29 - سورة العنکبوت (مکیہ)
| رکوع - 7 | آیات - 69 |
مضمون: کفار کے ہاتھوں اہل ایمان کا ستایا جانا ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کے امتحان کا حصہ رہاہے۔مومن کو ہر حال میں حق کا ساتھ دینا ہوتاہے،حتیٰ کہ ہجرت کی نوبت آجائے تو یہ قدم بھی اٹھاناہوتاہے۔اسی طرز عمل سے کامیابی کی راہیں کھلتی ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شانِ نزول: چار سورتیں ،العنکبوت ،الروم، لقمان،اور السجدہ ہجرت حبشہ سے پہلے (5 سن نبوی کو) نازل ہوئیں۔سورۂ العنکبوت ،سورۂ لقمان کے بعد5 سن نبوی کےاوائل میں نازل ہوئی جب مسلمان مشرکین کے ظلم و ستم کا شکار تھے ۔اس سورۂ میں مسلمانوں کو ہجرت اور دیگر آزمائشوں کےلئے تیار کیا گیا ہے۔ایسے منافقین ِ مکہ کو تنبیہ کی گئی جو ہجرت ِ حبشہ کےلئے متردد تھے ۔
نظم کلام:سورۂ فرقان
ترتیب مطالعۂ:(i) ر۔1(تمہیدی ۔جہاد سے مومنوں کا امتحان ہوگا) (ii) ر۔2تا 4(قومِ حضرتِ نوحؑ، قارون اور ہامان کی ہلاکت) (iii) ر۔ 5 (قرآن کا نزول اور عظمت) (iv) ر۔ 6(مہاجرین اور نیکو کار وں کے درجات) (v)ر۔7(اختتامی ۔کوشش کرنیوالوں کےلئے راہیں کھل جاتی ہیں اور اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے)
منتخب نصاب: پہلا رکوع اور آخری تین رکوع۔تحریک اسلامی کے کارکنوں کو اہم ہدایات ۔
پہلا رکوع |
| الٓمّٓۚ ﴿1﴾ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ﴿2﴾ وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ ﴿3﴾ اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ ﴿4﴾ مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ﴿5﴾ وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ﴿6﴾ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿7﴾ وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿8﴾ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ ﴿9﴾ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ ﴿10﴾ وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ ﴿11﴾ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ﴿12﴾ وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿13ع العنكبوت 29﴾ |
| 1. الم۔ 2. کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دیئے جائیں گے اور اُن کی آزمائش نہیں کی جائے گی۔ 3. اور جو لوگ اُن سے پہلے ہو چکے ہیں ہم نے اُن کو بھی آزمایا تھا (اور ان کو بھی آزمائیں گے) سو خدا اُن کو ضرور معلوم کریں گے جو (اپنے ایمان میں) سچے ہیں اور اُن کو بھی جو جھوٹے ہیں۔ 4. کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے۔ جو خیال یہ کرتے ہیں برا ہے۔ 5. جو شخص خدا کی ملاقات کی اُمید رکھتا ہو خدا کا (مقرر کیا ہوا) وقت ضرور آنے والا ہے۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ 6. اور جو شخص محنت کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے محنت کرتا ہے۔ اور خدا تو سارے جہان سے بےپروا ہے۔ 7. اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ان کے گناہوں کو اُن سے دور کردیں گے اور ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔ 8. اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ (اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت کی تجھے واقفیت نہیں۔ تو ان کا کہنا نہ مانیو۔ تم (سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو جتا دوں گا۔ 9. اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے۔ 10. اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے جب اُن کو خدا (کے رستے) میں کوئی ایذا پہنچتی ہے تو لوگوں کی ایذا کو (یوں) سمجھتے ہیں جیسے خدا کا عذاب۔ اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ تھے۔ کیا جو اہل عالم کے سینوں میں ہے خدا اس سے واقف نہیں؟ 11. اور خدا اُن کو ضرور معلوم کرے گا جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کرکے رہے گا۔ 12. اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اُٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ اُن کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اُٹھانے والے نہیں۔ کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں۔ 13. اور یہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی۔ اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن اُن کی اُن سے ضرور پرسش ہوگی۔ |
تفسیر آیات
2۔مکہ مکرمہ میں جوشخص بھی اسلام قبول کرتاتھا مصائب و آلام کا پہاڑ اس پر ٹوٹ پڑتا تھا،غلاموں اور غریبوں کو شدید اذیتیں دی جاتیں، مزدوروں کو مزدوری اور تاجر پیشہ کو ان کاحق نہ دیا جاتا (معاشی بدحالی) خاندان کے لوگ اپنے مسلمان ہونے والوں پرسختی کرتے۔خوف و دہشت کی فضا ہر طرف طاری تھی۔(تفہیم القرآن)۔۔۔۔۔قرآن کریم میں جہاں کہیں حسب یا افحسبتم کا لفظ آیا ہے اس کی متعلقہ آیات کے عدد کامجموعہ سات ہوتا ہے مثلا: البقرہ(214)،آل عمران(142) ،توبہ(61)، (محمد کی آیت :31 اور العنکبوت کی پہلی3آیات =31(13+)+ 3 (مرتب)
3۔ایمانداروں کی مصائب کی کسوٹی پر جانچ:۔ سیدنا خباب بن ارتؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہؐ کے پاس آیااس وقت آپ کعبہ کے سایہ میں ایک چادر پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔اس زمانہ میں ہم مشرک لوگوں سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔میں نے آپؐ سے عرض کیا:"آپ اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے"یہ سنتے ہی آپ(تکیہ چھوڑ کر سیدھے)بیٹھ گئے۔آپ کا چہرہ (غصہ سے) سرخ ہوگیا اور آپؐ نے فرمایا : "تم سے پہلے ایسے لوگ گزرچکے ہیں جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں مگر وہ اپنے سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور آرا ان کے سرکے درمیان میں رکھ کر چلایا جاتااور دوٹکڑے کردئیے جاتے مگر وہ اپنے دین سے نہ پھرتے ۔اور اللہ اپنے اس کام(غلبۂ حق)کو ضرور پورا کرکے رہے گا"۔(بخاری۔کتاب المناقب۔باب مالقی النبیؐ واصحابہ من المشرکین بمکۃ)(تیسیر القرآن)
