21 - سورة الأنبیاء (مکیہ)
| رکوع - 7 | آیات - 112 |
نام : سورۃ کا نام بھی اور عنوان بھی .
مضمون: قریش نہایت لاابالیانہ انداز میں پیغمبرؐ کی اس دعوت کی مخالفت کررہے ہیں جو ہمیشہ سے انبیاء کی دعوت رہی ہے۔انہوں نے دنیا کو ایک بازیچۂ اطفال سمجھ رکھاہے ۔ان کا سارا اعتماد ااپنے خود تراشیدہ معبودوں پر ہے، جبکہ فیصلہ کی گھڑی ان کے سروں پر آچکی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون : تمام انبیا توحید کی دعوت دیتے رہے ہیں ۔ حضرت محمد ؐ رحمت العالمین ہیں اور اپنے جد امجد حضرت ابراھیم ؑ کی میراث کے صحیح وارث اور اس سلسلے کی آخری کڑی ہیں ۔ ان کو جھٹلانے والوں کی شامت آئیگی ۔اس سورۃ میں انبیائے کرام کی سیرتوں کے اہم واقعات بیان کئے گئے ہیں اور اس تصورر کی تردید کی گئی ہے کہ زندگی بس ایک کھیل ہے اور مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں ۔
شان نزول : اگلی تین سورتیں یعنی الانبیا ، المومنون اور الفرقان زمانہ قحط یعنی 7 سن نبوی کے لگ بھگ نازل ہوئیں ۔ ان کے درمیان دو سورتیں یعنی الحج اور النور مدنی ہیں ۔ سورۃ حج کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ مکی ہے یا مدنی اس زمانے کا ماحول حضورؐکی دعوت کے بارے میں شک سے آلودہ تھا اور آپ ؐ پر شاعر ، ساحر ، اور مفتری جیسے الزامات لگائے جارہے تھے ۔ ان سورتوں میں ان کا جواب بھی دیا گیا ہے ۔
نظم کلام : سورۃ یونس ( 14 + 1 ) پہلے آٹھ سورتیں ( یونس تا بنی اسرائیل ) ہجرت مدینہ سے پہلے ، پھر تین سورتیں ( الکہف تا طہ ) ہجرت حبشہ سے پہلے اور یہ تین سورتیں ( الانبیا ، المومنون اور الفرقان ) مکی دور کے دوسرے حصہ میں نازل ہوئیں۔
ترتیب مطالعہ : (1 ) ر - 1 تا 4 ( آیت : 47 تک ) تمہیدی ( مشرکین مکہ کی سخن سازیاں ، توحید اور آخرت ، غلبہ اسلام کی پیشنگوئی ) (2 ) ر- 4 ( آیات : 48 تا 50 ) ر – 5 /6 انبیا ء کے تذکرے اور اس حقیقت کا بیان کہ انکی دعوت ایک ہی تھی ۔ (3 ) ر - 7 اختتامی - حق و باطل کی کشمکش میں حق کا غلبہ ہوگا ۔
تاریخِ نبوت و کارِ نبوت: قصۂ ابراہیمؑ(آیات: 50 تا71)،اسحٰقؑ و یعقوبؑ اور کارِ رسالت(72تا 73)،قصۂ لوطؑ (74 تا 75)،قصۂ نوحؑ(76تا77)،قصۂ سلیمانؑ،داؤدؑ(78تا 83)،اسمٰعیلؑ،ادریس و ذوالکفل(85 تا 86)،ذوالنون یونسؑ(87تا 88)،زکریاؑو یحیٰؑ(89تا90)،مریم و عیسیٰؑ(91)،رسولوں کی دعوت توحید(92تا93)،رسول اللہؐ(107)۔)قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی(
پہلا رکوع |
| اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ ﴿1﴾ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ ﴿2﴾ لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى١ۖۗ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۚ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ﴿3﴾ قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ﴿4﴾ بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ﴿5﴾ مَاۤ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا١ۚ اَفَهُمْ یُؤْمِنُوْنَ ﴿6﴾ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ﴿7﴾ وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا یَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِیْنَ ﴿8﴾ ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ فَاَنْجَیْنٰهُمْ وَ مَنْ نَّشَآءُ وَ اَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِیْنَ ﴿9﴾ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿10ع الأنبياء 21﴾ |
| 1. لوگوں کا حساب (اعمال کا وقت) نزدیک آپہنچا ہے اور وہ غفلت میں (پڑے اس سے) منہ پھیر رہے ہیں۔ 2. ان کے پاس کوئی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں۔ 3. ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے۔ تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو۔ 4. (پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے میرا پروردگار اسے جانتا ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔ 5. بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہٴ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے۔ 6. ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لاتی تھیں۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے۔ 7. اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی (پیغمبر بنا کر) بھیجے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ 8. اور ہم نے ان کے لئے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔ 9. پھر ہم نے ان کے بارے میں (اپنا) وعدہ سچا کردیا تو ان کو اور جس کو چاہا نجات دی اور حد سے نکل جانے والوں کو ہلاک کردیا۔ 10. ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے۔ |
تفسیر آیات
1۔ یہ سورة بغیر کسی تسمیہ و تمہید کے شروع ہوگئی ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا، یہ ہے کہ یہ درحقیقت اسی انذار کے مضمون کی تکمیل ہے جس پر سابق سورة تمام ہوئی ہے۔ سابق سورة کی آخری آیات اور اس سورة کی ابتدائی آیات نے ایک حلقہ اتصال کی صورت اختیار کرلی ہے۔ (تدبرِ قرآن)
7۔ اِلَّا رِجَالًا۔ بشر کے بجائے رجل کے لفظ کے استعمال میں اشارہ اس طرف بھی ہے کہ نبوت ہمیشہ مردوں ہی کو ملی ہے نہ کہ عورتوں کو۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ اسی اصل کی بناپر اہلِ طریق بھی خلافت مردوں ہی کودیتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
۔ "ان کنتم لا تعلمون" کے الفاظ کے اندر قریش پر ایک تعریض بھی ہے کہ ہرچند یہ بات معلوم تو تمہیں بھی ہونی چاہیے کہ تم ابرا ہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کے خلف اور وارث ہونے کے مدعی ہو جو بہرحال بشر ہی تھے مافوق بشر نہیں تھے، لیکن تمہیں اگر یہ بات امی ہونے کے سبب سے بھول گئی ہے تو ان لوگوں سے پوچھ کر اپنی یادداشت تازہ کر لوجن کو کم از کم یہ بات تو نہیں بھولی ہوگی کہ جتنے رسول بھی آئے سب بشر ہی تھے، کوئی بھی فرشتہ نہیں تھا۔ (تدبرِ قرآن)
دوسرا رکوع |
| وَ كَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْیَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَّ اَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ ﴿11﴾ فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ ﴿12﴾ لَا تَرْكُضُوْا وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْئَلُوْنَ ﴿13﴾ قَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ ﴿14﴾ فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ ﴿15﴾ وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ ﴿16﴾ لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ١ۖۗ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ ﴿17﴾ بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ١ؕ وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ ﴿18﴾ وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ ﴿19﴾ یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ ﴿20﴾ اَمِ اتَّخَذُوْۤا اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ هُمْ یُنْشِرُوْنَ ﴿21﴾ لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا١ۚ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ﴿22﴾ لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُوْنَ ﴿23﴾ اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ١ۚ هٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِیَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِیْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ﴿24﴾ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ﴿25﴾ وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ ﴿26﴾ لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ ﴿27﴾ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ١ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ ﴿28﴾ وَ مَنْ یَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّیْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿29ع الأنبياء 21﴾ |
