوحصوں میں تقسیم ہواہے،وہاں تک یہ اپنے سالانہ اُڑان میں آتے ہیں ،اور وہاں سے جزیرہ نمائے سینا کا راستہ اختیار کرتے ہیں ،سمندری ہوا ان کی بے شمار تعداد بہ آسانی اسرائیلیوں کے ڈیروں تک لے آتی تھی(ڈکشنری آف دی بائبل،از ڈاکٹر ہیسٹنگز جلد4 ص179) ان کا گوشت چربی والا ہوتاہے، دیر تک رکھنے سے بہت جلد خراب ہوجاتاہے(انسائیکلوپیڈیا ببلیکا،کالم3699)۔۔۔ حکم اسرائیلیوں کو یہ ملا تھا کہ بلاضرورت ان غذاؤں کا ذخیرہ نہ کرتے جاؤ۔معلوم ہوتاہے کہ"ذخیرہ اندوزی" کی عادت یہودیوں کی آج کی نہیں،بہت قدیم ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔من وسلوی' وہ قدرتی غذائیں تھیں جو اس مہاجرت کے زمانے میں ان لوگوں کو چالیس برس تک مسلسل ملتی رہیں۔ من دھنیے کے بیج جیسی ایک چیز تھی جو اوس کی طرح گرتی اور جم جاتی تھی۔ اور سلوی' بٹیر کی قسم کے پرندے تھے۔ خدا کے فضل سے ان کی اتنی کثرت تھی کہ ایک پوری کی پوری قوم محض انھی غذاوں پر زندگی بسر کرتی رہی اور اسے فاقہ کشی کی مصیبت نہ اٹھانہ پڑی، حالانکہ آج کسی متمدن ملک میں بھی اگر چند لاکھ مہاجر یکایک آ پڑیں، تو ان کی خوراک کا انتظام مشکل ہو جاتا ہے۔ (من و سلوی کی تفصیلی کیفیت کے لئے ملاحظہ ہو بائیبل، کتاب خروج، باب 16۔ گنتی، باب 11، آیت   7،9،31،32  و یشوع، باب 5 آیت 12 ) (تفہیم  القرآن)

58۔ پھر جب تربیت کا عرصہ گزرگیا اور انہوں نے ایک بستی کو فتح کرلیا تو ہم نے انہیں ہدایت کی کہ اس شہر میں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوکر اور منکسرانہ انداز سے داخل ہونا اور اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کرنا (یعنی بدنی اور قولی دونوں طرح کی عبادت کرنا اور حطۃ کا ایک یہ معنی  بھی ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں پر تم فتح پاؤ،ان میں قتل و غارت نہ شروع کرنا بلکہ انہیں معاف کردینا(جیساکہ فتح مکہ کے موقع پر آپؐ نے یہی کچھ کیا تھا)تاکہ ہم تمہاری خطائیں معا ف کرکے تمہیں انعامات سے نوازیں۔(تیسیر القرآن)

۔الباب سے مراد بعض لوگوں نے بستی  کا دروازہ لیا ہے، بعض لوگوں نے خیمہ عبادت کا دروازہ، میں اس دوسرے قول کو ترجیح دیتا ہوں۔ (تدبر قرآن)

-( بنی اسرائیل سے ان کے پیمبر کی وساطت سے)۔۔۔یہ واقعہ اگر حضرت موسیؑ کے  زمانہ کاہے تو وہی مراد ہیں اور اگر ان کے بعد کا ہے تو ان کے جانشین حضرت یوشعؑ ۔قرآن مجید جیساکہ پہلے بھی کہا جاچکاہے ،توریت کے بعض حصوں کی طرح تاریخ کی کوئی کتاب نہیں ،اس لیے اس کے بیانات میں تسلسل زمانی اور ترتیب تاریخی ہرگز ضروری نہیں،اس کا مقصود نتائج اور عبر ہیں اور ان سے اخلاقی و روحانی سبق ،نہ کہ واقعات کی روئداد ،اس کی ایک حقیقت کو پیش نظر نہ رکھنے سے یہود و نصاریٰ آج قرآن فہمی میں طرح طرح کی ٹھوکریں کھارہے ہیں ،یہ واقعہ جس کا ذکر اب شروع ہورہاہے،تاریخ اسرائیل ہی کا ایک مسلم واقعہ ہے ،زمانہ تاریخی اس کا جوبھی ہو۔(تفسیرماجدی)

59۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ:" بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ شہر کے دروازے میں جھک کر داخل ہونا اور زبان سے (حطۃ)(یعنی گناہوں کی بخشش مانگنا)لیکن وہ اپنی سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور (حطۃ) کےبجائے حبۃ فی شعرۃ (دانہ بالی کے اندر) کہنے لگے۔(بخاری ،کتاب التفسیر)۔۔۔۔۔طاعون کا عذاب: بنی اسرائیل جب شہر پر قابض ہوئے وہاں بدکاریاں شروع کردیں جس کی سزا اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ دی کہ آسمان سے عذاب (طاعون کی وبا کی صورت میں ) نازل فرمایا جس کے نتیجہ میں ایک روایت کے مطابق ستر ہزار یہود مرگئے۔(تیسیر القرآن)

- رجزاً۔ رجز عام ہے ہر عذاب کیلئے خواہ وہ کسی صورت میں ہو۔۔۔ بماکانوا یفسقون۔ یعنی ان کی مسلسل نافرمانیوں کے باعث ۔ب یہاں سببیہ ہے۔کانویفسقون کا صیغہ دوام،عادت و استمرار پر دلالت کررہاہے ،یہاں یہ صاف کردیا کہ طاعون کا اصل سبب طبی یا طبعی نہ تھا ،روحانی یا اخلاقی بدپرہیزیاں یا نافرمانیاں تھیں ،قانون تکوینی کی خلاف ورزی نہیں،اصل باعث شریعتِ موسوی کی خلاف ورزی تھی۔۔۔شریعت کی خورد بین نگاہ امراض و معاصی کے ان خفی و مخفی تعلقات تک بہ آسانی پہنچ جاتی ہے جودنیا کے بڑے بڑے حاذق طبیبوں کی نظروں سے پوشیدہ رہ جاتے ہیں۔فقہاء نے آیت سے اہل بدعت کا ظالم اور سزا وار غضب ہونا نکالا ہے ،بدعت کہتے ہیں دین حق میں ایسے نئے امر کے پیدا کرنے کو جس کا نشان اصل شریعت میں موجود نہ ہو، اور قرطبی نے کہا کہ جب لفظی تبدیلی یہ نوبت پہنچادیتی ہے تو عملی تحریف کی شناعت کا کیا ٹھکانا!۔(تفسیر ماجدی)


ساتواں رکوع

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ  60 اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا۔
وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ 61 اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں، ہمارے لیے پیدا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہوں۔ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو، وہاں جو مانگتے ہو، مل جائے گا۔ اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ الله کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ الله کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے۔

تفسیر آیات

60۔ فساد فی الارض حقیقتاًہے کیا چیز؟ اس سوال کا جواب بالکل آسان ہے اور وہ یہ ہے کہ حکومت اور اس کے نظام امن میں خلل ڈالنے والا مفسد یا فسادی ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)

۔ یہاں یہ نقطہ بھی ملحوظ رکھنے کا ہے کہ من و سلوی' کے ذکر کے بعد صرف "کلو" کا لفظ وارد ہوا ہے۔ اس لئے کہ اس وقت تک بہتات کے ساتھ صرف غذا کا اہتمام فرمایا تھا۔ جب اسی بہتات اور فراوانی کے ساتھ  پانی کا بھی انتظام فرمایا تو  "کلو" کے ساتھ "وشربو" کا بھی اضافہ کر دیا۔ (تدبر قرآن)

61۔ بہتر چیز کی بجائے ادنیٰ۔ بڑے مقصد کی بجائے کھانے پینے کی زیادہ فکر۔ یہ مطلب نہیں کہ من و سلویٰ چھوڑ کر ،جو بے مشقت مل رہاہے، وہ چیزیں مانگ رہے ہو،جن کیلئے کھیتی باڑی کرنی پڑے گی،بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس بڑے مقصد کیلئے یہ صحرا نوردی تم سے کرائی جارہی ہے ،اس کے مقابلے میں کیا تم کو کام ودہن کی لذت اتنی مرغوب ہے کہ اس مقصد کو چھوڑ نے کیلئے تیار ہواور ان چیزوں سے محرومی کچھ مدت کیلئے بھی برداشت نہیں کرسکتے؟(تقابل کیلئے ملاحظہ ہوگنتی،باب11،آیت4،9)( تفہیم القرآن)

۔بنی اسرائیل کے اس رویہ میں ان مسلمان قوموں کے لئے ایک بہت بڑا درسِ عبرت ہے جنہوں نے تمدن کے لوازم وتنوعات کے پیچھے اپنی آزادی کی نعمت خطرے میں ڈال دی اور اس بات پردھیان نہیں کیا کہ اس طرح جو لذایذِ دنیا انھوں نے حاصل کیئے ہیں  ان کے ساتھ ذلت کے کتنے گھناونے مفاسد چپکے ہوے ہیں۔ قرآن مجید  کے اس مقام سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسان کا ضمیر زندہ ہو تو وہ کھانے کی لذت  دسترخوان کے تنوعات  کے اندر  نہیں ڈھونڈھتا بلکہ ضمیر اور ارادہ کی آزادی کے اندر ڈھونڈھتا ہے۔ یہ چیز اگر اس کو حاصل ہو تو خشک روٹی بھی  اس کے لئے جملہ الوان ِ نعمت فراہم کر دیتی ہے۔(تدبر قرآن)

- اور یہاں تنوین کے ساتھ کھلا ہوااسم نکرہ ہے لیکن بڑے بڑے فاظل انگریز مترجمین نے بے کھٹکے اس کا ترجمہ "ملک مصر" کرڈالا۔۔۔ مفلسی ،محتاجی،تنگدستی کے انتساب پر عجب نہیں کہ ناظرین کو حیرت ہو اور سوال دل میں پیدا ہو کہ تموّل تو یہود کا ضرب المثل ہے پھر اس قوم کو محتاج و تنگدست کیسے قرار دیا جاسکتاہے لیکن یہ محض دھوکا اور عام طورسے چلاہوا مغالطہ ہے۔دولت و ثروت جتنی بھی ہے ۔وہ قوم یہود کے صرف اکابر و مشاہیر تک محدود ہے،ورنہ عوام یہود کا شمار دنیا کی مفلس ترین قوموں میں ہے۔یہ بیان خود محققین یہود کا ہے ۔۔۔لفظ یہاں کفروا  نہیں  کانوا یکفرون استعمال ہواہے،ذکرکسی خاص موقع کا نہیں کہ اس وقت وہ منکر ہوبیٹھے تھے بلکہ ذکر ان کی مستقل قومی خصلت کا ہورہاہے کہ انکار کرتے ہی رہتے تھے،انکار کو شعا ر ہی بنالیا تھا۔۔۔اٰیٰت ُ اللہ کا لفظ عام ہے معجزات و خوارق بھی مراد ہوسکتے ہیں اور کتب آسمانی بھی۔۔۔بانھم  میں باء سببیہ ہے یعنی یہ سزا انہیں کفر عادی اور مسلسل قتل انبیاء کی پاداش میں ملی تھی۔۔۔"قتل تک" یعنی دوسری بیہودگیاں ،شرارتیں،فتنہ پردازیاں تو تھیں ہی،حد یہ ہے کہ قتل تک سے نہ چوکے ،یسعیاہ نبیؑ کا قتل ،یرمیاہ نبیؑ کا قتل،زکریا نبیؑ کا قتل،یحیٰ نبیؑ کا قتل،اور عیسیؑ مسیحؑ کااقدام ِ قتل (بلکہ اپنے خیال میں قتل ہی)یہ اسرائیل کی تاریخ جرائم کے چند جلی عنوانات ہیں۔ یہ قوم اس قابل رہ گئی تھی کہ اس کے ساتھ کچھ بھی رعایتیں روارکھی جائیں؟ اسے زندہ رہنے کی بھی کچھ مہلت دی جاتی؟۔۔۔بغیر الحق نبی کا قتل تو جب ہوگا ناحق ہی ہوگا ،نبی کے قتل جائز کی کوئی صورت ہی نہیں پھر قرآن جس میں ایک لفظ بھی بے کاریابہ طورحشو نہیں، اسے کیوں لایا؟ قرآن کا مقصود تو اس اضافہ سے یہ ہے کہ خود ان قاتلوں کے معیار سے بھی یہ قتیل ناحق و ناجائز تھے یعنی خلافِ عدل تو خیر ہوتے ہی ،قانونِ وقت کے لحاظ سے خلاف قانون اور ضابطے بھی تھے۔۔۔بعض نے کہا کہ اس تصریح سے مقصود قتل کے ناحق ہونے پر زور دار تاکید ہے۔۔۔بعض نے کہاہے کہ اس تصریح سے مقصود قتل کے ناحق ہونے پر زور اور تاکید ہے۔۔۔بماعصوا۔میں باسببیہ ہے۔۔۔ہوسکتاہے کہ یہاں مع کے مرادف ہو۔(تفسیر ماجدی)

۔آیات سے کفر کرنے کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلا ایک یہ کہ خدا کی بھیجی ہوئی تعلیمات میں سے جو بات اپنے خیالات یا خواہشات کے خلاف پائی اس کوماننے سے صاف انکار کر دیا۔ دوسرے یہ کہ ایک بات کو یہ جانتے ہوئے کہ خدا نے  فرمائی ہے۔ پوری ڈھٹائی اور سرکشی کے ساتھ اس کی خلاف ورزی کی اور حکم الہی کی کچھ پروا  نہ کی۔ تیسرے یہ کہ ارشاد الہی کے مطلب و مفہوم کو اچھی طرح جاننے  اور سمجھنے کے باوجود اپنی خواہش کے مطابق اسے بدل ڈالا۔ (تفہیم القرآن)

- ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَلْمَسْكَنَةُ (  ان پر ذلتّ و خواری اور محتاجی و کم ہمتی تھوپ دی گئی(  ۔  کیا مسلمان آج  اس کے زیادہ مستحق نہیں۔                    (ڈاکٹر اسرار) 

- عوام یہود دوسری اقوام سے زیادہ غریب ہیں۔یہ اوربات ہے کہ ان کے چندافرادبہت زیادہ دولتمندہیں۔ (ضیاء القرآن )

آخر رکوع:" بنی اسرائیل نے اپنے اس جرم کو اپنی تاریخ میں خود تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر ہم بائیبل سے چند واقعات یہاں نقل کرتے ہیں

 (1) حضرت سلیمان ؑ کے بعد جب بنی اسرائیل کی سلطنت تقسیم ہو کردو ریاستوں (یروشلم کی دولت یہودیہ اور سامریہ کی دولت اسرائیل) میں بٹ گئی تو ان میں باہم لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور نوبت یہاں تک آئی کہ یہودیہ کی ریاست نے اپنے ہی بھائیوں کے خلاف دمشق کی ارامی سلطنت سے مدد مانگی۔ اس پر خدا کے حکم سے حنانی نبی نے یہودیہ کے فرمانروا آسا کو سخت تنبیہ کی۔ مگر آسا نے اس تنبیہ کو قبول کرنے کے بجائے خدا کے پیغمبر کو جیل بھیج دیا (2۔ تواریخ، باب 17۔ آیت 10-7)

(2)حضرت الیاس،  ایلیاہ( elliah) ؑ نے جب بَعْل کی پرستش پر یہودیوں کو ملامت کی اور ازسر نَو توحید کی دعوت کا صور پھونکنا شروع کیا تو سامریہ کا اسرائیلی بادشاہ اخی اب اپنی مشرک بیوی کی خاطر ہاتھ دھو کر ان کی جان کے پیچھے پڑگیا، حتّٰی کہ انہیں جزیرہ نمائے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی۔ اس موقع پر جو دعا حضرت الیاس ؑ نے مانگی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں ”بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کیا۔۔۔۔۔۔ تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا اور ایک میں ہی اکیلا بچا ہوں، سو وہ میری جان لینے کے درپے ہیں۔ (1۔ سلاطین۔ باب 19۔ آیت10-1 ) 

(3)ایک اور نبی حضرت میکا یاہ کو اسی اخی اب نے حق گوئی کے جرم میں جیل بھیجا اور حکم دیا کہ اس شخص کو مصیبت کی روٹی کھلانا اور مصیبت کا پانی پلانا۔ (1-سلاطین۔ باب 22۔ آیت 27-26 )

(4)پھر جب یہودیہ کی ریاست میں علانیہ بت پرستی اور بدکاری ہونے لگی اور زکریاہ نبی نے اس کے خلاف آواز بلند کی، تو شاہ یہوداہ یوآس کے حکم سے انہیں عین ہیکل سلیمانی میں ”مَقْدِس“  اور ”قربان گاہ“ کے درمیان سنگسار کردیا گیا ۔( 2 تواریخ، باب 24۔ آیت  21 )

(5) اس کے بعد جب سامریہ کی اسرائیلی ریاست اَشُوریُوں کے ہاتھوں ختم ہوچکی اور یروشلم کی یہودی ریاست کے سر پر تباہی کا طوفان تلا کھڑا تھا، تو    ”یرمیاہ“  نبی اپنی قوم کے زوال پر ماتم کرنے اٹھے اور کوچے کوچے انہوں نے پکارنا شروع کیا کہ سنبھل جاؤ، ورنہ تمہارا انجام سامریہ سے بھی بدتر ہوگا۔ مگر قوم کی طرف سے جو جواب ملا وہ یہ تھا کہ ہر طرف سے ان پر لعنت اور پھٹکار کی بارش ہوئی، پیٹے گئے، قید کیے گئے، رسّی سے باندھ کر کیچڑ بھرے حوض میں لٹکا دیے گئے تاکہ بھوک اور پیاس سے وہیں سوکھ سوکھ کر مر جائیں اور ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ قوم کے غدّار ہیں، بیرونی دشمنوں سے ملے ہوئے ہیں۔ (یرمیاہ، باب 15، آیت 10۔ باب 18، آیت 23-20۔ باب 20، آیت 18-1۔ باب 36 تا باب 40)  

(6)ایک اور نبی حضرت عاموس کے متعلق لکھا ہے کہ جب انہوں نے سامریہ کی اسرائیلی ریاست کو اس کی گمراہیوں اور بدکاریوں پر ٹوکا اور ان حرکات کے برے انجام سے خبردار کیا تو انہیں نوٹس دیا گیا کہ ملک سے نکل جاؤ اور باہر جا کر نبوت کرو (عاموس، باب 7۔ آیت 13-10   )   (7)حضرت یحیٰی (یُوحنا) ؑ نے جب ان بد اخلاقیوں کے خلاف آواز اٹھائی جو یہودیہ کے فرمانروا ہیر و دیس کے دربار میں کھلم کھلا ہو رہی تھیں، تو پہلے وہ قید کیے گئے، پھر بادشاہ نے اپنی معشوقہ کی فرمائش پر قوم کے اس صالح ترین آدمی کا سر قلم کر کے ایک تھال میں رکھ کر اس کی نذر کردیا۔ (مرقس، باب 6، آیت 29-17)۔

۔۔۔آخر میں حضرت عیسیٰ ؑ پر بنی اسرائیل کے علماء اور سرداران قوم کا غصّہ بھڑکا کیونکہ وہ انہیں ان کے گناہوں اور ان کی ریاکاریوں پر ٹوکتے تھے اور ایمان و راستی کی تلقین کرتے تھے۔ اس قصور پر ان کے خلاف جھُوٹا مقدمہ تیار کیا گیا، رومی عدالت سے ان کے قتل کا فیصلہ حاصل کیا گیا اور جب رومی حاکم پیلاطس نے یہود سے کہا کہ آج عید کے روز میں تمہاری خاطر یسوع اور برابّا ڈاکو، دونوں میں سے کس کو رہا کروں، تو ان کے پورے مجمع نے بالاتفاق پکار کر کہا کہ برابّا کو چھوڑ دے اور یسوع کو پھانسی پر لٹکا۔ (متٰی، باب 27۔ آیت26-20)   (تفہیم القرآن)


آ ٹھواں رکوع

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ 62 جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے۔
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 63 اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑے رہو، اور جو اس میں (لکھا) ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو۔
 ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ  64 تو تم اس کے بعد (عہد سے) پھر گئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑے گئے ہوتے۔
 وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ   65 اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہوں، جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے، تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل وخوار بندر ہو جاؤ۔
 فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ  66 اور اس قصے کو اس وقت کے لوگوں کے لیے اور جو ان کے بعد آنے والے تھے عبرت اور پرہیز گاروں کے لیے نصیحت بنا دیا۔
 وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ 67 اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو۔ وہ بولے، کیا تم ہم سے ہنسی کرتے ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ میں الله کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں۔
 قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ 68 انہوں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ بیل کس طرح کا ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ پروردگار فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا، بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو۔ جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے، ویسا کرو۔
 قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ 69 انہوں نے کہا کہ پروردگار سے درخواست کیجئے کہ ہم کو یہ بھی بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ موسیٰ نے کہا، پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں (کے دل) کو خوش کر دیتا ہو۔
 قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ  70 انہوں نے کہا کہ (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ ہم کو بتا دے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو، کیونکہ بہت سے بیل ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں، (پھر) خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہو جائے گی۔
 قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ ۠ 71 موسیٰ نے کہا کہ خدا فرماتا ہے کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ہو، نہ تو زمین جوتتا ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتا ہو۔ اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو۔ کہنے لگے، اب تم نے سب باتیں درست بتا دیں۔ غرض (بڑی مشکل سے) انہوں نے اس بیل کو ذبح کیا، اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں۔

تفسیر آیات

آغاز رکوع:  اس رکوع میں Universal Truth مثلاً ضربت  مسکنہ ،قساوتِ قلب وغیرہ بیان ہوئے ہیں۔(ڈاکٹر اسرار)

62۔   ۔۔۔ اب تک ذکر بنی اسرائیل نام  کی ایک خاص نسل و خاندان کا چلا آرہاتھا اور ان کی تاریخ کے اہم ترین منظر سامنے لائے جارہے تھے ،اب ذکر ان کے مسلک اور عقیدوں کا شروع ہوتاہے اور پہلی بار الذین ھادوا آیا ہے ،بنی اسرائیل ایک نسلی نام تھا،ایک کنبہ یا قبیلہ یا قوم کا نام نہ تھا جسے اپنی عالی نسبی پر فخر تھا ،اپنے آباء و اجداد کی مقبولیت پر ناز تھا،تاریخ کے دہراتے وقت ضروری تھا کہ اُس نسلی نام کو لیا جائے کوئی وصف ایسا بیان کیا جائے جو بجائے نسل ،نسب و خاندان کے رہنمائی مسلک و عقیدہ کی جانب کرے۔الذین ھادوا اسی ضرورت کو پورا کرنے والا ہے ۔۔۔۔۔مدینہ و جوار مدینہ بلکہ یمن میں بھی جویہود تھے وہ نسلاً بنی اسرائیل نہ تھے،بنی اسماعیل ہی تھے۔لیکن اسرائیلیوں کی صحبت میں رہ کر تمدن و معاشرت یہاں تک کہ عقیدے بھی انہی کے اختیار کرلئے تھے، الذین ھادوا میں کھلا ہوا اشارہ اسی حقیقت کی طرف آگیا ۔۔۔النصاریٰ۔ نصاریٰ جمع ہے نصرانی کی۔ناصرہ ہی کوعربی تلفظ میں نصران بھی کہتے ہیں۔۔۔الصائبون۔ صابی کے لفظی معنی ہیں جو کوئی بھی اپنے دین کو چھوڑ کر دوسرے دین میں آجائے یا اس کی طرف مائل ہوجائے۔۔۔۔۔اصطلاح میں صابیوں کے نام کا ایک مذہبی فرقہ جو عرب کے شمال و مشرق میں شام و عراق کی سرحد پر آباد تھا ،یہ لوگ دین و توحید اور عقیدۂ رسالت کے قائل تھے،اور اس لئے اصلاً اہل کتاب تھے،انہی کو نصاریٰ یحیٰ بھی کہا جاتاتھاگویا نسبت ایک پیغمبر حضرت یحیٰ کی جانب رکھتے تھے ،حضرت عمرؓجیسے مبصر و نکتہ رس خلیفہ راشد اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ جیسے محقق صحابی نے صابیوں کا شمار اہل کتاب میں کیا ہے اور حضرت عمرؓ نے ان کا ذبیحہ بھی حلال ماناہے۔۔۔۔۔ دورِ حاضر کی چلتی ہوئی گمراہیوں میں سے ایک سوال جو بار بارپیش ہوتارہتاہے ،یہ ہے کہ ایک شخص صاحب ایمان ہے مگر بدعمل ،اور دوسرا شخص خوش عمل ہے مگر ایمان سے خالی،تو ان دومیں نجات کس کی ہوگی ؟ علماء اس کے جوابات مختلف دیتے رہتے ہیں،لیکن سب سے سیدھا اور بے تکلف جواب یہ ہے کہ حسنِ عمل کا ایک لازمی عنصر تو خود ایمان ہی ہے بغیر تصحیح ایمان کے ،بغیر حق تعالیٰ کی رضا جوئی کے کوئی عمل  عمل صالح کی تعریف میں آہی کب سکتاہے ،ایمان سے خالی شخص کا "حسن عمل" تو صرف صورۃً عمل ہوگا،ورنہ اس کی حقیقت (یعنی خالق کونین کی رضا طلبی) تو اس سے خارج ہی ہوگی۔۔۔قرآن مجید کا ایک بلیغ و حکیمانہ اُسلوب یہ بھی ہے کہ جُزئیات کے ضمن میں بڑے بڑے اہم کلّیات بیان کرجاتاہے،بنی اسرائیل کی مسلسل نافرمانی اور پشتہاپشت کی سرکشی کا ذکر چلاآرہا تھا،مخاطبین پر یہ اثر پڑنا بالکل طبعی تھاکہ ایسے مجرموں کیلئے اب نجات کی کوئی گنجائش ہوہی کیا سکتی ہے ،معاً یہ آیت درمیان میں لاکر اس مایوسی کو رفع کردیا گیا ہے کہ جو کوئی بھی اپنا عقیدہ اور عمل درست رکھے گا، خواہ مسلمان ہو یا یہودی یا نصرانی یا صابی غرض کوئی بھی ہو،رحمت و مغفرت کی راہیں سب کیلئے کھلی ہوئی ہیں ،کام کی چیزیں صرف ایمان صحیح اور عمل صحیح ہیں۔)تفسیر ماجدی(

۔ یہ چیز صرف ایمان اور عمل صا لح کی بنا پر حاصل ہوتی ہے ، یہ کسی خاص خاندان یا کسی گروہ کا اجارہ نہیں ہے۔ اور مقصود اس سے یہود کے سامنے اس حقیقت کو واضع کرنا ہے  کہ انبیا ء کے خاندان سے نسبت رکھنے کے سبب سے اپنے آپ کو وہ ایک نجات یافتہ گروہ جو سمجھنے لگےہیں تو یہ سر تا سر ان کی غلط فہمی ہے۔ خدا سے نسبت حاصل کرنے کے لئے اصلی چیز اللہ اور آخرت پر ایمان اور عمل صالح ہے۔۔۔ اس تفصیل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ نجات کے لئے جس طرح دوسروں کے لئے نبی ﷺ پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح اہلِ کتاب کے لئے  بھی ضروری ہے۔۔۔۔ اسی طرح مسلمان بھی امتِ مرحومہ میں ہونے کا یہ مطلب سمجھنے لگے ہیں کہ ان کے لئے تو بہر حال خدا کے  ہاں معافی ہے خواہ ان کے اعمال کچھ بھی ہوں۔ یہ آیت اس قسم کے تمام توہمات کی جڑ  کاٹتی ہے اور مسلمانوں کو تنبیہ کرتی ہے کہ خدا کے ہاں ایمان اور عمل صالح کی کسوٹی پر سب سےپہلے جو پرکھے جائیں گے ان میں مسلمان سرِ فہرست ہیں۔ (تدبر قرآن)

63۔ الطور ۔ طور مطلقاً پہاڑ کوبھی کہتے ہیں اور جزیرہ نمائے سینا کے ایک مخصوص و متعین پہاڑ کا بھی نام ہے۔۔۔۔۔جدید جغرافیہ نویس کہتے ہیں کہ طور کا اطلاق جزیرہ نمائے سینا کی متعدد پہاڑیوں پر ہوتاہےلیکن حضرت موسیؑ اور بنی اسرائیل کے سلسلے میں جبل طورسے مراد جبل سینا ہوتاہے لیکن خود جبل سینا کی کوئی ایک چوٹی نہیں، متعدد چوٹیاں ہیں، انہیں میں سے کسی کا نام طورہوگا ،قوم کے اوپر پہاڑ بلند کرنے سے کیا مراد ہے؟۔۔۔لعلَّ کیلئے پوری تصریح اوپر گذرچکی ہے کہ یہ جب خداتعالیٰ کی طرف سے استعمال ہوتاہے تو مفہوم شک و احتمام کا نہیں رہتا،بلکہ معنی یقین کے پیدا ہوجاتے ہیں۔)تفسیر ماجدی(

۔ شریعتِ الہی خدا اور بندوں کے درمیان ایک  معاہدہ ہوتی ہے اور اس وجہ سے اس کو میثاق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔  (تدبر ِ  قرآن)

65۔ "قد" حرف تاکید ہے ۔"لقد" جس فعل پر داخل ہوتاہے،اس میں معنیٰ شدت ِ تاکید کے پیدا کرتاہے۔)تفسیر ماجدی(

- ان بستی والوں کے  تین گروہ بن گئے۔ ایک تو مجرم گروہ تھا جو اس حیلہ سے مچھلیاں پکڑتاتھا۔ دوسرا گروہ وہ تھا جو انہیں اس  حیلہ سازی سے منع کرتاتھا اور تیسرا گروہ وہ تھا جو خود مچھلیاں پکڑتا تو نہیں تھا لیکن پکڑنے والوں کو منع بھی نہیں کرتا تھا اور منع کرنے والوں سے کہتا تھا کہ "تم ان لوگوں کو کیوں منع کرتے ہوجو باز آنے والے نہیں اور ان پر عذاب نازل ہونے والا ہے اور منع کرنے والے یہ جواب دیتےکہ  "ہم اس لئے منع کرتے ہیں کہ ہم اپنے رب کے حضور معذرت پیش کرسکیں اور دوسرے یہ کہ شاید یہ لوگ باز آجائیں۔)تیسیر القرآن(

- اصحاب سبت پر مسلط ہونے والے عذاب کی بعض لوگ تاویل کرتے ہیں مگر مابعد کی آیت اس تو جیہ کی توثیق کی بجائے تردید کرہی ہے ۔کیونکہ اگر ان کی شکلیں بدستور انسانوں ہی کی رہیں، تو وہ اس وقت کے موجودہ لوگوں اور پچھلوں کیلئے سامان عبرت کیسے بن سکتے ہیں ۔اور پرہیزگار ان سے کیا سبق لے سکتے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار کرنے والے اور ان کو اس فعل سے منع  نہ کرنے والے دونوں فی الواقع بندر بنادئیے گئے البتہ ان کے ذہن انسانی ہی رہے ۔تین دن کے بعد وہ سب مرگئے۔یہ واقعہ سیدنا داؤد ؑ کے دور میں پیش آیا۔)تیسیر القرآن(

-  یعنی ان کے عادات و اخلاق بندروں کے سے  کردیے گئے تھے،اور بندرکا اطلاق ان پر مجازاً ہونے لگاتھا،ورنہ حقیقتاً وہ بندروں کے جسم و قالب میں تبدیل نہیں کئے گئے تھے۔۔۔اور صاحب المنار کا قول ہے کہ آیت ان لوگوں کے واقعی مسخ ہوکر بندربن جانے کے باب میں نصِ قطعی نہیں۔)تفسیر ماجدی(

66۔ نکالاً۔ نکال وہ سخت سزا ہے جو دوسروں کیلئے باعثِ عبرت ہو۔۔۔مابین یدیھا۔ معاصرین کے معنی میں ہے اور ماخلفھا بعد کے آنے والوں کے معنی میں۔)تفسیر ماجدی(

67۔ بقرۃ ۔ اصلاً صرف گائے کیلئے ہے اور ثور کا مؤنث ہے۔۔۔لیکن بعض مفسرین نے اُسے گائے اور بیل دونوں کیلئے عام رکھا ہے اور یہاں اس سے بیل مراد لی ہے۔)تفسیر ماجدی(

-گائے ذبح کرنے میں کٹ حجتیوں کی سزا یہ قوم جتنے سوال کرتی گئی ،پابندیاں بڑھتی ہی گئیں ۔ان ساری پابندیوں کے بعد بس اب ان کے ہاں صرف ایک ہی گائے رہ گئی جو تقریباً سنہرے رنگ کی بے داغ اور جواں تھی اور ایسی ہی گائے ہوتی تھی جسے پوجا پاٹ کیلئے انتخاب کیا جاتاتھا۔اس  کی قیمت یہ ٹھہری کہ گائے  کو ذبح کرنے کے بعد اس کی کھال میں جتنا سونا آئے وہ اس کی قیمت ہوگی۔)تیسیر القرآن(

۔ یہود کے نقض عہد کی یہ دوسری مثال ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ ان کی ذہنیت شروع ہی سے شریعت الٰہی کے قبول کرنے کے معاملہ میں کیسی حیلہ جو یانہ اور فرارپسند انہ رہی۔شریعت موسوی میں قاتلوں کا سراغ لگانے کیلئے قسامہ کا طریقہ اختیار کیا جاتاتھا،یعنی مقام قتل کے آس پاس کے سربراآوردہ لوگوں کو جمع کرکے ان سے قسمیں لی جاتیں۔قسم کو احترام اور تقدیس کا رنگ دینے کیلئے یہ قسم قربان کیے ہوئے جانور پر لی جاتی تھی(کتاب استثناء باب21)ایک ایسے ہی موقع پر حضرت موسیٰؑ نے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو بنی اسرائیل نے اسے ان کا مذاق سمجھا کہ گائے کی قربانی کا قاتل کے سراغ سے کیا تعلق؟(ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی)

69۔ اہل مصر بیل کی تقدیس کے باوجود اُسے قربانی میں چڑھایا کرتے تھے ،مگر قربانی کے بیل میں بڑی بال کی کھال نکالا کرتے تھے ،اس کا رنگ یکسر سفید ہو،اس کے جسم پر بال ایک بھی سیاہ نہ ہو، دُم بالکل صحیح اور طبعی حالت میں ہو،کوئی داغ دھبہ نہ ہو،غرض طرح طرح کی قیدیں اور شرطیں تھیں ۔یہ سب پوری ہو لیتیں جب کہیں جاکر قربانی کی نوبت آتی اسرائیلیوں نے جو اتنی موشگافیاں کیں عجب نہیں کہ مصریوں ہی کی صحبت کا اثر ہو۔)تفسیر ماجدی(


نواں رکوع

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ   72 اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا، تو اس میں باہم جھگڑنے لگے۔ لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے، خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا۔
 فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ 73 . تو ہم نے کہا کہ اس بیل کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔ اس طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔
 ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ 74 پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔ گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں، اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں، اور خدا تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں۔
 اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ 75 (مومنو) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہو جائیں گے، (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلامِ خدا (یعنی تورات) کو سنتے، پھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں۔
وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 76 اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے، وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
 اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ 77 کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، خدا کو (سب) معلوم ہے۔
وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ  78 اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے باطل خیالات کے سوا (خدا کی) کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں۔
 فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ 79 تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ خدا کے پاس سے (آئی) ہے، تاکہ اس کے عوض تھوڑی سے قیمت (یعنی دنیوی منفعت) حاصل کریں۔ ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ (بےاصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور (پھر) ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ ایسے کام کرتے ہیں۔
 وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 80 اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے ْسوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا۔ (نہیں)، بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں۔
 بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ 81 ہاں جو برے کام کرے، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔
 وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠   82 اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں، وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے۔

تفسیر آیات

73۔ حکم ہوا کہ ذبح شدہ گائے کے گوشت کا ٹکڑا لے کر مقتول کے جسم پر مارو۔ شائد گائے کی تقدیس (گاؤ ماتا) کا تصور بھی یہیں سے آیا ہو۔ تبلیغی جماعت  کے بانی مولانا الیاس ؒ تبلیغ کے لیے ہندوستان کے ایک  گاؤں ، میوات ، میں گئے اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ کے گھروں میں قرآن ہے۔ ایک  صاحب فوراً قرآن لے آئے جو ایک غلاف میں لپٹا ہوا تھا اور ا س کے ارد گرد گائے کا گوبر لپٹا ہوا تھا۔ یہ گائے کے تقدس کا ایک ثبوت تھا جو مسلمانوں میں رائج ہو گیا تھا۔۔۔۔ یاد رہے کہ وراثت کالالچ قتل کا بہت بڑا محرک ہے جو آج بھی پاک و ہند کے کئ دیہات میں وقتاً فوقتاً نظر آ جاتا ہے۔  اسی لئے اسلام میں قاتل مقتول کے ورثہ سے محروم سمجھے جاتے ہیں اور اسی قسم کی صورتِ حال مذکورہ واقعہ میں درپیش ہے ۔ (مرتب)

74۔"  او" یہاں شک کے مفہوم میں تو بہرحال نہیں آیاہے،اتنے پر سارے علماء ادب کا اتفاق ہے، اختلاف جو کچھ ہے وہ اس کے بعد ہے کہ پھر کس معنی میں ہے؟ چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ "بلکہ"  کے معنی میں ہے ۔۔۔(اور ان سے ایک عالم سیراب ہوتاہے)۔۔۔اور ان سے بھی کسی درجہ میں اللہ کی مخلوق سیراب ہوتی رہتی ہے۔۔۔اس طرح کے پتھر یا چٹان کی مثال عام مومنین صالحین ہیں کہ دوسروں کی اصلاح و ہدایت اگر نہ کرسکیں جب بھی اپنا ایمان تو سلامت لے ہی جاتے ہیں اور اپنے قبولِ حق کا ثبوت تو دے ہی جاتے ہیں۔۔۔ایک قول یہ بھی نقل ہواہے کہ منھامیں ضمیر الحجارۃ کی طرف نہیں بلکہ القلوب کی جانب ہے ۔(تفسیر ماجدی)

۔بگڑا ہوا دل پتھر سے زیادہ سخت ( پتھروں کی فطری صلاحیت برقرار جیسے چٹان سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے) ۔۔۔۔جبکہ پتھر دل اسفل سافلین (یعنی بد ترین مخلوق)۔)تدبر قرآن(

۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ یہ محض کوئی شاعرانہ اسلوبِ بیان نہیں ہے جس کا واقعات کی دنیا سے کوئی تعلق نا ہو بلکہ یہ تلمیح ہے ان مشاہدات کی طرف جو صحرا کی زندگی میں خود بنی اسرائیل کی نگاہوں کے سامنے گزر چکے تھے۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے ایک چٹان سے اکٹھے بارہ چشمے پھوٹتے اور طور کے ایک حصہ کو تجلی الہی سے پاش پاش ہوتے دیکھا تھا لیکن یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی ان کے اپنے دلوں کی سختی کا یہ حال رہا کہ وہ کسی نشانی کو دیکھ کر نرم نہیں ہوتےتھے۔ پھر اس بات میں شبہ کرنے کی کہاں گنجائش رہی کہ ان کے دلوں کی سختی پتھروں اور چٹانوں کی سختی سے بھی بڑھی ہوئی تھی۔ (تدبرِ قرآن)

۔ قلب کیا ہے؟   آیہ مبارکہ 74 میں     ًپھر تمہارے  قلب سخت  ہو گئے جیسے کہ وہ مثل پتھر کے ہوںً سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قلب ہے کیا چیز؟ کیا یہ وہی ہے جسکو ہم دل کہتے ہیں یا یہ دماغ کا کوئی حصہ ہے یا کوئی اور چیز؟ اس بات پر بہت اختلاف ہے اور یہ اختلاف صرف مفسرین ہی میں نہیں بلکہ پوری سائنس ابھی تک  Mind اور Brain کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ جب سے جین (Gene) کی دریافت  ہوئی ہےاور یہ پتہ چلا ہے کہ ہر جرثومہ (Cell) بذات خود انسان کی شخصیت کا  ڈیزائن ہے جس میں وہ ایسے ہی بند ہےجیسےبیج کےاندر پورا  درخت۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ قلب جین  کی شعوری کیفیت کا نام ہے۔ چونکہ ہر انسان کھربوں جینز کا مجموعہ و امتزاج ہےاس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ  ان کھربوں  جینز کا مجموعی شعور  انسانی قلب ہے جو انسان کی پوری شخصیت کی عکاسی کرتا ہے اور اس کا مرکز دل ہے۔ جینز کی مثال کمپیوٹر  کے سافٹ وئیر سے دی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ جینز سے جسم کو ہدایات  کیسے ملتی ہیں؟  اس کا تعلق  ہارمونز (Harmones) سے ہے۔ یہ کچھ ایسے کیمیکل اجزا ہیں جن کا خون کے ذرات کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ سارا  خون ہارمونز سے بھرا پڑا ہے۔ جسم میں  ہارمونز کی حیثیت  نامہ بر (Messenger) کی سی ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔  چونکہ دل میں سے  ہر آن انسان کے اربوں خلیات  خون کی شکل میں  گزرتے ہیں جن میں  جینز، ہارمونز  اور پتہ نہیں اور کیا کیا کچھ ہوتا ہے اس لیے دل خود بخود قلب کی نشست گاہ (Seat)  کی حیثیت اختیارکر لیتا ہے۔  یوں سارے جسم پردماغ سمیت  دل کی حکومت ہے۔ ان دریافتوں کی بنا پر ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ قلب محض کسی گوشت کے لوتھڑے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کی پوری شخصیت کی کتاب ہے جس کے الفاظ خون میں جینز ہیں۔ ان الفاظ کے معانی کے نامہ بر ہارمونز ہیں اور اس کی نشست  انسان کا دل ہے۔۔۔۔۔۔ ہر ایٹم  قلب رکھتا  ہے:  یہ نظریہ کہ نیم ایٹمی ذرات (sub atom particles) کی یادداشت ہے 1935  میں پیش کیا گیا  تھااور 1985 میں پیرس یونیورسٹی  میں آلین آسپیکٹ(Alain Aspect) سائنسدان نےتجرباتی طور پر  یہ ثابت کیا کہ اگر دو ذرے  کروڑوں میلوں تک بھی الگ الگ کر دیے جائیں  وہ پرانی رفاقت کو  نہ صرف  یاد رکھتے ہیں بلکہ کسی غیر مرئی  طاقت کے بل پر جانتے ہیں کہ  انکا دوست ذرہ  اس وقت کیا کر رہا ہے۔(کتاب زندگی)

75۔( اےمسلمانو! اسرائیلیوں کی ان ساری بدکردار یوں کی روداد سننے کے بعد بھی)خطاب آیت میں اسرائیلیوں سے نہیں،مسلمانوں سے ہے ،حسن بصری تابعیؒ کا قول ہے کہ اس کے مخاطب رسولؐ اور مومنین ہیں(کبیر)بلکہ خصوصیت کے ساتھ خطاب انصار سے ہے جو ہم وطنی اور ہم عہدی کی بناپر یہودکے ایمان لے آنے پر خصوصیت سے حریص تھے۔"افتطمعون" میں ہمزہ استفہامی ہے۔اس سے مقصود استبعاد ہے یعنی بھلا ایسا بھی کہیں ہوسکتا ہے؟ طبع کے عام معنی لالچ کرنے ،حرص رکھنے کے ہیں لیکن دوسرے معنی امید و توقع کے بھی ہیں اور وہی یہاں مراد ہیں ۔۔۔وقد کان فریق منھم ۔ کان کے دومفہوم ہوسکتے ہیں اور لغت و نحو دونوں کی اجازت دیتے ہیں، ایک یہ کہ ایک ایسا فریق تھا اسرائیلیوں کے درمیان گویاذکر ماضی کا اور یہود معاصرین کے اسلاف کا ہورہاہے ،دوسرے یہ کہ ایک ایسا فریق رہاہے ،ان کے درمیان گویا ذکر حال کا اور ہم عصر یہود کا ہورہاہے،آئمہ تفسیر سے دونوں قسم کے اقوال منقول ہیں لیکن سیاق  دوسرے معنی کے زیادہ موافق ہے کہ حجت معاصرین ہی پر قائم کی جارہی ہے اور ملزم انہی کو قرار دینا زیادہ مناسب ہوگا۔۔۔۔۔کلام اللہ ۔یعنی یہود کے آسمانی صحیفے۔ اپنے ہاں کے صحیفوں کی تحریف یہود کو خود مسلم رہی ہے۔)تفسیر ماجدی(

76۔ اب ذکر منافقین یہود کا شروع ہورہاہے،یہود کی بڑی تعداد تو مدینہ میں علانیہ دشمنِ اسلام تھی ہی لیکن کچھ ان کے علاوہ اس قماش کے بھی تھے کہ مسلمانوں کے سامنے اپنا مسلمان ہونا ظاہرکرتے تھے،یہ ذکر انہیں منافقین کا ہے۔۔۔یعنی وہ اسرار و تعلیمات جو تمھاری مقدس کتابوں اور آسمانی صحیفوں میں محفوظ ہیں،مثلاً آخری نبی کی بشارتیں اور علامتیں۔۔۔۔۔عندربکم۔ کا ایک مفہوم تویہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اور آخرت میں تمہیں قائل کریں گے،چنانچہ ایک گروہ نے یہی معنی لئے ہیں۔۔۔لیکن زیادہ لگتے ہوئے معنی یہ ہیں کہ اسی دنیا میں تم پر حجتِ قوی کردیں گے اور عندربکم یہاں عنداللہ کی طرح حجتِ قوی و معروف کے معنی میں ہے ،اس لئےکہ اول تو یہود عالم آخرت کے پوری طرح قائل نہ تھے،دوسرے وہاں حجت قائم کرنے کیلئے کسی ایسے ظاہری سہارے کی ضرورت بھی نہ تھی،وہاں تو کشفِ حقائق از خود ہوکررہے گا،اس لئے یہاں گویا احتجاج بہ کتاب کو عنداللہ سے تعبیر کیا ہے اور یہ امر قدیم آئمہ تفسیر کی عظمت پر بس کرتاہے کہ انہوں نے یہود کے عقائد متعلق بہ آخرت کا پورا علم رکھے بغیر بھی یہی پہلو اختیار کرلیا ہے۔۔ ۔اب یہاں پر اکابر یہود کی تقریر اپنے ہم قوموں سے ختم ہوئی ۔)تفسیر ماجدی(

77۔موٹی سی بات ہے کہ اللہ کیلئے ایسے امور کی اطلاع اپنے پیمبر کو دے دینا مشکل ہی کیاتھا لیکن بے مغز یہود اس امکان ہی کی طرف اپنا ذہن نہیں لے جاتے تھے کہ شاید اس مدعی نبوت کا تعلق خدائے تعالیٰ کے ساتھ واقعی کچھ ہو ٹھیک اسی طرح جیسے آج بے مغز فرنگی اس امکان ہی کی طرف ذہن نہیں لے جاتے کہ کہیں قرآن انسانی تصنیف کے بجائے واقعی خداہی کی کتاب نہ ہو۔۔۔(کہ ہمارے بزرگ ہمیں بخشوالیں گے ہم خدا کے خاص محبوبوں کی اولاد ہیں ہمیں کیا غم،وغیرہ)۔ )تفسیر ماجدی(

78۔قومیں اپنے زوال و انحطاط کے دور میں انہی بے بنیاد خیالات سے اپنی نجات کی آس لگائے رہتی ہے اور عمل صالح سے آنکھیں بندکرلیتی ہیں۔کاش ہم بھی اپنی حالت پر غور کریں اور احکام شرعی سے کھلی بغاوت کے باوجود اپنی نجات کے جو سنہرے سپنے ہم دیکھ رہے ہیں ان سےچونکیں۔(ضیاء القرآن)

79۔”ویل “ جس سے جہنم بھی پناہ مانگتی ہے۔    (ڈاکٹر اسرار)

- اس مذہب کا بانی پولوس اسرائیلی ہوئے ہیں،آپ کا یہ مقولہ انجیل مروج میں لکھا چلا آرہاہے۔اگر میرے جھوٹ کے سبب سے خدا کی سچائی اس کے جلال کے واسطے زیادہ ظاہرہوئی تو پھر کیوں گناہ گار کی طرح مجھ پر حکم دیا جاتاہے؟ اور ہم کیوں نہ برائی کریں تاکہ بھلائی پیدا ہو۔(المؤمنون) )تفسیر ماجدی(

80۔ اور بدقسمتی سے ہم مسلمان بھی کچھ اسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔(تدبر قرآن )

- حاصل یہ کہ بنی اسرائیل اپنی قوم کو خداکی لاڈلی اور دلاری سمجھے ہوئے تھے اور اس پر حد سے زیادہ نازاں تھےیہود کی زبان سے اس سلسلہ میں"ہم" صیغۂ جمع متکلم جہاں بھی آیا ہے ،اجتماعی معنی رکھتاہے یعنی مراد قوم قومِ اسرائیل ہے۔۔۔ تقولون علی اللہ    ، قال  کا  صلہ جب  علیٰ  کے ساتھ ہو تو معنی ہوتے ہیں کسی پر کوئی بات جوڑ لی ،کسی پر بہتان باندھ دیا۔)تفسیر ماجدی(

81۔”  بلیٰ “ ایسے اقرار کے موقع پر آتاہے جہاں کوئی انکار قبل سے واقع نہ ہو۔۔۔احاطت بہ خطیئتہ۔قصدا بدی کی راہ اختیار کرنا اور معصیت سے پوری طرح گھر جانا کہ خود ایمان کیلئے گنجائش ہی باقی نہ رہ جائے،صرف انہی کیلئے ممکن جو سرے سے اہل باطل ہوں، اور ان کی موت کفر و بے دینی ہی پر آئے،مومن کیسا ہی بدعمل ہو، بہرحال اس آیت کا مصدق تو نہ ہوگا ،کم از کم زبان سے اقرار و قلب سے تصدیق کا درجہ تو اُسے حاصل ہی ہوگا،تمام اکابر اہلِ سنت نے یہاں مراد کفر ہی سے لی ہے۔۔۔بعض اہل باطل نے اس آیت سے جو مومن عاصی کی عدم مغفوریت پر استدلال کرنا چاہا ہے وہ صریحاًباطل ہے۔سیہ:  خود  سیّہ کے معنی ہی شرک کئے گئے ہیں۔۔۔ خلود کے معنی اگرچہ مدت طویل کے بھی ہیں ،لیکن اہل دوزخ اور اہل جنت کے سلسلہ میں جہاں جہاں اس لفظ کا استعمال قرآن مجید میں ہواہے ،اہل سنت کا اجماع ہے کہ اس سے مراد دوام یا ہمیشگی ہے، اور اس کی تاکید و تائید میں قرآن مجید میں خالدین فیھا کے ساتھ جابجا ابداً بھی آیاہے۔)تفسیر ماجدی(


دسواں رکوع

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ  83 اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنْا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا، اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہنا، تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے۔
 وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ 84 اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت وخون نہ کرنا اور اپنے کو ان کے وطن سے نہ نکالنا تو تم نے اقرار کر لیا، اور تم (اس بات کے) گواہ ہو۔
 ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ  85 پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کر دیتے ہو اور اپنے میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کرکے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو، اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلہ دے کر ان کو چھڑا بھی لیتے ہو، حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا۔ (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتابِ (خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو، تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دیئے جائیں اور جو کام تم کرتے ہو، خدا ان سے غافل نہیں۔
 اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ ۠ 86 یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی۔ سو نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو (اور طرح کی) مدد ملے گی۔

تفسیر آیات

83۔ قرآن  میں چار مقامات پر اللہ کی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ نیک سلوک کی تلقین۔( ڈاکٹر اسرار)

- بعض شارحینِ قرآن نے بھی یہاں "عہد لینے" کو "حکم دینے" کے معنی میں لیا ہے۔۔۔تعبدون۔ صورۃً صیغۂ مضارع ہے،لیکن معنی امر ہے۔۔۔بلکہ امر صریح سے بلیغ ترہے یعنی اس سے یہ نکلتاہے کہ گویا اس حکم کی تعمیل ہوچکی ہے۔۔۔بس احتیاط اتنی رہے کہ اس خوش خلقی و خندہ روئی سے کہیں مخاطب کی بدعت یا بدمذہبی کی تائید نہ پیدا ہوجائے۔(تفسیر ماجدی)ْ

85۔۔۔۔  بھلا یہ بھی کوئی ایمان ہے کہ کتاب کے بعض حصے جو اپنی طبیعت کے موافق ہوئے ان پر تو عمل کر لیا اور کتاب کا وہ حصہ جس پر عمل کرنا نفس پر گراں معلوم ہوا یا جس پر عمل کرنے سے مادی نقصان کا اندیشہ ہوا ، اسے چھوڑ دیا۔ ہم قرآن پر ایمان رکھنے والوں کے لیے بھی اس میں درس عبرت ہے۔ ۔ ۔ مثلاً ہرسال عمرہ، شرطوں کو رشوت دیکر پہلی صف مسجد نبوی میں جگہ حاصل کرنا۔ (ضیاء القرآن)

۔   "کچھ ماننا اور کچھ نہ ماننا" گویا پورے دین کی تکذیب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ "دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ"۔اس لیے دین میں اپنی مرضی نہیں چلتی۔ اللہ کی کتاب کسی منزل کی طرف جانے والی سیدھی سڑک کی مانند ہے۔ جس پر اللہ کی حدود کے پل ہیں۔ برابر ہے کہ سارے پل ٹوٹےہوں یا ایک پل ٹوٹ گیا ہو۔اگر آپ منزل کا حصول چاہتے ہیں تو  تمام پل سلامت رہنے ضروری ہیں۔(کتاب زندگی)

۔ مدینہ میں رسول اللہؐ کی آمد سے بیشتر مشرکین مدینہ اوس اور خزرج باہم لڑتے رہتے تھے اور اس کا سبب مدینہ کے یہود تھے کہ بنوقریظہ قبیلہ اوس کا حلیف اور بنو نضیر قبیلہ خزرج کا حلیف تھا ۔باوجود تعداد میں کم ہونے کے یہود مال کی کثرت کی وجہ سے سیاسی طورپر متفوق تھے اور یہ اوس و خزرج کے درمیان لڑائی کرواکر ان کی قوت و طاقت کمزور کرتے رہتے تھے۔۔۔۔۔ یہود کا اپنے قبیلہ کو فدیہ دے کر چھڑانا ۔اللہ تعالیٰ نے یہود سے چار عہد لئے تھے(i)وہ ایک دوسرے کا خون نہ کریں گے(ii)ایک دوسرے کو جلاوطن نہ کریں گے(iv)ظلم و زیادتی نہ کریں گے (v) اور فدیہ دے کر اپنے قیدیوں کو چھڑایا کریں گے۔۔۔۔۔دورنبویؐ میں یہود کا انجام:۔ دنیا میں یہ یہود عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے۔بنو نضیر تو4ھ میں اس ذلت سے دوچار ہوئے جس کا تفصیلی ذکر سورۂ حشر میں کیا گیا ہے۔مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کرلیا اور ان کے بعض باغات کو نذر آتش کردیا۔اور وہ قلعہ بند ہوکر اپنے گھروں کو خود بھی برباد اور توڑ پھوڑ رہے تھے۔کیونکہ انہیں اس بات کا یقین ہوچکا تھا کہ اب جلاوطنی ان کا مقدر بن چکی ہے اور وہ یہ گورارانہیں کرسکتے تھے کہ مسلمان ان کے تعمیر شدہ مکانات سے فائدہ اٹھائیں ۔اس طرح لڑائی کے بغیر ہی انہوں نے ہتھیار ڈال دیے ۔انہیں فوری جلاوطنی کا حکم دیا گیا تو انہوں نے شام کا رخ کیا اور جزیہ کا حکم نازل ہونے کے بعد ان سے جزیہ وصول کیا جاتارہااور بنوقریظہ پر جنگ خندق(احزاب5ھ)کے فوراًبعد چڑھائی کی گئی اور ان کے مردوں کو تہ تیغ کردیا گیااور عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنالیا گیا،اور آخرت کو جو عذاب انہیں ہوگا وہ تو اللہ ہی خوب جانتاہے۔(تیسیر القرآن)

- جنگ بعاث مشرکین کی باہمی جنگ تھی۔۔۔بنی قریظہ نے اوس کا ساتھ دیا ،اور بنی قینقاع خزرج کی حمایت میں نکل پڑے۔۔۔بلآخر شکست خزرج کے فریق کو ہوئی۔۔۔حضرت مسیحؑ کی زبان سے بھی منقول ہے ،انجیل موجودہ میں ہے۔ ۔۔اے سانپو،اے افعی کے بچو!تم جہنم کی سزا سے کیونکربچوگے؟ (متی۔24:23) ۔۔۔۔۔ یہود کو بڑا غرّہ اس کا تھا کہ ہم انبیائ مقبولین کی اولاد ہیں،ہمیں کیا غم ہے،ہماری نصرت و شفاعت کیلئے ہمارے یہ اسلاف کافی ہیں ،قرآن کو اسی لئے اس عقیدہ کی تردید باربار کرنی پڑی ،اور مختلف پیرایوں میں انہیں تنبیہ کی گئی کہ قانون الٰہی کے باغیوں کا ہمدرد و سفارشی کوئی بھی نبی یا ولی نہیں ہوسکتا اور جو ایمان سے خالی ہیں ان کی امداد ونصرت کسی سمت و جہت سے بھی نہ ہوگی۔(تفسیر ماجدی)


گیارہواں رکوع

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ 87 اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی۔تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے، جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا، تو تم سرکش ہو جاتے رہے، اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے۔
 وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ 88 اور کہتے ہیں، ہمارے دل پردے میں ہیں۔ (نہیں) بلکہ الله نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے۔ پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں۔
وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ  89 اور جب الله کے ہاں سے ان کے پاس کتاب آئی جو ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے، اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے، تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے، جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہو گئے۔ پس کافروں پر الله کی لعنت۔
بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ  90 . جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا، وہ بہت بری ہے، یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
 وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ  91 اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے۔
وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ 92 اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر آئے تو تم ان کے (کوہِ طور جانے کے) بعد بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے اور تم (اپنے ہی حق میں) ظلم کرتے تھے۔
 وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ  93 اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے۔
 قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 94 کہہ دو کہ اگر آخرت کا گھر اور لوگوں (یعنی مسلمانوں) کے لیے نہیں اور خدا کے نزدیک تمہارے ہی لیے مخصوص ہے تو اگر سچے ہو تو موت کی آرزو تو کرو۔
وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ  95 . لیکن ان اعمال کی وجہ سے، جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں، یہ کبھی اس کی آرزو نہیں کریں گے، اور خدا ظالموں سے (خوب) واقف ہے۔
وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠   96 بلکہ ان کو تم اور لوگوں سے زندگی کے کہیں حریص دیکھو گے، یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی۔ ان میں سے ہر ایک یہی خواہش کرتا ہے کہ کاش وہ ہزار برس جیتا رہے، مگر اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی۔ اور جو کام یہ کرتے ہیں، خدا ان کو دیکھ رہا ہے۔

تفسیر آیات

87۔  متعدد انبیاء کے صحیفے کیسے ہی محرّف سہی بہرحال"عہدنامہ عتیق" کے موجودہ مجموعہ میں شامل ہیں۔(تفسیر ماجدی)

۔بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہونے والے انبیا ء۔ ان میں سے جن انبیا و رسل کا نام قرآن میں آیا ہے وہ یہ ہیں (بہ ترتیب زمانی) ہارون،ذی الکفل،الیاس،الیسع، داؤد،سلیمان، لقمان (اختلافی)، عزیر،ادریس، زکریا، یحیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام جنہیں سریانی زبان میں یسوع کہتے ہیں۔۔۔۔معجزات سیدنا عیسیٰ: اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے تھے۔کوڑھی اور اندھے کو فقط ہاتھ لگاکر تندرست کردیتے تھے۔مٹی کا پرندہ بناکر اس میں پھونک مارتے تو وہ اڑنے لگتاتھا اور آپ لوگوں کو یہ بھی بتا دیتے تھے کہ وہ کیا کچھ کھا کر آئے ہیں اور کیا کچھ گھرمیں چھوڑ کرآئے ہیں اور ان تمام کاموں میں روح القدس یعنی جبرائیل علیہ السلام کی تائید آپ کے شامل حال رہتی تھی۔)تیسیر القرآن(

۔عیسائی مذہب   کے ماننے والوں نے   ان کی تعلیمات کی  دھجیاں اڑا دی ہیں۔ جو ان کے دلوں کو اچھا لگتا ہے وہ تو قابل قبول دین ہے اور جہاں یہ ان کی نفسانی خواہشات  کے خلاف گیا وہ دین نہیں۔ انہی میں سے کچھ بد بختوں نے فعل قوم لوط، ہم جنس پرستی اور سود کو حلال قرار  دیا۔ بے حیائی اور فحاشی کو یہ کلچر کہتے ہیں۔ کمزور اقوام پر ظلم ان کا انصاف ہے اور تکبر میں یہ سب سے آگے ہیں۔(کتاب زندگی)

ـــ حضرت عیسیٰؑ کے واضح معجزات کو یہود نے تائید ربانی اور فیض روح القدس کا نتیجہ قراردینے کے بجائے ،نعوذ باللہ ،شیطانی تصرف کا نتیجہ قرار دیا(انجیل متی،باب 12)۔قرآن نے یہ اسی الزام کی تردید کی ہے۔روح القدس سے مرادوہ پاکیزہ روح ہےجوخدا کی طرف سے آتی ہے،یعنی جبرائیلؑ۔(ترجمہ مولانا امین احسن اصلاحی)

 ــــــ مریم بنت عمران بن ماشان قوم اسرائیل کے ایک بڑے معزز خاندان سے تھیں ۔اور خود بھی باعصمت اور خوبصورت تھیں ۔سال وفات مسیحی روایتوں کے مطابق48سنہء ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔روحِ پاک سے مراد علم  ِ وحی بھی ہے اور جبرائیل بھی جووحی کا علم لاتے تھے اور خود حضرت مسیح کی اپنی پاکیزہ روح بھی جس کو اللہ نے قدسی صفات بنایا تھا۔ "روشن نشانیوں " سے مراد وہ کھلی علامات ہیں جنہیں دیکھ کر ہر صداقت پسند طالب ِ حق یہ  جان سکتا  تھا کہ مسیح ؑ  اللہ کے نبی ہیں۔ (تفہیم القرآن)

89۔  اور یہ جو فرمایا کہ ”وہ اس کو پہچان بھی گئے“ ، تو اس کے متعدّد ثبوت اسی زمانے میں مل گئے تھے۔ سب سے زیادہ معتبر شہادت اُمّ المومنین حضرت صَفِیّہ کی ہے، جو خود ایک بڑے یہودی عالم کی بیٹی اور ایک دوسرے عالم کی بھتیجی تھیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینے تشریف لائے، تو میرے باپ اور چچا دونوں آپ ﷺ سے ملنے گئے۔ بڑی دیر تک آپ سے گفتگو کی۔ پھر جب گھر واپس آئے، تو میں نے اپنے کانوں سے ان دونوں کو یہ گفتگو کرتے سناـــــ چچا: کیا واقعی یہ وہی نبی ہے، جس کی خبریں ہماری کتابوں میں دی گئی ہیں ؟ــــــــ والد: خدا کی قسم، ہاںــــــــ چچا: کیا تم کو اس کا یقین ہے ؟ـــــــ والد: ہاںــــــ چچا: پھر کیا ارادہ ہے ؟ ــــــ والد: جب تک جان میں جان ہے اس کی مخالفت کروں گا اور اس کی بات چلنے نہ دوں گا۔ (ابن ہشام۔ جلد دوم۔ صفحہ 165، طبع جدید)))تفہیم القرآن( 

90۔   غضب علیٰ غضب کی تفسیر میں بہت سے قول نقل ہوئے ہیں،ان میں سے ایک قول تابعی حضرات سے منقول یہ ہے کہ یہودکی پہلی مغضوبیت کی بنیاد رسالتِ عیسوی سے انکار ہے اور دوسری مغضوبیت کی بنیاد  رسالتِ محمدیؐ سے انکار۔)تفسیر ماجدی(

92۔  یہ واضح معجزات صرف عصائے موسیٰ اور یدبیضاہی نہ تھے ۔بلکہ بے شمار دوسرے معجزات بھی تھے جیسے سمندر کا پھٹ جانا اور فرعون کی غرق آبی۔چٹان سے بارہ چشموں کا پھوٹ نکلنا ،جنگل میں من و سلویٰ کا نزول وغیر وغیرہ۔اتنے واضح معجزات دیکھنے کے بعد بھی تم اللہ کی الوہیت پر ایما ن نہ لائے اور موسیٰ کی غیر حاضری میں تمہیں تھوڑا ساموقعہ کیا ملا تو فوراً پھر سےبچھڑے کی پرستش شروع کردی۔اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوسکتاہے؟(تیسیر القرآن)

93۔  آیت سے یہ لازم نہیں آتاکہ لفظ عصینا (ہم نے نہیں مانا) ان لوگوں نے زبان سے کہاہو۔۔۔العجل سے مراد حب العجل ہے، اور اس قسم کا حذف مضاف کلامِ عرب میں عام ہے۔ ۔۔اُشرِبوا فی قلوبھم۔مرادیہ کہ گوسالہ کی محبت ان کے رگ رگ میں رچ گئی تھی،جیسے پانی رگ رگ میں پہنچ کر جزو بدن بن جاتاہے ،مشروب سے یہ استعارہ شدید محبت اور شدید نفرت دونوں موقعوں پر اہل عرب کی زبان میں عام ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ یہاں یہود کا یہ جواب جو نقل ہوا ہے ، "قالوسمعنا و عصینا" (انھوں نے کہا ہم نے سنا اور نا فرمانی کی) یہ صورتِ حال کی تعبیر ہے ۔ انھوں نے عہد تو یہی کیا تھا کہ " ہم نے سنا اور ہم اطاعت کریں گے" لیکن  عمل ان کا یہی ہوا کہ انھوں نے جو کچھ سنا اس کی نا فرمانی کی۔ اس صورتِ حال کو، جو ان کے عمل سے ظاہر ہوئی، قرآن نے ان کے قول کی جگہ رکھ دیا ہے۔ گویا انھوں نے شروع ہی میں اقرار اطاعت کا نہیں بلکہ نا فرمانی کا کیا تھا۔ (تدبرِ قرآن)

94۔ اور خیال یہ جمالیا تھا کہ خداوند خدا کا جو معاملہ ہماری قوم و نسل کے ساتھ ایک ناقابل تبدیل طورپر ہے وہ دنیا جہان میں کسی اور کے ساتھ نہیں،نسلی تقدیس کی یہی وبا ہے جو ہندوستان میں برہمنیت کے نام سے جلوہ گرہے۔۔۔ ابن القیم نے آیت کا ایک دوسراہی مفہوم لیاہے ،ان کا کہنا ہے کہ یہ مطالبہ اس کا نہیں کہ یہود خود اپنے حق میں موت کی دعا کریں ،بلکہ اس کا ہے کہ اگر رسولؐ کو کاذب تسلیم کرتے ہیں تو کاذب کے حق میں بددعا کریں لیکن اس کی ہمت انہیں نہ پڑی اور وہ رسول کے حق میں بددعا نہ کرسکے اور یہ ایک مزید ونمایاں ثبوت اعجازِ محمدیؐ کا ہے۔۔۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ موت کی محبت ،خواہ طبعی ہو یا عقلی ،ولایت کی علامتوں میں سے ہے۔(تفسیر ماجدی)

96۔  اس مضمون کے متعدد قول نقل ہوئے ہیں کہ دنیوی زندگی بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے، معصیت گوارا کرلینا چاہئیے لیکن موت نہ گوارا کرنا چاہئے، وقسِ علیٰ ھذا۔۔۔ایک عجیب بات اسی سلسلہ میں یہ ہے کہ طویل عمر کے جو عجب عجب نظرئیے آج یورپ میں قائم ہورہے ہیں اور طرح طرح کی تدبیریں اور نسخے اس کیلئے ایجاد ہورہے ہیں ،ان میں پیش پیش جو ڈاکٹر اور اہل سائنس ہیں ،وہ عموماً یہود ہی ہیں۔(تفسیر ماجدی)

۔تیسری حقیقت یہ واضع کی گئی ہے کہ جس طرح زندگی کی تلخیوں سے گھبرا کر موت کی آرزو کرنا یا خود کشی کرنا ایمان اور تعلق باللہ کے منافی ہے اسی طرح زندگی اور درازئ عمر کا حریص ہونا اور موت سے فرار بھی ایمان اور محبتِ الہی کے منافی ہے۔ (تدبر قرآن)


بارہواں رکوع

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ 97 کہہ دو کہ جو شخص جبرئیل کا دشمن ہو (اس کو غصے میں مر جانا چاہیئے) اس نے تو (یہ کتاب) خدا کے حکم سے تمہارے دل پر نازل کی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔
مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ 98 جو شخص خدا کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو ایسے کافروں کا خدا دشمن ہے۔
وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ 99 اور ہم نے تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہیں، اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو بدکار ہیں۔
اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ 100 ان لوگوں نے جب (خدا سے) عہد واثق کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اس کو (کسی چیز کی طرح) پھینک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر بے ایمان ہیں۔
وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ 101 اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے پیغمبر (آخرالزماں) آئے، اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتے ہیں تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں۔
وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ 102 اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے۔
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ 103 اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش، وہ اس سے واقف ہوتے۔

تفسیر آیات

97۔ اگرچہ یہ بات بہت عجیب سی معلوم ہوتی ہے کے یہود حماقت کی اس حد کو  پہنچ جائیں کہ حضرت جبرائیل ؑ کو بھی اپنا دشمن سمجھنے لگ جائیں لیکن انسان جب ضد، حسد اور فرقہ سازی کے جنون میں مبتلا ہو جاتا ہےتو اس سے کوئی بات بھی بعید نہیں رہ جاتی۔ روافض کا ایک فرقہ: روافض کے ایک فرقہ کا بھی عقیدہ  ہے  کہ قرآن دراصل اترنا تو حضرت علی پر تھا  لیکن جبرائیل غلطی سے محمدﷺ کے پاس لے کر چلے گئے۔اس فرقے کے لوگ اس گناہ پر (نعوزباللہ) حضرتِ جبرائیلِ امین پر لعنت بھی کرتے ہیں۔  ۔ (تدبر قرآن)

'- مُصَدِّقًا لِّمَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَہُدًی وَبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ میں قرآن کی مزید تین صفتیں بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ پچھلے صحیفوں کا مصدق ہے۔ دوسری یہ کہ وہ راہ حق کی طرف رہنمائی کر رہا ہے۔ تیسری یہ کہ جو اس کی رہنمائی قبول کر لیں وہ ان کو آخرت کی فوزوفلاح کی بشارت سنا رہا ہے۔(تدبرقرآن )

- یہود بھی وجود ملائکہ کے قائل تھے، بلکہ خود حضرت جبرئیل کو بھی ایک فرشتہ اعظم مانتے تھے، اور ان کا ذکر توریت میں آج تک موجود ہے، لیکن اپنی نادانی سے خیال یہ جمالیا تھا کہ وہ ایک فرشتہ عذاب ہیں، ان کا کام وحی لانا نہیں، عذاب لانا ہے۔ اور وحی لانا تو کام ایک دوسرے فرشتہ حضرت میکائیل کا ہے۔ اپنے ان مفروضہ مقدمات ومسلمات کے بعد وہ رسول ﷺ پر معترض ہوتے تھے کہ یہ نئے مدعی نبوت اپنی وحی کے سلسلہ میں نام حضرت جبرائیل کا کیوں لاتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

98۔ میکال یا میکائل ،جبرئیل کی طرح ایک فرشتہ مقرب کا نام ہے ،مشہور روایتوں میں آیا ہے کہ ان کے ذمہ مخلوق کی رزق رسانی اور بارش ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔بنی اسرائیل میکائیل فرشتہ کو حضرت جبرائیل کے برعکس اپنا ہمدرد فرشتہ سمجھتے تھے۔ (تدبرِ قرآن)

99۔الفاسقون سے مراد اس سیاق میں الکافرون ہی ہیں،اس لئے کہ ذکر یہاں فسقِ اعمال کا نہیں فسق عقائد کا ہے۔(تفسیر ماجدی)

101۔  رسول کا صیغہ نکرہ میں ہونا اس کے منافی نہیں،صیغہ نکرہ جس طرح تعمیم کیلئے آتاہے ،عظمت و تکریم کیلئے بھی آتاہے، اور وہی یہاںمقصود ہے۔(تفسیر ماجدی)

102۔شیاطین سے مراد شیاطینِ جن اور شیاطینِ انس دونوں ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد ہیں۔ جب بنی  اسرائیل پر مادی انحطاط کا دور آیا۔۔۔۔ وہ ایسی تدبیریں ڈھونڈنے لگے جن سے کسی مشقت اور جدوجہد کے بغیر محض پھونکوں اور منتروں کے زور پر سارے کام بن جایا کریں۔ اس وقت شیاطین نے ان کو بہکانا شروع کیا کہ سلیما نؑ کی عظیم الشان سلطنت اور اس کی حیرت انگیز طاقتیں تو سب کچھ چند نقوش اور منتروں کا نتیجہ تھیں، اور وہ ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ نعمتِ غیر مترقبہ سمجھ کر ان چیزوں پر ٹوٹ پڑے اور پھر نہ کتاب اللہ سے ان کو کوئی دلچسپی رہی اور نا کسی داعی حق کی آواز انھوں نے سن کر دی۔۔۔ رہا فرشتوں کا ایک ایسی چیز سکھانا جو بجائے خود بری تھی ، تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے پولیس کے بے وردی سپاہی کسی رشوت خور حاکم کو نشان زدہ سکے اور نوٹ لے جا کر رشوت کے طور پر دیتے ہیں تا کہ اسے عین حالتِ ارتکابِ جرم میں پکڑیں اور اس کے لئے بے گناہی کے عذر کی گنجایش باقی نا رہنے دیں۔(تفہیم القرآن)

- آکسفورڈ یونیورسٹی کا یہودی النسل پروفیسر مارگولیس آنجہانی جس کی اسلام دشمنی ضرب المثل کی حدتک پہنچی ہوئی ہے، اپنی انگریزی سیرۃ رسول میں معاصریہود عرب کے سلسلہ میں لکھتاہے" یہ لوگ فنِ سحر کے ماہرتھے اور بجائے میدان جنگ میں آنے کے سفلی عملیات کو ترجیح دیتے تھے"(ص189)۔۔۔حضرت سلیمانؑ کو ایک طرف تو پیغمبر مانتے ہیں اور دوسری طرف ان کے نامۂ اعمال میں گندے سے گندے جرائم بھی ڈال دئیے ہیں!یہاں تک کفر و شرک بھی۔۔۔اب جو محققانہ و فاضلانہ کتب جوامع و حاویات ِ بائبل ہی کے پرستاروں کے قلم سے نکل رہی اور شائع ہورہی ہیں،وہ تائید  و تصدیق،بائبل کی الزام دہی کی نہیں،قرآن کے جواب صفائی کی کررہی ہیں! انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا برطانوی کاوش و تحقیق کا لب لباب ہوتاہے،اس کے سب سے آخری ایڈیشن میں مقالہ زیر عنوان سلیمان نکال کردیکھئے،صاف یہ مضمون ملے گا۔"سلیمان خدائے واحد کے مخلص پرستار تھے"۔(جلد دوم،ص952طبع چہاردہم)۔۔۔امام ابن جریر ،آج کے نہیں،آج سے ایک ہزار سال قبل کے شخص ہیں اور یہود و نصاریٰ کی کتابوں سے شاید زیادہ واقف بھی نہ ہوں ،آج نہیں،اس وقت اپنی تفسیر میں اسحاق کے حوالہ سے یہ روایت بصراحت درج کرگئے ہیں کہ:آیتِ بالایہود ہی کے ْگندے عقائد اور افتراء کے رد میں نازل ہوئی ہے جو آپس میں کہتے تھے"ان نئے مدعی نبوت کی نادانی تو دیکھوکہ ابن داؤد کو یہ نبی اللہ کی حیثیت سے پیش کررہے ہیں ،حالانکہ بخدا وہ تو بس ایک ساحر تھا ،اللہ نے انہی کے قول کے رد میں یہ آیت نازل کی ہے۔وماکفر سلیمان"۔۔۔تاریخ قدیم کے جاننے والوں سے یہ حقیقت مخفی نہیں کہ عہد رسالت و طلوع اسلام سے صدیوں قبل قوم بنی اسرائیل دومستقل حصوں میں بٹ چکی تھی،ایک ٹکڑا وہ جو بخت نصر کے ہاتھوں جلاوطنی یا جبری ہجرت کے بعد کلدانیہ یابابل(موجودہ عراق) میں رہ پڑا تھا اور وہیں بس گیا تھا،دوسری شاخ وہ جو ایک مدت دراز کے بعد وہاں سے واپس آکر پھر فلسطین میں آباد ہوئی، آیت اس تاریخی راز کو فاش کررہی ہے کہ عہدرسالت کے معاصر یہود عرب جامع ہیں فلسطین اور بابلی دونوں قسم کے رذائل و خبائث کے ۔۔۔تاریخ قدیم کے یہ نازک دقائق، اور اپنی جگہ پر بالکل مسلم و مستند حقائق ،جو عام طورپر اچھے اچھے اہل علم کے علم میں بھی نہیں، اداکرائے جارہے ہیں ،کسی مؤرخ اعظم کی زبان سے نہیں ،عرب کے ایک امی کی زبان سے اللہ اللہ۔۔۔۔۔ نظام تکوینی میں فرشتوں کے اوپر حقیقت سحر کا نزول ان کی نزاہت کے ذرا بھی منافی نہیں خصوصاً جب کہ ان پر اس فن کے الہام کئے جانے سے مقصود ہی تمام تر اصلاحِ خلق تھا یعنی لوگوں کو سحر و کہانت سے بچانا،نہ کہ اس پر آمادہ کرنا، مجسڑیٹوں کو پولیس کے افسروں کو ،جرائم سے عملی واقفیت حاصل کرتے کس نے نہیں دیکھاہے؟ ظاہر ہے یہ اس لئے نہیں ہوتا کہ وہ خود جرم کریں بلکہ اس لئے کہ اپنی عملی واقفیت کو مجرموں کے ارتکاب ِ جرم سے باز رکھنے میں کام لائیں۔۔۔بابل کا دوسرا قدیم نام کالڈیا(کلدانیہ)ہے۔۔۔یہ سحر پیشہ و کہانت دوست قوم جب538ق۔م، میں تاجدار ایران کے ہاتھوں برباد ومنتشر ہوئی تو جہاں جہاں گئی،اپنے ساتھ اپنے فنون سحر وکہانت کو بھی لیتی گئی ،تاریخ کا بیان ہے۔ "یہ لوگ جہاں جہاں گئے اپنے علوم کو اپنے ساتھ لیتے گئے ،ان کی تعلیم دیتے رہے اور ضعیف العقیدہ خلقت  انہیں ہرجگہ ہاتھوں ہاتھ لیتی رہی"(ریگوزین کی "کالڈیا"ص255) یہود ان استادوں کے شاگرد رشید ثابت ہوئے" بابل کے میل جول نے اسرائیلیوں کے عقائد متعلق ملائکہ و شیاطین کو متاثر کرنا شروع کیا"۔(انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا۔جلد 13 ص187،طبع یازدہم)۔۔۔۔- بابل کی اسی سحر پر ورو کہانت خیز سرزمین میں جب عملیاتِ سفلیہ اور علوم سحریہ کا زور حد سے بڑھ گیا اور عوام کے ذہن میں ہادیانِ حق،انبیائے کرام اور اولیائے صالحین کی حیثیت خلط ملط اور ملتبس ہوکر کاہنوں،ساحروں،عالموں،شعبدہ بازوں کی ہوکر رہ گئی تو مشیت الٰہی اور حکمتِ ربانی نے حق و باطل کے دوعلمبردارگروہوں میں نمایاں فصل و امتیاز کرانے اور لوگوں کی اصلاح خیال کیلئے دوفرشتوں کو انسانی صورت و قالب میں بھیجا۔۔۔یعلمن ۔تعلیم کے متعارف ،مفہوم کی بناپر اس لفظ سے یہ شبہ نہ ہو کہ ملائکہ سحر کا درس یا سبق دیا کرتے تھے،استغفراللہ تعلیم کے معنی علاوہ سکھانے اور سبق دینے کے ،اعلام یعنی جتلانے ،بتلانے ،آگاہ کرنے کے بھی آتے ہیں۔۔۔(بہ نظر احتیاط مزید)ملائکہ اس باب میں اتنی احتیاط رکھتے کہ خیرخود سے تو کسی کو کیا بتلاتے ،سکھلاتے،جولوگ پوچھنے آتے انہیں بھی پہلے متنبہ کردیتے ۔۔۔امتحان یعنی وہ چیزیں جس سے کھل جائے کہ سحر و کہانت سے بچاکون کون رہااور مبتلا ان میں کون کون ہوگیا۔۔۔مطلب یہ ہوا کہ انسان نما ملائکہ کسی پر بھی حقیقت ِ سحر کو نہ کھولتے ،کسی کو کلمات ِ سحر پر مطلع نہ کرتے ،جب تک کہ اُسے متنبہ نہ کردیتے ،ہوتایہ تھا کہ فسق پیشہ لوگ آکر ہاروت و ماروت کو گھیرتے اور ان سے اصرار کرکے دریافت کرتے کہ آپ ہمیں سحر سے روک  تو رہے ہیں ،لیکن یہ تو بتائیے کہ سحر کہتے کسے ہیں ،وہ ہیں کون سے اعمال واقوال جن پر سحر کا اطلاق ہوتاہے؟فرشتے انہیں اس تنبیہ و یاددہانی کے بعد کہ اس فن سے کام لینا کفر ہے،جب انہیں آگاہ و خبردار کرنے کیلئے ان اعمال و اقوال کی نقل و حکایت ان کے سامنے کرتے تو وہ فسق پیشہ لوگ اس سے فائدہ یہ اٹھاتے کہ خود اس فن ہی کے سیکھ جانے کا کام لینے لگتے ۔بالکل ایسی ہی بات جیسے آج کوئی کسی فقیہ عالم سے یہ دریافت کرے  کہ رشوت اور سود کا اطلاق کن کن آمدنیوں پر ہوتاہے،اور پھر اُن سے بچنے کے بجائے الٹا انہی طریقوں پر عمل شروع کردے!۔۔۔مفسر تھانویؒ کی تحقیق اس موقع پر بھی قابل قدر ہے۔"سحر کے فسق یا کفر وغیرہ ہونے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس میں کلمات کفریہ ہوں مثل استعانتِ شیاطین و کواکب وغیرہ تب تو کفر ہے خواہ اس سے کسی کو ضرر پہنچایا جائے یا نفع پہنچایاجا ئے اور اگر کلماتِ مباحہ ہوں تو اگر کسی کو خلاف اذن شرعی کسی قسم کا ضررپہنچایا جائے یا کسی اور غرض ناجائز میں استعمال کیا جائے تو وہ فسق و معصیت ہے اور اگر ضرر نہ پہنچایا جائے اور نہ کسی اور غرض ناجائز میں استعمال کیا جائے تو اُسے عرف میں سحر نہیں کہتے بلکہ عمل ،یا عزیمت یا تعویذ گنڈہ کہتے ہیں، اور وہ مباح ہے اور اگر کلمات مفہوم نہ ہوں تو بروجہ احتمالِ کفر ہونے کے واجب الاحتراز ہے ۔اور کفر عملی کا اطلاق ہرناجائز پر صحیح ہے"۔۔۔۔۔- "سحر کی سب سے زیادہ عام متداول صورت اس نقش کی تھی جو عشق و محبت کیلئے دیاجاتاتھا،خاص کر وہ نقش جو ناجائز آشنائیوں کیلئے لکھا جاتاتھا،اس قسم کے سحر کی ماہر عورتیں ہی زیادہ ہوتی تھیں،چنانچہ ذکر بھی سحر اورحرام کاری کا عموماً ساتھ ہی ساتھ آیا ہے"(جیوش انسائیکلوپیڈیا،جلد8۔ص255)۔۔۔زہر کے اثر سے بے گناہوں کی ہلاکت ،کافروں کے ہاتھوں اولیاء و انبیاء کی اہانت و اذیت ،مشرکوں کا مسلمانوں پر غلبہ و تسلط ،جس قانون حکمتِ تکوینی کے مطابق یہ سب کچھ ہوتارہتاہے،اسی کے ماتحت سحر بھی اپنا اثر دکھاتا ہے اور رضائے الٰہی سے بُعد جس قد غلبہ کفر وغیرہ کوہے اسی قدر تاثیر سحر کو ،ہرہر ارادۂ الٰہی کے اندر کتنی کتنی تکوینی حکمتیں اور کائناتی مصلحتیں ہوتی ہیں،اس کا علم بھی بجز اُسی داناو بینا،علیم و خبیر کے اور کسی کو نہیں ہوسکتا۔۔۔سلف کا مذہب سارے اسباب و مسبباب کے بارے میں یہی رہاہے کہ مؤثر حقیقی مشیتِ الٰہی ہے،وہی جب چاہتی ہے سبب و نتیجہ کے درمیان حائل بن جاتی ہے اور جب نہیں چاہتی ہے تو حائل نہیں ہوتی۔(تفسیر ماجدی)

۔ ان چیزوں کو تقدس کا رنگ دینے کے لئے وہ  ان کو براہِ راست حضرت سلیمان سے منسوب بھی کرتے رہے ہوں گے اور لوگوں کو ان کا گرویدہ بنانے کے لئے یہ دعوہ بھی کرتے رہے ہوں گے  ۔۔۔ آج بھی جو لوگ ان سفلی چیزوں کا ذوق رکھتے ہیں  وہ اپنی خرافات کی تائید میں حضرت سلیمان کا حوالہ بہت دیتے ہیں۔ بعض نقش تو ان کے نامِ نامی ہی سے منسوب بھی ہیں۔ اس طرح کی ساری چیزیں معلوم ہوتا ہے یہود ہی کے زریعہ سے ہمارے ہاں منتقل ہوئی ہیں۔ (تدبرِ قرآن)۔۔ ۔ہاروت و ماروت کے متعلق مکمل بحث  کے لئے ملاحظ ہو   تدبرِ قرآن صفحہ ( 285 تا 287)


تیرہواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 104 اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے۔
 مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ 105 جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور خدا تو جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔
 مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 106 . ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر بات پر قادر ہے۔
 اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ  107 تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے، اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مدد گار نہیں۔
 اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ 108 کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوال کرو، جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے۔ اور جس شخص نے ایمان (چھوڑ کر اس) کے بدلے کفر لیا، وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا۔
وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 109 بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے۔
وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ 110 اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو۔ اور جو بھلائی اپنے لیے آگے بھیج رکھو گے، اس کو خدا کے ہاں پا لو گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
 وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 111 اور (یہوْدی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔
 بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠  112 ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے، (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔

تفسیر آیات

104۔ عربی میں (رَ ا عِ ناَ)  ۔ رَا عِ(مراعاۃ)صیغہ امر (واحد حاضر مذکر) اور نَا ضمیر جمع متکلم ہے۔ اسکے معنی ہیں ہماری طرف توجہ فرمائیے، ہماری رعایت کریں۔ جبکہ یہودیوں کی زبان میں اس کے معنی احمق اور متکبر کے ہیں اور اگر اسی لفظ کو تھوڑا سا دبا کر بولا جائے تو رَعِیناَ (ہمارا چرواہا) بن جاتا ہے۔(تعلیم القرآن)

۔ خالق کائنات کواپنے پیارے نبی کا ادب اس قدر ملحوظ ہے کہ آپ کی شان میں غلط معانی   نکلنے والےالفاظ کو بھی برداشت  نہیں کیا  ۔(کتاب زندگی)

۔اس رکوع اور اس کے بعد والے رکوع میں نبیﷺ کی پیروی اختیار کرنے والوں کو ان شرارتوں سے خبردار کیا گیا ہے جو اسلام اور اسلامی جماعت کے خلاف یہودیوں کی طرف سے کی جا رہی تھیں، ان شبہات کے جواب دئیے گئے ہیں جو یہ لوگ مسلمانون کے دلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے، اور ان خاص خاص نکات پر کلام کیا گیا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کی گفتگو میں پیش آیا کرتے تھے۔ (تفہیم القرآن)

105۔  ہماری پچھلے چودہ سو سال کی  تاریخ اس آیہ مبارک کی تفسیر  ہے جس کی واضح ہدائیت حضور کے اس فرمان میں ہے  کہ "تمام کفر  اسلام  کے خلاف اکٹھا ہے"۔ لیکن افسوس  کہ مسلمان  ان سے خیر کی توقع پر دوستی کرتے ہیں،اپنا  سرمایہ ان کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو دے دیتے ہیں اور آپس میں دشمنی کرتے ہیں۔ (کتاب زندگی)

۔ ولاالمشرکین ۔من المشرکین کے معنی میں ہے۔مشرک وہ تھے جو سرے سے توحید و نبوت ہی کے قائل نہ تھے ،بجائے ایک خدائے واحد کے مختلف فرشتوں کو مختلف قویٰ کا مستقل مالک و متصرف سمجھتے تھے،ان کو دیویوں ،دیوتاؤں کے نام سے پکارتے اور انہی کی پرستش کرتے ،اور مختلف عناصر اور مظاہر فطرت کی بھی الوہیت کے قائل رہتے،گویا سلسلۂ وحی ہی کے سرے سے منکر تھے۔۔۔حیرت و افسوس ہے کہ انگریزی کے تقریباً کل مترجمین قرآن اور اردو کے متعدد شارحین نے شاید افراط "روشن خیالی" کے اثر سے ترکیب عبارت کو بالکل نظر انداز کرکے ترجمہ یوں کردیاہے۔ "اہل کتاب میں سے جو کافر ہیں وہ اور مشرکین (ذرابھی) پسند نہیں کرتے"۔۔۔ حالانکہ یہ ترجمہ کسی طرح بھی صحیح نہیں ،اول تو اھل الکتاب کا مفہوم ہی کا فر اہل کتاب کا ہے ،اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو اہل کتاب کہے کیوں جائیں ،مومن ہی نہ کہلانے لگیں ،اس لئے یہ کہنا کہ ان میں سے جو کافر ہیں خود ہی بے معنی ہے،پھر اس سے بڑھ کر صریح اور قاطع المشرکین کا اعراب ہے المشرکین حالت جری میں ہے اور من حرف جار  کا مجرور ہے،پھر اس سے بڑھ کر عطف صریحاً اھل الکتاب پر ہے اگر الذین کفروا پر ہوتا تو حالت رفعی میں ہوتا اور بجائے المشرکین کے المشرکون ہوتا ۔ایک حدیث میں کافروں کی یہ دوگونہ تقسیم اہل کتاب و مشرکین میں صراحت کرکے دونوں کے حق میں عذاب کی دعا آئی ہے۔(تفسیر ماجدی)

