20 - سورة طہ (مکیہ)

رکوع - 8 آیات - 135

مضمون: اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کی پشت پناہی خود کرتاہے۔ان کو عجلت پسندی اور بے صبری نقصان پہنچاتی ہے۔حضرت موسیٰؑ کی زندگی سے استدلال۔ (ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون :مسلمانوں کو حضرت  موسٰی ؑ  کی زندگی  کے نشیب و فراز  سے سبق  لیکر   قرآن  کے سائے  میں ، ابلیس  کا مقابلہ کرتے  ہوئے  ، اپنے  وقت  کے فرعون  کا صبر  و استقامت   سے مقابلہ  کرنا چاہیئے  ۔

شان نزول : سورۃ کہف  ، سورۃ  مریم ، اور  سورۃ  طہ  ہجرت  حبشہ  سے پہلے نازل ہوئیں جبکہ اس سے پہلے  آٹھ سورتیں ( یونس تا بنی اسرئیل )  ہجرت  مدینہ  سے پہلے  - حضرت  عمر رضی اللہ تعالی عنہ  کے  قبول اسلام کے  وقت  یہی  سورۃ  انہوں  نے پڑھی  - انکے  قبول  اسلام کا واقعہ  : ان کے قبول اسلام کی سب سے زیادہ مشہور اور معتبر روایت یہ ہے کہ جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی نیت سے نکلے تو راستہ میں ایک شخص نے ان سے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمہاری اپنی بہن اور بہنوئی اس نئے دین میں داخل ہوچکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔ وہاں ان کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور ان کے بہنوئی سعید بن زید بیٹھے ہوئے حضرت خباب (رض) بن ارت سے ایک صحیفے کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ حضرت عمر کے آتے ہی ان کی بہن نے صحیفہ فوراً چھپا لیا۔ مگر حضرت عمر اس کے پڑھنے کی آواز سن چکے تھے۔ انہوں نے پہلے کچھ پوچھ گچھ کی۔ اس کے بعد بہنوئی پر پل پڑے اور مارنا شروع کردیا۔ بہن نے بچانا چاہا تو انہیں بھی مارا یہاں تک کہ ان کا سر پھٹ گیا۔ آخر کار بہن اور بہنوئی دونوں نے کہا کہ ہاں، ہم مسلمان ہوچکے ہیں، تم سے جو کچھ ہو سکے کرلو۔ حضرت عمر اپنی بہن کا خون بہتے دیکھ کر کچھ پشیمان سے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اچھا مجھے بھی وہ چیز دکھاؤ جو تم لوگ پڑھ رہے تھے۔ بہن نے پہلے قسم لی کہ وہ اسے پھاڑ نہ دیں گے۔ پھر کہا کہ تم جب تک غسل نہ کرلو، اس پاک صحیفے کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ حضرت عمر (رض) نے غسل کیا اور پھر وہ صحیفہ لے کر پڑھنا شروع کیا۔ اس میں یہی سورة طٰہ لکھی ہوئی تھی۔ پڑھتے پڑھتے یک لخت ان کی زبان سے نکلا " کیا خوب کلام ہے "۔ یہ سنتے ہی حضرت خباب بن ارت، جو ان کی آہٹ پاتے ہی چھپ گئے تھے، باہر آگئے اور کہا کہ " بخدا، مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے نبی کی دعوت پھیلانے میں بڑی خدمت لے گا، کل ہی میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا ہے کہ خدایا، ابوالحکم بن ہشام (ابو جہل) یا عمر بن خطاب دونوں میں سے کسی کو اسلام کا حامی بنا دے۔ پس اے عمر، اللہ کی طرف چلو، اللہ کی طرف چلو "۔ اس فقرے نے رہی سہی کسر پوری کردی اور اسی وقت حضرت خباب کے ساتھ جا کر حضرت عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اسلام قبول کرلیا۔ یہ ہجرت حبشہ سے تھوڑی مدت بعد ہی کا قصہ ہے۔

نمی دانی  کہ سوز  قرأت   تو                                                   دگر  گوں کرد  تقدیر  عمر را      (علامہ اقبال)

نظم کلام :  سورۃ  یونس  - 14 + 1 ( سورۃ نور )  پچھلی  سورت  میں نصاریٰ  کو قائل  کرنے  کیلئے  حضرت  عیسٰی ؑ  کی زندگی  سے استدلال  تھا  ۔ اس میں  یہود   کو قائل  کرنے  کیلئے  حضرت  موسٰی ؑ  کی زندگی  سے  استدلال   - دونوں میں  مسلمانوں  کیلئے  سامان  تربیت  ۔

ترتیب مطالعہ :  ( تین حصے )  (1 )   ر -  1 ( آیات  1 تا 8 )  آپ  دوسروں کے ایمان کی فکر  میں اپنی   زندگی  ہلکان نہ کریں  ۔آپ ؐ کا کام  صرف  تذکیر  ہے ۔ (2 )  ر- 1 ( آیت  : 9 تا  24 )  سے  ر- 5 تک ( حضرت  موسٰی ؑ  و فرعون  کا واقعہ ) ( 3 )  ر- 6 تا 8 (  حضور ؐ اور انکے  واسطہ  سے  صحابہ  رضی اللہ تعالی عنہم   کو تسلی )


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ طٰهٰۚ ﴿1﴾ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ ﴿2﴾ اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ ﴿3﴾ تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ ﴿4﴾ اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى ﴿5﴾ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى ﴿6﴾ وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى ﴿7﴾ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى ﴿8﴾ وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ ﴿9﴾ اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى ﴿10﴾ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ ﴿11﴾ اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ ﴿12﴾ وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى ﴿13﴾ اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ ﴿14﴾ اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى ﴿15﴾ فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى ﴿16﴾ وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى ﴿17﴾ قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى ﴿18﴾ قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى ﴿19﴾ فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى ﴿20﴾ قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى ﴿21﴾ وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ ﴿22﴾ لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ ﴿23﴾ اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ ۧ ۧ ﴿24ع طه 20﴾
1. طہٰ۔ 2. (اے محمدﷺ) ہم نے تم پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ۔ 3. بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لئے (نازل کیا ہے) جو خوف رکھتا ہے۔ 4. یہ اس (ذات برتر) کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان بنائے۔ 5. (یعنی خدائے) رحمٰن جس نےعرش پر قرار پکڑا۔ 6. جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے بیچ میں ہے اور جو کچھ (زمین کی) مٹی کے نیچے ہے سب اسی کا ہے۔ 7. اور اگر تم پکار کر بات کہو تو وہ تو چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے۔ 8. (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے (سب) نام اچھے ہیں۔ 9. اور کیا تمہیں موسیٰ (کے حال) کی خبر ملی ہے۔ 10. جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم (یہاں) ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید اس میں سے میں تمہارے پاس انگاری لاؤں یا آگ (کے مقام) کا رستہ معلوم کرسکوں۔ 11. جب وہاں پہنچے تو آواز آئی کہ موسیٰ۔ 12. میں تو تمہارا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتار دو۔ تم (یہاں) پاک میدان (یعنی) طویٰ میں ہو۔ 13. اور میں نے تم کو انتخاب کرلیا ہے تو جو حکم دیا جائے اسے سنو۔ 14. بےشک میں ہی خدا ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھا کرو۔ 15. قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلا پائے۔ 16. تو جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلتا ہے (کہیں) تم کو اس (کے یقین) سے روک نہ دے تو (اس صورت میں) تم ہلاک ہوجاؤ۔ 17. اور موسیٰ یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے۔ 18. انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے اور بھی کئی فائدے ہیں۔ 19. فرمایا کہ موسیٰ اسے ڈال دو۔ 20. تو انہوں نے اس کو ڈال دیا اور وہ ناگہاں سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ 21. خدا نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو اور ڈرنا مت۔ ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ 22. اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے لگالو وہ کسی عیب (وبیماری) کے بغیر سفید (چمکتا دمکتا) نکلے گا۔ (یہ) دوسری نشانی (ہے)۔ 23. تاکہ ہم تمہیں اپنے نشانات عظیم دکھائیں۔ 24. تم فرعون کے پاس جاؤ (کہ) وہ سرکش ہو رہا ہے۔

تفسیر آیات

قرآن مجید سے رسول اللہ ؐکے تعب اور مشقت اٹھانے کی خاص صورتیں دو ثابت ہیں ۔ایک یہ کہ آپؐ کافروں کے ردّو انکار پر غم و حزن بہت زیادہ کیا کرتے تھے۔دوسرے یہ کہ شب میں آپؐ قرأت قرآن کے وقت قیام بہت زیادہ طویل فرماتے تھے،یہاں تک کہ پائے مبارک پر ورم بھی آجاتاتھا۔(تفسیر ماجدی)

عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى۔عرش الٰہی کے متعلق جو کچھ نصوص سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ اس کے پائے ہیں۔جنہیں خاص فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔اور بالخصوص قیامت کے دن آٹھ فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے اور یہ عرش سب آسمانوں کے اوپر ہے اور انہیں قبہ کی طرح گھیرے ہوئے ہے۔(تیسیر القرآن)

اللہ کی مخلوق کہاں کہاں ہے؟۔  ثریٰ کے لغوی معنیٰ صرف گیلی مٹی ہے جو زمین کی تہوں میں ہے۔اور یہ لفظ عموماً ثریا (کہکشاں)کے مقابلہ میں آتاہے ۔ثریا سے مراد انتہائی بلندی اور ثریٰ سے مراد انتہائی پستی یا گہرائی لی جاتی ہے۔(تیسیر القرآن)

اخفیٰ اور سرّ کا لغوی فرق:۔  اخفیٰ   کا لفظ سرّ سے زیادہ ابلغ ہے۔ سرّکا معنی پوشیدہ یا راز کی بات ہے۔جو آپ کسی دوسرے سے کہہ دیں اور اسے تاکید کردیں کہ وہ اور کسی کو نہ بتائے۔اور اخفیٰ سے مراد وہ بات یا وہ خیال ہے جو کسی کے دل میں آئے لیکن وہ کسی سے بھی اس کا ذکر تک نہ کرے ۔اس سے پہلی آیت میں اللہ کی وسعت قدرت و تصرف اور اختیار بیان کیا گیا تھا ۔اس آیت میں لامحدود وسعت علم کا بیان ہواہے۔یعنی قریش کو بتایا جارہاہے کہ اللہ تمہاری سب  سازشوں ،شرارتوں  اور کارستانیوں سے پوری طرح واقف ہیں۔(تیسیر القرآن)

الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى۔  اسماء سے مراد نام ہیں۔ اور احادیث صحیحہ میں ننانوے نام مذکور ہیں۔جبکہ کتاب و سنت کا استقصاء کرنے پر کئی اور نام بھی ملتے ہیں ۔اور اسماء سے مراد صفات بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے یہ سب نام اللہ تعالیٰ کی صفات ہی کا اظہار کرتے ہیں۔بالفاظ دیگر یہ سب صفاتی نام ہیں ۔مگر ان میں سے دونام ایسے ہیں جو صرف اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں،کسی دوسری مخلوق کے یہ نام نہیں ہوسکتے ایک اللہ اور دوسرا رحمٰن۔(تیسیر القرآن)

قرآن کے انداز بیان سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اس قدر تفصیل کے ساتھ موسیٰؑ کا قصہ پہلی بار اسی سورہ میں بیان ہواہے اور قرآن کے مخصوص طرز بیان کی بناپر اس میں قریش کےکئی اعتراضات کے جوا ب از خود آگئے ہیں جو وہ وقتاً فوقتاً کرتے رہتے تھے۔(تیسیر القرآن)