| 11. اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ستمگار تھیں ہلاک کر مارا اور ان کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے۔ 12. جب انہوں نے ہمارے (مقدمہ) عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ 13. مت بھاگو اور جن (نعمتوں) میں تم عیش وآسائش کرتے تھے ان کی اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے (اس بارے میں) دریافت کیا جائے۔ 14. کہنے لگے ہائے شامت بےشک ہم ظالم تھے۔ 15. تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا۔ 16. اور ہم نے آسمان اور زمین کو جو اور (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہوولعب کے لئے پیدا نہیں کیا۔ 17. اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن وفرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنالیتے۔ 18. بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں تو وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور جھوٹ اسی وقت نابود ہوجاتا ہے۔ اور جو باتیں تم بناتے ہو ان سے تمہاری ہی خرابی ہے۔ 19. اور جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں سب اسی کے (مملوک اور اُسی کا مال) ہیں۔ اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ کنیاتے ہیں اور نہ اکتاتے ہیں۔ 20. رات دن (اُس کی) تسبیح کرتے رہتے ہیں (نہ تھکتے ہیں) نہ اکتاتے ہیں۔ 21. بھلا لوگوں نے جو زمین کی چیزوں سے (بعض کو) معبود بنا لیا ہے (تو کیا) وہ ان کو (مرنے کے بعد) اُٹھا کھڑا کریں گے؟ 22. اگر آسمان اور زمین میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین وآسمان درہم برہم ہوجاتے۔ جو باتیں یہ لوگ بتاتے ہیں خدائے مالک عرش ان سے پاک ہے۔ 23. وہ جو کام کرتا ہے اس کی پرسش نہیں ہوگی اور (جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اس کی) ان سے پرسش ہوگی۔ 24. کیا لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود بنالئے ہیں۔ کہہ دو کہ (اس بات پر) اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ (میری اور) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے اور جو مجھ سے پہلے (پیغمبر) ہوئے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی ہیں۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ان میں سے اکثر حق بات کو نہیں جانتے اور اس لئے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ 25. اور جو پیغمبر ہم نےتم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو۔ 26. اور کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے۔ وہ پاک ہے (اس کے نہ بیٹا ہے نہ بیٹی) بلکہ (جن کو یہ لوگ اس کے بیٹے بیٹیاں سمجھتے ہیں) وہ اس کے عزت والے بندے ہیں۔ 27. اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے۔ اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔ 28. جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اس کے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں۔ 29. اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ |
تفسیر آیات
11 ۔ افراد ہوں یا اقوام جب ان پر خدا سے بے پروائی غالب ہوتی ہے تو وہ اپنے وجود کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے لگتے ہیں۔یہاں اس مغالطہ کو دور فرمایا ہے کہ اپنے آپکو بڑی چیز نہ سمجھو خدا جب چاہے گا یہاں جھاڑو پھیر دے گا اور تمہاری جگہ دوسروں کو لا بسائے گا ۔ (تدبر قرآن)
16۔(بلکہ ان کی تخلیق سے بے شمار حکمتیں اور خود مخلوق کی بے حساب مصلحتیں وابستہ ہیں)اس میں رد ہے ان مشرک قوموں کا جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ کائنات محض "ایشو رکی لیلا"یاخدا کی تماشہ گاہ ہے اور حق تعالیٰ کا مقصود اس سے کچھ نہیں، بجز تماشہ دیکھنے اور دکھانے کے۔(تفسیرماجدی)
17۔ دنیا کی مشرک قوموں نے اس کائنات کو اپنے دیوتا ؤں کی ایک تماشا گاہ قرار دیا اور ہند و فلسفیوں نے اسکو بھگوان کی لیلا سے تعبیر کیا ۔ انکار قیامت کے معنی دوسرے لفظوں میں یہی ہیں کہ کہ دنیا ایک بازیچہ اطفال ہے ۔(تدبرقرآن)
ــــ تمہارے خدا نے یہ دنیا رومی اکھاڑے کے طور پر نہیں بنائی کہ بندوں کو درندوں سے لڑوا کر اور انکی بوٹیاں نچوا کر خوشی کے ٹھٹھے لگائے ۔ ہماری یہ دنیا ایک سنجیدہ نظام ہے جس میں کوئی باطل چیز نہیں جم سکتی ۔( تفہیم القرآن)
18 ۔ تاریخ انسانی کا قرآنی فلسفہ - سپنگلر جیسے انسان بچہ جوان اور بوڑھا اور فوت اسی طرح اقوام – کارل مارکس (Thesis, anti- thesis ,Synthesis ) بہترین تشریح اقبال :
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی
دنیا کو ہے پھر معرکہ روح و بدن پیش تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کوہے پامردی مومن پہ بھروسا ابلیس کو مغرب کی مشینوں کا سہارا
صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم کرتی ہے جو ہر زمان اپنے عمل کا حساب
19۔ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ میں بڑی گنجائش ہے۔فرشتوں کے علاوہ اور بھی جو مخلوق ہو سب اس کے عموم میں جگہ پاسکتی ہے۔(تفسیر ماجدی)
26۔ سوال مشرکین کی حماقت ِ محض سے ہے کہ آخر کیا دیکھ کر،انہوں نے مخلوق کو جو خود بے قدرت ہے ،اپنا معبود تسلیم کرلیا ہے؟زمینی معبود اور دیوتاؤں کی مثالوں کیلئے اہل ہند کو دورجانے کی ضرورت نہیں۔اردگرد ،حیوانات، نباتات،جمادات ہر صنف موجودات میں کثرت سے دیوی دیوتا موجودہیں۔ گئوماتا،گنگامائی،سرجومائی،بندھیاچل،گوری شنکر،ناگ(سانپ)، ہنومان(بندر)، نیل کنٹھ، پیپل،تلسی وغیرہا۔(تفسیر ماجدی)
29۔ یعنی تم نے تو ان کو یہ درجہ دے رکھا ہے کہ گویا خدا ان کے ہاتھ میں ایک کھلونا ہے، وہ اس کو جس طرح چاہیں کھیل سکتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
تیسرا رکوع |
| اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ ﴿30﴾ وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ ﴿31﴾ وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ ﴿32﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ ﴿33﴾ وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ ﴿34﴾ كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ﴿35﴾ وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ ﴿36﴾ خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ ﴿37﴾ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿38﴾ لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ ﴿39﴾ بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ ﴿40﴾ وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿41ع الأنبياء 21﴾ |
| 30. کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟ 31. اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں (کے بوجھ) سے ہلنے (اور جھکنے) نہ لگے اور اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ ان پر چلیں۔ 32. اور آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ اس پر بھی وہ ہماری نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں۔ 33. اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو بنایا۔ (یہ) سب (یعنی سورج اور چاند اور ستارے) آسمان میں (اس طرح چلتے ہیں گویا) تیر رہے ہیں۔ 34. اور (اے پیغمبر) ہم نے تم سے پہلے کسی آدمی کو بقائے دوام نہیں بخشا۔ بھلا اگر تم مرجاؤ تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے۔ 35. ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ اور ہم تو لوگوں کو سختی اور آسودگی میں آزمائش کے طور پر مبتلا کرتے ہیں۔ اور تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آؤ گے۔ 36. اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے حالانکہ وہ خود رحمٰن کے نام سے منکر ہیں۔ 37. انسان (کچھ ایسا جلد باز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے۔ میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو۔ 38. اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب (آئے گا)؟ 39. اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا۔ 40. بلکہ قیامت ان پر ناگہاں آ واقع ہوگی۔ اور ان کے ہوش کھو دے گی۔ پھر نہ تو وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔ 41. اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی (عذاب) نے، جس کی ہنسی اُڑاتے تھے، آگھیرا۔ |
تفسیر آیات
30۔یعنی دیکھتے ہو کہ آسمان بند ہوتاہے ،اس سے بارش نہیں ہوتی۔اسی طرح زمین بند ہوتی ہے ،اس سے سبزہ نہیں اگتا۔پھر دیکھتے ہو آسمان کھلتاہے تو اس سے دھڑا دھڑ پانی برسنے لگتاہے ،زمین کھلتی ہے تو نباتات کے خزانے اگلنے لگتی ہے۔کل تک زمین مردہ پڑی ہوئی تھی ،بارش کے ہوتے ہی اس میں زندگی کے آثار نمودار ہوگئے۔اس مشاہدہ کے اندر اس بات کی دلیل موجود ہے کہ آسمان اور زمین کے الٰہ الگ الگ نہیں۔بارش کے سببب زمین کی زندگی میں، موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور انسان کے مسؤل ہونے کی دلیل بھی موجود ہے ۔آگے مزید آفاقی نشانیوں پر غور کی دعوت دی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ بند ہونے سے مراد آسمان کی بارش اور زمین کی پیداوار کا بند ہونا ہے اور کھولنے سے مردا ان دونوں کو کھول دینا ہے۔ (معارف القرآن)
34۔ دلائل کے میدان میں شکست کھانے اور اشاعت اسلام کو روز افزوں بڑھتے ہوئے دیکھنے کے بعد اپنے دلوں کو تسلی دینے لگے کہ ایک دن تو انہوں نے فوت ہونا ہی ہے اس طرح ہماری جان چھوٹ جائیگی ۔ قرآن نے انہی الفاظ میں جواب دیا کہ کیا تم نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے ۔(ضیاء القرآن)
36۔(آپس میں)کافروں کی اخلاقی پستی کا نقشہ ہے۔۔۔۔آج بھی کتنے ہی بد نفس کافر ایسے موجود ہیں جو شریعت اسلامی کے احکام و مسائل کو کبھی سنجیدگی سے سنتے ہی نہیں۔سرے سے تمسخر ہی کرتے رہتے ہیں۔مکہ میں رسول ؐ کے جو ہمسائے تھے، اپنی بدتمیزی اور تمسخر میں سب سے پیش پیش رہتے تھے،مثلاً ابولہب، عبدالعزیٰ،عتبہ بن ابی معیط،وغیرہما۔اور ابن حبیب نے اپنی کتاب المحبر میں مستہزئین قریش کے تحت میں نام حسب ذیل گنائے ہیں:۔ عاص بن وائل،حارث بن قیس، اسود بن مطلّب،ولید بن مغیرہ،اسود بن عبد یغوث۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ اہل اللہ کی بے قدری اس تشنیع کے عموم میں آجاتی ہے۔(تفسیر ماجدی)
