3 - سورة آل عمران (مدنیہ)

رکوع - 20 آیات - 200

مضمون: نبی اکرمؐ کی رسالت کا اثبات، بالخصوص نصاریٰ پر۔بتایا ہے کہ اللہ کی طرف سے صرف دین اسلام ملا ہے۔اس دین میں تقسیم و تجزیہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس دین کا مطالبہ ہر حالت میں اللہ و رسول کی اطاعت اور ان کے احکام کی فرمانبرداری ہے،خواہ حالات نرم ہوں یا سخت۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔   سورۃ آل عمران سورۃ بقرہ کا جوڑا (Compliment) ہے۔   سورۃ بقرہ میں زیادہ گفتگو  یہود  کے بارے میں ہے جبکہ سورۃ آل عمران میں زیادہ تر گفتگو نصاریٰ کے بارے میں ہے۔ آل عمران کی 31 آیات   ( 33تا 63)9 ہجری، عام الوفود میں نزول ہوا، جب وفدِ نجران کی آمد ہوئی۔سورۃ بقرۃ کے دو حصے ہیں جن میں پہلے 18 رکوع فلسفہ دین اور بنی اسرائیل پر مشتمل ہیں جبکہ اگلے 22 رکوع امتِ وسط کو ہدایات پر مشتمل ہیں۔ اسی طرح سورۃ آل عمران کے بھی دو حصے ہیں جو دس دس   رکوعوں پر مشتمل ہیں۔ آل عمران میں سود سے متعلق آیت اور سورۃبقرہ میں سود سے متعلق رکوع 9 ھجری میں نازل ہوئے۔دونوں سورتوں کے نصفِ ثانی میں مسلمانوں سے خطاب ہے جبکہ دونوں کا آخری رکوع فلسفہ قرآن اور دعا پر مشتمل ہے اور ان میں ایک جیسے الفاظ اور ایک جیسا انداز نظر آتا ہے۔ دونوں سورتوں کا مشترکہ نام الزھراوین ہے۔ (بیان القرآن)

سورۃ بقرۃ اور آلِ عمرآن: جس طرح سورۃ  بقرہ سورۃ بدر ہے، اسی طرح سورۃ آلِ عمرآن سورۃ احد ہے۔  مزید غور کیجئے تو یہ   بات بھی واضع ھو گی  کہ بقرہ میں ایمان کی حقیقت واضع کی گئی ہے اور اس سورۃ میں اسلام کی۔ دوسرے الفاظ میں اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بقرہ  میں اللہ کے آخری رسول پر ایمان لانے کی دعوت  ہے اور اس سورۃ میں اسلامی نظام اور اللہ کی حکومت  میں داخل ہونے کی دعوت ہے۔  (تدبرِ قرآن)

۔ اس پہلو سے دیکھئے تو معلوم ہو گا  کہ اس کے نصف ِ اول کی حیثیت تمھید کی ہے اور نصف  ثانی  کی حیثیت مقصود  کی۔  (تدبرِ قرآن)

فضیلت آل عمران:۔ رسول اللہ ؐ نے سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران کو الزھراوین یعنی جگمگانے والی سورتیں  فرمایا اور امت کو ان کے پڑھتے رہنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ انہیں پڑھاکرو۔قیامت کے دن وہ اس حال میں آئیں گی جیسے دوبادل یادوسائبان یا پرندوں کے دوجھنڈہیں،اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت کیلئے جھگڑا کریں گی۔(مسلم ،کتاب الصلوٰۃ، باب فضل قراءۃ القرآن وسورۃ البقرۃ)

ترتیب مطالعہ:

1۔پہلا رکوع : سورۂ بقرہ کے پہلے چاررکوعوں کی طرح سورت کا دیباچہ ۔۔۔2۔ دوسرا راور تیسرا رکوع: غزوۂ بدر کے بعد کے حالات مگر عمومی گفتگو (بدر کی تفصیل سورۂ انفال میں)۔پہلے تین رکوع اکٹھے پڑھنے چاہئیں۔تینوں کا زمانۂ نزول آخر سنہ 2ھ اور سنہ3ھ۔۔۔   3۔ چوتھے رکوع (تیسری آیت سے لیکر )چھٹے رکوع تک ۔سنہ9 ھ  میں وفد نجران کی آمد پر ۔۔۔۔ 4۔ساتویں رکوع سے بارہویں رکوع تک (غزوۂ بدر کے بعدسنہ 2ھ اور سنہ3 ھ میں نزول) لیکن عمومی خطاب  یہود ونصاریٰ اور مسلمانوں سے ۔عالمی سچائیاں (Universal Truths)اور قوموں کے عروج و زوال کے اصول۔۔۔ 5۔ 13 ویں رکوع سے 18 ویں رکوع تک (غزوۂ احد پر شاندار تبصرہ ۔سنہ 3 ھ)۔۔۔ ْ۔ ۔6۔خاتمۂ کلام: آخری دورکوع ۔19 واں رکوع اہل ِ کتاب سے اختتامی کلام ۔20 واں رکوع ۔سورۂ کا مرکزی مضمون ،فلسفۂ قرآن اور دعا۔

ایک اور ترتیب :

۔پوری سورت کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے(جو پہلے 10 رکوع (101 آیات) اور دوسرے 10 رکوع  (99 آیات) پر مشتمل ہیں ۔ پہلے دس رکوع اہلِ کتاب بالخصوص نصاریٰ سے متعلق ہیں۔ اس لئے بعض مفسرین نےکہا ہے کہ آیت : 1تا 90 وفد نجران کی آمد پر اور دسواں رکوع یہود کے متعلق نازل ہوا۔ نصفِ ثانی ( دس رکوع )عمومی طورپر مسلمانوں سے خطاب ہے ،اگرچہ بعض آیات اہلِ کتاب کے بارے میں بھی ہیں ۔

-پہلے گروہ(اہلِ کتاب) سے بالواسطہ اندازِ خطاب (بقرۂ میں بنی اسرائیل سے براہ راست ) ان کی اعتقادی گمراہیاں اور اخلاقی خرابیاں۔

- دوسرے گروہ (مسلمانوں) کو مزید ہدایات ۔بقرہ میں امتِ وسط ،یہاں خیر امت۔)بیان القرآن(

شانِ نزول:

(i) جنگ بدر کی فتح بھڑوں کے چھتے میں پتھر مارنے کے مترادف تھی ۔حالتِ جنگ میں مدینہ کے معاشی حالات بھی تسلی بخش نہ تھے۔ایک چھوٹی سی بستی میں مہاجرین کی بڑی تعداد کے آنے سے بھی حالات کافی خراب ہو گئے تھے۔

(ii) یہودی قبائل نے معاہدات کا ذرہ پاس نہ کیا۔ ان کا سردار کعب بن اشرف ہر قسم کے کمینہ پن پر اتر آیا تھا۔ان کی ہمدردیاں بت پرستوں اور مشرکین کے ساتھ تھیں ۔صحابہ کرام اس زمانے میں بالعموم ہتھیار باندھ کر سوتے تھے ،حضورؐ پر قاتلانہ حملے کا خطرہ  رہتا تھا اور شبخون کے ڈر سے مسلمان رات کو پہرے دیتے رہتے۔

(iii)قریش کی انتقام کی آگ پر تیل یہودیوں نے چھڑکا ۔ اور وہ غزوہ احد میں ایک ہزار کے مقابلے میں تین ہزار کا لشکر لیکر مدینہ پر چڑھ دوڑے۔ جبکہ تین سو منافقین مسلمانوںسے الگ ہو گئے۔

(iv) منافقین اور یہودیوں کی خباثتوں کے ساتھ مسلمانوں کی اپنی کمزوریاں بھی تھیں کیوِ نکہ    ان  کی اخلاقی تربیت ابھی مکمل نہ ہوسکی تھی ۔ اس سورۃ میں غزوہ احد پر قرآن کا تبصرہ ہے جو عام جنگی ماہرین کے تبصروں سے بہت مختلف ہے۔  (تفہیم القرآن : سورۃ آل عمرآن کے شانِ نزول کا خلاصہ)


پہلا رکوع

الٓمَّٓۙ 1 الم۔
اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ   2 خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہمیشہ زندہ رہنے والا
 نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ   3 اس نے (اے محمدﷺ) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی۔
 مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ  4 (یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لیے پہلے (تورات اور انجیل اتاری) اور (پھر قرآن جو حق اور باطل کو) الگ الگ کر دینے والا (ہے) نازل کیا جو لوگ خدا کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا اور خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے۔
 اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ 5 . خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔
 هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ  6 وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ میں) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
 هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ  7 وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں (اور) وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں۔
 رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ  8 اے پروردگار جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کر دیجیو اور ہمیں اپنے ہاں سے نعمت عطا فرما تو تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔
رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠   ۧ 9 اے پروردگار! تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں سب لوگوں کو (اپنے حضور میں) جمع کرلے گا بے شک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا۔

تفسیر آیات

1۔ الم: یہ اور اس طرح کے جتنے حروف بھی مختلف سورتوں کے شروع میں آئے ہیں چونکہ الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں اس وجہ سے ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں ۔۔۔۔ جہاں تک ان حروف کا تعلق ہے، یہ اہل عرب کے لئے کوئی بیگانہ چیز نہیں تھے بلکہ وہ ان کے استعمال سے اچھی طرح واقف تھے۔ اس واقفیت کے بعد قرآن کی سورتوں کا ان حروف سے موسوم ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے قرآن کے ایک واضح کتاب ہونے پر کوئی حرف آتا ہو۔ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حروف سے نام بنا لینا عربوں کے مذاق کے مطابق تھا بھی یا نہیں تو اس چیز کے مذاق عرب کے مطابق ہونے کی سب سے بڑی شہادت تو یہی ہے کہ قرآن نے نام رکھنے کے اس طریقہ کو اختیار کیا۔ اگر نام رکھنے کا یہ طریقہ کوئی ایسا طریقہ ہوتا جس سے اہل عرب بالکل ہی نامانوس ہوتے تو وہ اس پر ضرور ناک بھوں چڑھاتے اور ان حروف کی آڑ لے کر کہتے کہ جس کتاب کی سورتوں کے نام تک کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتے اس کے ایک کتاب مبین ہونے کے دعوے کو کون تسلیم کر سکتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

2۔یہ آیت "آیت الکرسی" کا نعم البدل ہے ۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ اسم اعظم سورۂ بقرہ،آل عمران اورطہٰ میں  موجود ہے۔  (مرتب)

۔  ان دونوں صفتوں کے اسرار و حقائق پر ہم آیت الکرسی کے اسرار و حقائق کے ضمن میں گفتگو کر چکے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

۔متشابہات جمع کرنے والے شخص کی حضرت عمر سے پٹائی ۔۔۔علم ذہنی عیاشی کےلئے نہیں (Mental Gymnastic) ( بیان القرآن)

-الحیّ۔وہ وہ خدا ہے جو ہمیشہ زندہ ہی ہے، زندہ ہی رہاہے اور زندہ ہی رہے گا،موت کا اس کیلئے کوئی امکان ہی نہیں،نہ صلیب کے اوپر نہ کسی اور طرح ۔اس کی حیات جس طرح آج قائم ہے،ہمیشہ قائم رہے گی۔یہ نہیں کہ اسے باربار قالب بدلتے رہنے کی ضرورت پیش آئے، کبھی وہ انسان بن جائے اور کبھی نعوذباللہ حیوان، پھر وہ زندہ اس طرح کا نہیں کہ ہرسال اس پر موت طاری ہواکرے اور پھر وہ حیات تازہ حاصل کرتارہے،الحی کے ایک لفظ نے اس کی قدیم و لازوال صفتِ حیات کا اثبات کرکے ان سارے خرافات کی تردید کردی،جودوسرے مذہبوں میں اس وقت تک موجود رہی تھیں،(ملاحظہ ہو:980 حاشیہ،سورۂ بقرہ)۔۔۔۔۔ ” القیوم “۔ وہ بذات خود قائم ہے اور ساری مخلوقات اس کے وجود سے قائم ہیں۔ یہ نہیں کہ وہ خود بھی کسی معنی میں کسی دوسرے کا محتاج ہو جیسا کہ مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ :۔"جس طرح بیٹا باپ کےبغیر تنہا خدانہیں اسی طرح باپ بغیر بیٹے کے تنہا خد انہیں"(انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجین اینڈ ایتھکس جلدج7، ص536)(تفسیر ماجدی)

7۔ کچھ قرآنی اصطلاحات:  آیات، محکمات ، ام الکتاب، متشابہات، تاویل (مطالعہ کیلئے صفحات: 25 تا 28۔ (تدبرِ قرآن)

8۔ دعاؤں کا سیاق و سباق سمجھنے کی کوشش۔  جیسےاس آیت میں  محکمات پر جمنے کی دعا ہے۔ (مرتب)

۔ دین میں ان کے جمے ہوئے قدم اکھڑنے نہ پائیں اور جب  فتنوں کی یورش ہو تو خدائے وہاب اپنے پاس سے ان کے لیے وہ روحانی کمک بھیجے جو ان کے ثباتِ قدم کا زریعہ بنے۔ (تدبرِ قرآن)


دوسرا رکوع

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ   10 جو لوگ کافر ہوئے (اس دن) نہ تو ان کا مال ہی خدا (کے عذاب) سے ان کو بچا سکے گا اور نہ ان کی اولاد ہی (کچھ کام آئے گی) اور یہ لوگ آتش (جہنم) کا ایندھن ہوں گے۔
 كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ  11 ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب (عذاب میں) پکڑ لیا تھا اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے۔
 قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ  12 . (اے پیغمبر) کافروں سے کہدو کہ تم (دنیا میں بھی) عنقریب مغلوب ہو جاؤ گے اور (آخرت میں) جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بری جگہ ہے۔
 قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ  13 تمہارے لیے دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑ گئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے جو اہل بصارت ہیں ان کے لیے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے۔
 زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ 14 لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانا ہے۔
 قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ   15 . (اے پیغمبر ان سے) کہو کہ بھلا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں اچھی ہو (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کے لیے خدا کے ہاں باغات (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے۔
 اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ   16 جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔
 اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ 17 یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں۔
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ   18 . خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ جو انصاف پر قائم ہیں وہ بھی (گواہی دیتے ہیں کہ) اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ 19 دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے اور اہل کتاب نے جو (اس دین سے) اختلاف کیا تو علم ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا اور جو شخص خدا کی آیتوں کو نہ مانے تو خدا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا) ہے۔
 فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠   ۧ ۧ 20 اے پیغمبر اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو کہنا کہ میں اور میرے پیرو تو خدا کے فرمانبردار ہو چکے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی (خدا کے فرمانبردار بنتے ہو) اور اسلام لاتے ہو؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بے شک ہدایت پالیں اور اگر (تمہارا کہا) نہ مانیں تو تمہارا کام صرف خدا کا پیغام پہنچا دینا ہے اور خدا (اپنے) بندوں کو دیکھ رہا ہے۔

تفسیر آیات

12۔ ۔۔بہرحال قرآنی پیشین گوئی کا اعجازی رنگ ہرصورت میں عیاں ہے، نزول آیت کے وقت مسلمانوں کی بے بسی ،بے سروسامانی و زبوں حالی دیکھ کر کوئی بھی انسانی دماغ یہ  پیشنگوئی نہیں کرسکتا تھا کہ مشرکین ِ مکہ یا یہود مدینہ کسی سے بھی یہ ایسی زبردست ٹکر لے سکتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

13۔  یہودیوں کا انجام:۔اس آیت میں اگر چہ روئے خطاب سب قسم کے کافروں سے ہے تاہم یہود مدینہ بالخصوص اس آیت کے مخاطب ہیں۔ ہوایہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں مسلمانوں کو فتح عظیم عطافرمائی اور اس سے متاثر ہوکر عبداللہ بن ابی(رئیس المنافقین)نے اپنے ساتھیوں سمیت اسلام قبول کرلیا تو رسول اللہؐ نےمدینہ کے درمیان بسنے والے یہود بنو قینقاع کو مخاطب کرکے فرمایا کہ "اے یہود! اسلام قبول کرلو تو عافیت میں رہوگے ورنہ تمہارا بھی وہی حشر ہوگا جومشرکین مکہ کا ہواہے لیکن وہ بجائے نصیحت قبول کرنے کے شیخی میں آگئے کہنے لگے کہ مکہ کے کافر تو جاہل اور فنون جنگ سے ناآشنا تھے جو پٹ گئے،ہم سے سابقہ پڑا تو سمجھ آجائے گی۔تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔(تیسیر القرآن)

- اشارہ غزوۂ بدر کی جانب ہے،جو سنہ2 ہجری میں ہواتھا۔لکم مخاطب ِ خصوصی یہاں یہودِ مدینہ ہیں جنہیں اپنے فنون ِ حرب پر بڑا غرہ تھا۔اٰیۃ: نشان اللہ کی قدرت و کارسازی اور رسول اللہؐ کی صداقت کا۔فی فئتین۔یعنی دوگروہوں کےواقعہ میں ،ایک گروہ مومنین بے سروسامان کا، دوسرا گروہ مشرکین باسازوسامان کا۔فئۃ تقاتل فی سبیل اللہ ۔یہ گروہ مومنین کا تھا،تعداد میں قلیل اور سامان میں حقیر تعداد میں کل 313 تھے،اور وہ بھی بغیر سامانِ حرب کے،اونٹ اتنے کم کہ چار چار پیادوں کے حصہ میں ایک ایک پڑتا تھا ،گھوڑے لشکر بھر میں کل دو ،آہنی زرہین اتنے آدمیوں میں کل سات۔واُخریٰ کافرۃ : یہ لشکر ریاست مکہ کا تھا ،تعداد میں مسلمانوں سے سہ چند تھا، یعنی 950 افراد پر مشتمل ،قریش کے بہترین سواروں کے زیر قیادت اور ہر ضروری سامان سے آراستہ ۔شترسوار ان میں 700 تھے اور اسپ سوار وزرہ پوش 100 تھے۔۔۔۔۔۔

- امام رازی نے اس کے تحت میں یہ نکتہ خوب لکھا ہے کہ انسان کا اصل مرجع توجنت ہی ہے،اس لئے کہ اللہ نے خلقت کی تکوین رحمت ہی کیلئے کی ہے ،نہ کہ عذاب کیلئے ،اور دوزخ جو مرجع ہے،وہ محض ضمناً اور ثانوی حیثیت سے ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ غزوہ بدر سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت:  بدر کے واقعہ میں کفار کے ان تمام  گروہوں  کے لئے غلبہ حق کی نشانی موجود تھی جو اس وقت قرآن  اور اسلام کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ اس وقت یہود ،  نصاریٰ اور  قریش، تیں جماعتیں براہِ راست  اسلام کی مخالفت کر رہی تھیں، اب دیکھئے کہ ان تینوں جماعتوں کی آنکھیں کھولنے  کے لیے اللہ تعالٰی نے کس طرح بدر کے معرکے کو اللہ کی نشانی بنایا۔ ۔۔۔ جہاں تک یہود کا تعلق ہے سورۃ بقرہ میں ۔۔۔، طالوت  کی فوج کْی تعداد  کے لحاظ  سے  بالکل جنگِ بدر کا آئینہ تھی۔۔۔۔آنحضرتؐ کے  ساتھ تین سو تیرہ آدمی تھے۔۔۔۔ بدر کے میدان میں ہتھیاروں کی لڑائی نہیں تھی بلکہ  حق و باطل کی  جنگ تھی اور انسانوں اور انسانوں کی آویزش نہیں بلکہ فرشتوں اور شیطانون کی جنگ تھی۔  چنانچہ قرآن  میں، جیسا کہ سورۃ انفال کی تفسیر میں ہم وضاحت کریں گے، اس بات کا اشارہ موجود ہے کہ یہود پر  حقیقت پوری طرح آشکارہ تھی لیکن اس کے باوجود  انھوں نے نبی آخر الزماں ﷺ کی اس نشانی کی کوئی قدر نہیں کی اور برابر اسلام کی مخالفت ہی کرتے رہے۔ ۔۔۔ یوحنا کے مکاشفات میں یہ مکاشفہ موجود ہے کہ نبی مو عود    (خاتم النبیین ﷺ) جب ظاہر ہوں گے تو وہ حق کی طاقت کے ساتھ جہاد کریں گے  اور ان کے جلو میں  کرّوبیوں کا لشکر ہو گا۔ یہ پیشگوئی بدر کے موقع پر  اس طرح ظاہر ہوئی  کہ لوگوں نے   اپنی آنکھوں سے ملائکہ کو کفار سے لڑتے  دیکھا۔۔۔۔ قریش کے لیے تو یہ جنگ ان کے اپنے مطالبے کے لحاظ سے بھی قرآن اور اسلام کی حقانیت کی ایک نا قابلِ تردید  شہادت تھی۔ انھوں نے خود نہایت آشکارہ  طور پر اس جنگ کو حق و باطل کے درمیان امتیاز کی ایک کسوٹی  قرار دیا تھا۔ ان کا اپنا اعلان یہ تھا  کہ اس جنگ میں  جس کی جیت ہو گی وہ حق پر  سمجھا جائے گا  اور جس کو شکست ہو گی وہ باطل پر۔ ابو جہل  نے عین  میدانِ جنگ میں یہ دعا کی تھی کہ " اللہم اقطعنا للرحم  فاحنہ الغداۃ" (اے اللہ فریقین میں سے جو سب سے زیادہ رشتہ رحم کاٹنے والا بنا ہے کل تو اس کو کچل دیجیو!)  ۔۔۔۔۔ " يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ "  میں "   يَرَوْنَهُمْ "  کی قرات نافع نے "   َترَوْنَهُمْ  "  کی ہے لیکن یہ قرات ہمارے نزدیک بطورِ تفسیر ہے۔ ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ فعل مخاطبین  یعنی کفّار کے لیے ہے یعنی اے کافرو! تمہارا حال یہ تھا کہ تم مسلمانوں کو اپنے  سے دگنا دیکھتے  تھے  ۔ انھوں نے اپنی اس تفسیر سے یہ حقیقت واضع  فرمائی  ہے کہ حریف کو اپنے سے دگنا دیکھنے کا معاملہ  مسلمانوں کو نہیں پیش آیا بلکہ کفار کو پیش آیا۔ نافع کی یہ تاویل بہت صحیح معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ  آیت میں اس بات کی صاف تصریح ہے             کہ اس چیز کو اللہ تعالی نے  کفار کے لیے ایک آیت (نشانی)      بنایا  اور اور اس بات کی بھی خاص طور پر تصریح  فرمائی کہ انھوں نے اس نشانی کو  سر کی آنکھوں سے دیکھا۔ اگر واقعہ اس کے برعکس ہوتا ، مسلمانوں نے کفار کو اپنے سے دگنا دیکھا ہوتا  تو اس میں کفار کے لیے  کیا نشانی تھی اور  ان کو مخاطب کر کے اس نشانی کا ذکر کیوں کیا جاتا؟۔۔۔۔۔ ایک سوال ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں یہاں پیدا ہو ۔ وہ یہ کہ سورۃ انفال میں  جہاں غزوہ بدر کا واقعہ بیان ہوا ہے  وہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کفار بھی مسلمانوں کی نظر میں     کم کر کے دکھائے گئے تھے اور مسلمان بھی کفار کی نگاہوں میں کم کر کے دکھائے گئے تھے ۔ یہ چیز آیت کی مذکورہ بالا تاویل کے خلاف  پڑتی ہے۔ لیکن اس سوال کا جواب ہمارے نزدیک  یہ ہے کہ کم د کھانے اور  زیادہ دکھانے کا معاملہ  دو مختلف مرحلوں میں  دو مختلف شکلوں میں ظاہر  ہوا ہے۔ میدانِ جنگ میں اترنے سے پہلے تو بلا شبہ یہی صورت رہی کہ مسلمانوں نے بھی کفار کی تعداد  معمولی محسوس کی اور کفار نے بھی مسلمانوں کو  نہایت حقیر پوزیشن میں محسوس کیا لیکن میدانِ جنگ میں عملاً  اتر جانے اور جنگ کے بالفعل شروع ہو جانے کے بعد دفعتًہ  صورتِ حال بدل گئی ۔ اب جو کفار نے میدانِ جنگ پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ نقشہ ہی اور ہے ۔ فرشتوں کی شرکت سے مسلمانوں کو اتنی فوقیت حاصل ہوگئی کہ وہ کفار کی  نگاہوں میں ان سے دگنی نظر آنے لگی۔ قرآن کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو مختلف مرحلوں میں ظاہر ہونا ایک خدا ساز بات  تھی اور مقصود اس سے یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ حق و باطل کو ایک دوسرے سے ٹکرائے اور حق کی امداد کے لئے اپنی غیبی تائید و نصرت ظاہر فرما کر حق کے مخالفوں پر اپنی حجت تمام کرے۔ چنانچہ اس حکمت کے تحت اس نے ابتدائی مرحلے مین مسلمانوں کی نگاہوں میں کفار کو اور کفار کی نگاہوں میں مسلمانوں کو کم کر کے دکھایا تا کہ ان میں کوئی فریق بھی ایک دوسرے سے ٹکر لینے سے خوف نہ کھائے۔ لیکن جب دونوں میں ٹکر ہو گئی اور میدانِ جنگ گرم ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے زریعے سے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کفار میدانِ جنگ کا نقشہ دیکھ کر بالکل مرعوب ہو گئے۔  (تدبرِ قرآن)

15۔ مولانا روم کی کشتی کی مثال۔بقول مولانا روم ؒ ، پانی (یعنی دنیا)کشتی (یعنی دل ) کے باہر ہوتو فائدہ مند ،اندر ہو تو تباہی ۔۔۔۔۔ پچھلی آیت میں دنیا کی چھ بڑی نعمتوں کو شمار کیا گیا تھا کہ لوگ ان کی محبت میں مست ہیں، یعنی عورتیں اولاد اور سونے چاندی کے ڈھیر اور عمدہ گھوڑے اور مویشی اور کھیتی، ان کے مقابلے میں آخرت کی نعمتوں میں بظاہر تین چیزوں کا بیان آیا، اول جنت کے سرسبز باغات، دوسرے پاک صاف عورتیں، تیسرے رضائے خداوندی۔۔۔۔۔  (معارف القرآن)

 17۔ عارفوں نے کہاہے کہ یہ تمام صفات اولیاء کے ہوتے ہیں۔۔۔امام رازی ؒ نے لکھا ہے کہ میرے خیال میں کوئی ایک صفت ان صفات ِ پنجگانہ سے کسی میں موجود ہوئی تو وہ بھی اسی اجرو مدح میں داخل ہوگا۔(تفسیر ماجدی)

18۔ یہاں  صرف پانچ صفات بیان ہوئی ہیں ۔ صبر، صدق، قنوت، انفاق، استغفار۔ (تدبرِ قرآن)

صبر کی حقیقت  نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں حق پر جزم و  استقامت ہے۔ غربت ، بیماری ، مصیبت  ، مخالفت ، جنگ، غرض جس قسم کے بھی حالات سے آدمی کو دو چار ہونا پڑے عزم و ہمت کے ساتھ ان کو برداشت کرے، ان کا مقابلہ کرے، ان سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے اور اپنے امکان کی حدتک  موقف ِ حق پر جما رہے۔ دل کو مایوسی اورگھبراہٹ  سے ، زبان کو شکوہ تقدیر سے اور اپنی گردن کو کسی باطل کے آگے جھکنے سے بچائے ۔ دین کا بڑا حصہ اسی صبر پر قائم ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ وصف نہ ہو   تو کوئی طمع ، کوئی ترغیب ، کوئی آزمائش، بھی اس کو حق سے ہٹا کر باطل کے آگے  سر نگوں کر سکتی ہے۔ جو شخص سچائی کے راستے پر چلنا چاہے اور اس پر چل کر استوار رہنے کا آرزو مند ہو اسے سب سے پہلے  اپنے اندر صبر کی صفت پیدا کرنی چاہیے۔ مزاحمتوں کے مقابلے کے لیے (اور اس راہ میں  ہر قدم مزاحمتوں سے مقابلہ ہے) اصلی ہتھیار بندے کے پاس یہی ہے ۔ فلسفہ دین کے مطابق دین نصف شکر ہے اور نصف صبر۔ لیکن عملی تجربہ گواہ ہے کہ اگر آدمی میں صبر نہ ہو تو شکر بھی ادا نہیں ہو سکتا۔ یہاں چونکہ خطاب ان لوگوں سے ہے جنہیں سچائی کی سب سے بڑی بلندی پر چڑھنے کی دعوت دی جا رہی ہے اس وجہ سے ان کے سامنے جن لوگوں کا نمونہ پیش کیا گیا ہے ان کے کردار میں سب سے پہلے ان کے صبر ہی کے پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔۔۔۔ 

۔صدق کی اصل حقیقت کسی شے کا بالکل مطابقِ  واقعہ ہونا ہے۔ اس کی روح  پختگی اور ٹھوس پن ہے۔ نیزے کی گرہیں دیکھنے میں جیسی مضبوط ظاہر ہو رہی ہیں آزمائش سے بھی ویسی ہی ثابت ہوں   تو ایسے نیزے کو عربی میں  " صادق الکوب" کہیں گے۔ زبان دل سے ہم آہنگ ہو،  عمل اور قول میں مطابقت ہو، ظاہر اور باطن ہم رنگ ہوں ، عقیدہ اور فعل دونوں ہم عناں ہوں ، یہ باتیں صدق کے مظاہر میں سے ہیں اور انسانی زندگی کا سارا ظاہر و باطن انھی سے روشن ہے۔ یہ نہ ہوں تو انسان کی ساری معنویت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہی چیز انسان کو وہ پرِ پرواز عطا کرتی ہے جس سے وہ روحانی بلندیوں پر چڑھتا ہے اور اس سے اس کے صبر کو بھی سہارا ملتا ہے۔۔۔۔۔