10۔امْكُثُوْا۔ نحاس نحوی نے کہاہے یہاںلفظ امکثوا آیا ہے نہ کہ اقیموا ۔اس لئے کہ اقامۃ آتاہے مستقل قیام کیلئے ۔۔۔۔یہ خیال ضعیف ساہے لیکن اغلب یہ ہے کہ علاوہ زوجۂ محترمہ کے کوئی چھوٹا سا قافلہ ساتھ ہو جیساکہ ابن حبان وغیرہ کی رائے ہے، اور صیغۂ جمع کا اطلاق حقیقت پر ہو ۔حقیقت کو چھوڑ کر مجاز تسلیم کرنے کیلئے تو کوئی وجہ بھی قوی ہونا چاہئے ۔۔۔۔روایت توریت سے بھی اسی آخری خیال کی تائید ہوتی ہے،آپ جب چلے ہیں تو آپ کے ساتھ بکریوں کا گلہ بھی تھا اور جب گلہ تھا تو کچھ گلہ بان بھی ضرور ہمراہ ہوں گے۔۔۔۔اٰتِیْكُمْ۔میں جمع کا صیغۂ مخاطب اسی قول کو اغلب بتاتاہے کہ ایک پورا قافلہ ساتھ میں تھا۔ صوفیہ کہتے ہیں کہ ممکن  ہے صاحبِ کشف خود اپنے کشف کی حقیقت سے بے خبر ہو،حضرت موسیٰؑ کو ایک آگ کی سی روشنی مکشوف ہوئی اور وہ اسے متعارف آگ ہی سمجھے۔(تفسیرماجدی)

12۔۔۔۔لہٰذا ان احادیث سے استدلال کر کے اگر کوئی شخص آج کی مسجدوں کے فرش پر جوتے لے جانا چاہے تو یہ صحیح نہ ہوگا۔ البتہ گھاس پر یا کھلے میدان میں جوتے پہنے پہنے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو میدان میں نماز جنازہ پڑھتے وقت بھی جوتے اتارنے پر اصرار کرتے ہیں، وہ در اصل احکام سے ناواقف ہیں۔ (تفہیم القرآن)

20۔ عصائے موسیٰ کو کہا کہ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟ وہ بولا عصا،پھر اس نے کہا اسے زمین پر پھینک دے، اس نے زمین پر پھینک دیا، اور وہ سانپ بن گیا:"۔(خروج۔ 4: 2-4)یہ واضح رہے کہ مصر میں جہاں موسیٰؑ کو تبلیغ کرنی تھی ،سانپ کی حیثیت ایک دیوتا کی تھی، اور اس کی پوجا ہواکرتی تھی۔(تفسیر ماجدی)

21۔ عصائے موسیٰ کے سانپ کے نام اور اوصاف:۔  لاٹھی کے اس طرح سانپ بن جانے کیلئے قرآن نے مختلف مقامات پر تین الفاظ استعمال کئے ہیں(1)اس مقام پر حیۃ کا لفظ ہے جو ہر قسم کے سانپ کیلئے بولا جاسکتاہے ۔(2)جانّ یعنی سفید پتلا اور لمبا سا سانپ ،سانپ کی سٹک(27: 10)اور(3)بہت بڑا سانپ۔اژدھا(7: 107)یعنی لاٹھی جب پھینکی جاتی تو پہلے و ہ پتلا سا سانپ بنتی تھی۔ پھر لحظہ بہ لحظہ اس کے جسم میں اضافہ بھی ہونے لگتا تھا تاآنکہ وہ بہت بڑا سانپ بن جاتی تھی۔(تیسیرا لقرآن)

ـــــ ایسے سرکش و جابر حکمران کی طرف بھیجا جارہاتھا جو شخصی اور قومی، دونوں اعتبار سے حضرت موسیٰؑ کا جانی دشمن تھا۔ دعوت کے آغاز ہی میں اس پر یہ بات واضح کرنا ضروری تھا کہ اس نے کوئی غلط اقدام کیا تو موسیٰؑ بھی خالی ہاتھ نہیں آئے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)


دوسرا رکوع

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ ﴿25﴾ وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ ﴿26﴾ وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ ﴿27﴾ یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ ﴿28﴾ وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ ﴿29﴾ هٰرُوْنَ اَخِیۙ ﴿30﴾ اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ ﴿31﴾ وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ ﴿32﴾ كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ ﴿33﴾ وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ ﴿34﴾ اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا ﴿35﴾ قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى ﴿36﴾ وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ ﴿37﴾ اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ ﴿38﴾ اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ ﴿39﴾ اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى ﴿40﴾ وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ ﴿41﴾ اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ ﴿42﴾ اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚ ۖ ﴿43﴾ فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى ﴿44﴾ قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى ﴿45﴾ قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى ﴿46﴾ فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى ﴿47﴾ اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى ﴿48﴾ قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى ﴿49﴾ قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى ﴿50﴾ قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى ﴿51﴾ قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ ﴿52﴾ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى ﴿53﴾ كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ ۧ ۧ ﴿54ع طه 20﴾
25. کہا میرے پروردگار (اس کام کے لئے) میرا سینہ کھول دے۔ 26. اور میرا کام آسان کردے۔ 27. اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ 28. تاکہ وہ بات ْسمجھ لیں۔ 29. اور میرے گھر والوں میں سے (ایک کو) میرا وزیر (یعنی مددگار) مقرر فرما۔ 30. (یعنی) میرے بھائی ہارون کو۔ 31. اس سے میری قوت کو مضبوط فرما۔ 32. اور اسے میرے کام میں شریک کر۔ 33. تاکہ ہم تیری بہت سی تسبیح کریں۔ 34. اور تجھے کثرت سے یاد کریں۔ 35. تو ہم کو (ہر حال میں) دیکھ رہا ہے۔ 36. فرمایا موسیٰ تمہاری دعا قبول کی گئی۔ 37. اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا۔ 38. جب ہم نے تمہاری والدہ کو الہام کیا تھا جو تمہیں بتایا جاتا ہے۔ 39. (وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا۔ اور (موسیٰ) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی ہے (اس لئے کہ تم پر مہربانی کی جائے) اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ۔ 40. جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتاؤں جو اس کو پالے۔ تو (اس طریق سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ کریں۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تو ہم نے تم کو غم سے مخلصی دی اور ہم نے تمہاری (کئی بار) آزمائش کی۔ پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے۔ پھر اے موسیٰ تم (قابلیت رسالت کے) اندازے پر آ پہنچے۔ 41. اور میں نے تم کو اپنے (کام کے) لئے بنایا ہے۔ 42. تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔ 43. دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے۔ 44. اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے۔ 45. دونوں کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار ہمیں خوف ہے کہ ہم پر تعدی کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہوجائے۔ 46. خدا نے فرمایا کہ ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں (اور) سنتا اور دیکھتا ہوں۔ 47. (اچھا) تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجیئے۔ اور انہیں عذاب نہ کیجیئے۔ ہم آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں۔ اور جو ہدایت کی بات مانے اس کو سلامتی ہو۔ 48. ہماری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے اور منہ پھیرے اس کے لئے عذاب (تیار) ہے۔ 49. (غرض موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے) اس نے کہا کہ موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے؟ 50. کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل وصورت بخشی پھر راہ دکھائی۔ 51. کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال؟ 52. کہا کہ ان کا علم میرے پروردگار کو ہے (جو) کتاب میں (لکھا ہوا ہے) ۔ میرا پروردگار نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے۔ 53. وہ (وہی تو ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لئے رستے جاری کئے اور آسمان سے پانی برسایا۔ پھر اس سے انواع واقسام کی مختلف روئیدگیاں پیدا کیں۔ 54. کہ (خود بھی) کھاؤ اور اپنے چارپایوں کو بھی چراؤ۔ بےشک ان (باتوں) میں عقل والوں کے لئے (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

تفسیر آیات

25۔  یعنی  میرے  دل  میں  اس عظیم مذہب  کو سنبھالنے  کی ہمت  پیدا  کردے  اور میرا   حوصلہ  بڑھادے۔  چونکہ  یہ ایک  بہت  بڑا  کام حضرت  موسیٰ ؑ   کے سپرد  کیا جا رہا تھا  جس کیلئے  بڑے  دل  گردے  کی ضرورت  تھی  اس لئے  آپؑ  نے دعا  کی  کہ  مجھے  وہ صبر  ، ثبات  ، تحمل  ،  بے  خوفی اور  عزم عطا کر جو اس  کام کیلئے  ضروری  ہے ۔ (تفہیم القرآن)

28۔  تلمود میں  ایک  لمبی  چوڑی  کہانی  - فرعون  کا تاج  اتار  کر اپنے  سر پر  رکھ  لیا  ( کہیں  ڈاڑھی  کھینچی  اور طمانچہ  مارا  ،  کہیں  ایک  چھڑی  سر پر ماری) ۔ ہیرے  اور آگ  ۔ یہ بات  عقل  کے خلاف  ہے  کہ اللہ تعالی  کسی ہلکے  یا توتلے  آدمی  کو اپنا  رسول  مقرر  فرمائے  ۔ رسول  ہمیشہ   شکل   و صورت   ، شخصیت  اور صلاحیتوں  کے  لحاظ  سے بہترین  لوگ  ہوئے  ہیں ۔  قرآن  اور بائبل   میں  حضرت   موسیٰ  ؑ  کی  بعد  والی  تقریر یں  کمال  فصاحت  اور  طلاقت  لسانی  کی شہادت  دیتی  ہیں  ۔(تفہیم القرآن)

-  یہ امر  یہاں  ملحوظ  رہے  کہ اس دور میں  ابلاغ  کا واحد  ذریعہ  صرف  کسی خطیب  کی خطابت  و زبان آوری  ہی تھی ۔  یہی  وجہ  ہے کہ  اس زمانے  میں خطیبوں  کو سوسائٹی  میں سب  سے  زیادہ  عزت  حاصل   تھی ۔۔۔۔۔عرب  میں  تو یہ حال  تھا  کہ جو شخص  قبیلہ  کا خطیب  ہوتا  وہ اس  کا قائد  ہوتا۔  اب   پریس کی ایجاد  نے قلم  کی اہمیت   بڑھادی  ہے  ۔۔۔۔۔ اسی وجہ  سے  حضرت  ہارون  کو اپنا  شریک  کا ر بنانے  کی دعا  کی جو زور  دار  خطیب  تھے ۔  ان  آیات  سے یہ  بات  تو  ضرور معلوم ہوتی  ہے   کہ حضرت  موسیٰ ؑ  کوئی  زبان  آور  اور   زوردار  خطیب  نہیں تھے  لیکن  یہ بات  کہیں  سے   نہیں نکلتی  کہ ان  کی زبان  میں  لکنت  تھی ۔ جو اسرائیلیات  ید بیضا  کو برص  کا نتیجہ  قرار دے سکتے  ہیں  وہ  لکنت  کا عیب  بھی  تلاش  کر سکتے  ہیں۔ (تدبر قرآن)

30۔ بائیبل کی روایت کے مطابق حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے تین برس بڑے تھے (خروج) (تفہیم القرآن)

