22 - سورة الحج (مدنیہ)

رکوع - 10 آیات - 78

مضمون:  قریش ابراہیمؑ کی تعلیمات اور بیت اللہ کے حقوق کو نظر انداز کرنے کے مجرم ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کو بیت اللہ سے بے دخل کرکے اہل ایمان کو توحید کے اس مرکز کا امین و متولی بنائے گا۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحی)

شان نزول :  سورۃ حج  کی ابتدائی  24  آیات  ہجرت  مدینہ سے ذرا  پہلے   اور  بقیہ  آیات  ہجرت  کے  فورا  ً  بعد  نازل  ہوئیں  ۔ یہ  وہ سورت  ہے جس  میں  مکی  اور مدنی  سورتوں  کے  اسلوب  کا امتزاج  پایا   جاتا  ہے  ۔ مسلمانوں   پر  مظالم   کی  انتہا  اور حضورؐ  کی ہجرت  مدینہ  کے نہایت   اہم مقام  پر  مسلمانوں  کو ظالم مشرکین  کے خلاف  جنگ  کی اجازت  دی گئی  اس لئے  یہ  ان آیات  کے نزول  کا ٹھیک  نفسیاتی  موقع  ہے ۔

نظم کلام :  سورۃ یونس  ( 14 + 1 – سورۃ  حج  و نور )

مرکزی  مضمون :  (1 )  مشرکین  مکہ  کے  خلاف  فرد  جرم  اور ان کے خلاف   جہاد  و قتال  کے  جواز  کے دلائل  ۔

(2 )  مسلمانوں  کو اطاعت  ، عبادت   ، دعوت  و تبلیغ  ، جہاد  و قتال  اور اسلامی  حکومت  کے قیام   کے مقاصد  کو یاد رکھنے  کی ہدایت   ۔

(3 )  مسلمانوں  کو بتایا  گیا ہے  کہ  اب انہیں   اعانت  ، قیامت  ، اقامت  ، توحید  ، جہاد  اور دنیا  میں عدل  و انصاف  کے قیام  کیلئے  چن  لیا گیا  ہے  ۔

ترتیب مطالعہ :  (1 )  ر-  1  ( قیامت  کی ہولناکیاں  اور حیات  اخروی )  ( 2 )  ر ـ  2  ( ڈھلمل  یقین مسلمانوں  کی  کیفیت  اور پختہ   ایمان کی ضرورت )   (3 )  ر -  3 تا 5  ( مسجد  حرام کی تعمیر  کے  بنیادی   مقاصد  ، قربانی  اور  مناسک حج ) (4 ) ر۔ 6 ،7  ( پہلا  اذن  قتال  اور حق  و باطل  کی کشمش  ) (5 )  ر - 8 ( مہاجرین کیلئے  بشارت  )   (6 )  ر- 9  ( کائنات  کے  آفاقی  دلائل – ہر  امت کیلئے  دین حق  کی اصل  ایک تھی )  ( 7 )  ر – 10  (  منصب   امامت  کے فرائض  اور اسکی ذمہ  داریاں  )   ۔


پہلا رکوع

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ ﴿1﴾ یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ ﴿2﴾ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ  ﴿3﴾ كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ ﴿4﴾ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ ﴿5﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ  ﴿6﴾ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ ﴿7﴾ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ  ﴿8﴾ ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ ﴿9﴾ ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠   ۧ ۧ ﴿10ع الحج 22﴾
1. لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو۔ کہ قیامت کا زلزلہ ایک حادثہٴ عظیم ہوگا۔ 2. (اے مخاطب) جس دن تو اس کو دیکھے گا (اُس دن یہ حال ہوگا کہ) تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی۔ اور تمام حمل والیوں کے حمل گر پڑیں گے۔ اور لوگ تجھ کو متوالے نظر آئیں گے مگر وہ متوالے نہیں ہوں گے بلکہ (عذاب دیکھ کر) مدہوش ہو رہے ہوں گے۔ بےشک خدا کا عذاب بڑا سخت ہے۔ 3. اور بعض لوگ ایسے ہیں جو خدا (کی شان) میں علم (ودانش) کے بغیر جھگڑتے اور ہر شیطان سرکش کی پیروی کرتے ہیں۔ 4. جس کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو اسے دوست رکھے گا تو اس کو گمراہ کردے گا اور دوزخ کے عذاب کا رستہ دکھائے گا۔ 5. لوگو اگر تم کو مرنے کے بعد جی اُٹھنے میں کچھ شک ہو تو ہم نے تم کو (پہلی بار بھی تو) پیدا کیا تھا (یعنی ابتدا میں) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بنا کر۔ پھر اس سے خون کا لوتھڑا بنا کر۔ پھر اس سے بوٹی بنا کر جس کی بناوٹ کامل بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی تاکہ تم پر (اپنی خالقیت) ظاہر کردیں۔ اور ہم جس کو چاہتے ہیں ایک میعاد مقرر تک پیٹ میں ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر تم کو بچہ بنا کر نکالتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو۔ اور بعض (قبل از پیری مرجاتے ہیں اور بعض شیخ فانی ہوجاتے اور بڑھاپے کی) نہایت خراب عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جاننے کے بعد بالکل بےعلم ہوجاتے ہیں۔ اور (اے دیکھنے والے) تو دیکھتا ہے (کہ ایک وقت میں) زمین خشک (پڑی ہوتی ہے) پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور ابھرنے لگتی ہے اور طرح طرح کی بارونق چیزیں اُگاتی ہے۔ 6. ان قدرتوں سے ظاہر ہے کہ خدا ہی (قادر مطلق ہے جو) برحق ہے اور یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتا ہے۔ اور یہ کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 7. اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں۔ اور یہ کہ خدا سب لوگوں کو جو قبروں میں ہیں جلا اٹھائے گا۔ 8. اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو خدا (کی شان) میں بغیر علم (ودانش) کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتاب روشن کے جھگڑتا ہے۔ 9. (اور تکبر سے) گردن موڑ لیتا (ہے) تاکہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے گمراہ کردے۔ اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے۔ اور قیامت کے دن ہم اسے عذاب (آتش) سوزاں کا مزہ چکھائیں گے۔ 10. (اے سرکش) یہ اس (کفر) کی سزا ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور خدا اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔

تفسیر آیات

1۔  یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ کا خطاب  اگرچہ  عام  ہے لیکن  مراد  اس سے  متمردین  قریش  ہی ہیں۔)تدبرقرآن(

ــــ   یہ زلزلہ  قیامت  کی ابتدائی   کیفیات  میں سے  ہے  ۔ حضرت  ابو ھریرہ  رضی اللہ تعالی عنہ   سے روایت  طویل حدیث     - نفخ  صورکے تین  مواقع   (1 )   نفخ   فزع  ( عام  سراسیمگی  )  (2 )   نفخ صعق ( سب  مرکر  گرجائینگے  ) (3 )  نفخ  قیام   لرب العالمین  ( سب لوگ  زندہ  ہوکر  خدا  کے حضور  پیش )  پہلے  نفخ  کی تفصیلی  صورت  ۔۔۔۔۔۔اس  وقت  زمین کی حالت   اس  کشتی  کی سی ہوگی  جو  موجوں  کے  تھپیڑے  کھا کر ڈگمگا  رہی  ہو یا  اس  معلق  قندیل  کی سی  جسکو  ہوا  کے  جھونکے   بری  طرح  جھنجھوڑ  رہے  ہوں  ۔زمین  کی آبادی  پر جو  کچھ  گزرے گی  اس کا نقشہ  قرآن  مجید  نے   مختلف  مقامات  پر  کھینچا ہے  ۔ مثلا : الحاقہ  ( 13 – 15 )  الزلزال  (1 -3 )   النازعات  (  1 )  الواقعہ  (1 )  المزمل  (1 )    تفہیم   ( 199 – 200 )   ۔اگلی  آیت  میں قرآن  اس  کا  وقت  وہ  بتا رہا  ہے   جبکہ   مائیں  اپنے  بچوں  کو دودھ پلاتے   پلاتے    چھوڑ  کر بھاگ  کھڑی   ہوں گی  اور   حاملہ  عورتوں  کے  حمل  گرجائیں گے  - اس  لئے  نفخ  اول  ہی کےوقت  سب  کچھ  پیش  آئے  گا۔(تفہیم  القرآن)

اور جب ہماری زمین جو چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ کی سی برق رفتاری سے محوِ گردش ہے۔ کم و بیش اسی رفتار والے سیارے سے ٹکرا جائے گی تو کیا حشر بپا ہوگا۔ یہی منظر ان دو آیات میں پیش کیا گیا ہے کہ اس دھماکہ کی دہشت سے ہر حاملہ کا حمل ساقط ہوجائے گا اور لوگ یوں مخبوط الحواس ہوجائیں گے جیسے کوئی نشہ آور چیز پی رکھی ہے۔۔۔۔۔اہل جنت کا نصف امتِ مسلمہ ہوگی:۔ پھر بھی تم تو تمام خلقت میں ایسے ہوگے جیسے کسی سفید بیل کے پہلو میں ایک کالابال ہو یا کسی کالے بیل کے پہلو میں ایک سفید بال ہو۔اور میں امید کرتاہوں کہ تم سب  لوگ اہل جنت کا چوتھا حصہ ہوگے"(یہ سن کر خوشی سے)ہم نے اللہ اکبر کہا۔پھر آپؐ نے فرمایا :"تم جنت کا تیسرا حصہ ہوگے"ہم نے پھر اللہ اکبر پکارا۔پھر آپؐ نے فرمایا:"تم اہل جنت کا آدھا حصہ ہوگے"ہم نے پھر اللہ اکبرکہا۔(بخاری۔کتاب التفسیر)(تیسیر القرآن)

5۔ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ۔وقوع حشر سے انکار کا مرض جیساآج کی مادہ پرست دنیا میں کثرت سے پھیلا ہواہے،ایسا ہی عرب مادہ پرستوں میں تھا۔۔۔۔۔وجود انسانی کی اس ساخت، ترکیب و ترتیب کی ایک طرف یکسانی وہم آہنگی دوسری طرف باہمی تفاوت و اختلاف دونوں چیزیں جس طرح قدرت،حکمت و صنعت پر شاہد ہیں،اسی طرح اس پر بھی کہ جو پہلے اس طرح عدم مطلق سے وجود میں لاچکا ہے اسے اب اجزاء منتشر کو جوڑ بٹور کر درست کردینا کیا مشکل ہے۔۔۔۔۔اب اس صنعت و حکمت الٰہی پر دوسرا استدلال نظام فضائی و کائنات جو ّی سے پیش ہورہاہے۔۔۔زمین کا ایک خاص حالت میں ہونا، موسم میں ایک متعین کیفیت کا پیدا ہوجانا، آفتاب میں ایک خاص درجہ کی گرمی ،سمندر کا اس سے ایک خاص درجہ کا تاثر، بخارات کا صعود ، ہوا میں ایک خاص قسم کی حرکت اور ایک خاص درجہ کی برودت،پانی  کا ایک متعین مقدار میں اور ایک خاص صورت میں یعنی قطرہ قطرہ ہوکر نزول،زمین میں بارش کا جذب ہونا، نباتات کا  اس سے اپنی غذا کا کام لینا ،ان میں نشونما کا ہونا،وغیرہا،علوم طبعی ،کیمیاوی،ارضیاتی کے صدہا مسائل کو عملاً اس نظم و تدبیر کے ساتھ حل کرتے رہنا،کام یقیناً حکیم مطلق ہی کا ہوسکتا ہے۔(تفسیر ماجدی)

اس سلسلہ کلام میں یہ فقرہ تین معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ ہی سچا ہے اور تنہا یہ گمان محض باطل ہے کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی کا کوئی امکان نہیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ کا وجود محض ایک خیالی اور فرضی وجود نہیں ہے جسے بعض عقلی مشکلات رفع کرنے کی خاطر مان لیا گیا ہو۔ وہ نرا فلسفیوں کے خیال کا آفریدہ، واجب الوجود اور علت العلل (First Cause) ہی نہیں ہے بلکہ وہ حقیقی فاعل مختار ہے جو ہر آن اپنی قدرت، اپنے ارادے، اپنے علم اور اپنی حکمت سے پوری کائنات اور اس کی ایک ایک چیز کی تدبیر کر رہا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ کھلنڈرا نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے کھلونے بنائے اور پھر یونہی توڑ پھوڑ کر خاک میں ملا دے۔ وہ حق ہے، اس کے سب کام سنجیدہ اور با مقصد اور پر حکمت ہیں۔ (تفہیم القرآن)

7۔ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ۔ سے مراد کل وہ لوگ ہیں جو عالم قبر یا برزخ میں پہنچ چکے ہیں۔خواہ پانی میں ڈوب گئے ہوں یا آگ میں جل گئے ہوں،یا جانوران کے جسم کو کھا گئے ہوں، وقس علیٰ ہذا۔ مراد صرف مدفون ہی ہیں ۔(تفسیر ماجدی)

۔شروع سورہ سے جو کچھ بیان ہواہے اس سے حاصل شدہ نتائج یہاں یکجا کرکے بیان کردیے گئے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحی)