ـــ بات اگرچہ عام صیغہ سے فرمائی گئی ہے لیکن اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جومکہ کی پر محن زندگی سے گھبرا اٹھے تھے ۔بعض لوگ اسلام میں داخل تو ہوگئے تھے لیکن اس راہ کی صعوبتوں کا اندازہ نہیں تھا۔ ان کا گمان یہ تھا کہ وہ ٹھنڈی سڑک سے منزل ِ مقصود پر پہنچ جائیں گے ۔ان لوگوں کو جب کفار کے ہاتھوں زہرہ گداز مصائب سے سابقہ پیش آیا تو ان کے قدم ہل گئے ۔
زباں سے کہہ بھی دیالاالٰہ تو کیا حاصل جو قلب و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
حضرت نوح کی عمر کا تذکرہ ۔کیوں؟ 950 سال کی مشقت اور دشمنی
چوں می گویم مسلمانم بلرزم کہ دانم مشکلاتِ لاالہ را (علامہ اقبال) (تدبر قرآن)
8۔حقوق والدین اور سعد بن ابی وقاص کی والدہ کا کردار:۔ یعنی والدین بھی تجھے شرک پر مجبور کریں تو ان کی یہ بات تسلیم نہیں کی جائے گی۔ چنانچہ سیدنا سعد بن ابی وقاص (عشرہ مبشرہ میں سے ایک) کے بیٹے مصعب ؓ بن سعد کہتے ہیں کہ حضرت سعد کی ماں حمنہ بنتِ ابی سفیان نے قسم کھائی تھی کہ وہ سعد سے کبھی بات نہ کرے گی جب تک وہ اپنا دین(اسلام)نہ چھوڑے گا، نہ ہی وہ کچھ کھائے گی اور نہ پئےگی۔وہ سعد سے کہنے لگی کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے والدین کی اطاعت کا حکم دیاہے اور میں تیری ماں ہوں اور تجھے اس بات کا حکم دے رہی ہوں۔ پھر تین دن اس نے نہ کچھ کھایا نہ پیا اور نہ ہی سعد سے بات کی۔تین دن کے بعد اسے غش آگیا تو اس کے ایک دوسرے بیٹے عمارہ نے اسے پانی پلایا۔جب اسے ہوش آیاتو وہ سعد کے حق میں بددعاکرنے لگی۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔(مسلم، کتاب الفضائل،باب فی فضل سعد بن ابی وقاص)(تیسیر القرآن)
۔۔۔۔یہ گویا تاریخ میں پہلی مثال بھوک ہڑتال (بلکہ بھوک پیاس ہڑتال)کی تھی۔۔۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی،اور ارشاد ہوا کہ ایسی باتوں میں والدین کی اطاعت جائز نہیں۔(مسلم۔ رقم۔ 1748، ترمذی،رقم:3189)(تفسیر ماجدی)
۔ اور جب والدین کو یہ حق حاصل نہیں ہے، جن کا حق خدا کے حق کے بعد سب سے بڑا ہے تو پھر دوسروں کے لئے اس حق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چنانچہ اسلام میں قانون ہے کہ لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق خالق کے حکم کے خلاف کسی مخلوق کی اطاعت بھی جائز نہیں۔(تدبرِ قرآن)
دوسرا رکوع |
| وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ ﴿14﴾ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ ﴿15﴾ وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿16﴾ اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ﴿17﴾ وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ﴿18﴾ اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ ﴿19﴾ قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ ﴿20﴾ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ ﴿21﴾ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ ۧ ۧ ﴿22ع العنكبوت 29﴾ |
| 14. اور ہم نے نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر اُن کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا۔ اور وہ ظالم تھے۔ 15. پھر ہم نے نوحؑ کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور کشتی کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا۔ 16. اور ابراہیمؑ کو (یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ 17. تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔ 18. اور اگر تم (میری) تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی اُمتیں (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں۔ اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔ 19. کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر (کس طرح) اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے۔ یہ خدا کو آسان ہے۔ 20. کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کیا ہے پھر خدا ہی پچھلی پیدائش پیدا کرے گا۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ 21. وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے۔ اور اُسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ 22. اور تم (اُس کو) نہ زمین میں عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں اور نہ خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار۔ |
تفسیر آیات
14۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں عمروں کا اوسط آج کی نسبت بہت زیادہ تھا۔ حضرت نوح ؑ کے والد کے عمر سات سو تہتر برس کی ہوئی۔ ان کے دادا کی عمر نو سو انہتر برس مذکور ہے۔ اسی طرح ان کے دوسرے اجداد میں سے کسی کی عمر نوسو باسٹھ برس مذکور ہے اور کسی کی آٹھ سو پچانوے برس۔ اس سے معلوم ہوا کہ نوح ؑ کی یہ عمر اس دو رکی اوسط عمر کے بالکل مطابق ہے۔ (تدبرِ قرآن)
15۔ وَ جَعَلْنٰهَا میں ضمیر کا مرجع کوئی معین لفظ نہیں ہے بلکہ وہ پورا واقعہ ہے جو اوپر بیان ہوا۔ عربی میں ضمیروں کے استعمال کا یہ طریقہ معروف ہے، اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔(تدبرِ قرآن)
16۔ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ تنبیہ کا کلمہ ہے۔ یعنی یہ بہترین نصیحت اور بہترین موعظت ہے جو میں بالکل وقت پر تمہیں پہنچا رہا ہوں بشرطیکہ تم اس کو سمجھو اور اس کی قدر کرو۔ (تدبرِ قرآن)
19۔ حضرت ابراہیمؑ کی بات جب قیامت کے ذکر تک پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے قیامت کے دلائل کا حوالہ دے کر ان کی بات کو مکمل اور کلام کےمطابق حال بنادیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
تیسرا رکوع |
| وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿23﴾ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ﴿24﴾ وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗ ۙ ﴿25﴾ فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ﴿26﴾ وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ﴿27﴾ وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ﴿28﴾ اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ﴿29﴾ قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿30ع العنكبوت 29﴾ |