40۔ مفصل قصہ سورہ قصص میں آئے گا۔ مرشد  تھانوی ؒ نےفرمایا کہ آیت میں دلالت ہے کاملین سے لغزش صادر ہونے پر اور اس پر بھی کہ اس کی ایک نئی شان  ہوتی ہے۔۔۔۔حضرت موسیٰؑ کو اس واقعۂ  قتل غیر عمد کے بعد فکر و تردد دوطرح کا لاحق ہوا ،ایک تو خوف عتابِ الٰہی  سو وہ تو اس طرح دور ہوا کہ استغفار کی توفیق ہوئی اور اسے قبول کیا گیا۔ دوسرے خوف انتقام ِ حکومت تو اس سے نجات یوں حاصل ہوئی کہ مصر سے مدین پہنچا دیا گیا۔مرشد تھانوی نے فرمایا کہ اکابر کی لغزش اگرچہ عقاب و مواخذہ نہیں ہوتی ،مگر اس کے باوجود بھی ان پر ندامت غالب ہوتی ہے۔۔۔۔یٰموسیٰ۔مکالمہ خداوندی میں باربار یا موسیٰؑ کا آنا عجب نہیں دلدہی و اکرام کیلئے ہو۔(تفسیر ماجدی)

۔ ۔۔۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی والدہ کو جب یہ ہدایت فرمائی کہ بچہ کو دریا میں ڈال دو تو ساتھ ہی یہ اطمینان بھی دلادیا کہ ہم بچے کو پھر تمہارے پاس واپس لائیں گے۔ (تدبرِ قرآن)

45۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت موسیٰ مصر پہنچ گئے اور حضرت ہارون عملاً ان کے شریک کار ہوگئے۔ اس وقت فرعون کے پاس جانے سے پہلے دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ گزارش کی ہوگی۔ (تفہیم القرآن)

47۔ فرعون کو دعوت دینے کے پانچ نکات:۔ گویا فرعون کے سامنے دعوت کا پانچ نکاتی پروگرام ان پیغمبروں کو دیا گیا ان میں سے چار تو دعوت دین کے بنیادی نکات اور ایک مطالبہ ہے۔پہلی بات یہ تھی کہ اسے کہنا کہ ہم تمہارے پروردگار کے رسول ہیں۔ اس میں دونکات آگئے ۔ایک یہ کہ لوگوں کے پروردگار تم نہیں بلکہ وہ ذات ہے جو ہر چیز کا، ہمارا اور خصوصاً تمہارا بھی پروردگار ہے،دوسرا نکتہ یہ تھا کہ ہم دونوں اسی پروردگار کے بھیجے ہوئے تیرے پاس آئے ہیں خود نہیں آئے۔گویا اس ایک جملہ میں توحید و رسالت کا ذکر آگیا ۔تیسرا نکتہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنا چھوڑ دے اور انہیں اپنی غلامی سے آزاد کر اور انہیں ہمارے ہمراہ کردے تاکہ وہ آزادانہ زندگی بسر کرسکیں اور یہ تیسرا نکتہ خاص اس قوم کے حالات کے مطابق تھا۔چوتھا نکتہ یہ تھا کہ جو شخص اس راہ ہدایت یعنی اللہ کی توحید اور ہماری رسالت پرایمان لے آئے گااور اللہ ہی کی عبادت اور ہماری اطاعت کرے گا اس کیلئے اس دنیا میں امن اور سلامتی ہوگی اور آخرت میں بھی۔اورپانچواں نکتہ یہ تھا کہ ہمیں بذریعہ وحی اس بات کی خبردی گئی ہے کہ جو شخص ہماری دعوت سے منہ پھیرے گا آخرت میں اس کیلئے عذاب ہوگا۔ گویا چوتھے اور پانچویں نکتہ میں ایمان کے نہایت اہم جزء ایمان بالآخرت کی دعوت پیش کی گئی تھی۔اور ساتھ ہی یہ بات کہہ دینا کہ ہمارا یہ دعویٰ رسالت بے دلیل نہیں بلکہ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لیکر آئے ہیں۔(تیسیر القرآن)

۔ فارسل معنا بنی اسرائیل ولاتعذبھم اس آیت کی تفسیر سورة اعراف کی آیات 105-104 کے تحت گزر چکی ہے۔ وہاں ہم نے وضاحت کے ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو کہاں لے جانا چاہتے تھے اور ان لوگوں کے خیال کی تردید بھی کی ہے جنہوں نے حضرت موسیٰ کی دعوت کو ایک قوم پرست لیڈر کی تحریک آزادی کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ (تدبرِقرآن)

48- اس واقعے کو بائیبل اور تلمود میں جس طرح بیان کیا گیا ہے اسے بھی ایک نظر دیکھ لیجیے تاکہ اندازہ ہو کہ قرآن مجید انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کس شان سے کرتا ہے اور بنی اسرائیل کی روایات میں ان کی کیسی تصویر پیش کی گئی ہے۔ بائیبل کا بیان ہے کہ پہلی مرتبہ جب خدا نے موسیٰ سے کہا کہ " اب میں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہوں کہ تو میری قوم بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لائے " تو حضرت موسیٰ نے جواب میں کہا " میں کون ہوں جو فرعون کے پاس جاؤں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لاؤں "۔ پھر خدا نے حضرت موسیٰ کو بہت کچھ سمجھایا، ان کی ڈھارس بندھائی، معجزے عطا کیے، مگر حضرت موسیٰ نے پھر کہا تو یہی کہا کہ اے خداوند، میں تیری منت کرتا ہوں کسی اور کے ہاتھ سے جسے تو چاہے یہ پیغام بھیج " (خروج  4)تلمود کی روایت اس سے بھی چند قدم آگے جاتی ہے۔ اس کا بیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ کے درمیان سات دن تک اسی بات پر رد و کد ہوتی رہی۔ اللہ کہتا رہا کہ نبی بن، مگر موسیٰ کہتے رہے کہ میری زبان ہی نہیں کھلتی تو میں نبی کیسے بن جاؤں۔ آخر اللہ میاں نے کہا میری خوشی یہ ہے کہ تو ہی نبی بن۔ اس پر حضرت موسیٰ نے کہا کہ لوط کو بچانے کے لیے آپ نے فرشتے بھیجے، ہاجرہ جب سارہ کے گھر سے نکلی تو اس کے لیے پانچ فرشتے بھیجے، اور اب اپنے خاص بچوں (بنی اسرائیل) کو مصر سے نکلوانے کے لیے آپ مجھے بھیج رہے ہیں۔ اس پر خدا ناراض ہوگیا اور اس نے رسالت میں ان کے ساتھ ہارون کو شریک کردیا اور موسیٰ کی اولاد کو محروم کر کے کہانت کا منصب ہارون کی اولاد کو دے دیا۔۔۔۔۔ یہ کتابیں ہیں جن کے متعلق بےشرم لوگ کہتے ہیں کہ قرآن میں ان سے یہ قصے نقل کرلیے گئے ہیں۔ (تفہیم القرآن)

49۔۔۔۔ سورة المؤمن آیات 28 تا 34 اور سورة زخرف آیت 53 کو غور سے دیکھیے۔ یہ آیتیں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی ہستی سے اس کو انکار نہ تھا۔ البتہ جس چیز کو ماننے کے لیے وہ تیار نہ تھا وہ یہ تھی کہ اس کی سیاسی خدائی میں اللہ کا کوئی دخل ہو اور اللہ کا کوئی رسول آ کر اس پر حکم چلائے۔ (تفہیم القرآن)

50۔۔۔۔  اور انسان کی شعوری زندگی کے لیے رہنمائی کی وہ شکل موزوں نہیں ہو سکتی جو مچھلی اور مرغی کی رہنمائی کے لیے موزوں ہے۔ اس کی موزوں ترین شکل یہ ہے کہ ایک ذی شعور انسان اس کی طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہو اور وہ ان کی عقل و شعور کو اپیل کر کے انہیں سیدھا راستہ بتائے۔ (تفہیم القرآن)

51۔۔۔۔۔۔یعنی وہ خود بھی اس بات پر جھلا گیا ہو کہ اس مذہب سے ہمارے تمام بزرگوں کی گمراہی لازم آتی ہے، اور ساتھ ساتھ اس کا مقصد یہ بھی ہو کہ اپنے اہل دربار اور عام اہل مصر کے دلوں میں حضرت موسیٰ کی دعوت کے خلاف ایک تعصب بھڑکا دے۔ (تفہیم القرآن)

52۔ یہ ایک نہایت ہی حکیمانہ جواب ہے۔۔۔۔۔فرعون کا مقصد، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، سامعین کے، اور ان کے توسط سے پوری قوم کے دلوں میں تعصب کی آگ بھڑکانا تھا۔۔۔۔۔آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ جیسے کچھ بھی تھے، اپنا کام کر کے خدا کے ہاں جا چکے ہیں۔۔۔۔ان سے جو کچھ بھی معاملہ خدا کو کرنا ہے اس کو وہی جانتا ہے۔ (تفہیم القرآن)  


تیسرا رکوع

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى ﴿55﴾ وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى ﴿56﴾ قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى ﴿57﴾ فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى ﴿58﴾ قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى ﴿59﴾ فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴿60﴾ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى ﴿61﴾ فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى ﴿62﴾ قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى ﴿63﴾ فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى ﴿64﴾ قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى ﴿65﴾ قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى ﴿66﴾ فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى ﴿67﴾ قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى ﴿68﴾ وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى ﴿69﴾ فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى ﴿70﴾ قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى ﴿71﴾ قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ ﴿72﴾ اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى ﴿73﴾ اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى ﴿74﴾ وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ ﴿75﴾ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ ۧ ۧ ﴿76ع طه 20﴾
55. اسی (زمین) سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوسری دفعہ نکالیں گے۔ 56. اور ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں مگر وہ تکذیب وانکار ہی کرتا رہا۔ 57. کہنے لگا کہ موسیٰ تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اپنے جادو (کے زور) سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو۔ 58. تو ہم بھی تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو کہ نہ تو ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تم (اور یہ مقابلہ) ایک ہموار میدان میں (ہوگا)۔ 59. موسیٰ نے کہا آپ کے لئے (مقابلے کا) دن نو روز (مقرر کیا جاتا ہے) اور یہ کہ لوگ اس دن چاشت کے وقت اکھٹے ہوجائیں۔ 60. تو فرعون لوٹ گیا اور اپنے سامان جمع کرکے پھر آیا۔ 61. موسیٰ نے ان (جادوگروں) سے کہا کہ ہائے تمہاری کمبختی۔ خدا پر جھوٹ افتراء نہ کرو کہ وہ تمہیں عذاب سے فنا کردے گا اور جس نے افتراء کیا وہ نامراد رہا۔ 62. تو وہ باہم اپنے معاملے میں جھگڑنے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے۔ 63. کہنے لگے یہ دونوں جادوگر ہیں۔ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو (کے زور) سے تم کو تمہارے ملک سے نکل دیں اور تمہارے شائستہ مذہب کو نابود کردیں۔ 64. تو تم (جادو کا) سامان اکھٹا کرلو اور پھر قطار باندھ کر آؤ۔ آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا۔ 65. بولے کہ موسیٰ یا تم (اپنی چیز) ڈالو یا ہم (اپنی چیزیں) پہلے ڈالتے ہیں۔ 66. موسیٰ نے کہا نہیں تم ہی ڈالو۔ (جب انہوں نے چیزیں ڈالیں) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور لاٹھیاں موسیٰ کے خیال میں ایسی آنے لگیں کہ وہ (میدان) میں ادھر اُدھر دوڑ رہی ہیں۔ 67. (اُس وقت) موسیٰ نے اپنے دل میں خوف معلوم کیا۔ 68. ہم نے کہا خوف نہ کرو بلاشبہ تم ہی غالب ہو۔ 69. اور جو چیز (یعنی لاٹھی) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے اس کو نگل جائے گی۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے (یہ تو) جادوگروں کے ہتھکنڈے ہیں اور جادوگر جہاں جائے فلاح نہیں پائے گا۔ 70. (القصہ یوں ہی ہوا) تو جادوگر سجدے میں گر پڑے (اور) کہنے لگے کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر ایمان لائے۔ 71. (فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔ بےشک وہ تمہارا بڑا (یعنی استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گا (اس وقت) تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہے۔ 72. انہوں نے کہا جو دلائل ہمارے پاس آگئے ہیں ان پر اور جس نے ہم کو پیدا کیا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے۔ تو آپ کو جو حکم دینا ہو دے دیجیئے۔ اور آپ (جو) حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں (دے سکتے ہیں)۔ 73. ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور (اسے بھی) جو آپ نے ہم سے زبردستی جادو کرایا۔ اور خدا بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ 74. جو شخص اپنے پروردگار کے پاس گنہگار ہو کر آئے گا تو اس کے لئے جہنم ہے۔ جس میں نہ مرے گا نہ جیئے گا۔ 75. اور جو اس کے روبرو ایماندار ہو کر آئے گا اور عمل بھی نیک کئے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لئے اونچے اونچے درجے ہیں۔ 76. (یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور یہ اس شخص کا بدلہ ہے جو پاک ہوا۔

