24 - سورة النور (مدنیہ)
| رکوع - 9 | آیات - 64 |
مضمون: معاشرتی و سیاسی زندگی میں ایمان کے تقاضے اور وہ احکام و ہدایات جو اسلامی معاشرہ کو ایمان کے تقاضوں سے منور کرنے اور منافی ایمان مفاسد سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون : عائلی ، معاشرتی اور فوجداری قوانین ، زنا ، پردہ ، حد زنا ، غض بصر ، واقعہ افک ، چادر اور چاردیواری کا احترام ، حد قذف ، لعان ، نور خدا ، خلافت ارضی کا وعدہ ، احترام رسالت مآب ؐ وغیرہ ۔
شان نزول : یہ سورۃ سن 6ہجری میں غزوہ بنی المصطلق کے بعد واقعہ افک کے سلسلہ میں نازل ہوئی ۔ مفسرین کی تحقیق کے مطابق یہ سورت سورۃ احزاب کے کئی ماہ بعد نازل ہوئی ۔
سورت"الاحزاب"ذوالقعدہ 5ہجری میں نازل ہوچکی تھی ۔ غزوہ بنی المصطلق شعبان6ہجری میں ہوا۔سورت"النور"غالباً شعبان،یا رمضان 6ہجری میں غزوہ بنی المصطلق کے سفر سے واپسی پر، سورۂ الاحزاب کے نزول کے ایک سال بعد نازل ہوئی۔یہ وہ زمانہ تھا، جب منافقین رسول اللہؐ کی ذاتی زندگی پر جھوٹے الزامات کے ذریعے لاف زنی کررہے تھے ۔پہلے حضرت زینبؓ کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کرلی۔پھر حضرت عائشہؓ پر الزام لگایا گیا۔اس سورت میں بشارت دی گئی کہ دوسال کے اندراندر فتحِ مکہ ہوگی۔"استخلاف فی الارض"کا وعدہ پورا ہوگا۔(آیت:55))قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی(
سورۂ النور کا کتابی ربط
پچھلی سورت"المؤمنون"میں مومنین سے ایمانی،اخلاقی،عبادتی اور مالی جامع اوصاف کا مطالبہ تھا، جوانفرادی اہمیت کے حامل تھے۔یہاں سورت"النور"میں ریاست کی تنظیم اور ان کے اداروں کےذریعے ان اوصاف کی تنفیذ اور قانونی ،معاشرتی اور فوجداری قوانین(Criminal Code)کے نفاذ کا مطالبہ ہے۔)قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی(
نظم کلام : سورۃ یونس تا سورۃ نور ( 14 + 1 ) تیسرے گروپ کی آخری سورت ۔(تفصیل سورہ یونس میں)
اہم مضامین:
1۔ سورۂ النور کے احکام کی فرضیت:"سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا"(آیت:1)کے الفاظ سے یہ بات سمجھی گئی ہے کہ یہ محض سفارشات نہیں ہیں، بلکہ فرض احکام ہیں۔2۔ واضح غیرمبہم دلائل و احکام:۔ اس سورت میں"آیات"کا لفظ بارباراستعمال ہواہے۔"آیات"کا لفظ احکام کے معانی میں آیا ہے۔"اٰیٰت بَیِّنٰت"(آیت:1)،"یُبیِّن"(آیات:18، 58، 59 اور 61) مُبِیْنُ(آیت:54)،"اٰیٰتٌ مُّبَیِّنٰت"(آیات:34 اور 46)صرف آیت نمبر 46 میں"اٰیٰتٌ مُّبَیِّنٰت"کالفظ، دلائل(Evidence)کے معنیٰ میں استعمال ہواہے۔
ترتیب مطالعہ : (1 ) ر – 1 ( زنا کی سزا ، قذف اور لعان ) (2 ) ر – 2 /3 ( واقعہ افک ) (3 ) ر – 4 ( اجازت اور پردہ کے احکام ) (4 ) ر- 5 ( اللہ کے نور اور ظلمات کی خوبصورت تمثیلیں ) (5 ) ر -6 ( ذات باری تعالی کے مشاہدات ) (6) ر -7 ( خلافت ارضی کا وعدہ ) (7 ) ر -8 ( حجاب کے مزید احکام ) (8 ) ر – 9 ( احترام رسالت مآب ؐ ) ۔
تاریخی پس منظر: صفحہ307تا318(بشمول قذف، لعان وغیرہ)(تفہیم القرآن)
پہلا رکوع |
| سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ﴿1﴾ اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿2﴾ اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿3﴾ وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ ﴿4﴾ اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿5﴾ وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ ﴿6﴾ وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ ﴿7﴾ وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ ﴿8﴾ وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ﴿9﴾ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ ۧ ۧ ﴿10ع النور 24﴾ |
| 1. یہ (ایک) سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا اور اس (کے احکام) کو فرض کر دیا، اور اس میں واضح المطالب آیتیں نازل کیں تاکہ تم یاد رکھو۔ 2. بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد (جب ان کی بدکاری ثابت ہوجائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو۔ اور اگر تم خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو شرع خدا (کے حکم) میں تمہیں ان پر ہرگز ترس نہ آئے۔ اور چاہیئے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو۔ 3. بدکار مرد تو بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (یعنی بدکار عورت سے نکاح کرنا) مومنوں پر حرام ہے۔ 4. اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا عیب لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو۔ اور یہی بدکردار ہیں۔ 5. ہاں جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنی حالت) سنوار لیں تو خدا (بھی) بخشنے والا مہربان ہے۔ 6. اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور خود ان کے سوا ان کے گواہ نہ ہوں تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ پہلے تو چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بےشک وہ سچا ہے۔ 7. اور پانچویں بار یہ (کہے) کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت۔ 8. اور عورت سے سزا کو یہ بات ٹال سکتی ہے کہ وہ پہلے چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بےشک یہ جھوٹا ہے۔ 9. اور پانچویں دفعہ یوں (کہے) کہ اگر یہ سچا ہو تو مجھ پر خدا کا غضب (نازل ہو)۔ 10. اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتیں۔ مگر وہ صاحب کرم ہے اور یہ کہ خدا توبہ قبول کرنے والا حکیم ہے۔ |
تفسیر آیات
1۔ "لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ" ان تنبیہات کی طرف اشارہ ہے جو اس سورۃ میں احکام و ہدایات کے بیان کے ساتھ مقطع کی طرح بار بار وارد ہوئی ہیں ۔ مثلا ملاحظہ ہوں آیات : 10 ، 14 ، 17 ، 20 ، 34 ، 46 ، 58 ۔) تدبرقرآن(
2۔ ان سب فقروں میں"(ہم نے)پر زور ہے۔ یعنی اس کا نازل کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ہم ہیں اس لیے اسے کسی بے زور ناصح کلام کی طرح ایک ہلکی چیز نہ سمجھ بیٹھنا۔خوب جان لو کہ اس کا نازل کرنے والا وہ ہے جس کے قبضے میں تمہاری جانیں اور قسمتیں ہیں ،اور جس کی گرفت سے تم مرکر بھی نہیں چھوٹ سکتے۔دوسرے فقرے میں بتایا گیا ہے کہ جو باتیں اس سورہ میں کہی گئی ہیں وہ"سفارشات"نہیں ہیں کہ آپ کا جی چاہے تو مانیں ورنہ جو کچھ چاہیں کرتے رہیں،بلکہ یہ قطعی احکام ہیں جن کی پیروی کرنا لازم ہے۔اگر مومن اور مسلم ہو تو تمہارافرض ہے کہ ان کے مطابق عمل کرو۔تیسرے فقرے میں بتایا گیاہے کہ جو ہدایات اس سورہ میں دی جارہی ہیں ان میں کوئی ابہام نہیں ہے۔صاف صاف اور کھلی کھلی ہدایات ہیں جن کے متعلق تم یہ عذر نہیں کرسکتے کہ فلاں بات ہماری سمجھ ہی میں نہیں آئی تھی تو ہم عمل کیسے کرتے ۔بس یہ اس فرمان مبارک کی تمہید (Preamble)ہے جس کے بعد احکام شروع ہوجاتے ہیں ۔اس تمہید کا اندازِ بیان خود بتارہاہے کہ سورۂ نور کے احکام کو اللہ تعالیٰ کتنی اہمیت دے کر پیش فرمارہاہے کسی دوسری احکامی سورت کا دیباچہ اتناپرزور نہیں ہے۔۔۔اس مسئلے کے بہت سے قانونی ،اخلاقی اور تاریخی پہلوتشریح طلب ہیں جن کو اگر تفصیل کے ساتھ بیان نہ کیا جائے تو موجودہ زمانے میں ایک آدمی کیلئے اس تشریع الٰہی کا سمجھنا مشکل ہے۔اس لیے ذیل میں ہم اس کے مختلف پہلوؤں پر سلسلہ وار روشنی ڈالیں گے: (1)زنا کا عام مفہوم، جس سےہر شخص واقف ہے، یہ ہے کہ "ایک مرد اور ایک عورت بغیر اس کے کہ ان کے درمیان جائز رشتۂ زن و شوہو،باہم مباشرت کا ارتکاب کریں"اس فعل کا اخلاقاً براہونا ،یا مذہباً گناہ ہونا، یا معاشرتی حیثیت سے معیوب اور قابلِ اعترااض ہونا۔"۔۔۔(تفہیم القرآن)
۔ یہاں یہ چیز بھی قابل توجہ ہے کہ سزا کے بیان میں عورت کا ذکر مرد کے ذکر پر مقدم ہے اس کی وجہ جہاں یہ ہے کہ زنا عورت کی رضا مندی کے بغیر نہیں ہوسکتا وہاں یہ بھی ہے کہ صنف ضعیف ہونے کے سبب سے اس کے معاملہ میں جذبہ ہمدردی کے ابھرنے کا زیادہ امکان ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے یہاں اس کے ذکر کو مقدم کردیا تاکہ اسلوب بیان ہی سے یہ بات واضح ہوجائے کہ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہے، عورت ہو یا مرد۔ (تدبرِ قرآن)
ـــ اولین چیز جو اس آیت میں قابل توجہ ہے وہ یہ کہ یہاں فوجداری قانون کو دین اللہ فرمایا جا رہا ہے ، محض نماز روزہ حج ، زکواۃ دین نہیں بلکہ مملکت کا قانون بھی دین ہے ، جس نے قانون کو رد کیا اس نے دین کو رد کیا ۔ دوسرے یہ کہ مجرم کیلئے رحم اور شفقت کا جذبہ -حدیث رسول ؐ قیامت کے روز ) ایک حاکم ، ایک کوڑا کم ، دوسرا ایک کوڑا زیادہ ) کوڑوں کی بجائے کوئی اور سزا رحم کی وجہ سے یہ معصیت ہے ۔ اگر کوڑوں کی سزا اس لئے نہ دی جائے کہ یہ وحشیانہ ہے تو ذلیل ترین منافقت - خدا کو خدا بھی ماننا اور اسکو معاذ اللہ وحشی بھی کہنا - ذلیل ترین نہیں تو اور کیا ۔
آج کل کے نام نہاد مہذب معاشروں میں جیلوں میں کوڑوں کی سزا ایک سپرینڈنٹ جیل دیتا ہے جو چمڑہ ادھیڑ دیتی ہے-علاوہ ازیں گوانتانامو اور امریکی جیلوں اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی سزا کی کہانیاں تو ہم اکثر سن چکے۔ (تفہیم القرآن)
ـــ عبرت آموز سزاؤں کے مقابل میں جب ہم اپنے ملک کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو سیدنا مسیح ؑ کے الفاظ میں کہنا پڑتا ہے کہ تم نے میرے باپ کے گھر کو چوروں اور ڈاکوؤں کا بھٹ بنا کے رکھ دیا ہے ۔۔۔۔۔ اسلامی حدود و تعزیرات کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ ان سے دوسروں کو عبرت و موعظت حاصل ہو چنانچہ قرآن میں انکو نکال سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ جس کے معنی عبرت انگیز سزا کے ہیں اس مصلحت کا تقاضہ یہ ہوا کہ یہ سزائیں پبلک میں ، مسلمانوں کی ایک جماعت کی موجودگی میں دیجائیں اگر یہ جیل کی کال کوٹھڑیوں میں چھپ چھپائے دی جائیں تو انکی مصلحت فوت ہوجاتی ہے ۔ (تدبر قرآن)