۔ ان آیات میں انسان کی پیدائش کے مختلف اطوار، زمین پر بارش کے اثرات، اور نباتات کی پیداوار کو پانچ حقیقتوں کی نشان دہی کرنے والے دلائل قرار دیا گیا ہے۔1۔ یہ کہ اللہ ہی حق ہے.۔ 2۔ یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔  3۔ یہ کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔  4۔ یہ کہ قیامت کی گھڑی آ کر رہے گی۔ 5۔ یہ کہ اللہ ضرور ان سب لوگوں کو زندہ کر کے اٹھائے گا جو مر چکے ہیں۔(تفہیم القرآن)

 (1)   یعنی وہ ذاتی واقفیت جو براہ راست مشاہدے اور تجربے سے حاصل ہوئی ہو۔  (2) یعنی وہ واقفیت جو کسی دلیل سے حاصل ہوئی ہو یا کسی علم رکھنے والے کی رہنمائی سے۔(3)  یعنی وہ واقفیت جو خدا کی نازل کردہ کتاب سے حاصل ہوئی ہو  ۔۔۔۔  اس میں تین کیفیتیں شامل ہیں جاہلانہ ضد اور ہٹ دھرمی۔ تکبر اور غرور نفس۔ اور کسی سمجھانے والے کی بات کی طرف التفات نہ کرنا۔ (تفہیم القرآن)

یعنی بجزبے عقلی و بے علمی کی راہ سے ضلالت پھیلاتے رہنے کے یہ شخص نہ کوئی عقلی دلیل اپنے پاس رکھتا ہے نہ نقلی۔هُدًى۔سے مراد ہے دلیل عقلی اور کتاب منیر سے وحی الٰہی۔۔۔۔ثَانِیَ عِطْفِهٖ۔لفظی معنی ہیں اپنا شانہ پھیر لینے والا ۔مراد ہے تکبر کرنے والا، زعم و پندار میں مبتلا رہ کر اکڑنے والا۔۔۔شان نزول کی روایتوں میں آتاہے کہ آیت میں اشارۂ خصوصی ابوجہل سے متعلق ہے۔آج "روشن خیال""تجدد نواز"طبقات جو اسی ذہنیت کو لئے ہوئے ابھرے ہیں ،صفات الٰہی پر بڑی بلند آہنگی سے گفتگو کیلئے نکلے ہیں، اور حال یہ ہے کہ جس طرح عقل و منطق سے تہی دامن ہیں، اسی طرح کسی محقق کے اتباع سے بھی۔۔۔۔۔۔ فقہاء نے آیت سے یہ مسئلہ بھی نکالا ہے کہ بغیر علم و واقفیت کسی مسئلہ میں بحث و مباحثہ جائز نہیں۔(تفسیر ماجدی)


دوسرا رکوع

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ﴿11﴾ یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ  ﴿12﴾ یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ ﴿13﴾ اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ ﴿14﴾ مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ ﴿15﴾ وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ ﴿16﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ ﴿17﴾ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩  ۞ ﴿18﴾ هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ  ﴿19﴾ یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ  ﴿20﴾ وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ ﴿21﴾ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠   ۧ ۧ ﴿22ع الحج 22﴾
11. اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جو کنارے پر (کھڑا ہو کر) خدا کی عبادت کرتا ہے۔ اگر اس کو کوئی (دنیاوی) فائدہ پہنچے تو اس کے سبب مطمئن ہوجائے اور اگر کوئی آفت پڑے تو منہ کے بل لوٹ جائے (یعنی پھر کافر ہوجائے) ۔اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی۔ یہی تو نقصان صریح ہے۔ 12. یہ خدا کے سوا ایسی چیز کو پکارتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچائے اور نہ فائدہ دے سکے۔ یہی تو پرلے درجے کی گمراہی ہے۔ 13. ایسے شخص کو پکارتا ہے جس کا نقصان فائدہ سے زیادہ قریب ہے۔ ایسا دوست برا بھی اور ایسا ہم صحبت بھی برا۔ 14. جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے خدا ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں چل رہیں ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ 15. جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ خدا اس کو دنیا اور آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیئے کہ اوپر کی طرف (یعنی اپنے گھر کی چھت میں) ایک رسی باندھے پھر (اس سے اپنا) گلا گھونٹ لے۔ پھر دیکھے کہ آیا یہ تدبیر اس کے غصے کو دور کردیتی ہے۔ 16. اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اُتارا ہے (جس کی تمام) باتیں کھلی ہوئی (ہیں) اور یہ (یاد رکھو) کہ خدا جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ 17. جو لوگ مومن (یعنی مسلمان) ہیں اور جو یہودی ہیں اور ستارہ پرست اور عیسائی اور مجوسی اور مشرک۔ خدا ان (سب) میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ بےشک خدا ہر چیز سے باخبر ہے۔ 18. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے انسان خدا کو سجدہ کرتے ہیں۔ اور بہت سے ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے۔ اور جس شخص کو خدا ذلیل کرے اس کو عزت دینے والا کوئ نہیں۔ بےشک خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ 19. یہ دو (فریق)، ایک دوسرے کے دشمن، اپنے پروردگار (کے بارے) میں جھگڑتے ہیں۔ تو کافر ہیں ان کے لئے آگ کے کپڑے قطع کئے جائیں گے (اور) ان کے سروں پر جلتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ 20. اس سے ان کے پیٹ کے اندر کی چیزیں اور کھالیں گل جائیں گی۔ 21. اور ان (کے مارنے ٹھوکنے) کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے۔ 22. جب وہ چاہیں گے کہ اس رنج (وتکلیف) کی وجہ سے دوزخ سے نکل جائیں تو پھر اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ اور (کہا جائے گا کہ) جلنے کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔

تفسیر آیات

15۔تقدیر کے مقابلہ میں تدبیر کسی کام نہیں آسکتی:۔ اس آیت کی تفسیر میں بعض مفسرین نے"لن ینصرہ اللہ"سے "ہ"سے رسول اللہؐ کی ذات مراد لی ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے دنیوی اور اخروی فتح و نصرت کے جو وعدے کرچکے ہیں وہ ضرور پورے ہوکر رہیں گے خواہ کفار و مشرکین کو یہ بات کتنی ہی ناگوار اور غصہ دلانے والی ہو۔ اور وہ اس نصرتِ ربانی کو روکنے کیلئے اپنی انتہائی کوششیں صرف کرکے دیکھ لیں حتیٰ کہ آسمان میں ایک رسی تان کر اوپر چڑھیں اور وہاں سے وحی الٰہی اور آسمانی امداد کو منقطع کر آئیں۔پھر دیکھیں کہ ان کی ایسی تدبیروں سے وہ وحی الٰہی اور نصرت ربانی آنا بند ہوجاتی ہے جس پر وہ اس قدر پیچ و تاب کھارہے ہیں۔(تیسیر القرآن)

۔ا س آیت کی تفسیر میں بکثرت اختلافات ہوئے ہیں۔ مختلف مفسرین کے بیان کردہ مطالب کا خلاصہ یہ ہے۔

(1) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (یعنی محمد ﷺ کی) مدد نہ کرے گا وہ چھت سے رسی باندھ کر خود کشی کرلے۔

 (2)جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (یعنی محمد ﷺ کی) مدد نہ کرے گا وہ کسی رسی کے ذریعے آسمان پر جائے اور مدد بند کرانے کی کوشش کر دیکھے۔

(3) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (یعنی محمد ﷺ کی) مدد نہ کرے گا وہ آسمان پر جا کر وحی کا سلسلہ منقطع کرنے کی کوشش کر دیکھے۔

 (4)جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (محمد ﷺ کی) مدد نہ کرے گا وہ آسمان پر جا کر اس کا رزق بند کرانے کی کوشش کر دیکھے۔

(5) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (یعنی خود اس طرح کا خیال کرنے والے کی) مدد نہ کرے گا وہ اپنے گھر کی چھت سے رسی لٹکائے اور خود کشی کرلے۔

(6)جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (یعنی خود اس طرح کا خیال کرنے والے کی) مدد نہ کرے گا وہ آسمان تک پہنچ کر مدد لانے کی کوشش کر دیکھے۔

ان میں سے پہلے چار مفہومات تو بالکل ہی سیاق وسباق سے غیر متعلق ہیں۔ اور آخری دو مفہوم اگرچہ سیاق وسباق سے قریب تر ہیں، لیکن کلام کے ٹھیک مدعا تک نہیں پہنچتے۔ سلسلہ تقریر کو نگاہ میں رکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ گمان کرنے والا شخص وہی ہے جو کنارے پر کھڑا ہو کر بندگی کرتا ہے، جب تک حالات اچھے رہتے ہیں مطمئن رہتا ہے، اور جب کوئی آفت یا مصیبت آتی ہے، یا کسی حالت سے دوچار ہوتا ہے جو اسے ناگوار ہے، تو خدا سے پھرجاتا ہے اور ایک ایک آستانے پر ماتھا رگڑنے لگتا ہے۔ اس شخص کی یہ کیفیت کیوں ہے ؟ اس لیے کہ وہ قضائے الہٰی پر راضی نہیں ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ قسمت کے بناؤ اور بگاڑ کے سر رشتے اللہ کے سوا کسی اور کے ہاتھ میں بھی ہیں، اور اللہ سے مایوس ہو کر دوسرے آستانوں سے امیدیں وابستہ کرتا ہے۔ اس بنا پر فرمایا جا رہا ہے کہ جس شخص کے یہ خیالات ہوں وہ اپنا سارا زور لگا کر دیکھ لے، حتیٰ کہ اگر آسمان کو پھاڑ کر تھگلی لگا سکتا ہو تو یہ بھی کر کے دیکھ لے کہ آیا اس کی کوئی تدبیر تقدیر الہٰی کے کسی ایسے فیصلے کو بدل سکتی ہے جو اس کو ناگوار ہے۔ آسمان پر پہنچنے اور شگاف دینے سے مراد ہے وہ بڑی سے بڑی کوشش جس کا انسان تصور کرسکتا ہو۔ ان الفاظ کا کوئی لفظی مفہوم مراد نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)

17۔ یعنی کسی بھی اللہ کے رسول پر ایمان لائے ۔کیونکہ تمام انبیاء و رسل کے اصول دین ایک ہی رہے ہیں(تفصیل کیلئے اسی سورہ کی آیت نمبر 92، 93 کے حواشی ملاحظہ فرمالیجئے)اس لحاظ سے ہر نبی پر ایمان لانے والے مسلمان ہوئے اور اسلام اور ایمان کا صرف یہ فرق ہے کہ اسلام کا تعلق ظاہری اعمال سے ہوتاہے اور ایمان کا دل سے۔اللہ اور اس کے رسول کی جس قدر اطاعت کی جائے،ایمان اتنا ہی پختہ ہوتاجاتاہے اور جتنا ایمان پختہ ہوتاجاتاہے اطاعت کی مزید توفیق نصیب ہوتی  رہتی ہے ۔گویا اسلام اور ایمان دونوں ایک دوسرے سے مربوط اور ایک دوسرے کے ممد و معاون ہوتے ہیں۔۔۔۔۔صابی کون ہیں؟     ۔صابی دراصل وہ ستارہ پرست اور سورج پرست قوم ہے جس نے اپنے معبودوں کی حمایت میں سیدنا ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالا تھا۔یہ لوگ اپنے آپ کو سیدنا نوحؑ کا پیروکار بتاتے ہیں اور باقی بعد میں آنے والے سب انبیاء کے منکر ہیں ۔بعد میں صبأ  کا لفظ دین میں تبدیل کرنے یا آبائی مذہب سے روگردانی کرنے کے معنوں میں استعمال ہونے لگا اور ایک گالی کی حیثیت اختیار کرگیا۔چناچہ مشرکین مکہ بھی اسلام لانے والوں کو اسی لقب سے نوازتے تھے اور کہتے تھے کہ فلاں شخص صابی ہوگیا ہے ۔یعنی بے دین اور لامذہب ہوگیا ہے جیساکہ ہندوستان میں توحید کی طرف رجوع کرنے والوں کو وہابی کے لقب سے نوازا جانے لگاہے۔۔۔۔عیسائیوں کے مختلف نام:۔ سیدنا عیسیٰؑ اور ان پر نازل شدہ کتاب انجیل کے پیروکار ۔ابتداءً ان کا نام ناصری یا گلیلی تھا۔سیدنا عیسیٰؑ ناصرہ ضلع گلیل میں پیدا ہوئے  تھے۔چنانچہ یہود انہیں ایک بدعتی فرقہ کی حیثیت سے ناصری یا گلیلی کہہ کر پکارتے تھے۔قرآن میں ان کا نام نصاریٰ مذکور ہے۔اور اسے بھی ناصرہ سے منسوب قرار دیا جاسکتاہے اور اس کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ عیسیٰؑ کے پیروکار یا حواریوں نے "نحن انصار اللہ"(3: 52)کا اقرار کیا تھا۔ لہذا یہ لوگ نصاریٰ کہلائے ۔بعد میں انہوں نے اپنے لئے عیسائی کا لقب پسندکرلیا ان لوگوں نے بھی بعد میں بہت سے بدعی عقائد شامل کرلئے جیسے عقیدہ تثلیث،الوہیتِ مسیح اور کفارہ وغیرہ۔۔۔۔مجوس کا تعارف:۔مجوسی بھی آتش پرست اور ستارہ پرست لوگ تھے اور صابی فرقہ کی طرح اپنے آپ کو سیدنا نوحؑ کے پیروکار بتاتے ہیں اور باقی پیغمبروں کے منکر ہیں۔ان کے نزدیک نیکی اور بدی کے خدا الگ الگ ہیں ۔نیکی کا خدایا خالق یزدان ہے اور بدی کا خدا یا خالق اہرمن ہے۔ یہ لوگ اپنی الہامی کتابوں کا نام ژند اور اوستابتاتے ہیں۔ مزدک نے ان کے مذہب اور اخلاق کو بری طرح مسخ کرکے رکھ دیا تھا حتیٰ کہ حقیقی بہن سے نکاح بھی ان کے ہاں جائز قرار دیا گیا۔(تیسیر القرآن)