106۔ یہود مسلمانوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالتے تھے کہ جب قرآن حضرتِ موسٰی ؑ کو خدا کا پیغمبر اور تورات کو خدا کی کتاب تسلیم کرتا ہے تو پھر تورات کے احکام کے ردّوبدل کے کیا معنی؟ کیا خدا اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کو خود اپنے ہی ہاتھوں بدلتا ہے۔ کیا اب تجربہ کے بعد خدا پر اپنی غلطیاں واضع ہو رہی ہیں اور وہ ان کی اصلاح کر رہا ہے۔ ۔۔۔ اللہ   تعالیٰ یہودکو شریعت  دے کر اپنی قدرت اور اپنے اقتدار سے مستعفی نہیں ہو  بیٹھا  تھا کہ اب نہ تو وہ دنیا میں کسی کو شریعت دے گا، نہ اس میں کسی قسم کی ترمیم و تبدیلی کرے گا۔(تدبرِ قرآن)

۔ نسخ  قرآن کا نہیں بلکہ یہاں تورات، انجیل اور تمام دوسرے مذاہب کی کتابوں کے نسخ کا ذکر ہے۔ اس لیے کہ نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت کے بعد آپﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء کی شریعتوں کا منسوخ ہونا لازمی امر تھا۔ ۔۔ آج حضرت موسی ٰو حضرت عیسیٰ اور دیگر پیغمبروں کی اصل تعلیمات تو ایک طرف ان زبانوں کا بھی وجود تک نہیں رہا جو اس وقت بولی جاتی تھیں۔(کتاب زندگی)

۔شاہ ولی اللہ صرف پانچ آیات کا نسخ مانتے ہیں ۔سیاق و سباق اور نظمِ کلام کی روشنی میں ہم نے اس آیت کا تعلق صرف ادیانِ سابقہ سے مانا ہے ۔اہل کتاب نے یہ اعتراض جو اٹھایا تھاکہ قرآن جب ہماری کتابوں کو آسمانی تسلیم کرتاہے تو ان کی تعلیمات کو منسوخ کیوں کرتاہے۔۔۔ایک تو یہ نسخ خوب سے خوب تر کی طرف عروج اور ترقی کے نقطۂ نظر سے ہے ۔بالفاظ دیگر یہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی تکمیل ہے جو اس نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ  سے فرمایا تھا کہ وہ اپنا آخری نبی بھیجے گا جو اللہ کی شریعت کو کامل کرے گا،تمام طیبات کو حلال کرے گا ،تمام خبائث کو حرام ٹھہرائے گا اور لوگوں کو ان بہت سی پابندیوں سے آزاد کرے گا جو اس وقت ان پرہیں۔ ۔۔الف :یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت درجہ بدرجہ ترقی کرتی ہوئی ،اس نقطۂ کمال تک پہنچی ہے جس نقطۂ کمال پر وہ قرآن حکیم میں نظر آتی ہے۔۔۔جو ٹھیک ٹھیک اس کی فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہے۔۔۔ب: تورات کے بہت سے احکام کی ظاہری شکل بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہ جس وقت نازل ہوئے تھے خام  حالت میں تھے،ان کو پختہ ہونے کیلئے کسی اور فصل و موسم کا انتظار تھا۔اسلام کے ظہور نے ان کےلئے وہ منتظر موسم فراہم کیا اور وہ پختگی کو پہنچے۔مثلاً شراب ان کے ہاں صرف عبادت خانہ کے ذمہ داروں کیلئے حرام تھی۔۔۔۔۔چنانچہ اسلام نے اس کی حرمت کے سلسلہ میں پہلا قدم اس مقام سے اٹھایا کہ نماز کے اوقات میں اس کو حرام ٹھہرایا۔پھر بتدریج اس کو بالکل حرام کردیا۔۔۔ اسی طرح بعض  چیزیں یا تو  بنی اسرائیل کے قومی ذوق کے تحت  ان کے لیے حرام ٹھہرائی گئیں یا ان کے بے جا سوالات کی سزا کے طور پر مثلاً اونٹ یا ذبیحہ کے بعض حصوں کی چربی۔۔۔ج: تکمیل و ترقی کی اس ضرورت کی طرف حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰؑ  نے نہایت غیر مبہم الفاظ میں اشارہ بھی فرمایا تھا۔۔۔حو رب کے مقام میں بنی اسرائیل نے خود اس امر کا اظہار کردیا تھا کہ وہ اب مزید شریعت کا بوجھ اٹھانے کی طاقت اپنے اندر نہیں پارہے ہیں۔۔۔۔۔یہ اسلوب بیان اس حقیقت کو ظاہر کرتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ یہ معاملہ اپنے قانون حکمت کے مطابق کیا۔۔۔یہ پہلو دین و شریعت کی تطہیر کا پہلو ہے،یعنی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کی شریعت کو ان بدعتوں اور ملاوٹوں سے پاک کرنا ۔۔۔آنحضرتؐ سے پہلے جو انبیاء علیہم السلام تشریف لائے ان کی اکثریت انہی انبیا پر مشتمل تھی جو کوئی نئی شریعت لے کر نہیں  آئے۔بلکہ ان میں سے بیشتر کا مشن صرف یہی تھا کہ وہ پہلے سے نازل شدہ شریعت کو بدعتوں اور تحریفات سے پاک کرکے اس کو اس کی اصلی حالت پر لوٹادیں۔۔۔پچھلی شریعتوں میں اس قسم کے جو اضافے کیے گئے اور اسلام نے جن کو منسوخ کرکے ان کی اصل حقیقت پیش کی ،یہاں ہم ان کی چند مثالیں ذکر کرتے ہیں۔۔۔۔عقائد و ایمانیات کے باب میں یہود و نصاریٰ نے جس قسم کی لغویات کا اضافہ کیا اور قرآن نے جس کی اصلاح کی ان میں سے ان کا یہ عقیدہ ہے کہ خداتین کا تیسرا ہے یا مثلاً یہ کہ یہود اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ،یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کے پیداکرنے سے تکان ہوگئی  اس وجہ سے اس نے ہفتہ کے دن آرام فرمایا ،یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اس بات کا اقرار لے رکھا ہے کہ جب تک کوئی نبی وہ قربانی پیش نہ کرے جس کو کھانے کیلئے آسمان سے آگ اترے اس وقت تک وہ اس پر ایمان نہ لائیں یا یہ کہ موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں برص کی بیماری تھی۔قرآن مجید نے اس قسم کی تمام باتوں کی تردید کرکے اصل حقائق واضح فرمائے۔۔۔اسی طرح یہود نے اپنی بدکار انہ زندگی کو جائز ٹھہرانے کیلئے اکثر انبیاء علیہم السلام سے متعلق نہایت بے ہودہ قسم کی روایات۔۔۔مثلاً ان کا وہ رویہ جو انہوں نے اپنی قوم کے قیدیوں کے بارہ میں اختیار کیا، یا جو روش انہوں نے سود کے معاملہ میں اختیار کی۔نصاریٰ نے خنزیر اور گردن مروڑے ہوئے جانور کو جائز کرلیا۔مذکورہ بالاتفصیل سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوگئی کہ سورۂبقرہ کی زیر بحث آیت کا تعلق تمام تر ادیانِ سابقہ سے ہے۔۔۔ان میں سے پہلے گروہ نے اس کے دائرے کو جو بہت زیادہ وسعت دی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نزدیک نسخ کا ایک خاص مفہوم ہے۔یہ لوگ ان تمام مواقع میں بھی نسخ مان لیتے ہیں ،جہاں کوئی بات کسی عام کو خاص یا خاص کو عام کررہی ہو یا کسی اجمال کو تفصیل کا رنگ دے رہی ہو،حالانکہ اس طرح کے مواقع میں نسخ ماننے سے زیادہ معقول بات یہ ہے کہ عام و خاص اور مجمل و مفصل کے درمیان توفیق پیدا کرنے کی کوشش کی جائے اور یہ توفیق نہایت آسانی کے ساتھ پیدا کی جاسکتی ہے۔۔۔۔جوگروہ نسخ کا یک قلم منکر ہے اس کا نقطۂ نظریہ ہے کہ اسلامی شریعت کے احکام  حالات کے تابع ہیں۔۔۔اب اگر وہی حالات دوبارہ پلٹ آئیں تو وہ احکام بھی از سرنو بحال ہوجائیں گے۔۔۔یہ گروہ اپنے نقطۂ کی حمایت میں یہ بات بھی پیش کرتاہے کہ اسلامی شریعت کا ارتقا بتدریج نرمی سے سختی کی طرف ہواہے۔اس وجہ سے جب حالات اس بات کے مقتضیٰ ہوجائیں کہ نرمی کی طرف پلٹا جائے تو یہ پلٹنا اسلامی شریعت کے مزاج کے عین مطابق ہوگا۔ہمارے نزدیک اس رائے میں متعدد غلطیاں ہیں۔۔۔اول تو بجائے خود یہ دعویٰ ہی بالکل بے بنیاد ہے کہ اول اول شریعت ہلکی تھی، بعد میں یہ سخت ہوئی ہے۔قرآن مجید پر غور کرنےپر تویہ معلوم ہوتاہے کہ بعض احکام میں اس کا ارتقا اگر نرمی سے سختی کی طرف ہواہے۔مثلاً تحریم شراب اور حکم صیام وغیرہ۔تو بعض احکام میں سختی سے نرمی کی طرف بھی ہواہے۔مثلاً صلوٰۃ اللیل۔۔۔دوسری یہ کہ آنحضرت ؐ کے دور میں اور ہمارے دور میں جو فرق ہے اس کو اس میں ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے۔۔۔لوگ جاہلی رسوم و عادات کے اتنے خوگر تھے کہ ان سے ان کیلئے نکلنا آسان نہ تھا۔برعکس اس کے اس زمانہ میں حالات اس سے بہت مختلف ہیں۔۔۔اسلامی احکام و قوانین لوگوں کیلئے کوئی نامانوس اور اجنبی چیز نہیں ہیں۔۔۔تیسر ی یہ کہ اگر حالات کی تبدیلی کے بہانے شریعت کے منسوخات کی طرف پلٹنے کے جواز کو تسلیم کرلیا جائے تو اس فتنہ پسند طبائع کیلئے شریعت سے فرار کی ایک ایسی راہ کھل جاتی ہے جس کا بند کرنا ناممکن ہو جائے گا۔اس زمانے میں بڑی آسانی کے ساتھ اس دلیل کے سہارے روزہ ،نماز ، حرمت شراب اور حدِّ زنا وغیرہ کے بارے میں سہولت پسند لوگ ایسے اجتہاد شروع کردیں گے ۔۔۔۔۔تیسرا مسلک یعنی ان لوگوں کا مسلک جو قرآن کی بعض آیات کو منسوخ مانتے ہیں۔ہمارے نزدیک یہی مسلک صحیح ہے ۔۔۔ایک تو یہ کہ قرآن کا کوئی حکم اگر منسوخ ہواہے تو قرآن ہی سے منسوخ ہواہے اور یہ ناسخ و منسوخ دونوں قرآن مجید میں موجود ہیں ۔۔۔بعض فقہانے حدیث کو بھی قرآن کیلئے ناسخ مانا ہے ۔لیکن ہمارے نزدیک یہ مسلک صحیح نہیں ہے۔۔۔دوسری یہ کہ اس نسخ کا تعلق تمام تر صرف احکام و قوانین سے ہے،عقائد و ایمانیات یا اخلاق و صفات یا واقعات و حقائق سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔تیسری یہ کہ اس نسخ کی ضرورت اس وجہ سے نہیں پیش آئی کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی نقص ہے۔۔۔اس کی وجہ صرف بندوں کی بعض فطری خامیاں اور کمزوریاں ہیں۔۔۔اس تدریج و تربیت کو ملحوظ رکھے۔۔۔بعض حالات میں یہ اس بات کی مقتضی ہوئی ہے کہ معاشرہ کے ابتدائی حالات کے تقاضوں کی مناسبت سے کسی باب خاص میں کوئی عارضی حکم دیا جائے اور جب معاشرہ اپنے بلوغ کو پہنچ جائے تو اس عارضی حکم کو آخری اور کامل حکم سے بدل دیا جائے ۔مثلاً ابتداء ً ورثہ کے حقوق کے تحفظ کیلئے وصیت کا حکم دیا گیا ،بدکاری کے سدباب کیلئے پنچائتی قسم کی تعذیر کی ہدایت کی گئی ،انصار و مہاجرین کی اخوت کو اخلاقی اخوت سے بڑھا کر قانونی اخوت کا درجہ دیا گیا ۔لیکن بعد میں جب معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ کی حیثیت سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا تو وراثت کے آخری اور حتمی قانون اور زناکی معین اور قطعی حد نے ان عارضی قوانین کو منسوخ کرکے خود ان کی جگہ لے لی۔۔۔۔۔کوئی قانون درجہ بدرجہ اپنی آخری حد پر پہنچے ،مثلاً شراب۔۔۔روزہ چونکہ عرب جیسے گرم ملک کیلئے بڑی سخت چیز تھا اس وجہ سے شروع شروع میں سفرا ور مرض کی صورت میں فدیہ دے دینے کی بھی گنجائش رکھی گئی۔لیکن بعد میں جب طبائع کو ان چیزوں سے انس ہوگیا تو شراب کے قطعی حرمت کا حکم آ گیا اور اسی طرح  ماہ رمضان کی تعداد کی تکمیل کی ہدایت آ گئی ۔۔۔سابقہ شریعت کے کسی حکم پر عمل کرنے کیلئے کچھ عرصہ تک آزاد چھوڑ دیا گیا۔۔۔مثلاً قبلہ کے معاملہ میں۔۔۔مسلمانوں کا امتحان لینا تھا کہ کون خدا اور رسول کی وفاداری میں پختہ ہےاور کون اب تک اپنی پچھلی روایات ہی کااندھا پرستار ہے۔ظاہر ہے کہ یہ امتحان تربیت ہی کا ایک جزو ہے۔۔۔ابتداءً عام مسلمانوں کو بھی تہجد کی پابندی کا حکم دیا گیا ،میدان جہاد میں ایک کو دس کفار کا مدمقابل قراردیاگیا،جماعتی استحکام و تطہیر کے تقاضوں کےتحت نبیؐ سے کوئی راز دارانہ بات کرنے سے پہلے صدقہ کی ہدایت کی گئی۔۔۔البتہ اہل بدعت کی پیدا کردہ ضلالتوں کے نسخ کاکام قیامت تک باقی رہے گا اور یہ کام اسلام میں علماء اور مصلحین کے سپرد ہے۔ تفصیل کے لیے  صفحہ 308-318 (تدبر قرآن)

107۔ چونکہ اللہ تعالی تمہارا ولی ہےاس لیے اب تم بھی آگے بڑھ کر اس کے ولی بن جاؤ۔ یوں یہ آیت مبارکہ ہر مسلمان کے لیے ولایت کے مقام تک پہنچنے کی بھی دعوت ہے۔(کتاب زندگی)

109۔ شانِ نزول کے ایک مخصوص واقعہ کی بناپر عموماً مفسرین نے یہاں اہل کتاب سے مراد یہود یا احبار یہود کو لیا ہے،لیکن لفظ قرآنی عام ہے،اور یہود ونصاریٰ دونوں اس کے عموم میں یکساں داخل ہیں۔مسیحیوں کی طرف سے جوکھلا ہوازبردست اور منظم اور علماء یہود کی طرف نسبتہً ہلکا اور مخفی پروپیکنڈا عقائد اسلام کے خلاف سیاسی، معاشرتی،تاریخی ،جغرافی،تحریروں کے ذریعہ سے اسلامی آبادیوں کے درمیان جاری رہتاہے وہ سب اسی حقیقت کے مظاہر ہیں،غایت ان ساری سرگرمیوں اور کوششوں کی یہی رہتی ہے کہ مسلمان اگر یہودیت و مسیحیت کو نہ بھی قبول کریں جب بھی کم سے کم اپنے دین کی طرف سے تو ضروربدگمان و برگشتہ ہوکررہیں۔پُرانے مفسروں نے بھی کہا ہے کہ اس میں مسلمانوں کو ایک زبردست انتباہ کافروں کی مسلم دشمنی سے متعلق ہے۔(تفسیر ماجدی)

110۔ (سو اس کا احتمال ہی  نہیں کہ کوئی نیکی ضائع ہوجائے گی ،اجر ہر نیکی کا پورا پورا ملے گا۔)ان آیتوں میں تردید ہے اس گروہ کی جو دین کو جہاد و قتال کے ساتھ مخصوص سمجھتاہے،جب حالات تکوینی ایسے پیش آجائیں کہ جہاد و قتال ممکن العمل نہ رہے تو باقی احکامِ اسلام کی تعمیل پر بھی پورا ہی اجر دینے والا اللہ ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔"ھودا" : یہودی ، ھآئد(ھَادَ یَھود سے اسمِ فاعل) کے اصل معانی ہیں توبہ کرنے والا/ حق کی طرف لوٹنے والا، اہلِ یہود بچھڑے کی پوجا سے تائب ہوئے اس لئے یہود کہلائے۔(تعلیم القرآن)

۔یہود اور نصاریٰ یوں تو آپس میں ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے، آئے دن ان کے اندر مذہبی اختلاف کی بنا پر خون خچر ہوتا رہتا تھا، لیکن معلوم ہوتا ھے کہ اسلام کی مخالفت کے لئے دونوں آپس میں بڑے روادار بن گئے تھے۔دونوں نے مل کر ایک متحدہ محاز قائم کر لیا تھا اور ہم زبان ہو کر یہ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ جس کو نجات مطلوب ہو وہ یہودی بنے یا نصرانی۔ یہ نیا دین بھلا کیا ہے۔ یہ تو محض ایک فتنہ ہے۔(تدبرِ قرآن)

112۔مارماڈیوک پکتھال۔ (تفصیل کے لیے اس ضمن میں  آغاز میں دئیے گئے  " قرآنِ حکیم : اہم نکات"  میں نقطہ نمبر 3ملاحظہ کریں) 

- یعنی  نجات کا صحیح قانون یہ ہے جو اب بیان ہورہاہے۔"بلیٰ" اپنے ماسبق کی نفی و تردید کیلئے ہے یعنی تمہارا دعویٰ غلط محض ہے، صحیح قاعدہ یہ ہے جو آگے آرہاہے۔۔۔اپنے اس ایمان و اعتقاد میں۔یعنی اس عمل کا بھی اس کے عقیدۂ توحید کے مطابق ہو،گویا ایمان و حسن عمل دونوں جمع ہوں۔وجہ کے لفظی معنی چہرہ کے ہیں لیکن محاورہ عرب میں اکثر مراد ذات سے یا عینِ شے سے ہوتی ہے اور وہی یہاں مراد ہے۔۔۔اسلم وجھہ للہ یعنی توحید کا پوری طرح قائل ہوجائے بلاآمیزش شرک۔(تفسیر ماجدی)

۔نسلی مسلمان ہو یا یہودی یا نصرانی، اللہ کے یہاں اسکی کوئی قیمت نہیں، اصل چیز ایمان اور عملِ صالح ہے۔ ۔۔۔ لیکن قرآن کریم کی اس تنبیہ کے باوجود بہت سے مسلمان اسی یہودی اور نصرانی غلطی کا شکار ہو گئے کہ خدا اور  رسول اور آخرت اور قیامت سے بالکل غافل رہ کر اپنا نسلی مسلمان ہونا مسلمان ہونے کے لئے کافی سمجھنے لگے۔ ۔۔۔آجکل پوری دنیا کے مسلمان طرح طرح کے مصائب و آفات کا شکار ہیں اس کو دیکھ کر بہت سے نا واقف لوگوں کو یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ شاید ان تمام آفات ومصائب کا سبب ہمارا اسلام ہی ہے، اس کا اصل سبب ہمارا اسلام نہیں بلکہ ترکِ اسلام ہے۔ ۔۔۔دوسری اہم بات مسلمانوں کے تنزّل اور پریشانی اور کفّار کی ترقی و آرام کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر عمل کا جداگانہ خاصہ رکھا ہے، ایک عمل کرنے سے دوسرے کے خواص حاصل نہیں ہو سکتے، مثلا تجارت کا خاصہ ہے مال میں زیادتی، دوا کا خاصہ ہے بدن کی صحت، اب اگر کوئی شخص دن رات  تجارت میں لگا  رہے، بیماری اور اس کے علاج کی طرف توجہ نہ دے تو محض تجارت کے سبب وہ بیماری سے نجات نہیں پا سکتا، اسی طرح دوا دارو کا استعمال کر کے تجارت کا خاصہ  یعنی مال کی زیادتی حاصل نہیں کر سکتا۔ کفّار کی دنیوی ترقی اور مال و دولت کی فراوانی ان کے کفر کا نتیجہ نہیں ہے، جیسے مسلمان کا افلاس و  پریشانی اسلام کا نتیجہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ اس سے واضع ہوا کہ دنیا میں ہمارا افلاس و احتیاج اور مصائب و آفات ہمارے اسلام کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک طرف اسلامی اخلاق و اعمال چھوڑنے کا اور دوسری طرف ان تمام کاموں سے منہ موڑنے کا نتیجہ ہے جن کے عمل میں لانے سے مال و دولت میں زیادتی ہوا کرتی ہے۔۔۔۔ افسوس ہے کہ ہمیں  جب یورپ والوں کے ساتھ اختلاط کا اتفاق پیش آیا  تو ہم نے ان سے صرف ان کا کفر اور آخرت سے غفلت اور بے حیائی و بد اخلاقی  تو  سب سیکھ لی، لیکن ان کے وہ اعمال نہ سیکھے جن کی وجہ سے وہ  دنیا میں کامیاب  نظر آتے ہیں، جس مقصد کے لیئے کھڑے ہوں اس کے پیچھے  ان تھک کوشش، معاملہ کی سچائی ، بات کی سچائی اور دنیا میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کے نئے نئے طریقے جو در حقیقت اسلام ہی کی اصلی تعلیمات ہیں۔ (معارف القرآن)


چودھواں رکوع

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ 113 اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا۔
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ 114 اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو۔ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں، مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب۔
 وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ 115 اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے۔ بے شک خدا صاحبِ وسعت اور باخبر ہے۔
وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ 116 اور یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے۔ (نہیں) وہ پاک ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرماں بردار ہیں،۔
 بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ  117 (وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔
 وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ  118 . اور جو لوگ (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہتے ہیں کہ خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا۔ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے، وہ بھی انہی کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ ان لوگوں کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ جو لوگ صاحبِ یقین ہیں، ان کے (سمجھانے کے) لیے نشانیاں بیان کردی ہیں۔
اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ 119 (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی۔
 وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ   120 اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی، یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو۔ (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے۔ اور (اے پیغمبر) اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آ جانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔
 اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۠    121 جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے، وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں، اور جو اس کو نہیں مانتے، وہ خسارہ پانے والے ہیں۔

تفسیر آیات

113۔  یعنی ان کا دین تمام ترباطل ہے،یہودی قوم عقیدۃً  بہر حال موحد تھی، نصرانیت کا شرک اور الوہیت کی تثلیث وہ برداشت ہی نہ کرسکتی تھی اور نہ اس کی قائل ہوسکتی تھی کہ ایسے گڑھے ہوئے دین میں کچھ بھی صداقت ہے،ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔(تفسیر ماجدی)

- اصطلاح انجیل میں مطلق شریعت(LAW) سے مراد شریعتِ موسوی ہی ہوتی ہے۔۔۔الکتٰب۔یعنی مجموعۂ صحائف انبیاء بنی اسرائیل ۔اسی کو آج عہدنامۂ عتیق کہتے ہیں،یہود و مسیحی دونوں ان صحیفوں کے الہامی و مقدس ہونے کے قائل ہیں ۔۔۔وہ کہنے لگے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی حق پر نہیں۔الذین لایعلمون۔علم سے آیت میں مراد کتاب آسمانی کا علم ہے، یہ کہنے والے کون تھے،عموماً ان سے مراد مشرکین عرب لئے گئے ہیں اور ہر ایسے مذہب کے پیرو جس کی بنیاد کسی کتاب آسمانی پر نہ ہو،یعنی ہر دین جاہلی کے پیرو اس کے تحت میں آجاتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

- نسلی مسلمان ہوں، یہودی یا نصرانی ،اللہ کے ہاں اس کی کوئی قیمت نہیں۔اصل چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔

ع         وضع میں نصاریٰ تو تمدن میں ہنود                                                        (معارف القرآن)

114۔حالتِ جنگ میں بھی گرجوں اور معابدکے انہدام یا توہین کی اجازت نہیں ۔مگر ایک دوسرے کی مساجد میں مسلمانوں کا قتل و غارت ۔

-( جیساکہ مشرکینِ مکہ نے عین حرم کعبہ میں ذکر عبادت الٰہی سے مسلمانوں کو روک دیا تھا، خصوصاً واقعۂ حدیبیہ میں )حیرت ہے کہ بعض مفسرین یہاں بے احتیاطی سے برابر یہ روایت نقل کرتے گئے ہیں کہ یہاں اشارہ مسیحیوں کی جانب ہے۔جنہوں نے بخت نصر کلدانی کے حملہ بیت المقدس کے وقت اس کی مدد کرکے بیت المقدس قبلۂ یہود کی بربادی میں شرکت کی تھی ،حالانکہ بخت نصر کا زمانہ ولادت مسیحؑ سے کئی صدی قبل کا تھا ،اس وقت مسیحیوں کا وجود ہی کیسے ہوسکتاتھا،خوشی کی بات ہے کہ اس روایت کی پوری تردید خودہی ایک قدیم مفسر جصاص رازی نے کردی ہے جو فقہ میں تبحر کے ساتھ تاریخ پربھی پوری نظررکھتے تھے،اور امام رازی نے بھی تفسیر کبیر میں اُسے دہرایا ہے۔۔۔(مسلمانوں کے رعب و دبدے) سے یعنی داخلہ کی اجازت غیرمسلم کو صرف اس حال میں دی جاسکتی ہے کہ وہ مسلمانوں کا محکوم ہو،اور اس کا داخلہ سرکشانہ نہیں مطیعانہ ہو،قرآن مجید میں لفظ مساجد بہ صیغۂ جمع ہے لیکن ایک قول ہے کہ مساجد سے یہاں مراد مسجد حرام ہےیا حرم کعبہ ہی ہے۔(تفسیر ماجدی)

115۔ یہ مقام ان لوگوں کیلئے قابل غور ہے جو محض گروہی تعصبات کے تحت اپنے سے مختلف مسلک رکھنے والوں کو  اپنی مساجد سے روکتے ہیں۔(ترجمہ مولاناامین احسن اصلاحی)

116۔ اتخذولداً۔ کا صحیح ترجمہ ہے "لے رکھا ہے ایک بیٹا" "بنارکھاہے ایک بیٹا"یہاں مسیحیوں کا قول یہ نہیں نقل ہورہاہےکہ خداکا ایک بیٹا ہے،بلکہ یہ کہ خدانے ایک بیٹا بنالیا ہے،اتخاذِ ولد کا صاف مفہوم یہ ہے کہ خدانے گویا کسی کو متبنّیٰ کرلیا ہے،قرآن مجید کی تلمیحات کو پوری طرح سمجھنے کیلئے قرآن کے صدہامقامات کی طرح یہاں بھی اس کی ضرورت ہے کہ نظر اہل باطل کے عقائد و خیالات پر ذرا گہری ہو،مسیحیوں کے ہاں ایک زبردست فرقہADOPTIONISTSاتخاذیوں کے نام سے گزراہے،ان کے مرکزی عقیدہ کیلئے اصطلاحی لفظ تبنیت یا اتخاذیت(ADOPTIONISM) کا ہے،عقیدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ مسیحؑ خلقۃ خدا نہیں،وہ خدا پیدا نہیں ہوئے، وہ خدا شروع سے بنے بنائے اور خود بخود نہیں ہیں ،بلکہ اصلاً اور خلقۃ وہ انسان ہی تھے،البتہ اقنوم ثالثہ یعنی روح الٰہی ان کے اندر ایسی حلول کرگئی کہ اقنوم اول یعنی خدائے برترو اعظم نے انہیں اپنا بیٹا قرار دے کر ،اپنا متبنّیٰ بناکر شریک اُلوہیت کرلیا،اور اب وہ ربوبیت ،مالکیت وغیرہ جملہ صفاتِ الٰہی میں شریک وسہیم ہیں ،اس عقیدہ کے وجود کی شہادت تاریخ میں 185سنہ ء میں ملتی ہے، آٹھویں صدی عیسوی میں پاپائے روم نے اسے الحاد و زندقہ قرار دیا ،بارہویں صدی عیسوی میں اس نے پھر زور پکڑا اور پھر یہ لوگ زندیق قرار پائے،ملاحظہ ہوتفسیر انگریزی۔۔۔۔۔  بڑی یا چھوٹی ،وحشی یا ترقی یافتہ کس مخلوق کی مجال ہے،جو اللہ کے بنائے ہوئے دن اور اللہ کی بنائی ہوئی رات کے چوبیس گھنٹوں کے علاوہ کوئی گھنٹہ،کوئی منٹ،کوئی لمحہ اپنے لئے پیدا کرسکے،بڑے سے بڑےماہرین سائنس میں سے کسی کے امکان میں ہے کہ اللہ کی مقرر کی ہوئی فضائے کائنات سے باہر ایک گز،ایک فٹ ایک انچ جگہ اپنے لئے تلاش کرسکے؟کون ایسا ہے کہ اللہ نے زمان و مکان کی جوحدیں مقررکردی ہیں ان سے قدم باہر نکال سکے؟ کون ایساہے جو اس کے خلق کئے ہوئے قانونِ حرارت ،برودت،رطوبت سے بے نیاز رہ سکے؟کون ہے جو اس کے باندھے قانون کشش اجسام سے بغاوت کرسکے،عدد،وزن،مقدار کے جوضابطے خدانے مقرر کررکھے ہیں ،کس میں اتنی ہمت کہ گنجائش ان سے عدول و انحراف کی پاسکے؟ بڑے سے بڑے  موجد، بڑے سے بڑے صناع کا کمال بجز اس کے کیا ہے کہ اس نے نظامِ تکوینی کے ضابطوں اور قاعدوں کی مزاج شناسی میں کمال پیدا کرلیا ہے،اور مسبب الاسباب کے حضور میں وہ دوسروں سے بڑھ کربندۂ قانت ہے۔(تفسیر ماجدی)

117۔ نیست سے ہست کرنے ،عدمِ محض سے موجود کرنے کو عربی میں ابداع کہتے ہیں یعنی نہ پہلے اس کا کوئی مادہ ہو نہ نمونہ اور نہ بنانے کے آلات موجود ہوں۔ اس ایک لفظ سے رد ہوگیا ان لوگوں کا (مثلاً آریہ سماجی وغیرہ)جو کہتے ہیں کہ روح بھی ہمیشہ سے موجود ہے اور مادہ بھی ۔اللہ تعالیٰ نے زیادہ سے زیادہ صرف یہ کیا کہ ایک ماہر کاریگر کی طرح مادے کے مختلف اجزاء کو ایک خاص تناسب سے باہم ملادیا اور رنگا رنگ چیزیں نمودار ہوگئیں۔ قرآن اعلان کرتاہے کہ اللہ تعالیٰ صرف صانع ہی نہیں بلکہ بدیع ہے۔اُس نے آسمان اور زمین کو محض اپنے ارادہ سے بغیر کسی سابق مادہ کے پیدا فرمایا۔۔۔۔بدیع: عدم محض سے موجود کرنا نہ پہلے سے کوئی مادہ،نہ نمونہ،نہ بنانیکے آلات۔ (ضیاء القرآن)

۔بدیع کے معنی ہیں ایسی چیز کو وجود میں لانے والا جس کی پہلے کوئی نظیر موجود نہ ہو ،نہ اس کا وجود موجود ہواور نہ کوئی نمونہ اور یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ہوسکتی ہے۔(تیسیر القرآن)

۔مصدر ابداع کے معنی ہیں نیست سے ہست کرنا، عدمِ محض سے وجود میں لانا بغیر کسی مثال یا نمونہ کے اور بغیر کسی سابق مادّہ یا ہیولیٰ کے۔بدیع وہ ہے جو نہ کسی آلہ کا محتاج ہو نہ کسی مال مسالہ کانہ مقام و مکان کا پابند،نہ زمان و وقت سے مقیّد محتاج نہ کسی نمونہ کا ،نہ استاد کا،وہ صنّاع نہیں،کاریگرنہیں ،اصلی اور حقیقی معنیٰ میں خالق اور موجد ہے،بغیر کسی اعانت و شرکت کے وجود میں لانے والا۔(تفسیر ماجدی)

119-118۔نمایاں ترین نشانی تو محمدؐ کی اپنی شخصیت ہے۔   (تفہیم القرآن )

118۔ لولا یہاں ھلّا کے معنی میں ہے اورھلّاکا اردو ترجمہ" کیوں نہیں"ہی سے ہوسکتا ہےاور محاورتاًقرآن میں لولا عموماً اسی معنی میں آتاہے۔۔۔اٰیٰۃ کے لفظی معنی  نشان کے ہیں ،قرآن مجید میں بکثرت معجزہ کے معنی میں آیا۔۔۔کہ کوئی عظیم الشان حیرت انگیز ،حسّی معجزہ دکھایا جائے ،جس کے بعد گنجائش ہی چوں و چرا کی نہ رہے ،جن لوگوں کی عقلی روحانی،اخلاقی سطح پست ،ان کی طرف سے اولیاء ربانی سے فرمائشیں آج بھی اس قسم کی خارقِ عادت و کرامات کی ہوتی رہتی ہیں۔(تفسیر ماجدی)

120۔  یہاں ملت سے مراد وہ دین نہیں جو تورات میں یا انجیل میں مذکور ہے بلکہ وہ دین ہے جس میں وہ سب خرافات بھی شامل ہیں جنہیں ان لوگوں نے دین سمجھ رکھا ہے اور وہ رنگ ڈھنگ بھی جو یہ لوگ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔لہذا انہیں خوش رکھنے کی فکر چھوڑ دیجئے کیونکہ جب تک آپ عقائد و اعمال کی انہی گمراہیوں میں مبتلا نہ ہوجائیں جن میں یہ پڑے ہوئے ہیں اس وقت تک ان کا آپؐ سے راضی ہونا محال ہے۔۔۔۔آپؐ کی بعثت کے بعد تمام لوگوں کو آپؐ پر ایمان لانا واجب ہے۔(تیسیر القرآن)

ــــــ یہودیت و نصرانیت ،دومذہبوں کے باوجود ان کیلئے لفظ ملت کے صیغۂ واحدلانے سے اکثر فقہاء نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کفر جس قسم کا بھی ہو بہرحال ایک ہی ملت کے حکم میں ہے۔۔۔اور اسی اصل کی بناپر اکثر فقہاء نے، کہ اُن سے مراد شافعیہ و حنفیہ بہرحال ہیں، وراثت کافروں اور مسلموں کے درمیان جائز نہیں رکھی ہے لیکن کافروں کافروں کے درمیان جائز رکھی ہے خواہ ان کا کفر آپس میں مختلف ہی ہو۔(تفسیر ماجدی)

121۔ یؤمنون بہ میں ضمیر رسول اللہ ؐ کی جانب بھی پھیری جاسکتی ہئ،اس تاویل سے کہ اوپر آپ کا ذکر انّاارسلنٰک بالحق میں مضمر ہے۔۔۔اکثر نے الکتٰب کی طرف پھیری ہے۔۔۔لیکن انسب یہ ہے کہ ضمیر مرجع الحق (آیت119) اورالعلم(آیت120) کو مانا جائے اور معنی یہ کئے جائیں کہ یہ لوگ اس دین حق اور علم وحی پر ایمان لے آئیں گے،مفسر تھانویؒ اور مفسر دہلویؒ(شاہ عبدالعزیزؒ) دونوں نے یہی ترکیب اختیار کی ہے،یہ اختلافات صرف ترکیب نحوی کے لحاظ سے ہیں ،مآل و مقصود ِ کلام ہر صورت میں تقریباً ایک ہی ہے۔(تفسیر ماجدی)


پندرہواں رکوع

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ 122 اے بنی اسرائیل! میرے وہ احسان یاد کرو، جو میں نے تم پر کئے اور یہ کہ میں نے تم کو اہلِ عالم پر فضیلت بخشی۔
 وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ 123 اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے، اور نہ اس سے بدلہ قبول کیا جائے اور نہ اس کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ دے اور نہ لوگوں کو (کسی اور طرح کی) مدد مل سکے۔
 وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ  124 اور جب پروردگار نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو ان میں پورے اترے۔ خدا نے کہا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (پروردگار) میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنائیو) ۔ خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کے لیے نہیں ہوا کرتا۔
 وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ  125 اور جب ہم نے خانہٴ کعبہ کو لوگوں کے لیے جمع ہونے اور امن پانے کی جگہ مقرر کیا اور (حکم دیا کہ) جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوئے تھے، اس کو نماز کی جگہ بنا لو۔ اور ابراہیم اور اسمٰعیل کو کہا کہ طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے میرے گھر کو پاک صاف رکھا کرو۔
 وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ 126 اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے پروردگار، اس جگہ کو امن کا شہر بنا اور اس کے رہنے والوں میں سے جو خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان لائیں، ان کے کھانے کو میوے عطا کر، تو خدا نے فرمایا کہ جو کافر ہوگا، میں اس کو بھی کسی قدر متمتع کروں گا، (مگر) پھر اس کو (عذاب) دوزخ کے (بھگتنے کے) لیے ناچار کردوں گا، اور وہ بری جگہ ہے۔
 وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ 127 اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل بیت الله کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے (تو دعا کئے جاتے تھے کہ) اے پروردگار، ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بےشک تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔
 رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ 128 اے پروردگار، ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو، اور (پروردگار) ہمیں طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے۔
 رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۠   129 اے پروردگار، ان (لوگوں) میں انہی میں سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو جو ان کو تیری ْآیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے۔

تفسیر آیات

122۔ قوم بنی اسرائیل اور ان پر جو احساناتِ خداوندی تھے،ان کا تعارف رکوع5 میں مفصل کرایاجاچکا ہے،وہیں کے حاشیے ملاحظہ فرمالئے جائیں شروع میں تاریخ بنی اسرائیل حضرت موسیؑ کے زمانہ سے بیان ہوئی ،یعنی اسرائیل کے اس عہد کی جب وہ مستقل صاحبِ کتاب و شریعت ہوکر آزاد و خودمختار قوم رہے اور ہر طرح کی نافرمانی و سرکشی میں بھی مبتلا ،اب اُسے اُس کے قدیم ترین دور یعنی عہدِ ابراہیمی کی طرف متوجہ کیا جاتاہے،حضرت ابراہیمؑ ہی کے بعد سے تو آپ کی نسل کی دوشاخیں ہوئیں ،اور ان میں سے ایک کا نام دوپشتوں کے بعد بنی اسرائیل پڑا۔(تفسیر ماجدی)

123۔ بنی اسرائیل نے اس وقت ایک تو عقیدۂ قیامت کو بالکل بھلادیا تھا،اور جزاوسزا کی ساری صورتیں اسی دنیا میں منحصر و محدودسمجھ لی تھیں،چنانچہ موجودہ توریت میں بھی جہاں جہاںسعادت و شقاوت کے ثمر مذکور ہیں،اسی دنیا کی خوشحالی و بدحالی کا بیان ہے،اس لئے پہلے تو انہیں یوم آخرت کی یاد دلائی گئی اور پھر ان کی گمراہی کے ایک ایک مرکزی عقیدے شفاعت کفارہ و فدیہ پر ضرب لگائی گئی ،آیت کے الفاظ اتنے جامع ہیں کہ یہودیت کے ساتھ نصرانیت کی بھی جڑکٹی جاتی ،نصرانیت کی توبنیاد ہی شفاعت ،کفار ہ و فدیہ ہی کے عقائد ِ باطلہ پرہے۔(تفسیر ماجدی)

 23-122۔ یہاں سے ایک دوسرا سلسلۂ تقریر شروع ہوتاہے ،جسے سمجھنے کیلئے حسب ذیل امور کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے۔(1)حضرت نوحؑ کے بعد حضرت ابراہیمؑ پہلے نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی عالمگیر دعوت پھیلانے کیلئے مقرر کیا تھا۔ انہوں نے پہلے خود عراق سے مصر تک اور شام و فلسطین سے ریگستان عرب کے مختلف گوشوں تک برسوں گشت لگا کر اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری (یعنی اسلام)کی طرف لوگوں کو دعوت دی۔پھر اپنے اس مشن کی اشاعت کے لیے مختلف علاقوں میں خلیفہ مقرر کیے۔شرق اردن میں اپنے بھتیجے حضرت لوطؑ کو شام و فسلطین میں اپنے بیٹے حضرت اسحاقؑ کو،اور اندرون عرب میں اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو مامور کیا ۔پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے مکے میں وہ گھر تعمیر کیا جس کا نام کعبہ ہے اور اللہ ہی کے حکم سے وہ اس مشن کا مرکز قرار پایا۔(2)حضرت ابراہیمؑ کی نسل سے دوبڑی شاخیں نکلیں:ایک حضرت اسماعیلؑ کی اولاد جو عرب میں رہی ۔ْقریش اور عرب کے بعض دوسرے قبائل کا تعلق اسی شاخ سے تھا۔اور جو عرب قبیلے نسلاً حضرت اسماعیلؑ کی اولاد نہ تھے وہ بھی چونکہ ان کے پھیلائے ہوئے مذہب سے کم و بیش متاثر تھے،اس لیے وہ اپنا سلسلہ انہی سے جوڑتے تھے۔ دوسرے حضرت اسحٰق ؑ کی اولاد، جن میں حضرت یعقوبؑ، حضرت یوسفؑ، حضرت موسیٰؑ،داؤدؑ، سلیمانؑ، یحٰؑی،عیسیٰؑ اور بہت سے انبیاء پیدا ہوئے اور جیساکہ  پہلے بیان کیا جاچکا ہے ،حضرت یعقوبؑ کا نام چونکہ اسرائیل تھا اس لیے یہ نسل بنی اسرائیل کے نام سے مشہورہوئی ۔ان کی تبلیغ سے جن دوسری قوموں نے ان کا دین قبول کیا، انہوں نے یا تواپنی انفرادیت ہی ان کے اندر گم کردی ،یا وہ نسلاً تو ان سے الگ رہے ،مگر مذہباً ان کے متبع رہے۔اسی شاخ میں جب پستی و تنزل کا دور آیا،تو پہلے یہودیت پیدا ہوئی اور پھر عیسائیت نے جنم لیا۔(3) حضرت ابراہیمؑ کا اصل  کام دنیا کو اللہ کی اطاعت کی طرف بلانا اور اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے مطابق انسانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا نظام درست کرنا تھا۔وہ خود اللہ کے مطیع تھے، اس کے دیے ہوئے علم کی پیروی کرتے تھے، دنیا میں اس علم کو پھیلاتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ سب انسان مالک کائنات کے مطیع ہوکر رہیں۔یہی خدمت تھی،جس کیلئے وہ دنیا کے امام و پیشوابنائے گئے تھے۔ان کے بعد یہ امامت کا منصب ان کی نسل کی اس شاخ کو ملا جو حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ سے چلی اور بنی اسرائیل کہلائی۔اسی میں انبیاء پیدا ہوتے رہے ،اسی کو راہ راست کا علم دیا گیا،اسی کے سپرد یہ خدمت کی گئی کہ اس راہ راست کی طرف اقوام ِ عالم کی رہنمائی کرے اور یہی وہ نعمت تھی، جسے اللہ تعالیٰ بار بار اس نسل کے لوگوں کو یاددلارہاہے۔اس شاخ نے حضرت سلیمانؑ کے زمانے میں بیت المقدس کو اپنا مرکز قرار دیا۔اس لیے جب تک یہ شاخ امامت کے منصب پر قائم رہی، بیت المقدس ہی دعوت الی اللہ کا مرکز اور خداپرستوں کا قبلہ رہا۔(4)پچھلے دس رکوعوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خطاب کرکے ان کی تاریخی فرد قرارداد جرم اور ان کی وہ موجودہ حالت، جونزول قرآن کے وقت تھی،بے کم و کاست پیش کردی ہے اور ان کو بتادیا ہے کہ تم ہماری اس نعمت کی انتہائی ناقدری کرچکے ہو جو ہم نے تمہیں دی تھی۔تم نے صرف یہی نہیں کیا کہ منصب امامت کا حق اداکرنا چھوڑ دیا، بلکہ خود بھی حق اور راستی سے پھر گئے اور اب ایک نہایت قلیل عنصر صالح کے سواتمہاری پوری امت میں کوئی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے۔(5) اس کے بعد اب انہیں بتایا جارہاہے کہ امامت ابراہیم کے نطفے کی میراث نہیں ہے بلکہ یہ اس سچی اطاعت و فرماں برداری کا پھل ہے ،جس میں ہمارے اس بندے نے اپنی ہستی کو گم کردیا تھا،اور اس کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں، جو ابراہیم کے طریقے پر خود چلیں اور دنیا کو اس طریقے پر چلانے کی خدمت انجام دیں ۔چونکہ تم اس طریقے سے ہٹ گئے ہو اور اس خدمت کی اہلیت پوری طرح کھو چکے ہو،لہذاتمہیں امامت کے منصب سے معزول کیا جاتاہے۔(6) ساتھ ہی اشاروں اشاروں میں یہ بھی بتادیا جاتاہےکہ غیر اسرائیلی قومیں موسیٰ ؑ اور عیسیٰؑ کے واسطے سے حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ اپنا تعلق جوڑتی ہیں وہ بھی ابراہیمی طریقے سے ہٹی ہوئی ہیں ۔نیز مشرکین ِ عرب بھی جو ابراہیم و اسماعیلؑ سے اپنے تعلق پر فخر کرتے ہیں ،محض نسل و نسب کے فخر کولیے بیٹھے ہیں۔ورنہ ابراہیم و اسماعیلؑ کے طریقے سے اب ان کودورکا واسطہ بھی نہیں رہاہے۔لہذاان میں سے بھی کوئی امامت کا مستحق نہیں ہے۔(7)پھر یہ بات ارشاد ہوتی ہے کہ اب ہم نے ابراہیمؑ کی دوسری شاخ ،بنی اسماعیلؑ میں وہ رسول پیدا کیا ہے، جس کیلئے ابراہیم ؑ اور اسماعیلؑ نے دعا کی تھی۔ اس کا طریقہ وہی ہے جو ابراہیمؑ،اسماعیلؑ،اسحاقؑ، یعقوبؑ،اور دوسرے تمام انبیاء کا تھا ۔وہ اور اس کے پیرو تمام ان پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہیں جو دنیا میں خدا کی طرف سے آئے ہیں اور اسی راستہ کی طرف دنیا کو بلاتے ہیں جس کی طرف سارے انبیاء دعوت دیتے چلے آئے ہیں۔لہذا اب امامت کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں جو اس رسول کی پیروی کریں۔(8)تبدیلِ امامت کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی قدرتی طورپر تحویلِ قبلہ کا اعلان ہونا بھی ضروری تھا۔جب تک بنی اسرائیل کی امامت کا دور تھا،بیت المقدس مرکز دعوت رہااور وہی قبلۂ اہل حق بھی رہا۔ خود نبی عربیؐ اور آپ کے پیروبھی اس وقت تک بیت المقدس ہی کو قبلہ بنائے رہے۔مگر جب بنی اسرائیل اس منصب سے باضابطہ معزول کردیے گئے ،تو بیت المقدس کی مرکزیت آپ سے آپ ختم ہوگئی ۔لہذا اعلان کیا گیا کہ اب وہ مقام دینِ الٰہی کا مرکز ہے،جہاں سے اس رسول کی دعوت کا ظہور ہواہے۔اور چونکہ ابتداء میں ابراہیمؑ کی دعوت کا مرکز بھی یہی مقام تھا، اس لیے اہل کتاب اور مشرکین،کسی کیلئے بھی یہ تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ قبلہ ہونے کا زیادہ حق کعبے ہی کو پہنچتاہے۔ہٹ دھرمی کی بات دوسری ہے کہ وہ حق کو حق جانتے ہوئے بھی اعتراض کیے چلے جائیں۔(9)امت محمدعربیؐ کی امامت اور کعبے کی مرکزیت کا اعلان کرنے کے بعد ہی اللہ تعالیٰ نے انیسویں رکوع سے آخر سورۂ بقرہ تک مسلسل اس امت کو وہ ہدایات دی ہیں ،جن پر اسے عمل پیراہونا چاہیے۔(تفہیم القرآن)

124۔  حضرت خلیل اللہ کے امتحانات: (i) آگ میں ڈالنا (برداً و سلاماً) عذابِ زمہریر/ جنوں کا عذاب۔ (ii) اصلی وطن شام کو چھوڑ کر جانے کا حکم اور فوراً بعد سیدہ حاجرہ اور حضرت اسماعیل کو چھوڑ جانا۔ (iii) حضرت اسماعیل کی قربانی  ۔ تفصیل کے لیئے  صفحہ 310 – 313 ۔ (معارف القرآن)

۔ ابنِ کثیرنے حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک روایت میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ پورا اسلام تیس حصوں میں دائر ہے، جس میں سے دس سورۃ براٗت میں مذکور ہیں اور دس سورۃ  احزاب میں اور دس سورۃ مومنون میں ،  حضرت ابراہیم نے ان تمام چیزوں کا پورا حق ادا کیا ، اور ان سب امتحانات میں پورے اترےاور کامیاب رہے۔ ۔۔۔ سورة برأت میں مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے مسلمان کی دس مخصوص علامات وصفات کا اس طرح بیان کیا گیا ہے۔  "وہ ایسے ہیں جو توبہ کرنیوالے عبادت کرنیوالے حمد کرنیوالے روزہ رکھنے والے رکوع و سجدہ کرنیوالے نیک باتوں کی تعلیم کرنیوالے اور بری باتوں سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کا خیال رکھنے والے اور ایسے مؤمنین کو آپ خوش خبری سنا دیجئے" ۔۔۔۔۔اور سورة مؤ منون کی دس صفات یہ ہیں " یقینا ان مسلمانوں نے فلاح پائی جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیں اور جو لغو باتوں سے برکنار رہنے والے ہیں اور جو اپنے آپ کو پاک کرنیوالے ہیں اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنیوالے ہیں لیکن بیویوں سے یا اپنی لونڈیوں سے کیونکہ ان پر کوئی الزام نہیں ہاں جو اس کے علاوہ طلب گار ہوں ایسے لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا خیال رکھنے والے ہیں اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں جو فردوس کے وارث ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے" ۔۔۔۔۔ اور سورة احزاب میں مذکورہ دس صفات یہ ہیں "بیشک اسلام کے کام کرنیوالے مرد اور اسلام کے کام کرنیوالی عورتیں اور ایمان لانیوالے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں اور فرمانبرداری کرنیوالی عورتیں، اور راستباز مرد اور راستباز عورتیں اور صبر کرنیوالے مرد اور صبر کرنیوالی عورتیں اور خشوع کرنیوالے مرد اور خشوع کرنیوالی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنی والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت اللہ کو یاد کرنے والے مرد اور بکثرت اللہ کی یاد کرنے والی عورتیں ان سب کیلئے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے" ۔۔۔۔یہی صفات وہ کلمات ہیں جن میں حضرت خلیل اللہ ؑ کا امتحان لیا گیا اور آیت  وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰت میں انہی صفات کی طرف اشارہ ہے۔ (معارف القرآن)

-  ابوالانبیاء حضرت ابراہیمؑ علیہ و علی نبینا افضل الصلوٰۃ والسلام کے اسم گرامی سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا اس لئے قرآن حکیم نے پہلی دفعہ ہی کسی تمہید و تعارف کے بغیر ان کا ذکر فرمایا۔تورات میں آپ کا نام ابرام اور ابراہم دونوں طرح آیاہے۔جدید ترین اثری تحقیقات کے مطابق آپ کا سالِ پیدائش 2160 قبل مسیح ہے۔تورات میں عمر شریف 175 سال درج ہے ۔آپ کا آبائی وطن بابل ہے جسے آج کل عراق کہتے ہیں۔جس شہر میں آپ کی ولادت ہوئی اس کا نام تورات میں"اُور"(UR)ہے۔ مدتوں یہ شہر نقشہ سے غائب رہا۔اب از سر نو نمودار ہوگیا ہے۔کھدائی کے کام کی داغ بیل 1894ء میں ہی پڑگئی تھی۔1922ء میں برطانیہ اور امریکہ کے ماہرینِ اثریات کی ایک مشترکہ تحقیقاتی مہم عراق کو روانہ ہوئی اور کھدائی کا کام پورے سات سال تک جاری رہا۔رفتہ رفتہ پورا شہر نمودار ہوگیا ۔موجود ہ محرف بائیبل میں تاریخی  غلطیوں کی کثرت سے اکتاکربعض محققین نے انیسویں صدی کے آخرمیں یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ابراہیم نامی کوئی تاریخی شخصیت گذری ہی نہیں۔بلکہ یہ ایک نوعی نام تھا۔یا ہر قبیلہ کے شیخ کا لقب تھا۔لیکن اب پھر تحقیق کا رخ بدلا اور بیسویں صدی کے آغاز میں ہی پھر (یورپ) کو آپ کی تاریخی شخصیت کا پوری طرح قائل ہونا پڑا۔(ماخوذ از تفسیر ماجدی) (ضیاء القرآن)

ــــــ خلیل اللہ نے کسی امتحان کی نہ حکمت پوچھی نہ اجر و انعام کا ذکر کیا۔کلمہ تو ایک حکم ہے، مانناہی ہے۔(ضیاء القرآن )

ــــــ "ابراہیمؑ  کی ہستی کسی بدوی سردار کی نہ تھی کہ وہ لوٹ مار کرتے اور ملک گیری کرتے رہتے ،ان کی اصلی اہمیت مذہب کے دائرہ میں ہے، وہ حقیقۃً مورثِ اعلیٰ کسی نسل کے نہیں،بانی و امام وہ مذہبی تحریک کے تھے،محمدؐ کی طرح جوان کے دوہزار سال بعد پیدا ہوئے،وہ سامی قوموں اور قبیلوں کے رہنما کی حیثیت رکھتے تھے،اور توریت کے حسب روایت وہ اسرائیلی مذہب کے بانی تھے۔(انسائیکلوپیڈیا)۔۔۔جن لفظوں کو یہاں ترجمہ میں زیر خط کردیا گیا ہے ،انہیں ایک بار پڑھ جائیے ، یورپ کی زبان سے ،اللہ کے حبیبؐ اور اللہ کے خلیلؑ کے درمیان مماثلت کا یہ اعتراف !بس اللہ ہی کی شان ہے۔۔۔من ذرّیّتی میں من تبعیضیہ ہے اور فقرہ کی ترکیب نے اسے صاف کردیا کہ ابراہیم کی یہ دعا (سوال کے رنگ میں ) اپنی ساری نسل سے متعلق نہیں، اس کے ایک جُزوسے متعلق تھی۔۔۔آیت سے معلوم ہواہے کہ مسرت و نعمت میں اپنی اولاد کو شریک کرنا نہ صرف امر طبیعی ہے بلکہ سنت انبیاء بھی ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔اس کی توضیح یہ ہے کہ امامت و پیشوائی ایک حیثیت سے اللہ جل و شانہ کی خلافت ہے۔ یہ کسی ایسے شخص کونہیں دی جا سکتی جو اس کا باغی اور نافرمان ہو، اسی لئے مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنے اختیار سے اپنا نمائندہ یا امیر کسی ایسے شخص کو مقرر نا کریں جو اللہ تعالٰی کا باغی یا نافرمان ہو۔ (معارف القرآن)

125۔ اب رہا یہ معاملہ کہ پہلی تعمیر کس نے اور کس وقت کی ؟ اس میں کوئی صحیح اور قوی روایت حدیث کی منقول نہیں اہل کتاب کی روایات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اس کی تعمیر آدم ؑ کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی فرشتوں نے کی تھی پھر آدم ؑ نے اس کی تجدید فرمائی یہ تعمیر طوفان نوح تک باقی رہی طوفان نوح میں منہدم ہوجانے کے بعد سے ابراہیم ؑ کے زمانے تک یہ ایک ٹیلہ کی صورت میں باقی رہی حضرت ابراہیم ؑ و حضرت اسماعیل ؑ نے ازسرنو تعمیر فرمائی اس کے بعد اس تعمیر میں شکست وریخت تو ہمیشہ ہوتی رہی مگر منہدم نہیں ہوئی آنحضرت ﷺ کی بعثت سے قبل قریش مکہ نے اس کو منہدم کرکے ازسرنو تعمیر کیا جس کی تعمیر میں آنحضرت ﷺ نے بھی خاص شرکت فرمائی۔  (معارف القرآن)

ـــــ اسمعیلؑ  ابرہیمؑ کے فرزند اکبر تھے،آپ کی مصری بیوی حضرت ہاجرہؓ کے بطن سے ،سال ولادت غالباً2074قبل مسیح۔وفات غالباً1937 قبل مسیح۔توریت میں ہے کہ عمر 137 سال کی پائی ،آپ کے بارہ فرزند ہوئے اور ان سے بارہ نسلیں چلیں،توریت میں ان بارہ فرزندوں کے نام درج ہیں،اور یہ تصریح ہے کہ" یہ اپنی امتوں کے بارہ رئیس تھے"۔(تفسیر ماجدی)

۔ ایک گروہ کے نزدیک  اس سے مراد وہ پتھر ہے  جس کے متعلق یہ مشہور ہے کہ حضرت ابراھیم نے اس پر کھڑے  ہو کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔ دوسرے گروہ کے نزدیک اس سے مراد حرم کا پورا علاقہ ہے۔ (تدبرِ قرآن)

126۔ بلداً آمناً: حجاج بن یوسف اور قرامطہ کے علاوہ کوئی اس کے امن کو خراب نہ کرسکا۔اور وہ تو اپنے ہی تھے۔ حتیٰ کہ دجال کو حرم میں داخل ہونے کی قدرت نہ ہوگی۔ جانوروں کا شکار بھی حدودِ حرم میں حرام ہے۔(معارف القرآن)

ــــــ قرامطہ: فاطمیہ اسماعیلیوں سے علیحدہ ہوئے جب قرامطیوں کے بانی عبداللہ المہدی باللہ نےخود کو مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ۔انہوں نے قبلہ تبدیل کردیا اور آگ کو قبلہ بنالیا ،حجر اسود کو مکہ سے اٹھا کر بحرین لے گئے ۔اسلامی شریعت کا خاتمہ کردیا گیا۔حجر اسود کے اٹھانے کے قریباً 20 یا 22 برس کے دوران فاطمیوں اور قرامطہ میں جھڑپیں اور جنگیں ہوتی رہیں جن کا خاتمہ حجر اسود کی واپسی کی شرط پر ہوا ۔اس طرح حجر اسود 22 سال بعد ]دوبارہ خانہ کعبہ میں اسی جگہ پر رکھ دیا گیا۔ (مرتب)

۔ثمرات کے معنی صرف میوہ جات کے نہیں آتے بلکہ میوہ جات کے ساتھ ساتھ اجناس اور غلّہ جات بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔میوہ جات کے لئے مخصوص لفظ عربی میں فواکہ کا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

ــــــ ابھی ابھی حضرت ابراھیمؑ کوبتایا جاچکا تھا کہ فضل و برکت کے خاصہ وعدۂ ایمان و عمل صالح کے ساتھ مشروط ہیں،ان کے بغیر نہیں۔۔۔لاینال عہدی الظٰلمین(آیت124) اللہ کے پیغمبرنے اللہ کے اس ارشاد کو گرہ باندھ لیااور اب جو دُعا کی، اس میں خود ہی یہ قید لگادی کہ پرامن شہر اور رزق ثمرات کی برکتیں صرف اہل ایمان و طاعت کیلئے مقصود ومطلوب ہیں۔(تفسیر ماجدی)

127۔ "جوکوئی خواب میں اسمٰعیل کو دیکھ لے حق تعالیٰ کے ہاں اس کی دعا قبول ہوجائے گی"(جیوش انسائیکلوپیڈیا)۔۔۔آپ کی والدہ ماجدہ حضرت ہاجرہ شاہ مصر کی صاحبزادی تھیں اور مصر کا شاہی خاندان حضرت ابراھیمؑ کے خاندان کی ایک شاخ تھا،عراق سے منتقل ہوکر مصر میں آباد ہوگیا تھا،جب حضرت ابراھیمؑ اپنے سفر میں ادھر سے گذرے تو بحیثیت ایک شیخ قبیلہ کے،آپ کو شاہ مصر نے اپنا مہمان بنایا ،اور رخصت کے وقت آپ کے اعزاز و اکرام میں اپنی صاحبزادی کو بطور تحفہ پیش کیا،اور تواضع و انکساری کی راہ سے کہ مشرقی میزبانی کا خاصہ ہے کہا کہ یہ آپ کی کنیز ی کیلئے ہدیہ ہے،اردوزبان میں یہ محاورہ آج تک چلاہواہے،شادی بیاہ کے موقع پر بڑے سے بڑا معزز شخص بھی اپنی لڑکی کو کنیز ہی کہہ کرداماد اور سمدھی کے سامنے پیش کرتاہے،مشرقی تواضع کے اس عام پیرایۂ بیان سے معاندین کو گویا ایک بڑی معتمد و مستند دستاویز ہاتھ آگئی ،اور ام اسمٰعیل ان کے ہاں آج تک کنیز ہی چلی آرہی ہیں!۔(تفسیر ماجدی)

28-127۔خصوصی توجہ                                                                                                                                                                                              

- مختلف ادوار میں کعبہ کی تعمیر:  قسطلانیؒ نے کہا ہے کہ کعبہ دس بار تعمیر ہوا۔سب سے پہلے فرشتوں نے اسے بنایا۔ دوسری بار آدمؑ نے(آپ کی عمر ہزار سال تھی) تیسری بار حضرت شیثؑ (آدم کے بیٹے )نے اور یہ تعمیر طوفانِ نوح میں گرگئی۔ چوتھی بار سیدنا ابراہیمؑ نے پانچویں بار قوم عمالقہ نے،چھٹی بار قبیلہ جرہم نے ،ساتویں بار قصی بن کلاب نے(جو رسول اللہؐ کے جد امجد ہیں)آٹھویں بار قریش نے(آپؐ کی بعثت سے پہلے جبکہ حطیم کی جگہ چھوڑ دی تھی)نویں بار حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے اور دسویں بار حجاج بن یوسف نے ۔ اور اس کے بعد آج تک اس علاقہ پر مسلمانوں کا قبضہ  چلا آرہاہے اور بہت سے بادشاہوں نے اس کی تعمیر و مرمت اور توسیع میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔(تیسیر القرآن)                           

128۔وارنا مناسکنا وتب علینا۔"ارنا"کے اصل معنی "ہمیں دکھا"کے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنی شریعت کی طرف اپنے بندوں کی رہنمائی اس طرح  کی وحی کے ذریعہ سے بھی کرتاہے جس کا مظہر قرآن مجید ہے اور کبھی رویا یا کشف میں براہ راست اپنا کوئی فرشتہ بھیج کر اس کام کو عملاً دکھا یابتا بھی دیتاہے جو مطلوب ہوتاہے۔اس قسم کی رہنمائی قرآن مجید کی اصطلاح میں اراءت ہے۔آنحضرتؐ سے پہلے جو انبیاء تشریف لائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رہنمائی زیادہ تر اراءت ہی کے ذریعہ سے ہوتی تھی۔یعنی یا تورویا میں ان کو ایک بات دکھا دی جاتی تھی یا کوئی فرشتہ خداوندی ظاہر ہوکر مطلوب کام کی طرف رہنمائی کردیتاتھا۔ تورات سے اس کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔یہاں دعا میں حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسماعیلؑ نے اسی اراء ت کی درخواست کی ہے۔(تدبرقرآن)

129۔ حضرت ابرہیم ؑ کی دعا ،حضورؐ نے فرمایا کہ میں اپنے باپ ابراہیم ؑ کی دعاہوں۔انہی الفاظ میں قبولیت  مثلاً سورۂ بقرہ(151) ،آل عمران(164) جمعہ(2تا4)۔ (مرتب)

۔ان میں انھی میں سے ایک رسول اٹھا۔ یعنی ہماری ذریت میں سے۔ چونکہ اس موقع پر حضرت ابراھیم ؑ کے ساتھ صرف حضرت اسمٰیعیلؑ ہی تھے اور وہ ہی اس وادیٗ غیر ذی ذرع میں بسائے جا رہے تھے۔ اس وجہ سے اس دعا کا تعلق لازماً انھی کی ذریت سے تھا۔۔۔آیت لغت میں اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز پر دلیل لائی جا سکے۔ اس پہلو سے آسمان و زمین کی ہر چیز آیت ہے۔ اس لیئے کہ ان مین سے  ہرچیز خدا کی قدرت و حکمت اور اس کی مختلف صفات  خلق و تدبیر پر ایک دلیل ہے۔ اسی طرح وہ معجزات بھی آیت ہیں جو انبیاؑء سے ظاہر ہوے  اس لیئے کہ وہ بھی  اپنے پیش کرنے والوں کی سچائی پر دلیل تھے۔ ہر آیت کی حیثیت ایک دلیل و برہان کی ہے۔ ۔۔۔ "یتلو علیہم " کے الفاظ  سے اس زور اور اختیار کا اظہار ہو رہا ہے ، جس سے مسلح ہو کر خدا کا  ایک رسول اس دنیا میں آتا ہے ۔ یہ واضع رہے کہ رسول محض  ایک خوش الہان قاری کی طرح لوگوں کو قرآن سنانے نہیں آتا بلکہ وہ خدا کے سفیر کی حیثیت سے لوگوں کو آسمان و زمین کے خالق ومالک کے  احکام و فرامین اور اس کے دلائل و براہین سے آگاہ کرتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

تزکیہ کا بیان: مذکورہ بالا مجموعہ آیات کی آیت 129 کی وضاحت اگرچہ بقدر ضرورت ہم اوپر کرآئے ہیں لیکن چونکہ اس کا تعلق براہ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض ِ منصبی سے ہے جن کے بارے میں منکرین سنت نے اس زمانے میں بعض بہت بے ہودہ سوالات اٹھادیے ہیں اس وجہ سے ہم اس آیت پر یہاں مزید روشنی ڈالیں گے۔ترجمہ آیت:129"اے ہمارے رب ،ان میں بھیجو ایک رسول انہی میں سے جو ان کو پڑھ سنائے تیری آیتیں اور ان کو تعلیم دے کتاب اور حکمت کی اور ان کا تزکیہ کرے ۔بے شک تو غالب اور حکمت والا ہے۔"۔۔۔لیکن اس تلاوت کے متعلق یہ بات یادرکھنی چاہئیے کہ یہ اس طرح نہیں ہوئی ہے کہ لوگوں کو پوری کتاب بیک دفعہ سنادی گئی ہو بلکہ یہ 23 سال کی وسیع و طویل مدت میں تھوڑی تھوڑی کرکے اتاری گئی اور اسی تدریج کے ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سبقاً سبقاً اس کی تعلیم دی۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کتاب کوئی سہل اور سپاٹ کتاب نہیں ہے بلکہ یہ نہایت گہرے علوم و معارف اور اعلیٰ اسرار و حقائق کی کتاب ہے ۔اس وجہ سے اس کیلئے یہ ضروری ہواکہ یہ سبق سبق کرکے پڑھائی جائے تاکہ لوگوں کی اس کے خزانوں تک رسائی ہوسکے۔اس حقیقت کو قرآن نے یوں واضح کیا ہے وقرآناً فرقناہ لتقرءہ علی الناس علی مکث(106:سورہ اسراء)اور ہم نے اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا تاکہ تو لوگوں کو اس کو وقفہ وقفہ کے ساتھ سنائے۔۔۔۔۔۔قرآن حکیم کی مذکورہ بالا خصوصیات اس بات کی مقتضی ہوئی کہ پیغمبرؐ اس کو ایک قاری کی طرح صرف سنادینے ہی پر اکتفانہ فرمائیں بلکہ ایک معلم کی طرح پوری دلسوزی اور پوری شفقت کے ساتھ لوگوں کو اس کی تعلیم بھی دیں۔چناچہ اسی بناپر تلاوت کے ساتھ ساتھ آپؐ کا دوسرا فرض تعلیم کتاب بتایا گیا۔یہ تعلیم کتاب کا  فریضہ آپ کے فرائض نبوت ہی کا ایک جز اور آپ کا معلم ہونا آپؐ کے منصب رسالت ہی کا ایک پہلو ہے۔اس وجہ سے اپنی اس حیثیت میں آپ نے جو کچھ لوگوں کو سکھایا اور بتایا اس کو آپؐ کے فرائض نبوت سے نہ خارج  کیا جاسکتاہے اور نہ اس کا درجہ اصل کتاب کے مقابل میں گرایا جاسکتا۔اب غور فرمائیے کہ اس تعلیم کے تقاضے کیا کیا ہوسکتے ہیں؟اس کا ایک بالکل ابتدائی تقاضا تو یہ ہے کہ قرآن میں جو شرعی اصطلاحات مثلاً صلوٰۃ ،زکوٰۃ،حج،صیام،طواف،عمرہ ،نکاح،طلاق وغیرہ استعمال ہوئی ہیں لیکن ان کی عملی شکلیں واضح نہیں کی گئی ہیں ان کو آپ اچھی طرح لوگوں پر واضح کردیں تاکہ لوگ عملی زندگی میں ان کو اختیار کرسکیں اور ان کے مختلف اجزاء کا دین میں جو مقام ہے اس کو متعین کرسکیں۔دوسری چیز یہ ہے کہ قرآن میں فکر و عمل کی تصحیح کے جو اصول دیے گئے ہیں ان کے لوازم و تضمنات کے ضروری گوشے واضح کردیے جائیں تاکہ ان ابواب میں مزید رہنمائی حاصل کرنے کیلئے وہ روشنی کے میناروں کا کام دیں۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح ایک چیز یہ بھی ہے کہ قرآن میں جو احکام شریعت دیے گئے ہیں ان کی حیثیت صرف اصولی احکام کی ہے ۔ان میں سے ہر باب کے تحت بے شمار صورتیں ایسی آتی ہیں جن میں احکام کا تعین معلم کی رہنمائی اور اجتہاد پر چھوڑدیا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ اس اجتہاد کیلئے امت کو بہترین رہنمائی ان مثالوں سے مل سکتی تھی ،جو اس کتاب کے معصوم معلم نے اپنے اجتہاد سے قائم کیں۔چوتھی چیز یہ ہے کہ قرآن اجتماعی زندگی کا ایک نظام پیش کرتاہے لیکن اس کے صرف چارگوشے متعین کردینے والے اصول دے کر اس کی جزئیات و تفصیلات اور اس کے عملی ڈھانچہ کے معاملہ کو معلم کی ذمہ داری پر چھوڑ دیا گیا ہے۔اس چیز کو بھی لوگوں نے حضورؐ کی تعلیم سے سیکھا ہے۔ان کے علاوہ ایک اہم چیز یہ بھی ہے کہ زیر بحث آیت میں صرف تعلیم کتاب ہی کا ذکر نہیں ہے بلکہ تعلیم حکمت کا بھی ذکر ہے ۔تعلیم حکمت تعلیم شریعت سے بہت وسیع چیز ہے ۔اس سے مراد جیساکہ اس لفظ کی وضاحت کرتے ہوئے ہم بیان کرچکے ہیں وہ دانش و بینش اور وہ بصیرت و معرفت ہے جو زندگی کے ان بعید گوشوں میں بھی انسان کی رہنمائی کرتی ہے جہاں رہنمائی کرنے والی اس کے سامنے کوئی اورروشنی نہیں ہوتی۔۔۔غور کیجئے کہ احادیث میں ان چیزوں کے سوا اور کیا ہے جو آںحضرتؐ نے بحیثیت ِ معلم کتاب و حکمت ہونے کے بتائی ہیں یا ان پر عمل کرکے دکھا یا ہے؟۔۔۔۔۔۔تزکیہ:اسی طرح اب تزکیہ پر غور کیجئے ۔تزکیہ کا عمل ظاہر ہے کہ تعلیم سے کہیں زیادہ پچیدہ  اور وسیع الاطراف ہے۔اوپر ہم واضح کرآئے ہیں کہ اس لفظ میں پاک صاف کرنے اور نشوونما دینے ،دونوں کا مفہوم شامل ہے۔یہ بہ یک وقت علمی بھی ہے اور عملی بھی ،ظاہری بھی ہے اور باطنی بھی مادی اور جسمانی بھی ہے اور عقلی و روحانی بھی، نیز یہ انفرادی بھی ہے اور سماجی و اجتماعی بھی۔ مختصراً چند بنیادی تقاضے اس کے بھی سامنے رکھ لیجئے ۔اس کا ایک ضروری تقاضا تو یہ ہے کہ لوگوں کے اذہان،اعمال اور اخلاق پر خورد بینی نگاہ ڈال کران جراثیم سے ان کو پاک کیا جائے جو روحانی اور اخلاقی بیماریوں کے سبب بنتے ہیں اور ساتھ ہی ان کے اندر ان نیکیوں کی تخم ریزی کی جائے جو انسان کے ظاہر و باطن کو سنوارتی اور اس کے عادات و خصائل کو مہذب بناتی ہیں۔اس کا دوسرا تقاضایہ ہے کہ لوگوں کی اس طرح تربیت کی جائے کہ ہر خوبی ان کے اندر جڑ پکڑ جائے اور ہربرائی کیخلاف طبیعتوں میں نفرت بیٹھ جائے ۔اس کا تیسرا تقاضایہ ہے کہ اس تعلیم و تربیت سے ایک ایسا ماحول پیدا کردیا جائے جو تزکیہ نفوس کے لیے ایک وسیع تربیت گاہ کا کام دینے لگ جائے ،جو شخص بھی اس میں اٹھے اسی ماحول کے اثرات لیے ہوئے اٹھے اور جو شخص بھی اس کے اندر داخل ہوجائے اس پر اسی کا رنگ چڑھ جائے۔(تدبرقرآن) 

۔عمل کی ہمت و توفیق کسی کتاب کے پڑہنے یا سمجھنے سے پیدا نہیں ہوتی، اس کی صرف ایک ہی تدبیر ہےکہ اللہ والوں کی صحبت  اور ان سے  ہمت کی تربیت حاصل کرنا ، اسی کا نام تزکیہ ہے۔  (معارف القرآن)   

ــــ  امام شافعیؒ نے اپنی تصنیف الرسالہ میں بے شمار دلائل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی کتاب کے ساتھ حکمت کا لفظ آیا ہے تو اس سے مراد سنت رسول اللہؐ ہے اور اس کی تائید احادیث سے بھی ہوتی ہے۔(تیسیر القرآن)         

ــــ   جولوگ حکمت سے حدیث مراد لیتے ہیں ان کی بات میں بڑا وزن ہے۔(تدبرقرآن)    

ــــ  تزکیہ نفس کا مفہوم: تزکیہ نفس مشہور لفظ ہے یعنی انہیں پاکیزہ بنائے اور سنوارے اور سنوارنے میں اخلاق ،عادات ،معاشرت، تمدن،سیاست  غرض ہر چیز کو سنورانا شامل ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ عملی طورپر صحابہ کرام کی تربیت کرنا بھی آپؐ کی ذمہ داری تھی۔اس کی ایک معمولی مثال یہ ہے کہ سیدنا ابوذر غفاریؓ(جو سابقین و اولین میں سے تھے اور آپؐ کو ان سے پیار بھی بہت تھا)نے سیدنا بلالؓ کو صرف یہ کہا تھا کہ "اے کالی ماں کے بیٹے"تو اتنی بات پر آپؐ نے سیدنا ابوذر غفاریؓ پر شدید گرفت کرتے ہوئے فرمایا "تو ایسا شخص ہے جس میں ابھی تک جاہلیت کا اثر موجود ہے"۔یہ تھا آپؐ کا انداز تربیت اور یہی (یزکیہم) کا مفہوم ہے۔(تیسیر القرآن)

ــــ یتلواعلیھم اٰیٰتک۔رسول کا پہلا کام اپنی امت کے سامنے تلاوت آیات ہوتاہے یعنی اللہ کا کلام پہنچانا ،گویا رسول کی پہلی حیثیت مبلغ اعظم کی ہوتی ہے۔۔۔یعلمھم الکتٰب۔ رسول کاکام محض تبلیغ و پیام رسانی پرختم نہیں ہوجاتا،اس کاکام کتابِ الٰہی کی تبلیغ کے بعد اس کی تعلیم کا بھی ہے،اس تعلیم کے اندر کتاب کی شرح ،ترجمانی،تعمیم میں تخصیص ،تخصیص میں تعمیم سب کچھ آگئی اوریہیں سے ان کج فہمیوں کی بھی تردید ہوگئی،جو رسول کا منصب (معاذ اللہ ) صرف ڈاکیہ یا قاصد کا سمجھے ہوئے ہیں،گویا رسول ؐ کی دوسری حیثیت معلمِ اعظم کی ہوئی ۔۔۔والحکمۃ۔پھر رسول تعلیم محض کتاب ہی کی نہ دیں گے بلکہ حکمت و دانائی کی تلقین بھی امت کو کریں گے،احکام و مسائل،دین کے قاعدے اور آداب ،عوام و خواص سب کو سکھائیں گے اور خواص کی رہنمائی اَسرار و رموزمیں بھی کریں گے،گویا رسول کی تیسری حیثیت مرشد اعظم کی ہوئی ۔۔۔یزکیھم۔ تزکیہ سے مراد دلوں کی صفائی ہے،رسول کاکام محض الفاظ اور احکامِ ظاہر کی تشریح تک محدود نہیں رہے گا،بلکہ وہ اخلاق کی پاکیزگی اور نیتوں کے اخلاص کے بھی فرائض انجام دیں گے، گویا رسول کی یہ چوتھی حیثیت مصلح اعظم کی ہوئی۔(تفسیر ماجدی)


سولہواں رکوع

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ 130 اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ ہم نے ان کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہٴ) صلحا میں سے ہوں گے۔
 اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ  131 جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں۔
وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ   132 اور ابرہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے تو مرنا ہے تو مسلمان ہی مرنا۔
اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ  133 بھلا جس وقت یعقوب وفات پانے لگے تو تم اس وقت موجود تھے، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے، تو انہوں نے کہا کہ آپ کے معبود اور آپ کے باپ دادا ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو معبود یکتا ہے اور ہم اُسی کے حکم بردار ہیں۔
تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 134 یہ جماعت گزرچکی۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی۔
 وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ 135 . اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی ہو جاؤ تو سیدھے رستے پر لگ جاؤ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو، (نہیں) بلکہ (ہم) دین ابراہیم (اختیار کئے ہوئے ہیں) جو ایک خدا کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔
 قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ 136 (مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں۔
 فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ   137 تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمھارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمھیں خدا کافی ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔
 صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ 138 (کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کر لیا ہے) اور خدا سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ   139 (ان سے) کہو، کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا اور تمھارا پروردگار ہے اور ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور ہم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
 اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ 140 (اے یہود ونصاریٰ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے۔ (اے محمدﷺ ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی شہادت کو، جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے چھپائے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو، خدا اس سے غافل نہیں۔
تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠  141 یہ جماعت گزر چکی۔ ان کو وہ (ملے گا) جو انہوں نے کیا، اور تم کو وہ جو تم نے کیا۔ اور جو عمل وہ کرتے تھے، اس کی پرسش تم سے نہیں ہوگی۔

تفسیر آیات

130۔ یرغب کا اصل ترجمہ "رغبت کرتاہے" لیکن اگر اس کے بعد "عن" ہوتو اس کا ترجمہ "بے رغبتی کرتاہے" یا "منہ موڑتاہے" کیا جاتاہے۔

- دعائے ابراہیمی ختم ہوئی ،اب بیان ملتِ ابراھیمی کا شروع ہورہاہے کہ یہ تو وہی دین توحید ہے جس کی دعوت آج اسلام دے رہاہے اور جسے تم سب باوجود اپنے مشترک بزرگ ابراہیمؑ کی پیروی کے دعوے چھوڑے بیٹھے ہو۔۔۔ایک مسیحی مؤرخ ریونڈ ولیم ڈین ایم اے نے ایک مستقل سیرتِ ابراہیم انگریزی میں لکھی ہے، اس سے آپ کے دنیوی عروج و اقبال پر بھی خوب روشنی پڑتی ہے،ان "روشن خیال" لامذہبوں کی تردید کیلئے یہی کافی ہے،جنہوں نے اسی انیسویں صدی کے آخر میں آپ کے وجود کو فرضی قرار دیا تھا۔)تفسیر ماجدی(

132۔ اور ابراہیم ؑ اس کی ہدایت  کر گئے اپنے بیٹوں کو ( جن کی تعداد حسب تصریح توریت کے آٹھ تھی)۔۔۔ (حضرت یعقوبؑ کے بارہ فرزند تھے)انہی صاحبزادوں میں سے جہاں تک خاندانی شجرہ اور نسب نامہ سے پتہ چلا ہے لادی کی نسل سے ان سطور کا راقم نامہ سیاہ بھی ہے۔۔۔راقم سطورنامہ سیاہ سے اگر فرمائش کی جائے کہ سارے قرآن مجید سے کسی ایک آیت کا اپنے لئے انتخاب کرلے تو اس کی نظرِ انتخاب اسی آیت بلکہ اس کے آخری جُز پر پڑے گی۔ان اللہ اصطفیٰ لکم الدین فلاتموتن الا وانتم مسلمون۔جی میں ہے کہ زندگی کی ہرساعت میں یہی آیت ورد زبان رہے اور دل میں اسی کے معنی کا استحضار رہے،موت کے وقت یہی دل دل و زبان پر ہواور بعد موت یہی کفن پر بھی لکھ دی جائے اور قبر کے کتبہ پر بھی کندہ کردی جائے،بارہااس آیت پر وجد طاری ہوچکاہے ،بارہااس آیت پر آنسو جاری رہ چکے ہیں ،اور دل یہ کہتاہے کہ احکام کی حدتک سارے قرآن مجید کا لب لباب یہی آیت ہے۔(تفسیر ماجدی)

134۔ خصوصی توجہ :

۔"وہ کچھ لوگ تھے ، جو گزر گئے۔ جو کچھ انھوں نے کمایا، وہ ان کے لیئے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے ، وہ تمہارے لیئے ہے۔ تم سے یہ نہ پوچھا جاے گاکہ وہ کیا کرتے تھے" (ترجمہ تفہیم القرآن)

۔   یہ آیت یہ بھی باور کراتی ہے کہ کوئی فرد یا قوم اپنے رنگ،نسل یا وطن کی وجہ سے کسی فضیلت کی اہل نہیں۔۔۔ یہ آیت  اپنے آباؤ اجدادپر   فخر کرنے والوں  کے لیے بھی ایک تازیانہ ہے۔ (کتاب زندگی)

134 اور 141۔ آیات کے ایک جیسے الفاظ ۔

135۔حنیف: یکسو۔حضرت ابراہیم کےلئے حنیف کی صفت قرآن نے بار بار استعمال کی ہے۔

136۔پیغمبروں کے درمیان تفریق نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان اس لحاظ سے فرق نہیں کرتے کہ فلاں حق پر تھا اور فلاں حق پر نا تھایا یہ کہ ہم فلاں کو مانتے ہیں اور فلاں کو نہیں مانتے۔(تفہیم القرآن)

- رہا انبیاء میں درجات کے لحاظ سے فرق اور ایک دوسرے پر فضیلت تو وہ قرآن کریم سے ثابت ہے جیسے ارشاد ربانی ہے(تلک الرسل  فضلنا بعضھم علیٰ بعض۔(2۔253)(تیسیر القرآن)

۔  مندرجہ بالا آیا ت مذہبی رواداری کا معرکتہ الارا نمونہ ہیں۔ مسلمانوں کی یہ شان ہے کہ وہ اللہ تعٰلیٰ کے نبیوں میں سے کسی ایک میں بھی تفریق نہیں کرتے اور سب کو برابر مانتے ہیں۔ یوں مسلمان کا دین ساری انسانیت کا دین ہے لیکن دوسرے مذاہب کو ماننے والے سوائے  اپنے مذہب  باقی سب کو جھوٹ کہتے ہیں۔(کتاب زندگی)

138۔ بپتسمہ  اور اللہ کا رنگ: جب کوئی شخص یہودی مذہب میں داخل ہوتاتو وہ اسے غسل دیتے اور کہتے کہ اس کے سب سابقہ گناہ دھل گئے اور عیسائی اس غسل کے پانی میں زرد رنگ بھی ملایا کرتے۔اور یہ غسل صرف مذہب میں نئے داخل ہونے والوں کو ہی نہیں بلکہ نومولود بچوں کو بھی دیا جاتااور اس رسم کو اصطباغ یا بپتسمہ کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان رسمی رنگوں میں کیا رکھا ہے ۔رنگ تو صرف اللہ کا ہے جو اس کی بندگی سے چڑھتاہے اور ان اہل کتاب سے کہہ دو کہ ہم اس کی بندگی کرتے ہیں اور اسی کا رنگ اختیار کرتے ہیں۔(تیسیر القرآن)

۔ یہ کمال کی آیت ہے اور اپنے اندر معرفت کے سمندر لیے ہوئے ہے۔ اس میں صبغتہ اللہ یعنی اللہ کا رنگ عجیب مثال ہے۔ مومن کی معراج یہ ہے کہ وہ اللہ کے رنگ میں رنگا جائے۔ رنگ تو کپڑے کے روئیں روئیں میں چلا جاتا ہے۔ الغرض  اس کے دل پر جو رب تعالیٰ کی محبت کا رنگ چڑھا ہوا ہے اس پر کچھ بھی غالب نہیں آ سکتا۔ ۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگے جانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ کا مظہر ہو۔ مثلاً  اللہ تعالیٰ رب ہے، مسلمان بھی مخلوقات کے لیے ربوبیت کا سامان بہم پہنچائے، وہ صانع ہے،مسلمان بھی صنعت میں  کمال حاصل کرے، وہ خالق ہے مسلمان  بھی تخٓلیق کار ہو، وہ رحمان و رحیم ہے مسلمان بھی مخلوق  کے لیے باعث رحمت ہو،وہ جبار اور قہار ہے مسلمان بھی کفار اور برائی کے خلاف بر سر پیکار ہو۔ (کتاب رحمت)

140۔ اپنے عقائد اور اپنی عبادات میں ہرشرک،ہرضلالت سے پاک صاف ہوکر۔رہے اعمال تو ہمارے اور اپنے اعمال کی فرق کا اثر آخرت میں تو تمہیں بھی نظر آجائے گا،آج جتنا چاہواس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرلو۔(تفسیر ماجدی)

141۔ تلک امۃ۔سے مراد ہیں قوم اسرائیل کے اکابر سلف،خصوصاً اجداد ثلٰثہ ابراہیم و اسحاق اور یعقوب جن کی اولاد ہونے پر اسرائیلیوں کو حدود جائز سے زیادہ ناز تھا۔۔۔یہود کی کتابوں میں آج تک یہ تعلیمات موجود ہیں کہ" جس طرح انگور کی زندہ و شاداب بیل ایک بے جان ستون کے سہارے بڑھتی اور پھیلتی رہتی ہے،اسی طرح زندہ یہودی اپنے آنجہانی اور مرحوم مورثوں اور بزرگوں کے بل بوتے پرپروان چڑھتارہتاہے اور تینوں اجدادِ اسرائیل نیز دوسرے صالحین و اخیار نے اعمالِ صالحہ کا جو انبار عظیم لگادیا ہے،اسی سے ان کی اولاد کو مجموعاً و منفرداً برابر حصہ ملتارہتاہے،اور اس طرح کسی فرد میں خواہ کتنی ہی کمزوریاں ہوں اس کی نجات یقینی ہے"قرآن حکیم اس "نجات متوارث" کے عقیدہ پربرابر ضربِ شدید لگاتاجاتاہے۔(تفسیر ماجدی)


سترھواں رکوع

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ  142 احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے۔
وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ 143 اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے۔
قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ 144 (اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں۔
وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ   145 اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے۔
 اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ 146 جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے۔
 اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۠ 147 (اے پیغمبر، یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

تفسیر آیات

آغاز رکوع:

    ۔ مذہبی ذہنیت ،اعمال کے ظاہر  کو دیکھتی ہے ۔(ڈاکٹر اسرار) 

توجہ ۔مسلمانوں کے علاوہ کفار و مشرکین بھی کعبہ سے عقیدت رکھتے تھے ۔ اس لئے چار رکوعوں( 15تا18) میں اس کے متعلق تفصیلی تذکرہ ہے۔

ع          ۔۔بمصطفٰے برساں خویش راکہ دین ہمہ اوست

-تحویلِ قبلہ بہت  بڑا امتحان تھا۔ مسلمانوں کا سوال  کہ ہماری پچھلی نمازوں کا کیا بنے گا۔۔۔۔۔ یہود یوں کو فکر کہ نئے قبلہ سے نئی امت وجود میں آگئی۔۔۔۔ کفار کو اندیشہ ہوا کہ وہ کعبہ کے متولیّ نہ رہیں گے۔

142۔ حضرت نوحؑ تک سب کا قبلہ یہی بیت اللہ تھا۔طوفانِ نوح کے وقت پوری دنیا غرق ہوگئی تو بیت اللہ کی عمارت بھی منہدم ہوگئی۔

