25 - سورة الفرقان (مکیہ)

رکوع - 6 آیات - 77

مضمون: سورہ فرقان سے سورہ احزاب تک سورتوں کا چوتھا گروپ ہے جس کا جامع عنوان اثبات رسالت ہے۔ سورہ فرقان میں نبیؐ کی رسالت اور قرآن کی دعوت کا دفاع ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون :اس سورۃ  کا مرکزی  مضمون  قرآن  اور   نبی ؐ   کا دفاع  ہے  اور اس  سلسلہ  میں مخالفین  کے اعتراضات   و شبہات  کا جواب  دیا گیا  ہے ۔  آخر  میں  عباد الرحمٰن   کی صفات  بیان  کی گئی  ہیں  ۔  اورکفار  کے سامنے  ایک  آئینہ  رکھ  دیا  گیا  ہے  کہ   وہ اس  میں  اپنی  شکلیں  بھی  دیکھ   لیں  اور  عباد الرحمٰن  کا   کردار  بھی  ۔

شان نزول :  سورۃ المومنون  اور سوررۃ الانبیا کے ساتھ  حضور ؐ  کے قیام  مکہ  کے  تیسرے  دور  میں سن 7  نبوی  میں نازل  ہوئی ۔

نظم کلام : یہاں سے  سورتوں  کا چوتھا  گروپ  شروع  ہو رہا ہے  ، اس  میں آٹھ  مکی سورتیں  ( الفرقان  تا السجدہ )  اور ایک  مدنی  سورۃ  ، الاحزاب   شامل  ہیں   ۔  الاحزاب  ، سورۃ نور  کا جوڑا  ہے ۔  اس گروپ  کا  جامع  عمود  اثبات   رسالت  ہے  ۔  اس میں  حضور ؐ   اور قرآن  کا اصل  مقام  و مرتبہ  واضح   فرمایا گیا  ْہے ۔اس  گروپ  میں  اسلامی   دعوت  کے تمام  اہم پہلو   - دعوت  ، ہجرت   اور جہاد  کا  بھی  تذکرہ  ہے ۔

ترتیب  مطالعہ :  (1 )  ر -  1  (   توحید  ،  قرآن  اور رسالت  )   (2 )   ر –  2  (  آخرت  کی نعمتیں  اور رسالت  محمد ؐ )   (3 )   ر – 3   ( نزول قرآن  )   (4 )   ر –  4  (سابقہ   انبیا  کا تذکرہ )   ( 5 )  ر – 5 (   مخالفین  قرآن  کا تذکرہ   اور دعوت   غور  و فکر )  (6 ) ر -  6 (  عبادالرحمٰن  کے اوصاف  حمیدہ )


پہلا رکوع

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ  ﴿1﴾ اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا ﴿2﴾ وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا ﴿3﴾ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚ ۛ ﴿4﴾ وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا ﴿5﴾ قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ﴿6﴾ وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ  ﴿7﴾ اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا ﴿8﴾ اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠   ۧ ۧ ﴿9ع الفرقان 25﴾
1. وہ (خدائے عزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل حال کو ہدایت کرے۔ 2. وہی کہ آسمان اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور جس نے (کسی کو) بیٹا نہیں بنایا اور جس کا بادشاہی میں کوئی شریک نہیں اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا۔ 3. اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں۔ اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اُٹھ کھڑے ہونا۔ 4. اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) من گھڑت باتیں ہی ہیں جو اس (مدعی رسالت) نے بنالی ہیں۔ اور لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے۔ یہ لوگ (ایسا کہنے سے) ظلم اور جھوٹ پر (اُتر) آئے ہیں۔ 5. اور کہتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح وشام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ 6. کہہ دو کہ اُس نے اُس کو اُتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ بےشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 7. اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ کیوں نازل نہیں کیا گیا اس کے پاس کوئی فرشتہ اس کے ساتھ ہدایت کرنے کو رہتا۔ 8. یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں کھایا کرتا۔ اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔ 9. (اے پیغمبر) دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کس کس طرح کی باتیں کرتے ہیں سو گمراہ ہوگئے اور رستہ نہیں پاسکتے۔

تفسیر آیات

مسلمانوں کا اپنے نبی کی شان میں غلو:۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر اپنے پیارے رسول کے لئے عبد کا لفظ استعمال فرمایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی امتوں نے بھی اپنے رسول کی شان میں عقیدت مندی کی بناپر غلو کیا تھا اور انہیں ان کے حقیقی مقام سے اٹھاکر اللہ کے ساتھ جاملا یا تھا۔ یہود نے کہا کہ عزیرؑ کے جسم میں اللہ تعالیٰ نے حلول کیا ہے اور وہ اللہ کے اوتار تھے،ہندوؤں میں بھی اوتار یا حلول کا عقیدہ بکثرت پایا جاتاہے اور نصاریٰ نے عیسیٰؑ علیہ  السلام کو اللہ کا بیٹا بھی کہا بلکہ اس سے بڑھ کر اللہ ہی بنادیا ۔اسی لئے آپؐ نے واضح الفاظ میں اپنی امت کو تنبیہ فرمائی کہ "مجھے میری حد سے ایسے نہ بڑھانا چڑھانا جیسے نصاریٰ نے عیسی ابن مریم کو چڑھادیا میں تو اللہ کا بندہ ہوں لہذا تم یوں کہو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول "(بخاری،کتاب بدء الخلق۔باب واذکر فی الکتاب مریم)۔۔۔۔عبداللہ بن سبا یہودی کا کردار:۔ اسلام میں اس عقیدہ کو داخل کرنے والا ایک یہودی عبداللہ بن سبا تھا۔ یمن کے شہر صنعاء کا رہنے والا اور نہایت ذہین و فطین آدمی تھا۔ اس نے یہ معلوم کرلیا کہ عملی میدان میں مسلمانوں سے انتقام لینے کی یہودیوں میں سکت باقی نہیں رہ گئی تو اس نے فریب کاری کے طورپر اسلام قبول کیا اور درویشی کا لبادہ اوڑھ کر زہد و تقویٰ کے روپ میں سامنے آتا۔یہ سیدنا عمرؓ کے زمانہ میں مسلمان ہوا اور حالات کے دھارے کا انتظار کرتارہا۔اس کی یہ سازشی تحریک انتہائی خفیہ طورپر مکہ اور مدینہ سے اور دوسرے علاقوں مثلاً کوفہ ،بصرہ اور مصر میں اپنا کام کررہی تھی۔بلآخر اسی یہودی کے حامیوں نے سیدنا عثمانؓ پر مختلف الزامات عائد کئے اور موقعہ پاکر غنڈہ گردی کرکے 35ھ میں انہیں شہید کردیا۔انا اللہ وانا الیہ راجعون۔۔۔۔سیدنا علیؓ کا آپ کو اللہ کہنے والوں کو سزادینا:۔عبداللہ بن سبا نے خود ایک دفعہ کوفہ میں سیدنا علیؓ کو مخاطب کرکے رمز و کنایہ کی زبان میں کہا انت ھو یعنی"وہی ہے"تو علیؓ اس کے نظریہ کو بھانپ گئے اور اسے سخت سرزنش کی اور بعد میں اسے سزا دینے کے لئے بلابھیجا تو معلوم ہوا کہ وہ کوفہ سے راہ فرار اختیارکرچکا ہے۔بہرحال اس نے اپنے معتقدین کی ایک جماعت تیار کرلی تھی۔ایک دفعہ یہ لوگ علی الاعلان بازار میں کھڑے ہوکر اپنے اسی عقیدہ کا پرچار کر رہے تھے کہ سیدنا علیؓ کے غلام قنبر نے یہ باتیں سنیں تو سیدنا علیؓ کو جاکر اطلاع دی کہ کچھ لوگ آپ کو اللہ کہہ رہے ہیں۔ اور آپ میں خدائی صفات مانتے ہیں۔آپ نے ان کو بلایا اور قوم زط کے ستر اشخاص تھے آپ نے ان سے پوچھا "تم کیا کہتے ہو؟"انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے رب ہیں اور خالق اور رازق ہیں"آپ نے فرمایا:"تم پر افسوس!"میں تو تم ہی جیسا ایک بندہ ہوں او ر تمہاری طرح کھانے پینے کا محتاج ہوں۔ اگر اللہ کی اطاعت کروں گا تو مجھے اجردے گا اور نافرمانی کروں گا تو سزا دے گا۔لہذا تم اللہ سے ڈرجاؤ اور اس عقیدہ کو چھوڑدو۔"(تیسیر القرآن)

ہرچیز کے متعلق اللہ کا اندازہ کیا ہے؟: ۔اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو، خواہ وہ جانداریا بے جان ، پیدا بھی کیا پھر اس نے ہر ایک چیز کا وظیفہ اور اس کے لئے قوانین بھی بنادئیے ۔جن سے وہ تجاوز نہیں کرسکتی۔ مثلاً کوئی جاندار ایسا نہیں جسے موت سے دوچار نہ ہونا پڑے ۔ہر چیز جو بنتی ہے وہ ضرور کسی نہ کسی وقت فنا بھی ہوجائے گی۔پانی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ کسی وقت بلندی کی طرف بھی بہنا شروع کردے یا پستی کی طرف بہنا رک جائے۔نہ آگ کے لئے ممکن ہے کہ وہ ٹھنڈک پہنچانا شروع کردے۔آپ کسی کتے کو عمدہ اور بکثرت غذائیں کھلا پلا کر گھوڑے کے قد کے برابر نہیں کرسکتے غرض ہر ایک چیز کے لئے کچھ حدوداور کچھ وظائف اللہ تعالیٰ نے مقرر کردئیے ہیں۔اور یہی ہر چیز کے لئے اللہ تعالیٰ کا اندازہ ہے۔(تفسیر ماجدی)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے الوہیت کے کئی معیار  بیان فرمائے ہیں اور مشرکوں کو عام دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے معبودوں کو ان معیاروں پر جانچ کر دیکھیں اور پھر بتائیں کہ آیا ان کے معبودوں میں الوہیت کا کوئی شائبہ تک بھی پایا جاتاہےمثلاً(1)جوہستی کوئی چیز پیدا نہ کرسکے یا کسی بھی چیز کی خالق نہ ہو وہ معبود نہیں ہوسکتی۔(2)جو چیز خود پیدا شدہ ہو یا مخلوق ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتی ۔کیونکہ جو چیز پیدا ہوئی ہے وہ فنا بھی ضرور ہوگی۔ اور فنا ہونے والی چیز الٰہ نہیں ہوسکتی۔اب یہ تو ظاہر ہے کہ مشرکوں کے معبود خواہ وہ بت ہوں جنہیں انہوں نے خود ہی گھڑ رکھا ہے یا فرشتے ہوں یا کوئی اور چیز مثلاً: سورج، چاند، تارے،شجر ،حجرہوں۔ یہ سب چیزیں اللہ کی مخلوق ہیں۔ لہذا ان میں کوئی چیز بھی الوہیت کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔(3)جو ہستی کسی دوسرے کو فائدہ یا نقصان نہ پہنچا سکتی ہوبالفاظ دیگر وہ حاجت روایا مشکل کشا نہ ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتی۔یہی وہ صفات ہیں جنہیں مشرکین اللہ کے سوا بعض دوسری ہستیوں میں (خواہ وہ جاندار ہو یا بے جان ،زندہ ہوں یا مرچکی ہوں)تسلیم کرتے ہیں اور شرک کی یہی قسم سب سے زیادہ عام ہے۔اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ: (4)الوہیت کے سلبی معیار:۔جو چیز اپنے ہی نفع و نقصان کی بھی مالک نہ ہو، وہ دوسرے کسی کی حاجت روایا مشکل کشا نہیں ہوسکتی۔ اور یہ معیار بھی ایسا معیار ہے جس کے مطابق اللہ کے سواتمام تر معبودباطل قرار پاتے ہیں ۔پتھر کے معبودوں کو سیدنا ابراہیمؑ نے توڑ پھوڑ ڈالا تو وہ ان کا بال بیکا نہ کرسکے۔رہے بزرگان ِدین(خواہ وہ پیغمبر ہو یا ولی،زندہ ہوں یا فوت ہوچکے ہوں)سب کو ان کی زندگی میں بے شمار تکلیفیں پہنچتی رہیں لیکن وہ اپنی بھی تکلیفیں اور بیماریاں خود رفع نہ کرسکے تو دوسروں کی کیا کرتے یا کیا کریں گے۔اس لئے بس وہ اللہ سے دعاہی کرتے رہے۔رہے شمس و قمر ،تارے اور فرشتے تو یہ سب ایسی مخلوق ہیں جنہیں اپنا اختیار کچھ بھی نہیں ہے۔اللہ نے انہیں جس کام پر لگادیا ہے اس کے سوا کوئی دوسرا کام کرہی نہیں سکتے۔ لہذا وہ بھی الوہیت کے معیار پر پورے نہیں اتر سکتے۔(5)الوہیت کا پانچواں معیار یہ ہے کہ وہ ہستی کسی زندہ چیز کو مار بھی سکتی ہو اور مردہ چیز کو زندہ بھی کرسکتی ہو۔ اللہ کی یہ شان ہے کہ وہ ہروقت زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ چیزیں پیدا کررہاہے ۔اور دوسرے معبودوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے چیلنج کے طورپر فرمایا کہ وہ ایک حقیر سی مخلوق مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے جبکہ ان کی عاجزی کا یہ عالم ہے کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ سب مل کر اس سے اپنی سلب شدہ چیز چھڑا بھی نہیں سکتے اور مردوں کو زندہ کرکے اٹھا کھڑا کرنا تو اور بھی بڑی بات ہے۔اس مقام پر الوہیت کے یہی معیار بیان کئے گئے ہیں جبکہ بعض دوسرے مقامات پر اور بھی کئی معیار مذکورہیں:مثلاً جو خود محتاج ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔جو بے جان ہوں الٰہ نہیں ہوسکتا، جوکھانا کھاتا ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتا ،جو نہ سن سکتاہو نہ دیکھ سکتاہو یا جواب نہ دے سکتا ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔وغیرہ وغیرہ۔(تیسیر القرآن)

اہل سیر اور اہل تفسیر کے ہاں اس سلسلہ میں تین نام آئے ہیں۔(1)ایک جبر۔عبداللہ بن الحضرمی کے غلام تھے، اور ابتداً یہودی تھے۔دل سے مسلمان حضورؐ کے قیام مکہ ہی کے زمانہ میں ہوچکے تھے ۔اعلان اسلام فتح مکہ کے بعد کیا۔ذریعہ معاش شمشیر سازی اور برتنوں پر قلعی، صفائی وغیرہ کا کام تھا۔(2)دوسرے عداس عتبہ بن ربیعہ کے غلام تھے،اور ابتداءً مسیحی تھے۔ (3)تیسرے یسار۔عامر یہودی کے غلام تھے۔تینوں غلام تھے،اور پھر معمولی قسم کے دکان دار ہوگئے تھے۔جن کا کوئی پایہ علم و حکمت میں تھا اور نہ فصاحت و بلاغت میں۔ ایسے گمناموں اور ہیچمندانوں کی جانب تصنیف قرآن کا انتساب نتیجہ یا تو کمال حمق کا ہوسکتاہے،اور یا پھر افراط عناد کا۔۔۔۔کیا خوب نمونہ اور معیار تحقیق ہے،ان مدعیان تحقیق کی تحقیق کا! نام لئے بھی تو کیسے تین گمناموں بے نشانوں کے! اگر کہیں چند عالموں فاضلوں حکیموں اور دانشوروں کے نام لئے ہوتے جب بھی ایک بات تھی ،اور ایک لمحہ کے لئے تو ان پر غور ہوتا!۔ (تفسیر ماجدی)

یہ وہی اعتراض ہے جو اس زمانے کے مستشرقین مغرب قرآن مجید کے خلاف پیش کرتے ہیں۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ نبی ﷺ کے ہم عصر دشمنوں میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ تم بچپن میں بحیرا راہب سے جب ملے تھے اس وقت یہ سارے مضامین تم نے سیکھ لیے تھے۔ اور نہ یہ کہا کہ جوانی میں جن تجارتی سفروں کے سلسلے میں تم باہر جایا کرتے تھے اس زمانے میں تم نے عیسائی راہبوں اور یہودی ربّیوں سے یہ معلومات حاصل کی تھیں۔ اس لیے کہ ان سارے سفروں کا حال ان کو معلوم تھا۔ یہ سفر اکیلے نہیں ہوئے تھے، ان کے اپنے قافلوں کے ساتھ ہوئے تھے اور وہ جانتے تھے کہ ان میں کچھ سیکھ آنے کا الزام ہم لگائیں گے تو ہمارے اپنے ہی شہر میں سیکڑوں زبانیں ہم کو جھٹلا دیں گی۔ اس کے علاوہ مکہ کا ہر عام آدمی پوچھے گا کہ اگر یہ معلومات اس شخص کو بارہ تیرہ برس کی عمر ہی میں بحیرا سے حاصل ہوگئی تھیں، یا 25 برس کی عمر سے، جبکہ اس نے تجارتی سفر شروع کیے تھے، حاصل ہونی شروع ہوگئی تھیں، تو آخر یہ شخص کہیں باہر تو نہیں رہتا تھا، ہمارے ہی درمیان رہتا بستا تھا، کیا وجہ ہے کہ چالیس برس کی عمر تک اس کا یہ سارا علم چھپا رہا اور کبھی ایک لفظ بھی اس کی زبان سے ایسا نہ نکلا جو اس علم کی غمازی کرتا ؟ یہی وجہ ہے کہ کفار مکہ نے اتنے سفید جھوٹ کی جرأت نہ کی اور اسے بعد کے زیادہ بےحیا لوگوں کے لیے چھوڑ دیا۔ وہ جو بات کہتے تھے وہ نبوت سے پہلے کے متعلق نہیں بلکہ دعوائے نبوت کے زمانے کے متعلق تھی۔ (تفہیم القرآن)

8۔ اہل عرب کے نزدیک مسحور کی تین صورتیں :۔ جادو شدہ آدمی سے مراد دیوانہ آدمی ہے۔عرب میں دیوانگی کی تین وجوہ سمجھی جاتی تھیں۔ایک یہ کہ کسی شخص پر کسی جن بھوت کا سایہ پڑگیا ہو۔دوسرے یہ کہ کسی معبود ،کسی بت،کسی دیوی دیوتا یا ان کے کسی بزرگ کی شان میں گستاخی کی گئی ہو اور اس کی مار پڑگئی ہو اور تیسرے یہ کہ کسی اور جادوگرنے اس پر جادو کردیا ہو۔کفار مکہ آپ پر وقتاً فوقتاً ایسے تینوں طرح کے الزام دیتے تھے،اس مقام پر تیسری قسم کا ذکر ہواہے۔(تیسیر القرآن)


دوسرا رکوع

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا ﴿10﴾ بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ  ﴿11﴾ اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا ﴿12﴾ وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ  ﴿13﴾ لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا ﴿14﴾ قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا ﴿15﴾ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا ﴿16﴾ وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ  ﴿17﴾ قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا ﴿18﴾ فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا ﴿19﴾ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠   ۧ ۧ ﴿20ع الفرقان 25﴾
10. وہ (خدا) بہت بابرکت ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر (چیزیں) بنا دے (یعنی) باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں۔ نیز تمہارے لئے محل بنادے۔ 11. بلکہ یہ تو قیامت ہی کو جھٹلاتے ہیں اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے 12. جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے گی (تو غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اس کے جوش (غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے۔ 13. اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں (زنجیروں میں) جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے۔ 14. آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو۔ 15. پوچھو کہ یہ بہتر ہے یا بہشت جاودانی جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے۔ یہ ان (کے عملوں) کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانہ ہوگا۔ 16. وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ وعدہ خدا کو (پورا کرنا) لازم ہے اور اس لائق ہے کہ مانگ لیا جائے۔ 17. اور جس دن (خدا) ان کو اور اُن کو جنہیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں جمع کرے گا تو فرمائے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے۔ 18. وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایان نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے۔ لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتنے کو نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے۔ اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔ 19. تو (کافرو) انہوں نے تو تم کو تمہاری بات میں جھٹلا دیا۔ پس (اب) تم (عذاب کو) نہ پھیر سکتے ہو۔ نہ (کسی سے) مدد لے سکتے ہو۔ اور جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو بڑے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ 20. اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرو گے۔ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے۔

تفسیر آیات

10۔ جس طرح نقل اعتراضات کی تمہید لفظ تبارک سے اٹھائی ہے اسی طرح جواب کی تمہید بھی اسی لفظ سے اٹھائی ہے۔۔۔۔۔ (تدبرِقرآن)

20۔ ۔۔۔اور تو اور، خود عیسیٰ بن مریم ؑ ، جن کو عیسائیوں نے خدا کا بیٹا بنا رکھا ہے (اور جن کا مجسمہ کفار مکہ نے بھی کعبہ میں رکھ چھوڑا تھا) انجیلوں کے اپنے بیان کے مطابق کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے۔۔۔۔۔یعنی رسول اور اہل ایمان کے لیے منکرین آزمائش ہیں اور منکرین کے لیے رسول اور اہل ایمان۔ منکرین نے ظلم و ستم اور جاہلانہ عداوت کی جو بھٹی گرم کر رکھی ہے وہی تو وہ ذریعہ ہے جس سے ثابت ہوگا کہ رسول اور اس کے صادق الایمان پیرو کھرا سونا ہیں۔ کھوٹ جس میں بھی ہوگی وہ اس بھٹی سے بخیریت نہ گزر سکے گا۔ (تفہیم القرآن)


تیسرا رکوع

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا ﴿21﴾ یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا ﴿22﴾ وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا ﴿23﴾ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا ﴿24﴾ وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا ﴿25﴾ اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا ﴿26﴾ وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا ﴿27﴾ یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا ﴿28﴾ لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا ﴿29﴾ وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا ﴿30﴾ وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا ﴿31﴾ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا ﴿32﴾ وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ  ﴿33﴾ اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠   ۧ ۧ ﴿34ع الفرقان 25﴾
21. اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے۔ کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کئے گئے۔ یا ہم اپنی آنکھ سے اپنے پروردگار کو دیکھ لیں۔ یہ اپنے خیال میں بڑائی رکھتے ہیں اور (اسی بنا پر) بڑے سرکش ہو رہے ہیں۔ 22. جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لئے (اور بند کردیئے) جاؤ۔ 23. اور جو انہوں نے عمل کئے ہوں گے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے تو ان کو اُڑتی خاک کردیں گے۔ 24. اس دن اہل جنت کا ٹھکانا بھی بہتر ہوگا اور مقام استراحت بھی ہوگا۔ 25. اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کئے جائیں گے۔ 26. اس دن سچی بادشاہی خدا ہی کی ہوگی۔ اور وہ دن کافروں پر (سخت) مشکل ہوگا۔ 27. اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا۔ 28. ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ 29. اس نے مجھ کو (کتاب) نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا۔ اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے۔ 30. اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ 31. اور اسی طرح ہم نے گنہگاروں میں سے ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا۔ اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے۔ 32. اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اُتارا گیا۔ اس طرح (آہستہ آہستہ) اس لئے اُتارا گیا کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں۔ اور اسی واسطے ہم اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے رہے ہیں۔ 33. اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اس کا معقول اور خوب مشرح جواب بھیج دیتے ہیں۔ 34. جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف جمع کئے جائیں گے ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور وہ رستے سے بھی بہکے ہوئے ہیں۔

تفسیر آیات

24۔ مُسْتَقَرًّا۔۔۔ مَقِیْلًا۔مستقر،جائے قیام اور مقیل جائے آرام۔دونوں سے مراد جنت ہے،اور جنت کا ہر حیثیت سے بہترین ہونا ظاہر ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ خیر مستقراً۔بہترین مکان ہے اور احسن مقیلا بہترین زمانہ یعنی اہل جنت کے لئے مکان و زمان دونوں اعتبار سے بہترین آسائشوں کا مجموعہ موجودہوگا ۔اوپر جس طرح اہل جہنم کے حرمان کامل کا بیان تھا،یہ ٹھیک اس کے مقابلہ میں اہل جنت کی آسائش کا بیان ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔حضور ﷺ نے فرمایا والذی نفسی بیدہ اِنّہ لیخفف علی المؤمن حتی یکون اخف علیہ من صلوۃ مکتوبۃ یصلیھا فی الدنیا " قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قیامت کا عظیم الشان اور خوفناک دن ایک مومن کے لیے بہت ہلکا کردیا جائے گا، حتیٰ کہ اتنا ہلکا جتنا دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے کا وقت ہوتا ہے "۔ (مسند احمد بروایت ابی سعید خدری)۔(تفہیم القرآن)

۔ مَقِیْل قیلولہ کی جگہ کو کہتے ہیں لیکن یہ اپنے عام استعمال میں آرام گاہ اور عیش گاہ کے مفہوم میں آتا ہے۔ امراء القیس کا مصرع ہے فقل فی مفلس نحد متغیب (ایسی عیش گاہ میں عیش کرو جو ہر نحوست سے محفوظ ہے) (تدبرِ قرآن)

25۔ (زمین پر)یہ وقت وہ ہوگا جب صور کے نفخ ثانی کے بعد زمین و آسمان سب از سر نو درست ہوجائیں گے۔ حساب کتاب شروع ہورہاہوگا حق تعالیٰ کی ایک تجلی خاص حساب و کتاب کی غرض سے ہوگی ،ملائکہ ارد گرد کثرت سے ہوں گے۔سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 210 میں بھی اسی موقع کا ذکر ہے ۔ بِالْغَمَامِ۔ میں ب مرادف  عن کے ہے۔۔۔ الْغَمَام۔ کہا گیا ہے کہ یہ ہلکا بادل سفید رنگ کا مثل کُہر کے ہے۔ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ۔آسمان کا یہ پھٹنا بطور کُھلنے کے ہوگا،جو پھٹنابطور تخریب و افناء کے ہوگا وہ نفخ اول کے وقت ہوچکا ہوگا۔(تفسیر ماجدی)

26۔ یعنی وہ ساری مجازی بادشاہیاں اور ریاستیں ختم ہوجائیں گی جو دنیا میں انسان کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔ (تفہیم القرآن)

27۔ اشارہ عقبہ بن ابی معیط  اموی کی جانب ہے۔۔۔۔یہ عقیدہ اس کے خاص دوست ابی بن خلف کا تھا(تفسیر ماجدی)

30۔   حضرت  انس رضی اللہ تعالی عنہ  سے روایت  ہے کہ حضور ؐ   نے فرمایا  :  "  جس  شخص  نے قرآن  پڑھا  مگر  پھر  اسکو  بند  کرکے   گھر  میں معلق  کردیا  ،  نہ   اسکی  تلاوت  کی پابندی  کی ، نہ  اسکے  احکام  میں غور   کیا  ،  قیامت  کے روز  قرآن  اسکے  گلے   میں پڑا  ہوا  آئیگا  اور اللہ تعالی   کی بارگاہ   میں  شکایت  کرے  گا  کہ   آپکے  اس بندہ  نے  مجھے   چھوڑ  دیا تھا  ۔  اب  آپ   میرے  اور اسکے  معاملے   کا  فیصلہ  فرمادیں "۔(معارف القرآن)

ـــ اس طرح  ان اشقیا  نے  قرآن  جیسی  قابل  قدر  کتاب  کو بالکل  متروک  و مہجور   کر  چھوڑا ۔  قرآن  کی تصدیق   نہ  کرنا  ، اس  کی تصحیح  قرأت  کی  طرف  توجہ  نہ کرنا  ،  اس سے  اعراض  کرکے   دوسری لغویات   یا  حقیر  چیزوں   کی طرف    متوجہ   ہونا  ، یہ  سب  صورتیں  درجہ  بدرجہ  ہجران  قرآن کے تحت  داخل  ہوسکتی  ہیں۔(تفسیر عثمانی  ( بحوالہ  ڈاکٹر اسرار )

ـــ   خوار  از   مہجوری  قرآن شدی                                                                   شکوہ  سنج  گردش  دوران شدی

سبب کچھ اور  ہے  تو جس  کو  خود  سمجھتا ہے                             زوال  بندہ  مومن کا بے  زری سےنہیں ۔(علامہ اقبال)       (انوارالقرآن)

ــــ ذکر ہی  قیامت کا چل رہاہے ،رسول اللہؐ جناب باری میں بطور شکایت عرض کریں گے،کہ جو قوم میری مخاطب دعوت تھی ، اس نے قرآن کو ماننا اور اس پر عمل کرنا الگ رہاہے ،اسے قابل التفات ہی نہ سمجھا ۔ قَوْمِی۔قوم سے مراد قریش کا ہونا تو ظاہرہی ہے ،جو براہ راست اور بلا واسطہ دعوت توحید کی مخاطب تھی۔لیکن لفظ عام ہےاور مراد ساری ہی امت ِ دعوت ہوسکتی ہے،یعنی وہ کل قومیں جنہیں قرآن پہنچ چکا ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ رسول سے مراد نبی ﷺ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو قرآن کو جھٹلانے والے خود اپنی بدبختی پر اپنے سرپیٹیں گے۔ دوسری طرف نبی ﷺ بھی اپنے رب سے شکوہ کریں گے کہ اے رب ! میں نے تیری کتاب، پوری دلسوزی کے ساتھ، اپنی اس قوم کے سامنے پیش کی لیکن ان لوگوں نے اس کی کوئی قدر نہیں کی بلکہ نہایت ناقدری کے ساتھ اس کو ٹھکرا دیا۔ حضور کا یہ شکوہ ان اشقیاء کے تابوت میں آخری کیل ہوگا جس کے بعد ان کے لئے زبان کھولنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جائے گی۔ یہ بات سورة مائدہ میں تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن انبیاء اپنی اپنی قوموں کے معاملہ میں گواہی دیں گے۔ (تدبرِ قرآن)

32۔ یہ ان معترضین کا چوتھا اعتراض نقل ہوا ہے۔۔۔۔ایک استاذ اگر چاہے تو پوری کتاب ایک ہی نشست میں شاگردوں کو سنا دے لیکن کیا اس طرح شاگرد کتاب کو محفوظ بھی کرسکیں گے۔۔۔۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ آسمانی صحائف میں سے کوئی صحیفہ بھی بیک دفعہ نہیں نازل ہوا ہے۔ جن لوگوں نے یہ خیال کیا ہے، ان کا خیال ان صحائف سے بیخبر ی پر مبنی ہے۔۔۔۔۔۔۔حضرات انبیاء (علیہم السلام) کوئی مصنف نہیں تھے کہ پوری پوری کتابیں لکھ کر ایک ہی دفعہ لوگوں کے ہاتھوں میں پکڑا دیں۔ وہ داعی، معلم اور مزکی ہوتے تھے، انہیں ایک پوری مریض قوم کا علاج اور تزکیہ کرنا ہوتا تھا۔ ان کے اس فرض منصبی کا فطری اور قدرتی تقاضا یہ تھا کہ وہ اس اصلاح کی راہ میں تدریج کے ساتھ قدم آگے بڑھائیں اور ہر قدم پر ضرورت کے مطابق ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی حاصل ہو۔(تدبرِ قرآن)


چوتھا رکوع

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚ ۖ ﴿35﴾ فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ  ﴿36﴾ وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚ ۖ ﴿37﴾ وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا ﴿38﴾ وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا ﴿39﴾ وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا ﴿40﴾ وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا ﴿41﴾ اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا ﴿42﴾ اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ  ﴿43﴾ اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠   ۧ ۧ ﴿44ع الفرقان 25﴾
35. اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنا کر ان کے ساتھ کیا۔ 36. اور کہا کہ دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی۔ (جب تکذیب پر اڑے رہے) تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ 37. اور نوح کی قوم نے بھی جب پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں غرق کر ڈالا اور لوگوں کے لئے نشانی بنا دیا۔ اور ظالموں کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 38. اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان اور بہت سی جماعتوں کو بھی (ہلاک کر ڈالا)۔ 39. اور سب کے (سمجھانے کے لئے) ہم نے مثالیں بیان کیں اور (نہ ماننے پر) سب کا تہس نہس کردیا۔ 40. اور یہ کافر اس بستی پر بھی گزر چکے ہیں جس پر بری طرح کا مینہ برسایا گیا تھا۔ کیا وہ اس کو دیکھتے نہ ہوں گے۔ بلکہ ان کو (مرنے کے بعد) جی اُٹھنے کی امید ہی نہیں تھی۔ 41. اور یہ لوگ جب تم کو دیکھتے ہیں تو تمہاری ہنسی اُڑاتے ہیں۔ کہ کیا یہی شخص ہے جس کو خدا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ 42. اگر ہم اپنے معبودوں کے بارے میں ثابت قدم نہ رہتے تو یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا۔ (اور ان سے پھیر دیتا) اور یہ عنقریب معلوم کرلیں گے جب عذاب دیکھیں گے کہ سیدھے رستے سے کون بھٹکا ہوا ہے۔ 43. کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے خواہش نفس کو معبود بنا رکھا ہے تو کیا تم اس پر نگہبان ہوسکتے ہو۔ 44. یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں (نہیں) یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔

تفسیر آیات

35۔ یہاں کتاب سے مراد تورات نہیں کیونکہ تورات تو سیدنا موسیٰؑ کو کوہ طورپر بلاکر اس وقت دی گئی تھی۔جب بنی اسرائیل میدان تیہ میں قیام پذیر تھے۔ بلکہ اس سے مرادوہ منزل من اللہ ہدایات و احکام ہیں ۔جو آپ کو مصر سے خروج سے پہلے دی جاتی رہیں۔ایسی ہی منزل من اللہ وحی کو اصطلاحی زبان میں وحی خفی یا سنت بھی کہتے ہیں اور ایسے احکام پر کتاب اللہ کا اطلاق ہوسکتاہے ۔جیساکہ اس آیت سے معلوم ہوتاہے ۔ایسی وحی یا سنت پر عمل کرنا ایسے ہی واجب ہے جیسے وحی جلی یا وحی متلو اللہ کی کتاب پر۔(تیسیر القرآن)

36۔ یہاں آیات سے مراد غالباً وحی تھی جو سیدنا ابراہیم ،سیدنا اسحاق، سیدنا یعقوب اور سیدنا یوسف علیھم السلام پر نازل ہوئی تھی کیونکہ سیدنا موسیٰؑ اور ہارون علیہ السلام نے تو ان فرعونیوں کو بھی اپنی طرف نازل شدہ کوئی وحی سنائی ہی نہ تھی۔یا پھرآیت اللہ سے مراد کائنات میں ہر سو اللہ کی بکھری ہوئی نشانیاں ہیں جن سے غور و فکر کرنے والے اللہ کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں۔اور فرعون ایسی نشانیوں سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے خود ہی خدائی کا دعویدار بن بیٹھا تھا۔(تیسیر القرآن)

ــــ بِاٰیٰتِنَا۔"اٰیٰتنا"میں دلائل توحید سے مراد یا تو دلائل عقلیہ ہیں اور ظاہر ہے کہ بعد سمجھ جانے ان دلائل کے توحید کا انکار ضرور قابل زجر ہےاور یا مراد دلائل نقلیہ ہیں جو انبیاء سابقین سے منقول ہوتے ہوئے ان لوگوں تک پہنچے ہوں گے ان کے انکار کا مذموم ہونا ظاہری ہے(تھانویؒ)۔۔۔۔ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًا۔ تدمیر  ہلاک کی شدید ترین شکل کا نام ہے۔یعنی انہیں بالکل چور چور، ریزہ ریزہ ہی کرڈالا۔نذیراحمدی زبان میں "ہم نے انہیں مارکر پٹراکردیا"۔(تفسیر ماجدی)

37۔ نشانی اس لحاظ سے کہ ان ظالموں کی روئے زمین پر نسل ہی ختم ہوگئی۔طوفان نوحؑ کے بعد سیدنا آدمؑ کی نسل صرف ان لوگوں سے چلی جو سیدنا نوحؑ کے ہمراہ کشتی میں سوارتھے او ر بعض کے نزدیک آئندہ نسل سیدنا نوحؑ کے تین بیٹوں حام،سام اور یافث سے چلی۔(تیسیر القرآن)

۔ چونکہ انہوں نے سرے سے یہی بات ماننے سے انکار کردیا تھا کہ بشر کبھی رسول بن کر آسکتا ہے، اس لیے ان کی تکذیب تنہا حضرت نوح کی تکذیب ہی نہ تھی بلکہ بجائے خود منصب نبوت کی تکذیب تھی۔ (تفہیم القرآن)

38۔اصحاب الرس کون ہیں؟ قوم عاد و ثمود کا ذکر تو قرآن میں بہت سے مقامات پر مذکور ہے مگراصحاب الرس یا کنویں والوں کا ذکر صرف دومقامات پر آیاہے۔ ایک اسی جگہ اور دوسری سورہ ق کی آیت نمبر 12 میں۔ ان مقامات پر ان کا ذکر اس قدر مختصر ہےجس سے ان کے حالات پر کچھ روشنی نہیں پڑتی۔نہ ہی یہ معلوم ہوسکا کہ ان کی طرف کون سا نبی مبعوث ہواتھا۔لغوی لحاظ سے رس بڑے کنوئیں کو کہتے ہیں جس میں پانی وافر مقدار میں موجود ہو اسی وجہ سے اصحاب الرس کے بارے میں مفسرین میں کئی قسم کے اختلافات ہیں۔زیادہ مشہور یہی بات ہے کہ اس سے مراد اہل انطاکیہ ہیں۔ ان کی طرف حبیب نجار نبی مبعوث ہوئے تو انہوں نے انہیں جھٹلایا لیکن وہ بدستور انہیں اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے۔بالآخر ان لوگوں نے آپ کو مار کر کنوئیں میں ڈال دیا۔اسی وجہ سے یہ اصحاب الرس کے لقب سے مشہور ہوئے پھر اللہ نے اس کنوئیں سمیت اس بستی کو زمین میں دھنسا دیا۔واللہ اعلم بالصواب۔(تیسیر القرآن)

40۔یہ اشارہ قوم لوط کی بستی کی طرف ہے۔ قریش کے تجارتی قافلے اس بستی کے کھنڈروں پرسے برابر گزرتے تھے۔قوم لوط کی تباہی پتھروں کی بارش سے ہوئی تھی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

43۔خواہشات کی اتباع شرک کی ہی ایک قسم ہے:۔  جو شخص اللہ کے بجائے اپنی خواہشِ نفسانی کا بندہ یا غلام بن جائے اور اللہ کے احکام کے بجائے اپنی خواہش نفس کی بات ماننے کو ترجیح دے تو ایسے شخص کے راہ راست پر آنے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں، نہ ہی آپ ایسے ہواپرستوں کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھاسکتے ہیں۔قرآن کے انداز ِ بیان سے جو بات فوراً ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہےکہ خواہش نفس کی اتباع بھی شرک کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔اور خواہش نفس کی اتباع ایک ایسا عام مرض ہے جس میں کافر ومشرک تو درکنار ،مومن و مسلم اور عوام و خواص سب ہی تقریباً مبتلا ہوتے ہیں۔مثلاًعام لوگوں کا طریقہ یہ ہوتاہے کہ شریعت کے احکام میں سے جو آسان اور ان کے من پسند ہوں ان پر تو عمل کرلیتے ہیں اور جو مشکل ہوں اور طبیعت کو گراں معلوم ہوتے ہوں انہیں چھوڑدیتے ہیں۔ایسے لوگ حقیقتاًشریعت کے متبع نہیں ہوتے بلکہ اپنی خواہشات کے متبع ہوتے ہیں اور خواص یا علماءکی اتباع ہوائے نفس یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات کی تاویل کرلیتے جو ان کی افتاد طبع ہواور انہیں پسند ہو،بعض غلط استنباط کرکے اور غلط فتوے دے کر دنیا کا مال بٹورتے ہیں۔پھر جو اور زیادہ ذہین طبع ہوتے ہیں وہ عوام میں کوئی بدعی عقیدہ رائج کرکے عوام کی توجہ کا مرکز بننا چاہتے ہیں اور نئے فرقہ کی بنیاد رکھ دیتے ہیں  جس کی تہہ میں حب مال و جاہ میں سے کوئی نہ کوئی جذبہ کار فرماہوتاہے اور کافر جو انبیاء کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ تو ان کا بھی مقصود یہ ہوتاہے کہ انہیں جو مقام معاشرہ میں حاصل ہے وہ ان سے چھن نہ جائے ۔اور مشرکوں کی اتباع خواہش کا تو پوچھنا ہی کیا۔آج ایک پتھر اچھا معلوم ہواتو اسے پوجنے لگے کل دوسرا اس سے خوبصورت پتھر مل گیا تو پہلے کو چھوڑ کر اس کے آگے سرجھکا دیا۔یا کسی شخص نے کسی ولی کے مزار سے متعلق کوئی کرامت یا حاجت روائی کا قصہ بیان کردیا تو اس کے مزار پر نذریں نیازیں دینا شروع کردیں۔پھر کسی اس سے بڑے بزرگ کے مزار کے حالات سے متاثر ہوئے تو اپنی ساری نیازمندیاں ادھر منتقل کردیں۔غرضیکہ جس طرح انسانوں کی بے شمار اقسام ہیں اسی طرح ان کی خواہش نفس اور اتباع کی بھی بے شمار اقسام ہیں اور رسول بھلا ان ہر طرح کے لوگوں کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری کیسے اٹھا سکتے ہیں؟(تیسیر القرآن)

44۔ یعنی جس طرح بھیڑ بکریوں کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ہانکنے والا انہیں چراگاہ کی طرف لے جا رہا ہے یا بوچڑخانے کی طرف۔ وہ بس آنکھیں بند کر کے ہانکنے والے اشاروں پر چلتی رہتی ہیں۔ اسی طرح یہ عوام الناس بھی اپنے شیطان نفس اور اپنے گمراہ کن لیڈروں کے اشاروں پر آنکھیں بند کیے چلے جار ہے ہیں، کچھ نہیں جانتے کہ وہ انہیں فلاح کی طرف ہانک رہے ہیں یا تباہی و بربادی کی طرف۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)


پانچواں رکوع

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ  ﴿45﴾ ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا ﴿46﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا ﴿47﴾ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ  ﴿48﴾ لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا ﴿49﴾ وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا ﴿50﴾ وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ ۖ ﴿51﴾ فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا ﴿52﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا ﴿53﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا ﴿54﴾ وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا ﴿55﴾ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا ﴿56﴾ قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا ﴿57﴾ وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَاۚۛ ۙ  ﴿58﴾ اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا ﴿59﴾ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩  ۞   ۧ ۧ ﴿60ع الفرقان 25﴾
45. بلکہ تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ سائے کو کس طرح دراز کر (کے پھیلا) دیتا ہے۔ اور اگر وہ چاہتا تو اس کو (بے حرکت) ٹھیرا رکھتا پھر سورج کو اس کا رہنما بنا دیتا ہے۔ 46. پھر اس کو ہم آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ 47. اور وہی تو ہے جس نے رات کو تمہارے لئے پردہ اور نیند کو آرام بنایا اور دن کو اُٹھ کھڑے ہونے کا وقت ٹھہرایا۔ 48. اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت کے مینھہ کے آگے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔ اور ہم آسمان سے پاک (اور نتھرا ہوا) پانی برساتے ہیں۔ 49. تاکہ اس سے شہر مردہ (یعنی زمین افتادہ) کو زندہ کردیں اور پھر اسے بہت سے چوپایوں اور آدمیوں کو جو ہم نے پیدا کئے ہیں پلاتے ہیں۔ 50. اور ہم نے اس (قرآن کی آیتوں) کو طرح طرح سے لوگوں میں بیان کیا تاکہ نصیحت پکڑیں مگر بہت سے لوگوں نے انکار کے سوا قبول نہ کیا۔ 51. اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ڈرانے والا بھیج دیتے۔ 52. تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس قرآن کے حکم کے مطابق بڑے شدومد سے لڑو۔ 53. اور وہی تو ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری چھاتی جلانے والا۔ اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بنادی۔ 54. اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا۔ پھر اس کو صاحب نسب اور صاحب قرابت دامادی بنایا۔ اور تمہارا پروردگار (ہر طرح کی) قدرت رکھتا ہے۔ 55. اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کی پرستش کر تے ہیں جو نہ ان کو فائدہ پہنچا سکے اور نہ ضرر۔ اور کافر اپنے پروردگار کی مخالفت میں بڑا زور مارتا ہے۔ 56. اور ہم نے (اے محمدﷺ) تم کو صرف خوشی اور عذاب کی خبر سنانے کو بھیجا ہے۔ 57. کہہ دو کہ میں تم سے اس (کام) کی اجرت نہیں مانگتا، ہاں جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف جانے کا رستہ اختیار کرے۔ 58. اور اس (خدائے) زندہ پر بھروسہ رکھو جو (کبھی) نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو۔ اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے۔ 59. جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ (جس کا نام) رحمٰن (یعنی بڑا مہربان ہے) تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو۔ 60. اور جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا؟ کیا جس کے لئے تم ہم سے کہتے ہو ہم اس کے آگے سجدہ کریں اور اس سے بدکتے ہیں۔

تفسیر آیات

45۔ یہاں سے آگے قرآن کے اساسی مسائل ۔ توحید اور آخرت۔ کے اثبات کے لیے آفاق کے بعض دلائل کی طرف اشارہ کیا ہے ۔نبیؐ کو یہ تلقین کی ہے کہ کفار کے مطالبات و اعتراضات کی پروانہ کرو، قرآن اتمام حجت کے لیے کافی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔ یہاں لفظ دلیل ٹھیک اسی معنی میں استعمال ہوا ہے جس میں انگریزی لفظ (Pilot) استعمال ہوتا ہے۔ ملاحوں کی اصطلاح میں دلیل اس شخص کو کہتے ہیں جو کشتیوں کو راستہ بتاتا ہوا چلے۔ سائے پر سورج کو دلیل بنانے کا مطلب یہ ہے کہ سائے کا پھیلنا اور سکڑنا سورج کے عروج وزوال اور طلوع و غروب کا تابع ہے۔ سائے سے مراد روشنی اور تاریکی کے بین بین وہ درمیانی حالت ہے جو صبح کے وقت طلوع آفتاب سے پہلے ہوتی ہے اور دن بھر مکانوں میں، دیواروں کی اوٹ میں اور درختوں کے نیچے رہتی ہے۔ (تفہیم القرآن)

47۔ ایسے مضامین کی پوری قدر اس وقت ہوتی ہے۔ جب مشرک قوموں کے عقیدے بھی پیش نظرہوں، جنہوں نے خود دن اور رات کو دیوتا قرار دیا ہے، یا انہیں کسی دیوی دیوتاکا پیدا کیا ہوامانا۔(تفسیر ماجدی)

ـــــ شب میں سونے کے بعد صبح کو اٹھ بیٹھنے میں موت کی نیند کے بعد صبح قیامت کو جاگ پڑنے سے مشابہت ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

48۔ہوابارش وغیرہ سب کا خالق وہی ایک ہے۔اندردیوتا،یا کوئی اور دیوی دیوتا وجود نہیں رکھتے۔۔۔۔فقہاء و مفسرین نے آیت کے تحت میں طہارت آب کے متعلق لمبی بحثیں چھیڑدی ہیں۔جن کا تعلق تفسیر قرآنی سے نہیں فقیہات سے ہے۔یہاں صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ پانی کے اس وصف مخصوص سے فقہاء نے یہ استنباط کیا ہے کہ حکمی نجاستوں کے ازالہ اور طہارت کا کام صرف آب خالص ہی دے سکتاہے ۔آبِ غیر خالص مثلاً عرق کیوڑا،عرق گلاب، عرق بید مشک، شربت انار، گوکیسے ہی لطیف ہوں، صرف طاہر ہیں مطہر نہیں۔(تفسیر ماجدی)

50۔ اگر تیسرے رخ (یعنی خشک سالی سے جاہلیت کی اور باران رحمت سے وحی و نبوت کی تشبیہ) کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ کے دوران میں بار بار یہ منظر سامنے آتا رہا ہے کہ جب کبھی دنیا نبی اور کتاب الہٰی کے فیض سے محروم ہوئی انسانیت بنجر ہوگئی اور فکر و اخلاق کی زمین میں خاردار جھاڑیوں کے سوا کچھ نہ اگا۔ اور جب کبھی وحی و رسالت کا آب حیات اس سر زمین کو بہم پہنچ گیا، گلشن انسانیت لہلہا اٹھا۔ جہالت و جاہلیت کی جگہ علم نے لی۔ ظلم و طغیان کی جگہ انصاف قائم ہوا۔ فسق و فجور کی جگہ اخلاقی فضائل کے پھول کھلے۔ جس گوشے میں جتنا بھی اس کا فیض پہنچا، شر کم ہوا اور خیر میں اضافہ ہوا۔ (تفہیم القرآن)

52۔جہاداً کبیراً۔ جہاد کبیر کا حکم آپ کو اسی معنی میں ہے کہ ساری دنیا سے باطل کو مٹائیے اور اس کے بجائے توحید کا سکّہ چلائیے۔جہاد۔ "کافروں سے قتال"کے معنی میں تو بہت بعد کی ایک فقہی اصطلاح ہے۔ قرآن میں یہ اپنے لفظی معنی"سعی بلیغ"میں ہے۔قتال کفار کے لیے تو بہت سی شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے اور یہ حکم تو ایک امیر منتخب کی ماتحتی میں بس کہیں کہیں جاری ہوتاہے ،جہاد بالقرآن کا حکم تو مستقل اور ہرحال کے لئے ہے۔(تفسیر ماجدی)

59۔ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ کی تفسیر کے لئےسورہ طہٰ کی آیت نمبر 5 کا حاشیہ نمبر3، سورہ اعراف کی آیت نمبر 54 کا حاشیہ نمبر 54۔(تیسیر القرآن)


چھٹا رکوع

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا ﴿61﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا ﴿62﴾ وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا ﴿63﴾ وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴿64﴾ وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗ ۖ ﴿65﴾ اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿66﴾ وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا ﴿67﴾ وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ  ﴿68﴾ یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗ ۖ ﴿69﴾ اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ﴿70﴾ وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا ﴿71﴾ وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا ﴿72﴾ وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا ﴿73﴾ وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا ﴿74﴾ اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ  ﴿75﴾ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿76﴾ قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠   ۧ ۧ ﴿77ع الفرقان 25﴾
61. اور (خدا) بڑی برکت والا ہے جس نے آسمانوں میں برج بنائے اور ان میں (آفتاب کا نہایت روشن) چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا۔ 62. اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔ (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں)۔ 63. اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں۔ 64. اور جو وہ اپنے پروردگار کے آگے سجدے کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں۔ 65. اور جو دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے پروردگار دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھیو کہ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے۔ 66. اور دوزخ ٹھیرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے۔ 67. اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اُڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ۔ نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم۔ 68. اور وہ جو خدا کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جن جاندار کو مار ڈالنا خدا نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر جائز طریق پر (یعنی شریعت کے مطابق) اور بدکاری نہیں کرتے۔ اور جو یہ کام کرے گا سخت گناہ میں مبتلا ہوگا۔ 69. قیامت کے دن اس کو دونا عذاب ہوگا اور ذلت وخواری سے ہمیشہ اس میں رہے گا۔ 70. مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کئے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو خدا نیکیوں سے بدل دے گا۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے۔ 71. اور جو توبہ کرتا اور عمل نیک کرتا ہے تو بےشک وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے۔ 72. اور وہ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب ان کو بیہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو بزرگانہ انداز سے گزرتے ہیں۔ 73. اور وہ کہ جب ان کو پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو اُن پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے (بلکہ غور سے سنتے ہیں)۔ 74. اور وہ جو (خدا سے) دعا مانگتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے (دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔ 75. ان (صفات کے) لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیئے جائیں گے۔ اور وہاں فرشتے ان سے دعا وسلام کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ 76. اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور وہ ٹھیرنے اور رہنے کی بہت ہی عمدہ جگہ ہے۔ 77. کہہ دو کہ اگر تم (خدا کو) نہیں پکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرتا۔ تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا (تمہارے لئے) لازم ہوگی۔

تفسیر آیات

۔ آسمان میں بارہ برجوں کی وضاحت کے لئے سورہ حجر کی آیت نمبر 16 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔(تیسیر القرآن)

ــــ فِیْهَا سے یہ لازم نہیں، کہ یہ اجرام فلکی، فلک کے اندر ہی ہوں۔اور لفظ سماء میں فلک سے کہیں زیادہ گنجائش ہے۔(تفسیر ماجدی)

62۔ سورۃالمومنون میں مومنین فلاح یاب کی اخلاقی ،روحانی، دینی زندگی بیان ہوچکی ہے،اب یہاں عباد الرحمن (بندگان رحمانی)کے آداب زندگی کی ایک جھلک دکھائی جارہی ہے۔رکوع میں اللہ کے بندگانِ خاص کے جو اوصاف بیان ہورہے ہیں ،گو عمومی رنگ میں ہیں۔ تاہم براہ راست اس کے مصداق تو رسول اللہؐ کے معاصر مومنین یعنی صحابہ کرامؓ ہیں۔ جو ابھی ابھی شرک کے دین اور جہالت کے آئین کو چھوڑ کر داخل اسلام ہوئے ہیں۔ رسولؐ کی صحبت سے ان کی قلب ماہیت ہوچکی ہے۔ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ۔کا ذکر کیا گیا ہے، ارشاد عباداللہ نہیں ہواہے، عباد الرحمن ہواہے۔اللہ اسم ذات ہے اور ساری ہی مخلوق اس سے یکساں نسبت رکھتی ہے۔اسم صفت رحمٰن میں اس کی صفت رحمت نمایاں ہے۔ یعنی ایسے بندے جو صفت رحمانیت سے نسبت کا شرف خصوصی رکھتے ہیں۔ جن پر رحمانیت کی تجلیات خاص پڑچکی ہیں۔(تفسیر ماجدی)

63۔   عِبَادُ الرَّحْمٰنِ: خاتمۂ سورہ میں اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کے اوصاف گنائے گئے ہیں جن کی عقل و دل کی صلاحیتیں زندہ ہیں اور وہ اس کی نشانیوں اور نازل کردہ کتابوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ــــ ھَونُُ کے  معنی    خاکساری  اور فروتنی  کے ہیں اور  سلام جس طرح   خیر مقدم  کے مواقع  کیلئے   ہے  اسی طرح  ان  مواقع  کیلئے  بھی   ہے   جب  کسی  سے خوبصورتی  اور شائستگی  سے علیحدہ   ہونا  اور  پیچھا   چھڑانا مقصود   ہو  ۔ (تدبر قرآن)

ـــ حضرت   عمر رضی اللہ تعالی عنہ   نے ایک   نوجوان  آدمی  کو    مریل   چال چلتے  دیکھا  تو   پوچھا  کیا  تم بیمار  ہو؟  اس  نے  کہا   نہیں   ، آپ  نے  درہ اٹھا کر  اسے  دھمکا یا اور کہا  قوت  کے ساتھ  چلو۔(تفہیم  القرآن)

ــــ اگلی  آیات  -  سورۃ  مومنون  کی آیات   1 – 10 ، تعمیر  سیرت   کی  اساسات  اور  سورۃ الفرقان  کی یہ  آخری  آیات  کامل  مومن  کی شخصیت   -  ارادہ  کیجئے  کہ  ہماری  آرزو  ہے کہ  ہم بھی  ایسے   ہی  بنیں ۔

تری  دعا  ہے کہ  ہو تیری  آرزو  پوری                                    میری  دعا ہے کہ تیری  آرزو  بدل  جائے ۔(علامہ اقبال) (بیان  القرآن)

 64۔  عشا کے بعد  دو  یا زیادہ  نوافل  -  حضرت  عثمان غنی  رضی اللہ تعالی عنہ  سے  روایت  ہے   کہ   حضورؐنے   فرمایا  :  عشا کی نماز  جماعت  کے ساتھ    (آدھی رات )  اور صبح  کی نماز  جماعت  کے ساتھ ( آدھی  رات  ) ( احمد  و مسلم )  (معارف القرآن)

65۔  کسی  کافر  نے  صحابہ  کرام  کے لشکر   میں چند  راتیں  اور چند  دن  بسر  کئے  اور  جاکر  اپنے   بادشاہ  کو بتایا   " ھم فرسان بالنہار  و رھبان باللیل( وہ  سارا  دن   گھوڑوں  کی پیٹھ  پر  بیٹھ   کرداد شجاعت  دیتے  ہیں  اور رات  کے وقت   راہبوں  کی طرح  ذکر  الہی   میں  مشغول  رہتے  ہیں ) (ضیاء القرآن)

ـــ غَرام ُ  لازم  ہو جانیوالی  اور چمٹ  جانیوالی  چیز  کو کہتے   ہیں  اس  سے  بچنے   کیلئے   جو کچھ  کیا جا سکتا  ہے وہ    اسی زندگی  میں کیا   جاسکتا  ہے  ۔(تدبر قرآن)

66۔مستقر میں مستقل قیام گاہ کا مفہوم پایا جاتاہے اور مقام میں عارضی جائے قیام کا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ـــــ باوجود طاعت و عبادت میں اس اہتمام تام کے، ان کی خشیت قلب کی کیفیت یہ رہتی ہے کہ برابر توبہ و استغفار ہی میں لگے رہتے ہیں۔اپنے تقویٰ و عبادت پر نازاں ذرا سے بھی نہیں ہوتے۔ اور دوزخ کی گرفت سے اپنے کو بالاتر اور مستثنیٰ نہیں سمجھتے۔افسوس کے قابل ہے ان نقلی صوفیوں کا حال جو اس قسم کی شاعری کرجاتے ہیں۔ ع۔ نہ دوزخ کا کھٹکا نہ جنّت کی پروا

اہل اللہ و بندگانِ خاص کی تو یہ علامت ہے کہ جنت کی طلب اور تمنا اور دوزخ سے پناہ مانگنے میں لگے رہتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

67۔ اللہ  کی معصیت   میں  خرچ   کرنا  اسراف   جبکہ  جائز  اور مباح   کاموں  میں ضرورت  سے  زائد   خرچ  کرنا  تبذیر   ہے جو بنص  قرآنی   حرام  و معصیت  ہے  ( إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُواإِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ)  اقتار  کے معنی   خرچ  میں تنگی   اور بخل  کرنے   کے ہیں  ، حضور ؐ   کا ارشاد   ہے  کہ  انسان  کی  دانشمندی  کی علامت  یہ ہے    کہ خرچ    میں میانہ   روی   اختیار   کرے  ( ابن کثیر )   حضرت  عبداللہ  بن مسعود  رضی اللہ تعالی عنہ  سے روایت   ہے کہ   حضور ؐ  نے  فرمایا  جو شخص   خرچ   میں میانا روی  اور اعتدال    پر   قائم   رہتا  ہے  وہ کبھی   فقیر و محتاج  نہیں ہوتا  ( ابن کثیر )(معارف  القرآن)

68۔  پہلےوہ صفات حمیدہ بیان کی گئیں جن سے اللہ تعالیٰ کے بندے متصف ہواکرتے تھے۔ اب  صفات    ذمیمہ  کا ذکر   ہورہا  ہے   جن کی آلائش سے خدا ئے رحمان کے بندوں کا دامن پاک ہوتاہے۔ (ضیا ء القرآن)

ــــ تین  گناہ  کبیرہ  - شرک  ، قتل  ، زنا  (بیان  القرآن)

آیات:63 تا 77:۔ خدائے مہربان کے نیک بندوں "عباد الرحمٰن"کی بارہ(12)جامع صفات گنوائی گئیں۔ان کی عبادات ،ان کا طرز تبلیغ ،ان کا خوفِ قیامت،مالی معاملات میں ان کا اعتدال ، توحید پر ان کی ثابت قدمی،زنا، قتل،جھوٹی گواہی اور لغویات جیسے بڑے گناہوں سے ان کا اجتناب، آیات الٰہی پرغورو فکر اور توجہ اور اپنے اہل و عیال کے بارے میں ان کی فکرمندی پرروشنی ڈالی گئی۔(1) زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں۔(آیت:63)،(2)جاہل لوگوں کے الجھنے پرسلام کرکے رخصت ہوجاتے ہیں۔(آیت:63)،(3)سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔آیت:64)،(4)دوزخ کے عذاب سے پناہ کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔(آیت:65)،(5)مالی معاملات میں اعتدال کا رویہ اختیار کرتے ۔بخل اور اسراف سے بچتے ہیں۔(آیت:67)،(6)اللہ کی دعاکے ساتھ،کسی اور سے دعا نہیں کرتے۔(آیت: 68)،(7)ناحق کسی کو قتل نہیں کرتے۔(آیت:68)،(8)زنا نہیں کرتے۔(آیت: 68)،(9)جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔(آیت:72)،(10)لغو اور بے ہودہ باتوں سے باوقار طریقے سے اجتناب کرتے ہیں۔(آیت: 72)،(11)اللہ کی آیات کو توجہ سے سنتے ہیں۔اندھے اور بہرے نہیں بنتے۔ (آیت:73)،(12)اپنی اولا داور اپنی بیویوں کیلئے دعا کرتے رہتے ہیں۔(آیت:74)آخری آیت میں انہیں صاف صاف بتادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ تو جنت کی طرف دعوت دے رہاہے،لیکن جو لوگ قرآن اور رسول اللہؐ کی دعوت مسترد کرکے ،دوزخ میں جانا چاہتے ہوں تو اللہ بھی بے نیاز ہے۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)

71۔   آیت  : 70  میں  کفار  کی توبہ   ، توبہ  کے بعد  ایمان  اور  عمل  صالح۔   اس آیت   میں  ایل ایمان  کی توبہ  ، توبہ  کے بعد  ثبوت توبہ  کیلئے  عمل   صالح۔ عمل صالح  کے بغیر  توبہ  کی کوئی   حیثیت  نہیں ۔

72۔مشرکین  کی عیدیں  اور میلے  ٹھیلے  ، گانے   بجانے  کی محفلیں  ، بے  حیائی   اور ناچ  رنگ  کے مجرے   ، شراب  پینے   پلانے   کی  مجلسیں  ، یہ  شہادت  بمعنی   موجودگی  - شہادت  بمعنی  گواہی  - جھوٹی   گواہی  کو  حضور ؐ  نے اکبر   کبائر   فرمایا   ہے ( بخاری و  مسلم )  حضرت  فاروق رضی اللہ تعالی عنہ  ( جھوٹی  شہادت  دینے  والوں  کو 40 کوڑوں  کی سزا  ،  منہ  کالا کرکے  بازار  میں  پھرایا  جائے   اور طویل  زمانے  تک قید  رکھا جائے )۔(معارف  القرآن)

ـــ   زور کذب  و باطل  کو کہتے  ہیں  اور لغو   سے مراد   وہ باتیں  اور کام ہیں   جو   ثقہ و سنجیدہ   لوگوں کے شایاں شان  نہ  ہوں ۔(تدبر قرآن)

ـ  وحی کو عقل کے تابع رکھنے والے حضرات کا قرآن کی اس  آیت سے استدلال:۔ یعنی جب اللہ کے بندوں کو آیات الٰہی سے نصیحت اور یاددہانی کرائی جاتی ہے تو اس نصیحت سے ان کے دل پوری طرح اثر قبول کرتے ہیں۔جس کے نتیجہ میں وہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔بعض عقل پرست حضرات اس آیت کا مفہوم یہ لیتے ہیں کہ اللہ کے بندوں کو جب آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بلاسوچے سمجھے ان پر نہیں گرے پڑتے بلکہ اگر وہ آیات عقل کے مطابق ہوں تو تب انہیں قبول کرتے ہیں اور اس سے مزید نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ قرآن کا کوئی حکم ایسا نہیں جو عقل انسانی کے مطابق نہ ہو۔اس طرح وہ وحی الٰہی کو عقل کے تابع بنادیتے ہیں۔یہ سلوک تو ان کا قرآن سے ہے اور جو سلوک ان کا احادیث نبویہ سے ہوسکتاہے اس کا آپ خود ہی اندازہ لگاسکتے ہیں۔حالانکہ دین میں جتنے بھی تعبدی امور ہیں وہ سب ایسے ہیں جن تک عقل کی رسائی ممکن نہیں۔ مثلاً یہ کہ حدث یا ہوانکلنے سے وضوکیوں ٹوٹ جاتاہے اور صاف ستھرے اجزائے بدن کو از سر نو کیوں دھونا پڑتاہے ۔یا مثلاً یہ کہ اگر ذبح کرتے وقت جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو وہ حرام کیوں ہوجاتاہے اور اس کے گوشت میں کیا تبدیلی واقع ہوتی ہے کہ اس کا کھانا حرام قرار دیا گیا ہے۔اور ایسی مثالیں بے شمار ہیں۔(تیسیر القرآن)

74۔  یہ لوگ اپنی عاقبت کی فکر کے ساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال کی عاقبت کی بھی برابر فکر رکھتے ہیں۔ ان کو اپنے متعلقین کی دنیا سے زیادہ  ان کی آخرت کی فکر رہتی ہے کہ ان میں کوئی شیطان کی راہ اختیار نہ کرے۔ اس لیے وہ دعاکرتے ہیں کہ اے رب! ہم کو ہمارے اہل و عیال کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کر، ان کے اعمال و اخلاق تیری پسند اور ہماری تمناؤں کے مطابق ہوں ۔ہم اس دنیا میں صالحین و متقین کے سربراہ ہوں اور آخرت میں بھی اسی حیثیت سے اٹھیں ،فاسق و فاجر لوگوں کے امام کی حیثیت سے نہ اٹھیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔ ہم نے اس آیت کی جو تاویل کی ہے اس سے یہ بات واضح ہے کہ یہ قیادت و سیادت کے حصول کی دعا نہیں ہے بلکہ ہر صاحب کنبہ کو بالفعل جو سیادت حاصل ہوتی ہے اس کی ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کی دعا ہے۔(تدبرِ قرآن)

ــــ عباد الرحمن   جنکی  صفات  بیان  ہو چکیں  انکی  دعا  اور انکا  اجر ملاحظہ   کریں  ۔(ضیا ء القرآن)

ــــ ریاست  و امامت  کی طلب   جو  دین  کیلئے  اور آخرت  کے فائدہ  کیلئے   ہو وہ  مذموم  نہیں   بلکہ   جائز  ہے اور   آیت    " لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا"  میں اس  ریاست   و اقتدار کی خواہش  کی مذمت  ہے جو  دنیوی  عزت  و جاہ  کیلئے  ہو ۔(معارف القرآن)

75۔ صبر کا لفظ یہاں اپنے وسیع ترین مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ دشمنان حق کے مظالم کو مردانگی کے ساتھ برداشت کرنا۔ دین حق کو قائم اور سربلندی کرنے کی جدو جہد میں ہر قسم کے مصائب اور تکلیفوں کو سہہ جانا۔ ہر خوف اور لالچ کے مقابلے میں راہ راست پر ثابت قدم رہنا۔ شیطان کی تمام ترغیبات اور نفس کی ساری خواہشات کے علی الرغم فرض کو بجا لانا، حرام سے پرہیز کرنا اور حدود اللہ پر قائم رہنا۔ گناہ کی ساری لذتوں اور منفعتوں کو ٹھکرا دینا اور نیکی و راستی کے ہر نقصان اور اس کی بدولت حاصل ہونے والی ہر محرومی کو انگیز کر جانا۔ غرض اس ایک لفظ کے اندر دین اور دینی رویے اور دینی اخلاق کی ایک دنیا کی دنیا سمو کر رکھ دی گئی ہے۔ (تفہیم القرآن)

77۔(خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں ،خواہ دونوں ہی جگہ)اس میں رد آگیا ان جاہل صوفیوں کا جو محض تبرکات  یا کسی صالح کے ساتھ انتساب کو مقبولیت کے لیے کافی سمجھتے ہیں ۔حقیقۃً دربار خداوندی میں بندوں کی جو بھی قدر ہے ایمان و طاعت ہی کی بناپر ہے۔(تفسیر ماجدی)