ر – 4 تا 6 : حضرات انبیا کی خوبصورت ترتیب
(ا) ملتوں اور امتوں کے بانی انبیاء : (1 ) آنحضرتؐ سے اوپر حضرت موسی ؑ ( حضرت عیسی ؑ انہی کی شریعت کے پیرو ) ضمنا حضرت ہارون ؑ - ( 2 ) ان سے اوپر حضرت ابراھیم ؑ ( بانیان امت - دونوں سلسلے - بنی اسرائیل و بنی اسمعیل ) ضمنا ً حضرت اسحق ؑ، حضرت یعقوب ؑ اور حضرت لوط ؑ ( 3 ) ان کے اوپر حضرت نوح ؑ ( بطور آدم ثانی )
(ب) صفاتی ترتیب سے انبیا کا تذکرہ: اپنی صفات و کردار کے لحاظ سے انسانیت کیلئے نمونہ : (1)حضرت داؤد ؑاور حضرت سلیمانؑ (بادشاہی اور درویشی کے امتزاج کی بہترین مثال )
(2 ) حضرت ایوب، حضرت اسمعیل، حضرت ادریس اور حضرت ذو الکفل علیھم السلام ( صبر کا بہترین نمونہ )
(3 ) حضرت یونس ، حضرت زکریا اور حضرت مریم علیھم السلام ( نہایت تاریک اور مایوس کن حالات میں اپنے رب کو پکارنا )
انبیا ئے کرام کی زندگیوں میں ان متکبرین کیلئے بھی درس ہے جو خدا کی نعمتیں پاکر خدا ہی سے اکڑ رہے تھے اور پیغمبر اور آپکے مظلوم صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کیلئے بھی درس ہے جو آزمائش کے ایک نہایت نازک دور سے گزر رہے تھے ۔(تدبرِ قرآن)
چوتھا رکوع |
| قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ ﴿42﴾ اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ ﴿43﴾ بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ ﴿44﴾ قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ ﴿45﴾ وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ ﴿46﴾ وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ ﴿47﴾ وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ ﴿48﴾ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ ﴿49﴾ وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿50ع الأنبياء 21﴾ |
| 42. کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ 43. کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو (مصائب سے) بچاسکیں۔ وہ آپ اپنی مدد تو کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ ہی دیئے جائیں گے۔ 44. بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں؟ 45. کہہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں۔ اور بہروں کوجب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کو سنتے ہی نہیں۔ 46. اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی ہم بےشک ستمگار تھے۔ 47. اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو کھڑی کریں گے تو کسی شخص کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔ اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی (کسی کا عمل) ہوگا تو ہم اس کو لاحاضر کریں گے۔ اور ہم حساب کرنے کو کافی ہیں۔ 48. اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (ہدایت اور گمراہی میں) فرق کر دینے والی اور (سرتاپا) روشنی اور نصیحت (کی کتاب) عطا کی (یعنی) پرہیز گاروں کے لئے۔ 49. جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں۔ 50. یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو؟ |
تفسیر آیات
44۔ (فتوح اسلامیہ کے ذریعہ سے)سوان کی بیداری اور تنبیہ کیلئے اور انہیں غفلت کی نوم طویل سے، چونکانے کیلئے تو یہی امر کافی ہوجانا چاہئے۔"ابتدا میں اسلام کا مغلوب ہونا، اس کی اشاعت میں مخل تھا اور جب اس کی تبلیغ و اشاعت کافی ہوچکی جو اصل مقصود تھی اب مغلوب ہونے سے وہ مفقود نہیں ہوسکتا، چنانچہ مشاہدہے۔"(تھانویؒ)۔(تفسیر ماجدی)
47۔ (اور اعمال کا وزن کرینگے )وزن اعمال پر حاشیہ سورۂ اعراف آیت نمبر8 کے تحت گزرچکا۔الموازین ۔"موازین کا جمع لانا یا تو اس وجہ سے ہے کہ ہر شخص کیلئے جدا میزان عمل ہویا چونکہ ایک ہی میزان میں بہت سے لوگوں کے اعمال کا وزن ہوگا اس لئے وہ ایک قائمقام متعدد کے ہوگی۔"(تھانویؒ)۔۔۔۔بعض مشرک قوموں (مثلاً اہل مصر)نے ایک الگ دیوتا اعمال کے حساب کتاب کیلئے بھی گڑھ رکھا تھا۔آیت میں ضمناً ان مشرکانہ توہمات کی بھی تردید آگئی۔(تفسیر ماجدی)
پانچواں رکوع |
| وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ ﴿51﴾ اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ ﴿52﴾ قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ ﴿53﴾ قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ﴿54﴾ قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ ﴿55﴾ قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ ﴿56﴾ وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ ﴿57﴾ فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ ﴿58﴾ قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ﴿59﴾ قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ ﴿60﴾ قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ ﴿61﴾ قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ ﴿62﴾ قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ ﴿63﴾ فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ ﴿64﴾ ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ ﴿65﴾ قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ ﴿66﴾ اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ﴿67﴾ قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ﴿68﴾ قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ ﴿69﴾ وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ ﴿70﴾ وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ ﴿71﴾ وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ ﴿72﴾ وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚ ۙ ﴿73﴾ وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ ﴿74﴾ وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿75ع الأنبياء 21﴾ |
| 51. اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے۔ 52. جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟ 53. وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے۔ 54. (ابراہیم نے) کہا کہ تم بھی (گمراہ ہو) اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے رہے۔ 55. وہ بولے کیا تم ہمارے پاس (واقعی) حق لائے ہو یا (ہم سے) کھیل (کی باتیں) کرتے ہو؟ 56. (ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور میں اس (بات) کا گواہ (اور اسی کا قائل) ہوں۔ 57. اور خدا کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں سے ایک چال چلوں گا؎۔ 58. پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے (بت) کو (نہ توڑا) تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ 59. کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا؟ وہ تو کوئی ظالم ہے۔ 60. لوگوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کو ابراہیم کہتے ہیں۔ 61. وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ گواہ رہیں۔ 62. (جب ابراہیم آئے تو) بت پرستوں نے کہا کہ ابراہیم بھلا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے؟ 63. (ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ یہ ان کے اس بڑے (بت) نے کیا (ہوگا) ۔ اگر یہ بولتے ہیں تو ان سے پوچھ لو۔ 64. انہوں نے اپنے دل میں غور کیا تو آپس میں کہنے لگے بےشک تم ہی بےانصاف ہو۔ 65. پھر (شرمندہ ہو کر) سر نیچا کرلیا (اس پر بھی ابراہیم سے کہنے لگے کہ) تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں۔ 66. (ابراہیم نے) کہا پھر تم خدا کو چھوڑ کر کیوں ایسی چیزوں کو پوجتے ہو جو نہ تمہیں کچھ فائدہ دے سکیں اور نہ نقصان پہنچا سکیں؟ 67. تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو ان پر بھی۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ 68. (تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔ 69. ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہوجا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)۔ 70. اور ان لوگوں نے برا تو ان کا چاہا تھا مگر ہم نے ان ہی کو نقصان میں ڈال دیا۔ 71. اور ابراہیم اور لوط کو اس سرزمین کی طرف بچا نکالا جس میں ہم نے اہل عالم کے لئے برکت رکھی تھی۔ 72. اور ہم نے ابراہیم کو اسحق عطا کئے۔ اور مستزاد برآں یعقوب۔ اور سب کو نیْک بخت کیا۔ 73. اور ان کو پیشوا بنایا کہ ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کو نیک کام کرنے اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے کا حکم بھیجا۔ اور وہ ہماری عبادت کیا کرتے تھے۔ 74. اور لوط (کا قصہ یاد کرو) جب ان کو ہم نے حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا اور اس بستی سے جہاں کے لوگ گندے کام کیا کرتے تھے، بچا نکالا۔ بےشک وہ برے اور بدکردار لوگ تھے۔ 75. اور انہیں اپنی رحمت کے (محل میں) داخل کیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ نیک بختوں میں تھے۔ |