ــــ زنا کی سزا کیلئے چند قیود :۔ اس آیت کے ظاہر الفاظ کا جہاں تک تعلق ہے وہ تو ہر قسم کے زانی اور ہرقسم کی زانیہ کیلئے عام ہیں لیکن ہمارے فقہاء نے اس عموم پر بعض قیدیں عاید کی ہیں جن میں سے بعض صحیح ہیں۔ بعض ہمارے نزدیک غلط ہیں اور بعض محتاج تفصیل ہیں۔اگر چہ ہمارے لیے فقہی مباحث میں زیادہ گھسنے کی گنجائش نہیں ہے لیکن بعض ضروری باتوں کی طرف اشارہ ناگزیر ہے۔ایک یہ کہ اس حدکے اجراء و نفاذ کیلئے دارالاسلام یا بالفاظ دیگر اسلامی حکومت کا ہونا ضرور ی ہے۔ہمارے نزدیک یہ شرط لازمی ہے یہ احکام نازل ہی اسی وقت ہوئے ہیں جب اسلامی حکومت مدینہ استوار ہوگئی۔دوسری یہ کہ یہ حد صرف عاقل و بالغ پر نافذ ہوگی۔نابالغ اور فاتر العقل اس سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ بات بھی بالکل بدیہی ہے۔نابالغ اور مجنون ہرقانون میں مرفوع القلم سمجھے گئے ہیں۔تیسری یہ کہ غلام اور لونڈی پر صرف نصف حد جاری ہوگی۔یہ بات بھی صحیح معلوم ہوتی ہے ۔اس کی دلیل سورۂ نساء آیت25 میں موجود ہے۔اصلی یہ ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں غلاموں کا عقلی واخلاقی معیار اتناپست ہوچکا تھا کہ ان کو یک بیک آزادوں کی صف میں نہیں لایا جاسکتا تھا۔اس وجہ سے ان کے معاملات میں اسلام نے ایک تدریج ملحوظ رکھی۔یہاں تک کہ جب ان کی ذہنی و اخلاقی حالت بلند ہوگئی تو ان کیلئے مکاتبت کا وہ قانون نازل ہوگیا جو اسی سورہ میں آگے زیر بحث آئے گا۔اس قانون کے بعد ہر ذی صلاحیت غلام کیلئے آزادی کی نہایت کشادہ راہ کُھل گئی اور وہ حقوق اور ذمہ داریوں ،دونوں میں، دوسروں کے ساتھ برابر کے شریک ہوگئے۔آگے ہم اس مسئلہ کے بعض اہم پہلو واضح کریں گے۔چوتھی قید فقہاء کے ایک گروہ نے یہ عائید کی ہے کہ یہ حد صرف مسلمان پر نافذ ہوگی،غیر مسلم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ بات ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔اسلامی حکومت میں غیر مسلم رعایا اپنے پرسنل لاء کے حد تک تو بے شک حکومت کے عام قوانین سے مستثنیٰ ہوگی لیکن حدود و تعزیرات سے،جن کا تعلق ملک کے امن و عدل سے ہے اس کو مستثنٰی رکھنا کس طرح ممکن ہے۔۔۔پانچویں قید تقریباً تمام فقہاء نےاس پر عاید کی ہے کہ اس حد کا تعلق صرف اس زانی سے ہے جس کی شادی نہ ہوئی ہو یا شادی توہوئی ہو لیکن ابھی اس نے مباشرت نہ کی ہو، رہے وہ جن کی شادی بھی ہوچکی ہے اور جو مباشرت بھی کرچکے ہیں تو ان کیلئے سزا رجم کی ہے ۔اس رجم کا ثبوت وہ نبی اکرمؐ اور خلفائے راشدین کے عمل سے لاتے ہیں اور اس طرح وہ اس آیت میں بیان کردہ حدکنوارے اور کنواری کیلئے خاص کردیتے ہیں یا یوں کہیے کہ شادی شدہ زانی اور زانیہ کے حدتک اس کو سنت کے ذریعہ سے منسوخ مانتے ہیں۔۔۔فقہاء نے جس روایت کی بناپر شادی شدہ کی حدتک اس آیت کو منسوخ قراردیا ہے وہ عبادہ بن صامت سے بدیں الفاظ مروی ہے۔"عبادہ بن صامت راوی ہیں کہ نبیؐ نے فرمایا کہ میں اس وقت جو کچھ بتارہاہوں اس کو میری طرف سے محفوظ کرو۔زانیہ عورتوں کے باب میں اللہ نے جو حکم نازل کرنے کا وعدہ کیا تھاوہ نازل فرمادیا ۔پس اگر مرتکب زنا دونوں کنوارے ہوں تو ان کیلئے سوکروڑوں اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ہے اور اگر دونوں شادی شدہ ہوں تو کوڑے اور رجم کی سزا ہے۔"(تدبر قرآن)
ـــــ رجم کی سزا، سنت رسول ، ؐ سابقہ شریعتیں اور اجماع صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم ۔ (بیان القرآن)
ـــــ اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ۔زنا لغت میں ہر اُس ہمبستری کے لئے عام ہے جو قید نکاح سے باہر ہو۔لیکن سنت رسولؐ نے اس عموم کو یہاں سیاق میں مخصوص و مقید کردیا ہے۔جیساکہ اور بہت سے موقعوں پر کیا ہے۔ یہاں مراد وہ زانی اور زانیہ ہیں ،جو آزاد ہوں، عاقل ہوں،بالغ ہوں، لیکن ہنوز ان کا نکاح نہ ہواہو،یا نکاح تو ہو چکا ہولیکن ہمبستری کی نوبت ابھی نہ آئی ہو۔۔۔۔جس مسلمان میں پوری صفتیں جمع ہوں، یعنی وہ آزاد ہو،عاقل ہو، بالغ ہو، نکاح اور ہم بستری کرچکا ہوں،اس کے لئے شریعت میں اصطلاح محصن یا محصنہ کی ہے۔اس کے لئے سزا ئے زنا رجم یا سنگساری ہی ہے،تاآنکہ وہ مرجائے۔یہ سزا سنت رسولؐ سے ،تعامل صحابہ سے ،مجتہدین اُمت کے اجماع سے متفقہ طورپر ثابت ہے۔اختلاف کسی سے منقول نہیں، بجز خوارج جدید کے۔۔۔۔کتاب اللہ تو سزا سوتازیانے مقررکررہی ہے،اور سنت رسولؐ و تعامل صحابہ سے شادی شدہ کے لئے رجم یا سنگساری ثابت ہورہی ہے۔سوال اس زمانہ میں شدت کے ساتھ آیا ہے ۔اور علماء نے مختلف جوابات دئیے ہیں۔لیکن حقیقی جواب بالکل صاف و سہل ہے۔شادی شدہ زانیہ تو علاوہ اپنی عصمت برباد کرنے کے اپنے شوہر سے عملی غداری و بے وفائی ہی تو کرتی ہے ،اور اس طرح زنائے مفرد کی مرتکب ہی کب رہتی ہے؟ وہ تو دہرے اور مرکب جرم کی مجرم ہوگئی۔اس لئے بالکل قدرتی اور عین مقتضائے عدل ہے کہ اسے سزا بھی دہری یا دگنی ملے۔اور اس کے لئے سنت رسولؐ نے سزائے رجم رکھ دی۔ وقس علٰی ہذا۔شادی شدہ مرد بھی قطع نظر اس کے کہ اپنی بیوی کے حق کا اتلاف کرتاہے۔ لذت ہم بستری سے طبعاً لذت گیر ہونے کے بعد مزید ہوس نفس پرستی میں مبتلا ہوتاہے ۔ اس لئے اسے بھی سزا دہری ہی ملنا چاہئے ۔محض زنا کے جرم مفرد کی سزا سنت نے بھی محض تازیانہ زنی ہی رکھی ہے ،رجم سزا صرف زنائے مرکب یا دہرے جرم کی ہے۔۔۔۔۔ فَاجْلِدُوْا۔اس حکم کے مخاطب امرائے اسلام ہیں۔ یعنی امیر المؤمنین یا ان کے مقرر کئے ہوئے قاضٰ و حاکم۔اور اجرائے حدود کا محل دارالاسلام ہے، دارالحرب نہیں۔۔۔۔حد اصطلاح شریعت میں اس سزا کا نام ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہو۔ اور اس کی مقدار شارع کی متعین کی ہوئی ہو۔ اس کا نفاذ حکم امیر اسلام کے بغیر جائز نہیں اور اس میں تخفیف و ترحم کا حق امیر کو بھی حاصل نہیں۔۔۔۔۔اجرائے حد زنا کی شرط یہ ہے کہ چار کی تعداد میں مسلم، عاقل، بالغ،عادل گواہ ،چشم دید تفصیلی شہادت دیں یا مجرم خود چار بار اقرار کرے ،شبہ سے حد ساقط ہوجائے گی۔عورت اگر مجنون ،مجبور،بے ہوش یا نیند سے معذور ہو تو سزا سے معاف رہے گی۔ اسی طرح مرد مجبور بھی ماخوذ نہ ہوگا۔(تفسیر ماجدی)
3۔ اس آیت کا مفہوم سمجھنے میں لوگوں کو بڑی پریشانی ہوتی ہے۔ حالانکہ اس کے شان نزول کو پیش نظر رکھا جائے تو مطلب بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ حضرت مرثد کا یہ دستور تھا کہ مشرکین مکہ کے پاس جو مسلمان قیدی ہوتے یہ رات کی تاریکی میں وہاں جاتے اور کسی نہ کسی طرح کفار کی اسیری سے انہیں نکال لاتے۔ اسی سلسلہ میں وہ ایک دفعہ مکہ گئے، چاندنی رات تھی ایک مکان کے سایہ میں سمٹے بیٹھے تھے کہ کوئی دیکھ نہ لے۔ اتفاقاً عناق نامی ایک عورت جس سے زمانہ جاہلیت میں ان کے برے تعلقات تھے وہ ادھر آ نکلی۔ اس نے جب ایک متحرک سایہ دیکھا تو اور قریب آگئی اور انہیں پہچان لیا۔ پوچھا مرثد ہو؟ انہوں نے کہا ہاں اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اہلا و مرحبا (خوش آمدید) کہتی ہوئی آگے بڑھی۔ کہنے لگی ھلم فبت عندنا اللیل، آؤ آج رات ہمارے پاس گزارو۔ میں نے کہا یا عناق حرم اللہ تعالی الزنا اے عناق اللہ تعالی نے زنا کو حرام کر دیا ہے۔ اب میں تمہارے پاس شب باشی کی جرات نہیں کر سکتا۔۔۔ بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر میں نے سارا ماجرا بیان کیا، پھر عرض کی یا رسول اللہ أ انکح عناق اجازت ہو تو عناق سے نکاح کر لوں؟ حضور خاموش رہے۔ کچھ دیر بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ حضور نے مجھے بلایا اور حکم الہی پڑھ کر سنایا۔۔۔ اس شان نزول سے معلوم ہوا کہ زانیہ سے مراد پیشہ ور عورت ہے۔ کوئی غیرت مند انسان ایسی عورت کو اپنے نکاح میں لینے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور زانی سے مراد وہی مرد ہے جو اس فعل کے ارتکاب میں شہرت رکھتا ہو اور شرم و حیا کی چادر اس نے اتار کر پھینک دی ہو۔ ایسے شخص کو بھی کوئی مومن عورت اپنا خاوند بنانے کے لیے آمادہ نہیں ہوتی۔۔۔ ایک شاعر کہتا ہے
و تجتنب الاسود ورود ماء اذا کان الکلاب یلغن فیہ
یعنی شیروں کے لیے ایسی جگہ سے پانی پینا مناسب نہیں جہاں کتے آ کر منہ ڈالتے ہوں۔ (ضیاء القرآن)
ـــــ بہت سی جاہلی قوموں میں یہ دستور بھی رہاہے،کہ عورت ایک طرف کسی کے نکاح میں بھی ہےاور دوسری طرف شوہر کے علم میں بلکہ اس کی اجازت سے زنا کاری میں بھی مبتلا ہے۔اور یہ دستور عرب میں بھی موجود تھا۔آیت میں ممانعت ایسی ہی بے آبرو عورتوں سے نکاح کی ہورہی ہے۔آیت قرآنی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ایسی بے عصمت عورت کی طرف کوئی رغبت کربھی کیسے سکتاہے جب تک کہ وہ خود بھی ایسی ہی مسخ شدہ ذہنیت کا شکار نہ ہو۔(تفسیر ماجدی)
4ـ اسی جرم یعنی اتہام زناکو اصطلاح فقہ میں قذف کہتے ہیں۔اس کا اجراء مقذوف کے مطالبہ ہی پر ہوسکے گا۔یہ ساقط بھی ہوسکتی ہے ،اگر مقذوف معاف کردے۔غلام و باندی پر تہمت کی سزا نصف یعنی چالیس دُرّے ہیں۔شاید اس لئے کہ ان بیچاروں کو اپنے تحفظ عصمت کے اہتمام کے وہ مواقع حاصل نہیں جو آزادوں کو رہتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
ــــ الزام سے مراد زنا کی تہمت ہے۔ اگر ایسے لوگ چار معتبر گواہ پیش نہ کرسکیں تو ان کو قذف کی یہ سزا دی جائے گی اور ان کو ہمیشہ کے لیے ساقط الشہادت قراردے دیا جائے گا۔اس امر کے افراد کا اصل مرتبہ یہ ہے کہ وہ زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔ ساقط الشہادت قراردیے جانے کے بعد وہ اس مرتبہ سے معزول ہوجاتے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
5۔ بَعْدِ ذٰلِكَ۔یعنی اجرائے حد کے بعد ۔ وَ اَصْلَحُوْا۔یعنی جس پر تہمت لگائی تھی، اس سے اپنا قصور معاف کرالیں۔فقہاء حنفیہ نے لکھا ہے کہ اجرائے حد قذف تو بہ سے ساقط نہیں ہوجاتا۔ اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا۔ یہ استثناء آیت مقبل کے تین احکام(اجرائے حد، عدم قبول شہادت اور فاسقیت)میں سے کس کس سے ہے؟ حنفیہ اور تابعین کا مسلک ہے استثناء صرف حکم فاسقیت سے ہے، اور قاذف توبہ کے بعد بھی بدستور مردود الشہادۃ رہے گا۔(تفسیر ماجدی)
9۔قسم کے ذریعے یہ فیصلہ اصطلاح میں لعان کہلاتاہے ۔لعان کے مرحلہ سے گزرنے کے بعد قاضی میاں اور بیوی کے درمیان تفریق کرادے گا۔اس آیت میں جس سزا کا حوالہ ہے وہ سوکوڑوں کی وہی سزا ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
ــــ یعنی عورت بھی اگر اسی طرح پانچ بار حلفی شہادت مرد کی تکذیب میں دے، تو حد زنا سے تو بچ جائے گی،البتہ اس مرد پر حرام ہوجائے گی، قاضی ان کے درمیان تفریق کرادے گا۔اور پھر تجدید نکاح بھی نہ ہوسکے گی۔جب تک دونوں میں سے ایک اپنی خطا کا قائل اور مصدق نہ ہوجائے۔(تفسیر ماجدی)
10۔ کلمۂ لَوْ لَا کا جواب آیت قرآنی میں مذکور نہیں، عبارت محذوف یہ سمجھی گئی ہے۔ "یفضحکم وعاجلکم بالعقوبۃ"(بیضاوی)اور ایسے موقع پر حذف، کلام عرب میں عام ہے۔(تفسیر ماجدی)
ــــ ان احکام کے زمانۂ نزول میں مسلمانوں کے اندر منافقین کی ریشہ دوانیوں کے باعث کئی کمزوریاں ظاہرہوئی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کمزوریوں پر سزا دینے کے بجائے، اپنے فضل و رحمت سے، ان کو معاشرتی اصلاح کے احکام و ہدایات کے نزول کا سبب بنالیا۔یہ اس فضل و رحمت کی طرف اشارہ ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
دوسرا رکوع |
| اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ﴿11﴾ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ ﴿12﴾ لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ ﴿13﴾ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ ﴿14﴾ اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ ﴿15﴾ وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ ﴿16﴾ یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ ﴿17﴾ وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ﴿18﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ﴿19﴾ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ ۧ ۧ ﴿20ع النور 24﴾ |
| 11. جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا۔ بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے۔ ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا ہی وبال ہے۔ اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا۔ 12. جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں اپنے دلوں میں نیک گمان نہ کیا۔ اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح طوفان ہے۔ 13. یہ (افتراء پرداز) اپنی بات (کی تصدیق) کے (لئے) چار گواہ کیوں نہ لائے۔ تو جب یہ گواہ نہیں لاسکے تو خدا کے نزدیک یہی جھوٹے ہیں۔ 14. اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر بڑا (سخت) عذاب نازل ہوتا۔ 15. جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی۔ 16. اور جب تم نے اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں شایاں نہیں کہ ایسی بات زبان پر نہ لائیں۔ (پروردگار) تو پاک ہے یہ تو (بہت) بڑا بہتان ہے۔ 17. خدا تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر مومن ہو تو پھر کبھی ایسا کام نہ کرنا۔ 18. اور خدا تمہارے (سمجھانے کے لئے) اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔ اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔ 19. اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی یعنی (تہمت بدکاری کی خبر) پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا۔ اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ 20. اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو کیا کچھ نہ ہوتا مگر وہ کریم ہے) اور یہ کہ خدا نہایت مہربان اور رحیم ہے۔ |
تفسیر آیات
11۔ مراد اس سے وہی مخترع افک، عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین ہے۔(تفسیرماجدی)
13۔ شریعت کے احکام ظاہری کی ناقدری کرنے والے کاش دیکھیں کہ اس آیت میں احکام ظاہری کی بھی کس درجہ اہمیت کا سبق موجود ہے۔گواہوں کے بیان کو عین عنداللہ قراردیا جارہاہے۔(تفسیر ماجدی)
14۔ ۔۔۔اتفاق کی بات کہ اس غزوۂ بنی المصطلق میں جتنے زیادہ منافق شامل ہوئے تھے دوسرے کسی غزوہ میں شامل نہ ہوئے تھے۔(تیسیر القرآن)
16۔ یعنی تامل، تذبذب کیسا ،سرے سے تحقیق ہی کی کیا ضرورت تھی تمہیں سنتے ہی کانوں پر ہاتھ رکھ کر انکار کردینا تھا۔سرولیم میور کا شمار اسلام و شارع اسلام کے دوستوں میں نہیں ،مخالفوں میں ہے۔باوجود اس کے ان کو اقرار ہے۔"عائشہ کی سیرت سے متعلق کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ان کی زندگی ،واقعہ سے قبل بھی اور بعد بھی ،اس پر گواہ ہے کہ ہم انہیں اس الزام سے بالکل بری یقین کریں "(لائف آف محمد) (تفسیر ماجدی)
19۔ جاہلیت میں عربوں کا معاشرہ نہایت ناپاک معاشرہ بن چکا تھا۔ فتنہ پردازوں نے مسلمانوں کی اخلاقی برتری کی دھاک کو نقصان پہنچانے کے لیے یہ تدبیرسوچی کہ ان کے اندر برائی اور بے حیائی کا چرچا پھیلایا جائے۔واقعۂ افک اسی سازش کی ایک کڑی تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے کامیاب نہ ہونے دیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
تیسرا رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ﴿21﴾ وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿22﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ ﴿23﴾ یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿24﴾ یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ ﴿25﴾ اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ ۧ ۧ ﴿26ع النور 24﴾ |
| 21. اے مومنو! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا۔ اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بےحیائی (کی باتیں) اور برے کام ہی بتائے گا۔ اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں پاک نہ ہوسکتا۔ مگر خدا جس کو چاہتا ہے پاک کردیتا ہے۔ اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔ 22. اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے۔ ان کو چاہیئے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ خدا تم کو بخش دے؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے۔ 23. جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بےخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا وآخرت (دونوں) میں لعنت ہے۔ اور ان کو سخت عذاب ہوگا۔ 24. (یعنی قیامت کے روز) جس دن ان کی زبانیں ہاتھ اور پاؤں سب ان کے کاموں کی گواہی دیں گے۔ 25. اس دن خدا ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا برحق (اور حق کو) ظاہر کرنے والا ہے۔ 26. ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے۔ اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے۔ اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے۔ یہ (پاک لوگ) ان (بدگویوں) کی باتوں سے بری ہیں (اور) ان کے لئے بخشش اور نیک روزی ہے۔ |
تفسیر آیات
۔ حضرت مسطح بن اثاثہ مطلبی قریشی ایک صحابی تھے۔ پورے مومن، مسکین بھی، مہاجر بھی، صدیق اکبر کے عزیز بھی (آپ کی خالہ زاد بہن کے فرزند)۔ محض اپنی سادہ دلی سے اس طوفان میں شریک ہو گئے۔ اسد الغابہ میں ہے کہ یہ بدری بھی تھے(یعنی غزوۂ بدر میں حصہ لینے والے)54 ہجری میں 56 سال کی عمر میں وفات پائی ۔اور ایک روایت یہ بھی نقل ہے کہ جنگِ صفین میں حضرت علیؓ کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔جب حضرت صدیقہؓ کی برأت میں آیات قرآنی نازل ہوئیں، اور حضرت صدیقہؓ کی عفت مآبی اتنی روشن ہوگئی،جتنی بجز حضرت مریمؑ کے دنیا میں شایدکسی بھی پاکدامن خاتون کی نہ ہوئی ہو۔ تو حضرت صدیقؓ کو اپنی قابل فخر بیٹی کی نصرت و حمایت میں غصّہ آنا بالکل طبعی تھا۔آپؓ مسطحؓ کی ناداری پر ترس کھاکر مدد بھی فرماتے رہتے ، اس غیض کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ بس آج سے امداد موقوف ۔یہ بات مرتبۂ صدیقیت کے شایان نہ تھی۔ارشاد ہوا کہ امداد جاری رکھو اور قسم کے مقتضاپر عمل نہ کرو۔مسطحؓ کی اس خدمت دین ،یعنی ہجرت فی سبیل اللہ کو یاددلا کر یہاں گویا یہ بتادیا کہ اس نئے جرم سے ان کا پچھلا عمل خیر باطل نہیں ہوگیا۔صوفیہ محققین نے آیت سے اشارہ یہ نکالا ہے کہ بزرگوں کو مناسب یہی ہے کہ مریدوں کی لغزشوں پر اپنے فیض کو بند نہ کریں۔۔۔۔۔عبداللہ بن مبارک تابعیؒ کا قول مشہور ہے کہ قرآن مجید کی سب سے زیادہ امید افزاآیت یہی ہے۔(تفسیر ماجدی)
26۔ دوسرے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ خبیثات سے مراد ہیں گندے قول اور گندے فعل والے یعنی گندے قول و فعل والے ،گندی طبیعت والے مردوں اور عورتوں کے لائق ہیں۔ اور پاکیزہ قول و فعل والے پاکیزہ سیرتوں والوں کے لئے۔۔۔۔(آخرت میں) اُولٰٓىٕكَ۔یعنی جو لوگ بہ سلسلۂ افک عائشہؓ متہم ہوئے۔(تفسیر ماجدی)
چوتھا رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ﴿27﴾ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ ﴿28﴾ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ ﴿29﴾ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ ﴿30﴾ وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ﴿31﴾ وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ﴿32﴾ وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿33﴾ وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿34ع النور 24﴾ |
| 27. مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لئے اور ان کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (اور ہم) یہ نصیحت اس لئے کرتے ہیں کہ شاید تم یاد رکھو۔ 28. اگر تم گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو جب تک تم کو اجازت نہ دی جائے اس میں مت داخل ہو۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ (اس وقت) لوٹ جاؤ تو لوٹ جایا کرو۔ یہ تمہارے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے۔ اور جو کام تم کرتے ہو خدا سب جانتا ہے۔ 29. ہاں اگر تم کسی ایسے مکان میں جاؤ جس میں کوئی نہ بستا ہو اور اس میں تمہارا اسباب (رکھا) ہو، تم پر کچھ گناہ نہیں، اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے۔ 30. مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان سے خبردار ہے۔ 31. اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ۔ 32. اور اپنی قوم کی بیوہ عورتوں کے نکاح کردیا کرو۔ اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے بھی جو نیک ہوں (نکاح کردیا کرو) اگر وہ مفلس ہوں گے تو خدا ان کو اپنے فضل سے خوش حال کردے گا۔ اور خدا (بہت) وسعت والا اور (سب کچھ) جاننے والا ہے۔ 33. اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کردے۔ اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں (صلاحیت اور) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو۔ اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے ان کو بھی دو۔ اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا۔ اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان (بیچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 34. اور ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کی ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی خبریں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت۔ |
تفسیر آیات
