27 - سورة النمل (مکیہ)
| رکوع - 7 | آیات - 93 |
مضمون: قرآن ہدایت و بشارت بن کر نازل ہواہے لیکن دنیا کی چمک دمک اور عقیدۂ شرک اس کے لیے حجاب بن گیا ہے۔ایمان کی راہ خدا کے آگے عاجزی و فروتنی اور آخرت کے خوف سے کھلے گی۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: رسول اللہ کی قرآن کی دعوت ِ توحید و آخرت قبول کرکے اسلام لانا چاہئے ۔اقتدار کو دعوتِ توحید کیلئے استعمال کرنا چاہئے۔یہ سورۂ دوخطبوں پر مشتمل ہے۔ پہلا خطبہ آغازِ سورۂ سے چوتھے رکوع کے خاتمے تک ہے جس میں مختلف صاحبِ اقتدار لوگوں کے نمونے پیش کئے گئے ہیں مثلاً فرعون،حضرت سلیمانؑ اور ملکۂ سبا کے نمونے ۔دوسرا خطبہ پانچویں رکوع کی ابتداء سے ساتویں رکوع تک ہے اس میں کفار کے انکارِ آخرت کی وجوہ اور خدائے واحد کی بندگی کا تذکرہ ہے ۔
شانِ نزول : سورۂ شعراء ،سورۂ نمل،اور سورۂ القصص کا زمانۂ نزول حضورؐ کے قیام ِ مکہ کا تیسرا دور(7تا 10 سن نبوی)ہے اور یہ تینوں سورتیں یکے بعد دیگرے نازل ہوئیں ان تینوں میں دوباتیں مشترک ہیں۔اوّلاً یہ کہ ان تینوں میں قریشی قیادت کو مختلف سابقہ قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ثانیاً یہ کہ تینوں میں حضرت موسیٰؑ اور فرعون کی کشمکش کی داستان بیان ہوئی ہے۔البتہ سورۂ القصص میں زیادہ تفصیل کے ساتھ۔
نظمِ کلام: سورۂ الفرقان
اہم کلیدی الفاظ و مضامین:۔
ــــ اس سورت میں آیت ترجیع "ءالٰہ مع اللہ؟"پانچ (5)مرتبہ آئی ہے(آیات: 60تا 64)۔شرک کی تردید کیلئے پانچ(5)مرتبہ سوال کیا گیا۔"ء الٰہ مع اللہ؟"(کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور)"الٰہ"بھی اُلوہیت میں شریک ہے؟ یہاں معبودِ حقیقی اللہ کیلئے "الٰہ "کا لفظ ،قدرت،طاقت،اختیار اور قوت کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
ترتیب مطالعۂ: (i)ر۔1تا 4(ہدایت ملنے پر فرعون، ملکۂ سبا،قومِ ثمود اور قومِ لوط کا ردعمل) (ii)ر۔5تا7(توحید ِ الٰہی کے دلائل،معاندینِ حق کا انکار اور دعوتِ حق)
پہلا رکوع |
| طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ ﴿1﴾ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ ﴿2﴾ الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ ﴿3﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ ﴿4﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ ﴿5﴾ وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ ﴿6﴾ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ ﴿7﴾ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿8﴾ یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ ﴿9﴾ وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ ﴿10﴾ اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿11﴾ وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ﴿12﴾ فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ ﴿13﴾ وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿14ع النمل 27﴾ |
| 1. ٰطٰسٓ۔ یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں. 2. مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت. 3. وہ جو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں. 4. جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے ان کے اعمال ان کے لئے آراستہ کردیئے ہیں تو وہ سرگرداں ہو رہے ہیں. 5 یہی لوگ ہیں جن کے لئے بڑا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں. 6. اور تم کو قرآن (خدائے) حکیم وعلیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے. 7. جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے، میں وہاں سے (رستے) کا پتہ لاتا ہوں یا سلگتا ہوا انگارہ تمہارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم تاپو. 8. جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ وہ جو آگ میں (تجلّی دکھاتا) ہے بابرکت ہے، اور جو آگ کے اردگرد ہے اور خدا جو تمام عالم کا پروردگار ہے پاک ہے. 9. اے موسیٰ میں ہی خدائے غالب ودانا ہوں. 10. اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔ جب اُسے دیکھا تو (اس طرح) ہل رہی تھی گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ۔(حکم ہوا کہ) موسیٰ ڈرو مت۔ ہمارے پاس پیغمبر ڈرا نہیں کرتے. 11. ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا مہربان ہوں. 12. اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو سفید نکلے گا۔ (ان دو معجزوں کے ساتھ جو) نو معجزوں میں (داخل ہیں) فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ کہ وہ بےحکم لوگ ہیں. 13. جب ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں پہنچیں، کہنے لگے یہ صریح جادو ہے. 14. اور بےانصافی اور غرور سے ان سے انکار کیا لیکن ان کے دل ان کو مان چکے تھے۔ سو دیکھ لو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا. |
تفسیر آیات
سورت کی تمہید سورۂ بقرہ سے ملتی جلتی ہے۔(تدبرقرآن)
1۔کتاب مبین کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی تعلیمات اور اپنے احکام اور ہدایات کو بالکل واضح طریقے سے بیان کرتی ہے، دوسرا یہ کہ وہ حق اور باطل کا فرق نمایاں طریقے سے کھول دیتی ہے، اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کا کتاب الہی ہونا ظاہر ہے جو کوئی اسے آنکھیں کھول کر پڑھے گا اس پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ محمد ﷺ کا اپنا گھڑا ہوا کلام نہیں ہے۔(تفہیم القرآن)
5۔ اس آیت میں عذاب آخرت کا چونکہ مستقلاً ذکر ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ سوء العذاب کا تعلق عذاب دنیا سے ہے۔ یہاں ذکر مکذبین رسول کا ہے اور مکذبین رسول پر اس دنیا میں بھی جیسا کہ ہم اس کے محل میں ذکر کرچکے ہیں لازماً عذاب آتا ہے اس وجہ سے فرمایا کہ ان کے لئے دنیا میں بھی برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ میں اسی طرح حصر اور تاکید کا اسلوب ہے جس طرح اوپر وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ میں گزر چکا ہے۔۔۔ (تدبرقرآن)
7۔اس جگہ حضرت موسیٰ ؑ نے امْكُثُوْا اور تَصْطَلُوْنَ جمع کے صیغے بولے حالانکہ آپ کے ساتھ صرف آپ کی بیوی یعنی حضرت شعیب ؑ کی بیٹی تھیں ان کے لئے لفظ جمع استعمال فرمانا بطور اکرام کے ہوا جیسے معزز لوگوں میں کسی ایک فرد سے بھی خطاب ہوتا ہے تو صیغہ جمع کا استعمال کیا جاتا ہے آنحضرت ﷺ سے بھی اپنی ازواج مطہرات کے لئے صیغہ جمع استعمال فرمانا روایات حدیث میں وارد ہوا ہے۔ (معارف القرآن)
8۔ دامن کوہ اور اندھیری رات میں، بالکل خلاف توقع، اس آواز کو سن کر حضرت موسیٰ پر نہیں معلوم کیا گزری ہوگی اور نہ معلوم کیا گزرتی اگر اس کا پہلا کلمہ برکت کی بشارت کا نہ ہوتا۔ اس مبارک کلمہ نے حضرت موسیٰ کی بڑی ڈھارس بندھائی ہوگی کہ جو آواز ان کو سنائی دی ہے اس کے پیچھے کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ یہ منبع خیر و برکت سے ایک بابرکت آواز آئی ہے۔ (تدبرقرآن)
9۔ یہاں عزیز کے ساتھ حکیم کی صفت آتی ہے۔ جس سے مقصود اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ جس ذات نے تم کو اس وقت خطاب و کلام سے مشرف فرمایا ہے۔ وہ ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے کوئی اس کے کسی ارادے میں مزاحم نہیں ہوسکتا اور ساتھ ہی وہ حکیم ہے اس کا ہر ارادہ حکمت و مصلحت پر مبنی ہے اور اسلوب کلام چونکہ حصر در حصر کا ہے۔ اس وجہ سے اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ میرے مقابل میں کسی اور کے زور و اقتدار یا میری حکمت و مصلحت کے مقابل میں کسی اور کی حکمت و مصلحت کے تصور کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ غور کیجیے کہ ان صفات کی معرفت اس مہم کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کے لئے کتنی ضروری تھی جس پر حضرت موسیٰ مامور کئے جا رہے تھے۔ (تدبرقرآن)
12۔ ۔۔۔یہاں واضح رہے کہ ان نو نشانیوں سے بھی صرف وہ نشانیاں مراد ہیں جو فرعون اور اس کی قوم کے مقابل میں ظاہر ہوئیں۔ وہ نشانیاں جو اس عصا کے ذریعہ سے خاص بنی اسرائیل کے لئے ظاہر ہوئیں وہ ان سے بالکل الگ ہیں اور ان کی تعداد بھی تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ کم نہیں ہے، بہت ہے۔ (تدبرقرآن)
