28 - سورة القصص (مکیہ)
| رکوع - 9 | آیات - 88 |
مضمون: حق کا ساتھ دینے والے کمزور اور حق کے مخالفین مضبوط ہوں تب بھی اللہ تعالیٰ حق کو قائم اور اس کے مخالفین کو تباہ کردیتاہے۔لہذا حق کے پیش کرنے میں کسی نرمی سے کام نہ لیا جائے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: قریشی قیادت کو فرعون اور قارون کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کا مشورہ وگرنہ انہی جیسا انجام ہوگا۔ قریش کی اس ذہنیت کی تردید کہ اگر انہوں نے اہلِ عرب کے دین ِ شرک کو چھوڑ کر دینِ توحید کو قبول کرلیا تو ان کی مذہبی ، سیاسی اور معاشی چودھراہٹ ختم ہوجائے گی۔ یہ سردارانِ قریش کی حق دشمنی کی اصل تھی باقی سب بہانے تھے اس لئے اس کا تفصیلی تذکرہ۔
شانِ نزول: سورۂ نمل (27)
نظمِ کلام:سورۂ فرقان (25)
اہم کلیدی الفاظ و مضامین:۔
5۔ سورت القصص میں"جنود"اور "جنودھما"کے الفاظ دودوبار استعمال کیے گئے ہیں۔"جنودھما"کے لفظ سے ظاہر ہوتاہے کہ فوج کی کمان دو(2)کمانڈروں کے ہاتھ میں تھی۔فرعون کی حیثیت غالباً صدر اور آرمی چیف کی سی تھی اور ہامان کی حیثیت وزیرِ اعظم،وزیر دفاع یا ڈپٹی آرمی چیف کی سی تھی۔ (a)اللہ تعالیٰ چاہتاتھا کہ فرعون اور ہامان دونوں کے لشکروں "جنودھما"کو وہ انجام دکھادے، جس کا خود انہیں اندیشہ تھا"وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ"(آیت:6) (b)اللہ تعالیٰ نے فرعون اور ہامان دونوں کے لشکروں "جنودھما"کو"خٰطئین"یعنی خطاکار کہا۔"یقیناً فرعون، ہامان اور ان دونوں کے ماتحت فوجیں خطاکار تھیں۔"،"اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـٕیْنَ"(آیت: 8) (c)فرعون اور اس کی پوری فوج نے بلاکسی استحقاق کے زمین پر تکبر کا مظاہرہ کیا۔"وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ"(آیت:39) (d)اللہ تعالیٰ نے فرعون کو بھی جکڑ لیا اور اس کی فوج "جنود"کو بھی ،پھر یہ سب موجوں کے حوالے کردئیے گئے۔"فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ"(آیت:40)(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
ترتیب مطالعۂ: (i) ر۔1تا 5 (قصہ حضرت موسیٰ اور رسالتِ مصطفیؐ سے مطابقت)(ii)ر۔6 (سابقہ انبیاخصوصاً حضرت موسیٰ اور حضورؐ کے پیغام کی مماثلت) (iii) ر۔7(آخرت میں مومنوں اور منکرین کا انجام ) (iv) ر۔8(مغرور اہلِ قریش کو قارون کی مثال) (v) ر۔9(نیکوکاروں کے درجات اور حضورؐ کو نصیحت)۔
پہلا رکوع |
| طٰسٓمّٓ ﴿1﴾ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ ﴿2﴾ نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ﴿3﴾ اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ﴿4﴾ وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ ﴿5﴾ وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ ﴿6﴾ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ﴿7﴾ فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ ﴿8﴾ وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ﴿9﴾ وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿10﴾ وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ ﴿11﴾ وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ ﴿12﴾ فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿13ع القصص 28﴾ |
| 1. طٰسٓمٓ۔ 2. یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں۔ 3. (اے محمدﷺ) ہم تمہیں موسٰی اور فرعون کے کچھ حالات مومن لوگوں کو سنانے کے لئے صحیح صحیح سناتے ہیں۔ 4. کہ فرعون نے ملک میں سر اُٹھا رکھا تھا اور وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا اُن میں سے ایک گروہ کو (یہاں تک) کمزور کر دیا تھا کہ اُن کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا اور اُن کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔ بیشک وہ مفسدوں میں تھا۔ 5. اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دیئے گئے ہیں اُن پر احسان کریں اور اُن کو پیشوا بنائیں اور انہیں (ملک کا) وارث کریں۔ 6. اور ملک میں ان کو قدرت دیں اور فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر کو وہ چیزیں دکھا دیں جس سے وہ ڈرتے تھے۔ 7. اور ہم نے موسٰی کی ماں کی طرف وحی بھیجی کہ اس کو دودھ پلاؤ جب تم کو اس کے بارے میں کچھ خوف پیدا ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور نہ تو خوف کرنا اور نہ رنج کرنا۔ ہم اس کو تمہارے پاس واپس پہنچا دیں گے اور (پھر) اُسے پیغمبر بنا دیں گے۔ 8. تو فرعون کے لوگوں نے اس کو اُٹھا لیا اس لئے کہ (نتیجہ یہ ہونا تھا کہ) وہ اُن کا دشمن اور (ان کے لئے موجب) غم ہو۔ بیشک فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر چوک گئے۔ 9. اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا۔ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اُسے بیٹا بنالیں اور وہ انجام سے بےخبر تھے۔ 10. اور موسٰی کی ماں کا دل بے صبر ہو گیا اگر ہم اُسکے دل مضبوط نہ کر دیتے تو قریب تھا کہ وہ اس (قصّے) کو ظاہر کر دیں۔ غرض یہ تھی کہ وہ مومنوں میں رہیں۔ 11. اور اس کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا تو وہ اُسے دور سے دیکھتی رہی اور ان (لوگوں) کو کچھ خبر نہ تھی۔ 12. اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر (دائیوں) کے دودھ حرام کر دیئے تھے۔ تو موسٰی کی بہن نے کہا کہ میں تمہیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمہارے لئے اس (بچے) کو پالیں اور اس کی خیر خواہی (سے پرورش) کریں۔ 13. تو ہم نے (اس طریق سے) اُن کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا تاکہ اُسکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں اور معلوم کریں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے۔ |
تفسیر آیات
3۔قرآن میں اکثر مقامات پر قصص الانبیاء کے ضْمن میں سیدنا موسیٰؑ کا ذکر پہلے کیوں آیا ہے؟ قرآن ِ کریم میں اکثر مقامات پر سیدنا موسیٰؑ اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ انبیاء کے ذکر میں سیدنا موسیٰؑ کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔ اس کی وجوہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔مختصراً یہ کہ موسیٰؑ کو رسول اللہؐ سے زیادہ شدید حالات میں فریضہ رسالت سرانجام دینے کا حکم ہوا تھا۔ مثلاً یہ کہ سیدنا موسیٰؑ جس قوم بنی اسرائیل کے فرد تھے، فرعون نے انہیں اچھوتوں کی طرح کم تر درجہ کی مخلوق اور عملاً غلام بناکر رکھا ہواتھا۔ جبکہ آپؐ اپنی قوم قریش ہی کے ایک فرد تھے۔پھر سیدنا موسیٰؑ کو فرعون جیسے مغرور،متمرد اور سرکش،فوراً بھڑک اٹھنے والے فرمانروا کے ہاں دعوت ِ رسالت کے لئے بھیجا گیا تھا جبکہ آپؐ کے مخاطبینِ اول آپؐ کی اپنی ہی قوم کے افراد تھے۔تیسرے یہ کہ سیدنا موسیٰؑ کو یہ بھی حکم تھا کہ دعوتِ توحید کے ساتھ اپنی قوم بنی اسرائیل کی رہائی کا بھی مطالبہ کریں جبکہ رسول اللہؐ کو ایسا کوئی حکم نہ تھا۔چوتھے یہ کہ آپ فرعون کے اشتہاری مجرم تھے۔ اور اس قصہ کا انجام یہ ہوتاہے کہ بلآخر اللہ تعالیٰ سیدنا موسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کی مدد کرکے انہیں فرعونیوں سے نجات دلاتے ہیں اور فرعون اور آلِ فرعون کو دریا میں غرق کرکے ایسے ظالموں کا صفحہ ہستی سے نام و نشان تک مٹا دیتے ہیں۔گویا اس قصہ میں آپؐ کے لئے اور مسلمانوں کے لئے سبق یہ ہے کہ جب موسیٰؑ نے ایسے شدید حالات میں اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے سب مصائب برداشت کئے تو آپ کو بھی کرنا چاہئیں اور بشارت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس معرکۂ ْحق و باطل میں بالآخر اپنے پیغمبر اور ایمان لانے والوں کوہی کامیاب کرتاہے اور ان کے دشمن تباہ ہوجاتے ہیں۔۔۔۔فرعون کا لقب اور زمانہ:۔شاہانِ مصر کا لقب، جیسے قدیم زمانہ میں ترکوں کے بادشاہ خاقان ،یمن کے بادشاہ تُبع ، حبشہ کے بادشاہ نجاشی، روم کے بادشاہ قیصر اور ایران کے بادشاہ کسریٰ کہلاتے تھے ایسے ہی مصر کے بادشاہ فرعون کہلاتے تھے۔موسیٰؑ کو دوفرعونوں یا دو بادشاہوں سے سابقہ پڑا تھا۔جس فرعون نے آپ کی پرورش کی تھی اس کا نام رعمسیس تھا اور نبوت ملنے کے بعد جس کے ہاں آپ کو بھیجا گیا تھا وہ رعمسیس کا بیٹا منفتاح تھا۔ ان کا عہد حکومت تقریباً چودہ سوسال قبل مسیح ہے۔(تیسیر القرآن)
۔ یہ ٹکڑا اپنے اندر ایک قسم کی تنبہ رکھتا ہے کہ ہم یہ سرگزشت سنا رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ انہی کو پہنچے گا جن کے اندر ایمان لانے کا ارادہ پایا جاتا ہے۔ جو اندھےبہرے بن چکے ہیں وہ بدستور اندھے بہرے ہی بنے رہیں گے۔ (تدبرِ قرآن)
4۔ ۔۔۔اور ابن کثیر اس خواب اور اس کی تعبیر کے واقعہ کی صورتِ حال یہ بتلاتے ہیں کہ بنی اسرائیل آپس میں سیدنا ابراہیمؑ خلیل اللہ کی ایک پیشین گوئی کا تذکرہ کیا کرتے تھے کہ ایک اسرائیلی نوجوان کے ہاتھوں سلطنتِ مصر کی تباہی مقدر ہوگی۔ رفتہ رفتہ یہ بات فرعون کے کانوں تک بھی پہنچ گئی۔اس احمق نے قضا و قدر کی روک تھام کے لئے یہ سفاکانہ سکیم جاری کی تھی۔(تیسیر القرآن)
۔ اصل سرگزشت سے پہلے یہ اور اس کے بعد کی دو آیتیں اس غایت و مقصد کو سامنے کردینے کے لئے وارد ہوئی ہیں جس کو پیش نظر رکھ کر یہ سنائی جا رہی ہے۔ قرآن میں یہ اسلوب متعدد مقامات میں اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی سرگزشت سنانے سے پہلے وہ مدعا مختصر الفاظ میں قاری کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے جو اس کے سنانے سے پیش نظر ہوتا ہے تاکہ سرگزشت کے پھیلاؤ میں اصل حقیقت قاری کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ (تدبرِقرآن)