- قبلہ اول خانہ کعبہ ہی تھا: تحویل قبلہ کے ضمن میں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ تمام امت مسلمہ کیلئے قبلہ اول خانہ کعبہ ہی تھا سیدنا آدمؑ نے اسے تعمیر کیا تو بھی یہی قبلہ تھا اور جب حضرت ابراہیم نے اسے تعمیر کیا تو اس وقت بھی یہی قبلہ تھا۔مگر جب  حضرت سلیمانؑ نے ہیکل سلیمانی تعمیر کیا تو اس وقت تابوت سکینہ صخرہ پر پڑا رہتاتھا اور بنی اسرائیل اس کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔آہستہ آہستہ انہوں نے مستقل طورپر اسے ہی اپنا قبلہ بنالیا اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر کوئی گرفت نہ ہوئی تھی ۔لہذا یہ شرعاً بھی درست سمجھا گیا ۔مگر یہ صرف بنی اسرائیل کا ہی قبلہ تھا ۔مکہ کے مشرکین کا نہیں وہ کعبہ ہی کی طرف منہ کرکے نماز اداکرتے تھے۔(تیسیر القرآن)

- تحویلِ قبلہ سے قبل آپؐ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نمازیں اداکیں(حجر اسود اور رکن ِ یمانی کے درمیان آج بھی نشانات موجودہیں)

حضرت صالح ؑ کی مسجد کا قبلہ بھی بیت اللہ کی طرف تھا( یہ مسجد اب بھی  بیت المقدس کے نیچے ایک پہاڑ پر ہے)۔

142۔ بیت المقدس مدینہ سے سمت شمال میں واقع ہے۔۔۔خانۂ کعبہ مکہ میں مدینہ سے ٹھیک جنوب میں واقع ہے، اور اس طرح مدینہ کے نمازیوں کے رُخ دفعۃً شمال سے جنوب کی جانب پھر گئے۔۔۔السفھاءسے مراد یہود کا ہونا صحیح بخاری میں موجود ہے۔۔۔بعض روایتیں منافقین مدینہ سے متعلق بھی ملتی ہیں۔۔۔راجح یہ ہے کہ آیت عام رکھی جائے تمام معترضین کیلئے ۔۔۔فقہاء مفسرین نے کتاب اللہ سے سنت کے نسخ کی مثال میں اس حکم کو بھی پیش کیا ہے،حضورؐ بیت المقدس کی طرف رُخ تو اپنے اجتہاد سے کئے ہوئے تھے،قرآن مجید میں اس کا کوئی حکم نہ تھا قرآن مجید نے تو اسے صرف منسوخ کیا ہے۔(تفسیر ماجدی)  

143۔ امتِ وسط:  

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدً        ا۝۰البقرہ: 143(

ترجمہ: اور اس طرح ہم نےتمہیں درمیانی امت بنایا تاکہ تم انسانیت پر گواہ ہواور رسول تم پر گواہ بنیں۔

گواہی کیسے؟

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ   ۝۰ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ    ۝۰ مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ   ۝۱ (آل عمران:110)

تْرجمہ: تم ان تمام امتوں سے بہترہوجولوگوں میں پیداہوئیں کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پرایمان رکھتے ہو۔علامہ اقبالؒ نے اسی آیت کے حوالے سے   اسلامی تہذیب کے اصول و عناصر پر بحث کی ہے۔خطبات میں کہتے ہیں کہ نبی اکرمؐ تاریخ میں قدیم اور جدید دور کے درمیان میں تشریف لائے۔قدیم دور یونانی فکر اور فلسفےکادور۔جو محض فکروخیال کی دنیا(حقائق کے برعکس)۔ (علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلامیات بی اے(صفحہ 283 ) ،ڈاکٹر خالد مسعود )

ـــــ تحویل قبلہ اور امت وسط ساتھ ساتھ ۔  یہ اُمّتِ محمد ﷺ کی امامت کا اعلان ہے۔

 ”اسی طرح“ کا اشارہ دونوں طرف ہے اللہ کی اس رہنمائی کی طرف بھی، جس سے محمد ﷺ کی پیروی قبول کرنے والوں کو سیدھی راہ معلوم ہوئی اور وہ ترقی کرتے    کرتے اس مرتبے پر پہنچے کہ ”اُمّتِ وَسَط“ قرار دیے گئے، اور تحویل قبلہ کی طرف بھی کہ نادان اسے محض ایک سَمْت سے دوسری سَمْت کی طرف پھرنا سمجھ رہے ہیں، حالانکہ دراصل بیت المقدس سے کعبے کی طرف سَمْت قبلہ کا پھرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو دنیا کی پیشوائی کے منصب سے باضابطہ معزول کیا اور اُمّتِ محمدیہ کو اس پر فائز کردیا۔ ”اُمتِ وَسَط“ کا لفظ اس قدر وسیع معنویت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی دوسرے لفظ سے اس کے ترجمے کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے مراد ایک ایسا اعلیٰ اور اشرف گروہ ہے، جو عدل و انصاف اور توسّط کی روش پر قائم ہو، جو دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو، جس کا تعلق سب کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہو اور ناحق، ناروا تعلق کسی سے نہ ہو۔ پھر یہ جو فرمایا کہ تمہیں ”اُمّتِ وَسَط“ اس لیے بنایا گیا ہے کہ ”تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو“ تو اس سے مراد یہ ہے کہ آخرت میں جب پوری نوع انسانی کا اکٹھا حساب لیا جائے گا، اس وقت رسول ہمارے ذمّہ دار نمائندے کی حیثیت سے تم پر گواہی دے گا کہ فکر صحیح اور عمل صالح اور نظام عدل کی جو تعلیم ہم نے اسے دی تھی، وہ اس نے تم کو بےکم وکاست پوری کی پوری پہنچا دی اور عملاً اس کے مطابق کام کر کے دکھا دیا۔ اس کے بعد رسول کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے تم کو عام انسانوں پر گواہ کی حیثیت سے اٹھنا ہوگا اور یہ شہادت دینی ہوگی کہ رسول نے جو کچھ تمہیں پہنچایا تھا، وہ تم نے انہیں پہنچانے میں، اور جو کچھ رسول نے تمہیں دکھایا تھا وہ تم نے انہیں دکھانے میں اپنی حد تک کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اس طرح کسی شخص یا گروہ کا اس دنیا میں خدا کی طرف سے گواہی کے منصب پر مامور ہونا ہی درحقیقت اس کا امامت اور پیشوائی کے مقام پر سرفراز کیا جانا ہے۔ اس میں جہاں فضیلت اور سرفرازی ہے وہیں ذمّہ داری کا بہت بڑا بار بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح رسول ﷺ اس اُمّت کے لیے خدا ترسی، راست روی، عدالت اور حق پرستی کی زندہ شہادت بنے، اسی طرح اس اُمّت کو بھی تمام دنیا کے لیے زندہ شہادت بننا چاہیے، حتّٰی کہ اس کے قول اور عمل اور برتاؤ، ہر چیز کو دیکھ کر دنیا کو معلوم ہو کہ خدا ترسی اس کا نام ہے، راست روی یہ ہے، عدالت اس کو کہتے ہیں اور حق پرستی ایسی ہوتی ہے۔ پھر اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جس طرح خدا کی ہدایت ہم تک پہنچانے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذمّہ داری بڑی سخت تھی، حتّٰی کہ اگر وہ اس میں ذرا سی کوتاہی بھی کرتے تو خدا کے ہاں ماخوذ ہوتے، اسی طرح دنیا کے عام انسانوں تک اس ہدایت کو پہنچانے کی نہایت سخت ذمّہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم خدا کی عدالت میں واقعی اس بات کی شہادت نہ دے سکے کہ ہم نے تیری ہدایت، جو تیرے رسول کے ذریعے سے ہمیں پہنچی تھی، تیرے بندوں تک پہنچا دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے، تو ہم بہت بری طرح پکڑے جائیں گے اور یہی امامت کا فخر ہمیں وہاں لے ڈوبے گا۔ ہماری امامت کے دور میں ہماری واقعی کوتاہیوں کے سبب سے خیال اور عمل کی جتنی ]گمراہیاں دنیا میں پھیلی ہیں اور جتنے فساد اور فتنے خدا کی زمین میں برپا ہوئے ہیں، ان سب کے لیے ائمہء شر اور شیاطین انس و جِنّ کے ساتھ ساتھ ہم بھی ماخوذ ہوں گے۔ ہم سے پوچھا جائے گا کہ جب دنیا میں معصیت، ظلم اور گمراہی کا یہ طوفان برپا تھا، تو تم کہاں مر گئے تھے۔ (تفہیم القرآن)

ـــــ “رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو ”سے یہ بات واضح طور پر نکلتی ہے کہ شہادت علی الناس کا جو فرض آنحضرت ﷺ پر بحیثیت رسول کے تھا آپ کے بعد آپ کی امت کی طرف منتقل ہوا اور اب یہ اس امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر دور، ہر ملک اور ہر زبان میں لوگوں پر اللہ کے دین کی گواہی دے، اگر وہ اس فرض میں کوتاہی کرے گا تو اس دنیا کی گمراہیوں کے نتائج بھگتنے میں دوسروں کے ساتھ وہ بھی برابر کی شریک ہوگی۔ ۔۔۔۔ہمارے ارباب تاویل نے عام طور پر اس شہادت کو آخرت سے متعلق مانا ہے کہ یہ امت گمراہوں کے خلاف انبیاء کی تائید میں آخرت میں شہادت دے گی کہ ان گمراہوں کو اللہ کا دین پہنچ چکا تھا، اس کے باوجود انہوں نے گمراہی کی یہ روش اختیار کی۔ لیکن ہمارے نزدیک اس تخصیص و تحدید کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس امت کو شہداء اللہ ہونے کا یہ مرتبہ آخرت میں بھی حاصل ہوگا لیکن آخرت میں یہ مرتبہ اسی وجہ سے حاصل ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اس کو اس منصب پر سرفراز فرمایا ہے۔ جو امت اس دنیا میں دین حق کی گواہ ہے، ظاہر ہے کہ وہی آخرت میں بھی اس پوزیشن میں ہوگی کہ گواہی دے کہ لوگوں کو اللہ کا دین ٹھیک ٹھیک پہنچایا یا نہیں۔(تدبرقرآن)

ـــــ انسان کامل کہلانے کا مستحق صرف وہی شخص ہوسکتاہے جو جسمانی اعتدال کے ساتھ روحانی و اخلاقی اعتدال بھی رکھتاہو۔حشر میں امت مسلمہ کا امتیاز (تمام انسانوں پر گواہی)(معارف القرآن)                                                                      

ـــــ یعنی جیسے ہم نے قبلہ کے معاملہ میں تمہیں راہ راست اختیار کرنے کی توفیق بخشی اسی طرح ہر معاملہ میں تمہیں امت وسط بنایا۔ وسط کا لفظ قابل غور ہے۔ اس کا معنی ہے درمیان۔ ہر چیز کا درمیانی حصہ ہی اس کا عمدہ ترین حصہ ہوا کرتا ہے۔ انسان کی زندگی کا درمیانی عرصہ ’’عہد شباب‘‘ اس کی زندگی کا بہترین وقت ہے۔ دن کا درمیانی حصہ دوپہر ہے جس میں روشنی اپنے نقطہ عروج پر ہوتی ہے۔ اسی طرح اخلاق میں میانہ روی قابل تعریف ہوتی ہے۔ افراط وتفریط دونوں پہلو مذموم۔ بخل اور فضول خرچی کی درمیانی حالت کو سخاوت ، بزدلی اور طیش کے درمیانی حال کو شجاعت کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو اس عظیم المرتبت خطاب سے سر فراز فرمایا۔ ان کے عقائد، ان کی شریعت، ان کے نظام اخلاق، سیاست اور اقتصاد میں افراط وتفریط کا گزر نہیں۔ یہاں اعتدال ہے توازن ہے موزونیت ہے ۔ جب مسلمانوں کو اپنے اس عظیم منصب کا پاس تھا اس وقت ان کا ہر قول اور ہر فعل آئینہ تھا اس ارشاد ربانی کا۔ لیکن آج تو ہم یوں بگڑ چکے کہ قرآن میں جس امت کے محاسن بیان کئے گئے ہیں ہم پہچان ہی نہیں سکتے کہ وہ ہم ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال زار پر رحم فرماوے۔ آمین۔ (ضیاء القرآن(

۔ کیا ایسی امت جس کا ایک طبقہ غاسب اور جابر اور دوسرا طبقہ ڈرپوک اور بے حس ہو ، کیا خیر الامم ہو سکتی ہے؟  (ضیاء القرآن/ ڈاکٹر اسرار احمد(

۔امت وسط پر تفصیلی نوٹ :  آغاز کے۔۔ اھم نکات۔۔ میں ملاحظہ فرمائیں

144۔یہ ہے وہ اصل حکم جوتحویل ِ قبلہ کے بارے میں دیاگیا۔یہ حکم رجب یا شعبان 2ھجری میں نازل ہوا۔             (تفہیم القرآن)۔۔۔۔۔حضرت عبداللہ بن عباس کا قول یہ ہے کہ اول ہی سے قبلہ بیت المقدس تھا جو ہجرت کے بعد بھی سولہ سترہ ماہ تک رہا۔۔۔۔۔بجائے بیت اللہ یا کعبہ کے مسجد حرام کا لفظ رکھاگیا جو بہ نسبت بیت اللہ کے بہت زیادہ وسیع ہے۔(معارف القرآن)۔۔۔۔۔سمت مسجد حرام کافی ہے۔۔۔۔۔۔ یعنی خانۂ خدا اور قبلہ ابراہیمی کی جانب ،یہ وعدہ ہے تحویل قبلہ کا،یہاں بجائے براہ راست یہ ارشاد فرمانے کے کہ ہم کعبہ کی طرف آپ کو پھیر دیں گے،ارشاد یہ ہوا ہے کہ ہم اسے آپ کا قبلہ قرار دے دیں گے جسے آپ خود قبلہ بنانا چاہتے ہیں، اس سے رسول اللہؐ کی کمال رفعت مراتب اور کمال درجۂ فنا و قبولیت ظاہر ہے۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ اہل طریقت کے ہاں جو اصطلاح مقام مرادیت  و محبوبیت کی آئی ہے،اس کی اصل یہی آیت ہے۔کیا ٹھکاناہے اس بلندی مرتبہ کا کہ مولا خود طالب رضائے عبد ہوجائے ! اس کے آگے کوئی مرتبہ تصور میں بھی نہیں آسکتا،اقبالؒ نے اسی مقام کی تشریح کی ہے۔

؎ خودی کو کربلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتاتیری رضاکیا ہے

۔۔"فلنولینک" کے دوسرے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ ہم آپ کو اس کا والی و حاکم اور اس پر تصرف بنادیں گے۔۔۔ابھی وعدہ ہواتھا تحویل قبلہ کا ،اب حکم ہوگیا تحویل قبلہ کا۔۔۔۔۔ المسجد الحرام۔ عزت و حرمت والی مسجد سے مراد مکہ معظمہ کی وہ مسجد اعظم ہے،جس کے اندر خانۂ کعبہ واقع ہے،خانہ کعبہ بہت ہی مختصر عمارت کا نام ہے ،مدینہ والوں یا اور کہیں کے لوگوں کو اس کی جہت کی تعیین بہت دشوار تھی،اس لئے امت کی سہولت کیلئے  نام و نسبت ایک بہت بڑی عمارت کا لے لیا گیا (مدارک،بیضاوی)محققین کے نزدیک یہاں مسجد حرام سے مراد کعبہ ہی ہے۔۔۔حیث ماکنتم سے فقہاء نے یہ نکالا ہے کہ نماز،انسان کہیں بھی موجود ہو،درست ہے ،کچھ مسجد ہی کی قید نہیں۔۔۔یعنی دنیا کے کسی حصہ میں ،اور کہیں بھی ہو کعبہ کی طرف رخ کرنا وقت نماز میں فرض ہے۔(تفسیر ماجدی)

145۔۔۔چنانچہ یہود کا قبلہ آج تک ہیکل بیت المقدس ہے،اور نصاریٰ کسی عمارت یا مکان کو نہیں،بلکہ سمت مشرق کو قبلہ بنائے ہوئے ہیں،اور عجب نہیں کہ اندرونی اختلافات اس سے بھی زائد ہوں،بحمدللہ کہ ہمارے قدیم مفسرین بھی یہود و نصاریٰ کے قبلوں کے فرق سے صحیح طورپر واقف تھے۔(تفسیر ماجدی)

146۔ کعبے کو حضرت ابراہیمؑ نے تعمیر کیا اور اس کے برعکس بیت المقدس اس کے 13 سوسال بعد حضرت سلیمانؑ کے ہاتھوں تعمیر ہوا۔(تفہیم القرآن) ۔۔۔۔۔یعرفونہ میں ضمیر ہ سے کیا مراد ہے؟ قدما عموماً اور اکثر علماء اس طرف گئے ہیں کہ اس سے مراد بیت الحرام کو بہ حیثیت قبلۃ الانبیاء کے پہچانناہے،چنانچہ تفسیر ابن جریر میں ابن عباسؓ صحابی سے لے کر قتادہ،ابن زید،سدی،ابن جریج تابعین کے اقوال اسی معنی میں منقول ہیں لیکن متوسطین اور متاخرین میں تقریباً سب کا اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ مراد ذاتِ رسالتؐ سے ہے اور دلائل اسی کے زیادہ مؤید ہیں اور سند اس کی بھی تابعین سے مل جاتی ہے۔۔۔ وھم یعلمون اس ٹکڑے سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ انکار کرنے والے عوام و جہلائے یہود نہیں،ان کے علماء واکابر تھے۔۔۔(تفسیر ماجدی)


اٹھارواں رکوع

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 148 اور ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک سمت (مقرر) ہے۔ جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں۔ تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو۔ تم جہاں رہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا۔ بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
 وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ  149 اور تم جہاں سے نکلو، (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کر لیا کرو بےشک وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو۔ خدا اس سے بے خبر نہیں۔
 وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ ۛ  150 اور تم جہاں سے نکلو، مسجدِ محترم کی طرف منہ (کرکے نماز پڑھا) کرو۔ اور مسلمانو، تم جہاں ہوا کرو، اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو۔ (یہ تاکید) اس لیے (کی گئی ہے) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔ مگر ان میں سے جو ظالم ہیں، (وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا۔ اور یہ بھی مقصود ہے کہ تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہِ راست پر چلو۔
 كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕ ۛ 151 جس طرح (منجملہ اور نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمھی میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں، اور ایسی باتیں بتاتے ہیں، جو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔
 فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠   ۧ ۧ  152 سو تم مجھے یاد کرو۔ میں تمہیں یاد کیا کروں گا۔ اور میرے احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا۔

تفسیر آیات

148۔ خطاب امت اسلامیہ کو ہے کہ حسن ِ عمل کی طرف بڑھو،اور جملہ مذاہب و ادیان کے اتحادِ قبلہ کے خیال خام میں نہ پڑے رہو۔۔۔۔خیرات ۔خیر کی جمع ،وسیع و عام مفہوم میں ہے ۔۔۔۔۔نماز فرض کی ادائی اول وقت میں مفسرین نے اس آیت سے نکالی ہے،اور اس باب میں کوئی اختلاف نہیں،اُس کے آگے فقہاء مفسرین نے سوال پیدا کیاہے کہ ایک طرف نماز کا اول وقت ہے ،اور دوسری طرف انتظار کرنے میں جماعت مل رہی ہے،توترجیح کس کو ہے؟اور جواب یہ دیا ہے کہ ترجیح انتظار جماعت کوہے۔ (تفسیر ماجدی) ۔۔۔۔مسابقت فی الخیرات ۔کیا ہر نماز اول وقت میں پڑھنا افضل ہے؟فضیلت اول وقت۔ مگر بعض مواقع پر حضورؐ کی پسند ۔عشاء کی تاخیر، گرمی کے زمانے میں ظہر کی تاخیر۔(معارف القرآن) ۔۔۔۔۔۔ " فاستبقوا" کا  مصدر استباق ہے  جس کے معنی ہیں دوڑ میں ایک دوسرے کا  مقابلہ کرتے ہوۓ سبقت لے جانے کی کوشش کرنا ہے۔۔۔۔۔ ۔۔(تدبر قرآن)۔۔۔اصل اہمیت اینٹ پتھر کے مکان کی نہیں بلکہ عظیم روایات ۔روایات قلبِ دین ،جس طرح قلب کے بغیر جسم کا وجود نہیں،قبلہ کے بغیر ملت کا تصور نہیں۔(تدبر قرآن )۔۔۔۔۔ اور اس کے احاطۂ قدرت سے کوئی چیز بھی خارج نہیں۔یہ ایک اصولی جواب بہت سے شبہات کاہے  اللہ کے بتائے ہوئے مسائل میں انسان کو جہاں کہیں بھی استبعاد عقلی معلوم ہوتاہےاُس کی بنیاد ہمیشہ اسی مغالطہ پر ہوتی ہے کہ اپنے اوپر قیاس کرکے اللہ کے قُویٰ کو بھی محدود اور اُس کی قدرت کو بھی زمان و مکان وغیرہ کی قیود کا پابند سمجھ لیا جائے ،قرآن مجید نے ہمیشہ اس بشری ذہنیت (سائیکولوجی) کو پوری طرح سمجھ کر باربار اسی حقیقت کی طرف تنبیہ کی ہے، کہ خدائی فعلیت پر حکم لگاتے وقت خدائی قدرت کی بھی وسعتِ بے پایاں کو یادرکھاکرو۔(تفسیر ماجدی)

149 لیکن اوپر  قبلہ کی جو اہمیت بیان ہوئی ہے  اس سے یہ واضع ہوتا ہے کہ کسی حالت میں بھی اس روحانی پاور ہاؤس سے انسان کا  تعلق منقطع نہیں ہونا چاہیئے۔ (تدبرِ قرآن)

 150یہاں ان احکام کی تین حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک قطع حجت، دوسری اتمام نعمت، تیسری راہ یابی۔۔۔۔ قطع حجت سےمراد یہ ہے کہ اہل کتاب بالخصوص یہود کے لیے بات بات میں تمہارے اوپر گرفت کرنے اور تمہارے خلاف بدگمانی پھیلانے کے لیے کوئی موقع باقی نہ رہ جائے۔ یہاں "للناس" سے مراد موقع کلام گواہ ہے کہ اہل کتاب ہیں۔ قبلہ کے اشتراک کی وجہ سے اہل کتاب بالخصوص یہود، قدم قدم پر، آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف یہ اعتراض اٹھاتے رہتے تھے کہ جب یہ ہمارے قبلہ ہی کی طرف نماز پڑھتے ہیں تو نماز اور عبادت کے طریقوں میں ہمارے طریقہ سے الگ راہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔ ایک بنیادی چیز میں اشتراک کے بعد دوسری چیزوں میں اختلاف کو وہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی من گھڑت ایجاد قرار دیتے تھے۔ ان کا یہ پروپیگنڈا سادہ لوح لوگوں پر اثر انداز ہوتا تھا اور اس سے اس حقیقت کے واضح ہونے میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہو رہی تھیں کہ حضور ﷺ کی بعثت یہودیت یا نصرانیت پر نہیں بلکہ ملت ابراہیم پر ہوئی ہے۔ اب وقت آگیا تھا کہ اس پروپیگنڈے کا پوری طرح سدباب کردیا جائے۔۔۔۔اتمام ِ نعمت سےمراد تکمیل دین کی وہ نعمت ہے جس کی پیشین گوئی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) نے اس امت کے بارے میں فرمائی تھی اور جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے اس وقت فرمایا تھا جب وہ حضرت اسماعیل کی قربانی کے امتحان میں کامیاب ہوئے تھے۔ اس وقت ان سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اس بیٹے کی نسل سے ایک عظیم امت پیدا ہوگی جس سے تمام دنیا کی قومیں دین کی برکت پائیں گی چناچہ انہی کی نسل سے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے آخری ہادی محمد ﷺ کو بھیجا، جن کا قبلہ وہ بیت اللہ قرار پایا جو تمام عالم کے لیے سرچشمہ خیر و برکت اور تکمیل دین کا مرکز ٹھہرایا گیا تھا۔۔۔۔۔راہ یابی سے مراد ہے اس صراط مستقیم کی راہ یابی جو خدا تک پہنچانے والی سیدھی اور فطری راہ ہے۔ جس کے متعلق فرمایا گیا ہے قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا (انعام :161) کہہ دو میرے رب نے میری رہنمائی ایک سیدھی راہ کی طرف فرمائی۔ فطری دین، ملت ابراہیم کی طرف جو بالکل یکسو تھا۔ اس ملت ابراہیم کی طرف رہنمائی کرنے والا مینارہ، جیسا کہ ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں، یہ قبلہ ہی ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ رہنمائی کا یہ نشان ہمیشہ اس امت کی نگاہوں کے سامنے رہے۔۔۔۔(تدبر قرآن)             ۔۔۔۔۔تحویل قبلہ ایک نعمت: نعمت سے مراد وہی امامت اور پیشوائی کی نعمت ہے جو بنی اسرائیل سےسلب کرکے اس امت کو دی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ یہ فرمارہے ہیں کہ تحویل قبلہ کا یہ حکم دراصل اس منصب پر تمہاری سرفرازی کی علامت ہے ۔جب تک میری اطاعت کرتے رہوگے ،یہ منصب تمہارے پاس رہے گا اور نافرمانی کی صورت میں یہ چھن بھی سکتاہے۔(تیسیر القرآن)

۔ نعمت سے  مراد وہی امامت اور پیشوائی  کی نعمت ہے ، جو بنی اسرائیل سے سلب  کر کے اس امت کو دی گئی تھی۔  (تفہیم القرآن)

151۔ اس آیت میں تزکیہ بعد میں جبکہ اسی سورۃ میں تزکیہ پہلے آیا ہے ۔ترتیب بدل گئی۔نیت (دعاء ابراہیمی) اگر درست نہیں تو کتاب و حکمت نہیں (نیت بنیاد ہے تزکیہ کی)۔سورۂ آل عمران اور سورۂ جمعہ(اسی ترتیب میں)۔(ڈاکٹر اسرار)۔۔۔۔۔ "کما"  کا تعلق آیت ماقبل سے ہے،یعنی یہ اتمامِ نعمت اب استقبالِ کعبہ کے واسطے سے اسی طرح سے ہوگا ،جیسے بعثتِ رسول کے ذریعہ سے اس کے قبل ہوچکاہے۔(تفسیر ماجدی) ۔۔۔۔ ۔" کما " میں  "ک "حرفِ تشبیہ ہے۔ اسی وجہ سے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تشبیہ کس چیز کی دی گئی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ "کما" تقریبا ًاسی موقع میں استعمال ہوا ہے جس  موقع میں ہم " چنانچہ "  کا لفظ  استعمال کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ قبلہ کی تحویل اسی طرح اتمامِ نعمت اور ملتِ ابراہیمؐ کی طرف رہنمائی کے لئیے کی ہے جس طرح دعائے ابراہیمی کے مطابق انھی مقاصد کے لئیے ایک رسول تمہارے اندر بھیجا ہے۔ (تدبرِ قرآن)۔۔ ۔۔۔۔" اس توقع پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اس طرح فلاح کا راستہ پاؤ گے جس طرح  (تمہیں  اس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ) میں نے تمہارے درمیان  خود تم میں  سے ایک رسول بھیجا"( تفہیم القرآن)

 52-151۔ایک مرتبہ ابوجہل اور ابوسفیان اور اخنس بن شریق رات کو اپنے اپنے گھروں سے اس لئے نکلے کہ چھپ کر رسول اللہؐ سے قرآن سنیں۔۔۔یہ کہہ سن کر سب اپنے اپنے گھر چلے گئے،اگلی رات آئی تو پھر ان میں سے ہر ایک کے دل میں یہی ٹیس اٹھی کہ قرآن سنیں ،اور پھر اسی طرح چھپ چھپ کر ہر ایک نے قرآن سنا ،یہاں تک کہ رات گذرگئی،اور صبح ہوتے ہی یہ لوگ واپس ہوئے ،تو ملنے کے بعد پھر آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے،اور اس کے ترک پر سب نے اتفاق کیا ،مگر تیسری رات آئی تو پھر قرآن کی لذت و حلاوت نے انہیں چلنے اور سننے پر مجبور کردیا،پھر پہونچے اور رات بھر قرآن سن کر لوٹنے لگے،تو پھر راستہ میں اجتماع ہوگیا،تو اب سب نے کہا کہ آؤ آپس میں معاہدہ کرلیں کہ آئندہ ہم ہرگز ایسا نہ کریں گے۔۔۔۔۔ابوجہل نے کہا صاف بات یہ ہے کہ ہمارے خاندان اور بنو عبدمناف کے خاندان میں ہمیشہ سے چشمک چلی آتی ہے،قوم کی سیاست و قیادت میں وہ جس محاذ پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں ہم ان کا مقابلہ کرتے ہیں ،انہوں نے سخاوت و بخشش کے ذریعہ قوم پر اپنا اثر جمانا چاہا تو ہم نے ان سے بڑھ کریہ کام کردکھا یا ،انہوں نے لوگوں کی ذمہ داریاں اپنے سرلے لیں توہم اس میدان میں بھی ان سےپیچھے نہیں رہے ،یہاں تک کہ پورا عرب جانتاہے کہ ہم دونوں خاندان برابر حیثیت کے مالک ہیں۔(معارف القرآن)

152۔۔۔۔۔تحویلِ قبلہ کے حکم کے بعد  یہ امت ایک بالکل ممتاز امت کی حیثیت سے سامنے آ گئی۔ یہود امامت کے منصب سے معزول ہوئے اور شہادت علی الناس کی ذمہ داری قیامت تک کے لئیے اس امت کے سپرد ہوئی۔  اس اہم موقع  پر یہ یاد دہانی  کی گئی ہے کہ  تم مجھے یاد  رکھو گے تو میں تمہیں یاد رکھوں گا، میری شکر گزاری کرْتے رہنا، نا شکری نہ  کرنا۔ اس یاد دہانی کی نوعیت اللہ تعالٰی اور اس امت کے درمیان ایک عظیم معاہدےکی ہے اور خدا کو یاد رکھنے سے مقصود ان تمام ذمہ داریوں اور فرائض کو یاد رکھنا اور ان کی بجا آوری  ہے جو اس امت کے سپرد کیئے جا رہے ہیں۔ ان ذمہ داریوں اور فرائض کی بجا آوری کے جواب  میں اللہ  تعالٰی کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ  میں تمہیں یاد رکھوں گا ، یعنی دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی، نصرت، فتح مندی اور سرخروئی کے جو وعدے میں نے اس امت سے کیے ہیں وہ پورے کروں گا ۔ میری شکر گزاری کرتے رہنا۔ ۔۔۔۔(تدبرِ قرآن) ۔۔یہاں بھی عارف باللہ قاضی ثناء اللہ کے الفاظ ہی قارئین کی خدمت میں پیش کرتاہوں ۔ترجمہ"جب ان معارف کے حاصل ہونے کا طریقہ صرف القاء اور انعکاس ہے اور ذکر الٰہی اور مراقبہ سے ہی دل میں یہ استعداد پیدا ہوتی ہے کہ وہ حضورؐ کے پرنور سینہ سے بلاواسطہ یا بالواسطہ فیضان و القاء قبول کرسکے اس لیے حکم دیا کہ میرا ذکر کیا کرو ۔کثرت ذکر سے ہی تم اس مقام پر فائز کیے جاؤگے ۔جہاں انوار و تجلیات کی بے محابا بارش ہوتی ہے اور دوری کے حجاب یکسر الٹ دیئے جاتے ہیں"۔تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔کیا اس سے بڑھ کر بھی بندہ کی کوئی عزت افزائی ہوسکتی ہے کہ اس کا مالک و خالق اس کو اپنی یاد سے سرفراز فرمائے۔۔۔۔(ضیاء القرآن)۔۔۔۔۔ عمل باتباع باری بھی ذکرہی ہے۔(ضیاء القرآن)۔۔۔۔تحویل قبلہ پر نئی امت کا قیام ۔نئی امت اور رب کے درمیان عہد۔(تدبرقرآن)۔۔۔۔۔ رسول اللہؐ نے فرمایا "اللہ کا ارشاد ہے کہ میرا بندہ میرے بارے میں جیسا گمان رکھتاہے میں اسی کے مطابق ہوجاتاہوں اورجب وہ مجھے یاد کرتاہےتو میں اس کے ساتھ ہوتاہوں،اگر مجھے دل میں یاد کرتاہے تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتاہوں ،اگروہ کسی مجلس میں میرا ذکر کرتاہے تو میں اس سے بہتر مجلس میں اس کا ذکر کرتاہوں،اگروہ ایک بالشت میرے قریب آتاہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب آجاتاہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ قریب آتاہے تو میں ایک باع (دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر)اس کے قریب آجاتاہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتاہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتاہوں"(صحیح البخاری)۔(احسن الکلام )

۔  ذکر کا مطلب ، اللہ کو ایسا یاد کرنا ہے کہ دل و دماغ پر اس کی شان، اس کی محبت، اس کی ہیبت اور اس کا خیال چھایا رہے، آدمی اس کی رضا کہ اپنی رضا بنا لےاور قلبی طور پر اس کے حضور حاضر رہے۔ اس مقام ذکر تک پہنچنے  کے لیے کئی ذیلی اذکار ہیں جنہیں  بزرگان دین اور صوفیائے کرام سکھاتے ہیں۔۔۔ دل ہی دل  میں اللہ،اللہ کہتے رہنا بھی بڑا با برکت ذکر ہے۔ (کتاب زندگی)۔۔۔ ہتھ کار ولے، دل یار ولے (مرتب)


انیسواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ 153 اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بےشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
 وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ  154 اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے۔
 وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ 155 اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوؤں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو۔
الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ 156 ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
 اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ 157 یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے۔ اور یہی سیدھے رستے پر ہیں۔
اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ 158 بےشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو جو شخص خانہٴ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے۔ (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَ]ا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ  159 جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجود یہ کہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔
 اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ 160 ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ   161 جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ایسوں پر خدا کی اور فرشتوں اور لوگوں کی سب کی لعنت۔
خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ 162 وہ ہمیشہ اسی (لعنت) میں (گرفتار) رہیں گے۔ ان سے نہ تو عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں (کچھ) مہلت ملے گی۔
وَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاهُوَالرَّحْمٰنُالرَّحِیْمُ ۠  163 اور (لوگو) تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم کرنے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

تفسیر آیات

آغاز رکوع:

- منصب امامت پر مامور کرنے کے بعد اب اس امت کو ضروری ہدایات دی جارہی ہیں۔(تفہیم القرآن)

۔ یہاں سے سورۃ کے آخر تک 22 رکوعوں میں احکام کی چار لڑیاں ہیں جو بٹ کر ایک تسلسل بناتی ہیں اور ان میں مضامیں ایک دوسرے کے اندر آتے ہیں۔  (22رکوع) لڑیاں بٹ کرہی (مضامین ایک دوسرے کے اندر): عبادات ،معاملات ،جہاد بالنفس،جہاد بالمال،اخلاقیات کی۔لڑیاں کھول دیں تو الگ الگ رنگ نظر آئیں گے۔(بیان القرآن)

153۔ منصب امامت کی مشکلات اور ان کا علاج:۔اب اس آیت اور آگے کی چار آیات میں ان خطرات و مشکلات کے مقابلہ کی تدابیر بتائی جارہی ہیں ،جو اس منصب ِ امامت کے بعد پیش آئیں گی یا پیش آسکتی ہیں۔یہود کو مسلمانوں کے ساتھ جوعناد تھا وہ تو اچھی طرح اوپر واضح ہوچکا ہے مگر قبلہ کے اس اشتراک کی وجہ سے یہود اب تک اس تمام اختلاف و نزاع کے اندر اتفاق کی بھی ایک جھلک دیکھتے تھے لیکن تحویلِ قبلہ کے بعد انہوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مسلمان اب ملتِ ابراہیم کے وارث کی حیثیت سے اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ ان سے بالکل ممیز ہوکر سامنے آگئے ہیں۔اس چیز نے قدرتی طورپر مسلمانوں کیخلاف ان کے غیظ و غضب کو دوچند کردیا ۔اسی طرح قریش جو مسلمانوں کو مکہ سے نکال کر اس طمع خام میں مبتلا ہوگئے تھے کہ یہ دعوت ایک اجنبی ماحول میں آپ سے دب جائیگی،اب یہ محسوس کرنے لگے کہ ان کی توقعات کیخلاف ،مسلمان مدینہ میں ایک طاقت بنتے جارہے ہیں اور ان کا دعویٰ یہ ہے کہ ملت ابراہیم کے اصلی وارث اور خانہ کعبہ کے جائز متولی وہی ہیں۔چنانچہ انہوں نے اب اس گھر کو اپنا قبلہ بھی بنالیا ہے ،جس کا نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اب وہ اس پر قبضہ بھی کرنے کی کوشش کریں گے۔اس احساس نے  انہیں بھی چوکنا کیا اور وہ اس خطرے کے سدباب کی تدبیریں سوچنے لگے،جس کے نتیجے میں تحویل قبلہ کے دوہی مہینوں کے بعد انہوں نے اس جنگ کے اسباب پیدا کردیے جو تاریخ اسلام میں غزوۂ بدر کے نام سے مشہور ہے۔اس جنگ کے متعلق ہماری تحقیق،جیساکہ ہم سورۂ انفال کی تفسیر میں پیش کریں گے،یہ ہے کہ یہ یہود مدینہ اور قریش مکہ کی باہمی سازش سے ہوئی تھی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان،جواب ایک مستقل امت کی حیثیت سے ملتِ ابراہیمی اور قبلہ ابراہیمی کے دعوے دار بن کر اٹھ رہے ہیں،ان کا زور اٹھنے سے پہلے ہی توڑدیا جائے۔ (تدبرِ قرآن)

۔یہ حالات اگرچہ ابھی پس پردہ تھے،لیکن اس خدائے علام الغیوب سے مخفی نہیں تھے جو کھلے اور چھپے سب سے باخبر ہے۔اس وجہ سے اس کی رحمت اور حکمت مقتضیٰ ہوئی کہ وہ مسلمانوں کو آنے والے خطرات سے متنبہ بھی فرمادے اور ان خطرات کے مقابلہ میں جو چیز ان کے عزم و حوصلہ کو برقرار رکھ سکتی ہے۔اس کی ہدایت بھی فرمادے۔اس سلسلہ کی پہلی بات جو ،آیت زیر بحث میں ارشاد ہوئی ،یہ ہے کہ پیش آنے والی مشکلات میں صبر اور نماز سے مدد چاہو۔صبر اور نماز کی لغوی تحقیق،ان کے باہمی تعلق اور اقامتِ دین کی جدوجہد میں ان کی عظمت و اہمیت پر تفصیلی گفتگو ہم اسی سورہ کی آیت 45 کے تحت کرچکے ہیں ۔نیز فصل 32 میں بھی ان کے بعض اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاچکی ہے اس وجہ سے یہاں کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ۔البتہ بعض باتیں مخصوص اس مقام سے متعلق ہیں جن کی طرف اشارہ ضروری ہے۔۔۔۔۔

ایک تو یہ مشکلات و مصائب میں جس نماز کا سہاراحاصل کرنے کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد صرف پانچ وقتوں کی مقررہ نمازیں ہی نہیں ہیں بلکہ تہجد اور ْنفل نمازیں بھی ہیں۔اس لئے کہ یہی نمازیں مومن کے اندر وہ روح اور زندگی پیدا کرتی ہیں جو راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات پر فتح یاب ہوتی ہے ،انہی کی مدد سے وہ مضبوط تعلق باللہ پیدا ہوتاہے جو کسی سخت سے سخت آزمائش میں بھی شکست نہیں کھاتا،اور انہی سے وہ مقام ِ قرب حاصل ہوتاہے جو خدا کی اس معیت کا ضامن ہے جس کا اس آیت میں صابرین کیلئے وعدہ فرماگیا ہے ۔اس حقیقت کی پوری وضاحت مکی سورتوں میں آئے گی اس وجہ سے یہاں ہم صرف اشارہ پر اکتفا کرتے ہیں۔ ۔۔۔

دوسری یہ کہ نماز تمام عبادات میں ذکر اور شکر کا سب سے بڑا مظہر ہے۔قرآن مجید میں مختلف طریقوں سے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ نماز کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی شکر گذاری ہے۔اس پہلو سے غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اوپر اس امت سے یہ عہد جو لیا گیا ہے ۔فاذکرونی اذکرکم اشکرولی ،اس کے قیام میں سب سے بہتر وسیلہ کی حیثیت رکھتی ہے۔تیسری یہ کہ نماز دعوت ِ دین اور اقامت حق کی راہ میں عزیمت و استقامت کے حصول کیلئے مطلوب ہے ۔اس وجہ سے اس نماز کی اصلی برکت اس صورت میں ظاہر ہوتی ہے جب آدمی راہ حق میں باطل سے کشمکش کرتاہوا اس کا اہتمام کرے۔جو شخص سرے سے باطل کے مقابلہ میں کھڑے ہونے کا ارادہ ہی نہیں کرتا ظاہر ہے کہ اس کیلئے یہ ہتھیار کچھ غیر مفید ہی بن کر رہ جاتاہے۔چوتھی یہ کہ یہاں صبر اور نماز سے مدد حاصل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ "اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے۔" یہ نہیں فرمایا کہ اللہ نماز پڑھنے والوں اور صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس کی وجہ استاذ امامؒ کے نزدیک یہ ہے کہ نماز میں خدا کی معیت کا حاصل ہونا اس قدر واضح چیز ہے کہ اس کے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، واضح کرنے کی بات یہی تھی کہ جولوگ راہِ حق پر ثابت قدم رہتے ہیں اور اس ثابت قدمی کے حصول کیلئے نماز کو وسیلہ بناتے ہیں، اللہ ان کے ساتھ ہوجاتاہے۔پانچویں یہ کہ اللہ کی معیت جس کا یہاں ثابت قدموں کیلئے وعدہ کیاگیا ہے کوئی معمولی چیز نہیں ہےبلکہ موقع کلام گواہ ہے کہ یہاں ان دولفظوں کے اندر بشارتوں کی ایک دنیا پوشیدہ ہے، تمام کائنات کا بادشاہ حقیقی اور تمام امر و اختیار کا مالک اللہ ہی ہے تو جب وہ کسی کی پشت پر ہے تو اس کو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی کسی طرح شکست دے سکتی ہے؟(تدبر قرآن)

- صبر کے اصل معنی اپنے نفس کو روکنے اور اس پر قابوپانے کے ہیں مثلاً حرام و ناجائز سے رکنا اور مصائب و آفات پر صبر۔(معارف القرآن)

۔صبر کے تین شعبے ہیں ، ایک اپنے نفس کو حرام و ناجائز چیزوں سے روکنا ، دوسرے طاعات و عبادات  کی  پابندی پر مجبور کرنا، تیسرے مصائب و آفات پر صبر کرنا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ "ان اللہ مع الصابرین" ، اس کلمہ میں اس کا بتلا دیا گیا ہے کہ صبر حلِ مشکلات اور دفع مصائب کا سبب کیسے بنتا ہے، ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ صبر کے نتیجہ میں انسان کو حق  تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ جس شخص کے ساتھ رب العزت  کی طاقت ہو اس کا کون سا کام رک سکتا ہے اور کون سی مصیبت اس کو عاجز کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔  ان اللہ مع الصابرین۔صبر کرنے والوں کو اللہ کی معیت نصیب ہوتی ہے۔۔۔ (معارف القرآن)

- یعنی ہجوم و مشکلات کے وقت بھی مشکل کشائے حقیقی سے تعلق برابر جوڑے رہو،اس پر بھروسہ رکھو،اس کے آگے جھکتے رہو۔روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ کسی بڑی اور پُرقوت ہستی سے تعلق قائم ہوجانے سے دل کو کیسی ڈھارس بندھ جاتی ہے،شدید بیماری کے وقت کسی نامور طبیب کے آجانے سے ٹوٹی ہوئی آس کیسی جڑ جاتی ہے،پھر جب دل کا ربط ہمہ بیں و ہمہ داں،ناصر حقیقی و محافظ ِ حقیقی سے قائم ہوجائے تو انسان بے بنیان کی تسکینِ خاطر و تقویتِ قلب کا کیا پوچھنا!دنیا میں رہ کرزندگی کی کشمکش میں پڑکر،مشکلات و مصائب کا پیش آتے رہنا ناگزیر ہے،افراد کو بھی اور امت و جماعت کو بھی، اور وہ دستورالعمل ناقص ہے جو مشکلات کے دفاع اور مصائب سے مقابلہ کا طریقہ نہ بتائے ،قرآن مجید نے بجائے غیرضروری اور نامتناہی تفصیلات میں جانے کے یہاں اشارہ اصل اصول کی جانب کردیا ہے۔(تفسیر ماجدی)

154۔ ۔۔۔حتیٰ کہ شہید کی اس حیات کی قوت کا ایک اثر برخلاف معمولی مردوں کے اس کے جسد ظاہری تک بھی پہنچا ہے کہ اس کا جسم باوجود مجموعہ گوشت و پوست ہونے کے خاک سے متاثر نہیں ہوتا اور مثل جسم زندہ کے صحیح سالم رہتا ہے جیسا کہ احادیث اور مشاہدات شاہد ہیں پس اس امتیاز کی وجہ سے شہداء کو احیاء کہا گیا اور ان کو دوسرے اموات کے برابر اموات کہنے کی ممانعت کی گئی مگر احکام ظاہرہ میں وہ عام مردوں کی طرح ہیں ان کی میراث تقسیم ہوتی ہے اور ان کی بیویاں دوسروں سے نکاح کرسکتی ہیں اور یہی حیات ہے جس میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) شہداء سے بھی زیادہ امتیاز اور قوت رکھتے ہیں یہاں تک کہ سلامت جسم کے علاوہ اس حیات برزخی کے کچھ آثار ظاہری احکام پر بھی پڑتے ہیں مثلا ان کی میراث تقسیم نہیں ہوتی ان کی ازواج دوسروں کے نکاح میں نہیں آسکتیں۔۔۔۔ البتہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اولیا و صالحین بھی اس فضیلت میں شہدا کے شریک ہیں، سو  مجاہدہ نفس میں مرنے کو بھی  معنی کے لحاظ سے شہادت میں داخل سمجھیں گے۔ ( (معارف القرآن)۔۔۔۔۔ ایک گروہ نے کہاکہ یہ حیات روحانی ہوتی ہے،لیکن ترجیح اسی قول کو ہے کہ جسمانی و روحانی دونوں میں ہوتی ہے۔۔۔آیت سے بقاعدہ دلالۃ النص یہ بھی استنباط کیا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں جان و مال صرف کرنے والے اور انہیں ہوائے نفس میں لٹانے والے یکساں نہیں ہوتے ،حیات شہداء کے معتقد یہود کے بھی بعض فرقے ہوئے ہیں (جیوش انسائیکلوپیڈ)ابن العربی مالکی نے کہاہے کہ اسی آیت سے تمسک کرکے بعض ائمہ نے شہید کیلئے غسل و جنازہ دونوں غیر ضروری بتائے ہیں کہ ان کی تطہیر تو شہادت سے ہوچکی ،لیکن امام ابوحنیفہؒ نے نماز جنازہ کو ضروری برقرار رکھاہے(احکام القرآن)۔۔۔اور جب شہید زندہ ہیں اوررزق بھی پاتے رہتے ہیں،جیساکہ قرآن مجید میں دوسری جگہ ہے بل احیاء عند ربھم یُرزقون تو اس سے  یہ بھی نکلتاہے کہ اسی طرح کافروں کو عذاب بھی بعد موت ہوتاہوگا،اور اس سے اثبات عذاب ِ قبر ہوتاہے۔۔۔امام رازی نے آیت کے تحت میں حدیث نبوی  القبرروضۃ من ریاض الجنۃ اوجفرۃ من جُفر النیران(قبر یاتو جنت  کے باغوں میں سےایک باغ ہوتی ہے ،یاایک گڑھاہوتاہے آگ کے گڑھوں میں سے )درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ عذاب وثواب قبر کے باب میں حدیثیں گویا حدّ تواتر کو پہونچی ہوئی ہیں۔۔۔ابن کثیر نے ایک حدیث نبوی نقل کرکے اور اس سے استنباط کرکے لکھاہے کہ ایسی حیات عام مؤمنین کو حاصل رہتی ہے،البتہ شہداء کا ذکر خاص طورپر ان کی عظمت و اکرام کیلئے قرآن مجید میں کردیا گیاہے۔(تفسیر ماجدی) 

- زندگی اور موت سے متعلق صحیح تصور:

اس کے انعامات ان کو عالمِ برزخ ہی سےملنے شروع ہوجاتے ہیں، چنانچہ ایک دوسری جگہ ارشاد ہے۔ولاتحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتاً بل احیاء عندربھم یرزقون۔(169آل عمران)ترجمہ:"جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں ان کو مردہ خیال نہ کرو،بلکہ وہ زندہ ہیں ،اپنے ارب کے پاس روزی پارہے ہیں"(تدبرقرآن)

155۔صبرکرنے والوں کو،یعنی اُن بندوں کو جوحالت ِ غم میں بھی حدودِ شریعت سے قدم باہرنہیں نکالتے ،صبر کرنے کے معنیٰ یہ نہیں کہ بندہ بالکل بے حس ہوجائے اور غم کو غم ہی نہ کرے اس کا نام صبر نہیں، بے حسی ہے،صبر یہ ہے کہ انتہائی غمناک و درد انگیز واقعہ پر عقل کو نفس پر غالب رکھے،زبان کو شکوہ اور ناشکری سے نہ آلودہ ہونے دے اور نظر کو مسبب الاسباب پر اُس کی مصلحت و حکمت پر اس کی شفقت و رحمت پر رکھے۔

؎ غم میں بھی قانون فطرت سے میں کچھ بدظن نہیں یہ سمجھتاہوں کہ میرا دوست ہے، دشمن نہیں!(اکبرؒ)    (تفسیر ماجدی)

خوف: اس خوف کا ذکر "بشیء"یعنی کسی قیدکے ساتھ کیا ہے۔جس سے مقصود مسلمانوں کی ہمت افزائی ہے کہ یہ حالت پیش تو آئے گی،لیکن یہ اس مقدار سےزیادہ نہ ہوگی جو تمہاری عزیمت و استقامت کی جانچ کیلئے ضروری ہے اس وجہ سے اس سے دل شکستہ اور پست ہمت ہونے کے بجائے اس کا ڈٹ کرمقابلہ کرنا چاہئے۔۔۔ثمرات کا ذکر اگرچہ اموال کے ذکر کے بعد بظاہر کچھ زائد سامعلوم ہوتاہے۔اس لیے کہ یہ بھی اموال میں شامل ہے۔لیکن اس کے ذکرمیں موقع کلام کی رعایت ملحوظ ہے۔اہلِ عرب کی دولت یا تو اونٹ اور بھیڑ بکریاں تھیں جن کیلئے اموال کا لفظ استعمال ہوتاتھا یا پھر پھل خصوصاً کھجور ،ملک کی اس مخصوص حالت کی وجہ سے اموال کے ساتھ ثمرات کا ذکر بھی ہوا۔(تدبرقرآن)

57-155۔آیت : 214 کے ساتھ ملاکر پڑھنا چاہیئے۔

156۔ حدیث نبوی میں اسے آیت استرجاع (کسی چیز کی واپسی کا مطالبہ کرنا۔ استرجاع'، 'إنا لله وإنا إليه راجعون' کہنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔) سے تعبیر کیا گیا ہے اور ارشاد ہواہے کہ جوکوئی مصیبت کے وقت اسے پڑھ لیا کرے گا ،اللہ اس کی بگڑی بنادے گا اور اس کی عقبیٰ بخیر کرے گا۔۔۔زبان سے اس آیت کی تلاوت کا دستور بحمداللہ اب بھی اکثر مسلمان گھروں میں پایا جاتاہے، لیکن تحصیل صبر کیلئے محض زبانی اعادہ ہرگز کافی نہیں،قلب کے سامنے بھی استحضار پوری طرح ہونا چاہئیے۔۔۔ آیت کے اندر تعلیم تین چیزوں کی ملی ۔ایک یہ کہ ہم سب عبد محض ہیں،اور تمام تر اُسی کی ملک ،ہم خود بھی اور ہماری ہر چیز بھی،اپنی کوئی شئے ہی نہیں،نہ بیوی نہ بچے،نہ مال نہ جائداد،نہ وطن نہ خاندان،نہ جسم نہ جان! ع۔ جو کچھ ہے سب خدا کا،وہم و گماں ہمارا! (اکبرؒ)

انسان کے سارے رنج و غم،دردو حسرت کی بنیاد صرف اس قدر ہوتی ہے کہ وہ اپنے محبوب چیزوں کو اپنی سمجھتاہے،محبوبات،مالوفات،مرغوبات کے چھن جانے پر گلہ و شکوہ رنج و ملال کا موقع ہی کیا؟دوسری بات یہ کہ بڑے بڑے رنج اور صدمے اور دل کے داغ بھی عارضی اور فانی ہیں،رہ جانے والے کوئی بھی نہیں،عنقریب انہیں چھوڑ چھاڑ ،مالک کی خدمت میں حاضری دینا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہاں پہونچتے ہی سارے قرضے بیباق ہوجائیں گے ہرکھوئی ہوئی چیز وصول ہوکررہے گی۔(تفسیر ماجدی)۔۔۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔صابرین کی ڈھال۔(تدبر قرآن)

؎ نشانِ مردمومن بتوگویم چو مرگ آید تبسم برلب اوست ( علامہ اقبال )

158۔ عورت کا مقام:ہو سکتا ہے کہ کسی کے دل میں خیال آئے کہ صفا اور مروہ کا طواف تو ایک عورت کا اتباع ہے۔ کرنا چاہئے یا نہیں؟ آیہ مبارک یاد دلاتی ہے کہ  اللہ تعالیٰ کے نزدیک  عورت ہو یا مرد جو کوئی بھی عمل صالح کرے گا اجر پائے گا۔۔۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا  کہ"جو کوئی بھی دل کی خوشی  سے نیکی کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو بڑا قدردان پائے گا"۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمل کی قبولیت کے لیے ذات پات،نسل،مذہب،عورت یا مرد کا  امتیاز نہیں بلکہ شرط تقویٰ ہے۔ (کتاب زندگی)

۔۔۔۔۔ شعائر ۔جوشعوربخشیں ۔ذہن میں (شعورمیں) کچھ اعلیٰ ہستیوں کی خاص اداؤں یا تاریخی واقعات کا خیال۔(ڈاکٹر اسرار)۔۔۔۔۔ حج البیت ۔حج عبادت ِ اسلامی کا چوتھا رکن ،یا نماز،روزہ،زکوٰۃ کے بعد چوتھا فریضہ ،لفظی معنیٰ قصد کے ہیں، اب اصطلاح میں یہ خانۂ کعبہ کی سالانہ زیارت متعیّن قاعدوں کے مطابق و ماتحت کیلئے مخصوص ہوگیا ہے۔۔۔یہ سعی صفاو مروہ کے درمیان ،حنفیہ کے ہاں واجب ہے، امام احمدؒ کے ہاں سنت ہے، اور مالکیہ و شافعیہ کے ہاں فرض ہے، یہ آمد و رفت سات بارہوتی ہے،درمیان کا کچھ فاصلہ تقریباً دوفرلانگ دوڑ کر چلنا ہوتاہے،اسی لئے اس کا نام سعی (دوڑ) ہے اس فاصلہ کی علامت کے طورپر سڑک کے کنارے دوپتھر سبزرنگ کے نصب کردئیے گئے ہیں،کسی زمانہ میں یہاں بالکل ویرانہ تھا ،لیکن اب تو عین بازار ہے اور صفا و مروہ کے درمیان خوب آبادی اور چہل پہل رہتی ہے۔۔۔ابھی ایک ہی آیت اوپر ذکر فضائل صبر کا ہورہاتھا ،اس کے معاً بعد ذکر حج شروع ہوجانا ،علاوہ اور بہت سی حکمتوں اور مصلحتوں کے ایک خاص مناسبت بھی صبر سے رکھتاہے،ان سطور کے راقم نامہ سیاہ کا ذاتی تجربہ ہے کہ موسم حج کے ہجوم و چپقلش اور مسلسل کوچ و مقام میں فرائض تک کی پابندی مشکل پڑجاتی ہے،سُنن و مستحبات کا کیا ذکر ہے،اشتعال کے باوجود زبان پر قابورکھئے،ہاتھ پر قابورکھئے ،کان اور آنکھ پر قابو رکھئے ،غرض صبر کا پورا امتحان ہوجاتاہے۔(تفسیر ماجدی)

159۔ البینٰت والھدیٰ۔ بینات وہ نشانیاں ہیں جو بجائے خود واضح و صریح ہیں،الھدیٰ وہ ہے جو دوسروں کیلئے ذریعہ ہدایت بن سکے ،یہاں بینات سے مراد رسالت محمدیؐ کے دلائل و شواہد ہیں اور ھدیٰ سے مراد احکام شریعت ہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ البینات والھدیٰ کے عموم میں منصوص مستنبط دونوں قسم کے احکام آگئے۔۔۔۔۔ خواہ لعنت کرنے والے جنس آدم سے ہوں یا جنّات ہوں یا ملائکہ ہوں یا اور کوئی مخلوق ہوں۔لعنۃپر حاشیے پارۂ اول میں گذر چکے ،اللہ کی لعنت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو اپنے سے دوراور اپنے فضل و کرم سے مہجور کردیتاہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ یہ آیت  قرآن کریم کی  بڑی سخت آیات  میں سےہے۔

160۔توبہ کی شرائط: صرف توبہ کرنا ہی کافی نہیں بلکہ ان کے اس کتمان حق سے جوبگاڑ پیدا ہواتھا ۔اس کی اصلاح بھی کرنا ہوگی پھر اپنی غلطی کا لوگوں کے سامنے برملا اعتراف بھی کریں تو صر ف ایسے لوگوں کی اللہ توبہ قبول کرے گا ورنہ نہیں ۔اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک مصنف احکام الٰہی کی غلط تاویل کرکے اپنے ملحدانہ خیالات پر مشتمل ایک کتاب شائع کردیتاہے ، بعد میں توبہ کرلیتاہے ۔لیکن اس کے جو ملحدانہ خیالات عوام میں پھیل چکے ۔جب تک وہ ان کی تردید میں اپنی دوسری کتاب لکھ کر اس پیدا شدہ بگاڑ کی اصلاح نہ کرے گا اس کی توبہ قبول ہونے کی توقع نہیں ہوگی اور یہی بینوا کا مفہوم ہے۔(تیسیر القرآن)

161۔ کفر کی تعریف:۔ "کفر" کے اصلی معنی چھپانے کے ہیں ۔اسی سے انکار کا مفہوم پیدا ہوااور یہ لفظ ایمان کے مقابلے میں بولا جانے لگا ۔ایمان کے معنی ہیں ماننا،قبول کرنا، تسلیم کرلینا۔اس کے برعکس کفر کے معنی ہیں نہ ماننا، ردکردینا،انکار کرنا ۔قرآن کی روسے کفر کے رویہ کی مختلف صورتیں ہیں:ایک یہ کہ انسان سرے سے خداہی کو نہ مانے، یا اس کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم نہ کرے اور اس کو اپنا اور ساری کائنات کا مالک اور معبود ماننے سے انکار کردے،یا اسے واحد مالک اور معبود نہ مانے۔دوسرے یہ کہ اللہ کو تومانے مگر اس کے احکام اور اس کی ہدایات کو واحد منبع علم و قانون تسلیم کرنے سے انکار کردے۔تیسرے یہ کہ اصولاً اس بات کو بھی تسلیم کرلے کہ اسے اللہ ہی کی ہدایت پر چلنا چاہیے،مگر اللہ اپنی ہدایات اور اپنے احکام پہنچانے کیلئے جن پیغمبروں کو واسطہ بناتاہے،انہیں تسلیم نہ کرے۔چوتھے یہ کہ پیغمبروں کے درمیان تفریق کرے اور اپنی پسند یا اپنے تعصبات کی بناپر ان میں سے کسی کو مانے اور کسی کو نہ مانے۔پانچویں یہ کہ پیغمبروں نے خدا کی طرف سے عقائد ،اخلاق اور قوانینِ حیات کے متعلق جوتعلیمات بیان کی ہیں ان کو، یا ان میں سے کسی چیز کو قبول نہ کرے۔چھٹے یہ کہ نظریے کے طورپر تو ان سب چیزوں کو مان لے مگر عملاً احکام ِ الٰہی کی دانستہ نافرمائی کرے اور اس نافرمانی پر اصرار کرتا رہے،اور دنیوی زندگی میں اپنے رویے کی بناپر اطاعت پر نہیں بلکہ نافرمانی ہی پر رکھے۔یہ سب مختلف طرز فکر و عمل اللہ کے مقابلے میں باغیانہ ہیں اور ان میں سے ہر ایک رویے کو قرآن کفر سے تعبیر کرتا ہے۔اس کے علاوہ بعض مقامات پر قرآن میں کفر کا لفظ کفرانِ نعمت کے معنی میں بھی استعمال ہواہے اور شکر کے مقابلے میں بولاگیا ہے۔شکر کے معنی یہ ہیں کہ نعمت جس نے دی ہے انسان اس کا احسان مند ہو، اس کے احسان کی قدر کرے ،اس کی دی ہوئی نعمت کو اسی کی رضا کے مطابق استعمال کرے، اور اس کا دل اپنے محسن کیلئے وفاداری کے جذبے سے لبریز ہو۔اس کے مقابلے میں کفر یا کفرانِ نعمت یہ ہے کہ آدمی یاتو اپنے محسن کا احسان ہی نہ مانے اور اسے اپنی قابلیت یا کسی غیر کی عنایت یا سفارش کا نتیجہ سمجھے ،یا اس کی دی ہوئی نعمت کی ناقدری کرے اور اسے ضائع کردے،یا اس کی نعمت کو اس کی رضا کے خلاف استعمال کرے، یا اس کے احسانات کے باوجود اس کے ساتھ غدر اور بے وفائی کرے۔اس نوع کے کفر کو ہماری زبان میں بالعموم احسان فراموشی ،نمک حرامی، غداری اور ناشکرے پن کے الفاظ سے تعبیر کیا جاتاہے۔(تفہیم القرآن)۔۔۔۔۔ جب  تک کسی کافر کے کفر کا یقین نہ ہو،اس پر لعنت نہیں ،پھر مسلمانوں پر  کیوں؟(معارف القرآن)۔۔۔۔۔ لعنۃ اللہ۔اہلسنت کے ہاں کسی متعین گہنگار پر لعنت کرنا ہرگز جائز نہیں ،البتہ بغیر کسی کو متعین کئے ہوئے مبہم و مطلق صورت میں جائز ہے،مثلاًیہ کہ چور پر لعنت ہو۔۔۔بلکہ حدیث صحیح میں تو مؤمن پر لعنت اس کے قتل کے مثل بتائی گئی ہے۔۔۔وماتوھم کفار۔ بلکہ زندگی میں تو کافر متعین تک پر بھی لعنت کی اجازت نہیں وماتوا کی قید نے صاف کردیا کہ یہاں جن پر لعنت آئی ہے،ان کی موت ہی کفر پر ہوچکی تھی اور اصل مدار ختم اعمال یا وفات پر ہے۔۔۔عبرت حاصل کرنا چاہئیے اُن مسلمانوں کو جو اپنے کسی بھائی کو لغزش میں مبتلادیکھ کر اس پر لعنت بھیجنے لگتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)۔۔۔۔۔ تخفیف کا تعلق بعد عذاب سے ہے اور مہلت کا تعلق قبل عذاب سے،یعنی دوزخ میں پڑنے کے بعد نہ کسی قسم کی تخفیف ان کے عذاب میں ہوگی اور نہ عذاب میں پڑنے سے قبل ہی کوئی مہلت انہیں ملے گی۔(تفسیر ماجدی)

163۔  آیت 162 پر اس سورۃ کا   پہلا باب ختم ہوا۔ اس باب میں ایک مناسب ترتیب کے ساتھ امت کو وہ احکام دئیے گئے ہیں جن کے لیئے سورۃ کے زمانہ نزول کے حالات  متقاضی تھے اور ساتھ ہی ہر حکم کے تحت ان بدعات کی تردید کی گئی ہے جو یہود یا مشرکین نے  شریعتِ الٰہی میں ملا دی تھیں۔۔۔۔ اس باب کا آغاز توحید کے بیان  سے ہو رہا ہے۔ ۔۔ توحید کے دعوے کے ذکر کے بعد اس کی دلیل بیان  ہوئی ہے۔ ۔۔۔ پھر شرک کی تردید فرمائی ہے۔ اس ضمن میں کسی چیز کو خدا کے حکم کے بغیر حرام یا حلال  ٹھہرانے  کی بھی مذمت کی گئی ہے۔۔۔۔ پھر ان چیزوں کی طرف سرسری اشارہ فرمایا  جو فی الواقع اللہ کی حرام ٹھہرائی ہوئی ہیں۔ ۔۔۔ اس کے بعد چند آیات میں  مشرکین کو ان کی اندھی بہری تقلیدِ آباء پر اور اہلِ کتاب کو ان کی حق پوشی پر سرزنش فرمائی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

۔ توحید باری پر آٹھ دلائل: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے غوروفکر کرنے والوں کیلئے آٹھ ایسے امور کا ذکر فرمایا ہےجو اللہ کے وجود پر اور اس کی لامحدود قدرت و تصرف پرواضح دلائل ہیں۔مثلاً اتنے عظیم الشان آسمان کو بغیر ستونوں کے پیدا کرنااور زمین کو اس طرح بنانا کہ اس پر بسنے والی تمام مخلوق کی ضروریات کی کفیل ہے۔ دن رات کا یکے بعد دیگرے آنا جانا اور ان کے اوقات گھٹنابڑھنا ،جہازوں کا بڑے بڑے مہیب اور متلاطم سمندروںمیں رواں ہونا، آسمان سے بارش برسانا جس سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔ہرجاندار میں توالد و تناسل کا سلسلہ قائم کرنا انہیں تمام روئے زمین پر پھیلادینا ،ہواؤں کے رخ میں تبدیلی پیداکرنا اور بلندیوں پر بادلوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا۔یہ سب کام ایسے ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی بھی ہستی سرانجام نہیں دے سکتی ۔پھر اورکون سے کام ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کو دوسرے دیوی اور دیوتاؤں کی ضرورت پیش آسکتی ہے؟پھر مندرجہ بالا امور بیان کرنے کے بعد ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ غور و فکر کرنے والوں کیلئے اس کائنات میں ان کے علاوہ اور بھی ایسی بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔(تیسیر القرآن)


بیسواں رکوع

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ 164 بےشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانےمیں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں،۔
 وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ 165 اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک (خدا) بناتے اور ان سے خدا کی سی محبت کرتے ہیں۔ لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو خدا ہی کے سب سے زیادہ دوستدار ہیں۔ اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے۔ اور یہ کہ خدا سخت عذاب کرنے والا ہے۔
اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ  166 اس دن (کفر کے) پیشوا اپنے پیرووں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور (دونوں) عذاب (الہیٰ) دیکھ لیں گے اور ان کے آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ ۠ 167 (یہ حال دیکھ کر) پیروی کرنے والے (حسرت سے) کہیں گے کہ اے کاش ہمیں پھر دنیا میں جانا نصیب ہو تاکہ جس طرح یہ ہم سے بیزار ہو رہے ہیں اسی طرح ہم بھی ان سے بیزار ہوں۔ اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گااور وہ دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے۔

تفسیر آیات

164۔ آیت الآیات۔ حکمت کا بہت بڑا پھول،اللہ کی پہچان۔(ڈاکٹر اسرار)۔۔۔۔۔ ہندوستان میں جب شروع شروع میں ریل نکلی ہے تو دیہات میں خو داس کی پوجا شروع ہوگئی تھی،اور بہت سے "خوش عقیدہ" مشرکوں نے اپنے معبودوں کی فہرست میں ایک "انجن دیوتا" کا بھی اضافہ کرلیا تھا،ایسی ہی وہم پرست قوموں نے اگر کبھی بادبانی جہازوں اور دخانی کشتیوں کی بھی پوجا کی ہو،تو کچھ عجب نہیں ،فلک کے عموم کے تحت میں اسٹیمر،لائنز،ڈریڈناٹ ،ہرقسم کے چھوٹے بڑے جہاز اور آب دوز ، تباہ کن ،ہرقسم کی  چھوٹی بڑی کشتیاں،غرض کل بحری سواریاں آگئیں ،جو اس وقت موجود ہیں ،یاقیامت تک ایجاد ہوسکیں ،سامان جنگ کیلئے یا سامان تجارت کیلئے یا بغرض تفریح۔(تفسیر ماجدی)

۔حیات بعد الموت پر بھی اس کی شہادت نہایت واضع ہے اور اس کی طرف  یہاں بھی اشارہ ہے ۔ توحید پر بھی اس سے استدلال کیا ہے کہ جب آسمان  سے اترنے والی بارش زمین کو زندگی اور روئیدگی بخشتی ہے  تو یہ کس طرح  باور کرتے ہو کہ زمین کے دیوتا الگ اور  آسمان کے دیوتا الگ ہیں، اگر اس طرح  ہر چیز کی خدایاں الگ الگ تقسیم ہوتیں تو اس کا رخانہ کائنات  میں ایسی حیرت انگیز سازگاری کس طرح پیدا ہوتی۔ (تدبرِ قرآن)

165۔ اگلی آیت میں انسانی حماقت ۔ خداکی بجائے معبودان مثلاً نفس(انا)، وطن،برادری،قوم،باپ دادا کے فخر،دولت،اولادوغیرہ)

؎ ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے اس کا جوپیرہن ہے وہ مذہب کا کفن ہے

؎ بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے ناامیدی مجھے بتاتوسہی اور کافری کیا ہے؟

؎ یہ مال و منال ِ دنیایہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں لاالہ الااللہ

ـ خودی کا سرِ نہاں  لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ  ۔۔۔مطالب کلام اقبال

- ان صلاتی و نسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین۔

- آئیڈیل صرف خدا ،جس کے لئے قربانی  اور وہی سب سے بڑا محبوب ۔

۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا : جو یہ جاننا چاہتاہے کہ اللہ کے نزدیک اس کا مقام کیا ہے،وہ یہ دیکھے کہ اللہ کا مقام اس کے نزدیک کیا ہے۔ اس  کا بہترین ٹیسٹ یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ اللہ کاکلام موجود ہے مگر ہمارا رویہ اس کے متعلق کیا ہے، عامیانہ  یا  محبت والا؟

- یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے       لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

                             -   چون می گویم مسلمانم بلرزم                                     کہ دانم مشکلات لا الہ ٰرا                        (علامہ اقبال)

- "انداد" سے مراد عموماً مورتیوں ،بتوں، دیوتاؤں سے لی گئی ہے۔۔۔رؤسا،سردار اور مقتدیانِ قوم بھی مرادلئے گئے ہیں۔۔۔۔تیسرا قول یہ ہے کہ مفہوم ان سب سے وسیع ترہے اور لفظ کا عموم ہر ایسی چیز کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کے سواقلب پر مسلط ہوجائے اور امام رازی نے اس قول کو صوفیہ اور عارفین کی جانب منسوب کیا ہے۔۔۔چنانچہ مشاہدہ ہے کہ آج بھی مسیحیوں کو محبت اور تعلق ِ خاطرخداسے کہیں زیادہ "خدا کے بیٹے" اور پھر "روح القدس" اور "مقدس کنواری" سے ہے اور ہندؤں کی محبت اور تعلقِ خاطر خدا سے کہیں زیادہ  اپنے ایشور اور پرماتما سے کہیں زیادہ دُرگامائی،لکشمی مائی ،اگنی دیوتا وغیرہ دیویوں ،دیوتاؤں کے ساتھ اور رشیوں ،بنیوں،سادھوؤں کے ساتھ ہے۔(تفسیر ماجدی)

167۔ شیخ رشید رضا مصری نے اپنے شیخ و استاد محمد عبدہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ مفسرین نے ایسی آیتوں کے تحت میں یہ جو لکھ دیاہے کہ یہ مخصوص ہیں کافروں کیلئے تو اس سے افسوس ہے کہ مسلمانوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ان کیلئے کوئی نکیر ووعید ہے ہی نہیں اوران کیلئے صرف کلمہ توحید کا اقرار کافی ہوجائے گا۔(تفسیر ماجدی)


اکیسواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ  168 . لوگو جو چیزیں زمین میں حلال طیب ہیں وہ کھاؤ۔ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
 اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ  169 . وہ تو تم کو برائی اور بےحیائی ہی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور یہ بھی کہ خدا کی نسبت ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں۔
 وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ 170 اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اورنہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی وہ انہی کی تقلید کئے جائیں گے)۔
 وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ 171 جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔ (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ ہی نہیں سکتے۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ 172 اے اہل ایمان جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائیں ہیں ان کو کھاؤ اور اگر خدا ہی کے بندے ہو تو اس (کی نعمتوں) کا شکر بھی ادا کرو۔
 اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 173 اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے ہاں جو ناچار ہوجائے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 174 جو لوگ (خدا) کی کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن نہ کلام کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا۔اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے۔
 اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ 175 یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اور بخشش چھوڑ کر عذاب خریدا۔ یہ (آتش) جہنم کی کیسی برداشت کرنے والے ہیں!
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ 176 یہ اس لئے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی۔ اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آکر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں۔

تفسیر آیات

168-چونکہ خداکے حکم کے بغیر تحریم و تحلیل شرک ہے ۔اس وجہ سے قرآن میں شرک اور تحریم و تحلیل کا ذکر جگہ جگہ ایک ساتھ۔)تدبر قرآن (۔۔۔۔۔ حلال سے مراد ایک تو وہ سب چیزیں ہیں جنہیں شریعت نے حرام قرارنہیں دیا۔دوسرے وہ جنہیں انسان اپنے عمل سے حرام نہ بنا لے۔جیسے چوری کی مرغی یا سود اور ناجائز طریقوں سے کمایا ہوامال اور پاکیزہ سے مراد وہ صاف ستھری چیزیں ہیں جو گندی سڑی،باسی اور متعفن نہ ہوگئی ہوں۔حرام چیزوں سے بچنے کی احادیث میں بہت تاکید آئی ہے۔)تیسیر القرآن(۔۔۔۔۔طیباً۔یعنی جو غذائیں حاصل بھی جائز ذرائع سے ہوئی ہوں ،اور جن پر غیرکا حق نہ ہو مثلاً بیع فاسد نہ ہو،اجرت فاسد نہ ہو،وغیرہ۔۔۔ترجمان القرآن میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص ؓ صحابی نے آنحضرتؐ سے عرض کیا کہ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے مستجاب الدعوات بنادے ،حضورؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ لقمۂ حلال کا التزام کرلو،خودبخود مستجاب الدعوات ہوجاؤگے ۔یہ ہے اسلام میں اکل حلال کی اہمیت۔طیباً ۔طیب کے معنی لذیذ کے بھی ہیں اور اس کی تفسیر لذیذ و نفیس سے ہی آئی ہے۔)تفسیر ماجدی(

۔ مشرکینِ عرب نے اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت کن  چیزوں کو حرام یا حلال ٹھہرایا تھا تو اس کی طرف قرآن نے جگہ جگہ اشارے کیے ہیں۔۔۔ اور جو کھیتیاں اور چوپائے خدا کے پیدا کیے ہوئے ہیں  ان میں انھوں نے اپنے شرکاء کے ساتھ ساتھ خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کر رکھا ہے۔۔۔ اسی طرح بہت سے مشرکین کے لئے ان کے شرکاء نے قتلِ اولاد کو ایک پسندیدہ  فعل بنا دیا ہے۔۔۔۔اور کہتے ہیں کہ فلاں فلاں  چوپائے اور فلاں فلاں قسم کی فصلیں ممنوع ہیں۔۔۔ اور کہتے ہیں کہ فلاں فلاں چوپایوں کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ ہمارے مردوں ہی کے لیے جائز ہے۔۔۔۔۔اسی طرح مشرکین نے بعض قسم کے چوپایوں کو اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت  یا اپنے بتوں کی نسبت سے تقدیس کا درجہ دے دیا تھا ۔۔۔۔۔ قرآن نے ایک جگہ اس کی تردید کی ہے۔۔۔۔۔ اور یہ بحیرہ اور سائبہ  اور وصیلہ اور حام خدا نے مشروع نہیں ٹھہرائے  ہیں۔ (تدبر قرآن)

169۔ فحشاکا لفظ کھلی ہوئی بدکاری اور بے حیائی کیلئے استعمال ہوتاہے قرآن میں اس سے زنا، لواطت اور ننگے ہوکر طواف کرنے کی طرف اشارےکئے گئے ہیں۔سؤ اور فحش اکٹھے ہوں توتمام چھوٹی بڑی برائیاں اس میں شامل ہو جاتی ہیں۔)تدبر قرآن(۔۔۔۔۔سوء والفحشاء دولفظ متقارب المعنیٰ ہیں ،لیکن متحدالمعنیٰ نہیں، سوء تو وہ چیز ہے جو عقلاً بھی ناپسندیدہ ہو،اور فحشاء وہ ہے جسے شریعت نے براٹھہرایاہے۔۔۔یہ فرق بھی کیا گیا ہے کہ سوء میں کوئی حد شرعی مقرر نہیں اور فحشاء میں حدِ شرعی معین ہوتی ہے اور یہ معنیٰ ابن عباس سے منسوب ہیں ۔)تفسیر ماجدی(

170۔۔۔قرآن کے اس سوال کے انداز سے یہ بات نکلتی ہے کہ مجرد یہ چیز کہ ایک بات باپ دادا سے چلی آرہی ہے اس کی صحت و صداقت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ تحقیق و تنقید کی کسوٹی پر اس کو رکھ کر یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ بات اگر مجرد عقل و رائے سے تعلق رکھنے والی ہے تو وہ عقل کی میزان پر پوری اترتی ہے یا نہیں اور اگر دین سے تعلق رکھنے والی ہے تو اس کی کوئی مضبوط اور قابل اعتماد سند ہے یا نہیں۔ گویا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ قرآن ایک طرف تو مجرد تقلید پر اعتماد کرنے کے بجائے تحقیق اور تنقید کے لیے برابر آنکھیں کھولے رکھنے کی دعوت دیتا ہے، دوسری طرف وہ ماضی کے ورثہ کو احترام کی نگاہ سے دیکھنے کی بھی ہدایت کرتا ہے اور بغیر تحقیق و تنقید اس سے دستبردار ہوجانے کی اجازت نہیں دیتا۔)تدبر قرآن(۔۔۔۔۔ البتہ محققین نے یہ بھی تصریح کردی ہے کہ تقلید عقائد میں نہیں ہوتی، تقلید صرف احکام میں ہوتی ہے ،عقائد کے باب میں حکم اور معیار کتاب و سنت کی تصریحات ہی ہیں۔)تفسیر ماجدی(

172۔اس میں اشارہ ہے کہ نیک عمل کرنے میں رزق ِ حلال کو بڑا دخل ہے۔یہی صورت دعا کی قبولیت میں ہے ۔حضورؐ نے فرمایا کہ بہت سے لوگ طویل السفر پریشان حال اللہ کے سامنے دعا کےلئے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور یارب یارب پکارتے ہیں مگر کھانا ان کا حرام ،پینا ان کا حرام ،لباس ان کا حرام،غذا ان کی حرام ،ان حالات میں ان کی دعا کہاں قبول ہوسکتی ہے(صحیح مسلم،ترمذی،ابنِ کثیر)(معارف القرآن) 

173- ہاں اگر کوئی شخص کچھ صدقہ و خیرات کرتاہے یا قربانی کرتاہےاور اس سے اس کی نیت یہ ہوکہ اس کا ثواب میرے فوت شدہ والدین یا فلاں رشتہ دار یا مرشد کو پہنچے تو اس میں کوئی حرج نہیں،یہ ایک نیک عمل ہےجو سنت سے ثابت ہے۔(تیسیر القرآن(

۔اگر کوئی شخص  مضرت کے اندیشہ کے باوجود  تیمم کے بجائے  وضو پر اصرار کرے یا زحمتوں کے باوجود سفر میں  اتمامِ نماز ہی کو تقاضائے تقویٰ سمجھے  یا مشقت کے باوجود  سفر کی حالت میں بھی روزے پورے کرنے ہی کو  عزیمت جانے تو ہمارے نزدیک  ایسا شخص اسلام کا اصلی مزاج سمجھنے سے  قاصر رہا ہے۔ یہ دین کے معاملہ میں تشدد پسندی ہے۔۔۔۔لیکن  اگرکسی   شخص کو سفر میں ہر قسم  کی سہولتیں حاصل ہوں  وہ بلا کسی خاص زحمت کے  پوری نمازیں پڑھ سکتا ہے یا روزے رکھ سکتا ہے تو اس سے کسی گناہ کے لازم ہونے کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے  ۔۔۔۔کتنے اصحاب نے  اعدائے توحید کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کیا اور زندگی تو سب ہی حضرات کی خطرے میں رہی لیکن ان میں سے  کسی ایک صحابی کے متعلق بھی ہمارے علم میں یہ بات  نہیں آئی کہ انھوں نے جان بچانے کی خاطر کلمہ کفر زبان سے نکالا  ہو حالانکہ قرآن میں اس بات  کی صریح اجازت موجود تھی  کہ” اکراہ” کی صورت میں آدمی جان بچانے کے لئے کلمہ کفر کہہ سکتا ہے۔(تدبرِقرآن)

- میتہ کے مسائل:

خود قرآن کریم کی دوسری آیت احل لکم صید البحر سے معلوم ہوا کہ دریائی جانور  کیلئے ذبح کرنا شرط نہیں ،وہ بلاذبح بھی جائز ہے، اس بناپر احادیث صحیحہ میں مچھلی اور ٹڈی کو میتہ سے مستثنیٰ قرار دے کر حلال کیا گیا ہے، رسول اللہؐ نے فرمایا کہ ہمارے لئے دو مردار حلال  کردیے گئے ،ایک مچھلی اور دوسری ٹڈی اور دوخون حلال کردئیے گئے ، جگر اور طحال(ابن کثیر،از احمد، ابن ماجہ، دارقطنی)معلوم ہوا کہ جانوروں میں سے مچھلی اور ٹڈی بغیر ذبح کے حلال ہیں،خواہ وہ خود مرجائیں ،یا کسی کے مارنے سے مرجائیں ،البتہ مچھلی سڑجانے کی وجہ سے خود پانی کے اوپر آجائے تو وہ حرام ہے(جصاص)اسی طرح وہ شکاری جانور جو قابو میں نہیں کہ ذبح کرلیا جائے اور اس کو بھی بسم اللہ پڑھ کر تیر وغیرہ دھار دار چیز سے زخم لگادیں تو بغیر ذبح کے حلال ہوجاتاہے ،مطلقاً  زخمی ہونا کافی نہیں ،کسی آلۂ جارحہ تیز دھار سے زخمی ہونا شرط ہے۔مسئلہ:بندوق کی گولی سے کوئی جانور زخمی ہوکر قبل ذبح مرجائے تو وہ ایسا ہے جیسے پتھر یا لاٹھی مارنے سے مرجائے ،جس کو قرآن کریم کی دوسری آیت میں موقوذۃ کہا گیا ہے،اور حرام قرار دیا ہے ،ہاں مرنے سے پہلے اس کو ذبح کرلیا جائے تو حلال ہوجائے گا۔مسئلہ: آجکل بندوق کی ایک گولی نوکدار بنائی گئی ہے ،اس کے متعلق بعض علماء کا خیا ل ہے کہ تیر کے حکم میں ہے،مگر جمہور علماء کے نزدیک یہ بھی تیر کی طرح آلۂ جارحہ نہیں،بلکہ خارقہ ہے جس سے بارود کی طاقت کے ذریعہ گوشت پھٹ جاتاہے ،ورنہ خود اس میں کوئی دھار نہیں جس سے جانور زخمی ہوجائے اس لئے ایسی گولی کا شکار بھی بغیر ذبح کے جائز نہیں۔مسئلہ : آیت مذکورہ میں مطلقاً  میتہ کو حرام قرار دیاہے،اس لئے جس طرح اس کا گوشت حرام ہے اس کی خرید و فروخت بھی حرام ہے، یہ حکم تمام نجاسات کا ہے،یہاں تک مردار جانور یا ناپاک کوئی چیز بااختیار خودجانور کو کھلانا بھی جائز نہیں ،ہاں ایسی جگہ رکھ دے جہاں سے کوئی کتا بلی خود کھالے ،یہ جائز ہے ،مگر خود اٹھا کر ان کوکھلانا جائز نہیں(جصاص،قرطبی وغیرہ)۔مسئلہ: اس آیت میں میتہ کے حرام ہونے کا حکم عام معلوم ہوتاہے ،جس میں میتہ کے تمام اجزاء شامل ہیں ،،لیکن دوسری آیت میں اس کی تشریح علی طاعم یطعمہ کے الفاظ سے کردی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ مردار جانور کے وہ اجزاء حرام ہیں جو کھانے کے قابل ہیں،اس لئے مردار جانور کی ہڈی ،بال جو کھانے کی چیز نہیں وہ پاک ہیں اور ان کا استعمال جائز ہے ،آیت قرآن کریم ومن اصوافھا و ادبارھا واشعارھآاثاثاً ومتعاً الی حین میں ان جانوروں کے بالوں کو مطلقاً جائز الانتفاع قرار دیا ہے ذبیحہ کی شرط نہیں(جصاص)۔کھال پر چونکہ خون وغیرہ کی نجاست لگی ہوتی ہے اس لئے وہ دباغت سے پہلے حرام ہے ،مگر دباغت دینے کے بعد حلا ل اور جائز ہے، احادیث ِ صحیحہ میں اس کی مزید تصریح موجود ہے (جصاص)