14۔ یہ آخر میں اصل مدعا سامنے رکھ دیا گیا ہے جس کے لئے یہ سرگزشت سنائی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ
لوگ دعوت حق کو قبول نہیں کرنا چاہتے وہ ایک دو نہیں بلکہ نو نو معجزات دیکھ کر بھی اپنے انکار کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ (تدبرقرآن)
دوسرا رکوع |
| وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿15﴾ وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ ﴿16﴾ وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ ﴿17﴾ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ﴿18﴾ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ ﴿19﴾ وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ ﴿20﴾ لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ﴿21﴾ فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ ﴿22﴾ اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ ﴿23﴾ وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ ﴿24﴾ اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ ﴿25﴾ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ ۞﴿26﴾ قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ ﴿27﴾ اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا ف َ اَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ ﴿28﴾ قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ ﴿29﴾ اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ ﴿30﴾ اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿31ع النمل 27﴾ |
| 15. اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے مومن بندوں پر فضلیت دی۔ 16. اور سلیمان اور داؤد کے قائم مقام ہوئے۔ اور کہنے لگے کہ لوگو! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عنایت فرمائی گئی ہے۔ بےشک یہ (اُس کا) صریح فضل ہے۔ 17. اور سلیمان کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور قسم وار کئے جاتے تھے۔ 18. یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ چیونٹیوں اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔ 19. تو وہ اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے پروردگار! مجھے توفیق عطا فرما کہ جو احسان تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔ 20. انہوں نے جانوروں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے کیا سبب ہے کہ ہُدہُد نظر نہیں آتا۔ کیا کہیں غائب ہوگیا ہے؟ 21. میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کر ڈالوں گا یا میرے سامنے (اپنی بےقصوری کی) دلیل صریح پیش کرے۔ 22. ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ہُدہُد آ موجود ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس کی آپ کو خبر نہیں اور میں آپ کے پاس (شہر) سبا سے ایک سچی خبر لے کر آیا ہوں۔ 23. میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے اور ہر چیز اسے میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے۔ 24. میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال انہیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آئے۔ 25. (اور نہیں سمجھتے) کہ خدا کو جوآسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کردیتا اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے کیوں سجدہ نہ کریں۔ 26. خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ 27. سلیمان نے کہا (اچھا) ہم دیکھیں گے، تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے۔ 28. یہ میرا خط لے جا اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ 29. ملکہ نے کہا کہ دربار والو! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے۔ 30. وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ 31. (بعد اس کے یہ) کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع ومنقاد ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔ |
تفسیر آیات
16۔ وراثت سے مراد یہاں مال و جائداد کی وراثت نہیں بلکہ نبوت اور خلافت میں حضرت داؤد کی جانشینی ہے، مال و جائداد کی میراث اگر بالفرض منتقل ہوئی بھی ہو تو وہ تنہا حضرت سلیمان ہی کی طرف منتقل نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ حضرت داؤد کی دوسری اولاد بھی موجود تھی، اس لیے اس آیت کو اس حدیث کی تردید میں پیش نہیں کیا جاسکتا جو نبی ﷺ سے مروی ہے کہ لا نورث ما ترکنا صدقۃ، " ہم انبیاء کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی۔ (تفہیم القرآن)
17۔ حضرت سلیمانؑ کے لشکر کا ذکر ہورہاہے کہ وہ تین حصوں پر مشتمل تھا۔ جن، انسان اور پرندے۔(ضیاء القرآن)
18۔آدمیوں کی طرح چیونٹیوں کے خاندان اور قبائل ہیں ان میں ایک دوسرے سے تعاون کا جذبہ، تقسیمِ کار اور نظام حکومت کے ادارے انسانوں سے ملتے جلتے ہیں۔ خطرہ کی آہٹ پاکر ایک چیونٹی باہر نکلتی ہے اور واپس جاکر اپنی قوم کو آگاہ کرتی ہے۔(تفسیر عثمانی)
ــــ نیز جب وہ گندم وغیرہ کے دانے اپنے گوداموں میں ذخیرہ کرتی ہے تو ان کو کاٹ کر دوٹکڑے کردیتی ہے تاکہ وہ اُگ نہ پڑیں ۔جبکہ مسور اور دھنیا وغیرہ کے چار چار ٹکڑے کردیتی ہے کیونکہ انکے نصف حصے بھی اُگ جاتے ہیں۔(ضیاء القرآن)
ــــ ان کا عسکری نظام اور فوجی ڈسپلن ۔ پوری فوج ایک قائد کی قیادت میں ۔دل کے دونوں جانب رضاکاراور سکاؤٹ ۔قابلِ دید ایک قبیلہ مستقل طورپر ایک مقام سے دوسرے مقام،اپنے غذائی ذخائر اور اولاد کے ساتھ ۔ہماری طرح امتیں۔کھیت،فصلیں،ذخیرے ،سائنسدان۔ان کی باقاعدہ فوج۔دشمنی پر حملہ آور ۔۔۔۔۔۔
ـــ تربیت اور ٹریننگ کا باقاعدہ انتظام:۔ چیونٹیوں کے متعلق سائنس نے جو حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں اس سے قطع نظر ایک عام آدمی بھی اگر ان کے کسی بڑے دل کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے دیکھے تو ان کے عسکری نظام اور فوجی ڈسپلن کو دیکھ کر حیران رہ جاتاہے۔صاف نظرآتاہے کہ پوری فوج ایک قائد کی قیادت میں مارچ کررہی ہے۔دل کے دونوں جانب تھوڑے تھوڑے فاصلے سے ان کے رضاکاروں اور اسکاؤٹس کی لائن ہوتی ہے جو اپنے معین حدود کے اندر برابر تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں اور صاف نظر آتاہے کہ وہ نگرانی کی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔جونہی ان کو کسی خطرے کا احساس ہوتاہے وہ اپنے حدود کے اندر اس سے دل کو آگاہ کرتے ہیں اور دل اپنے آپ کو اس سے بچانےکی تدبیر اختیار کرتاہے۔وہ منظر ان کا خاص طورپر دیدنی ہوتاہے جب ان کا کوئی قبیلہ مستقل طورپر ایک مقام سے دوسرے مقام کیلئے اپنے تمام غذائی ذخائر اور اپنے تمام اولاد احفاد کے ساتھ ہجرت کرتاہے۔میں نے بعض مرتبہ ان کی اس مہاجرت کا غور سے مشاہدہ کیا ہے۔اگر میں ان مشاہدات کو قلم بند کروں تو ایک طویل داستان بن جائے۔چیونیٹوں کے یہ کارنامے تو ہماو شما کو بھی نظر آتے ہیں لیکن سائنس دانوں نے ان کے جن عجائب کا انکشاف کیا ہےان کے بعد تو اس امر میں کسی شبہے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہ گئی ہے کہ وہ بھی،جیساکہ قرآن میں فرمایا گیا ہے،ہماری طرح امتیں ہیں۔ان کی بعض قسمیں ہماری ہی طرح بعض جانوروں کوپالتی ہیں اور ان کو اپنے اغراض و ضروریات کیلئے استعمال کرتی ہیں۔یہ اپنے لئے کھیت بناتی اور ان میں بیج بوتی ہیں اور جب فصل تیار ہوتی ہے تو دِرَد کے بعد اس کو تہہ خانوں میں محفوظ کردیتی ہیں۔ان کی باقاعدہ فوج بھی ہوتی ہے جو مخصوص افسروں کی کمان میں دشمن پر حملہ آور ہوتی ہے ۔ان کے ہاں تربیت اور ٹریننگ کا باقاعدہ نظام ہے۔غرض وہ ساری خصوصیات ان کے اندر بھی پائی جاتی ہیں جو انسانوں کے اندر پائی جاتی ہیں بس صرف شکل و صورت اور درجہ و مرتبہ کا فرق ہے۔(تدبر قرآن)