قنوت کی اصل روح اللہ جل و شانہ کے لیے تواضع اور تذلل ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی بے پایاں  نعمتوں کے شعور اور اس کی بے نہایت عظمتوں کے احساس کا قدرتی ثمرہ ہے۔ یہ نعمت کو شکر کا اور مصیبت کو صبر کا ذریعہ بناتی ہےاور ہر حالت میں بندے کو  اللہ تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ رکھتی ہے۔  اصلا" تو یہ عقل و دل کی فروتنی و انکساری ہے لیکن جس طرح قلب کی ہر حالت کا عکس انسان کے ظاہر پر بھی نمایاں ہوتا ہے  اسی طرح اس کا عکس بھی  انسان کی وضع قطع ، چال ڈھال، گفتار کردار ہر چیز پر نمایاں ہوتا ہے ۔ یہ اس  غرور اور گھمنڈ کی ضد ہے جو نعمتوں کو اپنے استحقاقِ ذاتی   کا ثمرہ سمجھنے  کا  نتیجہ ہوتا ہے اور اس  تلون اور بے صبرے پن کے بھی منافی ہے جو صبر و صدق کے فقدان سےپیدا ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔

انفاق کے معنی واضع ہیں ۔ یہ مرغوباتِ دنیا کی اس محبت کی ضد صفت ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ اگر مرغوباتِ دنیا کی محبت دل پر اس طرح چھا جائے  کہ وہ خدا اور بندوں کے حقوق  سے انسان کو روک دے تو  یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن نے " زین للناس" سے تعبیر کیا ہے۔ انفاق کی خصلت اس امر کی شہادت ہے کہ صاحبِ انفاق کی نظر میں اصلی قدر و قیمت دنیوی خذف ریزوں  کی نہیں بلکہ آخرت کی ابدی زندگی  اور اس کی لا زوال نعمتوں کی ہے ۔ برعکس اس کے جو شخص خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کرتا ہے وہ اپنے عمل سے ثابت کرتا ہے کہ اس کی نگاہ میں  ساری قدر و قیمت بس اسی فانی دنیا  ہی کی ہے۔ آخرت کی زندگی کا اس کے ذہن میں سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔  ۔۔۔۔

استغفار کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ  سے تضرع و زاری کہ وہ  اپنے بندے کی کوتاہیوں ، گناہوں اور جرموں پر پردہ ڈالے۔ یہ تضرع اس حیا اور خوف کا نتیجہ ہے جو بندے کے دل میں اپنے پروردگار کے بے پایاں  احسانات و انعامات  کے احساس اور اس کے عدل و انتقام کے تصور سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ وقتِ سحر کی قید لگی  ہوئی ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے  کہ یہ وقت قبولیتِ استغفار کے لیے  سب سے زیادہ  موزوں، ریا کی آفتوں سے سب سے زیادہ محفوظ، دلجمعی اور آیاتِ الہی میں تدبر اور تفکر کے لیے سب سے زیادہ سازگار ہے۔ قرآن و حدیث دونوں ہی میں مختلف پہلووں  سے اس کی وضاحت ہوئی ہےاور ربِ کریم کا عظیم احسان ہے کہ  اس نے استغفار کی ہدایت کے ساتھ ساتھ استغفار کے قبولیت  کے لیے سب سے زیادہ  سازگار وقت کا بھی خود ہی پتہ دے دیا۔ ۔۔۔۔

۔ اس ٹکڑے  پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو اس سے جہاں ایک طرف یہ بات واضع ہوتی ہے کہ کن صفات کے لوگ ہیں جو قرآن کے حامل ہو سکتے ہیں وہیں یہ بات بھی اس سے نکلی کہ وہ موانع کیا ہیں  جو قرآن کے ان مخالفین اور قرآن کے درمیان حائل ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

۔ "قسط" کا مفہوم وہی ہے جو ہم عام بول چال میں حق، عدل انصاف وغیرہ  کے الفاظ سے ادا کرتے ہیں۔ اس کی ضد ظلم،  جور اور اس معنی کے دوسرے الفاظ ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

19۔ سورۂ بقرہ میں ایمانیات پر زور ہے جبکہ آل ِ عمران میں اسلام پر۔(بیان القرآن)

فرقہ پرستی کی وجوہ:۔ اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے اختلاف کی اصل وجہ بیان فرمادی اور یہی وجہ قرآن کریم میں اور بھی تین مقامات پر بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اختلاف کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ حق انہیں نظر نہیں آتابلکہ اس کی اصل وجہ اپنی اپنی سرداریاں اور چودھراہٹیں قائم کرنا اور اپنا جھنڈا سربلند رکھنے کی فکر ، اسباب مال و جاہ کا حصول ہوتاہے اور اس معاملہ میں آپ جتنا بھی غور کریں گے فرقہ بندیوں کی بنیاد میں آپ کو ذاتی اغراض و مفادات ہی نظرآئیں گے۔(تیسیر القرآن)


تیسرارکوع

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ  21 جو لوگ خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور جو انصاف (کرنے) کا حکم دیتے ہیں انہیں بھی مار ڈالتے ہیں ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو۔
 اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ 22 . یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہیں اور ان کا کوئی مددگار نہیں (ہوگا)۔
 اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ 23 . بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (خدا یعنی تورات سے) بہرہ دیا گیا اور وہ (اس) کتاب الله کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (ان کے تنازعات کا) ان میں فیصلہ کر دے تو ایک فریق ان میں سے کج ادائی کے ساتھ منہ پھیر لیتا ہے۔
 ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ  24 یہ اس لیے کہ یہ اس بات کے قائل ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی اور جو کچھ یہ دین کے بارے میں بہتان باندھتے رہے ہیں اس نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔
 فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ  25 تو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے (یعنی) اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں اور ہر نفس اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
 قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 26 کہو کہ اے خدا (اے) بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے اور بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ  27 تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا اور تو ہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے اور توہی جس کو چاہتا ہے بے شمار رزق بخشتا ہے۔
لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ  28 مؤمنوں کو چاہئے کہ مؤمنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں۔ ہاں اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو (تو مضائقہ نہیں) اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے۔
قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ  29 (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ کوئی بات تم اپنے دلوں میں مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو خدا اس کو جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو سب کی خبر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠   ۧ ۧ 30 جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی کو موجود پالے گا اور ان کی برائی کو بھی (دیکھ لے گا) تو آرزو کرے گا کہ اے کاش اس میں اور اس برائی میں دور کی مسافت ہو جاتی اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔

تفسیر آیات

الم تر۔خطاب یہاں رسول اللہؐ سے ہے۔۔۔الم تریامحمد۔(ابن جریرؒ)۔۔۔الذین ۔۔من الکتاب ۔ذکر وہی یہود کا چل رہاہے۔۔الکتٰب۔یہاں بطور اسم جنس استعمال ہواہے یعنی کتاب الٰہی اپنے عمومی و کلی مفہوم میں کہ اسی کا ایک جزو توریت ہے۔کتٰب اللہ۔ اسی عمومی وکلی کتاب کا دوسرا جزوقرآن ہے اور وہی یہاں مراد ہے۔۔۔لیحکم بینھم۔یعنی مذہبی اختلافات کے باب میں فیصلہ کردے۔(تفسیر ماجدی)

ــــ کتاب الٰہی کے ایک حصہ سے مراد تورات اور انجیل ہیں اور اللہ کی کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ دوسرے آسمانی صحیفوں اور قرآن میں نسبت جزو اورکل کی ہے۔فرمایا کہ قرآن مجید کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ اہل کتاب کے پیدا کیے ہوئے اختلافات کا فیصلہ کرکے اصل حق کو پھر واضح کردے۔(ترجمہ ،مولانا امین احسن اصلاحی) 

24۔ ایاماً معدودات۔ یعنی وہ چالیس روز کی مدت میں جوبنی اسرائیل نے گوسالہ پرستی میں بسر کی تھی، آیت کایہ جزو پارۂ اول میں بھی یہودکی زبان سے نقل ہوچکاہے،اور وہیں اس پر مفصل حاشیہ بھی گزرچکاہے۔۔۔یہود کا یہ ایک مستقل عقیدہ بن گیا تھا کہ ہم عذابِ آخرت سے اصلاًبالکل محفوظ ہیں، بجز اس قلیل مدت کے،جو ہمارے اسلاف نے گوسالہ پرستی کے شرک میں گزاری تھی۔(تفسیر ماجدی)

26۔ یہ دعا درحقیقت یہود کی منصب امامت سے معزولی کا اعلان اور امت مسلمہ کے امامت و سیادت کے منصب پر فائز ہونے کی بشارت ہے۔دعائیہ اسلوب اختیار کرنے کی دو وجہیں ہیں۔ایک یہ کہ مستقبل کے حالات ابھی پردے میں تھے۔دوسری یہ کہ امت مسلمہ اس بشارت کو فخر و غرور کے ساتھ قبول نہ کرے بلکہ تواضع ،تذلل ،احساس عبدیت اور دعاکے ساتھ قبول کرے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

 ۔منافقینِ مدینہ نے ملکِ فارس، روم اور یمن کے محلات ملنے کی خوشخبری سنی  تو  ان کو استہزا و تمسخر کا موقع ہاتھ آیا، مسلمانوں کا مزاق اڑایا، کہ دیکھو  ان لوگوں کو جو حریفِ مقابل کے خوف سے خندق کھودنے  میں اس طرح مشغول ہیں کہ ان کو اپنی ضروریات کا بھی ہوش نہیں، اپنی جانوں کی حفاظت ان کو مشکل ہو رہی ہے، ملکِ فارس و روم اور یمن کی فتوحات کے  خواب دیکھ رہے ہیں، حق تعالیٰ نے ان بے خبر ظالموں کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی "  قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ   (معارف القرآن)

28۔ قلبی موالات یا مودت و محبت ۔مواسات، مدارات، معاملات:۔ رحمت اللعالمین، ذمیوں کے وظائف و  صدقات۔ ۔۔۔ بات یہ ہے کہ دو شخصوں یا دو جماعتوں میں تعلقات کے مختلف درجات ہوتے ہیں، ایک درجہ تعلق کا قلبی موالات یا دلی مودّت  و محبت ہے، یہ صرف مومنین کے ساتھ مخصوص ہے۔ غیر مومن کا مومن کے ساتھ یہ تعلق کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے۔۔۔۔ دوسرا درجہ مواسات کا ہے جس کے معنی ہیں ہمدردی و خیر خواہی اور نفع رسانی کے۔ یہ بجز کفار اہلِ حرب کےجو مسلمانوں  سے برسرِ پیکار ہیں  باقی سب غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔ ۔۔۔تیسرا درجہ مدارات کا ہے جس کے معنی ہیں ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتاؤ کے۔ یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے، جبکہ اس سے مقصود ان کو دینی نفع پہنچانا ہو، یا وہ اپنے مہمان ہوں یا ان کے شر اور ضرر رسانی سے اپنے آپ کو بچانا مقصود  ہو۔ چوتھا درجہ معاملات کا ہے کہ ان سے تجارت یا اجرت و ملازمت اور صنعت و  حرفت کے معاملات کیے جائیں۔ یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے، بجز ایسی حالت کے کہ ان معاملات سے عام مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو (معارف القرآن)

- اور یہ جس ضررکا خوف و اندیشہ ہو،اسے بھی معتد بہ ہونا چاہئے۔۔۔یہ بہ ظاہر عام ہے لیکن اہل سنت نے اذیتِ عظیم کی قید صاف لگادی ہے۔۔۔آیت میں ایک طرف رد ہے فرقہ امامیہ کا جس نے تقیہ کے حدود بہت وسیع کرکے اسے اپنے مذہب کا ایک جزوبنالیا ہے،اور دوسری طرف فرقہ خوارج کا جس نے جواز تقیہ سے سرے سے انکارکردیا ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ یعنی اگر کوئی مومن کسی دشمنِ اسلام جماعت کے چنگل میں پھنس گیا ہواور اسے ان کے ظلم و ستم کا خوف ہو، تو اس کو اجازت ہے کہ اپنے ایمان کو چھپائے رکھے اور کفار کے ساتھ  بظاہر اس طرح رہے کہ گویا  انہی کا ایک آدمی ہے۔ یا اگر اس کا مسلمان ہونا ظاہر ہو گیا ہو تو اپنی جان بچانے کے لیے وہ کفار کے ساتھ  دوستانہ رویہ کا اظہار کر سکتا ہے، حتیٰ کہ شدید خوف کی حالت میں جو شخص برداشت کی طاقت نا رکھتا ہو اس کو کلمہ کفر تک کہہ جانے کی رخصت ہے۔ (تفہیم القرآن)

30۔ نیک اعمال بجالانے کی نسبت برے کاموں کو چھوڑ دینا بہت مشکل ہوتاہے۔اس لیے کتاب و سنت میں نیک اعمال بجالانے کی نسبت برے کاموں کوچھوڑنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔(تیسیر القرآن)

- اکبرالٰہ آبادی اردو کے مشہور شاعر ہونے کے ساتھ ہی حکیم و عارف بھی تھے،فرمایا کرتے تھے کہ یہ جوہر وقت ہم بولا کرتے ہیں کہ"وقت چلاگیا"وقت جاتاکہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کے ہاںچلاجاتاہے اور وہیں جمع رہتاہے ،قیامت کے دن حق تعالیٰ اسی وقت کو واپسی کا حکم دینگے پس جب وقت واپس آئے گا تو مع اپنے مشمولات کے یعنی جوکچھ بھی وقت کے اندر ہوتارہتاہے،اس کو لئے ہوئے آئے گا، اس لئے کائنات میں جو کچھ ہوتارہاہے ،سب  اس روز بجنسہ دوبارہ واقع ہوکررہے گا۔ (تفسیر ماجدی)


چوتھا رکوع

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ  31 . (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔
 قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ  32 کہہ دو کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم مانو اگر نہ مانیں تو خدا بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔
اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ   33 . خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو تمام جہان کے لوگوں میں منتخب فرمایا تھا۔
 ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ   34 . ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔
اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ 35 (وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما توتو سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔
فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ  36 جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو خوب معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار! میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لیے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ  37 تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا۔ زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے۔
هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ  38 . اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بے شک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے۔
 فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ 39 وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض یعنی (عیسیٰ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور (خدا کے) پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے۔
 قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ 40 زکریا نے کہا اے پروردگار میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا کہ میں تو بڈھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے خدا نے فرمایا اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
 قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠   ۧ 41 زکریا نے کہا کہ پروردگار (میرے لیے) کوئی نشانی مقرر فرما خدا نے فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کر سکو گے تو (ان دنوں میں) اپنے پروردگار کی کثرت سے یاد اور صبح و شام اس کی تسبیح کرنا۔

تفسیر آیات

31۔ اتباع (خودپیروی کرے)(To follow) ۔اطاعت (جوکہا جائے اس پر عمل کرے)(To obey) ۔اتباع کا مطلب ہے،حضورؐ کی  اداؤں  کی پیروی ۔ (بیان القرآن)

- اتباع سنت کی اہمیت اور بدعت کا رد:۔ اس آیت کے مخاطب صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ اہل کتاب ،کفار ومشرکین اور عامۃ الناس ہیں کیونکہ تقریباً سب کے سب اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتے اور اس کا دم بھرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمادی کہ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو پھر اس کی صورت صرف یہی ہے کہ تم رسول اللہؐ کی پیروی کرنے لگ جاؤ ۔(تیسیر القرآن)

- ان اللہ اصطفیٰ  ۔۔۔۔۔ وفد نجران کا تعارف ۔(بیان القرآن)

وفد نجران کا تعارف:

نجران حجاز اور یمن کے درمیان موجودہ  سعودی عرب کا صوبہ ہے۔ اس کا دارالخلافہ بھی نجران ہے ۔یہ 73  بستیوں پر مشتمل تھا  اور ان کے پاس ایک لاکھ20 ہزار جنگی جوان موجود تھے۔حضورؐ نے ان کے اُسقف (بشپ) کو خط لکھ کر اسلام کی دعوت دی۔وہ خط پڑھ کر گھبراگیا ۔ساٹھ ارکان کا وفد لیکر مدینہ آیا جس میں  عاقب (امیرِ قوم۔ عبدالمسیح ) سید (تمدنی و سیاسی امور کا نگران ، ایم السید) اُسقف (بشپ ،ابوحارثہ بن علقمہ) شامل تھے۔ آخری آدمی عرب کے مشہور قبیلہ بنی بکر بن وائل سے تعلق رکھتاتھا ،بعد میں پکا نصرانی بن گیا ۔اس کے علم و فضل کا سلاطین روم نے بہت احترام و اکرام کیا ۔بیش قرار مالی امداد اور کئی گرجے اس کے لئے تعمیر کرائے ۔۔۔۔۔۔اہل ِ نجران جنگ کےلئےتیار نہ تھے۔اسلام قبول کرنا یا ذمی بن کررہنا بھی مشکل نظر آتا تھا۔سورۂ آل عمران کی آیات 33 تا63 اسی وفد کی آمد پر نازل ہوئیں ۔۔۔۔ اپنے عقائد کے حق میں وہ اپنی کتاب ِ مقدسہ کی سند نہ پاتے تھے۔حضورؐ نے وفد کو مباہلہ کا چیلنج (جھوٹے پر خدا کی لعنت) دیا جو انہوں  نے قبول نہ کیا۔ اس سے یہ بات تمام عرب کے سامنے کھل گئی کہ نجرانی مسیحیت کے پیشوا اور پادری جن کا سکہ دور دور تک رواں تھا، انہیں اپنے عقائد کی صداقت پر خود بھی کامل اعتماد نہ تھا۔۔۔۔۔یہ لوگ حضورؐ کے پاس اس حالت میں پہنچے کہ دھاری دار اور یمنی کپڑے کے جوڑے اور ریشمی چادریں اوڑھے ہوئے اور سونے اور ہیرے کی انگوٹھیاں پہنے ہوئے  تھے۔حضورؐ نے ان سے بات نہ کی۔ صحابہ کے مشورہ پرانھوں نے کپڑے بدل دئیے، اور انگوٹھیاں اتاردیں ۔آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دی ۔قرآن سے دعوت کے بعد ان کے انکار پر مباہلہ کا چیلنج ۔حضرت حسن ،حسین،علی ،فاطمہ اور حضورؐ نورانی چہرے لیے ہوئے آئے مگر ارکان وفد کو مباہلہ کی ہمت نہ ہوئی، آخر جزیہ دینا قبول کیا۔۔۔۔۔ایک دومسلمان ہوئے پھر اسلام پھیلتا گیا ۔انہوں نے اپنے ہاں ایک کعبہ بھی تعمیر کررکھا تھا۔ (اٹلس سیرت وتفسیر عثمانی و تفہیم القرآن)

- ایک عجیب واقعہ ۔راستے میں ابوحارثہ بن علقمہ کے خچر نے ٹھوکر کھائی تو اس کے بھائی کرزبن علقمہ نے کہا کہ تعس الابعد تو ابوحارثہ نے کہا تعست امک ۔بھائیوں کا مکالمہ۔ کرز نے اس بات کو دل میں رکھا جو بعد میں اس کے مسلمان ہونے کے کام آئی۔(تفسیر عثمانی)

ضابطۂ نبوت:۔۔۔جس وقت اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو پیدا کیا تو اس وقت کی موجودہ کائنات (آسمان و زمین، شمس و قمر، ستارے،جن اور فرشتے وغیرہ)میں فرشتے ہی تمام مخلوق سے افضل تھے۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سیدنا آدمؑ کو سجدہ کروایا اور سیدنا آدمؑ کو تمام جہان والوں پر فضیلت بخشی،پھر انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا ۔۔۔البتہ ان کی والدہ سیدہ مریم عمران ہی کے خاندان سے تھیں اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰؑ کو منسوب بھی ان کی والدہ مریم ہی کی طرف کیا ہے۔یہ عمران سیدنا موسیٰؑ اور سیدنا ہارونؑ کے والد کا نام ہے۔انہی کی اولاد سے سیدہ مریم تھیں اور اس سورت کا نام آل عمران بھی اسی نسبت سے ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ سیدہ مریم کے والد کا نام بھی عمران ہو،جیساکہ آیت کے الفاظ (قالت امرأۃ عمران)سے معلوم  ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)

33۔ اٰل عمران ۔عمران کے نام کی تاریخی شخصیتیں دوگزری ہیں ،ایک حضرت موسیٰؑ کے والد ماجد عمران بن  بصیہر ۔دوسرے ان کے کئی صدی بعد حضرت مریمؑ کے والد ماجد اور حضرت مسیحؑ کے جد مادری عمران بن ماثان ،یہاں مراد دونوں سے ہوسکتی ہے لیکن بہ لحاظ سیاق ترجیح عمران ثانی کو ہے،حسنؒ اور وہبؒ تابعین سے یہی قول منقول ہے۔۔۔لیکن مفسرین کا ایک گروہ ادھر بھی گیا ہے کہ حضرت مریم ؑ کے والد عمران کا توذکر ابھی آگے آئے گا ۔اور اس خاص آیت میں ذکر حضرت موسیٰؑ کے والد عمران کا ہے۔(تفسیر ماجدی)

34۔ امتِ محمدؐیہ کو  آخر زمانہ میں حضرتِ  مسیح کیساتھ کام کرنا ہے، اس لیے ان کی پہچان اور علامات کے بیان کرنے کا اہتمام قرآن میں سب انبیاء سے زیادہ کیا گیا ہے۔ (معارف القرآن)

35۔ امرأۃ عمران۔یہ حضرت مریم کی والدہ اور حضرت عیسیٰؑ کی جدۂ  مادری تھیں، مسیحی نوشتوں میں ان کا نام حنّہ(Hennah) آیا ہے،ہمارے مفسرین نے لکھا ہے کہ شام وغیرہ کے مسیحی کلیسا، کلیسائے حنّہ کے نام سے مشہور ہیں، اور ان کی قبر دمشق میں ہے۔(تفسیر ماجدی)

37۔ یہ حضرت زکریاؑ رشتہ میں حضرت مریم ؑکی والدہ کے بہنوئی تھے، یعنی آپ کی والدہ کی بہن کے شوہر حضرت مریمؑ کے والدماجد جناب عمران کی وفات آپ کے بچپن میں ہی ہوگئی تھی،اور ان کی وفات کے بعد ہیکل کے خادموں (یا یہود کی اصطلاح میں کاہنوں)کی سرداری حضرت زکریا ؑکے حصہ میں آئی تھی ،آپ ایک تو مریم ؑ کے عزیز قریب اور خدام ہیکل کے سردار، حضرت مریمؑ کی تربیت کا واسطہ و ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی کو بنایا ،آپ حضرت یحیٰؑ کے والد ماجد تھے،جو حضرت عیسیٰؑ کے ہم سن تھے،اسی سے آپ کے زمانہ کا اندازہ کیا جاسکتاہے۔(تفسیر ماجدی)

۔لفظ محراب سے لوگوں کا ذہن بالعموم اس محراب کی طرف چلا جاتا ہے جو ہماری مسجدوں میں امام کے کھڑے ہونے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ لیکن یہاں محراب سے یہ چیز مراد نہیں ہے۔ صوامع اور کنیسوں میں اصل عبادت گاہ کی عمارت  سے متصل، سطحِ زمین سے کافی بلند ی پر جو کمرے بنائے جاتے ہیں جن میں عبادت گاہ کے مجاور ، خدام اور معتکف لوگ رہا کرتے ہیں، انھیں محراب کہا جاتا ہے۔ اسی قسم  کے کمروں میں سے ایک میں  حضرت مریم معتکف رہی تھیں۔ (تفہیم القرآن)

۔رزق سے مراد یہاں حکمت و معرفت ہے۔ حضرت مسیح کا ارشاد  مشہور ہے  کہ آدمی صرف روٹی سے نہیں  جیتا بلکہ اس کلمے سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے۔ ۔۔۔ حضرتِ زکریا جیسے صاحبِ کمال تو متاثر ہو سکتے تھے تو کسی ایسے ہی رزقِ روحانی سے  متاثر ہو سکتے تھے  جو خود ان کی اشتہائے روحانی کو بھی بھڑکا دے، جس کو دیکھ کر وہ بھی عش عش کر اٹھیں اور جو ان کے اندر بھی یہ تمنا پیدا کر دے کہ  کاش ان کی نسل سے بھی کوئی اس کمال کا حامل اٹھے۔ ۔۔۔مریم کا جواب  " هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ  "  بھی اس کم سنی میں ان کی پختگی عقل کا شاہد ہے کہ انھوں نے اس سب کو  اللہ کا فضل و احسان قرار  دیا، اس کو اپنے زہدو ریاضت کا کرشمہ نہیں قرار دیا۔( تدبرِ قرآن)

- مریم اپنی ساری  عظمت وجلالت کے باوجود بہرحال پیمبر نہ تھیں اسی بناپر مخفقین اہل سنت نے آیت کو اثبات ِ کرامات اولیاء کے باب میں نص قراردیا ہے،اور علمائے فرقہ شیعہ بھی اس باب میں ان سے متحد ہیں، اختلاف صرف معتزلہ کو ہے۔۔۔- آیت سے اس مسئلہ کا بھی اثبات ہوگیا کہ پیمبر تک کیلئے بھی اسبابِ ظاہر تک محدود و مقصود رہنا بالکل جائز ہے۔(تفسیر ماجدی)

38۔ ھنالک دعا۔ آیت سے استدلال مکانِ مبارک میں دعا کی مقبولیت پر کیا گیا ہے۔علیٰ ہذا،وقت ِ مبارک میں بھی دعاکی مقبولیت پر حضرت زکریاؑ کو جب یہ مشاہدہ ہوگیا کہ یہ مقام خرقِ عادت کے صدور کاہے تو آپ بھی وہیں دعاکرنے لگے۔۔۔۔۔- من لدنک۔ یہ خبر صاف ظاہر کررہی ہے کہ دعاکرنے والے کی نظر اس عالم اسباب میں بھی اسباب سے کہیں زیادہ مسبب الاسباب پر ہے۔۔۔۔۔۔ذریّۃ۔ اولاد کی خواہش ایک امر طبعی ہے اور زہد کیا معنی کمال زہد کے بھی منافی نہیں،قرآن مجید نے بار بارپیغمبروں کی زبان سے اس قسم کی دعائیں نقل کرکے بتادیا کہ وہ مذاہب حقیقت سے کتنے دور ہیں جنہوں نے بیوی بچوں کو مطلق صورت میں جنجال قراردیا ہے،ہماری شریعت ِ حقہ میں اولاد کی خواہش تو عین سنت انبیاء و صدیقین بتائی گئی ہے ،اور صحیح بخاری میں تو مستقل عنوانات طلبِ ولد کےفضائل میں ہیں۔(تفسیر ماجدی)

39۔الملآئکۃ۔صیغۂ جمع اسم جنس کا بھی کام دیتاہے اس لئے ہوسکتاہے کہ آواز دینے والا فرشتہ ایک ہی ہو، عربی میں یہ محاورہ عام ہے فلاں یرکب الخیل (فلاں شخص گھوڑوں پر سوارہوتاہے)حالانکہ وہاں مراد گھوڑے کی صرف جنس ہوتی ہے۔

- مصدقاً۔ یعنی حضرت عیسیٰؑ کی تصدیق کرنے والا۔۔۔مسیحوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت یحیٰؑ کی اصل حیثیت مسیحؑ کے پیش رو اور نقیب ہی کی تھی۔۔۔بعض اہل تفسیر نے مراد کتاب اللہ بھی  لی ہے۔۔۔حصوراًیعنی لذات و شہوات پر اسے قابو حاصل ہوگا، اور وہ نہایت درجہ محتاط و متقی ہوگا۔۔۔نبیاً من الصالحین۔ اور آپ کی صالحیت کااثبات یہود کے مقابلہ میں توہوتاہی لیکن خود مسیحیوں کے مقابلہ میں بھی ہے، جن کے نزدیک عصمت و تقویٰ لازمۂ نبوت نہیں، صالحیت تو نبوت سے پست اور ہلکی چیز ہے لیکن یہ صرف اسلامی عقیدہ ہے،اہل کتاب کا یہ عقیدہ نہیں ، ان کے ہاں نبی غیر صالح بھی ہوسکتاہے۔(تفسیر ماجدی)