ــــ الْمَجُوْس۔وہ اہل عجم ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ ہم ایک نبی زرتشت نامی کی امت ہیں!لیکن اب وہ عملاً توحید کے بجائے ثنویت کے معتقد ہیں یعنی ایک کی بجائے دوخدا قراردے لئے ہیں۔ایک یزدان یعنی خدائے نور و خدائے خیر۔اور یہی ان کے ہاں خدائے اکبر ہے،دوسرا اہرمن یعنی خدائے ظلمت اور خدائے شر  جو ان کے عقیدہ میں خدائے اصغر ہے۔اور کہتے ہیں کہ یہ کائنات ان ہی دونوں کی کشمکش کی رزم گاہ ہے، اور بلآخر خدائے اکبر ہی کی فتح ہوکر رہے گی۔۔۔۔۔آگ کے تقدس کے قائل ہیں، اسے مظہر خدا سمجھتے ہیں اور اس لئے آتش پرست کہے جاتے ہیں ۔فقہاء امت نے انہیں بھی اہل کتاب کے حکم میں رکھا ہے۔۔۔۔۔خدائے اعظم نیکی و نیک کرداری کا ہے۔جس کا نام یزداں ہے اور جس کا بڑامظہر آسمان میں آفتاب اور زمین پر آگ ہے۔دوسرا اور نسبۃً چھوٹا خدا،بدی کا ہے۔جس کا نام اہرمن ہے،اور جس کا مظہر ظلمت ہے ۔اور کائنات ان ہی دونوں خداؤں کی آویزش کی تماشہ گاہ ہے۔آخری کامیابی یزداں کی یقینی ہے۔۔۔۔اور مورتی پوجا کے قسم کا شرک ان کے ہاں نہیں۔ان کی مذہبی کتاب کا نام اوستاہے۔(تفسیر ماجدی)

18۔اس سورہ حج میں دو سجدہ تلاوت ہیں۔آیت نمبر 18 پر پہلا سجدہ ہے اور یہی سجدہ متفق علیہ ہےجو ہر پڑھنے اور سننے والے کو اداکرنا چاہئے تاکہ وہ بھی کائنات کی جملہ اشیاء کے ساتھ سجدہ میں ان کے ہم آہنگ اور شریک ہوجائے۔(تیسیر القرآن)


تیسرا رکوع

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ ﴿23﴾ وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ ﴿24﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠   ۧ ۧ ﴿25ع الحج 22﴾
23. جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے خدا ان کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہیں ہیں۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور موتی۔ اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔ 24. اور ان کو پاکیزہ کلام کی ہدایت کی گئی اور (خدائے) حمید کی راہ بتائی گئی۔ 25. جو لوگ کافر ہیں اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے اور مسجد محترم سے جسے ہم نے لوگوں کے لئے یکساں (عبادت گاہ) بنایا ہے روکتے ہیں۔ خواہ وہاں کے رہنے والے ہوں یا باہر سے آنے والے۔ اور جو اس میں شرارت سے کج روی (وکفر) کرنا چاہے اس کو ہم درد دینے والے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

تفسیر آیات

24۔ یہاں سورہ کا وہ حصہ ختم ہوجاتا ہے جو مکی دور میں نازل ہوا تھا۔ اس حصے کا مضمون اور انداز بیان وہی ہے جو مکی سورتوں کا ہوا کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

25۔الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَنِ الْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ   یہ مسجد حرام کی تعریف ہے کہ اللہ نے اس میں حدود حرم کے مقیمین اور باہر سے آنے والوں دونوں کے حقوق یکساں رکھے ہیں۔ یہ قریش کی اجارہ داری اور خاص طور پر بنی ہاشم کی مہنتی پر ضرب ہے۔۔۔۔۔۔اللہ نے اس کو پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ہے تو تمام دنیا کے مسلمانوں کی یہ مشترک ذمہ داری ہے کہ وہ پاسبانوں کے ہاتھ پکڑیں۔ اس کے پاسبان یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ان کے گھر کا داخلی معاملہ ہے، دوسروں کو اس میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔۔۔۔۔اسی طرح اگر خدانخواستہ کوئی بیرونی طاقت اس پر حملہ کر دے تو اس کی حفاظت و مدافعت کے لئے تمام دنیا کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔ اگر کسی ملک کی حکومت اس جہاد میں شرکت سے روکے تو ہرچند وہ نام نہاد مسلمانوں ہی کی حکومت ہو۔ اس کے خلاف بھی اہل ایمان پر فرض ہوگا کہ وہ جہاد کریں (تدبرِ قرآن)


چوتھا رکوع

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ ﴿26﴾ وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ  ﴿27﴾ لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘  ﴿28﴾ ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ﴿29﴾ ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ  ﴿30﴾ حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ ﴿31﴾ ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ ﴿32﴾ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠   ۧ ۧ ﴿33ع الحج 22﴾
26. (اور ایک وقت تھا) جب ہم نے ابراہیم کے لئے خانہ کعبہ کو مقرر کیا (اور ارشاد فرمایا) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیجیو اور طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں (اور) سجدہ کرنے والوں کے لئے میرے گھر کو صاف رکھا کرو۔ 27. اور لوگوں میں حج کے لئے ندا کر دو کہ تمہارے پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر جو دور دراز رستوں سے چلے آتے ہو (سوار ہو کر) چلے آئیں۔ 28. تاکہ اپنے فائدے کے کاموں کے لئے حاضر ہوں۔ اور (قربانی کے) ایام معلوم میں چہار پایاں مویشی (کے ذبح کے وقت) جو خدا نے ان کو دیئے ہیں ان پر خدا کا نام لیں۔ اس میں سے تم خود بھی کھاؤ اور فقیر درماندہ کو بھی کھلاؤ۔ 29. پھر چاہیئے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور نذریں پوری کریں اور خانہٴ قدیم (یعنی بیت الله) کا طواف کریں۔ 30. یہ (ہمارا حکم ہے) جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ پروردگار کے نزدیک اس کے حق میں بہتر ہے۔ اور تمہارے لئے مویشی حلال کردیئے گئے ہیں۔ سوا ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔ 31. صرف ایک خدا کے ہو کر اس کے ساتھ شریک نہ ٹھیرا کر۔ اور جو شخص (کسی کو) خدا کے ساتھ شریک مقرر کرے تو وہ گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گر پڑے پھر اس کو پرندے اُچک لے جائیں یا ہوا کسی دور جگہ اُڑا کر پھینک دے۔ 32. (یہ ہمارا حکم ہے) اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے۔ 33. ان میں ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے فائدے ہیں پھر ان کو خانہٴ قدیم (یعنی بیت الله) تک پہنچانا (اور ذبح ہونا) ہے۔

تفسیر آیات

27۔ ضامر کا لغوی معنی:۔ یہاں ضامر کا لفظ استعمال ہواہےاور ضامر وہ جانور ہے جو خوراک کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ سدھانے اور مشق کی کثرت اور کسرت کی وجہ سے دبلا پتلا اور چھریرے بدن والا ہوجائے اور سبک رو،یا سبک خرام ہوتاکہ مقابلہ میں آگے نکل سکے۔اور جو جانور بھوک کی کمی کی وجہ سے ہوااسے عجف کہتے ہیں۔عرب میں ضامر کا لفظ عموماًاونٹ کیلئے مختص ہوگیا خواہ وہ نرہو یا مادہ اور اونٹ کا نام بطور خاص اس لیے لیا گیا کہ اس زمانہ میں اور اس علاقہ میں اونٹ ہی آمد و رفت اور نقل و حرکت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔(تیسیر القرآن)

۔  بہت سی حکومتوں نے اور وہ بھی مسلمان کہلانے والی حکومتوں نے حج پر ویزے، کوٹے، قرعے اور زرمبادلہ کے مختلف ناموں سے جو پابندیاں عائد کر رکھی ہیں یہ نہ صرف بالکل ناروا  ہیں  بلکہ ہمارے نزدیک صدعن المسجد الحرام کے حکم میں داخل ہیں۔(تدبرِ قرآن) 

28۔بس اصل چیز صحیح توازن کو قائم رکھنا ہے کہ حج صرف تجارتی یا  سیاسی سفر بن کے نہ رہ جائے۔ (تدبرِ قرآن) 

29۔بیت العتیق کے معانی:۔ عتیق کا ایک معنی "آزاد"ہے۔اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس گھر پر کسی ظالم اور جابربادشاہ کا قبضہ نہیں ہوسکتا اور ایسے حملہ آوروں کا وہی حشر ہوگاجو اصحاب الفیل کا ہواتھا۔حتیٰ کہ یاجوج ماجوج کی یورش کے بعد بھی تاقیامت بیت اللہ کا طواف اور حج آزادانہ طورپر ہوتارہے گا۔چنانچہ سیدنا عبداللہ بن زبیر  کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا:"بیت اللہ کا نام بیت العتیق اس لئے ہواکہ اس پر کبھی کوئی ظالم غالب نہیں ہوا"(ترمذی،ابواب التفسیر)(تیسیر القرآن)

ـــ البیت العتیق ۔ کے ایک معنی تو خانۂ قدیم کے ہیں۔۔۔۔دوسرے معنیٰ خانہ محفوظ کے ہیں۔یعنی وہ گھر جو امن کی جگہ بنادیا گیا ہے اور جباروں کی گرفت سے آزاد رہاہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ بیت اللہ کو یہاں بیت عتیق سے تعبیر فرمایا ہے۔ عتیق کے معنی اصل اور قدیم کے ہیں۔ بیت اللہ کو عتیق کہنے کی وجہ، جیسا کہ ہم بقرہ 125 کے تحت واضح کرچکے ہیں، یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا تعمیر کردہ خدا کا اصل اور قدیم گھر یہی ہے نہ کہ بیت المقدس جیسا کہ یہود دعویٰ کرتے ہیں۔ بیت المقدس اول تو حضرت ابراہیم ؑ کے بہت بعد، حضرت سلیمان ؑ کے ہاتھوں تعمیر ہوا ہے، پھر اس کی تعمیر بھی اسی طرح ہوئی کہ اس کی اصل قربان گاہ کا رخ بیت اللہ ہی کی طرف تھا، اس لئے کہ تمام ذریت ابراہیم کا اصل قبلہ بیت اللہ ہی تھا۔ اگرچہ یہود نے ان تمام چیزوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن اصل حقیقت کے شواہد تورات میں آج بھی موجود ہیں اور بقرہ کی تفسیر میں ہم ان کی وضاحت کرچکے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

۔ یہاں طواف سے مراد طواف زیارت ہے جو دسویں تاریخ ذی الحجہ کو رمی جمرہ اور قربانی کے بعد کیا جاتا ہے یہ طواف حج کا دوسرا رکن اور فرض ہے پہلا رکن وقوف عرفات ہے جو اس سے پہلے ادا ہوجاتا ہے۔ طواف زیارت پر احرام کے سب احکام مکمل ہو کر پورا احرام کھل جاتا ہے۔ (معارف القرآن)

30۔ حُرُمٰتِ اللّٰهِ  سے مراد اللہ کی حرام کردہ اشیاء بھی ہیں اور قابل احترام اشیاء یعنی شعائر اللہ بھی۔ یعنی ان سب چیزوں کی حرمت  و احترام کا پورا پورا خیال رکھنا چاہئے اور تعمیر کعبہ کا اولین مقصد یہ تھا کہ اسے شرکیہ اعمال و افعال اور بتوں کی نجاستوں سے پاک و صاف رکھا جائے۔اور قریش مکہ نے ایسی نجاستوں کا بھی مطلق خیال نہ رکھا اور جو لوگ اللہ کی توحید کے قائل تھے ان کے بیت اللہ میں داخلہ پر بھی پابندیاں لگادیں ۔گویا اللہ کے گھر اور اس کے شعائر کی ہرطرح  سے توہین کی۔نیز اس مقام پر حرمات سے مراد عموماً حج، عمرہ، کعبہ، اور قربانی اور احرام سے متعلق احکام ہیں۔جیسے کسی سے لڑائی جھگڑا کرنے، احرام کی حالت میں شکار کرنے اور صحبت کرنے سے بچنا اور ایسے احکام  کا پورا پورا پاس رکھنا ضروری ہے اور یہ چیز ان کے حق میں اور اللہ کے ہاں بڑی خوبی اور نیکی کی بات ہے۔(تیسیر القرآن)