ــــ چیونٹیوں کا میدان اس لیے کہا گیا کہ وہاں جھنڈ کی جھنڈچیونٹیاں جمع تھیں۔ایک مرتبہ حضرت سلیمانؑ کا لشکر خشکی میں کسی خطۂ زمین سے گزر رہاتھا،کہ راہ میں ایسا قطعہ پڑا،جہاں چیونٹیاں بکثرت آباد تھیں اور وہیں یہ ماجرا پیش آیا۔۔۔۔حضرتؑ کے ملک فلسطین میں چیونٹیاں ہوتی بھی کثرت سے تھیں۔۔۔۔(کہ وہ تمہیں کچلے جارہے ہیں)چیونٹی نہایت ذہین جانور ہوتی ہے۔جیساکہ ماہرین فن کا بیان ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، تفسیر انگریزی۔28 اپریل 1973ء کو ایک برطانوی ماہر فن کا بیان نئی دہلی کے روزناموں میں شائع ہواکہ جانوروں میں سب سے زیادہ طاقتور جانورچیونٹی ہے، جو اپنے وزن سے 10 گناسے زیادہ بوجھ اٹھا کر چل سکتی ہے۔ حیوانات سے عقل کی بالکلیہ نفی کرنا قول بلا دلیل ہے، اور چیونٹی کے متعلق تو یہ خیال خلاف دلیل بھی ہے۔چیونٹی کے باب میں تو ماہرین فن کا بیان ہے کہ "تنظیم اور تقسیم کار کے لحاظ سے ہو یا ذہانت اور ذکاوت کی بناپر،چیونٹی کی زندگی ہر طرح مربوط و مکمل ہوتی ہے"۔انہی ماہرین کا بیان ہے کہ چیونٹیاں ایک خاص قسم کے مکوڑے جن کے شکم کے اندر شہد بھرا رہتاہے،اپنے ہاں بطور گائے بھینس کے پالتی ہیں، انہیں اپنے نفع کے لیے استعمال کرتی ہیں۔فوجیں رکھتی ہیں، ان سے اپنے دشمنوں پر حملہ کرتی ہیں، کاشتکاری کرتی ہیں، اور تہ خانوں میں غلہ کا ذخیرہ جمع کرتی ہیں، چیونٹیوں کی قسمیں دنیا میں اب تک 35 ہزار دریافت ہوچکی ہیں، سرد ملکوں کی چیونٹیاں بے ضرر ہوتی ہیں۔بعض گرم ملکوں کی چیونٹیاں خطرناک بھی ہوسکتی ہیں۔(تفسیر ماجدی)
19۔"وزع"تھامنے اور سنبھالنے کے مفہوم میں ہے۔حضرت سلیمانؑ نے دعا فرمائی کہ حشرات و ہوام کی بولی سمجھ کر میں غرور و طغیان میں مبتلا ہوکر تیری راہ سے نہ بھٹک جاؤں بلکہ تو میری باگ اپنے ہاتھ میں رکھ۔یہی وہ اصل حقیقت ہے جس کے اظہار کیلئے اوپر والا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے جن کی نظر اس دنیا پر ہوتی ہے وہ ہر کامیابی پر اتراتے اور اکڑتے ہیں۔(تدبرقرآن)
24۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ ہد ہد نے یہ بات اپنی غیر حاضری کے عذر کے طور پر پیش کی ہے اس وجہ سے اس نے اپنی رپورٹ کا قابل وثوق ہونا بھی واضح کیا اور تازہ معلومات پر مشتمل ہونا بھی۔ اس طرح کا اضافہ ہر ملک کا سفیر اور مخبر اپنے ملک کے حکمران کی معلومات میں کرتا ہے اور کرسکتا ہے اس وجہ سے اس میں حضرت سلیمان کے علم اور ان کی معلومات کی تحقیر کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ (تدبرقرآن)
۔۔۔۔انداز کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سے آخر پیرا گراف تک کی عبارت ہدہد کے کلام کا جز نہیں ہے بلکہ' سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے' پر اس کی بات ختم ہوگئی اور اس کے بعد اب یہ ارشاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر بطور اضافہ ہے۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
26۔آیات 25 اور 26 ہدہد کے قول پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے اضافہ ہے تاکہ مشرکین کی نادانی واضح ہوجائے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ (جس کے آگے تخت ملکۂ سبا کی حقیقت ہی کیا ہے)امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ ملکۂ سبا کے تخت کو جو عظیم کہا گیا تھا،وہ باعتبار معاصر ملوک و سلاطین کے تھا اور یہاں جو عرش الٰہی کو "عظیم کہا جارہاہے،یہ جملہ مخلوقات کے مقابلے میں ہے"۔(کبیر،ج24/164)(تفسیر ماجدی)
31۔ کفر و شرک کا اقتدار خدا کی زمین میں سب سے بڑا فساد ہے جس کو مغلوب کرنا اہل حق کے فرائض میں سے ہے۔ اس اصول کے تحت حضرت سلیمانؑ نے اہل سبا سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی ماتحتی میں داخل ہوجائیں ۔آیت میں مسلمین کا لفظ اطاعت اور فرمانبرداری کے مفہوم میں ہے،اسلام لانے کے مفہوم میں نہیں ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ یعنی خط کی اہمیت کئی وجوہ سے ہے، ایک یہ کہ وہ عجیب غیر معمولی طریقے سے آیا ہے، بجائے اس کے کہ کوئی سفارت اسے لاکر دیتی، ایک پرندے نے اسے لاکر مجھ پر ٹپکا دیا ہے، دوسرے یہ کہ وہ فلسطین و شام کے عظیم فرمانروا سلیمان کی جانب سے ہے، تیسرے یہ کہ اسے اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے، حالانکہ دنیا میں کہیں کسی سلطنت کے مراسلوں میں یہ طریقہ استعمال نہیں کیا جاتا، پھر سب دیوتاؤں کو چھوڑ کر صرف خدائے بزرگ و برتر کے نام پر خط لکھنا بھی ہماری دنیا میں ایک غیر معمولی بات ہے، ان سب باتوں کے ساتھ یہ امر اس کی اہمیت کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے کہ اس میں بالکل صاف صاف ہم کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ ہم سرکشی چھوڑ کر اطاعت اختیار کرلیں اور تابع فرمان بن کر یا مسلمان ہو کر سلیمان کے آگے حاضر ہوجائیں۔ (تفہیم القرآن)
تیسرا رکوع |
| قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ ﴿32﴾ قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ ﴿33﴾ قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ ﴿34﴾ وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ ﴿35﴾ فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنِ َۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ ﴿36﴾ اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ ﴿37﴾ قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ﴿38﴾ قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ ﴿39﴾ قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ ﴿40﴾ قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ ﴿41﴾ فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ ﴿42﴾ وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ ﴿43﴾ قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿44ع النمل 27﴾ |
| 32. (خط سنا کر) وہ کہنے لگی کہ اے اہل دربار میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، جب تک تم حاضر نہ ہو (اور صلاح نہ دو) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں۔ 33. وہ بولے کہ ہم بڑے زورآور اور سخت جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار میں ہے تو جو حکم دیجیئے گا (اس کے مآل پر) نظر کرلیجیئے گا۔ 34. اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کر دیتے ہیں اور وہاں کے عزت والوں کو ذلیل کر دیا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ بھی کریں گے۔ 35. اور میں ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں۔ 36. جب (قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو، جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ تم ہی اپنے تحفے سے خوش ہوتے ہوگے۔ 37. ان کے پاس واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی ان میں طاقت نہ ہوگی اور ان کو وہاں سے بےعزت کرکے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے۔ 38. سلیمان نے کہا کہ اے دربار والو! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے۔ 39. جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں۔ 40. ایک شخص جس کو کتاب الہیٰ کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کئے دیتا ہوں۔ جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے۔ 41. سلیمان نے کہا کہ ملکہ کے (امتحان عقل کے) لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔ دیکھیں کہ وہ سوجھ رکھتی ہے یا ان لوگوں میں ہے جو سوجھ نہیں رکھتے۔ 42. جب وہ آ پہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت شان) کا علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں۔ 43. اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی تھی، سلیمان نے اس کو اس سے منع کیا (اس سے پہلے تو) وہ کافروں میں سے تھی۔ 44. (پھر) اس سے کہا گیا کہ محل میں چلیے، جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا اور (کپڑا اٹھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا یہ ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ بول اٹھی کہ پروردگار میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور (اب) میں سلیمان کے ہاتھ پر خدائے رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔ |
تفسیر آیات
۔اُولُوْا قُوَّةٍ سے انہوں نے اپنی عددی قوت اور وسائل جنگ کی طرف اشارہ کیا اور اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ سے اپنی جنگی مہارت و بصیرت ْاور جرأت و بسالت کی طرف۔ جنگ کے لئے یہی دو چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ درباریوں کا رجحان جنگ کی طرف تھا اور انہوں نے اپنا یہ رجحان ملکہ کے سامنے ظاہر کردیا۔ (تدبرِ قرآن)
34۔ اس ایک فقرے میں امپیریلزم اور اس کے اثرات و نتائج پر مکمل تبصرہ کردیا گیا ہے۔ بادشاہوں کی ملک گیری اور فاتح قوموں کی دوسری قوموں پر دست درازی کبھی اصلاح اور خیر خواہی کے لیے نہیں ہوتی، اس کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ دوسری قوم کو خدا نے جو رزق دیا ہے اور جو وسائل و ذرائع عطا کیے ہیں ان سے وہ خود متمتع ہوں اور اس قوم کو اتنا بےبس کردیں کہ وہ کبھی ان کے مقابلے میں سر اٹھا کر اپنا حصہ نہ مانگ سکے، اس غرض کے لیے وہ اس کی خوشحالی اور طاقت اور عزت کے تمام ذرائع ختم کردیتے ہیں، اس کے جن لوگوں میں بھی اپنی خودی کا دم داعیہ ہوتا ہے انہیں کچل کر رکھ دیتے ہیں، اس کے افراد میں غلامی، خوشامد، ایک دوسرے کی کاٹ، ایک دوسرے کی جاسوسی، فاتح کی نقالی، اپنی تہذیب کی تحقیر، فاتح تہذیب کی تعظیم اور ایسے ہی دوسرے کمینہ اوصاف پیدا کردیتے ہیں، اور انہیں بتدریج اس بات کا خوگر بنا دیتے ہیں کہ وہ اپنی کسی مقدس سے مقدس چیز کو بھی بیچ دینے میں تامل نہ کریں اور اجرت پر ہر ذلیل سے ذلیل خدمت انجام دینے کے لیے تیار ہوجائیں۔ (تفہیم القرآن)
38۔اوپر کے جواب کے بعد معلوم ہوتاہے کہ ملکہ نے خود حاضری دینے کا پیغام بھیجا جس پر حضرت سلیمانؑ نے ان کے سامنے کوئی ایسی بات ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا جس سے ملکہ بالکل مرعوب ہوجائے۔چونکہ انہیں ملکہ کے تخت کی شان و شوکت کی خبر مل چکی تھی اس لیے ملکہ کے پہنچنے سے پہلے پہلے اس تخت کے لانے کا حکم دیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
40۔ کتاب کے علم سے مراد تورات کا علم ہے لیکن معلوم ہوتاہے کہ ان عالم کے پاس کلمات و اسمائے الٰہی کے خواص کا وہ علم بھی تھا جو بنی اسرائیل کو دوفرشتوں ۔ہاروت اور ماروت ۔کے ذریعے سے عطاہواتھا اور سحر وشعبدہ وغیرہ جیسے علوم سفلیہ کے مقابلہ کی ضرورت اس کی داعی ہوئی تھی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
ــــ تخت لانے والا کون تھا؟ وہ شخص کون تھا؟ جن یا انسان؟ وہ کتاب کون سی تھی؟ ام الکتاب یعنی لوحِ محفوظ تھی یا قرآن تھا یا کوئی اور کتاب تھی؟ وہ علم تقدیر الٰہی کا علم تھا یا کسی اور قسم کا علم تھا ؟یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب قرآن و حدیث میں نہیں ملتا۔اور غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ باتیں سمجھنا انسان کی محدود عقل سے ماوراء ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وہ شخص آپ کا وزیر آصف بن برخیا تھا۔کتاب سے مراد کتب سماوی ہے۔اور وہ اسمِ اعظم کا عامل یا اللہ کے اسماء اور کلام کی تاثیر سے واقف تھا لیکن یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔البتہ نتیجہ قرآن نے واضح طورپر بتادیا کہ وہ شخص اپنے دعویٰ میں بالکل سچا تھا۔اور فی الواقع اس نے چشم زدن میں ملکہ بلقیس کا تخت سیدنا سلیمانؑ کے پاس لاحاضر کیا تھا۔۔۔۔حدیث قدسی میں رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کہ" اےمیرے بندو! اگر اول سے آخر تک تم سب انسان اور جن اپنے سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہوجاؤ تو اس سے میری بادشاہی میں کچھ اضافہ نہ ہوجائے گا اور اے میرے بندو!اگر اول سے آخر تک تم سب انسان اور جن اپنے سے زیادہ بدکار شخص کے دل کی طرح ہوجاؤ تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔اور اے میرے بندو!یہ تمہارے اپنے اعمال ہی ہیں جن کا میں تمہارے حساب میں شمار کرتاہوں ۔پھر تمہیں ان کی اعمال کی پوری جزا دیتا ہوں۔ لہذا جسے کوئی بھلائی نصیب ہوا سے چاہئے کہ اللہ کا شکر اداکرےاور جسے کچھ اور نصیب ہو تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے"۔(مسلم۔کتاب البر والصلۃ۔باب تحریم الظلم)(تیسیر القرآن)
ــــ قَالَ۔۔۔۔الْكِتٰبِ ۔یہ کہنے والا کون تھا؟ اس باب میں اقوال مختلف ہیں:ایک رائے یہ ہے کہ کہنے والے جبرائیل یا کوئی اور فرشتے تھے۔دوسرا قول یہ ہے کہ وہ وزیر سلطنت حضرت آصف تھے، اور یہ قول ابن عباسؓ کی جانب منسوب ہے اور جمہور نے بھی یہی اختیار کیا ہے۔۔۔۔تیسرا قول ہے کہ وہ خود حضرت سلیمان ہی تھے۔(کبیر، ج 24/ 169)۔۔۔امام رازیؒ نے قرائن قوی قائم کرکے ترجیح اسی آخری قول کو دی ہے ،لیکن مفسر ابن حیان نے اس قول کی تضعیف کی ہے۔۔۔۔الکتٰب۔ سے مراد توریت بھی ہوسکتی ہے اور کوئی دوسری کتاب بھی جس میں اسمائے الٰہی کی تاثیرات درج ہوں۔۔۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنس کتب الٰہی مراد ہے ، یا خود لوح محفوظ ۔(تفسیر ماجدی)
44۔ روایات یہود میں ہے کہ اس کے بعد ملکۂ بلقیس حضرت سلیمانؑ کے عقد میں آگئیں، اور روایات اسلامی بھی اس باب میں کچھ ایسی ہی ہیں۔ اگرچہ قرآن مجید و حدیث صحیح اس باب میں خاموش ہیں۔(تفسیر ماجدی)
ــــ معلوم ہوتاہے کہ ملکہ حضرت سلیمانؑ کی حکمت و دانش اور شان و شکوہ سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ انہوں نے مذہب اور سیاست دونوں میں ان کی اطاعت کرلی اور اس کے بعد اپنی مملکت کو واپس چلی گئیں۔ حضرت سلیمانؑ کے ساتھ ان کے نکاح کی روایت بالکل ضعیف ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ حضرت سلیمان نے صرف ایوان و محل ہی نہیں تعمیر کئے تھے بلکہ ان ایوانوں کے پہلو بہ پہلو عظیم لنگر خانے بھی قائم کئے تھے۔ (تدبرِ قرآن)
چوتھا رکوع |
| وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ ﴿45﴾ قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ﴿46﴾ قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ ﴿47﴾ وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ ﴿48﴾ قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ﴿49﴾ وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ﴿50﴾ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ ﴿51﴾ فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ﴿52﴾ وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ ﴿53﴾ وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ﴿54﴾ اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ ﴿55﴾ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ ﴿56﴾ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ﴿57﴾ وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ ﴿58﴾ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ ۧ ۧ ﴿59ع النمل 27﴾ |
| 45. اور ہم نے ثمود کی طرف اس کے بھائی صالح کو بھیجا کہ خدا کی عبادت کرو تو وہ دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے۔ 46. صالح نے کہا کہ بھائیو تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو (اور) خدا سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ 47. وہ کہنے لگے کہ تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لئے شگون بد ہیں۔ صالح نے کہا کہ تمہاری بدشگونی خدا کی طرف سے ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جاتی ہے۔ 48. اور شہر میں نو شخص تھے جو ملک میں فساد کیا کرتے تھے اور اصلاح سے کام نہیں لیتے تھے۔ 49. کہنے لگے کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر اس کے وارثوں سے کہہ دیں گے کہ ہم تو صالح کے گھر والوں کے موقع ہلاکت پر گئے ہی نہیں اور ہم سچ کہتے ہیں۔ 50. اور وہ ایک چال چلے اور ان کو کچھ خبر نہ ہوئی۔ 51. تو دیکھ لو ان کی چال کا کیسا انجام ہوا۔ ہم نے ان کو اور ان کی قوم سب کو ہلاک کر ڈالا۔ 52. اب یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں۔ جو لوگ دانش رکھتے ہیں، ان کے لئے اس میں نشانی ہے۔ 53. اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی۔ 54. اور لوط کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو۔ 55. کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر (لذت حاصل کرنے) کے لئے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔ 56. تو ان کی قوم کے لوگ (بولے تو) یہ بولے اور اس کے سوا ان کا کچھ جواب نہ تھا کہ لوط کے گھر والوں کو اپنے شہر سے نکال دو۔ یہ لوگ پاک رہنا چاہتے ہیں۔ 57. تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔ مگر ان کی بیوی کہ اس کی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا ہے (کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی)۔ 58. اور ہم نے ان پر مینھہ برسایا سو (جو) مینھہ ان لوگوں پر برسا جن کو متنبہ کردیا گیا تھا، برا تھا۔ 59. کہہ دو کہ سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے اور اس کے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا۔ بھلا خدا بہتر ہے یا وہ جن کو یہ (اس کا شریک) ٹھہراتے ہیں۔ |
تفسیر آیات
49۔ یہ بعینہ اسی نوعیت کی سازش تھی جیسی مکہ کے قبائلی سردار نبی ﷺ کے خلاف سوچتے رہتے تھے اور بالآخر یہی سازش انہوں نے ہجرت کے موقع پر حضور کو قتل کرنے کے لیے کی، یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ ملکر آپ پر حملہ کریں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھہرا سکیں اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ (تفہیم القرآن)
56۔ جب کوئی برائی وبائے عام کی شکل اختیار کرے تو اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو اس طرح کے زہر آلود طعنوں سے بڑی آسانی کے ساتھ نکوبنایا جاسکتا ہے۔ اگر اس میں کسی کو شک ہو تو وہ آج بیگمات کی کسی مجلس میں بےپردگی کے خلاف دو جملے کہہ کر اس کی تصدیق کرسکتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
58۔اس سورہ میں تین انبیاء سیدنا سلمان،سیدنا صالح اور سیدنا لوطؑ کے حالات کا ذکر ہواہے۔اور ان کے حالات میں اور رسول اللہؐ کے حالات میں کوئی نہ کوئی مشابہت کا پہلو ضرور پایا جاتاہے۔مثلاًسیدنا سلیمانؑ نے ملکہ سبا کو یہ چیلنج کیا تھا کہ اگر تم مطیع فرمان بن کر حاضر ہوجاؤتو بہتر ورنہ ہم ایسے لشکر سے تم پر حملہ کریں گے جس کے مقابلہ کی تم تاب نہ لاسکوگی۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہؐ مشرکین مکہ پر ایساہی لشکر لائے تھے جس کے مقابلہ کی ان میں تاب نہ تھی۔ سیدنا صالحؑ کو ان کی قوم نے بلوہ کی صورت میں شبخون مارکر قتل کرنا چاہاتھا۔لیکن اللہ نے انہیں نجات دی۔قریش مکہ نے بھی آپؐ سے یہی سلوک کرنا چاہاتھا مگر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو ان کی اس سازش سے بال بال بچالیا۔ سیدنا لوطؑ کو ان کی قوم نے شہر سے نکال دینے کی دھمکیاں دیں۔جبکہ قریش مکہ نے رسول اللہؐ کو عملاً شہر مکہ سے نکل جانے پر مجبور کردیا تھا۔(تیسیر القرآن)
59۔ اب یہ آیت اسی خلاصہ کو سامنے پیش کرکے آگے توحید پر جو خطبہ آرہاہے اس کیلئے تمہید استوار کررہی ہے۔ (تدبر قرآن)
ــــ آگے ایک مستقل خطبہ توحید پر آرہاہے۔ یہ ایک آیت اس کے مقدمہ یا تمہید کے طورپر ہے۔ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ۔خیال رہے کہ حمدالٰہی زبان پر لانے کا یہ حکم عین ہلاکت کفار کے موقع پر مل رہاہے،جیساکہ صاحب روح المعانی نے توجہ دلائی ہے۔(روح،ج20/ص:2)اور مرشد تھانوی نے اس سے مزید استنباط یہ کیا ہے کہ معاندین کی ہلاکت پر مسرور ہونا جب کہ اس کا باعث دنیا نہ ہو، اخلاق فاضلہ کے ذرا بھی منافی نہیں۔(تھانوی،ج2/ص:201) (تفسیر ماجدی)
پانچواں رکوع |
| اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ ﴿60﴾ اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ ﴿61﴾ اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ ﴿62﴾ اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ ﴿63﴾ اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿64﴾ قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ﴿65﴾ بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿66ع النمل 27﴾ |
| 60. بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا، (ہم نے)۔ پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اُگائے۔ تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم اُن کے درختوں کو اگاتے۔ تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ یہ لوگ رستے سے الگ ہو رہے ہیں۔ 61. بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے بیچ نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی (یہ سب کچھ خدا نے بنایا) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے۔ 62. بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو۔ 63. بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں رستہ بناتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بناکر بھیجتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) ۔ یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اس سے بلند ہے۔ 64. بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا۔ پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں) ۔کہہ دو کہ (مشرکو) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو۔ 65. کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے۔ اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کرکے) اٹھائے جائیں گے۔ 66. بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں۔ بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں۔ |
تفسیر آیات
ر۔5 میں پانچ دفعہ ءالٰہ مع اللہ کی تکرار اور اس کے بعد آنے والے الفاظ۔
60۔ ۔۔۔اوپر اسلوب خطاب کا تھا لیکن یہ اسلوب غائب کا آگیا۔ یہ نفرت و کراہت اور اظہار حسرت پر دلیل ہے۔ گویا بات ان سے منہ پھیر کر فرمائی گئی ہے۔ (تدبر قرآن)
61۔زمین کے جائے قرار ہونے کی چھ توجیہات:۔ اس ایک جملہ کے اندر اللہ تعالیٰ کی کئی قدرتیں سمٹ کر آگئی ہیں۔ یہ بات تو ہزار ہا ہزار سال پہلے انسان کے علم میں آچکی تھی کہ ہمارایہ عظیم الجثہ کرہ زمین گول ہے اور فضائے بسیط میں معلق ہے۔زمین کا اکثرحصہ سمندر ہے۔ اور زمین کے گول ہونے کے باوجود پانی اس سے گرنہیں جاتاتو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کرہ سماوی کی طرح ہماری زمین میں بھی کشش ثقل موجود ہے۔جس کی وجہ سے اشیاء زمین پر از خود گر تو سکتی ہیں مگر خود بخودکسی طاقت کے استعمال کے بغیر اوپر نہیں اٹھ سکتیں ماسوائے گیسوں اور آبی بخارات کے کہ ان کا کرہ ہی زمین سے اوپر ہے ۔اگر کوئی گیس جو عام ہوا سے ہلکی ہوگی زمین سے بھی نکلے گی تو از خود اوپر اٹھ جائے گی۔ یہ عجائبات ہی کیا کم تھے اب مزید علم ہئیت کی تحقیقات نے ان عجائبات میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔مثلاً ایک یہ کہ ہماری زمین سورج کے سامنے رہتے ہوئے اپنے محور کے گرد تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔اور اس کا چکر ایک دن رات یا 24 گھنٹوں میں پورا ہوتاہے۔اور دوسرے یہ کہ ہماری زمین سورج سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور ہے اور اس کے گرد بھی ایک سال میں ایک گردش پوری کرتی ہے گویا سورج کے گرد اس کی گردش کی رفتار چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ ہے۔ان دونوں قسم کی گردشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس قدر جکڑ رکھا ہے کہ ہم محسوس تک نہیں کرسکتے اور آرام سے اس پر چلتے پھرتے اور زندگی بسر کرتے ہیں۔زمین کے جائے قرارہونے کا ایک مفہوم یہ ہوا اور صحیح احادیث میں وارد ہے کہ ہماری زمین پہلے ان گردشوں کی وجہ سے ہچکولے کھاتی تھی۔تو اللہ تعالیٰ نے اس کے مختلف اطراف میں پہا ڑ ایسی مناسبت سے رکھ دئیے کہ ہچکولے کھانا بند ہوگئی اور انسان اور دوسری تمام اشیاء کے لیے جائے قرار بن گئی۔اس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ اگر زمین ہمیشہ سورج کے سامنے رہتی تو زمین کے نصف حصہ پر تو ہمیشہ دن ہی چڑھارہتااور باقی نصف پر ہمیشہ رات ہی رہتی ۔اس طرح پوری کی پوری زمین نباتات اور سب جانداروں کے لئے بالکل ناکارہ ثابت ہوتی۔ اس لئے کہ نباتات اور جانداروں کی زندگی اور نشوونما کے لئے جیسے دن کی ضرورت ہے ویسے ہی رات کی بھی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر رات اور دن کا نظام قائم فرماکر اسے تمام مخلوق کے لئے جائے قراربنادیا اور اس کا چوتھا پہلو یہ ہے کہ زمین سے سورج کا فاصلہ کم ہوتاتو تمام مخلوق گرمی کی شدت اور تپش سے مرجھاجاتی اور بلآخر ختم یا تباہ ہوجاتی اور اگر یہ فاصلہ زیادہ ہوتاتو اتنی زیادہ سردی ہوتی کہ تمام ترمخلوق سردی سے ٹھٹھر جاتی اور بلآخر تباہ یا ہلاک ہوجاتی ۔ اس طرح بھی یہ زمین مخلوق کے لئے جائے قرار نہ بن سکتی تھی۔اس کا پانچواں پہلو یہ ہے کہ ہماری زمین سورج کے گرد 66بٹہ ایک اور دو ڈگری درجے کا زاویہ بناتے ہوئے گھوم رہی ہے۔جس سے ایک تو دن اور رات کے اوقات میں بتدریج تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔کبھی دن بڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور راتیں بتدریج چھوٹی ہوتی جاتی ہیں۔اور کبھی اس کے برعکس معاملہ شروع ہوجاتاہے پھر اس بناپر موسموں میں تبدیلی آتی ہے کبھی موسم گرما ہوتاہے ،کبھی سرما، کبھی بہار، کبھی خزاں اور کبھی برسات اور ان موسموں کا مختلف قسم کی اجناس، غلے اور پھل دار درختوں کے پیدا ہونے،ان کی نشوونما اور فصلوں اور پھلوں کے پکنے سے گہرا تعلق ہے۔اگر اللہ تعالیٰ یہ نظام قائم نہ فرماتے تو پھر اس زمین پر بسنے والوں کے لئے خوراک کا مسئلہ نہایت پریشان کن صورت اختیار کرسکتا تھا۔اس صورت میں یہ زمین ہمارے لیے جائے قرار نہیں بن سکتی تھی اور اس کا چھٹا پہلو یہ ہے ہماری زمین سے اوپر پانچ چھ سو میل کی بلندی تک کثیف ہواکا کرہ بنا کر زمین کو آفات سماوی یا فضائی سے محفوظ بنادیا گیاہے۔موجودہ تحقیق کے مطابق تقریباً دو کروڑ شہابِ ثاقب روزانہ 30 میل فی سیکنڈ کی برق رفتاری سے ہماری زمین کا رخ کرتے ہوئے گرتے ہیں۔جب وہ اس کرہ ہوائی میں پہنچتے ہیں تو آگ لگ جاتی ہے اور وہیں ختم ہوجاتے ہیں ۔پھر بعض اوقات کوئی بڑی زیادہ جسامت والا شہاب زمین پر گربھی پڑتاہے اور زمین میں گہرا گڑھا ڈال دیتاہے لیکن ایسا کبھی کبھار ہوتاہے جیسا اللہ کو منظور ہوتاہے۔ عام حالات میں ہم ان سے محفوظ رہتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ زمین کے گرد کرہ ہوائی کا یہ نظام نہ فرماتے تو زمین کبھی محفوظ جائے قرار نہیں بن سکتی تھی۔غرض اس مسئلہ کے اتنے زیادہ پہلو ہیں کہ جتنا بھی ان میں غور کیا جائے مزید پہلو سامنے آتے جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس نظام کائنات میں اللہ کے علاوہ کسی اور معبود کا بھی کچھ دخل ہے خواہ یہ دخل کتنا ہی معمولی ہو؟ اور اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر دوسروں کو اللہ کی عبادت میں کیسے شریک بنایا جاسکتاہے؟۔(تیسیر القرآن)
ــــ الْبَحْرَیْنِ۔مراد یہی دنیا کے نظام آبی کے دوترکیبی حصے: ایک عظیم الشان ذخیرہ سمندری کھاری پانی ،اور دوسرا میٹھے،صحت بخش پانی کا ۔ملاحظہ ہو سورہ الفرقان کی آیت 53 هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ کا حاشیہ۔ حَاجِزًا۔یہ قدرت کی عجیب و غریب صناعی کا نمونہ ہے کہ نہ سمندری پانی کے بخارات سے برساہواپانی کھاری ہوکر برستاہے،اور نہ یہ میٹھا پانی ہوکر سمندر کے کھار کو مٹھاس سے بدل دیتا ہے۔دونوں کے حدودالگ الگ قائم ہیں۔یوں بھی دونوں قسم کے آبی ذخیرے دنیاکی سطح میں آپس میں مل کر ایک نہیں ہوجاتے۔(تفسیر ماجدی)
62۔اس جملہ کےدو مطلب ہیں ایک یہ کہ ایک پشت یا نسل کے بعد ۔دوسری پشت یا نسل پہلی کی جانشین بن جاتی ہے تم اپنے آباؤ اجداد کے جانشین بنے اور تمہاری اولادیں تمہاری جانشین بنیں گی۔اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا آیا ہے اور چلتا جائے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تمہیں زمین میں تصرف و اقتدار بخشتاہے۔اور تمہارے بعد یہ اقتدار کسی دوسرے کی طرف منتقل ہوجائے گا اور یہ سلسلہ ایسے ہی چل رہاہے اور چلتارہے گا۔(تیسیر القرآن)
ــــ یعنی دنیا میں یہ جو دیکھتے ہو کہ ایک قوم مٹتی اور دوسری قوم اس کی جگہ لیتی ہے تو نہ یہ اتفاقی واقعات ہیں اور نہ ان میں ردوبدل کرنے پر اللہ کے سوا کوئی دوسرا قادر ہے ۔یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی حکمت کے تحت ہوتاہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
64۔ اس وقت تک روئے زمین پر نباتات کی تقریباً دو لاکھ انواع اور جاندار اشیاء کی تقریباً دس لاکھ انواع انسان کے علم میں آچکی ہیں۔۔۔۔آغاز ِ خلق اور اعادہ خلق کا سلسلہ ہر آن جاری ہے:۔ اور اعادہ خلق سے صرف یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام انسانوں کو ان کی قبروں سے زندہ کرکے اٹھا کھڑا کرے گا۔بلکہ اعادہ خلق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر آن مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کررہاہے اور یہ نظام نباتات اور حیوانات کی تمام تر اقسام میں جاری و ساری ہے۔مثلاً ایک ننھے سے بیج کو لیجئے اس میں درخت کی وہ تمام ترخصوصیات سمودی گئی ہیں جس کا وہ بیج ہے۔ جب اس بیج کو نشوونما کا موقع ملے گا تو اس میں وہ تمام خصوصیات مثلاً اس کا رنگ، اس کا مزہ، اس کی بو، اس کا قد و قامت، اس کا پھل اسی درخت جیسا ہو گا جس کا وہ بیج تھا۔اسی طرح کسی جاندار یا انسان کے نطفہ میں اس انسان کی شکل و صورت ہی منتقل نہیں ہوتی بلکہ اس کی عادات و خصائل تک منتقل ہوجاتی ہیں۔ رہاانسان کا جسم اور اس کے اندر پیچیدہ مشینری، اس کا عصبی ، عضلاتی ،لحمی اور ہڈیوں کی پیدائش کا نظام یہ سب چیزیں اس انسان کے نطفہ میں ایک خورد بینی جرثومہ کی شکل میں منتقل ہوجاتی ہیں۔اور جب اسے نشوونما کا موقع میسر آتاہےتو یہ سب چیزیں عملی طورپر وجود میں آجاتی ہیں کبھی ایسا نہیں ہوتاکہ ایک جاندار کے جرثومہ میں کسی دوسرے جرثومہ کے خواص منتقل ہوجائیں۔یا مثلاً کسی عورت کے رحم میں اونٹ کا جرثومہ چلا جائے تو اس کے ہاں اونٹ کا بچہ پیدا ہوجائے۔ اللہ کا اعادہ خلق کا نظام آغازِ خلق سے بھی زیادہ پیچیدہ اور حیران کن ہے۔ اب غور فرمائیے کہ اس آغازِ خلق اور اعادہ خلق کے نظام میں اللہ کے علاوہ کسی فرشتے،کسی نبی ،کسی جن، کسی پیر و فقیر، یا کسی سیارے یا بت کا عمل دخل ہے؟ اگر نہیں تو پھر وہ عبادت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں۔(تیسیر القرآن)
65۔ علم غیب:۔ اس لیے حضورؐ پرنور امام الاولین والآخرین ؐ و اصحابہٖ وسلم کا علم مبارک خداواند کریم کے علم کی طرح قدیم نہیں بلکہ حادث ہے یعنی پہلے نہیں تھا۔بعد میں اللہ تعالیٰ کے تعلیم کرنے سے حاصل ہوا۔خداوند کریم کے علم کی طرح ذاتی نہیں بلکہ عطائی ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے سکھانے سے حاصل ہوا۔نیز حضور سرورعالمؐ کا علم خداوند کریم کے علم کی طرح غیرمتناہی اور غیر محدود نہیں بلکہ متناہی اور محدود ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے علمِ محیط کے ساتھ حضورؐ فخر موجوداتؐ کے علم کی نسبت اتنی بھی نہیں جتنی پانی کے ایک قطرہ کو دنیا بھر کے سمندروں سے ہے۔ہاں اتنافرق ضرورہے کہ حضوررحمت عالمؐ کا یہ حادث، عطائی اور محدود علم اتنا محدود نہیں جتنابعض حضرات نے سمجھ رکھا ہے ۔اس کی وسعتوں کو یادینے والا جانتاہے یا لینے والا۔(ضیاء القرآن)
ــــ غیب اور شہادت کے مختلف پہلو: ۔۔۔۔۔تیسری قسم ان اشیاء کا علم ہے جن تک انسان کی رسائی نہ پہلے کبھی ہوئی اور نہ آئندہ کبھی ہوسکے گی اور کتاب و سنت کی تصریح کے مطابق یہ پانچ چیزیں ہیں۔(1)کل کیا کچھ ہونے والا ہے اور فلاں شخص کل کیا کچھ کرے گا،(2)موت کب اور کہاں آئے گی۔(3)رحم مادر میں تغیرات کیونکر واقع ہوتے ہیں۔(4)نفع رساں بارش کب ہوگی اور(5)قیامت کب آئے گی۔ (31: 34) ۔ان چیزوں کا علم صرف اللہ کو ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)
66۔ منکرین آخرت کے کئی طبقے ہیں، قرآن نے ان کی نفسیات کی الگ الگ پوری تشریح کردی: ایک طبقہ تو وہ ہے جس کا ظاہری ،سطحی،مادی، حسی علم، آخرت کے باب میں جواب دے جاتاہے،اور وہ طبقہ اپنے عدم علم پر قانع و مطمئن ہوکر بیٹھ جاتاہے، یہ لوگ بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ کے مصداق ہیں۔دوسرا طبقہ ،عدم علم سے قدم آگے بڑھا کر اس عقیدے پر جرح قدح کرتاہے، اور اس باب میں تشکیک وارتیاب میں مبتلا رہتاہے یہ گروہ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا کے تحت میں آیاہے۔تیسرا طبقہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنی آنکھیں دلائل و شواہد کی طرف سے بندکرلیتاہے،اور قیامت کے بروئے کار آنے کی طرف سے قطعی مایوس ہوجاتاہے۔ایسو ں کے لیے کھلی ہوئی وعید بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ کی ہے۔منکرِ آخرت"دانایانِ فرنگ"بھی تین طبقوں میں تقسیم ہیں: ایک وہ جو اس باب میں بمنزل توقف و سکوت میں ہیں۔ دوسرے وہ جو درجۂ تشکیک و ارتیاب میں ہیں۔ تیسرے کھلا ہوا انکار کرنے والے۔(دلائل و شواہد اثبات کی طرف سے آنکھیں بندکرلینے والے)۔(تفسیر ماجدی)
چھٹا رکوع |
| وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ ﴿67﴾ لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ﴿68﴾ قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ ﴿69﴾ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ ﴿70﴾ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿71﴾ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ﴿72﴾ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ ﴿73﴾ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ ﴿74﴾ وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ﴿75﴾ اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ ﴿76﴾ وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ﴿77﴾ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ ﴿78﴾ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ ﴿79﴾ اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ﴿80﴾ وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ ﴿81﴾ وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿82ع النمل 27﴾ |
| 67. اور جو لوگ کافر ہیں کہتے ہیں جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر (قبروں سے) نکالے جائیں گے۔ 68. یہ وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے (کہاں کا اُٹھنا اور کیسی قیامت) یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ 69. کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ گنہگاروں کا انجام کیا ہوا ہے۔ 70. اور ان (کے حال) پر غم نہ کرنا اور نہ اُن چالوں سے جو یہ کر رہے ہیں تنگ دل ہونا۔ 71. اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ 72. کہہ دو کہ جس (عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو شاید اس میں سے کچھ تمہارے نزدیک آپہنچا ہو۔ 73. اور تمہارا پروردگار تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔ 74. اور جو باتیں ان کے سینوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اور جو کام وہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار ان (سب) کو جانتا ہے۔ 75. اور آسمانوں اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر (وہ) کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔ 76. بےشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں، بیان کر دیتا ہے۔ 77. اور بےشک یہ مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ 78. تمہارا پروردگار (قیامت کے روز) اُن میں اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ غالب (اور) علم والا ہے۔ 79. تو خدا پر بھروسہ رکھو ۔تم تو حق صریح پر ہو۔ 80. کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں، آواز سنا سکتے ہو۔ 81. اور نہ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) رستہ دکھا سکتے ہو۔ تم ان ہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ فرمانبردار ہو جاتے ہیں۔ 82. اور جب اُن کے بارے میں (عذاب) کا وعدہ پورا ہوگا تو ہم اُن کے لئے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بیان کر دے گا۔ اس لئے کہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ |
تفسیر آیات
76۔بنی اسرائیل کے باہمی اختلافات کے متعلق قرآن کی نشاندہی:۔ یہ اختلاف صرف عقائد میں ہی نہیں تھے بلکہ احکام اور قصص میں بھی تھے۔عقائد کے اختلاف یہ تھے کہ مثلاً یہود ہی کا ایک فرقہ آخرت کا منکر بن گیا تھا۔پھر ان میں کچھ فرقوں کا آخرت کے متعلق تصور ہی غلط تھا جس کا قرآن نے کئی مواقع پر ذکر فرمایا ہے۔عیسائیوں میں عیسیٰؑ کے بارے میں اختلاف تھے کچھ انہیں اللہ کا بیٹا قرار دیتے کچھ انہیں اللہ ہی سمجھتے تھے ۔کچھ بیٹے کو باپ کی طرح قدیم سمجھتے تھے اور کچھ اسے مخلوق اور حادث قرار دیتے تھے۔کچھ یہ کہتے تھے کہ اللہ نے اپنے سارے اختیارات اپنے بیٹے کو سونپ دئیے ہیں۔ کچھ کہتے تھےکہ وہ تین میں کا تیسرا ہیں۔ اور احکام میں اختلاف ان کی تحریفات لفظی اور معنوی کی بناپر تھا۔بہت سی آیتوں کو وہ چھپاجاتے تھے اور بہت سی آیات کی تحریف کرلیتے تھے اور ان کی ایسی حرکات بھی قرآن میں متعدد مقامات پر بالوضاحت مذکور ہیں۔ان سب اختلافات کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے۔قرآن نے آکر ان اختلافات کو بیان بھی کیا اور ان میں صحیح راہ بھی متعین فرمادی کہ فلاں مسئلہ میں اصل حقیقت یہ ہے اور فلاں میں حقیقت اتنی ہے۔یہاں اس آیت کے ذکر کرنے سے مطلب یہ ہے کہ اس وقت جو اختلافات کفارِ مکہ اور مسلمانوں کے درمیان ہیں ان میں بھی قرآن صحیح راستے کی نشان دہی کررہاہے۔(تیسیر القرآن)
80۔ اس آیت میں موتیٰ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں ۔یعنی آپ کی نصیحت اور ہدایت نہ تو ان لوگوں کو کچھ فائدہ دے سکتی ہے جن کے دل مرچکے ہیں اور نہ ان کو جن کے دلوں کے کان بہرے ہوچکے ہیں۔بالخصوص اس صورت میں وہ بہرے الٹے پاؤں بھاگے جارہے ہوں گے۔ بہرے کا بھی چہرہ اگر بات کرنے والےکی طرف ہو تو وہ متکلم کے اشاروں سے یا بات کرنے کے انداز سے ہی اس کا کچھ نہ کچھ مفہوم سمجھ سکتاہے۔ لیکن اگر اس کا رخ ہی بات کرنے والے سے الٹی طرف ہو،مزید برآں وہ بھاگے جارہاہو تو اس سے کیا توقع ہوسکتی ہے کہ وہ متکلم کی بات کو کچھ نہ کچھ سمجھ سکے گا۔(تیسیر القرآن)
۔ یہ حقیقت یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر طلب ہدایت کا داعیہ ودیعت فرمایا ہے اور سنت الٰہی یہ ہے کہ جو لوگ اس داعیہ کی قدر کرتے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ ہدایت کی مزید راہیں کھولتا ہے اور اگر کوئی اس داعیہ کی قدر نہیں کرتا تو صرف یہی نہیں ہوتا کہ اس کے لئے مزید ہدایت کے دروازے نہیں کھلتے بلکہ اس کا یہ فطری داعیہ بھی مردہ ہوجاتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
82۔ قیامت سے پہلے مکہ کا کوہِ صفا پھٹے گا ۔اس میں سے ایک جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کرے گا اور سچے ایمان والوں اور منکروں کو الگ الگ کردیگا۔یہ بالکل آخر زمانہ میں طلوع شمس من المغرب کے دن ہوگا جب توبہ قبول نہ ہوگی۔دابۃ الارض کے بارے میں بے شمار غلط روایات تفسیروں میں شامل ہوگئی ہیں۔(تفسیر عثمانی)
ــــ یہ بات واضح نہیں کہ یہ ایک ہی جانور ہوگا یا ایک خاص قسم کی جنسِ حیوان البتہ یہ اس وقت ہوگا جب لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑدینگے۔(تفہیم القرآن)
ــــ اس سے مراد قیامت کے قریب ظاہرہونے والی نشانیوں میں سے کوئی بڑی نشانی ہے جس کے ظاہر ہونے کے بعد ایمان اور توبہ کا دروازہ بندہوجائے گا اور کسی شخص کا ایمان لانا یا توبہ کرنا نافع نہیں ہوگا،چنانچہ حدیث میں ہے:رسول اللہؐ نے فرمایا:"قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے اور جب لوگ اِسے (مغرب سے طلوع ہوتا)دیکھیں گے تو اس وقت جوبھی روئے زمین پر موجود ہوگا ایمان لے آئے گا،لیکن اس وقت کسی شخص کا ایمان لانا اگروہ پہلے سے ایمان نہ لایا ہوگا،اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔"(صحیح بخاری،التفسیر ،باب:10 حدیث:4635) ایک دوسری روایت میں رسول اللہؐ نے فرمایا:"جب یہ تین نشانیاں ظاہرہوں گی تو اس وقت کسی شخص کا ایمان لانا، اگروہ پہلے سے ایمان نہیں لایا ہوگا،اسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے گا: (1)سورج کا مغرب سے طلوع ہونا،(2)دجال کی آمد(3)دابۃ الارض"ایک زمینی جانور " کا ظہور ۔"(صحیح مسلم، کتاب الایمان،باب بیان الزمن الذی لایقبل فیہ الایمان ،حدیث:158)علاوہ ازیں رسول اللہؐ نے فرمایا :"کوئی نبی ایسا مبعوث نہیں ہوا کہ جس نے اپنی امت کو جھوٹے کانے (دجال)سے نہ ڈرایاہو۔خبردار!وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کا نانہیں ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہواہوگا۔"(صحیح بخاری،الفتن،باب:26،حدیث:7131)(احسن الکلام)
ــــقیامت کی دس نشانیاں:۔ مسند احمد میں حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا قیامت اسوقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔(1) آفتاب کا جانب مغرب سے طلوع ہونا (2) دخان (3) دابۃ (4) خروج یاجوج ماجوج (5) نزول عیسیٰؑ (6) دجّال (7، 8، 9) تین خسوف ،ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرۃ العرب میں ہو گا (10) ایک آگ جو قعرِ عدن سے نکلے گی اور سب لوگوں کو ہنکا کر میدانِ حشر کی طرف لے آئیگی جس مقام پر لوگ رات گزارنے کیلئے ٹھہرینگے یہ آگ بھی ٹھہرجائے گی پھر ان کو لے چلے گی(ہکذارواہ مسلم و اہل السنن من طرق وقال الترمذی حدیث حسن صحیح)۔(معارف القرآن)