اللہ کے فرمان سے مراد حضرت عیسٰی      ہیں  چونکہ ان کی پیدائش اللہ تعالیٰ کے ایک غیر معمولی  فرمان سے خرقِ عادت کے طور پر ہوئی تھی اس لیے ان کو قرآن مجید میں  " کلمۃ من اللہ" کہا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔ یہ وہی حضرتِ  یحیٰ ہیں جن کا نام انجیلوں میں یوحنا آیا ہے۔ انجیلوں کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ سے صرف چھ ماہ پہلے پیدا ہوئے۔  ان کی ولادت کی بشارت کے ساتھ ان کی تین خصوصیات بیان کی گئی تھیں۔ ۔۔۔ ایک یہ کہ وہ   " مصدقا بکلمۃ من اللہ"  ہونگے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ کی تصدیق کریں گے اور اس کی بشارت دیں گے۔ کلمۃ من اللہ سے مراد حضرت  عیسیٰ ؑ ہیں۔ چنانچہ آگے آیت 45 میں تصریح کے ساتھ ان کا ذکر اسی لقب سے ہوا ہے ۔حضرت عیسیٰؑ   کو کلمۃ اللہ  کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی    ولادت اسباب کے عام ضابطے کے خلاف اللہ تعالیٰ کے کلمہ" کن "سے ہوئی۔ کلمہ کی تنکیر سے یہ بات بھی واضع ہوتی ہے  کہ اللہ تعالیٰ کے  اَن گنت  کلمات میں سے  حضرت عیسیٰؑ بھی ایک کلمہ ہیں ۔ جس طرح اس کائنات کے بیشمار چیزیں مجرد کلمہ ’ کن ‘ سے ظہور میں آئی ہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ بھی اس کلمہ سے ظہور میں آئے ہیں۔ اس سے نصاریٰ کے ایک دعوے کی تردید ہورہی ہے۔ وہ یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ کلمۃ اللہ صرف حضرت مسیح ہیں اور پھر اس سے ان کی الوہیت کا عقیدہ ثابت کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔"بکلمۃ "کی  "ب " اس بات کا قرینہ ہے  کہ یہاں تصدیق  کا لفظ بشارت کے مفہوم پر بھی مشتمل ہے۔ ۔۔ دوسری یہ کہ وہ سید ہوں گے اور سید کا مطلب سردار کے ہیں۔ ۔۔۔۔ اس لفظ سے اس گمان کی پوری پوری تردید ہو رہی ہے کہ حضرت   یحیٰؑ  کوئی راہب تھے اور ان کی زندگی خلق سے الگ تھلگ تھی ۔ وہ اپنی ذات کے معاملے میں بلا شبہ زاہد تھے لیکن ان کی زندگی کا لمحہ لمحہ اس توبہ کی منادی  کے لیے وقف تھا جس کے لیے وہ معمور ہوئے تھے اور اسی راہ میں انھوں نے اپنا سر کٹوا دیا۔ ۔۔۔ تیسری یہ کہ وہ "حصور "ہوں گے۔  حصور، حصر سے فعول کے وزن پر ہے جس کے لغوی معنی ہوں گے اپنے آپ کو گھیرے رکھنے والا۔ یہیں سے اس کا استعمال اس شخص کے لیے ہوا جو لذات دنیا سے منقطع اور اپنے آپ کو کامل ضبط میں رکھنے والا ہو۔ یوں تو یہ ضبط نفس اس سرداری کی خصوصیات میں سے ہے جس کا ذکر اوپر ہوا اس لیے کہ جو اپنے آپ کو ضبط میں رکھ سکے گا وہی خلق کو بھی ضبط میں رکھنے والا بن سکے گا۔ لیکن حضرت یحییٰ و حضرت مسیح (علیہما السلام) دونوں نبیوں کی زندگیاں بالکل درویشانہ تھیں، انہوں نے زندگی کی ان لذتوں سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا  جو عام حالات میں کسی درجے میں بھی داخل دنیاداری نہیں قرار دی جا سکتیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کے حالات خاص تھے۔ ان کے زمانے میں یہود پر دنیا کی محبت اتنی غالب آگئی تھی کہ ان کا رخ موڑنے کے لیے ان کو زندگی کا ایک بالکل زاہدانہ و درویشانہ نمونہ رکھنا پڑا۔ یہ علاج بالضد کی ایک شکل ہے جو جسمانیات کی طرح روحانیات و اخلاقیات میں بھی خاص حالات میں اختیار کرنی پڑتی ہے۔ مقصود تو اس سے یہ ہوگا کہ یہ امت بالتدریج اس نقطہ اعتدال کو اختیار کرنے کے قابل بنے جو بالآخر اللہ کے آخری دین میں ان کے سامنے آنے والا تھا لیکن نصاریٰ نے ان کے اس زہد کو رہبانیت کا رنگ دے دیا اور بعد کے زمانوں میں رہبانیت کا ایک پورا نظام کھڑا کردیا۔۔۔۔۔چوتھی یہ کہ وہ نبی  ہوں گے۔ نبی کا مفہوم واضع ہے۔ البتہ اس کے ساتھ  " من الصالحین " کی جو وضاحت ہے اس سے مقصود ان کے زمرےکو بتانا ہے کہ وہ باہمہ صفات و کمالات تھے زمرہ صالحین ہی میں سے، یہ نہیں ہے کہ ان کو الوہیت کا کوئی  مقام حاصل  ہو گیا ہو۔   (تدبرِ قرآن) 

41۔ الّاتکلم الناس۔ انجیل کے بیان سے یہ معلوم ہوتاہے کہ جیسے کوئی بڑی معصیت حضرت زکریاؑ سے سرزد ہوگئی تھی، اور اس کی سزا میں ان کی قوت گویائی چند روز کیلئے سلب کرلی گئی تھی" اور دیکھ جس دن تک یہ باتیں واقع نہ ہولیں توچپکا رہے گا اور بول نہ سکے گا،اس لئے کہ تو نے میری باتوں کا جو اپنے وقت پرہوں گی، یقین نہ کیا ،جب وہ باہر آیا تو ان سے بول نہ سکا ،پس انہوں نے معلوم کیا کہ اس نے مقدس رؤیا دیکھی ہے،اور وہ ان سے اشارے کرتا تھا،اور وہ گونگاہی رہا"(لوقا۔1: 20- 22) (تفسیر ماجدی)

۔ اس تقریر کا اصل  مقصد عیسائیوں پر ان  کے اس عقیدے کی غلطی واضع کرنا ہے کہ وہ مسیحؑ کو خدا کا بیٹا اور الٰہ سمجھتے ہیں۔ تمہید میں حضرت یحٰیؑ  کا ذکر اس وجہ سے فرمایا گیا ہے کہ جس طرح مسیحؑ کی ولادت معجزانہ  طریقہ سے ہوئی تھی اسی طرح ان سے چھ ہی مہینہ پہلے اسی خاندان میں  حضرت یحیٰؑ  کی پیدائش بھی ایک دوسری  طرح کے معجزے سے ہو چکی تھی۔ اس سے اللہ عیسائیوں کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ اگر یحیٰؑ کو ان کی اعجازی ولادت نے الٰہ  نہیں بنایا تو مسیحؑ محض اپنی غیر معمولی پیدائش کے بل پر  الٰہ کیسے ہو سکتے ہیں۔  (تفہیم القرآن)

۔ حضرت زکریا نے یہ باتیں ایک ہاتفِ غیبی سے سنی تھیں اور اچھی ساعت اور اچھے حالات میں سنی تھیں اس وجہ سے ان کو گمان تو یہی تھا کہ یہ بشارت من جانب اللہ ہی ہے۔ لیکن وہ نہایت متواضع ، متقی اور محتاط بندے تھے اس وجہ سے دل کے ایک گوشے میں کھٹک یہ بھی تھی کہ ممکن ہے یہ اپنے  ہی گنبدِ دل کی صدائے بازگشت سنائی دی ہو، ممکن ہے اس کے اندر نفس کی مخفی آوازوں کو کوئی دخل ہو جن سے شیطان نے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہو، اس وجہ سے انھوں نے اپنے رب سے  درخواست کی ہے کہ اے  رب  میرے  لیے کوئی ایسی نشانی ٹھہرا دے جس سے مجھے یہ اطمینان ہو جائے کہ  یہ بشارت تیری ہی طرف سے ہے۔ اس میں  نفس یا شیطان کا کوئی دھوکا نہیں ہے۔ (تدبرِ قرآن)


پانچواں رکوع:

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ  42 اور جب فرشتوں نے (مریم سے) کہا کہ مریم! خدا نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور پاک بنایا ہے اور جہان کی عورتوں میں منتخب کیا ہے۔
 یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ  43 مریم اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا اور سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا۔
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ 44 (اے محمدﷺ) یہ باتیں اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں اور جب وہ لوگ اپنے قلم (بطور قرعہ) ڈال رہے تھے کہ مریم کا متکفل کون بنے تو تم ان کے پاس نہیں تھے اور نہ اس وقت ہی ان کے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔
 اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ   45 (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ ابن مریم ہوگا (اور) جو دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا۔
 وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ  46 اور ماں کی گود میں اور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا۔
 قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ  47 مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا کہ کسی انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔
 وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ   48 اور وہ انہیں لکھنا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائے گا۔
وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ   49 اور (عیسیٰ) بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر (ہو کر جائیں گے اور کہیں گے) کہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ تمہارے سامنے مٹی کی مورت بشکل پرند بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے (سچ مچ) جانور ہو جاتا ہے اور اندھے اور ابرص کو تندرست کر دیتا ہوں اور خدا کے حکم سے مردے میں جان ڈال دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو سب تم کو بتا دیتا ہوں اگر تم صاحب ایمان ہو تو ان باتوں میں تمہارے لیے (قدرت خدا کی) نشانی ہے۔
 وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ 50 اور مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی اس کی تصدیق بھی کرتا ہوں اور (میں) اس لیے بھی (آیا ہوں) کہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو تمہارے لیے حلال کر دوں اور میں تو تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔
 اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ 51 کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا رستہ ہے۔
 فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ 52 جب عیسیٰؑ نے ان کی طرف سے نافرمانی اور (نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرف دار اور میرا مددگار ہو۔ حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار اور آپ کے) مددگار ہیں۔ ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں۔
 رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ  53 اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہو چکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ۔
 وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠   ۧ ۧ  54 اور وہ (یعنی یہود قتل عیسیٰ کے بارے میں ایک) چال چلے اور خدا بھی (عیسیٰ کو بچانے کے لیے) چال چلا اور خدا خوب چال چلنے والا ہے۔

تفسیر آیات

43۔ فرشتوں کی سیدہ مریم سے ہم کلامی اس آیت سے معلوم ہواکہ جن ایام میں سیدہ مریم ہیکل کے حجرہ میں مقیم رہ کر اللہ کی عبادت میں مصروف رہاکرتی تھیں ان دنوں فرشتے ان سے ہمکلام ہواکرتے ۔فرشتوں ہی نے سیدہ مریم کو اطلاع دی کہ پروردگار  اس پر کس قدر مہربان ہے اور اس نے سیدہ مریم کو سارے جہان کی عورتوں پر فضیلت اور ترجیح دی ہے۔چنانچہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ:"مردوں میں تو بہت سے باکمال لوگ ہوگزرے ہیں مگر عورتوں میں کوئی  کامل نہیں ہوا۔بجز مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے۔(بخاری،کتاب الانبیاء باب قولہ تعالیٰ واذ قالت الملئکۃ یا مریم ان اللہ اصطفٰک ۔الآیۃ)ساتھ ہی ساتھ فرشتوں نے سیدہ مریم کو یہ ہدایت بھی کی وہ بطور شکریہ اللہ تعالیٰ کی مزید فرمانبردار بن کررہے اور اس مسجد میں جو جماعت ہواکرتی تھی ،وہ بھی اس میں شامل ہوکر نماز باجماعت کا اہتمام کرے۔(تیسیر القرآن)

44۔ سیدنا زکریا کیسے کفیل مریم بنے؟ سیدہ مریم پر اللہ تعالیٰ کی جو عنایت ہورہی تھیں ان سے ہیکل کے تمام خادم واقف تھے اور ان میں ہر شخص یہ چاہتاتھا کہ سیدہ مریم کی سرپرستی کا اعزاز اسے حاصل ہو اور اس سلسلہ میں ایک دوسرے سے جھگڑتےاور اپنے استحقاق کے دلائل بھی دیتے ہیں۔اسی سلسلہ میں سیدنا زکریاؑ نے دوسروں کو اپنا یہ استحقاق بتایا کہ چونکہ وہ سیدہ مریم کے حقیقی خالو بھی ہیں لہذا وہی سیدہ مریم کے کفیل بننے کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ لیکن دوسروں نے سیدنا زکریا کے اس استحقاق کو چنداں اہمیت نہ دی، اور بلآخر طے یہ ہوا کہ ایسے سب حضرات اپنی اپنی قلمیں جن سے وہ تورات لکھا کرتے تھے کسی بہتی ندی میں پھینک دیں۔اگر کسی شخص کا قلم ندی کے بہاؤ کی طرف بہنے سے رک جائے اور اپنی جگہ پر قائم رہے تو وہی شخص مریم کی سرپرستی کا حقدار ہوگا۔ اب ظاہر ہے یہ امتحان بھی ایک خرق عادت امر سے تھا اور کسی خرق عادت امر سے ہی اس قضیہ کا فیصلہ ہوسکتاتھا۔چناچہ قلمیں پھینکی گئیں تو ماسوائے سیدنا زکریاؑ کے قلم کے، باقی سب قلمیں پانی کے بہاؤ کے رخ بہہ نکلیں لیکن سیدنا زکریاؑ کا قلم اپنی جگہ پر قائم رہا۔ایک تووہ پہلے ہی سیدہ مریم کے حقیقی خالو ہوتے تھے ۔اس امتحان میں بھی قرعہ فال انہی کے نام نکلا تو اب اس میں کسی کو اختلاف اور جھگڑے کی گنجائش نہ رہی۔(تیسیر القرآن)

- یبشرک بکلمۃ ۔کلمۃ اللہ پر حاشیہ ابھی چند آیتیں قبل گزرچکا ہے،بشارت یہاں مریم کو بیٹے کی مل رہی ہے۔وہ بیٹا جسے بن باپ کے ہونے کی بناپر کلمۃ اللہ کہا گیاہے، حضرت مریمؑ اس وقت تک یہودی رسم و رواج کے لحاظ سے ناکتخدا اور کنواری تھیں،البتہ آپ کی منگنی آپ ہی کے کفو وقبیلہ آل داؤدؑ کے ایک نوجوان یوسف نامی سے ہوچکی تھی جن کے ہاں کاروبار لکڑی کا ہوتاتھا ،انجیل کا بیان ہے کہ:"جبرائیل فرشتہ خداکی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصرہ تھا ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا جس کی منگنی داؤدؑ کے گھرانے کے ایک مرد یوسف نام سے ہوئی  تھی، اور اس کنواری کا نام مریم تھا"(لوقا۔1: 26- 27)یسوع مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب آپ کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہوگئی تو ان کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی(متی ۔1- 18)رسم منگنی کی جو اہمیت یہود کے ہاں تھی ،اس کے لحاظ سے ہمیں اپنے ہاں اصطلاح و زبان میں کہنا چاہئے کہ آپ کا عقد ہوگیا تھا،مگر رخصتی ابھی نہیں ہوئی تھی،گویا خلوت کی اجازت ابھی عرفاً نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔المسیح۔لفظ مسیح کے اشتقاق میں اختلاف ہے لیکن خواہ یہ لفظ عربی الاصل ہو خواہ عبرانی کے کسی لفظ کا معرب بہر صورت اپنے معنی کے لحاظ سے اردو کے"مبارک"کا مرادف ہے۔۔۔روایتوں میں یہ جو آتاہے کہ دجال کی داہنی آنکھ ممسوح ہوگئی، اور حضرت عیسیٰؑ کی بائیں  آنکھ ،تو اس سے مراد یہ ہے کہ دجال نیکی کی قوتوں سے محروم ہوگا، اور حضرت عیسیٰؑ سے بدی کی صفات فنا ہوچکی ہوں گی۔(تفسیر ماجدی)

۔ یہ ایک آیت اثنائے  کلام میں نبیﷺ کی طرف التفات کی نوعیت رکھتی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

45۔ اور فرشتوں نے جو اوصاف سیدہ مریم کوبتائے وہ یہ تھے۔(تیسیر القرآن)

- من المقربین۔ قرآن مجید کا یہ کمال اعجاز ہے کہ اس کے ایک ہی لفظ سے پورا پورا مضمون اداہوجاتاہے،یہاں اس لفظ سے ایک طرف تومسیحیت کے رد میں آپ کا اصل مقام بتادیا یعنی خدا کے مقرب ،نہ کہ خود خدا ،دوسری طرف یہودیت کے رد میں آپ کی مقبولیت کی شہادت دے دی ،تیسری طرف من المقربین کی ترکیب سے یہ ظاہر کردیا کہ اس مقبولیت میں وہ منفرد نہیں،دوسرے بندے بھی ان کے ساتھ شریک ہیں اور مسیح ؑ بہ ایں عظمت و اجلال بہرحال عبدیت سے مافوق کوئی مرتبۂ یکتائی نہیں رکھتے ۔(تفسیر ماجدی)

۔مسیح  حضرتِ عیسیٰؑ کا لقب ہے۔ لقب کے لئے قاعدہ یہ ہے کہ نام سے پہلے  اس کو لاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں یہ روایت رہی ہے کہ ان کے ہاں جو  نبی ہونے والا ہوتا   اس کے سر پر اس کا پیشرو نبی ایک قسم کا مقدس تیل مل کر اس کو اپنا جانشین بناتا۔ جب نبوت کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں بادشاہی کا سلسلہ شروع ہوا  تو مسح کرنے کی یہی روایت بادشاہوں  کے لیے بھی اختیار کی گئ۔ جو وقت کا نبی ہوتا وہ ہونے والے بادشاہ کے  سر پر مقدس تیل ملتا۔ جس سے واضع ہو جاتا کہ یہ مستقبل کا بادشاہ بھی ہے اور  خدا کا  برگزیدہ بھی، تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ طالوت اور حضرت داود کو سموئیل نبی نے اسی طرح مامور کیا تھا، حضرت مسیحؑ کے بارے میں انجیلوں سے یہ تو ثابت ہے کہ حضرت یحیٰؑ نے ان کو بپتسمہ دیا لیکن  تیل ملنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ پیدائشی مسیح تھے۔ بخاری شریف  میں ان کا جو حلیہ بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ  ان کے سر کا حال  یہ تھا کہ  گویا  اس سے تیل ٹپک رہا  ہے ممکن  ہے ان کی اس خصوصیت کی وجہ سے ان کو مسیح کا لقب عطا ہوا ہو۔ انجیل میں ان کے لیے " خدا کا مسیح" کے بھی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  " وجیہ" کے لفظ سے اس سرداری کی شان کی طرف اشارہ ہو رہا ہے  جس کا ذکر اوپر حضرت یحیٰؑ کے بیان میں گزر چکا ہے۔ لوقا کی روایت  سے معلوم ہوتا ہے کہ 12 سال کی عمر میں حضرت مسیحؑ نے  پہلی بار ہیکل میں تعلیم دی  لیکن اس کم سنی کے باوجود ان کی تعلیم کی حکمت و معرفت ، کلام کی بلاغت و جزالت اور لب و لہجہ کی عظمت و جلالت کا عالم یہ تھا کہ فقیہ اور فریسی ، سردار کاہن اور ہیکل کا تمام عملہ دم بخود  رہ گیا۔ وہ حیرانی کے عالم میں ایک ایک سے پوچھتے پھرتے تھے کہ یہ  کون ہے جو اس شکوہ سے بات کرتا ہے  کہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے اس کو اختیار ملا ہوا ہے۔یہودیہ کی بستیوں میں جب انھوں نے تبلیغ شروع کی  تو ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہلچل مچ گئی۔ خلقت ان پر ٹوٹی پڑتی تھی۔ فقیہ اور فریسی سب پر ایک سراسیمگی کا عالم تھا، وہ ان کو  زچ کرنے اور عوام میں ان کی مقبولیت کم کرنے کے لیے ان سے طرح طرح کے سوالات کرتے لیکن سیدنا مسیحؑ  دو دو  لفظوں میں ان کو  ایسے دندان شکن جواب دیتے کہ پھر ان کو زبان کھولنے کی جرات نا ہوتی۔تھوڑے ہی دنوں میں ان کی وجاہت کا یہ غلغلہ ہوا کہ  عوام ان کو اسرائیل کا بادشاہ کہنے اور ان کی بادشاہی کے گیت گانے لگے یہاں تک کہ رومی حکام -  ہیرودیس اور پیلاطوس- کے سامنے بھی یہ مسئلہ ایک نہایت اہم مسئلہ کی حیثیت سے آگیا لیکن وہ بھی اپنی  تمام قوت و جبروت کے باوجود  سید نا مسیح ؑ کی عظمت و صداقت اور ان کی بے پناہ مقبولیت سے مرعوب ہو گئے۔ اس وجاہت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ باوجود یہ کہ سیدنا مسیحؑ بن باپ کے پیدا ہوئے اور بن باپ کے پیدا ہونے والے کسی بچے کے  لیے عام حالات میں کسی عزت و وجاہت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن سیدنا  مسیؑح چونکہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن سے پیدا ہوئے تھے اس وجہ سے اس کا معجزانہ اثر یہ ظاہر ہواکہ روزِ اول سے  ان کو خلق کی نگاہوں میں وہ   وجاہت حاصل رہی  جو اس عہد میں کسی کو بھی حاصل نہیں ہوئی ۔ وہ زندگی بھر اپنے جانی دشمنوں میں گھرے رہے لیکن اس پہلو سے کسی کو ان پر طعن کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ یہود کے ایک گروہ نے اگر جسارت بھی کی تو بعد کے زمانوں میں کی۔ ان کے عہدِ مبارک میں کسی کو بھی اس قسم کی  جرات نا ہو سکی۔ ان کی وجاہت کی بشارت ان کی ولادت کی بشارت  کے ساتھ ہی حضرت مریم کو اس لیے دی گئی کہ ان کو اس پہلو سے کوئی خلجان نہ ہو کہ بن باپ کے پیدا ہونے کے سبب سے بچے کی یا خود ان کی وجاہت  پر کوئی اثر پڑے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اس کا تیسرا پہلو  یہ ہے کہ اس سے ان تمام خرافات  کی تردید ہو رہی ہے جو انجیلوں میں مذکور ہیں کہ یہودیوں نے سیدنا مسیحؑ کے نعوذ با للہ طمانچے لگائے، ان کا مذاق اڑایا، ان کو گالیاں دیں، ان کے منہ پر تھوکا۔ ان خرافات کا اکثر حصہ ، جیسا کہ ہم  آگے واضع کریں گے، غلط ہے۔ اللہ کے  رسولوں کے دشمن  ان کی توہین و تحقیر کی جسارت تو کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ایک حد تک اللہ تعالیٰ کی طرف  سے ان کو ڈھیل بھی مل جاتی ہے لیکن یہ ڈھیل بس ایک خاص حد تک  ہی ہوتی ہے، جب کوئی قوم اس حد سے آگے بڑھنے  کی جسارت کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے اور اس نا ہنجار قوم کا بیڑا غرق کر دیا  جاتا ہے۔ آگے اس سنت اللہ کی ہم وضاحت کریں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں حضرت عیسیٰؑ کو  ابنِ مریم کہہ کر قرآن نے ان لوگوں کے لیے گفتگو کی ہر گنجائش ختم  کر دی ہے   جو نہایت کمزور تاویلات کے ذریعے سے قرآن کے نہایت واضع نصوص کی تحریف کرنا چاہتے ہیں، اگر عیسیٰؑ کسی باپ کے بیٹے تھے تو آخر قرآن کو مسیحؑ بن مریم  کہنے کی بجائے ان کے باپ کی طرف ان کی نسبت کرنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ قرآن بھی مسیح بن یوسف کہہ سکتا تھا لیکن اس نے  ایسا نہیں کیا۔ (تدبرِ قرآن)

46۔ کہل۔(بڑی عمر ،چالیس سال سے اوپر) جبکہ حضرتِ عیسیؑ اس سے کم (30 یا 35 سال کی عمر میں اٹھا لئے گئے ۔اس لئے قرآن کی اس آیت پر ابھی عمل ہونا ہے۔(بیان القرآن)

۔ ساتھ یہ بھی فرمایا  کہ جب وہ کہل یعنی ادھیڑ عمر کے ہوں گے ، اس وقت بھی  لوگوں سے کلام کریں گے۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ بچپن کی حالت میں کلام کرنا تو ایک معجزہ اور نشانی تھی اس کا ذکر  اس جگہ کرنا مناسب ہے مگر ادھیڑ عمر میں لوگوں سے کلام کرنا ۔۔۔۔۔۔اس کے ساتھ بڑی عمر کے کلام کا ذکر اس غرض سے کیا گیا کہ  ان کا بچپن کا کلام بھی ایسا نہیں ہو گا جیسےبچے   ابتدا  میں بولا کرتے ہیں    ۔۔۔۔۔ روایات سے یہ ثابت ہے کہ ان کو اٹھانے کے وقت حضرت عیسیٰؑ کی عمر  تقریبا تیس پنتیس سال کے درمیان تھی جو عین عنفوانِ شباب کا زمانہ تھا، ادھیڑ عمر جسے عربی میں کہل کہتے ہیں ، وہ اس دنیا میں ان کی نہیں ہوئی ، اسی لیے ادھیڑ عمر میں لوگوں سے کلام جبھی ہو سکتا ہے جب وہ پھر دنیا مین تشریف لائیں، اس لئے جس طرح ان کا بچپن کا کلام معجزہ تھا اسی طرح ادھیڑ عمر کا کلام بھی معجزہ ہی ہے۔ (معارف القرآن)

- نبی اکرمؐ نے فرمایا:" (بنی اسرائیل میں سے)ماں کی گود میں صرف تین بچوں نے کلام کیا۔(i)حضرت عیسیٰؑ(ii)بنی اسرائیل میں جریج نامی شخص تھا۔وہ نماز کی حالت میں تھا کہ اس کی والدہ نے اُسے پکارا تو اس نے(دل میں)خیال کیا کہ والدہ کو جواب دوں یا نماز اداکرتارہوں(اس نے نماز جاری رکھی اور والدہ کو جواب نہ دیا)تو اس کی والدہ نے بددعا دی:"اے اللہ! جب تک وہ فاحشہ عورتوں کے چہرے نہ دیکھ لے اسے موت نہ دینا"۔چنانچہ (ایک دن)جریج اپنے عبادت خانے میں تھاکہ ایک(فاحشہ)عورت نے اسے برائی کی دعوت دی لیکن جریج نے انکار کردیا۔وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اس سے برافعل کیا اور ایک بچہ جنا۔(لوگوں کے پوچھنے پر)اس نے کہا :"یہ بچہ جریج کاہے۔"(لوگ یہ سن کر)اس کے پاس آئے اور اس کی عبادت گاہ کو توڑ پھوڑ دیا اسے(عبادت گاہ سے)نیچے اتار دیا اور گالیاں دیں۔ جریج نے (اس مصیبت کی حالت میں)وضو کیا اور نماز اداکرنے کے بعد بچے کے پاس آکر پوچھا :"اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟ بچہ بولا فلاں گڈریا تو(لوگ شرمندہ ہوئے)انہوں نے کہا ہم تیری عبادت گاہ سونے کی بنادیں ۔اس نے کہا نہیں بس مٹی کی۔(iii)بنی اسرائیل میں ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلارہی تھی کہ ادھر سے ایک خوش وضع(خوبصورت)سوار کا گزرہوا۔اس نے(اسے دیکھ کر)دعاکی:"اے میرے اللہ میرے بیٹے کو ایسا بنادے"بچے نے دودھ چھوڑ کر سوار کی طرف منہ کرکے کہا:"اے اللہ! مجھے ایسانہ بنانا۔"اور پھر دودھ پینے لگا ۔(راوی)ابوہریرۃؓ بیان کرتے ہیں کہ جیسے میں اس وقت نبی کریمؐ کو دیکھ رہاہوں کہ آپ نے اس بچے کی طرح اپنی انگلی چوس کر دکھائی پھراس نے عورت کے قریب سے ایک لونڈی کا گذرہوا جسے لوگ مارتے جارہے تھے تو اس نے کہا:" اے اللہ! میرے بچے کو ایسا نہ بنانا"بچے نے پھر اس کی چھاتی سے منہ ہٹا کر کہا "اے اللہ تو مجھے ایساہی بنادے"تو اس کی ماں نے متعجب ہوکر پوچھا :"یہ کیوں یعنی اس خوش وضع سوار کی بجائے اس ذلیل لونڈی کی طرح کیوں بننا پسند کرتاہے؟ اس نے جواب دیا وہ سوار تو ظالموں میں سے ایک بڑا ظالم تھا اور یہ لونڈی(بیچاری محض بے قصور ہے)لوگ اس پر الزام لگارہے ہیں کہ تونے چوری کی اور زنا کیا ،حالانکہ اس بیچاری نے کچھ نہیں کیا"صحیح بخاری،احادیث الانبیاء)(احسن الکلام)

- سیدنا عیسیٰؑ کی پیدائش کے متعلق مختلف نظریات:۔سیدنا عیسیٰؑ کی اس خرق عادت پیدائش کے بارے میں تین مختلف الرائے گروہ پائے جاتے ہیں پہلا فریق تو یہود ہیں جو سیدنا عیسیٰؑ کی ایسی واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود انہیں معاذ اللہ ولد الحرام کہتے ہیں۔ سیدہ مریم پر زنا کی تہمت لگائی اور ان کے ساتھ سیدنازکریاؑ کو ملوث کیا۔پھر آخر اپنی اسی بدظنی کی بناپر انہیں قتل بھی کردیا ۔دوسراگروہ نصاریٰ کا ہے جوکہتے ہیں کہ سیدہ مریم کی منگنی ان کے چچازاد بھائی یوسف نجار سے ہوئی تھی،مگر ابھی نکاح نہیں ہواتھا کہ انہیں اللہ کی قدرت سے سیدناعیسیٰؑ کا حمل ٹھہرگیا جب یوسف کو اس صورت حال کا علم ہوا تو اس نے یہ منگنی توڑدینا چاہی ،مگر خواب میں اسے ایک فرشتہ ملا جس نے بتایا کہ مریم پاک باز عورت اور ہر طرح کے الزامات سے بری ہے ۔اسے حمل اللہ کی قدرت سے ہواہے۔لہذا تم ایسی پاک باز اور پاکیزہ سیرت عورت کو ہر گز نہ چھوڑنا چنانچہ یوسف نے اپنی رائے بدل دی ۔پھر اس کے بعد اس نے یوسف سے شادی کی ۔اور اولاد بھی ہوئی ۔یہ فریق اپنے بیان کے مطابق مختلف اناجیل سے حوالے بھی پیش کرتاہے۔تیسراگروہ منکرین معجزات کا ہے جو سیدنا عیسیٰؑ کی بن باپ پیدائش کے قائل نہیں لیکن وہ تاویل ایسی پیش کرتے ہیں جس کا ثبوت نہ کتاب و سنت سے مل سکتا ہے نہ اناجیل سے اور نہ کسی دوسری کتاب سے،اور وہ تاویل یہ ہے کہ سیدنا مریم کی یوسف نجارسے منگنی نہیں بلکہ نکاح ہوچکاتھا۔ مگر ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ یوسف مریم کے پاس یا مریم یوسف کے پاس گئی۔اور ان کے باہمی ملاپ سے حمل ٹھہرا اور یہ ایسا بیان ہے جو سیدہ مریم کی اس قرآنی صراحت(ولم یمسسنی بشر)کے صریحاً خلاف ہے۔رہی یہ بات کہ اگر معاملہ یہی تھا تو یہود نے سیدہ مریم کو لعن طعن کس بات پر کی تھی؟تو اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ یہود میں رخصتی سے پہلے میاں بیوی کی مباشرت شدید جرم سمجھا جاتاتھا،خواہ نکاح ہوچکاہو،اور اسی جرم کی بناپر یہود نے لعن طعن کی تھی۔حالانکہ یہ بات بھی قرآنی تصریحات کے بالکل  برعکس ہے۔نیز ان کے نظریہ کو بھی کسی کتاب کے حوالہ سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔یہی وہ لوگ ہیں جو قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کی بجائے قرآن میں اپنے نظریات کو بہ تکلف داخل کرنا چاہتے ہیں خواہ اس سے قرآن کی کتنی ہی آیات کا انکار لازم آتاہو۔(تیسیر القرآن)