تفسیر آیات
51۔ (ان کے مرتبہ و حیثیت کے لائق و متناسب)رشد سے مراد ہدایت بھی ہوسکتی ہے اور مرتبۂ نبوت بھی۔۔۔ مِنْ قَبْلُ۔رشد سے مراد اگر محض صلاحیت ہے تو قبل سے مراد حضرت ابراہیمؑ کا دور قبلِ نبوت ہوگا۔۔۔۔اور اگر رشد سے مفہوم نبوت لیا جائے تو مراد ہوگی کہ عہد موسیٰؑ و ہارونؑ سے قبل۔۔۔۔حضرت ابراہیمؑ کا عہد، حضرت موسیٰؑ و ہارونؑ کے عہد سے بہت قبل کا ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ رشد سے مراد ہدایت و معرفت ہے اور اس کی اضافت نے اس کے اندر ایک خاص امتیاز کا مفہوم پیدا کردیا ہے۔ یعنی ابراہیم کو ہم نے وہ ہدایت و معرفت عطا فرمائی جو اس کے درجے اور مرتبے کے شایان شان تھی۔۔۔۔۔۔اس فقرے میں ان لوگوں پر تعریض بھی ہے جو اپنے اندر ہمت تو حضرت ابراہیم کی کسی ادنیٰ سے ادنیٰ سنت پر عمل کرنے کی بھی نہیں رکھتے تھے۔ لیکن ان کے ساتھ نسبت کے دعویدار اور اس نسبت کے بل پر اپنے آپ کو دنیا اور آخرت دونوں میں بڑے سے بڑے مرتبہ کا حق دار سمجھے بیٹھے تھے۔ (تدبرِ قرآن)
52۔۔۔۔ یہ بات اپنے ذہن میں تازہ کر لیجیے کہ قریش کے لوگ حضرت ابراہیم کی اولاد تھے، کعبہ ان ہی کا تعمیر کردہ تھا۔۔۔۔۔۔ آج اس زمانے اور عرب سے دور دراز کے ماحول میں تو حضرت ابراہیم کا یہ قصہ صرف ایک سبق آموز تاریخی واقعہ ہی نظر آتا ہے، مگر جس زمانے اور ماحول میں اول اول یہ بیان کیا گیا تھا، اس کو نگاہ میں رکھ کر دیکھیے تو محسوس ہوگا کہ قریش کے مذہب اور ان کی برہمنیت پر یہ ایک ایسی کاری ضرب تھی جو ٹھیک اس کی جڑ پر جا کر لگتی تھی۔ (تفہیم القرآن)
۔۔۔۔۔ انہوں نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں کو دعوت دی کہ یہ مورتیں کیا ہیں جن پر تم لوگ دھرنا دیئے بیٹھے ہو ! اس فقرے میں ان بتوں کے لئے جو استخفاف و تحقیر ہے اور لفظ عٰکفون میں باپ اور قوم کی بلاوت اور ان کے جمود پر جو طنز ہے وہ عربی زبان کا ذوق رکھنے والوں سے مخفی نہیں ہے۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)
57۔ لیکن اس تفصیل کو پڑھنے سے پہلے حضرت ابراہیم کے مخصوص طریقہ بحث و استدلال کے ان پہلوؤں پر ایک نظر ڈال لیجیے جن کی وضاحت سورة انعام کی آیات 79-76 کے تحت بعنوان حضرت ابراہیم کے طرز استدلال کی بعض خصوصیات ہم کر آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم بحث و استدلال میں لطیف و پاکیزہ طنز سے جسطرح کام لیتے ہیں اسی طرح استدراج بھی حجت ابراہیمی کی ایک نہایت نمایاں خصوصیت ہے۔ استدراج کا مطلب یہ ہے کہ وہ بحث میں اپنے حریف کو وہاں سے داؤں پر لاتے ہیں جہاں سے ان کو سان گمان بھی نہیں ہوتا۔ بالآخر وہ چاروں شانے چت گرتا ہے اور اسے خود اپنی زبان سے اپنی شکست کا اعتراف کرنا پڑتا ہے یہی طریقہ استدراج حضرت ابراہیم نے اپنے حریفوں کو قائل کرنے کے لئے اس موقع پر استعمال فرمایا۔ انہوں نے شب میں کوئی موقعہ نکال کر تمام چھوٹے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا اور ذہن میں یہ رکھا کہ اگر نوبت مجھ سے باز پرس کی آئی تو میں کہہ دوں گا کہ یہ حرکت تو ان بڑے صاحب کی معلوم ہوتی ہے اور مجھ سے پوچھنے کے بجائے خود ان مظلوموں ہی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے، اگر وہ بولتے ہیں تو اپنی داستان غم خود ہی سنا دیں گے کہ یہ مصیبت ان پر کس کی لائی ہوئی ہے ! ظاہر ہے کہ اس کے بعد وہ لازماً یہی کہیں گے کہ یہ تو بولتے نہیں تو ان سے کس طرح پوچھا جائے تو میں ان سے کہوں گا کہ نادانو ! جو خود اپنے اوپر آئی ہوئی مصیبت کو نہ دفع کرسکتے ہیں نہ یہ بتا سکتے ہیں کہ یہ مصیبت کس کے ہاتھوں ان پر آئی آخر وہ کس مرض کی دوا ہیں کہ تم ان کو معبود بنا کر ان کو ڈنڈوت کرتے ہو ! یہی وہ ذہنی اسکیم ہے جس کو حضرت ابراہیم نے کید سے تعبیر فرمایا۔ اس میں طنز، تضحیک اور استدراج کے جو پہلو ہیں وہ واضح ہیں اور حریفوں کو جس طرح بےبس ہو کر اس حجت ابراہیمی کے آگے گھٹنے ٹیک دینے پڑے اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ (تدبرِ قرآن)
58۔ (اور حضرت ابراہیمؑ کو ان پر تشنیع و تعریض اور گرفت کا پورا موقع ہاتھ آجائے)۔۔۔۔اليه۔میں ضمیر کا مرجع اکثر نے اسی بڑے بُت ہی کو لیا ہے۔۔۔۔لیکن اگر اس کا مرجع خود حضرت ابراہیمؑ کو مانا جائے، جب بھی نتیجہ وہی رہے گا کہ جب میری طرف تحقیق حال کیلئے رجوع کرینگے اس وقت خوب موقع مجھے قائل کرنے کا مل جائے گا۔(تفسیر ماجدی)
63۔حدیث صحیح میں ابراہیمؑ خلیل اللہ کے اس قول کو"کذب"سے تعبیر کیا گیاہے۔اور اس سے منکرین حدیث کو بخاری مسلم،ترمذی کےخلاف خود ایک طومار کذب باندھنے کا موقع مل گیاہے۔ حالانکہ صاف ظاہر ہے کہ یہ کذب صرف صورۃً تھا نہ حضرتؑ کی نیت کسی غلط بات کہنے کی تھی ، نہ اس بڑے مجمع میں کسی ایک متنفس کو بھی دھوکا یا مغالطہ ہوا۔ مقصود تمام مشرکین پر حجت الزامی قائم کرنا تھی۔اور اس کیلئے آپؑ اعلان پیشتر سے کرہی چکے تھے ۔"تااللہ لاکیدنّ اصنامکم بعد ان تُولوّامدبرین"یہ تو صرف ایک بلیغ، مؤثر،خطیبانہ پیرایۂ گفتگو،اسلوب بیان تھا۔موقع کے مناسب حال۔ایسا کذب (اور کذب جو عربی میں اردو کے "جھوٹ "کے مترادف نہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ وسیع معنی رکھتاہے)ہرگز عصمت انبیاء کے منافی نہیں۔۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ کسی مصلحت دینی کے سبب سے بعض بزرگوں سے جوکلام بہ طور توریہ منقول ہے اس کی اصل یہی آیت ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ بدقسمتی سے حدیث کی ایک روایت میں یہ بات آگئی ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنی زندگی میں تین مرتبہ جھوٹ بولے ہیں۔ ان میں سے ایک " جھوٹ " تو یہ ہے، اور دوسرا " جھوٹ " سورة صافات میں حضرت ابراہیم کا قول اِنِی سَقِیْمٌ ہے، اور تیسرا " جھوٹ " ان کا اپنی بیوی کو بہن کہنا ہے جس کا ذکر قرآن میں نہیں بلکہ بائیبل کی کتاب پیدائش میں آیا ہے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
۔ جن لوگوں نے حضرت ابراہیم کے جواب، بَلْ فَعَلَهٗ كَبِیْرُهُمْ کو کذب یا خوف پر محمول کیا ہے وہ عربی سے بیخبر ی کے باعث اس ارشاد کی بلاغت کو نہ سمجھ سکے۔ خوف کا سوال اس لئے نہیں پیدا ہوتا کہ جب وہ اس طرح بےدھڑک قوم کے بت خانے کے اندر توحید کی ذان دیتے ہیں، بتوں کے خلاف ایک مخفی اقدام کا اعلان کرتے ہیں اور پھر عین عدالت کے منہ پر ساری قوم کے سامنے اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ کے الفاظ سے بتوں پر بھی اور ان کے پوجنے والوں پر بھی لعنت کرتے ہیں تو ایسے مرد حق کے بارے میں یہ گمان بالکل ہی خلاف عقل ہے کہ وہ کس خطرے سے مرعوب ہو کر سخن سازی کرے گا۔۔۔۔۔۔۔ رہا اس کے جھوٹ ہونے کا معاملہ تو قطع نظر اس سے کہ حضرت ابراہیم جھوٹ بول سکتے ہیں یا نہیں کہی ہوئی بات میں کوئی پہلو ایسا نہیں ہے کہ اس کو جھوٹ پر محمول کیا جاسکے۔ اس کو کہہ سکتے ہیں تو ایک لطیف طنز، ایک پر معنی استہزاء اور ایک حکمیانہ استدراج کہہ سکتے ہیں، جھوٹ کا تو اس میں کوئی ادنیٰ شائبہ بھی نہیں ہے۔ چنانچہ دیکھ لیجیے حضرت ابراہیم کے مخالفوں نے بھی ان پر جھوٹ کا الزام نہیں لگایا حالانکہ اگر وہ ان کے جواب کو جھوٹ سمجھتے تو وہ بڑی آسانی سے ان کو جھوٹا قرار دے سکتے تھے۔ پھر جب ان کے دشمنوں نے ان کو جھوٹ قرار دینے کی جرأت نہیں کی تو نعوذ باللہ ہم ان کو جھوٹا کیوں قرار دیں۔ (تدبرِ قرآن)
67۔ اف لکم ولماتعبدون من دون اللہ۔جب تبلیغ میں نرمی و شیرینی کلام نہ چلے تو اس حدتک سختی کی اجازت اس آیت سے نکلتی ہے۔۔۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ مبغوضین فی اللہ کے ساتھ سختی سے پیش آنےکی جو عادت بعض بزرگوں کی ہوتی ہے،اس کا ماخذ یہی آیت ہے۔(تفسیر ماجدی)
69۔ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی
آج بھی ہو جو براھیم کا ایماں پیدا آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا
طارق چوں بہ کنارۂ اندلس سفینہ سوخت گفتند کار توزنگاہ خرد خطااست
خندید و دست ِ خویش بہ شمشیر بردوگفت ہرملک ملکِ ماست کہ ملک خدائے ماست (علامہ اقبال)
69۔ تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت اراھیم ؑ اس آگ میں سات روز رہے اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے عمر میں کبھی ایسی راحت نہیں ملی جتنی ان سات دنوں میں تھی ( مظہری ) (معارف القرآن)
۔معجزات کا بہت خوبصورت دفاع: الفاظ صاف بتا رہے ہیں، اور سیاق وسباق بھی اس مفہوم کی تائید کر رہا ہے کہ انہوں نے واقعی اپنے اس فیصلے پر عمل کیا، اور جب آگ کا الاؤ تیار کر کے انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو اس میں پھینکا تب اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ وہ ابراہیم کے لیے ٹھنڈی ہوجائے اور بےضرر بن کر رہ جائے۔ پس صریح طور پر یہ بھی ان معجزات میں سے ایک ہے جو قرآن میں بیان کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان معجزات کی اس لیے تاویلیں کرتا ہے کہ اس کے نزدیک خدا کے لیے بھی نظام عالم کے معمول (Routine) سے ہٹ کر کوئی غیر معمولی کام کرنا ممکن نہیں ہے، تو آخر وہ خدا کو ماننے ہی کی زحمت کیوں اٹھاتا ہے۔ اور اگر وہ اس طرح کی تاویلیں اس لیے کرتا ہے کہ جدید زمانے کے نام نہاد عقلیت پرست ایسی باتوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، تو ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ بندہ خدا، تیرے اوپر یہ فرض کس نے عائد کیا تھا کہ تو کسی نہ کسی طرح انہیں منوا کر ہی چھوڑے ؟ جو شخص قرآن کو، جیسا کہ وہ ہے، ماننے کے لیے تیار نہیں ہے، اسے اس کے حال پر چھوڑو۔ اسے منوانے کی خاطر قرآن کو اس کے خیالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا، جبکہ قرآن کے الفاظ قدم قدم پر اس ڈھٹائی کی مزاحمت کر رہے ہوں، آخر کس قسم کی تبلیغ ہے اور کون معقول آدمی اسے جائز سمجھ سکتا ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورة عنکبوت، حاشیہ 39))۔ (تفہیم القرآن)