۔ ۔ اس موقع پر مویشی جانوروں کی حلت کا ذکر کرنے سے مقصود دو غلط فہمیوں کو رفع کرنا ہے۔ اول یہ کہ قریش اور مشرکین عرب بحیرہ اور سائبہ اور وصیلہ اور حام کو بھی اللہ کی قائم کی ہوئی حرمتوں میں شمار کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ یہ اس کی قائم کردہ حرمتیں نہیں ہیں، بلکہ اس نے تمام مویشی جانور حلال کیے ہیں۔ دوم یہ کہ حالت احرام میں جس طرح شکار حرام ہے اس طرح کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ مویشی جانوروں کا ذبح کرنا اور ان کو کھانا بھی حرام ہے۔ اس لیے بتایا گیا کہ یہ اللہ کی قائم کی ہوئی حرمتوں میں سے نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)

ـ قَوْل الزُّوْرِ۔ جھوٹی بات کے تحت میں ہر جھوٹ آجاتاہے لیکن دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ کلمۂ توحید کے برخلاف کلمۂ شرک کا اقرار ہے۔۔۔۔اشارہ ہے کہ زبان و قلب کو شرک سے پاک رکھو۔(تفسیر ماجدی) 

33۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ھَدْیاً بَالِغَ الْکَعْبَۃِ (المائدہ۔ آیت 95) اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ کعبہ پر، یا مسجد حرام میں قربانی کی جائے، بلکہ حرم کے حدود میں قربانی کرنا مراد ہے۔ یہ ایک اور دلیل ہے اس امر کی کہ قرآن کعبہ، یا بیت اللہ، یا مسجد حرام بول کر بالعموم حرم مکہ مراد لیتا ہے نہ کہ صرف وہ عمارت۔ (تفہیم القرآن)

۔ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ، قول زور سے مراد جھوٹ ہے، حق کے خلاف جو کچھ ہے وہ باطل اور جھوٹ میں داخل ہے خواہ عقائدہ فاسدہ شرک و کفر ہوں یا معاملات میں اور شہادت میں جھوٹ بولنا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب کبیرہ گناہوں میں سے بڑے کبیرہ یہ گناہ ہیں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا اور عام باتوں میں جھوٹ بولنا۔ رسول اللہ ﷺ نے آخری لفظ وَقَوْلَ الزُّوْرِ کو بار بار فرمایا (رواہ البخاری) (معارف القرآن)


پانچواں رکوع

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ  ﴿34﴾ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ ﴿35﴾ وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ﴿36﴾ لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ ﴿37﴾ اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠   ۧ ۧ ﴿38ع الحج 22﴾
34. اور ہم نے ہر اُمت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کردیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے ان کو دیئے ہیں (ان کے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں۔ سو تمہارا معبود ایک ہی ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ۔ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنادو۔ 35. یہ وہ لوگ ہیں کہ جب خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر مصیبت پڑتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور نماز آداب سے پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے (اس میں سے) (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔ 36. اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر خدا مقرر کیا ہے۔ ان میں تمہارے لئے فائدے ہیں۔ تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر ان پر خدا کا نام لو۔ جب پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے زیرفرمان کردیا ہے تاکہ تم شکر کرو۔ 37. خدا تک نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون۔ بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ اسی طرح خدا نے ان کو تمہارا مسخر کر دیا ہے تاکہ اس بات کے بدلے کہ اس نے تم کو ہدایت بخشی ہے اسے بزرگی سے یاد کرو۔ اور (اے پیغمبر) نیکوکاروں کو خوشخبری سنا دو۔ 38. خدا تو مومنوں سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا رہتا ہے۔ بےشک خدا کسی خیانت کرنے والے اور کفران نعمت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔

تفسیر آیات

36۔ ذبح کرتے وقت بِسْمِ اللہِ اَللہُ آکْبَر کہنے کا طریقہ بھی اسی مقام سے ماخوذ ہے۔ آیت 36 میں فرمایا فَاذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَیْھَا، " ان پر اللہ کا نام لو "۔ اور آیت 37 میں فرمایا لِتَکَبِّرُوا اللہ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ ، " تاکہ اللہ کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اس کی تکبیر کرو "۔ قربانی کرتے وقت اللہ کا نام لینے کی مختلف صورتیں احادیث میں منقول ہیں۔ مثلاً 1۔ بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اکْبَر، اَللہُمَّ مِنْکَ وَلَکَ ، " اللہ کے نام کے ساتھ، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ خدایا تیرا ہی مال ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے "۔ 2۔ اللہ اکبر لا الٰہ الا اللہ اللہمّ منک ولک، " اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ خدایا تیرا ہی مال ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے "۔ 3۔ اِنِّی وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفاً وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ہ اِنَّ صَلوٰتِیْ وَ نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ للہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ہ لَا شَرِیْکَ لَہ وَ بِذٰلِکَ اَمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ ، " میں نے یکسو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بیشک میری نماز اور قربانی اور میرا مرنا اور جینا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سر اطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں۔ خدایا تیرا ہی مال ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے "۔ ۔۔۔۔ ٹکنے کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ وہ زمین پر گر جائیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ گر کر ٹھہر جائیں، یعنی تڑپنا بند کردیں اور جان پوری طرح نکل جائے۔ (تفہیم القرآن)

ــــ اونٹوں کی قربانی کا الگ ذکر اس وجہ سے کیا گیا کہ اونٹ اہل عرب کے محبوب چوپایوں میں سے تھا،اس میں ان کے لئے بڑی برکتیں اور فوائد تھے۔اللہ تعالیٰ کو قربانی اسی جانور کی پسند ہے جو عزیز و محبوب ہو۔ اس ذکر کا دوسرا سبب یہود کے پھیلائے ہوئے اس وہم کو دور کرنا تھاکہ اونٹ کو حضرت ابراہیمؑ نے حرام قراردیا تھا۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحی)

38۔ یہاں سے تقریر کا رخ ایک دوسرے مضمون کی طرف پھرتا ہے۔ سلسلہ کلام کو سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن میں تازہ کر لیجیے کہ یہ تقریر اس وقت کی ہے جب ہجرت کے بعد پہلی مرتبہ حج کا موسم آیا تھا۔ اس وقت ایک طرف تو مہاجرین اور انصار مدینہ، دونوں کو یہ بات سخت شاق گزر رہی تھی کہ وہ حج کی نعمت سے محروم کردیے گئے ہیں اور ان پر زیارت حرم کا راستہ زبردستی بند کردیا گیا ہے۔ اور دوسری طرف مسلمانوں کے دلوں پر نہ صرف اس ظلم کے داغ تازہ تھے جو مکہ میں ان پر کیے گئے تھے، بلکہ اس بات پر بھی وہ سخت رنجیدہ تھے کہ گھر بار چھوڑ کر جب وہ مکہ سے نکل گئے تو اب مدینے میں بھی ان کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر جو تقریر فرمائی گئی اس کے پہلے حصے میں کعبے کی تعمیر، اور حج کے ادارے اور قربانی کے طریقے پر مفصل گفتگو کر کے بتایا گیا کہ ان سب چیزوں کا اصل مقصد کیا تھا اور جاہلیت نے ان کو بگاڑ کر کیا سے کیا کردیا ہے۔ اس طرح مسلمانوں میں یہ جذبہ پیدا کردیا گیا کہ انتقام کی نیت سے نہیں بلکہ اصلاح کی نیت سے اس صورت حال کو بدلنے کے لیے اٹھیں۔ نیز اس کے ساتھ مدینے میں قربانی کا طریقہ جاری کر کے مسلمانوں کو یہ موقع بھی فراہم کردیا گیا کہ حج کے زمانے میں اپنے اپنے گھروں پر ہی قربانی کر کے اس سعادت میں حصہ لے سکیں جس سے دشمنوں نے ان کو محروم کرنے کی کوشش کی ہے، اور حج سے الگ ایک مستقل سنت کی حیثیت سے قربانی جاری کردی تاکہ جو حج کا موقع نہ ْپائے وہ بھی اللہ کی نعمت کے شکر اور اس کی تکبیر کا حق ادا کرسکے۔ اس کے بعد اب دوسرے حصے میں مسلمانوں کو اس ظلم کے خلاف تلوار اٹھانے کی اجازت دی جارہی ہے جو ان پر کیا گیا تھا اور کیا جا رہا تھا۔۔۔۔ مدافعت دفع سے ہے جس کے اصل معنی کسی چیز کو ہٹانے اور دور کرنے کے ہیں۔ مگر جب دفع کرنے کے بجائے مدافعت کرنا بولیں گے تو اس میں دو مفہوم اور شامل ہوجائیں گے۔ ایک یہ کہ کوئی دشمن طاقت ہے جو حملہ آور ہو رہی ہے اور مدافعت کرنے والا اس کا مقابلہ کر رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ مقابلہ بس ایک دفعہ ہی ہو کر نہیں رہ گیا بلکہ جب بھی وہ حملہ کرتا ہے یہ اس کو دفع کرتا ہے۔ ان دو مفہومات کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو اہل ایمان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے مدافعت کرنے کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ کفر اور ایمان کی کشمکش میں اہل ایمان یکہ و تنہا نہیں ہوتے بلکہ اللہ خود ان کے ساتھ ایک فریق ہوتا ہے۔ وہ ان کی تائید اور حمایت فرماتا ہے، ان کے خلاف دشمنوں کی چالوں کا توڑ کرتا ہے اور موذیوں کے ضرر کو ان سے دفع کرتا رہتا ہے۔ پس یہ آیت حقیقت میں اہل حق کے لیے ایک بہت بڑی بشارت ہے جس سے بڑھ کر ان کا دل مضبوط کرنے والی کوئی دوسری چیز نہیں ہو سکتی۔  (تفہیم القرآن)


چھٹا رکوع

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ  ﴿39﴾ اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ ﴿40﴾ اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ ﴿41﴾ وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ  ﴿42﴾ وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ  ﴿43﴾ وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ ﴿44﴾ فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ ﴿45﴾ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ﴿46﴾ وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ﴿47﴾ وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠   ۧ ۧ ﴿48ع الحج 22﴾
39. جن مسلمانوں سے (خواہ مخواہ) لڑائی کی جاتی ہے ان کو اجازت ہے (کہ وہ بھی لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم ہو رہا ہے۔ اور خدا (ان کی مدد کرے گا وہ) یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے۔ 40. یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے۔ اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بےشک خدا توانا اور غالب ہے۔ 41. یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوٰة ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ 42. اور اگر یہ لوگ تم کو جھٹلاتے ہیں ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد وثمود بھی (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکے ہیں۔ 43. اور قوم ابراہیم اور قوم لوط بھی۔ 44. اور مدین کے رہنے والے بھی۔ اور موسیٰ بھی تو جھٹلائے جاچکے ہیں لیکن میں کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر ان کو پکڑ لیا۔ تو (دیکھ لو) کہ میرا عذاب کیسا (سخت) تھا۔ 45. اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہم نے ان کو تباہ کر ڈالا کہ وہ نافرمان تھیں۔ سو وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں۔ اور (بہت سے) کنوئیں بےکار اور (بہت سے) محل ویران پڑے ہیں۔ 46. کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ ان کے دل (ایسے) ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے۔ اور کان (ایسے) ہوتے کہ ان سے سن سکتے۔ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں (وہ) اندھے ہوتے ہیں۔ 47. اور (یہ لوگ) تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور خدا اپنا وعدہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا۔ اور بےشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے۔ 48. اور بہت سی بستیاں ہیں کہ میں ان کو مہلت دیتا رہا اور وہ نافرمان تھیں۔ پھر میں نے ان کو پکڑ لیا۔ اور میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔

تفسیر آیات

39۔  حضرت  عبداللہ  بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ  سے روایت  ہے  کہ یہ پہلی  آیت  ہے   جو   قتال  کفار  کے معاملے   میں نازل  ہوئی  جبکہ  اس سے  پہلے  ستر سے زیادہ   آیات  میں قتال  کو ممنوع  قرار دیا گیا  (  ترمذی ،  نسائی ،  ابن ماجہ  ،   ابن حبان اور  حاکم – ترمذی نے   حسن فرمایا )(معارف القرآن)

ــــ   یہ قتال  فی سبیل  اللہ کے بارے  میں  اولین  آیت  ہے جو  نازل  ہوئی  ۔ اس  آیت  میں  صرف اجازت  دی گئی  تھی  بعد میں سورۃ  بقرہ  کی وہ   آیات    نازل  ہوئیں  جن میں  جنگ  کا حکم دیا  گیا  ( 190 ، 191 ، 193 ، 216 ، 244 )  ۔ اجازت   اور حکم  میں صرف  چند   مہینوں  کا  فصل  ہے ۔ اجازت    سن 1 ھ  میں  نازل  ہوئی  اور حکم  غزوہ  بدر  سے  کچھ  پہلے  رجب  یا شعبان سن 2  ھ  میں  ۔(تفہیم  القرآن)