مسئلہ: مردار جانور کی چربی اور اس سے بنائی ہوئی چیزیں بھی حرام ہیں ،ان کا استعمال کسی طرح جائز نہیں ،اور خرید و فروخت بھی حرام ہے۔ مسئلہ: یورپ وغیرہ سے اآئی ہوئی چیزیں صابون وغیرہ جن میں چربی استعمال ہوتی ہیں ،ان سے پرہیز کرنا احتیاط ہے،مگر مردار کی چربی ہونے کا علم یقینی نہ ہونے کی وجہ سے گنجائش ہے، نیز اس وجہ سے بھی کہ بعض صحابہ کرامؓ ابن عمر ؓ،ابوسعید خدریؓ ابوموسیٰ شعریؓ نے مردار کی چربی کا صرف کھانے میں استعمال حرام قرار دیا ہے ،خارجی استعمال کی اجازت دی ہے ،اس لئے اس کی خرید و فروخت کو بھی جائز رکھا ہے(جصاص) مسئلہ: دودھ کا پنیر بنانے میں ایک چیز استعمال کی جاتی ہے جس کو عربی میں انفحہ کہا جاتاہے ،یہ جانور کے پیٹ سے نکالی جاتی ہے اس کو دودھ میں شامل کرنے سے دودھ جم جاتاہے اب اگر یہ جانور اللہ کے نام پر ذبح کیا ہواہو تو اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں،مذبوح جانور کا گوشت چربی وغیرہ سب حلال ہیں ،لیکن غیر مذبوح جانور کے پیٹ سے لیا جائے تو اس میں فقہاء کا اختلاف ہے ،امام اعظم ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ اس کو پاک قرار دیتے ہیں ،لیکن صاحبین امام ابویوسف ؒ و محمدؒ اور ثوریؒ وغیرہ اس کو ناپاک کہتے ہیں۔(جصاص،قرطبی)یورپ اور دوسرے غیر اسلامی ملکوں سے جو پنیربناہواآتاہے اس میں غیر مذبوح جانوروں کا انفحہ استعمال کا احتمال غالب ہے، اس لئے جمہور فقہاء کے قول پر اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔امام ابوحنیفہؒ اور امام مالکؒ کے قول پر گنجائش ہے ،ہاں یورپ سے آئے ہوئے بعض پنیر ایسے بھی ہیں جن میں خنزیر کی چربی استعمال ہوتی ہے ،اور ڈبہ پر لکھا ہواہوتاہے ،وہ قطعاً حرام اور نجس ہے۔خون:دوسری چیز  جو آیت ِ مذکورہ میں حرام قرار دی گئی ہے وہ خون ہے لفظ دم بمعنی خون اس آیت میں اگرچہ مطلق ہے ،مگر سورہ انعام کی آیت میں اس کے ساتھ مسفوح یعنی بہنے والا ہونے کی شرط ہے ،اودماً مسفوحاً،اس لئے بالاتفاق فقہاء خون منجمد جیسے گردہ ،تلی،وغیرہ حلال اور پاک ہیں۔ مسئلہ:جب کہ حرام صرف بہنے والا خون ہےتو جو خون ذبح کے بعد گوشت میں لگارہ جاتاہے وہ پاک ہے ،فقہاء و صحابہ و تابعین اور امت کا اس پر اتفاق ہے ،اسی طرح مچھر ،مکھی، کھٹمل وغیرہ کا خون بھی ناپاک نہیں،لیکن زیادہ ہوجائے تو اس کو بھی دھونا چاہئیے(جصاص)مسئلہ: جس طرح خون کا کھانا پینا حرام ہے ،اسی طرح اس کا خارجی استعمال بھی حرام ہے، اور جس طرح تمام نجاسات کی خرید و فروخت بھی اور اس سے نفع اٹھانا حرام ہے ،اسی طرح خون کی خرید و فروخت بھی حرام ہے،اس سے حاصل کی ہوئی آمدنی بھی حرام ہے،کیونکہ الفاظ قرآنی میں مطلقاً دم کو حرام فرمایا ہے ،جس میں اس کے استعمال  کی تمام صورتیں شامل ہیں۔ْمسئلہ:مریض کو دوسرے کا خون دینے کا مسئلہ: تحقیق اس مسئلہ کی یہ ہے کہ انسانی خون انسان کا جزء ہے اور جب بدن سے نکال لیا جائے تو وہ نجس بھی ہے اس کا اصل تقاضا تو یہی ہے کہ ایک انسان کا خون دوسرے کے بدن میں داخل کرنا دووجہ سے حرام ہے ،اول اس لئے کہ اعضاء انسانی کا احترام واجب ہے، اور یہ اس احترام کے منافی ہے ،دوسرے اس لئے کہ خون نجاست غلیظہ ہے اور نجس چیزوں کا استعمال ناجائز ہے۔لیکن اضطراری حالات اور عام معالجت میں شریعت اسلام کی دی ہوئی سہولتوں میں غور کرنے سے امور ذیل ثابت ہوئے :اول یہ کہ خون اگرچہ جزء انسانی ہے مگر اس کو کسی دوسرے انسان کے بدن میں منتقل کرنے کیلئے اعضاء انسانی میں کاٹ چھانٹ  اور آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آتی،انجکشن کے ذریعہ خون نکالا اور دوسرے کے بدن میں ڈالا جاتاہے،اس لئے اس کی مثال دودھ کی سی ہوگئی جو بدن انسانی سے غیر کسی کاٹ چھانٹ کے نکلتا  اور دوسرے انسان کا جز بنتاہے اور شریعت اسلام نے بچہ کی ضرورت کے پیش نظر انسانی دودھ کو اس کی غذا قرار دیا ہے،اور ماں کا اپنے بچوں کو دودھ پلانا واجب کیا ،جب تک وہ بچوں کے باپ کے نکاح میں رہی۔ طلاق کے بعد ماں کو دودھ پلانےپر مجبور نہیں کیا جاسکتا،بچوں کا رزق مہیا کرنا باپ کی ذمہ داری ہے ،وہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلوائے ،یا ان کی ماں ہی کو معاوضہ دیکر اس سے دودھ پلوائے قرآن کریم میں اس کی واضح تصریح موجود ہے:فان ارضعن لکم فاٰتوھن اجورھن"اگر تمہاری مطلقہ بیوی تمہارے بچوں کو دودھ پلائے تو اس کی اجرت و معاوضہ دیدو"خلاصہ یہ ہے کہ دودھ جزئ انسانی ہونے کے باوجود بوجہ ضرورت اس کے استعمال کی اجازت بچوں کیلئے دی گئی ہے اور علاج کے طورپر بڑوں کیلئے بھی جیساکہ عالمگیری میں ہے۔ولاباس بان یسعط الرجل بلبن المرأۃ ویشربہ للدواء (عالمگیری،ص4)"اس میں مضائقہ نہیں کہ دواء کیلئے کسی شخص کی ناک میں عورت کا دودھ ڈلاجائے یا پینے میں استعمال کیا جائے"اور مغنی ابن قدامہ میں اس مسئلہ کی مزید تفصیل مذکور ہے(مغنی کتاب الصید)اگر خون کو دودھ پر قیاس کیا جائے تو کچھ بعید از قیاس نہیں ،کیونکہ دودھ بھی خون کی بدلی ہوئی صورت ہے،اور جز انسان ہونے میں مشترک ہے،فرق صرف یہ ہے کہ دودھ پاک ہے اور خون ناپاک ،تو حرمت کی پہلی وجہ یعنی جزء انسانی ہونا تو یہاں وجہ ممانعت نہ رہی ،صرف نجاست کا معاملہ رہ گیا ،علاج و دواء کے معاملہ میں بعض فقہاء نے خون کے استعمال کی بھی اجازت دی ہے۔اس لئے انسان کا خون دوسرے کے بدن  میں منتقل کرنے کا شرعی حکم یہ معلوم ہوتاہے کہ عام حالات میں تو جائز نہیں،مگرعلاج و دواء کے طورپر اس کا استعمال اضطراری حالت میں بلاشبہ جائز ہے،اضطراری حالت سے مراد یہ ہے کہ مریض کی جان کا خطرہ ہو اور کوئی دوسری دوا اس کی جان بچانے کیلئے مؤثر یا موجود نہ ہو،اور خون دینے سے اس کی جان بچنے کا ظن غالب ہو، ان شرطوں کے ساتھ خون دینا تو اس نص قرآنی کی روسے جائز ہے،جس میں مضطر کیلئے مردار جانور کھاکر جان بچانے کی اجازت صراحۃً مذکور ہے،اور اگر اضطراری حالت نہ ہو یا دوسری دوائیں بھی کام کرسکتی ہوں تو ایسی حالت میں مسئلہ مختلف فیہا ہے، بعض فقہاء کے نزدیک جائز ہے، بعض ناجائز کہتے ہیں ،جس کی تفصیل کتبِ فقہ بحث تداوی بالمحرم میں مذکور ہے،واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔۔۔۔۔۔۔تحریم خنزیر: تیسری چیز جو اس آیت میں حرام کی گئی ہے وہ لحم خنزیر ہے ،آیت میں حرمت خنزیر کے ساتھ لحم کی قید مذکور ہے،امام قرطبیؒ نے فرمایا ہے کہ اس سے مقصود لحم یعنی گوشت  کی تخصیص نہیں بلکہ اس کے تمام اجزا۔ہڈی،کھال،بال،پٹھے سب ہی باجماع امت حرام ہیں، لیکن لفظ لحم بڑھا کر اشارہ اس طرف ہے کہ خنزیر دوسرے حرام جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ وہ ذبح کرنے سے پاک ہوسکتے ہیں ،اگرچہ ان کا کھانا حرام ہی رہے، کیونکہ خنزیر کا گوشت ذبح کرنے سے بھی پاک نہیں ہوتا ،کہ وہ نجس العین بھی ہے حرام بھی،صرف چمڑے سینے کیلئے اس کے بال کا استعمال حدیث میں جائز قرار دیا ہے(جصاص)(معارف القرآن)۔۔۔۔۔ امام ابوحنیفہؒ و محمدؒ و اوزاعیؒ سُور کے بالوں سے انتفاع کے جواز کے قائل ہیں اور امام شافعیؒ عدم جواز کے اور امام ابویوسفؒ سے جواز و کراہت دونوں کی روایتیں منقول ہیں۔۔۔اس لئے کہ حفظِ نفس تو اولین فرائض میں سے ہے ،اور ایسے موقع پر غذا نہ کھانا خودکشی کے مترادف ہے جو حرام خوری سے شدید ترہے،مریض کو آخر افطار کراہی دیاجاتاہے۔(تفسیر ماجدی)

174۔ اللہ تعالیٰ کا کلام نہ کرناگناہ کبیرہ کے ارتکاب کی دلیل ہے:یہاں کلام نہ کرنے سے مراد اللہ تعالیٰ کی انتہائی خفگی اور ناراضگی ہے۔فقہاء کہتے ہیں کہ جن کاموں سے متعلق یہ مذکور ہوکہ اللہ ان سے کلام نہ کرے گا یا ان کی طرف دیکھے گا بھی نہیں یا انہیں پاک نہیں کرے گا۔تو ایسے سب کام کبیرہ گناہ ہوتے ہیں اور مسلمانوں کی تو ایک کثیرتعداد ایسی ہوگی جنہیں اللہ دوزخ میں داخل کرے گا تاآنکہ وہ گناہوں سے پاک و صاف ہوجائیں۔لیکن کچھ گناہ  ایسے بھی ہیں کہ دوزخ کی آگ سے پاک و صاف نہ ہوں گے ۔جیسے شرک یا جن کے متعلق خلود فی النار کے الفاظ آئے ہیں ۔رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ ہرایک سے حساب کتاب لیتےوقت تو کلام کرے گا ہی تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ کا حساب لینا بھی بصورت تہدید اور سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ ہوگا یا فرشتوں کے ذریعہ ان سے حساب لیا جائے گا۔(تیسیر القرآن)

۔  یہ اہلِ کتاب کی طرف اشارہ ہے۔ اسی طرح اہلِ کتاب نے بھی اپنے جی سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے لیا تھا۔  ۔۔ کتابِ الٰہی کو چھپاتے تھے۔ مثلا یہود  اونٹ  کے متعلق یہ دعوےٰ کرتے تھے کہ یہ حضرت ِ ابراہیم کے وقت سے حرام ہے۔ ۔۔ اسی طرح بعض چیزیں یہود پر ان کی سرکشی  اور کٹ حجتی کے سبب سے یا ان کے سوال در سوال کی بیماری کے باعث حرام ہو گئی تھیں۔ ۔۔ ان کو یہ آگاہی دی گئی  تھی  کہ جب آخری نبی مبعوث ہوں گے تو وہ تمہارے لیے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کر دیں گے اور جو قیدیں اور بندشیں تم پر آج عائد ہیں وہ سب دور ہو جائیں گی۔۔۔۔ اس باب میں بعض جرائم نصاریٰ کے بھی بڑے شدید ہیں۔ اگرچہ ان کا جرم تحریم سے زیادہ تحلیل کی نوعیت کا ہے۔ پال نے جو موجودہ مسیحیت کا بانی ہے، یہ فلسفہ پیش کیا کہ موسٰیٗ کے احکام غیر بنی اسرائیل پر واجب نہیں ہیں۔ اسی طرح اس نے مسیحیوں کے لیے شراب بھی کھلے بندوں جائز کر دی اور خنزیر اور گلا گھو ٹے  ہوے جانور کو بھی ان کے لیے مباح کر دیا۔  (تدبرِ قرآن)

176۔ لیکن بدعی عقیدہ کا موجد اور اس کے متبعین  کیلئے حق کو ماننے کے بجائے انا اور ضد کا مسئلہ پیدا ہوجاتاہے ۔اس طرح ایک نیا فرقہ وجود میں آجاتاہے اور اس حقیقت کو قرآن مجید نے چار مختلف مقامات  پر ذکر کیا ہے ۔اور اس کی وجہ یہی(بغیاً بینھم) ہی  بتائی ہے۔ یعنی اس کی وجہ یہ ہرگز نہیں ہوتی کہ کتاب و سنت میں اس کا واضح حل موجود نہیں ہوتا۔(تیسیر القرآن)


بائیسواں رکوع

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ 177 نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔ اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ  178 مومنو! تم کو مقتولوں کے بارےمیں قصاص (یعنی خون کے بدلے خون) کا حکم دیا جاتا ہے (اس طرح پر کہ) آزاد کے بدلے آزاد (مارا جائے) اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت اور قاتل کو اس کے (مقتول) بھائی (کے قصاص میں) سے کچھ معاف کردیا جائے تو (وارث مقتول) کو پسندیدہ طریق سے (قرار داد کی) پیروی (یعنی مطالبہٴ خون بہا) کرنا اور (قاتل کو) خوش خوئی کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے یہ پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے آسانی اور مہربانی ہے جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ کا عذاب ہے۔
 وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 179 اور اے اہل عقل (حکم) قصاص میں (تمہاری) زندگانی ہے کہ تم (قتل و خونریزی سے) بچو۔
 كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ 180 . تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں با پ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کرجائے (خدا سے) ڈر نے والوں پر یہ ایک حق ہے۔
 فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ   181 . جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہی لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور بےشک خدا سنتا جانتا ہے۔
 فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۠ 182 اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے۔

تفسیر آیات

177۔آیت البر ۔ اس آیت میں تمام احکام ِ شرعیہ کا خلاصہ ۔(معارف القرآن)۔۔۔۔۔ ایمان( اعتقادات)،اعمال(عبادات اور معاملات)،اخلاق۔ آخر سورت تک ان کی تشریح ۔(معارف القرآن میں 35 احکام کی لسٹ ۔ادخلوا فی السلم کافۃ)۔۔۔۔۔ ملائکہ کو مانے بغیر خدا اور اس کے نبیوں کے درمیان کا واسطہ غیر وضح اور غیر معین رہ جاتاہے۔(تدبرقرآن)۔۔۔۔۔واٰتی المال علی حبہ۔(ضمیر حبہ) کا مرجع خدا ہوتو اپنا مال خدا کی محبت میں لیکن ترجیح مال کی طرف ۔لن تنالوالبر حتی تنفقوا مما تحبون(تم کامل نیکی کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے جب تک وہ خرچ نہ کرو جس سے تم محبت رکھتے ہو)۔حضورؐ نے فرمایا سب سے افضل صدقہ ایک بے مایہ کا اپنی محنت کی کمائی میں سے اپنے کسی عزیز پر خرچ کرناہے جو اس کے خلاف اپنے دل میں عداوت رکھتاہے ۔(تدبرقرآن)۔۔۔۔۔ لوگوں کے ذہنوں میں نیکی کے مختلف تصوّرات ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک طبقہ وہ ہے جس کا نیکی کا تصور یہ ہے کہ بس سچ بولنا چاہیے ‘ کسی کو دھوکہ نہیں دینا چاہیے ‘ کسی کا حق نہیں مارنا چاہیے ‘ یہ نیکی ہے ‘ باقی کوئی نماز روزہ کی پابندی کرے یا نہ کرے ‘ اس سے کیا فرق پڑتا ہے ! ایک طبقہ وہ ہے جس میں چور اُچکے ‘ گرہ کٹ ‘ ڈاکو اور بدمعاش شامل ہیں۔ ان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یتیموں اور بیواؤں کی مدد بھی کرتے ہیں اور یہ کام ان کے ہاں نیکی شمار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ جسم فروش خواتین بھی اپنے ہاں نیکی کا ایک تصور رکھتی ہیں ‘ وہ خیرات بھی کرتی ہیں اور مسجدیں بھی تعمیر کراتی ہیں۔ ہمارے ہاں مذہبی طبقات میں ایک طبقہ وہ ہے جو مذہب کے ظاہر کو لے کر بیٹھ جاتا ہے اور وہ اس کی روح سے ناآشنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ آیت اس اعتبار سے قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے کہ نیکی کی حقیقت کیا ہے ‘ اس کی جڑ بنیاد کیا ہے ‘ اس کی روح کیا ہے ‘ اس کے مظاہر کیا ہیں ؟ پھر ان مظاہر میں اہم ترین کون سے ہیں اور ثانوی حیثیت کن کی ہے ؟ چنانچہ اس ایک آیت کی روشنی میں قرآن کے علم الاخلاق پر ایک جامع کتاب تصنیف کی جاسکتی ہے۔ گویا اخلاقیات قرآنی Quranic Ethics کے لیے یہ آیت جڑ اور بنیاد ہے۔ لیکن یہ سمجھ لیجیے کہ یہ آیت یہاں کیونکر آئی ہے۔ اس کے پس منظر میں بھی وہی تحویل قبلہ ہے۔۔۔۔سب سے پہلے نیکی کی جڑ بنیاد بیان کردی گئی کہ یہ ایمان ہے ‘ تاکہ تصحیح نیت ہوجائے۔ ایمانیات میں سب سے پہلے اللہ پر ایمان ہے۔ یعنی جو نیکی کر رہا ہے وہ صرف اللہ سے اجر کا طالب ہے۔ پھر قیامت کے دن پر ایمان کا ذکر ہوا کہ اس نیکی کا اجر دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں مطلوب ہے۔ ورنہ تو یہ سوداگری ہوگئی۔ اور آدمی اگر سوداگری اور دکانداری کرے تو دنیا کی چیزیں بیچے ‘ دین تو نہ بیچے۔ دین کا کام کر رہا ہے تو اس کے لیے سوائے اخروی نجات کے اور اللہ کی رضا کے کوئی اور شے مقصود نہ ہو۔ یوم آخرت کے بعد فرشتوں ‘ کتابوں اور انبیاء علیہم السلام پر ایمان کا ذکر کیا گیا۔ یہ تینوں مل کر ایک یونٹ بنتے ہیں۔ فرشتہ وحی کی صورت میں کتاب لے کر آیا ‘ جو انبیاء کرام علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ ایمان بالرسا]لت کا تعلق نیکی کے ساتھ یہ ہے کہ نیکی کا ایکّ مجسمہ ‘ ایک ماڈل ‘ ایک آئیڈیل اسوۂ رسول ﷺ ‘ کی صورت میں انسانوں کے سامنے رہے۔ ایسا نہ ہو کہ اونچ نیچ ہوجائے۔ نیکیوں کے معاملے میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی جذبات میں ایک طرف کو نکل گیا اور کوئی دوسری طرف کو نکل گیا۔ اس گمراہی سے بچنے کی ایک ہی شکل ہے کہ ایک مکمل اسوہ سامنے رہے ‘ جس میں تمام چیزیں معتدل ہوں اور وہ اسوہ ہمارے لیے ٌ محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت ہے۔۔۔۔۔۔ نیکی کے مظاہر میں اوّلین مظہر انسانی ہمدردی ہے۔ اگر یہ نہیں ہے تو نیکی کا وجود نہیں ہے۔ عبادات کے انبار لگے ہوں مگر دل میں شقاوت ہو ‘ انسان کو حاجت میں دیکھ کر دل نہ پسیجے ‘ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر تجوری کی طرف ہاتھ نہ بڑھے ‘ حالانکہ تجوری میں مال موجود ہو ‘ تو یہ طرز عمل دین کی روح سے بالکل خالی ہے۔ سورة آل عمران آیت 92 میں الفاظ آئے ہیں : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ تم نیکی کے مقام کو پہنچ ہی نہیں سکتے جب تک کہ خرچ نہ کرو اس میں سے جو تمہیں محبوب ہے ۔۔۔۔۔یعنی اگر کچھ لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ بس ہم نے اپنے مال میں سے زکوٰۃ نکال دی تو پورا حق ادا ہوگیا ‘ تو یہ ان کی خام خیالی ہے ‘ مال میں زکوٰۃ کے سوا بھی حق ہے۔ اور آپ ﷺ نے یہی مذکورہ بالا آیت پڑھی۔ ایمان اور انسانی ہمدردی کے بعد نماز اور زکوٰۃ کا ذکر کرنے کی حکمت یہ ہے کہ ایمان کو تروتازہ رکھنے کے لیے نماز ہے۔ ازروئے الفاظ قرآنی : اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ۔ طٰہٰ۔ نماز قائم کرو میری یاد کے لیے۔ اور انسانی ہمدردی میں مال خرچ کرنے کے جذبے کو پروان چڑھانے اور برقرار رکھنے کے لیے زکوٰۃ ہے کہ اتنا تو کم سے کم دینا ہوگا۔۔۔۔۔۔انسان نے سب سے بڑا عہد اپنے پروردگار سے کیا تھا جو عہد الست کہلاتا ہے ‘ پھر شریعت کا عہد ہے جو ہم نے اللہ کے ساتھ کر رکھا ہے۔ پھر آپس میں جو بھی معاہدے ہوں ان کو پورا کرنا بھی ضروری ہے۔ معاملات انسانی سارے کے سارے معاہدات کی شکل میں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو اگر لوگوں میں ایک چیز پیدا ہوجائے کہ جو عہد کرلیا ہے اسے پورا کرنا ہے تو تمام معاملات سدھر جائیں گے ‘ ان کی stream lining ہوجائے گی۔۔۔۔۔۔دنیا کے ہر نظام اخلاق میں خیراعلیٰ summum bonum کا ایک تصوّر ہوتا ہے کہ سب سے اونچی نیکی کیا ہے ! قرآن کی رو سے سب سے اعلیٰ نیکی یہ ہے کہ حق کے غلبے کے لیے ‘ صداقت ‘ دیانت اور امانت کی بالادستی کے لیے اپنی گردن کٹا دی جائے۔ وہ آیت یاد کر لیجیے جو چند رکوع پہلے ہم پڑھ چکے ہیں : وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ (جو اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں جام شہادت نوش کرلیں انہیں مردہ مت کہو ‘ بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعورحاصل نہیں ہے)۔ (بیان القرآن(

۔ عری زبان کے طلباء اس بات سے واقف ہیں کہ عربی میں فعل کے صیغے تو صرف کسی فعل کے وقوع کو ظاہر کرتے ہیں لیکن صفت کے صیغے نہ صرف  کسی مستقل صفت ،کسی خصلت اور کسی کردار  کو ظاہر کرتے ہیں  بلکہ ان کے اندر ایک  عزم و جزم کی روح بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی اہلِ علم سے مخفی نہیں ہے کہ سلسلہء کلام میں  اگر کسی صفت کا ذکر  بغیر کسی ظاہری سبب کے حالتِ نصب میں ہو تواس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ متکلم اس پر خاص طور پر زور دینا چاہتا ہے۔ ہمارے اہلِ نحو اس بات کو   " علیٰ سبیلِ المدح   یا     علیٰ سبیلِ الاختصاص"  کی اصطلاح میں تعبیر کرتے ہیں ۔ مثلا یہاں "موفون " کے بعد دفعتہ اس سے بالکل مختلف اسلوب میں " الصابرین "  جو آگیا  تو اس سے  معنی میں یہ اضافہ ہو جائے گا  کہ گویا  متکلم یہ  کہنا چاہتا ہے کہ " انا اخص بالذکر الصابرین" ۔      میں صابرین کا ذکر خاص طور پر کرنا چاہتا ہوں۔ (تدبرقرآن)

- دین میں سیرت و کردار کی اہمیت:

۔ اسلوب  کی اس وضاحت کے بعد اب یہ سوال ذہن میں پیدا ہو گا کہ اوپر عقائد اور عبادات کا ذکر تو سیدھے   سادے فعل کے صیغوں سے کیا، پھر یہ ایفائے عہد اور صبر کی کیا خصوصیت تھی کہ ان کا ذکر اسلوب بدل بدل کر اس اہتمام و اختصاص اور اس تاکید و تنبیہ کے ساتھ فرمایا؟ اس کے جواب میں  چند باتیں پیشِ نظر رکھیے۔ ۔۔۔۔ایک تو یہ کہ ان دونوں چیزوں کا تعلق سیرت و کردار سے ہے۔سیرت و کردار کا معاملہ بڑے عزم وحزم اور ریاضت و تربیت کا محتاج ہوتاہے۔جہاں تک ظاہری عقائد و عبادات کا تعلق ہے ان کو نبھانے والے تو دین کے زوال و انحطاط کے بعد بھی بہت سے  نکل آتے ہیں لیکن کردار جو مغزِ دین اور روحِ دین ہے  اس کا اہتمام بڑے بڑوں کے اندر بھی نہیں پایا جاتا۔اہل مذاہب میں یہ کمزوری بہت نمایاںرہی ہے کہ انہوں نے عقائد و عبادات کے ظواہر پر تو بڑے بڑے معرکے اٹھائے ہیں لیکن کردار کی تعمیر پر انہوں نے بہت کم توجہ کی ہے۔یہاں چونکہ اس آخری امت کی رہنمائی مقامِ برو اطاعت کی طرف کی جارہی ہے اس وجہ سے کردار کے پہلو پر خاص طور پر زور دیا گیا کہ یہ مقام بغیر اعلیٰ کردار کے جن میں ایفائے عہد اور صبر کو اولین اہمیت ہے،حاصل نہیں کرسکتا۔دوسری یہ کہ غور کیجئےتو معلوم ہوگا کہ تمام عقائد و عبادات سے اصل مقصود اعلیٰ سیرت و کردار کی تعمیر ہی ہے۔اللہ اور رسول پر ایمان لانے اور نماز روزے کے اہتمام سے مقصود صرف چند باتوں کو مان لینا یا چند رسموں کو بجالانا ہی تو نہیں ہے۔ان کا اصل مقصود تو یہ ہے کہ اللہ ورسول پر ایمان لانے سے انسان کے اندر جوروشنی پیدا ہوتی ہے اس سے ہمارے دل جگمگا اٹھیں اور نماز روزے سے جو مضبوط انفرادی و اجتماعی کردار پیدا ہوتاہے وہ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی کی خصوصیت بن جائے۔یہ نہ ہوتو تمام عقائد و عبادات سمجھیے کہ بالکل بے جان و بے روح ہیں۔یہی نکتہ ہے کہ قرآن نے ہر جگہ عقائد  وعبادات کے پہلو بہ پہلو ان کے عملی اثرات کی طرف ضرور توجہ دلائی ہے تاکہ ان سے غفلت  نہ ہونے پائے۔تیسری یہ کہ امتحان و آزمائش کا اصلی میدان سیرت و کردار ہی کا میدان ہے ۔انسان کا اصلی خزانہ جو وہ دین کی مدد سے فراہم کرتاہے یا کرسکتاہے مضبوط اور پاکیزہ سیرت ہی ہے۔یہی چیز اس کو انفرادی زندگی میں بھی مقامِ برّو تقویٰ پر سرفراز کرتی ہے اور اجتماعی زندگی میں بھی اس کیلئے ابرار و صالحین اور شہدا و صدیقین کی معیت کی ضامن بنتی ہے ۔اس وجہ سے ضروری ہوا کہ اس پر خاص طورپر زور دیا جائے کہ مسلمان ہر قسم کی آزمائشوں اور ہر طرح کے فتنوں میں اپنے اس خزانہ کی حفاظت کیلئے چوکنا رہے۔(تدبر قرآن)۔۔۔۔۔ عہد دراصل ایفائے حقوق کا عہد ہوتاہے جو انسان کی ساری زندگی ہی اپنے احاطہ میں لے لیتاہے۔ صبر کے تین مواقع کا بالخصوص ذکر فرمایا۔ایک باساءجس کے معنی تنگی ترشی اور فقر و فاقہ کا دور ہے۔ دوسرے ضرّاء جس کے معنی  جسمانی تکالیف اور بیماری کا دور ہے اور تیسرے حین البأس یعنی جنگ کے دوران بھی اور اس وقت بھی جب جنگ کے حالات پیدا ہوچکے ہوں اور اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہی وہ مقامات ہیں جہاں بسااوقات انسان کے پائے ثبات میں لغزش آجاتی ہے۔(تیسیر القرآن)

۔دریاؤں کے علاوہ خود سمتوں یا جہتوں کی بھی پرستش جاری ہوگئی تھی۔۔۔یعنی خانہ کعبہ کو ایک مرکزی حیثیت دی ہے،اور اسے قبلہ توجہ ٹھہرایا ہے،خواہ وہ کسی سمت میں پڑجائے چناچہ مشاہدہ ہےکہ کعبہ مصر و طرابلس و حبشہ سے مشرق میں پڑتاہے ،ہندوستان ،افغانستان اور چین سے مغر ب میں، شام و فلسطین و مدینہ سے جنوب میں اور یمن اور بحر قلزم کے جنوبی ساحلوں سے شمال میں ،اور بہت سے مقامات سے ان مختلف سمتوں کے مختلف گوشوں میں، یہ حقیقت پیش نظر رہے تو اشکال از خود رفع ہوجاتاہے اور مختلف تاویلوں کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔۔۔المشرق۔سورج دیوتادنیائے شرک کا معبود اعظم رہاہے مشرک قوموں نے اس کی پرستش بڑی کثرت سے کی ،اور یہ چونکہ مشرق سے طلوع ہوتاہے،اس لئے عموماًجاہلی قوموں نے مشرق کو بھی مقدس سمجھ لیا ،اور عبادت کیلئے مشرق رخی اختیار کرلی ،حضر ت مسیحؑ کے چند ہی سال بعد جب مسیحیوں میں ایک شخص پولوس نامی آگھسا (جسے ایک دنیا آج سینٹ پال کے نام سے یاد کرتی ہے)۔۔۔چنانچہ مسیحیوں کے گرجے آج تک مشرق رویہ چلے آتے ہیں۔۔۔اسی طرح مستقر موت و اجل سمتِ مغرب ہے۔۔۔المشرق والمغرب ۔یہ دونوں نام صراحت کے ساتھ صرف مثال کے طورپر لئے گئے ،مقصود تمام سمتوں کی تعمیم ہے انہی دو سمتوں کی تحدید یا تخصیص نہیں۔۔۔انہیں اپنے طورپر لکھ لکھالیا(بجز توریت کی ابتدائی پانچ سورتوں کے کہ وہ یہودی عقیدہ کے مطابق خود حضرت موسیٰ کی نوشتہ ہیں)گویا ان الہامی کتابوں کی حیثیت کل وہ ہے جو ہمارے بزرگوں کے جمع کئے ہوئے ملفوظات کی ہوتی ہے!کہاں یہ تخیل،اور کہاں مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ قرآن مجید کا ایک ایک لفظ بلکہ ایک ایک حرف تک وحی شدہ ہے جس میں خلط اور خطا کا امکان ہی نہیں! اور مسیحی تو جب حضرت مسیحؑ کی رسالت و نبوت ہی کے سرے سے قائل نہیں بلکہ ان کی الوہیت کے مدعی ہیں تو حضرتؐ کا صاحب کتاب رسول ہونا ان کے ہاں  کوئی معنیٰ ہی نہیں رکھتا،کوئی آپ اپنے اوپر بھی بھلا کتاب نازل کیا کرتاہے؟۔۔۔۔

- علیٰ  حبہ۔ اس کی محبت میں، یا اُس کی محبت کے باوجود ،جائز دونوں ترجمے ہیں ،اور حبہ کی ضمیر غائب اللہ کی طرف بھی ہوسکتی ہے۔اور مال کی طرف بھی۔۔۔ایک گروہ ضمیر کو اللہ کی طرف لے گیا ہے۔۔۔یعنی ضمیر غائب کا مرجع بجائے اللہ کے ،لفظ قریب مال کو قرار دیا گیاہے۔۔۔یہ نہ ہو کہ بھائی کی کوٹھیاں تیارہورہی ہیں اور بہن جھونپڑے کو تر س رہی ہے،چچا کے پاس موٹریں ہوں اوربھتیجے کو یکہ کے پیسے بھی میسر نہ ہوں،ہرزوردارکو سب سے پہلے خبرگیری اپنے نادار عزیزوں،کنبہ والوں ،بھائیوں،بہنوں، بھتیجوں ،بھانجوں اور دوسرے قریبوں کی کرنا چاہئیے،اس کے بعد نمبر محلہ کے بستی کے شہر کے،شہرکے یتیم بچوں اور بچیوں کا آتاہے۔۔۔قیدیوں اور غلاموں کی۔۔۔فی الرقاب۔رقاب ،رقبۃ کی جمع ہے لفظی معنی گردن کے ہیں ،محاورہ میں اس سے مراد وہ ہوتے ہیں ،جن کی گردنیں آزادنہیں یا جو بندھے ہوئے ہیں، یعنی غلام جو دوسروں کی رعایا ہیں ،قیدی جو کسی جرم فوجداری یا دیوانی کی علت میں گرفتار ہوکر محبوس ہیں۔۔۔۔

- نماز ساری بدنی عبادتوں کی قائمقام ہوگئی ،زکوٰۃ ساری مالی عبادتوں کی۔۔۔عقائد ہوچکے ،معاملات ہوچکے،عبادتیں ہوچکیں،اب ذکر اخلاق کا شروع ہوا۔۔۔۔قرآن مجید کی ہر آیت بجائے خود معظم،محترم و واجب العمل ہے،لیکن اس آیت کے باب میں تو حدیث نبوی میں یہاں تک صراحت موجود ہے کہ من عمل بھذہ الاٰیۃ فقد استکمل الایمان۔(جس نے اس آیت پر عمل کرلیا ،اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا) اور محققین کا قول نقل ہواہے کہ یہ آیت اہم ترین آیتوں میں سے ہے،اور اس کے اندر دین و شریعت کے سولہ احکام آگئے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

178۔ابن کثیر نے باسناد ابن ابی حاتم نقل کیا ہے کہ زمانہ اسلام سے کچھ پہلے دو عرب قبیلوں میں جنگ ہوگئی طرفین کے بہت سے آدمی آزاد اور غلام مرد اور عورتیں قتل ہوگئے ابھی ان کے معاملہ کا تصفیہ ہونے نہیں پایا تھا کہ زمانہ اسلام شروع ہوگیا اور یہ دونوں قبیلے اسلام میں داخل ہوگئے اسلام لانے کے بعد اپنے اپنے مقتولوں کا قصاص لینے کی گفتگو شروع ہوئی تو ایک قبیلہ جو قوت و شوکت والا تھا اس نے کہا کہ ہم اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ہمارے غلام کے بدلے میں تمہارا آزاد آدمی اور عورت کے بدلے میں مرد قتل نہ کیا جائے ۔تردید کے لیےقرآن کی یہ آیت نازل ہوئی ۔الحرّ بالحرِّ  والعبد بالعبدِ والانثیٰ بالانثیٰ۔جس نے قتل کیا قصاص میں وہی قتل کیا جائے۔(معارف القرآن)

- یہاں ایک سوال پیدا ہوتاہے کہ اس آیت کی ابتدامیں (کتب علٰی) کے الفاظ قصاص کی فرضیت اور وجوب کا تقاضا کرتے ہیں ۔پھر بھی دیت کی رعایت یا رخصت بھی بیان فرمادی ۔بلکہ اگر مقتول کے وارث معاف ہی کردیں تو اسے بہت بہتر عمل قرار دیا گیا تو پھر قصاص کی فرضیت یا وجوب کیا رہ گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا روئے سخن اسلامی معاشرہ یا اسلامی حکومت کی طرف ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ خون ناحق کا ضرور قصاص لے۔ خواہ مقتول کا کوئی وارث موجود ہو یا نہ ہو،اور یہ بھی ممکن ہے کہ مقتول کے وارث تو ہوں مگر انہیں قصاص لینے میں کوئی دلچسپی نہ ہو بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض دنیوی مفادات کی خاطر یہ قتل ہی ورثا کی ایماء سے ہواہو۔جو بھی صورت ہو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مجرم کو گرفتار کرکے اسے کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔(تیسیر القرآن)

- کتب علیکم۔قرآن مجید میں جہاں بھی آیا ہے فرضیت کیلئے آیاہے۔۔۔مراد یہ ہے کہ قصاص میں مساوات ملحوظ رہے گی ،اور  خون سب کا برابر سمجھا جائے گا،یہ نہیں کہ اونچے شخص کی جان کی قیمت معمولی شخص کی جان سے زیادہ سمجھی جائے،یا ایک مقتول کے عوض میں پورا کنبہ یا قبیلہ یا قوم تباہ کردی جائے۔عرب جاہلی میں ایک دستور یہ پڑگیا  کہ آزادوں میں سے کوئی اگر کسی غلام کو مارڈالتا ،تو قصاص میں جان اس آزاد کی لینے کی بجائے کسی غلام کی لی جاتی، یہود عرب کا دستور یہ منقول ہواہے کہ ان کے اعلیٰ قبیلہ (مثلاًبنی نضیر) کے ایک مقتول کے عوض ،قاتل اگر کسی ادنیٰ قبیلہ (مثلاً بنی قریظہ ) سے تعلق رکھتا،تو اس کے دو شخصوں سے قصاص لیا جاتا۔دنیا کی تاریخ دوسرے ملکوں میں بھی ایسی مثالوں سے خالی نہیں ، اور امریکہ میں تو آج تک ایک گورے کا خون ایک کالے کے خون سے کہیں زیادہ قیمت رکھتاہے،اور فرنگی حکومتیں اپنے ایک ایک مقتول کے عوض،قاتل قوم کے کئی کئی شخصوں کی جانیں بے تکلف لیتی رہتی ہیں،یہاں پہونچ کر داد اُن فقہاء و مفسرین کی نکتہ سنجی کی دینا پڑتی ہے جنہوں نے آیت کی تفسیر میں صاف لکھ دیا ہے۔ ای المساواۃ بینھم لاالزیادۃ۔۔۔۔

- من اخیہ یعنی مقتول کی طرف سے، مدعی یا مستغیث کی طرف سے،لفظ اخیہ کی بلاغت اور معنویت اس سیاق میں سر دھننے کے قابل ہے،شدید ہیجان ،خدماتِ انتقام و اشتعال پذیری کا موقع قتل سے بڑھ کر اور کون ہوسکتاہے،اس انتہائی نازک موقع پر یہ لفظ لاکر بتلادیا کہ قاتل باوجود اتنے سنگین جرم کے کافرنہیں ہوجاتا،اخوت اسلامی کے دائرہ سے خارج نہیں ہوجاتاہے،مقتول کا والی وارث،قاتل کا دینی بھائی اس وقت بھی رہتاہے۔۔۔رومیوں کی مشرک قوم میں قتل تمام تر ایک جرم قانون فوجداری کا تھا، قانون دیوانی سے اُسے کوئی علاقہ ہی نہ تھا،موجودہ فرنگی قانون چونکہ تمام تررومیوں ہی کے قانون (رومن لا)پر مبنی ہے ،اس لئے اس میں بھی قتل محض ایک فوجداری جرم ہے ،شریعت اسلامی  کی نظر فطرت بشری کی گہرائیوں اور مصالح اجتماعی کی باریکیوں پر اس سے کہیں زائد ہے ،اس نے اپنے اصول قانون میں یہ بات رکھی کہ قتل جس طرح فوجداری  جرم ہے ،دیوانی  بھی ہے،اس جرم سے محض (اسٹیٹ) حکومت اور (سوسائٹی) ہیئت اجتماعیہ ہی کے ایک قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی بلکہ یہ فرد پربھی اس کی شخصی حیثیت میں ایک حملہ ہے،گویا یہ جرم ایک پبلک حیثیت رکھتاہے،اور ایک پرائیویٹ اور جب اس کی یہ دوگونہ حیثیت ہے ،تو مقتول کے وارثوں یا خون کے مدعیوں کو یہ اختیار ہونا چاہئیے کہ وہ چاہیں تو مجرم کو پوری سزا اسٹیٹ(حکومت) سے دلائیں ،اور چاہیں تو خود مالی معاوضہ لے کر انتہائی سزا سے دستبردار ہوجائیں ،اسی مالی معاوضہ کو اصطلاح شریعت میں دیۃ یا خون بہا کہتے ہیں اور اس میں گھٹ بڑھ برابر ہوسکتی ہے(دیت کا ذکر قرآن مجید میں آگے آرہاہے)آج بھی انٹرنیشنل (بین الاقوامی) قانون میں یہ بالکل جائز ہے کہ جب ایک( اسٹیٹ)ملک کی رعایا کا خون دوسرے ملک(اسٹیٹ) کے باشندوں کے ہاتھوں ہوجائے ،اور غیر ملک میں فوجداری کا مقدمہ چلانے میں دقتیں اور دشواریاں محسوس ہوں،توبجائے فوجداری استغاثہ  اور اس کی پیروی کے صرف "ہرجانہ" کی رقم پر کفایت کرلی جائے،یہ "ہرجانہ" اسی خوں بہا کیلئے ایک خوشنما اور جدید اصطلاح ہے۔(تفسیر ماجدی)

179۔امام ابوحنیفہؒ۔ قتل کے معاملہ میں تمام مسلمان برابر ہیں ۔ مدعی ریاست نہیں بلکہ ورثا۔معافی صرف صدر نہیں دے سکتا ۔(بیان القرآن)

- باتفاق ِ علمائے امت ،حق ِ قصاص حاصل کرنے کےلئے اسلامی حکومت کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے(قرطبی)(معارف القرآن)

- قصاص ودیت کے ضروری مسائل:

1۔ قاتل کیلئے تین صورتیں ہیں۔(i) مقتول کے وارث قصاص پر ہی مصر ہوں(ii)قصاص تو معاف کردیں مگر دیت لینا چاہیں(iii)سب کچھ معاف کردیں۔مقتول کے وارثوں کو ان سب باتوں کا اختیار ہے۔2۔مقتول کے وارثوں میں سے اگر کوئی ایک بھی قصاص معاف کردے تو قصاص کا معاملہ ختم اور پھر باقی صورتوں میں ممکن صورت پر عمل ہوگا۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو قصاص لینے کی بجائے معاف کردینا یا دیت لینا زیادہ پسند ہے۔3۔کافرکے بدلے مسلم کو قتل نہ کیا جائے(بخاری، کتاب الدیات،باب مالا یقتل المسلم بالکافر) یہ اس صورت  میں ہے جب کافر حربی ہو اور اگر ذمی ہو تو اس کا قصاص دیت یا عفو  ضروری ہے۔4۔ اگر باپ بیٹے کو قتل کردے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا(احمد بیہقی بسند صحیح ،بلوغ الامانیجلد 16 ص320)5۔ آج کل جاہلی دستور نہیں رہا۔غلامی کا دور بھی ختم ہوگیا ۔اب یہ صورت باقی ہے کہ اگر عورت مرد یا مرد عورت کو قتل کردے تو پھر کیا ہونا چاہیے۔شریعت اس بارے میں خاموش ہے اور یہ قاضی کی صوابدید پر ہوگا۔6۔ جان کی دیت سوا ونٹ ہے(نسائی ،کتاب العقود والدیات،عن عمر بن حزم) یا ان کی قیمت کے برابر ،یا جو کچھ اس وقت کی حکومت لگ بھگ مقرر کردے۔(تیسیر القرآن)

180۔ وصیت کا فرض ہونا بااجماع امت منسوخ ہے ۔ اور ناسخ اس کا وہ حدیثِ متواتر ہے جس کا اعلان حضورؐ نے حجۃالودع کے خطبہ میں کیا ۔اب وصیت ایک تہائی مال سے زیادہ کی جائز نہیں۔(معارف القرآن)۔۔۔ خیر کے اصل معنی مطلوب و مرغوب شے کے ہیں اس وجہ سے علم، عقل، حکمت، عدل، نیکی اور بھلائی سب کے لیے اس کا استعمال ہے۔ پھر یہیں سے یہ مال کے لیے بھی استعمال ہونے لگا اس لیے کہ مال بھی ایک مرغوب و مطلوب شے ہے۔ قرآن میں یہ لفظ کئی جگہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ حوالہ کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن نے مال کے لیے اس لفظ کو اختیار کر کے گویا بالواسطہ اس غلط فہمی کی اصلاح کردی ہے جو عام طور پر رہبانی تصور کے زیر اثر لوگوں میں پھیلی ہوئی تھی کہ مال فی نفسہ ایک ناپاک و نجس چیز ہے اس وجہ سے اللہ والوں کے لیے اس سے آلودہ ہونا جائز نہیں۔(تدبر  قرآن)۔۔۔۔۔وصیت (دوسرے،بڑا بیٹا) ۔اب ایک تہائی کیلئے وصیت نہیں ،نظام ِ وراثت نے منسوخ کیا ۔(بیان القرآن)

میت کو وصیت کا حکم اور مسائل:

جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ ترکہ کے وارث صرف بیوی اور اولاد اور بالخصوص اولادنرینہ ہوا کرتی تھی (جیساکہ آجکل  مسلمانوں میں بھی عمومی رواج یہی چل رہاہے)ماں باپ اور اقارب سب محروم رہتے ہیں۔اس آیت کی روسے مرنے والے پر انصاف کے ساتھ والدین اور اقارب کیلئے وصیت کرنا فرض قرار دیا گیا ۔بعد میں اللہ تعالیٰ نے آیہ میراث میں والدین اور اقارب کے حصے مقرر فرمادیے تو یہ آیت منسوخ ہوگئی اور وصیت صرف ایک تہائی ترکہ یا اس سے بھی کم حصہ کیلئے رہ گئی ۔جو یا تو ان وارثوں کے حق میں کی جاسکتی ہے جن کا حصہ اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں کیا یا پھر دوسرےرفاہ عامہ کے کاموں کیلئے ایک تہائی مال تک وصیت کرنا ایک حق تھا جو مرنے والوں کو دیا گیا تھا۔مگر آج مسلمان اس سے بھی غافل ہیں۔حالانکہ اگروہ اس حق کو استعمال کرتے تو کئی معاشرتی مسائل از خود حل ہوجاتے ہیں ۔مثلاً ایسے پوتے پوتیاں اور دوہتے دوہتیوں کی تربیت کا مسئلہ جن کے والدین فوت ہوچکے ہوں یا ایسے محتاج (ذوی الارحام کا جو نہ ذوی الفروض سے ہوں اور نہ عصبات سے)۔(تیسیر القرآن)

-   یہ حکم وصیت ،آیت میراث کے نزول سے (جس میں حقداروں کے حصے معین کرکے بتادئیے گئے ہیں ) بہت قبل کا ہے۔۔۔اس لئے قدرۃً اب اس پر عملدرآمد اُس آیت ِ متأخر و مابعد ہی کے تحت ہوگا ،اور اسی کو مفسرین اپنی اصطلاح میں ایک آیت کا دوسری آیت سے منسوخ ہوجانا کہتے ہیں،جائداد کی تقسیم اب آیت میراث کے بموجب ہوگی،اور وصیت کا اب کوئی محل ہی نہ رہا،بجز جائداد کے ایک ثلث کے،کہ اتنے میں وصیت چل سکتی ہے،اور اس کی تصریح بھی اُسی سورۃ النساء کی آیت ِ میراث میں موجودہے۔۔۔وصیۃکے لفظی معنیٰ نصیحت کے ہیں ،اصطلاح شریعت میں اس سے مراد وہ ہدایتیں ہوتی ہیں جو وصیت کرجانے والے کی موت کے بعد قابل عملدرآمد ہوتی ہیں ،فقہاء نے لکھا ہے کہ وصیت کی بھی کئی قسمیں ہیں۔(i)بعض وصیتوں کی تعمیل درجۂ واجب  میں ہے۔(ii)بعض مستحب کا درجہ رکھتی ہیں(iii)بعض صرف مبا ح ہوتی ہیں(iv)بعض کی تعمیل ممنوع ہے(v)بعض وصیتیں موقوف کہلاتی ہیں۔(تفسیر ماجدی)۔۔۔۔۔ خیراً ۔خیرکے ایک معنیٰ علاوہ مشہور معنیٰ کے،مالِ طیب کے بھی آتے ہیں ،چنانچہ قرآن مجید میں اس کی جابجا مثالیں۔۔۔ایک گروہ نے لفظ وجوب سے استناد کرکے  کہاہے کہ کچھ نہ کچھ وصیت بہرحال کرجانا چاہئے۔دوسرے گروہ نے آیتِ میراث کی موجودگی میں اسے بالکل غیر ضروری ٹھہرایا ہے،امام نخعی ؒ کا قول اس باب میں قول فیصل  کی حیثیت رکھتاہے ،انہوں نے کہاکہ ہمارے سامنے دونوں قسم کے اسوہ حسنہ موجود ہیں ،ابوبکر صدیقؓ وصیت کرگئے تھے ،لیکن خود رسول اللہ ؐنے کوئی وصیت نہیں فرمائی۔(تفسیر ماجدی)


تئیسواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ   183 مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔
 اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 184 (روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار پورا کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔
 شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 185 (روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو۔
وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ  186 . اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں۔
اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ 187 روزوں کی راتوں میں تمہارے لئے اپنی عورتوں کے پاس جانا جائز کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سےدرگزرفرمائی۔اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو۔ اور خدا نے جو چیز تمہارے لئے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو (خدا سے) طلب کرو اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔ پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔ یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں۔
 وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ 188 . اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوةً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو۔

تفسیر آیات

۔ اسلام کے اکثر احکام کی طرح روزے کی فرضیت بھی بتدریج عائد کی گئی ہے۔ نبی ﷺ نے ابتداء میں مسلمانوں کو صرف ہر مہینے تین دن کے روزے رکھنے کی ہدایت فرمائی تھی، مگر یہ روزے فرض نہ تھے۔ پھر سن 2 ہجری میں رمضان کے روزوں کا یہ حکم قرآن میں نازل ہوا، مگر اس میں اتنی رعایت رکھی گئی کہ جو لوگ روزے کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہوں اور پھر بھی وہ روزہ نہ رکھیں، وہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ بعد میں دوسرا حکم نازل ہوا اور یہ عام رعایت منسوخ کردی گئی۔ لیکن مریض اور مسافر اور حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت اور ایسے بڈھے لوگوں کے لیے، جن میں روزے کی طاقت نہ ہو، اس رعایت کو بدستور باقی رہنے دیا گیا اور انہیں حکم دیا گیا کہ بعد میں جب عذر باقی نہ رہے تو قضا کے اتنے روزے رکھ لیں جتنے رمضان میں ان سے چھوٹ گئے ہیں۔۔۔۔۔ یہاں تک وہ ابتدائی حکم ہے، جو رمضان کے روزوں کے متعلق سنہ 2 ہجری میں جنگِ بدر سے پہلے نازل ہوا تھا ۔ اس کے بعد کی آیات اس کے ایک سال بعد نازل ہوئیں اور مناسبتِ مضمون کی وجہ سے اسی سلسلہ بیان میں شامل کر دی گئیں ۔(تفہیم القرآن) 

۔ روزوں ے متعلق بہت اچھی تفصیل تفسیرِ   ماجدی میں سورۃ بقرہ کے آخر میں دئیے گئےضمیمہ میں دیکھی جا سکتی ہیں  ۔(مرتب)

184۔ مریض اور مسافر کو اس حکم سے مستثنیٰ کر دیا۔ مریض سے مراد وہ شخص ہے کہ اگر روزہ رکھے تو اس کی ہلاکت یا اس کے مرض کے بڑھ جانے کا خطرہ ہو اور سفر سے مراد احناف کے نزدیک 3 روز کا سفر ہے جس کا اندازہ 36 کوس یا 54 میل ہے۔ خواہ آپ اتنی مسافت آج ایک گھنٹہ میں طے کر یں آپ کو افطار کی اجازت ہے۔ بیماری اور سفر سے جنتے روزے آپ نہ رکھ سکیں تو صحت یاب ہونے اور سفر سے واپس آنے پر ان کی قضا دینا ہوگی۔ مریض اور مسافر کو افطار کی اجازت ہے لیکن روزہ رکھنا افضل ہے ۔ حضور کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سفر میں کبھی روزہ رکھا اور کبھی نہیں رکھا۔ لیکن سفر جہاد میں روزے کے افطار کا حکم ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے صحابہ کرام کو حکم دیا "انہ یوم قتال فافطروا " آج جنگ کا دن ہے روزے افطار کرو۔۔(ضیاءالقرآن)

- بیمار کا روزہ اوردین میں آسانی کا مطلب:

بیمار کے علاوہ یہی رعایت حیض یا نفاس والی عورت کیلئے بھی ہے اور دودھ پلانے والی عورت بھی اس رخصت سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسی بیماری لاحق ہو جو مزمن قسم کی ہو اور اس سے افاقہ کی امید کم ہو تو ایسی صورت میں کفارہ دے سکتاہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص بوڑھا ضعیف ہوچکا ہے جس میں روزہ رکھنے کی سکت نہ رہ گئی ہو تو وہ بھی کفارہ دے سکتاہے اور یہ کفارہ ایک مسکین کو دووقت کا کھانا ہے۔ خواہ کسی کو روزہ ہی رکھوادیا کرے اور افطار کرائے یا اس کے برابر نقد قیمت اداکردے اور نقد کی تشخیص اسی معیار کے مطابق ہوگی جیساکہ وہ خود کھاتا ہے۔اسی طرح ضعیف آدمی پورے مہینہ کا اکٹھا کفارہ بھی اداکرسکتاہے۔اسی  طرح کسی بوڑھے کا اپنے متعلق یہ اندازہ لگانا کہ اب وہ روزہ رکھنے کے قابل نہیں ،بھی اس کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے اور اس سلسلہ میں جو کام بھی کیا جائے وہ اللہ کے ڈرسے کرنا چاہیے۔(تیسیر القرآن)

- سفر کی حالت میں روزہ رکھ لینا بھی جائز ہے اور نہ رکھنا بھی۔اور اس بات کا اندازہ روزہ دار کی جسمانی قوت اور سفر کی مشقت کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا ۔تاہم سفر میں روزہ چھوڑنا ہی بہتر ہے۔بلکہ اگر روزہ رکھ لیا ہو اور پھر تکلیف شدت محسوس ہو تو روزہ کھول دینا چاہیے اور بعد میں اس کی قضا دے دینا چاہیے۔ (تیسیر القرآن)

- سفر کی بھی کوئی متعین حد،جس کے بعد افطار جائز یا ضروری ہوجائے،قرآن و حدیث میں موجود نہیں ،البتہ فقہائے اُمت نے اندازے مقرر کئے ہیں،اور ان اندازوں میں اختلاف فاصلہ اور وقت دونوں کے لحاظ سے شروع ہی سے چلاآتاہے،کسی نے فاصلہ کا معیار 48 میل رکھاہے،کسی نے 16 فرسخ کا ،اسی طرح مدت کے لحاظ سے بھی کسی کا قول ایک دن رات کے سفر کے حق میں ہے،کسی کا دودن اور کسی کا تین دن کے حق میں۔۔۔۔اگر اس بیماری یا سفر کے دوران میں روزے چھوٹ گئے ہیں۔اور ان کی تعداد گن کر مرض یا سفر کے بعد پوری کرلی جائے ،عام اہلسنت نے اس حکم کو صرف رخصت یا اجازت کے معنی میں لیا ہے،لیکن ظاہر یہ اس کے وجوب کے قائل ہیں ،اور صحابیوں میں یہی مسلک حضرت ابوہریرۃؓ کی جانب منسوب ہے۔ (تفسیر ماجدی)

185۔ سفر کی حالت میں روزہ رکھنا یا نہ رکھنا ،آدمی کے اختیار ِ تمیزی پر ۔(تفہیم القرآن)۔۔۔۔۔ بیّنات سے مراد واضح ،دل نشین اور الجھن دور کرنے والی براہین ،دلائل اور حجتیں ۔(تدبر قرآن)۔۔۔۔۔رسول اللہؐ نے فرمایا"روزہ ڈھال ہے ،لہذا (روزے دارکو) چاہیے کہ نہ تو کوئی فحش کام کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی اس سے جھگڑا کرے یا گالی دے تو وہ (روزے دار) اس سے دوبار کہے ۔میں روزہ سے ہوں۔(پھر نبی اکرمؐ نے فرمایا)"قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے۔(اللہ فرماتاہے:)وہ میرے لیے کھانا اور پینا چھوڑتاہے ،اپنی خواہش کو مارتاہے ،پس روزہ خاص میرے لیے ہے اورمیں خود ہی اس کا اجر دوں گا اور ایک نیکی کے بدلے دس کا ثواب ملے گا۔"(صحیح البخاری)(احسن الکلام )۔۔۔۔۔ صوم گھوڑوں کےلئے ۔تیز رفتاری ،قوت برداشت ، تا کہ جنگ کے موقع پر دغا نہ دے جائیں ۔ یہود ِ مدینہ روزہ رکھتے تھے۔مہینے میں تین روزے (13،14،15) (بیان القرآن)

۔ روئتِ ہلال کے لیے اختلافِ مطالع ایک صریح مشاہدہ کی چیز ہے۔ وحدتِ اُمت یقیناً ایک بڑی اہم چیز ہے،لیکن اس کیلئے یہ زبردستی کی کوششیں کرنا طبعی کو غیر طبعی کی حدتک پہونچا دینا ہے۔۔۔صحیح مسئلہ ہمارے علماء کے یہاں یہ ہے کہ رؤیت سارے انسانوں پر حجت نہیں، بلکہ صرف اتنی مسافت والوں پر ہے جہاں تک نماز قصر نہ کی جائے اور ایک قول ہے کہ جہاں تک مطلع متحد ہو اور ایک قول ہے کہ ایک اقلیم کے حدود کے اندر اور اس کے آگے نہیں۔۔۔مثلاً فن لینڈ،یا قطبین کے قریب کے علاقے جہاں رویت ہلال کے انتیسویں دن یا تیسویں دن کے واقع ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں ،اور جب یہ نہیں تو وہاں شہود الشہر یعنی طلوع ماہِ رمضان کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔قرآن مجید کے اس اعجازِ بلاغت کے قربان جائیے کہ صرف ایک لفظ شہد الشہر کے لے آنے سے کتنے سوالات اور شبہات کی جڑکاٹ دی بہ طور تطوع یا بہ خیال تقویٰ ،کوئی وہاں بھی روزہ رکھنا چاہے تو سونے،جاگنے،کھانے پینے،غرض دنیا کے اور سارے کاروبار کیلئے وہاں اوقات کا جو معیار ہواُسی انداز اور حساب سے روزہ بھی رکھ سکتاہے۔ (تفسیر ماجدی)

- ۔۔۔"یہ امرناگزیر ہے کہ کرہ زمین کو اسی ضرورت کے پیش نظر معمولی اور غیر معمولی دومنطقوں میں تقسیم کردیا جائے ،خطِ استواء سے 45 درجہ شمالاً و جنوباً عرض البلد تک تو  معمولی منطقہ ہو، اور اس کے آگے قطبین تک دونوں جوانب غیر معمولی منطقے شمار کئے جائیں اور ان غیر معمولی منطقوں کیلئے وہی اوقات سحر و افطار ہوں،جو معمولی منطقے کے انتہائی اوقات سحر و افطار ہوسکتے ہیں"۔۔۔ابتدا میں حکم صرف اسی قدر تھا کہ تندرست اورمقیم بھی جو ماہ رمضان میں روزہ رکھنا چاہیں ،قضاکرسکتے ہیں، جب آیت فمن شہد منکم الشہر فلیصمہ۔نازل ہوئی اُس وقت سے تندرستوں اور مقیموں سے یہ اختیار چھن گیا، اور رمضان کے روزے ان کیلئے اختیاری نہیں رہے ،لازمی ہوگئے ،لیکن مریضوں ،ناتوانوں، مسافروں کیلئے قضا کا اختیار بدستور باقی رہا،آیت کے اسی جزو من کان مریضاً   کو ایک بار پھر اسی لئے دہرایا گیا کہ  من شھد منکم الشھر فلیصمہ  کی تعلیم سے کوئی بھی یہ نہ سمجھ لے کہ معذوروں سے رعایت ختم کردی گئی،اس لئے حکم کی تکرار صرف صوری اور ظاہری ہے ،حقیقی اور معنوی نہیں۔۔۔۔۔

- چنانچہ شریعت اسلامی کے سارے احکام و قوانین اسی ایک اصل پر مبنی ہیں،اور خود اسی روزہ رمضان کے معاملہ میں معذور کیلئے کتنی گنجائش کتنی سہولتیں رکھ دی گئیں،حدیث نبوی میں جو  آیا  ہے دین اللہ یسر  وہ اسی آیت قرآنی کی شرح یا تتمہ  ہے،اور واقعی اگر غور کرکے دیکھا جائے تو شریعت کا ایک حکم بھی ایسا نہ ملے گا جس میں عامل کے حالات،عمر، صحت،جثہ،موسم اور دوسری مشکلات کا لحاظ نہ کرلیا گیا ہو،اور جو احکام بظاہر سخت معلوم ہوتے ہیں،ان کی تہ میں بھی ہمیشہ یہی حقیقت پائی جائے گی کہ فرد یا امت کی راہ میں کچھ آسانیاں ہی پیدا ہوں ،امت اسلامی کے فخر و مسرت کیلئے یہ کافی ہے کہ جو احکام غیروں کو سخت معلوم ہوتے ہیں، ان کی تعمیل میں وہ آج ساڑھے تیرہ سوبرس گذرجانے کے بعد ،ساری مخالفانہ فضا و ماحول کے باوجود اسی خوشدلی اور بے تکلفی کے ساتھ لگی ہوئی ہے کہ اغیار دیکھ دیکھ کر حیرت میں رہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔

سرویلیم میور لکھتے ہیں"روزہ کی سختیاں بدستور قائم ہیں، خواہ وہ کسی موسم میں پڑیں ،اور آج تک مشرق کے میدانوں میں جلجلاتی دھوپ اور جھلساتی ہوئی سموم میں ،گرمیوں کے لمبے لمبے دنوں میں محمدؐ کے پیرو صبح سے شام تک پانی کا ایک قطرہ حلق کے نیچے نہیں اتارتے ۔۔۔اتنی سخت ریاضت،قوتِ ایمانی اور ضبطِ نفس کا پورا امتحان ہے" (لائف آف محمد)۔(تفسیر ماجدی)

186۔اس سے مراد وہ فرائض و واجبات ہیں جو اللہ نے انسانوں پر عائد کیے ہیں۔ حدیث میں ہے:"اللہ فرماتاہے کہ جو شخص میرے کسی دوست سے عداوت رکھتاہے تو وہ سن لے کہ میں اس کے خلاف اعلان جنگ کرتاہوں اور میرا بندہ جن عبادات کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرتاہے ان میں سے کوئی عبادت مجھے اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔(یعنی عبادات میں مجھے فرائض کی عمدہ اور مستقل ادائیگی سب سے زیادہ پسند ہے)اور میرا بندہ (اس کے علاوہ)نفلی عبادات کرکے مجھ سے اس قدر نزدیک ہوجاتاہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں،چنانچہ میں اس کا کان ہوجاتاہوں جس سے وہ سنتاہے اور اس کی آنکھ ہوجاتاہوں جس سے وہ دیکھتاہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتاہوں جس سے وہ پکڑتاہے اور اس کا پاؤں ہوجاتاہوں جس سے وہ چلتاہے اور اگروہ وہ مجھ سے  کچھ مانگتاہے تو میں اسے دیتا ہوں اور اگرکسی سے میری پناہ چاہتاہے تو میں اسے پناہ دیتاہوں اور مجھے کسی کام میں جسے میں کرناچاہتاہوں،اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی جان لینے میں ہوتاہے۔(کیونکہ) وہ موت کو (جسمانی اذیت کی وجہ سے) ناگوار رکھتاہے اور خود مجھے بھی اسے تکلیف دینا برالگتاہے۔"(صحیح بخاری،کتاب الرقاق: 6502)(احسن الکلام)

-        کیوں خالق و مخلوق  میں حائل رہیں پردے                             پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو!!   (بیان القرآن)

- عنّی ،انّی،اجیب ،دعان۔متکلم کی ساری ضمیریں آیت میں بجائے جمع کے واحد کی ہیں، دونوں صیغوں کا عمومی فرق ملحوظ رہے ،صیغۂ جمع عموماً قدرت،عظمت، قوت کا مظہرہے،اور واحد اس کے برعکس التفات ،اختصاص،توجہ کی جانب مشیر ہوتاہے،اور یہاں توجہ و التفات کا مشیر ہونا تو بالکل ظاہر ہے،آیت کے الفاظ سے دعاکی ترغیب و تشویق بھی نکل آئی ،اور اشارہ اس جانب بھی ہوگیا کہ دعابندہ کا کوئی سرتاسر خود غرضانہ اور دنیوی عمل نہیں ،بلکہ عین عبادت اور موجب تقرب ہے،ایک حدیث صحیح میں یہ مضمون آیا ہےکہ جس کیلئے دعاکا دروازہ کُھل جاتاہےیعنی دعاکی توفیق ہوجاتی ہے،اُس کیلئے رحمت کا بھی دروازہ کُھل جاتاہے۔۔۔لعلّ ۔اوپر بیان ہوچکا کہ کلام الٰہی میں جب حق تعالیٰ کی طرف منسوب ہوکر یہ لفظ آتاہے تو اس کے معنیٰ محض امید یا احتمال کے نہیں رہتے ،بلکہ اس میں یقین پایا جانے لگتاہے،مراد یہ ہوئی کہ احکامِ الٰہی پر عمل کرنے اور اُس کے حکیم و حاکم ہونے پر یقین رکھنے سے دروازہ فلاح دارین کا کُھل کررہے گا۔(تفسیر ماجدی)

187۔ حضرت عدی بن حاتم نے حضورؐ سے پوچھا ،کیا خیط ِ ابیض اور خیطِ اسود سے مراد سفید و سیاہ دھاگے ہیں؟ حضورؐ نے فرمایا نہیں۔(بیان القرآن)۔۔۔۔۔یہ تفسیر جمہورمفسرین کی تقلید میں تھی،لیکن راغب لغوی نے خیانۃ اور اختیان کے معنی میں فرق کیا ہے اور بتایا ہے،کہ اگر عمل خیانت کا صدور مقصود ہوتاتو تختانون انفسکم آتاتختانون سے مراد محض قصدِ خیانت کیلئے جذبات کا حرکت میں آناہے،اور اختیان کے معنیٰ خیانت کرنا نہیں ،بلکہ خیانت کیلئے حیلہ کرنا ہے۔۔۔حاجت غسل کی حالت میں اگر صبح ہوگئی ،اور ہنوز غسل کی نوبت نہیں آئی تو روزہ بلااختلاف جائز ہوگا۔(تفسیر ماجدی)

188۔مال حلال کی برکات اور حرام کی نحوست:حرام سے بچنے اور حلال حاصل کرنے کیلئے قرآن کریم نے مختلف مقامات میں مختلف عنوانات سے تاکیدیں فرمائی ہیں، ایک آیت میں اس کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ انسان کے اعمال و اخلاق میں بہت بڑا دخل حلال کھانے کو ہے ،اگر اس کا کھانا پینا حلال نہیں تو اس سے اخلاق حمیدہ اور اعمالِ صالحہ کا صدور مشکل ہے۔ارشادہے۔"اے گروہ انبیاء حلال اور پاک چیزیں کھاؤ ،اور نیک عمل کرو، میں تمہارے اعمال کی حقیقت سے واقف ہوں"اس آیت میں حلال کھانے کے ساتھ عمل صالح کا حکم فرماکر اشارہ کردیاہے کہ اعمال ِ صالحہ کا صدور جب ہی ہوسکتاہے جبکہ انسان کا کھانا پینا حلال ہو،اور آنحضرتؐ نے ایک حدیث میں یہ بھی واضح فرمادیا کہ اس آیت میں اگرچہ خطاب انبیاء علیہم السلام کو ہے ،مگریہ حکم کچھ انہیں کے ساتھ مخصوص نہیں ،بلکہ مسلمان اس کے مامور ہیں،اس حدیث کے آخر میں آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ حرام مال کھانے والے کی دعا قبول نہیں ہوتی، بہت سے آدمی عبادت وغیرہ میں مشقت اٹھاتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ  کے سامنے ہاتھ دعا کیلئے پھیلاتے ہیں اور یار ب یارب پکارتے ہیں ،مگر کھانا ان کا حرام ،پینا ان کا حرام، لباس ان کا حرام ہے تو ان کی یہ دعا کہاں قبول ہوسکتی ہے۔۔۔۔

ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے حلال کھایا اور سنت کے مطابق عمل کیا اور لوگ اس کی ایذاؤں سے محفوظ رہے وہ جنت میں جائےگا،صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللہؐ آجکل تو یہ حالات آپؐ کی امت میں عام ہیں،بیشتر مسلمان ان کے پابند ہیں،آپؐ نے فرمایا ہاں! آئندہ بھی ہر زمانہ میں ایسے لوگ رہیں گے جو ان احکام کے پابند ہونگے(یہ حدیث ترمذی نے روایت کی ہے،اور اس کو صحیح فرمایا ہے)ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے کہ آنحضرتؐ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے فرمایا کہ چارخصلتیں ایسی ہیں جب وہ تمہارے اندر موجود ہوتو پھر دنیا میں کچھ بھی حاصل نہ ہو تو تمہارے لئے کافی ہیں ،وہ چار خصلتیں یہ ہیں کہ ایک امانت کی حفاظت،دوسرے سچ بولنا، تیسرےحسن ِ خلق اور چوتھے کھانے میں حلال کا اہتمام۔حضرت سعدبن ابی وقاصؓ نے آنحضرت ؐ سے درخواست کی کہ میرے لئے دعا فرمادیجئے کہ میں مقبول الدعاء ہوجاؤں ،جو دعاکیا کروں قبول ہواکرے،آپؐ نے فرمایا اے سعد اپنا کھانا حلال اور پاک بنا لو ،مستجاب الدعوات ہوجاؤگے،اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ؐ کی جان ہے بندہ جب اپنے پیٹ میں حرام لقمہ ڈالتاہے تو چالیس روز تک اس کا کوئی عمل قبول نہیں ہوتا،اور جس شخص کا گوشت حرام مال سے بنا ہو اس گوشت کیلئے تو جہنم کی آگ ہی لائق ہے۔( معارف القرآن)

- باطل ،حق کی ضد ہے ۔باطل اس طریقے کو کہتے ہیں جو عدل ،انصاف ،شریعت ،معروف اور سچائی کے خلاف ہو، اس کے تحت جھوٹ ،خیانت ،غصب ،رشوت ،سود ،سٹہ ،جوا، چوری اور معاملات کی ساری قسمیں جن کو شریعت نے ناجائز قرار دیا ہو۔(تدبرقرآن)

-وتدلوبھا۔ھا کی ضمیر اموال کی طرف ہے۔ مالِ حرام کے طریقے: (i) رشوت (i i) ناجائز طریقے سے دوسروں کے حقوق ہڑپ کرنا (i i i) حکام کے منہ خون لگانا(معمولی کام بھی آسانی سے نہ ہونا) اور اہلکاروں کی بداخلاقی اور بد زبانی۔(iv) تحفے تحائف. (v)گناہ سب کو معلوم لیکن پھر بھی ہٹ دھرمی سے کام لینا۔تقویٰ کالٹمس ٹیسٹ اکلِ حلال ہے۔ولاتاکلوا اموالکم۔یہ آیت درمیان میں کیوں ۔اس لیے کہ حرام سے نہ روزہ ،نہ جہاد نہ حج قبول ہوگا۔ (مرتب)

- لاتأکلوا۔اکل یہاں لفظی معنیٰ  میں نہیں،یعنی صرف کھانا مراد نہیں ،بلکہ کسی طرح اپنے تصرف میں لے آنا ہے۔(تفسیر ماجدی)


چوبیسواں رکوع

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 189 (اے محمدﷺ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ۔ بلکہ نیکوکار وہ ہے جو پرہیز گار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ۔
 وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ 190 اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی خدا کی راہ میں ان سے لڑو مگر زیادتی نہ کرنا کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ  191 . اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے۔
 فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 192 اور اگر وہ باز آجائیں تو خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے۔
 وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ  193 اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیئے)۔
 اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ  194 ادب کا مہینہ ادب کے مہینے کے مقابل ہے اور ادب کی چیزیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں۔ پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔
 وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ  195 اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بےشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ 196 اور خدا (کی خوشنودی) کے لئے حج اور عمرے کو پورا کرو۔ اور اگر (راستےمیں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو) اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ۔ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈالے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو کرے۔ اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو۔ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل وعیال مکے میں نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔

تفسیر آیات

آغاز رکوع: 

۔حضرت عبداللہ بن عباس : صحابہ نے بہت کم سوال کئے۔۔۔۔۔قرآن میں صحابہ کے کل 14 سوالات کا ذکر،8 سوال صرف سورۂ بقرہ میں۔ (مرتب)

189۔اس سوال کا تعلق چاند کے گھٹنے بڑھنے سے نہیں بلکہ محترم مہینوں سے ہے ۔ہلال مہینہ بھی اور الا ھلہ۔(تدبرقرآن)

- الاھلّۃ۔ نیا چاند یا ہلال تو ایک وقت میں ایک ہی ہوتاہے،لیکن یہاں سوال اھلّۃ (بہ صیغۂ جمع) سے متعلق ہے،سوال یسئلونک عن الاھلة کے معنی ہی ہوئے چاند کے مہینوں کے بابت دریافت کرنا یعنی پہلے چاند کا طلوع ہونا،پھر تاریخ واراس کا بڑھنا،اور تاریخوار اس کا گھٹنا ،یہاں تک کہ اس کا غائب ہوجانا۔۔۔ہلال۔اردو محاورہ میں تو صرف پہلی تاریخ کے چاند کو کہتے ہیں ،لیکن عربی میں اس کے مفہوم میں پہلی سے لے کر تیسری تاریخ تک چاند شامل رہتے ہیں۔۔۔ ۔آیت سے فقہاء امت کو ایک بڑی اصل ہاتھ آگئی ہے جس سے صدہاہزار ہااعمال کا حکم معلوم ہوسکتاہے،وہ اصل یا قاعدہ یہ ہے کہ جو شے شریعت میں صرف مباح ہو،یعنی کتاب و سنت میں اس کی کوئی نظیر یا مثال طاعت یا عبادت کے حکم میں نہ ملے ،اسے اپنے دل سے طاعت و عبادت ٹھہرالینا،یا اسی طرح اسے بلادلیل شرعی معصیت و محل ملامت یقین کرلینا ،یہ دونوں اعتقاد گناہ ہیں اور ہر بدعت اسی حکم میں داخل ہے۔(تفسیر ماجدی)

190۔ "جہاد" کے لفظی معنی"کوشش کرنے" کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کو "جہاد " کہتے ہیں۔حدیث میں ہے"جو شخص اس حال میں دنیا سے رخصت ہوا کہ نہ تو اس نے کبھی جہاد کیا اور نہ اس کے دل میں کبھی اس کا خیال آیا تو گویا وہ نفاق کی موت مرا۔"(صحیح مسلم،الامارۃ)حضرت ابن مسعودؓ نے رسول اللہ ؐ سے پوچھا کہ"اے اللہ کے رسولؐ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ ارشاد فرمایا نماز کو اس کے وقت مقررہ پر اداکرنا۔"میں نے دریافت کیا اس کے بعد فرمایا "والدین سے اچھا سلوک کرنا۔" میں نے عرض کیا اور اس کے بعد؟ فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔"(صحیح بخاری،الجہاد)(احسن الکلام)

- مدافعانہ جنگ کی اجازت:

مکہ میں مسلمانوں کو مخالفین کے ظلم و ستم پر صبر کرنے کی ہی ہدایت کی جاتی رہی ۔مدینہ آکر جب مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی ریاست قائم ہوگئی تو مسلمانوں کو لڑائی کی اجازت مل گئی اور اس سلسلہ میں پہلی آیت جو نازل ہوئی وہ سورۂ حج کی یہ آیت تھی۔ اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا۝۰ وَاِنَّ اللہَ عَلٰي نَصْرِہِمْ لَقَدِيْرُۨ۝۳۹ترجمہ: جن مسلمانوں سے (خواہ مخواہ) لڑائی کی جاتی ہے ان کو اجازت ہے (کہ وہ بھی لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے اور خدا (انکی مدد کرے گا وہ) یقینا انکی مدد پر قادر ہے۔ (تیسیر القرآن)

- لارڈ ہیڈ لے انگریز،نومسلم ہوکر بات پتہ کی کہہ گیا ہے کہ تین ابتدائی اسلامی غزوات کے جغرافی محل و قوع کو دیکھ کر خود فیصلہ کروکہ لڑائی کی ابتداکس نے کی،اور چڑھائی کون کس پر کرکے گیا تھا؟ حملہ اور جارحانہ اقدام کون کررہاتھااور حفاظت ِ خود اختیاری و مدافعت میں کون لڑرہاتھا؟۔۔۔فی سبیل اللہ ۔یہ قید کتنی اہم اور دنیا کی تاریخ محاربات میں کیسی انقلاب انگیز ہے! دنیا میں لڑائیاں ہمیشہ لڑی گئیں ،اب بھی لڑی جارہی ہیں،آئندہ بھی لڑی جائیں گی، لیکن کاہے کیلئے؟ زرکیلئے ،یازن کیلئے ،یا زمین کیلئے ،زیادہ  سےزیادہ یہ کہ "قوم"اور "وطن" کیلئے!یعنی زور زمین کی طلب فرد کیلئے نہیں بلکہ قوم کیلئے رہ جائے،یہ خصوصیت صرف اسلامی جہاد "بدنام و رسوا" اسلامی جہاد کی ہے کہ جب کبھی اور جن حالات میں شروع ہو،اللہ کی راہ میں ہو،شرک کو مٹانے اور توحید کو بلند کرنے کیلئے ہو،دین حق کی حمایت و نصرت میں ہو،انسانی حکومت مٹاکر خدائی حکومت قائم کرنے کیلئے ہو، خودی کیلئے نہیں خدا کیلئے ہو،نفس کیلئے ،قبیلہ کیلئے "حلقہ اثر" کی توسیع کیلئے "آزادی تجارت" کیلئے "آزادی سمندر" کیلئے "نوآبادیوں کے تحفظ "کیلئے "برآمد کی منڈیاں"پیداکرنے کیلئے،غرض نئی اور پرانی کسی قسم کی بھی عصبیت ِ جاہلی کے جھنڈے کے نیچے نہ ہو،صاف صاف فی سبیل اللہ ہو، اور فی سبیل اللہ کے معنیٰ ہیں ۔لاعزاز دین اللہ۔۔۔۔۔ آیت کا موقع نزول ذی قعدہ سنہ7 ہجری ہے،جب معاہدۂ حدیبیہ کے دوسرے سال مسلمان عمرہ کی نیت سے مکہ روانہ ہورہے تھے،اور اندیشہ تھا کہ مشرکین معاہدہ کو توڑ کر جنگ شروع کردیں گے،اور اس کے جواب میں قدرۃً مسلمان بھی اشتعال سے لبریز ہوجائیں گے۔(تفسیر ماجدی)

191۔ یہاں فتنہ (شرانگیزی ) کا متبادل انگریزی لفظ (Persecution)ہے یعنی کسی گروہ یا شخص کو محض اس بناپر ظلم و ستم کا نشانہ بنانا کہ اس نے رائج الوقت خیالات کی جگہ دوسرے خیالات ونظریات کو قبول کیا ۔(تفہیم القرآن)۔۔۔۔۔    رسول اللہ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا (مسلم،بخاری)۔۔۔۔۔تم اللہ کے نام پر اور رسول اللہ کی ملت پر جہاد کےلئے جاؤکسی بوڑھے ،ضعیف ، بچے یا کسی عورت کو قتل نہ کرو(ابوداؤدبروایت انس)۔۔۔۔۔حضرت صدیق اکبر نے جب یزید بن ابی سفیان کو ملک شام بھیجا تو ہدایت دی کہ عبادت گذاروں ،راہبوں، اور کافروں کی مزدوری کرنے والوں کو بھی قتل نہ کریں جبکہ وہ قتال میں حصہ نہ لیں(قرطبی)(معارف القرآن)

فتنہ کا سدباب اور جہاد:

 ــــ فتنہ کا لفظ عربی زبان میں بڑے وسیع مفہوم اور کئی معنوں میں استعمال ہوتاہے مثلاً مشرکین مکہ کا بیت اللہ کا متولی ہونا اور بیت اللہ میں بت رکھنا،مسلمانوں کو بیت اللہ میں نماز اداکرنے ،حتیٰ کہ داخل ہونے سے روکنا یہ سب فتنہ کے کام ہیں گویا یہاں فتنہ سے مراد مشرکین مکہ کی ہروہ حرکت ہے جو انہوں نے دین اسلام کو روکنے کی خاطر کی تھی۔مثلاً مسلمانوں پر ظلم و ستم اور جبرواستبداد ،انہیں دوبارہ کفر پر مجبور کرنا ،اگر وہ ہجرت کرجائیں تو ان کا پیچھا نہ چھوڑنا اور بعد میں ان کے اموال و جائداد کو غصب کرلینا وغیرہ وغیرہ یہی سب باتیں فتنہ میں شامل ہیں ۔ایسی تمام باتوں کے سدباب کے لیے جہاد کرنا ضروری  قرار دیا گیا۔(تیسیر القرآن)

- واقتلواکے صیغۂ جمع سے فقہاء حنفیہ نے یہ نکتہ پیداکیا ہے کہ قتال و جہاد فریضۂ انفرادی نہیں ہے،امام کی معیت میں ہے، لشکر کا وجود و وجوب بہ طورعبارۃ النص کے نکلا اور امام کا بہ طور اقتضاء النص کے کہ لشکر کا انتظام و اجتماع بغیر امام کے ممکن نہیں۔۔۔مفسر تھانویؒ نے خوب لکھا ہے کہ مشرکوں کی شرارت جسے یہاں فتنہ سے تعبیر کیا گیا ہے ،وہی تو اصل جڑ تھی،اور اخراج و قتل وغیرہ اس کی سزائیں تو محض فروع ہوئیں۔۔۔الفتنۃُ ۔فتنہ سے مراد شرک یا اس کی ترغیب و تحریص اور اہل توحید کی تخویف ہے۔۔۔کفر وترغیب ِکفر کو فتنہ سے اس لئے تعبیر کیا گیا کہ نظامِ کفر آخر دنیا کو فتنہ و فساد ،کشت و خون ،غدر و بدامنی ہی کی طرف لے جاتاہے۔(تفسیر ماجدی)

193۔ باز آجانے سے مراد کافروں کا اپنے کفر و شرک سے باز آجانا نہیں، بلکہ فتنہ سے باز آجانا ہے۔ کافر، مشرک، دہریے، ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنا جو عقیدہ رکھتا ہے، رکھے اور جس کی چاہے عبادت کرے یا کسی کی نہ کرے۔ اس گمراہی سے اس کو نکالنے کے لیے ہم اسے فہمائش اور نصیحت کریں گے مگر اس سے لڑیں گے نہیں۔ لیکن اسے یہ حق ہرگز نہیں ہے کہ خدا کی زمین پر خدا کے قانون کے بجائے اپنے باطل قوانین جاری کرے اور خدا کے بندوں کو غیر از خدا کسی کا بندہ بنائے۔ اس فتنے کو دفع کرنے کے لیے حسب موقع اور حسب امکان، تبلیغ اور شمشیر، دونوں سے کام لیا جائے گا اور مومن اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے گا، جب تک کفار اپنے اس فتنے سے باز نہ آجائیں۔ (تفہیم القرآن)

۔ فتنہ سے مراد ہر وہ مزاحمت اور قوت ہے جو تبلیغ و اشاعت اسلام کی راہ میں آڑے آئے جس سے اللہ کے دین کے مطابق زندگی بسر کرنا ممکن نہ رہے ۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام صرف مدافعانہ جنگ کا قائل نہیں ۔بلکہ اسلام کی اشاعت میں جو قوت رکاوٹ بنے اس سے جارحانہ جنگ کرنا ضروری ہے۔ تاآنکہ ایسی رکاوٹیں ختم ہوجائیں اور اللہ کا دین غالب ہو۔البتہ جو لوگ اپنی شرارتوں سے باز آجائیں اور جزیہ قبول کرلیں ۔ان پر تمہیں ہاتھ نہ اٹھانا چاہیے ۔اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ اپنے عقائد یا دین یا مذہب سے مجبور ہوکر اسلام قبول کرلیں کیونکہ اسلام قبول کرنے کیلئے کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتاہے۔(تیسیر القرآن)۔۔۔۔۔اسلام کی نظر میں سب غیر مسلم یکساں نہیں ۔وہ اہل کتاب سے نسبتاً نرم رویہ اختیار کرتاہے اور مشرکین کے معاملہ میں سخت ہے۔۔۔۔۔بلحاظ اقامت پذیری دارالاسلام کی تین اقسام ہیں۔1۔ حرمین یعنی حرم مکہ اور مدینہ ان مقامات میں صرف مسلمان ہی رہ سکتے ہیں،وہ مشرک ہوں یا اہل کتاب یہاں اقامت اختیار نہیں کرسکتے۔2۔ جزیرہ العرب یا حجاز اس میں اہل کتاب معاہد کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں۔ جب تک کہ وہ اپنے عہد پر قائم رہیں اور اگر بغاوت وغیرہ کریں تو انہیں دارالاسلام کے کسی دوسرے علاقہ میں منتقل کیا جاسکتاہے۔لیکن مشرکین کو اس خطہ میں برداشت نہیں کیا گیا۔3۔ باقی دارالاسلام میں اہل کتاب تو اطاعت گذار بن کر پوری آزادی سے رہ سکتے ہیں۔لیکن مشرکین کو گوارا ہونے کی حدتک برداشت کیا گیا ہے۔(اسلام کےقانون جنگ و صلح۔ص148)۔(تیسیر القرآن)

۔اب رہادارالاسلام اور دارالحرب  کا مسئلہ ،بلاشبہ یہ اصطلاحیں فقہائے اسلام نے وضع کی ہیں لیکن انہیں عام اسلام اور عام جنگ کے معنوں میں پیش کرنے میں کئی ایک مغالطے ہیں جو درج ذیل ہیں۔1۔جو غیر مسلم حکومتیں غیر جانبدار رہنا چاہیں اور مسلمانوں کو نہ خود چھیڑیں اور نہ مسلمانوں کے خلاف حمایت کریں ۔خواہ وہ حکومت اہل کتاب کی ہو یا مشرکین کی، اسلام ان سے لڑنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔بلکہ اس کے برعکس ان سے بہتر سلوک کی تائید کرتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔ دارالحرب کے سلسلے میں مغالطے:گویا دارالحرب بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگیا ۔ایک غیر جانبدار علاقہ جو فی الحقیقت دارالحرب نہیں ہے اور امن پسند ممالک عموماً غیر جانبدار ہی رہتے ہیں ۔لہذا دارالحرب آدھے سے بھی کم رہ گیا ۔2۔ باقی حربی علاقہ میں ایسے ممالک بھی ہوسکتے ہیں جن سے صلح کے معاملات طے پائے ہوں اور ان کی مدت صلح عموماً دس سال ہوتی ہے ۔جب تک ایسے ممالک بدعہدی نہ کریں ۔ان سے جنگ کی قطعاً اجازت نہیں۔۔۔۔۔۔۔- خطرہ جنگ اور حالت جنگ کا فرق: 3۔ اس کے بعد جوممالک بچ جائیں وہ فی الواقع "دارالحرب" ہیں اور وہی ممالک ہوسکتے ہیں جو مسلمانوں کے مخالف ہوں یا مخالفوں کا ساتھ دیتے ہوں،اور وہ  صلح پر آمادہ بھی نہ ہوں اور ظاہر ہے کہ ایسے ممالک تھوڑے ہی رہ جاتے ہیں ۔لیکن ایسے ممالک پر بھی "حالت جنگ" کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ حالت جنگ اور چیز ہے اور خطرہ جنگ اور چیز ۔۔۔۔۔۔۔۔- اسلام میں کن صورتوں میں حالات جنگ پیدا ہوتے ہیں ۔1۔ اپنے جان و مال کی حفاظت کیلئے مدافعانہ جنگ جس میں سرحدوں کی حفاظت بھی شامل ہے۔2۔ کسی علاقہ کے مسلمان جب امداد کیلئے پکاریں اور انہیں احکام شرعیہ کی تعمیل میں رکاوٹیں پیش آرہی ہوں۔3۔ معاہدہ کیخلاف ورزی ،عہد شکنی یا سفیر کے قتل کی بناپر اور یہ سب باتیں دراصل جنگ کا الٹی میٹم ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔- جنگی قیدیوں سے سلوک ۔ایسی رکاوٹیں ختم ہونے یا غلبہ پانے کے بعد بھی صرف ایسے آدمیوں کو سزا دینے کی اجازت ہے جو مسلمانوں پر جبر وتشدد کرنے اور انہیں ختم کردینے میں حد درجہ آگے بڑھے ہوئےہوں یا سازش کرتے رہے ہوں۔(تیسیر القرآن)

- اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے، اس کیلئے ضرورتھا کہ اس کا ایک جغرافی مرکز ہو،مستقرہو،اور روئے زمین پر کم از کم ایک خطۂ تو ایسا ہوجو شرک وکفر سے قطعاً پاک اور اہل توحید کیلئے صحیح معنیٰ میں "پاکستان" ہو،اور اس غرض کیلئے مولد رسولؐ،اور مہبط قرآن سے بڑھ کر سرزمین اور کون ہوسکتی تھی؟قدرۃً انتخاب اس کیلئے اس سرزمین ِ عرب کا ہوا ،کفار عرب اگر اسلام نہ لائیں تو ان کیلئے صرف قتل کا قانون ہے، اگر وہ جزیہ دینا چاہیں تو نہ لیا جائے گا(مفسر تھانویؒ)۔۔۔خالصۃً اور کفر و شرک ہردین باطل کا زورٹوٹ کررہے۔۔۔ذکروہی خطۂ عرب کی خالص اسلامی حکومت کا چل رہاہے کہ کم از کم اس"پاکستا ن" میں کفر وترغیبات ِ کفر کیلئے موقعے ہی باقی نہ رہیں۔(تفسیر ماجدی)

194۔ اہل عرب میں حضرت ابراہیم کے وقت سے یہ قاعدہ چلا آرہاتھا کہ ذی القعدہ ،ذی الحج، محرم تین ماہ حج کےلئے اور رجب عمرے کےلئے محترم سمجھا جاتا تھا۔اس اجازت کی ضرورت خاص طور پر اس وجہ سے پیش آگئی تھی کہ اہل عرب نے جنگ و جدل اور لوٹ مار کی خاطر نسی کا قاعدہ بنا رکھا تھا، جس کی رو سے وہ اگر کسی سے انتقام لینے کے لیے یا غارت گری کرنے کے لیے جنگ چھیڑنا چاہتے تھے، تو کسی حرام مہینے میں اس پر چھاپہ مار دیتے اور پھر اس مہینے کی جگہ کسی دوسرے حلال مہینے کو حرام کر کے گویا اس حرمت کا بدلہ پورا کردیتے تھے۔ اس بنا پر مسلمانوں کے سامنے یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر کفار اپنے نسی کے حیلے کو کام میں لا کر کسی حرام مہینے میں جنگی کاروائی کر بیٹھیں، تو اس صورت میں کیا کیا جائے۔ اسی سوال کا جواب آیت میں دیا گیا ہے۔(تفہیم القرآن)

- محرم سنہ قمری کا پہلا مہینہ ،رجب سنہ قمری کا 7ساتواں مہینہ،ذی قعدہ سنہ قمری کا گیارہواں مہینہ،ذی الحجہ سنہ قمری کا بارہواں مہینہ ،یہاں اشارہ ذی قعدہ7ہجری کی جانب ہے، رسول اللہ ؐ بہ قصد عمرہ اس وقت صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ ہوئے تھے،لیکن مشرکین آمادۂ قتال ہوگئے تھے۔۔۔معالمتقین۔ متقین کے ساتھ اللہ کی معیت کی آخر نوعیت کیا ہوتی ہے؟ محققین کا فیصلہ ہے کہ اللہ کی معیت بلحاظ اس کی نصرت ،اعانت،حفظ ،علم وغیرہ کے ہوتی ہے نہ کہ جسمانی یا مادّی اعتبارسے۔۔۔اوریہیں سے امام رازیؒ نےیہ نکتہ نکالا ہے کہ حق تعالیٰ نہ مجسّم ہے،اور نہ وہ کسی جگہ کو گھیرے ہوئے ہے،جیساکہ ہر جسم کسی متعین جگہ کو اپنے سے لبریز کردیتاہے۔(تفسیر ماجدی)

195۔ ۔۔۔۔حضرت ایوب انصاری نے فرمایا کہ ہلاکت سے مراد اس جگہ ترکِ جہاد ہے اس لیے عمر بھر آپ نے جہاد کیا  اور آخر قسطنطنیہ میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔ حضرت براء بن عازب نے فرمایا کہ گناہ کی وجہ سے اللہ کی رحمت اور مغفرت سے مایوس ہوجانا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔(معارف القرآن)

۔ بایدیکم کے الفاظ سے ایک ایسے شخص کی تصویر نگاہوںمیں آتی ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے کسی دریا یا غار میں چھلانگ لگا رہاہو۔بعض عرب شاعروں نے بھی یہ اسلوب اختیار کیا ہے۔۔۔۔۔ واحسنو کا عطف انفقو پر ہے یعنی اللہ کے راستے میں فیاضی اور خوشدلی سےپسندیدہ مال خرچ کرنا  جو اپنے آپ کو بھی عزیز و محبوب ہو ۔(تدبرقرآن)

- عبادت میں احسان کی تعریف حدیث ِ جبریل میں خود حضورؐ نے فرمائی کہ ایسی عبادت کروجیسے تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ نہ ہوسکے تو یقین رکھوکہ خدا تمہیں دیکھ رہاہے۔اور معاملات ومعاشرت میں احسان کی تفسیر مسند احمد میں بروایت حضرت معاذ حضرت رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمائی ہے کہ تم سب لوگوں کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور جس چیز کو تم اپنے لئے برا سمجھتے ہو وہ دوسروں کے لئے بھی برا سمجھو (مظہری)۔(معارف القرآن)۔۔۔۔۔حدیث جبریل میں اسلام ،ایمان،احسان اور  قیامت کا ذکر ہے۔(بیان القرآن)