- یکلم الناس۔ اس سے اشارہ نکلتاہے،آپ کے جوشِ تبلیغ کی جانب ،لوگوں سے آپ کی گفتگو قصہ کہانی کی نہیں یقیناً توحید و تصحیح عقائد ہی پر ہوگی ،انجیلوں سے بھی جتنی شہادتیں ملتی ہیں سب سے تائید آپ کے جوشِ تبلیغ ہی کی ہوتی ہے۔۔۔اتنی کم سنی سے گفتگو پر یہ قدرت اعجازی رنگ میں تھی، انجیلی روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ آپ بارہ سال کے سن میں تبلیغ کرنے لگے تھے، اور اچھے اچھے دانا آپ کی گفتگو سن کر دنگ رہ جاتے تھے(لوقا۔2: 42، 46، 47)۔۔۔حضرت مسیحؑ کےبچپن اور پھر پختہ عمری کے ذکر سے اشارہ اس طرف بھی ہوگیا کہ ہر انسان کی طرح آپ کا نشوونما بھی بتدریجاً ہوتارہا،اور یہ نشوونما خود ایک مستقل دلیل ردِّ الوہیت میں ہے۔(تفسیر ماجدی)

47۔ کذلک (ایسا ہی ہوگا) اوپر حضرت زکریاکے جواب میں بھی یہی کہا گیا( وہاں کذالک اللہ یفعل مایشاء)۔(تفہیم القرآن)

۔ پس جو لوگ قرآن کو اللہ کا کلام مانتے ہیں اور پھر مسیحؑ کے متعلق یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی ولادت  حسبِ معمول باپ اور ماں کے اتصال سے ہوئی تھی وہ دراصل ثابت یہ کرتے ہیں کہ  اللہ تعالیٰ اظہار ما فی الضمیر اور  بیانِ مدعا کی اتنی قدرت بھی نہیں رکھتا  جتنی خود یہ حضرت رکھتے ہیں (معاذاللہ)  (تفہیم القرآن)

48۔کتاب (تورات) حکمت(انجیل) کیونکہ تورات میں شریعت اور احکام اور انجیل میں حکمت(کتاب و حکمت اور تورات و انجیل ) (بیان القرآن)

۔ یہود نے تورات کو بالکل بے روح احکام اور بے جان رسوم کا مجموعہ بنا کر رکھ دیا  تھا  اس وجہ سے ان کی شریعت زندگی سے بالکل خالی ان کے لیے صرف ایک بوجھ بن کر رہ گئی تھی۔ حضرت مسیحؑ  نے اس کے اندر اپنی تعلیم حکمت سے زندگی پیدا کی لیکن یہود نے اس کی قدر نہ کی۔ (تدبرِ قرآن)

49۔ مادر زاد اندھوں کی آنکھوں پر اور کوڑھی کے جسم پر ہاتھ پھیرتے تو وہ بالکل تندرست ہوجاتے اور بھلے چنگے ہوجاتے اور اندھوں کی بینائی لوٹ آتی اور کوڑھیوں کے جسم ٹھیک ہوجاتے ۔علاوہ ازیں وہ لوگوں کو یہ بھی بتلادیتے تھے کہ وہ کیا کچھ کھا کرآئے ہیں اور باقی گھر میں کیا چھوڑ آئے ہیں اور یہ سب باتیں آپ کے منجانب اللہ رسول ہونے اور آپ کے پاک باز ہونے پر واضح دلائل تھے۔

- معجزات عیسیٰؑ:۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ عیسیٰؑ کی پوری زندگی ہی معجزات سے بھرپور تھی۔آپ کی پیدائش بھی معجزانہ طورپر ہوئی۔مہد میں کلام کیا، آپ مردہ کو زندہ کرتے تھے اور مٹی کے بنائے ہوئے پرندوںمیں پھونک مارکر انہیں جیتا جاگتا پرندہ بنادیتے تھے۔پھر معجزانہ طورپر انہیں دشمنوں کی دسترس سے بچا کر آسمان پر اٹھالیا گیا۔ پھر قیامت کے قریب ان کا اس دنیا میں نزول بھی ہوگا ، اوریہ ایسے معجزات ہیں جن میں عیسیٰؑ منفرد ہیں۔شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ آپ کی پیدائش والد کے نطفہ کے بجائے نفخہ جبریل سے ہوئی تھی۔اور آپ میں کچھ ملکوتی صفات بھی آگئی ہوں۔(واللہ اعلم بالصواب)رہی یہ بات کہ منکرین معجزات سیدنا عیسیٰؑ کے ان چند معجزات کی تاویلات بیان فرماتے ہیں تو گذارش ہے کہ اس سلسلہ میں تین حضرات نے اپنی عقل و خرد سے گھوڑے دوڑائے ہیں۔پہلے تو آنرایبل سرسید احمد خان صاحب ہیں۔ دوسرے حافظ عنایت اللہ صاحب اثری ہیں جو تاویلات کے میدان میں سب سے سبقت لے گئے ہیں اور ان کی تاویلات دلچسپ اور مضحکہ خیز بھی زیادہ ہیں اور تیسرے نمبر پر جناب غلام احمد پرویز صاحب ہیں ۔ان سب کی تاویلات کو یہاں پیش کرنا پھر ان پر تبصرہ کرنا یہاں ممکن نہیں ۔البتہ ان کی تفصیل میں نے اپنی دوکتابوں "عقل پرستی اور انکار معجزات"اور " آئینہ پرویزیت"میں پیش کردی ہے۔(تیسیر القرآن)

- رسولاً۔آپ کا مرتبہ پیمبری کا ہوگا، نہ آپ معاذاللہ ساحر و شعبدہ باز ہوں گے جیساکہ بدتمیز یہود نے آپ کو سمجھا، اور نہ (نعوذباللہ)آپ خود خدایافرزندِ خداہونگے ،جیساکہ نصرانیوں نے گڑھ لیا۔۔۔الیٰ بنی اسرآئیل۔یہ بالکل صریح ہے، اس باب میں کہ آپ کی دعوت بنی اسرائیل تک محدود تھی، اور دوسرے بنی اسرائیل پیمبروں کی طرح آپؑ بھی صرف قومی نبی تھے ،انجیل تک میں یہ تصریح اتنی تحریفوں کے بعد بھی باقی رہ گئی ہے۔ "ان بارہ کو یسوع نے بھیجا اور انہیں حکم دے کے کہا کہ غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہرمیں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانہ کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا"(متی۔1: 5- 7)"اس نے جواب میں کہا کہ بنی اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس بھیجا نہیں گیا"(متی 16: 24)۔۔۔ یسوع نے بہ حیثیت معلم دین یا قانون ساز کے نہیں بلکہ بہ حیثیت شعبدہ باز کے اپنی زندگی میں شہرت و ناموری گلیل کے سادہ مزاج باشندوں میں حاصل کی "(متی جلد7، ص:167)(تفسیر ماجدی)

ــــ اس سے معلوم ہواکہ حضرت عیسیٰؑ کی رسالت بنی اسرائیل کے لئےخاص تھی۔اس کو خود انہوں نے بھی اپنے حواریوں پر واضح کیا اور غیر بنی اسرائیل کی طرف تبلیغ دین کے لئے جانے سے انہیں روکا۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

50۔۔ ایک یہودی عالم نے حضرت   مسیحؑ  سے پوچھا  کہ احکامِ دین میں اولین حکم  کونسا ہے  ؟   جواب میں آپ نے فرمایا : " خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل، اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔ بڑا اور پہلا حکم  یہی ہے۔ اور دوسرا اس کے مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔ انہی دو حکموں پر تمام توریت اور انبیا کے صحیفوں کا مدار ہے" (متی 22۔ 40) (تفہیم القرآن)

۔ آپ کی دعوت   جن معروفات   پر مبنی تھی یہ   معروفات بنی  اسرائیل کے لیے دلیل و حجت بن سکتے تھے لیکن دوسری قوموں کے لیے ان کا سمجھنا ممکن نہیں تھا۔ اس وجہ سے یہ دعوت اپنی فطرت ہی کے لحاظ سے دوسری قوموں کے لیے بالکل ناموزوں تھی۔ چنانچہ واقعہ یہ ہے کہ دوسری قوموں نے جن کے سامنے یہ دعوت پیش  کی گئی ، اس کو بالکل نہیں سمجھا۔ انھوں نے انجیلون سے بس یہ سمجھا کہ حضرت عیسیٰؑ نے بے شمار معجزے دکھائے ہیں۔ اس کا جو اثر ان پر پڑا وہ یہ کہ انھوں نے ان معجزات کے بل پر ان کو ایک معبود بنا کر رکھ دیا۔۔۔ "مصدقا" ہے تو حال لیکن یہ محض مشابہت کی وجہ سےسابق جملے پر عطف ہو گیا ہے۔ اس کے دو مفہوم ہیں اور ان دونوں مفہوموں کی دوسرے مقام میں ہم وضاحت کر چکے ہیں۔ ایک یہ کہ میں تورات کی تصدیق کرتا ہوں ۔ اس تصدیق کے شواہد انجیلوں میں موجود ہیں۔ حضرت مسیحؑ نے بڑے زور اور بڑی تاکید کے ساتھ یہ بات بار بار فرمائی ہے کہ میں تورات کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ اس کو قائم کرنے آیا ہوں۔۔۔ دوسرا یہ کہ میں قرآن کی پیشن گوئیوں کا مصداق ہوں، میرے ظہور سے ان کی تصدیق ہوئی ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کے پیش رو نبیوں سے ایسی پیشن گویاں موجود تھیں جن کی بنا پر یہود کو ایک نبی کی بعثت کا انتظار تھا۔ چنانچہ حضرت عیسیٰؑ کی شہرت ہوئی تو بہت سے حلقوں میں یہ چرچا ہونے لگا کہ جس کا انتظار تھا وہ آگیا۔ بعض لوگ اس منتظر کا نام ایلیا لیتے تھے انجیلوں میں حضرت یوحنا کے متعلق بھی منقول ہے  کہ جب وہ ہیرو دیس کے حکم سے جیل میں تھے تو انھوں نے اپنے چند شاگردوں کو حضرت مسیحؑ کی خدمت میں بھیج کر پچھوایا کہ " وہ جس کا انتظار تھا تو ہی ہے یا ہم کسی اور کا انتظار کریں" ؟ حضرت مسیحؑ نے پیغام لانے والوں سے کہا کہ جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ جا کر بتا دو کہ " لنگڑے چل رہے ہیں، گونگے بول رہے ہیں، اندھے دیکھ رہے ہیں، اب اور کس بات کا انتظار ہے؟ حضرت عیسیٰؑ نے متعدد ایسی باتوں کا خود بھی حوالہ دیا ہےجو ان کے بارے میں پچھلے نبیوں نے فرمائی ہیں۔ یہ حوالے انجیلوں میں موجود ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

51 ۔   (جس کی تعلیم ابتداء سے لے کر آخرتک سارے ہی پیغمبر دیتے آئے ہیں). حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل تعلیم اسی عبدیت اور اسی توحید کی تھی، ظالموں نے اسے مسخ کرکے تثلیث بنادیا۔ جو شرک ہی کی ایک کھلی ہوئی شکل ہے۔ (آیت) ” ربی وربکم “۔ اس میں اشارہ اسی طرف ہے کہ اللہ کے مخلوق، مربوب اور عبد ہونے کے اعتبار سے پیغمبر اور امتی سب یکساں ہیں۔ (آیت) ” فاعبدوہ “۔ یعنی صرف اسی کی پرستش کرو، بغیر کسی کی شرکت وآمیزش کے۔ آج جو انجیلیں دنیا کے پردہ پر موجود ہیں ان میں سے ایک انجیل برنابا س بھی ہے اس کے انگریزی، عربی، اردو ترجمے موجود ہیں۔ اور وہ حضرت برنابا س نامی حضرت (علیہ السلام) کے ایک حْواری کی جانب منسوب ہے۔ اس میں ظہور اسلام کی خبریں اور حضرت ختم رسل ﷺ کی بابت پیشگوئیاں ایسے صاف وصریح لفظوں میں موجود ہیں کہ مسیحیوں کو مفر اسی میں نظر آیا کہ اسے جعلی کہہ کر الگ کردیں خیر وہ تو ہر سچے سفیر الہی کے کلام کی طرح توحید کی تعلیم وتاکید سے لبریز ہی ہے لیکن دوسری انجیلیں بھی جو خود کلیسا کے نزدیک مستند ہیں وہ بھی اس تعلیم سے خالی نہیں، مثلا۔ ” یسوع نے اس سے کہا۔ اے شیطان دور ہو کیونکہ لکھا ہے کہ تو خدا وند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر “ (متی ( 10:4 تثلیث کا شرک جن ظالموں کی بھی ایجاد ہو بہرحال حضرت مسیح کا دامن اقدس اس آلودگی سے بالکل پاک اور منزہ ہے۔ (تفسیر ماجدی)

52۔  حواری کون تھے؟ اس بات میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ تاہم اس بات پر اتفاق ہے کہ حواری کا مفہوم وہی کچھ ہے جو لفظ انصار کا ہے۔ یعنی اللہ کے نبی اور دین کے مددگار ۔حواری کا مفہوم اس واقعہ سے بھی سمجھ میں آسکتاہے کہ غزوہ خندق کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یوں بھی مدد فرمائی کہ نہایت ٹھنڈی اور تیز ہوا بصورت سخت آندھی چلادی۔جس نے کفار کے لشکر کے خیمے تک اکھاڑپھینکے۔ان کی ہانڈیاں الٹ گئیں اور وہ بددل ہوکر ناکام واپس چلے جانے کی باتیں سوچنے لگے تو اس صورت حال کی صحیح رپورٹ لینے کیلئے رسول اللہؐ نے صحابہ کرامؓ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ کون ہے جو کفار کے لشکر کی خبر لاتاہے؟ اس کڑاکے کی سردی میں اور آندھی میں نکل کھڑے ہونے کی کسی کو جرأت نہ ہوئی ۔صرف سیدنا زبیرؓ بن عوام تھے، جنہوں نے کہا:"یارسول اللہؐ!میں جاتاہوں"آپ نے پھر دوسری باروہی سوال دہرایا تو پھر زبیرؓ بن عوام ہی بولے کہ "یارسول اللہؐ میں جاتاہوں"تیسری بار آپ نے پھر سوال دہرایا تو تیسری بار بھی سیدنا زبیرؓ بن عوام ہی جانے پر آمادہ ہوئے۔اس وقت آپؐ نے فرمایا کہ ہر پیغمبر کا ایک حواری ہوتاہے اور میرا حواری زبیرؓ ہے۔(بخاری ،کتاب المناقب،باب مناقب الزبیر بن عوام)چنانچہ کچھ حواریوں نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ ہم اللہ کے دین کی خدمت کریں گے اور از سرنوعہد و پیمان کیا اور عیسیٰ سے کہا کہ آپ گواہ رہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے اور اس کے فرمانبردار بنتے ہیں:بائیبل سے معلوم ہوتاہے کہ یہ حواری سیدنا عیسیٰ کے صدق دل سے مرید اور خاص شاگرد تعداد میں بارہ تھے اور ان کے نام یہ ہیں (1)شمعون،جسے پطرس بھی کہتے ہیں،(2)شمعون یا پطرس کا بھائی اندریاس،(3)یعقوب بن زیدی(4)یوحنا،(5)یوحنا کا بھائی فلیپوس(6)برتھولما(7)تھوما(8)متی،(9)یعقوب بن حلفائی،(10)تہدی،(11)شمعون کنعانی اور (12)یہودا اسکریوتی۔یہ  وہ بارہ حواری یا انصار تھے۔جنہوں نے سیدنا عیسیٰؑ کی دعوت ہر قیمت پر آگے بڑھانے کا سیدنا عیسیٰ سے عہد کیا تھا۔(تیسیرالقرآن)

۔ بعض مفسرین نے حواریین کی تعداد بارہ بتلائی ہے، اور کبھی لفظ حواری مطلقاً مددگار کے لیے  بھی بولا جاتا ہے ، اس معنی سے ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ہر نبی کا کوئی حواری یعنی مخلص ساتھی ہوتا ہے، میرے حواری زبیر ہیں (تفسیر قرطبی)  (معارف القرآن)

۔ دین  اسلام کی اقامت میں حصہ لینے کو قرآن مجید  میں اکثر مقامات پر "اللہ کی مدد" کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔  (تفہیم القرآن)

۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ حضرت مسیح ؑ کے سوال میں تو بڑا اختصار ہےلیکن حواریین کے جواب میں  بڑی تفصیل ہے۔ انھوں نے اپنے ایمان کا بھی اقرار کیا، اپنے مسلم ہونے پر بھی حضرت مسیح کو گواہ ٹھرایا، اور اپنے ایمان و اتباع رسول کے اقرار کے ساتھ خدا سے دعا بھی کی کہ ان کو حق کی شہادت دینے والوں میں لکھا جائے ۔ (تدبرِ قرآن)

54۔ یہوداور ان کے علماء و فقہاء سب کے سب سیدنا عیسیٰؑ کے دشمن بن گئے تھے مگر آپ کے دلائل کےسامنے انہیں مجبور اً خاموش ہوناپڑتا تھا۔پھر جب آپ نے سبت کے احکام میں تخفیف کا اعلان کیا تو یہود کو پروپیگنڈا کیلئے ایک نیا میدان ہاتھ آگیا کہ یہ شخص ملحد ہے اور تورات میں تبدیلی کرنا چاہتاہے۔

سیدنا عیسیٰؑ کو سولی کی سزادلوانے میں یہودی علماء کا کردار:۔ قیصر روم کی طرف سے جو حاکم شام پر مقرر تھا۔اس کا نام ہیروڈیس تھا۔ یہودیوں نے جب سیدنا عیسیٰؑ کو گرفتار کرلیا تو آپ کے منہ پر طمانچے مارے اور مذاق اڑاتے ہوئے شہر میں لے گئے۔پھر آپ کو ہیروڈیس کے نائب حاکم پلاطوس کے پاس لے گئے اور آپ پر دوالزام لگا کرپلا طوس سے آپ کے قتل کا مطالبہ کیا ۔ایک الزام یہ تھا کہ یہ شخص قیصر روم کو محصول دینے سے منع کرتاہے اور دوسرا یہ کہ یہ خود اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتا ہے لیکن آپ نے ان دوالزاموں سے انکارکیا توپلاطوس کہنے لگا کہ میرے نزدیک اس کا کوئی ایسا جرم نہیں جو مستوجب قتل ہو۔ مگر جب اس نے یہودیوں کا اپنے مطالبہ پر اصرار دیکھا تو اس نے یہ مقدمہ ہیروڈیس کے پاس بھیج دیا۔لیکن اسے بھی سیدنا عیسیٰؑ کا کوئی ایسا جرم نظر نہ آیا جو مستوجب قتل ہو۔لہذا اس نے یہ مقدمہ واپس پلاطوس کو بھیج دیا۔لیکن یہود کے علماء و فقہاء سب اسی بات پر بضد تھے کہ اس شخص کو ملحد ہونے اور دوسروں کو ملحد بنانے کی بناپر قتل کرنا ضروری ہے۔پلاطوس نے ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور ضد سے مجبور ہوکر کہاکہ میں تمہارے کہنے پر اسے سولی تو دے دیتا ہوں مگر اس کا گناہ تم پر اور تمہاری اولاد پر ہوگا۔یہود نے ضد میں آکر اس بات کو بھی تسلیم کرلیا۔

-نزول مسیح: بہت سی صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ عیسیٰؑ قیامت کے قریب دمشق کی مسجد کے سفید منارہ پر نزول فرمائیں گے۔ان کے ایک طرف جبرائیل ہونگے اور دوسری طرف میکائیل ،اس وقت مسلمان کئی طرح کے فتنوں میں مبتلا ہونگے جن میں سب سے بڑا فتنہ دجال کا ہوگا۔ آپ دجال کو قتل کرینگے اور مسلمانوں کی امداد فرمائیں گے ۔آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائیں گے،بلکہ رسول اللہؐ کے امتی بن کے رہیں گے اسی زمانہ میں آپ شادی کریں گے اولاد ہوگی آپ کے دور میں اسلام کا بول بالا ہوگا ،اور بعدہ آپ اپنی طبعی موت مریں گے۔اس دوران آپ یہود کو چن چن کر ماریں گے۔حتیٰ کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر کے پیچھے چھپاہوگا تو وہ پتھر بھی بول اٹھے گا کہ یہاں ایک یہودی موجود ہے۔یہی وہ صورت حال ہے جس کا مابعد والی آیت میں ذکر ہے ۔سیدنا ابوہریرۃؓ نزول عیسیٰؑ کے متعلق حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم چاہو تو (دلیل) یہ آیت پڑھ لو(وان  من اھل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ،4:159)اہل کتاب میں سے کوئی نہ رہے گا مگر عیسیٰؑ کی وفات سے پہلے ان پر ضرور ایمان لائے گا۔(تیسیر القرآن)

- آپ نے اپنی قوم کو نصرتِ دین کیلئے جو پکارااس سے محققین نے یہ استنباط کیا ہے کہ اہل دین سے دین کے بارہ میں مدد طلب کرنا تو کل کے ذرابھی منافی نہیں ،ان سے یہ مدد طلب کرنا اسی حیثیت سے ہوتاہے،یہ انصار نصرت الٰہی کے مظہر ہوتے ہیں۔ ۔۔الحواریون ۔حواری کے لفظی معنی کپڑا دھوکر صاف اور اجلا کرنے کے ہیں۔۔۔حضرت مسیحؑ کے ابتدائی مرید عموماً دریا کے کنارے کام کرنے والے ماہی گیر تھے اس لئے آپ کے بعد کے بھی رفیقوں ،شاگردوں کا یہی لقب پڑ گیا ،مجازی معنی مخلص و مددگار کے ہیں، چناچہ حدیث میں حضرت زبیرؓ کیلئے یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔۔۔اٰمنا باللہ۔ حواریون کا سارا زور ایمان باللہ پر ہے،"ابن اللہ"کے توتخیل سے بھی وہ بیچارے آشنا نہ تھے۔(تفسیر ماجدی)

54۔( اس لئے اس کی تدبیر کو توسب پر غالب رہنا ہی تھا)مکروا۔کا اسم فاعل یہود ہیں،یہود کے اکابر اور سرداروں نے مخالفت و ایذاکے بہت سے درجے طے کرنے کےبعد بلآخر یہ طے کیا کہ یسوع نامے اسرائیلی مدعئ نبوت کو ختم ہی کردینا چاہئے،چنانچہ پہلے اپنی مذہبی عدالت میں الحاد کا الزام لگاکرآپؑ کو واجب القتل قراردیا ،پھر رومی حاکموں کی ملکی عدالت میں لاکر آپؐ پر بغاوت کا مقدمہ چلایا۔(تفسیر ماجدی)

۔۔ یہ اشارہ ہے یہود کے علماء کی ان کوششوں کی طرف جو انہوں نےحضرت مسیحؑ کو واجب القتل قرار دینے، رومی حکومت کا باغی ظاہر کرنے اور ایک منافق شاگرد ،یہودا کے ذریعے ان کو گرفتار کروانے کے لئے کیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیا۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحی)


چھٹا رکوع

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ 55 اس وقت خدا نے فرمایا کہ عیسیٰ! میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کر دوں گا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (وغالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کردوں گا
 فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ 56 یعنی جو کافر ہوئے ان کو دنیا اور آخرت (دونوں) میں سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔
 وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ  57 اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا پورا پورا صلہ دے گا اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔
 ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ  58 (اے محمدﷺ) یہ ہم تم کو (خدا کی) آیتیں اور حکمت بھری نصیحتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں۔
 اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ 59 عیسیٰ کا حال خدا کے نزدیک آدم کا سا ہے کہ اس نے (پہلے) مٹی سے ان کا قالب بنایا پھر فرمایا کہ (انسان) ہو جا تو وہ (انسان) ہو گئے۔
 اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ 60 (یہ بات) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔
 فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ  61 پھر اگر یہ لوگ عیسیٰ کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم کو حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چلی ہے تو ان سے کہنا کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلاؤ اور ہم خود بھی آئیں اور تم خود بھی آؤ پھر دونوں فریق (خدا سے) دعا والتجا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت بھیجیں۔
 اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ 62 یہ تمام بیانات صحیح ہیں اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک خدا غالب اور صاحبِ حکمت ہے۔
 فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠    ۧ ۧ  63 تو اگر یہ لوگ پھر جائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔

تفسیر آیات

55۔ اس میں حضرت عیسیٰؑ کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ہے۔متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے قریب آپ کا آسمان سے دوبارہ نزول ہوگا۔ایک حدیث میں نبی کریمؐ نے فرمایا:"اس اللہ کی قسم ،جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!وہ زمانہ قریب ہے کہ مریم کے بیٹے(عیسیٰؑ)تم لوگوں میں عادل حکمران بن کر اتریں گے تو وہ صلیب کو توڑدیں گے ،خنزیر کو ختم کردیں گے،جزیہ کو موقوف کردینگے اور مال اس کثرت سے ہوگا کہ اسے کوئی آدمی قبول نہیں کرے گا ۔ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا(صحیح بخاری۔احادیث الانبیاء)۔ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا :" اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب مریم کے بیٹے (حضرت عیسیٰؑ)تم میں اتریں اور تمہارا امام تمہاری قوم میں سے ہوگا"(صحیح بخاری، احادیث الانبیاء))احسن الکلام(

ــــ حفاظت و نصرت کی بشارت کے سیاق و سباق میں "قبض کرنے"سے مراد موت دینا نہیں ہوسکتا بلکہ اس کی شکل اٹھالینے کی تھی۔جب کوئی قوم نبی کے قتل کے درپے ہوجاتی ہے تو اس وقت نبی بحکم الٰہی ہجرت کرجاتاہے ۔سیدنا مسیحؑ کا یہ رفعِ آسمانی بھی ایک نوعیت کی ہجرت ہی ہے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحی)

- لفظ متوفیک  سے یہ لازم نہیں آتاکہ موت اسی وقت اور فی الفور واقع ہوگی ،ہمارے اکابر مفسرین اسی طرف گئے ہیں، بلکہ امام رازی نے تو اسی کو بہتر تفسیر قرار دیاہے۔۔۔اور ایک قول یہ بھی نقل ہواہے کہ توفی سے یہاںمراد وفات موت نہیں ، بلکہ مرتبہ کی  بلندی ہے۔۔۔رافعک۔ حضرت مسیحؑ کے رفیع جسمانی کی صراحت تو قرآن مجید میں موجود نہیں،لیکن قریب بہ صراحت ہونے کے یہ عقیدہ قرآن مجید کی اسی آیت میں موجود ہے اور احادیث نے اسے اور صاف اور مؤکد کردیاہے۔۔۔حضرت مسیحؑ کی جب پیدائش عام انسانی قاعدہ تولد و تناسل سے الگ یعنی بغیر باپ کے توسط کے محض نفخۂ جبرائیل سے ہوگئی تو اب رفعِ جسمانی میں آخر اس قدر استبعاد کیا ہے،بلکہ یہ تو بالکل قرین قیاس ہے کہ آپ کا انجام ظاہری بھی معمول عام سے ہٹ کرہواہو،اور عجب کیا مسّ ملکی نے آپ کے جسم میں لطافت بھی شروع سے ایسی رکھ دی ہو جو آپ کے صعود ِ آسمانی میں معین ہوسکے۔۔۔مرجعکم۔ خطاب یہاں مومن و کافر، مسلمان و یہود و نصاریٰ سب سے ہے۔۔۔فیہ مختلفون۔لفظ عام ہے،لیکن سیاق میں جس اختلافی و نزاعی امر کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰؑ کی نبوت و رسالت ہے۔)تفسیر ماجدی(

۔ اصل میں لفظ  "متوفیک" استعمال ہوا ہے ۔ "توفی " کے اصل معنی لینے اور وصول کرنے کے ہیں۔ "روح قبض کرنا" اس لفظ کا مجازی استعمال ہے نہ کہ اصل لغوی معنی۔ یہاں یہ لفظ انگریزی لفظ (To recall) کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی  کسی عہدہ دار کو  اس کے منصب سے واپس بلا  لینا ۔(تفہیم القرآن)

۔ دوسرا یہ کہ اگر اس لفظ سے یہاں موت دینا مراد ہے تو اس کے بعد " رافعک الی " کے الفاظ بالکل غیر ضروری ہو کے رہ جاتے ہیں۔ آخر یہ کہنے کا کیا فائدہ ہے کہ ، میں تمہیں موت دینے والا اور اپنی طرف اٹھا   لینے والا ہوں؟ موقع دلیل ہے کہ یہاں "متوفیک" کے بعد " رافعک الی" کے الفاظ "توفی" کے مفہوم کو واضع کر رہے ہیں کہ تمہاری" توفی " کی شکل یہ ہو گی کہ میں تمہیں اپنی طرف اٹھا لوں گا۔ ۔۔۔۔ تیسرا یہ کہ   " رافعک الی " کے معنی مجرد رفع درجات لینا صحیح نہیں ہے۔ اس صورت میں "الی" کا لفظ بالکل  بے ضرورت ہو کر رہ جاتا ہے اور قرآن میں کوئی لفظ بھی بے ضرورت استعمال نہیں ہوا ہے۔ اگر صرف درجے کی بلندی کا اظہار مقصود ہوتا  تو عربیت کے لحاظ سے "رافعک" کافی تھا۔ "الی" کی ضرورت نہیں تھی۔ قرآن میں دیکھ لیجیے جہاں بھی یہ لفظ بلندی مرتبہ کے مضمون کے لیے استعمال ہوا ہے بغیر "الی" کے استعمال ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ چوتھا یہ کہ قرآن نے دوسرے مقام میں جہاں یہ مضمون بیان کیا ہے  وہاں "متوفیک" کا لفظ بالکل اڑا دیا ہے۔ قتل اور سولی کی نفی کے بعد جس چیز کا اثبات کیا ہے وہ صرف اٹھا لیے جانے کا ہے۔ " بل رفعہ اللہ الیہ" (بلکہ اللہ نے اس کو اپنی جانب اٹھا لیا ) ۔ یہ بات  کا نہایت واضع قرینہ ہے کہ قرآن نے یہ " توفی" کی اصل شکل بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی جانب اٹھا لیا۔۔۔۔۔۔ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَ   ۔ اس میں اس بات کی بشارت ہے کہ حضرت مسیح ؑ کے نام  لیوا ان کے منکرین پر ہمیشہ غالب رہیں گے ۔ تاریخی طور پر یہ بات ایک امرِ واقعہ ہے کہ نصاریٰ من حیث القوم اس بشارت کے بعد سے یہود پر ہمیشہ ہاوی و غالب رہے ہیں۔ آج بھی جب کہ بظاہر یہود کی ایک چھوٹے سے خطہ میں سلظنت قائم ہو چکی ہے ، حقیقت اپنی جگہ پر اسی طرح قائم و ثابت ہے جس طرح پہلے قائم و ثابت تھی۔ اس لیے کہ یہود کی یہ نام نہاد سلطنت قائم بھی نصاریٰ ہی کے ہاتھوں ہوئی ہے اور باقی  بھی انہی کے بل بوتے پر ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ رسولوں کی اس امتیازی خصوصیت کی وجہ سے  اللہ تعالیٰ ان کے دشمنوں کو یہ مہلت  نہیں دیتا کہ وہ ان کو قتل کر دیں۔ چنانچہ  رسولوں میں سے کسی کا قتل  ہونا ثابت نہیں۔ یہ بات بھی نصاریٰ کے اس دعوے کے خلاف جاتی ہے کہ حضرتِ عیسیٰؑ کو سولی پر چڑھایا گیا۔(تدبرِ قرآن)