71۔ مرا دارض کنعان ہے جس کی طرف حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بھتیجے ،لوطؑ کے ہمراہ ہجرت کی۔اس ہجرت کے انعام کے طورپر اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد میں سے صالحین و اخیار اٹھائے جو توحید کے علمبرارتھے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت ابراہیم کےدو بھائی تھے، نحور اور حاران۔ حضرت لوط حاران کے بیٹے تھے (پیدائش باب 11، آیت 26)سورہ عنکبوت میں حضرت ابراہیم کا جو تذکرہ آیا ہے اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ انکی قوم میں سے صرف ایک حضرت لوط ہی ان پر ایمان لائے تھے (ملاحظہ ہو آیت(26) ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی شام و فلسطین کی سر زمین۔ اس کی برکتیں مادی بھی ہیں اور روحانی بھی۔ مادی حیثیت سے وہ دنیا کے زرخیز ترین علاقوں میں سے ہے۔ اور روحانی حیثیت سے وہ 2 ہزار برس تک انبیاء (علیہم السلام) کا مہبط رہی ہے۔ دنیا کے کسی دوسرے خطے میں اتنی کثرت سے انبیاء مبعوث نہیں ہوئے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
74۔ان کی اصلی اور سب سے بڑی بدکاری کا شارح تو خود لفظ لواطت ہے۔ باقی وہ قوم اور بھی اخلاقی پستیوں میں پڑی ہوئی تھی۔روایات یہود میں آتاہے کہ خیر و خیرات کرنا، غریبوں کو کھلانا پلانا ان کے معاشرہ میں ایک شدید جرم تھا۔(تفسیر ماجدی)
۔ " حکم اور علم بخشنا " بالعموم قرآن مجید میں نبوت عطا کرنے کا ہم معنی ہوتا ہے۔ " حکم " سے مراد حکمت بھی ہے، صحیح قوت فیصلہ بھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سند حکمرانی (Authority) حاصل ہونا بھی۔ رہا " علم " تو اس سے مراد وہ علم حق ہے جو وحی کے ذریعہ عطا کیا گیا ہو۔ حضرت لوط کے متعلق مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو۔ الاعراف، آیات 80 تا 84۔ ھود۔ آیات 69 تا 83۔ الحجر، آیات 57 تا 76۔ (تفہیم القرآن)
چھٹا رکوع |
| وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ ﴿76﴾ وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ ﴿77﴾ وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗ ۙ ﴿78﴾ فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ ﴿79﴾ وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ ﴿80﴾ وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ ﴿81﴾ وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ ﴿82﴾ وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ ﴿83﴾ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ ﴿84﴾ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚ ۖ ﴿85﴾ وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ﴿86﴾ وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ ﴿87﴾ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿88﴾ وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚ ۖ ﴿89﴾ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ ﴿90﴾ وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ ﴿91﴾ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ ﴿92﴾ وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿93ع الأنبياء 21﴾ |
| 76. اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو) جب (اس سے) پیشتر انہوں نے ہم کو پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی۔ 77. اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے ان پر نصرت بخشی۔ وہ بےشک برے لوگ تھے سو ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔ 78. اور داؤد اور سلیمان (کا حال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصلہ کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چر گئی (اور اسے روند گئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت موجود تھے۔ 79. تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا۔ اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا۔ اور ہم نے پہاڑوں کو داؤد کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا اور ہم ہی ایسا) کرنے والے تھے۔ 80. اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح) کا لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم کو لڑائی (کے ضرر) سے بچائے۔ پس تم کو شکرگزار ہونا چاہیئے۔ 81. اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں۔ 82. اور دیووں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے۔ 83. اور ایوب کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ 84. تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے۔ 85. اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل (کو بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے۔ 86. اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا۔ بلاشبہ وہ نیکوکار تھے۔ 87. اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے (اور) بےشک میں قصوروار ہوں۔ 88. تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی۔ اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔ 89. اور زکریا (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔ 90. تو ہم نے ان کی پکار سن لی۔ اور ان کو یحییٰ بخشے اور ان کی بیوی کو اُن کے (حسن معاشرت کے) قابل بنادیا۔ یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے۔ 91. اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفّت کو محفوظ رکھا۔ تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا۔ 92. یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو۔ 93. اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے۔ (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ |
تفسیر آیات
76۔کرب عظیم۔سے مراد طوفان و غرقابی بھی ہوسکتی ہے اور قوم کی طرف سے مسلسل تکذیب آپؐ کیلئے کرب عظیم میں کیا کچھ کم تھی!۔(تفسیر ماجدی)
78۔نفش کا لغوی مفہوم:۔ اس آیت میں نفش کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی رات کے وقت بکریوںکا بغیر چرواہے کے چرنے کیلئے منتشر ہونا ہے۔(مفردات القرآن)ہوایہ تھا کہ کچھ لوگوں کی بکریاں کسی کی کھیتی کو رات کے وقت چرکر اجاڑ گئی تھیں۔کھیتی والے نے حضرت داؤدؑ کی عدالت میں دعویٰ دائر کردیا۔آپ نے مدعاعلیہ کو بلایا تو اس نے واقعہ کا اعتراف کرلیا ۔اب ازروئے انصاف و قانون پورا ہرجانہ بکریوں کے مالک پر پڑتاتھا ۔اس سلسلہ میں شرعی قاعدہ یا قانون درج ذیل حدیث سے واضح ہوتاہے۔سیدنا براء بن عازبؓ کی اونٹنی ایک باغ میں گھس گئی اور اسے خراب کیا۔نبیؐ نے فیصلہ فرمایا کہ دن کو باغوں کی نگہبانی باغ والوں کے ذمہ ہے۔اور رات کو جو مویشی خراب کریں تو ان کے مالک ان کا ہرجانہ دیں۔(مالک، ابوداؤد،ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰۃ۔کتاب البیوع ،باب الغصب و العاریۃ فصل ثانی)(تیسیر القرآن)
79۔اب دیکھئے کہ سیدنا داؤدؑ اور سیدنا سلیمانؑ دونوں نبی ہیں۔ اور دونوں کو اللہ نے قوتِ فیصلہ بھی عطاکی تھی اور علمِ نبوت بھی۔اس کے باوجود سیدنا داؤدؑسے فیصلہ میں اجتہادی غلطی ہوگئی۔یعنی قاضی خواہ نہایت نیک نیتی سے فیصلہ کرے اس سے اجتہادی غلطی کا امکان ہے۔ اب اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:۔حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے داؤدؑ اور سلیمانؑ دونوں کو قوت فیصلہ اور علم دیا تھا۔پھر اللہ نے سلیمانؑ کی تو تعریف کی اور داؤد پر ملامت نہیں کی(اگرچہ وہ فیصلہ درست نہ تھا)اور قرآن میں اللہ تعالیٰ ان دونوں پیغمبروں کا ذکر نہ کرتا تو میں سمجھتاہوں کہ قاضی لوگ تباہ ہوجاتے۔مگر اللہ تعالیٰ نے سلیمان کی تو درست فیصلہ پر تعریف کی اور داؤدؑ کو (ان کی اجتہادی غلطی پر)معذور رکھا۔(بخاری۔کتاب الاحکام۔ باب متیٰ یستوجب الرجل القضاء)(تیسیر القرآن)
ــــ "صورت مقدمہ کی یہ تھی کہ جس قدر کھیت کا نقصان ہواتھا اس کی لاگت بکریوں کی قیمت کے برابر تھی، داؤدؑ نے ضمان میں کھیت والے کو وہ بکریاں دلوادیں ،اور اصل قانون شرعی کا یہی مقتضاتھا،جس میں مدعی یا مدعاعلیہ کی رضا کی شرط نہیں ،مگر چونکہ اس میں بکری والوں کا بالکل ہی نقصان ہوتاتھا،ا س لیے سلیمانؑ نے بطور مصالحت کے جو کہ موقوف تھی تراضی جانبین پر یہ صورت جس میں دونوں کی سہولت اور رعایت تھی تجویز فرمائی کہ چند روز کیلئے بکریاں تو کھیت والے کو دی جائیں کہ ان کے دودھ وغیرہ سے اپنا گزرکرلے اور بکری والوں کو وہ کھیت سپرد کیا جاوے کہ اس کی خدمت آب پاشی وغیرہ سے کریں جب کھیت پہلی حالت پر آجاوے کھیت اور بکریاں اپنے اپنے مالکوں کو دیدی جاویں ،پس اس سے معلوم ہوگیا کہ دونوں فیصلوں میں کوئی تعارض نہیں کہ ایک کی صحت دوسرے کی عدم صحت کو مقتضی ہو، اس لئے كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا بڑھادیا گیا۔ "(تھانویؒ)۔۔۔۔۔سب سے آسان و بے تکلف تفسیر وہ ہے جو وہب تابعی سے منقول ہے کہ آپؐ اللہ کے ترانے گاتے ہوئے پہاڑوں سے گزرتے تھے،اور پہاڑاپنی گونج سے گویاجوابی تسبیح خوانی کرتے تھے۔(تفسیر ماجدی)
۔ مَعَ دَاوٗدَ کے الفاظ ہیں، لِدَاوٗد کے الفاظ نہیں ہیں، یعنی " داوٗد ؑ کے لیے" نہیں بلکہ " ان کے ساتھ " پہاڑ اور پرندے مسخر کیے گئے تھے، اور اس تسخیر کا حاصل یہ تھا کہ وہ بھی حضرت ممدوح کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتے تھے۔ یہی بات سورة ص میں بیان کی گئی ہے، اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَلَ مَعَہ یُسَبِّحْنَ بالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ ہ وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَۃٌ کُلٌّ لَّہ اَوَّابٌ " ہم نے اس کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا کہ صبح و شام تسبیح کرتے تھے، اور پرندے بھی مسخر کردیے تھے جو اکٹھے ہوجاتے تھے، سب اس کی تسبیح کو دوہراتے "۔ سورة سبا میں اس کی مزید وضاحت یہ ملتی ہے یَاجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہ وَالطَّیْرَ۔ " پہاڑوں کو ہم نے حکم دیا کہ اس کے ساتھ تسبیح دہراؤ اور یہی حکم پرندوں کو دیا "۔ ان ارشادات سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت داؤد جب اللہ کی حمد و ثنا کے گیت گاتے تھے تو ان کی بلند اور سریلی آواز سے پہاڑ گونج اٹھتے تھے، پرندے ٹھہر جاتے تھے اور ایک سماں بندھ جاتا تھا۔ اس معنی کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں ذکر آیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعری، جو غیر معمولی طور پر خوش آواز بزرگ تھے، قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ نبی ﷺ ادھر سے گزرے تو ان کی آواز سن کر کھڑے ہوگئے اور دیر تک سنتے رہے۔ جب وہ ختم کرچکے تو آپ نے فرمایا لقد اوتی مزماراً من مزامیر اٰل داوٗد، یعنی اس شخص کو داؤد، کی خوش آوازی کا ایک حصہ ملا ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ صحابہ کرام میں حضرت ابو موسیٰ اشعری بہت خوش آواز تھے۔ ایک روز وہ قرآن پڑھ رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا گزر ان کی طرف ہوا تو آپ ان کی تلاوت سننے کے لئے ٹھہر گئے اور سنتے رہے۔ پھر فرمایا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے خوش آوازی حضرت داؤد ؑ کی عطا فرمائی ہے۔ جب ابو موسیٰ کو معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ ان کی تلاوت سن رہے تھے تو عرض کیا کہ اگر مجھے آپ کا سننا معلوم ہوجاتا تو میں اور زیادہ سنوار کر پڑھنے کی کوشش کرتا (ابن کثیر) (معارف القرآن)
80۔یعنی حضرت د اؤد ؑ کو تسبیح میں اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو بھی ان کا شریک بزم بنادیا تھا۔ جب وہ اپنا نغمۂ حمد چھیڑ تے تو یہ بھی ان کی ہم نوائی کرتے ۔وہ مجاہد بھی تھے۔ انہی نے زرہ کا جنگی لباس ایجاد کیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ یعنی یہ زاہد شب زندہ دار یہ نہ سمجھو کہ صرف تنہائی کے گوشوں میں بیٹھ کر اللہ ہو کرنے والا ہی تھا بلکہ یہ جس طرح رات کا راہب تھا اسی طرح دن کا شہسوار بھی تھا۔ ہم نے جنگ کے حملوں سے حفاظت کے لئے اس کو ایک خاص لباس بنانے کی تعلیم دی۔ اس خاص لباس سے اشارہ زرہ کی طرف ہے۔ اس کے موجد حضرت داؤد ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
81۔۔۔۔۔جبکہ سلیمان ؑکو لوہے کے علاوہ تانبے کی ڈھلائی کا فن بھی سکھادیا تھا اور آپ کے دور میں یہ کام آپ کی نگرانی میں وسیع پیمانہ پر ہوتاتھا۔جیساکہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا"واسلنا لہ عین القطر"(34: 12)(یعنی ہم نے سلیمانؑ کیلئے پگھلے ہوئے تانبے کے چشمے بہادئیے تھے)جس کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ کے دور میں لوہے اور تانبے کی مصنوعات نے خاصی ترقی کی تھی اور آپ ان کی وسیع پیمانہ پر تجارت کیا کرتے تھے۔آپ کے بحری بیڑے یمن سے شام اور شام سے یمن آتے جاتے تھے۔اور چونکہ ہواآپ کے تابع فرمان تھی لہذا یہ بیڑے برق رفتاری سے سفر کرتے ایک ماہ کا سفر چند گھنٹوں میں طے کرلیتے تھے۔(تیسیر القرآن)
۔ ۔۔۔۔حضرت داؤد کی بری قوت تو بہت تھی لیکن ان کی حکومت کی بحری قوت میں بےمثال ترقی حضرت سلیمان کے عہد میں ہوئی۔ انہوں نے ایسے باد بانی جہاز ایجاد کیے جو ہندوستان اور مغربی جزائر تک سفر کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔ یہ چیز چونکہ خدا کی سکھائی ہوئی سائنس کا ثمرہ تھی اس وجہ سے فرمایا کہ ہم نے سلیمان کے لئے تند ہوائیں مسخر کردی تھیں جو اس کے حکم سے چلتی تھیں۔۔۔۔۔ درحقیقت یہی نکتہ ہے جو ہمارے اس عہد کے سائنسدانوں کی سمجھ میں نہیں آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔انہیں تسخیر کائنات کی مہمات میں جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں ان کو وہ خدا کا فضل سمجھنے کے بجائے اپنی ذہانت کا کرشمہ تصور کرتے ہیں حالانکہ انسان کو جو کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے خدا کی بخشی ہوئی عقل اور خدا ہی کی رہنمائی سے حاصل ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اوپر "وکنا فعلین" سے اشارہ فرمایا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
ـــــ الْاَرْضُ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا۔ملک شام کا ذکر برکت والی سرزمین کی حیثیت سے قرآن مجید میں متعدد بار آیا ہے۔(تفسیر ماجدی)
82۔ یہ اشا رہ بحری قوت میں بے مثال ترقی کی طرف ہے جو حضرت سلیمانؑ کے عہد میں ہوئی۔ان کے بادبانی جہاز موافق و ناموافق تندہواؤں میں اپنا سفر جاری رکھتے تھے ۔شیاطین سے مراد جن ہیں جو حضرت سلیمانؑ کی فوج میں شامل تھے اور ان سے مشکل کام لیے جاتے تھے۔ یہ سمندری دولت ،مونگے ،موتی وغیرہ بھی فراہم کرتے تھے ۔فرمایا کہ ان مفسد عناصر کو اللہ تعالیٰ نے سلیمان ؑ کی خدمت میں لگادیا تھا اور وہی ان کو قابوکرنے والا تھا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ قرآن اور تورات دونوں سے ثابت ہے کہ ان کے پاس انسانوں، جنوں اور پرندوں کی باقاعدہ فوج تھی جس کی پریڈ ہوتی رہتی تھی۔( تدبرِ قرآن)
83۔ سیدنا ایوب کس دور میں مبعوث ہوئےیا کس علاقہ میں مبعوث ہوئے آپ نے تبلیغ کا فریضہ کتنا عرصہ سرانجام دیا؟اور آپ کے ساتھ آپ کی قوم نے کیا سلوک کیا ؟یہ ایسے سوالات ہیں جن کی تفصیل کتاب و سنت میں مذکور نہیں۔ قیاس سے آپ کے دور نبوت کی جو تعیین کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے آپ سیدنا یوسفؑ اور سیدنا شعیبؑ کے درمیانی زمانہ میں یعنی تقریباً ڈیڑھ ہزار قبل مسیح مبعوث ہوئے تھے۔(تیسیر القرآن)
ــ ایوبؑ اسرائیلی تو نہ تھے ،لیکن اسحٰقی و ابراہیمی تھے۔ یعنی حضرت ابراہیمؑ سے پانچویں پشت میں حضرت اسحٰقؑ کے بڑے صاحبزادے اور حضرت یعقوبؑ کے بڑے بھائی عیص کی اولاد میں تھے۔"توریت میں ہے کہ "عوض"کی سرزمین کے رہنے والے تھے، اور عوض سے متعلق علماء فرنگ کی تحقیق ہے کہ یہ عرب کے شمال و مغرب فلسطین کی مشرقی سرحد کے قریب کا ملک تھا۔زمانہ آپؑ کا متعین نہ ہوسکا ۔علماء یہود کا بیان ہے کہ آپ کی عمر 210 سال کی ہوئی اور آپ فرزند ان یعقوبؑ کے ہمعصر ہیں، یعنی کوئی 18، ساڑھے 18 سوسال قبل مسیح پیغمبر ہونے کے ساتھ ہی آپ امیر کبیر تھے،اور کثیر الاولاد بھی۔ اس وقت اور اس ملک کے تمدن میں انسان کے تمول و ثروت کا اندازہ زر نقد سے نہیں بلکہ پالتو جانوروں ،خصوصاً مویشی ،کی کثرت تعداد سے کیا جاتا تھا۔توریت میں ہے:۔"عوض کی سرزمین میں ایوب نامی ایک شخص تھا،اور وہ شخص کامل اور صادق تھا، اور خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا تھا،اس کے سات بیٹے تین بیٹیاں پیدا ہوئیں ،اس کے مال میں سات ہزار بھیڑیں اور تین ہزار اونٹ اور پانچ سو جوڑے بیل اور پانچ سو گدھیاں تھیں ،اور اس کے نوکر چاکر بہت تھے ایسا کہ اہل مشرق میں ایسا مالدار کوئی نہ تھا۔"(ایوب۔1: 1-3)(تفسیر ماجدی)
84۔ حضرت ایوبؑ خدم و حشم رکھنے والے ایک مالدار سردار تھے جن کو پہلے مالی آفات و مصائب اوراس کے بعد جسمانی تکالیف و آلام سے آزمایا گیا لیکن انہوں نے صبر کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔ حرف شکایت زبان پر نہ لائے اور معاملہ خدا کی شان رحیمی کے حوالہ کردیا جس نے ان کی پوری پوری تلافی کردی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
85۔ وَ ذَا الْكِفْلِ۔حضرت ذوالکفل سے متعلق مختلف اقوال ہیں، کسی نے کہا کہ یوشع نبی تھے،کسی نے کہا کہ الیاس اور کسی نے کہا کہ زکریا۔اور کسی نے کہا کہ آپ نے جس بادشاہ کنعان نامی کو دعوت ایمان دی تھی ،اس کیلئے آپ جنت کے کفیل و ضامن ہوگئے تھے،اور اس کیلئے آپ نے کفالت نامہ(ضمانت نامہ)لکھ کردے دیا تھا،اس بناپر آپ کا لقب "ذوالکفل"صاحب ضمانت پڑگیا۔اور ہمارے ہاں کے حال کے ایک فاضل بزرگ (علامہ مناظر احسن گیلانیؒ )کا خیال ادھرگیا کہ ممکن ہےیہ اشارہ گوتم بدھ کی طرف ہو،اور ذوالکفل معرب ذوالکپل(کپل والے )کا ہو۔ترجیحی قول یہ ہے کہ آپ انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے،اور عہد عتیق میں آپ کا نام حزقبیل نبی آیاہے۔"اور تیسویں برس کے چوتھے مہینے کی پانچویں تاریخ میں ایسا ہواکہ جب میں نہر کبار کے کنارے پر اسیروں کے درمیان تھا ،تو آسمان کُھل گیا اور میں نے خدا کی رویتیں دیکھیں،اور اس مہینے کے پانچویں دن یعنی یہویکین بادشاہ کی اسیری کے پانچویں برس میں ایسا ہواکہ خداوند کاکلام بوزی کا ہن کے بیٹے حزقی ایل کو جو کسدیوں کے ملک میں نہر کبار کے کنارے پر تھا پہنچا اور وہاں خداوند کا ہاتھ اس پر تھا۔"(حزقی ایل۔1: 1تا 3)(تفسیر ماجدی)
87 ۔ حدیث میں ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا کہ جو مسلمان لاالہ لا انت سبحانک انی کنت من الظالمین کے کلمات کے ساتھ دعا کرے گا اللہ تعالی اسکو قبول فرمائینگے ( رواہ احمد و الترمذی والحاکم من حدیث سعد بن ابی وقاص )
۔ البتہ یہ گمان ان کو ہوا ہوگا کہ ان ناہنجاروں سے الگ ہو کر میں اس جنجال سے نکل جاؤں گا جس میں اس وقت ان کی خاطر مبتلا ہوں اور بقیہ زندگی یکسو ہو کر گزاروں گا۔ یہ گمان بجائے خود کوئی معصیت نہیں ہے لیکن رسول، جیسا کہ میں نے اشارہ کیا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے محاذ پر مامور ایک مجاہد کی حیثیت رکھتا ہے اس وجہ سے اس کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے سے میدان چھوڑے اگرچہ اس چھوڑنے کا محرک حمیت حق کا جذبہ ہی ہو۔ (تدبرِ قرآن)
۔ لفظ ظلمت اس تاریکی کی شدت اور اس کے اطراف کی وسعت اور اس کے ناپیدا کنار ہونے کو ظاہر کر رہا ہے۔ عربی زبان میں جمع کبھی کبھی کسی شے کے اطراف کی وسعت کے اعتبارسے بھی آتی ہے۔ ہم اس کی مثال میں مشارق و مغارب کا حوالہ دے چکے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
ــ نون کا لغوی مفہوم:۔ سیدنا یونس کو قرآن میں اس مقام پر ذالنون کہا گیا ہے اور سورۃ القلم میں صاحب الحوت۔حوت اسم جنس ہے جس کا اطلاق ہر قسم کی چھوٹی بڑی مچھلی پر ہوسکتاہے۔جبکہ نون سب سے بڑی (وہیل مچھلی)کو کہتے ہیں۔(مفردات القرآن)اور آپ کا یہ لقب اس لئے ہواکہ آپ ایک مدت مچھلی کے پیٹ میں رہے۔زندہ سلامت رہے اور اس دوران اللہ کی تسبیحات پڑھتے رہے۔(تیسیر القرآن)
90۔ " بہترین وارث تو تو ہی ہے "، یعنی تو اولاد نہ بھی دے تو غم نہیں، تیری ذات پاک وارث ہونے کے لیے کافی ہے۔ (تفہیم القرآن)
91۔ فَرْجَهَا۔ معنی معروف مراد نہیں ۔بلکہ کنایہ ہے فرج قمیص سے یعنی اپنی قمیص کے اندر کا بھی جسم کسی کو دیکھنے نہ دیا۔(تفسیر ماجدی)
92 ۔ انبیا کی سرگزشت کا خلاصہ کہ ان تمام کی دعوت ایک ہی ہے ۔(تدبر قرآن)
ساتواں رکوع |
| فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ ﴿94﴾ وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ﴿95﴾ حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ﴿96﴾ وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ ﴿97﴾ اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ ﴿98﴾ لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿99﴾ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ ﴿100﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ ﴿101﴾ لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ ﴿102﴾ لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ﴿103﴾ یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ ﴿104﴾ وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ ﴿105﴾ اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ ﴿106﴾ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ ﴿107﴾ قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ﴿108﴾ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ ﴿109﴾ اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ ﴿110﴾ وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ ﴿111﴾ قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿112ع الأنبياء 21﴾ |
| 94. جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی۔ اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں۔ 95. اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) ، وہ رجوع نہیں کریں گے۔ 96. یہاں تک کہ یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں۔ 97. اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ (اپنے حق میں) ظالم تھے۔ 98. (کافرو اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔ اور تم سب اس میں داخل ہو کر رہو گے۔ 99. اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے۔ سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ 100. وہاں ان کو چلاّنا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے۔ 101. جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے۔ وہ اس سے دور رکھے جائیں گے۔ 102. (یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے۔ اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی) ہر طرح کے عیش اور لطف میں ہمیشہ رہیں گے۔ 103. ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔ اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ 104. جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹ لیتے ہیں۔ جس طرح ہم نے (کائنات کو) پہلے پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کردیں گے۔ (یہ) وعدہ (جس کا پورا کرنا لازم) ہے۔ ہم (ایسا) ضرور کرنے والے ہیں۔ 105. اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے۔ 106. عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) تبلیغ ہے۔ 107. اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے۔ 108. کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرف سے) یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا معبود خدائے واحد ہے۔ تو تم کو چاہیئے کہ فرمانبردار بن جاؤ۔ 109. اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم کو سب کو یکساں (احکام الہیٰ سے) آگاہ کردیا ہے۔ اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ (عن) قریب (آنے والی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے۔ 110. اور جو بات پکار کر کی جائے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو تم پوشیدہ کرتے ہو اس سے بھی واقف ہے۔ 111. اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)۔ 112. پیغمبر نے کہا کہ اے میرے پروردگار حق کے ساتھ فیصلہ کردے۔ اور ہمارا پروردگار بڑا مہربان ہے اسی سے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو مدد مانگی جاتی ہے۔ |
تفسیر آیات
94۔ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ۔ یہ فرشتوں کی کتابت ِ اعمال کے فعل کو اپنی جانب منسوب کرکے فرمایا ہے۔(تفسیر ماجدی)
96۔ " قیامت قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس علامتیں نہ دیکھ لو دھواں، دجال، دابۃ الارض، مغرب سے سورج کا طلوع، عیسیٰ ابن مریم کا نزول، یاجوج و ماجوج کی یورش، اور تین بڑے خسوف (زمین کا دھنسنا یا Landslide) ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں، اور تیسرا جزیرۃ العرب میں، پھر سب سے آخر میں یمن سے ایک سخت آگ اٹھے گی جو لوگوں کو محشر کی طرف ہانکے گی (یعنی بس اس کے بعد قیامت آجائے گی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن قرآن مجید اور حدیث میں یا جوج ماجوج کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے یہ مترشح نہیں ہوتا کہ یہ دونوں متحد ہوں گے اور مل کر دنیا پر ٹوٹ پڑیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ قیامت کے قریب زمانے میں یہ دونوں آپس ہی میں لڑ جائیں اور پھر ان کی لڑائی ایک عالمگیر فساد کی موجب بن جائے۔(تفہیم القرآن)
97۔ " غفلت " میں پھر ایک طرح کی معذرت پائی جاتی ہے، اس لیے وہ اپنی غفلت کا ذکر کرنے کے بعد پھر خود ہی صاف صاف اعتراف کریں گے کہ ہم کو انبیاء نے آ کر اس دن سے خبردار کیا تھا، لہٰذا درحقیقت ہم غافل و بیخبر نہ تھے بلکہ خطا کار تھے۔ (تفہیم القرآن)
98۔ روایات میں آیا ہے کہ اس آیت پر عبداللہ بن الذَّبَعْریٰ نے اعتراض کیا کہ اس طرح تو صرف ہمارے ہی معبود نہیں، مسیح اور عزیر اور ملائکہ بھی جہنم میں جائیں گے، کیونکہ دنیا میں ان کی بھی عبادت کی جاتی ہے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا نعم، کل من احب ان یعبد من دون اللہ فھو مع من عبدہ، " ہاں، ہر وہ شخص جس نے پسند کیا کہ اللہ کے بجائے اس کی بندگی کی جائے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جنہوں نے اس کی بندگی کی "۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے خلق خدا کو خدا پرستی کی تعلیم دی تھی اور لوگ ان ہی کو معبود بنا بیٹھے، یا جو غریب اس بات سے بالکل بیخبر ہیں کہ دنیا میں ان کی بندگی کی جا رہی ہے اور اس فعل میں ان کی خواہش اور مرضی کا کوئی دخل نہیں ہے، ان کے جہنم میں جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ وہ اس شرک کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ البتہ جنہوں نے خود معبود بننے کی کوشش کی اور جن کا خلق خدا کے اس شرک میں واقعی دخل ہے وہ سب اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔ اسی طرح وہ لوگ بھی جہنم میں جائیں گے جنہوں نے اپنی اغراض کے لیے غیر اللہ کو معبود بنوایا، کیونکہ اس صورت میں مشرکین کے اصلی معبود وہی قرار پائیں گے نہ کہ وہ جن کو ان اشرار نے بظاہر معبود بنوایا تھا۔ شیطان بھی اسی ذیل میں آتا ہے، کیونکہ اس کی تحریک پر جن ہستیوں کو معبود بنایا جاتا ہے، اصل معبود وہ نہیں بلکہ خود شیطان ہوتا ہے جس کے امر کی اطاعت میں یہ فعل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پتھر اور لکڑی کے بتوں اور دوسرے سامان پرستش کو بھی مشرکین کے ساتھ جہنم میں داخل کیا جائے گا، تاکہ وہاں پر آتش جہنم کے اور زیادہ بھڑکنے کا سبب بنیں اور یہ دیکھ کر انہیں مزید تکلیف ہو کہ جن سے وہ شفاعت کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے وہ ان پر الٹے عذاب کی شدت کے موجب بنے ہوئے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
101۔ کون سے معبود جہنم سے بچائے جائیں گے:۔ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ مشرکین سب اپنے معبودوں سمیت جہنم کا ایندھن بنیں گے تو مشرک کہنے لگے کہ ہم تو ان بتوں کے علاوہ فرشتوں کو بھی پوجتے ہیں۔اسی طرح عیسائیوں نے سیدنا عیسیٰؑ کو اور یہود نے عزیرؑ کومعبود بنارکھا ہے تو کیا یہ فرشتے اور سیدنا عیسیٰؑ اور سیدنا عزیرؑسب جہنم میں جائیں گے؟اس سوال کا جو اب رسول اللہؐ نے یہ دیا کہ جو شخص بھی خود یہ چاہتاہوکہ اس کی عبادت کی جائے وہ یقیناً جہنم میں جائے گا۔اور اسی سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں نازل فرمایا اور ہردو جواب کی روسے فرشتے ،سیدنا عیسیٰؑ ،سیدنا عزیرؑ اور ان کے علاوہ تمام ہستیاں بھی مستثنیٰ قراردے دی گئیں ۔ جو خود تو اللہ کے نیک بندے اور صرف اللہ ہی کے عبادت گزار تھے لیکن بعد میں لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا ۔جیساکہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ سیدنا نوحؑ کی قوم جن پانچ بتوں،ود،سواع،یغوث، یعوق اور نسر کو پکارتے تھے وہ حقیقتاًاللہ کے عبادت گزار بندے تھے۔اور انہیں دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔بعد میں شیطان نے لوگوں کو یہ پٹی پڑھائی کہ ان بزرگوں کے مجسمے بناکر اپنے پاس رکھ لیا کرو تاکہ تمہیں اللہ کی عبادت میں وہی مزا آئے جو ان بزرگوں کی موجودگی میں آتا تھا۔چنانچہ ابتداً ان کے مجسمے اس غرض سے تراشے گئے تھے پھربعد کے لوگوں نے انہی مجسموں کی عبادت شروع کردی۔(بخاری،کتاب التفسیر)(تیسیر القرآن)
102۔ اس آیت سے ان لوگوں کے خیال کی تردید ہورہی ہے جن کے نزدیک ۔العیاذ باللہ ۔ایک مرتبہ تمام اہلِ ایمان کو بھی جہنم پرسے گزرنا پڑے گا ۔یہاں واضح کیا ہے کہ اہل ایمان جہنم سے اتنے دور رکھے جائیں گے کہ ان کو اس کی آہٹ بھی سنائی نہیں دے گی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
103۔ 'بڑی گھبراہٹ'سے مراد وہ عظیم ہلچل ہے جو نفخ صور کے بعد تمام کائنات میں برپاہوگی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
105۔ زبور آسمانی صحیفہ ہے جو حضرت داؤد پر نازل ہوا ۔ ۔۔۔الذکر سے مراد تورات ہے یعنی ہم نے اس حقیقت کو جس کا بیان ابھی آتا ہے زبور میں بھی لکھا ہے اور اس سے پہلے تورات میں بھی بعض حضرات نے زبور سے سارے آسمانی صحیفے مراد لئے ہیں اور الذکر کا معنی لوح محفوظ کیا ہے یعنی قدرت کا یہ فیصلہ سب آسمانی کتابوں میں بھی مذکور ہے اور اس سے پہلے لوح محفوظ میں بھی یہ لکھا جا چکا ہے ۔ بعض نے الذکر سے مراد قرآن پاک لیا ہے ۔۔۔۔۔ جس زمین کی وراثت کا وعدہ صالحین کے ساتھ کیا گیاہے۔ اس سے مراد جنت کی سرزمین ہے باقی رہی دنیوی بادشاہی و حکومت تو وہ کبھی صالحین اور کبھی فاسقین کو دے دیجاتی ہے ۔ زیر بحث آیت کو سامنے رکھ کر بعض لوگوں کو یہ کہنا کہ فلاح و تقوی کا قرآنی معیار حکومت کا ہونا ، نہ ہونا ہے ان کا یہ قول قرآن کریم کی صدہا تصریحات کے خلاف ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ بڑے بڑے ظالم ، خونخوار اور نا اہل لوگ تخت شاہی پر متمکن رہے جن کے مظالم سے ان کی اپنی قوم نالاں رہی ۔ مثلا : ہٹلر ، سٹالن ، بش ، مش ۔(ضیاء القرآن)
ــــ ابن زید نے فرمایا کہ ذکر سے مراد لوح محفوظ اور زبور سے مراد تمام کتابیں جو انبیا علیھم السلام پر نازل ہوئیں ( روح المعانی )(معارف القرآن)
ــــ زبور کے باب 37 میں یہ حقیقت باربار واضح کی گئی ہے کہ جب یہ آسمان اورزمین دونوں فنا ہوجائیں گے تو نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ ایک جہان نو پیدا ہوگا۔ اس جہان کی زمین کی ابدی وراثت صرف صالحین و متقین کو حاصل ہوگی۔نافرمانوں کے لیے اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ اس آیت کا مطلب سمجھنے میں بعض لوگوں نے سخت ٹھوکر کھائی ہے اور اس سے ایک ایسا مطلب نکال لیا ہے جو پورے قرآن کی تردید اور پورے نظام دین کی بیخ کنی کردیتا ہے۔ وہ آیت کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ دنیا کی موجودہ زندگی میں زمین کی وراثت (یعنی حکومت و فرمانروائی اور زمین کے وسائل پر تصرف) صرف صالحین کو ملا کرتی ہے اور ان ہی کو اللہ تعالیٰ اس نعمت سے نوازتا ہے۔ پھر اس قاعدہ کلیہ سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ صالح اور غیر صالح کے فرق و امتیاز کا معیار یہی وراثت زمین ہے، جس کو یہ وراثت ملے وہ صالح ہے اور جس کو نہ ملے وہ غیر صالح۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھ کر ان قوموں پر نگاہ ڈالتے ہیں جو دنیا میں پہلے وارث زمین رہی ہیں اور آج اس وراثت کی مالک بنی ہوئی ہیں۔ یہاں وہ دیکھتے ہیں کہ کافر، مشرک، دہریے، فاسق، فاجر، سب یہ وراثت پہلے بھی پاتے رہے ہیں اور آج بھی پا رہے ہیں۔ جن قوموں میں وہ تمام اوصاف پائے گئے ہیں اور آج پائے جاتے ہیں جنہیں قرآن صاف الفاظ میں کفر، فسق، فجور، معصیت اور بدی سے تعبیر کرتا ہے، وہ اس وراثت سے محروم نہیں ہوئیں بلکہ نوازی گئیں اور آج بھی نوازی جا رہی ہیں۔ فرعون و نمرود سے لے کر اس زمانے کے کمیونسٹ فرمانرواؤں تک کتنے ہی ہیں جو کھلم کھلا خدا کے منکر، مخالف، بلکہ مدمقابل بنے ہیں اور پھر بھی وارث زمین ہوئے ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر وہ یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ قرآن کا بیان کردہ قاعدہ کلیہ تو غلط نہیں ہوسکتا، اب لامحالہ غلطی جو کچھ ہے وہ " صالح " کے اس مفہوم میں ہے جو اب تک مسلمان سمجھتے رہے ہیں۔ چنانچہ وہ صلاح کا ایک نیا تصور تلاش کرتے ہیں جس کے مطابق زمین کے وارث ہونے والے سب لوگ یکساں " صالح " قرار پاسکیں، قطع نظر اس سے کہ وہ ابوبکر صدیق اور عمر فاروق ہوں یا چنگیز اور ہلاکو۔ اس نئے تصور کی تلاش میں ڈارون کا نظریہ ارتقاء ان کی رہنمائی کرتا ہے اور وہ قرآن کے تصور " صلاح " کو ڈار وینی تصور " صلاحیت ( " (Fitness سے لے جا کر ملا دیتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
107۔ وہ دانائے سبل ، ختم الرسل مولائے کل جس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادیء سینا
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآن ، وہی فرقان ، وہی یٰسین ، وہی طٰہٰ (ضیاء القرآن)
108۔سیدناابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا:"میری اور لوگوں کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نےآگ روشن کی اور جب اس کی روشنی ارد گرد پھیل گئی تو کیڑے اور پتنگے اس آگ میں گرنے لگے ۔ا ب وہ شخص انہیں آگ سے دورہٹانے لگا (تاکہ جلنے سے بچ جائیں)مگر وہ مانتے ہی نہیں اور اس آگ میں گھستے ،گرتے اور مرتے جاتے ہیں۔اسی طرح میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ کر تمہیں آگ سے دور کھینچتاہوں اور کہتا ہوں کہ دوزخ سے بچ جاؤ لیکن لوگ ہیں کہ سنتے ہی نہیں اور اس میں گرے پڑتے ہیں"۔(بخاری، کتاب الرقاق۔باب الانتہاء عن المعاصی)(تیسیر القرآن)
112۔ انبیاء کی اپنی قوم سے مایوسی پر دعا:۔ اکثر انبیاء جب اپنی زندگی بھر اللہ کی طرف دعوت دینے کے بعد کافروں کی طرف سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے ایسی ہی یا ان الفاظ سے ملتے جلتے الفاظ میں دعا کی کہ یا اللہ! اب تو ہی ان کافروں کے اور ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمادے ۔چنانچہ اس رسول (نبی ؐ )نے بھی کافروں کو مخاطب کرکے فرمایا :کہ جس طرح تم اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے رہے ہو اور مسلمانوں کو اپنی تضحیک اور ظلم و ستم کا نشانہ بناتے رہے ہوتو اس کے ردِ عمل کے طورپر ہم اپنے پروردگارکی طرف ہی رجو ع کرتے ہیں جو نہایت مہربان ہے اور ایسے مشکل اوقات میں اسی سے مدد طلب کرنا چاہئے۔(تیسیر القرآن)