| 23. اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اس کے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے نااُمید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا۔ 24. تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اُسے مار ڈالو یا جلا دو۔ مگر خدا نے اُن کو آگ (کی سوزش) سے بچالیا۔ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اُن کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔ 25. اور ابراہیم نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کر دو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا۔ 26. پس اُن پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ بیشک وہ غالب حکمت والا ہے۔ 27. اور ہم نے اُن کو اسحٰق اور یعقوب بخشے اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کر دی اور ان کو دنیا میں بھی اُن کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے۔ 28. اور لوط (کو یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو۔ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا۔ 29. تم کیوں (لذت کے ارادے سے) لونڈوں کی طرف مائل ہوتے اور (مسافروں کی) رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو۔ تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔ 30. لوط نے کہا کہ اے میرے پروردگار ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما۔ |
تفسیر آیات
24۔ قوم کا سیدنا ابراہیمؑ کو آگ کے الاؤ میں پھینک دینا:۔ سیدنا ابراہیمؑ کے حالات کے درمیان آیت نمبر 19 سے لے کر آیت نمبر23 تک اللہ تعالیٰ کا اپنا کلام ہے۔۔۔۔۔اس واقعہ پر منکرین معجزات کی تاویل اور اس کا جواب سورہ انبیاء کے حاشیہ نمبر 58 کے تحت ملاحظہ فرمائیے۔(تیسیر القرآن)
25۔ سلسلہ کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ بات آگ سے بسلامت نکل آنے کے بعد حضرت ابراہیم نے لوگوں سے فرمائی ہوگی۔ (تفہیم القرآن)
26۔ یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے جسے رفع کردینا ضروری ہے۔ ایک شخص سوال کرسکتا ہے کہ کیا اس واقعہ سے پہلے حضرت لوط کافر و مشرک تھے اور آگ سے حضرت ابراہیم کے بسلامت نکل آنے کا معجزہ دیکھنے کے بعد انہیں نعمت ایمان میسر آئی ؟ اگر یہ بات ہے تو کیا نبوت کے منصب پر کوئی ایسا شخص بھی سرفراز ہوسکتا ہے جو پہلے مشرک رہ چکا ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے یہاں فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جن سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس سے پہلے حضرت لوط خداوند عالم کو نہ مانتے ہوں، یا اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک کرتے ہوں، بلکہ ان سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہوں نے حضرت ابراہیم کی رسالت کی تصدیق کی اور ان کی پیروی اختیار کرلی۔ ایمان کے ساتھ جب لام کا صلہ آتا ہے تو اس کے معنی کسی شخص کی بات ماننے اور اس کی اطاعت کرنے کے ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ حضرت لوط ؑ اس وقت ایک نو عمر لڑکے ہی ہوں اور اپنے ہوش میں ان کو پہلی مرتبہ اس موقع پر ہی اپنے چچا کی تعلیم سے واقف ہونے اور ان کی شان رسالت سے آگاہ ہونے کا موقع ملا ہو۔ (تفہیم القرآن)
27۔ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ آپؑ کے بعد بھی مسلکِ توحید و رسالت کی دعوت آپؑ ہی کی اولاد کے ذریعہ سے ہوتی رہی۔قرآن مجید میں یہ کہیں بصیغۂ حصر تو وارد نہیں ہوا ہے لیکن جابجا بھی اس نعمت کا ذکر آیا ہے، سب کے سیاق پر غور کرنے سے متبادر یہی ہوتاہے کہ منصبِ نبوت اور عقیدہ توحید دنیا میں نسل ابراہیمی ہی کے ساتھ مخصوص رہاہے،جس کی دوبڑی شاخین اسرائیلی اور اسمٰعیلی ہیں۔۔۔خوب سمجھ لیا جائے، مطلق ہدایت کا یہاں ذکر نہیں ، وہ تو دنیا کی ہر قوم کو اپنی اپنی جگہ پہنچتی رہی ہے کہ بغیر اس کے حجتِ الٰہی قائم نہیں ہوتی۔۔۔ذکر ایک مخصوص منصب یعنی نبوت اور صاحب کتاب ہونے کا ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ حضرت اسحاق بیٹے تھے اور حضرت یعقوب پوتے۔ یہاں حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹوں کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ اولاد ابراہیم کی مدیانی شاخ میں صرف حضرت شعیب مبعوث ہوئے اور اسماعیلی شاخ میں سرکار رسالت مآب محمد ﷺ تک ڈھائی ہزار سال کی مدت میں کوئی نبی نہیں آیا۔ اس کے برعکس نبوت اور کتاب کی نعمت حضرت عیسیٰ ؑ تک مسلسل اس شاخ کو عطا ہوتی رہی جو حضرت اسحاق ؑ سے چلی تھی۔ (تفہیم القرآن)
چوتھا رکوع |
| وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚ ۖ ﴿31﴾ قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ﴿32﴾ وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ﴿33﴾ اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ﴿34﴾ وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ﴿35﴾ وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ﴿36﴾ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ ﴿37﴾ وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ ﴿38﴾ وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚ ۖ ﴿39﴾ فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ ﴿40﴾ مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ﴿41﴾ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ﴿42﴾ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ ﴿43﴾ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿44ع العنكبوت 29﴾ |