ــــ  آپ کو صادق  و امین  کہنے  والے  آپ کو شاعر  ، مجنون  اور مفتری  کہنے لگے- حضرت بلال ،  حضرت یاسر  ،حضرت   سمیہ  اور ان کے  بیٹے  عمار بن یاسر  پر بے انتہا ظلم ڈھائے گئے- اسی طرح حضرت  عثمان اور  حضرت  ابوبکر  صدیق رضی اللہ تعالی عنھم   پر بھی اپنے ہی عزیزوں نے طرح طرح کے ظلم و ستم کیے۔ تیرہ  چودہ  سال یہ ظلم  جاری رہا مگر  مظلوموں  کو ہاتھ  اٹھانے  کی اجازت  نہیں تھی  ۔ یثرب  بھی  چلے  گئے  تو دس بیس  کے  جتھے  آتے  اور انکے   مویشی  ہانک  لے جاتے  ۔ اکا  دکا  مسلمان  کو قتل  بھی کردیتے  ۔ اتنے سال مظالم  برداشت  کرنیوالو ں کو  اجازت  دی جا رہی ہے کہ  تعداد  میں کم  اور اسباب   و  وسائل نہ ہونے  کے باوجود  اللہ کی نصرت  کا وعدہ  ہی سب سے  بڑا  سہارا ہے ۔

کافر ہے تو  شمشیر  پہ  کرتا ہے  بھروسہ                                                                   مومن ہے  تو  بے  تیغ  بھی  لڑتا ہے  سپاہی

ــــ حج کے  دو رکوعوں  کے بعد  قتال کی اجازت  - حضور ؐ  کی  زندگی  میںTurning point ۔۔۔۔ محض  وعظ  و تبلیغ  سے  کام نہیں   چلے گا  -  " و لینصر نّ " بہت  زیادہ  تاکید  کا انداز ۔(بیان القرآن)

ــ جہاد کی اجازت کی پہلی آیت:  ۔ ۔۔۔۔۔یہ اجازت سنہ1 ہجری کے آخرمیں ملی تھی۔بعد میں بہت سی ایسی آیات نازل ہوئیں جن میں صرف مدافعانہ جنگ کی اجازت ہی نہیں بلکہ ہر اس قوت سے بھڑ جانے اور جہاد کرنے کا حکم دیا  گیا جو اللہ کے دین کے راستہ میں مزاحم ہورہی ہو۔(تیسیر القرآن)

ــــ یہ آیت احکام قتال و جہاد میں اولین آیت ہے ،اور مکی اسلام کے آخری زمانہ میں ہجرت نبویؐ سے کچھ قبل ہی نازل ہوئی۔۔۔۔بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا۔کی علت ہونے سے کوئی یہ شبہ نہ کرے کہ جو کفار ظالم نہ ہوں مگر اسلام کے زیر فرمان بھی نہ ہوں،وہ محل قتال نہیں ہیں۔اصل یہ ہے کہ اس علت میں انحصار کی کوئی دلیل نہیں۔بلکہ یکون الدین کلہ للہ کو غایت قراردینے سے دوسری علت یہ بھی معلوم ہوئی۔(تھانویؒ)(تفسیر ماجدی)

40۔ظلم کے چند  واقعات  - (1 )  صہیب رومی رضی اللہ تعالی عنہ  (ہجرت کے وقت کفار نے ان سے کہا کہ تم خالی ہاتھ   آئے تھے ، خالی  ہاتھ جا سکتے  ہو ۔ ان کے پاس تن کے کپڑوں  کے سوا  کچھ باقی  نہ رھا )   (2 )  حضرت ام سلمہ  اور ابو سلمہ  اپنے  دودھ  پیتے  بچے  کے ساتھ  نکلے  ۔ تقریبا  ایک سال  ام سلمہ  رضی اللہ تعالی عنہ   شوہر اور بچے  کے  بغیر رہیں۔  آخر  تن تنہا  اونٹ  پر روانہ ہوئیں  ۔(3 )  عیاش بن ربیعہ  ابو جہل  کے ماں جائے بھائی تھے  - ہجرت کے بعد ان کو پیغام گیا کہ اماں جان  نے قسم  کھائی  ہے  کہ جبتک عیاش   کا منہ  نہ دیکھوں ، نہ   دھوپ  سے سائے  میں آؤں گی  ، نہ  سر میں  کنگھی کروں گی۔جب مدینہ سے رخصت ہوئے تو رسیوں  میں  جکڑ ے  ہوئے  مکہ  لائے گئے   اور لمبا عرصہ  قید  میں رہے  ۔۔۔۔۔ــــ جو لوگ  خدا  کی توحید  کی طرف  بلانے  میں، دین حق  قائم  کرنے  اور  شر کی  جگہ  خیر  کیلئے  کوشش  کرتے  ہیں وہ دراصل اللہ کے مددگار ہیں، کیوں کہ یہ اللہ کا کام ہے جسے انجام دینے میں وہ اس کا ساتھ دیتے ہیں،  کیونکہ  اللہ  یہ  کام کرنا چاہتا  ہے ۔ (تفہیم القرآن)

ــــ معرکہ حق و باطل میں اللہ  اہلِ حق کی مدد کیوں کرتے ہیں؟  ۔۔۔۔۔ اس آیت میں صومعہ کا لفظ راہب قسم کے لوگوں کے عبادت خانوں کیلئے بیع(واحد بیعۃ)عیسائیوں کی عبادت گاہ یا گرجاکیلئے صلوٰت یہودیوں کی عبادت گاہوں کیلئےاور مساجد مسلمانوں کی عبادت گاہوں کیلئے استعمال ہواہے۔(تیسیر القرآن)

ــــ ذکر مسلمانانِ مکہ کا ہے۔ان سے مشرکوں کو کوئی یہ شکایت تھوڑے ہی تھی کہ یہ لوگ شورش پسند ہیں،یا چوریاں کرتے ہیں، یا ڈاکے ڈالتے ہیں۔الزام تھا تو صرف یہی کہ یہ ہمارے آبائی دھرم اور باپ دادا کے وقت کے دیویوں دیوتاؤں کو چھوڑ کر صرف ایک خداکے ہورہے ہیں! بس اسی قصور پر بیچاروں کو وطن چھوڑنا پڑا۔ اور ہجرت پہلے حبشہ کی جانب اور پھر مدینہ کو کرنی پڑی ۔خوب خیال رہے کہ پرانی عبادت گاہوں کے سلسلہ میں بھی ذکر مندروں ،شوالوں ،ٹھاکردواروں کا نہیں، بلکہ صرف ان ہی مذاہب کا آنے پایا ہے،جو بعد کو عملاً جیسے بھی کچھ ہوگئے ہیں، لیکن اصلاً بہرحال توحید ی مذہب ہی تھے۔ اس نکتہ کی طرف اشارہ ازہری لغوی کے حوالہ سے صاحب لسان العرب کے ہاں ملتا ہے عنوان بیع کے تحت۔۔۔(تفسیر ماجدی)

41۔ یہ مسلمانوں کے اقتدار کی پہلی بشارت ہے جس کا آغاز سرزمین حرم سے ہوا۔اقتدار حاصل ہونے کے بعد مسلمان جن مقاصد کو بروئے کار لائیں گے۔یہ وہی ہیں جن کے لئے حرم کو مرکز قراردیاگیااور جو قریش نے برباد کردیے تھے۔بعینہٖ یہی فرائض مسلمانوں پر ہر اس سرزمین کے لئے عائد ہوتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ ان کو اقتدار بخشے ۔(ترجمہ ،مولانا امین احسن اصلاحی)

۔ یعنی اللہ کے مددگار اور اس کی تائید و نصرت کے مستحق لوگوں کی صفات یہ ہیں کہ اگر دنیا میں انہیں حکومت و فرمانروائی بخشی جائے تو ان کا ذاتی کردار فسق و فجور اور کبر و غرور کے بجائے اقامت صلوٰۃ ہو، ان کی دولت عیاشیوں اور نفس پرستیوں کے بجائے ایتائے زکوٰۃ میں صرف ہو، ان کی حکومت نیکی کو دبانے کے بجائے اسے فروغ دینے کی خدمت انجام دے اور ان کی طاقت بدیوں کو پھیلانے کے بجائے ان کے دبانے میں استعمال ہو۔ اس ایک فقرے میں اسلامی حکومت کے نصب العین اور اس کے کارکنوں اور کار فرماؤں کی خصوصیات کا جوہر نکال کر رکھ دیا گیا ہے۔ کوئی سمجھنا چاہے تو اسی ایک فقرے سے سمجھ سکتا ہے کہ اسلامی حکومت فی الواقع کس چیز کا نام ہے۔ (تفہیم القرآن)

44۔نکیر کا لغوی مفہوم:۔ اس آیت میں عذاب کیلئے نکیر کا لفظ استعمال ہواہے اس کے مادہ نکر میں ناگواری کا مفہوم بھی پایا جاتاہے اور اجنبیت کا بھی لہذااس کی ضد عرف بھی آتی ہے اور عجب بھی اورنکیر کا لفظ کسی ناگوار بات کے معنوں میں بھی آتاہے اور کسی نا گوار بات پر گرفت کے معنوں میں بھی۔پھر نکر کے معنی  کسی چیز کی شکل و صورت کو اس طرح بدلنا ہے کہ اس کا حلیہ بگڑ جائے۔لہذا نکیر کے معنی ایسی گرفت یا عذاب ہوگا جو اس عذاب میں ماخوذ لوگوں کا حلیہ بگاڑ کےرکھ دے۔(تیسیر القرآن)

47۔ عالم ناسوت کے ہزار سال کا عنداللہ ایک دن کے برابر ہونے کا محاورہ قدیم صحیفوں میں بھی آیا ہے:۔"ہزاربرس تیرے آگے ایسے ہیں جیسے کل کا دن جو گزرگیا"(زبور۔9: 4)۔۔۔۔اورانجیل میں ہے:۔"اے عزیزو یہ خاص بات تم پر پوشیدہ نہ رہے کہ خداوند کے نزدیک ایک دن ہزار برس کے برابر ہے، اور ہزار برس ایک دن کے برابر"(2 پطرس۔3- 8)۔۔۔۔(تفسیر ماجدی)


ساتواں رکوع

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ  ﴿49﴾ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ ﴿50﴾ وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ ﴿51﴾ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ  ﴿52﴾ لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ  ﴿53﴾ وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﴿54﴾ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ ﴿55﴾ اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ﴿56﴾ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠   ۧ ۧ ﴿57ع الحج 22﴾
49. (اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو! میں تم کو کھلم کھلا نصیحت کرنے والا ہوں۔ 50. تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کے لئے بخشش اور آبرو کی روزی ہے۔ 51. اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں (اپنے زعم باطل میں) ہمیں عاجز کرنے کے لئے سعی کی، وہ اہل دوزخ ہیں۔ 52. اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈال دیتا تھا۔ تو جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے۔ اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے۔ 53. غرض (اس سے) یہ ہے کہ جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے اس کو ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں ذریعہ آزمائش ٹھہرائے۔ بےشک ظالم پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں۔ 54. اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل خدا کے آگے عاجزی کریں۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا ان کو سیدھے رستے کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ 55. اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت ان پر ناگہاں آجائے یا ایک نامبارک دن کا عذاب ان پر واقع ہو۔ 56. اس روز بادشاہی خدا ہی کی ہوگی اور وہ ان میں فیصلہ کردے گا۔ تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے۔ 57. اور جو کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا۔

تفسیر آیات

49۔ نذیر مبین  پر ہم دوسری جگہ بحث کرچکے ہیں۔ عربوں میں یہ طریقہ تھا کہ قبیلہ یا قافلہ جہاں ڈیرا ڈالتا وہاں کسی اونچی جگہ پر ایک نگران پہرہ دیتا اور اگر وہ کسی طرح سے کوئی خطرہ محسوس کرتا تو اپنے کپڑے اتار کر ننگا ہوجاتا اور خطرے کا اعلان کرتا جس کے بعد قبیلہ یا قافلہ کے سارے مرد تلواریں سونت کر مدافعت کے لئے تیار ہوجاتے۔ اس کو نذیر عریاں کہتے تھے۔ یہ تعبیر چونکہ ناشائستہ تھی، نبی کے لئے اس کا استعمال موزوں نہ تھا، اس وجہ سے قرآن نے اس کو نذیر مبین کی شکل میں شائستہ بنا لیا ہے لیکن اس میں تلمیح  نذیر عریاں ہی کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک نذیر عریاں قوم کو خطرے سے اگٓاہ کرتا ہے تم ایک نذیر مبین بن کر لوگوں کو آنے والے وقت سے آگاہ کر دو۔ لیکن بس آگاہ کر دو۔ نہ اس خطرے کو دکھا دینا تمہاری ذمہ داری ہے نہ اس سے لوگوں کو بچانا تمہاری ذمہ داری ہے۔ اگر لوگ تمہارے اس واضح انداز کے بعد بھی متنبہ نہ ہوں گے تو نتائج کی ذمہ داری خود ان پر ہے۔ یہ مضمون انما کے اندر جو حصر کا مفہوم ہے اس سے نکلتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