تفسیر آیات

56۔ یعنی آفاق و اَنفُس کے دلائل کی نشانیاں بھی، اور وہ معجزات بھی جو حضرت موسیٰ کو دیے گئے تھے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)  

63 – 64  -  اعلیٰ  کلچر  کے تحفظ  کا خبط   ۔(بیان القرآن)

63۔ یہ وہ بات نقل ہوئی ہے جو خفیہ مجلس میں فرعون اور اس کے اعیان نے جادوگروں کو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے خلاف بھڑکانے کے لئے کی۔ پہلی بات تو انہوں نے جادوگروں کے اندر پیشہ ورانہ رقابت کا جذبہ بھڑکانے کے لئے یہی کہی کہ یہ دونوں ماہر جادوگر ہیں۔ مقصد یہ کہ یہ اسی ہتھیار کے ساتھ میدان میں آئے ہیں جو تمہارے پاس بھی ہے تو اگر تم نے ان کے مقابلہ میں کمزوری دکھائی تو سب سے زیادہ ہوا خیزی تمہاری ہی ہوگی۔ دوسری بات یہ سمجھائی کہ یہ اپنے جادو کے زور سے ہم پر اپنا رعب جمانا اور بنی اسرائیل کو منظم کر کے تمہیں، تمہارے ملک سے بےدخل کرنا چاہتے ہیں۔ تیسری بات یہی کہی کہ اس وقت تمہاری نہایت اعلیٰ اور شاندار تہذیب، جو تم نے اتنی محنت سے فروغ دی ہے، سخت خطرے میں ہے۔ اگر موسیٰ و ہارن اپنے ارادوں میں کامیاب ہوگئے تو اس اعلیٰ تہذیب و تمدن کا یک قلم خاتمہ کردیں گے۔ ان باتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ارباب اقتدار اہل حق کے مقابلہ میں ہمیشہ اسی طرح کے حربے استعمال کر تے رہے ہیں جس قسم کے حربے فرعون اور اس کے اعیان نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ تمہارا ملک اور تمہاری تہذیب کے الفاظ میں خطاب محض عوام فریبی کے لئے ہے ورنہ فرعونی حکومت اور فرعونی تہذیب میں ایک مخصوص ارسٹوکریسی کے سوا دوسروں کی حیثیت صرف غلاموں اور قلیوں کی تھی لیکن ارباب اقتدار جب عوام کو اپنے کسی مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اسی طرح ان کو نشہ پلاتے اور بیوقوف بناتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

66۔ اس سےقطع نظر کہ توریت میں عصابجائے موسیٰؑ کے ہارونؑ کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے، تو ریت و قرآن  مجید کے بیان میں بڑا فرق یہ ہے کہ توریت میں سحر کے اثر سے رسیوں کا اور لاٹھیوں کا سانپ بن جاناہے۔بہ خلاف اس کے قرآن میں صرف اتنا ہے کہ ساحروں کی نظر بندی کے اثر سے حضرت موسیٰؑ کو (یا اور دیکھنے والوں کو بھی)وہ رسیاں اور لاٹھیاں دوڑتی پھرتی نظر آئیں،ان کے واقعۃً سانپ بن جانے کا قرآن مدعی نہیں۔(تفسیر ماجدی)

69۔  معجزہ اور سحر کا ذوق:   ۔۔۔۔حضرات انبیاء سے جو معجزے صادر ہوتے ہیں ان کے اندر ایک سطوت و جلالت ہوتی ہے۔۔۔۔۔یہ لوگ جب دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو تاریخ کا ورق الٹ کر رخصت ہوتے ہیں۔۔۔۔۔بتائیے کون ساحر ہے جس کا انسانی زندگی کے کسی شعبہ میں کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ کارنامہ بھی ہو۔۔۔۔(تدبرِ قرآن)

72۔ ۔۔۔دیکھا آپ نے ایمان کا کرشمہ ! یہی وہی جادوگر ہیں جن کا حال قرآن میں دوسری جگہ یہ بیان ہوا ہے کہ جب وہ مقابلہ کے لئے بلائے گئے تو انہوں نے بڑی لجاجت کے ساتھ فرعون سے اپنی کامیابی کی صورت میں انعام کی درخواست کی یا اب ایمان کے نور نے ان کے دلوں کو اس طرح منور کردیا کہ خدا اور آخرت کے سوا اس دنیا کی کسی چیز کی ان کی نگاہوں میں کوئی وقعت باقی نہیں رہی ہے یہاں تک کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کی راہ میں اپنی زندگی بھی قربان کرنے کے لئے بالکل تیار ہیں۔ (تدبرِ قرآن)


چوتھا رکوع

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى ﴿77﴾ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ ﴿78﴾ وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى ﴿79﴾ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى ﴿80﴾ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى ﴿81﴾ وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى ﴿82﴾ وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى ﴿83﴾ قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى ﴿84﴾ قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ ﴿85﴾ فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ ﴿86﴾ قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ ﴿87﴾ فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ ﴿88﴾ اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ ۧ ۧ ﴿89ع طه 20﴾
77. اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آپکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا) ڈر۔ 78. پھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا تو دریا (کی موجوں) نے ان پر چڑھ کر انہیں ڈھانک لیا (یعنی ڈبو دیا)۔ 79. اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھے رستے پر نہ ڈالا۔ 80. اے آل یعقوب ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تورات دینے کے لئے تم سے کوہ طور کی داہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا۔ 81. (اور حکم دیا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں ان کو کھاؤ۔ اور اس میں حد سے نہ نکلنا۔ ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا۔ اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا۔ 82. اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور عمل نیک کرے پھر سیدھے رستے چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں۔ 83. اور اے موسیٰ تم نے اپنی قوم سے (آگے چلے آنے میں) کیوں جلدی کی۔ 84. کہا وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو۔ 85. فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے۔ 86. اور موسیٰ غصّے اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے (اور) کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز (معلوم) ہوئی یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے غضب نازل ہو۔ اور (اس لئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا (اس کے) خلاف کیا۔ 87. وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا۔ 88. تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی۔ تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے۔ مگر وہ بھول گئے ہیں۔ 89. کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا۔ اور نہ ان کے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔

تفسیر آیات

78۔ بنی اسرائیل کو ملک چھوڑنے کی اجازت فرعون نے دے دی تھی لیکن ان کی روانگی کے بعد اس کی رائے بدل گئی اور اس نے اپنے سرداروں اور فوج کے ساتھ ان کا تعاقب کیا۔یہ تعاقب اس نے سمندر میں بننے والے خشک راستے میں بھی جاری رکھا۔جب بنی اسرائیل دوسرے کنارے پر جاپہنچے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ،جو دوحصوں میں منقسم تھا،پھر مل گیا ور فرعون اپنی فوج سمیت سمندر کی بے پناہ موجوں کی لپیٹ میں آگیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ــ سیدنا موسیٰؑ اور بنو اسرائیل کی ہجرت:   ۔۔۔۔وہاں سے ہجرت کرکے آپ شام و فلسطین کی طرف جانا چاہتے تھے۔جو بنی اسرائیل کا آبائی وطن تھا وہ سیدنا یوسفؑ کے زمانہ میں یہاں آکر آباد ہوئے تھے اور اس دور تک ان کی نسل کے افراد ایک لاکھ سے بہت زیادہ ہوچکے تھے ۔سیدنا موسیٰؑ نے اس قافلہ کو لے کر بحر احمر کا رخ اختیار کیا۔ان دنوں نہر سویز موجود نہیں تھی اور آپ کا ارادہ یہ تھا کہ بحر احمر کے کنارے کنارے چل کر جزیرہ نمائے سینا میں داخل ہوجائیں گے۔۔۔۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے بنواسرائیل پر بیک وقت تین احسان فرمائے(1)فرعونیوں سے نجات،(2)سرپر کھڑی موت کے بعد زندگی ،(3)دشمن کی مکمل طورپر ہلاکت۔یہ واقعہ 10 محرم کو پیش آیا تھا۔(تیسیر القرآن)

81۔ ۔۔۔محض کثیر المغفرت ہونا تو ظاہرہی ہے لیکن امام رازی نے یہاں یہ نکتہ لکھاہے کہ جس طرح بندہ کیلئے اس کی کثرت ذنوب کی بناپر تین درجے ہوسکتے ہیں، ایک ظالم ،دوسرا ظلوم، تیسرا  ظلّام۔حق تعالیٰ نے اس کے مقابل تین نام رکھے  ہیں ،ایک غافر دوسرے غفور اور تیسرے غفار۔(تفسیر ماجدی)

82۔ یعنی مغفرت کے لیے چار شرطیں ہیں۔ اول توبہ، یعنی سرکشی و نافرمانی یا شرک و کفر سے باز آجانا۔ دوسرے، ایمان، یعنی اللہ اور رسول اور کتاب اور آخرت کو صدق دل سے مان لینا۔ تیسرے عمل صالح، یعنی اللہ اور رسول کی ہدایات کے مطابق نیک عمل کرنا۔ چوتھے اہتداء، یعنی راہ راست پر ثابت قدم رہنا اور پھر غلط راستے پر نہ جا پڑنا۔ (تفہیم القرآن)

84۔سیدنا موسیٰؑ کا طورپر پہنچ جانا:۔اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ سے وعدہ فرمایا تھا کہ کوہ طورکے دامن میں پہنچ کر چالیس راتیں وہاں بسر کرنا تو تمہیں بنی اسرائیل کی ہدایت کیلئے کتاب ٍتورات  عطا کی جائے گی۔چنانچہ موسیٰؑ نے بنی اسرائیل میں سے ستر آدمی اپنے ہمراہ لئے اور طور کی جانب روانہ ہوگئے۔لیکن آپ کو اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور ہم کلامی کا کچھ اتنازیادہ اشتیاق تھا کہ آپ اپنے ہمراہیوں کو پیچھے چھوڑ کر سب سے پہلے منزل ِ مقصود پر جاپہنچے۔اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ "تمہیں اتنی کیا جلدی تھی کہ اپنے ہمراہیوں کو پیچھے چھوڑ کر پہلے ہی یہاں آپہنچے؟"عرض کیا وہ لوگ بھی میرے پیچھے پیچھے یہاں پہنچ رہے ہیں اور مجھے تیری ملاقات کا اشتیاق ان سے پہلے یہاں کھینچ لایاہے۔پھر اسی موقعہ پر آپ نے اپنے پروردگار سے درخواست کی تھی کہ اے میرے پروردگار! مجھے اپنا آپ دکھا دے اور یہ واقعہ سورۂ بقرہ میں بیان ہوچکاہے۔(تیسیر القرآن)

85۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو تورات عطاکرنے کے لیے کوہ طور کی مبارک وادی میں بلایا اور ان کی تربیت کے لیے تیسن دن کی مدت مقرر کی۔حضرت موسیٰؑ فرط شوق میں اور خدا کی رضا طلبی کے لیے عجلت کرکے وقت موعود سے پہلے پہنچ گئے۔یہ عجلت ان کی قوم کے لیے ایک سخت فتنہ بن گئی۔ اس واقعہ کونمایاں کرکے یہ تعلیم دینا مقصود ہے کہ اقامت دین کی جدوجہد کی راہ میں صبر اورانتظار ہی کی روش مصلحت الٰہی ہے۔ نیک سے نیک ارادہ کے ساتھ کی جانے والی عجلت بہتوں کے لیے مزلۂ قدم بن جاتی ہے۔۔۔۔۔ سامری ایک فتنہ پرواز منافق تھا جو اپنے مفسدانہ اغراض کے لیے حضرت موسیٰؑ کی جماعت میں گھساہواتھا۔یہ کشف و کرامت کا ڈھونگ رچانے کے فن سے واقف تھا۔ حضرت موسیٰؑ کی غیر حاضری میں اس نے بت پرستانہ ذہنیت رکھنے والے تمام لوگوں کو جمع کرکے ان کو بچھڑے کا ایک مجسمہ بناکردیا اور وہ لوگ اس کی پوجا میں لگ گئے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ـــــ  (نہ کہ معاذ اللہ ہارون نبی نے )سامری اس شخص کا نام نہیں،لقب سے منسوب ہے۔ہمارے قدیم مفسرین کی تحقیق کے بہ موجب قریہ سامرہ کی طرف، یعنی وہاں کا باشندہ "ممکن ہے کہ اس کا باپ دادا سامرہ سے بنی اسرائیل میں آبسا ہو،اور بعد الحاق انہی میں شمار کیا جاتاہو۔"(تھانوی)۔۔۔۔بعض جدید محققین کا خیال ہے کہ قدیم مصری زبان میں سمر کہتے ہیں پردیسی ،غیر ملکی ،بیرونی کو ۔سامری سے مراد ہے کوئی شخص جو غیر اسرائیلی تھا، اور مصر سے اسرائیلیوں کے ساتھ ہوگیا ۔یہود کے ہاں کے ایک مستقل فرقہ کا نام بھی سامریہ(SAMRITIANO)ہے۔ان کی توریت اور سارے مذہبی صحیفے یہود کے مسلم و متعارف توریت اور دوسرے صحیفوں سے کسی قدر مختلف ہیں، اور انہیں ناز اپنی توحید خالص پر ہے۔ہوسکتاہے کہ قرآن کے السامری اور اس  فرقہ کے  درمیان بھی کوئی علاقہ ہو،لیکن یہ فرقہ جہاں تک تاریخ یہود سے پتہ چلتاہے ،حضرت موسیٰؑ کا معاصر نہیں، بہت بعد کے زمانہ کی پیداوار ہے۔(تفسیر ماجدی )

۔ مشہور یہ ہے کہ سامری کا نام موسیٰ ابن ظفر تھا۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ موسیٰ سامری پیدا ہوا تو فرعون کی طرف سے تمام اسرائیلی لڑکوں کے قتل کا حکم جاری تھا اس کی والدہ کو خوف ہوا کہ فرعونی سپاہی اس کو قتل کردیں گے تو بچہ کو اپنے سامنے قتل ہوتا دیکھنے کی مصیبت سے یہ بہتر سمجھا کہ اس کو جنگل کے ایک غار میں رکھ کر اوپر سے بند کردیا (کبھی کبھی اس کی خبر گیری کرتی ہوگی) ادھر اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین کو اس کی حفاظت اور غذا دینے پر مامور کردیا وہ اپنی ایک انگلی پر شہد ایک پر مکھن ایک پر دودھ لاتے اور اس بچہ کو چٹا دیتے تھے یہاں تک کہ یہ غار ہی میں پل کر بڑا ہوگیا اور اس کا انجام یہ ہوا کہ کفر میں مبتلا ہوا اور بنی اسرائیل کو مبتلا کیا پھر قہر الٰہی میں گرفتا ہوا۔ اسی مضمون کو کسی شاعر نے دو شعروں میں اس طرح ضبط کیا ہے۔ (از روح المعانی)

           اذا المرء لم یخلق سعیدا تحیرت عقول مربیہ و خاب المومل۔۔۔۔۔فموسی الذی رباہ جبریل کافر و موسیٰ الذی رباہ فرعون مرسل

(ترجمہ) جب کوئی شخص اصل پیدائش میں نیک بخت نہ ہو تو اس کے پرورش کرنے والوں کی عقلیں بھی حیران رہ جاتی ہیں اور اس سے امید کرنے والا محروم ہوجاتا ہے۔ دیکھو جس موسیٰ کو جبرائیل امین نے پالا تھا وہ تو کافر ہوگیا اور جس موسیٰ کو فرعون لعین نے پالا تھا وہ خدا کا رسول بن گیا۔(معارف القرآن)

86۔دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " کیا وعدہ پورا ہونے میں بہت دیر لگ گئی کہ تم بےصبر ہوگئے ؟ " پہلے ترجمے کا مطلب یہ ہوگا کہ تم پر اللہ تعالیٰ ابھی ابھی جو عظیم الشان احسانات کرچکا ہے، کیا ان کو کچھ بہت زیادہ مدت گزر گئی ہے کہ تم انہیں بھول گئے ؟ کیا تمہاری مصیبت کا زمانہ بیتے قرنیں گزر چکی ہیں کہ تم سرمست ہو کر بہکنے لگے ؟ دوسرے ترجمے کا مطلب صاف ہے کہ ہدایت نامہ عطا کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا، اس کے وفا ہونے میں کوئی تاخیر تو نہیں ہوئی ہے جس کو تم اپنے لیے عذر اور بہانہ بنا سکو۔ (تفہیم القرآن)

87۔(آگ میں سامری کے کہنے کے مطابق)یہ زیور وہی تھے جو بنی اسرائیل مصر سے نکلتے وقت اہلِ مصر سے مانگ کر لائے تھے۔توریت میں ہے:۔"اور انہوں نے مصریوں سے روپے کے برتن اور سونے کے برتن اور کپڑے عاریت لئے ،اور خداوند نے ان لوگوں کو مصریوں کی نگاہ میں ایسی عزت بخشی کہ انہوں نے انہیں عاریت دی۔(خروج12: 35، 26)"فرعون اور فرعونیوں کی غرقابی کے بعد شریعت اسرائیلی کی روسے یقیناً بنی اسرائیل ان زیوروں کے مالک ہوگئے ہوں گے۔(تفسیر ماجدی)


پانچواں رکوع

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ ﴿90﴾ قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى ﴿91﴾ قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ ﴿92﴾ اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ ﴿93﴾ قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ ﴿94﴾ قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ ﴿95﴾ قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ ﴿96﴾ قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا ﴿97﴾ اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا ﴿98﴾ كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖ ۚ ﴿99﴾ مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ ﴿100﴾ خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ ﴿101﴾ یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚ ۖ ﴿102﴾ یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا ﴿103﴾ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ ۧ ۧ ﴿104ع طه 20﴾
90. اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے۔ اور تمہارا پروردگار تو خدا ہے تو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو۔ 91. وہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ ہمارے پاس واپس نہ آئیں ہم تو اس کی پوجا پر قائم رہیں گے۔ 92. (پھر موسیٰ نے ہارون سے) کہا کہ ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ گمراہ ہو رہے ہیں تو تم کو کس چیز نے روکا۔ 93. (یعنی) اس بات سے کہ تم میرے پیچھے چلے آؤ۔ بھلا تم نے میرے حکم کے خلاف (کیوں) کیا؟ 94. کہنے لگے کہ بھائی میری ڈاڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے۔ میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا۔ 95. پھر (سامری سے) کہنے لگے کہ سامری تیرا کیا حال ہے؟ 96. اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی۔ پھر اس کو (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا۔ 97. (موسیٰ نے) کہا جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) جو تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود (کی پوجا) پر تو (قائم و) معتکف تھا اس کو دیکھ۔ ہم اسے جلادیں گے پھر اس (کی راکھ) کو اُڑا کر دریا میں بکھیر دیں گے۔ 98. تمہارا معبود خدا ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ 99. اس طرح پر ہم تم سے وہ حالات بیان کرتے ہیں جو گذر چکے ہیں۔ اور ہم نے تمہیں اپنے پاس سے نصیحت (کی کتاب) عطا فرمائی ہے۔ 100. جو شخص اس سے منہ پھیرے گا وہ قیامت کے دن (گناہ کا) بوجھ اُٹھائے گا۔ 101. (ایسے لوگ) ہمیشہ اس (عذاب) میں (مبتلا) رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لئے برا ہے۔ 102. جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکھٹا کریں گے اور ان کی آنکھیں نیلی نیلی ہوں گی۔ 103. (تو) وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہیں گے کہ تم (دنیا میں) صرف دس ہی دن رہے ہو۔ 104. جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں۔ اس وقت ان میں سب سے اچھی راہ والا (یعنی عاقل وہوشمند) کہے گا کہ (نہیں بلکہ) صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو۔

تفسیر آیات

91۔  تورات کے راویوں نے بچھڑے کے سارے فتنے کو حضرت ہارونؑ کی طرف منسوب کردیا ہے۔قرآن نے جہاں فتنہ کے اصل بانی، سامری کا پتادیا وہاں حضرت ہارونؑ کو بھی اس تہمت سے بری کیا ہے۔فرمایا کہ انہوں نے لوگوں کو فتنہ پردازوں کی شرارت سے آگاہ کردیا لیکن ان کی کسی نے ایک نہ سنی ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

96۔  یہ تحقیق ہونے کے بعد کہ فتنہ کا بانی سامری ہے حضرت موسیٰؑ نے اس کی جواب طلبی کی۔اس نے بات یہ بنائی کہ مجھے ایک کشف ہوا جو دوسروں کو نہیں ہوا۔ میں نے یہ خاک ایک بچھڑا بناکر اس کے اندرڈال دی ہے جس سے وہ بولنے لگاہے۔ میں نے جو کچھ کیا اس کشف کے زیر اثر کیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ــــــ بعض علماء نے یہاں رسول سے مراد خود موسیٰؑ لئے ہیں۔اس صورت میں یہ جواب سامری کی انتہائی مکاری پر دلالت کرتاہے ،کہ اس طرح اس نے سیدنا موسیٰؑ کی خوشامد کرکے انہیں بھی اپنے حق میں نرم کرلینے کی ایک کوشش کی تھی۔(تیسیر القرآن)

