23 - سورة المؤمنون (مکیہ)
| رکوع - 6 | آیات - 118 |
مضمون:اہل ایمان اپنی حق پسندی اور اعلیٰ کردار کی بدولت کامیاب و کامران ہیں۔ناکامی و نامرادی اہل باطل کا مقدر ہے جنہوں نے نہ پیغمبر کی دعوت سے کوئی فائدہ اٹھایا ،نہ اس مہلت سے جو ان کو دی گئی۔(ترجمہ ،مولانا امین احسن اصلاحی)
شان نزول : تین سورتیں ( الانبیا ، المؤمنون اور الفرقان ) زمانہ قحط یعنی 7 سن نبوی کے لگ بھگ نازل ہوئیں ، ان کے درمیان دو سورتیں یعنی الحج اور سورۃ نور مدنی ہیں ۔ اس زمانے کا ماحول حضور ؐ کی دعوت کے بارے میں شک سے آلودہ تھا اور آپ ؐ پر شاعر ، ساحر اور مفتری جیسے الزامات لگائے جا رہے تھے ۔اس سورت کے نزول کے وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ایمان لا چکے تھے ، وہ روایت کرتے ہیں کہ جس وقت یہ سورۃ نازل ہوئی وہ حضور ؐ پر نزول وحی کی کیفیت دیکھ رہے تھے ، جب حضور ؐ اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ مجھ پر اس وقت ایسی دس آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ اگر کوئی ان کے معیار پر پورا اتر جائے تو یقینا جنت میں جائے گا پھر آپ نے اس سورۃ کی ابتدائی دس آیات سنائیں ( احمد ، ترمذی ، نسائی ، حاکم ) ۔ )تفہیم القرآن(
نظم کلام : 14 + 1 ( سورۃ یونس تا سورۃ نور )
مرکزی مضمون :صحیح عقیدہ توحید اور عقیدہ آخرت پر ایمان لاکر ، محمد ؐ کی دعوت قبول کرنے والے ، باعمل مؤمنون ہی فلاح پائیں گے اور جنت کے وارث ہوں گے ۔ کافر فلاح نہیں پا سکیں گے ۔ قریشی قیادت کو ، قوموں کی ہلاکت سے عبرت حاصل کرنے کا مشورہ اور رسول اللہ ؐ کو ، مغفرت اور رحمت کی دعا مانگتے ہوئے ، دعوت و تبلیغ جاری رکھنے کی ہدایت ۔
اہم مضامین
1۔ سورۃ المؤمنون میں"فلاح"یعنی کامیابی کیلئےدو(2)شرائط کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایمان اور عملِ صالح ۔(a)ایمان لاکر جامع صفات پر مشتمل کردارسازی کی کوشش کرنے والے لوگ ہی "فلاح"پائیں گے۔"قدافلح المؤمنون"(آیت:1)،(b)اللہ کے ساتھ ساتھ "من دون اللہ"سے دعا کرنے والوں کے پاس کسی قسم کی دلیل نہیں ہے،وہ"فلاح"نہیں پاسکیں گے۔2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی"تخلیق"کے مختلف مراحل بیان کیےہیں۔پہلے نطفہ،پھر لٹکنے والا جرثومہ ،پھر لوتھڑا،پھر ہڈیاں،پھر ہڈیوں پر گوشت اور پھر وہ ایک بھرپور انسان بنادیا جاتاہے ۔اللہ تعالیٰ نہ صرف خالق ہے،بلکہ نہایت بابرکت فیض رساں"احسن الخالقین"ہے۔)قرآنی سورتوں کا نظم جلی(
سورۂ المؤمنون کا نظمِ جلی:
سورۂ المؤمنون۔آیات 1تا 11 :پہلے پیراگراف میں،مومنین کی صفات بیان کی گئی ہیں،جو جنت الفردوس کے وارث ہونگے۔"فلاح "یعنی کامیابی کیلئے سب سے پہلے ایمان اور اس کے بعد نیک اعمال لازمی ہیں۔چند نیک اعمال یہ ہیں۔(1)نماز میں خشوع ،(2)لغویات سے پرہیز،(3)زکوٰۃ اور تزکیۂ نفس پر عمل،(4)جنسی پرہیزگاری،(5)امانت کا پاس ،(6)عہد کا لحاظ،(7)نمازوں کی حفاظت۔)قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی(
سورۂ مؤمنون کا کتابی ربط:
1۔پچھلی سورۃ" الحج"میں اللہ کی طرف سے مظلوموں کو جہاد کی اجازت دی گئی تھی۔(آیت:39)یہاں سورۂ"المؤمنون"میں ظالموں کو بتایا گیا کہ نجات کا راستہ ایمان اور عملِ صالح ہے تاکہ وہ اللہ کے عذاب سے بچ سکیں۔2۔اس سورۃ "المؤمنون"میں،مسلمانوں سے ایمان کے بعد اخلاقی، عبادتی اور مالی جامع اعمالِ صالحہ کا مطالبہ ہے، جو انفرادی اہمیت کے حامل ہیں۔3۔ اگلی سورۃ "النور"میں اسلامی ریاست اور اس کے اداروں کی تنظیم کیلئے ،قانونی ،معاشرتی اور فوجداری قوانین کے نفاذ کامطالبہ ہے۔)قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی(
ترتیب مطالعہ :(1 ) ر- 1 ( مومن کی صفات اور تخلیق انسانی ) ،(2 ) ر - 2 تا 4 ( تذکرہ انبیا۔تمام انبیا کی دعوت ایک ہی تھی ) ،(3 ) ر – 5 ( ذات باری تعالی کے شواہد اور مشاہدات ) ،(4 ) ر -6 ( روز آخرت اور جزا و سزا )
پہلا رکوع |
| قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ ﴿1﴾ الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ ﴿2﴾ وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ ﴿3﴾ وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ ﴿4﴾ وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ ﴿5﴾ اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ ﴿6﴾ فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ ﴿7﴾ وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ ﴿8﴾ وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ ﴿9﴾ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ ﴿10﴾ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿11﴾ وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ ﴿12﴾ ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ ﴿13﴾ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ ﴿14﴾ ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ ﴿15﴾ ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ ﴿16﴾ وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ ْغٰفِلِیْنَ ﴿17﴾ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ ﴿18﴾ فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ ﴿19﴾ وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ ﴿20﴾ وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ ﴿21﴾ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿22ع المؤمنون 23﴾ |
| 1. بےشک ایمان والے رستگار ہوگئے۔ 2. جو نماز میں عجزو نیاز کرتے ہیں۔ 3. اور جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑے رہتے ہیں۔ 4. اور جو زکوٰة ادا کرتے ہیں۔ 5. اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ 6. مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں۔ 7. اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں۔ 8. اور جو امانتوں اور اقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ 9. اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔ 10. یہ ہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں۔ 11. (یعنی) جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 12. اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے۔ 13. پھر اس کو ایک مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا۔ 14. پھر نطفے کا لوتھڑا بنایا۔ پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا۔ پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا۔ تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے۔ 15. پھر اس کے بعد تم مرجاتے ہو۔ 16. پھر قیامت کے روز اُٹھا کھڑے کئے جاؤ گے۔ 17. اور ہم نے تمہارے اوپر (کی جانب) سات آسمان پیدا کئے۔ اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔ 18. اور ہم ہی نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی نازل کیا۔ پھر اس کو زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اس کے نابود کردینے پر بھی قادر ہیں۔ 19. پھر ہم نے اس سے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ بنائے، ان میں تمہارے لئے بہت سے میوے پیدا ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو۔ 20. اور وہ درخت بھی (ہم ہی نے پیدا کیا) جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے (یعنی زیتون کا درخت کہ) کھانے کے لئے روغن اور سالن لئے ہوئے اُگتا ہے۔ 21. اور تمہارے لئے چارپایوں میں بھی عبرت (اور نشانی) ہے کہ جو ان کے پیٹوں میں ہے اس سے ہم تمہیں (دودھ) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور بعض کو تم کھاتے بھی ہو۔ 22. اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو۔ |
تفسیر آیات
1۔ فلاح - کاشتکار ۔۔۔۔ - انا ( خودی ) کو برآمد کرنا جیسے کاشتکار گٹھلی سے پودا برآمد کرتا ہے ۔۔۔۔ کسان کی محنت اور ماحول کے اثر سے ۔۔۔۔ اسی طرح عقل سلیم اور وحی الٰھی کے ماحول کی مدد سے خودی کا پودا برآمد کرنا ۔۔۔۔ تن و توش میں سے انا ( اصلی جوہر انسانیت ) باہر نکالنا ۔۔۔۔۔من عرف نفسہ عرف ربہ ( حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ) )بیان القرآن(