196۔عمرہ کی نیت بھی حج کےلئے ایک ریہرسل ہے ۔اصل زور للہ کے لفظ پر۔نہ بتوں کےلئے نہ تجارت کے لئے۔(تدبرقرآن)

-  (i) حج ِ افراد : صرف حج۔(ii) حج تمتع : عمرہ اور حج کےلئے الگ الگ احرام(iii)حجِ قراٰن : ایک ہی احرام۔۔حج تمتع ،ایک سہولت۔(ضیاء القرآن) 

- آپؐ نے فرمایا کہ" جس کو قربانی نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات اپنے گھر پہنچ کر"(مسلم،کتاب الحج،باب وجوب الدم علی المتمتع)

- سیدنا عبداللہ بن عمر وبن العاصؓ کہتے ہیں کہ آپؐ حجتہ الوداع میں منیٰ میں ٹھہرے کہ لوگ آپؐ سے( مسائل حج) پوچھیں۔ایک شخص آپؐ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے خیال نہ رہامیں نے قربانی سے پہلے سرمنڈا لیا ۔آپؐ نے فرمایا اب قربانی کرلو کچھ حرج نہیں۔پھر ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ مجھے خیال نہ رہا میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرلی فرمایا کہ اب کنکریاں مارلوکوئی حرج نہیں "غرض یہ کہ جو کام بھی کسی نے آگے پیچھے کیا تھا آپؐ سے پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا اب کرلو،کوئی حرج نہیں(بخاری)

- حج تمتع کے احکام:  دور جاہلیت میں یہ سمجھا جاتاتھا کہ عمرہ کیلئے الگ اور حج کیلئے الگ سفر کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قید ختم کردی اور باہر سے آنے والوں کیلئے یہ رعایت فرمائی کہ وہ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرلیں البتہ جو لوگ مکہ میں یا اس کے آس پاس میقاتوں کی حدود کے اندر رہتے ہوں ۔انہیں اس رعایت سے مستثنیٰ کردیا۔کیونکہ ان کیلئے عمرہ اور حج کیلئے الگ الگ سفر کرنا کچھ مشکل نہیں۔

- حج کے اقسام و مسائل:  میقاتوں کے باہر سے آنے والے لوگ ایک ہی سفر میں عمرہ اور حج دونوں کرسکتے ہیں اس کی پھر دو صورتیں ہیں ۔ایک یہ کہ احرام باندھ کر عمرہ کرے ،پھر احرام نہ کھولے (نہ سر منڈائے) تاآنکہ حج  کے بھی ارکان  پورے کرلے ۔ ایسے حج کو قران کہتے ہیں۔ اور اگر عمرہ  کرکے سر منڈالے اور احرام کھول دے پھر حج کیلئے نیااحرام باندھے تو اسے حج تمتع کہتے ہیں اور اسی حج کو رسول اللہؐ نے پسند فرمایا۔۔۔۔ جو لوگ میقاتوں کی حدود کے اندر رہتے ہیں صرف حج کا احرام باندھ کر حج کریں گے جسے حج افراد کہتے ہیں اور ان پر قربانی واجب نہیں ۔

- احرام باندھنے کے مسائل:  1۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں کھڑا ہوکر پوچھنے لگا "یارسول اللہؐ ! ہم احرام کہاں سے باندھیں ؟آپؐ نے فرمایا مدینہ والے ذوالحلیفہ سے باندھیں ،شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن (منازل ) سے اور یمن والے یلملم سے۔"(بخاری)2۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپؐ سے پوچھا محرم کیا پہنے؟فرمایا وہ قمیص پہنے نہ عمامہ ،نہ ٹوپی اور نہ وہ کپڑا جس میں ورس یا زعفران لگا ہواور  اگر چپل نہ ملے تو موزے ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کرپہن لے۔(بخاری)( تیسیر القرآن)

- روزہ  صدقہ،قربانی یہ تینوں صورتیں فدیہ و کفارہ کی یکساں ہیں،جو شق بھی پسند آئے اختیار کی جاسکتی ہے۔۔۔شدید العقاب۔یہاں جس سیاق میں آیا ہے ،اس سے بعض علماء نے یہ نکتہ اخذ کیا ہے کہ مقدس و متبرک مقامات میں جس طرح قبولیت و سعادت کے مواقع بہت زیادہ ہیں ،اُسی طرح گناہ و عقوبت کا خطرہ بھی زیادہ لگاہواہے۔(تفسیر ماجدی)


پچیسواں رکوع

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ  197 حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو جوشخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زاد راہ (کا) پرہیزگاری ہے اور اے اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو۔
 لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ  198 اس کا تمہیں کچھ گناہ نہیں کہ (حج کے دنوں میں بذریعہ تجارت) اپنے پروردگار سے روزی طلب کرو اور جب عرفات سے واپس ہونے لگو تو مشعر حرام (یعنی مزدلفے) میں خدا کا ذکر کرو اور اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تم کو سکھایا۔ اور اس سے پیشتر تم لوگ (ان طریقوں سے) محض ناواقف تھے۔
ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 199 پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے۔
 فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ 200 پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کرچکو تو (منیٰ میں) خدا کو یاد کرو۔ جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دینا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔
 وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ 201 اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو۔
 اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ 202 یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے۔
 وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ 203 اور (قیام منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن ہیں) خدا کو یاد کرو۔ اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔
 وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ 204 اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔
وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ  205 اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا۔
 وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ  206 اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ  207 اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ 208 مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو وہ تو تمہارا صریح دشمن ہے۔
 فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ  209 پھر اگر تم احکام روشن پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑاجاؤ تو جان جاؤ کہ خدا غالب (اور) حکمت والا ہے۔
 هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠   210 کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کاعذاب) بادل کے سائبانوں میں آ نازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے۔

تفسیر آیات

197۔  جاہلیتِ عرب سے لے کر زمانہ اسلام تک یہی مہینے حج کے مقرر رہے ہیں، وہ مہینے شوال، ذیقعدہ اور دس روز زولحجہ کے ہیں، جیسا کہ حدیث میں بروایت ابو امامہ و ابنِ عمر‏‏‏ؒ  منقول ہے (مظہری )شوال سے حج کے مہینے  شروع ہونے کا حاصل یہ ہے کہ اس سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں البتہ آئمہ کے نزدیک تو قبل شوال کے احرام سے حج کی ادائیگی ہی نہیں ہو سکتی۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک  اس احرام سے حج تو ادا ہو جائے گا مگر مکروہ ہو گا  (مظہری) (معارف القرآن)

- احرام کی وجہ سے چھ چیزیں ناجائز(مباشرت، شکار، بال یا ناخن کاٹنا،خوشبو  ،صرف مردوں کےلیے؛سلے ہوئے کپڑے،سر اور چہرہ ڈھانپنا) ۔امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے نزدیک حالتِ احرام میں عورت کاچہرہ ڈھانپنا نا جائز ہے۔(معارف القرآن)۔۔۔۔ حتیٰ کہ خادم کو ڈانٹنا تک جائز نہیں۔(تفہیم القرآن) 

-  حج میں رفث(شہوانی باتیں)فسوق(خداکی نافرمانی،چوری وغیرہ)اور جدال کی ممانعت کی وجوہ یہ ہیں: ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسلام میں یہ عبادت انسان کو ترکِ دنیا اور زہد  (رہبانیت کے برعکس) کی آخری حد سے آشنا کرنے والی ہے۔ دوسری یہ کہ احرام کی پابندیوں کی وجہ سے ان چیزوں کے لئے  اکساہٹ بہت بڑھ جاتی ہے۔تیسرے یہ کہ حالتِ سفر میں ہونے کی وجہ سے ان چیزوں کے مواقع بہت پیش آتے ہیں اور شیطان ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ (تدبر قرآن) 

- حج مبرور کی فضیلت: ہروہ حرکت یا کلام جو شہوت کو اکساتا ہورفث کہلاتاہےاوراس میں جماع بھی شامل ہے ،فسوق  اور جدال اور ایسے ہی دوسرے معصیت کے کام اگرچہ بجائے خود ناجائز ہیں تاہم احرام کی حالت میں ان کا گناہ اور بھی سخت ہوجاتاہے اور رسول اللہؐ نے فرمایا : جس نے اللہ کیلئے حج کیا پھر اس دوران نہ بے حیائی کی کوئی بات کی اور نہ گناہ کا کوئی کام کیا ۔ وہ ایسے واپس  ہوتاہے جیسے اس دن تھا جب وہ پیدا ہوا"(بخاری) (تیسیر القرآن)

۔ اس معنی کے اعتبار سے اس جگہ رفث ، فسوق ، جدال سے روکنے اور ان کی حرمت   کو بیان کرنے میں  ایک حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مقامِ حج اور زمانہ حج کے حالات ایسے ہیں کہ ان میں انسان کو ان تینوں چیزوں میں ابتلاء کے مواقع بہت پیش آتے ہیں، حالتِ احرام میں اکثر اپنے اہل و عیال سے ایک طویل مدت تک علیحدہ رہنا پڑتا ہے، اور پھر مطافؔ  و مسعیٰؔ ، عرفاتؔ ، مؔزدلفہ، منیٰ  کے اجتماعات میں کتنی بھی احتیاط برتی جائے  عورتوں مردوں کا اختلاط ہو ہی جاتا ہے، ایسی حالت میں نفس پر قابو پانا آسان نہیں، اس لیے سب سے پہلے رفثؔ کی حرمت کا بیان فرمایا، اسی طرح اس  عظیم الشان اجتماع میں چوری وغیرہ دوسرے  گناہوں کے مواقع بھی بے شمار پیش آتے ہیں اس لیے "لا فسوق" کی ہدائت فرما دی۔ اسی طرح سفرِ حج میں اول سے آخر تک بے شمار مواقع اس کے بھی پیش آتے ہیں  کہ رفقاء سفر اور دوسرے لوگوں سے جگہ کی تنگی اور دوسرے اسباب کی بنا پر جھگڑا لڑائی ہو جائے ، اس لئے "لاَ جِدَالَ" کا حکم دیا گیا۔ (معارف القرآن)

- زادِ راہ ہے،تقویٰ نہیں تو ساری محنت اور مال بیکار،تقویٰ ہو،زادِ راہ نہ ہوتو بھیک مانگوگے ،جبکہ غربت میں حج فرض بھی نہیں۔(بیان القرآن)

- لیکن اپنے اوپر لازم کرلینےکی عملی اور معتبر علامت کیا ہے، بعض ائمہ کے نزدیک صرف نیت کرلینا کافی ہے ،لیکن حنفیہ نے بعض صحابیوں اور تابعین کی طرح اس کی علامت پوششِ احرام کو قرار دیا ہے۔۔۔تزوّدُوا کے صیغۂ امر سے فقہاء نے نکالا ہے کہ زادراہ لینے کا وجوب آیت سے بقاعدۂ عبارت النص ثابت ہے،فقہاء نے یہ بھی صاف لکھ دیا ہے کہ آیت ان "توکل پیشہ" صوفیہ کے مذہب کی بھی تردید کررہی ہے جو کسبِ معاش کو چھوڑ بیٹھے ہیں، اور اُسے کوئی بڑاروحانی کمال سمجھ رہے ہیں۔۔۔ابن جوزی ؒ کی تلبیس ابلیس میں ہے کہ "کچھو لوگوں پر ابلیس نے تلبیس ڈالی تو وہ توکل کے دعویدار ہوکر بلازاد سفر لئے چل دیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ یہ عین توکل ہے حالانکہ وہ شدید غلطی میں ہیں(باب فی تلبییہ علی العباد فی العبادات)۔۔۔فقہاء نے لکھا ہے کہ زاد سے جب زادِ راہ اور زادِ عمل دونوں مراد ہوسکتے ہیں، تو واجب یہی ہے کہ دونوں کا اہتمام و التزام رکھا جائے۔۔۔قرطبیؒ نے ایک حکایت حضرت امام احمدؒ سے متعلق نقل کی ہے کہ ایک شخص نے ان کی خدمت میں آکر کہا کہ میراارادہ مکہ معظمہ کی حاضری کا ہےبغیر کسی زادِ راہ کے ،محض توکل پر،آپ نے پوچھا ،تنہا یا قافلہ کے ساتھ، اس نے کہا قافلہ کے ساتھ،آپ نے فرمایا تو تمہارا توکل قافلہ والوں کے سامان پر ہے۔(تفسیر ماجدی)

198۔    حج کے پانچ ایام میں کوئی تجارت اور مزدوری نہیں بلکہ صرف عبادت ۔(معارف القرآن)

- قیامِ عرفات کے بغیر حج نہیں،باقی چیزوں کے لئے دم  (یعنی جرمانہ) ہے مگر وقوفِ عرفات کے بغیر حج نہیں ہوتا۔ظہر ،عصر ملاکر پڑھنا چاہیے۔ بہتر ہے عرفات میں داخلےے سے پہلے پڑھیں ۔مغرب /عشاء عرفات کے بعد مزدلفہ میں۔عرفات میں کوئی رسمی عبادت نہیں(بس اللہ اور بندہ)(بیان القرآن)

- مشعرالحرام مزدلفہ کی ایک پہاڑی کا نام ہے جس پر امام وقوف کرتاہے ۔اس پہاڑی پر وقوف افضل ہے ۔یہ نہ ہوسکے تو پھر جہاں بھی قیام کرے جائز ہے ،سوائے وادی محسر کے۔۔۔۔۔مشرکوں کا تلبیہ: مشرکین اللہ کا ذکر تو کرتے تھے ۔مگر اس میں شرکیہ کلمات کی آمیزش ہوتی تھی ۔اسی ضلالت سے بچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی اور وہ شرکیہ کلمات یہ تھے "الاشریکاھولک تملک وماملک" مگر تیرا وہ شریک جس کا تو مالک ہے وہ تیرا مالک نہیں(مسلم)۔(تیسیر القرآن)

-عرفات ۔مکہ معظمہ سے جو سڑک مشرق کی جانب طائف کو جاتی ہے ،اس پر مکہ سے کوئی بارہ میل کے فاصلہ پر کئی میل کے رقبہ کا ایک لمبا چوڑا میدان پڑتاہے،اور اس کا نام عرفات ہے، اسی نام کی ایک پہاڑی بھی اسی میدان میں واقع ہے ،سطح زمین سے کوئی 200گز بلند، سال بھر یہ میدان بالکل سنسان پڑا رہتاہے ،صرف ایک 9ذی الحجہ کو اس کی پوری کسر نکل آتی ہے ،اُس روز یہ میدان انسانوں اور ان کی سواریوں سے کھچاکھچ بھر جاتاہے ،حاجیوں کو 8 ذی الحجہ کی دوپہر منیٰ میں آجانا چاہئے اور 9 کی صبح کو بعد اشراق قافلے عرفات کیلئے روانہ ہوجائیں،تاکہ 8-9 میل درمیانی فاصلہ دوپہر تک طے ہوجائے ،دوپہر سے لے کر آخر وقت عصر تک اسی میدان میں رہنا چاہئے اور اسی کا اصطلاحی نام وقوف ہے ،یہی حاضری اعمالِ حج کی جان ہے،اور یہ سارا وقت توبہ و استغفار ،عبادت ،انابت ہی میں صرف ہوناچاہئے قریب غروب مزدلفہ (مشعر الحرام) کیلئے کوچ ہونا چاہئے  اور جس طرح آج ظہر کے ساتھ عصر کی نماز (بہ قاعدہ تقدیم )عرفات کی مسجد نمرہ میں ملالی گئی تھی ،اسی طرح آج مغرب کی نماز (بہ قاعدہ تاخیر) عشاسے ملا کر اس وقت پڑھی جائے گی، جب قافلے مزدلفہ پہنچ جائیں ۔(تفسیر ماجدی)

199۔ کفارِ مکہ کا عرفات نہ جانا۔زمانہ کفر کی ایک غلطی یہ بھی تھی کہ مکہ کے لوگ عرفات تک نہ جاتے کہ عرفات حرم سے باہر ہے بلکہ وہ حرم کی حد یعنی مزدلفہ میں ٹھہر جاتے اور قریش مکہ کے سوا اور سب عرفات تک پہنچتے اور پھر وہاں سے طواف کیلئے مکہ کو واپس آتے سواس لئے فرمادیا کہ جہاں سے سب لوگ طواف کو آئیں تم بھی وہیں سے جاکر لوٹویعنی عرفات سے اور اگلی تقصیر پر نادم ہو۔(تفسیر عثمانی)

-  حضرت ابراہیم کےزمانے میں سب عرفات تک جاتے تھے۔ رفتہ رفتہ قریش کی برہمنیت۔ہم اہل حرم ہیں اس لئے ہمارا عرفات تک جانا ہمارے مرتبے سے کم تر ہے۔۔۔۔۔وہ قبیلے جن سے قریش کے شادی بیاہ کے رشتے۔پھر قریش کے حلیفوں کی شان بھی عام عربوں سے اونچی ہوگئی۔(تفہیم القرآن)

انسانی مساوات کا زریں اصول :اس ارشاد قرآنی سے اصولِ معاشرت کی ایک اہم بات یہ معلوم ہوئی کہ رہن سہن  قیام و مقام میں بڑوں کو چاہیے کہ چھوٹوں سے الگ و ممتاز ہوکر نہ رہیں،بلکہ مل جل کر رہیں، کہ اس میں باہمی اخوت و ہمدردی اور محبت و تعلق پیدا ہوتاہے ،اور امیر و غریب کی تفریق مٹتی ہے، مزدور و سرمایہ دار کی جنگ ختم ہوجاتی ہے ،رسول اللہ ؐ نے  اپنے آخری حج کے خطبہ میں اس کو خوب واضح کرکے ارشاد فرمایا ،کہ کسی عربی کو عجمی پر یا گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں،فضیلت کا مدار تقویٰ اور اطاعتِ خداوندی پر ہے،اسی لئے جو لوگ ان کے خلاف مزدلفہ میں قیام کرکے اپنی ممتاز حیثیت بنانا چاہتے تھے،ان کے اس فعل کو گناہ قرار دیکر ان پر لازم کیا کہ اپنے اس گناہ سے توبہ و استغفار کریں، کہ اللہ تعالیٰ ان کی خطائیں معاف فرمادیں اور اپنی رحمت فرمائیں۔(معارف القرآن)

- ثمّ۔ یہاں تأخر ِ زمانی کیلئے نہیں ،فصل کلام کیلئے ہے،یعنی ایک بات ختم ہوئی ،اب دوسری ہدایت سنو،جیسے اردومیں ایسے موقع پر"اچھاتو" یا"ہاں تو" کہتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

200۔تم اب بالغ ہو،جوان ہو، عاقل ہو،بچے نہیں ہو یا اب  یا اب کی بجائے یارب یارب ۔اور کوئی باپ دادا کا شرف نہیں ،تم خود کیا ہو۔(معارف القرآن)

- لغویت ِ جاھلیہ کی اصلاح (میلے ٹھیلے، شعروشاعری،مخافرت، آباواجداد ،قبیلہ پرستی جبکہ اسلام کے بعد صرف ذکر الٰہی ۔طالبین دنیا کی اصلاح ۔جہاں دعا قبول ہو،وہیں عرضی ڈال دی(خدایاغیرِ خدا) دنیا پرستوں نے حج کی عبادت کو تجارتی میلہ بنادیا،آج کے دنیا پرست اسے سالانہ کانگریس بنانےپرزور دے رہے ہیں ۔(تدبرقرآن)

-بے شمارلوگ موسم حج  اور مقامات مقدسہ میں بھی محض دنیاوی اغراض کے لئے دعائیں مانگتے ہیں ۔تمام ذکر اور وظیفے صرف  دنیا کیلئے ۔آخرت کےلئے کچھ نہیں۔(معارف القرآن)

201-کیا صر ف مال و دولت ہی ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ بلکہ پچھلی آیت میں اٰتنا فی الدنیا کے ساتھ حسنہ نہیں۔اس لئے نیکی اور اطاعت کی زندگی ہی حسنۃ۔ (معارف القرآن)

ـــ حضورؐ نے دیکھا کہ ایک شخص چوزے کی طرح دبلا ہوگیاہے،پوچھا اللہ تعالیٰ سے کوئی دعامانگتے ہو،اس نے عرض کی کہ میں دعاکرتاہوں کہ اے مالک جو عذاب مجھے تونے قیامت کے دن دینا ہے وہ اس دنیا میں دے دے ۔حضورؐ نے فرمایا    تم میں خدا کا عذاب برداشت کرنے کی قوت کہاں۔ تم یہ دعا کیوں نہیں مانگا کرتے " ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ۔۔"۔۔ (ضیاء القرآن)

- مال ،اولاد،صحت ،اطمینان وغیرہ جو چیزیں بھی تحصیل خیر میں معین ہوسکتی ہیں ،خواہ بظاہر کیسی ہی دنیوی اور مادی ہوں،سب مؤمن کا مقصود و مطلوب بن سکتی ہیں ،البتہ خود دنیا ہرگز کسی مؤمن کا مُدّعا اور مقصود نہیں بن سکتی،آیت کی ترکیب خوب نظر میں رہے ۔۔۔اٰتنا کا مفعول صرف حسنہ ہے یعنی جس چیز کی طلب و تمنا کی جارہی ہے وہ حسنہ یا بہتری ہے فی الدنیا اور فی الآخرۃ صرف ظرف یا محل ہیں ،ترتیب میں یہ مفعول یا معنیٰ کے لحاظ سے مقصود کسی طرح بھی نہیں ہوسکتے مراد محض یہ ہے کہ ہمیں تو آپ کے دربار سے صرف بھلائی یا بہتری درکار ہے ، دنیا میں بھی ہو توبھی اور آخرت میں ہوتو بھی ،مزید تفسیر یہ کہ دنیا میں ہمیں اعمال ِ خیر عنایت ہوں اور آخرت میں ثمرات خیر۔۔۔بعض سطحی دماغ والے اہل قلم نے آیت سے یہ عجیب و غریب نتیجہ نکالاہے کہ آخرت کی طرح دنیا بھی مؤمن کا مقصود بن سکتی ہے،بلکہ قرآن خود طلب دنیا کی تعلیم وترغیب دیتاہے ۔تعالیٰ اللہ علواً کبیراً۔مغالطہ کی قلعی اوپر کھولی جاچکی ہے ،مادہ پرست قوموں کی دنیا طلبی اور دنیا پسندی سے مرعوب ہوکر خود مسلمانوں کو طلب دنیا کی تعلیم دینا بلکہ اسے قرآنی تعلیم قرار دینا خدمتِ اسلام کی عجیب و غریب صورت ہے!۔(تفسیر ماجدی)

203۔   ایام معدودات سے مراد ماہ ذی الحجہ کی گیارہ،بارہ اور تیرہ تاریخ ہے ۔ان دنوں میں بکثرت اللہ کو یاد کرتے رہنا چاہیے ۔رمی جمار کے وقت بھی بآواز بلند تکبیر کہی جائے اور تمام حالات میں بھی بازاروں میں چلتے پھرتے وقت بھی اور ہر نماز کے بعد بھی اور تکبیر کے الفاظ یہ ہیں ۔اللہ اکبر، اللہ اکبر ،اللہ اکبر(تین مرتبہ)لاالٰہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد)۔۔۔۔

ایام تشریق اور تکبیر: عیدین کی تکبیریں بھی یہی ہیں اور ایام تشریق میں بھی یہی بآواز بلند کہتے رہنا چاہیے ۔ایام تشریق کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ یہ کھانے پینے اور ذکرالٰہی کے دن ہیں ۔تکبیرات کے شروع اور ختم کرنے میں اگر چہ اختلاف ہے تاہم صحیح اور راجح یہی بات ہے کہ ذی الحجہ کی 9تاریخ (عرفہ یا حج کے دن) کی صبح شروع کرکے تیرہ تاریخ کی عصر کو ختم کی جائیں ۔ اس طرح یہ کل تئیس نمازیں بنتی ہیں ۔ہر نماز کے بعد کم از کم تین بار اور زیادہ  سے زیادہ جتنی اللہ توفیق دے ۔بآواز بلند تکبیرات کہنا چاہئیں۔۔۔۔۔- رمی جمار کا عمل تین دن یعنی ذی الحجہ کی 10، 11، 12کو ہوتاہے۔دس ذی الحجہ کا دن تو حجاج کیلئے بہت مصروفیت کا دن ہوتاہے بشرطیکہ اس کے دل میں تقویٰ ہو اور حج کے تمام مناسک ٹھیک طورپر بجالانے کا ارادہ رکھتاہو۔(تیسیر القرآن)

۔صحیح یہ ہے کہ حجاج کو دونوں صورتوں میں اختیار ہے جس پر چاہیں  عمل کریں، ہاں افضل و اولٰی یہی ہے کہ تیسرے دن تک ٹھہریں، فقہاء نے فرمایا ہے کہ جو شخص دوسرے دن غروبِ آفتاب سے پہلے منٰی سے چلا آیا اس پر تیسرے دن کی رمی واجب نہیں، لیکن اگر آفتاب منٰی میں غروب ہو گیا  پھر تیسرے دن کی رمی کرنے سے پہلے وہاں سے واپس آ جانا جائز  نہیں رہتا  ، البتہ تیسرے دن کی رمی میں یہ رعایت  رکھی گئی ہے کہ وہ زوالِ آفتاب سے پہلے صبح کے بعد بھی ہو سکتی ہے۔ (معارف القرآن)

۔ حج کا اجتماع روزِ حشر کے اجتماع کی یاددہانی ۔اس کو یاد کرکے خرافات کی بجائےعبادات اور جلدی جلدی بھاگنے کی بجائے خدا کا ذکر۔منی میں دویا تین دن۔ (تدبر قرآن)

-ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں حج سے  واپس آیا تو  اتفاقاً  میرے دل میں ایک گناہ  کا وسوسہ پیدا ہوا مجھے غیب سے ایک آواز آئی کہ کیا تو نے حج نہیں کیا؟ یہ آواز میرے اور اس گناہ کے درمیان ایک دیوار بن گئی اللہ تعالیٰ نے مجھے محفوظ فرمادیا۔
 ایک ترکی بزرگ جو مولانا جامی کے مرید تھے ان کا حال یہ تھا کہ ہمیشہ اپنے سر پر ایک نور کا مشاہدہ کیا کرتے تھے۔         وہ حج کو گئے اور فارغ ہو کر واپس آئے تو یہ کیفیت بجائے بڑہنے کے بالکل سلب ہوگئی۔ اپنے مرشد مولانا جامی سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حج سے پہلے تمہارے اندر تواضع و انکسار تھا اپنے آپ کو گنہگار سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے الحاح وزاری کرتے تھے ۔  حج کے بعد تم اپنے آپ کو نیک اور بزرگ سمجھنے لگے اس لئے یہ حج ہی تمہارے لئے غرور کا سبب بن گیا۔ اسی وجہ سے یہ کیفیت زائل ہوگئی۔(معارف القرآن)

- تشریق کے معنیٰ قربانی سکھانے کے ہیں،۔۔۔ایام معدودات۔اس پر صحابہ و تابعین سب کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد زمانۂ تشریق ہے ۔۔۔فقہاءحنفیہ کے ہاں 13 کا قیام افضل ہے۔(تفسیر ماجدی)

204۔ الدوالخصام کے معنیٰ ہیں دشمن وہ جو تمام دشمنوں سے زیادہ ٹیڑھا ہویعنی جو حق کی مخالفت میں ہر ممکن حربے سے کام لے،کبھی جھوٹ ،کسی بے ایمانی،کسی غدرو بدعہدی اور کسی ٹیڑھی سے ٹیڑھی چال کو بھی استعمال کرنے میں تامل نہ کرے۔(تفہیم القرآن)

-  اور وہ اپنی دل کی نیت کو گواہ ٹھہراتا ہے،یعنی منافق خداکی قسمیں کھا کھاکر اپنا اعتبار جماتاہے۔(تدبرقرآن)

- ومن الناس ۔لازمی نہیں کہ ایک ہی شخص مراد ہو،ایک بھی ہوسکتاہے ،بہت سے بھی ہوسکتے ہیں ۔۔۔فی "باب میں" یا "دربارہ" کے معنی میں بھی ہوسکتاہے ،اس صورت میں معنیٰ ہوں گے کہ"دنیوی امور سے متعلق" ۔۔۔شانِ نزول کی روایتوں میں آتاہے کہ قبیلہ ثقیف کا ایک شخص خوش منظر و خوش تقریر اخنس بن شریق نامی تھا، مجلس ِ رسولؐ میں جب آتاتو خوب لمبے چوڑے دعوے اپنے ایمان و اسلام کے کرتا،بات بات پر خدا کو گواہ ٹھہراتا،لیکن جب مجلس سے اُٹھ کرچلا جاتا تو طرح طرح کی عملی شرارتوں میں لگ جاتا۔(تفسیر ماجدی)

205۔ حضورؐ نے فرمایا:"اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو سخت جھگڑالوہو(بخاری)(احسن الکلام)

- اخنس بن شریق ایک منافق تھا جو فصیح و بلیغ اور شیریں کلام تھا ۔ رسول اللہؐ کو اس کی چکنی چپڑی باتیں بھلی معلوم ہوتیں ۔وہ بات بات پر اللہ کی قسم کھاتا اور بار بار اللہ کوگواہ بناکرکہتاکہ وہ سچا مسلمان ہے اور مسلمانوں کا دلی دوست ہے ۔اللہ نے رسول اللہؐ کو صحیح صورت حال سے مطلع کرتے ہوئے ْفرمایا کہ اس کی باتوں پر فریفتہ مت ہونا ،کیونکہ یہ سخت جھگڑالوقسم کا انسان ہے ۔چناچہ ایسا ہی ہوا ،وہ اسلام سے پھر کر مکہ واپس چلا گیا ۔راستہ میں مسلمانوں کے جو کھیت دیکھے انہیں جلا دیا اور جو جانور نظر آئے انہیں مار ڈالا۔(تیسیر القرآن)

- جیساکہ اخنس نے کیا بھی کہ قبیلہ ثقیف کے کھیت جلوادیے ،اور ان کے مویشیوں کو ہلاک کر ڈلا۔(تفسیر ماجدی)

206۔ یہ حال ہے منافقین کا کہ ظاہر میں خوشامد کرے اور اللہ کو گواہ کرے کہ میں سچا ہوں اور  میرے دل میں اسلام کی محبت ہے اور جھگڑے کے وقت کمی نہ کرے اور قابوپاوے تو لوٹ مار مچادے اور منع کرنے سے اس کو زیادہ ضد چڑھے اور گناہ میں ترقی کرے کہتے ہیں ایک شخص اخنس بن شریق تھا، منافق فصیح و بلیغ۔ جب آپ کی خدمت میں آتا تو نہایت اخلاص اور محبت اسلام ظاہر کرتا اور جب چلا جاتا تو کسی کی کھیتی جلادیتا کسی کے جانوروں کے پیرکاٹ ڈالتا اس پر منافقین کی برائی میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔(تفسیر عثمانی)

- العزۃ ۔عزۃ کے معنیٰ یہاں خود بینی اور حمیت جاہلی کے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

207۔پہلی آیت میں اس منافق کا ذکر تھا جو دین کے بدلے دنیا لیتا تھا اس کے مقابلہ میں اب اس آیت میں اس  مخلص کا مل الایمان کا ذکر ہے جو دنیا اور جان و مال کو طلب دین میں صرف کرتاہے۔کہتے ہیں حضرت صہیب رومی بارادہ ہجرت آپؐ کی خدمت میں آرہے تھے ۔رستہ میں مشرکین نے ان کو گھیر لیا صہیب ؓنے کہا کہ میں اپنا گھر اور تمام مال تم کو اس شرط پر دیتاہوں کہ مجھ کو مدینہ جانے دو اور ہجرت سے نہ روکو اس پر وہ راضی ہوگئے اور صہیب ؓآپ کی خدمت میں چلے گئے اس پر یہ آیت مخلصین کی تعریف میں نازل ہوئی۔(تفسیر عثمانی)

صہیب رومیؓ کی فضیلت:  یعنی انسانوں میں کچھ اس قسم کے لوگ بھی موجود ہیں جو اللہ کی راہ میں اپنا جان و مال سب کچھ قربان کردیتے ہیں۔چنانچہ صہیب ؓ بن سنان رومی اپنا وطن ترک کرکے ہجرت کی غرض سے مدینہ آرہے تھے کہ راستہ میں مشرکوں نے پکڑلیا اور انہیں اسلام سے برگشتہ ہونے پر مجبور کیا ۔صہیبؓ کہنے لگے کہ میں اپنا گھر اور اپنا سارا مال تمہیں اس شرط پر دینے کو تیار ہوں کہ تم میری راہ نہ روکو اور مجھے مدینہ جانے دو۔انہوں نے اس شرط پر آپ کو چھوڑ دیا اور صہیب رومیؓ آپؐ کی خدمت میں پہنچ گئے ۔ایسے ہی مخلص مومنوں کی تعریف میں یہ آیت نازل ہوئی(الرحیق المختوم)(تیسیر القرآن)

208۔اسلام پر پوراپورا عمل کرو اور بدعت سے بچو:

پہلی آیت میں مومن مخلص کی مدح فرمائی تھی جس سے نفاق کا ابطال منظور تھا اب فرماتے ہیں کہ اسلام کو پوراپورا قبول کرو یعنی ظاہر و باطن اور عقیدہ اور عمل میں صرف احکام اسلام کا اتباع کرو یہ نہ ہو کہ اپنی عقل یا کسی دوسرے کے کہنے سے کوئی حکم تسلیم کرلو یا کوئی عمل کرنے لگو سواس سے بدعت کا قلع قمع مقصود ہے کیونکہ بدعت کی حقیقت یہی ہے کہ کسی عقیدہ یا کسی عمل کو کسی وجہ سے مستحسن سمجھ کر اپنی طرف سے دین میں شمار کرلیا جائے مثلاً نماز اور روزہ جو کہ افضل عبادت ہیں اگر بدون حکم شریعت کوئی اپنی طرف سے مقرر کرنے لگے جیسے عید کے دن عید گاہ میں نوافل کا پڑھنا یا ہزارہ روزہ رکھنا یہ بدعت ہوگا خلاصہ ان آیات کا یہ ہوا کہ اخلاص کے ساتھ ایمان لاؤ اور بدعات سے بچتے رہو چند حضرات یہود سے مشرف بااسلام ہوئے مگر احکام اسلام کے ساتھ احکام تورات کی بھی رعایت کرنی چاہتے تھے مثلاً ہفتہ کے دن کو معظم سمجھنا اور اونٹ کے گوشت اور دودھ کو حرام ماننا اور تورات کی تلاوت کرنا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس سے بدعت کا انسداد کامل فرمایا گیا۔(تفسیر عثمانی)

۔ یعنی کسی استثنا  اور تحفظ کے بغیر اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آؤ۔ تمہارے خیالات، تمہارے نظریات، تمہارے علوم، تمہارے طور طریقے، تمہارے معاملات، اور تمہاری سعی و عمل کے راستے سب کے سب بالکل تابع اسلام ہوں۔ ایسا نا ہو کہ تم اپنی زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے بعض حصوں میں اسلام کی پیروی کرو اور بعض حصوں کو اس کی پیروی سے مستثنٰی کر لو۔ (تفہیم القرآن)

- حکم خاص طورپر قابل غور ہے، اسلام صرف چند عقائد یا چند عبادات ،یا صرف چند قوانین کا نام نہیں وہ تو ایک جامع ومانع نظامِ حیات ہے ،ایک مکمل و منظم دستور زندگی ہے،انسانیت کے ایک ایک شعبہ ،ہر ہر گوشہ پر حاوی ،اور اس کا ہر جزو ،اس کے کل سے ،اس کے دوسرے اجزا سے نہایت درجہ ملحق و مرتبط ، یہ ہونہیں سکتاکہ کوئی شخص توحید تو اسلام سے لے لے لیکن عبادت کیلئے مسجد ، مندر،کلیسا سب کو یکساں سمجھے ،یا رسالت پر تو ایمان لے آئے ،لیکن معاشیات کے قاعدے کارل مارکس سے اور اخلاق کے ضابطے گوتم بدھ سے لینے جائے،معادیات ،معاشیات ،اخلاقیات،اجتماعیات اسلام کے سب اپنے ہیں ،کسی اور فلسفہ ،کسی اور دین  اور نظریےکی پیوند کاری اس کے ساتھ نبھ ہی نہیں سکتی ،آیت کا حکم عامْ ہے، لیکن شانِ نزول کی روایتوں سے پایاجاتاہے کہ خطاب خاص نومسلم یہود کی طرف تھا،یہ اسلام لانے کے بعد بھی چاہتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ رعایت اپنے عقائد ِ قدیم کی کئے جائیں ،اور اسلام کی ایک مستقل شاخ یہودیانہ اسلام قائم کرلیں،جس طرح بعد کو گمراہ فرقوں کے اثر سے معتزلی اسلام،شیعی اسلام، نیچری اسلام، قادیانی اسلام، وغیرہ بہت سے "اسلام" قائم ہوکررہے ۔(تفسیر ماجدی)

209۔ زللتم ۔زلّت کے لفظی معنیٰ پھسل جانے کے ہیں ،جو بے اختیاری میں بھی ہوتاہے ،یہ لفظ لاکر ڈرادیا ہے ،کہ قصداً اور دانستہ مخالفت تو پھر بڑی چیز ہے،غلطی یا بےخیالی سے بہک جانے میں بھی گرفت کا احتمال ہے۔(تفسیر ماجدی)

210۔ کس چیز کا انتظار کررہے ہو؟ابھی بہت زندگی پڑی ہے، بہت ذمہ داریاں ہیں، بچوں کی شادیاں کرلوں، ریٹائرمنٹ لے لوں،پھر دین کا کام کروں گا۔کچھ تو کرہی رہاہوں،نماز روزہ ہی کافی ہے۔(بیان القرآن)

- اب اشارہ انہی نومسلم یہود کی طرف ہے ، جن کا ذکر دوآیت قبل آچکاہے،یہ اسلام میں ابھی داخل ہوئے ہیں کفر و یہودیت سے پوری طرح نہیں نکل پائے ہیں۔۔۔غرض خدائے تعالیٰ کا بادلو ں سے بطور مرکب یا سواری کے قریب ترین تعلق یہود کے تخیل میں رچ گیا تھا، یہاں تک کہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے آخری مکمل ایڈیشن میں حق تعالیٰ کی تو تصویر نیم یہودی نیم مسیحی تخیل کے مطابق دی ہے اس میں معاذاللہ حق تعالیٰ کو صاف صاف بدلیوں پر سوار دکھایا ہے!۔(تفسیر ماجدی)


چھبیسواں رکوع

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ  211 (اے محمد) بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں۔ اور جو شخص خدا کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو خدا سخت عذاب کرنے والا ہے۔
زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ 212 اور جو کافر ہیں ان کے لئے دنیا کی زندگی خوشنما کر دی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بےشمار رزق دیتا ہے۔
 كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 213 (پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہی لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے۔
 اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ  214 کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعوبتوں میں) ہلا ہلا دیئے گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ۔ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آيا چاہتی) ہے۔
یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ 215 . (اے محمدﷺ) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے۔
كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ 216 (مسلمانو) تم پر (خدا کے رستے میں) لڑنا فرض کردیا گیا ہے وہ تمہیں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لئے مضر ہو۔ اور ان باتوں کو) خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

تفسیر آیات

211- بنی اسرائیل کی بدنصیبی اور اللہ تعالیٰ کی لاتعداد نعمتوں کی ناشکرگذاری ۔۔۔ مثلاً توراۃ ملی، چاہیئے تو یہ تھا کہ اس کو قبول کرتے مگرانکار کیا، آخر کوہِ طور گرانے کی ان کو دھمکی دی گئی، اور مثلاً حق تعالیٰ کا کلام سنا، چاہیئے تھا کہ سر آنکھوں پر رکھتےمگر شبہات نکالے۔ آخر بجلی سے ہلاک ہوئے۔  اور مثلاً دریا میں شگا ف کر کے فرعون سے نجات دی گئی۔ احسان مانتے مگر گوسالہ پرستی شروع   کی۔  جن پر سزائے قتل دی گئی، اور من و سلوٰی  نازل  ہوا، شکر کرنا چاہیئے تھا ، نافرمانی کی  ، وہ سڑنے لگا  اور اس سے نفرت ظاہر کی تو وہ موقوف ہو گیا اور کھیتی کی مصیبت سر پر پڑی۔ اورمثلاً انبیاِء کا سلسلہ ان میں جاری رہا ، غنیمت سمجھتے، ان کو قتل  کرنا   شروع کر دیا۔ جس پر یہ سزا دی گئی  کہ ان سے حکومت و   سلطنت چھین لی گئی، و علیٰ ھذا۔ )معارف القرآن(

۔آیت آج امت کے کس قدر حسب حال   اور کس قدر قابل غور ہے، اللہ کی عطا کی ہوئی ہر دینی و دنیوی نعمت کے ساتھ آج ہمارا کیا معاملہ ہے؟ کس نعمت کا حق ہم اداکررہے ہیں ؟کون سی نعمت ایسی ہے جس کی روح ہم نے نہیں بدل ڈالی ہے؟ ہماری نمازیں،ہمارے روزے،ہمارے حج، ہماری ساری عبادتیں تک مغز و روح سے خالی، محض ان عبادتوں کے خالی ڈھانچے رہ گئے ہیں ،اخلاق و اتحاد کی دولت ہم نے الگ برباد کرڈالی نتیجہ جو نکلا سب کی آنکھوں کے سامنے ہے، پاکستان ، عراق ،انڈونیشیا وغیرہ مسلم مملکتوں کا آج جو عبرت انگیز حشر ہورہاہے ،ان سب کی تہ میں یہی خدائی نعمتوں کی ناقدری ہے۔۔۔مسیحیوں کے ہاں ایک عربی داں انگریزپادری ڈاکٹر وہیری ابھی حال میں گذرے ہیں ،مسلمانوں سے مناظرہ کیا کرتے تھے ،انگریزی میں مختصر سی تفسیر بھی لکھی ہے ،اس آیت کے حاشیہ پر لکھتے ہیں "مسلمانوں نے متنِ قرآن کی جو اتنی سخت حفاظت رکھی ،اس کا ایک سبب اسی قسم کی تہدیدی آیتیں ہیں"۔(تفسیر ماجدی)

212۔  اللہ تعالیٰ نے اپنے غریبوں کو بنی قریظہ اور بنی نضیر کے اموال پر اور سلطنت ِ فارس و روم پر مسلط کردیا ۔(تفسیر عثمانی)

- دنیا کا رزق کامیابی کا معیار نہیں:  وہ دنیوی مال و دولت میں مگن رہ کر سیدنا بلالؓ،عمارؓ،صہیب رومیؓ اور دوسرے فقرائے مہاجرین کا تمسخر اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس قسم کے لوگوں کو محمدؐ اپنے ساتھ ملاکر عرب کے سرداروں پر غالب آنے کے خواب دیکھتاہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ دنیا کا رزق کامیابی اور اخروی انجات کا کوئی معیار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں یہ رزق کافروں کو چاہے تو زیادہ بھی دے دیتاہے ۔رہی کامیابی کی بات تو یہی ناتواں اور پرہیزگارلوگ قیامت کے دن جنت میں بلند تر مقامات پر ہوں گے اور یہ دنیا پر فریفتہ کافران سے بہت نیچے جہنم میں ہونگے۔(تیسیر القرآن)

انسانی زندگی کا آغاز توحید سے ہوا یا شرک سے: اس امت واحدہ کا طریق اور دین کیا تھا؟ وہ تھا توحید خالص اور صرف اللہ کیلئے اطاعت اور بندگی ۔یہی چیز انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی تھی ۔علاوہ ازیں سب سے پہلے انسان ابوالبشر سیدنا آدمؑ خود نبی تھے۔ لہذا آپ کی ساری اولاد اورآپ کی امت اسی دین پر قائم تھی۔مگر موجودہ دور کے مغربی علماء( جنہیں ہم مسلمانوں نے آج کل ہرشعبہ علم میں اپنا استاذ تسلیم کرلیا ہے)جب مذہب کی تاریخ لکھنے بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ انسان نے اپنی زندگی کا آغاز شرک کی تاریکیوں سے کیا پھر اس پر کئی ادوار آئے اور بلآخر انسان توحید کے مقام پر پہنچا ہے اور یہی نظریہ ہمارے ہاں کالجوں میں پڑھایا جاتاہے اور یہ اسلام کے پیش کردہ نظریہ کے مطابق بالکل غلط ہے ۔(تیسیر القرآن)

213۔امام راغب اصفہانی نے فرمایا ہے کہ لفظ امت عربی لغت کے اعتبار سے ہرایسی جماعت کو کہا جاتاہے جس میں کسی وجہ سےرابطہ و اتحاد اور وحدت قائم ہو(بوجہ نظریات و عقائد ،نسب ،زبان،رنگ ،جغرافیہ وغیرہ) )معارف القرآن(

۔ "کان الناس امۃ واحدۃ" کے بعد" فاختلفوا" کا لفظ محذوف ہے۔ (تدبرِ قرآن)

-حضرت عبداللہ بن عباس کے بقول وحدتِ عقیدہ حضرت آدم ؑسے حضرت ادریسؑ تک تقریباً ایک ہزار سال رہی ۔

-مذہب کی بنیاد پر قومیت کی تقسیم مسلم و غیر مسلم کا دوقومی نظریہ عین منشائے قرآنی کے مطابق ہے۔آیت فمنکم کافرومنکم مؤمن اس پر شاہد ہے۔علامہ اقبال :

اپنی ملت پر قیاس اقوا م ِمغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ِ ہاشمی(معارف القرآن)

- آغاز فطرت میں ۔آیت نے ایک بڑی گرہ کھول دی ،فرنگی "محققین" حسب معمول مدتوں اس باب میں بھٹکتے رہے ،اور ان میں سے اکثر یہی کہے گئے کہ انسان کا ابتدائی مذہب شرک یا تعدّد ِالہ تھا،شروع شروع وہ ایک ایک چیز کو خدا سمجھتاتھا اور عقیدۂ توحید تک تو نسل انسانی بہت سی ٹھوکریں کھانے کے بعد،اور عقلی و دماغی ارتقاء کے بڑے طویل سفر کے بعد پہونچی ہے،قرآن مجید نے اس خرافاتی نظریہ کو ٹھکراکر صاف اعلان کردیا کہ نسلِ انسانی آغاز ِ فطرت میں دینی حیثیت سے ایک ،اور واحد تھی ، اس میں "مذاہب" و "ادیان" کے یہ تفرقے کچھ بھی نہ تھے ،نوع انسانی فطری اور جبلی طورپر دین ِ توحید ہی پر تھی۔۔۔فبعث میں ف سے مراد ہے کہ ایک مدت کے بعد ،جب اہل باطل اپنے اختراعی عقائد و اعمال سے بہت سے فرقے اور مذاہب پیدا کرچکے تھے۔۔۔چنانچہ اہل حق کو نزاع و اختلاف کبھی مضر نہیں پڑا۔لمااختلفوا فیہ میں ذکر اہل حق کے اختلاف کا ہے اہل باطل سے ۔۔۔باذنہ میں اذن کے معنیٰ فضل وتوفیق و لطف کے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

214۔ ولنبلونکم۔(آیات 57-155 سے ملاکر پڑھیں)(بیان القرآن)

خباب بن ارتؓ کا شکوہ: ایک دفعہ آپؐ کعبہ کی دیوار کے سایہ میں اپنی چادر کو تکیہ بناکر بیٹھے تھے تو سیدنا خباب بن ارتؓ نے عرض کیا "آپؐ اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے؟"یہ سنتے ہی آپؐ تکیہ چھوڑ کر سیدھے بیٹھ گئے ۔آپؐ کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا ۔آپؐ نے فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں ۔جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں ،آرا  ان کے سر کے درمیان رکھ کر چلایا جاتا اور دو ٹکڑے کردیے جاتے مگر وہ اپنے سچے دین سے نہیں پھرتے تھے  اور اللہ اپنے اس کام کو ضرور پورا کرکے رہے گا۔یہاں تک کہ ایک شخص صنعا سے سوار ہوکر حضر موت چلا جائے گا اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا ڈر نہ ہوگا۔(بخاری) ۔۔۔۔۔۔ پرامن زندگی کی بشارت: اس حدیث میں مسلمانوں کیلئے بشارتیں ہیں مثلاًیہ کہ کافروں کی ضرررسانی اور ایذا دہی کا دور عنقریب ختم ہونے والاہے ۔پھر تمہاری اپنی حکومت قائم ہوگی جس میں ہر ایک کو پرامن زندگی بسر کرنامیسر آئے گی۔ کسی چور،ڈاکو،لٹیرے کو یہ جرأت نہ ہوگی کہ وہ دوسرے کے مال کی طرف نظر بھر کر دیکھ بھی سکے۔(تیسیر القرآن)

- آیت سے یہ مراد نہیں کہ کوئی مؤمن محض ایمان کی برکت اور فضل خدا سے جنت میں داخل ہی نہ ہوسکے گا جب تک کہ مجاہدات ِ شدیدہ کی منزل سے گزرنہ لے ،بلکہ مراد یہ ہے کہ صحابہؓ جن درجات عالیہ کے طالب تھے،اور بقول مرشد تھانویؒ ہر مومن کو طلب ایسی ہی رکھنی چاہئے ،ان درجات عالیہ تک پہونچنے کیلئے عام شرط ان منزلوں سے گذرنے کی ہے باقی نفس مجاہدہ تو ہر مومن کو اپنے درجہ و بساط کے لحاظ سے کرنا ہی ہوتاہے۔۔۔یہ جواب ان امتوں کو ان کی درخواست کا ملاکرتا،اس میں مومنین کو ہمیشہ کیلئے بشارت اور تسلی مل گئی اور اس حقیقت کا بیان آگیا کہ نصرتِ الٰہی اپنے وقت پر ضرور آکر رہے گی ،مجاہدات سے گھبرانا اور بددل نہ ہونا چاہئے ،صوفیہ نے آیت سے یہ تعلیم بھی اخذ کی ہے کہ حالاتِ مخالف کے ہجوم سے بہ تقاضائے بشریت اضطراب تو کاملین تک کو ہوتاہے،مگر ساتھ ہی ثابت قدمی اور اتباع احکام کی برکت سے نصرتِ الٰہی ہوکررہتی ہے۔(تفسیر ماجدی)  

215۔کیا خرچ کریں ۔کہاں خرچ کریں کاتفصیلی جواب اور کیا خرچ کریں کا مختصر ۔وماتفعلو من خیر فان اللہ بہ علیم۔یعنی تم جو کچھ بھلائی کروگے اللہ کو اس کی پوری خبر ہے۔بعد والی آیت میں جواب  قل العفو۔ دونوں جگہ مراد فرض زکوٰۃ نہیں ۔( معارف القرآن)

ع ۔ قرآن میں ہوغوطہ زن اے مردِ مسلماں اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار

جو حرف" قل العفو "میں پوشیدہ ہے اب تک اس دور میں شاید وہ حقیقت ہونمودار(علامہ اقبال)

انفاق فی سبیل اللہ میں ترتیب:  بعض مالدار صحابہؓ (مثلاً عمر بن الجموح وغیرہ) نے آپؐ سے یہ سوال کیا تھا کہ جس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور یہ تو ظاہر ہےکہ یہ سوال نفلی صدقات کے متعلق ہی ہوسکتاہے ۔انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں تین سوالات ہی ہوسکتے ہیں۔1۔ کتنا خرچ کیا جائے؟ 2۔کس کس پر خرچ کیا جائے؟ اور3 کن اشیاء میں سے خرچ کیا جائے ؟ فرضی صدقہ(یعنی زکوٰۃ) کے بارے میں ان تینوں سوالوں میں سے دوسرے سوال کا جواب جو سب سے اہم تھا جو قرآن کریم نے بالتفصیل دے دیا ہے(9: 60) باقی دوسوالوں کا جواب سنت میں بالتفصیل مذکور ہے یہاں نفلی صدقہ میں بھی سب سے پہلے اسی دوسرے اہم سوال کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ کہ کن کن کو دیا جائے۔ نفلی صدقات اور فرضی صدقات کے مصارف میں فرق ہے ۔کیونکہ نفلی صدقات کا تعلق انفرادی معاملات سے ہے اور زکوٰۃ کے مصارف کا تعلق اجتماعی معاملات سے۔ بہر حال انفرادی اور نفلی صدقہ کے خرچ کے بارے میں بتایا گیا کہ سب سے پہلے حقدار والدین ہوتے ہیں۔ اس کے بعد درجہ بدرجہ اقارب ،یتیم،فقراء اور مسافر وغیرہ ۔نیز فرمایا کہ کہ جو کچھ بھی تم خرچ کرو، خواہ زیادہ ہویا کم،معاشرہ کے ان افراد کو تمہیں ملحوظ رکھنا چاہیے اور اسی ترتیب سے ملحوظ رکھنا چاہیے جو یہاں بیان کی جارہی ہے۔(تیسیر القرآن)

۔ان کے جواب میں تصریح  کر دی گئی کہ جو کچھ مستحقین سے فاضل بچے وہ خرچ کرو، چونکہ اوپر مستحقین کا ذکر ہو چکا تھا۔ (تدبرِ قرآن)

216۔  بعض احکامِ جہادمسئلہ:مذکور الصدر آیات میں سے پہلی آیت میں جہاد کے فرض ہونے کا حکم ان الفاظ کے ساتھ آیاہے کتب علیکم القتال ،یعنی تم پر جہاد فرض کیا گیا ، ان الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ جہاد ہر مسلمان پر ہر حالت میں فرض ہے، بعض آیاتِ قرآنی اور رسول کریمؐ کے ارشادات سے معلوم ہوتاہے کہ یہ فریضہ فرض عین کے طورپر ہر ہر مسلم پر عائد نہیں، بلکہ فرض کفایہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت اس فرض کو اداکردے تو باقی مسلمان سبکدوش سمجھے جائیں گے، ہاں کسی زمانہ یا کسی ملک میں کوئی جماعت بھی فریضۂ جہاد اداکرنے والی نہ رہے تو سب مسلمان ترکِ فرض کے گنہگار ہوجائیں گے،حدیث میں رسول کریمؐ کے ارشاد الجہاد ماض الی یوم القیامۃ کا یہ مطلب ہے کہ قیامت تک ایسی جماعت کا موجود رہنا ضروری ہے جو فریضۂ جہاد اداکرتی رہے ،قرآن مجید کی دوسری آیت میں ارشاد ہے:"یعنی اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو تارکین ِ جہاد پر فضیلت دی ہے ،اور اللہ تعالیٰ نے دونوں سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے"۔اس میں ایسے لوگوں سے جو کسی عذر کے سبب یا کسی دوسری دینی خدمت میں مشغول ہونے کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہوں ان سے بھی بھلائی کا وعدہ مذکورہے، ظاہرہے کہ اگر جہاد ہرفرد مسلم پر فرض عین ہوتا تو اس کے چھوڑنے والوں سے وعدہ حسنیٰ یعنی بھلائی کا وعدہ ہونے کی صورت نہ تھی، "اور کیوں نہ نکل کھڑی  ہوئی تمہاری ہر بڑی جماعت میں سے چھوٹی جماعت اس کام کیلئے کہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں"۔اس میں خود قرآن کریم نے یہ تقسیم عمل پیش فرمائی کہ کچھ مسلمان جہاد کا کام کریں اور کچھ تعلیم دین میں مشغول رہیں،اور یہ جبھی ہوسکتاہے جبکہ جہاد فرض عین نہ ہو بلکہ فرض کفایہ ہو۔نیزصحیح بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ ایک شخص نے آنحضرتؐ سے شرکت ِ جہاد کی اجازت چاہی تو آپؐ نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟اس نے عرض کیا کہ ہاں زندہ ہیں، آپؐ نے فرمایا کہ پھر جاؤ،ماں باپ کی خدمت کرکے جہاد کا ثواب حاصل کرو"۔اس سے بھی یہ معلوم ہواکہ جہاد فرض کفایہ ہے، جب مسلمانوں کی ایک جماعت فریضۂ جہاد کو قائم کئے ہوئے ہوتوباقی مسلمان دوسری خدمتوں اور کاموں میں لگ سکتے ہیں، ہاں اگر کسی وقت امام المسلمین ضرورت سمجھ کر نفیر عام کا حکم دے اور سب مسلمانوں کو شرکتِ جہاد کی دعوت دے تو پھر جہاد سب پر فرض عین ہوجاتاہے،قرآن کریم نے سورۂ توبہ میں ارشاد فرمایا:"اے مسلمانو! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے کہا جاتاہےکہ اللہ کی راہ میں نکلوتو تم بوجھل بن جاتے ہو"۔اس آیت میں اسی نفیر عام کا حکم مذکور ہے، اسی طرح اگر خدانخواستہ کسی وقت کفار کسی اسلامی ملک پر حملہ آور ہوں اور مدافعت کرنے والی جماعت ان کی مدافعت پر پوری طرح قادر اور کافی نہ ہو تو اس وقت بھی یہ فریضہ اس جماعت سے متعدی ہوکر پاس والے سب مسلمانوں پر عائد ہوجاتاہے، اور اگر وہ بھی عاجز ہوں تو ان کے پاس والے مسلمانوں پر، یہاں تک پوری دنیا کے ہر ہر فرد مسلم پر ایسے وقت جہاد فرض عین ہوجاتاہے ،قرآن مجید کی مذکورہ بالا تمام آیات کے مطالعہ سے جمہور فقہاء و محدثین نے یہ حکم قراردیاہے کہ عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہے۔مسئلہ:اس لیے جب تک جہاد فرض کفایہ ہو اولاد کو بغیر ماں باپ کی اجازت کے جہاد میں جانا جائز نہیں۔(معارف القرآن)

- بعض مستشرقین اور ذہنی غلاموں نے اسلامی جہاد کو عجیب رنگ میں پیش کیا ہے۔ قرآنِ حکیم کے الفاظ وھو کرہ لکم (حالانکہ وہ تمہیں ناپسند ہے) ۔۔۔۔۔   تاریخ ہمیں ایک بھی مثال نہیں بتاسکتی کہ کسی کمزور ،تعداد میں کم، سامان جنگ میں یکسر محروم قوم نے شوقیہ اپنے سے طاقتور ،کثیر التعداد ہرقسم کے اسلحہ سے لیس قوم کو جنگ کےلئے للکارا ہو۔(ضیاء القرآن)

- جہاد کے فوائد و اہمیت: مکی دور میں بعض جوشیلے مسلمان جہاد کی اجازت مانگتے رہے مگر انہیں جہاد کی بجائے صبر کی تلقین کی جاتی رہی اور یہاں مدینہ میں آکر جب اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی اور جہاد فرض کیا گیا تو بعض مسلمانوں نے اسے دشوار سمجھا ۔کیونکہ ہر معاشرہ میں تمام آدمی ایک ہی جیسے نہیں ہوتے ،بعض جوشیلے،دلیر اور جوان بہت ہوتے ہیں تو بعض بوڑھے کمزور اور کم ہمت بھی ہوتے ہیں ۔یہ خطاب اسی دوسری قسم کے لوگوں سے ہے اور انہیں سمجھایا جارہاہے کہ جو چیز تمہیں بری معلوم ہوتی ہے ،ہوسکتاہے وہ فی الحقیقت بری نہ ہو بلکہ تمہارے حق میں بہت مفید ہو اور اس کے برعکس بھی معاملہ ہوسکتاہے اور بالخصوص یہ بات جہاد کے سلسلہ میں کی گئی کہ قتال سے ہر انسان کی طبیعت طبعاً نفرت کرتی ہے کیونکہ زندگی سے پیار ہرجاندار کی فطرت میں طبعاً داخل ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ جہاد میں جان و مال کا نقصان ہوگا۔ حالانکہ یہی جہاد کسی قوم کی روح رواں ہوتی ہے ۔شہید کی موت قوم کی حیات ہے ۔اسی لئے کتاب و سنت جہاد کو بہت افضل عمل قرار دیا گیا ہے اور بعض لوگ تو اسے اس قدر اہمیت دیتے ہیں کہ جہاد کو فرض کفایہ کی بجائے فرض عین سمجھنے لگے ہیں اور اسے اسلام کا چھٹا رکن سمجھتے ہیں ۔لیکن ان کا انداز فکردرست نہیں ۔جہاد افضل الاعمال ہونے کے باوجود نہ فرض عین ہے اور نہ اسلام کا چھٹا رکن۔(تیسیر القرآن)

- "سواب تو جا،اور عمالیق کو مار،اور جوکچھ اس کا ہے ،یک لخت ختم کر، اور ان پر رحم مت کر، بلکہ مردوعورت ،ننھے بچے شیرخوار اور بیل بھیڑ،اور اونٹ اور گدھے تک سب کو قتل کردے (1۔سموئیل۔2:15)۔(تفسیر ماجدی)


ستائیسواں رکوع

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ 217 (اے محمدﷺ) لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہےاور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا) ، اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے۔ اور فتنہ انگیزی خونریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں۔ اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ  218 جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی خدا کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور خدا بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے۔
 یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ   219 (اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو۔
فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ 220 (یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو) ۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ۔کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکھٹا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بےشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے۔
 وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ 221 اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کو زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں۔

تفسیر آیات

217- حرام مہینوں میں لڑائی رسول اللہؐ نے آٹھ آدمیوں پر مشتمل ایک دستہ جمادی الثانی2ھ کے آخر میں نخلہ کی طرف بھیجا (جومکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام ہے) تاکہ کفار مکہ کی نقل و حرکت کے متعلق معلومات حاصل کرے۔ کیونکہ ان کی طرف سے مدینہ پر چڑھائی کا ہر آن خطرہ موجود تھا اس دستہ کوکفار کا ایک تجارتی قافلہ ملا ۔جس پر انہوں نے حملہ کردیا اور ایک آدمی کو قتل کردیا اور باقی لوگوں کو گرفتار کرکے مال سمیت مدینہ رسول اللہؐ کے پاس لے آئے جس کا آپؐ کو افسوس ہوا ۔کیونکہ آپؐ نے صرف معلومات حاصل کرنے کیلئےبھیجا تھا۔لڑنے کیلئے نہیں بھیجا تھا اور جس دن یہ لڑائی کا واقعہ ہوا اس دن مسلمانوں کے خیال کے مطابق تو 30جمادی الثانی تھا مگر حقیقتاً وہ دن یکم رجب2ھ تھا ۔ اب کفار مکہ اور یہود اور دوسرے اسلام دشمن لوگوں نے ایک طوفان کھڑا کردیا کہ دیکھو کہ یہ لوگ جو بڑے اللہ والے بنتے  ہیں ۔ماہ حرام میں بھی خونریزی سے نہیں چوکتے ۔اسی پروپیگنڈا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ماہ حرام میں لڑنا فی الواقع بڑا گناہ ہے،مگر جو کام تم کررہے ہو وہ تو اس گناہ سے بھی شدید جرائم ہیں۔تم اسلام کی راہ میں روڑے اٹکاتے  اور مسلمانوں کو ایذائیں دیتے ہو۔ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو۔مسلمانوں کے مسجد میں داخلہ پر پابندیاں لگارکھی ہیں اور تم نے مسلمانوں پر عرصۂ حیات اس قدر تنگ کردیا کہ وہ اپنا گھربار چھوڑ کر یہاں سے نکل جانے پر مجبور ہوگئے ۔یہ سب جرائم ماہ حرام میں لڑائی کرنے سے بڑے جرائم ہیں ۔علاوہ ازیں جو فتنہ انگیزی کی مہم تم نے چلارکھی ہے وہ تو قتل سے کئی گنابڑا جرم ہے(یاد رہے کہ فتنہ  سے یہاں مراد ایسی ہر قسم کی مزاحمت ہے جو ان لوگوں نے اسلام کی راہ روکنے کیلئے اختیار کررکھی تھی) تمہیں اپنی آنکھ کا تو شہتیر بھی نظر نہیں آتا،اور مسلمانوں سے اگر غلط فہمی کی بناپر یہ لڑائی ہوگئی تو تم نے آسمان سر پر اٹھا رکھاہے۔۔۔۔۔ یعنی ان معاندین اسلام کے نزدیک تمہارا صل جرم یہ نہیں کہ تم نے ماہ حرام میں لڑائی کی ہے بلکہ یہ ہے کہ تم مسلمان کیوں ہوئے اور اب تک کیوں اس پر قائم ہو اور اس وقت تک مجرم ہی رہوگے جب تک یہ دین چھوڑ نہ دو اور حقیقتاً وہ یہی کچھ چاہتے ہیں ،یہ تمہارے بدترین دشمن ہیں۔لہذا ان سے ہوشیار رہو۔ (تیسیر القرآن)

-  اس مقام پر یہ بات بھی معلوم رہنی چاہیے کہ جب یہ دستہ قیدی اور مال غنیمت لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، تو آپ نے اسی وقت فرما دیا تھا کہ میں نے تم کو لڑنے کی اجازت تو نہیں دی تھی۔ نیز آپ نے ان کے لائے ہوئے مال غنیمت میں سے بیت المال کا حصہ لینے سے بھی انکار فرما دیا تھا، جو اس بات کی علامت تھی کہ ان کی یہ لوٹ ناجائز ہے۔ عام مسلمانوں نے بھی اس فعل پر اپنے ان آدمیوں کو سخت ملامت کی تھی اور مدینے میں کوئی ایسا نہ تھا، جس نے انہیں اس پر داد دی ہو۔(تفہیم القرآن)

۔یعنی شہرِ حرام میں قتال کرنا بے شک گناہ کی بات ہےلیکن حضراتِ صحابہ نے تو اپنے  علم کے موافق جما د الثانی میں جہاد کیا تھا ، شہرِ حرام یعنی رجب میں نہیں کیا اس لیے مستحقِ عفو ہیں، ان پر الزام لگانا بے انصافی ہے ۔(تفسیر عثمانی)

- سواامام ابوحنفہ ؒ ، امام مالک  ؒ و امام شافعیؒ،امام احمدؒ اور جمہور فقہاء اس کے قائل ہیں کہ قرآن ہی کی دوسری آیتوں سے یہ حکم حرمت کالعدم ہوگیا ہے اور اب جہاد ان مہینوں میں بھی شروع ہوسکتاہے۔۔۔لیکن عطاء تابعیؒ اور بعض اکابر اس کے قائل ہیں کہ حرمت والے مہینوں میں جنگ کی ممانعت کا حکم دائمی و قطعی ہے بلکہ عطاء تو اپنے فتوےکی صحت پر حلف اٹھا لینے کو تیار تھے۔۔۔ایک انگرزی مترجم قرآن کیمبریج یونیورسٹی کے استاد عربی پروفیسر پامر ہوئے  ہیں، اس موقع پر طنز و تعریض کا نشتر یوں چلاتے ہیں :"اب اسلام نے کافروں پر ہرچہار طرف سے دھاوا بول دیا"۔۔۔بدنصیب مرتد اپنے آپ کو ہر ساعت کے اجر اور ہر عبادت کے ثواب سے محروم پائے گا، اور دنیا میں اس کا ظہور یوں ہوگا کہ نہ مسلمان بیوی سے اس کا نکاح  قائم رہ سکتاہے،نہ مسلمان کی میراث میں سے اسے حصہ مل سکتاہے،بلکہ حکومت اگر اسلامی ہوتو ایسے بدعہد ،باغی و غدار کو زندہ رہنے کا بھی حق نہیں رہتا،شریعت یہود میں ارتداد ہی نہیں ،سعی ارتداد اور ترغیب ِ ارتداد کی بھی سزا قتل و سنگساری ہے۔ (تفسیر ماجدی)

۔آخرت میں مرتد ہو جانے والوں کے اعمال کا اکارت ہو جانا تو واضع ہے البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں ان کے اعمال   کے اکارت ہونے کی شکل کیا ہو گی؟ ہمارے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص مرتد ہو جاتا ہے وہ اسلامی ریاست میں جملہ شہری حقوق سے محروم ہو جاتا ہے، ریاست پر اس کے جان و مال کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ اسی اصول پر اسلامی تعزیرات کا وہ قانون مبنی ہے جو مرتدوں کی سزا سے متعلق ہے۔(تدبرِ قرآن)

218۔ جہاد کے معنی ہیں کسی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے اپنی انتہائی کوشش صرف کردینا۔یہ محض جنگ کا ہم معنیٰ نہیں ۔جنگ کیلئے تو قتال کا لفظ استعمال ہوتاہے۔جہاد اس سے وسیع ترمفہوم رکھتاہے اوراس میں ہر قسم کی جدوجہد شامل ہے۔مجاہد وہ شخص ہے جو ہر وقت اپنی مقصد کی دھن میں لگا ہو،دماغ سے اسی کیلئے تدبیرکی تبلیغ کرے، ہاتھ پاؤں سے اسی کیلئے دوڑ دھوپ اور محنت کرے ،اپنے تمام امکانی وسائل اس کو فروغ دینے میں صرف کردے،اور ہر اس مزاحمت کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کرے جو اس راہ میں پیش آئے ،حتی کہ جب جان کی بازی لگانے کی ضرورت ہوتو اس میں بھی دریغ نہ کرے۔اس کا نام "جہاد" ہے۔اور جہاد فی سبیل اللہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ صرف اللہ کی رضا کیلئے اور اس غرض کیلئے کیا جائے کہ اللہ کا دین اس کی زمین پر قائم ہواور اللہ کا کلمہ  سارے کلموں پر غالب ہوجائے۔اس کے سوا اور کوئی غرض مجاہد کے پیش نظر نہ ہو۔(تفہیم القرآن)

- یہ آیت دراصل مجاہدین کے اسی دستہ کے متعلق ہے جنہیں نخلہ کی طرف بھیجا گیا تھا ۔ان مجاہدین کو یہ تردد تھا کہ آیا اس جہاد کا ثواب بھی ملتاہے یا نہیں ۔کیونکہ اس میں دوغلطیاں ہوگئیں تھیں ایک یہ کہ انہوں نے رسول اللہؐ کی اجازت کے بغیر جہاد کیا تھا دوسری غلطی یہ کہ یکم رجب کو لڑائی کی جس کا انہیں علم نہ ہوسکا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہیں اللہ کی رحمت کاامیدوار ہونا چاہیے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ غلطیوں کو معاف کردینے والا ہے۔مہربان ہے۔(تیسیر القرآن)

219۔شراب اور جوئے کی قطعی ممانعت سورۂ مائدہ میں نازل ہوئی۔سورۃ بقرہ میں یہ پہلا حکم ہے جس میں اظہار ناپسندیدگی کیا گیا۔(تفسیر عثمانی)

-حرمتِ شراب پر تعمیل حکم کا بے مثال جذبہ نظر آیا ۔مدینہ کی گلیو ں میں شراب پانی کی طرح بہا دی گئی اور شراب کے مشکیزے چاک کر دئیے گئے۔ ایک صحابی جو شراب کے تاجر تھے ،ملک شام گئے ہوئےتھے۔واپسی پر شراب کی حرمت کا سن کرسب سرمایہ ضائع کردیا ۔دنیا نےاطاعت کے عظیم الشان انقلاب کا مشاہدہ کیا۔۔۔۔ جرمنی کے ایک ڈاکٹر کا مقولہ ضرب المثل ہے کہ اگر آدھے شراب خانے بند کردئیے جائیں تو آدھے شفاخانے اور آدھے جیل خانے بے ضرورت ہوکر بند ہوجائیں گے۔۔۔۔ ایک فرانسیسی محقق کا بیان ہے کہ آج جن لوگوں کے گھروں میں ہماری شراب کے دور چل رہے ہیں وہ ہمارے سامنے اتنے حقیر و ذلیل ہوگئے ہیں کہ سر نہیں اٹھا سکتے ۔(معارف القرآن)

- نبی اکرمؐ نے فرمایا بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی محتاج نہ ہوجائےاور ابتداء ان لوگوں سے کرو جو تمہارے زیر کفالت ہیں۔(بخاری)۔۔۔۔۔ سیدنا ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے ایک سفر کے دوران فرمایا جس کے پاس زائد سواری ہو وہ اسے دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد زاد راہ ہو وہ اسے دے دے جس کے پاس زادراہ نہیں ہے۔غرض یہ کہ آپؐ نے مال کی ایک ایک قسم کا ایسے ہی جدا جدا ذکر کیا ۔حتیٰ کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ اپنے زائد مال میں ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔(مسلم)۔۔۔۔۔ صدقہ کی آخری حد: صدقہ کی کم از کم حد فرضی صدقہ یعنی زکوٰۃ ہے۔ جو کفر اور اسلام کی سرحد پر واقع ہے بالفاظ دیگر زکوٰۃ ادانہ کرنے والا کافر ہے مسلمان نہیں جیساکہ سیدنا ابوبکرؓ نے ایسے لوگوں سے جہاد کیا تھا اوردوسری حد ضرورت سے زائدمال ۔ان دونوں حدوں کے درمیان وسیع میدان ہے اور اہل خیر جتنی چاہیں نیکیاں کماسکتے ہیں۔(تیسیر القرآن)

- حرمت قمار۔ معمے حل کرنے کا چلتاہواکاروبار اور تجارتی لاٹری کی عام صورتیں سب اس میں داخل ہیں۔۔۔شطرنج اور چوسر وغیرہ کو حرام قرار دیاگیا ہے، جن میں مال کی ہارجیت پائی جاتی ہے،تاش پر اگر روپیہ کی ہارجیت ہو تو وہ بھی میسر میں داخل ہے۔۔۔صحیح مسلم میں بروایت بریدہؓ مذکور ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ جو شخص نرد شیر(چوسر) کھیلتاہے وہ گویا خنزیرکےگوشت اور خون میں اپنے ہاتھ رنگتاہے،اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ، نے فرمایا کہ شطرنج میسر یعنی جوئے میں داخل ہے، اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا شطرنج تو نرد شیر سے بھی زیادہ بری ہے(تفسیر ابن کثیر)۔۔۔ایک روایت  میں ہے کہ جبریل امین نے رسولؐ کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جعفر طیار کی چارخصلتیں زیادہ محبوب ہیں، آنحضرتؐ نے حضرت جعفرؓ سے پوچھا کہ آپ میں وہ چار خصلتیں کیا ہیں، عرض کیا کہ میں نے اس کا اظہار اب تک کسی سے نہیں کیا تھا،مگر جب کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے خبردیدی تو عرض کرتاہوں کہ وہ چار خصلتیں یہ ہیں کہ میں نے دیکھا کہ شراب عقل کو زائل کردیتی ہے اس لئے میں کبھی اس کے پاس نہیں گیا ،اور میں نے بتوں کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں کسی کا نفع و ضرر نہیں،اس لئے جاہلیت میں بھی کبھی بت پرستی نہیں کی، اور مجھے  چونکہ اپنی بیوی اور لڑکیوں کے معاملہ میں سخت غیرت ہے اس لئے میں نے کبھی زنا نہیں کیا، اور میں نے  دیکھا کہ جھوٹ بولنا دنایت اور رذالت کی بات ہے  اسلئے کبھی جہالت میں  بھی جھوٹ نہیں بولا(روح المعانی)۔۔۔ ایک بھاری نقصان جوئے میں یہ ہے کہ اس کا عادی اصل کمائی اور کسب سے عادۃً محروم ہوجاتاہے،کیونکہ اس کی خواہش یہی رہتی ہے کہ بیٹھے بٹھائے ایک شرط لگاکر دوسرے کا مال چند منٹ میں حاصل کرے،جس میں نہ کوئی محنت ہے نہ مشقت۔۔۔جس کا مشاہدہ سٹہ بازار اور قمار کی دوسری قسموں میں روزمرہ ہوتا رہتاہے ،اور اسلامی معاشیات کا اہم  اصول  یہ ہے کہ ہرایسے معاملے کو حرام قرار دیا جس کے ذریعے دولت پوری ملت سے سمٹ کر چند سرمایہ داروں کے حوالے ہوسکے۔۔۔قمار بھی آپس میں لڑائی جھگڑے اور فتنہ و فساد کا سبب ہوتاہے۔۔۔شراب کی طرح آدمی اس میں مست ہوکر ذکر اللہ اور نماز سے غافل ہوجاتاہے۔۔۔بغیر کسی معقول معاوضہ کے دوسرے بھائی کا مال لے لیا جاتاہے۔۔۔قمار میں ایک بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ دفعۃً بہت سے گھر برباد ہوجاتے ہیں۔۔۔انسان کی قوتِ عمل سست ہوکر وہمی منافع پر لگ جاتی ہے۔(معارف القرآن)

- ایک آیت میں نفع کا مدِّ مقابل لفظ "اثم" استعمال کرکے قرآن نے بالکل واضح کردیا تھا کہ یہاں زیر بحث ان کے مادی اور طبی فوائد نہیں بلکہ اخلاقی فائدے ہیں وگرنہ نفع کے مقابل "ضرر" کا لفظ ہوتا۔(شراب و قمار کا اخلاقی فائدہ یہ تھا کہ شراب و قمار کی محفلین ہوتیں اور ان کے منافع سے غریبوں کی مدد کی جاتی تا کہ اس طرح  ان کی سخی ہونے کی شہرت ہو)- (تدبر قرآن)

-  یہ آیت سلسلۂ حرمت کی سب سے پہلی آیت ہے، قطعی حکم بعد کو نازل ہوا۔۔۔اثم کا لفظ ہر ایسے فعل کیلئے آتاہے جو نیکی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والا ہو۔۔۔اثم کا اطلاق کسی عمل پر خود اسے حرام قرار دینے کیلئے کافی ہے۔۔۔چہ جائیکہ جب اس پر تاکید بھی کبیر کے ساتھ موجود ہو! اثم کبیر ہی سے فقہاء نے نکالا ہے کہ شراب کی مقدار قلیل بھی حرام ہے۔۔۔بعض صحابیوں ،مثلاً حضرت عمرؓ اور حضرت معاذؓ کی بابت منقول ہے کہ انہوں نے شراب کی بابت رسول اللہؐ سے ازخود دریافت کرنا شروع کردیاتھاکہ ایسی چیز جو عقل اور مال دونوں کو غارت و برباد کردینے والی ہو،اس کے باب میں کیا حکم ہے۔۔۔صحبتِ رسولؐ کی برکت سے اگر قلوب میں از خود اتنی جلاپیدا ہوگئی ہو تو اس میں حیرت ہی کیا ہے؟۔۔۔۔ سرولیم میور، اپنے نہیں بیگانے ہیں، معتقد نہیں منتقد ہیں، باوجود اس کے لکھتے ہیں "اسلام فخر کے ساتھ کہہ سکتاہے کہ ترکِ میکشی کرانے میں جیسا وہ کامیاب ہواہے کوئی اور مذہب نہیں ہواہے"(لائف آف محمدؐ۔521)۔۔۔انیسویں صدی کے ربع آخر میں لندن میں چرچ کانگریس کے ایک اجلاس کے موقع پر ایک ممتاز پادری اسحاق ٹیلر نے کہا تھا" دنیا میں انسداد ِ مے نوشی کی سب سے بڑی انجمن خود اسلام ہے، برخلاف اس کے کہ ہماری یورپین تجارت کے قدم جہاں جہاں پہنچتے جاتے ہیں، مے نوشی و بدکاری اور لوگوں کی اخلاقی پستی بڑھتی ہی جاتی ہے"(تفسیر ماجدی)

۔قرآنِ کریم میں شراب  کے متعلق چار آئتیں  نازل ہوئیں ، جن کا ذکر اوپر آ چکا ہے ، ان میں سے ایک آیت سورۃ  بقرۃ کی ہے۔۔۔۔ دوسری آیت سورۃ  نساء کی "لا تقربو الصلوۃ و انتم سکاری" میں خاص اوقاتِ نماز کے اندر شراب کو حرام کر دیا گیا، باقی اوقات میں اجازت رہی۔۔۔۔ تیسری اور چوتھی دو آیتیں سورۃ  مائدہ کی ہیں جو اوپر مذکور ہو چکی ہیں، ان میں صاف اور قطعی  طور پر شراب کو حرام قرار دیدیا  (معارف القرآن

220۔ یتیموں کے بارے میں آیات سے ان کے وارث ڈرگئے اور ان کے کھانے اور خرچ کو بالکل الگ کردیا کیونکہ شرکت کی حالت میں یتیم کا مال کھانا پڑتا تھا اس میں یہ دشواری ہوئی کہ ایک چیز یتیم کے واسطے تیار کی اب جو کچھ بچتی وہ خراب جاتی اور پھینکنی پڑتی اس احتیاط میں یتیموں کا نقصان ہونے لگا تو آپ سے عرض کیا تو اس پر اب یہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر عثمانی)

- یتیموں کی تربیت اور خیرخواہی:  اس سے پیشتر یتیموں کے بارے میں دو حکم نازل ہوچکے تھے ۔ایک یہ کہ "یتیموں کے مال کے قریب  بھی نہ جاؤ"،(6: 152)اور دوسرا یہ کہ" جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں ،وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں"(4: 10)لہذامسلمان یتیموں کے بارے میں سخت محتاط ہوگئے اور ان کے مال اپنے مال سے بالکل الگ کردیےکہ اسی سے ان کا کھانا پینا اور دوسری ضروریات پوری کی جائیں۔(تیسیر القرآن)

- الیتٰمیٰ۔یتیم کی جمع ہے، اور یتیم سے مراد وہ لڑکا یا لڑکی ہے جس کے سرسے باپ یا ماں کا سایہ اُٹھ گیاہو، احکامِ شریعت میں یتیمی باپ کی طرف سے معتبر مانی گئی ہے۔۔۔برطانوی مصنف باسورتھ اسمتھ نے لکھا ہے "پیمبر کی توجہ خصوصی کے مرکز غلاموں کی طرح یتیم بھی رہے ہیں ،وہ خود بھی یتیم رہ چکے تھے،اس لئے دل سے چاہتے تھے کہ جو حسن سلوک خدانے ان کے ساتھ کیا وہی وہ دوسروں کے ساتھ رکھیں(محمد اینڈ محمڈنزم251)(تفسیر ماجدی)

221- اہل کتاب سے نکاح صرف اس صورت میں جائز ہے کہ وہ اپنےدین پر قائم ہوں اور دہریہ اور ملحد نہ ہوں جیسے آجکل کے نصاریٰ۔(تفسیر عثمانی)

- بنی اسرائیل کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر بیشمار عقائدی گمراہیاں ان عورتوں کے ذریعہ سے پھیلیں جو وہ دوسری بت پرست قوموں میں سے بیاہ کے لائے۔ اسی طرح ہمارے ہاں مغل سلاطین نے ہند و راجاؤں کے ہاں سیاسی مصالح کے تحت جو شادیاں کیں تو ان کی لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ان کے عقائد، اوہام، رسوم اور عبادت کے طریقے بھی اپنے گھروں میں گھسا لائے۔۔(تدبر قرآن)

- مفسر تھانویؒ کے چند فقہی افادات اس موقع پر نقل کرنے کے قابل ہیں"(i)ہندوعورت یا آتش پرست عورت سے نکاح نادرست ہے،(ii)کتابی عورت سے نکاح جائز ہے،لیکن بہتر نہیں،حضرت عمرؓنے اسے ناپسند فرمایا ہے،اور خود حدیث میں نکاح کا حکم دیندار عورت سے ہی کرنے کا ہے(iii)ایسی عورت جو وضع و طرز سے کتابیہ معلوم ہوتی ہو،لیکن بعد تحقیق اس کے عقائد کتابیوں کے سے نہ نکلیں ،اس سے بھی نکاح نادرست ہے"۔۔۔لاتنکحوا۔ خطاب مردوں سے ہے، کہ تم اپنی عورتوں کو کافروں کے نکاح میں نہ دو،حکم خودعورتوں کو براہ راست نہیں مل رہاہے کہ تم کافروں کے نکاح میں نہ جاؤ،یہ طرزِ خطاب بہت پُر معنیٰ ہے، صاف اس پر دلالت کررہاہے کہ مسلمان عورت کا نکاح مردوں کے واسطہ سے ہونا چاہئے۔۔۔فقہائے حنفیہ کے ہاں یہ استدلال مطلق صورت میں درست نہیں۔(تفسیر ماجدی)


اٹھائیسواں رکوع

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ 222 اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ تو نجاست ہے۔ سو ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ۔ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
 نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ  223 تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ۔ اور اپنے لئے (نیک عمل) آگے بھیجو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ (ایک دن) تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے اور (اے پیغمبر) ایمان والوں کو بشارت سنا دو۔
وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ 224 اور خدا (کے نام کو) اس بات کا حیلہ نہ بنانا کہ (اس کی) قسمیں کھا کھا کر سلوک کرنے اورپرہیزگاری کرنے اور لوگوں میں صلح و سازگاری کرانے سے رک جاؤ۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔
لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ 225 خدا تمہاری لغو قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کرے گا۔ لیکن جو قسمیں تم قصد دلی سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا۔ اور خدا بخشنے والا بردبار ہے۔
 لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 226 جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے سے قسم کھالیں ان کو چار مہینے تک انتظار کرنا چاہیئے۔ اگر (اس عرصے میں قسم سے) رجوع کرلیں تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔
 وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ  227 اور اگر طلاق کا ارادہ کرلیں تو بھی خدا سنتا (اور) جانتا ہے۔
وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠   228 اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنی تئیں روکے رہیں۔ اور اگر وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کو جائز نہیں کہ خدا نے جو کچھ ان کے شکم میں پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ اور خدا غالب (اور) صاحب حکمت ہے۔

تفسیر آیات

222۔  اوپر آپ نے دیکھا کہ کس طرح حج کے تعلق سے جہاد ، جہاد کے تعلق سے انفاق، انفاق کے تعلق سے جوئے اورشراب اورساتھ ہی یتامٰی   کی ہمدردی کے مسائل یکے بعد دیگرے پیدا ہو گئے۔ اسی طرح یتامیٰ کی ماؤں کے ساتھ نکاح  کے مسُلہ نے ایک طرف تو طلاق و نکاح سے متعلق  بعض مناسبِ وقت مسائل کے بیان کے لیے تقریب پیدا کر دی اور دوسری طرف عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے تقاضے سے بعض احکام و ہدایات کے نزول کے لیے نہایت سازگار فضا پیدا ہو گئ اور قرآن مجید کا طریقہ یہی ہے کہ  جب ایک بات کے بیان کے لیے موزوں حالات پیدا ہو گئے ہیں تو بارش کی طرح کلام ایک وسیع دائرے میں برس گیا ہے چنانچہ یہاں بھی متعلق مسائل کا ایک اہم حصہ بیان ہو گیا ہے۔ ان مسائل کا آغاز ایامِ ماہواری سے متعلق ایک سوال کے جواب سے ہوا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

۔اذی کا معنی تکلیف ،بیماری اور گندگی بھی ہے۔ چنانچہ طبی حیثیت سے حیض کے دوران عورت کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ صحت کی نسبت بیماری سے زیادہ قریب ہوتی ہے ۔حیض کی مدت ہر عورت کے جسم اور مزاج کے لحاظ سے کم و بیش ہوتی ہے جو عموماً کم از کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس د ن تک ہوسکتی ہے۔ اور اپنی اپنی عادت (مدت حیض) کا ہر عورت کو علم ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)

اس آیت میں "طہر " اور "تطہر" دو لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ طہر کے معنی تو یہ ہیں کہ عورت کی ناپاکی کی حالت ختم ہو جائے اور خون کا آنا بند ہو جائے اور تطہر کے معنی یہ ہیں کہ عورت نہا دھو کر پاکیزگی کی حالت میں آ جائے۔  (تدبرِ قرآن)

- یعنی عورت کے زمانۂ خاص میں اس سے ہم بستری کا حکم،قرآن زندگی کا مکمل دستور العمل ہے،وہی زندگی جس میں کھانا،پینا،سونا،جنسی خواہش کا پیدا ہونا،بچہ کا ماں باپ بننا،سب کچھ داخل ہے، زندگی کا ہر شعبہ جو کچھ بھی تعلق تعمیر سیرت سے رکھتاہے ،اس کی بابت ہدایات و احکام وہ لازمی طورپردے گا،وہ محض درویشانہ و عارفانہ ملفوظات و مواعظ کا مجموعہ نہیں۔۔۔ فاعتزلوا۔یہ اعتزال یا عورتوں کو چھوڑے رہنے کا حکم صرف ہم بستری کے عمل ِ خاص تک محدود ہے،مجالست و مواکلت وغیرہ عام معاشرت سے اس کا تعلق نہیں ،بعض قوموں میں عورتیں اپنے اس زمانہ میں نہ دوسروں کے ساتھ کچھ کھا پی سکتی ہیں ،نہ لیٹ بیٹھ سکتی ہیں،بعض قوموں میں اس زمانہ میں عورت کے ہاتھ کا پکا یاہوا کھانا ناپاک سمجھا جاتاہے،بعض مشرک قوموں میں یہ دستور ہے کہ اس زمانہ میں عورت کو میلے کچیلے کپڑے پہنا کرگھر کے ایک الگ گوشہ میں اچھوت بناکر بٹھا دیا جاتاہے،غرض دوسری قوموں نے عام طورپر اس طبعی ناپاکی سے متعلق بہت مبالغہ آمیز تخیل قائم کرلیا ہے ،شریعتِ اسلامی میں اس قسم کے کوئی امتناعی احکام موجود نہیں۔۔۔مشرک قوموں نے اس باب میں جو سختیاں روارکھی ہیں، ان سے قطع نظر خود توریت کے قانون کا تشدد بھی اس باب میں اپنی مثال آپ ہے،عورت اپنے ایام ِ ماہواری کے زمانہ میں خود ہی ناپاک نہیں ہوتی ،بلکہ جو شخص یا جو چیز بھی اس سے چھوجاتی ہے ،وہ بھی ناپاک ہوجاتی ہے،اور  سلسلہ درسلسلہ یہ ناپاکی متعدی ہوجاتی ہے۔" جوکوئی اُسے چُھوئے گا شام تک نجس رہے گا۔۔اور جو کوئی اُس کے بستر کو چھوئے ،اپنے کپڑے  دھوئے اور پانی سے غسل کرے،اور شام تک ناپاک رہے۔۔اور جو کوئی اس چیز کو جس پر وہ بیٹھی ہے چھوئے ،اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے نہائے ،اور شام تک ناپاک رہے۔۔اگر مرد اس کے ساتھ سوتا ہے،اور اس کی نجاست اس پر ہوتو وہ رات دن تک ناپاک رہے گا، اور ہر ایک بستر جس پر یہ مرد سوئے گا ،ناپاک ہوجائے گا"(اجارہ۔15: 19-24)(تفسیر ماجدی)