52۔ تَمَنّٰى کے معنی تمنا یا آرزو کرنا بھی لغوی لحاظ سے درست ہیں اور تلاوت کرنا بھی۔ترجمہ میں پہلے معنی کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نبی یا رسول جب کوئی آرزو کرتاہے (اور نبی یا رسول کی بڑی سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ لوگ اس کی دعوت کو قبول کرلیں اور اس دعوت کو فروغ اور قبول عام حاصل ہو)تو شیطان اس کی خواہش کی تکمیل میں کئی طرح سے روکاوٹیں کھڑی کردیتاہے۔۔۔۔کسی نبی یا رسول کی آرزومیں شیطانی وسوسہ؟ اور اگر تمنیٰ کا معنی تلاوت کرنا سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نبی یا رسول کوئی آیت تلاوت کرتاہے۔تو اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے سلسلہ میں شیطان لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر انہیں شکوک و شبہات میں مبتلا کردیتاہے۔۔۔۔لات و منات کی سفارش کا من گھڑت قصہ:۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ اس آیت کے شانِ نزول کے متعلق بعض تفاسیر میں ایک واقعہ مندرج ہے جو یوں ہے کہ ایک دفعہ آپؐ سورہ النجم کی تلاوت فرمارہے تھے اور یہ تلاوت مشرکین مکہ بھی پاس بیٹھے سُن رہے تھے۔جب آپ نے آیات تلاوت فرمائیں۔"اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰى وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى"تو شیطان نے آپ کی آواز میں آواز ملا کر درج ذیل الفاظ یوں پڑھے کہ معلوم ہوتاتھا کہ یہ الفاظ آپ ہی کی زبان سے ادا ہوئے ہیں۔(تلک الغرانیق العلیٰ وان شفاعتھن لترجیٰ)(یہ بلند مرتبہ دیویاں ہیں یعنی لات، عزیٰ اور منات ۔اور اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کی یقیناً توقع کی جاسکتی ہے۔)چنانچہ جب مشرکین ِ مکہ نے یہ الفاظ سنے تو ان کے کلیجے ٹھنڈے ہوگئے کہ ان کے بتوں کا بھلائی سے ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ وہ بڑے غور سے آپ کی تلاوت سننے لگے اور سورہ والنجم کے اختتام پر آپ نے اور دیگر مسلمانوں نے سجدہ کیا تو ساتھ ہی مشرکوں نے بھی سجدہ کیا۔۔۔۔۔شیطانی وساوس کا مختلف لوگوں پر مختلف اثر :۔ان روایات میں در اصل کافروں کے ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے  جو یہ ہے کہ"اللہ تعالیٰ جو بعد میں محکم اور واضح آیات نازل کرکے شکوک و شبہات کو دورکرتے ہیں وہ پہلے ہی ایسے واضح احکام کیوں نہیں بھیج دیتے جن سے  شکوک و شبہات پیدا ہی نہ ہوں"یہ اعتراض بھی دراصل کج رو اور کج فطرت کافروں کی عیاری کا غماز ہے اور اس کا جواب  سورہ  آل عمران کے ابتدا میں آیات متشابہات اور آیات محکمات (آیت نمبر7)میں بیان ہوچکاہے اور یہاں  بھی انہیں دوسرے الفاظ میں بیان کیا گیاہے۔مختصراً یہ کہ:۔شکوک  میں مبتلا صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو منافق ہوں یا ہٹ دھرم  قسم کے کافر۔2۔ ایسی آیات سے بھی ایمانداروں کے ایمان میں اضافہ ہوتاہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے اور برحق ہے۔3۔ ایسی آیات دراصل سب لوگوں کیلئے ایک آزمائش اور جانچ ہوتی ہیں۔جن سے یہ معلوم ہوسکتاہے کہ کون کس مقام پر کھڑا ہے؟آیا وہ منافقوں سے تعلق رکھتاہے یا اللہ پر ایمان لانے والوں سے؟۔(تیسیر القرآن)

۔ ہمارے نزدیک اس لفظ کے اندر قرات یا تلاوت کے معنی کے لیے کوئی ادنیٰ گنجائش بھی نہیں ہے۔ (تدبرِ قرآن)

ـــ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ۔رسول اور نبی کے درمیان جو واؤ عطف آیاہے،بعض نے اسے تفسیری قراردے کر دونوں کا مفہوم متحدقراردیاہے۔لیکن محقق قول اس بارے میں یہ ہے کہ نزول وحی،نبی و رسول دونوں میں مشترک ہوتاہے ۔باقی رسول وہ نبی ہوتاہے جو شریعت کے ساتھ بغرض تبلیغ احکام بھیجا جاتاہے۔رسول صاحبِ شریعت (واضع شرع)ہوتاہے۔اور نبی محافظ شریعت (محافظ شرع )ہوتاہے ۔رسول کے ساتھ کتاب و شریعت ہوتی ہے۔۔۔۔۔(متکبرین و مذبذبین کے قلب میں)اور اہل باطل نے اسی شیطانی حربہ سے کام لے لے کر مجادلہ و مقابلہ کیا، اپنے اپنے عہدکے رُسل اور انبیاء سے۔سو آپؐ کے معاصرمنکرین کا بھی آپؐ سے اسی القاء شیطانی سے مجادلہ و مقابلہ کرنا کوئی انوکھی مثال تاریخ انبیاء میں نہیں۔۔۔۔(جو ابات قاطعہ سے، براہین ساطعہ سے،دلائل قاہرہ سے)عارفین صوفیہ کہتے ہیں کہ شیطان کے پیدا کئے ہوئے وسوسے ،اسی سنت الٰہی کے مطابق، خود بخود مضمحل و نابودہوجاتے ہیں۔اور محققین اہل تربیت اسی لئے ان کے لئے کسی خاص مستقل تدبیر کی ضرورت نہیں سمجھتے۔(تفسیر ماجدی)

54۔مشرکین کیوں سجدہ ریز ہوئے تھے؟ یعنی ایمان والے فوراً یہ سمجھ جاتے ہیں کہ فلاں بات تو فی الواقع وحی الٰہی ہے یا ہوسکتی ہے اور فلاں بات شیطان کا وسوسہ یا دھوکا ہے۔واضح رہے کہ مندرجہ بالا واقعہ میں سے اس کا صرف آخری حصہ ہی ایسا ہےجو درست ہے اور صحیح احادیث میں مذکور ہے۔یعنی کسی موقعہ پر رسول اللہؐ نے سورہ النجم تلاوت فرمائی ۔اس کے اختتام پر آپ نے اور مسلمانوں نے سجدہ کیا تو پاس بیٹھے ہوئے مشرکوں نے بھی سجدہ کیا۔ماسوائے ایک شخص(امیہ بن خلف)کے کہ اس نے کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھائی اور اسے پیشانی سے لگاکر کہنے لگا کہ بس مجھے اتناہی کافی ہے (بخاری۔کتاب التفسیر۔تفسیر وسورہ النجم)رہی یہ بات کہ قرآن شریف میں بتوں کی تعریف مذکور ہو یا یہ الفاظ آپؐ کی زبان مبارک سے اداہوئے ہوں ،ایمان والے فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ یہ بات ناممکنات سے ہے ۔رہا مشرکوں کا مسلمانوں کے ساتھ سجدہ ریز ہوجانا تو اس کی وجہ قرآن کی اپنی تاثیر ہے جس کی بناپر وہ قرآن کو جادو اور آپ کو جادو گر کہاکرتے تھے اور مسلمانوں پر قرآن بلند آواز سے پڑھنے پر پابندی لگارکھی تھی کہ اس سے ان کی عورتیں اور بچے متاثر ہوتے ہیں حالانکہ وہ خود بھی قرآن کی تاثیر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔(تیسیر القرآن)

۔ آیت نمبر 54 پر تفہیم القرآن کا جامع تبصرہ۔ صفحہ 238 تا صفحہ 245۔ حاشیہ نمبر 101 (تفہیم القرآن)


آ ٹھواں رکوع

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ﴿58﴾ لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ ﴿59﴾ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ ﴿60﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ ﴿61﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ ﴿62﴾ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ  ﴿63﴾ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠   ۧ ۧ ﴿64ع الحج 22﴾
58. اور جن لوگوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے یا مر گئے۔ ان کو خدا اچھی روزی دے گا۔ اور بےشک خدا سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ 59. وہ ان کو ایسے مقام میں داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے۔ اور خدا تو جاننے والا (اور) بردبار ہے۔ 60. یہ (بات خدا کے ہاں ٹھہر چکی ہے) اور جو شخص (کسی کو) اتنی ہی ایذا دے جتنی ایذا اس کو دی گئی پھر اس شخص پر زیادتی کی جائے تو خدا اس کی مدد کرے گا۔ بےشک خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ 61. یہ اس لئے کہ خدا رات کو دن میں داخل کردیتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور خدا تو سننے والا دیکھنے والا ہے۔ 62. یہ اس لئے کہ خدا ہی برحق ہے اور جس چیز کو (کافر) خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور اس لئے خدا رفیع الشان اور بڑا ہے۔ 63. کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا آسمان سے مینہ برساتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔ بےشک خدا باریک بین اور خبردار ہے۔ 64. جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے۔ اور بےشک خدا بےنیاز اور قابل ستائش ہے۔

تفسیر آیات

58۔ قُتِلُوْا اَوْ مَاتُوْا۔کسی کے ہاتھ سے مارے جائیں یا اپنی طبعی موت سے مریں۔۔۔۔رزق۔کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ صرف کھانا پینا ہی مرادنہیں ہوتا،نعمتیں ،راحتیں اور آسائشیں دنیوی و اُخروی ہر قسم کی اس میں شامل ہیں۔۔۔۔(تفسیر ماجدی)

60۔ ۔۔۔رسول اللہؐ نے سیدنا معاذ بن جبل کو جب یمن کا گورنر بناکر بھیجا تو جہاں اور بہت سی نصیحتیں ارشاد فرمائیں وہاں سب سے آخر میں اور بطور خاص جو نصیحت فرمائی یہ تھی۔"واتق دعوۃ المظلوم فانہ لیس بینھاوبین اللہ حجاب"(مسلم،کتاب الایمان ۔باب الدعاء الی الشھادتین و شرائع الاسلام)یعنی مظلوم کی بددعاسے بچتے رہناکیونکہ مظلوم کی پکار اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔اسی مضمون کو شیخ سعدی ؒ نے بڑے خوبصورت انداز میں یوں بیان کیا ہے۔۔۔۔

بترس از آہِ مظلوماں کہ ہنگامِ دعاکردن                                               اجابت از درِحق بہرِ استقبال می آید

۔۔۔۔یعنی مظلوموں کی آہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اس آہ کی قبولیت خود اسکے استقبال  کے لیے آگے آتی ہے۔(تیسیر القرآن)

61۔۔۔۔۔جوہوائی جہازوں میں سفر کیا کرتے ہیں۔دن کا میل رات سے ،اور رات کا میل دن سے ہوائی جہازرانوں کیلئے ایک بہترین و دلچسپ ترین نظارہ رہاہے۔(تفسیر ماجدی)

۔لطیف کا لغوی مفہوم:۔ یہاں لطیف کا لفظ استعمال ہواہے اس کے مادہ ل ط ف میں بنیادی طورپر دوباتیں پائی جاتی ہیں(1)دقت نظر اور (2)نرمی (مقائیس اللغۃ) اور لطیف کے معنوں میں کبھی تو ایک ہی معنی پایا جاتاہے ۔جیسے اس آیت میں دقیقہ رس (یا ایک ہی معاملہ کی چھوٹی چھوٹی جزئیات تک نظر رکھنے والا)کے معنوں میں استعمال ہوتاہے۔اور کبھی یہ بیک وقت دونوں معنوں میں استعمال ہوتاہے کہ تمام مخلوق کی چھوٹی سے چھوٹی ضروریات اور تکلیفات کا علم رکھنا پھر ان کا ازالہ بھی کرنا ۔اس صورت میں لطیف کا ترجمہ مہربان کرلیا جاتاہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و تصرف کی ایک اور دلیل پیش کی گئی ہے۔یعنی پانی اور خشک مٹی کےْ اجزاء باہم ملتے ہیں تو زمین کے اجزاء پھول بن جاتے ہیں اور ان میں روئیدگی کی قوت پیدا ہوجاتی ہے ۔اب جتنے بیج اس خشک زمین میں دبےپڑے تھے یا گھاس پھونس کی جڑیں خشک ہوکر زمین میں مل گئی تھیں ان میں جان پڑجاتی ہے اور اس خشک اور مردہ بیج میں اتنی قوت پیدا ہوجاتی ہے کہ اس کی نرم و نازک کونپل زمین کی سخت سطح کو چیر پھاڑ کر زمین سے باہر نکل آتی ہے۔پھر ایک وقت ایسا آتاہے کہ جب وہ سبزہ زار بن کر لہلہانے لگتی ہے اور اس سارے عمل کے دوران اللہ تعالیٰ کا لطف یا دقت نظر ہی وہ چیز ہوتی ہے جس کی بناپر ایسے مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں۔(تیسیر القرآن)

63۔ اسی طرح یہ وحی کا باران رحمت جو آج ہو رہا ہے، عنقریب تم کو یہ منظر دکھانے والا ہے کہ یہی عرب کا بنجر ریگستان علم اور اخلاق اور تہذیب صالح کا وہ گلزار بن جائے گا جو چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ (تفہیم القرآن)


نواں رکوع

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ﴿65﴾ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ ﴿66﴾ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ ﴿67﴾ وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ﴿68﴾ اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ ﴿69﴾ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ ﴿70﴾ وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ ﴿71﴾ وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠   ۧ ۧ ﴿72ع الحج 22﴾
65. کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا نے تمہارے زیرفرمان کر رکھی ہیں اور کشتیاں (بھی) جو اسی کے حکم سے دریا میں چلتی ہیں۔ اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے کہ زمین پر (نہ) گڑ پڑے مگر اس کے حکم سے۔ بےشک خدا لوگوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔ 66. اور وہی تو ہے جس نے تم کو حیات بخشی۔ پھر تم کو مارتا ہے۔ پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا۔ اور انسان تو بڑا ناشکر ہے۔ 67. ہم نے ہر ایک اُمت کے لئے ایک شریعت مقرر کردی ہے جس پر وہ چلتے ہیں تو یہ لوگ تم سے اس امر میں جھگڑا نہ کریں اور تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہو۔ بےشک تم سیدھے رستے پر ہو۔ 68. اور اگر یہ تم سے جھگڑا کریں تو کہہ دو کہ جو عمل تم کرتے ہو خدا ان سے خوب واقف ہے۔ 69. جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو خدا تم میں قیامت کے روز ان کا فیصلہ کردے گا۔ 70. کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے خدا اس کو جانتا ہے۔ یہ (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے۔ بےشک یہ سب خدا کو آسان ہے۔ 71. اور (یہ لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی اس نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی اور نہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے۔ اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا۔ 72. اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں میں صاف طور پر ناخوشی (کے آثار) دیکھتے ہو۔ قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں۔ کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

تفسیر آیات

66۔ هُوَ۔۔۔۔ یُحْیِیْكُمْ۔یہاں اس عقیدہ کا اثبات ہے کہ پیدا کرنے ،مارنے، اور پھر جلا اٹھنے کی ساری قوتیں ایک ہی معبود یکتا کی ذات بے ہمتامیں جمع ہیں۔اور سارے تصرفات کی مرکز اسی کی ذات ہے۔اور اس میں ہندی مشرکوں کے اس عقیدہ کا رد آگیا کہ پیدا کرنے والا کوئی اور ہے،اور باقی رکھنے والا کوئی اور،اور ہلاک کرنے والا اس کے بھی علاوہ کوئی اور۔(تفسیر ماجدی)

67۔منسک کا معنی اور منسک اور منہاج کا فرق:۔منسک کا لفظ اگرچہ حج کے شعائر و احکام اور ادائیگی سے مختص ہوگیا ہے اور مناسکِ حج سے مراد اعمال اور ارکانِ حج اداکرنے کے مقامات ،قاعدے اور طریقے ہیں اور نسک اس قربانی کو کہتے ہیں جو حج کے دوران کی جاتی ہے ۔تاہم اس لفظ کے معانی میں یہ وسعت ہے کہ اس کا اطلاق تمام عبادات کے طریق کار پر ہوتاہےاور یہ لفظ منہاج سے اخص ہے۔منہاج کے معنی میں تمام شرعی احکام کی ادائیگی کا طریق کار شامل ہے اور یہ طریق کار بھی اللہ ہی کی طرف سے بتایا جاتاہے اور منسک کا اطلاق صرف عبادات کے طریق کار پر ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)


دسواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ ﴿73﴾ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ ﴿74﴾ اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ  ﴿75﴾ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ﴿76﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩  ۞ ﴿77﴾ وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠   ۧ ۧ ﴿78ع الحج 22﴾
73. لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے غور سے سنو۔ کہ جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں۔ اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب (یعنی عابد اور معبود دونوں) گئے گزرے ہیں۔ 74. ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی کرنی چاہیئے تھی نہیں کی۔ کچھ شک نہیں کہ خدا زبردست اور غالب ہے۔ 75. خدا فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرلیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ بےشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔ 76. جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے وہ اس سے واقف ہے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے۔ 77. مومنو! رکوع کرتے اور سجدے کرتے اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ۔ 78. اور خدا (کی راہ) میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور تم پر دین کی (کسی بات) میں تنگی نہیں کی۔ (اور تمہارے لئے) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (پسند کیا) اُسی نے پہلے (یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی (وہی نام رکھا ہے تو جہاد کرو) تاکہ پیغمبر تمہارے بارے میں شاہد ہوں اور تم لوگوں کے مقابلے میں شاہد۔ اور نماز پڑھو اور زکوٰة دو اور خدا کے دین کی (رسی کو) پکڑے رہو۔ وہی تمہارا دوست ہے۔ اور خوب دوست اور خوب مددگار ہے۔

تفسیر آیات

 73۔ ر - 10  آیت  :  73   جامع ترین آیت   -  پہلا  حصہ  رکوع  ، عمومی   ( ایمان  و عمل  صالح )   دوسرا حصہ   ، خصوصی    ( برائے،   جو اپنے   آپکو  مومن و مسلم  سمجھتے  ہیں)

74۔ کائنات  کی وسعت اور اس پر کنٹرول  سے اللہ کی ہستی اور قدرت پر دلیل:۔ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر کبھی غور ہی نہیں کیا ۔جو اس پوری کائنات کو اور خود ان کو بھی عدم سے وجود میں لائے ہیں۔اور انہیں زندگی بخشی ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کے کسی  بھی کارنامے پر غور کرتے تو کبھی اس کے اختیار و تصرف میں کمزور اور بے بس قسم کی مخلوق کو شریک بنانے کی حماقت نہ کرتے۔مثلاً کائنات کی وسعت کا یہ حال ہے کہ موجودہ تحقیقات کی رو سے سورج کے گرد نوسیارے گردش کررہے ہیں جن میں تیسرے نمبر پر ہماری زمین ہے اور اس کا سورج سے فاصلہ 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔آخری نواں سیارہ پلوٹو ہے جس کا سورج سے 3 ارب 68 کروڑ میل فاصلہ ہے جسامت کے لحاظ سے بھی ہماری زمین دوسرے سیاروں کی نسبت بالکل حقیر ہے۔ ہمارے پاس اس نظامِ شمسی میں سورج ایک ستارہ یا ثابت ہے ۔کائنات میں ایسے ہزاروں ستارے یا ثابت مشاہدہ کئے جاچکے  ہیں اور یہ ستارے یا سورج جسامت کے لحاظ سے ہمارے سورج سے بہت بڑے ہیں ۔ہمارے نظام شمسی سے بہت دور تقریباً 4 کھرب کلومیٹر کے فاصلے پر ایک سورج  موجود ہے جو ہمیں محض روشنی کا ایک چھوٹاسا نقطہ معلوم ہوتاہے اس کا نام الفاقنطورس(Alfa Centauris)ہے۔ایسے ہی  دوسرے سورج اس سے بھی دور ہیں اور خلامیں ہرطرف ایک دوسرے سے الگ الگ بکھرے پڑے ہیں ۔رات کے وقت وہ آسمان پر روشنی کے ننھے منے نقطوں کی شکل میں نظر آتے ہیں۔یہ سب ستارے دراصل بہت بڑے اجسام ہیں اور ہمارے سورج کی طرح یہ بھی خود روشن ہیں۔جسامت کے لحاظ سے سیاروں اور ستاروں کو چار قسموں میں تقسیم کیا گیاہے۔پہلی قسم کو سفید بونے کہا جاتاہے ان کی اوسط جسامت مشتری کے برابر سمجھی گئی ہے اور مشتری کی جسامت نظام شمسی کے باقی آٹھ سیاروں (جن میں ہماری زمین بھی شامل ہے )کے برابرہے۔ہمارا سورج دوسری قسم میں آتاہے اور اس کی جسامت ہماری زمین سے 3 لاکھ 37 ہزار گنازیادہ ہے گویا ہمارا اتنا بڑا سورج بھی بڑے ستاروں میں شامل نہیں ہے۔تیسری قسم کے ستاروں کو دیو(Giants)اور چوتھی قسم کے ستاروں کو شاہ دیو(Super Giants) کہا جاتاہے۔ایسے ستاروں کے مقابلہ میں ہمارا سورج ایسے ہی ہے جیسے سورج کے مقابلہ میں ہماری زمین ہے۔ ایسے ہی ایک ستارے کا نام قلب عقرب(Antares)ہے۔اگر اسے اٹھاکرنظامِ شمسی میں رکھا جائے تو سورج سے لیکر مریخ تک تمام علاقہ اس میں پوری طرح سماجائے گا۔جبکہ مریخ کا سورج سے فاصلہ 14 کروڑ 15 لاکھ میل ہے۔گویا قلب عقرب کا قطر 28 کروڑ 30 لاکھ میل کے لگ بھگ ہے۔ مزید برآں کائنات میں لاتعداد مجمع النجوم اور کہکشائیں ہیئت دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال کر ان کے علم کو ہر آن چیلنج کررہی ہیں پھر اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جوں جوں ہیئت دان مزید طاقتور اور جدید قسم کی دوربینیں استعمال کررہے ہیں ،توں توں اس بات کا بھی انکشاف ہورہاہے کہ کائنات میں مزید وسعت پیدا ہورہی ہے۔سیاروں کے درمیانی فاصلے بھی بڑھ رہے ہیں اور نئے نئے اجرام بھی مشاہدہ  میں آرہے ہیں۔اب اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہماری زمین سورج کے گرد چھیاسٹھ ہزار چھ سومیل فی گھنٹہ کی برق رفتاری سے گردش کررہی ہے۔اسی طرح کائنات میں تمام سیارے کم و بیش اسی برق رفتاری سے محو گردش ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی طرح جکڑا ہواہے ۔کہ نہ وہ آپس میں ٹکراتے ہیں نہ ان کی چال میں فرق آتاہے اور نہ ہی اپنے مدار سے ایک انچ بھی ادھر ادھر ہوسکتے ہیں۔اورجوں جوں انسان اللہ تعالیٰ کی ان قدرتوں میں غور کرتاہے تو اس کی عظمت و جلال کا سکہ اس کے دل پر نقش ہوتاجاتاہے۔اب ایک طرف تو اس قدر عظمت و جلال اور قوت و قدرت والی اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے اور دوسری طرف اس کے ساتھ ایسے معبودوں اور حاجت رواؤں کوشریک کیا جارہاہے جو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے بلکہ ایسے بے بس ہیں کہ اگر مکھی ان سےکوئی چیز چھین لے جائے تو اسے مکھی سے چھڑانے کی قدرت بھی نہیں رکھتے۔غور فرمائیے کیا ان دونوں کی قدرت میں کوئی  نسبت قائم کی جاسکتی ہے؟ اور حقیقت یہ ہے کہ جو دوسروں کو اللہ کے شریک بناتے ہیں تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ انہوں نے کسی بھی معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر کوئی غور نہیں کیا۔نہ ہی اللہ تعالیٰ کی قدرت کو پہنچاننے کی کبھی کوشش کی ہے ورنہ وہ کبھی ایسی حماقت نہ کرتے۔(تیسیر القرآن) 

77۔  " شاید کہ تم کو فلاح نصیب ہو۔ " یہ فقرہ ارشاد فرمانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس طرح فلاح نصیب ہونا مشکوک ہے۔ بلکہ دراصل یہ شاہانہ انداز بیان ہے۔ بادشاہ اگر اپنے کسی ملازم سے یہ کہے کہ فلاں کام کرو، شاید کہ تمہیں فلاں منصب مل جائے، تو ملازم کے گھر شادیانے بج جاتے ہیں کیونکہ یہ اشارۃً ایک وعدہ ہے اور ایک مہربان آقا سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ کسی خدمت پر ایک صلے کی امید وہ خود دلائے اور پھر اپنے وفادار خادم کو مایوس کرے۔ امام شافعی، امام احمد، عبداللہ بن مبارک اور اسحاق بن راھَوَیہ کے نزدیک سورة حج کی یہ آیت بھی آیت سجدہ ہے۔ مگر امام ابو حنیفہ، امام مالک، حسن بصری، سعید بن المسیب، سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی اور سفیان ثوری اس جگہ سجدہ تلاوت کے قائل نہیں ہیں۔ دونوں طرف کے دلائل ہم مختصراً یہاں نقل کردیتے ہیں۔ پہلے گروہ کا اولین استدلال ظاہر آیت سے ہے کہ اس میں سجدے کا حکم ہے۔ دوسری دلیل عقبہ بن عامر کی وہ روایت ہے جسے احمد، ابو داؤد، ترمذی، ابن مردویہ اور بیہقی نے نقل کیا ہے کہ "قلت یا رسول اللہ افضلت سورة الحج علیٰ سائر القراٰن بسجدتین ؟ قال نعم فمن لم یسجدھما فلا یقرأھما " میں نے عرض کیا یا رسول اللہ، کیا سورة حج کو سارے قرآن پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں، پس جو ان پر سجدہ نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے "۔ تیسری دلیل ابو داؤد اور ابن ماجہ کی وہ روایت ہے جس میں عمر، علی، عثمان، ابن عمر، ابن عباس، ابو الدرداء، ابو موسیٰ اشعری اور عمار بن یاسر ؓ سے یہ بات منقول ہے کہ سورة حج میں دو سجدے ہیں۔ دوسرے گروہ کا استدلال یہ ہے کہ آیت میں محض سجدے کا حکم نہیں ہے بلکہ رکوع اور سجدے کا ایک ساتھ ہے اور قرآن میں رکوع و سجود ملا کر جب بولا جاتا ہے تو اس سے مراد نماز ہی ہوتی ہے۔ نیز رکوع و سجود کا اجتماع نماز ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ عقبہ بن عامر کی روایت کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ اس کو ابن لہیعہ ابو المصعب بصری سے روایت کرتا ہے اور یہ دونوں ضعیف راوی ہیں۔ خاص کر ابو المصعب تو وہ شخص ہے جو حجاج بن یوسف کے ساتھ کعبے پر منجنیق سے پتھر برسانے والوں میں شامل تھا۔ عمرو بن عاص والی روایت کو بھی وہ پایہ اعتبار سے ساقط قرار دیتے ہیں کیونکہ اس کو سعید العتقی عبداللہ بن منین الکلابی سے روایت کرتا ہے اور دونوں مجہول ہیں، کچھ پتہ نہیں کہ کون تھے اور کس پایہ کے آدمی تھے۔ اقوال صحابہ کے سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے سورة حج میں دو سجدے ہونے کا یہ مطلب صاف بتایا ہے کہ الاولیٰ عزمۃ و الاخرۃ تعلیم، یعنی پہلا سجدہ لازمی ہے، اور دوسرا سجدہ تعلیمی۔ (تفہیم القرآن)