27۔ اجازت کے بغیر گھروں میں داخلہ پر پابندی:۔ اس سے پہلے سورۂ احزاب میں بھی گھروں میں اذن لے کر داخل ہونےکا حکم آچکا تھا۔لیکن اس حکم کا دائرہ صرف رسول اللہؐ تک محدودتھا۔مگر اس حکم کے ذریعہ اسے تمام گھروں تک پھیلادیا گیا۔اس سے پہلے اس سورۂمیں ایسے احکام بیان ہوئے ہیں۔جن کا تعلق ایسے حالات سے تھا جب فحاشی کی بناپر کوئی فتنہ رونما ہوچکا ہو۔اب ایسے احکام دئیے جارہے ہیں جن پر عمل کرنے سے کسی فتنہ کے سر اٹھانے کے امکانات کم سے کم رہ جاتے ہیں۔ گویا یہ احکام فحاشی کے پھیلاؤکے سلسلہ میں سد ذرائع کا حکم رکھتے ہیں۔عرب معاشرہ میں یہ عام دستور تھا کہ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں بلا جھجک داخل ہوجاتے تھے۔اس آیت کے ذریعہ ایسی آزادانہ آمد و رفت پر پابندی لگادی گئی۔۔۔۔استأنس کا لغوی مفہوم۔ احکام استیذان:۔اس آیت میں استأنسوا کا لفظ استعمال ہواہے جس کا مادہ انس ہے جس کا عربی میں بھی وہی مفہوم ہے جو ہمارے ہاں سمجھا جاتاہے یعنی کسی سے مانوس ہونا یا اسے مانوس کرنا۔ اور اس کا مطلب کوئی بھی ایساکام کرنا ہے جس سے صاحب خانہ کو علم ہوجائے کہ دروازے پر فلاں شخص کھڑااندر آنے کی اجازت چاہ رہاہے۔بعض دفعہ گھنگارنے سے ہی یہ مطلب حاصل ہوجاتاہے۔اور بعض دفعہ بولنے یا السلام علیکم کہنے سے۔اس طرح صاحب خانہ کو اس کی کھانسی یا آواز سے ہی یہ معلوم ہوجاتاہے کہ یہ آواز فلاں شخص کی ہے۔ بعض دفعہ کوئی شخص برقی گھنٹی ہی اس انداز سے دباتاہے جو اس میں اور صاحب خانہ میں متعارف ہوتی ہے۔اور گھنٹی بجانے سے ہی صاحب خانہ کو علم ہوجاتاہے کہ فلاں شخص آکر آواز دے رہاہے ۔ایسی تمام صورتیں تستانسوا کے مفہوم میں داخل ہیں۔اسی لئے اس کے قریبی مفہوم "رضا حاصل کرنا"سے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ اب اگر یہ استیناس السلام علیکم کہنے سے ہی کیا گیا ہے تو ٹھیک ہے۔اور اگر کسی اور طریقہ سے کیا گیا ہے تو گھر میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم کہنا بھی ضروری ہے۔(تیسیر القرآن)
۔ امام بخاری نے الادب المفرد میں حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جو شخص سلام سے پہلے استیذان کرے اس کو اجازت نہ دو (کیونکہ اس نے مسنون طریقہ کو چھوڑ دیا) (روح المعانی) اور ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ بنی عامر کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح استیذان کیا کہ باہر سے کہا أ الج کیا میں گھس جاؤں۔ آپ نے اپنے خادم سے فرمایا کہ یہ شخص استیذان کا طریقہ نہیں جانتا باہر جا کر اس کو طریقہ سکھلاؤ کہ یوں کہے السلام علیکم أ ادخل یعنی کیا میں داخل ہوسکتا ہوں۔۔۔۔۔خطیب بغدادی نے اپنے جامع میں علی بن عاصم واسطی سے نقل کیا ہے کہ وہ بصرہ گئے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ کی ملاقات کو حاضر ہوئے۔ دروازہ پر دستک دی۔ حضرت مغیرہ نے اندر سے پوچھا کون ہے تو جواب دیا انا (یعنی میں ہوں) تو حضرت مغیرہ نے فرمایا کہ میرے دوستوں میں تو کوئی بھی ایسا نہیں جس کا نام انا ہو پھر باہر تشریف لائے اور ان کو حدیث سنائی کہ ایک روز حضرت جابر بن عبداللہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اجازت لینے کے لئے دروازہ پر دستک دی۔ آنحضرت ﷺ نے اندر سے پوچھا کون صاحب ہیں ؟ تو جابر نے یہی لفظ کہہ دیا انا یعنی میں ہوں آپ نے بطور زجرو تنبیہ کے فرمایا انا انا یعنی انا انا کہنے سے کیا حاصل ہے اس سے کوئی پہچانا نہیں جاتا۔ (معارف القرآن)
29۔غیر رہائشی مکانوں میں دکانیں ،ہوٹل، دفاتر وغیرہ شامل ہیں۔ مردانہ نشست گاہیں بھی اسی حکم میں داخل ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
31۔ اس سے صاف مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو خود اس کا اظہار اور اسکی نمائش نہ کرنی چاہئے البتہ جو آپ ظاہر ہوجائے - عہد نبوی میں حجاب کا حکم آجانے کے بعد عورتیں کھلے منہ نہیں پھرتی تھیں اور حکم حجاب میں منہ کا پردہ شامل تھا اور احرام کے سوا دوسری تمام حالتوں میں نقاب کو عورتوں کے لباس کا جز بنادیا گیا ۔ ستر تو وہ چیز ہے جسے محرم مردوں کے سامنے کھولنا بھی ناجائز ہے ۔ رہا حجاب تو وہ ستر سے زائد ایک چیز ہے جو عورتوں اور غیر محرموں کے درمیان حائل ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ بات کہ دوپٹہ باریک کپڑے کا نہ ہونا چاہیے، ان احکام کے مزاج اور مقصد پر غور کرنے سے خود ہی آدمی کی سمجھ میں آجاتی ہے، چناچہ انصار کی خواتین نے حکم سنتے ہی سمجھ لیا تھا کہ اس کا منشا کس طرح کے کپڑے کا دوپٹہ بنانے سے پورا ہوسکتا ہے۔ لیکن صاحب شریعت ﷺ نے اس بات کو بھی صرف لوگوں کے فہم پر نہیں چھوڑ دیا بلکہ خود اس کی تصریح فرما دی۔ دِحْیَہ کَلْبی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس مصر کی بنی ہوئی باریک ململ (قَبَاطِی) آئی۔ آپ نے اس میں سے ایک ٹکڑا مجھے دیا اور فرمایا ایک حصہ پھاڑ کر اپنا کرتہ بنا لو اور ایک حصہ اپنی بیوی کو دوپٹہ بنانے کے لیے دے دو ، مگر ان سے کہہ دینا کہ تجعل تحتہ ثوباً لا یصفھا، " اس کے نیچے ایک اور کپڑا لگا لیں تاکہ جسم کی ساخت اندر سے نہ جھلکے۔ (ابو داؤد، کتاب اللباس)۔ (تفہیم القرآن)
ـــ اظہار زینت کیلئے اصول یہ ہے کہ جن جن رشتہ داروں سے ایک عورت کا نکاح حرام ہے وہ اس کے مفہوم میں شامل ہیں ۔ جن رشتہ داروں سے ابدی حرمت کا رشتہ نہ ہو ( یعنی جن سے ایک کنواری یا بیوہ کا نکاح جائز ہو ) وہ نہ تو محرم رشتہ داروں کے حکم میں ہیں کہ عورتیں بے تکلف ان کے سامنے اپنی زینت کے ساتھ آئیں اور نہ بالکل اجنبیوں کے حکم میں کہ عورتیں ان سے ویسا ہی مکمل پردہ کریں جیسا غیروں سے ( اس میں رشتہ ، انکی عمر ، عورت کی عمر ، خاندانی تعلقات و روابط ، فریقین کے حالات جیسے ایک مکان یا الگ الگ مکانوں میں رہنا ) ۔۔۔۔۔۔ تفہیم القرآن میں آیت 30 اور 31 کے حواشی ان مسائل کو بڑی تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ ان کا مطالعہ مفید رہے گا۔ (تفہیم القرآن)
ــــ غض بصر ( مردوں ، عورتوں دونوں کیلئے ) ۔۔۔۔۔
؎ جلووں کے اس ہجوم میں لازم ہے احتیاط سہو نظر معاف ہے قصدِنظر حرام ۔( نعیم صدیقی )۔ (تفسیر عثمانی)
ــــ ۔۔۔۔اور یہ تو ظاہرہے کہ جلباب کا تعلق گھر کے باہر کی دنیا سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا ابن عباسؓ گھر سے باہر مکمل پردہ(یعنی چہرہ سمیت) کے قائل تھے،ان کے موقف میں اگر کچھ لچک ہے تو وہ گھر کے اندر کی دنیا سے ہے یعنی اگر گھر کے اندر ایسے رشتہ دار آجائیں جو محرم نہیں تو ان سے ہاتھ اور چہرہ چھپانے کی ضرورت نہیں لہذا آج کے مہذب اور پردہ کے مخالف طبقہ کے لئے ابن عباسؓ کا یہ موقف بھی کچھ زیادہ سود مند نہیں۔)(تیسیر القرآن)
ــــ یہ گھر کے اندر کا پردہ ہے۔زینت کی چیزوں میں لباس بھی داخل ہے اور زیورات بھی۔ اس زینت کو چھپانے کا حکم ہوا جس کے چھپانے میں زیادہ زحمت نہیں ہے۔نیز گھر کی عورتوں کو پابند کیا کہ غیر محرموں کی موجودگی میں دوپٹہ یا اوڑھنی سے اپنے سر اور کمر کے ساتھ ساتھ اپنے گریبانوں کو بھی چھپائیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
ــــ (عموماً وعادتاً)یعنی جسم کے وہ حصے مستثنیٰ ہیں جو اگرچہ زینت کے مواقع ہیں لیکن ان کے چھپائے رکھنے میں عموماً سخت ہرج و زحمت ہے۔مثلاًچہرہ کی ٹکیا اور ہتھیلیاں اور پیر۔ ۔۔۔اور اسی لئے حنفی فقہاء مفسرین کے ہاں چہرہ اور کف دست اور پیروں کے دیکھنے کی اجازت ملتی ہے۔۔۔۔لیکن متأخرین فقہاء نے شاید خوف فتنہ سے اب چہرہ کا کھلا رکھنا بھی ممنوع قرار دے دیا ہے۔۔۔۔ناف سے گھٹنے تک کا ستر مذہب اہلِ سنت میں سب پر واجب ہے، عورت کا عورت سے بھی ، مرد کا مرد سے بھی۔۔۔۔یہ سب عزیز اصطلاح میں محرم کہلاتے ہیں۔ فقہاء نے محرموں کی بھی دوقسمیں قراردی ہیں۔ایک وہ جو محرم ابدی ہیں، مثلاً باپ،چچا ،بیٹا،پوتا وغیرہ ،دوسرے وہ جو بعد زوال و صف اجنبی ہوجائیں ،مثلاً شوہر طلاق کے بعد ،مملوک آزادی کے بعد ،بچہ جوان ہوجانے کے بعد۔۔۔۔اور صاحب بحر المحیط کے ایک اشارہ سے ایسا معلوم ہوتاہے کہ اصلاً تو مراد مؤمنات ہی ہیں لیکن تبعاًاس میں وہ غیرمسلمات بھی آجاتی ہیں جو مؤمنات کی صحبت و خدمت میں رہیں ۔یعنی جن کا معیار عفت و شرافت مؤمنات ہی کا سا ہوگیا ہو۔۔۔۔فقہاء نے لکھا ہے کہ فاحشہ عورت اگر چہ مسلمان ہوپاک دامنوں میں نہ آنے پائے ایک تو نسائھن پر قیاس کرکے دوسرے بخوف اغواء و فتنہ۔۔۔۔ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ۔ کا لفظ غلام اور باندی کے لئے عام ہے لیکن حنفیہ اور اکثرشافعیہ کے نزدیک صرف باندیاں مراد ہیں ، غلام مراد نہیں ۔غلام اجنبی مردو عورتوں کے حکم میں ہیں۔(تفسیر ماجدی)
32۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ عورت خواہ کسی عمر کی ہو اس کا ولی کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا۔ اور یہ بات احادیث میں پوری وضاحت سے مذکور ہے ۔چنانچہ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ کوئی بھی عورت جو ولی کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔تو اس کا نکاح باطل ہے تو اس کا نکاح باطل ہے۔(ترمذی۔ابواب النکاح ۔باب لانکاح الا بولی)لہذا اولیاء کو یہی حکم دیا جارہاہے کہ وہ مجرد لوگوں کے نکاح کریں۔(تیسیر القرآن)
33۔ مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جو رقم یا کسی متعین خدمت کے عوض اپنے آقا سے آزادی حاصل کرنے کا خواہش مندہو۔ ذی صلاحیت غلاموں کی اس خواہش کو پورا کرنے اور آزادی حاصل کرنے میں ان کی مالی اعانت کا حکم دیا گیا۔اس حکم نے غلاموں کی آزادی کی راہ کھول دی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ حضرت عمر ؓ کے زمانے کا واقعہ ہے کہ ایک غلام نے اپنی مالکہ سے مکاتبت کی اور مدت مقررہ سے پہلے ہی مال کتابت فراہم کر کے اس کے پاس لے گیا۔ مالکہ نے کہا کہ میں تو یک مشت نہ لوں گی بلکہ سال بسال اور ماہ بماہ قسطوں کی صورت میں لوں گی۔ غلام نے حضرت عمر سے شکایت کی۔ انہوں نے فرمایا یہ رقم بیت المال میں داخل کر دے اور جا تو آزاد ہے۔ پھر مالکہ کو کہلا بھیجا کہ تیری رقم یہاں جمع ہوچکی ہے، اب تو چاہے یک مشت لے لے ورنہ ہم تجھے سال بسال اور ماہ بماہ دیتے رہیں گے (دار قطنی بروایت ابو سعید مقبری)۔ (تفہیم القرآن)
۔ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا الآیۃ فتیات، یہاں لونڈیوں کے لئے استعمال کیا ہے اور مقصود اس لفظ کے استعمال سے معاشرے کے اندر ان کی عزت کو بڑھانا ہے۔فتاۃ، فتی کی مئونث ہے جس طرح فتی کے معنی جو ان اور لڑکے کے ہیں اسی طرح فتاۃ کے معنی لڑکی اور چھوکری کے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ کوئی اپنے غلام کو عبد اور اپنی لونڈی کو امۃ نہ کہے بلکہ فتی (جوان) اور فتاۃ (لڑکی) کہے۔ ظاہر ہے کہ لونڈیوں اور غلاموں کے لئے الفاظ کی یہ تبدیلی بھی انہی اصلاحات کا ایک جزو ہے جو ان کے معاشرتی درجے کو اونچا کرنے کے لئے ظہور میں آئیں اور اوپر مذکور ہوئیں۔ مقصود اس لفظ کی تبدیلی سے غلاموں اور لونڈیوں کے اندر احساس خود داری کو بیدار کرنا اور لوگوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا تھا کہ اب لوگ غلاموں اور لونڈیوں سے متعلق اپنے قدیم تصورات کو بدلیں اور ان کو اپنے معاشرے کے بھائی بہن کی نگاہ سے دیکھیں۔۔۔۔۔۔۔بعض چکلے والوں کو نبی ﷺ نے بعد کے مراحل میں رجم بھی کرا دیا۔ (تدبرِ قرآن)