223۔ اس آیت کے شان نزول میں دوطرح کی احادیث آئی ہیں ۔ایک یہ کہ یہودی کہاکرتے تھے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس اس کے پیچھے سے آئے تو بچہ بھینگا ہوتاہے(ان کے اس خیال کی تردیدمیں ) یہ آیت نازل ہوئی (بخاری)۔۔۔۔۔ مجامعت کا مقصد:  یعنی اولاد کی خاطر اپنی نسل برقرار رکھنے کیلئے یہ کام کرو۔تاکہ تمہارے دنیاسے رخصت ہونے کے بعد تمہاری جگہ پر دین کا کام کرنے والے موجود ہوں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اپنی اولاد کی صحیح طور پر تربیت کرو، انہیں علم سکھاؤاور دیندار بناؤان کے اخلاق سنوارو اور اس کے عوض آخرت میں اللہ سے اجروثواب کی امید رکھو۔(تیسیر القرآن)

۔ یعنی فطرۃ اللہ نے عورتوں کو مردوں کے لیے سیر گاہ نہیں بنایا ہے، بلکہ ان دونوں کے درمیان کھیت اور کسان کا تعلق ہے۔ کھیت میں کسان محض تفریح کے لیے نہیں جاتا، بلکہ اس لیے جاتا ہے کہ اس سے پیداوار حاصل کرے۔۔۔۔ جامع الفاظ ہیں، جن سے دو مطلب نکلتے ہیں اور دونوں کی یکساں اہمیت ہے۔ ایک یہ کہ اپنی نسل  برقرار رکھنے کی کوشش کرو تاکہ تمہارے دنیا چھوڑنے سے پہلے تمہاری جگہ دوسرے کام کرنے والے پیدا ہوں۔ دوسرےیہ کہ جس آنے والی نسل کوتم اپنی جگہ چھوڑنے والے ہو، اس کو دین اخلاق اور آدمیت کے جوہروں سے آراستہ کرنے کی کوشش کرو۔ بعد کے فقرے میں اس بات پر بھی تنبیہ فرما دی ہے کہ اگر ان دونوں فرائض کے ادا کرنے میں تم نے   جان بوجھ کر کوتاہی کی، تو اللہ تم سے باز پرس کرے گا۔ (تفہیم القران)

۔عام احکام کے ساتھ تقویٰ کی حکمت یہ ہے کہ صرف خشک قانون نہیں بلکہ دلی رجحان اور خوفِ خدا اس کی  بنیاد ہے۔(بیان القرآن)

- بلکہ ادب میں کیفَ ہی کے معنیٰ میں زیادہ آیا ہے اور اینَ کے مفہوم میں کمتر۔۔۔مفسر قرطبیؒ نے صراحت کی ہے کہ ایک نہیں ،بارہ صحابیوں نے مختلف عبارتوں کے ساتھ احادیث صحیح و مستند میں رسول اللہؐ کا ارشاد اس عمل میں لواطیت کی حرمت پر نقل کیا ہے،اور ابن کثیر میں بھی بڑی شرح و بسط کے ساتھ ،حدیثوں کے حوالہ سے اس پر کلام کیا گیا ہے،لیکن ان دومعروف ومتداول معنوں کے علاوہ اَنّیٰ کے ایک تیسرے معنی متیٰ یعنی جب اور جس وقت کے بھی نقل ہوئے ہیں ،گویا انی یہاں ظرف زمان کے طورپر استعمال ہواہے، ضحاک تابعی اور بعض محققین قرآن اس طرف گئے ہیں۔(تفسیرماجدی)

224۔ قسم توڑنے کا کفارہ ۔دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑے دینا یا تین روزے رکھنا۔(ضیاء القرآن)

-عرب جاہلیت کے جاہلانہ دستوروں میں سے ایک دستور یہ بھی تھا کہ خدا کی قسم کھاکھاکر یہ کہہ بیٹھتے تھے کہ ہم فلاں فلاں کام نیکی کا،تقویٰ کا، اصلاحِ خلق کا نہ کریں گے،اور جب کوئی کہتاتو یہی عذر پیش کردیتے کہ ہم تو اس کی قسم کھاچکے ہیں ،ان اعمالِ خیر کا ترک یوں بھی ہر صورت میں مذموم تھا، چہ جائیکہ حضرت حق کے اسم بزرگ اور اس کی قسم کو بجائے قرب ِ حق کے اس سے دوری کا ذریعہ بنالیا جائے!آیت اسی شعار جاہلی کی تردید میں ہے۔(تفسیر ماجدی)

225۔ چنانچہ انہی صفات کے تقاضہ سے اُس نے لایعنی قسموں پر مواخذہ سرے سے معاف کردیا اور ارادی جھوٹی قسموں پر بھی گرفت فوراً نہ کی،بلکہ اس کو قیامت تک کیلئے ملتوی کردیا ۔(تفسیر ماجدی)

226۔ مطلقہ کی مدت: ایلاء(اپنی بیوی سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھانا) کی مدت چار ماہ ہے۔مثلاً اگر کسی نے تین ماہ تعلق نہ رکھنے کی قسم کھائی تو یہ شرعاً ایلاء نہ ہوگا۔اب آگے اس کی دوصورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ تین ماہ کے اندر صحبت کرلی تو اب اس پر قسم کا کفارہ دینا ہوگااوراگر تین ماہ کے بعد کی تو نہ کفارہ ہے نہ طلاق اور چار ماہ گذر جائیں اور مرد رجوع نہ کرے تو طلاق واقع ہوجائے گی،اور بعض فقہاء کے نزدیک یہ معاملہ عدالت میں جائے گا اور طلاق عدالت کے ذریعہ ہوگی۔(تفصیل سورۂ مجادلہ)(تیسیر القرآن)

۔ ایلا کے احکام:  یعنی اگر کوئی قسم کھائے کہ میں اپنی عورت کے پاس نہ جاؤں گا تو اگرچار مہینے کے اندر عورت کے پاس گیا تو قسم کا کفارہ دے گا اور عورت اس کے نکاح میں رہے گی اور اگر چار مہینے گزر گئے اور اس کے پاس نہ گیا تو عورت پر طلاق بائن ہوجائے گی۔فائدہ ایلاء شرع میں اس کو کہتے ہیں کہ عورت کے پاس جانے سے چار مہینے یا زائد کیلئے یا بلاقید مدت قسم کھالے اور چار مہینے سے کم ایلا نہ ہوگا۔ ایلا کی تینوں صورتوں میں چار مہینے کے اندر عورت کے پاس جائےگا تو کفارہ قسم کا دینا پڑیگا ورنہ چار ماہ کے ختم پر بلاطلاق دیے عورت مطلقہ بائنہ ہوجائے گی اور اگر چار مہینے سے کم پر قسم کھائے مثلاً قسم کھائی کہ تین مہینے عورت کے پاس نہ جاؤنگا تو یہ ایلاء شرعی نہیں اس کا یہ حکم ہے کہ اگر قسم کو توڑا مثلاً صورت مذکورہ میں تین مہینے کے اندر عورت کے پاس گیا تو قسم کا کفارہ لازم ہوگا اور اگر قسم کو پورا کیا یعنی تین مہینے تک مثلاً اس کے پاس نہ گیا تو نہ عورت پر طلاق پڑے گی نہ کفارہ لازم ہوگا۔(تفسیر عثمانی)

-ازبیان القرآن(احکام ایلا)اگر کوئی قسم کھالے کہ اپنی بیوی سے صحبت نہ کروں گا س کی چار صورتیں ہیں:ایک یہ کہ کوئی مدت معین نہ کرے، دوم یہ کہ چار مہینے کی مدت کی قید لگادے ،سوم یہ کہ چار ماہ سے زیادہ کی مدت کی قید لگادے،چہارم یہ کہ چار ماہ سے کم کی مدت کا نام لے،پس صورت اول ،دوم ،سوم کو شرع میں ایلاء کہتے ہیں ،اور اس کا حکم یہ ہے کہ اگر چار ماہ گذرگئے اور قسم نہ توڑی،تو اس عورت پر قطعی طلاق پڑگئی ،یعنی بلانکاح رجوع کرنا درست نہیں رہا، البتہ اگر دونوں رضامندی سے پھر نکاح کرلیں تو درست ہے،حلالہ کی ضرورت نہ ہوگی ،اور چوتھی صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر قسم توڑے تو کفارہ لازم ہوگا اور اگر قسم پوری کرلی جب بھی نکاح باقی ہے(بیان القرآن)(معارف القرآن)

227ـ  توریت کے قانون کے الفاظ یہ ہیں:"اگر کوئی مرد کوئی عورت لے کے اس سے بیاہ کرے،اور بعد اس کے ایسا ہوکہ وہ اس کی نگاہ میں عزیز نہ ہو،اس سبب سے کہ اس نے اس میں سے کوئی پلید بات پائی ،تووہ اس کا طلاق نامہ لکھ کے اس کے ہاتھ میں دے،اور اُسے اپنے گھر سے باہر کرے ،اور جب وہ اس گھر سے نکل گئی تو جاکے دوسرے مرد کی ہووئے"(استثناء۔24: 1و2)۔۔۔"جسے خدا نے جوڑاہے، اُسے آدمی جدانہ کرے۔۔۔جوکوئی اپنی بیوی کو چھوڑدے،اور دوسری سے بیاہ کرے،وہ اس پہلی کے خلاف زنا کرتاہے ،اور اگر عورت اپنے شوہر کو چھوڑدے اور دوسرے سے بیاہ کرے تو زنا کرتی ہے"(مرقس)۔۔۔۔۔ چناچہ مسیحی آبادی کے سوادِ اعظم یعنی فرقہ کیتھولک کے ہاں تو طلاق مطلقاً ناجائز ہے،اور بجز موت کے کوئی صورت میاں بیوی میں افتراق کی ممکن نہیں اور یہی فرقہ اسلام سے قبل موجود تھا،پروٹسٹنٹ فرقہ ظہورِ اسلام سے صدیوں بعد پیدا ہوا،اس کے ہاں البتہ اجازت ہوئی ہے،لیکن صرف اس صورت میں کہ پہلے عدالت میں گواہوں کے بیان سے کسی ایک فریق کا ارتکاب ِ زنا یا ظلم و جور ثابت ہوئے!۔۔۔یہ حال اُن قوموں کا تھا،جو اہل کتاب تھیں،یعنی اصلاً ان کے قانون کی بنیادآسمانی کتابوں ہی پر تھی ،رہیں قدیم جاہلی اور مشرک"مہذب" "ترقی یافتہ" قومیں سوایک طرف یونانیوں میں،ہندوؤں میں ،اور ایک عہد خاص تک رومیوں میں طلاق سے کوئی واقف ہی نہ تھا،بلکہ ہندو مذہب میں تو آج تک طلاق ناجائز چلی آرہی ہے،گوحالات سے مجبور ہوکر اس کے جائز کرانے کے آج بڑے زور ہندکی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں لگ رہے ہیں۔دوسری طرف رومیوں میں عہد جمہوریت کے خاتمہ پر طلاق کے جائز ہونے کے ساتھ ہی اس کا جوزور بندھا تو گویا شرافت اور طلاق لازم و ملزوم ہوگئے۔

- دنیا کے دوسرے بڑے بڑے مذہبوں اور بڑی بڑی "مہذب" قوموں کی یہ بے اعتدالیاں اور افراتفریاں پیش نظر رہیں،جب جاکر شریعت اسلام کی حکمتوں اور اس کے پیدا کئے ہوئے توازن و اعتدال کی قدر ہوگی،اسلام نے فطرت ِ بشری کا بالکل صحیح اندازہ کرکے یہ حکم دیا کہ جب زوجین میں ناموافقت لاعلاج حدتک پہونچ جائے(اور اس ناموافقت کے اسباب کا احاطہ و استقصاء ممکن ہی نہیں ،ہر شخص کیلئے الگ الگ سبب و محرک ہوتاہے)اور دوسری صورتیں موافقت پیدا کرنے میں ناکام ہولیں ،تو آخری علاج یہ ہے کہ فریقین ہنسی ،خوشی اور باضابطہ معاہدۂ نکاح کو فسخ کرکے ایک دوسرے سے مستقل علیحدگی اختیار کرلیں ،اور اسی کااصطلاحی نام طلاق ہے،اور اس انقطاعی عمل کو بھی مطلق نہیں چھوڑدیا ہے،بلکہ اس پر متعدد پابندیاں بھی عائد کردی ہیں ،آگے ذکر انہی قیود و شرائط کا آئے گا۔(تفسیر ماجدی)

228۔ طلاق اور عدت کے احکام :  جب  مرد نے عورت کو طلاق دی تو ابھی اس عورت کو کسی دوسرے سے نکاح روانہیں جب تک تین حیض پورے نہ ہوجائیں تاکہ حمل ہوتو معلوم ہوجائے اور کسی کی اولاد کسی کو نہ جائے اس لئے عورت پر فرض ہے کہ جو ان کے پیٹ میں ہو اس کو ظاہر کردیں خواہ حمل ہو یا حیض آتاہو اور اس مدت کو عدت کہتے ہیں فائدہ معلوم کرنا چاہئے کہ یہاں مطلقات سے خاص وہ عورتیں مراد ہیں کہ ان سے نکاح کے بعد صحبت یا خلوت شرعیہ کی نوبت خاوند کو آچکی ہو اور ان عورتوں کو حیض بھی آتاہو اور آزاد بھی ہو ںکسی کی لونڈی نہ ہوں کیونکہ جس عورت سے صحبت یا خلوت کی نوبت نہ آئے اس کے اوپر طلاق کے بعد عدت بالکل  نہیں اور جس عورت کو حیض نہ آئے مثلاً صغر سن ہے یا بہت بوڑھی ہوگئی یا اس کو حمل ہے تو پہلی دونوں صورتوں میں اس کی عدت تین مہینے ہیں اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے اور جو عورت آزاد نہ ہو بلکہ کسی کی شرعی قاعدہ کے موافق لونڈی ہو اگر اس کو حیض آتاہو تو اس کی عدت دوحیض اور حیض نہ آئے تو اگر وہ صغیرہ یا بڑھیا ہے تو اس کی عدت ڈیڑھ مہینہ ہے اور حاملہ ہے تو وہی وضع حمل ہے۔دوسری آیتوں اور حدیثوں سے یہ تفصیل ثابت ہے۔(تفسیر عثمانی)

- یہ حکم ان عورتوں کیلئے جو حاملہ نہ ہوں کیونکہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہےاور جس عورت سے اس کے خاوند نے ابھی تک صحبت ہی نہ کی ،اس پر کوئی عدت نہیں ۔دت کے دوران نان نفقہ اور رہائش خاوند کے ذمہ ہوتاہےاور اسے اپنے خاوند کے ہاں عدت گذارنا چاہیے ۔کیونکہ اس دوران خآوند اس سے رجوع کاحق رکھتاہے اور قانوناً وہ اس کی بیوی ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔ یعنی عدت کے اندر خاوند کو رجوع کا حق حاصل ہے لیکن عدت گذرجانے کے بعد بھی (اگر ایک یادوسری طلاق دے دی ہو تو تیسری نہ دی ہو)تو اگر میاں بیوی آپس میں مل بیٹھنے پر راضی ہوں تو وہی زیادہ حقدار ہیں کہ از سر نونکاح کرالیں ۔(تیسیر القرآن)

- ولھن ۔ان کے لئے (یعنی ان کا حق ) علیھن (ان پریعنی ان پرفرض)یہ الفاظ حقوق کی بات تو کرتے ہیں مگر مساوات کی نہیں ۔آیت کا اگلا حصہ اسے واضح کرتاہے ۔۔۔۔۔انسانی تمدن کا ایک بنیادی مسئلہ ،شہوت اور نسلِ انسانی : بہت طاقتور جزبہ شہوت ۔اس لئے اس کا ڈسپلن بھی اور اسے لگام بھی۔نکاح ڈسپلن ہے اور زنا کی سزا لگام۔اسی طرح مساوات کا سوال: کیا اداروں میں ڈائریکٹر،پرنسپل،سربراہ ایک نہیں  ہوتا؟ جب تمام دفاتر /کمپنیوں میں مساوات نہیں توگھر ہی میں کیوں؟۔۔۔۔۔مساوات مغرب کی انتہا پسندی اور ہندوانہ پس منظر (پاؤں کی جوتی،ستی،صلح کےلئے بچیوں کی بھینٹ ، وغیرہ) اس کا موثر اور منطقی جواب خواتین کے اسلامی حقوق ہیں۔حضورؐ کی حدیث(خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهليتم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کیلئے خیر ہے اور میں اپنے اہلِ خانہ کے لیے تم سب سے بہتر ہوں (ترجمہ) (بیان القرآن)

- لاتعداد طلاق دینے کا سد بابحضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرد اپنی عورت کو جتنی بھی طلاقیں دینا چاہتا،دیئے جاتا اور عدت کے اندر رجوع کرلیتا۔اگرچہ وہ مرد سوبار یا اس سے زائد طلاقیں دیتا جائے۔یہاں تک کہ ایک(انصاری) مرد نے اپنی بیوی سے کہا کہ اللہ کی قسم میں تجھ کو طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہوسکے اور نہ ہی تجھے بسا ؤں گا"عورت نے پوچھا وہ کیسے ؟کہنے لگا کہ میں تجھے طلاق دوں گا اور جب تیری عدت گزرنے کے قریب ہوگی رجوع کرلوں گا"یہ جواب سن کر وہ عورت حضرت عائشہؓ کے پاس گئی اور اپنا یہ دکھڑا سنایا۔سیدہ عائشہ خاموش رہیں تآنکہ رسول اللہؐ تشریف لائے ۔ سیدہ عائشہؓ نے آپؐ کو ماجرا سنایا تو آپ بھی خاموش رہے حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی (الطلاق مرتان)۔۔۔ترمذی (تیسیر القرآن)

- طلاق کا سنت  طریقہ: اس آیت سے اسی معاشرتی برائی کا سدباب کیا گیا اور مرد کیلئے صرف دوبار طلاق دینے اور اس کے رجوع کرنے کا حق رہنے دیا گیا۔طلاق دینے کا مسنون اور سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ مرد حالت طہر میں عورت کو ایک طلاق دے اور پوری عدت گزرجانے دے ۔اس صورت کو فقہی اصطلاح میں طلاق احسن کہتے ہیں۔دوسری صورت یہ ہے کہ ایک طہر میں ایک طلاق دے اور دوسرے  میں دوسری اور تیسرے میں تیسری دے دےاس صورت کو حسن کہتے ہیں۔پہلی صورت کا فائدہ یہ ہے کہ عدت گزرجانے کے بعد بھی میاں بیوی آپس میں مل بیٹھنے پر رضامندہوں تو تجدید نکاح سے یہ صورت ممکن ہے۔(تیسیر القرآن)

- ایک مجلس میں تین طلاقیں: تیسری صورت یہ ہے کہ یکبارگی تینوں طلاق دے دے ۔یہ صورت بدعی کہلاتی ہے اور ایسا کرنا گناہ کبیرہ ہے ۔ (ہدایہ)اگرچہ بعض ائمہ فقہاء کے مطابق اس صورت میں بھی تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ سنت کی روسے یہ ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ (تیسیر القرآن)

- زوجین کا باہمی سمجھوتہ: اگر میاں بیوی  میں ناچاقی کی صورت پیدا ہوجائے یا ہونے کا اندیشہ ہو اور وہ سمجھیں کہ شاید حسن معاشرت کے متعلق ہم اللہ کے احکام بجانہ لاسکیں گے اور مرد کی طرف سے ادائے حق زوجہ میں قصور بھی نہ ہو۔تو عورت اپنے کسی حق سے دستبردار ہوکر یا اپنی طرف سے کچھ مال دیکر خواہ خاوند ہی کا دیا ہو۔اسے طلاق نہ دینے پر رضامند کرلے تو یہ صورت بھی جائز ہے اور اس کی مثال یہ کہ ام المومنین سیدہ سودہؓ  بنت زمعہ جب بوڑھی ہوگئیں توانہوں نے رسول اللہؐ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے نیز اس خیال سے بھی کہیں آپؐ انہیں طلاق نہ دے دیں ۔اپنی باری سیدہ عائشہؓ کو ہبہ کردی تھی۔(بخاری) (تیسیر القرآن)

- خلع کے احکام : اگر حالات زیادہ کشیدہ ہوں اور عورت بہرحال اپنےخاوند سے اپنا آپ چھڑانا چاہتی ہوتو جو زرفدیہ وہ آپس میں طے کرلیں وہی درست ہوگا اور وہ رقم لینے کے بعد مرد اسے طلاق دےگا۔عورت پر طلاق بائنہ ہوجائے گی اسے شرعی اصطلاح میں خلع کہتے ہیں۔(تیسیر القرآن)

- لیکن دوسری طرف حضرت عمرؓ ،حضرت علیؓ،حضرت ابن عباسؓ، حضرت ابن مسعودؓ،حضرت ابوموسیٰؓ جیسے تیرہ صحابیوں کا قول یہ نقل ہواہے کہ یہاں قرء حیض یا ناپاکی کے معنیٰ میں ہے(جصاص) اور یہی قول امام ثوری ،امام اوزاعی، امام ابوحنیفہ اور تمام فقہاء حنفیہ کا ہے۔۔۔بہرحال حنفیہ کے ہاں کا متفقہ مسئلہ یہی ہے کہ مطلّقہ اپنے تین ایام ماہواری کے آنے تک اپنے کو عدت میں سمجھے،اور اس مدت میں نکاح ثانی اپنے لئے جائز نہ سمجھے۔۔۔اور یہ واپسی  تجدید نکاح ہوجائے گی۔فی ذلک ۔یعنی تین مہینے کی میعاد و مدت کے اندر۔احقُّ بردھن۔اس سے اشارہ یہی نکلتاہے کہ جہاں تک ہوسکے اسے پختہ نہ ہونے دے، اور میاں بیوی از سرنو آباد ہوجائیں ،طلاق کو شریعتِ الٰہی نے صرف ضرورت کے موقع پر بطور علاج اور آخری تدبیر کے جائز رکھا ہے، خواہ مخواہ اس کی ترغیب نہیں دی ہے،اور نہ بلاضرورت اسے پسند فرمایا ہے ،اور حدیث نبوی میں جو اسے ابغض المباحات سے تعبیر فرمایا ہے،یعنی اللہ کی قانوناً جائز ٹھہرائی ہوئی چیزوں میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند ،وہ اسی حقیقت کی ترجمانی ہے، تین مہینہ کی مدت غور و فکر کیلئے اور ناگواری و بیزاری کے ہنگامی جذبات کے سرد پڑجانے کیلئے بہت ہوتی ہے،اس اثنا میں اگر شوہر بیوی کو واپس لینا چاہے تو طلاق کو قولاً یا عملاً منسوخ کرسکتاہے،اور اسے اصطلاح میں رجعت کہتے ہیں (تفسیرِ  ماجدی)

- یہ قرآنی بلاغت کا اعجاز ہے کہ اتنا بڑا مضمون اتنے مختصر سے فقرہ میں آگیا ،اردو میں یہ مضمون اس طرح اداہوگا"جس طرح مردوں کا حق عورتوں پر ہے، اسی طرح عورتوں کا حق بھی مردوں پر ہے"۔۔۔حقوق نسواں کا یہ نام عرب کے ایک امی کی زبان پر اس وقت لایا جارہا ہے، جب کہ دنیا کی دنیا اس تخیل سے ناواقف تھی اور یہودیت ونصرانیت کی مذہبی دنیا میں تو عورت گویا ہر برائی کا سرچشمہ تھی، اور ذلت و حقارت کا ایک مرقع، یہود کی معتبر ومستند جیوش انسائیکلوپیڈیا میں ہے :۔ معصیت اول چونکہ بیوی ہی کی تحریک پر سرزد ہوئی تھی، اس کو شوہر کا محکوم کرکے رکھا گیا، اور شوہر اس کا حاکم ہے۔ شوہر اس کا مالک وآقا ہے اور وہ اس کی مملوکہ ہے “۔ (جلد 6 صفحہ 508) اور مسیحی   سے متعلق، مسٹر لیکی Lecky فرنگی مسیحی اپنی تاریخ اخلاق یورب History of European Morals میں لکھتے ہیں ” عقیدہ یہ تھا کہ عورت جہنم کا دروازہ ہے اور تمام آفات بشری کا باعث ہے، اسے اپنے کو ذلیل سمجھتے رہنے کے لیے یہی وجہ کافی ہے کہ وہ عورت ہے “۔ (جلد 3 صفحہ( 142    یہ حال وقت کے اونچے اونچے مذہبوں کا تھا، شرک وجاہلیت کے پست مذہبوں کا ذکر ہی بےکا رہے، اور خود ملک عرب کا یہ حال تھا کہ عورتیں گویا انسان نہیں، جانور یا جائیداد ہیں، کہ شوہر کے بعد بیویاں بھی ترکہ میں سوتیلے بیٹوں کی ملک و تصرف میں آنے لگی تھیں۔ (تفسیر ماجدی)

- درجۃ ۔قرآنی لفظ درجۃ خوب خیال میں رہے ،مردو عورت کے مالک نہیں،عورت اس کی کنیز یا باندی نہیں،بلحاظ حقوق دونوں ایک سطح پر ہیں ،پھر بھی مرد کو عورت پر ایک گونہ فضیلت و ترجیح حاصل ہے۔(تفسیر ماجدی)


انتیسواں رکوع

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ 229 طلاق (صرف) دوبار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو) پھر (عورتوں کو) یا تو بطریق شائستہ (نکاح میں) رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا۔ اور یہ جائز نہیں کہ جو مہر تم ان کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ خدا کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے باہر نہ نکلنا۔ اور جو لوگ خدا کی حدوں سے باہر نکل جائیں گے وہ گنہگار ہوں گے۔
 فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ  230 پھر اگر شوہر (دو طلاقوں کے بعد تیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر) پر حلال نہ ہوگی۔ ہاں اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے اورعورت اور پہلا خاوند پھر ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ دونوں یقین کریں کہ خدا کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ خدا کی حدیں ہیں ان کو وہ ان لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے جو دانش رکھتے ہیں۔
 وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ 231 اور جب تم عورتوں کو (دو دفعہ) طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں یا تو حسن سلوک سے نکاح میں رہنے دو یا بطریق شائستہ رخصت کردو اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا اور خدا کے احکام کو ہنسی (اور کھیل) نہْ بناؤ اور خدا نے تم کو جو نعمتیں بخشی ہیں اور تم پر جو کتاب اور دانائی کی باتیں نازل کی ہیں جن سے وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے ان کو یاد کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھوکہ خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

تفسیر آیات

229۔ خلع کی صورت میں جو طلاق دی جاتی ہے وہ رجعی نہیں بلکہ بائنہ ہے کیوں کہ عورت نے اسے معاوضہ دیکر خریدا ہے۔(تفہیم القرآن)

 طلاق دینے کا قاعدہ: اگر قطع تعلق کے بغیر کوئی چارہ  کار نہ رہے تو مرد اپنی بیوی کو جب وہ حیض سے فارغ ہو صحبت کرنے سے پہلے ایک طلاق دے۔پھر دوسرے ماہ جب حیض سے پاک ہو تو صحبت سے پہلے  دوسری طلاق دے۔ابھی تک وہ رجوع کرسکتاہے ۔پھر تیسرے ماہ جب عورت حیض سے پاک ہو تو صحبت سے پہلے تیسری طلاق دے۔اب نکاح کا تعلق ہمیشہ کیلئے ٹوٹ گیا ہے۔مرد کو اتنی مہلت جو دی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد اپنے فیصلہ پر ایک بار نہیں بار بار غورکرے۔اور اگر اپنے اس فیصلے کو وہ واپس لینا چاہےتو دوبار تک واپس لے سکتاہے۔لیکن اگر تیسری بار بھی طلاق دے دی تو گویا اس نے یہ اعلان کردیا کہ وہ اس عورت کو کسی قیمت پر اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتا۔اس کے بعد اسے یہ حق نہیں کہ پھر رجوع کرتاپھرے اور عورت کو اپنی خواہشات کا کھلونا بنائے رکھے۔(ضیاء القرآن)

- خلع : کوئی عورت اگر اپنے شوہر سے علیحدگی حاصل کرنا چاہے تو بعض شرائط کے ساتھ مہر واپس کرکے طلاق لے سکتی ہے جیساکہ حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے: ثابت بن قیسؓ کی بیوی رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا :یارسول اللہؐ  میں ثابت بن قیسؓ کی دینداری اور اخلاق پر توکوئی عیب نہیں لگاتی لیکن میں پسند نہیں کرتی کہ مسلمان ہوکر شوہر کی ناشکری کا گناہ مول لوں۔"نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ۔اچھا تو ثابت نے جو تمہیں (مہر میں) دیا تھا تم اسے واپس کرتی ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں اس پر آپؐ نے ثابت ؓ سے فرمایا کہ اپنا باغ واپس لے لو اور اسے طلاق دے دو"(صحیح بخاری)اسے شرعی اصطلاح میں خلع کہتے ہیں۔یعنی عورت کا خودکوشش کرکے طلاق حاصل کرنا ۔عدم اتفاق کی صورت میں خلع کے ذریعے سے علیحدگی بہتر ہے۔(احسن الکلام)

۔طلاق سے یہاں مراد رجعی ہے،دو بار تک الفاظِ طلاق اداکرنے پر رجوع کرلینے کی گنجائش باقی رہتی ہے ۔۔۔یعنی دوماہ کے بعد ،تیسرے مہینہ،تیسری پاکی کے زمانہ میں ،زبان سے الفاظ طلاق اداکرے،یا خاموش رہے ،دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہوجائےگی۔اب بغیر کسی دوسرے شوہر سے نکاح کئے اور طلاق پائے اس پہلے شوہر سے نکاح درست نہ رہے گا۔۔۔ممااٰتیتموھن شیئا۔عام مفسرین اور فقہاء نے اس سے مراد مہر کی رقم رکھی ہے،لیکن مسلک مالکی کے ایک مفسر فقیہ نے اسے ہر اس مال تک وسعت دی ہے، جو شوہر بیوی کو دےچکاہو،اور بعض اور اہل تفسیر بھی اس عموم کی طرف گئے ہیں۔۔۔شیئا۔یعنی کچھ بھی ،چھوٹی بڑی کوئی سی بھی چیزواپس نہ لو،تاکید اس لئے ہے کہ غصہ اور ناگواری کے موقع پر نفس بشری میں عموماً اسی کی تحریک ہوتی ہے۔ ۔(تفسیر ماجدی)

- یعنی بیوی اگر قید نکاح سے مخلصی پانے اور شوہر سے طلاق حاصل کرنے کیلئے اپنے مہر سے یا اس کے کچھ حصہ سے دست بردار ہونا چاہے،تو یہ بھی ایک جائز صورت علیحدگی کی ہے،اور اس مال کا قبول کرلینا شوہر کیلئے درست ہوگا ،طلاق کی اس خاص صورت کا نام،جس میں طلاق کی خواستگار عورت ہو،اصطلاحِ شریعت میں خلع ہے،اور احکام خلع کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ملے گی،مفسر تھانویؒ کی بیان القرآن میں بھی کلام مبسوط ملے گا۔۔۔امام راغب نے اپنی لغت میں حدودِ الٰہی کو چار قسموں میں تقسیم کیا ہے۔۔۔یعنی ان پہلی دوطلاقوں کے بعد رجعت نہ کرے،اور طلاق پر قائم ہی رہے تو اب تیسری بار ،یاپہلی طلاق سے تین مہینے گذرجانے کے بعد،طلاق قطعی طورپر نافذ ہوجائیگی،تین مہینے کی مدت غور و فکر کیلئے اور سعی مصالحت و مفاہمت کیلئے بہت کافی ہے۔(تفسیر ماجدی)

230۔ متعہ اور حلالہ دونوں حرام :  اگر کوئی نکاح واضح طورپر محض ایک معین و مخصوص مدت تک ہی کیلئے ہو تو اس کو متعہ کہتے ہیں اور متعہ اسلام میں قطعی حرام ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص اس نیت سے کسی عورت سے نکاح کرے کہ اس نکاح کے بعد طلاق دے کر وہ اس عورت کو اس کے پہلے شوہر کیلئے جائز ہونے کا حیلہ فراہم کرے تو شریعت کی اصطلاح میں یہ حلالہ ہے اور یہ بھی اسلام میں متعہ ہی کی طرح حرام ہے۔جو شخص کسی مقصد برآری کیلئے یہ ذلیل کام کرتاہے وہ درحقیقت ایک قرم ساق یا بھڑوے یا جیساکہ حدیث میں وارد ہے کرایہ کے سانڈ کا رول اداکرتاہے اور ایسا کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔(تدبر قرآن)

- بہرحال جمہور فقہاء و ائمہ مجتہدین کا مذہب یہی ہے کہ مطلقہ کے ساتھ پہلے شوہر کا نکاح جب ہی درست ہے جب دوسرا شوہر اس کے ساتھ ہم بستری کرکے اسے طلاق دیدے ،اور اس طلاق پر بھی تین ماہ کی مدت گذرے۔۔۔اختلاف صرف دوتابعین سے منقول ہے،ان کے خیال میں مجرد عقدِ ثانی بھی ،بغیر ہم بستری کے،طلاق کے بعد شوہر اول سے یا کسی اور سے عقد کیلئے کافی ہے۔ ۔(تفسیر ماجدی)

- اس شرط کیساتھ نئے شوہرکا کسی مطلقہ کے ساتھ نکاح کرنا کہ بعد صحبت طلاق دے دی جائےگی تاکہ وہ اپنے شوہر اول کیلئے جائز ہوجائے حلالہ کہلاتاہے ،حدیث میں محلل یعنی وہ دوسرا شوہر جو نکاح جیسے اہم سنجیدہ اور مقدس معاہد کو پہلے شوہر کی خاطر ایک کھیل اور تفریح کی چیز بنائے دیتاہے، اور محلل لہ ،یعنی وہ پہلا شوہر جس کی خاطر معاہدۂ نکاح کی اہمیت ،سنجیدگی و تقدیس خاک میں ملائی جارہی ہے ،ان دونوں پر لعنت آئی ہے،اور اکثر فقہاء کے ہاں یہ نکاح ،نکاح فاد کے حکم میں آتاہے ،حنفیہ کے ہاں ایسا نکاح منعقد ہوجائے گا،یعنی اس کا نفاذ قانونی ہوجائے گا، اگرچہ اس سے گناہ عائد ہوگا۔نفاذ قانونی اور شرعی و اخلاقی استحسان دو الگ الگ چیزیں ہیں اور اس امتیاز و تفریق کی نظیر شرعیت کے اور بھی مسائل میں مل جاتی ہے۔(تفسیر ماجدی)

231۔ حضرت ابوہریرہ سے ایک حدیث مروی ہے کہ تین چیزیں ایسی  ہیں جن کو قصدوارادہ سے کہنا اور ہنسی مذاق کے طورپر کہنا برابر ہے ۔ایک نکاح، طلاق، تیسرے رجعت۔(معارف القرآن)

- یعنی جب وہ سہ ماہی مدتِ عدت ختم ہونے پر آئے ،تو شوہر کو اب دو اختیار ہیں، یا یہ کہ اپنی اس نیم مطلقہ بیوی کو پھر شرافت و عزت کے ساتھ اپنی زوجیت میں واپس لے لے ،اور یا پھر اُسے شرافت و عزت کے ساتھ اپنے گھر سے رخصت کردے ،اور مستقل علیحدگی اختیار کرلے۔غرض دونوں صورتوں میں سے جوبھی اختیار کی جائے تمام تر شریعت و اخلاق کے قانون و آداب کے موافق ہو۔(تفسیر ماجدی)


تیسواں رکوع

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ 232 اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ جب وہ آپس میں جائز طور پر راضی ہوجائیں نکاح کرنے سے مت روکو۔ اس (حکم) سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں خدا اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ تمہارے لئے نہایت خوب اور بہت پاکیزگی کی بات ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
 وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ 233 اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے۔ اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔
 وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ  234 اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں تو عورتیں چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔ اور جب (یہ) عدت پوری کرچکیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔
 وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ ۠ 235 اور اگر تم کنائے کی باتوں میں عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو تو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ تم ان سے (نکاح کا) ذکر کرو گے۔ مگر (ایام عدت میں) اس کے سوا کہ دستور کے مطابق کوئی بات کہہ دو پوشیدہ طور پر ان سے قول واقرار نہ کرنا۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہولے نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرنا۔ اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا کو سب معلوم ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا بخشنے والا اور حلم والا ہے۔

تفسیر آیات

232۔ معروف طریقے کے معنی:   ایک عورت کو اس کے خاوند نے ایک یا دو طلاق دی اور پھر عدت میں رجعت بھی نہ کی جب عدت ختم ہوچکی تو دوسرے لوگوں کے ساتھ زوج اول نے بھی نکاح کا پیغام دیا عورت بھی اس پر راضی تھی مگر عورت کے بھائی کو غصہ آیا اور نکاح کو روک دیا اس پر یہ حکم اترا کہ عورت کی خوشنودی اور بہبودی کو ملحوظ رکھو اسی کے موافق نکاح ہونا چاہیے اپنے کسی خیال اور ناخوشی کو دخل مت دو اور یہ خطاب عام ہے نکاح سے روکنے والوں کو سب کو خواہ زوج اول جس نے کہ طلاق دی ہے وہ دوسری جگہ عورت کو نکاح کرنے سے روکے یا عورت کے ولی اور وارث عورت کو پہلے خاوند سے یا کسی دوسری جگہ نکاح کرنے سے مانع ہوں سب کو روکنے سے ممانعت آگئی، ہاں اگر خلاف قاعدہ کوئی بات ہو مثلا غیر کفو میں عورت نکاح کرنے لگے یا پہلے خاوند کی عدت کے اندر کسی دوسرے سے نکاح کرنا چاہے تو بیشک ایسے نکاح سے روکنے کا حق ہے بالمعروف فرمانے کا یہی مطلب ہے۔۔(تفسیر عثمانی)

- سیدنا معقل بن یسارؓ کہتے ہیں کہ میری بہن(جمیلہ)کو اس کے خاوند (عاصم بن عدی) نے طلاق (رجعی) دی مگر رجوع نکاح نہ کیا تاآنکہ پوری عدت گذر گئی ۔پھر عدت گذرجانے کے بعد دوبارہ نکاح کیلئے مجھے پیغام بھیجا (جب کہ مجھے اور بھی پیغام آچکے تھے)میں نےغیرت اور غصہ کی وجہ سے اسے برابھلا کہا اور انکار کردیا اورقسم کھالی کہ اب اس سے نکاح نہ ہونے دوں گا۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور میں نے اس حکم کے آگے سرتسلیم خم کردیا اور قسم کا کفارہ بھی اداکردیا۔(بخاری) (تیسیر القرآن)

۔اسی طرح ایک واقعہ جابر بن عبداللہ کی چچازاد بہن کا پیش آیا تھا ان واقعات پر آیت مذکورہ نازل ہوئی جس میں معقل بن یسار اور جابر کے اس رویہ کو ناپسند و ناجائز قرار دیا گیا۔۔صحابہ کرام ؓ اجمعین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے سچے عاشق تھے آیت کریمہ کے سنتے ہی معقل بن یسار کا سارا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور خود جاکر اس شخص سے بہن کا دوبارہ نکاح کردیا اور قسم کا کفارہ ادا کیا اسی طرح جابر بن عبداللہ نے بھی تعمیل فرمائی۔ (معارف القرآن)

- ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔عورت کی رضا مقدم ہے:۔ اس حدیث سے ضمناً یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگرچہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا،جیساکہ کئی احادیث سے ثابت ہے ۔تاہم اللہ تعالیٰ نے عورت کی رضا کو ولی کی رضا پر مقدم رکھا ہے۔ یہاں صورت حال یہ تھی کہ جمیلہ کونکاح کے کئی پیغام آئے  اور اس کے سابق خاوندعاصم بن عدی کا پیغام بھی آیا۔اب معقل وقتی غصہ اور غیرت کی بناپر عاصم سے نکاح نہیں چاہتاتھاجبکہ جمیلہ عاصم ہی سے نکاح کرنے پر رضا مند تھی جیساکہ آیت کے الفاظ سے واضح ہے تو اللہ تعالیٰ نے معقل کے بجائے جمیلہ کی رضا کو مقدم رکھ کر اس کے مطابق حکم نازل فرمایا۔(تیسیر القرآن)

- ینکحن۔اس لفظ سے معلوم ہواکہ عورتیں خود بھی اپنا نکاح کرسکتی ہیں،اور یہیں سے حنفیہ نے یہ مسئلہ نکالاہے کہ نکاح بغیر ولی کے بھی جائز ہے۔۔۔تراضوا۔حنفیہ نے اس لفظ سے استنباط کیا ہے کہ ایجاب و قبول رکن نکاح ہیں، یہ اور بات ہے کہ کبھی بجائے زوجین کے ان کے ولی یا وکیل کردیں۔۔۔بالمعروف۔یہ قید ان احکام میں ہرجگہ لگی ہوئی ہے،اور کس کثرت سے اس کا اعادہ ہوچکاہے ،مقصد یہ ہے کہ کوئی ادنیٰ سی ادنیٰ بات بھی دین و اخلاق کے قانون کے خلاف نہ ہونے پائے ،اور ایک صالح معاشرہ کے عین معیارِ شرافت کے مطابق ہو۔(تفسیر ماجدی)

233۔ ۔ ڈھائی سال پورے ہونے کے بعد بچہ کوماں کا دودھ  پلانا باتفاق حرام ہے۔(معارف القرآن)

- رضاعت سے متعلق مسائل :  اس آیت میں رضاعت سے متعلق اکٹھے بہت سے مسائل بیان ہوگئے ہیں جو بالترتیب یہ ہیں:1۔مطلقہ پر اپنے بچے کو پورے دوسال دودھ پلانے کی ذمہ داری ہے اگر طلاق دینے والا شوہر یہ چاہتاہے کہ عورت یہ رضاعت کی مدت پوری کرے۔2۔ اس مدت میں بچے کے باپ پر مطلقہ کے کھانے اور کپڑے کی ذمہ داری ہے اور اس معاملہ میں دستور کا لحاظ ہوگا یعنی شوہر کی حیثیت ،عورت کی ضروریات ،اور مقام کے حالات  پیش نظر رکھ کر فریقین فیصلہ کریں گے کہ عورت کو نان و نفقہ کے طورپر کیا دیا جائے۔3۔ فریقین میں سے کسی پر بھی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا،نہ بچے کے بہانے سے ماں کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے گی اور نہ بچے کی آڑ لے کر باپ پر کوئی ناروادباؤڈالا جائے گا۔4۔ اگر بچے کا باپ وفات پاچکا ہو تو بعینہ یہی پوزیشن مذکورہ ذمہ داریوں اور حقوق کے معاملے میں اس کے وارث کی ہوگی۔5۔ اگر باہمی رضا مندی اور مشورہ سے دوسال کی مدت کے اندر ہی اندربچے کا دودھ چھڑا دینے کا عورت مرد فیصلہ کرلیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔6۔ اگر باپ یا بچے کے ورثا بچے کی والدہ کی جگہ کسی اور عورت سے دودھ پلواناچاہتے ہیں تو وہ ایسا کرنے کے مجاز ہیں بشرطیکہ بچے کی والدہ سے دینے دلانے کی جو قرارداد ہوئی ہے وہ پوری کردی جائے۔آخر میں یہ تنبیہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو سب خدا کے سامنے کرتے ہو، کوئی چیز اس سے مخفی نہیں رہتی۔مذکورہ بالا معاملات عام حالات میں تو عورت اور مرد اور متعلقہ خاندان کے ذمہ داروں کے خود طے کرلینے کے ہیں لیکن اگر کوئی نزاع پیدا ہوجائے تو انہی اصولوں کو پیش نظر رکھ کر پنچائیتیں اور عدالتیں فیصلہ کردیں گی۔( تدبر قرآن)

- یعنی جو پورے نصاب کی تکمیل کسی ضرورت یا مصلحت سے نہ کرنا چاہے،اس کیلئے کم مدت کی بھی اجازت ہے اور دودھ بڑھائی دوسال سے قبل بھی ہر سن میں جائز ہے۔(تفسیر ماجدی)

234۔عدت۔ اگرچاند رات کو خاوند کی وفات ہوئی تو چاند کے حساب سے وگرنہ 30 ،30 کے چار ماہ دس دن ۔130 دن عدت (4ماہ دس دن) حاملہ ہونے کی صورت میں وضعِ حمل۔(معارف القرآن)

-عورت کےلئے معروف کی پابندی کی جو شرط لگائی ہے اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ نکاح کے معاملہ میں کفو کا لحاظ بھی ہونا چاہئے تاکہ  متعلقہ خاندان کی وجاہت کوکوئی نقصان نہ پہنچے۔(تدبر قرآن)

-سوگ منانے کی مدت اور حکمت:   عام حالت میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے ۔لیکن اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل تک ہے (4: 65)اور یہی مدت بیوہ کے سوگ منانے کی مدت ہے۔چناچہ آپؐ نے فرمایا "کسی عورت کو ،جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی  ہو جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے بجز اپنے شوہر کے جس پر اسے چار ماہ دس دن تک سوگ منانا لازم ہے۔"(بخاری) (تیسیر القرآن)

- طلاق کی عدت ،پورے تین ماہ کی تھی ،بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن یا کل 130 دن تجویزہوئی ہے،اس زمانہ میں بیوہ کیلئے بناؤ سنگارسب ناجائز ہے، بیوہ اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت تا وضع حمل ہے،اور اس پر محدثین و فقہاء کا اجماع ہے۔(تفسیر ماجدی)

235۔  اور وہ عزت و حرمت کے ساتھ بات کہنا یہی ہے کہ جو کچھ بھی کہنا ہو اشارۃً و کنایۃً ہی کہا جائے نہ کہ صراحۃً۔(تفسیر ماجدی)


اکتیسواں رکوع

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ  236 اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگدست اپنی حیثیت کے مطابق۔ نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے۔
 وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ  237 اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔ ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں۔ (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے۔ اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
 حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ  238 (مسلمانو) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو۔
 فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ 239 اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (واطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھایا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو۔
وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ  240 . اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کرجائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں۔ ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور خدا زبردست حکمت والا ہے۔
 وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ  241 اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان و نفقہ دینا چاہیئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے۔
 كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ 242 اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

تفسیر آیات

236۔ اس آیت میں " لا جناح علیکم" کا تعلق ایک محذوف سے ہے۔ پوری بات یوں ہے کہ اگر صورت یہ ہو کہ ایک شخص اپنی منکوحہ کو اس حال میں طلاق دے کہ نہ اس نے ابھی اس کے ساتھ تعلقِ زن و شو قائم کیا ہو نہ اس کے لیے مہر ہی مقرر کیا ہو تو ایسی صورت میں درباب ِمہر اس پر کوئی گناہ  نہیں۔ بلکہ مہر کی بجائے اسے چاہیئے کہ وہ دستور کے مطابق اس کو کچھ دے دلا کر رخصت کرے۔(تدبرِ قرآن)

۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی صورتوں میں شوہر کے ذمہ مہر واجب بھی نہیں۔لم تمسوھن ۔یہاں مس سے مراد ہم بستری کی دونوں قسمیں ہیں ،حقیقی اور واقعی۔حکمی اور فقہی(یعنی خلوت صحیحہ)طلاق ہم بستری کے قبل بھی بالکل جائز ہے،بغیر کسی مہر کی ذمہ داری کے نکاح بلاتعیین مہر بھی صحیح رہتاہے۔۔۔اورر متعہ کا اطلا ق لباس یا لباس کے ایک جوڑے پر محدود نہیں،شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ترجمہ  میں "بہرہ دہد ایں چنیں مطلقات را" اور شاہ رفیع الدین صاحبؒ کے ترجمہ میں ہے" اور فائدہ دو ان کو" اور شاہ عبدا لقادر کے ترجمہ میں ہے"اور ان کو خرچ دو" ۔۔۔البتہ بعض صحابہؓ سے کچھ اندازے منقول ہیں ۔"فقہاء حنفیہ نے عموماً تین کپڑوں کا جوڑا مراد لیا ہے لیکن یہ جوڑا بھی یقیناً حسب رواج ملک و قوم ہی ہوگا۔علی الموسع قدرہ۔قدرہ خود اسی فقرہ سے وجوب متاع پر دلالت سمجھی گئی ہے۔(تفسیر ماجدی)

237۔ طلاق کی ایک صورت وہ تھی جو ابھی اوپر بیان ہوچکی،یعنی نہ مہر طے ہواتھا اور نہ ابھی خلوت ہوئی تھی کہ طلاق ہوگئی ،دوسری اب یہ بیان ہورہی ہے کہ مہر تو متعین ہوچکا تھا لیکن خلوت نہیں ہوئی تھی کہ طلاق ہوگئی ،عام قاعدہ ایسے موقع کیلئے یہ ہے کہ مہر مقررکا نصف شوہر کے ذمہ واجب الاداء ہوگا، لیکن دوصورتیں اس حکم عام سے استثناء کی ہیں ،ایک یہ کہ بیوی اپنے حق سے تمام تردستبردار ہوجائے اور نصف مہربھی نہ لے،اور دوسری صورت یہ ہے کہ شوہر اپنے حق سے دستبردار ہوجائے یعنی جو نصف مہر اسے رکھ لینے کا حق تھا اسے بھی نہ رکھے اور بجائے نصف کے پورا مہر اداکردے۔(تفسیر ماجدی)

۔ اس ایثار کے لیے قرآن نے یہاں مرد کو تین پہلؤں سے ابھارا ہے۔ ایک تو یہ کہ مرد کو خدا نے یہ فضیلت بخشی ہے کہ وہ  نکاح کی گرہ  کوجس طرح باندھنے کا اختیار رکھتا ہے اسی طرح اس کو کھولنے کا بھی مجاز ہے۔ دوسرا یہ کہ ایثار و قربانی جو تقویٰ کے اعلیٰ ترین اوصاف میں سے ہے وہ جنسِ ضعیف کے مقابل میں جنسِ قوی کے شایان شان زیادہ ہے، تیسرا یہ کہ مرد کو خدا نے اس کی  صلاحیتوں کے اعتبار سے عورت پر جو ایک درجہ ترجیح کا بخشا ہے اور جس کے سبب سے اس کو عورت کا قوام اور سربراہ  بنایا ہے یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے جس کو عورت کے ساتھ کوئی معاملہ کرتے وقت مرد کو بھولنا نہیں چاہیے۔ اس فضیلت کا فطری تقاضہ یہ ہےکہ مرد عورت سے لینے والا نہیں بلکہ اس کو دینے والا بنے۔ ۔۔۔ یہاں " بیدہ عقدۃ النکاح" کے الفاظ میں ایک اور نکتہ بھی ہے جو اس دور کے معاشرتی مفکروں اور مصلحوں  کو خاص طور پر نگاہ میں  رکھنا چاہئے۔ وہ یہ کہ  نکاح کی گرہ جس طرح مرد کے قبول سے بندھتی ہے اسی طرح اسی کی طلاق سے کھلتی ہے گویا یہ سر رشتہ اصلا شریعت نے مرد ہی کے اختیار میں رکھا ہے۔ اس وجہ سے طلاق کے معاملے میں عورت کو مرد کے مساوی اختیار دینے کا رجحان ، جو مغرب کی نقالی ہیں، ہمارے مسلمان ممالک میں بڑھتا جا رہا ہے، شریعت کے بالکل خلاف ہے اور اس سے خاندانی نظام کا شیرازہ بالکل پراگندہ ہو کر رہ جائے گا۔ )تدبرِ قرآن)

238۔ کثرت سے علماء کا قول بعض احادیث کی دلیل سے بیچ والی نماز، نمازِ عصر ہے۔ (معارف القرآن)

-حضورؐ کا ارشاد ۔قیامت کے دن نور اور ایمان کی دلیل: کیونکہ نماز ہی ذکر الٰہی کا سب سے اعلیٰ اور مؤثر طریقہ ہے۔اس میں جسم و روح ،دل ودماغ سب مصروف عبادت و مناجات ہوتے ہیں ۔یہاں قرآن کے الفاظ غور طلب ہیں ۔حافظوا علی الصلوٰت  فرمایا احفظوھا نہیں فرمایا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مفاعلہ کا صلہ علی آجائے تو اس وقت اس کے معنی بار بار اور علی الدوام کرنے کے ہوتے ہیں(المنار) یہاں بھی مقصد یہی بتانا ہے کہ بار بار ہمیشہ نماز اداکرتے رہو۔یہ نہیں کہ ایک بار نماز اداکرلی اور ہفتہ بھر کیلئے چھٹی مل گئی۔اسلام میں نماز کو جو اہمیت حاصل ہے وہ محتاجِ بیان نہیں۔قرآن کریم میں اس کا حکم سو دفعہ کے قریب ہے ۔حضورؐ نے اسے دین کا ستون فرمایا ہے ۔اور ہم مسلمان ہوکر نماز کے معاملہ میں جتنی سستی کرتے ہیں اس کی کوئی حد نہیں ۔حضوراکرمؐ کا ایک ارشاد نقل کرتاہوں۔ممکن ہے اس سے کوئی خوش نصیب ہدایت پاجائے۔ترجمہ:"حضورؐ نے فرمایا کہ جو نماز پابندی سےاداکرے گا قیامت کے دن اس کیلئے نور ہوگی،اس کے ایمان کی واضح دلیل ہوگی۔ اور اسکی نجات کا باعث ہوگی اور جس نے نماز کی پابندی نہ کی تو اس کے پاس نہ نور ہوگا نہ اپنے ایمان کی کوئی دلیل اور نہ بخشش کا کوئی وسیلہ اور اس کا حشر قارون ،فرعون،ھامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔(راوہ احمد و الطبرانی"اے اللہ ہمیں غفلت کی نیند سے بیدارکراور اپنی عبادت اور محبوب کی اطاعت کی توفیق عطافرمانا۔آمین۔(ضیاء القرآن)

- نماز میں باادب کھڑا ہونے کا حکم: یعنی اللہ کے حضور عاجزی اور ادب کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے ۔نیز ایسی کوئی فضول حرکت نہ کی جائے جو ادب کےخلاف ہویا نماز کو توڑڈالنے والی ہو جیسے خواہ مخواہ یا عادتاً ہاتھوں کو حرکت دینا ،ہلاتے رہنا یا ہنسنا یا بات چیت کرلینا وغیرہ۔ چنانچہ سیدنا زیدبن ارقمؓ سے روایت ہے کہ ہم نماز میں باتیں کرلیا کرتے تھے ۔تب یہ آیت نازل ہوئی۔(بخاری) (تیسیر القرآن)

۔آغاز میں توحید کے ذکر کے بعد احکامِ شریعت کے سلسلہ میں سب سے پہلے آیت 177 میں نماز اور ساتھ ہی زکوٰۃ کا ذکر آتا ہے۔ یہاں دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ اس باب کا خاتمہ بھی نمازہی کے ذکر پر ہوا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس دین میں جو اہمیت نماز کی ہے وہ کسی دوسری چیز کی نہیں ہے۔ ساری شریعت کا  قیام و بقا اسی کے قیام و بقا پر  منحصر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو شریعت کی اقامت اور اس کی محافظت کے لیے ایک حصار اور ایک باڑ کی حیثیت دی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

- بعض نے لفظی پہلو پر زور دے کر یہ تفسیر کی ہے کہ ہر نماز چونکہ اپنی جگہ پر عبادات و حسنات کا درجۂ متوسطہ ہے ،اور پھر ہر نماز کے ادھر اُدھر کچھ نمازیں بھی ہوتی ہیں ،نمازوسطیٰ کا اطلاق ہر نماز پر ہوسکتاہے،اور اس سے کسی خاص وقت کی نماز مقصود نہیں۔(تفسیر ماجدی)

239۔ امن کی نماز کے ساتھ خوف اور خطرے کی نماز کا  بھی حکم  دیا گیا  ہے۔ امن کی صورت میں اقامتِ صلوٰۃ اور خوف کی صورت میں محافظت علیٰ الصلوٰۃ۔

تلواروں کی چھاؤں میں بھی نماز کی تاکید ہے تو پھر امن کی حالت میں معافی کس طرح ہو سکتی ہے۔ بقولِ شاعر:

مسجدمیں نہ مندر میں نہ بیت اللہ کے سائے میں نمازِ عشق اداہوتی ہے تلواروں کے سائے میں  (بیان القرآن)

۔پیغمبر ﷺ کی تعلیم عین اللہ کی تعلیم ہے  : كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ  سے یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ پیغمبر ﷺ کی تعلیم عین اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے۔ اس لیے کہ قرآن میں نماز کا حکم تو ہوا ہے لیکن اس کے ادا کرنے کا طریقہ کہیں نہیں بتایا گیا ہے، یہ چیز صرف پیغمبر کی تعلیم سے امت کو معلوم ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود فرمایا کہ جیسا کہ اس نے تعلیم دی، اب سوال یہ ہے کہ اگر پیغمبر کی تعلیم عین اللہ کی تعلیم نہیں ہے تو وہ کیا چیز ہے جس کو یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعلیم سے تعبیر فرمایا ہے۔ ہم آیت و یعلمہم الکتاب والحکمۃ کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کرچکے ہیں کہ پیغمبر ﷺ کے متعلق یہ تصور کہ وہ صرف قرآن سنا دینے کے لیے تشریف لائے تھے بنیادی طور پر غلط ہے۔ آپ قرآن سنانے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کام پر بھی مامور تھے کہ لوگوں کو قرآن پڑھائیں اور سکھائیں اور اس کے مضمرات و اشارات اور اس کی حکمتیں اور اس کے اسرار اچھی طرح واضح کردیں اس کام پر آپ چونکہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے مامور تھے اس وجہ سے ایک معلم کی حیثیت سے آپ نے امت کو جو کچھ بتایا سکھایا وہ سب آپ کے فریضہ نبوت ہی کے تحت ہے۔ تعجب ہے کہ ان واضح آیات کی موجودگی میں بھی بعض لوگ نماز کے اوقات اور اس کی رکعات وغیرہ سے متعلق بےسروپا بحثیں ٹھاتے ہیں۔۔(تدبر قرآن)

- حضرت جبرائیل نے دودفعہ حضورؐ کو نماز پڑھائی (ایک اول وقت ،ایک آخروقت(۔(بیان القرآن)

238-239۔ صلوٰۃِ وسطی ٰ :سے مراد عصر کی نماز ہے۔رسول اکرمؐ نے فرمایا " جس کی عصر کی نماز قضا ہوگئی تو گویا اس کا گھر بار اور مال اسباب سب لٹ گیا"صحیح بخاری،مواقیت الصلاۃ) صلوٰۃ الخوف: اس میں صلوٰۃ الخوف کا حکم ہے جو ضرورت کے پیش نظر پیادہ اور سوار دونوں حالتوں میں اداکی جاسکتی ہے،صحیح احادیث کی روشنی میں اس کی تعداد چار اور دوکے علاوہ ایک رکعت پڑھنےکاثواب بھی ملتاہے ۔احادیث میں اس کی مختلف صورتیں مذکورہیں ایک حدیث میں ہے :نبی اکرمؐ نے ایک گروہ کو دورکعت نماز(خوف) پڑھائی (جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے مقابل رہا)پھر یہ (پہلا گروہ) ہٹ گیا(اور دشمن کے مقابل ہوگیا)اور دوسرے گروہ کو دورکعت نماز پڑھائی تو (اس طرح) نبی اکرمؐ کی چار رکعت نماز ہوئی اور دیگر لوگوں کی دودو رکعات۔(صحیح مسلم،صلاۃ المسافرین،الخوف)۔(احسن الکلام)

- نماز خوف کے پڑھنے کا طریقہ:سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے جب کوئی پوچھتا کہ ہم نماز خوف کیسے پڑھیں ؟ تو وہ کہتے کہ امام آگے بڑھے ،کچھ لوگ اس کے ساتھ نماز اداکریں ،امام انہیں ایک رکعت پڑھائے ،باقی لوگ ان کے اور دشمنوں کے درمیان کھڑے رہیں۔نماز نہ پڑھیں۔جب یہ لوگ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ چکیں تو سرک کرپیچھے چلے جائیں اور جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اب وہ لوگ آجائیں اور امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں ۔امام تو اپنی نماز(دورکعت)سے فارغ ہوگیا۔اب یہ دونوں گروہ باری باری اپنی باقی ایک ایک رکعت پوری کرلیں تو ان کی بھی دورکعت ہوگئیں ،اور اگرخوف زیادہ ہو تو پاؤں پر کھڑے پیدل یاسواری پر رہ کر نماز اداکرلیں ۔منہ قبلہ رخ ہو یا کسی اور طرف ۔امام مالک کہتے ہیں کہ نافع نے کہا کہ عبداللہ بن عمرؓ نے یہ رسول اللہؐ سے نقل کیا ہے (بخاری)

- یعنی جب خوف کی حالت ختم ہوجائے تو نماز پوری اور باجماعت اداکرو،جیساکہ عام حالات میں پڑھاکرتے ہو۔(سفر اور خوف کی نمازوں کی تفصیل کیلئے سورۂ نساءکی آیت نمبر 101 اور 102کے حواشی نمبر 138اور139 ملاحظہ فرمائیں۔

- بعض محققین نے یہ بھی تصریح کردی ہے کہ نماز ِ خوف کی اجازت صرف فوجی دشمن ہی سے خطرے کے وقت تک محدود نہیں ،بلکہ دوسرے خطرات پر بھی  حاوی ہے۔(تفسیر ماجدی)

 240- بیوہ کے نان نفقہ سے متعلق احکام منسوخہ: یہ حکم ابتدائے اسلام میں نازل ہوا تھا کہ مرتے وقت مرد اپنی بیویوں کے متعلق ورثا کو ایسی وصیت کرجائیں۔بعد میں جب بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن مقرر ہوگئی نیز آیت میراث کی روسے خاوند کے ترکہ میں بیوہ کا حصہ مقرر ہوگیا تو اس آیت کا حکم منسوخ ہوگیا۔اب بیوہ کیلئے تو یہ حکم ہواکہ وہ بس عدت کے ایام اپنے مرنے والے شوہر کے ہاں گذارے۔بعد میں وہ آزاد ہے اور اس دوران نان و نفقہ بھی وارثوں کے ذمہ  اور ترکہ ہی سے ہوگا اور سال بھر کے خرچہ کا مسئلہ میراث میں حصہ ملنے سے حل ہوگیا۔(تیسیر القرآن)

۔ابتدائے اسلام میں بیوہ کی عدت ایک سال اور سال بھر کا نفقہ ۔ چار ماہ دس دن سےایک سال کی منسوخی۔اور سال کا نفقہ آیت میراث سے منسوخ۔(ضیاء القرآن)

- یہ وصیت کا حکم اس وقت تھا جب میراث کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے،جب میراث کے مستقل احکام نازل ہوگئے  اور شوہر کے ترکہ میں ایک مستقل حصہ بیوہ کا بھی مقرر ہو گیا ،توظاہر ہے کہ اب حکمِ وصیت پر عمل کا کوئی محل باقی نہ رہا ۔اسی کو مفسرین اپنی اصطلاح میں نسخ سے تعبیر کرتے ہیں ۔اور اسی کو اردوخوانوں نے اردو کی منسوخی کے معنی میں لے کر اس پر اعتراضات شروع کردیے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

- شاہ بانوکیس(کلکتہ ہائی کورٹ)؛ طلاق کی صورت میں شادی نہ کرنے والی عورت ساری عمرکے لیے نان نفقہ کی حقدار۔کوئی عدالت سپریم کورٹ سمیت مسلمانوں کے عائلی قوانین میں مداخلت نہیں کرسکتی ۔پاکستان کے عائلی قوانین شریعت میں مداخلت ہے جبکہ انڈیا کے مسلمانوں کو سلام کہ انھوں نے ایک سیکولر ملک میں ہوتے ہوئے اپنے عائلی قوانین کی حفاظت کی۔(بیان القرآن)

242۔عزیز و حکیم کی صفات خدا کے حق قانون سازی اور اس کے قانون کے پرحکمت ہونے کی طرف بھی اشارہ کررہی ہیں اور اس کی خلاف ورزی کے نتائج کی طرف بھی۔۔۔آخری آیت میں کذلک یبین اللہ الاٰیۃ کا ٹکڑا بطور احسان ہے اور اس سے ،جیساکہ ہم دوسری جگہوں پر واضح کرچکے ہیں،ان آیات کی نوعیت واضح ہوتی ہے جن کی طرف کذلک کا اشارہ ہے۔ہم بیان کرچکے ہیں کہ عموماً یہ ٹکڑا ان آیات کے بعد آتاہے جن کی حیثیت توضیح مذید کی ہوتی ہے اور جواپنے باب کے اصل احکام کے بعد لوگوں کے اندر سوال یا مزید جستجو اور تلاش پیدا ہونے کے بعد نازل ہوئی ہیں۔نظمِ قرآن کے طالبوں کو بہت سے مقامات میں ان سے بڑی قیمتی رہنمائی ملتی ہے اس وجہ سے ان کو نگاہ  میں رکھنا چاہئیے۔۔۔قرآن نے اجمال کے بعد تفصیل ،ایجاز کے بعد توضیح اور توضیح کے بعد توضیح مزید کایہ طریقہ جو اختیار کیا ہے اس میں تربیت کے بہت سے پہلو ہیں۔ازاں جملہ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے دین میں غور و فکر اور اس کے فوائد و مصالح اور اس کے اسرار و حکم تک پہنچنے کیلئے ہماری عقل کی تربیت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس تدریج کو نمایاں کرکے اس حقیقت کی طرف ہماری رہنمائی فرماتاہے کہ ہم دین میں عقل کو کس طرح استعمال کرسکتے ہیں اور پیش آنے والے حالات و معاملات میں ان کلیات سے کس طرح جزئیات مستنبط کرسکتے ہیں۔اسی حقیقت کی طرف لعلکم تعقلون کے الفاظ اشارہ کررہے ہیں۔(تدبر قرآن)

- کسی نہ کسی درجہ میں ۔مطلب یہ ہے کہ جس عورت کو طلاق دی جائے،یہ نہ ہوکہ اسے ننگا بوجا کرکے بھوکا پیاسا اسی وقت گھر سے نکال دیا جائے ،بلکہ ایک مدت تک اس کی آسائش کا خیال اور اُس کی ضرورتوں کی کفالت شوہر کے ذمہ ہے، فقہانے حدیث و سنت کی روشنی میں ایک سہ ماہی کی مدت مقرر کی ہے کہ اتنی مدت تک کھانے پینے اور رہنے سہنے کا انتظام شوہر پر واجب ہے،مطلقہ پر اگر تینوں طلاقیں ابھی نہیں پڑی ہیں ،جب تو یہ حکم متفق علیہ ہے اور اگر پڑچکی ہیں تو حنفیہ کے ہاں جب بھی یہ حکم ہے۔(تفسیر ماجدی)


بتیسواں رکوع

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ  243 بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے۔ تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کردیا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
 وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ 244 اور (مسلمانو) خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) جانتا ہے۔
 مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ  245 کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی حصے زیادہ دے گا۔ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔
 اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ 246 بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو۔ وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے۔ لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھر گئے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے۔
 وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ 247 اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہے۔ بادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے۔
 وَ قَالَ لَهُْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۠  248 اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے۔

تفسیر آیات

243۔ یہاں سے ایک دوسرا سلسلہ تقریر شروع ہوتاہے۔ سال ڈیڑھ سال مدینہ میں رہنے کے بعد مسلمانوں کو جب قتال کی اجازت ہوئی تو ان میں سے کچھ لوگ کسمسارہے تھے۔بنی اسرائیل کے دو واقعات سے عبرت دلائی گئی۔)تفہیم القرآن(

ــــ مناسب وقت احکام دینے کے بعد یہاں سے جہاد و انفاق کا وہ مضمون پھر شروع ہورہاہے جو احکام و قوانین کے باب سے قبل زیر بحث تھا۔۔۔۔۔موت اور حیات کے الفاظ ایمانی و اخلاقی موت اور زندگی کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں۔آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس کا تعلق بنی اسرائیل کی تاریخ میں سموئیل نبیؑ کے زمانہ سے ہے جب فلسطیوں نے بنی اسرائیل کو سخت مرعوب کررکھا تھا اور وہ ان سے خدا کا وہ صندوق بھی چھین لے گئے جس کی حیثیت ان کے قبلہ کی تھی۔ خوف اور بزدلی کی یہ موت ان پر بیس برس طاری رہی۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحی)

ــــ ازسرِ نو ایمان اور اسلام کے عزم نے ان کو زندہ و متحرک کردیا (نئی زندگی))تدبرقرآن(

۔یہ اشارہ بنی اسرائیل کے واقعہ خروج کی طرف ہے۔ سورۃ مائدہ کے چوتھے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ یہ لوگ بہت بڑی تعداد میں مصر سے نکلے تھے۔ دشت و بیاباں میں بے خانماں  پھر رہے تھے۔ خود ایک ٹھکانے کے لیے بے تاب تھے۔ مگر  جب اللہ کے ایما  سے حضرت موسیٰ نے ان کو حکم دیا کہ ظالم   کنعانیوں کو عرضِ فلسطین سے نکال دواور اس علاقے کو فتح کر لو، تو انھوں نے  بزدلی دکھائی اور آگے بڑھنے سے انکا ر کر دیا۔ آخر کار اللہ نے انھیں  چالیس سال تک زمیں میں سرگرداں پھرنے کے لیے چھوڑ دیا یہاں  تک کہ ان کی ایک نسل ختم ہو گئی اور دوسری نسل صحراؤں کی گود میں پل کر اٹھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے انھیں کنعانیوں پر غلبہ عطا کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی معاملے کو موت اور دوبارہ زندگی کے معاملات سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔   (تفہیم القرآن)

ــــ طاعون کے خوف سے بھاگنے والے بنی اسرائیل کی موت اور دوبارہ زندگی:۔ اس آیت سے آگے جہاد کا مضمون شروع ہورہاہے اور بطور تمہید اس آیت میں بتایا جارہاہے کہ زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔واقعہ یہ ہواکہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ کسی شہر میں رہتے تھے۔وہاں طاعون کی وباپھیل گئی تویہ طاعون کی وباکاشکار ہوکر مرجانے کے خطرہ کی بناپر اپنا بوریا بستر لپیٹ کرہزاروں کی تعداد میں شہر سے نکل کھڑے ہوئے اور سمجھے کہ اس طرح موت سے بچ جائیں گے۔ابھی کسی منزل پر بھی نہ پہنچنے پائے تھے کہ راہ میں انہیں موت نے آلیا اور سب کے سب مرگئے۔ ممکن ہے وہ طاعون کے جراثیموں سے ہی مرے ہوں۔انہوں نے اللہ پر بھروسہ نہ کیا اور بزدلی دکھائی ،لہذااللہ تعالیٰ نے سزا کے طورپر ان سب کو ہی موت کی نیند سلادیا۔اور اگر وہ اللہ کی تقدیر پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے شہرمیں مقیم رہتے تو ممکن ہے ان میں سے اکثر بچ جاتے ۔ پھر کچھ مدت اور حزقیل پیغمبر جو سیدنا موسیٰ ؑ کے تیسرے خلیفہ تھے،ادھر سےگزرے اور یہ صورت حال دیکھ کر انہوں نے اللہ سے دعاکی تواللہ نے اپنی مہربانی سے انہیں دوبارہ زندگی عطاکی  اور ہرشخص (سبحانک لاالٰہ الاانت)کہتاہوااٹھ کھڑا ہوا۔)تیسیر القرآن(

- تفسیر ابن کثیر میں سلف صحابہ کرام ؓ اجمعین اور تابعین کے حوالہ سے اس واقعہ کی تشریح یہ بیان کی ہے کہ بنی اسرائیل کی کوئی جماعت ایک شہر میں بستی تھی اور وہاں کوئی وباء طاعون وغیرہ پھیلا، یہ لوگ جو تقریباً دس ہزار کی تعداد میں تھے گھبرا اٹھے اور موت کے خوف سے اس شہر کو چھوڑ کر سب کے سب دو پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع میدان میں جاکر مقیم ہوگئے، اللہ تعالیٰ نے ان پر اور دنیا کی دوسری قوموں پر یہ واضح کرنے کے لئے موت سے کوئی شخص بھاگ کر جان نہیں چھڑا سکتا دو فرشتے بھیج دیئے جو میدان کے دونوں سروں پر آکھڑے ہوئے اور کوئی ایسی آواز دی جس سے سب کے سب بیک وقت مرے ہوئے رہ گئے ایک بھی زندہ نہ رہا، آس پاس کے لوگوں کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی یہاں پہنچے دس ہزار انسانوں کے کفن دفن کا انتظام آسان نہ تھا اس لئے ان کے گرد ایک احاطہ کھینچ کر حظیرہ جیسا بنادیا ان کی لاشیں حسب دستور گل سڑ گئیں ہڈیاں پڑی رہ گئیں ایک زمانہ دراز کے بعد بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر جن کا نام حزقیل بتلایا گیا ہے اس مقام پر گذرے اس حظیرہ میں جگہ جگہ انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے بکھرے ہوئے دیکھ کر حیرت میں رہ گئے بذریعہ وحی ان کو ان لوگوں کا پورا واقعہ بتلا دیا گیا۔ حضرت حزقیل ؑ نے دعا کہ یا اللہ ان لوگوں کو پھر زندہ فرمادے اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاء قبول فرمائی۔)معارف القرآن(

- اور سمجھ کر ان پر عمل کرو۔مفسر تھانویؒ نے یہاں خوب لکھاہےکہ ان احکام طلاق وغیرہ میں اتقوااللہ اور حدوداللہ اور سمیع اور علیم اور عزیز حکیم اور بصیر اور خبیر اور ھم الظالمون اور فقد ظلم نفسہ وغیرہ کا اس کثرت سے آنا،جو سب مخالفت پر وعیدیں ہیں،اس امر پر دلیل قطعی ہیں کہ یہ سب احکام شریعت میں مقصود اور واجب ہیں،محض مشورہ کے طورپر نہیں ہیں کہ ان میں ترمیم و تبدیل کا ہمیں حق و اختیار حاصل ہو۔۔۔حذر الموت۔ یہ تصریح ہے اس کی کہ اتنی بڑی تعداد میں اپنے گھروں سے باہر نکل جانا محض امر اتفاقی نہ تھا، موت کے خوف سے تھا ،ذکر کسی قدیم قوم کا ہے،اور اشارہ کسی ایسے واقعہ کی جانب ہے،جو مخاطبین ِ اول ،اہلِ عرب کیلئے معروف و متعارف تھا۔۔۔ سید رشید رضا مصری ،صاحب ِ تفسیر المنار نے یہاں ایک بالکل ہی دوسرا پہلو اختیار کیاہے ،اور آیت میں موت (موتوا)اور تجدید حیات (فاحیاھم) دونوں کو محض معنوی و مجازی قرار دیا ہے کہ قوم کی قوم اپنی آزادی و خود مختاری کو کھو کر اور دوسروں کی غلامی میں آکر مردہ ہوگئی تھی،اور پھر اللہ نے اسے نئے سرے سے زندگی یا آزادی بخشی۔۔۔بہرحال گنجائش اس تفسیر و تاویل کی بھی ہے گوبہ تکلف۔۔۔وباء سے یا کسی اور طریق سے،چناچہ وہ سب مرگئے۔یعنی وطن سے نکل کھڑے ہوئے جان بچانے کو اور حکمِ جہاد کی تعمیل سے جی چراتے ہوئے،لیکن یہ تدبیر کچھ بھی کام نہ آئی،اور الٹے موت کا شکار ہوکررہے۔۔۔۔ ( اور انہیں مشاہدہ کرادیا کہ موت و زندگی کا سررشتہ کسی اور ہی کے ہاتھ میں ہے عقل و تدبیر انسانی کے ہاتھ میں نہیں ،اور اس لئے جہاد یا دوسرے احکامِ شریعت کی تعمیل سے جی چرانا انتہائی سخافت و نادانی ہے)۔(تفسیر ماجدی(

244۔ جہاد کا خیال تک نہ آنا نفاق کی علامت ہے۔اس آیت میں موت سے نہ ڈرنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ اس سے پہلی آیت کا مفہوم یہ تھا کہ زندگی اور موت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے تو جہاد میں جانے والے کو بھی موت کے منہ سے بچالے اور چاہے تو کسی کو گھر بیٹھے بیٹھے ہی موت دے دے یا جو موت سے بھاگ کر نکل کھڑا ہواسے راہ میں ہی موت کی نیند سلادے اور چاہے تو مردہ کو از سرنو زندہ کردے ،موت اور زندگی صرف اسی کے اختیار میں ہے ۔لہذاتمہیں اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جہاد کرنا چاہئے۔چنانچہ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا "جس نے زندگی بھرجہاد نہ کیا ہو اور نہ ہی اس کے دل میں جہاد کرنیکا خیال پیدا ہوا وہ منافق کی موت مرا"(مسلم شریف)۔(تیسیرالقرآن)

244-245- قاتلوا۔واقتلوا کے بجائے صیغہ مفاعلۃ (قاتلوا) کے لانے سے اشارہ خود بخود ہوگیا کہ قتل کی ابتداء مسلمانوں کی طرف سے نہیں ہورہی ہے،مسلمان تو صرف جوابی قتال کریں گے۔۔۔فی سبیل اللہ۔ کی قید نے واضح کردیا کہ قتال اپنے نفس کی خاطر نہیں ،جاہ و مال کی خاطر نہیں ،صرف اللہ کی راہ میں، اللہ کے دین کیلئے ہوگا۔اسلامی جہاد اپنی اس نوعیت ِ خصوصی کے لحاظ سے محاربات عالم کی تاریخ میں ایک بے نظیر مقام رکھتاہے۔۔۔اس ملی چندہ کو ،قرض اور پھر قرض حسنہ سے تعبیر کرنا عین محاورۂ عرب کے مطابق ہے کہ اہل عرب ہر اچھے معاوضہ والے عمل کو اچھے قرض اور ہر برے معاوضہ والے عمل کو برے قرض سے تعبیر کرتے تھے۔۔۔عرب ایک مشہور تجارت پیشہ قوم تھے،قرض،ربح،تجارۃ،بیع،شراء وغیرہ کے الفاظ اگر ان کی زبان کے جزو بن گئے ہوں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔۔۔ایک بددین ،اردوخواں جاہل ،قرآن مجید میں"قرض" کا لفظ دیکھ ،اور اسے اردو کے قرضہ پر قیاس کر کےتمسخر کی راہ سے بولا کہ خدا بھی محتاج ہوگیا ہے،جو اسے بندوں سے ادھار مانگنے کی ضرورت پڑی!جہلِ مرکب بھی انسان کیلئے کیسی لعنت ہے!     ؎ مردم اندر حسرتِ فہم درست                          (تفسیر ماجدی(

245۔ قرض حسن ’ کا مفہوم : اس قرض کے متعلق شرط صرف ایک لگائی ہے۔ وہ یہ کہ یہ قرض ‘ قرض حسن ’ ہو۔ قرض حسن کا مفہوم قرآن کے دوسرے مواقع سے جو نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ دل کی تنگی کے ساتھ محض چھدا اتارنے کے لیے نہ دیا جائے بلکہ پوری فراخدلی اور حوصلے کے ساتھ دیا جائے، ریا اور نمائش کے لیے نہ دیا جائے بلکہ صرف خدا کی خوشنودی کے لیے دیا جائے، کسی دنیوی طمع کے حصول کی غرض سامنے رکھ کر نہ دیا جائے بلکہ صرف آخرت کے اجر کی خاطر دیا جائے اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ حقیر، کم وقعت اور ناجائز ذرائع سے حاصل کیے ہوئے مال میں سے نہ دیا جائے بلکہ محبوب، عزیز اور پاکیزہ کماْئی میں سے دیا جائے۔(تدبرقرآن)

246۔ سیموئیل نبی بوڑھے ہوچکے اور اس کے بیٹے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرسکے تو جہاد  کےلئے امیر حج مقرر کرنے کی درخواست ۔طالوت پر اعتراض اور لڑائی سے بچنے کی بہانہ بازیاں ۔(تدبرقرآن)

-خلافتِ راشدہ  بنی اسرائیل میں رسالت سے تین سوسال بعد (طالوت و جالوت کی جنگ کے بعد ) طالوت، داؤد،سلیمان کی خلافت ۔مسلمانوں کی خلافت ،رسالت سے متصل۔(بیان القرآن)

ـــ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب بنی اسرائیل بیس برس کی بزدلی کی موت سے زندہ ہوئے اور سموئیل نبیؑ سے امیر لشکر کے تقرر کی درخواست کی۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحی)

ــــ ملک سے مراد بادشاہ نہیں بلکہ امیر ۔اسلام میں مطلق العنان بادشاہی کی کوئی گنجائش نہیں ۔طالوت کے ساتھ پیغمبر موجود ۔جہاد کےلئے سپہ سالار ۔عربی زبان میں ملک ،رئیس اور امیر کے معنوں میں۔ہمارے ہاں بھی ملک۔(ضیاء القرآن)

- من بعد موسیٰ ۔ذکر حضرت موسیٰ سے کوئی تین صدی بعد ،اور حضرت داؤدؑ سے کچھ ہی قبل کے زمانہ کا ہے،سنہ مسیحی کے آغاز میں ابھی کوئی ہزار گیارہ سوسال کی مدت باقی تھی۔۔۔مراد حضرت شموئیل 1100سنہ قبل مسیح تا 1020 قبل مسیح)، ملک شام قدیم میں ایک کوہستانی علاقہ افرائیم کے نام سے تھا ،اس کے شہر رامہ میں آپ رہتے تھے۔۔۔(اور اس امیر کی ماتحتی میں ہم سب منظم ہوکر دشمنوں سے جنگ کریں )اسرائیلی اس وقت خاص طورپر دشمنوں سے گھرے ہوئے تھے،اور لڑائی میں ان سے مغلوب و عاجز آچکے تھے ،توریت میں اس کی بھی تصریح ہے کہ حضرت شموئیل نبی اس وقت بوڑھے ہوچکے تھے، اور آپ کے صاحبزادوں میں امارت و سرداری کی کوئی صلاحیت نہ تھی۔۔۔آخر ان کے نبی کا کہا ان کے آگے آیا ،اور بنی اسرائیل اتنے دعوؤں کے باوجود پست ہمتی اور بزدلی کا شکار ہوکر رہے،جو زیفس کی مشہور تاریخ آثارِ یہود میں ہے"ان پر دہشت طاری ہوگئی،یعنی پہاڑوں میں چھپ گئے،بعض نے زیر زمیں غاروں میں پناہ لی، اور بہت سے لوگ تو اپنا ملک چھوڑ کردریا ئے یردان عبور کرگئے"(باب6،فصل 6 ۔فقرہ1)(تفسیر ماجدی)

247۔ بنی اسرائیل حضرت یعقوبؑ کی بارہ اولادوں کی نسل ہیں، نسلی بناپر بارہ فرقوں یا قبیلوں میں بٹے ہوئے تھےان میں سب سے چھوٹا قبیلہ بنی یامین کا تھا،اور توریت میں تصریح ہے کہ طالوت اسی قبیلہ سے تھے،(سموئیل۔9:21)۔۔۔نسل و خاندان کی اہمیت جب جائز حدود سے بڑھ جاتی ہے، تو ہندوؤں کی طرح ذات پات کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے،اسرائیلیوں کا بھی اب یہ عقیدہ ہوگیا تھا کہ نبوت حقِ مخصوص ہے قبیلہ بنی لاوہ کا اور حکومت حقِ مخصوص ہے قبیلہ بنی یہوداہ کا۔۔۔جیسے آج عام ہندوؤں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ کوئی شخص جو نہ برہمن ہو نہ چھتری،وہ اعلیٰ حاکم و سردار کیسے تسلیم کیا جاسکتاہے۔(تفسیر ماجدی)

- " بہت خوب جوان تھا، اور بنی اسرائیل کے درمیان اس سے خوبصورت کوئی شخص نہ تھا،یہ ساری قوم میں کاندھے سے لے کر اوپر تک ہر ایک سے اونچا تھا"(سموئیل)۔۔۔قرآن مجید کی اس بلاغت کے قربان جائیے کہ اس نے نام ہی ایسا رکھا ،جس سے بلند قامتی کی جانب پورا اشارہ ہوجائے،چنانچہ اہل تحقیق کا ایک گروہ اس جانب گیا ہے کہ طالوت دراصل طولوت تھا اور طول سے مشتق۔(تفسیر ماجدی)

ــــ طالوت کا نام تورات میں ساؤل بیان ہواہے۔اگر تورات کا یہ بیان غلط نہیں تو یہ گمان ہوتاہے کہ تورات نے ان کا ذکر نام سے کیا ہے اور قرآن نے لقب سے ۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحی)

248۔ تابوتِ سکینہ /عہد کا صندوق: طالوت کی قوم میں پہلے سے سلطنت نہ تھی غریب محنتی آدمی تھے ۔ان کی (بنی اسرائیل کی) نظرمیں سلطنت کے قابل نظر نہ آئے اور نہ ہی بوجہ مال و دولت اپنے آپ کو سلطنت کے لائق خیال کیا۔ نبی  (حضرت سیموئل)نے فرمایا کہ سلطنت کسی کا حق نہیں اور سلطنت کی بڑی قابلیت ہے عقل اور بدن میں زیادتی اور جس میں طالوت تم سے افضل ہے۔   بنی اسرائیل نے جب یہ سنا تو پھر کہا پیغمبر سے کہ اس کے سوا کوئی اور دلیل بھی ان کی بادشاہت پر دکھادو تاکہ ہمارے دل میں کوئی اشتباہ نہ رہے ۔نبی نے دعا کی جناب ِالٰہی میں اور طالوت کی سلطنت کی دوسری نشانی بیان فرمادی گئی (تابوت سکینہ)۔۔۔بنی اسرائیل کا تابوت: بنی اسرائیل میں ایک صندوق چلاآتاتھا اس میں تبرکات تھے،حضرت موسیٰ وغیرہ انبیاء کے بنی اسرائیل اس صندوقْ کو لڑائی میں آگے رکھتے اللہ اس کی برکت سے فتح دیتا جب جالوت غالب آیا ان پر تو یہ صندوق بھی وہ لے گیا تھا جب اللہ تعالیٰ کو صندوق کا پہنچانا منظور ہواتو یہ ہوا  کہ وہ کافر جہاں صندوق کو رکھتے وہیں وبا اور بلاآتی پانچ شہر ویران ہوگئے ناچار ہوکر دوبیلوں پر اس کو لاد کرہانک دیا فرشتے بیلوں کو ہانک کر طالوت کے دروازے پر پہنچاگئے بنی اسرائیل اس نشانی کو دیکھ کر طالوت کی بادشاہت پر یقین لائے اور طالوت نے جالوت پر فوج کشی کی ۔(تفسیر عثمانی)

- فتح و نصرت کا نشان ۔تبرکات (پتھر کی تختیاں ،تورات کا اصل نسخہ،ایک بوتل میں من ، عصا)(تفہیم القرآن)

-تابوت کی واپسی(ایک نشانی کے طورپر ) اس وقت جب طالوت کے انتخاب کے لیے ایک نشانی کا مطالبہ کیا گیا۔ تورات میں اس کے برعکس پہلے ہی تابوت کی واپسی ہو گئی۔ (تدبرقرآن)

- کچھ عجب نہیں جو بنی اسرائیل نے اپنی قدیم اعجوبہ پرستی کی بناپر طالوت کیلئے کسی غیبی نشان کا مطالبہ اپنے پیمبر سے کیا ہو، اور وہ اس کے جواب میں بہ ایماء الٰہی یہ فرمارہے ہوں۔۔۔تاریخ کا بیان ہے کہ فلسطینی اس تابوت سکینہ کو چھننے کو تو چھین لائے،لیکن جس تاریخ سےاُسے لے کرآئے ایک دن بھی چین سے نہ اٹھانے پائے،ابھی وباکا زور ہے،ابھی کوئی مصیبت ،آخر عاجز آکر یہ طے کیا کہ (نعوذ باللہ)کہ اس نحوست کی پوٹ کو کہیں اور پھینکوادیا جائے،ایک بیل گاڑی پر اسے لاد،گاڑی کو بغیر کسی گاڑیبان کے یوں ہی ہانک دیا، بیل سیدھے علاقۂ بنی اسرائیل کی طرف روانہ ہوگئے،اور گاڑی صوبہ یہوداہ کے شہر شمس میں آکر ٹھہرگئی۔(تفسیر ماجدی)


تینتیسواں رکوع

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ  249 .غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے۔
وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ 250 اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر۔
فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ 251 تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا۔ اور خدا نے اس کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا۔ اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے ہٹاتا نہ رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے۔
 تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ  252 یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمدﷺ) تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو۔
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠   253 یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتاً بھیجتے رہےہیں) ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی۔ اور اگر خداچاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاس کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض تو ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے۔ اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے۔ لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

تفسیر آیات

249۔طالوت کی سرکردگی میں جہاد:  چنانچہ بادشاہ طالوت کی قیادت میں بنی اسرائیل کا ایک لشکر جرار جالوت کے مقابلہ میں نکل کھڑا ہوا ۔طالوت نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جس نے بزدلی دکھاناہووہ ہمارے ساتھ نہ نکلے ۔بنی اسرائیل زبانی باتوں میں بڑے دلیر تھے ۔چنانچہ ان کی تعداد ستر ہزار ہوگئی راستہ میں ایک منزل پر پانی ملا تو طالوت سے شکایت کی ۔طالوت نے کہا کہ آگے ایک نہر تو آرہی ہے مگر تم لوگ اس سے سیر ہوکرنہ پینا،صرف ایک آدھ گھونٹ پی لینا اور یہ تمہارے پروردگارکی طرف سے آزمائش ہے ۔کہ اگر تم اپنی پیاس بھی برداشت نہ کرسکے تو لڑائی میں کیا کارنامے سرانجام دوگے؟ لہذا میں تو صرف اس آدمی کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا جو اپنی پیاس برداشت کرے گا۔ چناچہ نہر آئی تو سب نے سیر ہوکر پانی پی لیا اور بعضوں نے تو منہ ہی نہر میں ڈال دیا اور مویشیوں کی طرح پینے لگے ۔اس طرح یکدم کثیر مقدار میں پانی پینے سے ان کے بدن ٹوٹنے لگے اور تھوڑا سا فاصلہ چل کر گرپڑے اور کہنے لگے کہ اب ہمیں جالوت اور اس کے لشکر سے لڑنے کی تاب نہیں رہی۔(تیسیر القرآن)