ــ الرسول سے مراد۔  بہ اتفاق مفسرین حضرت جبرائیلؑ ہیں۔ اور یہی تفسیر تابعین و صحابہؓ سے بھی مروی ہے۔۔۔۔۔اختلاف صرف ایک ابو مسلم اصفہانی سے منقول ہے ان کے اقوال تفسیر کبیر میں درج ملیں گے۔۔۔۔بعض اہل باطل بھی بڑے مرتاض ہوتے ہیں، اور ریاضتوں سے کشف و اشراق حاصل ہوجاتاہے کچھ اس طرح یہ شخص سامری معلوم ہوتاہے۔۔۔روایتوں میں آتاہے کہ اس نے حضرت جبرائیلؑ کو گھوڑے پر سوار دیکھ لیا تھا۔ اور یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ جہاں ان کے گھوڑے کا سُم پڑتاہے ،گھاس تروتازہ ہوجاتی ہے۔اپنی فراست سے کام لے کر اس نے نتیجہ یہ نکالا کہ ان کی سواری کے نقش قدم کی مٹی میں تازہ حیات بخشی کی تاثیر ہے۔محققین صوفیہ کہتے ہیں کہ کشف و تصرف پر ناز کرنے کی کیسی ممانعت اس آیت سے نکل رہی ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔۔۔۔۔ دوسری روایت یہ ہے کہ دریا سے پار ہونے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو طور پر آنے کی دعوت دینے کے لئے جبرئیل امین گھوڑے پر سوار تشریف لائے تھے ان کو سامری نے دیکھ لیا دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوسکا اس کی وجہ حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں یہ ہے کہ سامری کی پرورش خود جبرئیل امین کے ذریعہ ہوئی تھی جس وقت اس کی ماں نے اس کو غار میں ڈال دیا تھا تو جبرئیل امین روزانہ اس کو غذا دینے کے لئے آتے تھے اس کی وجہ سے وہ ان سے مانوس تھا اور پہچانتا تھا دوسرے لوگ نہیں پہچان سکے۔ (بیان القرآن) (معارف القرآن)

97۔ سامری کی دنیا میں سزا:۔  یعنی اس کو موسیٰؑ نے اچھوت قراردیاکہ کوئی شخص اس سے کسی قسم کا بھی تعلق نہ رکھے۔پھر اس کیلئے مزید سزا یہ تھی کہ وہ خود دوسروں سے کہتاتھا کہ مجھ سے پرے رہنا ،مجھ سے بچ کر رہنا،مجھے ہاتھ نہ لگانا، میں ناپاک ہوں لہذا مجھے نہ چھونا۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اگر کوئی سامری کو ہاتھ لگاتا یا اسے چھوتا تو سامری اور چھونے والے دونوں کو تپ چڑھ جاتی تھی۔لہذا سامری اس بات پر مجبور تھا کہ دوسروں سے کہے کہ مجھے ہاتھ نہ لگانا،ساتھ ہی موسیٰؑ نے اسے یہ بھی بتادیا کہ یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے اس جرم کی سزا پوری ہوچکی بلکہ آخرت میں جو تجھے عذاب ہونے والا ہے وہ بھی کبھی ٹل نہ سکے گا۔(تیسیر القرآن)

ــ چند اشارات: آریا  جو تقریبا  ساڑھے  تین  ہزار  سال قبل  ہندوستان   آئے   تقریبا  وہی  زمانہ  جب  بنی اسرائیل  مصر  سے  نکلے  - آریا   حضرت  ہام کی نسل  سے لیکن  ان میں  کچھ  اسرائیلی  -  برہمن   وہی ہیں  ۔۔۔۔۔جو حضرت موسٰی ؑ   نے  سامری  کے بچھڑے  سے  کیا ان کا  مردہ  کو جلانا  اور راکھ  کو سمندر  یا دریا  میں  بہادینا   ۔ آج کا ہندو اپنے مردوں کے ساتھ یہی کر رہا ہے۔۔۔۔Lost tribes of House of Israel ۔۔۔۔۔گیروا رنگ      (گہرے  زرد رنگ  کی گائے  جو ذبح  کی گئی )  ہنومان  کا پہاڑ   کو اٹھانا – گوسالہ  پرستی  -  اچھوت(Untouchable)   ۔ صحف  ابراھیم  و موسٰی  - موسیٰؑ کے صحیفے    تو ہیں  ۔  صحف  ابراھیم   کہاں ۔ اُپنشد  ( صحف  ابراھیم کا احتمال )  ۔ توحید  کے اثرات  ۔(بیان القرآن)

99۔اس سورۃ کا آغاز بھی کاذکر سے کیا گیا تھا۔یعنی ہم نے یہ ذکر اس لئے نہیں نازل کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں بلکہ یہ تو  ڈرنے والوں کیلئے یاددہانی ہے۔یہاں اسی اصل موضوع کی طرف عود کیاگیا ہے۔جو کہ نوع انسان کی ہدایت ہے۔درمیان میں جو سیدنا موسیٰؑ کا قصہ ذکر کیا گیا تو اس میں بھی یہی رنگ غالب نظر آتاہے۔(تیسیر القرآن)

102۔صور کے معنیٰ اور اس کی ترقی یافتہ شکلیں:۔  صور کے معنی،قرنا،نرسنگھا اور بوق ہے اور یہ چیزیں دورنبویؐ میں رائج تھیں ۔ضروری نہیں کہ صور کی بھی یہی شکل و صورت ہو بلکہ قرآن ایسے لفظ استعمال کرتاہے جس سے انسانی ذہن اس اصل چیز سے قریب ترکسی چیز سے متعارف ہو۔اسی غرض کیلئے فوج میں بگل استعمال ہوتاہے جس سے لشکر کو اکٹھا یا منتشر کیا جاتاہے۔ہوائی حملہ کے خطرہ کے دوران سائرن کا جواز ہے یا نہیں؟ بعض علماء نے اسے ناجائز قرار دیاہے۔بہر حال افطاری اور سحری کے وقت بگل یا ناقوس کہ بجائے اذان کہنا ہی مسنون ہے ۔سائرن سے ملتی جلتی یا اس سے بھی ترقی یافتہ شکل نفخہ صور کی ہوگی۔۔۔۔اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ جب دہشت کے مارے آنکھیں پتھراجاتی ہیں تو ان پر نیلگوں سفیدی غالب آجاتی ہے ۔اور دوسرا معنی یہ ہے سارابدن ہی نیلگوں ہوجائے گا۔یعنی دہشت کے مارے خون تو خشک ہوجائے گا اور جسم پرنیلا ہٹ غالب آنے لگے گی۔(تیسیر القرآن)

ــــ (فرط دہشت و خوف سے)قرآن کے مخاطبین اول قوم عرب میں نیلی آنکھ خاص طورپر مبغوض و مکروہ سمجھی جاتی تھی،اس لئے کہ ان کے دشمن  بنی احمر یا اہلِ روم (یورپ والے)نیلی آنکھیں رکھتے تھے۔ اور اسی لئے ازرق العین ان کے ہاں دشمن کا عام لقب پڑگیاتھا۔(تفسیر ماجدی)


چھٹا رکوع

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ ﴿105﴾ فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ ﴿106﴾ لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ ﴿107﴾ یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا ﴿108﴾ یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا ﴿109﴾ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا ﴿110﴾ وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا ﴿111﴾ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا ﴿112﴾ وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا ﴿113﴾ فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا ﴿114﴾ وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ ۧ ۧ ﴿115ع طه 20﴾
105. اور تم سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا ان کو اُڑا کر بکھیر دے گا۔ 106. اور زمین کو ہموار میدان کر چھوڑے گا۔ 107. جس میں نہ تم کجی (اور پستی) دیکھو گے نہ ٹیلا (اور بلندی)۔ 108. اس روز لوگ ایک پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اس کی پیروی سے انحراف نہ کرسکیں گے اور خدا کے سامنے آوازیں پست ہوجائیں گی تو تم آواز خفی کے سوا کوئی آواز نہ سنو گے۔ 109. اس روز (کسی کی) سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے خدا اجازت دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے۔ 110. جو کچھ ان کے آگے ہے اورجو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ اس کو جانتا ہے اور وہ (اپنے) علم سے خدا (کے علم) پر احاطہ نہیں کرسکتے۔ 111. اور اس زندہ و قائم کے رو برو منہ نیچے ہوجائیں گے۔ اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا۔ 112. اور جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کو نہ ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا۔ 113. اور ہم نے اس کو اسی طرح کا قرآن عربی نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈراوے بیان کردیئے ہیں تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا خدا ان کے لئے نصیحت پیدا کردے۔ 114. تو خدا جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے۔ اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے (پڑھنے کے) لئے جلدی نہ کیا کرو اور دعا کرو کہ میرا پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے۔ 115. اور ہم نے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ (اسے) بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا۔

تفسیر آیات

105۔  (کہ قیامت کے دن ان کا کیا حشر ہوتاہے؟)جاہلوں اور جاہلیوں کا ایک سوال رسول اللہؐ سے یہ بھی رہتاتھا کہ قیامت کے دن آپ کا اللہ آخر پہاڑ جیسی ٹھوس اور اٹل چیزوں کا کیا کرےگا۔(تفسیر ماجدی)

107۔نفخۂ صور اول کے اثرات:۔ یعنی پہاڑوں کو پیوند خاک بنادیاجائے،سمندروں کو پاٹ دیا جائےگا۔زمین کے سب نشیب و فراز ختم کردئیے جائیں گےاور وہ ایک بالکل ہموار اور وسیع میدان کی طرح بن جائے گی۔اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا"یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ"(14: 48)"یعنی اس دن یہ زمین ایسی نہ رہے گی جیسی تم آج دیکھ رہے ہو،بلکہ اس میں تبدیلی پیدا کردی جائےگی"۔(تیسیر القرآن)

۔ ۔۔۔۔(واضح رہے کہ صحابہ وتابعین میں سے ابن عباس ؓ اور قتادہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جنت اسی زمین پر ہوگی، اور سورة نجم کی آیت عِنْد سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی ہ عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمأویٰ ، کی تاویل وہ یہ کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ جنت ہے جس میں اب شہداء کی ارواح رکھی جاتی ہیں)۔ (تفہیم القرآن)

108۔ نفخۂ صور ثانی کے اثرات:۔ یہ داعی اللہ کا مقرر کردہ فرشتہ اسرافیل ہوگا۔ اس دنیا میں تو ان لوگوں نے اللہ کے داعی کی بات کو سننا بھی گوارا نہ کیا بلکہ اس کی مخالفت ہی کرتے رہے مگر اس دن اللہ کے داعی کی آواز پر سراپا عمل بن جائیں گےاور جو کچھ وہ کہے گا ٹھیک اسی طرح کرتے جائیں گے۔وہ کہے گا کہ چلو میدان حشر کی طرف تو سب دوڑ پڑیں گے اور اس داعی کی آواز اور حکم کو پوری طرح سمجھ بھی رہے ہوں گے۔(تیسیر القرآن)

109۔۔۔۔ یعنی جو شفاعت کرے گا وہ بھی خدا کی اجازت سے کرے گا اور جس کے لئے شفاعت کی جائے گی وہ بھی بایں شرط مشروط ہے کہ خدا اس کے بارے میں کسی کے سفارش کرنے کو پسند فرمائے۔ مطلب یہ ہے کہ کام آنے والی شفاعت بیک وقت ان دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر کسی نے شفاعت سے متعلق ان شرائط سے قطع نظر کر کے کوئی اپنا نظریہ ایجاد کر رکھا ہے تو وہ محض اس کا واہمہ ہے جس کی حقیقت قیامت کے دن اس کے سامنے آجائے گی۔ (تدبرِ قرآن)