۔ روایتوں میں آتاہے کہ آیت میں اشارہ خصوصیت کے ساتھ مشہور منافق عبداللہ بن ابی سلول کی جانب ہے۔ جس کے پاس دو کنیز یں معاذہ اور مسیکہ خاص اسی کام کے لئے تھیں۔ بعض روایتوں میں ان کی تعداد چھ آئی ہے۔ابن ابی کا شمار مدینہ کے بڑے لیڈروں میں تھا۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس قسم کے پیشے عرب کے مہذب معاشرہ میں بھی داخل عیب نہ تھے۔(تفسیر ماجدی)
پانچواں رکوع |
| اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ ﴿35﴾ فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ ﴿36﴾ رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗ ۙ ﴿37﴾ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ﴿38﴾ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ ﴿39﴾ اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ ۧ ۧ ﴿40ع النور 24﴾ |
| 35. خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ اور چراغ ایک قندیل میں ہے۔ اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے۔ (پڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔ 36. (وہ قندیل) ان گھروں میں (ہے) جن کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کئے جائیں اور وہاں خدا کے نام کا ذکر کیا جائے (اور) ان میں صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہیں۔ 37. (یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خرید وفروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں۔ 38. تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے۔ اور جس کو چاہتا ہے خدا بےشمار رزق دیتا ہے۔ 39. جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آئے تو اسے کچھ بھی نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اسے اس کا حساب پورا پورا چکا دے۔ اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے۔ 40. یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چڑھی چلی آتی ہو اور اس کے اوپر اور لہر (آرہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو، غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں، ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکالے تو کچھ نہ دیکھ سکے۔ اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی)۔ |
تفسیر آیات
35۔ یہاں سے روئے سخن منافقین کی طرف پھرتا ہے جو اسلامی معاشرے میں فتنوں پر فتنے اٹھائے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔۔ آسمانوں اور زمین کا لفظ قرآن مجید میں بالعموم " کائنات " کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا دوسرے الفاظ میں آیت کا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ ساری کائنات کا نور ہے۔۔۔۔۔۔۔نور سے مراد وہ چیز ہے جس کی بدولت اشیاء کا ظہور ہوتا ہے، یعنی جو آپ سے آپ ظاہر ہو اور دوسری چیزوں کو ظاہر کرے۔۔۔۔اسی طرح " نور " کے متعلق بھی یہ خیال کرنا محض ایک تنگ خیالی ہے کہ اس کے معنی کا مصداق صرف اس شعاع ہی کی صورت میں پایا جاسکتا ہے جو کسی چمکنے والے جرم سے نکل کر آنکھ کے پردے پر منعکس ہو۔۔۔۔۔۔۔نور کا لفظ علم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور اس کے برعکس جہل کو تاریکی اور ظلمت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔اس تمثیل میں چراغ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو اور طاق سے کائنات کو تشبیہ دی گئی ہے، اور فانوس سے مراد وہ پردہ ہے جس میں حضرت حق نے اپنے آپ کو نگاہ خلق سے چھپا رکھا ہے۔ گویا یہ پردہ فی الحقیقت خفا کا نہیں، شدت ظہور کا پردہ ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ امام غزالی نے یہ وضاحت فرمائی الظاہر بنفسہ والمظھر لغیرہ، یعنی خود اپنی ذات سے ظاہر اور روشن ہو اور دوسری چیزوں کو ظاہر و روشن کرنے والا ہو۔۔۔۔۔ یعنی یہ مثال اس مومن کی ہے جس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور قرآن کا نور ہدایت ڈال دیا ہے اس آیت میں پہلے تو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نور کا ذکر فرمایا اللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ پھر قلب مومن کے نور کا ذکر فرمایا مَثَلُ نُوْرِهٖ۔ (معارف القرآن)
۔ قرآن مجید کی یہ آیت بقول شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ان آیات میں سے ہے جن میں طلسم ربانی ہے ۔
ہر جلوے کو دیکھا تیرے جلووں سے منور ہر بزم میں تو انجمن آ را نظر آیا (انوار القرآن)
ــ اب آگے وہ آیات آ رہی ہیں جن کی حیثیت اس سورۃ کے اندر آفتاب تاباں کی ہے جس کا پر تو سورۃ کے تمام اجزا پر پڑ رہا ہے ۔ ان میں ایمان و کفر دونوں کی تمثیل بیان ہوئی ہے ۔ ایمان سے انسان کے ظاہر و باطن میں کیا روشنی پڑتی ہے اور کفر سے انسان کے ظاہر و باطن پر تاریکی چھا جاتی ہے ۔ (تدبر قرآن)
ــنور الہی :۔ مشکوٰۃ سے مراد انسان کا دل ہے جس کو چراغ رکھنے کے طاق یا چراغ دان سے تشبیہ دی گئی ہے۔۔۔ لَا شَرْقِیَّة وَّ لَا غَرْبِیَّة۔یہ شجرۂ مبارکہ کی صفت ہے ۔یعنی یہ درخت نہ تو باغ کے شرقی جانب کا ہے اور نہ غربی جانب کا بلکہ وسط باغ کا ہے۔یہ امر ملحوظ رہے کہ باغ کے کناروں کے درخت بالخصوص ،جو مشرق یا مغرب میں ہوں، ہمیشہ دھوپ اور ہواکی زد میں ہونے کے سبب سے اتنے اچھے پھل نہیں دیتے جتنے اچھے پھل وسطِ باغ کے درخت دیتے ہیں اس وجہ سے یہ قید بڑھا کر اس درخت کی غایت درجہ شادابی و ثمر باری کی طرف اشارہ فرمادیا۔۔۔یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ ایمان ان لوگوں کے سینوں کو اپنا نشیمن بناتاہے جن کی فطرت ہر قسم کے فساد اور بگاڑ سے محفوظ ہو،جن کی فطرت کا روغن غیر فطری ملاوٹوں سے پاک ہوتاہے وہ خود دعوتِ ایمان کی ذراسی رگڑ سے بھڑک اٹھتاہے اور اس طرح فطرت کے نورکے اوپر ایمان کے نور سے سینہ نور علیٰ نور بن جاتاہے۔۔۔لاشرقیۃ ولاغربیۃکے الفاظ اسی زیغ و انحراف سے محفوظ ہونے کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ان الفاظ میں ایک لطیف تلمیح یہود و نصاریٰ کی اس نزاع کی طرف بھی ہے جو قبلہ کے تعلق سے ان کے مابین ،مشرق و مغرب کے باب میں،برپا ہوئی اور جس کے سبب سے وہ اصل نقطۂ وسط سے اتنے دور ہوگئے کہ ہمیشہ کیلئے امتِ وسط کے شرف سے محروم ہوگئے اور قبول اسلام کی سعادت ان کو حاصل نہ ہوسکی۔اللہ تعالیٰ اپنی مزید توفیق کے دروازے انہی کیلئے کھولتاہے جو پہلے سے بخشی ہوئی توفیق کی قدر کرتے ہیں، جو اس کی قدر نہیں کرتے ان سے وہ ہدایت بھی واپس لے لی جاتی ہے جو فطرت کے ذریعہ سے ان کو بخشی جاتی ہے۔سیدنا مسیحؑ کا ارشاد ہے کہ جو ایک پیسہ میں چورہے اس کو ایک لاکھ کی ا مانت نہیں سونپی جاتی۔ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ۔للناس سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی لوگوں کی تعلیم و تذکیر کیلئے اللہ تعالیٰ یہ تمثلیں بیان فرماتاہے تاکہ لوگ ان سے ایمان کی قدرو قیمت پہچانیں اور اسکےنورسے اپنے دلوں کو منور کریں ۔تمثیلیں حقائق کو واضح کرنے کا سب سے اعلیٰ اور کارگر ذریعہ ہوتی ہیں اگر لوگ ان سے بھی فائدہ نہ اٹھائیں تو یہ ان کی محرومی ہی ہے!۔(تدبر قرآن)
ـــ اگر فطرت سلیم ہے تو نور چمکتا ہے جیسے ہی وحی ( نصیحت ) سامنے آئی فورا "تسلیم کرلیا ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے سوا جس کے بھی سامنے دعوت پیش کی اس نے کچھ نہ کچھ تردد کیا ۔ صدیقین کا مقام - اندر کا نور اور وحی ملکر نور علٰی نور ۔ انسانی ہڈیوں کا پنجر طاق کی صورت دل چراغ کی صورت - اس میں نور ایمان - دل کا نور ایمان اور وحی کا نور مل کر نورٗ علٰی نور ۔(بیان القرآن)
ــــ (1)حضرت ابن عباس نے کعب احبار سے کہا کہ مجھے اس آیت کا مطلب بتاؤ۔۔۔حضرت کعب نے کہا یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریمؐ کے متعلق بیان کی ہے۔مشکوٰۃ سے مراد سینہ مبارک ہے ۔زجاجۃ سے مراد قلب انور ہے۔مصباح سے مراد نبوت ہے یعنی حضورؐ کا نور اور حضورؐ کی شان لوگوں کے سامنے خود بخود عیاں ہورہی ہے۔۔۔(2)ابوالعالیہ نے ابی بن کعب سے نقل کیا ہے کہ یہ مومن کی مثال ہے مشکوٰۃ اس کانفس ہے زجاجۃ اس کا سینہ مصباح نورِ ایمان اور نور قرآن ہےجو اللہ تعالیٰ مومن کے دل میں پیدا فرماتاہے اور شجرہ مبارکہ سے مراد اخلاص ہے۔(3) حسن بصریؒ اور ابن زید کہتے ہیں کہ یہ قرآن کی مثال ہے ۔مصباح سے مراد قرآن کریم ہےجس طرح چراغ سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔اسی طرح قرآن سےہدایت حاصل کی جاتی ہے۔زجاجۃ سے مراد قلب مومن ہے۔مشکوٰۃ سے مراداس کا منہ اور اس کی زبان ہے ۔شجرہ مبارکہ سے مراد اس کی وحی ہے۔۔۔4۔یانورہ کی ضمیر کا مرجع اللہ ہوگا اس صورت میں مصباح سے مراد ذات خداوندی ہوگی ۔مشکوٰۃ سے مراد ساری کائنات ہوگی اور فانوس (زجاجہ)اس کا وہ نور ی پردہ ہوگاجس کے باعث وہ عیاں اور آشکار ہونے کے باوجود اپنی مخلوقات کی نگاہوں سے مخفی اور پنہاں ہے۔(ضیا ء القرآن)
۔ اس تمثیل میں چراغ سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو اور طاق سے کائنات کو تشبیہ دی گئی ہے، اور فانوس سے مراد وہ پردہ ہے جس میں حضرت حق نے اپنے آپ کو نگاہ خلق سے چھپا رکھا ہے۔ گویا یہ پردہ فی الحقیقت خفا کا نہیں، شدت ظہور کا پردہ ہے۔ (تفہیم القرآن)
ــاللہ ہی کائنات کا نور ہے: ۔ ایسے فانوس سے جس قدر روشنی میں اضافہ ہوتاہے اس کا اندازہ آپ کسی لالٹین سے اس کی شیشہ کی چمنی اتار کرکرسکتے ہیں۔گویا چراغ کی روشنی کو سہ بالا یا نور علٰی نور کرنے والی تین چیزیں ہوئیں۔ایک تیل کی اعلیٰ کوالٹی،دوسرے صاف شفاف فانوس اور تیسرے روشنی کا دائرہ بہت محدود ہونااور مثال کا مطلب یہ ہواکہ اللہ تعالیٰ اپنی ایسی روشنی سے کائنات کی ایک ایک چیز کو منور کررہاہے۔۔۔۔نورِ ایمانی کی وحی الٰہی کیلئے بےتابی:۔اور دوسری صورت میں چراغ اور اس کے تیل سے مراد نور بصیرت یا نور ایمان ہے۔ فانوس سے مراد انسان کا دل ہے۔جس میں یہ نور بصیرت واقع ہوتاہے اور طاق سے مراد اس کا جسم ہے۔ پھر جب ہدایت یا آیات الٰہی پہنچتی ہیں تو ایسے شخص کی بصیرت اس کو قبول کرنے کے لئے پہلے ہی بے تاب ہوتی ہے۔ اب اگر کسی کے دل میں نور بصیرت ہوگا۔جس کا منبع خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔تو ایسے ہی شخص کو یہ آیات فوراًاپیل کرتی اور نظر آنے لگتی ہیں۔ بے بصیرت کو نظر نہیں آتیں یہ دوسری توجیہ کتاب و سنت سے زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اکثر آسمانی کتب کے لئے بھی نور کا لفظ استعمال فرمایاہے اور علم وحی اور ہدایت کے لئے بھی۔ اور اس مثال کامطلب یہ ہے کہ جس کسی کے دل میں نور بصیرت کا عطیہ موجو ہوتاہے وہ احکام الٰہی اور وحی الٰہی کو قبول کرنے کیلئے اس قدر بے تاب ہوتاہے جیسے پٹرول آگ پکڑنے کے لئے بے تاب ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)