۔ اس تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ توفی کے معنی موت ہی کے ہیں مگر الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے،" رافعک" کا پہلے اور " متوفیک" کا وقوع بعد میں ہو گا اور اس موقع پر "متوفیک" کو مقدم ذکر کرنے کی حکمت و مصلحت اس پورے معاملے کی طرف اشارہ کرنا ہے جو آگے ہونے والا ہے یعنی یہ اپنی طرف بلا لینا  ہمیشہ کے لیے نہیں ، چند روزہ ہو گا اور پھر آپ اس دنیا میں آئیں گے اور دشمنوں پر فتح پائیں گے۔ اور بعد میں طبعی طور پر آپ کی موت واقع ہو گی۔ اس طرح دوبارہ آسمان سے نازل ہونے اور  دنیا پر فتح پا لینے کا واقعہ  ایک معجزہ بھی تھا اور حضرت عیسیٰؑ  کے اعزاز و اکرام کی تکمیل بھی، نیز اس میں عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت کا ابطال بھی تھا، ورنہ ان کے زندہ آسمان پر چلے جانے کے واقعہ سے ان کا یہ عقیدہ باطل اور پختہ ہو جاتا ہے  کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرح حی و قیوم ہے، اس لیے پہلے" متوفیک"  کا لفظ ارشاد فرما کر ان تمام خیالات کا ابطال کر دیا پھر اپنی طرف بلانے کا ذکر فرمایا۔(معارف القرآن)

۔ حیات و نزولِ مسیح کی تفصیل کے لیے معارف القرآن صفحات 73 تا 81 کا مطالعہ مفید رہے گا۔ (مرتب)

59۔ وفد نجران اور الوہیت عیسیٰؑ:۔ اس آیت سے عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کی تردید کا آغاز ہورہاہے۔۔۔اس سورۂ کی تقریبا تیس آیات نازل ہوئیں جن میں سیدنا یحیٰ اور سید نا عیسیٰؑ کی پیدائش کا تفصیلی ذکر ہے، اور ان میں عقیدہ الوہیت مسیح کا پورا پورا  رد موجود ہے۔۔۔ )تیسیر القرآن(

- مسیحیوں میں ایک قدیم فرقہ ایرین ہواہے،اس کا بانی آریوس چوتھی صدی عیسوی کے شروع میں اسکندریہ کا لاٹ پادری تھا، اس کی تعلیم یہی تھی کہ مسیحؑ قدیم و غیر مخلوق نہیں ، مخلوق و حادث ہیں(انسائکلوپیڈیا برٹانیکاجلد1،ص 508طبع چہاردہم))تفسیر ماجدی(

61۔ یہاں بعض لوگوں نے بے جا کوشش کی ہے کہ حضورؐ کی صرف ایک صاحبزادی تھیں وگرنہ چاروں مباہلہ کےلئے تشریف لاتیں ۔مگر یہ اس لئے تھا کہ حضرت رقیہ سنہ2ھ میں ،حضرت زینب سنہ8ھ میں اور حضرت ام کلثوم سنہ9ھ میں آمد ِ وفد سے پہلے انتقال فرما چکی تھیں۔)ضیاء القرآن(

۔ابوعبیدہ بن الجراح امین الامت:سیدنا حذیفہؓ کہتے ہیں کہ نجران سے عاقب اور سید آپ کے پاس آئے ۔یہ لوگ آپؐ سے مباہلہ کرنا چاہتے تھے۔ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا ۔"اگر یہ نبی ہوا اور ہم نے مباہلہ کیا تو پھر نہ ہماری خیر ہوگی نہ ہماری اولادکی " پھر انہوں نے آپؐ سے کہا :"جوجزیہ آپ مانگتے ہیں۔وہ ہم دے دیں گے۔آپؐ ایک امین آدمی ہمارے ہمراہ کردیجئے جو فی الواقع امین ہو"یہ سن کر آپ کے صحابہ انتظار کرنے لگے(کہ آپؐ کس کا نام لیتے ہیں)چناچہ آپؐ نے فرمایا :"عبیدہ بن الجراح ! اٹھو! جب وہ کھڑے ہوئے تو آپؐ نے فرمایا اس امت کا امین یہ شخص ہے"(بخاری ،کتاب المغازی،باب قصۃ اہل نجران) )تیسیر القرآن(

-حضرت علی کی خلافت بلافصل کا استدلال :۔

اس لفظ سے بعض لوگوں نے حضرت علی المرتضیٰؓ کی خلافت بلافصل پر استدلال کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انفسنا سے مراد حضرت علیؓ ہیں ۔جس سے ثابت ہوا کہ کہ آپ نفسِ رسول ہیں۔گویا آپ رسول جیسے ہیں۔تو جب آپ حضور کریم کے مساوی ہوگئے تو پھر آپ سے زیادہ خلافت کا حقدار اور کون ہوسکتاہے۔تو اس کے متعلق التماس ہے کہ انکا شمار ابناء نا میں ہے۔کیونکہ آپ نبی اکرمؐ کے داماد تھے۔اور داماد کو بیٹا کہاجاتاہے۔اور اگر انفسنا میں ہی شمار کریں تو عینیت اور مساوات کہاں سے ثابت ہوئی ۔کیونکہ یہ لفظ تو ان لوگوں کیلئے بھی استعمال ہوتاہے جو قریبی رشتہ دار یا دینی اور قومی بھائی ہوں۔جیسے یخرجون انفسھم من دیارھم(وہ اپنے   نفسوں کو یعنی اپنے قومی بھائیوں کوان کے وطن سے نکال رہے ہیں)ولاتخرجون انفسکم من دیارکم(اپنے وطن سے اپنے نفسوں یعنی قومی بھائیوں کو نہ نکالنا)ثم انتم ھٰؤلاء تقتلون انفسکم ۔ان سب آیات میں ان کے علاوہ متعدد دیگر آیات میں انفس کا لفظ دینی اور قومی بھائیوں کیلئے استعمال ہواہے۔( ضیا ء القرآن)


ساتواں رکوع

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ 64 کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی) ہے اس کی طرف آؤ۔ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا اپنا کار ساز نہ سمجھے اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرماں بردار ہیں۔
 یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 65 اے اہلِ کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں (اور وہ پہلے ہو چکے ہیں) تو کیا تم عقل نہیں رکھتے۔
هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ  66 دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
 مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ  67 ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بے تعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور اسی کے فرماں بردار تھے اور مشرکوں میں نہ تھے۔
 اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ 68 ابراہیم سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر (آخرالزمان) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور خدا مومنوں کا کارساز ہے۔
وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ  69 (اے اہل اسلام) بعضے اہلِ کتاب اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ تم کو گمراہ کر دیں مگر یہ (تم کو کیا گمراہ کریں گے) اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور نہیں جانتے۔
 یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ 70 . اے اہلِ کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں انکار کرتے ہو اور تم (تورات کو) مانتے تو ہو۔
 یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠   ۧ ۧ 71 اے اہلِ کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو اور تم جانتے بھی ہو۔

تفسیر آیات

۔یہاں سے ایک تیسری تقریر شروع ہوتی ہے جس کے مضمون پر غور کرنے سے اندازہ  ہوتا ہے کہ جنگِ بدر اور جنگِ احد کے  درمیانی دور کی ہے۔ لیکن ان تینوں تقریروں کے درمیان  مطالب کی ایسی قریبی مناسبت پائی جاتی ہے کہ شروع سورت سے لے کر یہاں تک کسی جگہ ربطِ کلام ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔ اس بنا  پر بعض مفسرین کو شبہ ہوا ہے کہ یہ بعد کی آیات بھی وفدِ نجران والی تقریر ہی کے سلسلہ کی ہیں، مگر یہاں سے جو تقریر شروع ہو رہی ہے اس کا انداز صاف بتا رہا ہے کہ اس کے  مخاطب یہودی ہیں۔ (تفہیم القرآن)

64۔صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہؐ نے مختلف شاہان عجم کی طرف اسلامی دعوت کے خطوط بھیجے ۔جو خط ہر قل شاہ روم کو بھیجا گیا۔اس میں اسلام کی طرف دعوت کی  یہی آیت درج تھی۔ان دنوں ابوسفیان اپنے چند ساتھیوں سمیت شام گیا ہواتھا۔ اسے اور اس کے ساتھیوں کو ہرقل نے دربار میں بلاکر پیغمبر اسلام کے متعلق بہت سے سوال و جواب کئے۔ تاآنکہ اسے پیغمبر اسلام کی حقانیت کا یقین ہوگیا ۔پھر اس نے رؤسائے مملکت کو ایک کمرے میں بلاکر کہا کہ اگر مسلمان ہوجاؤ تو ہدایت پاجاؤ گے اور تمہارا ملک بھی تمہارے ہی پاس رہے گا مگر وہ لوگ اس دعوت پر تلملا اٹھے اور باہر بھاگنا چاہا ۔ہرقل نے انہیں دوبارہ بلاکر کہا میں صرف تمہاری آزمائش کررہاتھا کہ تم اپنے دین میں کتنے پختہ ہو۔چنانچہ انہوں نے ہرقل کو سجدہ کیا اور اس سے خوش ہوگئے (طویل حدیث کا خلاصہ)(بخاری،کتاب التفسیر،زیر آیت یااھل الکتاب تعالوا)(تیسیر القرآن)

- پاپا کی عصمت کیتھولک مسیحیوں کا اور پادریوں کے اجماع کلیسا کی عصمت کل مسیحیوں کا متفقہ عقیدہ ہے۔"ایک محسوس کلیسا کے بغیر نجات ممکن نہیں ،اس پر ہمیشہ روح القدس کا سایہ رہتاہے،اس لئے مسائل میں کلیسا سے امکان ِ خطا ہی نہیں"۔(انسائیکلوپیڈیابرٹانیکاجلد16،ص 940) (تفسیر ماجدی)

۔ توحید کے معاملے میں سب سے زیادہ گمراہی نصاریٰ ہی کو پیش آئی ہے ۔۔۔۔۔ اس آیت میں یہ بات جو آئی ہے کہ " ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو رب نا بنائے " اس کی وضاحت دوسرے مقام میں ہوئی ہے کہ اہلِ کتاب نے اس ہدایت کے بر خلاف اپنے احبار و رہبان کو رب بنا لیا۔ اس پر بعض اہلِ کتاب کی طرف سے آنحضرتﷺ سے سوال ہوا کہ ' ہم احبار و رہبان کو رب تو نہیں مانتے"؟ حضورؐ نے جواب میں فرمایا کہ"  کیا یہ بات نہیں ہے کہ جس چیز کو وہ حرام ٹھہرا دیں   تم اس کو حرام ٹھہرا دیتے ہو اور جس چیز کو حلال ٹھہرا  دیں اس کو حلال"؟ سائل نے اقرار کیا  کہ یہ بات تو ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہی ان کو رب بنا دینا ہے۔ اور جب اس طرح کسی کی اطاعت کی جائے کہ اس کے لیے تحریم و تحلیل کا حق تسلیم کر لیا جائے تو درحقیقت یہ چیز اس کی عبادت کرنے کے ہم معنی ہے اگرچہ بظاہر اس کو سجدہ و رکوع کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ (تدبرِ قرآن)

۔ اصل میں لفظ "حنیف" استعمال ہوا ہے جس سے مراد ایسا شخص ہے جو ہر طرف سے رخ پھیر کر ایک خاص راستہ پر چلے۔ اس مفہوم کو ہم نے "مسلمِ یک سو" سے ادا کیا ہے۔ (تفہیم القرآن)

- 68 -65۔ تفسیر آیات 65 تا 68: ان آیات میں کوئی نحوی یا ادبی اشکال نہیں ہے۔ مضمون بھی ان کا پوری تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ چونکہ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دونوں ہی کے مسلم خاندانی وروحانی پیشوا تھے اس وجہ سے یہود، نصاریٰ اور مشرکین تینوں ہی گروہ اپنی اپنی بدعات کی حمایت میں ان کے نام کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہود کہتے کہ حضرت ابراہیم ہمارے طریقہ پر تھے۔ نصاریٰ ان کو اپنے طریقہ پر بتاتے اور مشرکین عرب اپنے طریقہ پر، یوں تو یہ ادعائے فخر ان میں سے ہر گروہ کو ایک دوسرے کے مقابل میں ہمیشہ رہا لیکن اسلام کی دعوت شروع ہونے کے بعد اس کی مخالفت میں خاص حربہ جو ان تینوں ہی گروہوں نے استعمال کیا وہ یہی تھا کہ نیا دین دین ابراہیمی کے خلاف ہے، اصل دین ابراہیمی کے حامل ہم ہیں اور محمد ﷺ ہم کو ہمارے اصلی جدی دین سے ہٹا کر گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ اس کے بعد قرآن نے حضرت ابراہیم ؑ کا دین بتایا کہ وہ نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ حنیف مسلم تھے۔ ”حنیف“ کے معنی، جیسا کہ سورة بقرہ میں وضاحت ہوچکی ہے، یکسو کے ہیں، یعنی وہ توحید کی صراط مستقیم پر تھے۔۔۔۔ اس کے بعد یہ بتایا کہ ابراہیم سے نسبت کے اصل حقدار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی ہے۔ یعنی یہ نسبت صرف خاندان اور نسب سے حاصل ہونے والی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اتباع اور ْاطاعت سے ہے۔ اس اعتبار سے حضرت ابراہیم سے سب سے زیادہ اولیٰ و اقرب یہ پیغمبر (محمد ﷺ اور ان پر ایمان لانے والے صحابہ ہیں، نہ کہ یہود و نصاری اور مشرکین جنہوں نے دین ابراہیمی کو بالکل مسخ اور برباد کیا ہے۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)

 70۔۔۔پہلی کوشش ان کی یہ تھی کہ جیسے بھی ممکن ہو اگر کچھ مسلمانوں کو یہودی بنالیا جائے تو وہ اپنے مقصد میں بہت حدتک کامیاب ہوسکتے ہیں۔۔۔دوسری کوشش ان کی یہ تھی کہ تورات کی جن آیات میں نبی آخر الزماں کی بشارات دی گئی ہیں۔انہیں عوام میں شائع و ذائع ہونے سے روکا جائے ۔(تیسیر القرآن)

71۔  چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ بہت سے اہلِ کتاب (خصوصا ان کے اہلِ علم) یہ جان چکے تھے کہ حضور وہی نبی ہیں جن کی آمد کا وعدہ انبیا ئے سابقین ْنے کیا تھا ، حتیٰ کہ کبھی کبھی حق کی زبردست طاقت سے مجبور ہو کر ان کی زبانیں آپ کی صداقت اور آپ کی پیش  کردہ تعلیم کے برحق ہونے کا اعتراف تک کر گزرتی تھیں۔ اس وجہ سے قرآن بار بار ان کو الزام دیتا ہے کہ اللہ کی جن آیات کو تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہو، جن کی حقانیت پر تم خود گواہی دیتے ہو ان کو تم قصدا "اپنے نفس کی شرارت سے جھٹلا رہے ہو ۔ (تفہیم القرآن)


آٹھواں رکوع

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚ ۖ  72 اور اہلِ کتاب ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ جو (کتاب) مومنوں پر نازل ہوئی ہے اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آیا کرو اور اس کے آخر میں انکار کر دیا کرو تاکہ وہ (اسلام سے) برگشتہ ہو جائیں۔
 وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚ ۙ  73 اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا ۔(اے پیغمبر) کہہ دو کہ ہدایت تو خدا ہی کی ہدایت ہے (وہ یہ بھی کہتے ہیں) یہ بھی (نہ ماننا) کہ جو چیز تم کو ملی ہے ویسی کسی اور کو ملے گی یا وہ تمہیں خدا کے روبرو قائل معقول کر سکیں گے۔ یہ بھی کہہ دو کہ بزرگی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا کشائش والا (اور) علم والا ہے۔
 یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ 74 وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔
 وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ 75 اور اہلِ کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس (روپوں کا) ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو (فوراً) واپس دے دے اور کوئی اس طرح کا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو تمہیں دے ہی نہیں یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا یہ خدا پر محض جھوٹ بولتے ہیں اور (اس بات کو) جانتے بھی ہیں۔
 بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ 76 ہاں جو شخص اپنے اقرار کو پورا کرے اور (خدا سے) ڈرے تو خدا ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 77 . جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا۔
 وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ 78 اور ان (اہلِ کتاب) میں بعضے ایسے ہیں کہ کتاب (تورات) کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے (نازل ہوا) ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور خدا پر جھوٹ بولتے ہیں اور (یہ بات) جانتے بھی ہیں۔
 مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ 79 کسی آدمی کو شایاں نہیں کہ خدا تو اسے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہو جاؤ بلکہ (اس کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ اے اہلِ کتاب) تم (علمائے) ربانی ہو جاؤ کیونکہ تم کتابِ (خدا) پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو۔
 وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠   ۧ 80 اور اس کو یہ بھی نہیں کہنا چاہیے کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا بنالو بھلا جب تم مسلمان ہو چکے تو کیا اسے زیبا ہے کہ تمہیں کافر ہونے کو کہے۔

تفسیر آیات

72۔ یہود کی تیسری چال،ایمان لاکر مرتد ہوجانا:۔ اسی سلسلہ میں ایک سازش تیار کی گئی کہ یہود کے چند افراد اعلانیہ طورپر مسلمان ہوجائیں۔پھر چند دنوں بعد یا اسی دن اسلام سے مرتد ہوجائیں ۔اس سازش کا پس منظر یہ تھا کہ یہود عرب بھر میں علوم شرعیہ کے عالم مشہور تھے،حتٰی کہ یہوداپنے سوادوسرے سب لوگوں کو امی (ناخواندہ لوگ)کہہ کر پکارتے تھے۔ یہودیوں کے مسلمان ہونے کے بعد پھر سے مرتد ہونے سے عام لوگوں میں خود بخود تاثر پیدا ہوجائے گا کہ اہل علم نے جب اس دین اسلام کا قریب ہوکر مطالعہ کیا تو انہیں ضرور دال میں کچھ کالا نظر آیاہے۔ورنہ ایک عالم آدمی کیسے گمراہی کو ترجیح دے سکتاہے۔یہ سازش ابھی پک ہی رہی تھی کہ اللہ نے اپنے نبی کے ذریعہ مسلمانوں کو اس سے متنبہ کردیا اور ان کی یہ باطنی خباثت وہیں ختم ہوکر رہ گئی۔(تیسیر القرآن)

۔ اس سازش کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہود نے  جب بھی کسی ملت کو اپنا نشانہ بنایا ہے اس کے لیے تدبیر یہی اختیار کی ہے کہ اس کے اندر گھس کر  اس کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ دینِ مسیحی کو بگاڑنے کے لیے پال نے جو کامیاب کوشش کی وہ مذاہب کی تاریخ کی ایک  نہایت درد انگیز داستان ہے۔ پھر مسلمانوں کے عقائد و نظریات  کو مسخ کرنے کے لیے یہود و نصاریٰ دونوں نے جو فتنے خود ہمارے کتب خانون میں  بیٹھ کر ہمدردانہ بھیس میں اٹھائے ہیں، وہ بھی کوئی مخفی چیز نہیں ہے۔(تدبرِ قرآن) 

73۔ یہودیوں کی نفسیاتی حالت:۔مفسرین کرام نے اس آیت کو مشکل ترین آیت شمار کیا ہے۔اور اس میں جو متعدد جملے ہیں ان کے باہمی تعلق پر بڑی طویل بحثین کی ہیں۔لیکن خدارحم فرماوے۔امام ابوعبداللہ القرطبی پر جنہوں نے اس آیت کو بالکل آسان بنادیا ہے ۔فرماتے ہیں اس آیت میں قل ان الھدی ھدی اللہ جملہ معترضہ ہے اور دوسرے سب جملوں کا تعلق لاتومنوا سے ہے۔اس صورت میں اس کا مفہوم یوں ہوگا:۔المعنی ولاتؤمنوا الالمن تبع دینکم ولاتؤمنوا ان یوتی احد مثل مااوتیتم ولاتصدقواان یحاجوکم(تفسیر قرطبی)یعنی رؤساء یہود اپنے ان چیلوں کو جنہیں انہوں نے اس سازش کیلئے تیار کیا تھا یہ تین باتیں بڑی مہارت سے ذہن نشین کراتے تھے۔ پہلی تو یہ تھی کہ اپنے دین کے ماننے والوں کے بغیر کسی کی بات مت ماننا۔دوسرایہ یقین کرنا کہ جن انعاماتِ خداوندی سے تمہیں سرفراز کیا گیا ہے وہ کسی دوسری قوم کو مرحمت نہیں کیے گئے۔تیسرا یہ کہ بالکل مطمئن رہو۔قیامت کے دن بھی تم پر کوئی حجت قائم کرکے تمہیں شرمسار نہ کرسکے گا۔یہ باتیں ان کے ذہن نشین کرنے کے بعد ان کو اس خطرناک سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا اہم فریضہ سونپا جاتا۔علم نفسیات کے ماہر ان کی وسعت ِ نظر کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتے ۔یہود کو یہ اندیشہ تھا اور وہ بے جابھی نہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی ان کے پاس جاکرانہی کے بن کررہ جائیں جیسے ان کا بارہا کا مشاہدہ تھا۔اور دوسروں کو اسلام سے برگشتہ کرتے کرتے کہیں اپنو ں سے ہی ہاتھ  نہ دھونے پڑیں۔اس اندیشہ کی پیش بندی انہوں نے بڑی سوجھ بوجھ سے کی ۔اور ان کے دل و دماغ کو ایسے قالب میں ڈھالنے کی ماہرانہ سعی کی جس کے بعد اس قسم کے خطرات کا امکان ہی ختم ہوجاتاہے۔پہلے ان کی مذہبی عصبیت کو ہوشیار کیا۔اور انہیں یہ مانوں نہ مانوں کا سبق از بر کرادیا۔اس کے بعد ان کی قومی نخوت اور نسلی برتری کے احساس کوہوادی گئی کہ خدا  کی ساری مخلوق میں تمہی اس کے پیارے اور لاڈلے ہو،جو انعامات تم پر کیے گئے ہیں کسی دوسری قوم پر نہیں کیے گئے ۔اس لیے جب تم تمام اقوام عالم سے افضل و اعلیٰ ہوتوتم کیوں کسی دوسری قوم کی دعوت قبول کروجو تم سے فروتر ہیں۔اب بھی ایک گوشہ باقی تھا جس طرف سے ان کی ہٹ دھرمی اور تعصب پر یورش ہوسکتی تھی اور وہ روزقیامت کی باز پرس کا خوف ۔اس کو یہ کہہ کر محفوظ کردیا کہ یقین مانوقیامت کے دن بھی تم ہی سرخرو ہوگئے اور کوئی ایسی بات نہیں جس کے باعث تمہیں قیامت کے دن شرمندہ ہونا پڑے۔اس طرح انہیں ذہنی اور روحانی طورپر بھی اسلام کے خلاف اس گھناؤنے جرم کے ارتکاب  کیلئے مستعد کردیا ۔علامہ قرطبیؒ کی اس تفیسر کے بعد آیت کا مفہوم اتنا واضح ہے کہ ان پر پیچ تاویلات کی ضروت ہی محسوس نہیں ہوتی۔(ضیاء القرآن)

ـــ  اسلام کی راہ روکنے کیلئے یہود کی چالیں:۔چوتھی کوشش ان کی یہ تھی کہ وہ ایک دوسرے کو اس بات کی تاکید کرتے تھے کہ خبردار اپنے دین پر پکے رہنا، دوسرے کسی مذہب والے کی پیروی نہ کرنا، تم مسلمانوں کی باتیں سنو مگر قبول وہی کرجو تمہارے اپنے مذہب کے مطابق ہوں۔اور خبردار! انہیں تورات کی کوئی ایسی بات بھی نہ بتانا جو تمہارے اپنے خلاف جاتی ہو ورنہ وہ قیامت کو اللہ کے حضور یہ کہہ دیں گے کہ ان باتوں کا تو یہ یہود خود بھی اقرار کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں اپنے پیارے پیغمبر سے فرمایا کہ ان سے کہہ دیجئے کہ تم جو ہدایت کے ٹھیکدار بنے پھرتے ہو تو یہ توبتاؤ کہ یہ ہدایت تمہیں ملی کہاں سے ہے؟اور اگر اللہ ہی کی طرف سے ملی ہے تو کیا وہ  دوسروں کو ایسی ہی ہدایت کے احکام نہیں بتاسکتا۔بالخصوص اس صورت میں کہ تم اللہ کے احکام کے علی الرغم ہر قسم کی بددیانتی پر اترآئے ہو؟(تیسیر القرآن)

۔اصل میں لفظ  "واسع " استعمال ہوا ہے جو بالعموم قرآن میں تین مواقع پر آیا ہے۔ ایک وہ موقع جب انسانوں کے کسی گروہ  کی تنگ خیالی یا تنگ  نظری کا ذکر آتا ہے اور اسے اس حقیقت پر متنبہ کرنے کی  ضرورت پیش آتی ہے کہ اللہ تمہاری طرح تنگ نظر نہیں ہے۔ دوسرا وہ موقع جہاں کسی کے بخل اور تنگ دلی اور کم حوصلگی پر ملامت کرتے ہوئے یہ بتانا  ہوتا ہے  کہ اللہ فراخ دست ہے، تمہاری طرح بخیل نہیں ہے۔ تیسرا وہ موقع  جہاں لوگ اپنے تخیل کی تنگی کے سبب سے اللہ کی طرف کسی قسم کی محدودیت منسوب کرتے ہیں اور انہیں یہ بتانا ہوتا ہے  کہ اللہ غیر محدود ہے۔(تفہیم القرآن)

- یحآجوکم عندربک۔ یعنی قیامت کے دن مسلمان یہود پر یہ کہہ کر غلبہ نہ حاصل کرلیں کہ ان لوگوں نے بھی تودنیا میں ہماری تصدیق کی تھی۔(تفسیر ماجدی)

75۔ ان کی اصل کتاب ِ عمل تالمود ہے جس میں امیین کو دھوکہ دینا جائز۔تورات میں ایسا نہیں ۔(بیان القرآن)

- لیس علینا فی الامیین سبیل۔ یہود و غیر یہود یاGentiles کے ساتھ کاروباری تعلق کے سلسلہ میں بدمعاملگی کیلئے برابر بدنام رہے ہیں ،قومی مفاخرت اور نسلی نخوت کا نتیجہ عموماً یہی ہوتاہے۔ گوروں کا برتاؤ کالوں کے ساتھ آج دنیا کے ہر علاقہ میں کیا ہے؟۔۔۔سبیل۔سبیل کے معنی یہاں حجۃ کے ہیں اور یہ معنی قرآن اور کلام ِ عرب میں عام ہیں۔(تفسیر ماجدی)

۔ ان کا نظریہ یہ ہے  کہ تورات میں غصب ، خیانت اور سود خوری کی جو ممانعت ہے  اس کا تعلق  غیر قوموں، خصوصا کافر قوموں سے نہیں ہے۔ ۔۔۔ اہلِ عرب  ، یہودی سود خواروں اور مہاجنوں کے پاس اگر کوئی چیز بطورِ امانت یا رہن  رکھتے تو بڑی ہی کوئی قسمت والا ہوتا جو ان کے حلق میں سے اپنا مال نکالنے میں کامیاب ہوتا۔ وہ اس کو دبا بیٹھتے اور اپنے اس فعل کو ثواب ثابت کرنے کے لیے  انھوں نے اپنے مولویوں سے فتوے بھی حاصل کر رکھے تھے کہ کافروں کا مال ہڑپ کر جانے میں کوئی عیب نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ قرآن نے ان کا یہ کردار واضع کیا ہے کہ جو تمہاری چند روپوں کی امانت واپس کرنے میں یہ لیت و لعل کرتے ہیں اور اس کے لیے انھوں نے اس اہتمام سے شرعی حیلے ایجاد کر رکھے ہیں، ان سے یہ توقع نہ رکھو کہ  تمہارے نبی اور تمہاری مذہب و  شریعت کے بارے میں یہ پچھلے  نبیوں کی جن  پیشن گوئیوں کے امین بنائے گئے تھے ان کو وہ آسانی سے ادا کریں گے اور خلق کے سامنے ان کی شہادت دینے کی ذمہ داری اٹھائیں گے۔  جو لوگ دنیا کی نہایت حقیر چیزوںمیں خائن ہیں  وہ اتنی بڑی امانت ادا کرنے کے لئے دل گردہ کہاں سے لائیں گے۔ ۔۔۔لیکن یہود جیسی ذلیل قوم کے اس کردار کو بیان کرتے ہوئے بھی قرآن نے انصاف کا دامن   ہاتھ  سے نہیں چھوڑا، بلکہ ان میں جو اچھے کردار کے لوگ تھے  ان کے کردار کی اچھائی کی داد دی بلکہ پہلے انہی کا ذکر  کیا تا کہ ان کی حوصلہ افزائی ہواور وہ اس میدان میں اور آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ یہی لوگ تھے جو بعد میں اسلام کی نعمت سے بہرہ ور ہوئے۔ (تدبرِ قرآن)