۔ فلاح کے معنے یہ ہیں کہ ہر مراد حاصل ہو اور ہر تکلیف دور ہو (قاموس) یہ لفظ جتنا مختصر ہے اتنا ہی جامع ایسا ہے کہ کوئی انسان اس سے زیادہ کسی چیز کی خواہش کر ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔خلاصہ یہ ہے کہ کامل و مکمل فلاح تو صرف جنت ہی میں مل سکتی ہے دنیا اس کی جگہ ہی نہیں۔ (معارف القرآن)
ــ فلاح کسی جزوی اور ادھوری کامیابی کا نام نہیں ۔ یہ لفظ دنیا و آخرت کی کامیابی پر دلالت کرتا ہے ۔ تاج العروس میں ہے کہ ساری لغت عرب میں لفظ فلاح سے جامع کوئی لفظ ایسا نہیں جو دنیا و آخرت کی کامیابی کو سمیٹے ۔)ضیاء القرآن(
ــ بشارت ہے تو مستقبل کے متعلق لیکن اسکو تعبیر ماضی کے صیغے سے فرمایا جس سے مقصود اسکی قطعیت کا اظھار ہے اس لئے کہ جب اللہ کے ہاں ایک بات کا فیصلہ ہو چکا تو گویا وہ بات واقع ہو چکی - حقیقی بشارت بھی موجود ہے جس کا تفصیلی ذکر سورۃ حج میں ہو چکا۔(تدبر قرآن)
۔ اس وقت ایک طرف دعوت اسلامی کے مخالف سرداران مکہ تھے جن کی تجارتیں چمک رہی تھیں، جن کے پاس دولت کی ریل پیل تھی، جن کو دنیوی خوشحالی کے سارے لوازم میسر تھے۔ اور دوسری طرف دعوت اسلامی کے پیرو تھے جن میں سے اکثر تو پہلے ہی غریب اور خستہ حال تھے، اور بعض جو اچھے کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے یا اپنے کاروبار میں پہلے کامیاب تھے، ان کو بھی اب قوم کی مخالفت نے بد حال کردیا تھا۔ اس صورت حال میں جب تقریر کا آغاز اس فقرے سے کیا گیا کہ " یقیناً فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے " تو اس سے خود بخود یہ مطلب نکلا کہ تمہارا معیار فلاح و خسران غلط ہے، تمہارے اندازے غلط ہیں، تمہاری نگاہ دور رس نہیں ہے، تم اپنی جس عارضی و محدود خوشحالی کو فلاح سمجھ رہے ہو وہ فلاح نہیں خسران ہے، اور محمد ﷺ کے ماننے والوں کو جو تم ناکام و نامراد سمجھ رہے ہو وہ دراصل کامیاب و با مراد ہیں۔ (تفہیم القرآن)
2ــــ نماز میں خشوع کا یہ مطلب ہے کہ انسان اپنی ساری توجہ نماز میں مرکوز کردے ۔ اللہ تعالی کے سوا ہر چیز سے منہ پھیر ے ، جو تلاوت کرے اس کے معافی پر غور کرے ۔ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور ؐ نے ایک شخص کو نماز میں ڈاڑھی سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ اگر اس شخص کے دل میں عجز و نیاز ہوتا تو اسکے ظاہری اعضا بھی اظھار عجز کرتے ۔(ضیاء القرآن)
ــ خشوع کے معنی عاجزی ، تذلل ، نیازمندی اور فروتنی کے ہیں ۔ خشعت الاصوات اور تخشع قلوبھم وغیرہ کے الفاظ سے اس کی اصل روح پر روشنی پڑتی ہے ۔(تدبر قرآن)
3 ۔ لغو سے مراد ہر وہ قول اور فعل ہے جو فضول اور بے فائدہ ہو ۔ (ضیا ء القرآن)
ــ لغو سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جو زندگی کے اصل مقصود ، رضائے الٰھٰی سے غافل کرنے والا ہو ۔ قطع نظر اس سے کہ وہ مباح ہے یا غیر مباح ۔ جس شخص کا ضمیر اتنا بیدار اور حساس ہو کہ ہر غیر ضروری حرکت سے اس کی طبیعت انقباض محسوس کرے وہ کسی بڑی بے حیائی اور برائی کا مرتکب کبھی مشکل ہی سے ہوگا ۔ نماز کا زندگی پر یہی اثر سورۃ عنکبوت میں یوں بیان ہوا ہے ۔" إِنَّ الصَّلَاة تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِوَالْمُنْكَرِ " ( نماز بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے ۔(تدبرقرآن)
ـــ (خواہ وہ لغو فعلی ہو یا قولی)لغو کہتے ہیں ہر اس حرکت کو جو عبث ،بے حاصل ،لایعنی ہو، آخرت یا صرف دنیا کے اعتبار سے بھی۔۔۔سیر و تفریح، مشاغل نشاط،جس حدتک صحت و تفریح طبع کیلئے ضروری ہیں، ظاہر ہے کہ ان کا شمار لغومیں نہیں ۔۔۔"لغو کا ادنیٰ درجہ گو مباح ہو مگر ترک اس کا اولیٰ اور موجب مدح ہے اور معصیت لغو کا اعلیٰ درجہ ہے اور اس کا ترک واجب ہے۔"(تھانویؒ)۔۔۔۔امام رازی ؒ نے کہا ہے کہ ہر لغو بات سے بچنے کا ذکر جو خشوع صلوٰۃ کے معاً بعد اور حکم زکوٰۃ سے قبل ہی لے آیا گیا ہے، اس کا راز یہ ہے کہ لغو بات سے اجتناب صلوٰۃ کی عین تکمیل کرنے والا ہے۔(تفسیر ماجدی)
4۔ یؤتون الزکوۃ کا معروف انداز چھوڑ کر للزکواۃ فاعلون کا غیر معمولی طرز بیان - وہ تزکیہ کا فعل کرتے ہیں ۔ صرف مالی زکواۃ نہیں بلکہ تزکئیہ نفس ، تزکئیہ اخلاق ، تزکئیہ زندگی ، تزکئیہ مال بھی ۔ غرض ہر پہلو کے تزکئیہ تک وسیع ۔ صرف اپنی زندگی ہی نہیں بلکہ اپنے گرد و پیش کے تزکیے تک وسیع دوسرے لفظوں میں " وہ تزکیے کا کام کرنے والے لوگ " ہیں ۔(تفہیم القرآن)
ــــ نماز بندے کو خالق سے جوڑتی ہے اور زکواۃ بندے کو بندوں کے ساتھ مربوط کرتی ہے ۔اور جو بندہ خلق اور خالق دونوں سے صحیح بنیادوں پر مربوط ہوجائے درحقیقت وہی بندہ دنیا و آخرت دونوں کی فلاح کا سزاوار ہے ۔ جن لوگوں نے اس کو مصدری معنی یعنی تزکیہ کے مفہوم میں لیا ہے ان کی رائے ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے ۔ یہ لفظ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ۔ مکی سورتوں میں بھی نماز کے ساتھ بار بار آتا ہے اور کہیں بھی اس سے مراد تزکیہ نہیں بلکہ انفاق فی سبیل اللہ ہی ہے جس کے برکات و ثمرات میں سے تزکیہ بھی ہے ۔(تدبر قرآن)
ــــ اگر مراد زکواۃ سے تزکیہ نفس یعنی اپنے نفس کو رذائل سے پاک کرنا ہو تو وہ بھی فرض ہے کیونکہ شراب ، شرک ، ربا ، تکبر ، حسد ، بغض ، حرص ، بخل جن سے پاک کرنا ، تزکیہ کہلاتا ہے یہ سب چیزیں حرام اور گناہ کبیرہ ہیں ، نفس کو ان سے پاک کرنا فرض ہے ۔(معارف القرآن)
ــــ بعض مفسرین نے یہاں زکوۃ کو پاکیزگی یا تزکئہ نفس کے معنی میں لیا ہے جس میں بدن ، دل اور مال کا پاک رکھنا داخل ہیں ، یہ کہنا کہ یہ آیت مکی ہے اور مکہ میں زکٰوۃ فرض نہیں ہوئی تھی ۔ ابن کثیر نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اصل زکوٰۃ کی مشروعیت مکہ میں ہو چکی تھی ۔ ہاں مقداروں اور نصابوں وغیرہ کی تشخیص مدینہ پہنچ کر ہوئی ۔ واللہ اعلم ۔(تفسیر عثمانی)
7۔ یعنی یہ لوگ اپنی شہوانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھتے ہیں ۔ انکو صرف وہیں آزادی دیتے ہیں جہاں اس کا حق ان کو حاصل ہے یعنی بیویوں اور لونڈیوں پر ۔ یہ نہیں ہوتا کہ شہوات سے اندھے ہوکر بالکل سانڈھ بن جائیں اور ہر حرمت پر دست اندازی اپنا حق سمجھ لیں ۔ حدود کے اندر کوئی اسکو تقویٰ ، دینداری اور خدا ترسی کے منافی نہ سمجھے جو رہبانیت ہوگی ۔۔۔۔ مغرب اور مغرب زدہ سوسائٹی میں آزادی ۔ (تدبرِ قرآن)
ــ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے زمانہ میں لوگ چار طرح پر نکاح کیا کرتے تھے۔ ایک تو وہی معروف نکاح ہے۔ جیسے آج کل بھی لوگ کرتے ہیں یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کو نکاح کے لئے کہتا اور وہ اپنی کسی رشتہ دار عورت (مثلاً بہن، بھتیجی، بھانجی وغیرہ) یا بیٹی کا مہر ٹھہرا کر نکاح کردیتا۔ (اسی قسم کے نکاح کو اسلام نے بحال رکھا ہے)۔دوسری صورت یہ تھی کہ جب کسی کی بیوی حیض سے پاک ہوجاتی تو شوہر اپنی بیوی سے کہتا کہ تو فلاں شخص کو اپنے پاس بلا لے اور اس سے لپٹ جا (یعنی اس سے ہمبستری کر)۔ جب عورت اس مرد سے صحبت کرچکتی تو اس کا خاوند اس سے اس وقت تک علیحدہ رہتا جب تک کہ اس غیر مرد کا حمل نمایاں نہ ہوجاتا۔اور جب حمل واضح ہوجاتاتو اس کے بعد اس کا خاوند اگر چاہتاتو اس سے صحبت کرتا۔اور شوہر اپنی بیوی سے یہ کام اس لئے کراتا تھا کہ بچہ شریف اور عمدہ پیدا ہو(تاکہ وہ شوہر کی ناموری کا باعث ہو)ایسے نکاح کو نکاح استبضاع کہاکرتے تھے۔۔۔نکاح کی تیسری صورت یہ تھی کہ ایک عورت کے کئی شوہر ہوتے تھے لیکن یہ دس سے کم ہی ہوتے تھے۔اور وہ سب اس عورت سے صحبت کیا کرتے۔پھر جب اسے حمل قرار پا جاتاتو وہ وضع حمل کےچند دن بعد ان سب شوہروں کو بلا بھیجتی اور اس کی دعوت پر سب کو آنا پڑتا تھا۔جب وہ اس کے ہاں اکٹھے ہوتے تو وہ ان سے کہتی۔جو کچھ تم کرتے رہے وہ تمہیں معلوم ہے۔اب میرے ہاں جو بچہ پیدا ہواہے یہ تم میں سے فلاں کا بچہ ہے۔ اس معاملہ میں اس عورت کو پورا اختیار ہوتاکہ جس کا وہ چاہتی نام لے لیتی اور وہ بچہ اسی کا ہوجاتااور کسی کو اس کے فیصلہ سے انکار کی مجال نہ ہوتی۔(کیونکہ قومی رسم ہی یہی تھی)۔۔۔۔اور چوتھی صورت یہ تھی کہ کسی عورت کے پاس بہت سے آدمی آتے جاتے رہتے اور وہ ہر ایک سے صحبت کرلیتی کسی سے بھی انکار نہ کرتی اور وہ کنجریاں تھیں جن کے دروازے پر پہچان کیلئے جھنڈا لگادیتے۔اب جس شخص کاجی چاہتاوہ اس سے صحبت کرسکتا تھا پھر جب اسے حمل ٹھہر جاتا اور بچہ جنتی تو اس کے ہاں جانے والے سب مرد اس عورت کے ہاں اکٹھے ہوجاتے اور کسی قیافہ شناس کو اپنے پاس بلاتے ۔قیافہ شناس علم قیافہ کی روسے جس مرد کو اس بچہ کا باپ بتاتا وہ بچہ اسی کا بیٹا ہوجاتاوہ اس کا باپ کہلاتا۔اور قیافہ شناس کے فیصلہ سے کسی کو انکار کی مجال نہ ہوتی۔۔۔۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے محمدؐ کو پیغمبر بناکر بھیجا تو آپ نے جاہلیت کے سب نکاح ختم کردئیے ۔بس ایک ہی قسم کا نکاح باقی رکھا جو آج کل لوگ کرتے ہیں"(بخاری،کتاب النکاح،باب من قال لانکاح الا بولی۔۔۔)(تیسیر القرآن)
8۔ "اَمٰنٰت" کا لفظ جامع ہے ان تمام امانتوں کیلئے جو خداوند عالم نے یا معاشرے نے یا افراد نے کسی شخص کے سپرد کی ہوں اور عہدو پیمان میں وہ سارے معاہدے داخل ہیں جو انسان اور خدا کے درمیان استوار کئے گئے ہوں ۔ مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ کبھی امانت میں خیانت نہ کرے گا ۔ اور کبھی اپنے قول و قرار سے نہ پھرے گا ۔حضورؐ اکثر اپنے خطبوں میں فرمایا کرتے تھے " جو امانت کی صفت نہیں رکھتا وہ ایمان نہیں رکھتا اور جو عہد کا پاس نہیں رکھتا وہ دین نہیں رکھتا " ( بیہقی فی شعب الایمان ) بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا " چار خصلتیں ہیں کہ جس میں وہ چاروں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے اور جس میں کوئی ایک پائی جائے اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے ۔ (1 ) جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو خیانت کرے ( دفتری اوقات اور ملازمت وغیرہ میں ڈنڈی مارنا بھی خیانت ہے ) (2) جب بولے جھوٹ بولے ۔ (3 ) جب عہد کرے تو توڑ دے ۔ (4 ) اور جب کسی سے جھگڑے تو ( اخلاق و دیانت کی ) ساری حدیں پھاند جائے۔۔۔۔۔ " امانت " سے مراد وہ تمام امانتیں بھی ہیں جو ہمارے رب نے قوتوں اور صلاحیتوں ، فرائض اور ذمہ داریوں کی شکل میں یا انعامات و افضال اور اولاد و احوال کی صورت میں ہمارے حوالہ کی ہیں اور وہ امانتیں بھی جو کسی نے ہمارے حوالے کی ہوں ۔ اسی طرح عہد میں وہ تمام عہد و میثاق بھی داخل ہیں جو ہمارے رب نے ہماری فطرت سے عالم غیب میں لئے ہیں یا اپنے نبیوں کے واسطے ہم سے لئے ہیں ۔ یا ہر شائستہ سوسائٹی میں بغیر کسی تحریر و اقرار کے سمجھے اور مانے جاتے ہوں۔ مومن نہ اپنے رب کے خائن ہیں نہ بندوں کے ۔(تدبرقرآن)
ــــ کسی کا راز امانت ،ملازم کو جو کام دیا گیا ہے وہ امانت ( کام چوری یا وقت کی چوری خیانت ) وعدہ ایک قسم کا فرض ہے جیسے قرض کی ادائگی واجب ہے ایسے ہی وعدہ کا پورا کرنا واجب ہے ۔ (معارف القرآن)
9۔ یہاں غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ نماز ہی سے اہل ایمان کی صفات کا ذکر شروع ہوا تھا اور اسی پر آکر ختم ہوا ۔ یہ بات کہ نماز ہی تمام دین کی محافظ ہے - نماز ہی سے تمام نیکیاں نشو نما پاتی ہیں اور وہی اپنے حصار میں انکی حفاظت کرتی ہے ۔ اسکے بغیر دوسری نیکیاں ناممکن ، اسکے بغیر رضائے الہی کیسے حاصل ہو سکتی ہے ۔(تدبرقرآن)
13۔ فِیْ قَرَارٍ مَّـكِیْنٍ۔یعنی رحم مادرمیں۔رحم کی مضبوطی اور محفوظیت پر تشریح الابدان کی کتابیں گواہ ہیں۔اب حوالہ توذہن میں نہیں لیکن ان سطور کے راقم کو اتنا اچھی طرح یادہے کہ اپنےبچپن میں کسی بڑے ڈاکٹر کا یہ مقولہ سناتھا کہ جسم انسانی میں سب سے محفوظ ترین عضورحم ہے،اور دفن کے بعد سب سے آخر میں یہی عضو بگڑتاہے۔(تفسیر ماجدی)
17۔ لیکن اس کے صاف معنی سیاروں کے راستے یا گزرگاہوں یا گھیروں کے بھی ہوسکتے ہیں اور متقدمین میں سے بھی بعض اسی طرف گئے ہیں۔۔۔۔اور ائمہ لغت و نحو ،خلیل و فراء و زجاج کا یہ قول بھی نقل ہواہے کہ ہر وہ چیز جو ایک دوسرے کے اوپرہو طریقہ کہلاتی ہے ۔گویا زمین کے اوپر تہ بہ تہ سات گھیرے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
20۔یہاں درخت کے نام کی تصریح نہیں ،لیکن سب کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد زیتون ہے۔۔۔۔زیتون خاص پیدا وار ہے ،ملک فلسطین اور اس سے ملحق جزیرہ نماسیناء کی اور ترکی و یونان بلکہ حوالی بحر روم کے سارے علاقہ کی۔۔۔۔اس کی عمر بڑی طویل ہوتی ہے ۔اور آم کی طرح اس کی بھی دو قسمیں تخمی اور قلمی ہوتی ہیں۔اس کی بلندی 25 سے 40 فٹ تک ہوتی ہے۔ اس کی پتیاں چمڑے کی سی ہوتی ہیں ۔اس کا درخت 40 سال کی عمر میں شباب کو پہنچتاہے،اوراس میں پھل لگتے ہیں۔پھل بڑے بیر کے برابر ہوتاہے ۔رنگ یا قوتی سرخ اور پختہ ہوکرسیاہی مائل ۔طب کی کتابوں میں زیتون اور اس کے روغن دونوں کے فائدے بے شمار لکھے ہوئے ہیں، دواؤں میں استعمال خارجی و داخلی دونوں طرح ہوتاہے ۔اس کے روغن کی قوت ، کہاجاتاہے 4 ہزار سال تک قائم رہتی ہے اور وہ خراب نہیں ہوتا۔چنانچہ یورپ اور افریقہ میں ہزاروں سال قبل کے برتن ملے ہیں جن کے اندر روغن زیتون خراب نہیں ہواتھا۔(تفسیر ماجدی)
22۔ تُحْمَلُوْنَ کے اندر سواری اور باربرداری دونوں چیزیں شامل ہیں اور اہل عرب کی زندگی چونکہ عام طور پر خانہ بدوشی کی تھی، موسموں کے ساتھ برابر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے اس وجہ سے ان کے لئے یہ دونوں ہی مسئلے بڑی اہمیت رکھنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ضرورت کے لئے اونٹ پیدا کیا جو ان کے صحرا کا سفینہ ہے۔ چناچہ اس کا ذکر اور کشتی کا ذکر ساتھ ساتھ فرمایا کہ ہم نے تمہارے صحرا کے لئے بھی کشتی کا انتظام کیا اور سمندر کے لئے بھی۔ (تدبرِ قرآن)
دوسرا رکوع |
| وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ﴿23﴾ فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ ﴿24﴾ اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ ﴿25﴾ قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ ﴿26﴾ فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ ﴿27﴾ فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ﴿28﴾ وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ ﴿29﴾ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ ﴿30﴾ ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ ﴿31﴾ فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿32ع المؤمنون 23﴾ |
| 23. اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان سے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیا تم ڈرتے نہیں۔ 24. تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے۔ تم پر بڑائی حاصل کرنی چاہتا ہے۔ اور اگر خدا چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا۔ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو یہ بات کبھی سنی نہیں تھی۔ 25. اس آدمی کو تو دیوانگی (کا عارضہ) ہے تو اس کے بارے میں کچھ مدت انتظار کرو۔ 26. نوح نے کہا کہ پروردگار انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد کر۔ 27. پس ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے ایک کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم آ پہنچے اور تنور (پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب (قسم کے حیوانات) میں جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو اور اپنے گھر والوں کو بھی، سو ان کے جن کی نسبت ان میں سے (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے صادر ہوچکا ہے۔ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا، وہ ضرور ڈبو دیئے جائیں گے۔ 28. اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جاؤ تو (خدا کا شکر کرنا اور) کہنا کہ سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے۔ جس نے ہم کو نجات بخشی ظالم لوگوں سے۔ 29. اور (یہ بھی) دعا کرنا کہ اے پروردگار ہم کو مبارک جگہ اُتاریو اور تو سب سے بہتر اُتارنے والا ہے۔ 30. بےشک اس (قصے) میں نشانیاں ہیں اور ہمیں تو آزمائش کرنی تھی۔ 31. پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور جماعت پیدا کی۔ 32. اور ان ہی میں سے ان میں ایک پیغمبر بھیجا (جس نے ان سے کہا) کہ خدا ہی کی عبادت کرو (کہ) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں۔ |
تفسیر آیات