6۔ھامان۔ ہامان کا نام یہاں پہلی بار قرآن میں آیا ہے۔یہ کون شخص تھا؟یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ مصر میں اس نام کا کوئی شخص تھا ہی نہیں ، البتہ ایران میں ایک شخص اس نام کا گزرا ہے ،اور (نعوذ باللہ)قرآن نے دونوں میں خلط کردیا۔ لیکن ہامان کو شخصی نام فرض ہی کیوں کیا جائے؟جس طرح اس کا عطف"فرعون"کے ساتھ یہاں اور آگے چل کر بھی آیا ہے، اس سے تو قیاس یہی ہوتاہے کہ جس طرح فرعون شخصی نام نہیں، بلکہ شاہی لقب تھا ،اسی طرح ہامان بھی کوئی سرکاری لقب ہی تھا۔تاریخ سے اتنا تو بہر حال ثابت ہے کہ مصر کے ایک بہت بڑے دیوتا کا نام انگریزی تلفظ میں آمن (Amon)تھا۔ اس کے بڑے پجاری کے اختیار ات بادشاہ سے بس کچھ ہی کم ہوتے تھے ۔عجب کیا کہ اس بڑے پجاری کا سرکاری لقب، عربی تلفظ میں آکر ہامان بن گیا ہو۔ملاحظہ ہو،تفسیر انگریزی۔(تفسیر ماجدی)
۔ ان لوگوں کی عقل پر تعصب کا پردہ پڑا ہوا نہ ہو تو یہ خود غور کریں کہ آخر ان کے پاس یہ یقین کرنے کے لیے کیا تاریخی ثبوت موجود ہے کہ اخسویرس کے درباری ہامان سے پہلے دنیا میں کوئی شخص کبھی اس نام کا نہیں گزرا ہے۔ جس فرعون کا ذکر یہاں ہورہا ہے اگر اس کے تمام وزراء اور امراء اور اہل دربار کی کوئی مکمل فہرست بالکل مستند ذریعے سے کسی مستشرق صاحب کو مل گئی ہے جس میں ہامان کا نام مفقود ہے تو وہ اسے چھپائے کیوں بیٹھے ہیں ؟ انہیں اس کا فوٹو فورا شائع کردینا چاہیے۔ کیونکہ قرآن کی تکذیب کے لیے اس سے زیادہ موثر ہتھیار انہیں کوئی اور نہ ملے گا۔ (تفہیم القرآن)
7۔سیدناموسیٰؑ کی پیدائش اور آپ کی والدہ کو وحی کے ذریعہ ہدایات:۔ یہ وحی موسیٰؑ کی پیدائش کے بعد ہوئی اور یہ وحی چار امورپر مشتمل تھی:(1)جب تک اس بچے کی سراغ رسانی نہیں ہوتی، اسے اپنے پاس ہی رکھو اور اسے دودھ پلاتی رہو۔بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ام موسیٰ نے آپکو تین ماہ تک چھپائے رکھا تھا۔(2)جب یہ راز فاش ہونے لگے اور تمہیں یہ خطرہ محسوس ہو کہ اب عمال حکومت اس بچے کو پکڑ کرلے جائیں گے تو اس کو کسی تابوت یا ٹوکرے میں رکھ کر دریا کی موجوں کے سپرد کردینا (3)اور دریامیں ڈالتے وقت اس بات کا ہرگز اندیشہ نہ کرنا کہ یہ بچہ ضائع ہوجائے گا۔بلکہ ہم بہت جلد یہ بچہ تیری ہی طرف لوٹا دیں گے۔تو ہی اسے دودھ پلائے گی اور اس کی پرورش کرے گی۔(4)یہی وہ بچہ ہے جو بنی اسرائیل میں رسول بننے والا ہے۔(تیسیر القرآن)
11۔سیدنا موسیٰ کے دوسرے بہن بھائی اور بہن کا حالات کی خبررکھنا:۔ ام موسیٰ ؑ کے تین بچے تھے۔ سب سے بڑی لڑکی تھی ۔اس کے بعد ہارون پیدا ہوئے پھر ان کے ایک سال بعد موسیٰؑ کی پیدائش ہوئی۔ سیدنا ہارونؑ کی پیدائش تک بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کا حکم نافذ نہیں ہوا تھا۔لہذا وہ بھی زندہ تھے اور بہن تو ان سے آٹھ دس سال بڑی تھی۔جب اُمّ موسیٰؑ سیدنا موسیٰؑ کو دریا برد کرچکی اور دل بے قرارہونے لگا تو ایک احتیاطی تدبیراس کے ذہن میں آئی کہ شاید اس تدبیر کا کسی وقت فائدہ پہنچ جائے۔اس نے موسیٰؑ کی بہن سے کہا کہ اس دریا کے کنارے کنارے چلی جاؤ۔اور بچہ کو دیکھتی رہو کہ کہاں جاتاہے۔لیکن یہ احتیاط ملحوظ رکھنا کہ اس طریقہ سے چھپتی چھپاتی جانا کہ کسی کو یہ گمان نہ ہوسکے کہ یہ لڑکی اس ٹوکرے کی نگہداشت کررہی ہے۔اور اس کی ٹوہ میں لگی ہوئی ہے۔اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ جب آل فرعون نے یہ تابوت دریا سے نکالا اور اس سے بچہ برآمد ہوا تو اس واقعہ کی خبر سارے شہر میں آناً فاناً پھیل گئی۔اس وقت ام موسیٰؑ نے سیدنا موسیٰؑ کی بہن سے کہا کہ جاؤ اور اس بچہ کاپتہ لگاؤ اور علیحد ہ رہ کر دیکھنا کہ کیا ماجرا ہوتاہے۔لڑکی ہوشیار تھی وہ اس مقام پرپہنچ گئی جہاں بچہ کے گرد بھیڑ لگی تھی وہاں وہ ایک طرف کھڑے ہوکر اور بے تعلق سی بن کر دور سے دیکھتی رہی اور لوگوں کی باتیں سنتی رہی مگر کسی کو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ لڑکی اس بچہ کی بہن ہے۔(تیسیر القرآن)
دوسرا رکوع |
| وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ﴿14﴾ وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ ﴿15﴾ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ﴿16﴾ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ ﴿17﴾ فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ ﴿18﴾ فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ ﴿19﴾ وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ ﴿20﴾ فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿21ع القصص 28﴾ |
| 14. اور جب موسٰی جوانی کو پہنچے اور بھرپور (جوان) ہو گئے تو ہم نے اُن کو حکمت اور علم عنایت کیا۔ اور ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ 15. اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بےخبر ہو رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں دو شخص لڑ رہے تھے ایک تو موسٰی کی قوم کا ہے اور دوسرا اُن کے دشمنوں میں سے ۔تو جو شخص اُن کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسٰی کے دشمنوں میں سے تھا مدد طلب کی تو اُنہوں نے اس کو مکا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔ کہنے لگے کہ یہ کام تو (اغوائے) شیطان سے ہوا بیشک وہ (انسان کا) دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔ 16. بولے کہ اے پروردگار میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تو خدا نے اُن کو بخش دیا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 17. کہنے لگے کہ اے پروردگار تو نے جو مجھ پر مہربانی فرمائی ہے میں (آئندہ) کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ بنوں گا ۔ 18. الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل اُن سے مدد مانگی تھی پھر اُن کو پکار رہا ہے۔ موسٰی نے اس سے کہا کہ تُو تو صریح گمراہ ہے۔ 19. جب موسٰی نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑ لیں تو وہ (یعنی موسٰی کی قوم کا آدمی) بول اُٹھا کہ جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا اسی طرح چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو۔ تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم وستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے ہو کہ نیکو کاروں میں ہو۔ 20. اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا (اور) بولا کہ موسٰی (شہر کے) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ 21. موسٰی وہاں سے ڈرتے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) اور دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔ |
تفسیر آیات
14۔ فرعونْ کے ہاں جدید علوم اور اصول جہانبانی کی تعلیم:۔ اس مقام پر حکمت اور علم سے مراد نبوت نہیں کیونکہ نبوت تو آپ کو بہت مدت بعد عطا ہوئی تھی۔(تیسیر القرآن)
۔۔۔۔بائیبل کی کتاب الاعمال میں بتایا گیا ہے کہ " موسیٰ نے مصریوں کے تمام علوم کی تعلیم پائی اور وہ کام اور کلام میں قوت والا تھا ( 22:7 )۔۔ انہی کی کوشش سے فرعون نے اسرائیلیوں کے لیے ہفتہ میں ایک دن کی چھٹی مقرر کی۔ انہوں نے فرعون سے کہا کہ دائما ًمسلسل کام کرنے کی وجہ سے یہ لوگ کمزور ہوجائیں گے اور حکومت ہی کے کام کا نقصان ہوگا۔ ان کی قوت بحال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ہفتے میں ایک دن آرام کا دیا جائے۔ اسی طرح اپنی دانائی سے انہوں نے اور بہت سے ایسے کام کیے جن کی وجہ سے تمام ملک مصر میں ان کی شہرت ہوگئی تھی۔ (تفہیم القرآن)
15۔ یہ قبطی شاہی باورچی خانے کا نوکر تھا۔جو سبطی سے بیگار یہ لینا چاہ رہا تھا کہ ایندھن کا گٹھا بلا معاوضہ باورچی خانہ تک چھوڑ کر آؤ۔(تیسیر القرآن)
۔ " شہر میں داخل ہوا " ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دار السلطنت کے شاہی محلات عام آبادی سے باہر واقع تھے، حضرت موسیٰ ؑ چونکہ شاہی محل میں رہتے تھے اس لیے " شہر میں نکلے " کہنے کے بجائے " شہر میں داخل ہوئے " فرمایا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
17۔موسیٰؑ پر اللہ تعالیٰ کا انعام یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خطا پر پردہ ڈال دیا۔ کہ حکومتی اہلکاروں میں سے کسی کو بھی یہ پتا نہ چل سکا کہ اس مقتول قبطی کا قاتل کون ہے؟ اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے شکریہ کے طورپر موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ آئندہ وہ کسی مجرم کی حمایت یا مدد نہیں کریں گے۔یہاں سوال پیدا ہوتاہے کہ موسیٰؑ نے پہلے کون سے مجرم کی حمایت کی تھی جو اب اللہ سے ایسا عہد کریں گے۔ اس کا جواب بعض لوگوں نے یہ دیا ہے کہ موسیٰؑ کی اس سے مراد وہ سبطی تھا جو آپ سے یہ جرم کروانے کا باعث بناتھا۔ ممکن ہے اس کا بھی کچھ قصور ہو۔لیکن آپ نے بلاتحقیق اس سبطی کی حمایت میں قبطی کو گھونسا رسید کردیا جس سے (اتفاقاً)قبطی کی موت واقع ہوگئی۔ لیکن ہمارے خیال میں اس کی وہی توجیہ درست ہے جسے اکثر مفسرین نے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسیٰؑ نے یہ عہد کیا تھا کہ آئندہ وہ اس مجرم اور کافرانہ حکومت کی امداد و اعانت سے مکمل طورپر دستبردار ہوجائیں گے۔اور یہی وہ عہد تھا جسے انہوں نے بعد میں ساری عمر نبھایا تھا۔ یعنی اس واقعہ کے بعد شاہی خاندان کا فرد رہنے سے بیزاری کا اعلان کردیا تھا۔(تیسیر القرآن)
19۔قبطی کے قاتل کا راز فاش ہونا:۔ قبطی نے جب سبطی کے منہ سے یہ بات سنی تو اس نے لڑائی جھگڑا تو وہیں چھوڑا اور ایک دم بھاگ کر فرعون اور اس کے اہلکاروں کو یہ اطلاع دے دی کہ کل جو قبطی قتل ہوا اس کا قاتل موسیٰ ہے۔گویا جس راز پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا تھا۔اسے اسی احمق سبطی نے فاش کرڈالا جس کی حمایت میں آپ نے قبطی کو مارا تھا۔جب فرعون کے اہلکاروں کو قتل کے مجرم کا پتا چل گیا تو موسیٰؑ کی گرفتاری کا حکم صادر ہوگیا۔(تیسیر القرآن)
20۔ ۔۔۔ بھاگا ہوا حضرت موسیٰ کو اطلاع دینے آیا کہ آپ کے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں۔ میں آپ کا خیر خواہ ہوں اس وجہ سے میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ یہاں سے فوراً نکل جائیں۔ اس شخص سے متعلق یہاں کوئی تفصیل مذکور نہیں ہے لیکن سورة مومن میں ایک مومن آل فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے آیا ہے ان کا تعلق شاہی خاندان سے تھا۔ یہ ابتداء ہی سے حضرت موسیٰ کے خیر خواہوں میں سے تھے اور بعد کے ادوار میں جیسا کہ سورة مومن میں تفصیل آئے گی۔ انہوں نے اعیان حکومت کے سامنے حضرت موسیٰ ؑ کی بڑی پر زور حمایت کی۔ ان وجوہ سے ظن غالب یہ ہے کہ یہ اشارہ بھی انہی کی طرف ہے۔ (تدبرِ قرآن)
تیسرا رکوع |
| وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ ﴿22﴾ وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ ﴿23﴾ فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ ﴿24﴾ فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ﴿25﴾ قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ﴿26﴾ قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ﴿27﴾ قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ ۧ ۧ ﴿28ع القصص 28﴾ |
| 22. اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے اُمید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ بتائے۔ 23. اور جب مدین کے پانی (کے مقام) پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہو رہے (اور اپنے چارپایوں کو) پانی پلا رہے ہیں اور ان کے ایک طرف دو عورتیں (اپنی بکریوں کو) روکے کھڑی ہیں۔ موسٰی نے (اُن سے) کہا تمہارا کیا کام ہے۔ وہ بولیں کہ جب تک چرواہے (اپنے چارپایوں کو) لے نہ جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتے اور ہمارے والد بڑی عمر کے بوڑھے ہیں۔ 24. تو موسٰی نے اُن کے لئے (بکریوں کو) پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف چلے گئے۔ اور کہنے لگے کہ پروردگار میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے۔ 25. (تھوڑی دیر کے بعد) ان میں سے ایک عورت جو شرماتی اور لجاتی چلی آتی تھی۔ موسٰی کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ تم کو میرے والد بلاتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے لئے پانی پلایا تھا اس کی تم کو اُجرت دیں۔ جب وہ اُن کے پاس آئے اور اُن سے اپنا ماجرا بیان کیا تو اُنہوں نے کہا کہ کچھ خوف نہ کرو۔ تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو۔ 26. ایک لڑکی بولی کہ ابّا ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ بہتر نوکر جو آپ رکھیں وہ ہے (جو) توانا اور امانت دار (ہو)۔ 27. اُنہوں نے (موسٰی سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس عہد پر کہ تم آٹھ برس میری خدمت کرو اور اگر دس سال پورے کر دو تو تمہاری طرف سے (احسان) ہے اور میں تم پر تکلیف ڈالنی نہیں چاہتا۔ مجھے انشاء الله نیک لوگوں میں پاؤ گے۔ 28. موسٰی نے کہا کہ مجھ میں اور آپ میں یہ (عہد پختہ ہوا) میں جونسی مدت (چاہوں) پوری کردوں پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو۔ اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں خدا اس کا گواہ ہے۔ |
تفسیر آیات
23۔ ۔۔۔ ان خواتین کے والد کے متعلق ہمارے ہاں کی روایات میں یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ وہ حضرت شعیب ؑ تھے۔ لیکن قرآن مجید میں اشارۃً و کنایۃً بھی کوئی بات ایسی نہیں کہی گئی ہے جس سے یہ سمجھا جاسکے کہ وہ حضرت شعیب ہی تھے، حالانکہ شعیب ؑ کی شخصیت قرآن میں ایک معروف شخصیت ہے۔۔۔۔ وہ ایک مسلمان آدمی تھے، حضرت شعیب کا دین انہوں نے قبول کرلیا تھا۔ تلمود میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ مدیانیوں کی بت پرستی کو علانیہ حماقت قرار دیتے تھے اس وجہ سے اہل مدین ان کے مخالف ہوگئے تھے۔۔۔۔(تفہیم القرآن)
24۔ حضرت موسیٰ ؑ کے اس احساس کا اظہار ان کے ماخطبکما کے سوال سے ہو رہا ہے۔ عربی میں لفظ خطب کسی امر عظیم واہم ہی کے لئے آتا ہے اس وجہ سے ان کے اس سوال کے اندر یہ بات مضمر ہے کہ تمہیں کیا افتاد اور مشکل پیش آئی ہے کہ بکریوں کی چرواہی کی یہ پر مشقت خدمت تمہیں انجام دینی پڑ رہی ہے اور تم اس طرح اپنی بکریوں کو یہاں روکے کھڑی ہو۔ صاحبزادیوں نے حضرت موسیٰ ؑ کے سوال کو بالکل ٹھیک ٹھیک سمجھ کر جواب دیا کہ یہ خدمت ہمیں اس لئے انجام دینی پڑ رہی ہے کہ ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں اور ہم اپنی بکریوں کو اس لئے روکے کھڑی ہیں کہ ہم مردوں کی اس بھیڑ میں نہیں گھس سکتیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دور میں بھی عورتوں اور مردوں کے دائرہ کار الگ الگ سمجھے جاتے تھے۔۔۔۔ اے رب جس منزل کو سامنے رکھ کر میں نے ادھر کا رخ کیا تھا وہ تو آگئی۔ اب بس تیرے فضل و رحمت کا انتظار ہے تو جو خیر بھی اس مرحلے میں میرے لئے نازل فرمائے میں اس کا محتاج ہوں۔ اس دعا کی بلاغت کی تعبیر سے زبان وقلم قاصر ہیں۔ صرف اہل ذوق ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ چونکہ یہ دعا بالکل صحیح وقت پر صحیح جذبے کے ساتھ بالکل صحیح الفاظ میں زبان سے نکلی اس وجہ سے اس کا اثر بلا کسی تاخیر کے ظاہر ہوا۔ (تدبرِ قرآن)
25۔ ۔۔بلکہ سمٹی سمٹائی، کپڑوں کو سنبھالے اور اپنی احتیاط کی جگہوں کو محفوظ کئے ہوئے آئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ واقعہ کی یہ جزئیات قرآن نے اس جز رسی کے ساتھ کیوں بیان فرمائی ہیں ؟ اس کا جواب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ قرآن ہر قدم پر یہ نمایاں کرنا چاہتا ہے کہ شریفانہ زندگی کے عادات واطوار کیا ہیں۔۔۔۔( تدبرِ قرآن)
27۔ آیاآٹھ سال کی خدمت بطور حق مہر تھی؟ آپ کی مجبوری ہی یہ تھی کہ لڑکیوں والے گھر میں ایک اجنبی آدمی کیسے رہ سکتاہے۔لہذا جلد از جلد اس کا نکاح کرکے اسے گھر میں رکھا جاسکے۔رہا نکاح کے مہر کا مسئلہ تو وہ تھوڑے سے تھوڑا بھی ہوسکتاہے۔حتیٰ کہ لوہے کی ایک انگوٹھی بھی اور اتنا حق مہر ایک پردیسی بھی اداکرسکتاہے۔(تیسیر القرآن)
۔ایک پیغمبرِ وقت اپنے ہونے والے دامادسے اپنی لڑکی کی شادی کے باب میں جس آزادی اور صفائی سے گفتگو کررہے ہیں ہندوستان کے رسم زدہ شریف مسلمان اس کا تصور بھی کرسکتے ہیں!۔۔۔۔۔ہندو دیش کی بیجا شرم و حیا، غیر معقول حجاب و تکلف کا اسلام کے اندر شائبہ ہی نہیں۔(تفسیر ماجدی)
چوتھا رکوع |
| فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ ﴿29﴾ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ ﴿30﴾ وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ ﴿31﴾ اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ﴿32﴾ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ ﴿33﴾ وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ ﴿34﴾ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ ﴿35﴾ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ ﴿36﴾ وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ﴿37﴾ وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ ﴿38﴾ وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ ﴿39﴾ فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ ﴿40﴾ وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ ﴿41﴾ وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿42ع القصص 28﴾ |
| 29. جب موسٰی نے مدت پوری کردی اور اپنے گھر کے لوگوں کو لے کر چلے تو طور کی طرف سے آگ دکھائی دی تو اپنے گھر والوں سے کہنے لگے کہ تم یہاں ٹھیرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے شاید میں وہاں سے (رستے کا) کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارہ لے آؤں تاکہ تم تاپو۔ 30. جب اس کے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ موسٰی میں تو خدائے رب العالمین ہوں۔ 31. اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈالدو۔ جب دیکھا کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا سانپ ہے، تو پیٹھ پھیر کر چل دیئے اور پیچھے پھر کر بھی نہ دیکھا۔ (ہم نے کہا کہ) موسٰی آگے آؤ اور ڈرومت تم امن پانے والوں میں ہو۔ 32. اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا اور خوف دور ہونے (کی وجہ) سے اپنے بازو کو اپنی طرف سیکڑلو۔ یہ دو دلیلیں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں (ان کے ساتھ) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں۔ 33. موسٰی نے کہا اے پروردگار اُن میں کا ایک شخص میرے ہاتھ سے قتل ہوچکا ہے سو مجھے خوف ہے کہ وہ (کہیں) مجھ کو مار نہ ڈالیں۔ 34. اور ہارون (جو) میرا بھائی (ہے) اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بناکر بھیج کہ میری تصدیق کرے مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔ 35. (خدا نے) فرمایا ہم تمہارے بھائی سے تمہارے بازو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے تو ہماری نشانیوں کے سبب وہ تم تک پہنچ نہ سکیں گے (اور) تم اور جنہوں نے تمہاری پیروی کی غالب رہو گے۔ 36. اور جب موسٰی اُن کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لےکر آئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادو ہے جو اُس نے بنا کھڑا کیا ہے اور یہ باتیں ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی) سنی نہیں۔ 37. اور موسٰی نے کہا کہ میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے حق لےکر آیا ہے اور جس کے لئے عاقبت کا گھر (یعنی بہشت) ہے۔ بیشک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔ 38. اور فرعون نے کہا کہ اے اہلِ دربار میں تمہارا اپنے سوا کسی کو خدا نہیں جانتا تو ہامان میرے لئے گارے کو آگ لگوا (کر اینٹیں پکوا) دو پھر ایک (اُونچا) محل بنادو تاکہ میں موسٰی کے خدا کی طرف چڑھ جاؤں اور میں تو اُسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ 39. اور وہ اور اس کے لشکر ملک میں ناحق مغرور ہورہے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ 40. تو ہم نے اُن کو اور اُن کے لشکروں کو پکڑلیا اور دریا میں ڈال دیا۔ سو دیکھ لو ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔ 41. اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا۔ وہ (لوگوں) کو دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن اُن کی مدد نہیں کی جائے گی۔ 42. اور اس دنیا سے ہم نے اُن کے پیچھے لعنت لگادی اور وہ قیامت کے روز بھی بدحالوں میں ہوں گے۔ |
تفسیر آیات
29۔ توریت میں ہے کہ فرعون سابق اُ س وقت تک مرچکا تھا، آپؑ کی روانگئ مصر سے قبل ذکر میں ہے:۔"اور ایک مدت کے بعد یوں ہواکہ مصر کا بادشاہ مرگیا"(خروج۔2: 23) بِاَهْلِهٖ۔توریت میں تصریح ہے کہ ساتھ میں ان کی زوجۂ محترمہ حضرت صفورہ تھیں ،اور ان کے دونوں بچے تھے۔(خروج۔4: 20)۔۔۔۔۔پیمبروں کی بشریت ان سارے قرآنی قصوں میں کتنی نمایاں رہتی ہے۔ راہ کا بھول جانا، اندھیرے اور سردی میں آگ کی ضرورت کا محسوس ہونا،دورسے روشنی دیکھ اُسے اٹکل سے آگ سمجھنا، یہ سب واقعات ایسی شخصیت کو پیش آرہے ہیں، جسے ابھی ابھی پیمبری ملنے والی ہے!(تفسیر ماجدی)
30۔آواز کی نشاندہی کی تفصیل سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کو یہ آواز فضائے لامتناہی کے اندر ایک مبہم و بے جہت آواز کی صورت میں نہیں بلکہ تعیّن جہت و مقام کے ساتھ ایک مبارک وادی ،ایک مبارک خطہ اور ایک مبارک درخت سے سنائی دی۔ اس کا لازمی تقاضایہ ہے کہ وہ مقام قدوّسیوں کی جلوہ گاہ اور ہر قسم کی شیطانی دراندازی سے پاک و محفوظ بھی ہو۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
31۔ حضرات انبیائے کرام (علیہم السلام) کو نبوت کے ابتدائی مشاہدات بالکل بےسان و گمان پیش آتے ہیں، نہ ان کے ذہن میں پہلے سے ان کا کوئی تصور ہوتا ہے، نہ ارمان، اس وجہ سے شروع شروع میں وہ ان سے گھبراتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بالتدریج ان سے مانوس کردیتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
32۔ بازو سے مراد غالباً سیدھا بازو ہے، کیونکہ مطلقاً ہاتھ بول کر سیدھا ہاتھ مراد لیا جاتا ہے، بھینچنے کی دو شکلیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ بازو کو پہلو کے ساتھ لگا کر دبا لیا جائے۔ دوسری یہ کہ ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کی بغل میں رکھ کر دبایا جائے۔ اغلب یہ ہے کہ پہلی شکل ہی مراد ہوگی۔ کیونکہ اس صورت میں دوسرا کوئی شخص یہ محسوس نہیں کرسکتا کہ آدمی اپنے دل کا خوف دور کرنے کے لیے کوئی خاص عمل کر رہا ہے۔ حضرت موسیٰ کو یہ تدبیر اس لیے بتائی گئی کہ وہ ایک ظالم حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی لاؤ لشکر اور دنیوی سازوسامان کے بغیر بھیجے جارہے تھے، بارہا ایسے خوفناک مواقع پیش آنے والے تھے جن میں ایک اولو العزم نبی تک دہشت سے محفوظ نہ رہ سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب کوئی ایسی صورت پیش آئے، تم بس یہ عمل کرلیا کرو، فرعون اپنی پوری سلطنت کا زور لگا کر بھی تمہارے دل کو متزلزل نہ کرسکے گا۔ (تفہیم القرآن)
35۔ ۔۔۔ سلطان سے مراد یہاں غلبہ، دبدبہ اور ہیبت ہے۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کی درخواست حضرت ہارون کے بارے میں منظور فرمالی اور ساتھ ہی ان کو یہ اطمینان بھی دلا دیا کہ تم خاطر جمع رکھو۔ ہم فرعونیوں پر تمہارا ایسا رعب و دبدبہ قائم کردیں گے کہ وہ تم پر دست درازی کی جرأت نہ کرسکیں گے۔ (تدبرِ قرآن)
۔(اور غلبہ معتبر وہی ہے جو آخر میں حاصل ہو) نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا۔ یہ یاد کرلیجئے کہ موسیٰؑ و ہارونؑ ،دونوں محکوم قوم اور رعایا کے فرد تھے،اور ان کا مقابلہ ایسے بادشاہ خود مختار سے ہورہاتھا،جس کی زبان خود ہی قانون تھی ۔اس استحضار کے بعد اس رعب نبوت کی پوری قدر ہوگی۔(تفسیر ماجدی)
38۔ نینویٰ اور مصر وغیرہ میں تعمیر کا یہ طریقہ معروف رہاہے کہ مٹی کا مکان بنواکر اس پر خوب آگ دھکاتے جس سے دیواروں پر مینا کاری ہوجاتی اور بارش اور ہوا کے اثرات سے بھی عمارت محفوظ رہتی ۔(تدبر قرآن)
ــــ اس لحاظ سے اگر غور کیا جائے تو فرعون کی پوزیشن ان ریاستوں کی پوزیشن سے کچھ بھی مختلف نہیں جو خدا کے پیغمبر کی لائی ہوئی شریعت سے آزاد و خودمختار ہو کر اپنی سیاسی اور قانونی حاکمیت کے مدعی ہیں۔ وہ خواہ سرچشمۂ قانون اور صاحب امر و نہی کسی بادشاہ کو مانیں یا قوم کی مرضی کو ،بہر حال جب تک وہ یہ مؤقف اختیار کئے ہوئے ہیں کہ ملک میں خدااور رسول کا نہیں بلکہ ہمارا حکم چلے گا اس وقت تک ان کے اور فرعون کے مؤقف میں کوئی اصولی فرق نہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ بے شعور لوگ فرعون پر لعنت بھیجتے رہیں اور ان کو سندِ جواز عطاکرتے رہیں ۔حقائق کی سمجھ بوجھ رکھنے والا آدمی تو معنی اور روح کو دیکھے گا نہ کہ الفاظ اور اصطلاحات کو۔آخر اس سے کیا فرق پڑتاہے کہ فرعون نے اپنے لئے "الہ" کا لفظ استعمال کیا تھا اور یہ اس معنی میں"حاکمیت" کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔(تفہیم القرآن)
ــــ فرعون ساڑھے تین ہزار سال پہلے موسیٰ کا مذاق اڑارہاتھا یہ اس دور کی جہالت تھی ۔موجودہ دور کی جہالت بھی اس سے کم نہیں ۔اسلام اور اسلامی تاریخ و اقدار کا مذاق اڑانا۔ماسکونے آسمان کی طرفSputnik بھیجے ۔جب خلامیں گئے تو کہنے لگے کہ اللہ تو ہمیں کہیں نظر نہیں آیا۔(انوار القرآن)
ــــ جس مشن پر سیدنا موسیٰؑ کو بھیجا جارہاتھا اس میں کئی مقام ایسے آسکتے تھے جبکہ آپ خود اپنی جان تک کا خطرہ محسوس کرنے لگیں تو ایسے خطرہ کے اوقات کے لیے آپ کو تدبیر یہ بتائی گئی کہ اپنا بازو اپنی دائیں ران اور گھٹنے کے ساتھ چمٹا لو۔ایسا کرنے سے اس خطرہ کا خیال دل سے جاتارہے گا اور تمہارے دل کو قرار آجائے گا۔(تیسیر القرآن)
ــــ اَوْقِدْ لِیْ عَلَى الطِّیْنِ۔ قرآن یہاں فرعون کی زبان سے یہ بھی کہہ سکتاتھا کہ"ہامان میرے لیے پتھر کی عمارت تیار کر"یا اینٹ پتھر وغیرہ کسی چیز کی تصریح ہی نہ کرتا، لیکن نہیں، قرآن کو تو علم صحیح کی بےشمار مثالوںمیں سے ایک اور مثال پیش کرنی اور اپنے دعوائے اعجاز پر ایک اور دلیل قائم کرنی تھی۔۔۔۔مصری قوم اینٹوں ہی کے کام کے لیے مشہور تھی، چنانچہ اس کی مشہور شاہی عمارتیں بھی پتھر کی نہیں اینٹ ہی کی تھیں۔ملاحظہ ہو،انگریزی تفسیر القرآن۔(تفسیر ماجدی)
42۔ یعنی فرعون اور آل فرعون پر بعد میں آنے والی دنیا لعنت ہی بھیجتی رہے گی اور انہیں برے لفظوں میں یاد کیا جاتارہے گا اور قیامت کے دن تو ان کی بڑی درگت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دئیے جائیں گے۔(تیسیر القرآن)
پانچواں رکوع |
| وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ ﴿43﴾ وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ ﴿44﴾ وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ ﴿45﴾ وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ ﴿46﴾ وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿47﴾ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ ﴿48﴾ قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿49﴾ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿50ع القصص 28﴾ |
| 43. اور ہم نے پہلی اُمتوں کے ہلاک کرنے کے بعد موسٰی کو کتاب دی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ 44. اور جب ہم نے موسٰی کی طرف حکم بھیجا تو تم (طور کی) غرب کی طرف نہیں تھے اور نہ اس واقعے کے دیکھنے والوں میں تھے۔ 45. لیکن ہم نے (موسٰی کے بعد) کئی اُمتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گذر گئی۔ اور نہ تم مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے۔ 46. اور نہ تم اس وقت جب کہ ہم نے (موسٰی کو) آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ (تمہارا بھیجا جانا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ تم اُن لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کرو تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ 47. اور (اے پیغمبر ہم نے تو کو اس لئے بھیجا ہے کہ) ایسا نہ ہو کہ اگر ان (اعمال) کے سبب جو اُن کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت واقع ہو تو یہ کہنے لگیں کہ اے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں ہوتے۔ 48. پھر جب اُن کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہنے لگے کہ جیسی (نشانیاں) موسٰی کو ملی تھیں ویسی اس کو کیوں نہیں ملیں۔ کیا جو (نشانیاں) پہلے موسٰی کو دی گئی تھیں اُنہوں نے اُن سے کفر نہیں کیا۔ کہنے لگے کہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔ اور بولے کہ ہم سب سے منکر ہیں۔ 49. کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم خدا کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں (کتابوں) سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔ تاکہ میں بھی اسی کی پیروی کروں۔ 50. پھر اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے۔ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ |
تفسیر آیات
43۔ یہ واضح رہے کہ کسی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب و شریعت کا دیا جانا دنیا کی امت و پیشوائی دیئے جانے کے ہم معنی ہے بشرطیکہ وہ اس نعمت کی قدر کرے۔ بنی اسرائیل کو یہ نعمت سب سے پہلے دی گئی۔ یہاں من بعد مآ اھلکنا القرون الاولی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ باقاعدہ کتابی شکل میں، اللہ کی یہ سب سے بڑی نعمت سب سے پہلے حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے بنی اسرائیل ہی کو ملی لیکن انہوں نے اس کتاب کے ساتھ نہایت بےدردانہ سلوک کیا جس کی تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ (تدبرِقرآن)
۔پہلی نسلوں سے مراد اقوام سابقہ ہیں۔مثلاًقوم نوحؑ،قوم عادؑ، قوم ثمودؑ، قوم لوطؑ، قوم شعیبؑ اور قوم فرعون وغیرہ۔یہ سب لوگ اللہ کے نافرمان اور سرکش لوگ تھے ان سب اقوام نے دنیا کی تکذیب کا نتیجہ بھگت لیا اور فرعون اور ان کے ساتھیوں کا جو انجام ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔اس کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو تورات عطا کی جس میں انہی تباہ شدہ اقوام سے متعلق بصیرت افروز دلائل بھی تھے اور آئندہ کے لیے بھی انسانیت کی ہدایت کے لیے واضح ہدایات دی گئیں۔اور یہ لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی تھی اور ان سب باتوں کا مقصد یہ تھا کہ انسانیت آئندہ صحیح راہ پر گامزن ہوجائے اور اس کا نیا دور شروع ہو۔اور صحیح حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے تو رات نازل کرنے کے بعد پھر کسی قوم کو آسمان کے عذاب سے تباہ نہیں کیا البتہ ایک بستی کے لوگ(اصحاب السبت)بند ربنائے گئے تھے۔ایک قوم کو سؤر بھی بنایا گیا تھا۔(تیسیر القرآن)
ـــــ بَصَآىٕرَ۔ هُدًى۔ رَحْمَةً"طالب حق کی اول فہم درست ہوتی ہے ،یہ بصیرت ہے۔ پھر احکام قبول کرتا ہے،یہ ہدایت ہے۔پھر ہدایت کا ثمر ہ یعنی قرب و قبول عنایت ہوتاہے۔یہ رحمت ہے"۔(تھانویؒ، ج2/ص:220) (تفسیر ماجدی)
44۔ یعنی بنی اسرائیل کے ان ستر نمائندوں میں جن کو شریعت کی پابندی کا عہد لینے کے لیے حضرت موسیٰ کے ساتھ بلایا گیا تھا (سورة اعراف، آیت 155 میں ان نمائندوں کے بلائے جانے کا ذکر گزر چکا ہے، اور بائیبل کی کتاب خروج، باب 24 میں بھی اس کا ذکر موجود ہے) (تفہیم القرآن)
46۔۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت اس کھلے چیلنج کے انداز میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کے ثبوت کے طور پر یہ تین باتیں ارشاد فرمائی گئیں، اس وقت مکہ اور حجاز اور پورے عرب میں کوئی ایک شخص بھی اٹھ کر وہ بیہودہ بات نہ کہہ سکا جو آج کے مستشرقین کہتے ہیں۔ اگرچہ جھوٹ گھڑنے میں وہ لوگ ان سے کچھ کم نہ تھے، لیکن ایسا دروغ بےفروغ آخر وہ کیسے بول سکتے تھے جو ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چل سکتا ہو۔ وہ کیسے کہتے کہ اے محمد، تم فلاں فلاں یہودی عالموں اور عیسائی راہبوں سے یہ معلومات حاصل کر لائے ہو، کیونکہ پورے ملک میں وہ اس غرض کے لیے کسی کا نام نہیں لے سکتے تھے۔ جس کا نام بھی وہ لیتے فورا ً ہی یہ ثابت ہوجاتا کہ اس سے آنحضرت نے کوئی معلومات حاصل نہیں کی ہیں۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
47۔ اسی چیز کو قرآن مجید متعدد مقامات پر رسولوں کے بھیجے جانے کی وجہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ اس غرض کے لیے ہر وقت ہر جگہ ایک رسول آنا چاہیے۔ جب تک دنیا میں ایک رسول کا پیغام اپنی صحیح صورت میں موجود رہے اور لوگوں تک اس کے پہنچنے کے ذرائع موجود رہیں، کسی نئے رسول کی حاجت نہیں رہتی۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
48۔ یعنی محمد ﷺ کو وہ سارے معجزے کیوں نہ دیے گئے جوحضرت موسیٰ کو دیے گئے تھے، یہ بھی عصا کا اژدھا بنا کر ہمیں دکھاتے، ان کا ہاتھ بھی سورج کی طرح چمک اٹھتا، جھٹلانے والوں پر ان کے اشارے سے بھی پے درپے طوفانوں اور زمین و آسمان سے بلاؤں کا نزول ہوتا اور یہ بھی پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے احکام لاکر ہمیں دیتے۔ (تفہیم القرآن)
چھٹا رکوع |
| وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ ﴿51﴾ اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ ﴿52﴾ وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ ﴿53﴾ اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ ﴿54﴾ وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ ﴿55﴾ اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ ﴿56﴾ وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿57﴾ وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّن ۢ ْ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ ﴿58﴾ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ ﴿59﴾ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿60ع القصص 28﴾ |
| 51. اور ہم پے درپے اُن لوگوں کے پاس (ہدایت کی) باتیں بھیجتے رہے ہیں تاکہ نصیحت پکڑیں۔ 52. جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ 53. اور جب (قرآن) اُن کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ ہمارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے اور ہم تو اس سے پہلے کے حکمبردار ہیں۔ 54. ان لوگوں کو دگنا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ صبر کرتے رہے ہیں اور بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں اور جو (مال) ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ 55. اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال۔ تم کو سلام۔ ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں۔ 56. (اے محمدﷺ) تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانیوالوں کو خوب جانتا ہے۔ 57. اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اُچک لئے جائیں۔ کیا ہم نے اُن کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی۔ جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ 58. اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنی (فراخی) معیشت میں اترا رہے تھے۔ سو یہ اُن کے مکانات ہیں جو اُن کے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم۔ اور اُن کے پیچھے ہم ہی اُن کے وارث ہوئے۔ 59. اور تمہارا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔ جب تک اُن کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو اُن کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں۔ 60. اور جو چیز تم کو دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے۔ اور جو خدا کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟ |
تفسیر آیات
51۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کی خاطر یہ اہتمام فرمایا کہ اپنی تعلیم و تذکیر کے سلسلہ کو بھی کبھی منقطع نہیں ہونے دیا۔قرآن کوئی انوکھی اور متوحش کرنے والی کتاب نہیں بلکہ تورات ہی کی تکمیل ہے۔اب لوگوں کا فرض ہے کہ اگر ان کے اندر ہدایت کی کچھ بھی طلب ہے تو اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں۔ (ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
52۔اورامام رازیؒ نے فرمایا کہ کسی خصوصی سببِ نزول سے کیا ہوتاہے،اعتبار تو عموم عبارت کا کیا جائے گا، بس جس کسی میں بھی یہ صفات پائے جائیں گے، وہ آیت کے حکم میں داخل ہوگا۔(تفسیر ماجدی)
۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ تمام اہل کتاب (یہودی اور عیسائی) اس پر ایمان لاتے ہیں، بلکہ یہ اشارہ دراصل اس واقعہ کی طرف ہے جو اس سورة کے نزول کے زمانہ میں پیش آیا تھا، اور اس سے اہل مکہ کو شرم دلانی مقصود ہے کہ تم اپنے گھر آئی ہوئی نعمت کو ٹھکرا رہے ہو حالانکہ دور دور کے لوگ اس کی خبر سن کر آرہے ہیں اور اس کی قدر پہچان کر اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ ہجرت حبشہ کےبعد جب نبی ﷺ کی بعثت اور دعوت کی خبریں حبش کے ملک میں پھیلیں تو وہاں سے 20 کے قریب عیسائیوں کا ایک وفد تحقیق حال کے لیے مکہ معظمہ آیا اور نبی ﷺ سے مسجد حرام میں ملا۔ قریش کے بہت سے لوگ بھی یہ ماجرا دیکھ کر گردو پیش کھڑے ہوگئے۔ وفد کے لوگوں نے حضور سے کچھ سوالات کیے جن کا آپ نے جواب دیا، پھر آپ نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی اور قرآن مجید کی آیات ان کے سامنے پڑھیں۔ قرآن سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور انہوں نے اس کے کلام اللہ ہونے کی تصدیق کی اور حضور پر ایمان لے آئے، جب مجلس برخاست ہوئی تو ابوجہل اور اس کے چند ساتھیوں نے ان لوگوں کو راستہ میں جالیا اور انہیں سخت ملامت کی۔ (تفہیم القرآن)
53۔۔۔۔۔۔۔ یہ قول اس بات کی صاف صراحت کردیتا ہے کہ اسلام صرف اس دین کا نام نہیں ہے جسے محمد ﷺ لے کر آئے ہیں، اور " مسلم " کی اصطلاح کا اطلاق محض حضور کے پیرو وں تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ سے تمام انبیاء کا دین یہی اسلام تھا اور ہر زمانہ میں ان سب کے پیرو مسلمان ہی تھے۔ یہ مسلمان اگر کبھی کافر ہوئے تو صرف اس وقت جبکہ کسی بعد کے آنے والے نبی صادق کو ماننے سے انہوں نے انکار کیا، لیکن جو لوگ پہلے نبی کو مانتے تھے اور بعد کے آنے والے نبی پر بھی ایمان لے آئے ان کے اسلام میں کوئی انقطاع نہیں ہوا۔ وہ جیسے مسلمان پہلے تھے ویسے ہی بعد میں رہے۔۔۔۔۔۔۔ تعجب ہے کہ بعض بڑے بڑے اہل علم بھی اس حقیقت کے ادراک سے عاجز رہ گئے ہیں، حتٰی کہ اس صریح آیت کو دیکھ کر بھی ان کا اطمینان نہ ہوا۔ علامہ سیوطی نے ایک مفصل رسالہ اس موضوع پر لکھا کہ مسلم کی اصطلاح صرف امت محمد ﷺ کے لیے مختص ہے۔ پھر جب یہ آیت سامنے آئی تو خود فرماتے ہیں کہ میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، لیکن کہتے ہیں کہ میں نے پھر خدا سے دعا کی کہ اس معاملہ میں مجھے شرح صدر عطا کردے۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
55۔لغو سے کنارہ کرنے والے نومسلم عیسائی اور ابوجہل:۔ ایسے مسلمانوں کی تیسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ لغو کاموں یا بے ہودہ باتوں میں نہ صرف یہ کہ ان میں شامل نہیں ہوتے بلکہ ایسے کاموں سے کنارہ کش رہتے ہیں۔اور اگر ایسے لوگوں سے سابقہ پڑجائے تو ان سے تعرض نہیں کرتے بلکہ سلام کہہ کر گزرجاتے ہیں جس سے ان کی مراد ایسے کاموں سے بیزار ی کا اظہار ہوتاہے۔سیرت کی کئی کتابوں میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ ہجرتِ حبشہ کے بعد جب حبشہ کے لوگ اسلام اور اس کی دعوت سے متعارف ہوئے تو وہاں سے بیس آدمی، جو عیسائی تھے اس غرض کے لئے مکہ آئے کہ یہ تحقیق کریں کہ پیغمبر اسلام کیسے شخص ہیں ۔جب وہ لوگ آپ سے ملے اور گفتگو شروع ہوئی تو آپؐ نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا جس سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور بڑےپر زور طریقہ پر آپ کی تصدیق و تائید کی۔جب مشرف بہ اسلام ہوکر حبشہ واپس جانے لگے تو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے ان پر آوازے کسے کہ ایسے احمقوں کا قافلہ آج تک کسی نے نہ دیکھا ہوگا جو ایک شخص کی تحقیق کرنے کے لئے آئے تھے۔اور اب اس کے غلام بن کر اور اپنا دین چھوڑ کر جارہے ہیں۔ انہوں نے جواب میں کہا:ہماری طرف سے تم پر سلام ہے ہم تمہاری جہالت کا جواب جہالت سے نہیں دینا چاہتے۔ہم میں اور تم میں جو جس حال پر ہے وہی کچھ اس کا حصہ ہے۔ہم نے اپنے آپ کا بھلا چاہنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔اسی کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں۔(البدایہ والنہایہ ج3 ص82)(تیسیر القرآن)
56۔۔۔۔۔ صحیحین کی روایت ہے کہ یہ آیت نبی ﷺ کے چچا ابو طالب کے معاملہ میں نازل ہوئی ہے، ان کا جب آخری وقت آیا تو حضور نے اپنی حد تک انتہائی کوشش کی کہ وہ کلمہ لا الہ لا اللہ پر ایمان لے آئیں۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
۔ ۔۔۔تفسیر روح المعانی میں ہے کہ ابوطالب کے ایمان و کفر کے معاملے میں بےضرورت گفتگو اور بحث و مباحثہ سے اور ان کو برا کہنے سے اجتناب کرنا چاہئے کہ اس سے آنحضرت ﷺ کی طبعی ایذا کا احتمال ہے۔ واللہ اعلم۔ (معارف القرآن)
57۔ ۔۔۔یہاں پہنچ کر دنیا پرستوں کی بےبصیرتی کا عجیب نقشہ انسان کے سامنے آتا ہے، رسول اللہ ﷺ بار بار انہیں یقین دلاتے تھے کہ یہ کلمہ جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اسے مان لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوجائیں گے۔۔۔۔۔ مگر انہیں اس میں اپنی موت نظر آتی تھی۔ ۔۔۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے عذر کا پہلا جواب ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ ۔۔قریش کو پورے ملک پر جو اقتدار حاصل تھا وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کے دین شرک کی برکت سے ان کو حاصل ہوا ہے۔ وہ اپنے دیویوں دیوتاؤں کو تو تمام خیر و برکت کا ذریعہ مانتے ہی تھے۔۔۔۔۔یہ بعینیہ وہی اعتراض ہے جو آج ہمارے لیڈر حضرات اسلامی نظام، اسلامی معاشرت، اسلامی حدود و تعزیرات اور اسلامی نظام معیشت کے خلاف اٹھاتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
58۔یہ کفار مکہ کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے یعنی تمہیں خطرہ یہ ہے کہ اگر تم مسلمان ہوگئے تو تمہاری سیاسی برتری اور تمہاری معیشت تباہ ہوجائے گی اور جس معیشت پر اس وقت تم اترارہے ہوتو جن لوگوں نے تم سے پہلے اپنی معیشت پر گھمنڈ کیا تھا ان کا انجام بھی تمہارے سامنے ہے۔ ان لوگوں نے اسی گھمنڈ میں آکر تکبر اور سرکشی کی راہ اختیار کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس طرح تباہ و برباد کرڈالا کہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہ گیا۔ان کی بستیوں کے کھنڈرات تم دیکھتے رہتے ہو۔پھر اگر تم نے بھی انہی لوگوں کی روش اختیار کی تو کیا وجہ ہے کہ تمہارا وہی انجام نہ ہو جو ان کا ہوا تھا۔(تیسیر القرآن)
59۔ یہ ان کے عذر کا تیسرا جواب ہے۔ (تفہیم القرآن)
60۔عقلمند کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ دنیا کے دھندوں میں زیادہ منہمک نہ ہو بلکہ آخرت کی فکر میں لگے۔امام شافعی ؒ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے مال و جائیداد کے متعلق یہ وصیت کر کے مر جائے کہ میرا مال اس شخص کو دے دیا جائے جو سب سے زیادہ عقلمند ہو تو اس مال کے مصرف شرعی وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت میں مشغول ہوں، کیونکہ عقل کا تقاضا یہی ہے اور دنیا داروں میں سب سے زیادہ عقل والا وہی ہے۔ یہی مسئلہ فقہ حنفیہ کی مشہور کتاب در مختار باب الوصیت میں بھی مذکور ہے۔ (معارف القرآن)
ساتواں رکوع |
| اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ﴿61﴾ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ﴿62﴾ قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ ﴿63﴾ وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ ﴿64﴾ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ ﴿65﴾ فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ ﴿66﴾ فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ ﴿67﴾ وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ﴿68﴾ وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ ﴿69﴾ وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلْٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ﴿70﴾ قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ ﴿71﴾ قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ﴿72﴾ وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ﴿73﴾ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ﴿74﴾ وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿75ع القصص 28﴾ |
| 61. بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اُس نے اُسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص کا سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے سے بہرہ مند کیا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہو جو (ہمارے روبرو) حاضر کئے جائیں گے۔ 62. اور جس روز خدا اُن کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کا تمہیں دعویٰ تھا۔ 63. (تو) جن لوگوں پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں گے کہ ہمارے پروردگار یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اور جس طرح ہم خود گمراہ ہوئے تھے اسی طرح اُن کو گمراہ کیا تھا (اب) ہم تیری طرف (متوجہ ہوکر) اُن سے بیزار ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے۔ 64. اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ تو وہ اُن کو پکاریں گے اور وہ اُن کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے۔ 65. اور جس روز خدا اُن کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا۔ 66. تو وہ اس روز خبروں سے اندھے ہو جائیں گے، اور آپس میں کچھ بھی پوچھ نہ سکیں گے۔ 67. لیکن جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو اُمید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں ہو۔ 68. اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برگزیدہ کرلیتا ہے۔ ان کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ یہ جو شرک کرتے ہیں خدا اس سے پاک وبالاتر ہے۔ 69. اور ان کے سینے جو کچھ مخفی کرتے اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار اس کو جانتا ہے۔ 70. اور وہی خدا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا اور آخرت میں اُسی کی تعریف ہے اور اُسی کا حکم اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ 71. کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات (کی تاریکی) کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے جو تم کو روشنی لا دے تو کیا تم سنتے نہیں؟ 72. کہو تو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت تک دن کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے کہ تم کو رات لا دے جس میں تم آرام کرو۔ تو کیا تم دیکھتے نہیں؟ 73. اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس میں اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو۔ 74. اور جس دن وہ اُن کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک جن کا تمہیں دعویٰ تھا کہاں گئے؟ 75. اور ہم ہر ایک اُمت میں سے گواہ نکال لیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات خدا کی ہے اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا۔ |
تفسیر آیات
۔ یہ ان کے عذر کا چوتھا جواب ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے پہلے دو باتیں اچھی طرح ذہن نشین ہوجانی چاہیں۔ اول یہ کہ دنیا کی موجودہ زندگی جس کی مقدار کسی کے لیے بھی چند سالوں سے زیادہ نہیں ہوتی، محض ایک سفر کا عارضی مرحلہ ہے، اصل زندگی جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے آگے آنی ہے۔۔۔۔۔دوسری بات یہ ہے کہ اللہ کا دین انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ اس دنیا کی متاع حیات سے استفادہ نہ کرے اور اس کی زینت کو خواہ مخواہ لات ہی مار دے۔ اس کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ وہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دے، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی۔۔۔۔۔۔ان دو باتوں کو نگاہ میں رکھ کر دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ اوپر کے فقروں میں کفار مکہ سے کیا فرماتا ہے۔ وہ یہ نہیں فرماتا کہ تم اپنی تجارت لپیٹ دو ، اپنے کاروبار ختم کردو، اور ہمارے پیغمبر کو مان کر فقیر ہوجاؤ، بلکہ وہ یہ فرماتا ہے کہ یہ دنیا کی دولت جس پر تم ریجھے ہوئے ہو، بہت تھوڑی دولت ہے اور بہت تھوڑے دنوں کے لیے تم اس کا فائدہ اس حیات دنیا میں اٹھا سکتے ہو، اس کے برعکس اللہ کے ہاں جو کچھ ہے وہ اس کی بہ نسبت کم و کیف (Quality and Quantity) میں بھی بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا بھی ہے۔ (تفہیم القرآن)
63۔ یعنی یہ ہمارے نہیں بلکہ اپنے ہی نفس کے بندے بنے ہوئے تھے۔ (تفہیم القرآن)
68۔ ۔۔۔۔اپنے پیدا کیے ہوئے انسانوں، فرشتوں، جنوں اور دوسرے بندوں میں سے ہم خود جس کو جیسے چاہتے ہیں اوصاف، صلاحیتیں اور طاقتیں بخشتے ہیں اور جو کام جس سے لینا چاہتے ہیں لیتے ہیں، یہ اختیارات آخر ان مشرکین کو کیسے اور کہاں سے مل گئے کہ میرے بندوں میں سے جس کو چاہیں مشکل کشا، جسے چاہیں گنج بخش اور جسے چاہیں فریاد رس قرار دے لیں ؟۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
۔۔۔۔یعنی یہ قرآن اللہ کو نازل ہی کرنا تھا تو عرب کے دو بڑے شہروں مکہ اور طائف میں سے کسی بڑے آدمی پر نازل فرماتا کہ اس کی قدر و منزلت پہچانی جاتی، ایک یتیم مسکین پر نازل فرمانے میں کیا حکمت تھی ؟ اس کے جواب میں فرمایا کہ جس مالک نے تمام مخلوقات کو بغیر کسی شریک کی امداد کے پیدا فرمایا ہے یہ اختیار بھی اسی کو حاصل ہے کہ اپنے کسی خاص اعزاز کے لئے اپنی مخلوق میں سے کسی کو منتخب کرے اس میں وہ تمہاری تجویزوں کا کیوں پابند ہو کہ فلاں اس کا مستحق ہے فلاں نہیں۔۔۔۔۔۔ (معارف القرآن)
72۔ اللہ نے رات کے ہمیشہ رہنے کا ذکر کیا تو فرمایا:"اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ"اور ہمیشہ دن کے رہنے کا ذکر کیا تو فرمایا:"اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ"یہ اس لئے کہ دیکھنے کا کام روشنی سے تعلق رکھتاہے۔اور تاریکی میں انسان دیکھ تو نہیں سکتا البتہ سن ضرور ہوسکتاہے۔(تیسیر القرآن)
75۔ یہ گواہ وہ شخص ہوگا جس کے ذریعہ اللہ کا پیغام اس قوم یا گروہ کو پہنچا ہو۔خواہ وہ کوئی پیغمبر ہو یا کوئی دوسرا بزرگ ہو۔ اور وہ گواہ اس بات کی گواہی دے گا کہ میں نے اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔(تیسیر القرآن)
آ ٹھواں رکوع |
| اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ ﴿76﴾ وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ﴿77﴾ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ﴿78﴾ فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ ﴿79﴾ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ ﴿80﴾ فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ ﴿81﴾ وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿82ع القصص 28﴾ |
| 76. قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدّی کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ اُن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اُٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت۔ کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ 77. اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ 78. بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی اُمتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی ہیں۔ اور گنہگاروں سے اُن کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔ 79. تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال ومتاع) قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے۔ 80. اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا۔ 81. پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی۔ اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔ 82. اور وہ لوگ جو کل اُس کے رتبے کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے ہائے شامت! خدا ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ ہائے خرابی! کافر نجات نہیں پا سکتے۔ |
تفسیر آیات
76۔حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ایک روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچا زاد بھائی تھا۔ وہ تورات کا حافظ تھامگر سامری کی طرح منافق تھا ۔اس کی منافقت کا سبب جاہ و عزت کی بیجا حرص اور حضرت موسیٰ و حضرت ہارونؑ سے حسد تھا۔یہ اُن منتخب اصحاب میں سے تھا جن کو حضرت موسیٰ نے میقات کےلئے چناتھا ۔کہتاتھا کہ خاندان کے تمام افراد یکساں مقدس و دیندار ہیں۔)معارف القرآن(
- ملعون نے حضرت موسیٰ کو بدنام کرنے کی ایک گندی تجویز سوچی ۔کسی عورت کو لالچ دیکر آمادہ کیا کہ جب حضرت موسیٰ زناکی حد بیان کریں تو اپنے ساتھ انہیں متہم کرنا۔ چنانچہ عورت بھرے مجمع میں کہہ گزری۔جب موسیٰؑ نے شدید قسموں اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو اس کا دل ڈرا۔تو اس نے کہا کہ قارون نے مجھے ایساکرنے کاکہا ۔حضر ت موسیٰ کی بددعا سے اُسی وقت اپنے گھر اور خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیاگیا۔)تفسیر عثمانی(
ــــ قارون ایک یہودی سرمایہ دار تھا۔یہ رشتہ میں حضرت موسیٰؑ کا چچا زاد بھائی تھا ۔لیکن اس کو ان کی امامت و سیادت کا بڑا حسد تھا۔ آنحضرتؐ کی قوم میں قارون کا مماثل ابولہب تھا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
ــــ قارون پاکستانی جاگیرداروں کی طرح کا پروردہ آدمی تھا اور فرعون کا ایجنٹ تھا۔اس کی مثال ہمارے ہاں کے ان جاگیرداروں کی ہے جو انگریز کے کتے نہلانے والے تھے اور بدلے میں انہیں جاگیریں عطا ہوئیں۔(بیان القرن)
77۔ عام طورپر ہمارے مفسرین نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ تم اس دنیا میں بھی اپنا حصہ نظر انداز نہ کرو ۔آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ دنیا کی ہرچیز آنی و فانی ہے ۔اس کی کسی چیز کو بھی بقا نہیں ۔تمہاری ابدی زندگی میں اس دنیا سے تمہارے کام آنے والی چیز وہی بنے گی جو تم خداکی راہ میں صرف کروگے اور آگے بھیجوگے۔(تدبرقرآن)
78۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں علم سے مراد علم تورات ہے جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ قارون تورات کا حافظ اور عالم تھا اور ان ستر اصحاب میں سے تھا جن کو حضرت موسیٰ ؑ نے میقات کے لئے منتخب فرمایا تھا۔۔۔۔۔ مگر ظاہر یہ ہے کہ یہاں علم سے مراد معاشی تدبیروں کا علم ہے مثلاً تجارت صنعت وغیرہ کا جن سے مال حاصل ہوتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو مال مجھے حاصل ہوا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے احسان کا کیا دخل ہے یہ تو میں نے اپنی ہوشیاری اور کارگزاری کے ذریعہ حاصل کیا ہے۔ (معارف القرآن)
79۔ آیت میں بڑا درس عبرت ہے اُن مسلمانوں کے لیے جوآج امریکا یا روس یا دوسری فرنگی قوموں کے ٹھاٹھ باٹھ پر ریجھے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ کے مقابلے میں یہ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا اس پر دلیل ہے کہ علم معتبر وہ ہے جس سے دنیا مقصود نہ ہو۔(تھانویؒ،ج2/ص:230)(تفسیر ماجدی)
81۔یہاں قارون کے اس قصے کا ایک حصہ محذوف ہے تورات سے معلوم ہوتاہے کہ جب سامری کے فتنہ کے بعد حضرت موسیٰ نے دیکھا کہ ان کی قوم میں ایک اور فتنہ اٹھ کھڑا ہواہے تو انہوں نے قارون کو مباہلہ کی دعوت دی ۔شاید عورت والا معاملہ اس مقام پر ہو۔ اور وہ ساتھیوں سمیت غرق کردیاگیا۔(تدبر قرآن)
82۔۔۔۔لفظ اَمْسِ فصیح عربی میں صرف گزرے ہوئے کل کے لئے نہیں آتا بلکہ ماضی قریب کے مفہوم میں بھی آتا ہے جس طرح ہم اپنی زبان میں بولتے ہیں یہ تو کل کی بات ہے، یہاں بھی یہ اسی مفہوم میں ہے۔ یعنی ابھی کل تک جو لوگ قارون کی شان و شوکت پر مرتے تھے وہ یہ کہنے لگے۔۔۔۔۔۔ قارون اور ابولہب میں مماثلت ۔ (i) دونوں اپنے اپنے نبی کے قریب ترین رشتہ دار۔(ii) دونوں انتہائی دولتمند،متکبر اور بخیل (iii) دونوں کو اپنےاپنے رسولوں سے عناداور اپنے ناجائز ذرائع دولت سے استفادہ کی خواہش (iv) دونوں کا ایک جیسا انجام(v) قارون کے پردے میں ابولہب کا ذکر۔(تدبرقرآن)