۔ الاّ ما دمت علیہ قائما" اس آیت سے امام ابو حنیفہ نے استدلال کیا ہے کہ دائن کو یہ حق ہے کہ وہ مدیون سے اس کا حق وصول کرنے تک اس کا پیچھا کرتا رہے (قرطبی ، ج 4)۔ (معارف القرآن)

77۔کبیرہ گناہوں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن ان میں سے عہد شکنی اور وعدہ خلافی پر جو سزا مقرر کی گئی ہے وہ کسی دوسرےگناہ کیلئے تجویز نہیں کی گئی۔عہد شکنی کیلئے پانچ سزاؤں کا یہاں ذکر ہے۔(1)وہ آخرت کی نعمتوں سے یکسر محروم کردیا جائے گا(2)رحمٰن و رحیم خدا اس سے بات تک نہ فرمائے گا(3)اس کی نظرِ لطف و رحمت سے بھی وہ محروم رہے گا(4)گناہ کی آلائشوں سے بھی اسے پاک نہیں کیا جائے گا اور(5)اس کے علاوہ اسے دردناک عذاب دیا جائے گا۔کوئی ہے ایسا دل گردے والا جو ان سزاؤں میں سے کسی ایک کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتاہو۔(ضیاء القرآن)

- یہودیوں کا غیر اسرائیلیوں کے مال کو جائز سمجھنا:۔یہود کا غیر اسرائیلیوں کے مال کو ہر جائز و ناجائز ذریعہ سے ہڑپ کرجانے کا جواز ان کی اپنی کتابوں سے ثابت ہے۔ تلمودمیں کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیلی کا بیل کسی غیر اسرائیلی کے بیل کو زخمی کردے تو اس پر کوئی تاوان نہیں۔مگر غیر اسرائیلی کا بیل اگر اسرائیلی کے بیل کو زخمی کردے تو اس پر تاوان ہے۔نیز اگر کسی کو کوئی گری پڑی چیز ملے تو اسے دیکھنا چاہئے کہ گردوپیش آبادی کن لوگوں کی ہے۔ اگر اسرائیلیوں کی ہوتو اسے اعلان کرنا چاہئے ۔اور اگر غیر اسرائیلیوں کی ہو تو اسے بلااعلان وہ چیز رکھ لینی چاہیے۔ربی شموایل کہتاہے کہ اگرامی اور اسرائیلی کا مقدمہ قاضی کے پاس آئے تو اگر قاضی اسرائیلی قانون کے مطابق اپنے مذہبی بھائی کو جتواسکتاہو تو اس کے تحت جتوائے اور کہے کہ یہ ہمارا قانون ہے اور اگر امیوں کے قانون کے مطابق جتواسکتاہو تو اس کے تحت جتائے اور کہے کہ یہ تمہاراقانون ہے ۔ اور اگر دونوں قانون ساتھ نہ دیتے ہوں۔ تو پھر جس حیلے سے بھی وہ اسرائیلی کو کامیاب کرسکتاہوکرے۔ ربی شموایل کہتا ہے کہ غیر اسرائیلی کی ہر غلطی سے فائدہ اٹھا نا چاہیے۔(بحوالہ تفہیم القرآن،ج1، ص266،حاشیہ نمبر64)(تیسیر القرآن)

- لایکلمھم۔یعنی یہ طریق لطف ان سے خطاب نہ کرے گا ،جوخطاب برائے عتاب و مواخذہ ہو، اس کی نفی مراد نہیں۔۔۔لاینظرالیھم۔یعنی نگاہ ِ مہرو التفات سے ان کی طرف نظر نہ کرے گا،نگاہِ قہرکی نفی مراد نہیں۔(تفسیر ماجدی)

79۔ جب نجران کے عیسائی آپؐ سے بحث و مناظرہ کرنے آئے تو یہود ان کے ساتھ مل گئےاور طنزاً آپؐ سےکہنے لگے کہ کیا آپؐ چاہتے ہیں کہ ہم آپؐ کی پرستش کیا کریں۔تب یہ آیت نازل ہوئی اور دوسرایہ قول ہے کہ کسی صحابی نے آپؐ سے عرض کیا کہ رومی و ایرانی اپنے اپنے بادشاہوں کو سجدہ کیا کرتے ہیں کیاہم بھی آپؐ کو سلام کی بجائے سجدہ نہ کریں؟توآپؐ نے اس بات سے سختی سے منع کیا اور فرمایا کہ اللہ کے سوا اگر کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتاتو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ شوہر کا بیوی پر بہت حق ہے۔(ترمذی،ابواب الرضاع والطلاق،باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ)تب یہ آیت نازل ہوئی۔۔۔۔۔۔

- علماء کو رب بنانے کا مطلب:۔واضح رہے کہ اپنے علماء و مشائخ کی باتوں کے سامنے بلاتحقیق سرتسلیم خم کردینا بھی انہیں اپنا رب قراردینے کے مترادف ہوتاہے۔جب یہ آیت (اتخذوااحبارھم ورھبانھم اربابامن دون اللہ)نازل ہوئی تو سیدنا عدی بن حاتمؓ (جو پہلے عیسائی تھے)نے رسول اللہؐ سے عرض کیاکہ ہم نے اپنے علماء و مشائخ کو رب تو نہیں بنارکھا تھا۔آپ ؐ نے فرمایا :کیا یہ بات نہ تھی کہ جس چیز کو وہ حلال کہتے تم اسے حلال اور جسے حرام کہتے تم اسے حرام تسلیم کرتے تھے؟عدی بن حاتمؓ کہنے لگے ہاں یہ بات تو تھی۔آپؐ نے فرمایا :"یہی رب بنانا ہوتاہے"(ترمذی، ابواب التفسیر،زیر تفسیر آیت مذکورہ)(تیسیر القرآن)

- مسیحیوں کی تثلیث تو ایک معلوم و معروف حقیقت ہے لیکن یہ کمتر لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ملائکہ پرستی بھی ان کے ہاں زوروں پر رہ چکی ہے اور صدیوں تک یہ تعلیم ان کے ہاں جاری رہی ہے کہ"خدا نے انسانوں اور آسمانوں کے نیچے ساری چیزوں کے انتظامات تمام ترفرشتوں پر چھوڑ رکھے ہیں"۔(انسائیکلوپیڈیاآف ریلیجین اینڈ ایتھکس 578)(تفسیر ماجدی)

80۔ ان آیات میں قاعدۂ کلیہ بتایا گیا ہے  کہ ایسی کوئی تعلیم جو اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی و پرستش  سکھاتی ہو اور کسی بندے کو بندگی کی حد سے بڑھا کر خدائی کے مقام تک لے جاتی ہو ، ہر گز کسی پیغمبر کی دی ہوئی تعلیم نہیں ہو سکتی۔ جہاں کسی مذہبی کتاب میں یہ چیز نظر آئے، سمجھ لو کہ یہ گمراہ کن لوگوں کی تحریفات کا نتیجہ ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔ اس آخری ٹکڑے میں خطاب میں ذرا وسعت پیدا ہو گئی ہے یعنی نصاریٰ کے ساتھ ساتھ اس میں ایک اشارہ قریش کی طرف بھی ہو گیا ہے جو فرشتوں اور نبیوں کے بھی بت  بنا کر پوجنے لگے تھے۔ (تدبرِ قرآن)


نواں رکوع:

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ  81 اور جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمھیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد) پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن ٹہرایا) انہوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا (خدا نے) فرمایا کہ تم (اس عہد وپیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔
 فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ  82 تو جو اس کے بعد پھر جائیں وہ بد کردار ہیں۔
 اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ  83 کیا یہ (کافر) خدا کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں حالانکہ سب اہلِ آسمان و زمین خوشی یا زبردستی سے خدا کے فرماں بردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
 قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١۪ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ  84 کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو صحیفے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اترے اور جو کتابیں موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انبیاء کو پروردگار کی طرف سے ملیں سب پر ایمان لائے ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرماں بردار ہیں۔
 وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ١ۚ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ  85 اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔
 كَیْفَ یَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوْۤا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ  86 خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور (پہلے) اس بات کی گواہی دے چکے کہ یہ پیغمبر برحق ہے اور ان کے پاس دلائل بھی آگئے اور خدا بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
 اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَیْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ   87 ان لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر خدا کی اور فرشتوں کی اور انسانوں کی سب کی لعنت ہو۔
 خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَۙ   88 ہمیشہ اس لعنت میں (گرفتار) رہیں گے۔ ان سے نہ تو عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دے جائے گی۔
 اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١۫ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ  89 ہاں جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اپنی حالت درست کر لی تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ  90 جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ایسوں کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور یہ لوگ گمراہ ہیں۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠   ۧ ۧ  91 جو لوگ کافر ہوئے اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے وہ اگر (نجات حاصل کرنی چاہیں اور) بدلے میں زمین بھر کر سونا دیں تو ہرگز قبول نہ کیا جائے گا ان لوگوں کو دکھ دینے والا عذاب ہو گا اور ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔

تفسیر آیات

81۔ انبیاء سےلیا ہواعہد ان کی امت پر لاگو ہوتاہےاللہ تعالیٰ نے ایک عہد تو تمام بنی آدم سے عالم ارواح میں لیا  تھا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے جس کا ذکر سورۂ اعراف کی آیت نمبر177 میں آتاہے اور دوسراعہد انبیاء سے لیا گیا تھا۔جس کاذکر اس آیت میں ہے اور مفسرین کی رائے کے مطابق یہ عہد بھی عالم ارواح میں ہی لیا گیا تھا اور وہ عہد یہ تھا کہ اگر تمہاری زندگی میں کوئی ایسا نبی آئے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود کتاب  کی تصدیق کرتاہو تو تمہیں اس پر ایمان بھی لانا ہوگا اور اس کی مدد بھی کرنا ہوگی۔یہ حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے اس حکم کی بجاآوری کی توثیق بھی کرائی ۔بے شمار انبیاء تو ایسے ہیں جو ہم عصر تھے ۔جیسے سیدنا ابراہیمؑ اور لوطؑ،سیدنا موسیٰؑ اور ہارونؑ ،سیدنا عیسیٰ اور یحیٰؑ وغیرہ وغیرہ اور یہ سب دعوت الی اللہ کے کام میں ایک دوسرے کے معاون و مددگار تھے۔پھر جو عہد انبیاء سے لیا گیا تھا اس کو پورا کرنے کی ذمہ داری ہرنبی کی امت پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہود پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ عیسیٰؑ اور دوسرے انبیاء پر ایمان لاتے اور ان کے کام میں مددگار ثابت ہوتے۔اسی طرح یہود، نصاریٰ اور مشرکین مکہ(جواپنے آپ کو دین ابراہیم کا پیروکار سمجھتے تھے )سب پر یہی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ رسول اللہؐ پر ایمان لاتے اور ان کے معاون و مددگار ثابت ہوتے۔پھر یہ بات صرف اس عہد تک ہی محدود نہ تھی بلکہ ہر نبی کی کتاب میں بعد میں آنے والے نبی کی بشارت بھی دی جاتی رہی اور اس نبی اور اس کی امت سے اسی قسم کا عہد لیا جاتارہا۔

-آپؐ کے خاتم النبیین ہونے کی دلیل:۔ واضح رہے کہ رسول اللہؐ سےپہلے  انبیاء سے یہ عہد لیا گیا تھا اور ان کی کتابوں میں آنے والے نبی کی بشارت بھی دی گئی تھی۔لیکن آپؐ سے اس قسم کا عہد نہیں لیا گیا کیونکہ آپؐ خاتم النبیین ہیں۔قرآن و حدیث میں کسی آنے والے نبی کی بشارت بھی نہیں ہے۔اس کے برعکس قرآن میں آپ کو خاتم النبیین ؐ کہا گیاہے اور بے شمار احادیث صحیحہ سے یہ بات واضح ہے کہ آپؐ کے بعد تاقیامت کوئی نبی نہیں آئے گا۔البتہ قیامت کے قریب سیدنا عیسیٰؑ ضرور نازل ہوں گے۔مگر اس وقت ان کی حیثیت آپؐ کے متبع کی ہوگی یعنی وہ شریعت محمدیہؐ کی ہی اتباع کریں گے۔(تیسیر القرآن) 

85۔ ان الدین عنداللہ الاسلام۔وغیرہ متعدد آیتوں میں یہ مضمون صاف صاف بیان ہوچکا ہے کہ سچا اور مقبول دین صرف یہی دین ہے،جس کی کتاب قرآن ہے،اور جس کے لانے والے اور سکھانے والے محمد رسول اللہؐ ہیں ،اس ایک دین کے علاوہ اور جتنے بھی دین و مذہب اپنی موجود ہ صورت میں موجود ہیں،ان کی مثال فرسودہ اور ٹکسال باہر سکوں کی سی ہے کہ کہنے کو سکے وہ بھی ہیں ،لیکن جب چل نہ سکے تو ان کا سکہ ہونا نہ ہونا برابر ،یہ آیت اس حقیقت کو موکد آشکار کررہی ہے۔۔۔دوسرے ادیان و مذاہب کو بھی (گووہ اصلاً کیسے ہی ہوں)ان کی موجودہ صورت میں اسی دین حق کی طرح سچا سمجھنا ،ہر دین ومذہب کو نجات کیلئے کافی سمجھنا یا سب مذہبوں کو ملا جلا کر ان کا ایک ملغوبہ تیار کرنا، یا یہ کہنا کہ دیر و حرم ،کعبہ وکلیسا سب یکساں ہیں، ضلالت و بے دینی ہی کی شکلیں ہیں،اکبر ،داراشکوہ وغیرہ ان ناکام کوششوں کیلئے بجاطورپر بدنام ہوچکے ہیں، اور بڑے قلق کا مقام ہے کہ ہمارے زمانے میں بھی بعض اہل قلم ایسی ہی نامراد کوششیں کرچکے اور کررہے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

88۔  " خالدین فیھا" میں ضمیر کا مرجع دوزخ ہے۔ اگرچہ دوزخ کا ذکر الفاظ میں موجود نہیں ہے لیکن اوپر جس لعنت کا ذکر ہے اس نے اس کا ایسا واضع قرینہ بہم پہنچا دیا ہے کہ لفظوں میں اس کے ذکر کی ضرورت باقی نہیں رہی۔(تدبرِ قرآن)

90۔ یہ ان لوگوں کا بیان ہے جن  کی توبہ قبول نہیں ہو گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ان تمام جرائم کا ارتقاب کر کے، جن کا ذکر اوپر ہوا ، ایمان کے بعد کفر میں مبتلا ہوئے، پھر اس کفر پر ردّے کے بعد ردّے چڑھاتے چلے گئے۔  جب وقتِ آخر آیا  تو زبان سے توبہ توبہ کرلی۔ (تدبرِ قرآن)


دسواں رکوع

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ۬ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ 92 (مومنو!) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (راہِ خدا میں) صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے۔
 كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِیْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ  93 بنی اسرائیل کے لیے (تورات کے نازل ہونے سے) پہلے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں بجز ان کے جو یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو)۔
فَمَنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَؐ   94 جو اس کے بعد بھی خدا پر جھوٹے افترا کریں تو ایسے لوگ ہی بےانصاف ہیں۔
قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ١۫ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ  95 کہہ دو کہ خدا نے سچ فرمایا پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔
 اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ 96 پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لیے مقرر کیا گیا تھا وہی ہے جو مکے میں ہے بابرکت اور جہاں کے لیے موجبِ ہدایت۔
فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ١ۚ۬ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا١ؕ وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ  97 اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جو شخص اس (مبارک) گھر میں داخل ہوا اس نے امن پا لیا اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا بھی اہلِ عالم سے بے نیاز ہے۔
 قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا تَعْمَلُوْنَ  98 کہو کہ اہلِ کتاب! تم خدا کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔
 قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَّ اَنْتُمْ شُهَدَآءُ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ  99 کہو کہ اہلِ کتاب تم مومنوں کو خدا کے رستے سے کیوں روکتے ہو اور باوجود یہ کہ تم اس سے واقف ہو اس میں کجی نکالتے ہو اور خدا تمھارے کاموں سے بےخبر نہیں۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ  100 مومنو! اگر تم اہلِ کتاب کے کسی فریق کا کہا مان لو گے تو وہ تمھیں ایمان لانے کے بعد کافر بنا دیں گے۔
 وَ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ١ؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠   ۧ ۧ  101 . اور تم کیونکر کفر کرو گے جبکہ تم کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اس کے پیغمبر موجود ہیں اور جس نے خدا (کی ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے رستے لگ گیا۔

تفسیر آیات

92۔  اس سے مقصود ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنا ہے جو وہ "نیکی" کے بارے میں رکھتے تھے۔ان کے دماغوں میں نیکی کا بلند سے بلند تصور بس یہ تھا کہ صدیوں کے توارث سے "تشرع" کی جو ایک خاص ظاہری شکل ان کے ہاں بن گئی تھی اس کا پورا چربہ آدمی اپنی زندگی میں اتارلے اور ان کے علماء کی قانونی موشگافیوں سے جو ایک لمبا چوڑا فقہی نظام بن گیا تھا اس کے مطابق رات دن زندگی کے چھوٹے چھوٹے ضمنی و فروعی معاملات کی ناپ تول کرتارہے۔اس تشرع کی اوپری سطح کے نیچے بالعموم یہودیوں کے بڑے بڑے "دیندار" لوگ تنگ دلی،حرص، حق پوشی اور حق فروشی کے عیوب چھپائے ہوئے تھے اور رائے عام ان کو نیک سمجھتی تھی۔اسی غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے انہیں بتایا جارہاہے کہ"نیک انسان" ہونے کا مقام ان چیزوں سے بالاتر ہے جن کو تم نے مدارخیر وصلاح سمجھ رکھا ہے۔نیکی کی اصل روح خدا کی محبت ہے، ایسی محبت کہ رضائے الٰہی کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی چیز عزیز ترنہ ہو۔جس چیز کی محبت بھی آدمی کے دل پر اتنی غالب آجائے کہ وہ اسے خدا کی محبت پر قربان نہ کرسکتاہو، بس وہی بت ہے اور جب تک اس بت کو آدمی توڑ نہ دے،نیکی کے دروازے اس پر بندہیں۔اس روح سے خالی ہونے کے بعد ظاہری تشرع کی حیثیت محض اس چمکدار روغن کی سی ہے جو گھن کھائی ہوئی لکڑی پر پھیر دیا گیا ہو۔انسان ایسے روغنوں سے دھوکا کھاسکتے ہیں ،مگر خدانہیں کھاسکتا۔(تفہیم القرآن)

- لفظ "بر" کے لفظی اور حقیقی معنی یہ ہیں کہ کسی شخص کے حق کی پوری ادائیگی اور اس سے کامل سبکدوشی۔ یہ احسان اور حسنِ سلوک کے معنی میں بھی آتاہے ۔۔۔۔-امام بخاری ؒ نے حضرت  صدیق اکبر سے روایت کی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ سچ بولنے کو لازم پکڑو کیونکہ "صدق" "بر" کا ساتھی ہے اور وہ دونوں جنت میں ہیں اور جھوٹ سے بچو کیونکہ وہ فجور کا ساتھی ہے اور یہ دونوں جہنم میں ہیں۔(معارف القرآن)

۔ پسندیدہ مال خرچ کرنے کی فضیلت:۔ اگرچہ سابقہ یہود سے متعلق چل رہاہے ۔تاہم اس آیت کا خطاب یہود، نصاریٰ،مسلمانوں اور سب بنی نوع انسان سے ہے اور مال سے محبت انسان کی فطرت میں داخل ہے۔اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس کے دل میں گھٹن سی پیدا ہونے لگتی ہے اور اگر کسی کے کہنے کہلانے پر مال خرچ کرنا ہی پڑے تو اس کا جی یہ چاہتاہے کہ تھوڑا سامال یا کوئی حقیر قسم کا مال دے کر چھوٹ جائے،جب کہ اللہ تعالیٰ یہ فرمارہے ہیں کہ جب تم اللہ کی راہ میں ایسا مال خرچ نہ کروگے جو تمہیں محبوب اور پسندیدہ ہے ۔اس وقت تک تم نیکی کی وسعتوں کو پانہیں سکتے ۔اس آیت کا صحابہ کرام نے بہت اچھا اثر قبول کیا چنانچہ سیدنا انس ابن مالک فرماتے ہیں کہ:انصار میں سیدنا ابوطلحہ ؓ کے سب سے زیادہ باغ تھے ۔ان میں سے بیرحاء کا باغ آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھا۔ یہ مسجد نبویؐ کے سامنے تھا۔ آپؐ اس باغ میں جایا کرتے تھے اور وہاں عمدہ اور شیریں پانی پیتے ۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابوطلحہؓ نے رسول اکرمؐ سے عرض کیا :" میری کل جائداد سے بیر حاء کا باغ مجھے بہت پیاراہے۔میں اس باغ کو اللہ کی راہ میں صدقہ کرتاہوں اور اس سے ثواب اور اللہ کے ہاں خیر کی امید رکھتاہوں"آپ جہاں مناسب سمجھیں اسے استعمال کریں"آپؐ نے فرمایا:"بہت خوب!یہ مال تو بلآخر فنا ہونے والا ہے۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ مال تو بہت نفع دینے والا ہے اب تم ایسا کرو کہ اسے اپنے غریب رشتہ داروں میں بانٹ دو۔"ابوطلحہؓ کہنے لگے! بہت خوب !یارسول اللہؐ میں ایسے ہی کرتا ہوں۔چناچہ یہ باغ سیدنا ابوطلحہؓ نے اپنے اقارب اور چچازاد بھائیوں میں بانٹ دیا۔(بخاری،کتاب التفسیر)، نیز کتاب الزکوٰۃ ، باب الزکوٰۃ علی الاقارب)اس آیت کے مخاطب بالخصوص یہودہیں۔ کیونکہ اس آیت سے پہلے اور بعد والی آیات میں انہی سے خطاب کیا جارہاہے ۔سود خوری اور حرام خوری کی وجہ سے بخل ان کی طبیعتوں میں رچ بس گیا تھا۔ مذہبی تقدس اور پہچان کیلئے انہوں نے چند ظاہری علامات کو ہی معیار بنارکھا تھا اسی تقدس کے پردہ میں ان کی تمام ترقباحتیں چھپ جاتی تھیں۔ جن میں سے ایک قباحت بخل اور مال سے شدید محبت تھی۔(تیسیر القرآن)

۔ حضرت زید بن حارثہ ؓ اپنا ایک گھوڑا لئے ہوئے حاضر خدمت ہوئے، اور عرض کیا کہ مجھے اپنی املاک میں یہ سب سے زیادہ محبوب ہے میں اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتا ہوں،آپﷺ نے اس کو قبول فرمالیا، لیکن ان سے لے کر انہی کے صاحبزادے اسامہ ؓ کو دیدیا، زید بن حارثہ ؓ اس پر کچھ دلگیر ہوئے کہ میرا صدقہ میرے ہی گھر میں واپس آگیا،  لیکن آنحضرت ﷺ نے ان کی تسلی کے لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا یہ صدقہ قبول کرلیا ہے۔ (تفسیر مظہری، بحوالہ ابن جریر و طبری وغیرہ) ۔۔۔حضرت فاروق اعظم ؓ کے پاس ایک کنیز سب سے زیادہ محبوب تھی، آپ نے اس کو لوجہ اللہ آزاد کردیا۔۔۔۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر   کےپاس ایک کنیز تھی جس سے وہ محبت کرتے تھے۔ اس کو اللہ کے لیے آزاد کر دیا۔ ۔۔الغرض آیت متذکرہ کا حاصل یہ ہے کہ حق اللہ کی مکمل ادائیگی اور خیر کامل اور نیکی کا کمال جب ہی حاصل ہوسکتا ہے جب کہ آدمی اپنی محبوب چیزوں میں سے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرے، آیت مذکورہ میں چند مسائل قابل نظر اور یاد رکھنے کے قابل ہیں۔ (معارف القرآن)

- مماتحبون۔ محبوب چیز کے ماتحت ہروہ چیز آجاتی ہے جسے انسان عزیز رکھتاہے،مال، دولت،عزت،حکومت،قوت،وقت وغیرہ ،تنہا مال و دولت ہی مقصود نہیں، بعض اوقات جاہ کی قربانی مال کی قربانی سے کہیں زیادہ سخت ودشوار ہوتی ہے ۔۔۔ہرچہ داری صرف کن درراہ او۔(تفسیر ماجدی)

۔ لیکن جہاں معاملہ خرچ کرنے کا پیش آ جائے اور وہ بھی محبوب مال کے خرچ کرنے کا تو پھر ان کا سارا دعوائے عشق و محبت  ہرن ہو جاتا۔ حالانکہ جن حضرت ابراھیم کی پیروی  اور جن کی وراثت اور نیابت کے وہ تنہا دعوہ دار بنے بیٹھے تھے ان کے متعلق جانتے تھے کہ ان کو خدا کی وفا داری کا جو مقام حاصل ہوا محض زبانی جمع خرچ سے نہیں  حاصل ہوا بلکہ اپنے محبوب بیٹے کی قربانی سے حاصل ہوا۔ (تدبرِ قرآن)

93۔  یہود پر حرام شدہ اشیاء۔یہ دراصل یہود کے مسلمانوں پر ایک اعتراض کا جواب ہے۔وہ مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ تم نے تو شریعت کی حرام کردہ چیزوں کو حلال بنارکھا ہے۔تم لوگ اونٹ کا گوشت شوق سے کھاتے ہو اور اس کا دودھ بھی پیتے ہو؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ چیزیں میں نے حرام نہیں کی تھیں بلکہ تورات کے نازل ہونے سے مدتوں پہلے یعقوبؑ نے خود اپنے آپ پر حرام قرار دے لی تھیں ۔یعقوبؑ نے ان چیزوں کو کیوں حرام قرار دے لیا تھا؟ اس بارے میں کئی روایات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ انہیں ان چیزوں سے طبعاً کراہت تھی اور دوسری یہ کہ آپ کو عرق النساء کی بیماری تھی اور پرہیز کے طورپرآپ نے ایسا کیا تھا۔پھر ان کی اتباع میں آپ کے پیروکاروں نے بھی ان چیزوں کو چھوڑدیا اور فی الواقع انہیں حرام سمجھ لیا تھا ۔ان حرام کردہ چیزوں میں ، بکری، گائے اور اونٹ کی چربی بھی شامل تھی۔بائیبل کے جو نسخے آج کل متداول ہیں ان میں اونٹ ،خرگوش اورسافان کی حرمت کا ذکر موجود ہے(احبار،11، 40،41 استثناء14:7)حالانکہ دور نبویؐ میں قرآن نے بطور چیلنج یہ بات کہی تھی کہ اگر تورات میں سیدنا ابراہیمؑ پر یہ چیزیں حرام کی گئی ہیں تو لاکر دکھاؤاور یہود اس بات سے عاجز رہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس قسم کے اضافے کئے گئے ہیں کہ اگر تورات میں اس وقت ایسے احکام موجود ہوتے تو یہود فوراً لاکر پیش کردیتے۔(تیسیرالقرآن)

- بعض جاہل صوفیہ کا یہ سمجھنا کہ ترک حیوانات یا بعض دوسری غذاؤں کے ترک کو قرب الٰہی میں کوئی دخل ہے، تمام تر نادانی ہے،عالموں کی مشقتیں اور ریاضتیں بالکل دوسری چیزیں ہیں، ورنہ جو غذائیں انسان کی روحانی ترقی میں مانع ہیں وہ خود ہی حرام کردی گئی ہیں ،کسی غذا کے حلال ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس راہ میں مانع نہیں۔(تفسیر ماجدی)

۔تورات  میں ملّتِ ابراھیمی  کے خلاف جن طیبات کو حرام ٹھہرایا گیا  ہے  وہ تین قسم کی ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو محض  یہود کے فقہا کی تحلیل  و تحریم اور ان کی موشگافیوں کی پیدا کردہ ہیں۔ ۔۔۔ دوسری وہ ہیں جو یہود کی سرکشی ، ان کی کٹ حجتی اور ان کی سوال بازی کے سبب سے حرام ہوئیں۔ انھوں نے کسی چیز کے متعین کرانے میں اتنے سوالات اٹھائےکہ ان کے لئے جواز کی  راہ تنگ سے تنگ ہوتی چلی گئی اور اچھی بھلی طیب و طاہر چیزیں بھی ان کے لیے حرام ہو کر رہ گئیں ۔۔۔۔ تیسری وہ ہیں جن سے احتراز و اجتناب کا تصور ان کے ہاں بزرگوں سے چلا آ رہا تھا۔ مثلا بعض چیزیں حضرت یعقوب ؑ کسی احتیاط یا محض طبعی و ذوقی عدم مناسبت کی بنا پر نہیں استعمال کرتے تھے۔ یہود نے اس طرح  کی چیزوں کا سرا حضرت ابراھیم سے ملا دیا اور ان کی حرمت بھی تورات کی محرمات کی فہرست میں شامل ہو گئی۔  (تدبرِ قرآن)

96۔ ۔۔۔بیت المقدس کو تو سیدنا سلیمانؑ نے سیدنا موسیٰؑ کی وفات کے چارسوسال بعد تعمیر کیا تھا اور سیدنا سلیمان ہی کے عہد میں یہ قبلہ اہل توحید کیلئے بنایا گیا تھا۔لہذا قبلہ تو دراصل کعبہ ہی ہے ۔۔۔(تیسیر القرآن)

۔ بعض روایات میں ہے  کہ آدم ؑ کی یہ تعمیر ِ کعبہ نوح ؑ کے زمانے تک باقی تھی، طوفانِ نوح ؑ میں منہدم ہوئی اور اس کے نشانات مٹ گئے۔۔۔۔ لیکن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ  عنہا کے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیر  رضی اللہ عنہ آنحضرت کا یہ ارشاد سنے ہوئے تھے، خلفائے  راشدین کے بعد جس وقت مکہ مکرمہ  پر ان کی حکومت  ہوئی تو انہوں نے بیت اللہ منہدم کر کے ارشادِ نبویؐ اور بناء ابراہیمی کے مطابق بنا دیا، مگر عبداللہ بن زبیر کی حکومت مکہ معظمہ پر چند روزہ تھی ۔ ظالم الامۃ حجاج بن یوسف نے مکہ پر فوج کشی کر کے  ان کو شہید کیا اور حکومت پر قبضہ کر کے  اس کو گوارا نہ کیا کہ   حضرت عبداللہ بن زبیر  رضی اللہ عنہ   کا یہ کارنامہ رہتی دنیا تک  ان کی مدح و ثنا کا زریعہ بنا رہے اس لیے یہ مشہور کیا کہ عبداللہ بن زبیر  رضی اللہ عنہ کا یہ فعل غلط تھا۔ رسول اللہؐ نے اسے جس حالت میں چھوڑا تھا ہمیں اسی حالت پر  اس  کو رکھنا چاہئے، اس بہانے سے بیت اللہ کو پھر سے منہدم کر  کے اسی طرح کی تعمیر بنا دی  جو زمانہ جاہلیت میں قریش نے بنائی تھی، حجاج بن یوسف کے بعد آنے والے مسلم  بادشاہوں  نے پھر حدیثِ مذکور کی بنا پر  یہ ارادہ کیا کہ بیت اللہ کو از سرِ نو  حدیثِ رسولؐ کے موافق بنا دیں، لیکن اس زمانہ  کے امام حضرت امام مالک بن انس نے  یہ فتوٰی دیا کہ اب بار بار بیت اللہ کو منہدم کرنا   آگے آنے والے بادشاہوں کے لیے  بیت اللہ کو ایک کھلونہ بنا دے گا۔ ہر آنے والا بادشاہ اپنی نام آوری کے لیے یہی کام کرے گا، اس لیے اب جس حالت میں بھی ہے اس حالت میں  چھوڑ دینا مناسب ہے۔ تمام امت نے اس کو قبول کیا، اسی وجہ سے آج تک وہی حجاج بن یوسف ہی کی تعمیر باقی ہے۔ البتہ  شکست و ریخت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا۔  (معارف القرآن)

97۔ بیت سے یہاں مراد خانۂ کعبہ نہیں سارا حرم شریف ہے ،مقام ابراہیم کے نام سے جو پتھر رکھا ہواہے وہ خانۂ کعبہ کے اندر نہیں ،باہرہی ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ جاہلیت کے تاریک دور میں بھی اس گھر کا  یہ احترام تھا کہ خون کے پیاسے دشمن ایک دوسرے کو وہاں دیکھتے تھے اور ایک دوسرے پر  ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ (تفہیم القرآن)

۔ آیت کے اسی آخری ٹکڑے پر وہ حدیث مبنی ہے جس میں حضورؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص استطاعت کے باوجود حج سے بے پرواہ ہو جاتا ہے اللہ تعالی کو اس بات  کی کوئی پرواہ نہیں   رہ جاتی کہ وہ یہودی ہو کر مرے گا یا نصرانی ہو کر۔ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے شخص کے رویے میں  در حقیقت یہود و نصاریٰ کی اس بے پرواہی کا  ایک عکس ہے جو انھوں نے بیت اللہ کے معاملے میں اختیار کی اور جس کے نتیجے میں وہ اپنا ایمان ہی گنوا بیٹھے۔  (تدبرِ قرآن)

100۔ یہود کا مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کرنا:۔اس آیت میں ایک گروہ سے مراد یہودمدینہ ہیں۔ جنہیں مدینہ کے انصار(قبلہ اوس و خزرج)کا آپس میں بھائیوں کی طرح مل بیٹھنا اور شیر و شکر ہوجاناایک آنکھ نہ بھاتاتھا اور وہ چاہتے تھے کہ ان کو پھر آپس میں لڑا بھڑا کر ان میں عداوت ڈال دیں ۔جنگ بدر میں جب اللہ نے مسلمانوں کو عظیم فتح عطافرمائی تو یہود کے عناد میں مزید اضافہ ہوگیا، ایک بڈھے یہودی شماس بن قیس کو بہت صدمہ پہنچا اس نے ایک نوجوان یہودی کو حکم دیا کہ وہ انصار کی مجالس میں جاکر جنگ بعاث کا ذکر چھیڑ دے اور اس سلسلہ میں جو اشعار کہے گئے تھے وہ پڑھ پڑھ کر سنائے، نوجوان نے جا کر یہی کارنامہ انجام دیا۔ بس پھر کیا تھا  ۔۔۔ہتھیار ہتھیار کی آوازیں آنے لگیں اور مقابلہ کیلئے حرہ کا میدان بھی طے پاگیا ۔۔۔اتنے میں کسی نے رسول اللہؐ کو اس واقعہ کی خبر دی۔۔ آپ ؐ چند مہاجرین کو ساتھ لے کر فوراً  موقع پر پہنچ گئے اور جاتے ہی فرمایا  " مسلمانوں میری موجودگی میں یہ جاہلیت کی پکار ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی طرف ہدایت دی اور تمہارے دلوں کو جوڑ دیا – پھر اب یہ کیا  ماجرا ہے۔ (تیسیر القرآن)

101۔ ۔۔۔دوسرے یہ کہ تمہیں آپس میں لڑا بھڑا کر کافر بنادیں گے جیساکہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسلمانوں کا آپس میں لڑنا کفر ہے۔۔۔۔سن لو! میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مارکر کافرنہ بن جانا ۔(بخاری، کتاب الفتن، باب قول النبی  لاترجعوا بعدی ْکفارا۔۔الخ)(تیسیر القرآن)


گیارہواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ 102 مومنو! خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔
 وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا١۪ وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا١ۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ 103 اور سب مل کر خدا کی (ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح خدا تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ  104 اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں۔
 وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ   105 اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہو گئے اور احکام بین آنے کے بعد ایک دوسرےسے (خلاف و) اختلاف کرنے لگے یہ وہ لوگ ہیں جن کو قیامت کے دن بڑا عذاب ہوگا۔
یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ 106 جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے منہ سیاہ تو جن لوگوں کے منہ سیاہ ہوں گے (ان سے خدا فرمائے گا) کیا تم ایمان لا کر کافر ہوگئے تھے؟ سو (اب) اس کفر کے بدلے عذاب (کے مزے) چکھو۔
 وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ  107 . اور جن لوگوں کے منہ سفید ہوں گے وہ خدا کی رحمت (کے باغوں) میں ہوں گے اور ان میں ہمیشہ رہیں گے۔
 تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ 108 یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو صحت کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں اور خدا اہلِ عالم پر ظلم نہیں کرنا چاہتا۔
 وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠   ۧ ۧ 109 اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور سب کاموں کا رجوع (اور انجام) خدا ہی کی طرف ہے۔

تفسیر آیات

102۔ 120۔  ان آیات میں (تقویٰ)کا حکم دے کر مسلمانوں کو تنظیمی ہدایات دی گئیں۔مسلمانوں کو اللہ کا ایسا تقویٰ اختیار کرنا چاہیے،جیساکہ اللہ کا حق ہے(واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً)کے الفاظ سے اللہ کی رسی کو اجتماعی طورپر مل کر پکڑنے کی ہدایت کی گئی۔مسلمانوں کے اندر ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو نیکی کی طرف بلائے،بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔دعوت و تبلیغ ایک اجتماعی فریضہ بھی ہے۔امت مسلمہ (خیر امت)ہے،اس کا نصب العین ،امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے۔ امت مسلمہ کو میدان میں اس لیے لایا گیاہے کہ وہ دوسرے انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں (اخرجت للنّاس)۔اہل کتاب سےدرد مند ی کا اظہار کیا گیا کہ اگر وہ بھی اسلام لے آئیں تو کتنا اچھا ہو؟(آیت:110)۔اس کے بعد اہل کتاب کے شر اور ان کے اندر پوشیدہ خیر کی چند مثالیں دی گئیں۔کچھ لوگ اللہ کے بجائے،دنیا کیلئے مال و دولت خرچ کرتے ہیں، انہیں ان کے انجام سے خبردار کیا گیا۔ مسلمانوں سے کہا گیا کہ وہ غیر مسلموں کو رازدارنہ بنائیں(لاتتخذوا بطانۃ من دونکم)آیت :118۔ یہ اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی ہے۔مسلمانوں پر واضح کیا گیا کہ تم اہل کتاب سے محبت کرتے ہو، لیکن اہل کتاب تم سے محبت نہیں کرتے۔(تحبونھم ولایحبونکم)آیت119۔آخر میں بتایا گیا کہ صبروتقویٰ سے اہل کتاب کے شر پر قابو پایا جاسکتاہے۔وان تصبروا وتتقوا لایضرکم کیدھم شیئاً(آیت :120)(قرآنی سورتوں کا نظم جلی)

103۔ اللہ کی رسی سے مراد قرآنِ مجید ہے(ابن کثیر۔راوی عبداللہ بن مسعود) ۔)معارف القرآن(

-فالّف بین قلوبکم (تمہارے دلو ں میں الفت ڈال دی) اوس و خزرج میں بعاث کی جنگ 120 سال تک رہی ۔ایک اندھے یہودی شماس بن قیس نے۔ دونوں قبائل کے افراد جب جمع تھے تو بعاث کے اشعار۔)تفصیل کے لیے اوپر آیت 100 کی تفسیر ملاحضہ فرمائیں) (معارف القرآن(

۔ خدا کو مضبوطی سے پکڑنا ظاہر ہے کہ اپنے ظاہری مفہوم  میں نہیں ہے اس لیے  کہ خدا چھونے اور پکڑنے کی چیز نہیں ہے۔ اس کو مضبوطی سے پکڑنے کی شکل یہی ہو سکتی ہے کہ ھم اس کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں جو ہمارے اور اس کے درمیان واسطہ ہے۔ گویا اوپر والی  آیت میں  "  ومن یعتصم باللہ" جو فرمایا تھا، " واعتصموا بحبل اللہ"  کے الفاظ سے  اس کی وضاحت فرمادی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

- مکہ میں بنی بکر اور بنی تغلب کی لڑائی شروع ہوئی جس میں نصف صدی لگ گئی۔۔۔ایسی ہی صورت حال مدینہ میں اوس و خزرج کے درمیان جنگ بعاث کی تھی۔۔۔عداوت کے بجائے مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے سے محبت و الفت پیدا ہوگئی اور وہ بالکل بھائیوں کی طرح بن گئے۔)تیسیر القرآن(

- اس تعلیم کے ایک عملی پہلو کا اعتراف ایک غیر مسلم کی زبان سے ؛۔"اسلام نے ان قبیلوں کو متحد کردیاجو اس وقت تک برابر ایک دوسرے سے مصروفِ پیکار رہتے تھے"(آرنلڈ کی پریچنگ آف اسلام21)۔۔۔دنیا میں یوں انقلاب ِ عظیم برپا کردینا اسلام کا معجزہ ہی تھا، اس کا اعتراف آج فرنگی محققین بھی کررہے ہیں،ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی ۔)تفسیر ماجدی(

۔ پوری دنیا کا اتفاق صرف اسلام ہی کی بنیاد پر ہو سکتا ہے، نسبی اور وطنی وحدت سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ (معا رف القرآن)

104۔ تین نکاتی پروگرام ۔(i)افراد کی کردار سازی(ii) اللہ کی رسی( معاشرتی ہم آہنگی) (iii) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی بنیاد پر ایک تنظیم ۔)بیان القرآن(

۔ یہ ، امت کو اس اہتمام و انتظام کی ہدایت فرمائی گئی ہےجو اعتصام بحبل اللہ پر قائم رہنے اور لوگوں کو قائم رکھنے  کے لیے ضروری ہے۔  اس مقصد کے لیے یہ ہدائت ہوئی کہ مسلمان اپنے اندر سے ایک گروہ  کو اس کام پر مقرر کریں کہ وہ لوگوں کو  نیکی اور بھلائی کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکے۔ معروف و منکر سے مراد شریعت اور سوسائٹی دونوں کے معروفات و منکرات ہیں ۔ (تدبرِ قرآن)

۔حدیث میں ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑنے پر عذاب الٰہی ہو گا اور اس وقت تم دعا مانگوگے تو قبول نہ ہوگی۔(ترمذی،ابن ماجہ)ایک اورحدیث ۔گناہ کو اپنے ہاتھ (یعنی قوت) سے وگرنہ زبان سے اور یہ بھی نہ ہوسکے تو دل سے برا جانے۔مگر یہ ادنیٰ درجۂ ایمان ہے۔)معارف القرآن(

امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ:۔ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر خلافت کے مستحقین کا ذکر فرمایا تو ان کی صفات میں اقامت الصلوٰۃ اور ایتائے الزکوٰۃ کے بعد تیسرے نمبر پر اسی صفت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  کا ذکر فرمایا(22: 41)اس لیے بعض علماء نے اس فریضہ کو فرض عین قراردیاہے۔۔۔۔(ولتکن منکم امۃ)سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر خواہ کتنا ہی اہم ہے تاہم فرض عین نہیں ہے۔)تیسیر القرآن(

- منکم۔ من کے متعلق اختلاف ہواہے کہ آیا یہ بیانیہ ہے(کل کے معنی میں)یا تبعیضیہ ہے(بعض کے معنی میں))  تفسیر ماجدی(

105۔ ہرگمراہ فرقہ کی بنیاد کوئی بدعی عقیدہ ہوتاہے اور ناجی فرقہ:۔اس آیت میں "ان لوگوں"سے مراد اہل کتاب ہیں یعنی یہود و نصاریٰ بے شمار فرقوں میں بٹ گئے۔اور ہرفرقہ دوسرے کو کافر کہتاہے۔حدیث میں ہے کہ یہود اکہتر(71)فرقوں میں بٹ گئے اور نصاریٰ بہتر(72)فرقوں میں اور میری امت تہتر(73)فرقوں میں بٹ جائے گی۔جن میں سے ایک فرقہ کے سوا باقی دوزخی ہوں گے۔صحابہؓ نے عرض کیا : وہ نجات پانے والا فرقہ کون سا ہوگاتو آپؐ نے فرمایا کہ "ماانا علیہ واصحابی"یعنی وہ فرقہ اسی راہ پر چلے گا۔جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔(ترمذی،کتاب الایمان،باب افتراق ھذہ الامۃ))تیسیرالقرآن(

106۔ فرقہ بازی کفر ہےپچھلی آیت میں فرقہ حقہ اور گمراہ فرقوں کاذکر چل رہاتھا۔ اس آیت میں ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یہودی یا عیسائی یا ہندو یا سکھ وغیرہ ہوگئے تھے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے دین میں بہت سی بے اصل اور باطل باتیں شامل کرکے یا بعض ضروریات دین کا انکار کرکے یا ملحدانہ عقائد اختیار کرکے اصل دین سے نکل گئے تھے، اور یہ کفر دون کفر ہے اور ان سب باتوں پر کفر کے لفظ کا اطلاق ہوتاہے ۔گویا قیامت کے دن روشن چہرے تو صرف ان لوگوں کے ہوں گے جو دین حقہ پر قائم و ثابت قدم رہے۔ اور یہی لوگ اللہ کے سایۂ رحمت میں ہونگے اور جن لوگوں نے گمراہ فرقوں میں شامل ہوکر کفر کی روش اختیار کی۔انہی کے چہرے سیاہ ہونگے اور انہیں ہی دردناک عذاب ہوگا۔)تیسیر القرآن(

- ۔۔۔ایک قول یہ ہے کہ یہ خطاب منافقین سے ہوگا اور ایمان سے یہاں مراد اظہارِ ایمان ہے۔۔۔ایک قول ہے کہ مخاطب اہل کتاب ہیں اور حجت ان پر قائم کی جائیگی کہ تمہاری کتابوں میں نبی آخرالزماں ؐ کا ذکر پوری طرح موجود اور پھر تم مکر گئے۔۔۔ابن جریر نے بعض تابعین سے استناد کرکے یہ شق اختیار کی ہے کہ خطاب سارے کافروں کیلئے عام ہے اور جس ایمان کا یہاں ذکر ہے وہ اظہارِ ایمان عالمِ ارواح میں عہد الست کے وقت کا ہے۔)تفسیر ماجدی(

108۔ اسلام کا خدا تمام تررحیم ہے،عادل ہے ،شفیق ہے،مشرک قوموں کے دیوی دیوتاؤں کی طرح ظالم وخونخوار نہیں ہےقرآن مجید کو باربار خداوند تعالیٰ کی تنزیہ کا اثبات ان صفات ِ ذمیمہ سے کرنا ضروری ہوگیا تھا، اور توریت تک کے خدا میں صفاتِ قہری کہیں زیادہ زور و قوت کے ساتھ جلوہ گر نظر آرہے ہیں۔)تفسیر ماجدی(


بارہواں رکوع

كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ 110 (مومنو) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں۔
 لَنْ یَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًى١ؕ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ یُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ 111 اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی۔
 ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ   112 یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت (کو دیکھو گے کہ) ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آ جائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لیے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتےتھے اور (اس کے) پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے۔
 لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ 113 یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہلِ کتاب میں کچھ لوگ (حکمِ خدا پر) قائم بھی ہیں جو رات کے وقت خدا کی آیتیں پڑھتے اور (اس کے آگے) سجدہ کرتے ہیں۔
 یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ 114 (اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنےکو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتےاور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں۔
 وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ 115 اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ  116 جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے غضب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہلِ دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔
 مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ 117 یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ  118 مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں۔
 هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 119 دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو) غصے میں مر جاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے۔
اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠   ۧ ۧ  120 اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔

تفسیر آیات

110۔دنیا  میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کےلئے میدان میں لایا گیا ہے۔)تفہیم القرآن(

- "منکر" برے کاموں میں کفر ، شرک ،بدعات ،رسومِ قبیحہ ، فسق و فجور اور ہر قسم کی بداخلاقی اور نامعقول باتیں شامل ہیں ۔ان سے روکنا بھی کئی طرح سے ہوگا ،کبھی زبان سے کبھی ہاتھ سے کبھی قلم سے ،کبھی تلوار سے ،غرض ہر قسم کا جہاد اس میں داخل ہوگیا۔۔۔۔۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ جو شخص تم میں سے یہ چاہتاہے کہ اس امت (خیر امت) میں شامل ہو ،چاہئیے کہ اللہ کی شرط پورے کرے یعنی امر بالمعروف،نہی عن المنکر اور ایمان باللہ ۔جس کا حاصل ہےکہ خود درست ہوکر دوسروں کو درست کرنا۔)تفسیر عثمانی(

۔ پچھلی بہت سی امتوں میں جہاد کا حکم نہیں تھا، اس لئے ان کا امر بالمعروف صرف دل اور زبان سے ہوسکتا تھا، امت محمدیہ میں اس کا تیسرا  درجہ ہاتھ کی قوت سے امر بالمعروف کا بھی ہے جس میں جہاد کی تمام اقسام بھی داخل ہیں، اور بزور حکومت اسلامی قوانین کی تنفیذ بھی اس کا جزء ہے، اس کے علاوہ امم سابقہ میں جس طرح دین کے دوسرے شعائر غفلت عام ہو کر محو ہوگئے تھے، اسی طرح فریضہ امر بالمعروف بھی بالکل متروک ہوگیا تھا، اور اس امت محمدیہ کے متعلق آنحضرت ﷺ کی یہ پیشگوئی ہے کہ " اس امت میں تا قیامت ایک ایسی جماعت قائم رہے گی جو فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر قائم رہے گی "۔ (معارف القرآن)

۔ ایمان ہر نیکی کی جڑ ہے :  تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اصل بنیاد اللہ پر ایمان ہے۔ کسی کو جو کچھ بھی عزت و فضیلت اللہ کی نگاہوں میں حاصل ہوتی ہے وہ اسی کی بنا پر حاصل ہوتی ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی معتبر وہی ہے جو ایمان باللہ کے ساتھ ہو۔ منبروں اور اسٹیجوں سے خدا پرستی اور دینداری کے جو وعظ کھوکھلے سینوں سے نکلتے ہیں ان کی حیثیت وہی ہے جس کا ذکر قرآن نے علمائے یہود سے متعلق فرمایا ہے کہ ”اتامرون الناس بالبر و تنسون انفسکم : کیا تم دوسروں کو نیکی اور تقویٰ کے وعظ سناتے ہو لیکن اپنے آپ کو بھول جاتے ہو“ (تدبرِ قرآن)

۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت:  ۔۔۔۔برے کاموں سے مراد کفر،شرک، بدعات،رسوم قبیحہ،فسق و فجور ہر قسم کی بداخلاقی اور بے حیائی اور نامعقول باتیں شامل ہیں اور ان سے روکنے کا فریضہ فرداً فرداً بھی ہرمسلمان پر عائد ہوتاہے۔اور اجتماعاً امت مسلمہ پر بھی ۔۔۔اور نیک کاموں سے مراد توحیدخالص اور ارکان اسلام کی بجاآوری ،جہاد میں دامے درمے شمولیت ، بدعات سے اجتناب ،قرابتداروں کے حقوق کی ادائیگی اور تمام مسلمانوں سے مروت ،اخوت و ہمدردی اور خیر خواہی وغیرہ ہیں۔)تیسیر القرآن(

- تنہون عن المنکرمنکر کےتحت میں آج کے شراب خانے اور تھیڑ ،سینما  اور کنسرٹ ہال ،ناچ گھر اور میوزک کالج، اسکول آف آرٹ اور تصویرخانے سب آجاتے ہیں،آیت سے ظاہرہے کہ اس امت کی خیریت و افضلیت اسی وقت تک ہے جب تک وہ ان صفات کی حامل ہے یعنی ایمان باللہ میں مضبوط ،اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (ایجابی و سلبی دونوں قسم کی اخلاقی خوبیوں )پر قائم ہے۔۔۔منھم المؤمنون ۔اس  گروہ میں عبداللہ بن سلام یہودی کی طرح دوسرے اہلِ کتاب بھی داخل ہیں جو رسول اللہؐ ہی کے زمانے میں ایمان لے آئے تھے۔)تفسیر ماجدی(

111۔ یعنی اگر وہ اتنی ہمت کرہی جائیں کہ تم سے مقابلہ و مقاتلہ کو آئیں تو ہر گز غلبہ نہ پاسکیں گے بلکہ الٹی شکست کھاکر بھاگیں گے یہ پیش خبری ایک نہیں ،مجموعہ ہے کئی پیش خبروں کا ،اور سب کی سب ظاہری قرائن و قیاسات کے خلاف اور آخر یہی پیش خبریاں صحیح نکلیں۔ بنوقریظہ،بنونضیر، بنوقینقع،یہود خیبر ،سب کے باب میں اس جزم کے ساتھ بجز خدائے علیم و خبیر کے اور کون جرأت بھی ایسی پیش خبریوں کی کرسکتاتھا۔)تفسیر ماجدی(

112۔مسکنت سے مراد بےحوصلگی اور پست ہمتی ہے۔)تدبر قرآن(

۔ "ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ"  یعنی جس   طرح دیوار پر گیلی مٹی تھوپ دی جاتی ہے اسی طرح ان پر ذلت تھوپ دی گئی۔۔۔۔ "وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ" مسکنت سے مراد بے حوصلگی اور کم ہمتی ہے۔۔۔۔۔۔ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ یہ علت بیان ہوئی ہے اس بات کی  کہ کیوں یہ ذلت ، غضب اور مسکنت کے عذاب کے مستحق قرار پائے ؟ فرمایا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ اللہ کی آیات کا انکار اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ یہ سبب بیان ہوا ہے ان  کے کفر  بآیات اللہ اور قتلِ انبیاء کا، یعنی نافرمانی اور حدودِ الہی سے تجاوز ان کی عادت رہی ہے۔  (تدبرِ قرآن)

- ایک اور پیش خبری ،یہاں یہ بھی بتادیا گیا کہ خود مظفر و منصور ہونا الگ رہا،عرب کے جن مشرک قبیلوں کی حمایت کا غرہ ان یہود کو ہے، ان میں سے کوئی ان کی مدد کو بھی تو نہ آئے گا اور نہ مدینہ کے منافقین ان کے کام آسکیں گے۔۔۔این ماثقفوا۔ چنانچہ ابھی بیسویں صدی مسیحی کے ہی ثلث اول تک یہود کی جو گت جرمنی میں، ہنگری میں، اٹلی میں ،زیکوسلاویکا میں اور دوسرے ملکوں میں باوجود ان کی خوش حالی و زرداری کے بن چکی ہے،وہ بجائے خود اس آیت کی ایک تفسیر ہے۔۔۔حبل من  اللہ سے مراد ان کی ایسی آبادی ہوسکتی ہےجسے خود شریعت ِ الٰہی نے قتل، ہلاکت اور تعزیری و انتقامی کارروائیوں سے مستثنیٰ رکھاہے،مثلاً ان کے بچے ،ان کی عورتیں،ان کے گوشہ نشین زاہد،درویش وغیرہ۔۔۔حبل من الناس، مرا ان کی وہ جماعتیں ہوسکتی ہیں جو معاہدوں کے ذریعہ سے امن حاصل کرلیتی ہیں۔۔۔حبل کے معنی پہلے بیان ہوچکے ہیں مراد عہد و ذمہ سے ہے۔۔۔کانوایکفرون وکانوایعتدون۔دونوں موقعوں پر فعل کے ساتھ کانوا لانے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ کوئی استثنائی یا اتفاقی واقعہ کی تاریخ میں نہ تھا،بلکہ کفر و عدوان جیسے ان کی قومی خصلت بن گئے تھے، ان کی سرشت میں داخل ہوچکے تھے،وہ ان چیزوں کے عادی ہوچکے تھے۔)تفسیر ماجدی(

116۔ ولااولادھم۔ہندؤں اور جینیوں میں یہ گمراہی خاص طورپر بڑھی ہوئی ہے، اولاد نرینہ کی اہمیت اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ لڑکا ہی مرے ہوئے باپ کو پانی دے دے کر عذاب سے چھڑالیتاہے،منوجی کا یہ قول کتابوں میں نظرسے گزراہے کہ بیٹے کو سنسکرت میں"پتر"کہتے ہی اس لئے ہیں کہ وہ باپ کو "پُت"(دوزخ)سے چھڑالاتاہے۔۔۔مال و اولاد کے ذریعہ سے حصولِ نجات کی گمراہی جاہلی مذہبوں میں عام اور بہت پھیلی ہوئی تھی ،اس لئے قرآن نے اس کی تردید اس صراحت کے ساتھ کی۔)تفسیر ماجدی(

118۔ قانون اسلام کے منکروں اور باغیوں سے تعلقات ایک خاص حد سے آگے بڑھانے کی اجازت کسی مسلم، اسلامی اسٹیٹ کی رعایا کو نہیں کہ اس سے فرد اور ملت دونوں کو ضرر کے اندیشے اور خطرے کھلے ہوئے ہیں، اور اس صریحی ،معقول ،مناسب اور ضروری انتظام کا نام بعض عقل کے دشمنوں نے"تنگ نظری"رکھاہے۔سبحان اللہ! امراض ِ وبائی میں پرہیز و احتیاط کا نام تو فخر کے ساتھ"اصول ِ حفظان صحت" رکھا جائے۔اور جو انتظام کفر و طغیان یعنی دنیا و آخرت دونوں کی بربادی سے بچنے کیلئے کیا جائے،اس کا نام "تنگ نظری"پڑجائے،عقل دشمنی کی بھی کوئی حد ہونی چاہئے۔)تفسیر ماجدی(

۔  روس اور چین میں کسی ایسے شخص کو جو کیمونزم پر ایمان  نہیں رکھتا ہو   ، کسی ذمہ دار عہدہ پر فائز نہیں کیا جاتا، اور اس کو مملکت کا رازدار  اور مشیر نہیں بنایا جاتا، اسلامی مملکتوں کے زوال کی داستانیں پڑھئے  تو زوال کے دوسرے اسباب کے ساتھ بکثرت یہ بھی ملے گا کہ مسلمانوں نے اپنے امور کا  رازدار و معتمد  غیر مسلموں کو بنا لیاتھا، سلطنتِ عثمانی کے زوال میں بھی اس کو کافی دخل تھا۔ (معارف القرآن) 

119۔ کفار سے دوستی کی ممانعت:۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ تم تو تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہوجن میں تورات بھی شامل ہے ۔لیکن اہل کتاب تمہارے قرآن پر ایمان نہیں رکھتے، اس بات کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ تم سے محبت رکھتے اور تم ان سے دشمنی رکھتے،مگر یہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔تم یہ کیسی الٹی گنگا بہارہے ہو؟ )تیسیر القرآن(

۔وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ  پر تفصیل کے ساتھ ہم سورۃ  بقرہ  میں بحث کر چکے ہیں۔ اصل میں پچھلے صحیفوں اور قرآن   میں نسبت جزو اور کل کی ہے ۔ اہلِِ کتاب کو کتاب  الہی کا  صرف ایک حصہ دیا گیا تھا۔ پوری کتاب کا دیا جانا  آخری بعثت پر اٹھا رکھا  گیا تھا ۔ چنانچہ اہلِ کتاب کے متعلق باربار یہ الفاظ آتے ہیں۔ألَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ  (آلِ عمران 23) (بھلا ان کو تو دیکھو جنھیں کتاب الہی کا ایک حصہ دیا گیا) اللہ تعالیٰ کی پوری کتاب قرآن ہے، جس طرح  اس کا پورا دین اسلام ہے۔ اس وجہ سے جب مسلمان قرآن پر ایمان لاتا ہے تو خدا  کی پوری کتاب پر ایمان لاتا ہے۔ اس پر بھی جو پہلے اتری اور اس پر بھی جو بعد میں اتری۔ قرآن  سب کا جامع ہے۔  (تدبرِ قرآن)

120۔ ۔۔آیت نمبر 118 سے لے کر 120 تک 3 آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے دوستی گانٹھنے کی ممانعت کیلئے جو وجوہات بیان فرمائی ہیں وہ مختصراً درج ذیل ہیں۔(1)وہ تمہارے درمیان ،خرابی، بگاڑ اور فساد پیدا کرنے کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے اور ان کی ہر ممکن کوشش یہ ہوتی ہے کہ تم میں تفرقہ و انتشار اور بغض و عداوت پیدا ہوجائے۔(2)وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی ارضی و سماوی آفت اور مصیبت میں پھنس جاؤ۔(3)ان کے منہ سے کچھ بے اختیار ایسی باتیں نکل جاتی ہیں جو ان کے دلوں میں پکنے والے مواد کا پتہ دے جاتی ہیں(4)تم ان سے محبت رکھتے ہوجبکہ وہ تم سے دشمنی رکھتے ہیں، حالانکہ تم ان کی کتاب تورات پر ایمان لاتے ہو اور وہ تمہاری کتاب قرآن کے منکر ہیں اور اس کا منطقی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ تم سے دوستی رکھتے اور تم ان سے دشمنی رکھتے لیکن یہاں الٹی گنگابہائی جارہی ہے۔(5)اگرتمہیں کوئی بھلائی حاصل ہو تو اس سے وہ جل بھن جاتے ہیں اور اگر تمہیں تکلیف پہنچے تو اندر ہی اندر پھولے نہیں سماتے ۔(6)اگر وہ تم سے کوئی خیر خواہی کی بات بھی کریں تو وہ منافقت پر مبنی ہوتی ہے۔لہذا ان وجوہات کی بناپر تمہیں ان سے دوستی نہ رکھنا چاہئے اور راز بتانا تو بڑی دور کی بات ہے۔)تیسیر القرآن(