114۔ اس آیت کا صحیح مفہوم ذہن نشین کرنے کے لئے سورة مریم کی آیات 65-64 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے مخالفین کی تمام مخالفتوں اور ژاژخائیوں کے مقابلہ کے لئے آنحضرت صلعم کے پاس واحد ہتھیار قرآن ہی تھا۔ اس وجہ سے قدرتی طور پر اس کے اترنے کے لئے آپ کے اندر ایک بےقراری اور بےچینی پائی جاتی تھی۔ اسی سے مشکلات میں آپ کو رہنمائی ملتی تھی، یہی چیز الجھنوں اور پریشانیوں میں تسلی کا ذریعہ بنتی تھی اور مخالفین جو نت نئے مطالبات و اعتراضات روز روز پیش کرتے ان کے فیصلہ کن جواب بھی قرآن ہی دے سکتا تھا۔ ان وجوہ سے اس سپاہی کی طرح جو دشمنوں کی دل بادل فوج کے مقابل میں نبرد آزما ہو، آپ کو ہر وقت اس آسمانی کمک کا انتظار رہتا۔ حضور کی اسی پریشانی کو دور کرنے کے لئے ارشاد ہوا کہ تم قرآن کے اتارے جانے کے لئے جلدی نہ کرو۔۔۔۔۔یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور ہر جگہ اسی سیاق وسباق کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ہمارے مفسرین نے ان آیات کو اس محدود مفہوم میں لیا ہے کہ حضرت جبریل جب آنحضرت کو وحی سناتے تو آپ اس کو سیکھنے میں عجلت کردیتے جس پر آپ کو ٹوکا گیا اگرچہ یہ بات بجائے خود صحیح ہے کہ جس چیز کے لئے شوق و بےقراری ہو، جذبہ شوق اس کے لئے جلد باز بنا دیتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

115۔ ۔۔۔۔یہی عجلت آدم کے لئے مزلہ قدم ثابت ہوئی۔۔۔۔۔۔اوپر حضرت موسیٰ کی سرگزشت میں بھی یہ حقیقت واضح فرمائی گئی کہ ان کی عجلت بھی ان کو راس نہیں آئی بلکہ ان کے اور ان کی قوم کے لئے ایک سخت آزمائش بن گئی۔ ان واقعات کے پردے میں آنحضرت کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ آپ بھی اپنی دعوت کے معاملے میں جلدی نہ کریں۔۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)


ساتواں رکوع

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى ﴿116﴾ فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى ﴿117﴾ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ ﴿118﴾ وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى ﴿119﴾ فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى ﴿120﴾ فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ ﴿121﴾ ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى ﴿122﴾ قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى ﴿123﴾ وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى ﴿124﴾ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا ﴿125﴾ قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى ﴿126﴾ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى ﴿127﴾ اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ ۧ ۧ ﴿128ع طه 20﴾
116. اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو سب سجدے میں گر پڑے مگر ابلیس نے انکار کیا۔ 117. ہم نے فرمایا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو یہ کہیں تم دونوں کو بہشت سے نکلوا نہ دے۔ پھر تم تکلیف میں پڑجاؤ۔ 118. یہاں تم کو یہ (آسائش) ہوگی کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے۔ 119. اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ۔ 120. تو شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ (اور) کہا کہ آدم بھلا میں تم کو (ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو۔ 121. تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا تو ان پر ان کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں) پر بہشت کے پتّے چپکانے لگے۔ اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو (وہ اپنے مطلوب سے) بےراہ ہو گئے۔ 122. پھر ان کے پروردگار نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی۔ 123. فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے نیچے اتر جاؤ۔ تم میں بعض بعض کے دشمن (ہوں گے) پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔ 124. اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ 125. وہ کہے گا میرے پروردگار تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا میں تو دیکھتا بھالتا تھا۔ 126. خدا فرمائے گا کہ ایسا ہی (چاہیئے تھا) تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تونے ان کو بھلا دیا۔ اسی طرح آج ہم تجھ کو بھلا دیں گے۔ 127. اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے ہم اس کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ اور آخرت کا عذاب بہت سخت اور بہت دیر رہنے والا ہے۔ 128. کیا یہ بات ان لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ عقل والوں کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

تفسیر آیات

117۔(کہ تم ہی دونوں کے معاملہ میں اسے مردود ہونا پڑا تھا، اوراس وقت سے اس نے اپنا مقصدِ حیات ہی تم کو گمراہ کرنا بنالیاہے) لَكَ وَ لِزَوْجِكَ۔سوال یہ پیدا ہواہے کہ حرف ل مکررکیوں آیا ہے،جبکہ ایک ہی ل کافی ہوسکتاتھا۔اس کے دوجواب دئیے گئے ہیں،ایک یہ کہ قاعدہ نحوی اس کا مقتضی تھا کہ دو مجروروں کے درمیان حالتِ عطف میں حرف جاربھی دوبار لایا جائے۔دوسراجواب یہ ہے کہ ل کی تکرار اس اظہار کیلئے ہوئی ہے کہ ابلیس کی دشمنی زوجہ آدم کے ساتھ بھی مستقل تھی ضمناً و تبعاً نہ تھی۔(تفسیر ماجدی)

119۔(اور جنت سے باہر ان سب مصیبتوں سے دوچار ہونا پڑے گا۔اس لئے ان امور کو پیش نظر رکھ کر اپنے اس موذی دشمن کی طرف سے خوب ہوشیار و خبردار رہنا) ابن قیمؒ نے یہاں یہ نکتہ لکھا ہے کہ بہ ظاہر تقابل بھوک اور پیاس میں معلوم ہوتاہے اور بے لباس اور بے سایہ رہنے میں ،لیکن قرآن مجید نے بڑی دقیقہ سنجی سے کام لے کر تقابل بھوک اور بے لباسی کے درمیان پیدا کیا ہے کہ بھوک ایک الم باطنی ہے اور بے لباسی ایک الم ظاہری ۔اور دونوں میں ایک معنوی مناسبت ہے۔اسی طرح دوسرا تقابل پیاس اور آفتاب زدگی کے درمیان رکھاہے۔اس لئے کہ پیاس نام ہے حرارت باطنی کا، اور آفتاب زدگی حرارت ظاہری کا۔اور اس طرح جنت سے تمام آلام ظاہری و باطنی کی نفی کردی ہے۔بعض اور اہل تفسیر بھی اسی طرف گئے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

120۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مقام پر شیطانی وسوسہ کی نسبت صرف سیدنا آدمؑ کی طرف کی گئی ہے اور ایک دوسرے مقام پر دونوں کی طرف کی ہے۔ اس لئے کہ اس معاملہ میں حوا کی حیثیت صرف بالتبع تھی۔ لیکن بائبل کی روایت یوں ہے کہ شیطان نے پہلے سیدہ حواکو بہکایا ۔پھر حوا نے سیدنا آدمؑ کو پھل کھانے پر آمادہ کرلیا ۔بائبل کی اس روایت کو بعض مفسرین نے بھی نقل کردیا ۔جب کہ یہ روایت قرآن کی اس آیت کے مطابق غلط قرار پاتی ہے۔(تیسیر القرآن)

۔یہاں قرآن صاف تصریح کرتا ہے کہ آدم و حوا میں سے اصل وہ شخص جس کو شیطان نے وسوسے میں ڈالا آدم ؑ تھے نہ کہ حضرت حوا۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

121۔ ایک بحث یہ اٹھائی گئی ہے کہ حضرت آدمؑ تو پیمبر تھے۔اور پیمبر کے کسی فعل پر عصیان اور غوایت کا اطلاق کہاں تک جائز ہے۔امام رازیؒ نے اس کا ایک جواب اور صحیح جواب یہ دیا ہے کہ حضرت آدمؑ کو  نبوت تو زمین پر آکر ملی اور یہ ذکر اس زمانہ سے قبل کا ہے۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ اس میں ذکر ہے خطاء اجتہادی کے صدور کاکاملین سے نیز اس پر مواخذہ کا برخلاف عوام کے کہ انہیں اس پر احیاناً اجرمل جاتاہے۔(تفسیر ماجدی)

123۔کون کس کا دشمن ؟ فریق کون کون ہیں؟۔  اس مقام پر تثنیہ استعمال ہواہے۔ جس کے دومطلب ہوسکتے ہیں ایک مطلب ترجمہ میں واضح ہے کہ ایک فریق آدم و حواتھے اور دوسرا فریق شیطان اور خطاب کے لحاظ سے ان فریقوں میں ان کی اولاد بھی شامل ہے۔اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایک فریق آدم ،دوسرا حوا ہو،جمیعاً  کا معنی سب کے بجائے "مل کر، اکٹھے یا ایک ساتھ"کیا جائے اور خطاب آدم و حواکی اولاد سے ہو۔اور ان کی اولاد میں دشمنی اس طرح ہوگی کہ ان کی اولاد میں سے ایک فریق اللہ کا فرمانبردار بن کر رہے گا اور دوسرا شیطان کا تابع فرمان ۔ان دونوں فریقوں میں حق و باطل کی جنگ جاری اور دشمنی قائم رہے گی۔۔۔۔یشقیٰ کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ وہ جنت کی راہ سے بہکے گا نہیں اور نہ اس سے محروم ہوکر دوزخ کی تکلیفیں اٹھائے گا۔بلکہ سیدھا جنت میں پہنچ جائے گا جو اس کا اصل وطن ہے اور اس لفظ کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ بدبختی میں مبتلا نہ ہوگا۔دنیا میں بھی اس کا مقدر اسے ضرور ملے گا اور آخرت میں تو وہ بہرحال خوش نصیب ہوگا۔(تیسیر القرآن)

124۔ مَعِیْشَةً ضَنْكًا۔ سے مراد عذاب قبر لی گئی ہے۔ اور عالم برزخ کے وجود پر قرآن سے استدلال منجملہ اور آیتوں کے اس آیت سے بھی کیا گیا ہے۔(تفسیر ماجدی)

ـــــ ضیق کی زندگی سے مراد وہ زندگی ہے جو سکون و طمانیت اور فراغ خاطر و شرح صدر کی نعمت سے محروم ہو۔انسان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے لیے جو اسباب و سامان بھی مہیاکرلے لیکن اگر وہ خدا پر ایمان اور اس کی ہدایت سے محروم ہے تو وہ غیر مطمئن ،ڈانواڈول،اندیشہ  ناک،مضطرب اور اندرونی خلفشار میں مبتلا رہتاہے۔نفس مطمئنہ کی بادشاہی صرف سچے اور پکے ایمان ہی سے حاصل ہوتی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

125۔ اعمال کا بدلہ ممثل شکل میں:۔ یعنی اس کا اعتراض یہ تھا کہ دنیا میں بینا تھا اور ہر چیز کو دیکھ سکتاتھا آج اندھا بناکر کیوں اٹھایا جارہاہے۔ اس کو جواب یہ دیا جائے گا کہ تو دنیامیں میری آیات دیکھنے سے اندھا رہاتھا۔آنکھیں عطاکرنے کا مقصدصرف یہ ہی نہیں تھاکہ تو اپنے مطلب کی چیزیں دیکھے۔ بلکہ اصل مطلب یہ تھا کہ تو اللہ کی آیات کو دیکھے ۔اس لحاظ سے تو دنیا میں اندھا ہی بنارہا۔تیرے اس فعل کا نتیجہ ہی ممثل شکل میں تیرے سامنے آیا ہے۔تو اب تعجب کیوں کرتاہے۔واضح رہے کہ یہ ابتدائے حشر کا ذکر ہے۔بعد میں اس کی آنکھیں کھول دی جائیں گی تو وہ دوزخ اور احوال محشر کا ٹھیک ٹھیک معائنہ کرسکے گا۔(تیسیر القرآن)


آ ٹھواں رکوع

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ ﴿129﴾ فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى ﴿130﴾ وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى ﴿131﴾ وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى ﴿132﴾ وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى ﴿133﴾ وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى ﴿134﴾ قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ ۧ ۧ ﴿135ع طه 20﴾
129. اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے صادر اور (جزائے اعمال کے لئے) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو (نزول) عذاب لازم ہوجاتا۔ 130. پس جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیا کرو۔ اور رات کی ساعات (اولین) میں بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور دن کی اطراف (یعنی دوپہر کے قریب ظہر کے وقت بھی) تاکہ تم خوش ہوجاؤ۔ 131. اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں ان پر نگاہ نہ کرنا۔ اور تمہاری پروردگار کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی بہت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ 132. اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو۔ ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں۔ بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور (نیک) انجام (اہل) تقویٰ کا ہے۔ 133. اور کہتے ہیں کہ یہ (پیغمبر) اپنے پروردگار کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے۔ کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی نشانی نہیں آئی؟ 134. اور اگر ہم ان کو پیغمبر (کے بھیجنے) سے پیشتر کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیرے کلام (واحکام) کی پیروی کرتے۔ 135. کہہ دو کہ سب (نتائج اعمال) کے منتظر ہیں سو تم بھی منتظر رہو۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ (دین کے) سیدھے رستے پر چلنے والے کون ہیں اور (جنت کی طرف) راہ پانے والے کون ہیں (ہم یا تم)۔