ــــ دابۃ الارض کی حقیقت:۔ 1۔ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:"تین باتیں جب ظاہر ہوجائیں تو اس وقت کسی کو ایمان لانے کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔الا یہ کہ وہ پہلے ایمان لاچکا ہواور نیک اعمال کرتا رہاہو۔ایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دوسرے دجال کا نکلنا اور تیسرے دابۃ الارض کا خروج"(مسلم۔کتاب الایمان۔باب بیان الزمن الذی لایقبل فیہ الایمان)۔2۔ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:دابۃ الارض نکلے گا تو اس کے پاس سلیمان کی مہراور موسیٰ کا عصاہوگا۔ پھر وہ (عصائے موسیٰ سے)مومن کے منہ پر لکیر کھینچ دیگا جس سے وہ چمک اٹھے گا اور کافر کی ناک پر (سلیمان کی انگوٹھی سے)مہر لگا دیگا۔یہاں تک کہ سب لوگ ایک خوان پر جمع ہوں گے تو وہ یہ کہے گا کہ یہ مومن ہے اور یہ کافرہے۔(یعنی مومن اور کافر ممتاز ہوجائیں گے)(ترمذی۔ابواب التفسیر)۔(تیسیر القرآن)
ــــ حدیث میں اس عجیب ترین حیوان کا نام جساسہ آیاہے۔۔۔۔ مِنَ الْاَرْضِ۔ آیت میں من الارض کا لفظ بہت قابل غور ہے۔اس سے ذہن اس طرف منتقل ہوتاہے کہ اس حیوان کی پیدائش عام حیوانات کی طرح بطریق توالد و تناسل نہ ہوگی، بلکہ یہ ازخود پیدا ہوجائے گا۔۔۔دابۃ۔ یہ قول بھی نقل ہواہے کہ دابۃ یہاں بطوراسم جنس کے آیا ہے،گویا یہ ایک جانور نہ ہوگا بلکہ ایسے بہت سے جانور ہوں گے ۔ہر ہر شہر سے ایک ایک جانور۔(تفسیر ماجدی)
ساتواں رکوع |
| وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ ﴿83﴾ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿84﴾ وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ ﴿85﴾ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ﴿86﴾ وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ ﴿87﴾ وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ ﴿88﴾ مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ ﴿89﴾ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿90﴾ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ ﴿91﴾ وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ﴿92﴾ وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿93ع النمل 27﴾ |
| 83. اور جس روز ہم ہر اُمت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے تو اُن کی جماعت بندی کی جائے گی۔ 84. یہاں تک کہ جب (سب) آجائیں گے تو (خدا) فرمائے گا کہ کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلا دیا تھا اور تم نے (اپنے) علم سے ان پر احاطہ تو کیا ہی نہ تھا۔ بھلا تم کیا کرتے تھے۔ 85. اور اُن کے ظلم کے سبب اُن کے حق میں وعدہ (عذاب) پورا ہوکر رہے گا تو وہ بول بھی نہ سکیں گے۔ 86. کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو (اس لئے) بنایا ہے کہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن (بنایا ہے کہ اس میں کام کریں)۔ بےشک اس میں مومن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ 87. اور جس روز صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب گھبرا اُٹھیں گے مگر وہ جسے خدا چاہے۔ اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے۔ 88. اور تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو خیال کرتے ہو کہ (اپنی جگہ پر) کھڑے ہیں مگر وہ (اس روز) اس طرح اُڑے پھریں گے جیسے بادل۔ (یہ) خدا کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ بےشک وہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے۔ 89. جو شخص نیکی لےکر آئے گا تو اس کے لئے اس سے بہتر (بدلہ تیار) ہے اور ایسے لوگ (اُس روز) گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے۔ 90. اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے۔ تم کو تو اُن ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو۔ 91. (کہہ دو) کہ مجھ کو یہی ارشاد ہوا ہے کہ اس شہر (مکہ) کے مالک کی عبادت کروں جس نے اس کو محترم (اور مقام ادب) بنایا ہے اور سب چیز اُسی کی ہے اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس کا حکم بردار رہوں۔ 92. اور یہ بھی کہ قرآن پڑھا کروں۔ تو جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف نصیحت کرنے والا ہوں۔ 93. اور کہو کہ خدا کا شکر ہے۔ وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم اُن کو پہچان لو گے۔ اور جو کام تم کرتے ہو تمہارا پروردگار اُن سے بےخبر نہیں ہے۔ |
تفسیر آیات
83۔ انسان کو جس بات کی سمجھ نہ آئے انکار کردیتاہے:۔ اس آیت میں میدانِ محشر کا ایک منظر پیش کیا گیا ہے ۔مجرموں کی ان کے جرائم کے لحاظ سے الگ الگ جماعتیں بنادی جائیں گی۔جیسے مثلاً مشرکوں کی الگ جماعت ہوگی۔ کافروں کی الگ، منافقوں کی الگ، اور بعض مفسرین نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ مکذبین کو محشر کی طرف لے چلیں گے اور وہ اتنی کثرت سے ہوں گے کہ پیچھے چلنے والوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا جائے گا۔جیساکہ انبوہ کثیر میں انتظام قائم رکھنے کے لئے کیا جاتاہے۔وزع کا بنیادی معنی صرف روک دینا یا روکے رکھنا ہے۔ لہذا اس کے معنی میں دونوں طرح کے مطالب کی گنجائش موجود ہے۔(تیسیر القرآن)
ــــ معلوم ہوتا ہے یہ درجہ بندی ان کے جرائم کی نوعیت اور مقدار کے لحاظ سے ہوگی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
85۔ بِمَا ظَلَمُوْا سے مراد کفر و شرک کی حرکتیں ہیں، یا جامع لفظ میں یوں کہئے کہ تکذیب آیاتِ الٰہی ۔(تفسیر ماجدی)
87۔ معتبر روایات سے یہی معلوم ہوتاہے کہ نفخۂ صور دوبار ہوگا۔ پہلی بار جب سیدنا اسرافیلؑ صور پھونکیں گے تو قیامت برپا ہوجائے گی اور تمام دنیا تباہ و برباد ہوجائے گی۔ یہ نظام کائنات بھی درہم برہم ہوجائے گا اور دوسری بار جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے اپنی اپنی قبروں سے زندہ ہوکر اٹھ کھڑے ہوں گے۔مزید تفصیل سورہ انعام کی آیت نمبر 73 کے تحت ملاحظہ کی جائے۔۔۔۔ یہ ایمان دار لوگ ہوں یا فرشتے مثلاً اسرائیل، میکائیل، جبرائیل وغیرہم۔کیونکہ یہ نفخۂ صور ان کی توقع کے مطابق ہوگا۔اس لئے ان پر وہ دہشت طاری نہیں ہوگی جو منکرین حق پر ہوگی۔یہ غالباً نفخۂ ثانی کی بات ہے۔کیونکہ نفخۂ اول کے وقت ایمان دار لوگ نہایت قلیل بلکہ نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔کیونکہ احادیث صحیحہ میں یہ وضاحت آچکی ہے کہ قیامت بدترین لوگوں پرقائم ہوگی۔ اور نیک لوگ قیام قیامت سے پیشتر اٹھالئے جائیں گے۔(تیسیر القرآن)
۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ صور تین مرتبہ پھونکا جائے گا ۔ پہلا نفخہ، نفخہ فزع ہو گا جس سے سب پریشانی ،گبھراہٹ اور اضطراب میں مبتلا ہو جائیں گے، دوسرا نفخہ صعق ہو گا جس سے سب مر جائیں گے، تیسرا نفخہ، نفخہ حشر و نشر ہو گا جس سے سب مردے زندہ ہو جائیں گے مگر آیاتِ قرآن اور احادیثِ صحیحہ سے ثبوت دو ہی نفخوں کا ملتا ہے (قرطبی و ابنِ کثیر ) ابنِ مبارک نے حضرت حسن بصری سے مرسلاً روائت کیا ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا کہ دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا عرصہ ہو گا۔ (قرطبی) (معارف القرآن)
88۔عرب کے حکماء تک یہ خیال تھا کہ وہ دوسری تمام چیزوں کو توفانی سمجھتے تھے لیکن پہاڑ کو غیر فانی مانتے تھے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
89۔یہ فزع صور کے نفخۂ ثانی کے بعد ہوگا۔فزع اول مراد نہیں ،وہ فزع طبعی ہوگا، اور اس دوسرے فزع کا تعلق ایمان سے ہے۔سورۂ انبیاء کی آیت لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ میں بھی ذکر اسی دوسرے فزع کا ہے۔۔۔۔اہل ایمان کو کتنی بڑی بشارت اس روز شدید میں امن و محفوظیت کی مل گئی۔اللہ اکبر!۔ (تفسیر ماجدی)
92۔ دعائے ابراہیمی میں جس رسول کی بعثت کی دعا تھی اس کی خصوصیت تلاوت ِ آیات بتائی گئی تھی ،میں قرآن تم کو سنارہاہوں۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
93۔ (اور اب انکار کررہے ہو؟)آیتہ سے مراد واقعات و احوال قیامت ہیں، اور بعض نے مستقبل قریب کے واقعات مثلاً فتح بدر وغیرہ مراد لیے ہیں۔ (تفسیرِ ماجدی)