| 31. اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کر دینے والے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں۔ 32. ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں۔ ہم اُن کو اور اُن کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز اُن کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔ 33. اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ اُن (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے۔ فرشتوں نے کہا کچھ خوف نہ کیجئے اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچالیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔ 34. ہم اس بستی کے رہنے والوں پر اس سبب سے کہ یہ بدکرداری کرتے رہے ہیں آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ 35. اور ہم نے سمجھنے والے لوگوں کے لئے اس بستی سے ایک کھلی نشانی چھوڑ دی۔ 36. اور مدین کی طرف اُن کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا (اے قوم) خدا کی عبادت کرو اور پچھلے دن کے آنے کی اُمید رکھو اور ملک میں فساد نہ مچاؤ۔ 37. مگر اُنہوں نے اُن کو جھوٹا سمجھا سو اُن کو زلزلے (کے عذاب) نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ 38. اور عاد اور ثمود کو بھی (ہم نے ہلاک کر دیا) چنانچہ اُن کے (ویران گھر) تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں اور شیطان نے اُن کے اعمال ان کو آراستہ کر دکھائے اور ان کو (سیدھے) رستے سے روک دیا۔ حالانکہ وہ دیکھنے والے (لوگ) تھے۔ 39. اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ہلاک کر دیا) اور اُن کے پاس موسٰی کھلی نشانی لےکر آئے تو وہ ملک میں مغرور ہوگئے اور ہمارے قابو سے نکل جانے والے نہ تھے۔ 40. تو ہم نے سب کو اُن کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ سو ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینھہ برسایا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ اور کچھ ایسے تھے جن کو غرق کر دیا اور خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔ 41. جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے اُن کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے۔ کاش یہ (اس بات کو) جانتے۔ 42. یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اُسے جانتا ہے۔ اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔ 43. اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور اُسے تو اہلِ دانش ہی سمجھتے ہیں۔ 44. خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ ایمان والوں کے لئے اس میں نشانی ہے۔ |
تفسیر آیات
31۔ " اس بستی " کا اشارہ قوم لوط کے علاقے کی طرف ہے۔ حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین کے شہر حبرون (موجودہ الخلیل) میں رہتے تھے۔ اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار (Dead Sea) کا وہ حصہ واقع ہے جہاں پہلے قوم لوط آباد تھی اور اب جس پر بحیرہ کا پانی پھیلا ہوا ہے۔ یہ علاقہ نشیب میں واقع ہے اور حبرون کی بلند پہاڑیوں پر سے صاف نظر آتا ہے۔ اسی لیے فرشتوں نے اس کی طرف اشارہ کر کے حضرت ابراہیم سے عرض کیا کہ " ہم اس بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں " (ملاحظہ ہو سورة شعراء حاشیہ 114) (تفہیم القرآن)
33۔ ہاں حضرت لوط ؑ کی بیوی کے انجام کی طرف دو مرتبہ اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اس سے مقصود اس حقیقت کو موکد کرنا ہے جو اوپر بیان ہوئی کہ دین کے معاملہ میں کوئی کسی دوسرے کے بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ (تدبرِ قرآن)
38۔عرب کے جن علاقوں میں یہ دونوں قومیں آباد تھیں ان سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا۔ جنوبی عرب کا پورا علاقہ جو اب احقاف، یمن اور حضر موت کے نام سے معروف ہے، قدیم زمانہ میں عاد کا مسکن تھا اور اہل عرب اس کو جانتے تھے۔ حجاز کے شمالی حصہ میں رابغ سے عقبہ تک اور مدینہ و خیبر سے تیما اور تبوک تک کا سارا علاقہ آج بھی ثمود کے آثار سے بھرا ہوا ہے اور نزول قرآن کے زمانہ میں یہ آثار موجودہ حالت سے کچھ زیادہ ہی نمایاں ہوں گے۔۔۔۔ یعنی جاہل و نادان نہ تھے۔ اپنے اپنے وقت کے بڑے ترقی یافتہ لوگ تھے۔ اور اپنی دنیا کے معاملات انجام دینے میں پوری ہوشیاری اور دانائی کا ثبوت دیتے تھے۔ اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شیطان ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور ان کی عقل سلب کر کے انہیں اپنے راستے پر کھینچ لے گیا۔ نہیں، انہوں نے خوب سوچ سمجھ کر آنکھوں دیکھتے شیطان کے پیش کیے ہوئے اس راستے کو اختیار کیا جس میں انہیں بڑی لذتیں اور منفعتیں نظر آتی تھیں اور انبیاء کے پیش کیے ہوئے اس راستے کو چھوڑ دیا جو انہیں خشک اور بدمزہ اور اخلاقی پابندیوں کی وجہ سے تکلیف دہ نظر آتا تھا۔ (تفہیم القرآن)
40۔ عذاب کی قسمیں: قومِ لوط پر حاصب(کنکر پتھر برسا دینے والی طوفانی ہوا) کا عذاب آیا۔عاد، ثمود، مدین پر صیحہ (کڑک) کا عذاب نازل ہوا۔قارون زمین میں دھنسا دیا گیا ۔فرعون اور ہامان پانی میں غرق کردئیے گئے۔(تدبرقرآن)
41۔یہ جانور بوقتِ ہجرت غار ثور کے دہانے پر جالا تان دینے کی وجہ سے قابلِ احترام ہوگیا۔ اس لئے اسے مارنا نہیں چاہئے ۔مگر جالوں کی صفائی ضروری ہے۔(معارف القرآن)
43۔ ۔۔۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی اصطلاح میں اصلی عالم وہ لوگ نہیں ہیں جو اپنے اوپر کتابوں کا بوجھ لادے ہوئے ہیں بلکہ عالم وہ ہیں جو آفاق وانفس کی نشانیوں پر غور کرنے والے اور ان سے صحیح سبق حاصل کرنے والے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
پانچواں رکوع |
| اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ ﴿45﴾ وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ ﴿46﴾ وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ ﴿47﴾ وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ﴿48﴾ بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ ﴿49﴾ وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ﴿50﴾ اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿51ع العنكبوت 29﴾ |
| 45. (اے محمدﷺ! یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو۔ کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ اور خدا کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اُسے جانتا ہے۔ 46. اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق سے کہ نہایت اچھا ہو۔ ہاں جو اُن میں سے بےانصافی کریں (اُن کے ساتھ اسی طرح مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اُتری اور جو (کتابیں) تم پر اُتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں۔ 47. اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اُتاری ہے۔ تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور بعض ان (مشرک) لوگوں میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو کافر (ازلی) ہیں۔ 48. اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اُسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہلِ باطل ضرور شک کرتے۔ 49. بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں۔ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے اُن کے سینوں میں (محفوظ) اور ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں۔ 50. اور (کافر) کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور میں تو کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں 51. کیا اُن لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو اُن کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کے لیے اس میں رحمت اور نصیحت ہے۔ |
تفسیر آیات
45۔ فحشا و منکر۔ بہت سی برائیاں ایسی ہیں جوشہوانی جذبات کی بے اعتدالی یا ان کے انحراف سے وجود میں آتی ہیں۔حضرت لوط نے اپنی قوم کی بے حیائی کےلئے فاحشہ کا لفظ استعمال فرمایا ۔جدید فکروفلسفہ اور نئی تہذیب کی برکت سے بے حیائی اور فحاشی کی جو نت نئی شکلیں وجود میں آئی ہیں اور آرہی ہیں ان کے مقابل میں قومِ لوط کی بے حیائی بالکل گردہوکے رہ گئی ہے (تدبر قرآن)
۔مغرب میں (pro lifeاورpro choice )کی بحثیں۔ امریکہ میں homo کے جلوس،-پاکستان کے beacon house میں عریانی کے مظاہرے، حال ہی میں پاکستان میں امریکی ایمبیسی میں Homo کے حق میں میٹنگز۔ یہ تمام حرکات فحشا و منکر کی نمایاں مثالیں ہیں۔(مرتب)
- یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ اثرات اس نما ز کے بیان ہو رہے ہیں جو صحیح تذکر اور اخلاص کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔ اگر کسی نماز کے اندر یہ اثرات مفقود ہوں تو لازماً وہ یا تو صحیح تذکر سے خالی ہے یا اخلاص سے۔ یعنی یا تو نماز پڑھنے والا اپنی نماز کے معنی مفہوم سے بالکل بیخبر ہے، اس کو کچھ معلوم نہیں کہ نماز میں اس نے کس چیز کا اقرار اور کس بات کا انکار کیا ہے یا یہ کہ اس نے محض دوسروں کو دکھانے کے لئے ریاکاری (ایکٹنگ) کی ہے۔۔۔۔۔’ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ‘۔ یہ نماز کے دوسرے پہلو کی طرف اشارہ ہے اور دو لفظوں کے اندر معانی کا ایک جہاں پوشیدہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس نازک موقع پر جماعت کے اندر عزم و حوصلہ اور قوت و استقامت پیدا کرنے کے لئے نماز کے اہتمام کی جو تاکید کی جا رہی ہے اس کو کوئی معمولی بات یا محض طفل تسلی نہ تصور کرے۔ اس سوئے ظن میں نہ مبتلا ہو کہ بھلا نماز جماعت کی تنظیم وتقویت میں کیا موثر ہوسکتی ہے ! حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے۔ اسی سے انسان کے دل کو حقیقی طمانیت و سکینت حاصل ہوتی ہے۔ 'اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ' (اچھی طرح سُن لو کہ دلوں کی طمانیت اللہ کی یاد سے حاصل ہوتی ہے) اور دل ہی انسان کے اندر وہ چیز ہے جو تمام عزم و حوصلہ کا منبع ہے۔ اگر دل مضبوط ہے تو انسان سے زیادہ طاقت ور کوئی چیز نہیں اور اگر دل کمزور ہے تو انسان سے زیادہ ناتوان کوئی شے نہیں اور دل کی قوت دینے والی اصلی چیز خدا کی یاد ہے جس کی سب سے زیادہ بہتر جامع اور موثر شکل نماز ہے۔(تدبر قرآن)
ع۔ دلِ بیدار فاروقی ،دل بیدار کراری مسِ آدم کےحق میں کیمیا ہے دل کی بیداری
دلِ بیدارپیدا کرکہ دل خوابیدہ ہے جب تک نہ تیری ضرب ہے کاری نہ میری ضرب ہے کاری (علامہ اقبال)
ــــ شہوانی جذبات کی بے اعتدالی یا ان کے انحراف سے وجود میں آنے والی برائیاں بے حیائی کے تحت آتی ہیں اور طمع و حرص کی بے اعتدالی اورحب جاہ و مال کی زیادتی سے ظہور میں آنے والی برائیاں منکر کے تحت آتی ہیں۔فرمایا کہ نماز ان تمام قسم کی برائیوں سے روکتی ہے۔نماز اگر صحیح تذکر اور اخلاص کے ساتھ اداکی جائے گی تو ان حقائق کی برابر یاددہانی کراتی رہے گی جو آدمی کو زندگی کی صحیح شاہراہ پر قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ یہاں نماز کے اہتمام کی تاکید جماعت کی تنظیم و تقویت کے پہلو سے کی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
ــــ مرض جتنا شدید ہو دوابھی اتنا ہی زیادہ عرصہ لینی پڑتی ہے اور پرہیز کہیں زیادہ ضروری ۔آرام کے بعد بھی ۔علاج بالغذا۔(تفسیر عثمانی)
ــــ نماز نمازی کو گناہ سے منع کرتی ہے لیکن یہ کیا ضروری ہے کہ جس کو کسی کام سے منع کیا جائے وہ اس سے بازبھی آجائے ۔ قرآن و حدیث بھی گو بالتفصیل گناہوں سے منع کرتے ہیں کیا لوگ اس کے باوجود گناہ نہیں کرتے۔۔۔۔۔ اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے۔ ایسی عبادت جس میں نماز بھی شامل ہے اور تلاوتِ قرآن بھی ۔کسی خاص تیاری یا انداز کی بھی ضرورت نہیں ۔اللہ اپنے فرشتوں کے مجمع میں ایسے آدمی کا ذکر کرتاہے ۔ذکر کرنے والے کا اعزاز۔فَاذْكُرُوْنِیْ اَذْكُرْكُمْ ۔(معارف القرآن)
۔ لیکن تلاوت قرآن اور نماز سے یہ طاقت انسان کو اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب وہ قرآن کے محض الفاظ پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کی تعلیم کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر اپنی روح میں جذب کرتا چلا جائے، اور اس کی نماز صرف حرکات بدن تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے قلب کا وظیفہ اور اس کے اخلاق و کردار کی قوت محرکہ بن جائے، نماز کے وصف مطلوب کو تو آگے کے فقرے میں قرآن خود بیان کررہا ہے۔ رہی تلاوت تو اس کے متعلق یہ جان لینا چاہیے کہ جو تلاوت آدمی کے حلق سے تجاوز کر کے اس کے دل تک نہیں پہنچتی وہ اسے کفر کی طغیانیوں کے مقابلے کی طاقت تو درکنار خود ایمان پر قائم رہنے کی طاقت بھی نہیں بخش سکتی، جیسا کہ حدیث میں ایک گروہ کے متعلق آیا ہے کہ یقرؤون القران ولا یجاوز حناجرھم یمرقون من الدین مروق السھم من الرمیۃ۔ " وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے "۔ (بخاری، مسلم، مؤطا) (تفہیم القرآن)