23۔ یہاں ایک نہایت ہی حسین وبلیغ تخلیص ہے جس کو ہماری شاعری کی اصطلاح میں گریز کہتے ہیں۔ اوپر ربوبیت کے شواہد سے جزا و سزا پر جو استدلال کیا ہے وہ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ(اور تم ان چوپایوں اور کشتیوں پر سوار کئے جاتے ہو) پر ختم ہوا ہے۔ اب آگے جب تاریخی شواہد کا سلسلہ شروع ہوا تو سب سے پہلے حضرت نوح کے واقعہ کو لیا جو تاریخی تقدم کے اعتبار سے بھی رسولوں کی سرگزشت کا سرنامہ ہے اور خاص طور پر کشتی ہی کو ان کی اور ان کے ساتھیوں کی نجات کا اللہ تعالیٰ نے ذریعہ بنایا۔ کشتی کے ذکر کے بعد اس کشتی والے واقعہ کا ذکر اس طرح آگیا ہے گویا بات میں سے بات پیدا ہوگئی ہے۔ (تدبرِ قرآن)
۔ سیدنا نوحؑ کے واقعات پہلے سورۂ اعراف حاشیہ نمبر 61 تا 64 ،سورۂ یونس حاشیہ نمبر 84،اور سورہ ہود حاشیہ نمبر 34 تا 53 میں گزرچکے ہیں وہ بھی پیش نظر رکھے جائیں۔(تیسیر القرآن)
24۔ یہ بات کہ"رسول بشر ہی ہوتاہے"یایہ کہ ایک اکیلے اللہ ہی ساری کائنات کی فرمائروائی اور حاجت روائی کیلئے بہت کافی ہیں اور دوسرے سب معبود لغو اور باطل ہیں۔(تیسیر القرآن)
25۔ ۔۔۔یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ وقت کے لیڈر جب کسی شخص کے بارے میں یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ عوام اسے مستقبل کے ہادی یا نجات دہندہ کی حیثیت سے قبول کر رہے ہیں تو اس سے وہ بہت اندیشہ ناک ہوتے ہیں۔ اس کے متعلق وہ اپنے پیروؤں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کا یہ سارا طلسم چند روزہ ہے۔ (تدبرِقرآن)
31۔ ۔۔۔سورة اعراف میں قوم نوح کے جانشین کی حیثیت سے قوم عاد کا اور عاد کے خلفاء کی حیثیت سے ثمود کا ذکر ہوا ہے۔(تدبرِ قرآن)
32۔ یہ اور نسل یا اور قوم عاد یا عاد اولیٰ تھی۔ جیساکہ قرآن کریم کے بعض دوسرے مقامات میں سیدنا نوحؑ کے بعد اسی قوم کا ذکر ہواہے اور ان کی طرف سیدنا ہودؑ کو بھیجا گیا تھا۔(تیسیر القرآن)
ــــ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ۔ یہ قوم کون سی ہے؟ عام رجحان یہ ہے کہ یہ قوم عاد یا قوم ثمود کی جانب اشارہ ہے ۔بہرحال کوئی نہ کوئی مشرک ہی قوم تھی۔(تفسیر ماجدی)
تیسرا رکوع |
| وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ ﴿33﴾ وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ ﴿34﴾ اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ ﴿35﴾ هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ ﴿36﴾ اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ ﴿37﴾ اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ ﴿38﴾ قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ ﴿39﴾ قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ ﴿40﴾ فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ﴿41﴾ ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ ﴿42﴾ مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ ﴿43﴾ ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ ﴿44﴾ ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ ﴿45﴾ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ ﴿46﴾ فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ ﴿47﴾ فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ ﴿48﴾ وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ ﴿49﴾ وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ ۧ ۧ ﴿50ع المؤمنون 23﴾ |
| 33. تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے اور آخرت کے آنے کو جھوٹ سمجھتے تھے اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو آسودگی دے رکھی تھی۔ کہنے لگے کہ یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے، جس قسم کا کھانا تم کھاتے ہو، اسی طرح کا یہ بھی کھاتا ہے اور جو پانی تم پیتے ہو اسی قسم کا یہ بھی پیتا ہے۔ 34. اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے آدمی کا کہا مان لیا تو گھاٹے میں پڑ گئے۔ 35. کیا یہ تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور مٹی ہو جاؤ گے اور استخوان (کے سوا کچھ نہ رہے گا) تو تم (زمین سے) نکالے جاؤ گے۔ 36. جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (بہت) بعید اور (بہت) بعید ہے۔ 37. زندگی تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے کہ (اسی میں) ہم مرتے اور جیتے ہیں، اور ہم پھر نہیں اُٹھائے جائیں گے۔ 38. یہ تو ایک ایسا آدمی ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا ہے اور ہم اس کو ماننے والے نہیں۔ 39. پیغمبر نے کہا کہ اے پروردگار انہوں نے مجھے جھوٹا سمجھا ہے تو میری مدد کر۔ 40. فرمایا کہ یہ تھوڑے ہی عرصے میں پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔ 41. تو ان کو (وعدہٴ برحق کے مطابق) زور کی آواز نے آپکڑا، تو ہم نے ان کو کوڑا کرڈالا۔ پس ظالم لوگوں پر لعنت ہے۔ 42. پھر ان کے بعد ہم نے اور جماعتیں پیدا کیں۔ 43. کوئی جماعت اپنے وقت سے نہ آگے جاسکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔ 44. پھر ہم پے درپے اپنے پیغمبر بھیجتے رہے۔ جب کسی اُمت کے پاس اس کا پیغمبر آتا تھا تو وہ اسے جھٹلاتے تھے تو ہم بھی بعض کو بعض کے پیچھے (ہلاک کرتے اور ان پر عذاب) لاتے رہے اور ان کے افسانے بناتے رہے۔ پس جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان پر لعنت۔ 45. پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور دلیل ظاہر دے کر بھیجا۔ 46. (یعنی) فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے۔ 47. کہنے لگے کہ کیا ہم ان اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور اُن کی قوم کے لوگ ہمارے خدمت گار ہیں۔ 48. تو اُن لوگوں نے اُن کی تکذیب کی سو (آخر) ہلاک کر دیئے گئے۔ 49. اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں۔ 50. اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسیٰ) اور ان کی ماں کو (اپنی) نشانی بنایا تھا اور ان کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا، پناہ دی تھی۔ |
تفسیر آیات
۔اسی آیت سے معلوم ہوتاہے کہ قوم عاد اللہ تعالیٰ کی ہستی کی قائل تھی اور ان کے نزدیک سیدنا ہودؑ کا اللہ پر جھوٹ باندھنا یہ تھا کہ میں اللہ کی طرف سے تمہاری طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہوں یا یہ کہ "مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ضرور تمہیں دوبارہ پیدا کرے گا اور تم سے تمہارے اعمال کا مواخذہ کرے گا"اور یہ دونوں باتیں ہم ہرگز تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔(تیسیر القرآن)
41۔ یعنی بالکل ٹھیک اسی وقت ان پر عذاب آیا جو وقت ان کیلئے مقرر کیا گیا تھا۔یہاں ہیبت ناک چیخ کے عذاب سے بعض علماء نے یہ قیاس کیا ہے کہ یہ قصہ قوم عاد اولیٰ کا نہیں کیونکہ ان پر تندوتیز اور شدیدسرد آندھی کا عذاب آیا تھا۔بلکہ یہ قصہ عاد ثانی یعنی ثمود کی قوم کا ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔اس آیت میں بالحق کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے جو انہیں سزادی تو وہ ٹھیک ان کے گناہوں کی پاداش کے مطابق تھی۔عدل و انصاف کا یہی تقاضا تھا اور اس سلسلہ میں ان پر ذرہ بھرظلم نہیں ہوا۔(تیسیر القرآن)
44۔ قوم عاد اولیٰ اور عاد ثانی کے بعد، موسیٰؑ کے زمانہ تک درج ذیل انبیاء مبعوث ہوئے۔سیدنا ابراہیمؑ ، سیدنا اسماعیل،سیدنا اسحاق،سیدنا یعقوب، سیدنا یوسف، سیدنا ایوب، اور سیدنا شعیبؑ یہ تو وہ انبیاء ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں ملتاہے اور جن کا ذکر قرآن میں نہیں آیاوہ ان سے بہت زیادہ ہیں۔ بعض روایات کے مطابق آپؐ سے دنیامیں مبعوث ہونے والے رسولوں کی تعداد پوچھی گئی تو آپ نے 313 یا 315 بتائی اور انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی جبکہ قرآن میں صرف 27 انبیاء و رسل کا ذکر ہے۔(تیسیر القرآن)
۔ بالتدریج قوموں کی تعداد میں جتنا ہی اضافہ ہوتا گیا اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت و اصلاح کے اہتمام وا نتظام میں بھی اسی رفتار سے اضافہ فرمایا۔ یہاں تک کہ ایک ہی دور میں الگ الگ قوموں میں الگ الگ رسول بھی آئے۔ اگرچہ تاریخوں میں تفصیل نہیں ملتی لیکن حضرت ابراہیم و حضرت لوط کا ایک زمانے میں ہونا تو قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ حضرت ہارون اور حضرت شعیب ایک ہی دور کے رسول ہیں۔ یہ اہتمام اس بات کا صاف ثبوت ہے کہ خدا اپنی خلق کی اصلاح سے کبھی بےپروا نہیں رہا ہے۔ لیکن جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے اس کی تکذیب کی جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ یکے بعد دیگرے ہر قوم کو خدا نے ہلاکت کے اسی گڑھے میں جھونک دیا جس میں اس کی پیشرو قوم کو پھینکا۔ (تدبرِ قرآن)
45۔ سُلْطٰن مُّبِیْن سے میرے نزدیک عصا کا معجزہ مراد ہے۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ اس معجزے کو درحقیقت ایک برہان اور حجت قاطع کی حیثیت حاصل تھی اس وجہ سے اس کو سلطان مبین سے تعبیر فرمایا۔ اسی معجزے کے ذریعہ سے فرعون اور اس کے درباریوں نے اپنی قوم اور اپنے تمام ماہر جادوگروں کے سامنے نہایت رسوا کن شکست کھائی۔ قرآن میں بعض جگہ اس کو بینہ سے تعبیر فرمایا ہے، یعنی نہایت واضح حجت۔ لفظ سلطان سورة رحمان کی آیت لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ میں توقیع الٰہی اور سند خداوندی کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اس اعتبار سے بھی معجزہ عصا کے لئے یہ لفظ نہایت موزوں ہے اس لئے کہ اس کی حیثیت موسیٰ کے ہاتھ میں فی الواقع ایک خدائی سند ہی کی تھی۔ (تدبرِ قرآن)
50۔ عیسیٰؑ بن باپ پیدائش کے منکرین کا رد:۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ابن مریم بھی ایک نشانی تھے اور ان کی والدہ بھی ایک نشانی تھی ۔بلکہ یوں فرمایا ان دونوں کو ملا کر ایک نشانی بنایا۔اور اس کی صورت صرف یہی رہ جاتی ہے کہ سیدنا عیسیٰؑ کی ولادت کو بن باپ تسلیم کیا جائے نیزیہ بھی کہ سیدہ مریم کسی مرد کے چھوئے بغیر ہی نفخۂ الٰہی سے حاملہ ہوئی تھیں۔(تیسیر القرآن)
ــــ یہ مقام کون ساتھا؟ اور یہ واقعہ کب کا ہے؟ بعض اہل تفسیر ادھر گئے ہیں کہ یہ ذکر حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کے وقت کا ہے ۔اس وقت حضرت مریمؑ کسی بلند ٹیلہ پر مقیم تھیں ،اور نیچے چشمہ بہہ رہاتھا۔جیساکہ سورۂ مریم میں ہے۔ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا۔ابن کثیر نے اسی کو ترجیح دی ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ "رَبْوَةٍ" مرتفع اور ہموار زمین کو کہتے ہی۔"ذَاتِ قَرَارٍ" کے معنی پر سکون اور"مَعِیْنٍ" کے معنی چشمہ کے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
چوتھا رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ ﴿51﴾ وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ ﴿52﴾ فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ ﴿53﴾ فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ ﴿54﴾ اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ ﴿55﴾ نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ ﴿56﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ ﴿57﴾ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ ﴿58﴾ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ ﴿59﴾ وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ ﴿60﴾ اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ ﴿61﴾ وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ﴿62﴾ بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ ﴿63﴾ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ ﴿64﴾ لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ ﴿65﴾ قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ ﴿66﴾ مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ ﴿67﴾ اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ ﴿68﴾ اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ ﴿69﴾ اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ ﴿70﴾ وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ ﴿71﴾ اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ﴿72﴾ وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﴿73﴾ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ ﴿74﴾ وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ ﴿75﴾ وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ ﴿76﴾ حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿77ع المؤمنون 23﴾ |
| 51. اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور عمل نیک کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں۔ 52. اور یہ تمہاری جماعت (حقیقت میں) ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو مجھ سے ڈرو۔ 53. تو پھر آپس میں اپنے کام کو متفرق کرکے جدا جدا کردیا۔ جو چیز جس فرقے کے پاس ہے وہ اس سے خوش ہو رہا ہے۔ 54. تو ان کو ایک مدت تک ان کی غفلت میں رہنے دو۔ 55. کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں۔ 56. تو (اس سے) ان کی بھلائی میں جلدی کر رہے ہیں (نہیں) بلکہ یہ سمجھتے ہی نہیں۔ 57. جو اپنے پروردگار کے خوف سے ڈرتے ہیں۔ 58. اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ 59. اور جو اپنے پروردگار کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔ 60. اور جو دے سکتے ہیں دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ 61. یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے اور یہی اُن کے لئے آگے نکل جاتے ہیں۔ 62. اور ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس کتاب ہے جو سچ سچ کہہ دیتی ہے اور ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ 63. مگر ان کے دل ان (باتوں) کی طرف سے غفلت میں (پڑے ہوئے) ہیں، اور ان کے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں۔ 64. یہاں تک کہ جب ہم نے ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ لیا تو وہ اس وقت چلاّئیں گے۔ 65. آج مت چلاّؤ! تم کو ہم سے کچھ مدد نہیں ملے گی۔ 66. میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم الٹے پاؤں پھر پھر جاتے تھے۔ 67. ان سے سرکشی کرتے، کہانیوں میں مشغول ہوتے اور بیہودہ بکواس کرتے تھے۔ 68. کیا انہوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں تھی۔ 69. یا یہ اپنے پیغمبر کو جانتے پہنچانتے نہیں، اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے۔ 70. کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے سودا ہے (نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں۔ 71. اور خدائے (برحق) ان کی خواہشوں پر چلے تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب درہم برہم ہوجائیں۔ بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت (کی کتاب) پہنچا دی ہے اور وہ اپنی (کتاب) نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں۔ 72. کیا تم ان سے (تبلیغ کے صلے میں) کچھ مال مانگتے ہو، تو تمہارے پروردگار کا مال بہت اچھا ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ 73. اور تم تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہو۔ 74. اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ رستے سے الگ ہو رہے ہیں۔ 75. اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیفیں ان کو پہنچ رہی ہیں، وہ دور کردیں تو اپنی سرکشی پر اڑے رہیں (اور) بھٹکتے (پھریں)۔ 76. اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے ہی نہیں۔ 77. یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر عذاب شدید کا دروازہ کھول دیا تو اس وقت وہ ناامید ہوگئے۔ |
تفسیر آیات
51۔ رسولوں کو پاکیزہ اشیاء کھانے کا حکم:۔ پاکیزہ چیزوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا کھانا شریعت نے حلال قراردیاہو اور انہیں حلال ذرائع سے ہی حاصل کیا گیا ہو۔اس کی مثال یوں سمجھئے کہ مرغی بذات خود حلال چیز ہے مگر جب یہ چوری کی ہوتو حرام ہوجائے گی۔اسی طرح سودیا دوسرے ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ مال حرام مال تصور ہوگا۔۔۔۔کسبِ حلال کی اہمیت :۔ کسب حلال اور حرام سے اجتناب اس قدر اہم حکم ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال سے پہلے ذکر فرمایا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کسی کی کمائی حرام کی ہو تو اس کے نیک اعمال بھی قبول نہیں ہوتے۔اس سلسلہ میں ہم سورہ بقرہ کی آیت نمبر 168کےتحت آٹھ حدیثیں درج کرچکےہیں جن کو دوبارہ دیکھ لینا مفیدہوگا۔تاکہ اس اہم شرعی حکم کی اہمیت پوری طرح معلوم ہوجائے۔(تیسیر القرآن)