۔ طالوت نے کہہ دیا کہ جو کوئی جوان زور آور اور بےفکر ہو وہ چلے۔ ایسے بھی اسّی (80) ہزار نکلے۔ پھر طالوت نے ان کو آزمانا چاہا۔ ایک منزل میں پانی نہ ملا دوسری منزل میں ایک نہر ملی ۔طالوت نے حکم کردیا جو ایک چلو سے زیادہ پانی پیوے وہ میرے ساتھ نہ چلے۔ صرف تین سو تیرہ ان کے ساتھ رہ گئے اور سب جدا ہوگئے ۔جنہوں نے ایک چلّو سے زیادہ نہ پیا ان کی پیاس بجھی اور جنہوں نے زیادہ پیا ان کو اور پیاس زیادہ لگی اور آگے نہ چل سکے۔(تفسیرعثمانی)

- سیموئیل باب:17(اتا3) اور سورۂ انفال میں غزوۂ بدر ۔اس نقشہ پر غور کیجیے اور پھر ایک نظر اس نقشہ پر ڈالیے جو سورة انفال میں بدر کے موقع پر کفار اور مسلمانوں کے آمنے سامنے ہونے کا بیان ہوا ہے تو صاف نظر آئے گا کہ یہ بالکل جنگ بدر کی تصویر ہے۔ تحویل قبلہ کے بعد پہلی جنگ جو کم و بیش دو مہینوں کے بعد پیش آئی ہے وہ یہی بدر کی جنگ ہے۔ اس طرح گویا جنگ بدر کے پیش آنے سے پہلے اس کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کی جنگ میں مسلمانوں کو دکھا دیا تھا۔ ہم سورة انفال میں یہ واضح کریں گے کہ یہود بدر کا نقشہ دیکھ کر اس حقیقت کو تاڑ گئے تھے لیکن انہوں نے مشرکین کو برانگیختہ کرنے کے معاملہ میں بالکل شیطان کی روش اختیار کی۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ اس جنگ میں طالوت کے ساتھیوں کی تعداد بھی کم و بیش اتنی ہی تھی۔ جتنی بدر میں حضور کے ساتھیوں کی تھی ۔(تدبر قرآن)

- نہر۔دریاسے یہاں مراد دریائے یردن(JORDAN) ہے یہ دریا بڑانہیں، براہ راست لمبائی کل 65 میل کی ہے،البتہ اس کے خم و پیچ ملاکر کوئی 200 میل کی ہے، علاقۂ فلسطین میں اہم ترین دریا یہی ہے اور گویا ملک کی قدرتی سرحد کا کام دیتاہے،چناچہ یردن کے اس پار اور اس پار علاقوں کی تقسیم خود توریت میں درج ہے( یوشع)۔۔۔شرب منہ ۔یعنی جی بھر کر اس میں سے پانی پی لے گا۔روایتوں میں آتاہے کہ موسم گرمی کا تھا، اور طالوت کے سپاہیوں کو پیاس قدرۃً زور کی لگی ہوئی تھی۔(تفسیر ماجدی)

251۔جالوت کی شکست: جب سامنے ہوئے جالوت کے یعنی وہی تین سو تیرہ آدمی اور انہی تین سو تیرہ میں حضرت داؤد کے والد اور ان کے چھ بھائی اور خود حضرت داؤد بھی تھے حضرت داؤد کو راہ میں تین پتھر ملے اور بولے کہ اٹھالے  ہم جالوت کو قتل کریں گے جب مقابلہ ہواجالوت خود باہر نکلا اور کہا میں اکیلا تم سب کو کافی ہوں میرے سامنے آتے جاؤ حضرت سموئیل نے حضرت داؤد کے باپ کو بلایا کہ اپنے بیٹے مجھ کو دکھلا۔ اس نے چھ بیٹے دکھائے جو قد آور تھے حضرت داؤد کو نہیں دکھایا ان کا قد چھوٹا تھا اور بکریاں چراتے تھے پیغمبر نے ان کو بلوایا اور پوچھا کہ تو جالوت کو مارے گا انہوں نے کہا ہاں ماروں گا پھر جالوت کے سامنے گئے اور انہی تینوں پتھروں کو فلاخن میں رکھ کر مارا جالوت کا صرف ماتھا کھلاتھا اور تمام بدن لوہے میں غرق تھا تینوں پتھر اس کے ماتھے پر لگے اور پیچھے کو نکل گئے۔جالوت کا لشکر بھاگا اور مسلمانوں کو فتح ہوئی پھر طالوت نے حضرت داؤد سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا اور طالوت کے بعد یہ بادشاہ ہوئے ۔اس سے معلوم ہوگیا کہ حکم جہاد ہمیشہ سے چلاآرہاہے اور اس میں اللہ کی بڑی رحمت اور احسان ہے نادان کہتے ہیں کہ لڑائی نبیوں کاکام نہیں ۔(تفسیر عثمانی)

-حضرت داؤد کی زندگی کا آغاز :  داؤد ، یہ وہی حضرت داؤد ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت سے سرفراز فرمایا اور جن کی صلب سے حضرت سلیمانؑ پیدا ہوئے۔ان کی ابتداء غریبانہ لیکن انتہا نہایت شاندارہوئی ۔انہوں نے اپنے بارے میں خود فرمایا ہے کہ خداوند نے مجھے بھیڑ سالے سے نکالا اور اسرائیل کے تخت پر لابٹھایا۔یہ طالوت کی اس فوج میں شامل تھے جس کا ذکرچلا آرہاہے۔اس شمولیت کے متعلق تورات میں دومختلف روایتیں ہیں۔ ایک سے تو یہ ثابت ہوتاہے کہ یہ اس جنگ کے پیش آنے سے پہلے ہی طالوت کے سلاح بردار کی حیثیت سے ان کے لشکر میں داخل ہوچکے تھے اور درپردہ یہ سموئیل کے ممسوح اور مستقبل کے بادشاہ بھی تھے۔دوسری روایت سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ بالکل وقت کے وقت اپنی بکریاں چراگاہ میں چھوڑ کر اپنے بڑے بھائیوں کو،جو جنگ میں شریک تھے اپنے باپ کے حکم سے کھانے کی چیزیں دینے آئے ۔یہاں انہوں نے دیکھا کہ جالوت مقابلہ کیلئے چیلنج دے رہاہے لیکن کوئی اس کے مقابلہ کیلئے آگے نہیں بڑھ رہاہے۔یہ دیکھ کر ان کی غیرت کو جوش آیا اور انہوں نے طالوت سے اس کے مقابلہ کی اجازت مانگی ۔یہ اس وقت ایک نوخیز،سرخ رو اور خوش قامت نوجوان تھے۔طالوت کو ان کی کم عمری اور ناتجربہ کاری کی بناپر اجازت دینے میں ترددہوا۔لیکن جب انہوں نے کہا کہ میں اپنی بکریوں پر حملہ کرنے والے شیروں اور ریچھوں کے جبڑے توڑدیا کرتاہوں ، بھلا اس نامختون فلسطینی کی کیا حیثیت ہے کہ یہ زندہ خداوند کی فوجوں کو رسواکرے تو طالوت نے ان کے عزم و ہمت کو دیکھ کر ان کو اجازت دے دی اور خود اپنا جنگی لباس پہناکر اپنے مخصوص اسلحہ سے ان کو لیس کیا۔اس وقت تک ان کا زمانہ بھیڑوں بکریوں کی چرواہی میں گزراتھا،اس جنگی لباس اور جنگی اسلحہ کا ان کو کوئی تجربہ نہیں تھا۔ وہ ان کو پہن کر کچھ بندھا بندھا سا محسوس کرنے لگے۔آخرطالوت  کی اجازت سے اس قید سے رہائی حاصل کی اور چرواہوں کی طرح اپنی فلاخن اٹھائی ، چادر کے ایک کونے میں کچھ پتھر رکھے اور وقت کے سب سے بڑے دیوکے مقابل میں جاکے ڈٹ گئے۔پہلے تو اس نے ان کا مذاق اڑایا لیکن جب ان کی طرف سے ترکی بہ ترکی جواب ملا تو اس نے کہا کہ" اچھا آ،آج تیرا گوشت چیلوں اور کوؤں کوکھلاتاہوں"اتنے میں حضرت داؤدؑ نے فلاخن میں پتھر رکھ کر جو اس کو مارا تو پتھر اس کے سر سے چپک کررہ گیا اور وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔اتنے بڑے سپہ سالار کا ایک اکھڑ چرواہے کی فلاخن سے اس طرح مارا جانا ظاہر ہے کہ ایک عظیم واقعہ تھا۔چناچہ فلسطینی فوج میں بھگدڑ مچ گئی اور ادھر بنی اسرائیل کی عورتوں کی زبان پر یہ گیت جاری ہوگیا"ساؤل نے تو ہزاروں کو مارا پر داؤد نے لاکھوں کو مارا"بس اسی واقعہ سے حضرت داؤدؑ کی زندگی کا آغاز ہوا اور پھر وہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں اس مقام پر پہنچے جو ان کیلئے مقدر تھا۔فھزموھم باذن اللہ ، میں اس حقیقت الامر ی کا اظہار ہے کہ فتح ہویا شکست ،جو کچھ بھی پیش آتاہے اس کا اصل تعلق  قلت و کثرت  اور وسائل و تدابیر سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہے۔اس وجہ سے اصل اعتماد اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیئے نہ کہ اسباب وسائل پر۔اس سے مقصوداسباب و وسائل کے اختیار کرنے کی نفی نہیں بلکہ تنہا انہی کو وسیلۂ ظفر سمجھ لینے کی نفی ہے ۔حضرت داؤد جنہوں نے ایک دیو ہیکل سورما کو ایک پتھر سے ڈھیر کردیا۔اگرچہ اس زمانے تک نبی نہیں تھے،لیکن اس حقیقت سے آگاہ تھے۔چنانچہ انہوں نے جالوت کو مخاطب کرکے یہ کہا تھاکہ"اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خداوند تلوار اور بھالے کے ذریعے سے نہیں بچاتااس لیے کہ جنگ تو خداوندکی ہے اور وہی تم کو ہمارے ہاتھ میں کردے گا"۔سیموئیل باب17،ص 47۔یہی بات قرآن مجید میں آیت ومارمیت اذ رمیت ولٰکن اللہ رمی سے ثابت ہوتی ہے۔"واٰتٰہ اللہ الملک وعلمہ مما یشاء"۔یہ ان انعامات کا بیان ہے جو اس واقعے کے بعد حضرت داؤدؑ پر ہوئے ۔اس کے بعد وہ طالوت کے داماد بھی ہوگئےاور پھر بنی اسرائیل کے بادشاہ بھی۔علاوہ ازیں ان کو حکمت کا وہ خزانہ بھی عطا ہوا جس کا مظہر زبور ہے۔درحقیقت یہی حکمت ہے جس کا جوڑ جب بادشاہی کے ساتھ ملتاہے تو وہ بادشاہی زمین میں خداکی خلافت کا درجہ حاصل کرتی ہے،یہ نہ ہوتو بادشاہی چنگیزی ہے ۔بادشاہی اور درویشی کا یہی امتزاج ہے جو اللہ کی نظروں میں پسندیدہ ہے۔اور حضرت داؤد ؑ حضرت سلیمانؑ ،حضرت ابوبکرؓ،حضرت عمرؓاور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ سب درویش بادشاہ تھے اس لیے ان کی بادشاہی کا تخت و تاج سونے چاندی  سے نہیں بلکہ حکمت کے لعل و گوہر سے آراستہ ہواتھا۔یہاں ایک چھوٹا سا سوال یہ بھی پیدا ہوتاہے کہ علمہ ممایشاءفرمایا   "علمہ مما شاء" نہیں فرمایا۔میرا خیال ہے کہ یہ اسلوب اس لیے اختیار فرمایا کہ یہ بات حضرت داؤدؑ کے ساتھ خاص ہوکے نہ رہ جائے۔بلکہ یہ ایک سنت اللہ کے بیان کا اسلوب اختیار کرلے کہ اللہ نے اس کو وہ کچھ سکھایا اور بتایا جو وہ اپنے ایسے بندوں کے لیے چاہتاہے کہ وہ ان کو بتائے اور سکھائے۔    ۔۔۔۔( تدبرقرآن)

ــــ آیت کاآخری حصہ ،جہاد کی ضرورت اور فلسفہ۔"ولولا دفع اللہ الناس الایۃ" یہ جہاد کی ضرورت اور اس کا فلسفہ بیان ہواہے کہ اگر اللہ تعالیٰ جہاد کا حکم نہ دیتا اور اس کے صالح بندے زمین کو فتنہ و فساد سے پاک کرنے کیلئے تلوار نہ اٹھاتے تو اشرار و مفسدین دنیا کو شروفساد سے بھردیتے  اور اللہ کی زمین نیکی اور تقویٰ کے تمام آثار سے خالی ہوجاتی ۔قرآن میں جہا کی اس ضرورت و حکمت کی طرف مختلف اسلوبوں سے جگہ جگہ اشارے کیے گئے ہیں۔مثلاً سورۂ حج میں فرمایا۔"اور اگر اللہ ایک کو دوسرے سے دفع نہ کرتا رہتا تو صومعے اور گرجے اور عبادت خانے اور مسجدیں ،جن میں کثرت سے خدا کا ذکر ہوتاہے،سب ڈھائے جاچکے ہوتے۔"اس حقیقت کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ مذہب کے راہبانہ اور جوگیانہ تصور کے اثر سے عام طورپر جنگ اور جہاد کو تقویٰ اور دین داری کے منافی تصور کیا گیا ہے ۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جنگِ بدر سے پہلے تک تو قریش مسلمانوں کی کمزوری کو ان کے خلاف ایک دلیل ٹھہراتے رہے اور جنگ بدر کے بعد ان کے جوش ِجہاد کو ان کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کرنے لگے۔اس کی تفصیلات اپنے مقام میں آئیں گی یہاں قرآن نے پہلے سے اس طرح کے تمام اعتراضات کا جواب دے دیا کہ انبیاء اور صالحین جو جہاد کرتے ہیں اس سے مقصود حق اور عدل کا قیام اور شروفساد کا استیصال ہوتاہے ورنہ خداکی زمین نیکی اور بھلائی کیلئے بالکل بنجر ہوکے رہ جائے گی۔اس وجہ سے صالحین کا جہاد اہل زمین کیلئے خدا کی ایک بہت بڑی عنایت ہے۔۔۔۔ علاوہ ازیں لِلّہ پر زور دینے کی ایک دوسری وجہ بھی ہے۔ وہ یہ کہ اہلِ عرب کے لیے حج و عمرہ عبادت سے زیادہ تجارت کا زریعہ بن گئےتھے۔ ان کے لیے ان کی اہمیت تجارتی میلوں کی رہ گئی تھی۔(تدبرقرآن)

252۔ حضور ؐ کی نبوت کا ثبوت:  یہ قصہ جو بنی اسرئیل کا گذر ایعنی ہزاروں کا نکلنا اور ان کا دفعۃً مرنا اور جینا اور طالوت کا بادشاہ ہونا یہ سب اللہ کی آیتیں  ہیں جوتجھ کو سنائی جاتی ہیں اور تم بیشک اللہ کے رسولوں میں ہویعنی جیسے پہلے پیغمبر ہوچکے ہیں۔ویسے ہی تم بھی یقیناً رسول ہو کہ ان قصص قرون ماضیہ کو ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہو حالانکہ نہ کسی کتاب میں آپ نے دیکھا اور نہ کسی آدمی سے سنا۔(تفسیر عثمانی)

253۔ آیت میں بعض رسول دوسروں سے افضل: احادیث میں بعض انبیاء (علیہم السلام) کی بعض پر فضیلت دینے کی ممانعت وارد ہوئی ہے ؟
 جواب یہ ہے کہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ دلیل کے بغیر اپنی رائے سے بعض کو بعض پر فضیلت نہ دو اس لئے کہ کسی نبی کے افضل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کا مرتبہ بہت زیادہ ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا علم رائے اور قیاس سے حاصل نہیں ہوسکتا لیکن قرآن وسنت کی کسی دلیل سے اگر بعض انبیاء (علیہم السلام) کی بعض پر فضیلت معلوم ہوگئی تو اس کے مطابق اعتقاد رکھا جائے گا۔۔(معارف القرآن)

-تفریق بین الرسل غلط۔ تفضیل بین الرسل درست۔(بیان القرآن)

- تلک الرسل ۔مراد وہی مرسلین ہیں جن کا ذکر ابھی ابھی آچکا ہے ،الرسل کے اعراب رفعی کی بناپر ترکیب کلام یوں سمجھی گئی ہے۔۔عربی الفاظ اور اسی بناپر بجائے ذلک کے لفظ تلک آیا ہے،اس لئے کہ جماعۃ مؤنث ہی ہے۔۔۔(براہ راست اور بلاتوسطِ ملائکہ)جیساکہ خصوصیت کے ساتھ حضرت موسٰ کلیم اللہ کے ساتھ ہوا۔۔۔ورنہ وسیع و عام معنی میں تو ہر صاحبِ وحی نبی کلامِ الٰہی سے مشرف ہوتاہی ہے۔۔۔ اشارہ ہے جامعِ کمالات و خاتم نبوت محمد مصطفیؐ کی طرف۔۔۔ورنہ نام تو اور بھی پیمبروں کے لئے گئے ہیں،کہیں ابن فلاں کرکے تعارف نہیں کرایا گیاہے!۔۔۔کہ حضرت عیسیٰ   کیلئے ابن اللّٰہیت کی تردید کی ضرورت تھی۔(تفسیر ماجدی)

- یہاں یہ فرمایا گیا کہ عیسیؑ رسولِ برحق اور مؤید من اللہ تھے ،نہ کہ نعوذ باللہ کوئی مفتری یا کذاب،جس طرح نصاریٰ نے غلو و افراط سے کام لے کر آپ کو حد عبدیت و عبودیت سے باہر نکال رکھا تھا،اسی طرح یہود نے تفریط و عناد کو کام میں لاکر آپ کو سرے سے ایک بازی گر اور شعبدہ باز قرار دے لیا تھا ،قرآن مجید ابھی ابھی نصرانی شرک کی تردید کرچکاہے،اب یہودی دجل کی تردید کررہاہے۔(تفسیر ماجدی)

- ایدناہ۔ ان کی تائید ہم نے جو   ہر طرح قادر مطلق ہیں،یہ تائید خود بخود نہیں ہوگئی،آیت سے اس حقیقت پر بھی روشنی پڑگئی کہ عیسیٰؑ مسیح بایں کمالات و فضل بہرحال انسان ہی تھے اور وہ انسانوں کی طرح دفع ِ ضرر اور حصول نفع دونوں کے محتاج ،قدرتِ کاملہ نے ان کی محافظت و تقویت و رفاقت کیلئے ایک دوسری مخلوق،لطیف و غیر مرئی جنس کی مقرر کردی۔۔۔البیّنات پر حاشیہ ابھی گذرچکاہے، بینات کا مفہوم بہت وسیع و جامع ہے،عقلی و حسی دونوں قسم کے روشن شواہد ،یعنی ایک طرف دلائل و براہین اور دوسری طرف خوارق و معجزات سب اس کے تحت میں آجاتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

- من اٰمن اور من کفر۔دونوں کے صیغوں سے ظاہر ہورہاہے کہ ایمان اور کفر بندہ کی اپنی اختیاری چیزیں ہیں،خالق کی طرف سے جبر کسی صورت میں نہیں۔۔۔یعنی نہ اس کی قدرت قدرت و قوتِ فاعلہ پر کوئی قید یں اور نہ حد بندیاں عائد ہیں، اور اس کی تجویزوں ،ارادوں میں کسی غلطی یا سہو و خطا کا امکان ہے، ارسطو جیسے مشہور فلسفی نے خدا کی قدرت و قوت کو محدود مانا ہے  اور سہو و  خطا کا امکان تو مشرکوں نے اپنے خداؤں میں کثرت سے تسلیم کیا ہے ۔آیت میں اس کی تعلیم ہے کہ چھوٹی بڑی ،اچھی بری کوئی سی شے بھی ہو،بہرحال مشیتِ الٰہی سے باہر نہیں۔(تفسیر ماجدی)


چونتیسواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ 254 . اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں۔
 اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ 255 خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے۔
 لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ 256 دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے۔
اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ 257 جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

تفسیر آیات

254۔ اوپر سے مضمون جہاد اور انفاق کا چلا آ رہا تھا پھر ضمناَ دو  آیتیں التفات کی بطور تنبیہہ و تذ کیر آ گئیں جن کی نوعیت جملہ معترضہ کی ہے۔ اس کے بعد انفاق کا مضمون از سرِ نو آ گیا۔ (تدبر ِ قرآن)

۔ انفاق اور قتال سے اجتناب ہی اصل کفر ہے۔(جہاد بالمال، جہاد بالنفس) والکفرون ھم الظالمون۔(بیان القرآن)

ــــ اوپر آیت245 میں انفاق کی جو دعوت گزری ہے یہ اس کی مزید تفصیل ہے۔اس کے شفاعت کی نفی کے مضمون نے توحید خالص کی وضاحت کیلئے ایک تقریب  پیدا کردی جو آیت 255 میں ہے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

- ظلم کے اصل معنیٰ وضع الشئی فی غیر محلہ (کسی شے کو اس کے صحیح مقام پر نہ رکھنے ) کے ہیں۔اللہ یااس کے قانون کو نہ ماننے سے بڑھ کر کون سا ظلم انسان کا اپنے حق میں ہوگا۔۔۔ولاشفاعۃ۔ پہلی دوگمراہیوں کا بھی تعلق مسیحیوں سے تھا اور تیسری گمراہی تو مسیحیت کے خصوصیات میں سے ہے، مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ ابن اللہ کی حیثیت شافع مطلق کی ہے،انسان کے قالب میں انہوں نے اسی لئے تو جنم لیاتھا کہ اپنی جان کا فدیہ سب گناہگاروں کی طرف سے دے کر اور سب کی طرف سے صلیب پر اپنے خون کا چڑھاوا چڑھا کر قیامت میں شافع مطق کی حیثیت سے ظاہر و نمودار ہوں، اور ان کی شفاعت سب کے حق میں نجات کا حکم قطعی رکھے گی،ہمارے ہاں کے عام واعظوں اور نعت گو شاعروں نے شفاعتِ مصطفوی پر حد سے زیادہ زور دینا جو شروع کیا ہے،یہ صاف مسیحیت سے تاثر کا نتیجہ ہے۔(تفسیر ماجدی)

255۔فضائل آیت الکرسی :  1۔ ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے مجھ سے پوچھا" ابومنذر! جانتے ہو تمہارے پاس کتاب اللہ کی سب سے عظمت والی آیت کونسی ہے"؟میں نے کہا کہ" اللہ ورسولہ اعلم"آپؐ نے پھر مجھ سے پوچھا :"ابومنذرؓ! جانتے ہو تمہارے پاس کتاب اللہ کی کونسی آیت سب سے عظیم ہے" : میں نے کہا "اللہ لاالٰہ الا ھوالحی القیوم" آپؐ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا :"ابومنذر تمہیں علم مبارک ہو"(مسلم ،کتاب فضائل القرآن)۔  2۔ سیدناابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے مجھے صدقہ فطر کی حفاظت پر مقرر فرمایا ۔کوئی شخص آیا اور غلہ چوری کرنے لگا میں نے اسے پکڑلیا اور کہا:میں تجھے رسول اللہؐ کے پاس لے جاؤں گا۔وہ کہنے لگا میں محتاج ہوں ،عیالدار اور سخت تکلیف میں ہوں۔چنانچہ میں نے اسے چھوڑدیا ،جب صبح ہوئی تو آپؐ نے مجھ سے پوچھا :"ابوہریرہ! آج رات تمہارے قیدی نے کیا کہا تھا؟میں نے کہا یا رسول اللہ اس نے محتاجی اور عیالداری کا شکوہ کیا تھا۔مجھے رحم آیا تو میں نے اسے چھوڑدیا "آپؐ نے فرمایا دھیان رکھنا وہ جھوٹا ہے وہ پھر تمہارے پاس آئے گا ۔چناچہ اگلی رات وہ پھر آیا اور غلہ اٹھانے لگا ۔میں نے اسے پکڑلیا اور کہا آج تو ضرور میں تمہیں آپؐ کے پاس لے جاؤں گا۔وہ کہنے لگا مجھے چھوڑدو میں محتاج ہوں اور عیالدار ہوں ،آئندہ نہیں آؤں گا مجھے پھر رحم آگیا اور اسے چھوڑدیا۔صبح ہوئی تو آپؐ نے مجھ سے پوچھا:ابوہریرہؓ !تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ میں نے کہا یارسول اللہؐ!اس نے سخت محتاجی و عیالداری کا شکوہ کیا تھا، مجھے رحم آگیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا ۔آپؐ نےفرمایا دھیان رکھنا وہ جھوٹاہےاور وہ پھر آئے گا۔بلآخر اس نے ایک رات کہا کہ مجھے چھوڑ دو میں تمہیں چند کلمات سکھاتا ہوںجوتمہیں فائدہ دیں گے میں نے کہا وہ کیا ہیں؟ کہنے لگا جب تو سونے لگے تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کر ۔اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ نگہبان ہوگا۔اور صبح تک شیطان تیرے پاس نہ آئے گا۔چنانچہ حضورؐ نے پھر مجھ سے پوچھا کہ آج رات تیرے قیدی نے کیا کیا ۔میں نے واقعہ گوش گذار کیا تو آپؐ نے فرمایا! اس نے یہ بات سچ کہی ہے اگر چہ وہ جھوٹا ہے۔ اور مجھے بتایا کہ تین راتوں تک آپ کے پاس شیطان آتارہاہے۔(بخاری) ۔ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ ہر چیز کی ایک کوہان ہوتی ہے اور قرآن پاک کی کوہان سورۂ البقرۃ ہے۔اور سورۂ البقرۃ میں ایک آیت ہے جو قرآن پاک کی تمام آیات کی سردار ہے اور وہ آیت الکرسی ہے(ترمذی)۔ (تیسیر القرآن)

ــــ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ کرسیہ سے مراد اس کا علم ہے ۔ابن جریر طبری نے اسی قول کو پسند کیا ہے ۔اور کہا ہے کہ اسی سے کراسۃ ماخوذ ہے جس کے معنی دفتر یا کاپی کے ہیں  جس میں علم منضبط کیا جاتاہے۔عربی میں علماکو کراسی بھی کہا جاتاہے۔(ضیاء القرآن)

۔کرسی کا لفظ اقتدار کیلئے ۔اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین کے تمام اکناف پر حاوی (وسع کرسیہ السمٰوٰت والارض) ۔(تدبر قرآن)

-حضورؐ سے یہ بھی منقول ہے کہ کرسی کی وسعت و فراخی کے سامنے سات آسمان یو ں معلوم ہوتے ہیں جیسے ایک وسیع صحرا میں ایک مندری پڑی ہو۔(ضیاء القرآن)

- مستند روایات ِ حدیث سے اتنا معلوم ہوتاہے کہ عرش اور کرسی بہت عظیم الشان جسم ہیں جو تمام آسمانوں اور زمین سے بدرجہابڑے ہیں۔(معارف القرآن)

-ولانوم۔ بائیبل کا یہ بیان تقابل کےلئے ملاحظہ ہو کہ خدا نے چھ دن میں زمین و آسمان پیداکئے اور ساتویں دن آرام کیا۔(تفہیم القرآن)

- ایک نہیں متعدد قوموں نےصفت "الحّی" پر  شک و اشتباہ کیا ،بحر روم کے ساحل پر متعدد قومیں اس عقیدہ کی گذری ہیں کہ ہرسال فلاں تاریخ پر ان کا خداوفات پاجاتاہے،اور دوسرے دن از سر نو وجود میں آجاتاہے، چنانچہ ہر سال اس تاریخ کو خدا یا بعل کا پتلا بناکر جلایا جاتاتھا،اور دوسری صبح اس کے جنم کی خوشی میں رنگ رلیاں شرو ع ہوجاتی تھیں۔۔۔ہندؤں کے ہاں اوتاروں کا مرنا اور پھر جنم لینا اسی عقیدہ کی مثالیں ہیں،اور خود مسیحیوں کا عقیدہ بجز اس کے اور کیا ہے کہ خدا پہلے تو انسانی شکل اختیار کرکے دنیا میں آتاہے ،اور پھر صلیب پر جاکر موت قبول کرلیتاہے! مسلمان کے گھرانے میں پیدا ہونے والے بچے شروع ہی سے ایک ازلی ،ابدی،باقی و غیر فانی خداکے عقیدہ سے چونکہ مانوس ہوجاتے ہیں،بڑے ہوکر ان کے خیال ہی میں یہ بات نہیں آتی کہ خدا کبھی اور کسی حال میں کسی معنیٰ میں اور کسی لحاظ سے حادث و فنا پذیر بھی ہوسکتاہے،لیکن آخرآج بھی کروڑوں کی تعداد میں پڑھے لکھے لوگ خدا کی اسی فنا پذیری کو اپنا عقیدہ بنائے ہوئے ہیں یا نہیں؟ ۔۔۔ یہ بھی روایتوں میں آیا ہے کہ جسے اسمِ اعظم کہا جاتاہے،وہ یہی الحی القیوم ہے۔۔۔جاہلی مذہبوں کے دیوتا نیند سے جھوم بھی جاتے ہیں ،اور سونے بھی لگتے ہیں،اور اسی غفلت کی حالت میں ان سے طرح طرح کی فروگذاشتیں ہوجاتی ہیں،مسیحیوں اور یہود کا بھی عقیدہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے جب چھ روزمیں آسمانوں اور زمین کو بنا ڈالاتو ساتویں دن اسے سستانے اور آرام لینے کی ضرورت پڑگئی،اسلام کا خدا دائم ،بیدار،ہمہ خبردار،غفلت،سستی  اور تھکن سب سے ماوراء خداہے۔۔۔لَہٗکو مقدم کردینے سے معنی میں زور اور تاکید آگئی اور مفہوم حصر کا پیدا ہوگیا۔۔۔کرسی کے اصلی معنی علم ہی کے ہیں اور کراسۃ جو علمی صحیفوں کیلئے آتاہے،وہ اسی اصل سے ماخوذ ہے،اور اہل لغت نے کرسی کے جہاں ایک معنی سریر کے دئیے ہیں ،وہاں دوسرے معنیٰ علم کے کئے ہیں۔۔۔کرسی کے دوسرے معنی قدرت و حکومت کے بھی ہیں،چنانچہ یہاں بھی بہتیرے اہل لغت و اہل تفسیر اسی طرف گئے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

-من ذالذی یشفع۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ محشر میں سب سے پہلے میں ساری امتوں کی شفاعت کروں گا۔اسی کا نام مقامِ محمود ہے۔(معارف القرآن)

۔  اللہ تعالیٰ کے علم کی یہ وسعت اور دوسروں کے علم کی یہ محدودیت مشرکین کے تصورِشفاعت کا بالکل خاتمہ کر دیتی ہے۔ چنانچہ قرآن نے شفاعت کی تردید کرتے ہوئے اکثر مقامات  میں علمِ الہی کی اس وسعت اور دوسروں کے علم کی محدودیت کا حوالہ دیا ہے مثلا  "يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ" 28۔ الانبیاء (اللہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھےہے اور  وہ شفاعت نہیں کریں گے مگر ان کے لیے جن کے لیے اللہ پسند فرمائے اور وہ اس کی خشیت سے ڈرتے ہوں گے(۔یَوْمَىٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا       یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا       109-110 طٰحہٰ  ۔ (اوراس دن کسی کو کسی کی شفاعت نفع نا پہنچائے گی مگر جس کے لیے خدائے رحمان اجازت دےاور اس کے لیے کوئی بات کہنے کو پسند کرے، وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے پیچھے اور ان کے آگے ہے اور ان کا علم اس کا احاطہ نہیں کر سکتا) (تدبرِ قرآن)

256۔ نظامِ باطل کو بزور طاقت ختم کرنا اور بات ہے ،کسی کو جبراً مسلمان بنانا اوربات۔ (بیان القرآن)

۔ قرآن مجید میں یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے مختلف مقامات میں بیان ہوا ہے۔ ہم نے طوالت سے بچنے کے لیے صرف ایک آیت کے نقل کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ اس سے واضع ہوتا ہے کہ " لا اکراہ فی الدین" کے ٹکڑے میں جس  جبر و اکراہ  کی نفی کی گئی ہے اس سے مقصود جبرِ فطری کی نفی ہے یعنی ]اللہ تعالیٰ نے ہدائت و ضلالت کے معاملے میں یہ طریقہ نہیں  اختیار فرمایا ہے کہ وہ اپنی مشیت و قدرت کے زور سے لوگوں کو ہدائت پر چلا دے یا گمراہی کی طرف  ہانک دے۔ اگر وہ  ایسا کرنا چاہتا تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا تو نہیں تھا لیکن یہ بات اس کی حکمت  اور اس کے عدل کے خلاف ہوتی- اس نے اس کے برعکس  یہ طریقہ اختیار فرمایا ہے کہ  اپنے نبیوں اور رسولوں کے زریعے سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل دونون کو اچھی طرح واضع کر دیتا ہے، پھر جو لوگ حق کی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ان کو راہِ حق اختیار  کرنے کی توفیق ارزانی کرتا ہے اور جو لوگ باطل کی راہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ان کو اس کے لیے ڈھیل دے دیتا ہے۔۔۔۔ اس زمانے میں بعض کم سواد اس آیت کو اس مفہوم سے ہٹا کر جبرِ قانونی کی نفی کے معنی میں لیتے ہیں اور اس سے یہ دلیل لاتے ہیں کہ چونکہ اسلام میں اکراہ نہیں ہے اس وجہ سے اسلام کے نام سے فلاں اور فلاں باتوں کو  جو مستوجب سزا قرار دیا جاتا ہے یہ محض مولویوں کی من گھڑت باتیں    ہیں، اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، اس گروہ کے اس استدلال کو اگر صحیح مان لیا جائے  تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اسلامی شریعت حدود و تغیرات سے ایک با لکل خالی شریعت ہےجس میں ہر شخص کو سب کچھ کر گذرنے کی چھوٹ حاصل ہے۔ نہ زنا، تہمت اور چوری پر کوئی سزا ہے ۔ نہ ڈکیتی ، رہزنی، فساد فی لارض اور بغاوت پر کوئی تعزیر۔ حالانکہ ہر شخص جانتا ہےکہ اسلام میں حدود و تغیرات کا ایک پورا نظام ہے جس کا نفاذ واجباتِ دین میں سے ہے۔ اگر ایک شخص نماز نا پڑھے یا روزے نا رکھے تو اسلامی حکومت اس کو بھی سزا دے سکتی ہے۔ یہ چیز لا اکرہ فی الدین کے منافی نہیں ہے۔۔۔۔ اس امر میں شبہ نہیں ہے کہ اسلام اس بات کی اجازت نہین دیتا کہ کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائےلیکن ساتھ ہی وہ اس بات کی بھی اجازت نہین دیتا کہ ایک شخص اسلام کے دائرے میں داخل ہو جانے کے بعد بھی جو اس کے جی میں آئے کرتا پھرےاور اس پر کوئی گرفت نا ہو بلکہ وہ اس کو مجبور کرتا ہےکہ وہ  اسلام کی حدود و قیود کی پابندی کرے۔ لا دینی نظاموں میں مذہب کو نجی زندگی سے متعلق مانا جاتا ہے اس وجہ سے ان میں حکومت کی نا فرمانیوں  پر سزائیں اور تعزیرات ہیں لیکن خدا سے بغاوت کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اسلام میں مذہب کے پرائیویٹ زندگی سے مخصوص ہونے کا کوئی تصور نہیں ہے۔(تدبرِ قرآن)

۔ درحقیقت ایمان کے قبول پر جبر و کراہ ممکن بھی نہیں ہے، اس لیے کہ ایمان کا تعلق ظاہری اعضاء سے نہیں ہے بلکہ قلب کے ساتھ ہے اور جبر و کراہ کا تعلق  صرف ظاہری اعضاء سے ہوتا ہے اور جہاد و قتال سے صرف ظاہری اعضاء ہی متاثر ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا اس کے ذریعہ سے ایمان قبول کرنے پر جبر ممکن ہی نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ آیاتِ جہاد و قتال آیت "لا اکراہ  فی الدین "  کے معارض نہیں ہیں۔(معارف القرآن)

- طاغوت کی تعریف:۔ "طاغوت"لغت کےاعتبار سے ہر اس شخص کو کہا جائے گا،جو اپنی جائز حد سے تجاوز کرگیا ہو۔قرآن کی اصطلاح میں طاغوت سے سے مراد وہ بندہ ہے، جوبندگی کی حد سے تجاوز کرکے خود آقائی و خداوندی کا دم بھرے اور خداکے بندوں سے اپنی بندگی کرائے ۔خدا کے مقابلے میں ایک بندے کی سرکشی کے تین مرتبے ہیں۔پہلا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ اصولاً اس کی فرماں برداری ہی کوحق مانے،مگر عملاً اس کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔ اس کا نام فسق ہے۔دوسرامرتبہ یہ ہے کہ وہ اس کی فرماں برادری سے اصولاً منحرف ہوکریا توخود مختار بن جائے یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے لگے۔یہ کفر ہے۔تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ مالک سے باغی ہوکر اس کے ملک اور اس کی رعیت میں خود اپنا حکم چلانے لگے۔اس آخر مرتبے پر جو بندہ پہنچ جائے،اسی کا نام طاغوت ہے اور کوئی شخص صحیح معنوں میں اللہ کا مومن نہیں ہوسکتا ،جب تک کہ وہ اس طاغوت کا منکر نہ ہو۔(تفہیم القرآن)

- طاغوت کا مفہوم:۔ طاغوت ہر وہ باطل قوت ہے جو اللہ کے مقابلہ میں اپنا حکم دوسرے سے منوائے یا لوگ اللہ کے مقابلہ میں اس کے احکام تسلیم کرنے لگیں خواہ وہ کوئی مخصوص شخص ہو یا ادارہ ہو اور ظاہر ہے یہ مقتدر قسم کے لوگ ہی ہوسکتے ہیں۔خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیاسی ہوں۔مثال کے طورپر آج کل جتنی قومی ،لسانی یا علاقائی تحریکیں چل رہی ہیں ۔یہ سب اسلام کی روسے ناجائز ہیں اب جو شخص یا ادارہ ایسی تحریکوں کو چلائے گا وہ طاغوت ہے ۔اسی طرح شیطان بھی طاغوت ہے اور ایسے پیر فقیر بھی جو خود بھی معصیت کے مرتکب ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی ایسی  ہی تلقین کرتے ہیں ۔اسی طرح ہر انسان کا اپنا نفس بھی طاغوت ہوسکتاہے۔جبکہ وہ اللہ کی فرمانبرداری سے انحراف کررہاہو۔(تیسیر القرآن)

- آیت کے اس ٹکڑے سے ایک بہت بڑی اصل ہاتھ آگئی ،اس کے بعد لوگوں کو جبریہ مسلمان بنانے کی گنجائش نہ رہی۔۔۔جزیہ کو کم فہموں نے اسلام میں جبر کی اصل سمجھا ہےحالانکہ اگر ذرا غور کریں تو معلوم ہوجائے کہ جزیہ کی مشروعیت عین اس کے برعکس خود اس کی دلیل ہے کہ مقصود اصلی قانون اسلام و حکومت اسلام کو غالب رکھنا ہے نہ کہ فرداً فرداً ہر کافر کو بہ جبر مسلم بنانا، مفسر تھانویؒ نے کہا ہے کہ اکراہ کی نفی سے مقصود اکراہ فی نفسہ کی نفی ہے ،اس لئے کہ اگر مرتد پر یا کافر حربی پر بوجہ خفائے دلیل کے اکراہ کیا جائے جیسا شریعت میں حکم ہے تو یہ نفی اکراہ فی نفسہ کے معارض نہیں اور یہ اکراہ بھی صورتِ دین پر ہوگا نہ کہ حقیقت ِ دین پر،کیونکہ قلب پر اطلاع کا کوئی یقینی طریق نہیں اور اس نفی اکراہ سے نہی عن الاکراہ بھی لازم آگئی،اس لئے بعض نے نہی کے ساتھ اس کی تفسیر کی ہے یعنی دین میں اکراہ مت کرو۔۔۔۔- یعنی اللہ کو ظاہر وباطن ،کلی و جزی ہرقسم کا علم و اطلاع ہے۔اللہ کی باخبری و ہمہ علمی مسلمانوں کو ایک معمولی اور موٹی سی بات معلوم ہوتی ہے،لیکن جاہلی قوموں میں ایک دو نہیں کثرت سے ایسی ہیں جو حق تعالیٰ کی صفتِ علم میں بھی شبہ کرچکی ہیں ،یہاں تک کہ بعض جاہلی فلاسفہ یہ بھی کہہ گذرے ہیں کہ خدا کو علم صرف کلیات کا ہے ،جزئیات کا نہیں ہے،کلام مجید کی اس قسم کی آیتوں کی پوری قدر جب ہی ہوتی ہے ،جب دنیا کی جاہلی قوموں کے عقائد باطلہ پر نظر ہو۔(تفسیر ماجدی)

257۔ شرک کی قسمیں: ۔ شرک فی الربوبیت۔ایسا شرک عموماًکوئی بھی نہیں کرتا۔ مشرکین مکہ ہوں یا نمرود ہو یا فرعون ہوکسی سے بھی پوچھا جائے کہ یہ آسمان و زمین کس نے بنائے ۔زمین سے پیداوار کون اگاتاہے۔کائنات کو کس نے پیدا کیا اور شمس و قمر کا نظام چلانے والا کون ہے تو سب یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہے۔البتہ ربوبیت کے منکر ضرور موجود رہے ہیں یعنی دہریہ قسم کے لوگ یا فلکیات کے ماہرین جو ساری کائنات کو مادہ کی بدلی ہوئی شکلیں اور ارتقائی پیداوار کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ (تیسیر القرآن)

- دوسری قسم شرک فی الصفات ہے۔ آگے اس کی پھر دوقسمیں ہیں ۔ایک وہ جس کا تعلق مافوق الفطری اسباب سے ہوتاہے۔مثلاً دعائیں سننا اور انہیں قبول کرنا ،حاجت روائی اور مشکل کشائی کسی کے رزق میں تنگی یا فراخی پیدا کرنا ،بارش برسانا،کسی کو اولاد دینا وغیرہ وغیرہ ایسا شرک عام پایاجاتاہے۔مشرکین مکہ ہوں یا عراق کے ہوں یا مصر کے ہوں یا ہندوستان کے ،انہوں نے ایسے کاموں کیلئے لاتعداد دیوی  دیوتا بنارکھے تھے اور مندرجہ بالا کام انہی کے سپرد تھے اور ان کے بتوں اور مجسموں کی پوجا کی جاْتی تھی ۔ اس قسم کا شرک ہم مسلمانوں میں بھی عام پایا جاتاہے۔ فرق صرف یہ ہے ہم نے اپنے امور پیروں اور فقیروں اور بزعم خود اولیاء اللہ کے سپرد کررکھے ہیں خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ ہوچکے ہوں۔ (تیسیر القرآن)

- جمہوریت میں شرک  کی کون سی قسم پائی جاتی ہے؟ شرک کی تیسری قسم وہ ہے جس کا تعلق شرک فی الصفات کی دوسری قسم سے ہے اور وہ فطری اسباب سے ہوتاہے۔بالفاظ دیگر طاغوت یا طواغیت سے ہوتاہے جس کا ذکر پچھلی آیت میں آیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اپنی حکمرانی تسلیم کرواتے ہیں ۔آج کی زبان میں اسے اقتدار اعلیٰ کہتے ہیں ۔ نمرود بھی اس قسم کا خدا تھا  اور فرعون بھی اور ان جیسے اور بھی کئی خدا ئی کے دعوے کرچکے اور کررہے ہیں۔پھر اقتدار اعلیٰ کی بھی دوقسمیں ہیں قانونی اقتدار اعلیٰ اور سیاسی اقتدار اعلیٰ دونوں قسم کا یہ اقتدار اعلیٰ ایسے حکمرانوں کے پاس ہی ہوتاہےایسے لوگوں کا ہر لفظ قانون ہوتاہے اور ان کے حکم کے آگے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ہوتی او ر ایسے ممالک جہاں آج کل جمہوریت رائج ہے وہاں بھی اکثر شرک کی یہ قسم پائی جاتی ہے کیونکہ ان ملکوں میں سیاسی اقتدار اعلیٰ تو عوام کے پاس ہوتاہے یعنی طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں ۔وہی جسے چاہیں اپنی رائے سے نمائندہ یا حکمران بنادیں اور قانونی اقتدار اعلیٰ اسمبلی یا پارلیمنٹ کے پاس ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)

- کفر وظلمات کی قسمیں بے شمار ہیں اس لئے ظلمات کو صیغۂ جمع میں لائے ،انواع ِ کفر و اسبابِ کفر بہت زائد ہیں، جیساکہ دولفظوں کے درمیان منحنی یا ٹیڑھے حط بے شمار ہوسکتے ہیں ،لیکن سیدھا خط ایک ہی ہوسکتاہے،راہ راست ایک ہی ہے،اس لئے النور قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی آیا ہے صیغۂ واحد ہی میں آیا ہے۔(تفسیر ماجدی)


پینتیسواں رکوع

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ   258 بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
 اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ  259 یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاقا"گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
 وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ 260 اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن (میں دیکھنا) اس لئے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔

تفسیر آیات

260-258تین واقعات ۔پہلاواقعہ جب مددگار طاغوت ہوں تو وہ روشنی سے تاریکیوں میں لے جاتے ہیں،دوسرے دوواقعات نور کی طرف رہنمائی کرنے والے ۔ (تفہیم القرآن)

۔ قرآن مجید کا عام اسلوبِ بیان یہ ہے کہ وہ پہلے ہر مسٗلے سے متعلق  عقلی و فطری دلائل پیش کرتا ہے پھر تاریخی اور واقعاتی مثالوں سے اس کو مدلل اور  دلنشیں بناتا ہے۔(تدبرِ قرآن)

258- پہلی آیت میں اہل ایمان و اہل کفر اور ان کے نور ہدایت اور ظلمت کفر کا ذکر تھا اب اس کی تائید میں چند نظائر بیان فرماتے ہیں۔ نظیر اول میں نمرود بادشاہ کا ذکر ہے وہ اپنے آپ کو سلطنت کے غرور سے سجدہ کرواتا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کے سامنے آئے تو سجدہ نہ کیا نمرود نے دریافت کیا تو فرمایا کہ میں اپنے رب کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتا اس نے کہا رب تو میں ہوں، انہوں نے جواب دیا کہ میں حاکم کو رب نہیں کہتا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ نمرود نے دو قیدی منگا کر بےقصور کو مار ڈالا اور قصور وار کو چھوڑ دیا اور کہا کہ دیکھا میں جس کو چاہوں مارتا ہوں جس کو چاہوں نہیں مارتا، اس پر حضرت ابراہیم نے آفتاب کی دلیل پیش فرما کر اس مغرور احمق کو لاجواب کیا اور اس کو ہدایت نہ ہوئی یعنی لاجواب ہو کر بھی ارشاد ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان نہ لایا۔ یا یوں کہو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری بات کا کچھ جواب نہ دے سکا حالانکہ جیسا جواب پہلے ارشاد کا دیا تھا ویسا جواب دینے کی یہاں بھی گنجائش تھی۔ (تفسیر عثمانی)

- فرعون مصر کے،نمرود عراق کے بادشاہ۔(بیان القرآن)

- بعضوں کو یہ شبہ ہوا کہ اس کو یہ کہنے کی گنجائش تھی کہ اگر خدا موجود ہے وہی مغرب سے نکالے دفع اس شبہ کا یہ ہے کہ اس کے قلب میں بلا اختیار یہ بات پڑگئی کہ خدا ضرور ہے اور یہ مشرق سے نکالنا اسی کا فعل ہے اور وہ مغرب سے بھی نکال سکتا ہے اور یہ شخص پیغمبر ہے اس کے کہنے سے ضرور ایسا ہوگا اور ایسا ہونے سے انقلاب عظیم عالم میں پیدا ہوگا کہیں اور لینے کے دینے نہ پڑجائیں مثلا لوگ اس معجزے کو دیکھ کر مجھ سے منحرف ہو کر ان کی راہ پر ہولیں ذرا سی حجت میں سلطنت جاتی رہے، یہ جواب تو اس لئے نہ دیا اور دوسرا کوئی جواب تھا نہیں اس لئے حیران رہ گیا (بیان القرآن((معارف القرآن)

۔لطیف ترین طنز:حجت ابراہیمیؑ کا یہ وار ایسا بھرپور تھا کہ وہ ہکا بکا رہ گیا۔یہاں بلاغت کا یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے خاص طورپر سورج کی تسخیر کا ذکر فرمایا جس کو نمرود کی نظر میں معبود اعظم کی حیثیت حاصل تھی اور وہ اپنے آپ کو اسی معبود اعظم کا مظہر بنائے ہوئے بیٹھا تھا۔بہترین استدلال اور لطیف ترین طنز کی یہ ایک نہایت خوب صورت مثال ہے۔ (تدبر قرآن)

- الم تر الی۔عربی ادب میں یہ اسلوب بیان حیرت و استعجاب کے موقع کیلئے ہے،اور وہ بھی پہلو ئے ذم لئے ہوئے ،جب کبھی کسی کے کسی حیرت انگیز نقص یا عیب کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتاہے،تو اسے شروع اس طریقہ پر کرتے ہیں جیسے اردو میں کہتے ہیں کہ "تم نے فلاں کی حرکت دیکھی؟"۔۔۔یہ بحث و مناظرہ کرنے والا کون تھا؟ ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کا کوئی معاصر بادشاہ تھا، یہ تصریحات تو قرآن مجید بلکہ اس آیت کے اندر موجود ہیں،مفسرین نے اس موقع پر نمرود کا نام لیا ہے۔۔۔بہرحال قابلِ لحاظ لفظ یہاں رب ہے گفتگو"رب" کے بارے میں تھی "الٰہ" کے بارے میں نہ تھی،مسئلہ ربوبیت میں تھی،باب الوہیت میں نہ تھی۔ ۔۔۔جوزیفس ،یہود کا مورخ قدیم اپنی تاریخ آثار یہود میں لکھتا ہے:"وہ لوگوں کی خوشحالی کو خداکی جانب نسبت دینے سے روکنے لگا ،گویا کہ وہ خود قادر علی الاطلاق ہے،وہ کہتاتھا کہ اگر اب کی خدانے طوفانِ نوح کی طرح دنیا کو ڈبویا تو میں اس سے انتقام لوں گا"(باب اول4: 2)۔۔۔نمرود سورج دیوتاکا اوتار تھا،اور سورج کے خدا ئے اعظم ہونے کا قائل،اس کے عقیدہ کے ابطال و تردید میں سورج ہی کو مثال میں پیش کرنا اُس پر بہترین گرفت تھی۔(تفسیر ماجدی)

259۔یہ سوال انکار کے جذبے سے نہیں بلکہ جستجوئے حقیقت کے جوش سے ابھرتاہے اور خاص طورپر ان مواقع پر زیادہ زورسے ابھرتاہے جب سامنے کوئی ایسا منظرآجائے جو باطن کو جھنجھوڑدینے والا ہو۔یہ حالت ایمان کے منافی نہیں بلکہ اس ایمان کے مقتضیات میں سے ہے جس کی بنیاد عقل و بصیرت پر ہو۔یہ سلوک باطن کی ایک ریاضت ہے جس سے ہر طالبِ حقیقت کو گزرنا پڑتاہے۔(تدبر قرآن)

-1  - وہ شخص حضرت عزیر (علیہ السلام) پیغمبر تھے اور تمام تورات ان کو یاد تھی۔ بخت نصر کافر بادشاہ تھا اس نے بیت المقدس کو ویران کیا اور بنی اسرائیل سے بہت لوگوں کو قید کر کے لے گیا ان میں حضرت عزیر (علیہ السلام) بھی تھے جب قید سے چھوٹ آئے تب حضرت عزیر نے راہ میں ایک شہر دیکھا ویران اس کی عمارت گری ہوئی دیکھ کر اپنے جی میں کہا کہ یہاں کے ساکن سب مرگئے کیونکر حق تعالیٰ ان کو جلاوے اور یہ شہر پھر آباد ہو۔ اسی جگہ ان کی روح قبض ہوئی اور ان کی سواری کا گدھا بھی مرگیا سو برس تک اسی حال میں رہے اور کسی نے نہ ان کو وہاں آکر دیکھا نہ ان کی خبر ہوئی اس مدت میں بخت نصر بھی مرگیا اور کسی بادشاہ نے اس مدت میں بیت المقدس کو آباد کیا اور اس شہر کو بھی خوب آباد کیا۔ پھر سو برس کے بعد حضرت عزیر زندہ کئے گئے ان کا کھانا اور پینا اسی طرح پاس دھرا ہوا تھا ان کا گدھا جو مرچکا تھا اور اس کی بوسیدہ ہڈیاں اپنی حالت پر دھری تھیں وہ انکے روبرو زندہ کیا گیا اور اس سو برس میں بنی اسرائیل قید سے خلاص ہو کر شہر میں آباد بھی ہوچکے تھے حضرت عزیر نے زندہ ہو کر آباد ہی دیکھا۔ 2  ۔جب حضرت عزیر مرے تھے اس وقت کچھ دن چڑھا تھا اور جب زندہ ہوئے تو ابھی شام نہ ہوئی تھی تو یہ سمجھے کہ اگر میں یہاں کل آیا تھا تو ایک دن ہوا اور اگر آج ہی آیا تھا تو دن سے بھی کم رہا۔ 3-  حضرت عزیر (علیہ السلام) کے سامنے وہ سب ہڈیاں موافق ترکیب بدن کے جمع کی گئیں پھر ان پر گوشت پھیلایا گیا اور چمڑا درست ہوا پھر خدا کی قدرت سے ایکبارگی اس میں جان آئی اور اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی بولی بولا۔ ۔۔4  ۔حضرت عزیر (علیہ السلام) نے اس تمام کیفیت کو ملاحظہ کرنے کے بعد فرمایا کہ مجھ کو خوب یقین ہوا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے یعنی میں جو جانتا تھا کہ مردہ کو جلانا خدا تعالیٰ کو آسان ہے سو اب اپنی آنکھ سے دیکھ لیا یہ مطلب نہیں کہ پہلے یقین میں کچھ کمی تھی ہاں مشاہدہ نہ ہوا تھا پھر حضرت عزیر یہاں سے اٹھ کر بیت المقدس میں پہنچے کسی نے ان کو نہ پہچانا کیونکہ یہ تو جوان رہے اور انکے آگے کے بچے بوڑھے ہوگئے جب انہوں نے تورات حفظ سنائی تب لوگوں کو ان کا یقین آیا بخت نصر بنی اسرائیل کی تمام کتابیں جلا گیا تھا جن میں تورات بھی تھی۔۔(تفسیر عثمانی)

- یعنی اس کی عمارتیں بالکل منہدم و مسمار ہوچکی تھیں۔۔۔خاویۃ علی عروشہا عربی کا ایک خاص محاورہ ہے،مراد یہ ہے کہ بستی بالکل تباہ و برباد ہوچکی تھی،پہلے چھتیں گریں پھر چھتوں کے اوپر دیواریں۔۔۔انّٰی یہاں کیف کے مرادف اور کس طرح یا کس کیفیت کے ساتھ کے معنیٰ میں ہے۔۔۔آخرت میں حشرِ اجساد پر یقین ،نبی کیا معنی ہر مومن کو ہوتاہے،سوال سے نبی کا یہ مطلب تو ہوہی نہیں سکتاکہ اس کے نفسِ وقوع میں شبہ ظاہر کیا جائے،وہ صرف اس کی نوعیت جاننے اور کیفیت سمجھنے کے آرزومند تھے۔۔۔یہ تو ہم نے جس چیز کا باربار اور متواتر مشاہدہ کیا اسے عادت الٰہی میں داخل کردیا، اور جس چیز کو ایسا نہ پایا اُسے خلاف عادت اور خارق عادت سے تعبیر کرنے لگے۔لفظ "معجزہ" تو خود ہمارے جہل کا پردہ پوش ہے،حق تعالیٰ کیلئے کون سی چیز معجز ہوسکتی ہے؟ غرض کوئی مذہبی شخص کسی بڑے سے بڑے معجزہ کے نفس امکان میں تو زبان کھول ہی نہیں سکتا،گفتگو جو کچھ بھی چلے گی رویت و روایت معتبر کے لحاظ سے چلے گی ،اور یہ بحث ظاہر ہے کہ تمام تر نقلی اور تاریخی ہوگی نہ کہ عقلی،وقوع معجزہ کے راوی اگر معتبر اور شاہد عینی ہیں تو وہ خارق عادت بھی ہمارے لئے ایسا ہی قابل یقین ہوگا جیساکہ روزمرہ کے عام واقعات ہوتے ہیں،اور پھر جس معجزہ کے راوی خود حق تعالیٰ یا نبی معصوم ہو اس کے باب میں تو ظاہر اور بالکل ظاہر ہے کہ آگے کوئی گفتگو چل ہی نہیں سکتی ،کس وقت کس خارقِ عادت کے ظہور کی کیا کیا حکمتیں اور مصلحتیں ہوتی ہیں ،یہ حال بجز حکیم مطلق کے اور کون جان سکتاہے۔(تفسیر ماجدی)

260۔ کیف سے سوال اس چیز کی حالت دریافت کرنے کےلئے کیاجاتاہے جس کے موجود ہونے کا یقین ہو۔(تفسیرقرطبی،ضیاء القرآن)

- اس کے متعلق یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اطمینان کے بھی بہت سے درجات ہیں ایک وہ اطمینان ہے جو اولیاء اللہ اور صدیقین کو حاصل ہوتا ہے اور ایک اس سے اعلیٰ مقام اطمینان ہے جو عام انبیاء کو حاصل ہوتا ہے اور ایک اس سے بھی مافوق ہے جو خاص خاص کو بصورت مشاہدہ عطا فرمایا جاتا ہے۔(معارف القرآن)

-  چارمردہ پرندوں کی  دوبارہ    زندگی :۔  اس آیت کی جزئیات میں مفسرین نے بہت اختلاف کیا ہے۔ مثلاً یہ کہ چاروں پرندے ایک ہی جنس کے تھے۔ یا الگ الگ جنسوں کے جزء سے مراد  ان  کو ذبح کرکے اور قیمہ بناکر چاروں پرندوں کے گوشت کوملادینا ہے یا فقط ٹکڑے کردینا ہی کافی ہے یا ملادینا بھی ضروری ہے۔یہ پہاڑ بھی آیا چارہی تھے جن پر ایک ایک حصہ رکھا گیا یا کم وبیش تھے جن پر بانٹ کرہر حصہ رکھاگیا ۔کیا ان پرندوں کے سر سیدناابراہیمؑ نے ان حصوں میں ہی ملادیے تھے یا اپنے ہی پاس رکھے تھے ۔یہ سب تفصیلات مقصد کے لحاظ سے بے معنی ہیں۔مقصد تو صرف یہ تھا کہ موت کے بعدمردہ جسم کی کوئی بھی پیچیدہ سے پیچیدہ  صورت بن جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ ہر طرح کے مردہ کو زندہ کرکے دکھادے۔(تیسیر القرآن)

- کیف ۔یعنی کسی خاص کیفیت کے ساتھ کسی متعین طریقہ پر۔۔۔یہ وقوع تو انہیں پوری طرح مسلم تھا، سوال اس کی صرف کیفیت کے بارے میں کررہے تھے۔۔۔صوفیہ اہل لطائف نے اس قصۂ ابراہیمی سے ذیل کے نکات پیدا کئے ہیں:(i)اللہ تعالیٰ سے کشفِ مقامات کا سوال موجب ِ قبول ہے(ii)مقبولین کو جو مشاہدات ہوتے ہیں ان سے مراتبِ عرفان و کمالات ِ ایقان میں اور ترقی ہوتی ہے(iii)اور پھر ان سے ان کے تقرب و اعزاز حضور میں اضافہ ہوتاہے۔۔۔ان پرندوں کے نام بھی تفسیروں میں نقل ہوئے ہیں لیکن اول تو سند کچھ قوی نہیں اور پھر یہ تعیین ہی سرے سے بے ضرورت ہے ۔البتہ اہل لطائف نے  ان چار پرندوں سے نکتے خوب پیدا کئے ہیں ،چنانچہ بعض صوفیہ نے کہا ہے کہ ان سے اشارہ انسان کے ان چار قویٰ کی جانب ہے جو مشاہدۂ حق اور حیاتِ حقیقی سے مانع ہوتے رہتے ہیں،اور وہ چار قوتیں یہ متعین کی ہیں۔(1)خود بینی و خودستائی(حب جاہ)(2)افراطِ شہوت(3)حرص و طمع (حب مال)(4)طول امل یا محبت دنیا۔- علی کل جبل۔ یعنی جو پہاڑیاں آپ کے آس پاس ہیں، ان پر یہ مراد نہیں کہ روئے زمین پرجتنی بھی پہاڑیاں ہوں سب کی تلاش کرکے سب پر رکھئے۔۔۔منھن جزءً یعنی کہ ملے جلے ہوئے گوشت کا ایک ایک حصہ۔(تفسیر ماجدی)


چھتیسواں رکوع

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ  261 جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
 اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ 262 جو لوگ اپنا مال خدا کے رستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں۔ ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس (تیار) ہے۔ اور (قیامت کے روز) نہ ان کو کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
 قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ  263 جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپروا اور بردبار ہے۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ  264 مومنو! اپنے صدقات (وخیرات) احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
 وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ  265 اور جو لوگ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے خلوص نیت سے اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو (جب) اس پر مینہ پڑے تو دگنا پھل لائے۔ اور اگر مینہ نہ بھی پڑے تو خیر پھوار ہی سہی اور خدا تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ ۠   266 بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لئے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے ننھے بچے بھی ہوں۔ تو (ناگہاں) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل کر (راکھ کا ڈھیر ہو) جائے۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)۔

تفسیر آیات

تین اہم رکوع(37،36۔انفاق فی سبیل اللہ ،  38 : سود)

261۔مال کا خرچ خواہ اپنی ضروریات کی تکمیل میں ہو ،یا اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنے میں یا اپنے اعزہ و اقربا کی خبرگیری میں،یا محتاجوں کی اعانت میں ،یا رفاہِ عام کے کاموں میں یا اشاعت ِ دین اور جہاد کے مقاصد میں،بہرحال اگر وہ قانونِ الٰہی کے مطابق ہو اور خالص خدا کی رضا کےلئے ہو تو اس کا شمار اللہ کی راہ میں (فی سبیل اللہ ) ہی ہوگا۔(تفہیم القرآن)

262۔ فقہاء نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ جن افعال و اعمال کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے کلام نہیں کرے گا یا نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا،یا پاک نہیں کرے گا۔ توایسے افعال کبیرہ گناہ ہوتے ہیں ۔گویا صدقہ کرنے کے بعد احسان جتلانے والے کا صرف صدقہ ہی ضائع نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک کبیرہ گناہ کا بوجھ بھی اپنے سرپرلادلیتاہے۔(تیسیر القرآن)

263- مغفرۃ۔ یعنی سائل یا حاجت مند کی بات کو اس وقت ٹال جانا جب وہ سختی یا    بدتہذیبی سے پیش آنے لگے۔(تفسیر ماجدی)

۔ دین کا مقصد تو یہ ہے تمہاری سیرت سنورجائے ۔اگرچند ٹکے دیکر تم میں نخوت پیدا ہوگئی ہے تو اس طرح تو سیرت اور بگڑگئی۔حضورؐنے فرمایا کہ پاکیزہ بات بھی صدقہ ہے اور اسلام میں یہ بھی بڑی نیکی ہےکہ تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملاقات کرے۔(ضیاء القرآن)

264۔ ریاکار کا انجام۔ریا کار کی چونکہ نیت ہی درست نہیں ہوتی اور نیت ہی اصل بیج ہے۔ لہذا ایسا بیج بار آور نہیں ہوسکتا۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی۔ جیسے ایک صاف چکنا سا پتھر ہو جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو، اس میں وہ اپنا بیج ڈالتا ہے اور جب بارش ہوتی ہے تو پانی مٹی کو بھی بہا لے جاتا ہے اور بیج بھی اس مٹی کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔ لہذا اب پیداوار کیا ہوسکتی ہے ؟ ریاکار کا دراصل اللہ پر اور روز آخرت پر پوری طرح ایمان ہی نہیں ہوتا وہ تو لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ہی عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر وثواب پانے کی اس کی نیت ہی نہیں ہوتی۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن پہلا آدمی جس کا فیصلہ کیا جائے گا وہ ایک شہید ہوگا۔ اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نعمتیں جتلائے گا جن کا وہ اعتراف کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو پھر تم نے کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا : میں تیری راہ میں لڑتا رہا حتیٰ کہ شہید ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جھوٹ کہتے ہو۔ تم تو اس لیے لڑتے رہے کہ لوگ تجھے بہادر کہیں اور وہ دنیا میں کہلوا چکے۔ پھر اللہ فرشتوں کو حکم دے گا جو اسے گھسیٹتے ہوئے جہنم میں جا پھینکیں گے۔ پھر ایک اور شخص کو لایا جائے گا جس نے دین کا علم سیکھا اور لوگوں کو سکھلایا اور قرآن پڑھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمتیں جتلائے گا جن کا وہ اعتراف کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے پوچھے گا : پھر تو نے کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا۔ میں نے خود علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور قرآن پڑھتا پڑھاتا رہا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جھوٹ کہتے ہو۔ تم نے تو علم اس لیے سیکھا تھا کہ لوگ تجھے عالم کہیں اور قرآن اس لیے پڑھتا تھا کہ لوگ تجھے قاری کہیں اور تجھے دنیا میں عالم اور قاری کہا جا چکا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا جو اسے گھسیٹتے ہوئے دوزخ میں جا پھینکیں گے۔ پھر ایک اور شخص کو لایا جائے گا جسے اللہ نے ہر قسم کے اموال سے نوازا تھا۔ اللہ اسے اپنی نعمتیں جتلائے گا جن کا وہ اعتراف کرے گا۔ پھر اللہ اس سے پوچھے گا : پھر تو نے کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا۔ میں نے ہر اس راہ میں مال خرچ کیا جس میں تو پسند کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جھوٹ کہتے ہو تم تو اس لیے خرچ کرتے تھے کہ لوگ تمہیں سخی کہیں اور وہ تم کو دنیا میں کہا جا چکا پھر فرشتوں کو حکم ہوگا جو اسے گھسیٹتے ہوئے جہنم میں جا پھینکیں گے۔ (مسلم، کتاب الامارۃ ( ۔(تیسیر القرآن)

265۔ زور کی بارش سے مراد وہ خیرات ہے جو انتہائی جذبۂ خیر اور کمال درجہ کی نیک نیتی کے ساتھ کی جائے اور ہلکی پھوار سے مراد ایسی خیرات ہے جس کے اندر جذبۂ خیر کی شدت نہ ہو۔(تفہیم القرآن)

۔ یعنی وہ اپنے مال خدا کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ اس مقصد کے لئے خرچ کرتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے نفس کی تربیت کریں کہ وہ دین کے احکام کی تعمیل میں پختہ ہوجائے۔تربیت کے نقطۂ نظر سے اعلیٰ انفاق وہ ہے جو قحط کے زمانہ میں ہو،جو غربت کے باوجود ہو، جو اپنی ذاتی ضروریات کو نظر انداز کرکے ہو اور محبوب مال میں سے ہو۔ (ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحی) 

266۔عربوں کے ہاں اچھے باغ کا تصور یہ ہے کہ اس کے کنارے کنارے کھجوروں کے درخت ہوں ،بیچ میں انگور کی بیلیں ہوں،مناسب مواقع سے مختلف فصلوں کی کاشت کےلئے قطعات ہوں، باغ بلندی پر ہو،اس کے نیچے نہر بہہ رہی ہو جس کی نالیاں باغ کے اندر دوڑ ادی گئی ہوں۔

- اِعصار کے معنی گردباداور بگولے کے ہیں اس کے ساتھ جس آگ کا ذکر ہے وہ ہماری آگ نہیں بلکہ اس سے مراد سموم اور لوہے جوبعض اوقات گردباد کے اندر پائی جاتی ہے اور اس کا اثر یہ ہوتاہے کہ جو باغ اس کی زد میں آجاتاہے وہ بالکل جھلس کے رہ جاتاہے۔

- فرمایا کہ یہی حال آخرت میں ان لوگوں کا ہوگا جو اپنےا نفاق کو برباد کرنے والی آفتوں سے نہیں بچاتے۔ان کے خرمن کےلئے بجلی خود ان کی آستینوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہے اور وہ ٹھیک اس وقت ظاہر ہوگی جب ان کے لئے کھوکرپھر پالینے کا کوئی امکان باقی نہ رہے گا۔(تدبر قرآن)

- نیک اعمال کو برباد کرلینے والے کی   مثال  : ۔ ایک دفعہ سیدنا عمرؓ نے صحابہؓ سے اس آیت کا مطلب پوچھا :صحابہؓ نے کہا واللہ اعلم۔ سیدنا عمرؓ نے غصہ سے کہا (یہ کیا بات ہوئی)صاف کہو کہ ہمیں معلوم ہے یا نہیں معلوم۔اس وقت ابن عباسؓ ؓکہنے لگے امیر المومنین! میرے دل میں ایک بات آئی ہے ۔آپ نے کہا بھتیجے بیان کرو اور اپنے آپ کو چھوٹا نہ سمجھو۔ابن عباسؓ کہنے لگے اللہ نے یہ عمل کی مثال بیان کی ہے ۔سیدنا عمرؓ نے پوچھا کون سے عمل کی؟ ابن عباسؓ اس کا کچھ جواب نہ دے سکے تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا یہ ایک مال دار شخص کی مثال ہے جو اللہ کی اطاعت میں عمل کرتارہتاہے ۔پھر اللہ شیطان کو اس پر غالب کردیتاہے وہ گناہوں میں مصروف ہوجاتاہے اور اس کے نیک اعمال سب کے سب فنا ہوجاتے ہیں(بخاری)(تیسیرالقرآن)

۔انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ و خیرات کے اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کی چھ شرائط:

اول اس مال کا حلال ہونا جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے،دوسرے طریق سنت کے مطابق خرچ کرنا،تیسرے صحیح مصرف میں خرچ کرناچوتھے خیرات دے کر احسان نہ جتلانا،پانچویں ایسا کوئی معاملہ نہ کرنا جس سے ان لوگوں کی تحقیر ہوجن کو یہ مال دیا گیا ہے،چھٹے جو کچھ خرچ کیا جائے اخلاص نیت کے ساتھ خالص اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کیلئے ہو،نام و نمود کیلئے نہ ہودوسری شرط یعنی طریقِ سنت کے مطابق خرچ کرنا ،اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے وقت اس کا لحاظ رہے کہ کسی حقدار کی حق تلفی نہ ہو، اپنے عیال کےضروری اخراجات بغیر ان کی رضامندی کے بند یا کم کرکے صدقہ و خیرات کرنا کوئی امر ثواب نہیں، حاجتمندوارثوں کو محروم کرکے سارے مال کو صدقہ و خیرات کرنا تعلیمِ سنت کےخلاف ہے،پھر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ہزاروں صورتیں ہیں۔طریق سنت یہ ہے کہ مصرف کی اہمیت اور ضرورت کی شدت کا لحاظ کرکے مصرف کا انتخاب کیا جائے،عام طورپر خرچ کرنے والے اس کی رعایت نہیں کرتے۔تیسری شرط کا حاصل یہ ہے کہ ثواب ہونے کیلئے صرف اتنی بات کافی نہیں کہ اپنے خیال میں کسی کام میں نیک سمجھ کر نیک نیتی سے اس میں صرف کردے،بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مصرف شریعت کی روسے جائز و مستحسن بھی ہو،کوئی شخص ناجائز کھیل تماشوں کیلئے اپنی جائداد وقف کردے تو وہ بجائے ثواب کے عذاب کا مستحق ہوگا،یہی حال تمام ان کاموں کا ہے جو شریعت کی روسے مستحسن نہیں ہیں۔(معارف القرآن)


سینتیسواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ  267 مومنو! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہوں اور جو چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سےنکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو۔ اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت) آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو۔ اور جان رکھو کہ خدا بےپروا (اور) قابل ستائش ہے۔
اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖ ۙ  268 (اور دیکھنا) شیطان (کا کہنا نہ ماننا وہ) تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کر نے کو کہتا ہے۔ اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے۔ اور خدا بڑی کشائش والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے۔
 یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ 269 وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے۔ اور جس کو دانائی ملی بےشک اس کو بڑی نعمت ملی۔ اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں۔
وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ  270 اور تم (خدا کی راہ میں) جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اس کو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ 271 اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے۔
لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ  272 (اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہی کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا،
 لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ ۠ 273 (اور ہاں تم جو خرچ کرو گے تو) ان حاجتمندوں کے لئے جو خدا کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے (اور مانگنے سے عار رکھتے ہیں) یہاں تک کہ نہ مانگنے کی وجہ سے ناواقف شخص ان کو غنی خیال کرتا ہے اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لو (کہ حاجتمند ہیں اور شرم کے سبب) لوگوں سے (منہ پھوڑ کر اور) لپٹ کر نہیں مانگ سکتے اور تم جو مال خرچ کرو گے کچھ شک نہیں کہ خدا اس کو جانتا ہے۔

تفسیر آیات

267۔ ایک تو یہ کہ اپنی کمائی میں سے وہی مال خرچ کرو جو پاکیزہ طریقہ سے آیا ہو،غلط اور مشتبہ طریقہ سے نہ آیا ہو ،دوسرا یہ کہ مال بجائے خود اچھاہو،بے وقعت اور گھٹیانہ ہو ۔غلط مال سے نہ تو خدا کی خوشنودی حاصل ہوسکتی ہے اور نہ نفس کی تربیت۔(تدبر قرآن)

- ایک حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ ہر فروختنی چیز پر زکوٰۃ ہےخواہ اس کا ذریعہ حصول تجارت ہویا صنعت اور دوسرے یہ کہ جو چیز فروختنی نہ ہو اس پر زکوٰۃ نہیں۔مثلاًدکان کا فرنیچر اور باردانہ یا فیکٹری کی مشینری یا آلات کشاورزی اور ہل چلانے والے بیل وغیرہ۔یعنی ہر وہ چیز جو پیداوار کا ذریعہ بن رہی ہو اس پر زکوٰۃ نہیں اور اس اصل کی تائید ایک دوسری حدیث سے بھی ہوتی ہے جو یہ ہے کہ "لیس فی العوامل صدقہ وفی الابل"(ابوادؤد) (تیسیر القرآن)

-صنعتی اور تجارتی اموال پر زکوٰۃ کا وجوب:۔سیدنا ابوذرؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ اونٹوں میں زکوٰۃ ہے ۔بکریوں میں زکوٰۃ ہے ،گائے میں زکوٰۃ ہےاور تجارتی کپڑے میں زکوٰۃ ہے ۔(دارقطنی) (تیسیر القرآن)

- جائیداد کی خرید و فروخت کا کاروبار:  جولوگ اپنے زائد سرمایہ سے زمینوں کے پلاٹ اور مکان وغیرہ کی تجارتی نظریہ سے خرید و فروخت کرتے رہتے ہیں۔ان کی فروخت کے متعلق کچھ علم نہیں ہوتا۔خواہ تین ماہ بعد بک جائیں ،خواہ دوسال تک بھی نہ بکیں۔ ایسی جائداد جب بھی بک جائے اس وقت ہی اس کی زکوٰۃ نکال دینا چاہیے اور یہ زکوٰۃ قیمت فروخت پر ہوگی اور تجارتی زکوٰۃ ہوگی۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کیلئے کوئی دکان ،مکان، پلاٹ یا گاڑی وغیرہ خریدتاہے تو اس پر زکوٰۃ نہیں۔ (تیسیر القرآن)

- صنعتی پیداوار کی زکوٰۃ: صنعتی پیداوار میں دوباتوں میں زرعی پیداوار سے مماثلت پائی جاتی ہے ۔مثلاً ۔1۔ زمین کی اپنی قیمت اس کی پیداوار کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے اور زکوٰۃ پیداوار پرلگتی ہے زمین کی قیمت پر نہیں ۔اسی طرح فیکڑیوں اور ملوں کی قیمت اس پیدوار کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے جو وہ پیدا کرتی ہیں۔لہذا زکوٰۃ پیداوار پر ہونی چاہئے۔2۔ جس طرح بعض زمینیں سال میں ایک فصل دیتی ہیں۔بعض دو اور بعض اس سے زیادہ اسی طرح بعض کارخانے سال میں ایک دفعہ پیداوار دیتے ہیں۔مثلاً برف اور برقی پنکھوں کے کارخانے وغیرہ بعض دودفعہ جیسے اینٹوں کے بھٹے اور بعض سال بھر چلتے رہتے ہیں۔ایک بات میں صنعتی پیداوار کی مماثلت تجارتی اموال سے ہے جس طرح تجارتی اموال پر لاگت کے مقابلے میں منافع کم ہوتاہے اسی طرح صنعتی اموال کا بھی حال ہے۔جبکہ زرعی پیداوار میں لاگت کم اور پیداوار کی قیمت اس کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ان سب باتوں کو ملحوظ رکھ کر دیانتداری کے ساتھ جو اصل مستنبط ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ صنعتی پیداوار پرزکوٰۃ پیداوار کے منافع پر ہونی چاہئے اور یہ پانچ فیصد یعنی نصف عشر ہونا چاہیے۔خواہ یہ پیداوار سال میں ایک دفعہ ہویا دودفعہ بعض کارخانے سارا سال کام کرتے ہیں ان پر زکوٰۃ تو سال بعد ہوگی مگر اس کی صورت وہی ہوگی یعنی زکوٰۃ پیداوار پر نہیں بلکہ منافع پر ہوگی اور یہ پانچ فیصد ہوگی۔(تیسیر القرآن)

- فقہاء نے من الارض سے یہ نکتہ  بھی نکالاہے کہ زکوٰۃ زمینی پیداوار (زراعت،معدنیات وغیرہ) پر واجب ہوئی ،برخلاف موتی مونگے وغیرہ کے کہ وہ زمین سے نہیں ،سمندر سے نکلتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

268۔ یہ چیز غور طلب ہے کہ قرآن نے بخل کو فحشا (سخت بے حیائی) سے تعبیر کیا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سے بڑھ کر بے حیائی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان خود عیش کررہاہواور کسی غریب بھائی کی امداد کا اسے خیال ہی نہ آتاہو۔(ضیاء القرآن)

- فحشا سے مراد اور انفاق کی راہ میں مزاحمتیں : فحشاء کے معنی کھلی ہوئی بے حیائی اور بدکاری کے ہیں ۔قرآن میں اس سے زنا ،لواطت اور عریانی وغیرہ جیسے کھلے جرائم کو تعبیر کیا گیا ہے۔امر کا لفظ جس طرح حکم دینے کے معنی میں آتاہے اسی طرح مشورہ دینے اور سجھانے کے معنی میں بھی آتاہے۔تحقیق اس کی ہم دوسری جگہ بیان کرآئے ہیں۔۔۔یہ ان مزاحمتوں کی طرف اشارہ ہے جو شیطان اور اس کی ذریات کی طرف سے انفاق کی راہ میں پیش آتی ہیں ۔آدمی جب کسی نیک کام میں خرچ کرنے کا ارادہ کرتاہے تو شیطان اور اس کے ایجنٹ اس کو دوطرح سے اس کے ارادے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک تو مستقبل کے موہوم خطرات سے اس کو ڈراتے ہیں کہ فلاں اور فلاں مشکل کام اس کے آگے پڑے ہیں اس وجہ سے وہ اپنے ہاتھ روکے رکھے،ورنہ سخت دشواریوں میں پھنس جائے گا۔دوسرے اس کو عیاشی ،مے نوشی،سینمابینی اور اسراف و تبذیر کی دوسری لتوں میں پھنساتے ہیں تاکہ کسی اعلیٰ مقصد میں خرچ کرنے کیلئے کوئی گنجائش  اس کے پاس باقی  ہی نہ رہ جائے۔شیطان کا فتنہ بڑاہی سخت و شدید ہے ۔ جو لوگ اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہ اپنی بدمستیوں میں اس طرح ڈوب جاتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے بندوں میں سے کسی کا حق اداکرنے کے قابل رہ ہی نہیں جاتے۔چنانچہ سورۂ بنی اسرائیل میں جہاں انفاق کا حکم دیا ہے وہاں شیطان کے اس ہتھکنڈے سے بچتے رہنے کی خاص طور پر تاکید فرمائی ہے۔ترجمہ"قرابت مند اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دواور اپنے مال کو عیاشیوں میں نہ اڑاؤ،بے شک اس طرح اپنے مال کو اڑانے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑاہی ناشکراہے"۔ بعینہ ٖیہی مضمون اسی طرح کے سیاق و سباق کے ساتھ آل عمران کی آیات 134،135 میں بیان ہواہے۔واللہ یعدکم مغفرۃ منہ وفضلا،واللہ سمیع علیم۔مغفرت ،یہاں "فحشاء" کے مقابل میں ہےاور "فضل کا لفظ فقر کے مقابل میں ہے۔ یعنی شیطان تو تمہیں اللہ کی راہ میں انفاق کے بجائے نفس کی راہ میں فضول خرچی اور عیاشی کی راہ سمجھا تاہے تاکہ تمہیں سیدھے جہنم میں لے جائے لیکن اللہ اپنی راہ میں خرچ کی دعوت دے کر تمہیں مغفرت اور جنت کی طرف بلاتاہے۔اسی طرح شیطان تمہیں فقر کے ہوّے سے ڈراکر تمہارے دل بٹھاتاہے لیکن اللہ تم سے اس انفاق کے عوض میں دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے بے پایاں فضل و انعام کا وعدہ فرماتاہے۔اللہ بڑاسمائی رکھنے والا اور  تمہارے ایک ایک عمل سے واقف ہے۔ نہ اس کے پاس دینے کیلئے کمی ہے اور نہ وہ تمہارے راہ خدامیں دیے ہوئے کسی پیسے دھیلے سے بے خبر ہے۔(تدبر قرآن)

- ظاہر ہے کہ  جو خود اعلٰی درجہ کی صفات سے متصف ہو، وہ برے اوصاف رکھنے والوں کو پسند نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالٰی خود فیاض ہے اور اپنی مخلوق پر ہر آن بخشش و عطا کے دریا بہا  رہا ہے۔ کس طرح ممکن ہے کہ وہ تنگ نظر، کم حوصلہ اور پست اخلاق لوگوں سے محبت کرے۔ (تفہیم القرآن)

269۔ حکمت سے مراد صحیح بصیرت اور صحیح قوتِ فیصلہ ہے(اور یہ کیسے حاصل ہوتی ہے؟ نہایت اعلیٰ علوم ِ حکمت پڑھنا ،سننا،اور ان کا تجزیہ کرنا ،غور و فکر اور تدبرو تفکر کرنا۔کیا قرآن و حدیث سے بہتر کوئی چیز ہے؟۔)۔(تفہیم القرآن)

- لفظ حکمت قرآن کریم میں باربار آیا ہے اور ہر جگہ اس کی تفسیر میں مختلف معانی بیان کئے گئے ہیں۔تفیسر بحر معیط میں اس جگہ تقریباً تیس اقوال مفسرین کے جمع کئے گئے ہیں۔مختصراً اس کے معانی ہیں کسی عمل یا قول کو اس کے تمام اوصاف کے ساتھ مکمل کرنا۔(معارف القرآن)

- الحکمۃ ۔حکمت کی تشریح بہت سی کی گئی ہیں لیکن بہترین اور جامع ترین تشریح یہ ہے کہ وہ امورِ دین میں فہم صحیح کا نام ہے ۔اور دین کی اس فہم صحیح میں بخل سے بیزاری اور صرف میں توازن بھی شامل ہے۔(تفسیر ماجدی)

- انفاق حکمت کے خزانے کی کلید ہے لفظ "حکمت " کی تشریح ہم اسی سورہ کی آیت 151 کے تحت کرچکے ہیں۔یہاں اس کا دہرانا باعثِ طوالت ہوگا۔البتہ اتنی بات یادرکھنی چاہئیے کہ اس کی اصل روح ایمان اور عمل کی وہ پختگی ہے جس کی بنیاد گہری بصیرت پر ہو۔جس کو یہ چیز حاصل ہوتی ہے وہ اپنا خزانہ اس دنیائے فانی میں نہیں جمع کرتا بلکہ اپنے خدا کے پاس جمع کرتا ہے۔وہ شیطان کے ڈراووں سے نہیں ڈرتابلکہ اپنے پروردگار کے وعدوں پر اعتماد کرتاہے اور اس دنیاکے خزف ریزے نہیں جمع کرتا بلکہ ان کے بدلے میں حکمت کے خزانے کا طالب بنتاہے اور یہ حکمت کا خزانہ بہت بڑی چیز ہے۔اتنی بڑی کہ دنیا کا کوئی خزانہ بھی اس کے آگے کوئی وقعت نہیں رکھتا ۔یہ خزانہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتاہے دیتاہے۔یعنی اس کو دیتاہے جو اس خزانے کے پانے کا استحقاق پیدا کرتے ہیں۔اس لیے کہ اللہ کا کوئی چاہنا بھی حکمت سے خالی نہیں ہوسکتا۔چنانچہ اس کی سنت یہ ہے کہ جو اس دنیا ئے   فانی کی لذتوں پر فریفتہ ہونے کی بجائے خداکی مغفرت اور اس کے فضل کے حصول کیلئے اپنے مال لٹاتے ہیں وہ اس کے صلے میں اپنے دل کے خزانے حکمت کے لعل و گہر سے بھرتے ہیں۔آخر میں فرمایا کہ یہ بات ہر ایک کے سمجھنے کی نہیں ہے اس کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو عقل والے ہیں ۔یعنی جن کی عقل ، حکمت کے نور سے منور ہے۔اس دنیا کی نقد لذتوں کو چھوڑ کر ایک نادیدہ عالم کی کامرانیوں کیلئے اپنی کمائی لٹانا انہی لوگوں کا حوصلہ ہوسکتاہے جن کو حکمت سے بہرہ وافر ملاہو۔(تدبرقرآن)

- ظاہر کی بجائے باطن کو دیکھنا ،دور اندیشی اور حقائق تک پہنچنا اصل حکمت ہے۔

ع۔ اے اہلِ نظر  ذوق ِ نظر خوب ہے لیکن جوشے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا     (بیان القرآن)

271۔ جو صدقہ فرض ہو اس کو علانیہ دینا افضل ہے اور جو صدقہ ماسوافرض ہو اس کا اخفا زیادہ بہتر ہے یہی اصول تمام اعمال کےلئے ہے کہ فرائض علانیہ انجام دینا فضیلت رکھتاہے اور نوافل کو چھپاکر اداکرنا اولیٰ ہے۔(تفہیم القرآن)

- اور کیا حکمت آموز قول ہے جو حضرت عباس ؓسے منقول ہے کہ نیکی تین خصلتوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی ۔نیکی کرنے میں جلدی کرے، اسے حقیر سمجھے اور پوشیدہ رکھے۔جب تم نے نیکی کرنے میں جلدی کی تو اسے خوشگوار بنایا جب اسے حقیر سمجھا تو اس کی قدر کو بڑھایا اور جب اسے پوشیدہ رکھا تواسے مکمل کردیا۔(ضیاء القرآن)

272۔ انصار کے کئی رشتہ دار اسلام نہیں لائے تھےاور انصار ان کی امداد کرنا چاہتے  تھےلیکن اس خیال سے نہ کرتے کہ وہ مسلمان نہیں۔ اور خود حضور کریمؐ نے بھی مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ مسلمان فقراء   کو ہی اپنے صدقات دیا  کریں۔ اس آیتِ کریمہ سے حکم ملا  کہ نہیں ان کے کفر کی وجہ سے ان کو بھوکا مرتے دیکھتے رہنا آپ کی رحمت کے خلاف ہے۔ چنانچہ اس کے بعد مسلمان غیر مسلموں کو بھی صدقات دینے لگے۔ لیکن خیال رہے کہ  یہ نفلی صدقات و خیرات کا حکم ہے۔ فرض اور واجب  صدقات مثلاً      زکوٰۃ   اور صدقہ  فطر  صرف مسلمان  فقراء  کو ہی دیئے جا سکتے ہیں۔      (ضیاء القرآن)

- حدیث میں جو آیا ہے کہ تیرا کھانا خاص متقی کھایا کریں،مراد اس سے طعامِ دعوت ہے اور آیت میں مراد طعامِ حاجت ،پس تعارض کا شبہ نہ کیا جائے(تھانویؒ)کافرحربی کو صدقہ وغیرہ جائز نہیں (تھانویؒ) کا فر ذمی یعنی غیر حربی کو زکوٰۃ دینا تو جائز نہیں اور دوسرے صدقات ِ واجب و نفل سب جائز ہیں(تھانویؒ)۔۔۔اور قرآن مجید میں مال کیلئے خیر کا لفظ متعدد مقامات پر مال ہی کے حُسنِ استعمال کے سلسلہ میں آیا ہے۔۔۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ خیر کا اطلاق اُس مال پر ہوتاہے،جو بڑی مقدار میں ہو،اور حلال ،جائز ذریعہ سے حاصل ہواہو۔( تفسیر ماجدی)

273۔ صدقات کا بہترین مصرف:

- حضورؐ کے زمانہ میں تین چارسوکے قریب ایسے مہاجر تھے جن کے پاس مال نہ تھا ،نہ اہل ،نہ سر چھپانے کا جھونپڑا ۔(ضیاء القرآن)

-یعنی جن لوگوں نے اپنے آپ کو دین کے علم کیلئے خواہ وہ سیکھ رہے ہوں یا سیکھارہے ہوں یا دوسرے امور کیلئے وقف کررکھا ہے اور وہ محتاج ہیں ،جیسے دورنبیؐ میں اصحاب صفہ تھے یا وہ لوگ جو جہاد میں مصروف ہیں یا ان کے بال بچوں کی نگہداشت پر اور ایسے ہی دوسرے لوگوں پر صدقات خرچ کئے جائیں۔(تیسیر القرآن)