ــــ ایک حدیث کا مفہوم۔ جس آدمی کو اس کی نماز بے حیائی اور برے کاموں سے نہیں روکتی وہ نماز اسے اللہ سے دورکردے گی اور اللہ کی رضا نہیں بلکہ ناراضگی کا باعث بنے گی۔ (ضیاء القرآن)
ــــ جب تیرا ذکر چھڑ گیا صبح مہک مہک اٹھی ۔ جب تیرا غم جگالیا شام مچل مچل گئی
نہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سے تیرے ذکر سے ،تیری فکر سے ،تیری یاد سے ،تیرے نام سے
۔۔۔۔ہروقت حضورئ قلب ۔دل یارولے ہتھ کارولے۔
ـ۔۔۔۔۔۔ حضورؐ نے فرمایا : مومن مسجد میں اس طرح سے ہوتاہے جیساکہ مچھلی پانی میں اور منافق مسجد میں اس طرح ہوتاہے جیسے پرندہ قفس میں ۔
داغ وارفتہ کو ہم رات تیرے کوچے سے اس طرح کھینچ کے لائے ہیں کہ جی جانتاہے (انوار القرآن)
۔پہلے رکوع اور آخری تین رکوعوں میں تحریک اسلامی کے مجاہدوں اور کارکنوں اور منافقین و مشرکین سے ملا جلا خطاب۔ اس کی حکمت ۔مکی قرآن میں اسی ایک سورۂ میں منافقین کا لفظ آیاہے ۔اس سے پہلے ان کا کردار نمایاں کیا گیا ہے۔مثلاً سورۂ حج میں ،یہاں اسے کھول دیا گیا ہے ۔اسی طرح یہاں یٰعبادی الذین اٰمنوا کا خطاب اور اس کی خوبصورت اور اپنائیت بمقابلہ یاایھاالذین امنو۔(بیان القرآن)
ــــ اگر نماز برائی اورفاحشات سے نہیں روکتی تو یہ نماز میں غافل رہنے کا ثبوت ہے:۔اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نماز میں تاثیر ہی یہ رکھ دی ہے کہ اس سے بے حیائی اوربرے کاموں کا ارادہ ختم ہوجاتاہے۔جیسے پانی میں اللہ نے یہ تاثیر رکھ دی ہے کہ وہ پیاس کو بجھا دیتاہے۔اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ نماز سے مطلوب یہ ہے کہ نمازی بے حیائی اور برے کاموں سے باز آجائے۔(تیسیر القرآن)
۔ مگر اکثر حضرات مفسرین نے فرمایا کہ نماز کے منع کرنے کا مفہوم صرف حکم دینا نہیں بلکہ نماز میں بالخاصہ یہ اثر بھی ہے کہ اس کے پڑھنے والے کو گناہوں سے بچنے کی توفیق ہوجاتی ہے، اور جس کو توفیق نہ ہو تو غور کرنے سے ثابت ہوجائے گا کہ اس کی نماز میں کوئی خلل تھا اور اقامت صلوة کا حق اس نے ادا نہیں کیا، احادیث مذکورہ سے اسی مضمون کی تائید ہوتی ہے۔ (معارف القرآن)
ــــتحریک اسلامی کے کارکنوں کےلئے دس ہدایات۔
ر۔5:(i) آیت 45۔ (تلاوت قرآن،اقامتِ صلوٰۃ ،ذکر اللہ ) (ii) آیت 46۔ (اہل کتاب سے احسن انداز سے بحث و تکرار ۔ان سے کیاکہاجائے ۔ آیت:46 کا بقیہ حصہ)اس رکوع کی بقیہ آیات اور اگلے رکوع کی آیت :55 تک منافقین اور مشرکین سے خطاب۔
ر۔6 (iii) آیت 56۔"میری زمین وسیع ہے" سے ہجرت کی طرف اشارہ ۔اس لئے میری ہی عبادت کرو(iv) آیت: 57۔ ہرجاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے پھرتم ہماری طرف ہی لوٹائے جاؤگے۔(v) آیت:58۔ ایمان اور نیک عمل ۔ا س کا انعام (vi) آیت 59۔صبر اور اپنے رب پر توکل (vii)آیت 60۔رزق اللہ دیتاہے۔ر۔7 (viii) آیت :64۔( اصل زندگی ،آخرت کی زندگی )۔(ix)آیت:69۔مجاہدین کو ہم اپنی راہیں ضرور دکھاتے ہیں۔(x)آیت: 69۔ اللہ محسنین کے ساتھ ہے۔(بیان القرآن)
چھٹا رکوع |
| قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ﴿52﴾ وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ﴿53﴾ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ ﴿54﴾ یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿55﴾ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ ﴿56﴾ كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ ﴿57﴾ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ ﴿58﴾ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ ﴿59﴾ وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ﴿60﴾ وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ ﴿61﴾ اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ﴿62﴾ وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿63ع العنكبوت 29﴾ |
| 52. کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے۔ اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اُٹھانے والے ہیں۔ 53. اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اگر ایک وقت مقرر نہ (ہو چکا) ہوتا تو اُن پر عذاب آبھی گیا ہوتا۔ اور وہ (کسی وقت میں) اُن پر ضرور ناگہاں آکر رہے گا اور اُن کو معلوم بھی نہ ہوگا۔ 54. یہ تم سے عذاب کے لئے جلدی کررہے ہیں۔ اور دوزخ تو کافروں کو گھیر لینے والی ہے۔ 55. جس دن عذاب اُن کو اُن کے اُوپر سے اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور (خدا) فرمائے گا کہ جو کام تم کیا کرتے تھے (اب) اُن کا مزہ چکھو۔ 56. اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو میری زمین فراخ ہے تو میری ہی عبادت کرو۔ 57. ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے۔ 58. اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کو ہم بہشت کے اُونچے اُونچے محلوں میں جگہ دیں گے۔ جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ (نیک) عمل کرنے والوں کا (یہ) خوب بدلہ ہے۔ 59. جو صبر کرتے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ 60. اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اُٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ 61. اور اگر اُن سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ اور سورج اور چاند کو کس نے (تمہارے) زیر فرمان کیا تو کہہ دیں گے خدا نے۔ تو پھر یہ کہاں اُلٹے جا رہے ہیں۔ 62. خدا ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے۔ 63. اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے۔ لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے۔ |
تفسیر آیات
53۔ اس آیت میں جس عذاب کی جلدی کا مطالبہ کیا جارہاہے وہ دنیا کا عذاب ہے۔ اور وہ اللہ کے ضابطہ کے مطابق فتح مکہ کے دن آیا تھا۔جب کفار ِ مکہ کو ایک دم مسلمانوں کی یلغار کی خبر ہوئی اور ان میں مقابلہ کی سکت ہی نہ رہی۔(تیسیر القرآن)
54۔ اس آیت میں عذاب سے مراد اخروی عذاب ہے۔جس میں یہ ابھی پڑچکے اور جہنم انہیں اپنے گھیرے میں لے چکی ہے ۔یہ لوگ خوامخواہ جلدی مچارہے ہیں ان کے مرنے کی دیر ہے۔یہ اپنے مطلوبہ عذاب کی آغوش میں جاپہنچیں گے۔(تیسیر القرآن)
55۔یقول کا ایک معنی تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے اور دوسرا یہ بھی ہوسکتاہے کہ جہنم کا عذاب خود انہیں یہ بات کہے گا۔چنانچہ سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا جس شخص کو اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادانہ کرے تو قیامت کے دن اس کا مال ایک گنجے سانپ کی شکل بن کر، جس کی آنکھوں پر دوکالے داغ ہوں گے اس کے گلے کا طوق بن جائے گا پھر اس کی دونوں باچھیں پکڑ کرکہے گا:میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔(بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ باب اثم مانع الزکوٰۃ)(تیسیر القرآن)
56۔ ہجرت کرنے سے سب سے پہلا خطرہ اپنی اور متعلقین کی جان کا ۔جواب اگلی آیت میں(کل نفس ذائقۃ الموت) دوسراخطرہ کہ رزق کا سامان کیا ہوگا۔رزق دینے والا تو اللہ ہی ہے جو بغیر کسی ظاہری سامان کے بھی رزق دیتا ہے۔تمام جانداروں کا رزق اور تمہارا بھی۔(معارف القرآن)
60۔ خدا کا خوانِ کرم بہت کشادہ ہے :۔ یعنی جس طرح خدا کی زمین بہت کشادہ ہے اسی طرح خدا کا خوانِ کرم بھی بہت کشادہ ہے۔اگر اللہ کی راہ میں اموال و جائداد سے دست بردار ہونا پڑجائے تو بے درنگ ہاتھ جھاڑ کے اٹھ کھڑے ہونا۔یہ نہ سوچنا کہ آگے کیا کھائیں گے اور کہاں سے پہنیں گے؟ دیکھتے ہوکہ اس زمین میں کتنے جاندارہیں جو اپنے ساتھ اپنی روزی باندھے نہیں پھرتے تاہم ان کا رب ان کو ان کا رزق بہم پہنچاتاہے۔وہی رب ان کو بھی رزق دیتا ہے وہی تم کو بھی رزق دیتا ہے۔وہ سمیع و علیم ہے۔اس وجہ سے ہر ایک کی فریاد سنتا اور ہر ایک کی ضرورت کو جانتاہے۔اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ تم اس کو پکاروگے اور وہ بے خبر رہے گا یا تم حاجت مند ہوگے اور وہ تمہاری پریشانی سےناواقف ہوگا۔یہی حکمت سیدنا مسیحؑ نےاپنے انداز میں یوں واضح فرمائی ہے:۔"تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کرسکتے ۔اس لیے میں تم سے کہتاہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے؟"اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے؟ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟ ہواکے پرندوں کو دیکھونہ بوتے ہیں نہ کاٹتے۔نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تمہارا آسمانی باپ ان کو کھلاتاہے ۔کیا تم ان سے زیادہ قدر نہیں رکھتے؟تم میں ایسا کون ہے جو فکر کرکے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھاسکے؟اور پوشاک کیلئے کیوں فکرکرتے ہو؟جنگلی سوسن کے درختوں کو غورسے دیکھوکہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے نہ کاتتے ہیں تو بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے ان میں سے کسی مانند ملبّس نہ تھا۔پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے کل تنور جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتاہے تو اے کم اعتقادو،تم کوکیوں نہ پہنائے گا!اس لیے فکر مند ہوکریہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے؟ کیونکہ ان سب چیزوں کی تلاش میں غیر قومیں رہتی ہیں اور تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تم ان سب چیزوں کے محتاج ہو۔بلکہ تم پہلے اس کی بادشاہی اور اس کی راست بازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔پس کل کیلئے فکرنہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لیے آپ فکر کرلے گا۔آج کیلئے آج ہی کا دکھ کافی ہے"۔(متی باب6: 25 تا 34)(تدبرقرآن)
62۔ کسی کو کم یا زیادہ رزق دینے میں اللہ کی حکمتیں اور بندوں کے مصالح:۔ وہ یہ بات خوب جانتاہے کہ فلاں بندے کو اگر رزق زیادہ دیا گیا تو وہ اس سے خیر اور بھلائی ہی کمائے گا اور فلاں کو زیادہ دیا گیا تو وہ میری یاد سے غافل، سرکش اور متکبر بن جائے گا اور کہیں کسی کو مال زیادہ دے کر اسے ابتلاء میں ڈال دیتاہے۔غرضیکہ مال سے جتنی انسان کو محبت ہے اتنا ہی وہ مال اس کے حق میں فتنہ بھی بن سکتاہے۔سیدنا ابوہریرۃؓ نبی اکرمؐ سے روایت کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا : ایک شخص جنگل میں کھڑا تھا۔اس نے بادل سے آواز سنی۔(کسی نے آواز دی)کہ فلاں آدمی کے باغ کو پانی پلاؤ۔چنانچہ بادل ایک طرف چلا۔اور اپنا پانی ایک سنگلاخ زمین پر انڈیل دیا۔ اچانک نالیوں میں سے ایک نالے نے سارا پانی جمع کرلیا۔وہ آدمی پانی کے پیچھے چلا ۔دیکھا کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا ہے اور اپنے بیلچے سے پانی ادھر اُھر تقسیم کررہاہے۔اس آدمی نے کہا : "اللہ کے بندے تمہارا نام کیا ہے؟"اس نے کہاں فلاں، وہی نام جو اس نے بادل سے سنا تھا۔پھر اس نے دریافت کیا، کہ اے اللہ کے بندے تو نام کیوں پوچھتا ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے اس بادل سے جس کا یہ پانی ہے آواز سنی تھی کہ فلاں کے باغ کو پانی پلا اور تیرا نام لیا، پس تو اپنے باغ میں کیا کرتاہے،اس نے کہا جب تونے پوچھا ہے تو میں بتادیتا ہوں کہ جو کچھ میرے باغ میں پیدا ہوتاہے ۔اس کا تہائی حصہ صدقہ کردیتا ہوں اور ایک تہائی میں اور میرا عیال کھاتاہے۔اور ایک تہائی اس باغ میں لگادیتاہوں۔(صحیح مسلم۔کتاب الزھد۔باب فضل الانفاق علی المساکین وابن السبیل)(تیسیر القرآن)
63۔زمین پر آسمان سے بارش برسنے، پھر زمین سے نباتات برآمد ہونے میں اللہ نے اپنی جس قدر مخلوق کو لگارکھا ہے۔پھر اس بارش سے جوفوائد حاصل ہوتے ہیں ان پر غور کرنے سے بے اختیار انسان کی زبان سے اللہ کی تعریف جاری ہوجاتی ہے۔اور الحمد للہ کا عربی زبان میں دوسرا استعمال یہ ہے کہ جب فریق مخالف پر کوئی ایسی دلیل پیش کی جائے جو اس کے ہاں مسلم ہو اور وہ اس کے برعکس کام کررہاہو تو اس وقت اتمام حجت کے طورپر الحمد للہ کہا جاتاہے۔اس آیت میں الحمد للہ کا لفظ اپنے دونوں مفہوم میں استعمال ہواہے۔(اس سلسلہ میں سیدنا ثعلبہ بن حاطب انصاری کا واقعہ بھی بیان کیا جاتاہے کہ وہ رسول اللہؐ کی دعا کے سبب بہت مال دار ہوگئے اور مال و دولت کی کثرت کے سبب ان کی نمازیں بھی جاتی رہیں۔حتیٰ کہ جمعہ بھی ترک کرنے لگے مگر محدثین کرام نے اس واقعہ کی صحت سے انکار کیا ہے۔جن میں امام ابن حزم، بیہقی،ابن اثیر، قرطبی، حافظ ابن حجر اور امام سیوطی رحمہم اللہ شامل ہیں۔تیسیر القرآن جلد دوم۔(طبع اول)میں بھی صفحہ نمبر 238 پر یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ آئندہ ایڈیشن میں اس کو ان شاء اللہ محو کردیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو اور مفسر مرحوم کو بھی معاف فرمائے اور ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطافرمائے ۔آمین)(پروفیسر نجیب الرحمن کیلانی)(تیسیر القرآن)