۔ پچھلے دو رکوعوں میں انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد اب یٰٓاَیُّھَا الُّرُسُل کہہ کر تمام پیغمبروں کو خطاب کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کہیں یہ سارے پیغمبر یکجا موجود تھے اور ان سب کو خطاب کر کے یہ مضمون ارشاد فرمایا گیا۔ بلکہ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہر زمانے میں مختلف قوموں اور مختلف ملکوں میں آنے والے انبیاء کو ایک امت، ایک جماعت ایک گروہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے طرز بیان یہاں ایسا اختیار کیا گیا کہ نگاہوں کے سامنے ان سب کے ایک گروہ ہونے کا نقشہ کھنچ جائے۔ گویا وہ سارے کے سارے ایک جگہ جمع ہیں اور سب کو ایک ہی ہدایت دی جا رہی ہے۔ مگر اس طرز کلام کی لطافت اس دور کے بعض کند ذہن لوگوں کی سمجھ میں نہ آسکی اور وہ اس سے یہ نتیجہ نکال بیٹھے کہ یہ خطاب محمد ﷺ کے بعد آنے والے انبیاء کی طرف ہے اور اس سے حضور ﷺ کے بعد بھی سلسلہ نبوت کے جاری ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ تعجب ہے جو لوگ زبان و ادب کے ذوق لطیف سے اس قدر کورے ہیں وہ قرآن کی تفسیر کرنے کی جرأت کرتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
52۔ امۃ واحدۃ کا مفہوم:۔ امت سے مراد ایسا گروہ ہے جو ہم عقیدہ و ہم خیال ہو۔ اور یہاں تمہاری امت سے مراد انبیاء و رسل کی جماعت بھی ہوسکتی ہے اور ان کے ساتھ ان پر ایمان لانے والے بھی ۔اور یہ پوری کی پوری جماعت متحدالعقیدہ تھی۔ یعنی ان سب کی اصولی تعلیم اور اصول و عقائد ایک ہی جیسے رہے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ(1)اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق و مالک ہے لہذا وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اسکی ذات و صفات اور عبادات میں کسی دوسرے کو شریک نہ کیا جائے۔(2)یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ مرنے کے بعد ہر انسان کودوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اسے اللہ کے حضور پیش ہونا پڑےگا۔دنیا میں جو اعمال وہ کرتا رہا اس کے متعلق اس سے بازپرس ہوگی۔ پھر ہرایک کو اس کے اچھے یا برے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ لہذا تمہیں صرف مجھ سے ڈرناچاہئے ۔(3)کسبِ حرام سے مکمل طورپر اجتناب یعنی کسی صورت میں بھی دوسرے کے حقوق یا اموال پر ڈاکہ نہ ڈالا جائے اور(4)اور نیک اعمال بجالائے جائیں یہ چار باتیں ایسی ہیں جو اصولی نوعیت کی ہیں اور ان کا حکم ہر نبی کو دیا جاتا رہاہے اور انہی باتوں کا نام دین ہے ۔رہے جزئی احکام جن کا تعلق بالخصوص شق نمبر 3 سے ہے تو اس میں انبیاء کی شریعتوں میں اختلاف بھی رہاہے۔(تیسیر القرآن)
۔ " تمہاری امت ایک ہی امت ہے " یعنی تم ایک ہی گروہ کے لوگ ہو۔ " امت " کا لفظ اس مجموعہ افراد پر بولا جاتا ہے جو کسی اصل مشترک پر جمع ہو۔ انبیاء چونکہ اختلاف زمانہ و مقام کے باوجود ایک عقیدے، ایک دین اور ایک دعوت پر جمع تھے، اس لیے فرمایا گیا کہ ان سب کی ایک ہی امت ہے۔ بعد کا فقرہ خود بتارہا ہے کہ وہ اصل مشترک کیا تھی جس پر سب انبیاء جمع تھے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
53۔دین کے اصول چار اور فرقے سینکڑوں :۔ یعنی اصل دین میں چند موٹی موٹی باتیں شامل تھیں۔اور ہرنبی یہی اصول دین پیش کرتارہا۔مگرلوگوں نے انہیں اصول دین میں اختلاف کرکے سینکڑوں فرقے بناڈالے۔مثلاً پہلی شق توحید ہی کو لیجئے ۔شیطان نے شرک کی بیسیوں نئی سے نئی قسمیں ایجاد کرکے لوگوں کو اس راہ پر ڈال دیا بعض لوگوں نے کسی شخص،نبی یا فرشتوں کو اللہ کی اولاد قراردیا۔ حلول اور اوتار کا عقیدہ وضع کیا اور اللہ تعالیٰ کو بعض لوگوں کے اجسام میں اتاردیا۔کسی نے کہا کہ فلاں ہستی اللہ کے نور میں سے (جداشدہ)نورہے ۔کئی ہستیوں کو اللہ کے علاوہ عالم الغیب اور حاضر و ناضر تسلیم کیا گیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حضرت انسان نے جسے تمام مخلوق سے افضل و اشرف پیدا کیا گیا تھا، اپنے نفع و نقصان کو پتھروں ،درختوں، مویشیوں، ستاروں،جن بھوتوں اور آستانوں سے وابستہ کردیا۔اور ان کے آگے سر تسلیم خم کرنے لگا ۔انہی سے مرادیں مانگنے لگا۔(تیسیر القرآن)
56۔ اسے غلطی پر چوٹ لگتی تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ خدا ابھی اس پر مہربان ہے، اسے تنبیہ کر رہا ہے اور سنبھلنے کا موقع دے رہا ہے۔ لیکن غلطی پر " انعام " یہ معنی رکھتا ہے کہ اسے سخت سزا دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اس کی کشتی اس لیے تیر رہی ہے کہ خوب بھر کر ڈوبے۔ (تفہیم القرآن)
60 ۔۔۔یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک مومن کس قلبی کیفیت کے ساتھ اللہ کی بندگی کرتا ہے۔ اس کی مکمل تصویر حضرت عمر ؓ کی وہ حالت ہے کہ عمر بھر کی بےنظیر خدمات کے بعد جب دنیا سے رخصت ہونے لگتے ہیں تو خدا کے محاسبے سے ڈرتے ہوئے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آخرت میں برابر سرابر بھی چھوٹ جاؤں تو غنیمت ہے۔ حضرت حسن بصری ؒ نے خوب کہا ہے کہ مومن طاعت کرتا ہے پھر بھی ڈرتا رہتا ہے اور منافق معصیت کرتا ہے پھر بھی بےخوف رہتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کا مطلب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ یہ کام کر کے ڈرنے والے لوگ وہ ہیں جو شراب پیتے یا چوری کرتے ہیں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، اے صدیق کی بیٹی یہ بات نہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے اور نمازیں پڑھتے ہیں اور صدقات دیتے ہیں اس کے باوجود اس سے ڈرتے رہتے ہیں کہ شاید ہمارے یہ عمل اللہ کے نزدیک (ہماری کسی کوتاہی کے سبب) قبول نہ ہوں ایسے ہی لوگ نیک کاموں میں مسارعت اور مسابقت کیا کرتے ہیں (رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ۔ مظہری) اور حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو نیک عمل کر کے اتنے ڈرتے تھے کہ تم برے عمل کر کے بھی اتنا نہیں ڈرتے (قرطبی) (معارف القرآن)
62۔ ۔۔اس مضمون کے بعد فوراً ہی یہ فرمایا کہ ہم کسی کو اس کی مقدرت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتے، یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ سیرت، یہ اخلاق اور یہ کردار کوئی فوق البشری چیز نہیں ہے۔ تم ہی جیسے گوشت پوست کے انسان اس روش پر چل کر دکھا رہے ہیں۔ لہٰذا تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو انسانی مقدرت سے باہر ہے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
۔ کتاب سے مراد ہے نامہ اعمال جو ہر ایک شخص کا الگ الگ مرتب ہو رہا ہے۔۔۔۔ بعض لوگوں نے یہاں کتاب سے مراد قرآن لے کر آیت کا مطلب خبط کردیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
70۔ایک طرف تو آپؐ کی دانائی،فرازنگی و خوش تدبیری کا اعتراف اس زور وشور سے ہے،اور دوسری طرف آپؐ کو (نعوذباللہ )نیم مجنون ،صرع زدہ بتانے پر بھی اصرار جاری ہے۔(تفسیر ماجدی)
71۔ یہاں لفظ ذکر کے تین معنی ممکن ہیں اور تینوں ہی صحیح بیٹھتے ہیں۔۔۔۔(1) ذکر بمعنی بیان فطرت۔۔۔ (2) ذکر بمعنیٰ نصیحت۔۔۔ (3) ذکر بمعنی شرف و اعزاز۔ (تفہیم القرآن)
75۔ اشارہ ہے اس تکلیف و مصیبت کی طرف جس میں وہ قحط کی بدولت پڑے ہوئے تھے۔ اس قحط کے متعلق روایات نقل کرتے ہوئے بعض لوگوں نے دو قحطوں کے قصوں کو خلط ملط کردیا ہے جس کی وجہ سے آدمی کو یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے یا بعد کا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کے دور میں اہل مکہ کو دو مرتبہ قحط سے سابقہ پیش آیا ہے۔ ایک نبوت کے آغاز سے کچھ مدت بعد۔ دوسرا، ہجرت کے کئی سال بعد جب کہ ثمامہ بن اثال نے یمامہ سے مکہ کے طرف غلے کی بر آمد روک دی تھی۔ یہاں ذکر دوسرے قحط کا نہیں بلکہ پہلے قحط کا ہے۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
77۔سخت عذاب سے مراد وہ مار ہے جو کافروں کو مسلمانوں کے ہاتھوں پڑتی رہی اور جس کا آغاز غزوہ بدر سے ہواتھا۔(تیسیر القرآن)
۔ اس نام (یعنی ابلیس ) میں یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ یاس اور نامرادی (Frustration) کی بنا پر اس کا زخمی تکبر اس قدر بر انگیختہ ہوگیا ہے کہ اب وہ جان سے ہاتھ دھو کر ہر بازی کھیل جانے اور ہر جرم کا ارتکاب کر گزر نے پر تلا ہوا ہے۔ (تفہیم القرآن)
پانچواں رکوع |
| وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ﴿78﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ ﴿79﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ﴿80﴾ بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ ﴿81﴾ قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ﴿82﴾ لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ﴿83﴾ قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿84﴾ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ﴿85﴾ قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ﴿86﴾ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ﴿87﴾ قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿88﴾ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ ﴿89﴾ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ﴿90﴾ مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ ﴿91﴾ عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿92ع المؤمنون 23﴾ |
| 78. اور وہی تو ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ (لیکن) تم کم شکرگزاری کرتے ہو۔ 79. اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع ہو کر جاؤ گے۔ 80. اور وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا تصرف ہے، کیا تم سمجھتے نہیں۔ 81. بات یہ ہے کہ جو بات اگلے (کافر) کہتے تھے اسی طرح کی (بات یہ) کہتے ہیں۔ 82. کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے اور استخوان (بوسیدہ کے سوا کچھ) نہ رہے گا تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے؟ 83. یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے (اجی) یہ تو صرف اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ 84. کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور جو کچھ زمین میں ہے سب کس کا مال ہے؟ 85. جھٹ بول اٹھیں گے کہ خدا کا۔ کہو کہ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟ 86. (ان سے) پوچھو کہ سات آسمانوں کا کون مالک ہے اور عرش عظیم کا (کون) مالک (ہے)؟ 87. بےساختہ کہہ دیں گے کہ یہ (چیزیں) خدا ہی کی ہیں، کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟ 88. کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ 89. فوراً کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) خدا ہی کی ہے، تو کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑ جاتا ہے؟ 90. بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق پہنچا دیا ہے اور جو (بت پرستی کئے جاتے ہیں) بےشک جھوٹے ہیں۔ 91. خدا نے نہ تو (اپنا) کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے، ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لے کر چل دیتا اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا۔ یہ لوگ جو کچھ خدا کے بارے میں بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے۔ 92. وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور (مشرک) جو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں اس کی شان اس سے اونچی ہے۔ |
تفسیر آیات
83۔ جزاو سزا ،حشر ونشر سے انکار کوئی بیسویں صدی کی" نئی"روشن خیالی نہیں،یہ قدیم گمراہی تو اتنی بوڑھی ہے کہ خود ابلیس کی ہم سن ہے۔(تفسیر ماجدی)
چھٹا رکوع |
| قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ ﴿93﴾ رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ﴿94﴾ وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ ﴿95﴾ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ ﴿96﴾ وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ ﴿97﴾ وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ ﴿98﴾ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ ﴿99﴾ لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ﴿100﴾ فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ ﴿101﴾ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴿102﴾ وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ ﴿103﴾ تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ ﴿104﴾ اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ ﴿105﴾ قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ ﴿106﴾ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ ﴿107﴾ قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ ﴿108﴾ اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚ ۖ ﴿109﴾ فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ ﴿110﴾ اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ ﴿111﴾ قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ ﴿112﴾ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ ﴿113﴾ قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿114﴾ اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ﴿115﴾ فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ ﴿116﴾ وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ ﴿117﴾ وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿118ع المؤمنون 23﴾ |
| 93. (اے محمدﷺ) کہو کہ اے پروردگار جس عذاب کا ان (کفار) سے وعدہ ہو رہا ہے، اگر تو میری زندگی میں ان پر نازل کرکے مجھے بھی دکھادے۔ 94. تو اے پروردگار مجھے (اس سے محفوظ رکھیئے اور) ان ظالموں میں شامل نہ کیجیئے۔ 95. اور جو وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں ہم تم کو دکھا کر ان پر نازل کرنے پر قادر ہیں۔ 96. اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو۔ اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے۔ 97. اور کہو کہ اے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہو۔ 98. اور اے پروردگار! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں۔ 99. (یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا کہ اے پروردگار! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے۔ 100. تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں۔ ہرگز نہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا (اور اس کے ساتھ عمل نہیں ہوگا) اور اس کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے، (رہیں گے)۔ 101. پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ تو ان میں قرابتیں ہوں گی اور نہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ 102. تو جن کے (عملوں کے) بوجھ بھاری ہوں گے۔ وہ فلاح پانے والے ہیں۔ 103. اور جن کے بوجھ ہلکے ہوں گے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا، ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ 104. آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھائے ہوں گے۔ 105. کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتیں تھیں (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے۔ 106. اے ہمارے پروردگار! ہم پر ہماری کم بختی غالب ہوگئی اور ہم رستے سے بھٹک گئے۔ 107. اے پروردگار! ہم کو اس میں سے نکال دے، اگر ہم پھر (ایسے کام) کریں تو ظالم ہوں گے۔ 108. (خدا) فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔ 109. میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو تُو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ 110. تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے۔ 111. آج میں نے اُن کو اُن کے صبر کا بدلہ دیا، کہ وہ کامیاب ہوگئے۔ 112. (خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے؟ 113. وہ کہیں گے کہ ہم ایک روز یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیئے۔ 114. (خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے۔ کاش تم جانتے ہوتے۔ 115. کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟ 116. تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی شان) اس سے اونچی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش بزرگ کا مالک ہے۔ 117. اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ بھی سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے۔ 118. اور خدا سے دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ |
تفسیر آیات
94۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذاللہ اس عذاب میں نبی ﷺ کے مبتلا ہوجانے کا فی الواقع کوئی خطرہ تھا، یا یہ کہ اگر آپ یہ دعا نہ مانگتے تو اس میں مبتلا ہوجاتے۔ بلکہ اس طرح کا انداز بیان یہ تصور دلانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے کہ خدا کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق چیز۔ (تفہیم القرآن)
95۔ کفارِ مکہ پر اس قسم کے عذاب کا آغاز غزوۂ بدر سے ہی ہوگیا تھا۔اور اختتام حجۃ الوداع کے دن اعلان براءت پر ہوا ۔ جس کی روسے مشرکین مکہ ہی نہیں بلکہ عرب بھر کے مشرکوں کو چارماہ کی مہلت دی گئی کہ اس عرصہ کے اندر خواہ وہ اسلام قبول کرلیں یا جزیرۃ العرب کو خالی کردیں اور یہاں سے نکل جائیں ۔یا پھر ان سے جہاد کرکے ان کا کلی استیصال کردیا جائے گا۔یہ تو وہ عذاب تھا جو رسول اللہؐ کی زندگی میں ہی ان پر نازل ہوا اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں تو آس پاس کے ممالک سے شرک اور مشرکین کا کلی طورپر خاتمہ ہوگیا اور اسلام کا بول بالا ہوا۔(تیسیر القرآن)
۔ نبی ﷺ کو اس دعا کی تلقین صرف اس عذاب کی شدت کو نہیں ظاہر کر رہی ہے۔ جیسا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس میں ہجرت کی طرف اشارہ بھی ہے کہ اے رب اگر یہ عذاب میری زندگی ہی میں آنے والا ہے تو اس کے آنے سے پہلے پہلے میری اور میرے باایمان ساتھیوں کی نجات کی راہ کھولنا۔ گویا دعا کے اسلوب میں آپ کو یہ بشارت بھی دے دی گئی کہ اس عذاب سے محفوظ رکھنے کا سامان آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے کرلیا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
99۔ رَبِّ ارْجِعُوْنِ ، یعنی موت کے وقت کافر پر جب آخرت کا عذاب سامنے آنے لگتا ہے تو وہ تمنا کرتا ہے کہ کاش میں پھر دنیا میں لوٹ جاؤں اور نیک عمل کر کے اس عذاب سے نجات حاصل کرلوں۔ ابن جریر نے بروایت ابن جریج نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ موت کے وقت مومن جب رحمت کے فرشتے اور رحمت کے سامان سامنے دیکھنے لگتا ہے تو فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم چاہتے ہو کہ پھر تمہیں دنیا میں واپس کردیا جائے تو وہ کہتا ہے کہ میں اس غموں اور تکلیفوں کے عالم میں جا کر کیا کروں گا مجھے تو اب اللہ کے پاس لے جاؤ اور کافر سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتا ہے رَبِّ ارْجِعُوْنِ یعنی مجھے دنیا میں لوٹا دو۔ (معارف القرآن)
100۔ برزخ زمانی از موت تا قیامِ قیامت :۔ یہاں برزخ کا لفظ استعمال ہواہے جس کا معنی پردہ، آڑ،روک وغیرہ ہے اور بعض کے نزدیک یہ فارسی لفظ پردہ ہی کا معرب ہے۔لیکن روک یا پردہ ایسا نہیں جیسے دو چیزوں کے درمیان کوئی کپڑا لٹکا کر یا دیوار بنا کر ہر چیز کو دوسری سے اوجھل کردیا جاتاہے ۔جبکہ اس روک میں ایک طویل مدت زمانی بھی شامل ہے ۔اور یہ برزخ کسی انسان کی موت کے وقت سے لے کر اس کے دوبارہ جی اٹھنے تک کے زمانہ کو محیط ہے ۔اہل برزخ سے عالم دنیا بھی اوجھل ہوتاہے اور عالمِ عقبیٰ بھی۔اس عالم برزخ کو اللہ تعالیٰ نے موت کے زمانہ سے تعبیر کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس عرصہ کے دوران موت کے اثرات غالب ہوتے ہیں ۔ تاہم روح چونکہ زندہ ہی رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہوتی ہے لہذا اس عرصہ میں بھی زندگی کے تھوڑے بہت آثار پائے جاتے ہیں ۔ اس عرصہ میں بہت کو عذاب و ثواب بھی ہوتاہے لیکن یہ عذاب و ثواب قیامت کے عذاب و ثواب کی نسبت بہت ہلکا ہوتاہے اسی عرصہ کے عذاب کو عذابِ قبر کہتے ہیں خواہ میت کا جسم قبر میں موجود ہو یا گل سڑگیا ہوا یا درندوں نے کھالیا ہو یا پانی کی تہہ میں چلا گیا ہو۔(تیسیر القرآن)
101۔ یہ قیامت کے دن کی نفسی نفسی کی تصویر ہے کہ اس دن نہ کسی کا نسب کچھ کام آئے گا اور وہ ایک دوسرے سے طالب مدد ہی ہو سکیں گے۔ تساؤل کے معنی آپس میں ایک دوسرے سے طالب مدد ہونا ہے۔ مصیبت کے وقت میں نسبی و خاندانی عصبیت اور قومی و قبائلی تعاضد و تناصر اس دنیا میں بڑا سہارا ہے اور عربوں میں اس چیز کو خاص طور پر بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جب کوئی شخص کسی مصیبت میں اپنے خاندان یا قبیلہ کی دہائی پکار دیتا تو اس کے قبیلہ کا ہر شخص اس کی حمایت میں کٹ مرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا۔ فرمایا کہ صور پھونکے جانے کے بعد سارے نسب ختم ہوجائیں گے اور کوئی ایک دوسرے سے نہ طالب مدد ہو سکے گا اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔ (تدبرِ قرآن)
104۔ اصل میں لفظ کالِحُوْنَ استعمال کیا گیا ہے۔ کالح عربی زبان میں اس چہرے کو کہتے ہیں جس کی کھال الگ ہوگئی ہو اور دانت باہر آگئے ہوں جیسے بکرے کی بھنی ہوئی سری۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ سے کسی نے کالح کے معنی پوچھے تو انہوں نے کہا اَلَمْ تَرَ اِلَی الرأس المشیط ؟ " کیا تم نے بھنی ہوئی سری نہیں دیکھی " ؟ (تفہیم القرآن)
108۔ لفظ خساء کتے کو دھتکارنے کے لئے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی اس التجا کا یہ جواب ملے گا کہ چلو دفع ہو؟ اسی میں پڑے رہو اور اب مجھ سے کوئی بات نہ کرو۔ (تدبرِقرآن)
115۔ اصل میں عَبَثاً کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جس کا ایک مطلب تو ہے " کھیل کے طور پر "۔ اور دوسرا مطلب ہے " کھیل کے لیے " پہلی صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے۔ " کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بطور تفریح بنادیا ہے، تمہاری تخلیق کی کوئی غرض وغایت نہیں ہے، محض ایک بےمقصد مخلوق بنا کر پھیلا دی گئی ہے۔ " دوسری صورت میں مطلب یہ ہوگا " کیا تم یہ سمجھتے تھے کہ تم بس کھیل کود اور تفریح اور ایسی لاحاصل مصروفیتوں کے لیے پیدا کیے گئے ہو جن کا کبھی کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے "۔ (تفہیم القرآن)
116۔ ملاحظہ ہوسورۃ الاعراف کی آیت ثمَّ استَوَیٰ عَلَی العَرشِ کا حاشیہ۔۔۔۔دونوں آیتوں کو ملاکر پڑھئےتو صاف سبق یہ ملتاہے کہ خدائے برتریا خالقِ کائنات کا محض وجود تسلیم کرلینا ہرگز کافی نہیں۔وہ عالی شان و عالی قدر ہستی تو ایسی ہے جس نے اس کائنات کی بامقصد تخلیق کی ہے،اور انسان کو ایک مقصد رکھنے والا حیوان بنایاہے۔جس سے لازمی نتیجہ یہ نکلتاہے کہ اس عالی قدر خالق نے انسان کو زندگی کا ایک مکمل دستور العمل بھی عطا کیا ہے۔اور انسان کا فرض محض خدا کو ماننانہیں بلکہ اس کے احکام کی تعمیل کرنا ہے۔احکام ظاہر ہے کہ رسول کے ذریعے سے آئیں گے،اور ان کی تعمیل و عدم تعمیل کی جانچ حشر کے دن ہوگی۔اس طرح اگر صفات باری صحیح طورپر سمجھ لئے جائیں تو رسالت و آخرت دونوں کے عقیدے اس سے بطور فرع کے لازم آجاتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
117۔ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ ، سورة مومنون کی ابتدا قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤ ْمِنُوْنَ سے ہوئی تھی اور انتہا لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ پر کی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ فلاح یعنی مکمل کامیابی مومنین ہی کا حصہ ہے کفار اس سے محروم ہیں۔ (معارف القرآن)
118۔ اس الحاح و لجاجت کے ساتھ دعا کرنے کی تعلیم افضل البشر کو مل رہی ہے ،تو دوسروں کا کیا ذکر ہے! اللہ اللہ،کتنا زور عبدیت پر،اور کتنی رعایت غیرت توحید کی ہے!۔۔۔۔(تفسیر ماجدی)