تفسیر آیات

130۔  قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا-  فجر  اور  عصر  کی نمازیں    " مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ-  مغرب   اور  عشاء   ( بعض  کے نزدیک   تہجد  بھی ) 

۔اَطٗرافَ النّھار  -نماز  ظھر ۔۔۔۔۔سات  سال   کی عمر  میں پیارسے  اور دس  سال کی عمر  میں   مارکر۔(تفسیر عثمانی )

۔ پانچوں نمازوں کے اوقات:۔ حمد کے ساتھ تسبیح اور محض تسبیح دونوں سے یہاں مراد نماز ہے کہ یہ عرب میں عام دستور ہے کہ کسی چیز کا کوئی خاص جزء بول کر اس سے مراد کل لیا جاتاہے اور اس کی مثالیں بہت ہیں۔سورج کے طلوع سے پہلے سے مراد فجر کی نماز ہے اور غروب سے پہلے کی نماز عصر ہے۔رات کے کچھ اوقات  سے مراد نماز عشاء ہے اور نماز تہجد بھی جو آپ پر فرض تھی لیکن دوسروں کیلئے سنت مؤکدہ ہے۔اور ان کے کنارے تین ہی ہوسکتے ہیں ،صبح، شام اور زوال آفتاب ،صبح سے مراد فجر کی نماز ہے جس کا ذکر پہلے ہی آچکا ،شام سے مراد نماز مغرب اور زوال آفتاب سے مراد ظہر کی نماز ہے۔گویا اس ایک آیت سے ہی پانچوں  فرض نمازیں اور ان کے اوقات ثابت ہوجاتے ہیں اور اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتاہےکہ آپ کو کسی وقت بھی اللہ کی یاد اور تسبیح و تہلیل سے غافل نہ رہنا چاہئے۔(تیسیر القرآن)

۔اس آیت سے ان لوگوں کے خیال کی نہایت واضح طور پر تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ نمازوں کے اوقات قرآن میں مذکور نہیں ہیں۔ قرآن میں صرف فرض نمازوں ہی کے نہیں بلکہ اشراق اور تہجد کے اوقات بھی مذکور ہیں۔ نبی ﷺ نے انہی اوقات کو اپنے عمل سے منضبط کر کے ان کی حد بندی فرما دی۔ مختلف نمازوں کی شکلیں بھی معین فرما دیں اور یہ بھی بتا دیا کہ ان میں سے کن نمازوں کی حیثیت فرض و      واجب کی ہے اور کن کی حیثیت نوافل کی۔ ظاہر ہے کہ ان تمام تفصیلات کا بتانا اور ہر نماز کے حدود و اطراف کا معین کرنا نبی ﷺ ہی کا کام تھا اس لئے کہ آپ صرف قرآن کے سنا دینے والے ہی نہیں بلکہ اس کے معلم بھی تھے۔۔۔۔۔۔ آپ کے واسطہ سے امت کو وہ تدبیر بتائی گئی ہے جو مشکلات و مصائب میں ثابت قدم رکھنے والی اور خدا کی رحمت و نصرت کا حق دار بنانے والی ہے۔ اس طرح کے حالات میں صرف فرض نمازوں ہی کا اہتمام مطلوب نہیں ہے بلکہ نوافل کا اہتمام بھی مطلوب ہے۔ قرآن، نبی ﷺ کے ارشادات اور سلف صالحین کے عمل، ہر چیز سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔ عام حالات میں تو تہجد و اشراق کی نمازوں کی حیثیت بہرحال نفلی نمازوں ہی کی ہے لیکن مشکلات و مصائب میں خواہ  وہ      انفرادی ہوں یا اجتماعی، ان کا اہتمام ضروری ہے ۔ ع۔ حدی راتیز ترمی خواں چو محمل راگراں بینی ! ۔۔۔۔۔اس مسئلہ پر انشاء اللہ سورة مزمل کی تفسیر میں ہم وضاحت سے بحث کریں گے اور کسی موزوں مقام پر ان مصالح پر روشنی ڈالیں گے جو اوقات نماز کے تعین میں ملحوظ ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

131۔ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا۔زھرۃ کے معنی لغت میں تازگی اور زیب و زینت کے ہیں۔۔۔۔حدیث کی کتابیں ابواب الزہد وغیرہ کے ماتحت اس قسم کے مضامین سے بھری پڑی ہیں۔ بخاری کی مشہور حدیث ہے، کن فی الدنیا کانّک غریب او عابر سبیل ،دنیا میں اس طرح رہوکہ گویا غریب الوطن ہو یا مسافر راہ رو۔(تفسیر ماجدی)

 132۔ لَا نَسْــٴَـلُكَ رِزْقًا-  یعنی  ہم  تم سے  یہ  مطالبہ  نہیں کرتے  کہ تم  اپنا  اور اپنے   اہل  و عیال  کا رزق  اپنے  زور  علم و عمل  سے  پیدا  کرو  بلکہ  یہ معاملہ  ہم نے  اپنے  ذمہ  لے  رکھا  ہے  ۔ ( ترمذی  اور ابن  ماجہ  نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ  سے  یہ  روایت  نقل  کی ہے  کہ  اللہ تعالی  فرماتا ہے   کہ  اے ابن آدم  تو میری  عبادت  کیلئے  اپنے  آپکو  فارغ  کرلے  تو  میں تیرے  سینے  کو  غنا    و استغنا  سے  بھردوں گا  اور  تیری  محتاجی  کو دور  کردوں گا  ۔ اگر  تونے  ایسا نہ کیا  توتیرا  سینہ  فکر  اور  شغل  سے بھردونگا  اور محتاجی  دور  نہ کروں گا  ( یعنی  جتنا  مال  بڑھتا  جائے  گا  حرص  بھی   اتنی  ہی  بڑھتی  چلی جائے گی  اس لئے  ہمیشہ  محتاج  ہی  رہے گا)     ( ابن کثیر ) ۔(معارف القرآن)

۔ یہاں ظاہر پرستوں کو یہ بات بہت عجیب معلوم ہوگی کہ نماز بھلا آدمی کے رزق کی ضامن کس طرح ہوسکتی ہے اس میں شبہ نہیں کہ یہ حقیقت ان لوگوں کو نہیں سمجھائی جاسکتی جو نہ خود نماز کی روح سے آشنا ہیں اور نہ انہیں کسی حقیقی نماز آشنا سے آشنائی ہوئی۔ یہ چیز سمجھانے کی نہیں بلکہ جاننے اور سمجھنے کی ہے۔ صرف تجربہ ہی اس کا یقین پیدا کرسکتا ہے جو نماز کے لذت آشنا ہیں وہی جانتے ہیں کہ اس میں کیا ہے۔ میری اس بات کو ادعا پر محمول نہ فرمائیے۔ میں خود ایک بےعمل آدمی ہوں لیکن میں نے خود اپنی آنکھوں سے تاریخ کے صفحات میں بھی اور چلتے پھرتے انسانوں میں بھی ایسی پیشانیاں دیکھی ہیں جن کے سجدوں کے نشانات کی تابناکی آفتاب کو بھی شرماتی تھی اور جن کے استغفار کا یہ عالم تھا کہ تخت جمشید کو بھی پائے استحقار سے ٹھکرا دینے والے تھے۔ (تدبرِ قرآن)

ــــ نماز  خزائن  رحمت کی  کلید  ہے  -  حضور  ؐ حضرت  خاتون  جنت  رضی اللہ تعالی عنہا  اور شیر خدا   رضی اللہ  تعالی عنہ  کو نماز  صبح کیلئے  خود  بیدار  کرتے تھے   ( حضرت  ابراھیم  ؑ  کی  اپنی  نماز  اور  اپنی  اولاد  کی نماز  کیلئے  دعا ) رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ- افسوس  ! کہ آج سادات  کرام  کی ایک کثیر  تعداد  کو  اس حکم کی اہمیت  کا احساس  نہیں  بلکہ   وہ سمجھتے  ہیں  کہ وہ  اس حکم  سے  مستثنی  ہیں گو یا  ایک  بیگار  اور سزا  تھی جو انہیں  معاف  کردی گئی ۔ عام مسلمان بھی  نماز  کو ایک  بیگار  سمجھتے  ہیں اور خیال  کرتے  ہیں  کہ یہ  ایک  سزا  ہے   جو   مسلمان  ہونے  کے جرم میں  دی گئی  ہے ۔ حالانکہ  اس سے  رحمت  کے دروازے  کھلتے  ہیں  اور  مصیبتوں  کے سیلاب  کے سامنے  بند  بندھ جاتا ہے   بقول  علامہ  اقبال  :

                            وہ  ایک سجدہ  جسے  تو گراں  سمجھتا ہے               ہزار  سجدے  سے دیتا  ہے آدمی کو  نجات            (ضیاءالقرآن)

ـــــ   آیت  زیر  بحث  میں  بھی  اھل سے  وہ تما م لوگ  مراد  ہیں جو نبی ؐ   پر ایمان لائے  تھے  ۔ غور  کیجئے  کہ لفظ  " اھل  " نے  غربائے مسلمین  کی کتنی  عزت  بڑھادی  ہے ۔(تدبرقرآن)

ـــــ اَهْلَكَ۔اھل کے لفظ میں اہل خاندان ،اور عام مومنین دونوں کا مفہوم شامل ہے۔اور خطاب چونکہ رسول اللہؐ سے ہے اس لئے مراد آپ کی امت ہوگی اور اہل بیت خصوصاً۔۔۔۔فقہاء نے یہاں سے یہ استنباط کیا ہے کہ امر بالمعروف ،خصوصاً تاکید نماز اپنے متعلقین پر واجب ہے۔ (تفسیر ماجدی)

133۔ عظیم الشان معجزہ  قْرآن  جو اگلی  کتابوں  کے مضامین  کا محافظ   ۔(تفسیر عثمانی)

ــــ   ان سوالات  کیلئے   وسوسہ  اندازی  کرنے  والے  اور سوالات  کو  پیش  کرنے  والوں  کو الگ  الگ  جواب  - اہل کتاب  کو یہ جواب  کہ   کیا  ان کیلئے  یہ نشانی  کافی  نہیں  کہ پچھلے   صحیفوں میں  جس آخری  رسول  کی بعثت  کی بشارتیں  تھیں  ان کا  مظہر  مصداق  آ گیا – دوسرے   ( مشرکین )  کو یہ جواب   کہ  اگر   ہم  رسول ؐکے بھیجنے  سے پہلے  ان پر  عذاب  بھیج  دیتے  تو قیامت  کے  روز  یہ اعتراض  کرتے  کہ اگر  رسول  ہمارے  پاس  آتا  تو  ہم  تیری  آیات  کی پیروی  کرتے  ۔ (تدبرِ قرآن)

135۔ یعنی جب سے یہ دعوت تمہارے شہر میں اٹھی ہے، نہ صرف اس شہر کا بلکہ گرد و پیش کے علاقے کا بھی ہر شخص انتظار کر رہا ہے کہ اس کا انجام آخر کار کیا ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن)