26 - سورة الشعراء (مکیہ)

رکوع - 11 آیات - 227

مضمون:  نبیؐ اللہ کے سچےرسول اور قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ان پر کہانت یا شاعری کا الزام غلط ہے۔نشانی کا مطالبہ کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ ماضی کے مکذبین کی تاریخ سے سبق حاصل کریں۔(ترجمہ۔مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون : اللہ  کی  دو قسم   کی نشانیوں  اور انبیا  کی دعوت  کا  تذکرہ  کرتے   ہوئے   کفار و مشرکین کو سمجھا  یاگیا  ہے  کہ   آخر  خوفناک  نشانیاں   دیکھنےپر ہی   اصرار  کیوں  کرتے   ہو  جو تباہ  شدہ   قوموں  نے  دیکھیں  ۔  دیکھنا  ہو تو قرآن  کو دیکھو  جو تمہاری  اپنی   زبان  میں  ہے  ۔ محمد ؐ  کو دیکھو  ، ان  کے ساتھیوں  کو دیکھو  ۔  کیا  یہ کلام  اور یہ لوگ  تمہیں  کا ہن  یا شاعر   نظر آتے  ہیں ۔(تفہیم القرآن)

شان نزول :  آیات   کے لحاظ  سے طویل  ترین  مکی سورت  ( اعراف  طویل  ترین   24  رکوع  جبکہ  اس کی آیات   206 )

اگلی  تین   سورتوں  ـ  ( الشعرا ، النمل  اور القصص)  کا زمانہ  نزول    حضور ؐ   کے قیام   مکہ   کا تیسرا  دور  ( 7 تا   10 سن نبوی )  ہے  اور یہ  تینوں   یکے  بعد   دیگر  ے  نازل  ہوئیں    ان  تینوں  میں  دو باتیں   مشترک  ہیں  اولاً   یہ  کہ   ان تینوں  میں  قریشی قیادت   کو مختلف  سابقہ   قوموں   کے انجام   سے  عبرت  حاصل   کرنے   کا مشورہ  دیا گیا  ہے ۔   ثانیاً   یہ  کہ   تینوں  میں حضرت  موسیٰ ؑ   اور فرعون  کی کشمکش  کی داستان  بیان  ہوئی   ہے  ۔ البتہ  سورۃ   القصص   میں  زیادہ   تفصیل  کے ساتھ  ۔ تینوں  سورتوں  میں حضرت   موسیٰ ؑ   کا قصہ   شعرا ء(طٰسم )  نمل  ( طٰسٓ)  قصص  ( طٰسٓم)  -ط( جیسے سانپ  کنڈلی  مارے   ہوئے   )  ن ( مچھلی  کی علامت )  - تصویری  الفاظ ۔ 

نظم  کلام :  سورۃ  الفرقان

اہم کلیدی الفاظ ،مضامین اور آیات ترجیع:

1۔ سورۂ الشعراء میں"الایتقون؟"کیا یہ لوگ بچنا نہیں چاہتے؟اور"الاتتقون" کیاتم لوگ بچنا نہیں چاہتے؟ کے الفاظ کئی مرتبہ استعمال کیے گئے ہیں۔"تقویٰ"کا بنیادی مطلب بچنا ہے۔حرام سے بچنا،منکرات سے بچنا،اللہ کے غضب سے بچنا اور برائیوں کے دنیوی اور اُخروی برے انجام سے بچنا ہے۔۔۔۔۔  2۔سورت الشعراء  میں بعض آیاتِ ترجیع آئی ہیں، جو بار بار دہرئی گئی ہیں:۔ "۔۔۔۔ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ  ۔  اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ ۔   فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ ۔  مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ (109، 127،145،164،180)۔۔ ۔۔۔ 3۔رب العالمین۔(16، 23، 47، 77، 98، 109، 127، 145، 164، 180، 192)اس سورت میں "رب العالمین"(یعنی تمام عالموں کا ربّ)کا لفظ کئی بار استعمال ہواہے۔رب کے پانچ(5)مفہوم ہیں۔(a)پرورش کرنے والا،نشونما دینے والابڑھانے والا۔(b)دیکھ بھال او ر خبرگیری کرنےوالا۔(c)مالک اور آقا۔(d)مرکزی حیثیت رکھنے والا،جمع کرنے والا،سمیٹنے والا۔(e)سردار،صاحبِ اقتدار،غلبہ رکھنے والا، صاحب تصرف،اختیارات رکھنے والا۔۔۔۔۔ 4۔ سورت الشعراء میں نو(9)مرتبہ نو(9)رسولوں کے سچے واقعات بیان کرنے کی بعد مندرجہ ذیل آیت بھی بطورِ ترجیع آئی ہے ،جو باربار دہرائی گئی۔"اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ"(آیات: 9، 68، 104، 122، 140، 159، 175، 191، 217)۔۔۔۔ ۔5۔  مندرجہ ذیل آیت بھی بطور ترجیع آئی ہے، جو بار بار دہرائی گئی ہے۔ "وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ"(آیات: 9، 68، 104، 122، 140، 159، 175، 191، 217) ۔۔۔۔۔ 6۔"تکذیب": سورۃ الشعراء میں، ماضی کی مختلف قوموں کی اپنے رسولوں کی تکذیب اور ان کے انجام سے ڈرایا گیا ہے ۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)

ترتیب  مطالعہ :  (1 ) ر -  1  ( حضور ؐ  کو تسلی  اور منکر ین  کو دعوت   غور  و فکر )   (2 )  ر – 2 تا  4  ( قصہ  حضرت  موسی ٰ ؑ  )   (3 )  ر – 5 تا 10  ( سابقہ   انبیا  کا تذکرہ  )  (4 )  ر – 11 (  قرآن  اور حضور ؐ  کی حقانیت  -  شعرا  کی مذمت  )  ۔رکوع  : 1  ،4  تا 10   ہر ایک  کے آخر   پر   ایک  جیسی  آٹھ   آیات  :۔۔۔۔۔۔ ر۔1 (آیات ِکائنات ۔تذکیر بآلااللہ)بقیہ آیات (آیاتِ عذاب۔تذکیر بایام اللہ) مثلاً  ر۔4  ، 7، 8۔/

آیاتِ ترجیع : اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (8) وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ(9)


پہلا رکوع

طٰسٓمّٓ ﴿1﴾ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ ﴿2﴾ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ﴿3﴾ اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ ﴿4﴾ وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ ﴿5﴾ فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ﴿6﴾ اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ ﴿7﴾ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴿8﴾ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠   ۧ ۧ ﴿9ع الشعراء 26﴾
1. طٰسٓمٓ۔ 2. یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔ 3. (اے پیغمبرﷺ) شاید تم اس (رنج) سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اپنے تئیں ہلاک کردو گے۔ 4. اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اُتار دیں۔ پھر ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ 5. اور ان کے پاس (خدائے) رحمٰن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ 6. سو یہ تو جھٹلا چکے۔ اب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوگی جس کی ہنسی اُڑاتے تھے۔ 7. کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اُگائی ہیں۔ 8. کچھ شک نہیں کہ اس میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ 9. اور تمہارا پروردگار غالب (اور) مہربان ہے۔

تفسیر آیات

تمہید :  پہلی  قسم  کی نشانی  کا تذکرہ   ( ہمارے   لئے   کوئی  نشانی  اتارنا   کیا مشکل  ہے  ۔  قسم قسم  کی چیزیں  اگی  ہوئی ہیں )۔۔۔۔۔کفار   حضور ؐ   سے معجزات   کی شکل میں  نشانیاں  مانگ  رہے تھے   اور یہ بھی  کہ  رہے تھے  کی دوسری  قسم  کی نشانی   یعنی   عذاب   کیوں   نہیں آجاتا   جسکی دھمکی  دی  جا رہی  ہے ۔ جوابًا  فرمایا  کہ  دوسری  قسم  کی نشانیاں  قوموں   پر عذاب   کی صورت   میں دیکھو۔

اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر ایمان وہ ہے جو اختیار و ارادہ کے ساتھ لایا جائے نہ کہ مجبور ہو کر۔ اس لیے فرمایا کہ ہمارے پاس نشانیاں تو ایسی ہیں جن کے آگے سب کی گردنیں جھک جائیں ،لیکن اللہ تعالیٰ تذکیرہی کے ذریعے لوگوں کو درست کرنا چاہتاہے۔اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو پھر اس کے نتائج ایک ایک کرکے ان کے سامنے آجائیں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)


دوسرا رکوع

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ  ﴿10﴾ قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ ﴿11﴾ قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ  ﴿12﴾ وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ ﴿13﴾ وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ  ﴿14﴾ قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ ﴿15﴾ فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ  ﴿16﴾ اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ  ﴿17﴾ قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ  ﴿18﴾ وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ ﴿19﴾ قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ  ﴿20﴾ فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ﴿21﴾ وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ  ﴿22﴾ قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ  ﴿23﴾ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ ﴿24﴾ قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ ﴿25﴾ قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ ﴿26﴾ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ ﴿27﴾ قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ﴿28﴾ قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ ﴿29﴾ قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ  ﴿30﴾ قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ﴿31﴾ فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ  ﴿32﴾ وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿33ع الشعراء 26﴾
10. اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔ 11. (یعنی) قوم فرعون کے پاس، کیا یہ ڈرتے نہیں۔ 12. انہوں نے کہا کہ میرے پروردگار میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں۔ 13. اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے تو ہارون کو حکم بھیج کہ میرے ساتھ چلیں۔ 14. اور ان لوگوں کا مجھ پر ایک گناہ (یعنی قبطی کے خون کا دعویٰ) بھی ہے سو مجھے یہ بھی خوف ہے کہ مجھ کو مار ہی ڈالیں۔ 15. فرمایا ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں۔ 16. تو دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہان کے مالک کے بھیجے ہوئے ہیں۔ 17. (اور اس لئے آئے ہیں) کہ آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیں۔ 18. (فرعون نے موسیٰ سے کہا) کیا ہم نے تم کو کہ ابھی بچّے تھے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے ہاں عمر بسر (نہیں) کی۔ 19. اور تم نے وہ کام کیا تھا جو کیا اور تم ناشکرے معلوم ہوتے ہو۔ 20. (موسیٰ نے) کہاں (ہاں) وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں تھا۔ 21. تو جب مجھے تم سے ڈر لگا تو تم میں سے بھاگ گیا۔ پھر خدا نے مجھ کو نبوت وعلم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا۔ 22. اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔ 23. فرعون نے کہا کہ تمام جہان کا مالک کیا۔ 24. کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو۔ 25. فرعون نے اپنے اہالی موالی سے کہا کہ کیا تم سنتے نہیں۔ 26. (موسیٰ نے) کہا کہ تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادا کا مالک۔ 27. (فرعون نے) کہا کہ (یہ) پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے باؤلا ہے۔ 28. موسیٰ نے کہا کہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو۔ 29. (فرعون نے) کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کردوں گا۔ 30. (موسیٰ نے) کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز لاؤں (یعنی معجزہ)۔ 31. فرعون نے کہا اگر سچے ہو تو اسے لاؤ (دکھاؤ)۔ 32. پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت صریح اژدہا بن گئی۔ 33. اور اپنا ہاتھ نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کے لئے سفید (براق نظر آنے لگا)۔

تفسیر آیات

10۔ آپؐ کی اور موسیٰؑ کی دعوت کے پس منظر کا تقابل:۔آیات تکوینیہ کی طرف توجہ دلانے کے بعد آگے آیات تنزیلیہ کا آغاز ہورہاہے ۔اور اس سلسلہ میں اس سورت میں سات اقوام کا ذکر کیا گیا ہے ۔جنہوں نے اپنے رسول کی دعوت قبول کرلینےکے بجائے سرکشی کی راہِ اختیار کی تو ان پر عذاب ِ الٰہی نازل ہوا اور صفحۂ ہستی سے ان اقوام کا نام و نشان مٹادیا گیا۔اور ان آیات کا آغاز سیدنا موسیٰ ؑ کے ذکر سے کیا ۔اس کی وجہ غالباًیہ ہے کہ سیدنا موسیٰؑ کو آغاز رسالت میں جن حالات سے سابقہ پیش آیا تھا وہ ان حالات سے سنگین تر تھے جو رسول اللہؐ کو پیش آئے تھے۔(تیسیر القرآن)

۔اوپر کی مختصر تمہیدی تقریر کے بعد اب تاریخی بیان کا آغاز ہو رہا ہے جس کی ابتدا حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے سے کی گئی ہے۔ اس سے خاص طور پر جو سبق دینا مقصود ہے وہ یہ کہ;

اولاً ، حضرت موسیٰ کو جن حالات سے سابقہ پیش آیا تھا وہ ان حالات کی بہ نسبت بدرجہا زیادہ سخت تھے جن سے نبی ﷺ کو سابقہ درپیش تھا۔ حضرت موسیٰ ایک غلام قوم کے فرد تھے جو فرعون اور اس کی قوم سے بری طرح دبی ہوئی تھی، بخلاف اس کے نبی ﷺ قریش کے ایک فرد تھے۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ نے خود اس فرعون کے گھر میں پرورش پائی تھی اور ایک قتل کے الزام میں دس برس روپوش رہنے کے بعد انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اسی بادشاہ کے دربار میں جا کھڑے ہو ثانیاً جو نشانیاں حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے فرعون کو دکھائی گئیں اس سے زیادہ کھلی نشانیاں اور کیا ہو سکتی ہیں۔ پھر ہزارہا آدمیوں کے مجمع میں فرعون ہی کے چیلنج پر علی الاعلان جادوگروں سے مقابلہ کرا کے یہ ثابت بھی کردیا گیا کہ جو کچھ حضرت موسیٰ دکھا رہے ہیں وہ جادو نہیں ہے۔۔۔۔۔ ثانیاً ، اس ہٹ دھرمی کا جو انجام فرعون نے دیکھا وہ کوئی ایسا انجام تو نہیں ہے جسے دیکھنے کے لیے دوسرے لوگ بےتاب ہوں۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

14۔۔۔۔ وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ سے یہ مراد نہیں کہ حضرت موسیٰؑ نے اس کا جرم ہوناتسلیم بھی کرلیا تھا،آپؐ کا مقصود صرف یہ تھا کہ "ان کے خیال میں میں ان کا مجرم بھی ہوں"۔(تفسیر ماجدی)

15۔اللہ کی معیت کی مثال اور معتزلہ اور جہمیہ کا رد:۔ اس آیت اور اس جیسی بعض دوسری آیات سے جہمیہ نے استدلال کیا کہ اللہ کی ذات ہر جگہ موجود ہے اور جن آیات میں اللہ کے مستوی علی العرش ہونے کا ذکر تھا ان آیات کی تاویل کرڈالی۔حالانکہ جن آیات میں اللہ کی معیت یا اس کے قریب ہونے کا ذکر ہے تو ایسی معیت یا قربت ذات کے لحاظ سے نہیں بلکہ صفات کے لحاظ سےہے۔اس کی ایک معمولی سی مثال یوں سمجھئے کہ سورج اور چاند اللہ کی بے جان اور ادنیٰ سی مخلوق ہے۔ جو مسافر کے ساتھ ہی رہتی ہے۔ چلنے والا جہاں تک چلے وہ ساتھ ساتھ ہی رہتے ہیں ۔حالانکہ وہ آسمان پر ہیں اور انسان لاکھوں اور کروڑوں میل دور ہیں اسی طرح اللہ مستویٰ علی العرش ہونے کے باوجود اپنے علم، اپنی قدرت اور مدد کے لحاظ سے ہر انسان سےبالکل نزدیک ہے اور اس کی صحیح کیفیت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔(تیسیر القرآن)

18۔(اے موسیٰؑ)موسیٰؑ کی تعلیم و تربیت سب شاہی ظل عاطفت میں ہوئی تھی، اور آپ قصر فرعونی میں سالہاسال تک رہا کیےتھے۔قیام کی مدت روایات یہود میں مختلف آئی ہے، کوئی کہتاہے 18 سال کی عمر تک رہے۔کوئی کہتاہے 20 سال کی عمر تک اور کسی کسی کی روایت ہے کہ چالیس برس کی عمرتک۔(تفسیر ماجدی)

20۔  جو واقعہ سورة قصص میں بیان ہوا ہے اس پر غور کرنے سے یہاں ضلالت بمعنی خطا یا نادانستگی ہی لینا زیادہ صحیح ہے۔ (تفہیم القرآن)

21۔ یعنی علم و دانش اور پروانہ نبوت۔ حکم کے معنی حکمت و دانش کے بھی ہیں، اور اس سند اقتدار (Authority) کے بھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کو عطا کی جاتی ہے، جس کی بنا پر وہ اختیار کے ساتھ بولتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

29۔ فرعون نے اپنی گفتگو میں حضرت موسیٰؑ کی تحقیر اور ان کے دعوائے رسالت کا مذاق اڑانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے اس کی کسی بات کو لائق اعتناء ہی نہیں سمجھا بلکہ پوری بے خوفی کے ساتھ اپنی ایک بات کے بعد  دوسری بات پہلی سے بھی بڑھ چڑھ کر کہہ گزرے اور اپنی دعوت کی راہ میں قدم بقدم آگے ہی بڑھتے گئے یہاں تک کہ فرعون کے کبر پر کاری ضرب لگی اور بے حوصلہ ہوکر اس نے ان کو قید کرنے کی دھمکی دے دی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

32۔ امام رازیؒ نے کہا ہے کہ حیۃ ہر قسم کے سانپ کے لیے عام ہے۔ ثعبان اسے اس کی بڑائی کے لحاظ سے کہا گیا ہے اور جان اسے اس کے ہلکے پھلکے ہونے اور تیز رفتاری کی بناپر ۔(تفسیر ماجدی)


تیسرا رکوع

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ  ﴿34﴾ یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ ﴿35﴾ قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ  ﴿36﴾ یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ ﴿37﴾ فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ  ﴿38﴾ وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ  ﴿39﴾ لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ ﴿40﴾ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ ﴿41﴾ قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ﴿42﴾ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ ﴿43﴾ فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ ﴿44﴾ فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ  ﴿45﴾ فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ  ﴿46﴾ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ  ﴿47﴾ رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ ﴿48﴾ قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ  ﴿49﴾ قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ  ﴿50﴾ اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠   ۧ ۧ ﴿51ع الشعراء 26﴾
34. فرعون نے اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ تو کامل فن جادوگر ہے۔ 35. چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے نکال دے تو تمہاری کیا رائے ہے؟ 36. انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجیئے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیئے۔ 37. کہ سب ماہر جادوگروں کو (جمع کرکے) آپ کے پاس لے آئیں۔ 38. تو جادوگر ایک مقررہ دن کی میعاد پر جمع ہوگئے۔ 39. اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکھٹے ہو کر جانا چاہیئے۔ 40. تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہوجائیں۔ 41. جب جادوگر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے اگر ہم غالب رہے تو ہمیں صلہ بھی عطا ہوگا؟ 42. فرعون نے کہا ہاں اور تم مقربوں میں بھی داخل کرلئے جاؤ گے۔ 43. موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو چیز ڈالنی چاہتے ہو، ڈالو۔ 44. تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے۔ 45. پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان چیزوں کو جو جادوگروں نے بنائی تھیں یکایک نگلنے لگی۔ 46. تب جادوگر سجدے میں گر پڑے۔ 47. (اور) کہنے لگے کہ ہم تمام جہان کے مالک پر ایمان لے آئے۔ 48. جو موسیٰ اور ہارون کا مالک ہے۔ 49. فرعون نے کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے، بےشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھوا دوں گا۔ 50. انہوں نے کہا کہ کچھ نقصان (کی بات) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جانے والے ہیں۔ 51. ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا۔ اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں۔

تفسیر آیات

35۔  دونوں معجزوں کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ یا تو ایک لمحہ پہلے وہ اپنی رعیت کے ایک فرد کو برسر دربار رسالت کی باتیں اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کرتے دیکھ کر پاگل قرار دے رہا تھا۔۔۔۔۔اور اسے دھمکی دے رہا تھا کہ اگر تو نے میرے سوا کسی کو معبود مانا تو جیل میں سڑا سڑا کر مار دوں گا، یا اب ان نشانیوں کو دیکھتے ہی اس پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ اسے اپنی بادشاہی اور اپنا ملک چھننے کا خطرہ لاحق ہوگیا۔۔۔۔ یہ فقرہ فرعون کی مزید بدحواسی کو ظاہر کرتا ہے۔ کہاں تو وہ الٰہ بنا ہوا تھا اور یہ سب اس کے بندے تھے۔ کہاں اب الٰہ صاحب مارے خوف کے بندوں سے پوچھ رہے ہیں کہ تمہارا حکم کیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں گویا وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میری عقل تو اب کچھ کام نہیں کرتی، تم بتاؤ کہ اس خطرے کا مقابلہ میں کیسے کروں۔ (تفہیم القرآن)

37۔ سائنس کی اعلیٰ شاخوں کی طرح اس کا شمار علوم عالیہ میں تھا، اور ساحر کا مرتبہ وہ تھا جو آج سائنس کے کسی اکسپرٹ کا ہوتاہے۔(تفسیر ماجدی)

38۔  سور طٰہٰ میں گزر چکا ہے کہ اس مقابلے کے لیے قبطیوں کی قومی عید کا دن (یوم الزینۃ) مقرر کیا گیا تھا۔ (تفہیم القرآن)

41۔ طالبانِ دنیا کی نظر مہارت و کمال فن کے باوجود ،عموماً عاجل ہی پر رہتی ہے۔۔۔۔۔ برطانوی حکومت کے زمانے میں ہندوستانیوں  سے جب کوئی بڑا کارِ نمایاں انجام پاجاتاتھا،تو یہ برابر توقع خان بہادری کی،رائےبہادری کی، اور دوسرے بلند تر خطابات کی رکھتے تھے۔(تفسیر ماجدی)

42۔  یہ دو مقابل کے کردار آپ سے آپ ظاہر کر رہے تھے کہ نبی کس شان کا انسان ہوتا ہے اور اس کے مقابلے میں جادوگروں کی کیا ہستی ہوتی ہے۔ جب تک کوئی شخص بےحیائی کی ساری حدوں کو نہ پھاند جائے، وہ نبی کو جادوگر کہنے کی جسارت نہیں کرسکتا۔ (تفہیم القرآن)

44۔ انہوں نے کچھ اپنی لاٹھیاں پھینکیں اور کچھ رسیاں پھینکیں جو لوگوں کو جیتے جاگتے متحرک سانپ نظر آنے لگے۔اور ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ سارامیدان مقابلہ ایسے سانپوں سے بھر گیا تھا سارا مجمع اس منظر سے دہشت زدہ ہونے لگا۔ حتیٰ کہ سیدنا موسیٰؑ بھی دل ہی دل میں ڈرنے لگے ۔یہ منظر جادوگروں کے لئے بڑا خوش کن تھا۔ اور انہیں یقین تھا کہ ان کے اس کرشمہ کا کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا۔چنانچہ اسی خوشی میں انہوں نے زور سے نعرہ مارا"فرعون کی جے، یقیناً ہم ہی جیتیں گے"۔(تیسیر القرآن)

51۔ کہاں تو ان کی پستی ذہن و فکر کا یہ حال تھا کہ دین آبائی کی نصرت کے لیے آئے تھے اور فرعون کے آگے ہاتھ جوڑ جوڑ کر انعام مانگ رہے تھے، اور کہاں اب آن کی آن میں ان کی بلندی ہمت و عزم اس درجے کو پہنچ گئی کہ وہی فرعون ان کی نگاہ میں ہیچ ہوگیا۔(تفہیم القرآن)


چوتھا رکوع

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ ﴿52﴾ فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ  ﴿53﴾ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ  ﴿54﴾ وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ  ﴿55﴾ وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ  ﴿56﴾ فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ  ﴿57﴾ وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ  ﴿58﴾ كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ  ﴿59﴾ فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ ﴿60﴾ فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ  ﴿61﴾ قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ ﴿62﴾ فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ  ﴿63﴾ وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ  ﴿64﴾ وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ  ﴿65﴾ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ  ﴿66﴾ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴿67﴾ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠   ۧ ۧ ﴿68ع الشعراء 26﴾
52. اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعونیوں کی طرف سے) تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔ 53. تو فرعون نے شہروں میں نقیب روانہ کئے۔ 54. (اور کہا) کہ یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہے۔ 55. اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔ 56. اور ہم سب باسازو سامان ہیں۔ 57. تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔ 58. اور خزانوں اور نفیس مکانات سے۔ 59. (ان کے ساتھ ہم نے) اس طرح (کیا) اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو کر دیا۔ 60. تو انہوں نے سورج نکلتے (یعنی صبح کو) ان کا تعاقب کیا۔ 61. جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے۔ 62. موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے رستہ بتائے گا۔ 63. اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو۔ تو دریا پھٹ گیا۔ اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے)۔ 64. اور دوسروں کو وہاں ہم نے قریب کردیا۔ 65. اور موسیٰ اور ان کے ساتھ والوں کو تو بچا لیا۔ 66. پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔ 67. بےشک اس (قصے) میں نشانی ہے۔ لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں۔ 68. اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے۔

تفسیر آیات

52۔ اس مقابلے میں شکست کھا جانے کے بعد حضرت موسیٰ اور فرعون کے درمیان ایک عرصے تک کشمکش چلتی رہی۔ اس دوران میں مصر پر بہت سی آفتیں نازل ہوئیں جن سے ملک تباہی کے کنارے آ لگا۔ ان مصائب سے تنگ آ کر فرعون کے درباریوں نے اس کو مشورہ دیا کہ بنی اسرائیل جہاں جانا چاہتے ہیں ان کو وہاں جانے کی اجازت دے دی جائے ورنہ ملک تباہ ہوجائے گا بالآخر فرعون نے مجبور ہو کر اجازت تو دے دی لیکن جب حضرت موسیٰ اپنی پوری قوم کو ساتھ لے کر نکلے تو اس کی رائے بدل گئی۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)

58۔۔۔۔۔لیکن انہوں نے کمال درجہ کی ہوشیاری دکھانے کے لیے یہ فیصلہ کیا کہ بنی اسرائیل کو بخیریت نہ گزر جانے دیں بلکہ ان کے مہاجر قافلوں پر یک بارگی حملہ کر کے ہمیشہ کے لیے ان کا قلع قمع کردیں۔ اس غرض کے لیے ان کے شہزادے اور بڑے بڑے سردار اور اعیان سلطنت خود بادشاہ ذی جاہ سمیت اپنے محلوں سے نکل آئے، اور اسی دانائی نے یہ دوہرا نتیجہ دکھایا کہ بنی اسرائیل مصر سے نکل بھی گئے اور مصر کی ظالم فرعونی سلطنت کا مکھن نذر دریا بھی ہوگیا۔ (تفہیم القرآن)

59۔ كَذٰلِكَ کے بعد نفعل بالمجرمین یا اس کے ہم معنی الفاظ محذوف ہیں۔ یعنی ہم مجرموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ اس حذف سے کلام میں جو زور پیدا ہوگیا ہے وہ اہل ذوق سے مخفی نہیں ہے۔(تدبرِ قرآن)

۔اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ مصر میں بھی رہ گئے تھے سارے  کے سارے سیدنا موسیٰؑ کے ہمراہ روانہ نہیں ہوئے تھے۔جب فرعون اور اس کے جملہ اعیانِ سلطنت غرق ہوکر ہلاک ہوگئے تھے تو ساتھ ہی آل فرعون کا اقتدار بھی ختم ہوگیا تھا اور یہی پیچھے رہنے والے بنی اسرائیل ان کے محلوں اور باغات پر قابض ہوگئے تھے۔یایہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل مصر کے کچھ حصہ پر قابض ہوئے ہوں۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں اس عہد کی طرف اشارہ ہو جب سیدنا سلیمانؑ کی حکومت مصر تک پھیل گئی اور بنی اسرائیل ہی فرعونیوں کے محلات اور باغات پر قابض ہوگئے تھے۔واللہ اعلم بالصواب۔(تیسیر القرآن)

۔۔۔۔ اس لیے ہمارے نزدیک آیت کا صحیح مفہوم یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہی باغ اور چشمے اور خزانے اور محلات بنی اسرائیل کو بخش دیے جن سے فرعون اور اس کی قوم کے سردار اور امراء نکالے گئے تھے، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف آل فرعون کو ان نعمتوں سے محروم کیا اور دوسری طرف بنی اسرائیل کو یہی نعمتیں عطا فرما دیں، یعنی وہ فلسطین کی سر زمین میں باغوں، چشموں، خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں کے مالک ہوئے۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

 مراد بعینہٖ وہی نعمتیں نہیں ہیں جن سے قبطیوں کو اللہ تعالیٰ نے نکالا ۔اسی نوع کی وہ نعمتیں جو بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے بعد سرزمین  فلسطین میں حاصل ہوئیں۔مصر سے نکلنے اور صحرا گردی کا دور ختم ہونے کے بعد یہی زرخیز علاقہ بنی اسرائیل کے قبضہ میں آیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

62۔ ۔۔۔۔۔حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کو تسلی دینے کے لئے کہا اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ میرے ساتھ میرا رب ہے۔۔۔۔۔ اور رسول اللہ ﷺ نے جواب مَعَنَا فرمایا کہ ہم دونوں کے ساتھ ہمارا رب ہے، یہ امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ اس کے افراد بھی اپنے رسول کے ساتھ معیت الہیہ سے سرفراز ہیں۔ (معارف القرآن)

63۔عصا مارنے سے سمندر میں بارہ راستے بن جانا: ۔۔۔۔۔روایات کے مطابق سمندر میں بارہ راستے بنے تھے اور بنی اسرائیل کے بارہ ہی قبیلے تھے اور ہر قبیلے کے تقریباً بارہ ہزار افراد تھےجو ہجرت کرکے آئے تھے اس لحاظ سے ان مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ چوالیس ہزار بنتی ہے اور بعض روایات کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تھی۔جبکہ فرعون کے لشکر کی تعداد ان سے بہت زیادہ تھی۔(تیسیر القرآن)


پانچواں رکوع

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ  ﴿69﴾ اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ ﴿70﴾ قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ ﴿71﴾ قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ  ﴿72﴾ اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ ﴿73﴾ قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ ﴿74﴾ قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ  ﴿75﴾ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ  ﴿76﴾ فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ  ﴿77﴾ الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ  ﴿78﴾ وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ  ﴿79﴾ وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ  ﴿80﴾ وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ  ﴿81﴾ وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ  ﴿82﴾ رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ  ﴿83﴾ وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ  ﴿84﴾ وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ  ﴿85﴾ وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ  ﴿86﴾ وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ  ﴿87﴾ یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ  ﴿88﴾ اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ  ﴿89﴾ وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ  ﴿90﴾ وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ  ﴿91﴾ وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ  ﴿92﴾ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ ﴿93﴾ فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ  ﴿94﴾ وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ  ﴿95﴾ قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ  ﴿96﴾ تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ  ﴿97﴾ اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿98﴾ وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ ﴿99﴾ فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ  ﴿100﴾ وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ ﴿101﴾ فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿102﴾ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴿103﴾ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠   ۧ ۧ ﴿104ع الشعراء 26﴾
69. اور ان کو ابراہیم کا حال پڑھ کر سنا دو۔ 70. جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم کس چیز کو پوجتے ہو۔ 71. وہ کہنے لگے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ان کی پوجا پر قائم ہیں۔ 72. ابراہیم نے کہا کہ جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری آواز کو سنتے ہیں؟ 73. یا تمہیں کچھ فائدے دے سکتے یا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ 74. انہوں نے کہا (نہیں) بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ 75. ابراہیم نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو۔ 76. تم بھی اور تمہارے اگلے باپ دادا بھی۔ 77. وہ میرے دشمن ہیں۔ مگر خدائے رب العالمین (میرا دوست ہے)۔ 78. جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے رستہ دکھاتا ہے۔ 79. اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ 80. اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے۔ 81. اور جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا۔ 82. اور وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے گناہ بخشے گا۔ 83. اے پروردگار مجھے علم ودانش عطا فرما اور نیکوکاروں میں شامل کر۔ 84. اور پچھلے لوگوں میں میرا ذکر نیک (جاری) کر۔ 85. اور مجھے نعمت کی بہشت کے وارثوں میں کر۔ 86. اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے۔ 87. اور جس دن لوگ اٹھا کھڑے کئے جائیں گے مجھے رسوا نہ کیجیو۔ 88. جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکا گا اور نہ بیٹے۔ 89. ہاں جو شخص خدا کے پاس پاک دل لے کر آیا (وہ بچ جائے گا)۔ 90. اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی۔ 91. اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لائی جائے گی۔ 92. اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم پوجتے تھے وہ کہاں ہیں؟ 93. یعنی جن کو خدا کے سوا (پوجتے تھے) کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں۔ 94. تو وہ اور گمراہ (یعنی بت اور بت پرست) اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے۔ 95. اور شیطان کے لشکر سب کے سب (داخل جہنم ہوں گے)۔ 96. وہ آپس میں جھگڑیں گے اور کہیں گے۔ 97. کہ خدا کی قسم ہم تو صریح گمراہی میں تھے۔ 98. جب کہ تمہیں (خدائے) رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔ 99. اور ہم کو ان گنہگاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔ 100. تو (آج) نہ کوئی ہمارا سفارش کرنے والا ہے۔ 101. اور نہ گرم جوش دوست۔ 102. کاش ہمیں (دنیا میں) پھر جانا ہو تم ہم مومنوں میں ہوجائیں۔ 103. بےشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں۔ 104. اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے۔

تفسیر آیات

71۔ حضرت ابراہیمؑ کا یہ سوال تحقیر کی نوعیت کا تھا ،یعنی یہ کیا فضول اور بے حقیقت چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو۔ اسی لیے ان کی قوم نے ان کا جواب حمیت جاہلیت کے پورے جوش اور غرور کے ساتھ دیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

77۔سیدنا ابراہیمؑ کی بتوں سے دشمنی: ۔۔۔۔آج یہ میرے دشمن ہیں۔لہذا یہ میرا جو کچھ بگاڑ سکتے ہیں میں حاضر ہوں ،میں دیکھوں گا کہ میرا یہ کیا نقصان کرسکتے ہیں اور ان کے دشمن ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ میں بھی ان کا دشمن ہوں ۔یعنی جہاں جہاں تک مجھ سے بن پڑا میں بھی ان سے دو دو ہاتھ کروں گا۔چنانچہ سیدنا ابراہیمؑ نے ان معبودوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے بھی  تھے۔(تیسیر القرآن)

80۔ وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ کا اسلوب بیان بھی قابل توجہ ہے۔ کھلانے، پلانے اور شفا دینے کے افعال کی نسبت تو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی لیکن بیمار ہونے کی نسبت اپنی طرف فرمائی۔ اس کی وجہ سوء ادب سے احتراز بھی ہے اور اس حقیقت کا اظہار بھی کہ نعمتیں جس قدر بھی بندے کو ملتی ہیں وہ سب خدا کے فضل وجود سے ملتی ہیں لیکن اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ بسا اوقات اس کے کسی عمل پر مترتب ہوتی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

83۔ ۔۔اس لیے یہاں حکم سے مراد علم، حکمت، فہم صحیح اور قوت فیصلہ ہی لینا درست ہے، اور حضرت ابراہیم ؑ کی یہ دعا قریب قریب اسی معنی میں ہے جس میں نبی ﷺ سے یہ دعا منقول ہے کہ اَرِنَا الْاَ شْیَآءَ کَمَاھِیَ یعنی ہم کو اس قابل بنا کہ ہم ہر چیز کو اسی نظر سے دیکھیں جیسی کہ وہ فی الواقع ہے اور ہر معاملہ میں وہی رائے قائم کریں جیسی کہ اس کی حقیقت کے لحاظ سے قائم کی جانی چاہیے۔ (تفہیم القرآن)

84۔ یعنی بعد کی نسلیں مجھے خیر کے ساتھ یاد کریں۔ میں دنیا سے وہ کام کر کے نہ جاؤں کہ نسل انسانی میرے بعد میرا شمار ان ظالموں میں کرے جو خود بگڑے ہوئے تھے اور دنیا کو بگاڑ کر چلے گئے، بلکہ مجھ سے وہ کارنامے انجام پائیں جن کی بدولت رہتی دنیا تک میری زندگی خلق خدا کے لیے روشنی کا مینار بنی رہے اور مجھے انسانیت کے محسنوں میں شمار کیا جائے۔ یہ محض شہرت و ناموری کی دعا نہیں ہے بلکہ سچی شہرت اور حقیقی ناموری کی دعا ہے جو لازماً ٹھوس خدمات اور بیش قیمت کارناموں ہی کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

۔ قیامت تک انسانوں میں ذکر خیر رکھنے کی دعا:  وَاجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ اس آیتہ مبارکہ میں " لسان " سے مراد ذکر ہے اور "لی" کا لام نفع کے لئے ہے آیتہ کے معنی یہ ہوئے کہ اے خدایا مجھے ایسے پسندیدہ طریقے اور عمدہ نشانیاں عطا فرما جس کی دوسرے لوگ قیامت تک پیروی کریں، اور مجھے ذکر خیر اور عمدہ صفت سے یاد کیا کریں (ابن کثیر و روح المعانی)۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی دعا قبول فرمائی۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین مکہ تک ملتہ ابراہیمی سے محبت و الفت رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرتے ہیں، اگرچہ ان کا طریقہ ملت ابراہیمی کے خلاف کفر و شرک ہے مگر وہ دعویٰ یہی کرتے ہیں کہ ہم ملت ابراہیمی پر ہیں اور امت محمدیہ تو بجا طور پر بھی ملت ابراہیم پر ہونے کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتی ہے۔ (معارف القرآن)

86۔نبی جلیل اور اللہ کے خلیل تک تو آرزو اور تمنا اس کی کرتے ہیں کہ انہیں جگہ جنت میں مل جائے، اور دوسری طرف ہمارے یا وہ گوشاعر اور جاہل صوفیہ ہیں جو جنت کو اپنے طنز و تعریض کا ہدف بنائے ہوئے ہیں!۔ (تفسیر ماجدی)

89۔ یہ بات دعا کا جزو نہیں  ہے بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیمؑ کی بات کی تکمیل و توضیح ہے۔'تندرست و پاک دل'سے مراد شرک و نفاق کی ہر آلائش سے بالکل پاک اور محفوظ دل ہے ۔جس دل میں کسی اور کی حصہ داری یا نفاق کی بیماری ہو خدا کے ہاں اس کی کوئی پوچھ نہیں ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔ ان دو فقروں کے متعلق یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کا حصہ ہیں یا انہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے قول پر اضافہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ اگر پہلی بات مانی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے باپ کے لیے یہ دعا کرتے وقت خود بھی ان حقائق کا احساس رکھتے تھے۔ اور دوسری بات تسلیم کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کی دعا پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ قیامت کے دن آدمی کے کام اگر کوئی چیز آسکتی ہے تو وہ مال اور اولاد نہیں بلکہ صرف قلب سلیم ہے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

90۔ یہاں سے آخر پیرا گراف تک کی پوری عبارت حضرت ابراہیم ؑ کے کلام کا جز نہیں معلوم ہوتی بلکہ اس کا مضمون صاف ظاہر کر رہا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے۔ (تفہیم القرآن)

104۔اور آگے لکھا ہے کہ یہ مشرکین تو خیر پھر غنیمت تھے کہ اللہ اور دوسرے معبود ان کو ہر حیثیت سے برابر نہیں سمجھتے تھے،اور اللہ کے اعظم و اشرف ہونے کے بہرحال قائل تھے،افسوس ان لوگوں کے حال پر ہے جو وحدت الوجود کے قائل ہیں ،مخلوقات میں سے ہر شے کو اللہ کے برابر رکھتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ شجر، حجر، حیوان کسی شے کی بھی پرستش  اللہ ہی کی پرستش ہے۔(تفسیر قیم،ص:141) (تفسیر ماجدی)


چھٹا رکوع

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚ ۖ ﴿105﴾ اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ  ﴿106﴾ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ  ﴿107﴾ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ  ﴿108﴾ وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ  ﴿109﴾ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ  ﴿110﴾ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ  ﴿111﴾ قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ  ﴿112﴾ اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ  ﴿113﴾ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ  ﴿114﴾ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ  ﴿115﴾ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ  ﴿116﴾ قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚ ۖ ﴿117﴾ فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿118﴾ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ  ﴿119﴾ ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ  ﴿120﴾ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴿121﴾ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠   ۧ ۧ ﴿122ع الشعراء 26﴾
105. قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا۔ 106. جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں۔ 107. میں تو تمہارا امانت دار رسول ہوں۔ 108. تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ 109. اور اس کام کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو خدائے رب العالمین ہی پر ہے۔ 110. تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو۔ 111. وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہوتے ہیں۔ 112. نوح نے کہا کہ مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ 113. ان کا حساب (اعمال) میرے پروردگار کے ذمے ہے کاش تم سمجھو۔ 114. اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں۔ 115. میں تو صرف کھول کھول کر نصیحت کرنے والا ہوں۔ 116. انہوں نے کہا کہ نوح اگر تم باز نہ آؤ گے تو سنگسار کردیئے جاؤ گے۔ 117. نوح نے کہا کہ پروردگار میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا۔ 118. سو تو میرے اور ان کے درمیان ایک کھلا فیصلہ کردے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ان کو بچا لے۔ 119. پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے، ان کو بچا لیا۔ 120. پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو ڈبو دیا۔ 121. بےشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ 122. اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے۔

تفسیر آیات

107۔ اس کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ میں اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر یا کم و بیش کر کے بیان نہیں کرتا بلکہ جو کچھ خدا کی طرف سے مجھ پر نازل ہوتا ہے وہی بےکم وکاست تم تک پہنچا دیتا ہوں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ میں ایک ایسا رسول ہوں جسے تم پہلے سے ایک امین اور راستباز آدمی کی حیثیت سے جانتے ہو۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)


ساتواں رکوع

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚ ۖ ﴿123﴾ اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ  ﴿124﴾ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ  ﴿125﴾ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ  ﴿126﴾ وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ  ﴿127﴾ اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ ﴿128﴾ وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ  ﴿129﴾ وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ  ﴿130﴾ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ  ﴿131﴾ وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ  ﴿132﴾ اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ ﴿133﴾ وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ  ﴿134﴾ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ  ﴿135﴾ قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَ وَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ ﴿136﴾ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ ﴿137﴾ وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ  ﴿138﴾ فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴿139﴾ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠   ۧ ۧ ﴿140ع الشعراء 26﴾
123. عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا۔ 124. جب ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں۔ 125. میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔ 126. تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ 127. اور میں اس کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے۔ 128. بھلا تم ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہو۔ 129. اور محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے۔ 130. اور جب (کسی کو) پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو۔ 131. تو خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ 132. اور اس سے جس نے تم کو ان چیزوں سے مدد دی جن کو تم جانتے ہو، ڈرو۔ 133. اس نے تمہیں چارپایوں اور بیٹوں سے مدد دی۔ 134. اور باغوں اور چشموں سے۔ 135. مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے۔ 136. وہ کہنے لگے کہ ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے۔ 137. یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں۔ 138. اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔ 139. تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ 140. اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے۔

تفسیر آیات

128۔ تَعْبَثُوْنَ سے ظاہر ہے کہ یہ شوق تعمیر کسی ضرورت کی بناپر نہ تھا،محض جذبات فخرو نمائش کی تسکین کے لیے تھا۔۔۔۔فقہاء نے لکھا ہے کہ بلاضرورت بڑی بڑی عمارتیں نام کے لیے تعمیر کرانا سرتاسر داخل اسراف ہے۔(تفسیر ماجدی)

132۔بعض حضرات نے اس جملہ میں ماکونافیہ قراردیا ہے اور ترجمہ یوں کیا ہے کہ اس ذات سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جن کا تمہیں علم نہیں۔یعنی تم ان چیزوں کو اللہ کی امداد سمجھتے ہی نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اگلی دوآیات میں ان نعمتوں کا ذکر خود ہی کردیا ہے۔(تیسیر القرآن)


آ ٹھواں رکوع

 كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ  ﴿141﴾ اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ  ﴿142﴾ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ  ﴿143﴾ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ  ﴿144﴾ وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ  ﴿145﴾ اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ  ﴿146﴾ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ  ﴿147﴾ وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ  ﴿148﴾ وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ  ﴿149﴾ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ  ﴿150﴾ وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ  ﴿151﴾ الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ ﴿152﴾ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ  ﴿153﴾ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ﴿154﴾ قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ  ﴿155﴾ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ﴿156﴾ فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ  ﴿157﴾ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴿158﴾ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠   ۧ ۧ ﴿159ع الشعراء 26﴾
141. (اور) قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلا دیا۔ 142. جب ان سے ان کے بھائی صالح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟ 143. میں تو تمہارا امانت دار رسول ہوں۔ 144. تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ 145. اور میں اس کا تم سے بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدا) رب العالمین کے ذمے ہے۔ 146. کیا وہ چیزیں (تمہیں یہاں میسر) ہیں ان میں تم بےخوف چھوڑ دیئے جاؤ گے۔ 147. (یعنی) باغ اور چشمے۔ 148. اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کےخوشے لطیف ونازک ہوتے ہیں۔ 149. اور تکلف سے پہاڑوں میں تراش خراش کر گھر بناتے ہو۔ 150. تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو۔ 151. اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو۔ 152. جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ 153. وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو۔ 154. تم اور کچھ نہیں ہماری طرح آدمی ہو۔ اگر سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو۔ 155. صالح نے کہا (دیکھو) یہ اونٹنی ہے (ایک دن) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمہاری باری۔ 156. اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آ پکڑے گا۔ 157. تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے۔ 158. سو ان کو عذاب نے آن پکڑا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ 159. اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے۔

تفسیر آیات

144۔سیدنا صالحؑ کا شجرہ نسب:۔ ثمود اس قوم کے جداعلیٰ کا نام تھا اور صالحؑ کا شجرہ نسب یوں چلتا ہے ۔صالح بن عبید بن آصف بن ماشح بن عبید بن یاور بن ثمود۔اس لحاظ سے یہ اپنی قوم کے بھائی  ہوئے۔(تیسیر القرآن)

152۔یہ آیت روشن ہمیشہ سے تھی،آج کے مخصوص حالات میں روشن تر ہوگئی ہے،اخلاقی،سیاسی،معاشری،تعلیمی،کیسے کیسے نئے نظریے، خدائی کے مدمقابل اور انہیں چیلنج دینے والے ،خوشنماناموں ، پُرفریب عنوانوں کے ساتھ نکل آئے ہیں،ان سب کے دعوت دینے والے ،ان کا پروپیگنڈہ کرنے والے ،قرآن مجید کے جامع لفظ المسرفین کے تحت میں سب کے سب آجاتے ہیں۔۔۔۔ الْمُسْرِفِیْنَ۔قوت عقلی ہویا فعلی یا اعتقادی ان کا بے جا صرف کرنا سب داخل اسراف ہے۔(تفسیر ماجدی)

153۔سیدنا صالحؑ کی دعوت پر جب چند کمزور قسم کے لوگ ایمان لے آئے ۔تو چودھری لوگ سیدنا صالحؑ کا مذاق اڑانے لگے کہ ان لوگوں کے سہارے تم انقلاب لانا چاہتے ہو؟ کیا تمہاری عقل تو جواب نہیں دے گئی ۔معلوم ہوتاہے کہ تم پر کسی نےجادو کردیا ہے جو ایسی بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہو۔ پھر جب صالحؑ کے پیروکاروں میں کچھ مزید اضافہ ہوگیا۔تو چودھریوں کو کچھ فکر لاحق ہونے لگی اور ان کا اندازِ کلام بھی بدل گیا۔کہنے لگے: تم بھی ہمارے ہی جیسے آدمی ہو آخر تم میں وہ کون سی زائد خوبی ہے کہ ہم تجھے اللہ کا رسول تسلیم کرلیں۔ ہاں اگر تم واقعی  اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو۔(تیسیر القرآن)

157۔یہاں یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جرم کا ارتکاب کرکے پچھتائے بلکہ یہ عذاب کی تعبیر کے لیے ہے یعنی بالآخر اپنے کیے پر انہیں پچھتانا پڑا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)


نواں رکوع

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚ ۖ ﴿160﴾ اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ  ﴿161﴾ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ  ﴿162﴾ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ  ﴿163﴾ وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ  ﴿164﴾ اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ  ﴿165﴾ وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ ﴿166﴾ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ ﴿167﴾ قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ  ﴿168﴾ رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ ﴿169﴾ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ  ﴿170﴾ اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ  ﴿171﴾ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ  ﴿172﴾ وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ ﴿173﴾ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴿174﴾ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠   ۧ ۧ ﴿175ع الشعراء 26﴾
160. (اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا۔ 161. جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے؟ 162. میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔ 163. تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ 164. اور میں تم سے اس (کام) کا بدلہ نہیں مانگتا۔ میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے۔ 165. کیا تم اہل عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو۔ 166. اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔ 167. وہ کہنے لگے کہ لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیئے جاؤ گے۔ 168. لوط نے کہا کہ میں تمہارے کام کا سخت دشمن ہوں۔ 169. اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کے کاموں (کے وبال) سے نجات دے۔ 170. سو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو سب کو نجات دی۔ 171. مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی۔ 172. پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔ 173. اور ان پر مینھہ برسایا۔ سو جو مینھہ ان (لوگوں) پر (برسا) جو ڈرائے گئے برا تھا۔ 174. بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ 175. اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے۔

تفسیر آیات

160۔ لوطؑ سیدنا ابراہیمؑ کے بھتیجے تھے۔جب سیدنا ابراہیمؑ نے اپنے وطن کو خیر باد کہا تو اس وقت صرف یہی ایک فرد آپ پر ایمان لایا تھا اور آپ کے ہمراہ فلسطین کی طرف ہجرت کی تھی۔یہیں آپ کو نبوت عطا ہوئی۔اور سیدنا ابرہیمؑ نے آپ کو شرق اردن کی طرف روانہ کردیا۔ آپ کی تبلیغ کا مرکز سدوم اور اس کے اردگرد کا علاقہ اور عمورہ کی بستیاں تھیں۔آپ کی قوم مشرک اور دوسری بداخلاقیوں کے علاوہ لواطت میں گرفتار بلکہ اس بدفعلی کی موجد تھی۔ان لوگوں پر بھی خاندانی منصوبہ بندی کا بھوت سوار تھا۔ اسی لئے شہوت رانی کے فطری طریق کو چھوڑ کر لونڈے بازی کا فعل شروع کیا پھر یہ لوگ اپنی غیر فطری روش پر نادم نہیں تھے۔ نہ ہی اسے گناہ سمجھتے تھے۔ بلکہ عقلی لحاظ سے اس کے بہت فوائد بتاتے تھے۔(تیسیر القرآن)

161۔ اَخُوْهُمْ۔أخ انہیں یہاں اس لحاظ سے کہا گیا کہ حضرت لوطؑ عراق سے آکر انھی کے ملک شرق اردن میں بس گئے تھے۔(تفسیر ماجدی)

173۔اس بدبخت قوم پر جس طرح عذاب آیا اس کی تفصیلات پہلے سورہ اعراف آیت نمبر 84 سورہ توبہ آیت نمبر 70، سورہ ہود آیت نمبر 83،سورہ حجر آیت نمبر 73 میں گزرچکی ہیں۔ ان کے حواشی ملاحظہ کرلئے جائیں۔(تیسیر القرآن)


دسواں رکوع

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ  ﴿176﴾ اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ  ﴿177﴾ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ  ﴿178﴾ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ  ﴿179﴾ وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ  ﴿180﴾ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ  ﴿181﴾ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ  ﴿182﴾ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ  ﴿183﴾ وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ  ﴿184﴾ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ  ﴿185﴾ وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ  ﴿186﴾ فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ  ﴿187﴾ قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ﴿188﴾ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ﴿189﴾ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴿190﴾ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠   ۧ ۧ ﴿191ع الشعراء 26﴾
176. اور بن کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا۔ 177. جب ان سے شعیب نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟ 178. میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔ 179. تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ 180. اور میں اس کام کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ تو خدائے رب العالمین کے ذمے ہے۔ 181. (دیکھو) پیمانہ پورا بھرا کرو اور نقصان نہ کیا کرو۔ 182. اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ 183. اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ کرتے پھرو۔ 184. اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی خلقت کو پیدا کیا۔ 185. وہ کہنے لگے کہ تم جادو زدہ ہو۔ 186. اور تم اور کچھ نہیں ہم ہی جیسے آدمی ہو۔ اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ 187. اور اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر گراؤ۔ 188. شعیب نے کہا کہ جو کام تم کرتے ہو میرا پروردگار اس سے خوب واقف ہے۔ 189. تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا، پس سائبان کے عذاب نے ان کو آ پکڑا۔ بےشک وہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تھا۔ 190. اس میں یقیناً نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ 191. اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے۔

تفسیر آیات

176۔ اصحاب الایکہ کون لوگ تھے؟   اس میں مفسرین کا خاصا اختلاف ہے۔ایک قول یہ ہے کہ اصحاب الایکہ اور اصحاب مدین دونوں ایک ہی قوم کے نام ہیں۔دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک درخت کا نام تھا جس کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے۔ اسی نسبت سے انہیں اصحاب الایکہ کہا گیا ہے۔تیسرا قول یہ ہے کہ ان لوگوں کی بستی اور علاقہ اصحاب مدین سے الگ ہے۔ اصحاب الایکہ کا معنی بن والے یعنی یہ بستی ایک لمبی سی بلند جگہ پر آباد تھی۔ جہاں باغات کے جھنڈ بکثرت تھے اور شعیبؑ ان دونوں علاقوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔(تیسیر القرآن)

۔اصحاب الایکہ کا تفصیلی تعارف (صفحہ 531 تا 532 تفہیم القرآن)

۔ ایکہ جھاڑی اور جنگل کو کہتے ہیں۔ مدین کی بستی کے پاس ایک جنگل بھی تھا اس وجہ سے اہل مدین اصحاب الایکہ کے نام سے بھی مشہور تھے۔ یہ دو الگ الگ قومیں نہیں ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ـــ اَصْحٰبُ لْــٴَـیْكَةِ پر حاشیہ سورۃ الحجرآیت نمبر 79 میں گزرچکا ۔أیکۃ۔ غالباً وہی مقام شمالی عرب  میں ہے، جس کا نام بعد کو تبوک پڑا،ہمارے پرانے جغرافیہ نویسوں نے بھی اسے بطور احتمال لکھا ہے ،صفی الدین عبدالمومن کی"مراصد الاطلاع"(ترجمہ اردو)میں ہے:أیکۃ،جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے، تبوک ہے یا مدین"۔(مراصد،ج1/ص:138،عربی ایڈیشن) (تفسیر ماجدی)

177۔یہ وہی شعیبؑ ہیں جو سیدنا موسیٰؑ کے سسر تھے اور سیدنا موسیٰؑ نے ان کے ہاں آٹھ دس سال تربیت حاصل کی تھی۔ پانچویں نسبت پر سیدنا یعقوبؑ سے جاملتے ہیں۔ شجرہ نسب یہ ہے شعیب بن میکیل بن یشجر بن لاوی بن یعقوبؑ۔(تیسیر القرآن)

182۔ ۔۔۔اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے ایک میزان کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اسی میزان پر یہ آسمان و زمین قائم ہیں۔ اگر یہ درہم برہم ہو جائیں تو یہ آسمان و زمین درہم برہم ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام انسانوں کو یہ رہنمائی دیتا ہے کہ وہ بھی اپنے اندر ہر شعبہ زندگی میں صحیح میزان کے قیام کا پورا پورا اہتمام رکھیں ورنہ ان کا سارا معاشی و معاشرتی نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ یہاں اشارے پر کفایت کیجیے۔ انشاء اللہ سورة رحمان کی تفسیر میں ہم اس نکتہ پر وضاحت سے گفتگو کریں گے۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)

183۔ یعنی ناپ تول میں کمی اور ڈنڈی مار کر لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو۔ اسی کی ایک نہایت ہی مجرمانہ صورت اشیاء میں ملاوٹ بھی ہے کہ کوئی شخص گھی میں چربی، شکر میں ریت، گوشت میں چھیچھڑے اور دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرے۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)

188۔اس آیت اور اس قبیل کی ساری آیات میں یہ ملحوظ رہے کہ ایک قوم میں فلکیات سے متعلق پھیلے ہوئے خیال کو قرآن مجید نے محض نقل کردیا ہے،اس سے یہ استدلال کسی طرح صحیح نہ ہوگا کہ خود قرآن آسمان کو جامد اور ٹھوس ٹھہرارہاہے۔(تفسیر ماجدی)

189۔اس آیت سے چند باتوں کا پتہ چلتاہے ایک یہ کہ اصحابِ مدین اور اصحاب الایکہ دو الگ الگ قومیں تھیں۔ اصحاب مدین پر زلزلہ اور اس سے پیدا ہونے والی ہولناک آواز کا عذاب آیاتھا(7: 91، 11:94)جبکہ اصحاب الایکہ پر سائے کے دن کا عذاب آیا تھا اگرچہ اس عذاب کی تفصیل کتاب و سنت میں کہیں مذکور نہیں تاہم اتنا ضرور معلوم ہوجاتاہے کہ یہ عذاب کی الگ نوع ہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ سخت گہرے اور گاڑھے بادل ان پر چھتری کی صورت میں محیط ہوگئے تھے۔اور اس کے تادیر ان پر سایہ کئے رکھنے اور اس کی دہشت سے ان کی تباہی ہوئی تھی ۔اور ایسے ہی عذاب کا ان لوگوں نے مطالبہ کیا تھا ۔اور دوسرے یہ کہ ان قوموں کی طرف شعیبؑ ہی مبعوث ہوئے تھے اور یہ دونوں اقوام ایک دوسرے سے تھوڑے فاصلہ پر آباد تھیں اور یہ دونوں ہی تجارتی بددیانتیاں کرتے تھے۔(تیسیر القرآن)

ـــ عذاب کے وقت پہلے ایک ابرنمودار ہواتھا ،گرمی پہلے سے مسلط تھی۔لوگ ٹھنڈی ہواکے شوق میں اس کے  نیچے جمع ہوگئے،اس میں سے آگ برسنا شروع ہوئی اور سب جل گئے۔وہ ابرسائبان نما تھا، اسی بناپر اسے عذاب سائبان سے تعبیر کیا گیا۔(تفسیر ماجدی)


گیارہواں رکوع

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ  ﴿192﴾ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ  ﴿193﴾ عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ﴿194﴾ بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ  ﴿195﴾ وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ ﴿196﴾ اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ  ﴿197﴾ وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ  ﴿198﴾ فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ  ﴿199﴾ كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ  ﴿200﴾ لَا یؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ  ﴿201﴾ فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ  ﴿202﴾ فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ  ﴿203﴾ اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ﴿204﴾ اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ  ﴿205﴾ ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ  ﴿206﴾ مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ  ﴿207﴾ وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَۗ ۛ ۖ  ﴿208﴾ ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ ﴿209﴾ وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ ﴿210﴾ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ  ﴿211﴾ اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ  ﴿212﴾ فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ  ﴿213﴾ وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ  ﴿214﴾ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ  ﴿215﴾ فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ  ﴿216﴾ وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ  ﴿217﴾ الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ  ﴿218﴾ وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ ﴿219﴾ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ﴿220﴾ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ  ﴿221﴾ تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ  ﴿222﴾ یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ  ﴿223﴾ وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ  ﴿224﴾ اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ  ﴿225﴾ وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ  ﴿226﴾ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿227ع الشعراء 26﴾
192. اور یہ قرآن (خدائے) پروردگار عالم کا اُتارا ہوا ہے۔ 193. اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اُترا ہے۔ 194. (یعنی اس نے) تمہارے دل پر (القا) کیا ہے تاکہ (لوگوں کو) نصیحت کرتے رہو۔ 195. اور (القا بھی) فصیح عربی زبان میں (کیا ہے)۔ 196. اور اس کی خبر پہلے پیغمبروں کی کتابوں میں (لکھی ہوئی) ہے۔ 197. کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس (بات) کو جانتے ہیں۔ 198. اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اُتارتے۔ 199. اور وہ اسے ان (لوگوں کو) پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے۔ 200. اسی طرح ہم نے انکار کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کردیا۔ 201. وہ جب تک درد دینے والا عذاب نہ دیکھ لیں گے، اس کو نہیں مانیں گے۔ 202. وہ ان پر ناگہاں آ واقع ہوگا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔ 203. اس وقت کہیں گے کیا ہمیں مہلت ملے گی؟ 204. تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں۔ 205. بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہے۔ 206. پھر ان پر وہ (عذاب) آ واقع ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ 207. تو جو فائدے یہ اٹھاتے رہے ان کے کس کام آئیں گے۔ 208. اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر اس کے لئے نصیحت کرنے والے (پہلے بھیج دیتے) تھے۔ 209. نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں۔ 210. اور اس (قرآن) کو شیطان لے کر نازل نہیں ہوئے۔ 211. یہ کام نہ تو ان کو سزاوار ہے اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں۔ 212. وہ (آسمانی باتوں) کے سننے (کے مقامات) سے الگ کر دیئے گئے ہیں۔ 213. تو خدا کے سوا کسی اور معبود کو مت پکارنا، ورنہ تم کو عذاب دیا جائے گا۔ 214. اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سنا دو۔ 215. اور جو مومن تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان سے متواضع پیش آؤ۔ 216. پھر اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بےتعلق ہوں۔ 217. اور (خدائے) غالب اور مہربان پر بھروسا رکھو۔ 218. جو تم کو جب تم (تہجد) کے وقت اُٹھتے ہو دیکھتا ہے۔ 219. اور نمازیوں میں تمہارے پھرنے کو بھی۔ 220. بےشک وہ سننے اور جاننے والا ہے۔ 221. (اچھا) میں تمیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اُترتے ہیں۔ 222. ہر جھوٹے گنہگار پر اُترتے ہیں۔ 223. جو سنی ہوئی بات (اس کے کام میں) لا ڈالتے ہیں اور وہ اکثر جھوٹے ہیں۔ 224. اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں۔ 225. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں۔ 226. اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں۔ 227. مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں۔

تفسیر آیات

194۔وحی کے نزول کے وقت آپؐ کی کیفیت :۔ واضح رہے وحی الٰہی کی تین صورتیں قرآن میں مذکور ہیں سب سے معروف شکل یہ ہے کہ جبرائیل پیغمبر کے دل پر نازل ہوکر وحی کے الفاظ اس میں ڈال دے اس صورت میں پیغمبر کا رشتہ عالم دنیا سے کٹ کر عالم بالا سے جڑجاتاہے۔وحی کے دوران پیغمبر کے حواس ظاہری کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔اور قلبی حواس کام کرنے لگ جاتے ہیں۔پیغمبر دل کی آنکھ سے فرشتہ کو دیکھتا ہے۔دل کے کانوں سے وحی سنتاہے۔بالفاظ دیگر وحی کے دوران پیغمبر کو بشریت سے کٹ کر ملکیت کی طرف کرتاہے۔لہذا وحی کی یہ شکل جسمانی لحاظ سے آپ کےلئے نہایت تکلیف دہ ہوتی تھی ۔شدید قسم کا بوجھ آپ پر پڑجاتاتھا اور حالت غیر ہوجاتی تھی اور اس بوجھ کو وہ جاندار بھی محسوس کرتے تھے جن کا جسم آپ کے جسم سے لگا ہوتاتھا۔چنانچہ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ "میں نے آپؐ سے پوچھا یارسول اللہ!آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا ۔کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹے کی جھنکاراور یہ وحی مجھ پر بہت سخت گزرتی ہے ۔پھر جب فرشتے کا کہا مجھ کو یاد ہوجاتاتو یہ موقوف ہوجاتی ہے۔اور کبھی فرشتہ مردکی صورت میں میرے پاس آتاہے،مجھ سے بات کرتاہےمیں اس کا کہا یاد کرلیتاہوں۔"سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں "میں نے آپؐ کو اس حال میں دیکھا کہ سخت سردی کے دن میں آپؐ پر وحی اترتی پھر موقوف ہوجاتی اور آپ کی پیشانی سے پسینہ ٹپکتا"۔(بخاری، کتاب الوحی۔ باب کیف کان بدء الوحی الیٰ رسول اللہؐ )(تیسیر القرآن)

۔۔۔ضمیر کا مرجع آنحضرت ﷺ ہیں۔ یعنی اس وحی کا مہبط تمہارا نفس نہیں بلکہ قلب ہے جو انسان کے وجود کا سب سے اشرف و اعلیٰ حصہ ہے۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)

ـــ روح الأمین۔یعنی امانت دار فرشتہ ،مراد حضرت جبرائیل ہیں، اور سلف کا اس پر اتفاق ہے۔۔۔۔قرآن کے عربی زبان ہونے پر یہاں اور دوسرے مقامات پر جوزوردیا گیاہے ،اس سے بعض فقہاء نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ غیرعربی قرآن پر یعنی کسی ترجمۂ قرآن پر حکم قرآن کا نہیں لگایا جاسکتا۔۔۔۔۔بعض محققین سے منقول ہے کہ نبی کے پاس قبول وحی کے لیے ایک قلب بھی مخصوص ہوتاہے اور ایک مخصوص سامعہ و باصرہ بھی۔(تفسیر ماجدی)

196۔ اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ آپ کے عرب قوم کی طرف مبعوث ہونے کی خبر سابقہ آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ان کتابوں میں بہت سی تحریف و تبدل کے باوجود بھی اب تک اس قسم کی پیشین گوئیوں کا ایک ذخیرہ پایا جاتاہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسی قرآن کے مضامین اجمالاً یا تفصیلاً سابقہ آسمانی کتابوں میں پائے جاتے ہیں بالخصوص توحید، رسالت،قصص اور تذکیر بایام اللہ اور آخرت سے متعلق دلائل اور تفصیل جیسے مضامین جن پر تمام کتب سماویہ اور انبیاء و مرسلین کا اتفاق رہاہے۔(تیسیر القرآن)

۔لیکن بہرحال الفاظ قرآنی سے یہ بھی استدلال کیا جاسکتاہے کہ چونکہ"قرآن"کا "زبرالاولین"میں ہونا ارشاد ہوگیاہے،حالانکہ قرآن ان اگلی کتابوں میں بجنسہ عربی زبان میں نہیں،اس لیے قرآن کا اطلاق غیر عربی کے قرآن پر بھی صحیح و صادق آتاہے۔۔۔۔اور یہیں سے امام ابوحنیفہؒ نے نماز میں فارسی ترجمہ قرآن کو خود قرآن کا قائم مقام قراردیا ہے۔۔۔۔لیکن محققین کا یہ بھی بیان ہے کہ بعد کو امام صاحبؒ نے اپنی رائے سے رجوع بھی کرلیا تھااوراپنے استدلال کی خامی انہیں خود نظر آگئی تھی۔(تفسیر ماجدی)

200۔اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ اور اوپر کے حاشیہ سے واضح ہے اور ربطِ مضمون کے لحاظ سے یہی راجح معلوم ہوتاہے۔تاہم بعض مفسرین نے سلکناہ میں ہ کی ضمیر کو قرآن کی طرف لوٹایاہے۔اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے قرآن کو ان مجرموں کے دلوں میں گھسا دیا ہے اور وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔مگر اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بناپر اس کو بہر حال جھٹلانے پر کمربستہ ہیں۔(تیسیر القرآن)

210۔کفار کا آپ ؐ پر الزام کہانت:۔ اس آیت کا تعلق سابقہ آیت"وانہ لتنزیل رب العالمین"سے ہے درمیان میں قرآن کو جھٹلانے والوں کے کچھ احوال بیان کرنے کے بعد اصل مضمون کی طرف رجوع کیا گیا ہے کفار مکہ کے الزامات میں سے ایک الزام یہ بھی تھا کہ وہ آپ کو کاہن کہتے بھی تھے اور سمجھتے بھی تھے ۔چنانچہ جندب بن سفیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہؐ کا مزاج ناساز ہوا اور آپؐ دو  تین رات نماز تہجد کے لئے نہ اٹھ سکے ۔ایک عورت (عوراء بنت حرب، ابوسفیان کی بہن، ابولہب کی بیوی)آپؐ کے پاس آئی اور کہنے لگی "(محمدؐ)میں سمجھتی ہوں ۔تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا۔دو تین راتوں سے تیرے پاس نہیں آیا۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی"وَ الضُّحٰى وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰى"(بخاری،کتاب التفسیر ۔تفسیر سورۃ الضحیٰ)(تیسیر القرآن)

211۔ایسا قرآن نازل کرنا شیطانوں کے بس کا روگ نہیں۔جو سراسر لوگوں کی ہدایت و فلاح کا ضامن ہو جس میں خالصتاً توحید باری کی تعلیم دی گئی ہے۔اور شرک اور بت پرستی سے روکا گیا ہے۔آخرت کی بازپرس کا خوف دلایا گیا ہے۔ظلم اور بداخلاقی سے منع کیا گیا ہے۔ نیکو کاری اور راست بازی اور خلق خدا کے ساتھ احسان کی تعلیم دی گئی ہے اوراس پر ایمان لانے والوں کو ایک مکمل ضابطۂ حیات عطا کیا گیا ہے کیا کسی شیطان کے کلام میں ایسی باتوں کا پایا جانا ممکن ہے ؟ شیطان تو قرآن کے نام تک سے بدکتے ہیں وہ ایسا کلام لاکیسے سکتے ہیں؟(تیسیر القرآن)

213۔یہ صیغۂ حاضر کمالِ تخویف اور انتہائی اہمیت کے اظہار کے لیے ہے ورنہ ظاہر ہےکہ پیمبر کو شرک سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے!۔(تفسیر ماجدی)

214۔ سیدنا ابوہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپؐ کھڑے ہوکر فرمانے لگے:"اے قریش کے لوگو! (یا کچھ ایسا ہی کلمہ کہا )تم اپنی اپنی جانیں بچالو۔میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔اے عبدمناف! میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ اے میری پھوپھی صفیہ! میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔اے محمدؐ کی بیٹی فاطمہ! میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے لیکن اللہ کے سامنے میں تیرے کسی کام نہ آسکوں گا"۔(ایضاً) (تیسیر القرآن)

ـــ نجات بغیر پیمبر کے اتباع کے ممکن نہیں،اور آپؐ سے محض رشتہ داری ہر گز کافی نہیں۔(تفسیر ماجدی)

215۔ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ۔مفسر تھانویؒ نے کہاہے کہ خفض جناح کی دو صورتیں ہیں: ایک تو وہ جو اطاعت سے پیدا ہوتی ہے، جیسے اولاد کی فروتنی والدین کے مقابلہ میں،دوسری وہ جو شفقت سے پیدا ہوتی ہے ،اور وہی یہاں مقصود ہے(تھانوی،ج2/ص:186)(تفسیر ماجدی)

224۔  پہلی  کسوٹی  کہ درخت  اپنے   پھل  سے  پہچانا جاتا ہے   ۔  شاعروں کو دیکھو کہ  ان کا کلام  کس قسم  کے لوگوں  کو  اپنی   طرف   کھینچتا ہے   اور  بھر   پیغمبر  کو ماننے  والوں کو دیکھو ۔(تدبرِ قرآن)

225۔  شاعروں  کی شاعری  کا کوئی  متعین ہدف  نہیں ہوتا  ۔ جو واردات  دل پر  گذر  گئی  اس کو اپنے   اسلوب  سے  بیان  کردیا  اس کے برعکس   پیغمبر  اور  حسان  بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ  اور  اقبال  - قرآن  کی ہم  آہنگی  اور  ہم رنگی ۔(تدبر قرآن)

ہند کے شاعرو  صورت  گر  و افسانہ   نویس                                                آہ  بیچاروں  کے اعصاب  پہ  عورت  ہے سوار  (علامہ اقبال)

226 ۔   شاعر  صرف  گفتار  کے غازی  اور پیغمبر  - عملی  نمونہ   حتٰی  کہ فلسفی  بھی  جو کچھ  پورے زور   سے پیش   کرتا  ہے اس پر عمل    نہیں کرتا  ۔

۔تاریخوں میں آتاہے کہ دورِ اموی کے مشہور عرب شاعر فرزدق نے جب اپنا وہ شعر جس میں اپنی حرام کاری کو مزے لے لے کر بیان کیا ہے۔خلیفۂ وقت سلیمان بن عبدالملک کو سنایا تو خلیفہ نے برجستہ کہا کہ اس اقبال جرم کے بعد تم پر حد شرعی واجب آگئی ،شاعر نے فوراً یہی آیت قرآنی اپنی صفائی میں پڑھ کر اپنی جان بچائی۔۔۔۔گویا یہ ظاہر کردیا کہ ہم شاعر لوگ ہیں، ہمارے کلام سے ہمارے عمل پر بھلا کیا شہادت مل سکتی ہے؟(تفسیر ماجدی)

۔ قریش نبی ؐ کے لائے ہوئے کلام کو شاعری کے درجہ میں رکھتے تھے اور ان کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ ہر بڑے شاعر کے ساتھ ایک جن ہوتاہے جو اس کو شعرالہام کرتاہے۔اس کی تردید میں فرمایا کہ شاعروں کے  ساتھی گمراہ ،اوباش ،عیاش اور شرپسند لوگ بنتے ہیں جبکہ آنحضرتؐ کے ساتھی شریف ، صالح اور خدا ترس لوگ ہیں۔ شاعروں کی شاعری کا کوئی معین  ہدف نہیں ہوتا، ایک ہی سانس میں وہ نیکی اور بدی دونوں کی باتیں کرتے ہیں جبکہ قرآن کا ہدف معیّن ہے۔ شاعر خیالی دنیا میں رہتے ہیں۔ وہ کردار کے غازی نہیں ہوتے جبکہ پیغمبر اپنی تعلیم پر سب سے زیادہ عمل خود کرتے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

227۔   دربار  رسالت  کے شعرا   کا  استثنا۔    ایمان  نے انکی  شاعری  کا ہدف  مقرر کردیا  - غالب  ، فیض ،  فراز  ان  کا کیا  ہدف  ہے  ۔( تدبرقرآن)

ـــ جب  پہلی  آیات  نازل ہوئیں  تو حسان  بن ثابت  رضی اللہ تعالی عنہ  ، عبداللہ  بن  رواحہ  رضی اللہ تعالی عنہ   ، کعب   بن مالک  رضی اللہ تعالی عنہ    اور کعب  بن زبیر  رضی اللہ تعالی عنہ      روتے   ہوئے  حاضر  ہوئے  کہ  ہم  تو شاعر  ہیں  ،  ہم ہلاک  ہوگئے   ، ہماری  نجات  کی کوئی  صورت  نہیں  ۔ حضورؐ  نے فرمایا  کہ آیت  کا آخری  حصہ  پڑھو  ( معارف ) حضرت  حسان رضی اللہ تعالی عنہ     کیلئے   تو مسجد نبوی   میں منبر  رکھا  جاتا   اور وہ  کافر  شعرا  کا جواب  دیتے  ۔۔۔ حضرت کعب  بن مالک   رضی اللہ تعالی عنہ سے  آپ ؐ   نے فرمایا  کہ " انکی  ہجو  کہو   خدا کی قسم  جس کے قبضے   میں میری  جان  ہے  ، تمہارا  شعر  انکے  حق  میں تیر سے زیادہ  تیز  ہے ۔ (تفہیم القرآن)

ـــ حضرت  ابی بن کعب  رضی اللہ تعالی عنہ     کی روایت   ہے کہ بعض  شعر  حکمت  ہوتے  ہیں ( بخاری )  امام بخاری  ؒ  فرماتے  ہیں  کہ سیدہ  عائشہ  صدیقہ  رضی اللہ تعالی عنہا  شعر  کہا  کرتی تھیں   ۔(معارف  القرآن)

ـــ  مستثنٰی  شعرا  کی چار خصوصیات  :   (1 )  سچے  مومن  ہوں  خدا  ، رسول  اور آخرت  کو دل  سے  مانتے ہوں  ۔ (2 )  اپنی   عملی زندگی   میں صالح  ہوں  - بدکار  اور فاسق  و فاجر  نہ ہوں  ۔ (3 )  اللہ کو کثرت   سے  یاد  کرنے   والے ہوں  ۔  یہ  نہ   ہو  کہ شخصی   زندگی   تو زہد  و تقوی  سے آراستہ   ہو مگر   کلام  سراسر  رندی  اور ہوسناکی   ( 4 )   وہ شخصی  اغراض   و انتقام  کیلئے  کسی کی  ہجو  نہ کریں  - نہ ہر وقت  گھگیا تے  ہی رہیں ۔ (تفہیم  القرآن)

ـــ اس کے بعد سیدنا حسان بن ثابت کا طویل قصیدہ مسلم شریف میں مذکور ہے۔(تیسیر القرآن)

ــــ  ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا۔ اسلامی نظمیں،جو ش دینی پیدا کرنے والی، عصبیت اسلامی کو بیدار کرنے والی، سب ذکر الٰہی ہی کی فرد ہیں۔۔۔قرآن نے شاعروں پر یہ ملامت صرف عمومی یا اکثری حیثیت سے کی ہے،کلی حیثیت سے نہیں۔ایمانی،اسلامی شاعری کو اس سے بالکل مستثنیٰ رکھا ہے۔شاعر دربار نبوت حضرت حسان بن ثابتؓ سے لے کر اقبال و اکبر تک کی اسلامی، اصلاحی شاعری اسی ذیل میں آجاتی ہے۔(تفسیر ماجدی)