78۔ ۔۔یہ آیت منجملہ ان آیات کے ہے جو صحابہ کرام کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں اور ان لوگوں کی غلطی ثابت کرتی ہیں جو صحابہ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس آیت کے براہ راست مخاطب صحابہ ہی ہیں۔ دوسرے لوگوں کو اس کا خطاب بالتبع پہنچتا ہے۔۔۔۔مدعا یہ ہے کہ اس ملت حق کے ماننے والے پہلے بھی " نوحی "، " ابراہیمی "، " موسوی "، " مسیحی " وغیرہ نہیں کہلاتے تھے بلکہ انکا نام " مسلم " (اللہ کے تابع فرمان) تھا، اور آج بھی وہ " محمدی " نہیں بلکہ " مسلم " ہیں۔ اس بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں کے لیے یہ سوال معما بن گیا کہ محمد ﷺ کے پیروؤں کا نام قرآن سے پہلے کس کتاب میں مسلم رکھا گیا تھا۔  (تفہیم القرآن)

73تا78۔  ( منتخب  نصاب  امت  وسط  اور   خیر امت کے ساتھ )طالب و مطلوب۔۔۔۔مقصود ومطلوب(Ideal)   اعلیٰ  تو عمل بھی  اعلیٰ  اور انجام  بھی  اعلیٰ  -  اگر  مطلوب  صرف  اللہ  ( لا مطلوب  الا اللہ  ،  لا مقصود الا اللہ  )  بمقابلہ  قوم  ، نفس  ، انسان  ، بت  ، دولت  ، حکومت تو یہ اعلی مقصود و مطلوب ہو گا  - رکوع  کے پہلے  حصہ  میں  توحید  ، رسالت  اور آخرت  اور آخری  حصہ  میں  خطاب   یا ایھاالذین  آمنو  - فعل امر  ← عمل  کرو    ، رکوع  کرو  ، سجدہ  کرو  ، عبادت  کرو  ، نیک کام کرو  ( خدمت  خلق )  - الخدمت  یعنی سب سے  بڑی  خدمت  خلق ہے، جہنم  سے  بچانا ( اور اسی لیے تبلیغ سب سے بڑی خدمت خلق)۔۔۔۔۔   یہ سب  کچھ  کروگے   تو  فلاح  پاؤ گے ۔

یہ  شہادت  گہ الفت  میں قدم  رکھنا  ہے                                                لوگ  آساں  سمجھتے  ہیں مسلماں ہونا

اس سے بھی  اگلا  قدم  ہے  جہاد  کرو  کیونکہ اللہ  نے  تمہیں  چن لیا ہے   ( اللہ کا مشن  بمقابلہ  دنیا  کی گھٹیا   جدوجہد )۔۔۔۔۔دین میں  کوئی  تنگی  نہیں  رکھی   (ناممکن  العمل   چیز نہیں )۔۔۔۔۔  شہادت  کا منصب اور اس کے تقاضے ۔۔۔۔۔ اب نماز  قائم کرو  ، زکواۃ  ادا  کرو  اور اللہ  کو مضبوطی  سے  تھام لو  - جو بہترین کارساز  اور مددگار  ہے ۔ ( ہر  مشکل  میں  تمہارے   ساتھ  ہوگا)(بیان القرآن)

ــ  فی اللہ  میں مضاف  محذوف ہے  یعنی  فی سبیل اللہ  اور حق  جھادہ   سے  مقصود  یہ تنبیہ  ہے کہ  یہ  جدو جہد  نیم  دلی  اور کمزوری  کے ساتھ  مطلوب  نہیں  بلکہ   اس کیلئے   جی جان کی بازی  لگادی  جائے   ۔(تدبر قرآن)

ــ فی اللہ۔یزداں بہ کمند آور اے ہمت ِ مردانہ (اقبال)

ــــ   "هُوَ اجْتَبٰىكُمْ"  یعنی جو  خدا  تم  سے  جہاد  کا  مطالبہ  کر رہا  ہے  وہی  ہے  جس  نے  اپنے  دین کامل  کی عظیم  امانت  کا حامل  بنانے   کیلئے   تمہارا  انتخاب  کیا ہے  ۔ خواہ  قریش  ہوں  یا  یہود  و نصاری  سب کو  معزول  و نظر انداز  کرکے  تمہارا  انتخاب  کیا ہے  تو اس  انتخاب  کی لاج  رکھو  اور قوموں  کی امانت  کے اس   عظیم  منصب   کی عظیم  ذمہ داریوں  کو پورے  عزم  و جزم  کے ساتھ  سنبھالو  ۔(تدبر قرآن) 

۔  "مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ"  یعنی  یہ تمہارے  باپ  ابراھیم  کی ملت  ہے ۔ تو باپ کی ملت  سے زیادہ   اولاد  کو اورکون سی ملت  مطلوب و  محبوب  ہو سکتی  ہے  ۔ بنی اسمعیل  کو ان کی اولاد  ہونے   پر بڑا  فخر  و ناز  تھا  ۔(تدبر قرآن)

ــــ     یعنی  تمام  نوع  انسانی  میں سے  تم لوگ  اس خدمت  کیلئے   منتخب  کرلئے   گئے  ہو یعنی   مضمون   - "جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا"  ( 2 :  143 )  اور   "كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ"(جو لوگوں کے لئے میدان میں لائی گئی) ( 3 : 110 )  - اولین  مخاطب  صحابہ  جو ان  پر زبان  طعن  دراز  کرتے  ہیں ۔(تفہیم القرآن) 

ــــ    قرآن  میں  بار بار  ملت  ابراھیم  ؑ  کی دعوت  - تین وجوہ  :(1 )   اہل  عرب  کا اپنے  آپکو  ابراھیم  و اسمعیل  کا  پیرو کہنا  اور فخر  کرنا  ۔(2 )  حضرت  ابراھیم  پر سب کا اتفاق ( عیسائی  ، یہودی  ، مسلمان  مشرکین  ، صابی )  ۔(3 )  حضرت  ابراھیم ؑ  ان سب  ملتوں  سے پہلے ۔(تفہیم القرآن)

ــــ شہادت :  حضور ؐ کی اس  دنیا   میں شہادت    ، ان کا اپنا  کردار  ( صادق  و امین  ہونا  اور لوگوں کیلئے   ہمدرد  ہونا )  آپ  کا اور صحابہ  کا دین حق  کی خاطر  ہر قسم  کے  جور وستم   برداشت  کرنا  اور پیغام  پہنچاتے  جانا ۔ یہی  کردار  کی شہادت   تمام مسلمانوں  کی اسی طرح  کی تبلیغ  - لوگ  تمہیں   دیکھ  کر  ، مل کر  اور  تم سے معاملہ  کرکے  یقین  کرلیں  کہ  جس دین  کی شہادت  تم  دے  رہے ہو  وہی  سچا دین ہے  ۔ اور  آخرت  میں  نبی   اور مسلمانوں  کی شہادت   باقی  انبیا  کی  امتیں کہ  انبیا  نے پیغام  نہیں   پہنچایا  ۔ امت   مسلمہ  کی شہادت  ۔  مجال  انکار  نہیں۔(ضیا ء القرآن)

ــ دین کے معاملہ میں سیدنا ابراہیمؑ کا خصوصی ذکر کیوں؟۔۔۔۔واضح رہے کہ دین کے بجائے ملت کا لفظ آیاہے ۔اور یہ دونوں مترادف الفاظ ہیں۔اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ دین صرف ان احکام و فرامین کا نام ہے جو کتاب و سنت یا کسی الہامی کتاب میں مذکور ہوتے ہیں۔انہی احکام و فرامین کوجب عملی شکل دے کر رائج کردیا جائے تو ایسے نظام کا نام ملت ہے۔یعنی دین کی عملی شکل جو سیدنا ابراہیمؑ نے پیش فرمائی تھی وہی اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے لہذا ہمیں انہی کی ملت کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔(تیسیر القرآن)

ــ مطلب   یہ ہے کہ دین کے کاموں میں سستی اور بے دلی کو دخل نہ دو۔بلکہ ہر کام اللہ کا کام سمجھ کر پوری مستعدی ،توجہ و استحضارِ قلب اور اخلاص نیت کے ساتھ کرتے رہو۔۔۔۔فی اللہ کو یہاں للہ کے بھی مرادف لیا گیاہے۔۔۔۔صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ یہ آیت ہرقسم کے مجاہدات پر شامل ہے۔ مثلاً مجاہدۂ نفس ، مجاہدۂ قلب، مجاہدۂ روح ۔مفسرین بھی اسی طرف گئے ہیں۔۔۔۔(دوسری امتوں اور قوموں کے مقابلہ میں۔اور تمہیں عالمگیر دعوت توحید کا حامل بنایا)اس میں یہ اشارہ بھی آگیاکہ امت اسلامیہ کو اس مرتبہ پر ممتاز کرنے کا فعل خود حق تعالیٰ کا ہے ۔کسی اور کا نہیں۔۔۔۔۔یعنی اسے دوسرے ادیان مروّج کی طرح محدود و مقید نہیں رکھا۔دنیاجن مذہبوں کو جانتی پہچانتی ہے، ان میں کثرت سے تو مذاہب شرکیہ ہی ہیں۔مثلاً ہندو مذہب، بودھ مذہب، مجوسی مذہب،موجودہ عیسائی مذہب۔اور شرک نام خود محدودیت و تنگ نظری کا ہے۔مشرک کے مطمع نظر میں جب تک کہ وہ مشرک ہے، ہمہ گیر ی و وسعت پیدا ہی نہیں ہوسکتی۔مذاہب توحید لے دے کے صرف دو ہیں۔ایک یہودیت ،دوسرے اسلام ۔یہودیت کا غیر تبلیغی ہونا، اور نسل اسرائیل تک محدود رہنا بالکل ظاہرہے۔اس کے بعد صرف اسلام ہی ایسا دین باقی رہ جاتاہے ،جس کی دعوت کسی ملک،قوم، نسل و قبیلہ کے ساتھ محدود نہیں۔ اس کا خطاب دنیا کے ہر فرد بشر سے ہے۔اس کی تعلیم چھوٹے بڑے ہر انسان کے لئے ہے۔۔۔۔پھر اس عالمگیری کے ساتھ ہمہ گیر بھی تعلیم اسلام کی ہے۔یعنی زندگی کا کوئی شعبہ چھوٹے سے چھوٹا بھی اس کے دائرے سے باہر نہیں۔۔۔۔۔(اور اُمت ِ محمدیؐ کا سرکاری اور خدائی لقب یہی مسلم ہی ہے۔) هُوَ ۔ضمیر ھوسے مراد اللہ تعالیٰ ہے، ابراہیمؑ مراد نہیں،خود سیاق کلام بھی اسی کا مقتضی ہے،اور ایک صحابی اور متعدد تابعین سے منقول بھی یہی ہے۔۔۔۔عزم و ہمت کو قائم رکھنے والی، اور کشاکش حیات میں ہر مصلحت نفس پر غالب رکھنے والی چیز یہی عقیدۂ توحید ہے۔ جس قدر یہ اعتماد علی اللہ قوی ہوگا،اسی درجہ میں انسان مراتب معرفت و قرب میں ترقی کرتاجائے گا۔اور ہر غیر الٰہی قوت کے مقابلہ میں دلیر تر ہوتاجائے گا۔۔۔۔نعم المولیٰ ونعم النصیر۔ولایت و تولیت (امور کا رسازی)اور نصرت(مدد)کا منبع و مرجع اسی کی ذاتِ واحد ہے۔۔۔۔۔حسبنا اللہ ونعم الوکیل (وکیل ،جس کے سپرد  اپنے کام کردئیے جائیں)  (تفسیر ماجدی)