۔ مومن کا سینہ ایک طاق کی مثال ہے اس میں اس کا دل ایک قندیل کی مثال ہے اس میں نہایت شفاف روغن زیتون فطری نور ہدایت کی مثال ہے جو مومن کی فطرت میں ودیعت رکھا گیا ہے۔ جس کا خاصہ خود بخود بھی قبول حق کا ہے پھر جس طرح روغن زیتون آگ کے شعلہ سے روشن ہو کر دوسروں کو روشن کرنے لگتا ہے اسی طرح فطری نور ہدایت جو قلب مومن میں رکھا گیا ہے جب وحی الٰہی اور علم الٰہی کے ساتھ اس کا اتصال ہوجاتا ہے تو روشن ہو کر عالم کو روشن کرنے لگتا ہے اور حضرات صحابہ و تابعین نے جو اس مثال کو قلب مومن کے ساتھ مخصوص فرمایا وہ بھی غالباً اس لئے ہے کہ فائدہ اس نور کا صرف مومن ہی اٹھاتا ہے۔ (معارف القرآن)
ــــ اسی طرح مومن کے قلب میں اللہ تعالیٰ جب نور ہدایت ڈالتاہے تو روز بروزاس کا انشراح قبول حق کے لئے بڑھتاچلا جاتاہے ،اور ہروقت احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتاہے ۔۔۔اور جب اس کو علم حاصل ہوتاہے تو نورِ عمل یعنی عزم علی العمل کے ساتھ جو کہ ایک حال رفیع ہے، نور علم بھی منظم ہوجاتاہے ،جس سے وہ فوراً ہی قبول کرلیتاہے،پس علم و عمل جمع ہوکرنور علٰی نور صادق آجاتاہے۔(تھانویؒ)(تفسیر ماجدی)
36۔ فِیْ بُیُوْتٍ:۔ فی بیوت کا تعلق میرے نزدیک مشکوٰۃ سے ہے ۔اس ظرف نے واضح کردیا کہ اس تمثیل میں بت خانوں اور مے خانوں کے طاق کی مثال پیش نہیں کی گئی ہے بلکہ اللہ کے معابد کے طاقوں کی مثال پیش کی گئی ہے۔تمثیل میں ظاہر ہے کہ مشکوٰۃ سے مراد قلب سلیم یا بالفاظ دیگر قلب مومن ہے۔یہ قلب ہرقالب میں نہیں پایا جاتا بلکہ خاص خاص قالبوں ہی میں پایا جاتاہے اور یہ قوالب ہر جگہ نہیں ملتے بلکہ ان کے ملنے کی اصل جگہ خدا کی مساجد اور اس کے معابد ہیں۔ زمخشریؒ نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ان کے نزدیک اصل تالیف ِ کلام یوں ہے۔۔۔رفع یہاں بنانے اور تعمیر کرنے کے معنی میں ہے۔ مثلاً "وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ(البقرۃ127)"(اور یاد کرو جب ابراہیم اور اسماعیل اس گھر کی بنیادیں بلند کررہے تھے)اور ذکر یہاں نماز اور ذکرودعوت کی ان تمام شکلوں پر حاوی ہے جو اللہ کی یاد اور اس کے دین کی سربلندی کیلئے اختیار کی جائیں ۔اذن اللہ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گھر خدا کے حکم سے تعمیر ہوئے کہ ان میں اس کا کلمہ بلند کیا جائے ۔اگرچہ یہاں الفاظ عام ہیں لیکن ان کے اولین مصداق وہ معابد ہیں جو براہ راست اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم ہوئےمثلاً بیت اللہ جس کی تعمیر کا حکم اللہ تعالیٰ نے حضرات ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کو دیا یا بیت المقدس جس کی تعمیر حضرت سلیمانؑ نے اللہ تعالیٰ کے اذن سے فرمائی ۔پھر وہ معابد بھی انہی کے حکم میں داخل ہوں گے جو ان کی شاخوں کی حیثیت سے تعمیر ہوئے۔ رہے وہ معابدجو مشرکوں نے اذنِ الٰہی کے بالکل خلاف اپنے اصنام و اوثان کی پرستش کیلئے قائم کیے وہ اس حکم سے خارج ہیں۔ان کی حیثیت نجاست خانوں کی ہے ۔ان کے طاق اس تمثیل میں مراد نہیں ہیں۔(تدبر قرآن)
ــــ مراد مسجدوں کا ہونا ظاہر ہے۔بعض نے توسع سے کام لے کر بیت کے تحت میں عام مؤمنین کے گھروں کو بھی داخل کیا ہے، جہاں ذکر الٰہی ہوتارہتاہے۔۔۔۔صبح و شام سے محاورہ میں مراد دوام سے ہوتی ہے۔اس سے قطع نظر، اصیل کا وقت دن ڈھلنے کے بعد سے پوری رات تک رہتاہے۔گویا نماز فجر اگر غدو میں آگئی تو ظہر سے لے کر عشاء تک کی نمازیں اٰصال ہیں۔(تفسیر ماجدی)
37۔ دکانیں اور کاروبار چھوڑ کر نماز کیلئے جانا ، عہد رسالت میں دو صحابی - سودا تولتے وقت اذان ، وہیں ترازو چھوڑ دیتے دوسرے لوہار - ہتھوڑا کاندھے پر سے اوپر اٹھائے ہوئے ۔ وہیں پٹک دیتے ۔ ان کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(معارف القرآن)
ــــ صوفیہ کے مسئلہ خلوت درانجمن کی اصل بھی یہیں سے نکلتی ہے۔(تفسیر ماجدی)
40۔ امیر البحر: کیا کبھی محمؐد نے سمندر کا سفرکیا ؟ یہ تشبیہ صرف سمندروں کو بہت گہرے طور پر جاننے والا ہی دے سکتا ہے ۔ یقینا خدا کا کلام ۔(بیان القرآن)
ـــ اس آیت میں ایک سائنسی معجزہ بھی ہے جس کا اس کے نزول کے وقت عام لوگوں کو ( اور سائنسدانوں کو بھی ) علم نہیں تھا وہ یہ کہ پانی میں سے روشنی کی لہریں نہیں کزر سکتیں ۔(انوار القرآن)
ــــ یہ ان کافروں کی مثال ہے جو اپنے کفر میں پکے اور ہٹ دھرم ہیں۔وہ صرف اللہ کی نافرمانی اور رسولوں کی تکذیب پر ہی اکتفا نہیں کرتے۔ بلکہ رسول اور مومنوں کو ایذائیں اور دکھ بھی پہنچاتے ہیں اور اللہ کی راہ روکنے کے لئے ہروقت سرگرم عمل رہتے ہیں ۔اس طرح ان کے کفر کا جرم شدید تر ہوتاجاتاہے اور اس پر ان کے کفرکی کئی تہیں چڑھتی جاتی ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص گہرے سمندر میں رات کے وقت سفر کررہاہو۔ موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر گہرے بادل بھی چھائے ہوں۔اس طرح تین چار طرح کی تاریکیاں مل کر ایک ایسا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہوجاتاہے کہ اگر وہ شخص اپنا ہاتھ اپنی آنکھ کے سامنے لائے تو اپنے ہاتھ کو دیکھ بھی نہ سکے۔ کیا ایسے شخص سے توقع ہوسکتی ہے کہ سیدھی راہ پر اپنا سفر جاری رکھ سکے گا۔اللہ تعالیٰ نے کفر کو ہمیشہ اندھیرے یا اندھیروں سے اور ہدایت کو روشنی سے تعبیر کیا ہے۔ اور اس معانداور ہٹ دھرم کا تو یہ حال ہے کہ اس پر ایسے اندھیروں کے کئی ردے چڑھے ہوئے ہیں پھر اسے بھلا راہ ہدایت نصیب ہوسکتی ہے۔(تیسیر القرآن)
چھٹا رکوع |
| اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ ﴿41﴾ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ ﴿42﴾ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ ﴿43﴾ یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ ﴿44﴾ وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴿45﴾ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﴿46﴾ وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ﴿47﴾ وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ﴿48﴾ وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ ﴿49﴾ اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿50ع النور 24﴾ |
| . کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی۔ اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے۔ 42. اور آسمان اور زمین کی بادشاہی خدا کے لئے ہے۔ اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ 43. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے، اور ان کو آپس میں ملا دیتا ہے، پھر ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں، ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اس کو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے۔ اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اس کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرکے بینائی کو اُچکے لئے جاتی ہے۔ 44. اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے۔ اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے۔ 45. اور خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ تو اس میں بعضے ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں۔ خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ 46. ہم ہی نے روشن آیتیں نازل کی ہیں اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھے رستے کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ 47. اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھر جاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں۔ 48. اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ (رسول خدا) ان کا قضیہ چکا دیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے۔ 49. اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں۔ 50. کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا (یہ) شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ خدا اور اس کا رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے (نہیں) بلکہ یہ خود ظالم ہیں۔ |
تفسیر آیات
43۔ مشکل یہ پیش آتی ہے کہ ہمارے علمائے ہئیت نے اللہ کی ہر نشانی میں کچھ ایسے طبعی قوانین دریافت فرمارکھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا دستِ قدرت کہیں کام کرتا نظر نہ آئے اور یہی قوانین سکولوں اور کالجوں میں بچوں کو پڑھائے جاتے ہیں۔مثلاً بارش کے لئے دریافت کردہ طبعی قوانین یہ ہیں کہ سمندر پر سورج کی گرمی سے بخارات بن کر اوپر اٹھتے ہیں۔پھر ہواؤں کا رخ ان بخارات کو کسی مخصوص سمت کی طرف اڑالے جاتاہے۔تاآنکہ یہ بخارات کسی سرد منطقہ فضائی میں پہنچ جاتے ہیں۔وہاں پہنچ کر یہ بخارات پھر پانی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اور بارش ہونے لگتی ہے اور اگر شدید سرد منطقہ میں پہنچ جائیں تو پھر اولے برسنے لگتے ہیں انہی اصولوں کے مطابق ہمارے ہاں پاکستان میں بارش یوں ہوتی ہے کہ جون جولائی کے گرم مہینوں میں بحیرہ عرب سے بخارات اٹھتے ہیں جو کوہ ہمالیہ سے آکر ٹکراتے ہیں یہاں ہوائیں پھر ان کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیتی ہیں اور وہ اس پہاڑ کے سر دحصوں میں پہنچ کر پانی بن جاتے ہیں اور اس طرح موسم برسات یا جولائی یا اگست میں ہمارے ہاں بارشیں ہوتی ہیں۔اس لحاظ سے کسی خاص مقام پر بارش ہونے کے عوامل یہ ہیں۔سمندر سے اس مقام کا فاصلہ سطح سمندر سے بلندی،ہواؤں کا رخ ،پہاڑوں کا رخ اور بلندی ،ان اصولوں کے تحت ضروری ہے کہ ایک خاص مقام پر اور ایک خا ص موسم میں ہر سال یکساں بارش ہو۔کیونکہ نہ سمندر کے پھیلاؤ میں فرق آتاہے نہ سورج کی گرمی میں، نہ پہاڑوں کی بلندی اور رخ میں سرد ہوائیں بھی طبعی قانون کے تحت ایک خاص رخ ہی اختیار کرتی ہیں۔مگر مشاہدہ یہ ہے کہ ہر سال یکساں بارش نہیں ہوتی۔ ایک سال تو بارشوں کی کثرت سے اس خاص مقام پر سیلاب آجاتاہے اور کوئی سال بالکل خشک گزرجاتاہے سرے سے بارش ہوتی ہی نہیں پھر ان طبعی قوانین کے نتائج میں بیشی اور تبدیلی کیوں واقع ہوتی ہے؟ آخر ان باتوں سے یہ نتیجہ کیوں نہیں نکالاجاسکتا کہ کوئی ایسی زبردست اور بالاترہستی بھی موجود ہے جو ان بے جان قوانین کے نتائج میں تبدیلی کا پورا پورا اختیار رکھتی ہے۔(تیسیر القرآن)
۔ مِنْ جِبَالٍ۔عربی محاورہ میں کثرت و عظمت کے اظہار کے لئے آتاہے ،مثلاً کثرت علم کے موقع پر عندہ جبال من العلم۔ کثرت زر کے موقع پر ۔فلان یملک جبالامن الذھب۔(بحر)اردو محاورہ میں بھی بولتے ہیں۔"اس کے پاس تو سونے کے پہاڑ ہیں"(تفسیر ماجدی)