ــــ قرآن کے زمانۂ نزول میں اس آیت کے بہترین مصداق اصحاب صفہ تھے۔ ان آیات میں اس طرز عمل کا نمونہ بھی دکھا دیا ہے جو باایمان فقراء کا ہونا چاہیے اور اس طریقے کی طرف  بھی رہنمائی کردی ہے، جو ان فقراء کے معاملے میں باایمان اغنیاء کو اختیارکرنا چاہیے۔ (ترجمہ،مولاناامین احسن اصلاحی)

- اسلام نے بھیک مانگنے کی سخت مذمت کی ہے۔حضورؐ نے فرمایا کہ جو آدمی لوگوں سے مال جمع کرنے کےلئے بھیک مانگتاہے وہ انگارے جمع کررہاہے تھوڑے انگارے جمع کرے یا زیادہ ۔یہ اس کی اپنی مرضی۔(ضیاء القرآن)

احصروا فی سبیل اللہ۔یعنی دین ہی کے کسی کام میں گھرگئے اور اب آزادی سے کسبِ معاش نہیں کرسکتے اصل مراد یہاں مجاہدین ہیں۔(تفسیر ماجدی)


اڑتیسواں رکوع

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ   274 جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم۔
اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ  275 جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو (نفع کے لحاظ سے) ویسا ہی ہے جیسے سود (لینا) حالانکہ سودے کو خدا نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ تو جس شخص کے پاس خدا کی نصیحت پہنچی اور وہ (سود لینے سے) باز آگیا تو جو پہلے ہوچکا وہ اس کا۔ اور (قیامت میں) اس کا معاملہ خدا کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں (جلتے) رہیں گے۔
 یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ 276 . خدا سود کو نابود (یعنی بےبرکت) کرتا اور خیرات (کی برکت) کو بڑھاتا ہے اور خدا کسی ناشکرے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ 277 جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کچھ خوف ہوا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ  278 مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو۔
 فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ 279 اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور نہ تمہارا نقصان۔
 وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ  280 اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو۔
وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ۠ 281 اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا۔

تفسیر آیات

274۔ یہ آیت انفاق کے سلسلے میں خاتمہ باب کی حیثیت رکھتی ہے (تدبرِ قرآن)

۔ روح المعانی میں نقل کیا گیا ہے کہ حضرت صدیق اکبر نےچالیس ہزار دینار اللہ کی راہ میں اس طرح خرچ کئے کہ دس ہزار دن ،دس ہزار رات  میں،دس ہزار خفیہ اور دس ہزار اعلانیہ ۔بعض مفسرین نے اس آیت کاشانِ نزول یہی بتایا ہے۔(معارف القرآن)

275۔ اہل ِ عرب دیوانے آدمی کو مجنون (یعنی آسیب زدہ ) کے لفظ سے تعبیر کرتے تھے،اورجب کسی کے متعلق یہ کہنا ہوتاہے کہ وہ پاگل ہوگیا ہے تو یوں کہتے کہ اسے جن لگ گیا ہے۔اسی محاورہ کو استعمال کرتے ہوئے قرآن سود خوار کو اس شخص سے تشبیہ دیتاہے جو مخبوط الحواس ہوگیا ہو۔یعنی جس طرح وہ شخص عقل سے خارج ہوکر غیر معتدل حرکات کرنے لگتا ہے ،اسی طرح سود خوار بھی روپے کے پیچھے دیوانہ ہوجاتاہےاوراپنی خود غرضی کے جنون میں کچھ پرواہ نہیں کرتا کہ اس کی سود خواری سے کس  کس طرح انسانی محبت،اخوت اور ہمدردی کی جڑیں کٹ رہی ہیں،اجتماعی فلاح و بہبود پر کس قدر تباہ کن اثر پڑرہاہے ،اور کتنے لوگوں کی بدحالی سے و ہ اپنی خوشحالی کا سامان کررہاہے۔یہ اس کی دیوانگی کا حال اس دنیا میں ہے۔اور چونکہ آخرت میں انسان اسی حالت میں اٹھایا جائے گا جس حالت پر اس نے دنیا میں جان دی ہے،اس لیے سود خوار آدمی قیامت کے روز ایک باؤلے، مخبوط الحواس انسان کی صورت میں اٹھے گا۔(تفہیم القرآن)

-سود اور تجارت کی نوعیتیعنی ان کے نظریے کی خرابی یہ ہے کہ تجارت میں اصل لاگت پر جومنافع لیا جاتاہے،اس کی نوعیت اور سود کی نوعیت کا فرق وہ نہیں سمجھتے  اور دونوں کو ایک ہی قسم کی چیز سمجھ کر یوں استدلال کرتے ہیں کہ جب تجارت میں لگے ہوئے روپے کا منافع جائز ہے، تو قرض پر دیئے ہوئے روپے کا منافع کیوں ناجائز ہو۔ اسی طرح کے دلائل موجودہ زمانے کے سودخوار بھی سود کے حق میں پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جس روپے سے خود فائدہ اٹھا سکتاتھا ،اسے وہ قرض پر دوسرے شخص کے حوالہ کرتا ہے۔وہ دوسرا شخص بھی بہرحال اس سے فائدہ ہی اٹھاتاہے۔ ۔پھر آخر کیا وجہ ہے کہ قرض دینے والے کے روپے سے جوفائدہ قرض لینے والا اٹھا رہاہے،اس میں سے ایک حصہ وہ قرض دینے والے کو نہ اداکرے؟مگریہ لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ دنیا میں جتنے کاروبار ہیں، خواہ وہ تجارت کے ہوں یا صنعت و حرفت کے یازراعت کے،اور خواہ انہیں آدمی صرف اپنی محنت سے کرتاہو یا اپنے سرمایے اور محنت ہردوسے ،ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جس میں آدمی نقصان کا خطرہ(Risk)مول نہ لیتا ہو اور جس میں آدمی کیلئے لازماً ایک مقرر منافع کی ضمانت ہو۔پھر آخر پوری کاروباری دنیا میں ایک قرض دینے والا سرمایہ دارہی ایسا کیوں ہو جو نقصان کے خطرے سے بچ کر ایک مقرراور لازمی منافع کا حق دار قرار پائے؟غیر نفع بخش اغراض کیلئے قرض لینے والے کا معاملہ تھوڑی دیر کیلئے چھوڑ دیجئے، اور شرح کی کمی بیشی کے مسئلے سے بھی قطع نظر کرلیجئے۔معاملہ اسی قرض کا سہی جو نفع بخش کاموں میں لگانے کیلئے لیا جائے ،اور شرح بھی تھوڑی ہی سہی ۔سوال یہ ہے کہ جولوگ ایک کاروبار میں اپنا وقت ،اپنی محنت ،اپنی قابلیت اور اپنا سرمایہ رات دن کھپا رہے ہیں،اور جن کی سعی و کوشش کے بل پر ہی اس کا روبار کا بار آور ہونا موقوف ہے، ان کیلئے تو ایک مقرر منافع کی ضمانت نہ ہو،بلکہ نقصان کا ساراخطرہ بالکل انہی کے سرہو، مگر جس نے صرف اپنا روپیہ انہیں قرض دے دیا ہووہ بے خطر ایک طے شدہ منافع وصول کرتاچلاجائے!یہ آخر کس عقل ،کس منطق،کس اصول انصاف اور کس اصول ِ معاشیات کی روسے درست ہے؟اور یہ کس بناپر صحیح ہے کہ ایک شخص ایک کارخانے کو بیس سال کیلئے ایک رقم قرض دے اور آج ہی یہ طے کرلے کہ آئندہ 20 سال تک وہ برابر 5 فی صد سالانہ کے حساب سے اپنا منافع لینے کا حق دار ہوگا،حالانکہ وہ کارخانہ جومال تیار کرتاہے اس کے متعلق کسی کو بھی نہں معلوم کہ مارکیٹ میں اس کی قیمتوں کے اندر آئندہ بیس سال میں کتنا اتار چڑھاؤ ہوگا؟اور یہ کس طرح درست ہے کہ ایک قوم کے سارے ہی طبقے ایک لڑائی میں خطرات اور نقصانات اور قربانیاں برداشت کریں، مگر ساری قوم کے اندر سے صرف ایک قرض  دینے والا سرمایہ دارہی ایسا ہوجو اپنے دیے ہوئے جنگی قرض پر اپنی ہی قوم سے لڑائی کے ایک صدی بعد تک سود وصول کرتارہے؟(تفہیم القرآن)

۔تجارت اور سود کا اصولی فرقتجارت اور سود کا اصولی فرق  جس کی بنا پر دونوں کی معاشی اور اخلاقی حیثیت  ایک نہیں ہو سکتی یہ ہے : (1)۔ تجارت میں بائع اور مشتری کے درمیان منافع کا مساویانہ تبادلہ ہوتا ہے، کیونکہ مشتری اس چیز سے نفع اٹھاتا ہے  جو اس نے بائع سے خریدی ہے اور بائع اپنی اس محنت ، ذہانت اور وقت کی اجرت لیتا ہے ، جس کو اس نے مشتری کے لیے وہ چیز مہیا کرنے  میں صرف کیا ہے ۔ بخلاف اس کے سودی لین دین میں منافع کا تبادلہ برابری کے ساتھ نہیں ہوتا۔ سود لینے والا تو مال کی ایک مقرر مقدار لے لیتا ہے ، جو اس کے لیے با لیقین نفع بخش ہے لیکن  اس کے مقابلے میں  سود دینے والے کو صرف مہلت ملتی ہے جس کا نفع بخش ہونا یقینی نہیں ہے۔ اور اگر وہ تجارت یا زراعت یا صنعت  و حرفت  میں لگانے کے لیے سرمایا لیتا ہے  تب بھی مہلت میں جس طرح اس کے لیے نفع کا امکان ہے  اسی طرح نقصان کا بھی امکان ہے۔ پس سود کا معاملہ یا تو ایک فریق کے فائدے اور دوسرے کے نقصان پر ہوتا ہے، یا ایک کے یقینی اور متعین فائدے اور دوسرے کے غیر یقینی اور غیر متعین فائدے پر۔ (2) تجارت میں بائع مشتری سے خواہ کتنا ہی زائد منافع لے، بہر حال وہ جو کچھ لیتا ہے ، ایک ہی بار لیتا ہے۔ لیکن سود کے معاملے میں مال دینے والا اپنے مال پر مسلسل منافع وصول کرتا  رہتا ہے اور وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ اس کا منافع بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مدیون نے اس کے مال سے خواہ کتنا ہی فائدہ حاصل کیا ہو، بہر طور اس کا فائدہ ایک خاص حد تک ہی ہو گا۔ مگر دائن اس فائدے کے بدلے میں جو نفع اٹھاتا ہے ، اس کے لیے کوئی حد نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مدیون کی پوری کمائی، اس کے تمام وسائلِ معیشت ، حتٰی کہ اس کے تن کے کپڑے اور گھر کے برتن تک ہضم کر لے اور پھر بھی اس کا مطالبہ باقی رہ جائے۔ (3) تجارت میں شے اور اس کی قیمت کا تبادلہ ہونے کے ساتھ ہی معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد مشتری کو کوئی چیز بائع کو واپس دینی نہیں ہوتی۔ مکان یا زمین  یا سامان کے کرائے میں اصل شے ، جس کے استعمال کا معاوضہ دیا جاتا ہے، صرف نہیں ہوتی، بلکہ برقرار رہتی ہے اور بجنسہِ  مالکِ جائداد کو واپس دے دی جاتی ہے۔ لیکن سود کے معاملے میں قرض دار سرمایہ کو صرف کر چکتا ہے اور پھر اس کو وہ صرف  شدہ مال دوبارہ پیدا کر کے اضافے کے ساتھ واپس دینا ہوتا ہے۔(4) تجارت اور صنعت و حرفت اور زراعت میں  انسان محنت، ذہانت اور وقت صرف کر کے اس کا فائدہ لیتا ہے۔ مگر سودی کاروبار میں وہ محض اپنا ضرورت سے زائد مال  دے کر بلا کسی  محنت و مشقت کے دوسروں کی کمائی میں شریکِ غالب بن جاتا ہے۔ اس کی حیثیت  اصلاحی "شریک " کی نہیں ہوتی جو نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہوتا ہے، اور نفع میں جس کی شرکت نفع کے تناسب سے ہوتی ہے، بلکہ وہ ایسا شریک ہوتا ہے  جو بلا لحاظِ نفع و نقصان اور بلا  لحاظ تناسب نفع اپنے طے شدہ  منافع کا دعوے دار ہوتا ہے۔ ان وجوہ سے تجارت کی معاشی حیثیت اور سود کی معاشی حیثیت میں اتنا عظیم الشان  فرق ہو جاتا ہے کہ تجارت  انسانی تمدن کی تعمیر کرنے والی قوت بن جاتی ہے اور اس کے برعکس سود  اس کی تخریب کرنے کا موجب بنتا ہے۔ پھر اخلاقی حیثیت سے یہ سود کی عین  فطرت ہے   کہ وہ افراد میں بخل، خود غرضی ، شقاوت، بے رحمی اور زر پرستی کی صفات پیدا کرتا ہے، اور ہمدردی و امدادِ باہمی کی روح کو فنا کر دیتا ہے۔ اس بنا پر سود معاشی اور  اخلاقی دونوں حیثیتوں سے نوعِ انسانی کے لیے تباہ کن ہے۔ (تفہیم القرآن)

تجارتی سود بھی حرام ہے:۔ یہ دراصل سود خوریہودیوں کا قو ل ہے اور آج کل بہت سے مسلمان بھی اسی نظریہ کی نمائندگی کررہے ہیں ۔سودی قرضے دراصل دوطرح کے ہوتے ہیں (1) ذاتی قرضے یا مہاجنی قرضے یعنی وہ قرضے جو کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کیلئے کسی مہاجن یا بنک سے لیتاہے اور دوسرے تجارتی قرضے جو تاجر یا صنعت کار اپنی کاروبار ی اغراض کیلئے بنکوں سے سودپر لیتے ہیں۔اب جو مسلمان سود کے جواز کی نمائندگی کرتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ جس سود کو قرآن نے حرام کیا ہے وہ ذاتی یا مہاجنی قرضے ہیں جن کی شرح سود بڑی ظالمانہ ہوتی ہے اور جو تجارتی سود ہے وہ حرام نہیں ۔کیونکہ اس دور میں ایسے تجارتی سودی قرضوں کا رواج نہ تھا ۔نیز ایسے قرضے چونکہ رضامندی سے لئے  دئیے جاتے ہیں اور ان کی شرح سود بھی گوارا اور مناسب ہوتی ہے اور فریقین  میں سے کسی پر ظلم بھی نہیں ہوتا ، لہذا یہ تجارتی سود اس سود سے مستثنیٰ ہے جنہیں قرآن نے حرام قرار دیاہے ۔ (تیسیر القرآن)

- باہمی رضامندی کی شرط صرف جائز معاملات میں ہے:۔ جہاں تک باہمی رضامندی کا تعلق ہے تو یہ شرط صرف حلال معاملات میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حلال اور جائز معاملات میں بھی اگر فریقین میں سے کوئی ایک راضی نہ ہو تو وہ معاملہ حرام اور ناجائز ہوگا۔جیسے تجارت میں مال بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کی رضامندی ضروری ہے ورنہ بیع فاسد ہوگی۔اسی طرح نکاح میں بھی فریقین کی رضامندی ضروری ہے ۔لیکن یہ رضامندی حرام کاموں کو حلال نہیں بناسکتی ۔اگر ایک مرد اور ایک عورت باہمی رضامندی سے زنا کریں تو وہ جائز نہیں ہوسکتا اور نہ ہی باہمی رضامندی سے جوا جائز ہوسکتاہے ۔اسی طرح سود بھی باہمی رضامندی سے حلال اور جائز نہیں  بن سکتا۔(تیسیر القرآن)

- اور معلوم ہے کہ اللہ وہ ہے جو شرائع اور احکام کا مالک ہے اور حکیم بھی ہے اور حاکم بھی)جب حکیم مطلق نے ایک معاملت کو جائز اور دوسری کو حرام ٹھہرادیاہے تو اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ جائز کے اندر بے شمار منافع و مصالح اور حرام کے اندر بے شمار مفاسد و نقصانات ہیں،اور بالفرض کسی کی سمجھ میں یہ مصالح و مفاسد نہ بھی آئیں،اور جب بھی حکیم مطلق کا حکم واجب العمل تو بہرحال ہے۔(تفسیر ماجدی)

276۔اس آیت میں ایسی صداقت کو بیان کردیا گیا ہے کہ کہ جو اخلاقی و روحانی حیثیت کے ساتھ معاشی و تمدنی حیثیت سے بھی سراپا حق ہے۔بظاہر سود کی شکل و صورت میں نفع مندی نظر آتی ہے جبکہ دوسری جانب صدقات سے مال میں کمی ہوتی نظر آتی ہے۔مگر نتیجہ کے اعتبار سے سودی نظام کو اختیار کرنے والے معاشرے میں سماجی و معاشی لحاظ سے ہوشربا فسادات و برائیاں جنم لیتی ہیں جبکہ صدقات و قرض حسن کو رواج دینے سے معاشرے میں ہمہ جہتی استحکام پیدا ہوجاتاہے۔بدیہی طورپر سودکا کاروبار کرنے والوں میں بخل، خود غرضی، تنگ دلی وغیرہ جیسی خرابیاں اور صدقات کو شعار بنانے والوں میں فیاضی، ہمدردی،فراخ  دلی وغیرہ عالی صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔تمدنی حیثیت کو سود ی کاروبار کرنے والے لوگوں کی جانب سے بے پناہ نقصان پہنچتا ہے کہ وہ خود غرضی کی حالت میں جیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی زندگی کا مقصد و حاصل صرف ذاتی امن و سکون اور نفع مندی پر توجہ مرکوز کیے رہنا ہے۔دوسری طرف صدقات اور قرض حسن دینے والوں کی وجہ سے معاشرے میں ارتکاز دولت کےعنصر کی حوصلہ شکنی کے ساتھ سماج کے تمام طبقوں کو برابرترقی و بہتری کا موقع میسر آتاہےکیونکہ صدقات کو لازم پکڑنے والے غریب ونادارکے پشتیبان ہوتے ہیں۔معاشی حیثیت کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو اس میں دو طرح کے سود رائج ہیں ایک ذاتی ضروریات کی تکمیل کی خاطر لیا جانے والا قرض جس کو اداکرنے میں سالہاسال صرف ہوجاتے ہیں مگر اصل رقم ادا نہیں ہوپاتی اورغریب غریب سے غریب تر اور امیر امیر سے امیر تر ہوتاچلا جاتاہے۔جس کا ثمر معاشرے میں بدترین استحصالی نظام کے خلاف انقلاب کی صورت میں نکلتاہے اور سرمایہ داروں کی جان و مال اور عزت سب کچھ کو گزند پہنچنا معمولی بات ہے۔دوسری صورت میں سودی قرض زراعت و صنعت و تجارت وغیرہ کیلئے حاصل کیا جاتاہے جس میں اہم ترین نقصانات یہ ہوتے ہیں کہ(1) قرض ایسے کام کیلئے نہیں دیا جاتاجو رائج الوقت سود کے برابر نفع مندی کے حصول کا مستوجب نہ ہو۔(2)سود جس کاروبار کیلئے جاری کیا جاتاہے اس کےبارے میں یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بہر صورت فائدہ ہی میں رہے گااور اس میں نقصان نہیں ہوگا۔(3)  سود دینے والا شخص نفع و نقصان میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے کاروبار کی کامیابی و ترقی کا خواہش مندنہیں ہوتا اس کو اپنی اصل رقم اور سود سے ہی مقصد و مطلب ہوتاہے چاہے کاروبار کرنے والے کو نفع ہویا نقصان اور اگر اس کو پیشگی اطلاع ہوجائے تووہ اپنا پیسہ واپس نکال لیتاہے جس کے سبب بدترین معاشی بحران پیدا ہوجاتاہے۔گویا سود کے یہ تین نقصانات ایسے ہیں کہ معاشیات کو سمجھنے والا شخص اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ اور قانون الٰہی مسلم ہے کہ سود سے مال کم ہوتا ہے بڑھتا نہیں۔صدقات و قرض حسن کے نتائج حوصلہ افزا اس لئے ہوتے ہیں کہ وہ لوگ جو اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات سے بچ جانے والی رقم صدقہ و خیرات،یا کسی بھی باصلاحیت و محنتی انسان کو کاروبار و تجارت کی خاطر کچھ رقم ازراہ ہمدردی قرض حسن کے طورپر فراہم کرکے معاون بن جائے یا پھر حکومت کے خزانہ میں جمع کردے کہ اس سے ملکی و ملی مفادات کیلئے استفادہ کیا جائے تو اس سے معاشرے میں خوشحالی و ترقی کا دوردورہ ہوجاتاہے کیونکہ یہ  سب کام  بغیر طمع و لالچ اور حرص و ہوس کے کیا جاتاہے اور اسی میں اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے برکت شامل حال ہوجاتی ہے۔یوں معاشرے کا ہر فرد تمدنی و معاشی اعتبارسے مستحکم و مضبوط اور کارآمد بن جاتاہے۔(تفہیم القرآن)

- یہاں شاید کسی کو شبہ ہو کہ آج تو سودخوروں کو بڑی راحت و عزت حاصل ہے ۔سامانِ راحت اور راحت میں بڑا فرق ہے ۔اب عزت کو لیجئے ۔مفلس کی مفلسی یا کم مایہ لوگوں کی کم مائیگی سے فائدہ اٹھائیں ۔ان کا خون چوس کر اپنے بدن کو پالیں ،اس لئے ممکن نہیں کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی کوئی عزت ہو۔اپنے ملک کے بنیوں اور ملکِ شام کے یہودیوں کی تاریخ پڑھ لی جائے۔(معارف القرآن)

- شیخ محمود احمد (مشہور ماہرِ اقتصادیات)  نے کہا ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری شرحِ سود کے ساتھ بڑھے گی۔(بیان القرآن)

- آخرت میں تو اس وعدہ و وعید دونوں کا مشاہدہ پوری طرح ہوکر رہے گا کہ سود میں برکت و خیریت برائے نام بھی نظر نہ آئے گی،اور صدقات کا اجر بے حساب ملے گا،لیکن دنیا میں بھی اس کا ظہور کسی نہ کسی حدتک ہوتاہی رہتاہے ،سود خوار قوموں کا انجام بار ہاآپس کی خونریزی اور تباہی و بربادی ہی پرہواہے،افراد میں بھی مشاہدہ ہے کہ سود خواری کی عادت بنیوں، مہاجنوں کے دل میں روپیہ کو فی نفسہ محبوب بنادیتی ہے ،نتیجہ یہ ہوتاہے کہ سودخوار زرو دولت سے دنیوی لطف بھی نہیں اٹھاپاتا،اس کے مقابلہ میں صدقہ کی برکتیں ،ملی غمخواری  و ہمدردی ،ایک دوسرے کی مشارکت ومعاونت ،قوم و افراد دونوں میں مشاہدہ کی چیز یں ہیں ،بینکوں کے آئے دن لوٹنے، مہاجنوں اور بنیوں کے دیوالہ نکلتے رہنے اور پھر اس سے ہزاروں گھروں کی تباہی و بربادی کس نے نہیں دیکھی ہے؟معاشرہ کی اس ابتری کا راز یہی سودی کاروبار کی ترویج ہے۔(تفسیر ماجدی)

279۔ اللہ اور رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ:یہ آیت فتحِ مکہ کے بعد نازل ہوئی اور مضمون کی مناسبت سے اس سلسلۂ کلام میں داخل کردی گئی۔اس سے پہلے اگرچہ سود ایک ناپسند یدہ چیز سمجھا جاتاتھا مگر قانوناً اسے بند نہیں کیا گیا تھا۔اس آیت کے نزول کے بعد اسلامی حکومت کے دائرے میں سودی کاروبار ایک فوجداری جرم بن گیا ۔عرب کے جو قبیلے سود کھاتے تھے ،ان کو نبیؐ نے اپنے عمال کے ذریعے سے آگاہ فرمایا کہ اگر اب وہ اس لین دین سے باز نہ آئے تو ان کے خلاف جنگ کی جائے گی۔ نجران کے عیسائیوں کو جب اسلامی حکوت کے تحت اندرونی خودمختاری دی گئی ،تو معاہدے میں یہ بات تصریح کردی گئی کہ اگر تم سودی کاروبار کروگے تو معاہدۂ فسخ ہوجائے گا۔اور ہمارے اور تمہارے درمیان حالت جنگ قائم ہوجائے گی ۔آیت کے آخری الفاظ کی بناپر ابن عباس،حسن بصری،ابن سیرین اور ربیع بن انس کی رائے یہ ہے کہ جو شخص دارالاسلام میں سودکھائے اسے توبہ پر مجبور کیا جائے اور اگر باز نہ آئے ،تو اسے قتل کردیا جائے۔دوسرے فقہاء کی رائے میں ایسے شخص کو قید کردینا کافی ہے۔جب تک وہ سود خواری چھوڑدینے کا عہد نہ کرے، اسے نہ چھوڑا جائے۔(تفہیم القرآن)

- سود سے توبہ نہ کرنے والے کو اصل راس المال نہیں ملے گا:  اس سے بظاہر اس طرف اشارہ ہوتاہے کہ اگر سود چھوڑنے کا عزم کرکے توبہ نہ کی تو اصل رأس المال بھی نہ ملے گا،سواس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر مسلمان ہوجانے کے باوجود سود کو حرام ہی نہ سمجھے،اس لئے سود چھوڑنے کیلئے توبہ نہیں کرتا تو یہ شخص اسلام سے خارج اور مرتد ہوگیا،جس کا حکم یہ ہے کہ مرتد کا مال اس کی ملک سے نکل جاتاہے،پھرجوزمانۂ اسلام کی کمائی ہے وہ اس کے مسلمان وارثوں کو مل جاتی ہے،اور جو کفر کے بعد کی کمائی ہے تو وہ بیت المال میں جمع کردی جاتی ہے۔(معارف القرآن)

- سود کے متعلق جولب و لہجہ ان آیات کا ہے بعینہ یہی لہجہ سود سے متعلق آنحضرتؐ کا خطبۂ حجۃ الوداع میں معلوم ہوتاہے ۔تفصیلی بحث سورۂ مائدہ میں آئیگی۔(تدبر قرآن)

- کسی گناہ پر یہ وعید نہیں ( اللہ اور رسول کی طرف سے جنگ )(بیان القرآن)

- سود کی حرمت میں تدریج: یہ ہیں وہ آیات جنہیں آیات ربا کہا جاتاہے جن کے مطابق سود کلیتاًحرام قرار دیا گیا اور یہ سورۂ بقرہ میں سب سے آخر میں بلکہ آپؐ کی وفات سے صرف چارماہ پیشتر نازل ہوئی تھیں۔چنانچہ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب سورۂ بقرہ کی سب سے بعد نازل ہونے والی آیات سود کے بارے میں نازل ہوئی تو نبی اکرمؐ نے مسجد میں جاکر ان آیتوں کو سنایا ۔پھر شراب کی سوداگری بھی حرام کردی(بخاری) اور سیدنا عمرؓ نے فرمایا "آیات ربا قرآن کی ان آیات سے ہیں، جو آخر زمانہ میں نازل ہوئیں اور رسول اللہ کی وفات ہوگئی ۔پیشتر اس کے کہ تمام احکام ہم پر واضح فرماتے ۔لہذا تم سود کو بھی چھوڑدو اور ہر اس چیز کو بھی جس میں سود کا شْائبہ ہو"(ابن ماجہ،دارمی بحوالہ مشکوٰۃ)(تیسیر القرآن)

- محققین نے اس ٹکڑے سے یہ استدلال کیا ہے کہ شریعت کے کسی ایک جزو سے بھی انکار کرنا ساری شریعت سےانکار کرنا ہے۔۔۔وذروا مابقی ۔یعنی حرمتِ سود کے نزول حکم سے قبل جو رقم سود کی تم ٹھہرا چکے ہو،اس کا وصول کرلینا اب جائز نہیں،اسے چھوڑدو۔۔۔اتنی شدید تہدید قرآن مجید میں کسی دوسری معصیت کیلئے نہیں آئی ہے۔ العظمۃ للہ! حرمت سود کا کس درجہ اہتمام ہے اور اس باب میں کس درجہ شدید احکام ہیں ،اس کے بعد کچھ حد ہے اس ڈھٹائی اور جسارت کی کہ اپنے کو مسلمان کہلا کر رسالے"جواز سود "پر شائع کئے جائیں؟!اور اپنی تحریرو تقریر سے لوگوں کو سودی کاروبار کی ترغیب دلائی جائے ،حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی رسولؐ سے یہ جو قول منقول ہے کہ سود کو بھی چھوڑدو اور اس کے مشابہ چیزوں کو بھی،وہ اسی قرآنی تہدید کا قدرتی نتیجہ ہے،جب جسمانی بیماریوں کا یہ حال ہے کہ کسی مرض کو طبیب اگر سخت مرض سے مشابہ پاتاہے تو احتیاطاً علاج اس سخت تر مرض کا شروع کردیتاہے ،تو جو مسلمان تقویٰ کا ادنیٰ  درجہ بھی رکھتے ہیں ،ان پر لازم ہے کہ نہ صرف کھلے ہوئے سود سے بچیں بلکہ ایسی مالی و کاروباری صورتوں سے بھی احتیاطاً بچتے رہیں جن کا سودی ہونا قطعی نہیں ،صرف اغلب ہے۔۔۔لاتظلِمون۔ظالم بننے کی صور ت تو یہ ہے کہ کوئی رقم قرض دی اور وصول کرتے وقت اصل سے زائد وصول کرلی ۔یعنی سود لینا۔۔۔لاتظلَمون ۔مظلوم بننے کی صورت یہ ہےکہ جتنی رقم قرض لی تھی،اب اداکرنا اس سے زائد کا پڑ رہاہے ۔یعنی سود دینا۔(تفسیر ماجدی)

280۔ مقروض کو مہلت دینے یا اسے معاف کردینے میں جو بہتری ہے وہ حسب ذیل ہے۔سیدناابوقتادہؓ فرماتے ہیں کہ "جس شخص کو یہ بات محبوب ہوکہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی سختیوں سے نجات دے اسے چاہئیے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا پھر اسے معاف کرد"(مسلم)(تیسیر القرآن)

- اسلامی نظامِ معاشیات کی بنیاد مادیات سے کہیں بڑھ کر انسانیت و روحانیت و تقویٰ الٰہی پر رکھی ہے، اور یہ خصوصیت اُسے دنیا کے قدیم و جدید سارے معاشی نظاموں سے ممتاز کئے ہوئے ہے۔۔۔توفیّٰ ماکسبت۔یعنی اعمال کا پوراپورا معاوضہ دیا جائے گا،ماکسبت میں پورا مفہوم اعمالِ اختیاری کا آگیا ،اور ضمناً رد فرقہ جبریہ کا نکل آیا۔۔۔متعدد اقوالِ تابعین میں آیا ہے کہ قرآن مجید کی یہی آیت سب سے آخر میں نازل ہوئی ہے اور حضورؐ اس کے بعد جلد ہی وفات پاگئے۔تفصیلات تفسیر قرطبی میں درج ہیں۔(تفسیر ماجدی)

281۔ رباکی حرمت و ممانعت پر قرآن کریم میں سورۂ بقرہ میں سات آیات ،سورۂ آلِ عمران میں ایک آیت ،سورۂ نسا میں دوآیات اور سورۂ روم میں ایک آیت ۔تفصیلی مطالعہ کے لیے  معارف القرآن کے ان صفحات کا مطالعہ مفید  رہے گا۔ 659تا662 اور 665تا670۔(معارف القرآن)

۔سود کی پوری حقیقت بتلانے سے پہلے مناسب معلوم ہوتاہے کہ ان باقی آیات کا ترجمہ اور تفسیر بھی اسی جگہ لکھ دی جائے جو سورۂآل عمران اور سورۂ نساء اورسورۂ روم میں آتی ہے ،تاکہ تمام آیات یک جاہوکر ربا کی حقیقت سمجھنے میں آسانی ہو۔۔۔۔جاہلیت عرب کی اس ملت کش رسم کو مٹانے کیلئے یہ آیت نازل ہوئی ،اسی لئے اس آیت میں اضعافاً ضاعفۃ(یعنی کئی حصے زائد) فرماکر ان کے مروجہ طریقہ کی مذمت اور ملت کشی و خود غرضی پر تنبیہ فرماکر اس کو حرام قرار دیا،اس کے معنی یہ نہیں کہ اضعاف و مضاعف نہ ہو تو حرام نہیں، کیونکہ سورۂ بقرہ اور سورۂ نساء میں مطلقاً ربا کی حرمت صاف صاف مذکور ہے ،اضعاف و مضاعف ہویا نہ ہو ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے قرآن کریم میں جابجا فرمایا گیا ہے لاتشتروباٰیٰتی ثمناً قلیلاً یعنی میری آیتوں کے بدلہ میں تھوڑی سی قیمت مت لو"اس میں تھوڑی سی قیمت اس لئے فرمایا کہ آیاتِ الٰہیہ کے بدلہ میں اگر ہفت اقلیم کی سلطنت بھی لے لے تو وہ تھوڑی ہی قیمت ہوگی، اس کے یہ معنیٰ نہیں کہ قرآن کی آیات کے بدلے میں تھوڑی قیمت لینا تو حرام ہے اور زیادہ لینا جائز ،اسی طرح اس آیت میں اضعافاً مضاعفۃًً کا لفظ ان کے شرمناک طریقہ پر فکرکرنے کیلئے لایا گیا ،حرمت کی شرط نہیں۔اور اگر سود کے مروجہ طریقوں پر غور کیا جائے تو یہ بھی کہا جاسکتاہے کہ جب سود خوری کی عادت پڑ جائے تو وہ سود تنہا سودہی نہیں رہتاہے،بلکہ لازماً اضعاف مضاعف ہوجاتا ہے،کیونکہ جو رقم سود سے حاصل ہوکر سود خور کے مال میں شامل ہوئی تو اب اس سود کی زائد رقم کو بھی سود پر چلا ئے گاتو سود مضاعف ہوجائے گا،اور یہی سلسلہ آگے چلا تو اضعافاً مضاعفۃًہوجائے گا۔اس طرح ہر سود اضعاف و مضاعفہ بن کر رہے گا۔۔۔۔البتہ نبی کریمؐ نے ربا کے مفہوم میں بیع و شراء کی چند صورتوں کو بھی داخل فرمایا جن کو عرب ربا نہ سمجھتے تھے، مثلاً چھ چیزوں کی بیع و شراء میں یہ حکم دیا کہ اگر ان کا تبادلہ کیا جائے تو برابر سرابر ہونا چاہئے ،اور نقد دست بدست ہونا چاہئے ،اس میں کمی بیشی کی گئی یا ادھار کیا گیا تو وہ بھی ربا ہے ،یہ چھ چیزیں سونا، چاندی، گیہوں،جو،کھجور اور انگور ہیں۔۔۔۔اسی اصول کے ماتحت عرب میں معاملات کی چند صورتیں مزابنہ اور محاقلہ(مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگے ہوئے پھل کو ٹوٹے ہوئے پھلوں کے بدلے میں اندازہ سے فروخت کیا جائے، اور محاقلہ یہ کہ کھڑےکھیت کے غلہ گندم،چنا وغیرہ کو خشک صاف کئے ہوئے غلہ گندم یا چنا سے اندازہ لگاکر فروخت کیا جائے ،اندازہ میں چونکہ کمی بیشی کا امکان رہتاہے ،اس لئے اس کو منع کیا گیا ہے) کے نام سے رائج تھیں آیات ِ ربا نازل ہونے کے بعد رسول کریمؐ نے ان کو ربا میں شامل قرار دیکر  منع فرمایا ( ابن کثیر بحوالہ مستدرک حاکم،ص 328، ج1)۔۔۔اس میں یہ بات قابل غور تھی کہ ان چھ چیزوں کی خصوصیت ہے، یا ان کے علاوہ اور بھی کچھ چیزیں ان کے حکم میں ہیں اور اگر ہیں تو ان کا ضابطہ کیا ہے، کس کس صورت کو داخلِ ربا سمجھا جائے،یہی اشکال حضرت عمر فاروق ؓ کو پیش آیا جس کی بناپر فرمایا "یعنی آیتِ ربا قر آن کی آخری آیتوں میں ہے اس کی پوری تفصیلات بیان فرمانے سے پہلے رسول کریمؐ کی وفات ہوگئی ،اس لئے اب احتیاط لازم ہے، ربا کو تو چھوڑنا ہی ہے جس صورت میں ربا کا شبہ بھی ہو اس کو بھی چھوڑدینا چاہئے" ۔ (معارف القرآن)

اس تفصیل سے چند چیزیں واضح ہوگئیں : اول یہ کہ نزول ِ قرآن سے پہلے ربا ایک متعارف چیزتھی ،قرض ادھار پر بحساب میعاد زیادتی لینے کو ربا کہا جاتاتھا۔دوسرے یہ کہ قرآن میں حرمت ربا نازل ہوتے ہی سب صحابہ کرام نے اس ربا کو ترک کردیا ۔اس کے معنی سمجھنے سمجھانے میں کسی کو اشکال پیش آیا نہ اشتباہ۔تیسرے یہ کہ رسول  کریمؐ نے چھ چیزوں کے بارہ میں یہ ارشاد فرمایا کہ ان کی باہمی بیع و شراء میں برابری شرط ہے، کمی بیشی ربا میں داخل ہے، اور ان میں ادھار کرنا بھی ربا میں داخل ہے، یہ چھ چیزیں سونا،چاندی، گیہوں، جو، کھجور اور انگور ہیں،اور اسی قانون کے تحت عرب میں مروجہ اقسام ِ بیع مزابنہ، محاقلہ وغیرہ کو حرام قرار دیا گیا،رسول کریمؐ کے اس ارشاد میں چھ چیزوں کی بیع و شرا میں کمی بیشی اور ادھار کو تو صراحۃً ربا میں داخل کرکے حرام قرار دیدیا تھا، لیکن اس میں یہ بات محل تفقہ و اجتہاد تھی کہ یہ حکم ان چھ چیزوں کے ساتھ مخصوص ہے یا دوسری اشیاء میں بھی ہے ،اور اس کا ضابطہ کیا ہے؟ اس ضابطہ میں فقہاء نے اپنے اپنے غور و فکر اور اجتہاد سے مختلف صورتیں تجویز کیں،اور چونکہ یہ ضابطہ خودرسول کریمؐ نے بیان فرمایا تھا اس میں اشتباہ رہنے کے سبب حضرت فاروق اعظمؓ نے اس پر اظہار افسوس کیا کہ کاش رسول اللہؐ خود ہی  اس کا کوئی ضابطہ بیان فرمادیتے تو مشتبہ حالات میں اطمینان پیدا ہوجاتا، اور پھر یہ ارشاد فرمایا کہ جہاں ربا کا شبہ بھی ہو اس سے بچنا چاہئے۔چوتھے یہ معلوم ہوا کہ اصلی اور حقیقی ربا جس کو فقہاء نے ربوالقرآن یا ربوالقرض کے نام سے موسوم کیا ہے وہی ہے جو عرب میں متعارف تھا یعنی قرض ادھار پر بحساب میعاد نفع لینا اور دوسری قسم کے ربا جو حدیث میں بتلائے گئے وہ سب اسی ربا کے ساتھ ملحق اور اسی کے حکم میں ہیں ، اور جو کچھ خلاف و اختلاف امت میں ہو اوہ سب اسی دوسری قسم کے معاملات ربا میں ہوا،پہلی قسم کا ربا جو رباالقرآن کہلاتاہے اس کے حرام ہونے میں پوری امت محمدیہؐ میں کبھی بھی اختلاف نہیں ہوا۔اور آجکل جو ربا انسانی معاشیات کا مدار سمجھا جاتاہے ،اور مسئلہ سود میں جو زیر بحث ہے وہ یہی رہاہے جس کی حرمت قرآن کی سات آیات اور چالیس سے زیادہ احادیث اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ربا کی دوسری قسم جو بیع و شراء کے ضمن میں ہوتی ہے نہ اس کا رواج عام ہے نہ اس میں کوئی بحث کرنے کی ضرورت ہے۔یہاں تک یہ بات واضح ہوگئی کہ قرآن و سنت میں ربا کی حقیقت کیا ہے جو مسئلہ سود کی پہلی بات ہے۔(معارف القرآن)

- حامیان سود کا ایک دعویٰ اور اس کا جواب۔اس زمانے میں بعض کم سوادیہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عرب میں زمانہ نزول قرآن سے پہلے جو سود رائج تھا یہ صرف مہاجنی سود تھا۔غریب اور نادار لوگ اپنی ناگزیر ضروریاتِ زندگی حاصل کرنے  کیلئے مہاجنوں سے قرض لینے پر مجبور ہوتے تھےاور یہ مہاجن ان مظلوموں سے بھاری بھاری سود وصول کرتے تھے۔اسی سود کو قرآن نے ربوٰ قرار دیا ہے اور اسی کو یہاں حرام ٹھہرایا ہے۔رہے یہ تجارتی کاروباری قرضے جن کا اس زمانے میں رواج ہے تو ان کا اس زمانے میں نہ دستور تھا نہ ان کی حرمت و کراہت سے قرآن نے کوئی بحث کی ہے۔(تدبر قرآن)

ــــ اس حکم کی نوعیت بالکل الٹی میٹم کی ہے کہ تو گویا ایک اسلامی نظام سودی کاروبار کرنے والوں کی حیثیت باغیوں اور مفسدوں کی ہے جن کی سرکوبی کے لئےعند الضرورت فوجی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے طبقاتی کشمکش کو روکنے کے لئے یہ ہدایت فرمائی کہ مہاجن اپنی اصل رقم قرضداروں سے واپس لے سکتے ہیں۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحی)

ــــ اس ہدایت سے یہ بات نکلتی ہے کہ اہل عرب میں قرض لین دین کی معاملت زیادہ تر مالداروں ہی میں ہوتی تھی۔تاجر لوگ اپنے تجارتی مقاصد کے لئے قرض لیتے ۔تنگ دستوں کا قرض لینا شاذ واقعہ تھا۔ لہذا قرآن مجید کے احکام کا ہر قسم کے سودی لین دین پر یکساں اطلاق ہوگا۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحی)


انتالیسواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ  282 مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لئے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو اور لکھنے والا تم میں (کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ) انصاف سے لکھے نیز لکھنے والا جیسا اسے خدا نے سکھایا ہے لکھنے سے انکار بھی نہ کرے اور دستاویز لکھ دے۔ اور جو شخص قرض لے وہی (دستاویز کا) مضمون بول کر لکھوائے اور خدا سے کہ اس کا مالک ہے خوف کرے اور زر قرض میں سے کچھ کم نہ لکھوائے۔ اور اگر قرض لینے والا بےعقل یا ضعیف ہو یا مضمون لکھوانے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ مضمون لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو (ایسے معاملے کے) گواہ کرلیا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو (کافی ہیں) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی تو دوسری اسے یاد دلادے گی۔ اور جب گواہ (گواہی کے لئے) طلب کئے جائیں تو انکار نہ کریں۔ اور قرض تھوڑا ہو یا بہت اس (کی دستاویز) کے لکھنے میں کاہلی نہ کرنا۔ یہ بات خدا کے نزدیک نہایت قرین انصاف ہے اور شہادت کے لئے بھی یہ بہت درست طریقہ ہے۔ اس سے تمہیں کسی طرح کا شک وشبہ بھی نہیں پڑے گا۔ ہاں اگر سودا دست بدست ہو جو تم آپس میں لیتے دیتے ہو تو اگر (ایسے معاملے کی) دستاویز نہ لکھوتو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ اور جب خرید وفروخت کیا کرو تو بھی گواہ کرلیا کرو۔ اور کاتب دستاویز اور گواہ (معاملہ کرنے والوں کا) کسی طرح نقصان نہ کریں۔ اگر تم (لوگ) ایسا کرو تو یہ تمہارے لئے گناہ کی بات ہے۔ اور خدا سے ڈرو اور (دیکھو کہ) وہ تم کو (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔
 وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ ۠ 283 اور اگر تم سفر پر ہواور (دستاویز) لکھنے والا مل نہ سکے تو (کوئی چیز) رہن با قبضہ رکھ کر (قرض لے لو) اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے (یعنی رہن کے بغیر قرض دیدے) تو امانتدار کو چاہیئے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کردے اور خدا سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔اور (دیکھنا) شہادت کو مت چھپانا۔ جو اس کو چھپائے گا وہ دل کا گنہگار ہوگا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔

تفسیر آیات

282- دین۔دین کا لفظ  بہت وسیع مفہوم رکھتاہے،عربی میں یہ عین کے مقابلہ میں ہے اور اس کا اطلاق ہر اس معاملت پر ہوتاہے ،جس کے معاوضہ کا ایک جزو فی الفور ادا نہ ہو۔۔۔تداینتم بدین۔ دین یا ادھار معاملت کی دو صورتیں ہیں۔ایک یہ کہ چیز ابھی خریدی اور قیمت کیلئے طے پاگیا کہ اتنی مدت کے بعد دیں گے،دوسری یہ کہ قیمت اسی وقت دیدیں ،اور چیز کیلئے طے پاگیا کہ اتنی مدت کے بعد لیں گے ،شرعاً دونوں صورتیں جائز ہیں،تفصیلات فقہ کی کتابوں میں ملیں گی۔تداینتم کے بعد دین کی تصریح تاکید کیلئے ہے۔۔اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّى۔فقہاء مفسرین نے اس سے یہ اشارہ سمجھا ہے کہ قرضہ کے معاملات میں مدت بالکل صاف اور متعین ہونا چاہئیے،گول اور مجمل نہ رہے"جاڑوں کے زمانہ میں""برسات کے موسم میں""ربیع کی فصل میں" ان مبہم مدتوں کے بجائے تعین وصراحت ہونا چاہئےکہ فلاں سنہ کے فلاں مہینہ کی فلاں تاریخ، فقیہ ابن العربی مالکی نے اس ایک آیت کے ذیل میں 52 مسئلے لکھے ہیں اور لکھا ہے کہ یہ آیت مسائلِ بیع میں اہم ترین ہے ۔۔۔۔۔۔- فاکتبوہ۔ یعنی مقدار قرضہ کو بھی اور مدت ادائیگی ،دونوں کو لکھ لو۔۔۔کہاں ایک طرف یہ مکمل نظامِ زندگی اور مفصل ضابطۂ حیات اور کہاں اس کے مقابلہ میں انجیل جس کے صفحات قانون و معاملت کی موٹی موٹی ہدایات تک سے خالی ہیں!۔۔۔۔۔سفیہ۔یہ مراد نہیں کہ پاگل ہو بلکہ صرف ضعیف العقل مراد ہے ۔۔۔۔۔۔ضعیف ۔یہاں ایک جامع لفظ ہے، نابالغ اور پیر فرتوت سب اس کے اندر آجاتے ہیں۔۔۔۔۔(کسی اور عذر یا مانع سے)مثلاً یہ کہ گونگا ہو،پردیسی ہو،ملک کی زبان سے ناواقف ہو۔۔۔۔۔فقہ امامیہ میں حریت ،قبولِ شہادت میں شرط نہیں ،صرف اسلام اور عدالت کافی ہیں،اور یہی مذہب تابعین میں سے بعض فقہاء اہل سنت کا ہے۔۔۔۔۔لیکن امام ابوحنیفہؒ کا قول ہے کہ ہر کلمہ گو،جب تک اس میں فسق کی کوئی کھلی ہوئی علامت نہ ہو،عدول (ثقہ)ہی سمجھاجائے گا۔(قرطبی)۔۔۔۔۔۔ ایک شوربرپاہے کہ اب زمانہ اس کا نہیں کہ مذہب خصوصاًاسلام کو عقائدِ معاد سے پرکھا جائے،اب تو دیکھنا یہ ہے کہ اس دنیا کیلئے سب سے زیادہ عملی مذہب کون ساہے؟ اور روزانہ مسائلِ زندگی کے حل کرنے میں کون مذہب سب سے زیادہ زور دے رہاہے ؟ یہ معیار بجائے خود کس حدتک صحیح ہے،یہ تو ایک الگ سوال ہے لیکن بہرحال جو لوگ اسی معیار کو مانے ہوئے ہیں کم سے کم وہ تو خلوئے ذہن کے ساتھ غور کریں کہ ساری شریعتوں میں اسلام سے بڑھ کر کس شریعت نے روزانہ زندگی کے چھوٹے بڑے تمام مسائل کے حل کرنے کا اہتمام رکھا ہے۔۔۔واشہدوا۔صیغۂ امر یہاں وجوب کیلئے نہیں،صرف استحسان کیلئے ہے،امام ابوحنیفہؒ،امام شافعیؒ،امام مالکؒ اور اکثر ائمہ کی یہی رائے ہے۔۔۔سبحان اللہ !تقویٰ الٰہی کی تاکید کن کن موقعوں پر کی ہے،اور حقوقِ عباد کی ادائی پر کتنازوردیاہے۔۔۔۔۔۔ بعض اہل علم نے"یعلمکم اللہ" کو فقرۂ سابق"واتقواللہ" سے بالکل مربوط پاکر استنباط کیا ہے کہ علمِ حقیقی عین نتیجہ ہوتاہے تقویٰ الٰہی کا،تقویٰ اختیار کرو اور از خود علمِ الٰہی مرحمت ہونے لگےگا۔۔۔لیکن بعض دوسرے اہل علم نے اسی شدت کے ساتھ اس کا انکار بھی کیا ہے، چنانچہ صاحب المنارنے بھی کہا کہ مختصر سے جملہ میں لفظ "اللہ" کا تین تین بار لانا اظہارِ جلالت و تاکید حکم کیلئے ہے۔(تفسیر ماجدی)

ــــ  قرآن کریم کی یہ سب سے لمبی آیت ہے اور اس میں معاملات کے بہت سے احکام شرح و بسط سے بیان فرمادیئےگئے ہیں۔پہلا حکم تو یہ ہے کہ جب ادھار کا لین دین کرو توضرور لکھ لیا کروکیونکہ بسااوقات انسان پہلے لکھنے سے شرماتاہے۔لیکن بعد میں طرح طرح کی غلط فہمیاں اور رنجشیں پیدا ہوجاتی ہیں اور نوبت لڑائی جھگڑے اور مقدمات تک پہنچتی ہے اور آپس کے تعلقات ہمیشہ کیلئے کشیدہ ہوجاتے ہیں۔لیکن اگر معاملہ کی ساری تفصیلات یعنی مقدار ،قسم اور ادائیگی کا مقررہ وقت لکھ لیا جائے تو پھر ان مفاسد سے نجات مل جاتی ہے ۔فقہی اصطلاح میں اگرچہ اسے واجب نہ کہا جائے لیکن اس کی اہمیت اور افادیت  سے کسی کو انکار نہیں۔حضور اکرمؐ سے مروی ہے کہ جو شخص تحریر نہیں کرتا اور اس کا حق ضائع ہوجائے تو اسے کوئی اجر نہ ملے گا اور اگر اس نے اپنا حق غصب کرنے والے کیلئے بددعا کی تو وہ بھی قبول نہ ہوگی کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے اس واضح ارشاد کی تعمیل نہیں کی۔(احکام القرآن)(ضیاء القرآن)

-آجکل تو زمانہ لکھنے اور لکھانے کا ہے لیکن آپ چودہ سوسال پیچھے مڑ کر دیکھیں تو دنیا کا سارا کاروبار صرف زبانی ہوتاتھا ۔لکھنے لکھانے اور دستاویز مہیا کرنے کی طرف سب سے پہلے توجہ قرآن نے مبذول کروائی۔(معارف القرآن)

- قرض لینے دینے والوں کو ہدایات: یہاں سودی قرضوں کے سلسلے کو یک قلم ختم کرنے کے بعد قرض دینے والوں اور قرض داروں دونوں کو نزاع اور نقصان سے محفوظ رکھنے کیلئے مندرجہ ذیل ہدایات دی ہیں:(الف) جب کوئی قرض لین دین ایک خاص مدت کیلئے ہوتو اس کی دستاویز لکھ لی جائے۔(ب)یہ دستاویز دونوں پارٹیوں کی موجودگی میں کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ لکھے ،اس میں کوئی دغل فشل نہ کرے اور جس کو لکھنے کا سلیقہ ہو اس کو چاہیے کہ وہ اس خدمت سے انکار نہ کرے ۔لکھنے کا سلیقہ اللہ کی ایک نعمت ہے ،اس نعمت کا شکریہ ہے کہ آدمی ضرورت پڑنے پر لوگوں کےکام آئے ۔اس نصیحت کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ اس زمانے میں لکھے پڑھے لوگ کم تھے۔دستاویز وں کی تحریر اور ان کی رجسٹری کا سرکار ی اہتمام اس وقت تک نہ عمل میں آیا تھا اور نہ اس کا عمل میں آنا ایسا  اآسان تھا۔(ج) دستاویز کے لکھوانے کی ذمہ داری قرض لینے والے پر ہوگی ۔وہ دستاویز میں اعتراف کرے گا کہ میں فلاں بن فلاں کا اتنے کا قرضدار ہوں اور لکھنے والے کی طرح اس پر بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اس اعتراف میں تقویٰ ملحوظ رکھے اور ہرگز صاحبِ حق کے حق میں کسی قسم کی کمی کرنے کی کوشش نہ کرے۔(د) اگر یہ شخص کم عقل ہو یا ضعیف ہو یا دستاویز وغیرہ لکھنے لکھانے کی صلاحیت نہ رکھتاہوتو جو اس کا ولی یا وکیل ہو وہ اس کا قائم مقام ہوکر انصاف اور سچائی کے ساتھ دستاویز لکھوائے۔(ہ)اس پر دومردوں کی گواہی ثبت ہوگی جن کے متعلق ایک ہدایت یہ ہے کہ وہ من رجالکم یعنی اپنے مردوں میں سے ہوں ۔جس سے بیک وقت دوباتیں نکلتی ہیں۔ایک یہ کہ وہ مسلمان ہوں ۔دوسری یہ کہ وہ اپنے میل جول اور تعلق کے لوگوں میں سے ہوں کہ فریقین ان کو جانتے پہچانتے ہوں ۔دوسری  یہ کہ وہ ممن ترضون یعنی پسندیدہ اخلاق و عمل کے ثقہ،معتبر اور ایماندار ہوں۔(و) اگر مذکورہ صفات کے دومرد میسر نہ آسکیں تو اس کیلئے ایک مرد اور دو عورتوں کا انتخاب کیا جاسکتاہے۔دوعورتوں کی شرط اس لیے ہے کہ اگر ایک سے کسی لغزش کا صدور ہوگا تو دوسری کی تذکیر و تنبیہ سے اس کا سدباب ہوسکے گا۔یہ فرق عورت کی تحقیر کے پہلوسے نہیں بلکہ اس کی مزاجی خصوصیات اور اس کے حالات و مشاغل کے لحاظ سے یہ ذمہ داری اس کیلئے ایک بھاری ذمہ داری ہے اس وجہ سے شریعت نے اس کے اٹھانے  میں  اس کیلئے سہارے کا بھی انتظام فرمادیاہے ۔یہ موضوع اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ سورۂ نساء میں زیر بحث آئے گا۔(ذ)جو لوگ  کسی دستاویز کے گواہوں میں شامل ہوچکے ہوں، عندالطلب ان کو گواہی سے گریز کی اجازت نہیں ہے ۔اس لیے کہ حق کی شہادت ایک عظیم معاشرتی خدمت بھی ہے اور شہداء اللہ ہونے کے پہلوسے اس امت کے فریضۂ منصبی کا ایک جزوبھی ۔(ح)قرض لین دین کا معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ،اگر وہ کسی مدت کیلئے ہے، دست گرداں نوعیت کا نہیں ہے، تو اس کی قید ِ تحریر میں لانے سے گرانی نہیں محسوس کرنی چاہئیے جو لوگ اس کو زحمت سمجھ کر ٹال جاتے ہیں وہ سہل ا نگاری کی وجہ سے بسااوقات ان جھگڑوں میں پھنس جاتے ہیں جس کے نتائج بڑے دوررس نکلتے ہیں۔(ط)مذکورہ بالاہدایات اللہ تعالیٰ کے نزدیک حق و عدالت سے قرین ،گواہی کو درست رکھنے والی اور شک و نزاع سے بچانے والی ہیں اس لیے معاشرتی اصلاح و فلاح کیلئے ان کا اہتمام ضروری ہے۔(ی)دست گرداں لین دین کیلئے تحریر و کتابت کی پابندی نہیں ہے۔(ک)ہاں اگر کوئی اہمیت رکھنے والی خریدوفروخت ہوئی ہے تو اس پر گواہ بنالینا چاہئے تاکہ کوئی نزاع پیدا ہوتو اس کا تصفیہ ہوسکے۔(ل)نزاع پیدا ہوجانے کی صورت میں کاتب یا گواہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کسی فریق کیلئے جائز نہیں ہے۔کاتب اور گواہ ایک اہم اجتماعی و تمدنی خدمت انجام دیتے ہیں۔اس وجہ سے ان کو بلاوجہ نقصان پہنچانے کی کوشش کا نتیجہ ہوگا کہ ثقہ اور محتاط لوگ گواہی اور تحریر وغیرہ کی ذمہ داریوں سے گریز کرنے لگیں اور لوگوں کو پیشہ ور گواہوں کے سوا کوئی معقول گواہ ملنا مشکل ہوجائیگا۔اس زمانے میں ثقہ اور سنجیدہ لوگ گواہی وغیرہ کی ذمہ داریوں سے جو بھاگتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ کوئی معاملہ نزاعی صورت اختیار کرلیتاہےتو اس کے گواہوں کی شامت آجاتی ہے۔یہ بے چارے ہتک ،اغوا اور نقصان مال و جائداد بلکہ قتل تک کی تعدیوں کے نشانہ بن جاتے ہیں ۔قرآن نے اس قسم کی شرارتوں سے روکا کہ جو لوگ اس قسم کی حرکتیں کریں گے وہ یادرکھیں کہ یہ کوئی چھوٹی موٹی نافرمانی نہیں ہے جو آسانی سے معاف ہوجائے گی بلکہ یہ ایک ایسا فسق ہے جو ان کے ساتھ چمٹ کے رہ جائے گا اور اس کے برے نتائج سے پیچھا چھڑانا مشکل ہوجائے گا۔یہ اس شہادت کی بنیاد ڈھانے کی کوشش ہے جو اس امت کی بعثت کی اصل غایت ہے۔آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہو ۔خدانافرمانیوں پر فوراً نہیں پکڑتا ۔لیکن جب پکڑتا ہے تو کوئی اس سے چھوٹ نہیں سکتا۔پھر فرمایا کہ یہ "اللہ تمہیں تعلیم دے رہاہے"جس میں سرتاسر تمہارا اپنا ہی نفع ہے اور وہی ہے جو ساری باتوں سے واقف ہے اس وجہ سے اسی کو تعلیم و ہدایت دینے کا حق پہنچتاہے۔(تدبر قرآن)

- ولایضار کاتب ولا شہید ۔اسلام میں عدل و انصاف قائم کرنے کا اہم اصول ،کہ گواہوں کو کوئی نقصان یا تکلیف نہ پہنچے۔آیت کے شروع میں لکھنے والوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لکھنے یا شاہد بننے سے انکار نہ کریں تو یہاں یہ احتمال تھا کہ لوگ ان کو پریشان کریں گے اس لئے آخر آیت میں فرمایا وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيْدٌ یعنی کسی لکھنے والے یا گواہی دینے والے کو نقصان نہ پہنچایا جائے یعنی ایسا نہ کریں کہ اپنی مصلحت اور فائدہ کے لئے ان کی مصلحت اور فائدہ میں خلل ڈالیں۔ پھر فرمایا وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ یعنی اگر تم نے لکھنے والے یا گواہ کو نقصان پہنچایا تو اس میں تم کو گناہ ہوگا۔۔۔۔۔اس سے معلوم ہوا کہ لکھنے والے یا گواہ کو نقصان پہنچانا حرام ہے، اسی لئے فقہاء نے فرمایا کہ اگر لکھنے والا اپنے لکھنے کی مزدوری مانگے یا گواہ اپنی آمد ورفت کا ضروری خرچ طلب کرے تو یہ اس کا حق ہے اس کو ادا نہ کرنا بھی اس کو نقصان پہنچانے میں داخل اور ناجائز ہے، اسلام نے اپنے نظام عدالت میں جس طرح گواہ کو گواہی دینے پر مجبور کیا ہے اور گواہی چھپانے کو سخت گناہ قرار دیا ہے اس طرح اس کا بھی انتظام کیا کہ لوگ گواہی سے بچنے پر مجبور نہ ہوجائیں اسی دو طرفہ احتیاط کا یہ اثر تھا کہ ہر معاملہ میں سچے بےغرض گواہ مل جاتے اور فیصلے جلد اور آسان حق کے مطابق ہوجاتے۔ آج کی دنیا نے اس قرآنی اصول کو نظر انداز کردیا ہے تو سارا نظام عدالت برباد ہوگیا۔ ۔(معارف القرآن)

۔معاہدات کی تحریر؛چند اہم ہدایات

1-تحریر مستحب ہے واجب نہیں:۔یہ قرآن کی سب سے لمبی آیت ہے جس میں ادھار سے تعلق رکھنے والے معاملات کو ضبط تحریر میں لانے کی ہدایات دی جارہی ہے۔مثلاً جائدادوں کے بیع نامے، بیع سلم کی تحریر یا ایسے تجارتی لین دین کی تحریر جس میں پوری رقم یا اس کا کچھ حصہ ابھی قابل ادائیگی ہو۔تاکہ بعد میں اگر کوئی نزاع پیدا ہوتو یہ تحریر شہادت کا کام دے سکے اور یہ حکم استحباباً ہے واجب نہیں ۔چناچہ اگر فریقین میں باہمی اعتماد اتنا زیادہ ہوکہ باہمی نزاع کی صورت کا امکان ہی نہ ہو یا محض قرض کا معاملہ ہو اور اس طرح موثوق تحریر سے کسی فریق کے ٹھیس پہنچتی ہو تو محض یادداشت کیلئے کوئی فریق اپنے پاس ہی لکھ لے تو یہ بھی کافی ہوسکتاہے۔

2- ہمارے ہاں آج کل ایسی تحریروں کے سند یافتہ ماہرین موجود ہیں جنہیں وثیقہ نویس کہا جاتاہے ۔وثیقہ نویس تقریباً انہی اصولوں کے تحت سرکاری کاغذات پر ایسے معاہدات لکھ دیتے ہیں اور چونکہ یہ ایک مستقل فن اور پیشہ بن چکا ہے۔لہذا ان کے انکار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔الا یہ کہ معاملہ میں کوئی قانونی سقم ہو۔ 

3- معروف معنوں میں وکیل بھی ولی کی حیثیت سے املا کرواسکتاہے۔

4- اگر ایک بھی مرد میسر نہ آئے تو چار عورتیں گواہ نہیں بن سکتیں۔ اور گواہی کا یہ نصاب صرف مالی معاملات کیلئے ہے۔ مثلاً زنا اور قذف کیلئے چار مردوں ہی کی گواہی ضروری ہے ۔چوری اور نکاح و طلاق کیلئے دومردوں ہی کی گواہی ہوگی۔افلاس(دیوالیہ) کیلئے اس قبیلے کے تین مردوں کی،رؤیت ہلال کیلئے صرف ایک مسلمان کی اور رضاعت کے ثبوت کیلئے صرف ایک متعلقہ عورت(دایہ) ہی گواہی کیلئے کافی ہوتی ہے۔ 

5- اگر عورت کا حق مرد سے نصف ہے تو فرائض بھی نصف ہونے چاہئیں عورتوں پر اڑھائی نمازیں ،پندرہ روزے اور نصف حج فرض ہونا چاہئیے وغیرہ وغیرہ۔حالانکہ یہ طبقہ اڑھائی نمازیں تو درکنار ایک نماز بھی پڑھنے کا روادار نہیں۔

6-عورت کی گواہی کو صرف اس صورت میں کیا گیا ہے جب کوئی دوسرا گواہ میسر نہ آسکے اور اگر دوسرا گواہ میسر آجائے تو اسلام عورت کو شہادت کی ہرگز زحمت نہیں دیتا۔ 

7- جو مسلمان اللہ کی کسی آیت کی تضحیک کرتایا مذاق اڑاتا ہے اسے اپنے ایمان کی خیر منانا چاہئیے ۔اور ایسے لوگوں کو اسلام سے منسلک رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔دل سے تو وہ پہلے ہی اللہ کے باغی بن چکے ہیں ۔اور یہی وہ لوگ ہیں جو اسلام کو کافروں سے بھی زیادہ نقصان پہنچارہے ہیں۔ 

8- گواہی کا چھپانا کتمان شہادت میں آتاہے اور یہ امر گناہ کبیرہ ہے۔ 

9- جب بھی کوئی فرد معاملہ کرے تو فریقین میں سے کوئی ایک یاداشت کیلئے اپنے پاس بطور سند ضرور لکھ لے۔ (تیسیر القرآن)

- گواہوں پر سختی کی صورتیں: اس کی کئی صورتیں ممکن ہیں مثلاً ایک یہ کہ کسی شخص کو کاتب بننے یا گواہ بننے پر مجبور نہ کیا جائے ۔دوسرے یہ کہ کاتب یا گواہ کی گواہی اگر کسی فریق کے خلاف جاتی ہے تو انہیں تکلیف نہ پہنچائے جیساکہ آج کل مقدمات میں اکثر ایسا ہوتاہے اور فریق مخالف گواہوں کو یا وثیقہ نویس کو اس قدر دھمکیاں اور تکلیفیں دینا شروع کردیتاہے کہ وہ گواہی نہ دینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں یا پھر غلط گواہی دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور تیسری صورت انہیں نقصان پہنچانے کی یہ ہے کہ انہیں عدالت میں بلایا توجائے لیکن انہیں آمد و رفت اور کھانے پینے کا خرچہ تک نہ دیا جائے ۔ (تیسیر القرآن)

283۔ رہن کے متعلق ہدایات مجاہد ؒ اور ضحاکؒ کے متعلق تفسیروں میں منقول ہے کہ یہ حضرات رہن کو سفر کے ساتھ مخصوص مانتے تھے۔مجھے ان کی یہ رائے قوی معلوم ہوتی ہے۔ قرآن کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ جب اعتماد کرنے کیلئے وجوہ و اسباب موجود ہوں تو رہن پر قبضہ جمائے رکھنے کیلئے کوئی وجہ باقی نہیں رہی  یہ امانت،امانت رکھنے والوں کو لوٹا دینی چاہئے ۔ بالخصوص جب معاملہ مسلمان  اور مسلمان کے درمیان ہو تب تو یہ چیز نہ صرف اسلامی اخوت و مروت کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک قسم کی دناءت بھی ہے ۔جب ایک شخص دستاویز اور گواہی کی ضمانتیں حاصل کرسکتاہے تو یہ بات نہایت بھونڈی ہے کہ وہ اپنے قرض کی ضمانت  میں قرض دار کا مکان ، یا اس کا کھیت ، یا اس کا باغ ،یا اس کا گھوڑا ، یا اس کی بکری یا اس کے بیوی بچوں کے پہننے کے زیور اور کپڑے اپنے قبضہ میں رکھے۔ہمیں اس روایت سے انکار نہیں ہے جس سے معلوم ہوتاہے کہ آنحضرتؐ نے اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ جوکے کے بدلے رہن رکھی۔ لیکن اس سے جوبات زیاد ہ سے زیادہ نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کو شدید مجبوری کے سبب سے کسی بنیے یا یہودی سے قرض لینے کی نوبت آجائے اور وہ رہن کے سوا کسی اور صورت پر معاملہ کرنے کیلئے تیار نہ ہو تو اس کے ساتھ یہ معاملہ کیا جاسکتاہے۔اور بہت کھینچ تان کی جائے تو اس سے یہ بات  بھی نکالی جاسکتی ہے کہ کسی تنگ دل مسلمان سے بھی بدرجہ  مجبوری اس طرح معاملہ کیا جاسکتاہے لیکن عام مسلمانوں کیلئے جب باہمی معاملت کی ایک واضح قابل اعتماد اور اسلامی اخوت و مروت کے تقاضوں کے مطابق ایک شکل بیان کردی گئی ہے تو اس کے ہوتے ہوئے کس طرح اس کو پسند یدہ قراردیاجاسکتاہے کہ بلاکسی مجبوری کے بھی وہ رہن پر قرض لین دین کریں۔ یہ بات قرآن کی اس آیت کے تو بالکل خلاف ہے ،رہی حدیث تو اس سے بھی رہن کے عام جواز پر استدلال کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ایک تو یہ معاملہ، جیساکہ ہم نے اشارہ کیا ،ایک یہودی کے ساتھ ہوا۔دوسرے صورت واقعہ صاف گواہی دے رہی ہے کہ یہ بہت مجبوری کی صورت میں ہوا۔زیر بحث آیت میں مفسرین نے عام طورپر امانت سے وہ قرض مراد لیا ہے جو کوئی شخص کسی کو بغیر رہن کے مجرد اعتماد پر دے دے ۔لیکن قرض کیلئے امانت کی تعبیر گوناگوں پہلوؤں سے ہمارے نزدیک غلط ہے ۔اصل میں حضرات چونکہ یہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ سفر ختم ہوجانے کے بعد جب اعتماد و اطمینان کی شکل پیدا ہوجائے تو رہن واپس کردینا چاہئے اس وجہ سے انہیں امانت کی تاویل میں یہ تکلف کرنا پڑا لیکن ہم نے جو تاویل کی ہے اس میں آیت و حدیث دونوں کا محل الگ الگ معین ہوگیا ہے اس وجہ سے نہ  اس تکلف میں پڑنے کی ضرورت باقی رہی اور نہ اس کی تردید میں دلائل جمع کرنے کی ضرورت باقی رہی ۔(تدبرقرآن)

- رہن کی چار صورتیں رہن کے مطالبہ کی چار ممکنہ صورتیں ہیں مثلاً سفر ہو یا حضر ہو اورکاتب نہ مل رہاہو،دوتویہ ہوئیں اور دویہ ہیں کہ سفر یا حضر دونوں جگہ کاتب مل سکتاہے مگر قرض دینے والا محض تحریرپر اعتماد نہیں کرتااور اپنے قرضہ کی واپسی کی ضمانت کے طورپر رہن کا بھی مطالبہ کرتاہے اور یہ کہ رہن خواہ تحریر کے ساتھ ہو یا تحریر کے بغیر صرف رہن ہو ۔جیسا کہ سیدنا عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہؐ نے ایک یہودی (ابوشحم) سے ادھار اناج خریدا (تیس صاع جو،اپنی خانگی ضرورت کیلئے) اور آپؐ نے اپنی زرہ بطوررہن اس کے پاس رکھی تھی (بخاری)اور یہ رہن حضر میں تھا اور بلا تحریر تھا۔ چنانچہ ان چاروں صورتوں میں رہن جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے جوان میں سے صرف ایک صورت کا ذکر فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام اپنے پیروؤں کو فیاضی کی تعلیم دینا چاہتاہے اور یہ بات بلند اخلاق سے فروتر ہے کہ ایک آدمی مال رکھتاہو اور وہ دوسرے ضرورت مند کی کوئی چیز رہن رکھے بغیر اسے قرض نہ دے ۔(تیسیر القرآن)

- دل ہی خیر و شر کا منبع ہے: رسول اللہؐ نے صحابہ کرام ؓ کو خبردار کرتے ہوئے فرمایا: سن لو!"بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا یسا ہے کہ جب وہ درست ہو تو سارا جسم ہی درست ہوتاہے اور وہ بگڑجائے تو سارا جسم ہی بگڑا جاتاہے ۔یاد رکھو! وہ ٹکڑا(انسان کا) دل ہے"(بخاری)اور ایک دوسری حدیث میں میں ہےکہ جب انسان کوئی گناہ کا کام کرتاہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتاہے پھر اگر انسان توبہ کرلے تو وہ نقطہ دھل جاتاہے اور اگر توبہ نہ کرے بلکہ مزید گناہ کئے جائے تو وہ نقطہ بڑھتا رہتاہے۔حتیٰ کہ اس کے سارے دل کو گھیرلیتاہے اور اسے سیاہ کردیتاہے (مسلم)(تیسیر القرآن)

- (کتابت دستاویز کیلئے،جبکہ معاملۂ رہن کی ضرورت آپڑے)رہن کے سلسلہ میں سفر کی تصریح شائد اس لئے کردی گئی ہے کہ سفر کی حالت میں معذوری کے پیش آجانے کا احتمال زیادہ ہے، ورنہ بیان دراصل معذوری کا ہے، اور یہ سفر کے ساتھ محدود و مقید نہیں، فقہائے مفسرین نے اسے عام معذوری کیلئے رکھا ہے ۔۔۔رھن۔ایسی حالت  میں اطمینان کا ذریعہ یہی ہوتاہے ،فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ رہن بالقبضہ تو صرف قرض دینے والے کے اطمینان کیلئے ہے ،اسے یہ حق نہیں کہ وہ شے مرہون سے فائدہ بھی اٹھاتارہے۔۔۔(اور اصل شے قلب ہی کی گنہگاری ہے۔)اٰثم قلبہ۔سب سے بڑا گناہ تو قلب ہی کا گناہ ہے ،چناچہ کفر جو سارے کبائر سے بڑھ کر ،کبیرہ ہے،قلب ہی کا گناہ ہے، اس لئے اس اسلوب بیان نے خود یہ ظاہر کردیا کہ کتمانِ شہادت شدید ترین گناہ ہے۔۔۔ ۔۔

- یہ ادائے شہادت کا حکم عام ہے تمام معاملاتِ قانونی کیلئے ،مثلاً نکاح، مہر،وصیت وغیرہ،صرف معاملۂ رہن کے ساتھ مخصوص نہیں، اور شہادت چھپانے کی ساری صورتیں اس ممانعت کے اندر آجاتی ہیں،مثلاً ادائے شہادت سے گریز کرنا یا شہادت میں واقعات صحیح بیان نہ کرنا ۔قس علیٰ ہذا۔۔۔ومن یکتمھا۔ اور یہ کتمان خواہ جزئی ہو یا کلی بہر صورت معصیت ہے ،ایک صحت مند معاشرہ کیلئے لازمی ہے کہ اس کا ہر فرد سچی گواہی دینے کیلئے ہر وقت آمادہ رہے،شریعت کی نگاہ میں اخفائے شہادت اور جھوٹی شہادت دونوں سخت ترین جرم ہیں۔(تفسیر ماجدی)


چالیسواں رکوع

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 284 جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
 اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ  285 رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی۔ سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
 لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ 286 خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے ان کا نقصان پہنچے گا۔ اے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیو۔ اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما۔

تفسیر آیات

284۔ تفسیر مظہری میں ہے کہ انسان پر جو اعمال اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کئے گئے ہیں وہ کچھ تو ظاہری اعضا و جوارح سے متعلق ہیں مثلاً نماز ،روزہ، زکوٰ ۃ، حج اور معاملات۔اور کچھ وہ ہیں جو انسان کے قلب اور باطن سے متعلق ہیں مثلاً ایمان و اعتقاد، اخلاق صالحہ (تواضع ،صبر، قناعت ،سخاوت وغیرہ) اور اخلاق رذیلہ (کبر ،حسد، بغض ،حب دنیا، حرص وغیرہ)

- یہی وہ روح ہے جو قرآنِ کریم انسانوں میں پیدا کرتاہے کہ ہر قانون کے اول یا آخر میں خوف خدا اور فکر آخرت کا ایسا محافظ ان کے قلوب پر بٹھاتاہے کہ وہ رات کے اندھیرے میں اور خلوتوں میں بھی کسی حکم کی خلاف ورزی کرتاہوا ڈرتاہے۔(معارف القرآن)

- قوانین و احکام کے باب میں جس طرح نماز کو سب سے زیادہ اہمیت ہے اسی طرح عقائد کے باب  میں توحید کو اساسِ دین کا مقام حاصل ہے۔(تدبرقرآن)

- سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے ہمیں غمزدہ بنادیا ہم نے خیال کیا کہ اگر کسی کے دل میں گناہ کا خیال بھی آئے تو اس کا بھی حساب ہوگا کہ پھر معلوم نہیں کہ اس کی معافی ہو یا نہ ہو،اور یہ بات انسان کے اختیار سے باہر ہے ۔چنانچہ صحابہ کرامؓ نے آپؐ سے شکایت کی تو آپؐ نے فرمایا: کہو! ہم نے (اللہ کا ارشاد) سنا اور ہم اطاعت کرتے ہیں ۔صحابہ کرامؓ نے ایسا ہی کہا تو پھر(اٰمن الرسول) سے لے کر اگلی دوآیات نازل ہوئیں اور "لایکلف اللہ نفساً الا وسعھا" نے اس آیت کے اس حکم کو منسوخ کردیا(ترمذی)یعنی دل میں پیدا ہونے والے خیالات پر گرفت معاف کردی گئی"۔(تیسیر القرآن)

۔ "اوتخفوہ یحاسبکم به اللہ" دل کی پوشیدہ باتوں کا محاسبہ کرنے سے یہ مراد نہیں ہےکہ دل میں جو خیالات اور وسوسے گزرتے  رہتے ہیں ان کا بھی محاسبہ ہو گا  بلکہ اس سے صرف  وہ عزائم مراد ہیں جو مضبوط ارادے کے ساتھ دل میں موجود ہیں لیکن کسی مجبوری یا مزاحمت کے سبب سے وہ ظاہر نہ ہو سکے یا  عمل میں نہ آ سکے۔ مثلا ایک شخص اگر کسی کے قتل کا دل میں پختہ ارادہ رکھتا ہے تو ہر چند کسی خوف یا مجبوری کے سبب سے اس کا ارادہ بروئے کار نہ آ سکے لیکن اللہ تعالٰی کے ہاں اس ارادےپر اس کی پکڑ ہو گی۔ (تدبرِ قرآن)

- ذکر مغفرت کی تقدیم ذکر تعذیب پر شاید اس لئے ہے کہ  اللہ تعالیٰ کی خود صفت ِ غفر مقدم ہے،صفتِ غضب پر۔۔۔آیت سے اہل سنت نے مومنِ عاصی و صاحبِ کبائر کی مغفرت پر استدلال کیا ہے،اس لئے کہ مومن مطیع تو بہر صورت ماجور ہوگا اور کافرِ منکر بہر صورت معذب،درمیانی  حالت مومن صاحبِ کبائر ہی کی باقی رہ جاتی ہے۔۔۔(اپنے قانون عدل وحکمتِ کاملہ کے تحت) تعذیب کو مشیت الٰہی پر معلق رکھنے سے اہل سنت کو ایک دلیل اپنے مسلک کی تائید میں ہاتھ آگئی ہے۔(تفسیر ماجدی)

285۔ایک جامع اور مؤثر دعا:۔ آیت : اول آیت پر حضرات صحابہ کو بڑی پریشانی ہوئی تھی ان کی تسلی کیلئے یہ دو آیتیں اٰمن الرسولالخ اور لایکلف اللہ نفساً الخ نازل ہوئیں اب اس کے بعد ربنا لاتؤاخذنا آخر سورت تک نازل فرما کر ایسا اطمینان دیا گیا کہ کسی صعوبت اور دشواری کا اندیشہ بھی باقی نہ چھوڑا کیونکہ جن دعاؤں کا ہم کو حکم ہواہے ان کا مقصود یہ ہے کہ بیشک ہر طرح کا حق حکومت اور استحقاق عبادت تجھ کو ہم پر ثابت ہے مگر اے ہمارے رب اپنی رحمت و کرم سے ہمارے لئے ایسے حکم بھیجے جائیں جن کے بجا لانے میں ہم پر صعوبت اور بھاری مشقت نہ ہو نہ بھول چوک میں ہم پکڑے جائیں نہ مثل پہلی امتوں کے ہم پر شدید حکم اتار ے جائیں نہ ہماری طاقت سے باہر کوئی حکم ہم پر مقرر ہواس سہولت پر بھی ہم سے جو قصور ہوجائے اس سے درگزر اور معافی اور ہم پر رحم فرمایا جائے حدیث میں ہے کہ یہ سب دعائیں مقبول ہوئیں۔اور جب اس دشواری کے بعد جوحضرات صحابہ کو پیش آچکی تھی اللہ کی رحمت سے اب ہر ایک دشواری سے ہم کو امن مل گیا تو اب اتنا بھی ہونا چاہئے کہ کفار پر ہم کو غلبہ عنایت ہو ورنہ ان کی طرف سے مختلف دقتیں دینی اور دنیوی ہر طرح کی مزاحمتیں پیش آکر جس صعوبت سے اللہ اللہ کرکےاللہ کے فضل سے جان بچی تھی کفار کے غلبہ کی حالت میں پھر وہی کھٹکا موجب بے اطمینانی ہوگا۔(تفسیر عثمانی)

- انگریزوں میں ایک مشہور مؤرخ گبن ہواہے ،قرآن مجید اس کے نزدیک کلام الٰہی نہیں،کلام محمدیؐ ہے ،بایں ہمہ اس آیت کی وسعت پر حیران ہوکر کہتاہے،"محمدؐ کی وسیع المشربی نے اپنے پیش روؤں کیلئے بھی وہی درجہ رکھا جو خود اپنے لئے اور ہبوط آدمؑ سے لے کر نزول قرآن تک سلسلۂ وحی قائم رکھا "(تاریخ زوال رومن امپائر)۔۔۔غفرانک ربنا۔ یعنی وہ مغفرت جو توہی عطاکرے گا ،اس میں رد آگیا نصرانیوں اور دوسری قوموں کا ،جو مغفرت کو عطیۂ الٰہی نہیں،بلکہ "ابن اللہ" یا کسی اور کی عنایت کا ثمرہ سمجھتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

86-285۔ان دوآیات کے خاص فضائل

86-285۔ سورۂ بقرہ کی یہ آخری آیتیں مجھے عرش عظیم کے نیچے جو رحمتوں اور برکتوں کا خزانہ ہے اس سے عطافرمائی گئی ہیں اور یہ وہ انعام ِ عظیم ہے جو کسی نبی کو نہیں دیا گیا۔(ضیاء القرآن)

285۔صحابہ کرام کے اس جملہ پر ان کی تعریف کی گئی جو انہوں نے رسول اللہ ؐ کے ارشاد کے موافق زبان سے کہا تھا ،سمعنا و اطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر۔(معارف القرآن)

- کتاب الٰہی پر ایمان لانے والوں میں سب سے پہلے جس کا ذکر ہوا وہ خود رسول اللہ ؐ کی ذات ہے ۔دنیوی بادشاہ اپنی رعایا کو جو قانون دیتے ہیں وہ خود اس قانون سے بالاتر ہوتے ہیں لیکن خداکے قانون میں خود اس قانون کا لانے والا بھی نہ صرف یہ کہ اس کے تحت ہوتاہے بلکہ سب سے بڑھ کر انا اول المؤمنین /انا اول المسلمین ۔۔۔۔۔

- وقالوسمعنا واطعنا۔ اس میں سمعنا کا لفظ دل کی قبولیت کا اظہار کرتاہے اور اطعنا عملی اطاعت کا اور ایمان و اسلام کی اصل حقیقت یہی ہے ۔اس میں یہود کے سمعنا و عصینا پر ایک لطیف تعریض بھی ہے۔(تدبرقرآن)

- ایمان بالغیب کے چھ اجزاء: اللہ پر،اس کے فرشتوں پر،اس کی کتابوں پراور اس کے رسولوں پر اور جو یہاں مذکور نہیں ہوئے بلکہ دوسرے مقامات پر مذکور ہیں وہ ہیں روز آخرت پر ایمان  اور اس بات پر ایمان کہ ہرطرح کی بھلائی اور برائی اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔۔۔۔۔"تلک الرسل فضلنا بعضھم علیٰ بعض"سے ثابت ہے ،اور بے شمار احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ سیدنامحمد الرسولؐ سب انبیاء سے افضل ہیں۔(تیسیر القرآن)

286۔ اس دعا کی پوری روح کو سمجھنے کےلئے یہ بات پیش نظر رہنی چائیے کہ یہ آیات ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے معراج کے موقع پر نازل ہوئی تھیں جبکہ مکے میں کفر و اسلام کی کشمکش اپنی انتہاکو پہنچ چکی تھی اور مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے۔۔۔دینے والا جب خود ہی مانگنے کا ڈھنگ بتائے تو ملنے کا یقین آپ سے آپ پیدا ہوتاہے۔اس لئے یہ دعا اس وقت مسلمانوں کے لئے غیر معمولی تسکین ِ قلب کا موجب ہوئی۔(تفہیم القرآن)

- نسینا(بھول چوک،)اخطانا() تحمل علینا اصراً اس سے مراد وہ سخت اعمال ہیں جو بنی اسرائیل پر عائد تھے کہ کپڑا پانی سے پاک نہ ہو بلکہ کاٹنا یا جلانا پڑے ،قتل کے بغیر توبہ قبول نہ ہو، اعمالِ بر پر عذاب ،روزوں کی سختی وغیرہ۔(معارف القرآن)

- ہرایک کی وسعت کے مطابق محاسبہ ۔صلاحیتیں /قوتیں/استعداد/استطاعت۔دنیا میں کامیاب مگر آخرت میں قطعی ناکام ۔امت وسط کی ذمہ داری۔(بیان القرآن)

86-285۔ حضرت ابو مسعود البدری سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا:"جس نے سورۂ بقرہ کی آخری دوآیتیں رات کو پڑھیں تو وہ اس کیلئے (رات کی عبادت سے) کافی ہیں۔"(صحیح بخاری، المغازی، باب:12، حدیث:4008)۔(احسن الکلام)

- جزا اور سزا کا کلیہ: اس جملہ میں اللہ تعالیٰ اپنے قانون سزو جزا کا کلیہ بیان فرمادیا۔ یعنی جوکام کسی انسان کی استطاعت سے بڑھ کر ہیں ان پر انسان سے باز پرس نہیں ہوگی ،باز پرس تو صرف اسی بات پر ہوگی   جو انسان  کے  اختیار اور استظاعت میں ہو ۔۔۔۔۔۔۔-اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون جزاو سزا کا دوسرا کلیہ بیان فرمایا جو یہ ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایاہواور وہ ضرور اسے ملے گا جو برا کام کیا ہو تو اس کی سزا بھی اسے ہی ملے گی اور ضرورملے گی نہ یہاں آباؤاجداد کی نیکی کام آسکتی ہے اور نہ اس کا نسب ،یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ (تیسیر القرآن)

- خطا و نسیان کی معافی کا اعلان: ۔ اللہ تعالیٰ نے دعا کا یہ جملہ خود ہی مسلمانوں کو سکھا کر نہ صرف ان کے سابقہ خلجان کو ختم کردیا بلکہ مزید تسلی و تشفی کا سامان بھی مہیا فرمادیا ۔ان کا خلجان یہ تھا کہ دل میں پیدا ہونے والے خیالات جو ہمارے اپنے اختیار میں نہیں ہوتے ان پر مواخذہ نہ ہو اور اس آیت کی روسے ظاہری اعمال جو بھول چوک سے صادر ہوں ان سے بھی معافی کی درخواست سکھائی گئی اور جب دعا قبول کرنے والا ہی یہ دعا سکھا رہاہو تو اس کی قبولیت میں کیا شک ہوسکتاہے ۔چنانچہ آپؐ نےفرمایا کہ میری امت سے خطا و نسیان کو معاف کردیا گیا ہے۔۔۔ سابقہ شریعتوں کے احکام:  یہاں بوجھ سے مراد سخت قسم کے شرعی احکام ہیں۔جیسے بچھڑے کی پرستش کرنے والوں کی توبہ صرف قتل سے قابل قبول ہونا ،یہود میں صرف قصاص تھا، دیت یا معافی کی صورت نہ تھی۔ان پر زکوٰۃ چوتھاحصہ تھی اور کپڑے پر اگر پیشاب لگ جاتاتو اسے کاٹ دینا پڑتا تھا،نیز غنیمت کے اموال ان پر حرام تھے۔وغیرہ وغیرہ اللہ تعالیٰ نے ایسے سخت احکام میں تخفیف فرمادی۔۔۔۔- آپؐ نے فرمایا کہ "جو شخص رات کو(سوتے وقت) سورۂ بقرہ کی آخری دوآیات پڑھ لے تو وہ اس کو کفایت کرتی ہیں"(بخاری)(تیسیر القرآن)

- یعنی اس نیک عمل پرثواب و جزا جو بندہ اپنے ارادہ اختیار سے کرے اور اس بدعمل پر عذاب و سزا جو بندہ اپنے ارادہ و اختیار سے کرے۔یہ رد ہے ہندو اور بدھ مت کے عقیدہ کرم کا یعنی انسان جو بھی کرے گا وہ لازمی نتیجہ پچھلے جنم میں اس کے افعال و اعمال کا،گویا اس قالب میں انسان اپنے ارادہ و اختیار سے کچھ کرہی نہیں سکتا،یہ جبریت کی انتہائی شکل ہے،اور تناسخ اور عقیدہ جبریت لازم ملزوم ہیں،قرآن مجید نے اس فاسد عقیدہ پر ضرب لگائی اور بتایا کہ نیکی اوربدی کی راہیں تو انسان کے اپنے اختیار کی چیزیں ہیں اور یہیں سے نصاریٰ کے عقیدۂ کفارہ کا بھی رد نکل آیا۔جس کا ماحصل یہ ہے کہ انسان کو اب عمل صالح کی ضرورت ہی نہیں"ابن اللہ" سب کی طرف سے بھینٹ چڑھ گئے ہیں، اور سب کی نجات کا سامان ان کی مصلوبیت سے ہوگیا ہے۔۔۔عفو،مغفرت،رحمت تینوں کی طلب کی تعلیم یہاں مل گئی۔۔۔دعاکے اس جزو سے معلوم ہواکہ اعدائے دین پر غلبہ بھی مسلمانوں کا ایک مطلوب بلکہ مقصود ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ ایک طرف ان حق پرستوں کی انتہائی خستہ حالی کو دیکھئیے اور دوسری طرف ان بلند اور پاکیزہ جذبات کو دیکھیئے، جن سے یہ دعا لبریز ہے۔ اس تقابل ہی سے صحیح اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس وقت اہلِ ایمان کو کس طرز کی اخلاقی و روحانی تربیت دی جا رہی تھی۔ (تفہیم القرآن)