ساتواں رکوع |
| وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ﴿64﴾ فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ ﴿65﴾ لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ﴿66﴾ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ ﴿67﴾ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ ﴿68﴾ وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿69ع العنكبوت 29﴾ |
| 64. اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ (لوگ) سمجھتے۔ 65. پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اُسی کی عبادت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ شرک کرنے لگے جاتے ہیں۔ 66. تاکہ جو ہم نے اُن کو بخشا ہے اُس کی ناشکری کریں اور فائدہ اٹھائیں (سو خیر) عنقریب اُن کو معلوم ہوجائے گا۔ 67. کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد ونواح سے اُچک لئے جاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ 68. اور اس سے ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب حق بات اُس کے پاس آئے تو اس کی تکذیب کرے۔ کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہے؟ 69. اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم اُن کو ضرور اپنے رستے دکھا دیں گے۔ اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔ |
تفسیر آیات
64۔ گمراہی کا اصل سبب ۔ دنیائے فانی کی دلفریبیوں نے ان کو گرویدہ کرلیا ہے جبکہ اس کی اصل چند روزہ لہو و لعب سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ دنیا کی زندگی قدر وقیمت رکھنے والی چیز اس صورت میں بنتی ہے جب اسے آخرت کو نصب العین بناکرگزاراجائے ۔یہ نصب العین اگر نظروں سے اوجھل ہوجائے تو پھریہ محض چند دن کا کھیل تماشہ ہے۔(تدبر قرآن)
۔ یعنی اس کی حقیقت بس اتنی ہی ہے جیسے بچے تھوڑی دیر کے لیے کھیل کود لیں اور پھر اپنے اپنے گھر کو سدھاریں۔ یہاں جو بادشاہ بن گیا ہے وہ حقیقت میں بادشاہ نہیں بن گیا ہے بلکہ صرف بادشاہی کا ڈراما کر رہا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب اس کا یہ کھیل ختم ہوجاتا ہے اور اسی بےسروسامانی کے ساتھ وہ تخت شاہی سے رخصت ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ اس دنیا میں آیا تھا۔ (تفہیم القرآن)
ــــ جنت کا خوبصورت نقشہ ۔ اہل جنت کا کیا مقام ہوگا؟ اور وہاں ان کو کیسی نعمتیں ملیں گی؟ایک حدیث میں ہے:"جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کی صورتیں چودھویں کے چاندکی طرح چمک رہی ہوں گی،وہ تھوک، ناک کی رطوبت اور بول و براز (بشری ضروریات)سے مبراہوں گے،ان کے برتن سونے کے اور کنگھیاں بھی سونے چاندی کی ہوں گی۔انگیٹھیوں میں عود کی خوشبودار لکڑی استعمال ہوگی،ان کے پسینے سے مشک کی خوشبو پھوٹے گی،ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی،جن کی خوبصورتی اور نزاکت اتنی زیادہ ہوگی کہ ان کی پنڈلی کی ہڈی کا گودا بھی باہر سے دکھائی دے رہاہوگا۔جنتی آپس میں اختلاف اور بغض سے پاک ہوں گے اور صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کریں گے۔"(صحیح بخاری،بدء الخلق باب: 8،حدیث: 3245)(احسن الکلام)
65۔ عکرمہ ؓبن ابوجہل کی کشتی کا طوفان میں گھر جانا۔ جیسے فتح مکہ کے موقع پر عکرمہ بن ابی جہل رسول اللہؐ سے ڈرکر بھاگ گئے اور حبشہ جانے کیلئے کشتی میں سوارہوئے ہی تھے کہ کشتی طوفان میں گھر گئی ۔کشتی میں سوار لوگ ایک دوسرے سے کہنے لگے :اللہ وحدہ کے سوا تمہیں کوئی نہیں بچاسکتا۔لہذا پورے اخلاص کے ساتھ اس سے دعاکرو۔ عکرمہ نے اپنے جی میں کہا :"اللہ کی قسم!اگر سمندر میں اللہ وحدہ کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا تو پھر یقیناً زمین پر بھی اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اے اللہ!میں تیرے حضور عہد کرتاہوں کہ اگر تونے مجھے اس (طوفان)سے بچالیا تو میں سیدھا جاکر اپناہاتھ نبی کریمؐ کے ہاتھ میں دے دوں گا اور یقیناً وہ مجھ پر شفقت اور مہربانی فرمائیں گے۔"چناچہ وہ سمندر سے باہر نکل آئے۔عکرمہ سیدھے نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے(اپنا قصہ بیان کیا)اور اسلام قبول کرلیا(جیساکہ انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا)اور ایک کامل مسلمان بن گئے۔(تفسیر ابن کثیر،سورۂ بنی اسرائیل :17/67)(احسن الکلام)
68۔ یعنی نبی نے دعوائے رسالت کیا ہے اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے۔ اب معاملہ دو حال سے خالی نہیں۔ اگر نبی نے اللہ کا نام لے کر جھوٹا دعویٰ کیا ہے تو اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ اور اگر تم نے سچے نبی کی تکذیب کی ہے تو پھر تم سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ (تفہیم القرآن)
69۔کفار کو ان کے ٹھکانے تک پہنچا کر ان مظلوم مسلمانوں کی طرف پھر توجہ فرمائی جن کا مسئلہ اس سورۂ کی ابتدا سے زیر بحث ہے۔ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۔یہ ان لوگوں کےلئے اللہ کی معیت کی بشارت ہے جنکو یہ معیت حاصل ہو،شمس و قمر ان کی راہ میں گرد ہیں لیکن یہ بشارت احسان کی قید کے ساتھ مقید ہے۔(تدبر قرآن)
ــــ جہاد کے اصلی معنی دین میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کرنے کے ہیں ۔ اس میں وہ روکاٹیں بھی داخل ہیں جو کفار و فجار کی طرف سے پیش آتی ہیں۔ کفار سے جنگ و مقاتلہ اس کی اعلیٰ فرد ہے اور وہ روکاوٹیں بھی داخل ہیں جو اپنے نفس اور شیطان کی طرف سے پیش آتی ہیں۔ دونوں قسموں پر اس آیت میں وعدہ ہے کہ ہم جہاد کرنے والوں کو ہدایت کردیتے ہیں۔ (معارف القرآن)
- لغت ِ عرب میں جہاد کا مفہوم۔ دشمن سے بچاؤ کرنے کےلئے اپنی امکانی قوت و طاقت کو صرف کردینا جہاد اور مجاہدہ کہلاتاہے ۔اس سےمعلوم ہواکہ ایسی کوشش جس میں بے دلی سے کام لیا گیا ہو اُسے جہاد نہیں کہیں گے خواہ یہ بے دلی میدان جنگ میں ہو یا شیطان کے وسوسوں اور ہوائے نفس کے خلاف تگ و دو میں۔(ضیاء القرآن)