44۔ گردش لیل و نہار اور موسموں کی تبدیلی: ۔۔۔۔۔آخر زمین جیسے عظیم الجثہ کُرّے کو آخر کس ہستی نے مجبور کیا ہے کہ وہ سورج کے گرد اپنے محور پر ساڑھے چھ ڈگری کا زاویہ بناتے ہوئے چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی رہے اور ہمیشہ گھومتی رہے اور اس گردش میں سر مو بھی فرق نہ آنے دے؟پھر ہر وقت اس کی کڑی نگرانی بھی رکھے ہوئے ہے۔"فَاعْتَبِرُوْا یٰاُولِی الْاَبْصَارِ"(تیسیر القرآن)
ــــ عبرت کے معنی ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک عبور کرجانا ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
45۔(اس قدیر پر کچھ بھی مشکل نہیں، وہ جو جانور جس قسم کا بھی چاہے پیدا کردے) یَمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ۔ پیٹ کے بل چلنے والوں میں، کل رینگنے والے جانور یعنی حشرات الارض بھی آگئے جیسے سانپ ۔اور تیرنے والے جانور بھی جیسے مچھلی۔ یَمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ۔ دوپایہ جانور کی مثال خود انسان ہے۔ نیز پرند جب وہ زمین پر چل رہے ہوں۔ یَمْشِیْ عَلٰى اَرْبَعٍ۔ چوپایہ جانوروں کی مثالیں بالکل ظاہر ہیں۔ ۔۔۔جو لوگ "بیالوجی"اور "زولوجی"کے جزئیات میں پڑ کر اور الجھ کر اللہ کی قدرت کاملہ کی بصیرت سے محروم رہ جاتے ہیں، ان کی بے بصری بڑی ہی حسرت انگیز ہے۔(تفسیر ماجدی)
48۔یہ آیات ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہیں۔ طبری وغیرہ نے یہ واقعہ اس طرح بیان کیا ہے کہ منافقین میں سے ایک شخص بشر نامی تھا اس کے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین کے متعلق جھگڑا اور خصومت تھی۔ یہودی نے اس کو کہا کہ چلو تمہارے ہی رسول سے ہم فیصلہ کرا لیں مگر بشر منافق ناحق پر تھا یہ جانتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس مقدمہ گیا تو آپ حق کے موافق فیصلہ کریں گے اور میں ہار جاؤں گا ۔اس نے اس سے انکار کیا اور آنحضرت ﷺ کے بجائے کعب بن اشرف یہودی کے پاس مقدمہ لے جانے کو کہا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (معارف القرآن)
49- یہ آیت اس حقیقت کو صاف صاف کھول کر بیان کر رہی ہے کہ جو شخص شریعت کی مفید مطلب باتوں کو خوشی سے لپک کرلے لے، مگر جو کچھ خدا کی شریعت میں اس کی اغراض و خواہشات کے خلاف ہو اسے رد کر دے، اور اس کے مقابلے میں دنیا کے دوسرے قوانین کو ترجیح دے وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
50۔ اللہ کے رسول کے فیصلہ سے اعراض کی وجوہ:۔ یعنی ان منافقوں کے رسول کے فیصلہ سے اعراض کی تین ہی وجہیں ہوسکتی ہیں۔ایک یہ کہ وہ سچے دل سے ایمان نہ لایا ہو بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر مسلمان ہوگیا ہو۔دوسرے یہ کہ وہ ایمان کا دعوےٰ کرنے کے باوجود اس شک و شبہ میں مبتلا ہوکہ یہ شخص واقعی اللہ کا رسول ہے بھی یا نہیں؟یا یہ قرآن اللہ کا کلام ہے بھی یا نہیں؟یا آخرت کے دن کےقیام اور اس دن جزا و سزا کا عقیدہ کچھ حقیقت بھی رکھتاہے یا نہیں یا یہ سب باتیں محض افسانے اور من گھڑت باتیں ہیں۔تیسرے یہ کہ وہ اللہ اور رسول کو مان لینے کہ بعد یہ اندیشہ رکھتا ہوکہ قرآن کے فلاں حکم نے تو ہمیں ذلیل کرکے رکھ دیا ہے اور مصیبت میں ڈال دیاہے یا رسول کا فلاں طریقہ یا حکم ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہے ان تینوں صورتوں میں سے جو بھی صورت ہو ان کے ظالم ہونے میں کوئی شک نہیں۔ایسا شخص خود بھی فریب میں مبتلا ہے اور فی الحقیقت بڑادغاباز او رخائن ہے۔جوذاتی مفادات کی خاطر مسلمان بنا ہواہے۔اور مسلمانوں کو بھی فریب دے رہاہے۔وہ اپنے آپ پر بھی ظلم کررہاہے اور دوسرے مسلمانوں پر بھی ۔جو اس کے زبانی دعوے پر اعتماد کرکے اسے اپنی ملت میں شامل کرلیتے ہیں۔ان کے ظالم ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اپنا حق تو پورا پورا وصول کریں۔ خواہ اس میں دوسروں کی کتنی زیادہ حق تلفی ہورہی ہو۔اور اسی غرض کے تحت وہ اپنا فیصلہ وہاں لے جانا چاہتے ہیں جہاں انہیں اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ کی توقع ہو۔اور یہ دونوں باتیں ان کے ظالم ہونے پر صریح دلیل ہیں۔(تیسیر القرآن)
ساتواں رکوع |
| اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴿51﴾ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ ﴿52﴾ وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ﴿53﴾ قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ﴿54﴾ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ﴿55﴾ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ﴿56﴾ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ ۧ ۧ ﴿57ع النور 24﴾ |
| 51. مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ 52. اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں۔ 53. اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں۔ کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ، پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) ۔ بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔ 54. کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو۔ اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا رستہ پالو گے اور رسول کے ذمے تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے۔ 55. جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم وپائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں۔ 56. اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو اور پیغمبر خدا کے فرمان پر چلتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ 57. اور ایسا خیال نہ کرنا کہ تم پر کافر لوگ غالب آجائیں گے (وہ جا ہی کہاں سکتے ہیں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ |
تفسیر آیات
55۔ تنگدستی اوربدامنی کے خاتمہ کی شہادت:۔عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ ایک دن میں آپؐ کے پاس بیٹھا کہ دو آدمی آئے۔ ایک تنگی معیشت کی شکایت کرتاتھا اور دوسرا رہزنی کی۔آپؐ نے فرمایا: "عنقریب ایسا امن ہوگا کہ یہاں سے جانے والا قافلہ بغیر کسی محافظ کے جائے گا اور اے عدی بن حاتم! کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟"میں نے کہا نہیں البتہ اس کی خبر ملی ہے "فرمایا :اگر تمہاری عمر زیادہ ہوئی تو تم دیکھوگے کہ ایک عورت حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرے گی لیکن اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا"میں نے دل میں سوچا: قبیلہ بنو طے کے لٹیرے جنہوں نے تہلکہ مچارکھا ہے اس وقت کہاں جائیں گے؟اور قیامت نہیں آئے گی کہ ایک شخص اپنا صدقہ لے کر چکر لگائے کہ اسے کوئی لینے والا مل جائے لیکن اسے کوئی صدقہ لینے والانہیں ملے گا۔ اور تم لوگ کسریٰ کے خزانے فتح کروگے۔" میں نے کہا:کسریٰ بن ہرمز؟"آپؐ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا اور اے عدی! اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو ضرور تم ایسے شخص کو دیکھوگے جو مٹھی بھر سونا چاندی لے کر ایسے آدمی کی تلاش میں نکلے گا جو اسے قبول کرے لیکن اسے ایسا کوئی آدمی نہ ملے گا"۔(بخاری۔کتاب الزکوٰۃ ۔باب الصدقۃ قبل الرد کتاب المناقب۔ باب علامات النبوۃ) سیدنا عدی کہتے ہیں پھر میں نے حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرنے والی عورت کو دیکھا جو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتی تھی اور میں خود ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے ۔(بخاری۔کتاب المناقب۔باب علامات النبوۃ)۔ان حالات میں ایسی پیشین گوئی مسلمانوں کے لئے ایک عظیم خوشخبری تھی چنانچہ اس خوشخبری کا کچھ حصہ تو رسول اللہؐ کی زندگی میں ہی پوراہوگیا ۔ فتح مکہ اور بالخصوص اعلان برأت کے بعد عرب بھر سے لوٹ مار کی وارداتیں ختم ہوگئیں۔اور صحابہ کرام کو آسودگی بھی میسر آگئی مگر عرب سے باہر ابھی خوف و ہراس ،لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کی فضا قائم تھی ۔جو خلفائے راشدین کے زمانہ میں پوری ہوئی۔ اورسیدنا عثمانؓ کے زمانہ میں فی الواقع اتنی آسودگی ہوگئی کہ ایک شخص اپنی زکوٰۃ اداکرنے کے لئے نکلتا تو اسے کوئی مستحق زکوٰۃ شخص نہیں ملتا تھا۔۔۔۔۔یہ وضاحت ہمیں اس لئے کرنا پڑی ہے کہ بعض کج فہم حضرات اعمال صالحہ سے مراد صلاحیت رکھنے والے کام لیتے ہیں جیسے وہ اعمال جن سے اقتدار حاصل کیاجاسکتاہو۔ اس لحاظ سے ان کے نزدیک ہر وہ قوم جو اس وقت اقتدار حاصل کئے ہوئے ہے وہی ایماندار ہے اور اسی کے اعمال صالحہ ۔خواہ وہ قوم کافر، مشرک یا دہریہ ہی کیوں نہ ہو۔ظاہر ہے یہ کج فکری کتاب و سنت کی تمام تر تعلیمات پر پانی پھیر دیتی ہے۔۔۔۔۔یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے مومنوں یا صحابہ کرام سے ایسے وعدہ اور پکی خوشخبری کے بعد بھی ان کا ساتھ نہ دے اور کفر و نفاق کی راہ اختیار کرے تو ایسے لوگ یقیناً بدکردار ہیں اور بعض علماء نے اس فقرہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ خلفائے راشدین کی خلافت قائم ہونے اور دین کے مضبوط ہونے کے بعد بھی جو شخص اس بات کا انکار کرے کہ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کا اختیار کردہ دین اللہ کا پسندیدہ دین نہیں تھا تو ایسے لوگ فاسق ہیں۔(تیسیر القرآن)
ـــ (جیسے حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کی حکومتیں مستقل طورپر، اور طالوت کی حکومت جالوت اور زبردست فلسطینیوں کے مقابلہ میں، یا یوشع بن نون کے زمانہ میں بنی اسرائیل کو زبردست قوم عمالقہ کے مقابلہ میں اور حضرت یوسفؑ کا عہد حکومت)۔۔۔۔اور حدیث رسول میں جو آیا ہے۔الخلافۃ بعدی ثلاثون ثم تکون ملکاً(میرے بعد خلافت 30 سال تک رہے گی پھر اس کے بعد بادشاہت ہوجائے گی)صاف خلافت اور حکومت کے اسی فرق کی جانب مشیر ہے۔۔۔۔فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ گویا نص ہے، خلفاء اربعہ کے برسرحق ہونے کی۔ان کی ذات میں اللہ کا وعدۂ استخلاف فی الارض و تمکین دین پوری طرح پوراہوکررہا۔البتہ امیر معاویہؓ اس زمرہ میں شامل نہیں کہ وہ نزول آیت کے وقت تک ایمان نہیں لائے تھے، اور نص میں ان کی جانب اشارہ نہیں۔(تفسیر ماجدی)
۔ یہ اس بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمان غنی ؓ کے زمانے میں پورا کردیا۔ اس کے بعد کوئی انصاف پسند آدمی مشکل ہی سے اس امر میں شک کرسکتا ہے کہ ان تینوں حضرات کی خلافت پر خود قرآن کی مہر تصدیق لگی ہوئی ہے اور ان کے مومن صالح ہونے کی شہادت اللہ تعالیٰ خود دے رہا ہے۔ اس میں اگر کسی کو شک ہو تو نہج البلاغہ میں سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی وہ تقریر پڑھ لے جو انہوں نے حضرت عمر کو ایرانیوں کے مقابلے پر خود جانے کے ارادے سے باز رکھنے کے لیے کی تھی۔ (تفہیم القرآن)
آ ٹھواں رکوع |
| یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ﴿58﴾ وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ﴿59﴾ وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ﴿60﴾ لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿61ع النور 24﴾ |
| 58. مومنو! تمہارے غلام لونڈیاں اور جو بچّے تم میں سے بلوغ کو نہیں پہنچے تین دفعہ یعنی (تین اوقات میں) تم سے اجازت لیا کریں۔ (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے گرمی کی دوپہر کو) جب تم کپڑے اتار دیتے ہو۔ اور تیسرے عشاء کی نماز کے بعد۔ (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے (کے) ہیں ان کے (آگے) پیچھے (یعنی دوسرے وقتوں میں) نہ تم پر کچھ گناہ ہے اور نہ ان پر۔ کہ کام کاج کے لئے ایک دوسرے کے پاس آتے رہتے ہو۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں تم سے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا بڑا علم والا اور بڑا حکمت والا ہے۔ 59. اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیئے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ 60. اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی، اور وہ کپڑے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں۔ اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ اور خدا سنتا اور جانتا ہے۔ 61. نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ |
تفسیر آیات
۔ یہاں سے پھر احکام معاشرت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ بعید نہیں کہ سورة نور کا یہ حصہ اوپر کی تقریر کے کچھ مدت بعد نازل ہوا ہو۔ (تفہیم القرآن)
۔ اللہ اللہ ! مسلمان کے گھر کی اندرونی راحت کا اہتمام کس درجہ مدنظر ہے! کیسے کیسے جزئیات تک کے احکام اس غرض کے لئے صادر ہورہے ہیں!۔ (تفسیر ماجدی)
60۔ بوڑھی عورتوں کو حجاب کے احکام سے رخصت کی مشروط اجازت:۔یہاں جو بڑی بوڑھیوں کو کپڑے اتارنے کی اجازت ہے تو اس سے مراد وہ کپڑے ہیں جو ستر سے متعلق نہیں بلکہ حجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور وہ دوہیں ایک دوپٹہ جس سے عورتوں کے سرپر رکھنے اور اس سے اپنے گریبان ڈھاپنے رکھنے کا حکم ہے اور اس کا تعلق گھر کے اندر کی دنیا سے ہے اور دوسرے بڑی چادریں جن سے انہیں اپنا سارا بدن اور زیب و زینت ڈھانپ کر گھر سے باہر نکلنے کا حکم ہے۔(تیسیر القرآن)
61۔ کھانا کھانے، کھلانے کے آداب: ۔اس آیت میں معاشرہ کے مختلف قسم کے لوگوں کے ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھانے کے آداب اور احکام بیان ہوئے ہیں۔ آیات کا ابتدائی حصہ معذور لوگوں سے تعلق رکھتا ہے یعنی لنگڑے اور مریض قسم کے لوگ ۔ان کے متعلق ارشاد ہواکہ وہ چونکہ خودکمانہیں سکتے اس لئے وہ ہر گھر سے کھانا کھاسکتے ہیں۔ انہیں اس میں عار محسوس نہ کرنا چاہئے اور معاشرہ کے لوگوں پر چونکہ ان کا حق ہے۔لہذا انہیں بھی چاہئے کہ انہیں کھانا کھلانے کے سلسلہ میں فراخدلی سے کام لیں۔اس کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ دور جاہلیت میں اس قسم کے معذور لوگ خود آسودہ حال اور تندرست لوگوں کے ساتھ مل کرکھانا کھانے میں جھجک محسوس کرتے تھے انہیں یہ خیال آتاتھا کہ شاید دوسروں کو ہمارے ساتھ کھانا کھانے سے نفرت ہو اور وہ اسے ناگوار محسوس کریں۔اور فی الواقع بعض لوگوں کو ایسی نفرت و وحشت ہوتی بھی تھی ۔لہذاعام لوگوں کو ہدایت دی گئی کہ ایسے لوگ تو تمہاری ہمدردی کے محتاج ہیں چہ جائے کہ ان سے نفرت کی جائے۔تیسیر ی توجیہ یہ ہے کہ بعض متقی قسم کے لوگوں کو یہ خیال آتاتھا کہ شاید ایسے لوگوں کے ساتھ مل کرکھانے سے کہیں ان معذور لوگوں کی حق تلفی نہ ہوتی ہو۔مثلاً اندھے کو سب کھانے نظر نہیں آتے ۔لنگڑے ممکن ہے دیر سے پہنچیں اور مریض تو کھانا کھاتے وقت اپنی تکلیف اور پرہیز کو ملحوظ رکھتے ہیں لہذا یہ لوگ علیحدہ ہی کھانا کھائیں تو بہترہے۔اس جملہ سے ان سب لوگوں کے نظریات کا ازالہ کردیا گیا۔۔۔۔۔اس آیت میں اپنے بیٹوں ، بیٹیوں کے گھروں کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا۔یہ گھر بھی دراصل ہر شخص کے اپنے ہی گھر ہوتے ہیں۔(تیسیر القرآن)
ــــ عرب جاہلیت میں کھانے پینے کے باب میں ایک ہلکی سی شکل کمیونزم (اشتمالیت)کی جاری تھی۔دستور یہ تھا کہ جو جس کے یہاں پہنچ جاتابے تکلفی سے اس کے یہاں کی چیز یں کھانا پینا شروع کردیتا ۔یہ بے تکلفی بجائے خود تو اچھی چیز تھی،لیکن افراط اس میں بھی اس قدر ہوگئی تھی کہ مستحقین پر نوبت ظلم کی پہنچ گئی تھی، اور گھر والے اکثر گھاٹے میں رہنے لگے تھے۔جب آیت لَا تَاْكُلُوْا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ نازل ہوئی تو متقی مسلمان، فرط خشیت سے، بہت زیاد احتیاط کرنے لگے۔اور وہاں بھی کھانے پینے سے پرہیز کرنے لگے، جہاں رضا یقینی طور پر معلوم تھی ۔اور اپنے ساتھ میں اندھوں، لنگڑوں ،بیماروں، معذوروں کالیجانا تو بالکل ہی رک گیا،اس شدت احتیاط کو توڑنے اور اعتدال قائم کرنے کے لئے آیت بالانازل ہوئی۔مطلب یہ ہے کہ جن گھروں کی تفصیل بیان کی جارہی ہے، یہاں خود کھالینے یا اپنے ساتھ معذوروں کو کھلادینے میں،جب کہ صاحبِ خانہ کی رضا کا یقین ہو، کوئی مضائقہ نہیں۔ مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ۔"اپنے گھروں سے "میں بیوی اور اولاد کے گھر بھی داخل ہیں۔ عَلَى۔ یہاں فی کے معنی میں لیا گیا ہے یعنی اندھوں ،لنگڑوں وغیرہ کے باب میں نہ تم پر کوئی الزام ہے،نہ ان پر۔(تفسیر ماجدی)
۔ قدیم زمانے کے اہل عرب میں بعض قبیلوں کی تہذیب یہ تھی کہ ہر ایک الگ الگ کھانا لے کر بیٹھے اور کھائے۔ وہ مل کر ایک ہی جگہ کھانا برا سمجھتے تھے، جیسا کہ ہندوؤں کے ہاں آج بھی برا سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس بعض قبیلے تنہا کھانے کو برا جانتے تھے، حتیٰ کہ فاقہ کر جاتے تھے اگر کوئی ساتھ کھانے والا نہ ہو۔ یہ آیت اسی طرح کی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے ہے۔(تفہیم القرآن)
ـــ دورجاہلیت میں چونکہ غیر محدود آزادی لوگوں کو حاصل رہی تھی اس لیے انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام سوشل آزادیوں کو محدود کرناچاہتاہے۔لوگوں کے اس شبہ کو دور کرنے کے لیے یہ وضاحت فرمادی کہ ان پابندیوں سے نہ یہ مقصود ہے کہ اندھے، لنگڑے اور مریض اپنے تعلق کے لوگوں کے سہارے سے محروم ہوجائیں اور نہ یہ مطلوب ہے کہ اعزہ و اقرباء اور دوستوں کے ساتھ معاشرتی روابط منقطع ہوجائیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
نواں رکوع |
| اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿62﴾ لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿63﴾ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ ۧ ۧ ﴿64ع النور 24﴾ |
| 62. مومن تو وہ ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر چلے نہیں جاتے۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخششیں مانگا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 63. مومنو پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بےشک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیئے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو۔ 64. دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ جس (طریق) پر تم ہو وہ اسے جانتا ہے۔ اور جس روز لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو لوگ عمل کرتے رہے وہ ان کو بتا دے گا اور خدا ہر چیز پر قادر ہے ۔ |
تفسیر آیات
62۔ استغفار جس طرح تلافی معصیت کے لئے ہے، تلافئ نقص کے لئے بھی ہوتاہے۔(تفسیر ماجدی)
۔اس میں پھر تنبیہ ہے کہ اجازت طلب کرنے میں اگر ذرا سی بہانہ بازی کا بھی دخل ہو، یا اجتماعی ضروریات پر انفرادی ضروریات کو مقدم رکھنے کا جذبہ کار فرما ہو تو یہ ایک گناہ ہے۔ لہٰذا رسول اور اس کے جانشین کو صرف اجازت دینے ہی پر اکتفا نہ کرنا چاہیے بلکہ جسے بھی اجازت دے، ساتھ کے ساتھ یہ بھی کہہ دے کہ خدا تمہیں معاف کرے۔ (تفہیم القرآن)
63۔ رسول اللہؐ کا ادب و احترام:۔ اس جملہ کے تین مطلب ہوسکتے ہیں اور تینوں ہی درست ہیں۔ایک یہ کہ رسول کو ایسے نہ بلایا کروجیسے تم ایک دوسرے کو بے تکلفی سے بلاتے رہتے ہو۔بلکہ انہیں بلانا ہو تو ان کا پورا ادب و احترام ملحوظ رکھاکرو۔دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر رسول تمہیں بلائیں تو ایسا نہ سمجھو جیسے کوئی عام آدمی بلا رہاہے کہ جی چاہے تو جواب دے دویا نہ دو یا اگر جی چاہے تو ان کے پاس حاضر ہوجاؤ اور چاہے تو نہ آؤ۔بلکہ ان کے بلانے پر تم پر واجب ہوجاتاہے کہ تم ان کے پاس حاضر ہوجاؤ اور ان کی بات سنو پھر اسے بجا لاؤ۔اور یہ مطلب قرآن کریم کی ایک دوسری آیت"یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ" سے ماخوذ ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: حضرت سعید بن معلی کہتے ہیں کہ : میں نماز پڑھ رہا تھا آپ میرے سامنے گزرے اور مجھے بلایا۔ میں نماز پڑھ کر حاضر ہوا تو مجھے فرمایا : تم میرے بلانے پر کیوں نہ آئے ؟ کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ)) 8 الانفال 24)) (بخاری ۔ کتاب التفسیر ۔زیر آیت مذکورہ)اس حدیث سے علماء نے یہ استنباط کیا ہے کہ اگر کوئی شخص فرض نماز بھی اداکررہاہو تو رسول کے بلانے پر اسے نماز تک چھوڑ کر فوراً حاضر ہوجانا چاہئے ۔اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ رسولؐ کی دعا کو یوں نہ سمجھو جیسے کسی عام آدمی کی دعاہے۔بلکہ تمہارے حق میں رسولؐ کی دعا تمہاری دنیا اور تمہاری آخرت سنوارنے کا موجب بن سکتی ہے اسی طرح ان کی بددعاتمہیں تباہ و برباد بھی کرسکتی ہے۔لہذا ان کی اطاعت کرکے انہیں خوش رکھنے اور ان کی دعا لینے کی کوشش کیا کرو۔(تیسیر القرآن)
۔ امام جعفر صادق ؓ نے فتنے کا مطلب " ظالموں کا تسلط " لیا ہے۔ یعنی اگر مسلمان رسول اللہ ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کریں گے تو ان پر جابر و ظالم حکمراں مسلط کردیے جائیں گے۔ بہرحال فتنے کی یہ بھی ایک صورت ہو سکتی ہے اور اس کے سوا دوسری بیشمار صورتیں بھی ممکن ہیں۔ مثلاً آپس کے تفرقے اور خانہ جنگیاں، اخلاقی زوال، نظام جماعت کی پراگندگی، داخلی انتشار، سیاسی اور مادی طاقت کا ٹوٹ جانا، غیروں کا محکوم ہوجانا وغیرہ۔ (تفہیم القرآن)
۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ یہی حکم امام کے لئے بھی ہے۔امام المسلمین اگر اب بھی بلائے تو جانا واجب ہوگا۔ اور بلااجازت چلے آنا ناجائز ۔جو امور مباحات میں داخل ہیں امام کے حکم کے بعد واجب ہوجاتے ہیں، اور امت کا کسی جگہ جمع ہونا اور جمع رہنا جب امام کے حکم سے ہو، واجب ہوجائے گا۔البتہ جب کسی اجتماع میں یہ معلوم ہوجائے کہ اب جمع رہنا امام کی طرف سے مامور نہیں تو بلا اجازت اُٹھ آنے میں بھی مضائقہ نہیں۔(تفسیر ماجدی)