-بنی اسرائیل جب مصر سے نکلے تو یہ شخص بھی اپنی پارٹی سمیت ان کے ساتھ نکلا ۔پھر اس نے حضرت موسیٰ و ہارون کےخلاف ایک سازش کی جس میں 250 آدمی شامل تھے۔(تفہیم القرآن)
نواں رکوع |
| تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ ﴿83﴾ مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿84﴾ اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْن ﴿85﴾ وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ ﴿86﴾ وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ ﴿87﴾ وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿88ع القصص 28﴾ |
| 83. وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اُسے اُن لوگوں کے لئے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور انجام (نیک) تو پرہیزگاروں ہی کا ہے۔ 84. جو شخص نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے اس سے بہتر (صلہ موجود) ہے اور جو برائی لائے گا تو جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو بدلہ بھی اسی طرح کا ملے گا جس طرح کے وہ کام کرتے تھے۔ 85. (اے پیغمبر) جس (خدا) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے وہ تمہیں بازگشت کی جگہ لوٹا دے گا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار اس شخص کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت لےکر آیا اور (اس کو بھی) جو صریح گمراہی میں ہے۔ 86. اور تمہیں اُمید نہ تھی کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی۔ مگر تمہارے پروردگار کی مہربانی سے (نازل ہوئی) تو تم ہرگز کافروں کے مددگار نہ ہونا۔ 87. اور وہ تمہیں خدا کی آیتوں کی تبلیغ سے بعد اس کے کہ وہ تم پر نازل ہوچکی ہیں روک نہ دیں اور اپنے پروردگار کو پکارتے رہو اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہو جیو۔ 88. اور خدا کے ساتھ کسی اور کو معبود (سمجھ کر) نہ پکارنا اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کی ذات (پاک) کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔ |
تفسیر آیات
83۔ عُلُوّ بمعنی سربلند، متکبر، مغرور یعنی وہ بڑا بن کرنہیں رہتے نہ دوسروں کو دبا کر رکھتے ہیں بلکہ متواضع اور منکسر المزاج بن کر اور اللہ کے فرمانبردار بن کر رہتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کے لئے آخرت کا گھر مختص ہے۔سربلندی اور ناموری چاہنے والوں اور متکبر بن کر رہنے والوں کے لئے ہر گز نہیں ہے۔۔۔۔فساد کا مفہوم۔۔۔فساد فی الارض کیا ہے؟:۔ فساد کے لفظ کا اطلاق عموماً چوری ،ڈاکہ ،غصب،غبن لوٹ مار اور قتل و غارت کے معنوں میں استعمال کیا جاتاہے جبکہ شرعی اصطلاح فساد فی الارض کے معنوں میں اس سے بہت زیادہ وسعت رکھتی ہے یعنی وہ کام جس میں انسان اپنے حق سے تجاوز کررہاہو یا دوسرے کے حق پامال کررہاہو وہ فساد فی الارض کے ضمن میں آئے گا۔قارون کے قصہ میں اللہ نے قارون کو فساد فی الارض کا مجرم قراردیا ہے۔حالانکہ وہ نہ چوری کرتاتھا نہ لوٹ مار یا قتل و غارت ،ان میں سے کوئی کام بھی نہیں کرتاتھا۔ا س کا فساد فی الارض یہ تھا کہ اس کے مال میں دوسروں کا حق شامل تھا وہ اسے ادا نہیں کررہاتھا۔اسی طرح اگر کوئی شخص دھوکے سے یا جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچ رہاہے تو اگرچہ معاشرہ اسے فسادی نہیں سمجھتا لیکن شرعی لحاظ سے وہ فسادی ہے۔کیونکہ اس نے فریب یا جھوٹی قسم کے ذریعہ چیز کی اصل قیمت سے زیادہ وصول کرکے خریدار کو نقصان پہنچایا یا اس کا حق غصب کیا ہے گویا فساد سے مرادانسانی زندگی کے نظام کا وہ بگاڑ ہے جو حق سے تجاوز کرنے کے نتیجہ میں لازماً رونما ہوتاہے۔بالفاظ دیگر احکام الٰہی سے تجاوز کرتے ہوئے انسان جو کچھ بھی کرتاہے وہ فسادہی فساد ہے اور سب سے بڑا فساد اللہ کی حق تلفی یا شرک ہے۔(تیسیر القرآن)
ــــ خلیفہ عمربن عبدالعزیز اموی ،جنہیں پانچواں خلیفہ راشد سمجھا گیا ہے، ان کی بابت تاریخوں میں درج ہے کہ نزع کے وقت یہی آیت زبان پر تھی۔ (تفسیر ماجدی)
85۔ یعنی اس قرآن کو خلق خدا تک پہنچانے اور اس کی تعلیم دینے اور اس کی ہدایت کے مطابق دنیا کی اصلاح کرنے کی ذمہ داری تم پر ڈالی ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ رسول اللہ ﷺ ہجرت کے وقت غار ثور سے رات کے وقت نکلے اور مکہ سے مدینہ جانے والے معروف راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستوں سے سفر کیا کیونکہ دشمن تعاقب میں تھے۔ جب مقام جحفہ پر پہنچے جو مدینہ طیبہ کے راستہ کی مشہور منزل رابغ کے قریب ہے اور وہاں سے وہ مکہ سے مدینہ کا معروف راستہ مل جاتا ہے اس وقت مکہ مکرمہ کے راستہ پر نظر پڑی تو بیت اللہ اور وطن یاد آیا، اسی وقت جبرئیل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے جس میں آپ کو بشارت دی گئی ہے کہ مکہ مکرمہ سے جدائی چند روزہ ہے اور بالآخر آپ کو پھر مکہ مکرمہ پہنچا دیا جائے گا جو فتح مکہ کی بشارت تھی۔ اسی لئے حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ یہ آیت جحفہ میں نازل ہوئی ہے اس لیے نہ مکی ہے نہ مدنی (قرطبی) (معارف القرآن)
۔معاد کے مختلف مفہوم:۔ معاد کے معنی ہیں عود کرنے،لوٹنے کی جگہ یا لوٹنے کا وقت۔چونکہ اس لفظ کے معنی میں کافی وسعت ہے۔ لہذا اس کی تعبیر میں اختلاف ہے۔اکثر مفسرین نے معاد سے مراد فتح مکہ ہی لیا ہے ان کے قول کے مطابق یہ آیت مکہ سے مدینہ کو ہجرت کے دوران نازل ہوئی تھی۔اس وقت ہی آپ کو یہ خوشخبری سنادی گئی تھی کہ آپ پھر اس شہر مکہ کو آنے والے ہیں اور یہی مفہوم "وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ"سے بھی متبادر ہوتاہےاور بعض لوگوں نے معاد سے جنت اور اس سلسلہ میں اللہ نے آپ سے جو وعدے کئے ہیں، یہ سب کچھ مراد لیا ہے اور بعض حضرات نے معاد سے مراد آپ کی زندگی کا آخری وقت لیا ہے۔جبکہ پورے کا پورا جزیرۃ العرب اسلام کے زیر نگین آگیا تھا۔اور یہ برتری آپؐ سے پہلے کسی شخص کو بھی حاصل نہ ہوئی تھی کہ کم از کم سیاسی طورپر ہی سارا عرب اس کے زیر نگین ہو اور پورے جزیرۃ العرب کے محض سیاسی حکمران ہی نہیں تھے بلکہ اسلام کے بغیر کوئی بھی دین جزیرۃ العرب میں باقی نہیں رہ گیا تھا۔(تیسیر القرآن)
ــــ (اور اس وقت آپ آزاد اور غالب اور صاحب حکومت ہوں گے)۔یہ آپؐ کی تسلی میں اس وقت ارشاد ہواجب عین آغازِ ہجرت میں مفارقت ِ وطن سے آپؐ کو طبعی صدمہ ہورہاتھا،اور زخم بالکل تازہ تھا، اس لیے کہ ابھی آپؐ مدینہ پہنچنے بھی نہ پائے تھے، بلکہ راہ ہی کی ایک منزل جحفہ میں تھے۔۔۔۔ مَعَادٍ۔لفظی معنی واپسی کی جگہ کے ہیں۔۔۔۔۔مراد شہر مکہ سے لی گئی ہے۔(تفسیر ماجدی)
86۔ یہ بات محمد ﷺ کی نبوت کے ثبوت میں پیش کی جارہی ہے جس طرح موسیٰ ؑ بالکل بیخبر تھے کہ انہیں نبی بنایا جانے والا ہے اور ایک عظیم الشان مشن پر وہ مامور کیے جانے والے ہیں۔۔۔۔یعنی جب اللہ نے یہ نعمت تمہیں بےمانگے عطا فرمائی ہے تو اس کا حق اب تم پر یہ ہے کہ تمہاری ساری قوتیں اور محنتیں اس کی علمبرداری پر، اس کی تبلیغ پر اور اسے فروغ دینے پر صرف ہوں، اس میں کوتاہی کرنے کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے حق کے بجائے منکرین حق کی مدد کی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ نبی ﷺ سے ایسی کسی کوتاہی کا اندیشہ تھا، بلکہ دراصل اس طرح اللہ تعالیٰ کفار کو سناتے ہوئے اپنے نبی کو یہ ہدایت فرما رہا ہے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
87۔یعنی قرآن کے معاملے میں ہرگز کسی نرمی اور مداہنت کو گوارانہ کرو ورنہ تم مجرموں کے مددگار ٹھہروگے۔یہ رسول اللہؐ کو متنبہ کرکے درحقیقت قریش کے لیڈروں کو سنایا ہے تاکہ اگر وہ دل کے کسی گوشے میں یہ امید دبائے بیٹھے ہیں کہ وہ رسول اللہؐ کو کچھ نرم کرلیں گے تو اس سے آخری درجے میں مایوس ہوجائیں ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
88۔ہرچیز ہلاک ہونے والی ہے:۔ ۔۔۔۔۔بعض علماء کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا آٹھ چیزیں ایسی ہیں جو قیامت کو بھی فنا نہ ہوں گی۔اللہ کا عرش اور کرسی ،بہشت اور دوزخ، روح اور ریڑھ کی ہڈی کا نقطہ عجب الذنب،لوح محفوظ اور قلم۔واللہ اعلم بالصواب۔(تیسیر القرآن)
ــــ كُلُّ شَیْءٍ۔۔۔۔۔ وَجْهَهٗ۔اس میں رد آگیا،ان ساری مشرک قوموں کا جنہوں نے صانع مطلق کے ساتھ ساتھ روح یا مادہ یا کسی اور چیز کو بھی ازلی و ابدی تسلیم کیا ہے۔وحدت الوجود کے ماننے والوں نے اس آیت سے اپنے عقیدے پر بھی استدلال کیا ہے۔ان کی تقریر یہ ہے کہ آیت میں ھالک بصیغۂ اسم فاعل ہے،نہ کہ یھلک بصیغۂ مضارع و بمعنی مستقبل ۔گویا مراد یہ نہیں کہ عملِ فنا آئندہ کسی زمانے میں طاری ہوگا ،بلکہ مراد یہ ہے کہ عملِ فنا ہر موجودپر مستقلاً طاری ہوتاہی رہتاہے ۔اور اس کا تحقق اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ھالک کو کالھالک اور معدوم کو کالمعدوم کے معنی میں لیا جائے ،اور مراد یہ سمجھی جائے کہ موجودات کا وجود ذاتی نہ ہونے کے سبب سے ہروقت قابل عدم ہے ،اور وجود مثل لاوجود کے ہے۔۔۔۔۔امام رازی نے وجہ کی تفسیر میں مجسمہ کی طرف سے اعتراض نقل کیا ہے کہ وجہ(چہرہ)تو ایک عضو جسمانی ہے،اور اس کے اثبات سے اللہ کا مجسم ہونا لازم آتاہے، پھر اس کا بڑا دلچسپ جواب دیاہے کہ اگر اس سے حق تعالیٰ کے چہرے کا اثبات ہوتاہے تو پھر اس کا بھی اثبات ہوجاتاہے۔(نعوذ باللہ)کہ اس کا باقی جسم سب فانی ہے!(کبیر،ج12/ص36) (تفسیر ماجدی)