۔۔ إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا کے تحت ابنِ جریر کا ایک نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہاں جس تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے اس میں سب سے مقدم  "لا تتخذوا بطانۃ من دونکم"  کی ہدایت پر عمل ہے یعنی کفار کو اپنا محرمِ راز بنانے سے احتراز۔  (تدبرِ قرآن)


تیرہواں رکوع

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ   121 . اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھرسے روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔
 اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ  122 اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔
 وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ  123 . اور خدا نے جنگِ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بے سرو سامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو۔
اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ   124 جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے۔
 بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ 125 ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعتہً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا۔
وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ  126 اور اس مدد کو خدا نے تمھارے لیے (ذریعہٴ) بشارت بنایا یعنی اس لیے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے۔
 لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ  127 (یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل ومغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں۔
 لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ 128 (اے پیغمبر) اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا انکے حال پر مہربانی کرے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں۔
 وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ ۧ  129 اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب کرے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر آیات

121۔ (دامن جبل احد کی طرف) اور آپ سب کی جگہیں متعین کررہے تھے کہ یہاں سوار کھڑے ہوں ،یہاں پیادے ،یہاں تیر انداز وغیرہ)اب ذکر جنگ احدکا شروع ہورہاہے ،احد ،مدینہ منورہ سے شمال کی جانب ڈھائی تین میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی ہے، بدر میں شکست کھائے ہوئے مشرکین مکہ جوش انتقام سے دیوانے ہورہے تھے ،ہجرت کا تیسرا سال قریب ختم کے تھا اور واقعہ بدر پر ایک سال گزرچکا تھا کہ مکہ والوں کی تیاریاں مکمل ہوگئیں ،اب کی تیاریاں بڑے انتظام و اہتمام کے ساتھ اور بہت بڑے پیمانہ پر ہوئی تھیں، قریش کی جمعیت 3ہزار کی تھی،ان میں 700 جوان زرہ پوش تھے، 200 سوار اور باقی شتر سوار تھے، قوم اور قبیلہ کے بڑے بڑے سردار سب ساتھ ہوئے بڑی بات یہ کہ عورتیں بھی شریک جنگ ہوئیں، ہاتھوں میں باجے لئے ہوئے ،پرجوش ترانے گاتی جاتی تھیں اور مقتولین ِ بدر کے انتقام پر عزیزوں ،قریبوں کو ابھارتی جاتی تھیں۔جنگ میں عورتوں کی شرکت آج بیسیوی صدی کی"جدت" نہیں جاہلی مشرک قوموں کا پرانا شعار ہے۔۔)تفسیر ماجدی(

122۔ جب عبداللہ بن ابی تین سوساتھیوں سمیت واپس چلاگیا تو انصار کے دوقبیلوں بنو حارثہ اور بنوسلمہ کے دلوں میں کمزوری واقع ہوئی اور کفار کے مقابلہ میں مسلمانوں کی قلیل تعداد دیکھ کر دل چھوڑنے لگے مگر چونکہ سچے مسلمان تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا چناچہ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ہم انصار کے حق میں اتری۔اگرچہ اس میں ہمارا عیب بیان کیاگیا ہے۔تاہم ہمیں یہ پسند نہیں کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی۔کیونکہ اس میں (اللہ ولیھما)"اور اللہ دونوں فرقوں کا مددگارتھا"کے الفاظ بھی مذکور ہیں۔(بخاری، کتاب التفسیر  )   )تیسیر القرآن(

- طآ ئفتان ۔ان دوجماعتوں سے مراد قبیلہ اوس کے بنی حارثہ اور قبیلہ خزرج کے بنی سلمہ ہیں۔۔۔ان دونوں دستوں نے عبداللہ بن ابی کی مثال دیکھ کر آن کی آن کمزوری اور بدہمتی محسوس کی لیکن اللہ کے فضل نے دستگیری کی، اور وسوسہ کو وسوسہ کے درجہ سے آگے بڑھنے نہ دیا،اور یہ خیال بھی جو انہیں پیداہوا ،اپنی قلت تعداد ،قلت سامان غرض ضعف مادی کی بناپر پیدا ہوا ،جو ایک امر طبعی تھا، نہ کہ ضعفِ ایمان سے یا دین کی حقانیت میں کسی شک وشبہ سے اور بالفرض یہ خیال جم کر معصیت کے درجہ تک پہنچ جاتا،جب بھی کوئی مضائقہ نہ تھا،مومنین ِ مخلصین کی جماعت بہرحال معصومین کی جماعت نہ تھی۔۔انیسویں صدی عیسوی کا انگریز باسورتھ اسمتھ ابتدائی غزوات سے متعلق جوعموماً تاریخی استناد رکھتے ہیں،کہتاہے کہ "یہ مظاہر اخلاص و ایثار و شجاعت کے لحاظ سے ہو مرکے افسانوں سے بڑھے ہوئے ہیں"۔(محمد اینڈ محمڈنزم ص207 )تفسیر ماجدی(

124۔ ۔۔۔کیاغزوہ احد میں فرشتے نازل ہوئے تھے؟جب مذکور ہ بالادوقبیلوں نے کمزوری دکھائی تو اس وقت آپؐ نےان کی اور دوسرے مسلمانوں کی ڈھارس بندھاتے ہوئے فرمایا:کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتے بھیج کر تمہاری مدد فرمادے ۔جیساکہ میدان بدر میں تمہاری مدد فرمائی تھی۔)تیسیر القرآن(

125۔ ۔۔بعض مفسرین نے تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں سے مدد کے وعدہ کو جنگ بدر سے متعلق کیا ہے۔اس لحاظ سے یہ بیا ن آیت نمبر 123 کے بیان کے ساتھ مسلسل ہے۔ہوایہ تھا کہ جنگ بدر میں قلیل تعداد اور کمزور اور نہتے مسلمانوں کو ڈھارس بندھانے کی خاطر اللہ نے ایک ہزار فرشتے میدان بدر میں بھیج دیے۔ جیساکہ سورۂ انفال کی آیت(فاستجاب لکم انّی ممدکم بالف من الملائکۃ مردفین)(8: 9)سے معلوم ہوتاہے۔پھر جنگ بدر میں ہی یہ مشہور ہوا کہ مکہ سے مزید کمک پہنچ رہی ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسی صورت میں ہم تین ہزار یا پانچ ہزار فرشتے بھیج دیں گے۔پھر چونکہ کافروں کیلئے مکہ سے کوئی مزید کمک نہ پہنچی تو اور فرشتے بھی نہ آئے۔البتہ ایک ہزار فرشتوں کی میدان بدر میں شرکت قرآن پاک سے ثابت ہے۔نیز اس کی صحیحین اور دوسری کتب احادیث میں اس قدر روایات مذکورہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔لیکن جنگ احد میں فرشتوں کی کمک صحیح روایات سے ثابت نہیں ہوتی۔لہذا یہی توجیہ زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔)تیسیر القرآن(

- علامہ آلوسی بغدادی نے لکھا ہے کہ اگر اس کلام کا تعلق غزوۂ احد سے ہے ،تو ظاہر ہے کہ اس موقع پر امدادِ ملائکہ نہیں آئی اور اگر غزوۂ بدر سے ہے ،تو یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے۔۔۔پھر ایک سوال یہ بھی پیدا ہواہے کہ نزول ملائکہ سے بدر میں نصرت کس طور پر ہوئی ہے آیا انہوں نے واقعی قتال کیا، یا یہ کہ مسلمانوں کو قوی کردیا، اور مشرکین کے دل پر رعب بٹھادیا۔)تفسیر ماجدی(

126۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں کی چار طرح سے مدد الٰہی:۔میدان بدر میں اللہ تعالیٰ نےجو نزول ملائکہ کی تمہیں خوشخبری دی تھی وہ تو محض اس لیے تھی کہ تمہارے دل مضبوط ہوجائیں اور تم پورے وثوق کے ساتھ جم کر لڑائی کے میدان میں اترو اور فرشتوں پر ہی کیامنحصر ہےمدد کی جو بھی صورت ہو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔چناچہ بدر کے میدان میں اللہ نے چار طرح سے مسلمانوں کی مدد فرمائی تھی۔مثلاً(1)اللہ نے ہوا کا رخ کفار کے لشکر کی طرف موڑدیا اور ریت نے اڑ اڑ کر ان کے لشکر کو بدحال بنادیا(2)بارش کا نزول جس سے کفار کے پڑاؤ میں تو پھسلن اور دلدل مچ گئی۔جبکہ مسلمانوں کے پڑاؤمیں ریت جم کر بیٹھ گئی۔ نیز انہیں استعمال کیلئے وافر پانی میسر آگیا(3)فرشتوں کا نزول چناچہ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے بدر کے دن فرمایا :یہ جبرائیل آن پہنچے اپنے گھوڑے کا سرتھامے ہوئے ،لڑائی کے ہتھیار لگائے ہوئے"(بخاری، کتاب المغازی،باب شہود الملائکہ بدر)نیز سیدنا رفاعہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ جبرائیل رسول اللہؐ کے پاس آکر کہنے لگے:آپؐ اہل بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟"آپؐ نے فرمایا "سب مسلمانوں سے افضل" یا کوئی ایسا ہی کلمہ کہا :جبرائیل کہنے لگے :اسی طرح وہ فرشتے جو غزوہ بدر میں حاضر ہوئے تھے دوسرے فرشتوں سے افضل ہیں"(بخاری حوالہ ایضاً)اور(4)مسلمانوں کی مدد کا چوتھا طریقہ یہ تھا کہ کفار کومسلمان مجاہدین کی تعداد اصل تعداد سے دوگنی نظرآنے لگی تھی۔)تیسیر القرآن(

127۔ اللہ کی مدد کا مقصد یہ تھا کہ کفر کا زور ٹوٹ جائے اور یہ مقصد مکمل طورپر حاصل ہوگیا ۔کافروں کے ستر سردار معہ ابوجہل سالار لشکر اس جنگ میں مارے گئے ،اتنے ہی قید ہوگئے اور باقی لشکر ذلیل و خوار ہوکر بھاگ کھڑا ہوا جس کے سوا ان کیلئے کوئی چارہ کار نہ رہ گیا تھا۔۔۔۔۔کیا احد میں فرشتوں کا نزول ہواتھا؟یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا فرشتوں کا نزول بدر اور احد دونوں میدانوں میں ہواتھا؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ بدر میں فرشتوں کا نزول یقیناًہواتھا اور وہ کتاب و سنت سے  ثابت شدہ ہے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ میدان احد میں بھی نزول ہواتھا جیساکہ مذکورہ آیات سے اشارہ ملتاہے۔میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس میدان میں مسلمانوں سے رسول اللہؐ کی نافرمانی کی بناپر ایک شدید جنگی غلطی ہوگئی تھی جس نے ایک بار مسلمانوں کو شکست سے بھی دوچار کردیا تھا اور چونکہ اس غلطی کی وجہ محض حرص و طمع تھی۔لہذا اللہ تعالیٰ نے اس غلطی پر عتاب بھی فرمایا ۔تاہم ان کی یہ غلطی اللہ تعالیٰ نے معاف فرمادی تھی۔ اس بے صبری کی وجہ سے میدان احد میں فرشتوں کا نزول نہیں ہوا۔اگر مسلمان ایسا بے صبری کا مظاہرہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ  یہاں بھی فرشتے بھیج دیتے۔واللہ اعلم بالصواب۔اور اس پر بحث پہلے حاشیہ(114)کے تحت گزرچکی ہے۔)تیسیر القرآن(

غزوۂ احد(سنہ3ھ)

-معرکۂ احد کی تفصیلات:۔جنگ احد کے موقع پرکثرت رائے سے یہ بات طے پاگئی کہ شہر سے نکل کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔اس وقت مسلمانوں کی تعداد ایک ہزار تھی۔ ان کے مقابلے  میں قریش مکہ تین ہزار منتخب بہادروں کو لے کر مدینہ طیبہ پر حملہ کے لئے آئے تھے،کیونکہ ان کو سال قبل غزوۂ بدر کی شکست کا بہت ملال تھا۔چنانچہ منافقین کا سردار عبداللہ بن اُبی تین صدساتھیوں کے ساتھ یہ کہتے ہوئے کہ ہماری بات نہیں مانی گئی مدینہ واپس لوٹ آیا اور لوگوں کو بہکانا شروع کردیا،نتیجہ یہ ہواکہ دو قبیلے بددل ہوگئے۔ اس طرح ابتداء ہی سے صبر و تقویٰ کی روح کمزور پڑگئی۔حضورؐ نے پچاس تیر اندازوں کو حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کی زیر نگرانی ایک گھاٹی پر مقرر فرمایا اور حکم دیا کہ کسی حال میں بھی اس درہ کو نہیں چھوڑنا، اگر تم دیکھو کہ ہماری بوٹیاں پرندے نوچے لیے جاتے ہیں تب بھی تم اس جگہ سے نہ ہٹنا۔ جب لڑائی شروع ہوئی تو پہلے مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا، دشمن کی فوج میں افراتفری پھیل گئی۔اس ابتدائی فتح کو کامل فتح تصور کرکے مسلمانوں نے مال غنیمت لوٹنا شروع کردیا۔ادھر جن تیر اندازوں کو درہ پر مقرر کیا گیا تھا ان میں سے بہت سے اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت کی طرف لپکے،ادھر خالد بن ولیدؓنے، جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار کے لشکر کی قیادت کررہے تھے ،درہ کو خالی دیکھ کر پیچھے سے حملہ کردیا  اور جنگ کا نقشہ ہی بدل گیا ۔مسلمان گھبراگئے اور بھاری جانی نقصان ہوا۔ حضورؐ بھی زخمی ہوئے اور یہ افواہ بھی اڑادی گئی کہ حضورؐ شہید ہوگئے ہیں۔اس خبر سے صحابہ ؓ کے حواس جاتے رہے ،لیکن عین وقت پر صحابہؓ کو معلوم ہوگیا کہ حضورؐ زندہ ہیں ۔چنانچہ صحابہؓ نے سب طرف سے سمٹ کر آپؐ کے گرد جمع ہوگئے اور آپؐ کو بسلامت پہاڑی کے دامن میں لے گئے ،پھر اللہ کی نصرت سے کفار کو مار بھگایا۔(تعلیم القرآن(

128۔ لیس لک من الامر شیئاً۔ ان الفاظ سے یہ بھی ظاہرہوگیا کہ مشیت الٰہی میں دخل کسی مخلوق اور بندے کو نہیں،یہاں تک کہ مقرب ترین بندے کو بھی نہیں ۔۔۔چہ جائیکہ کسی ولی کسی بزرگ کو اس کی مشیت میں دخیل سمجھ لیا جائے)تفسیر ماجدی(


چودہواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ   130 اےایمان والو! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو۔
 وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ 131 اور (دوزخ کی) آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ   132 اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔
 وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ   133 اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے)ْ ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
 الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ   134 جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتےہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے۔
وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ  135 اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے۔
 اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ   136 . ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے۔
قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ  137 تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین کی سیر کرکے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا۔
هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ  138 یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔
 وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ 139 اور (دیکھو) بے دل نہ ہونا اور نہ کسی طرح کا غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔
اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ 140 اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا۔
وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ 141 اور یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنا دے اور کافروں کو نابود کر دے۔
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ 142 . کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے
 وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠   ۧ ۧ 143 اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے سو تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا۔

تفسیر آیات

130۔سب سے پہلے مکی سورت(الروم) میں سود کی مذمت آئی۔یہ آیت سود کی پہلی ممانعت ہے ۔اس کے بعد سورۂ بقرہ کا مکمل رکوع(ر۔38) نازل ہوا۔ ) بیان القرآن(

- یہ دعویٰ  عہدِ حاضر کا سب سے بڑا جھوٹ ہوگا کہ سود کا متبادل نظام اہلِ علم و دانش نے پیش ہی نہیں کیا۔1980ء میں حکومت ِ پاکستان کی متعین کردہ اسلامی نظریاتی کونسل نے سود کے متبادل نظام پر انتہائی عمدہ رپورٹ شائع کی ۔۔تیل کی تمام تردولت (Petro dollar)مغربی بنکوں میں سود کی افزائش کے کام آ رہی ہے۔ اگر سود کی ممانعت  ہو تو یہی دولت اسلامی معیشت کی ترقی کا باعث ہو۔)انوار القرآن(

- نبی اکرم ؐ نے فرمایا:"سات مہلک اور تباہ کرنے والے گناہوں سے بچو!"صحابہ کرامؓ نے عرض کیا :"یارسول اللہ! وہ کون سے گناہ ہیں؟"آپؐ نے فرمایا :" (i) اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا  (ii)  جادوکرنا  (iii)  اور ایسی جان کا بے گناہ قتل جس کو مارنا اللہ نے حرام کیا ہومگر حق کے ساتھ(جیسے قتل کے بدلے قتل، مرتد اور شادی  شدہ زانی کا قتل کرنا گناہ نہیں  وغیرہ)(iv)سودکھانا(v)یتیم کا مال کھانا (vi) اور کافروں سے جنگ کرتے ہوئے اپنی پیٹھ پھیرنا(یعنی مقابلہ میں بھاگ جانا)(vii) اور پاک دامن اور بھولی بھالی مسلمان عورتوں پر تہمت اور بہتان لگانا"۔(صحیح بخاری))احسن الکلام(

- امام ابوحنیفہؒ سے منقول ہے کہ یہ قرآن مجید کی بہت زیادہ ڈرانے والی آیت ہے کہ اس میں دوزخ سےجو حقیقۃًکفر کی سزا ہے،ان لوگوں کو بھی ڈرایا گیاہے ، جو اللہ تعالیٰ کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں سے نہیں بچتے ۔)تفسیر ماجدی( 

132۔  خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ جگہ جگہ رسولؐ کی اطاعت  کا بار بار ارشاد اور پھر مختلف عنوانات سے رسول کے دیے ہوئے احکام کو ماننے کی ھدایات یہ سب  اس خطرے کے پیشِ نظر ہیں کہ کوئی شخص ذخیرہ احادیث میں  رسولﷺ کی بیان کی ہوئی تفصیلاتِ احکام کو قرآن سے الگ اور اطاعتِ خدا تعالیٰ سے جدا سمجھ کر انکار نہ کر بیٹھے۔ (معارف القرآن) 

133۔ اور جنت کی طرف دوڑکر آنے کا بھی یہی مقصد ہے کہ ایسے کام کئے جائیں جن سے جنت کا حصول ممکن ہوجائے اور جنت کی صفت یہ بیان فرمائی کہ اس کا عرض آسمانوں اور زمین جیسا ہے اور عرض کا ایک معنی تو چوڑائی ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جب آسمانوں اور زمین کی وسعت کا اندازہ کرنا انسان کی بساط سے باہر ہے تو پھر وہ جنت کی وسعت کا کیا اندازہ کرسکے گا۔جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابرہے گویا اس سے مقصودجنت کی ایسی لامحدود و سعت کا اظہار ہے جو انسان کے سان و گمان میں بھی نہیں آسکتی ۔۔۔۔۔ جنت کی قدر وقیمت:۔ عرض کا دوسرا معنی قدروقیمت ہے۔کہتے ہیں اشتریت المتاع بعرض اور ان معنوں میں یہ لفظ قرآن میں بھی مستعمل ہے۔ جب دنیا کی بے ثباتی کا اظہار مقصود ہو تو دنیوی سازو سامان کیلئے یہ لفظ استعمال ہوتاہے۔اس لحاظ سے اس کا معنیٰ یہ ہوگا کہ اس جنت کی طرف دوڑ کرآؤ جس کے مقابلہ میں یہ سارے آسمان اور زمین ہیچ ہیں اور جنت کی قدروقیمت ان سب سے بڑھ کرہے۔ضمناً ایسی آیات سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ جنت اور دوزخ تیار  کی جاچکی ہے اور اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو اس بات کے قائل نہیں۔(تیسیر القرآن)

۔ جنت کا دوسرا وصف بتلایا ،   أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ، یعنی جنت پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس سے معلوم یہ بھی ہوا کہ جنت پیدا کی جا چکی ہے۔ قرآن و حدیث کے واضع اشاروں سے معلوم ہوتا ہے  کہ جنت ساتویں آسمان کے اوپر ہے، اس طرح کہ ساتواں آسمان اس   کی زمین ہے۔ (معارف القرآن)  

134۔امام بیہقی نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت سیدنا علی بن حسین ؓ کا ایک عجیب واقعہ نقل فرمایا ہے کہ آپ کی ایک کنیز آپ کو وضو کرا رہی تھی کہ اچانک پانی کا برتن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر حضرت علی ابن حسین ؓ کے اوپر گرا، تمام کپڑے بھیگ گئے، غصہ آنا طبعی امر تھا، کنیز کو خطرہ ہوا، تو اس نے فورا یہ آیت پڑھی والکاظمین الغیظ، یہ سنتے ہی خاندان نبوت کے اس بزرگ کا سارا غصہ ٹھنڈا ہوگیا، بالکل خاموش ہوگئے، اس کے بعد کنیز نے آیت کا دوسرا جملہ والعافین عن الناس پڑھ دیا، تو فرمایا کہ میں نے تجھے دل سے بھی معاف کردیا، کنیز بھی ہوشیار تھی اس کے بعد اس نے تیسرا جملہ بھی سنا دیا، واللہ یحب المحسنین جس میں احسان اور حسن سلوک کی ہدایت ہے، حضرت علی بن حسین نے یہ سن کر فرمایا کہ جا میں نے تجھے آزاد کردیا۔ (روح المعانی بحوالہ بیہقی) ۔(معارف القرآن)

- اس آیت اور مابعد کی آیت میں اللہ کے نیک بندوں (متقین)کی بعض صفات کا تذکرہ ہے۔جیساکہ نبی اکرمؐ نےبھی فرمایا :"آدمی کے ہر ہر جوڑ پر روزانہ صدقہ  لازم ہے جو کوئی دوسرے کی مددکرے ،اسے جانور پر سوار کرادے یا اس کا سامان اوپر لدوادے تو یہ صدقہ ہے۔اچھی بات کہنا اور نماز کیلئے ایک ایک قدم جو اٹھائے یہ بھی صدقہ ہے اور کسی کو راستہ بتانا بھی صدقہ ہے"۔(صدقہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو سلامتی اور حفاظت میں رکھنے کیلئے اللہ کا شکر اداکرتے ہوئے خیرات کرے یا خیراتی کا م سرانجام دے۔(صحیح بخاری،الجھاد والسیر،باب:72حدیث2891) ایک اور حدیث میں ہے کہ "پہلوان وہ نہیں جو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصے کی حالت میں خود کو قابو میں رکھے"۔(صحیح بخاری، باب:76 حدیث:6114)اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نیک کام صرف اللہ کی رضا کی خاطر کرتے ہیں کسی اور کے دکھاوے یا ریاکاری کیلئے نہیں ،اسی طرح نبی کریمؐ کی سنت کے مطابق عمل کرنے والے بھی محسنین ہیں۔(احسن الکلام)

۔  تفسیر کبیر میں امام رازی نے یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ ایک روز رسول اللہﷺ نے لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب دی ، تو جن کے پاس سونا چاندی تھا انھوں نے وہ صدقہ میں دے دیا، ایک شخص کھجور کے چھلکے لایا، کہ میرے پاس اور کچھ نہیں ہے، وہ ہی صدقہ کر دیے گئے، ایک اور شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہؐ میرے پاس کوئی چیز صدقہ کرنے  کے لیے نہیں ہے، البتہ میں اپنی قوم میں عزت دار سمجھا جاتا ہوں ، میں اپنی عزت کی خیرات کرتا ہوں کہ آئندہ کوئی آدمی مجھے کتنا بھی برا بھلا کہے میں اس سے ناراض نہیں ہونگا۔۔۔۔۔ رسولِ اکرمؐ کی تعلیمات اور صحابہ اکرام کے تعامل سے یہ بات بھی واضع ہو گئی کہ انفاق فی سبیل اللہ  صرف مالداروں اور  اغنیا  ہی کا حصہ نہیں ہے، غریب، فقیر بھی اس صفت کے حامل ہو سکتے ہیں کہ اپنی اپنی مقدرت  کے موافق اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کر کے اس عظیم صفت کو حاصل کر لیں۔۔۔۔ انفاق  فی سبیل اللہ   کے لیے  ضروری نہیں کہ مال ہی خرچ کیا جائے۔ ۔۔۔ جو شخص اپنا وقت ،اپنی محنت اللہ کی راہ میں خرچ کرے وہ بھی انفاق کی صفت سے موصوف کیا جائے گا۔(معارف القرآن)

135۔  ۔ فاستغفروا۔استغفار صحیح و معتبر وہی ہے جو محض زبان سے نہیں دل کی حسرت وندامت کے ساتھ اور اس عزم کے ساتھ ہوکہ اب وہ گناہ  دوبارہ نہیں ہونے پائے گا،ورنہ اگر ہاتھ میں تسبیح چل رہی ہے اور دل بدستور گناہوں سے لذت لے رہاہے تو اکابر نے کہاہے کہ یہ استغفارخود قابل استغفار ہے ،اور عجب نہیں کہ ایسے استغفار کا شمار استہزاء میں ہوجائے۔)تفسیر ماجدی(

۔ قرآن نے انفاق کی تعلیم کے سلسلے میں جہاں سود خوری سے روکا ہے وہیں بدکاری و بے حیائی  اور اس کے لازمی نتیجہ اسراف و      تبذیر  سے بھی روکا ہے۔(تدبرِ قرآن)

137۔ سنن سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ ضابطے  اور قاعدے  ہیں جن کے تحت وہ  قوموں کے ساتھ  معاملہ کرتا ہے۔۔۔۔ سرزمیںِ عرب میں بھی ، جس کے بسنے والے اس آیت میں مخاطب ہیں ، اللہ تعالی کی اس سنت کے  مظاہر عاد ، ثمود، اہلِ مدین ، قومِ لوط وغیرہ کے آثار کی شکل میں موجود تھے۔  (تدبرِ قرآن)

139۔ ۔۔کوئی قوم اس دنیا میں ایسی نہیں جہاں اللہ کا پیغمبر مبعوث نہ ہواہو(35: 24)پھر جب تک کوئی قوم اپنے پیغمبر کی تعلیمات پر عمل پیرا رہتی ہے تو یہ اس کے عروج کا زمانہ ہوتاہے اور جب یہی قوم عیش و عشرت اور فحاشی و بے حیائی اور معصیت کے کاموں میں مبتلاہوجاتی ہے۔جس کا نام ان کی زبان میں تہذیب ہوتاہے تو اس پربتدریج زوال آنا شروع ہوجاتاہے یا وہ گناہوں میں بہت زیادہ ڈوب جائے تو ناگہانی قسم کا عذاب انہیں تباہ وبرباد کردیتاہے۔۔۔(تیسیر القرآن)

۔"وھن" کے معنی  ضعف کے ہیں ۔ عام اس سے کہ یہ ضعف عمل کا ہو یا ارادے کا، جسم کا ہو یا کردار و اخلاق کا۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبیؐ نے ایک مرتبہ صحابہ سے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ تم سیلاب کے خس و خاشاک کے مانند ہو جاؤ گے۔ صحابہ نے پوچھا  یا رسول اللہ اس کا کیا سبب ہو گا؟ آپؐ نے فرمایا تمہارے اندر وہن پیدا ہو جائے گا۔ لوگوں نے پوچھا   یا رسول اللہ یہ وھن کیا چیز ہے؟ آپؐ نے فرمایا، " حب الدنیا و کراھۃ الموت" (دنیا کی محبت اور موت کا ڈر) (تدبرِ قرآن)

140۔ ان ہدایات و ارشادات کے بعد اب پھر غزوہ احد کا بیان ہورہاہے اور یہ آیت غالباً اس وقت نازل ہوئی جب غزوہ احد میں مسلمان ایک دفعہ شکست کھاکر مایوسی اور بددلی کا شکار ہورہے تھے۔اگرچہ اس کا روئے سخن بظاہر مجاہدین احد کی طرف معلوم ہوتاہے۔ تاہم اللہ نے ہمیشہ کیلئے ایک کلیہ بیان فرمادیا کہ اگر تم فی الواقع مومن ہو اور سست غمزدہ ہونے کے بجائے اللہ پر توکل اور صبر کروگے تو اللہ تعالیٰ یقیناً تمہیں غلبہ عطا کرے گا اور اگر تم مغلوب و مقہور ہو تو وہ وجوہ تلاش کرو جن کی وجہ سے یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔۔۔۔ جنگ بدر میں کافروں کو اس سے زیادہ صدمہ پہنچا تھا ۔اس وقت کافروں کے ستر سردار قتل ہوئے تو ستر گرفتار بھی ہوئے۔جب کہ غزوہ احد میں ستر مسلمان شہید ہوگئے اور اللہ کے فضل و کرم سے مسلمانوں کا ایک آدمی بھی گرفتار نہ ہوا۔کیونکہ بلآخر میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہااور قریش مکہ کو پسپا ہونا پڑاتھا۔۔۔۔۔ ظالم لوگوں سے مراد وہی منافقوں کی جماعت ہے جو عبداللہ بن ابی کے ساتھ واپس چلی گئی تھی اور جس موقع پر مسلمانوں کو شکست ہوئی تو یہ لوگ مسلمانوں میں بددلی پھیلانے میں پیش پیش تھے۔(تیسیر القرآن)

۔ الایام  جب اس طرح جمع کی شکل میں آتا ہے تو اس سے مراد تاریخ کے وہ دن ہوتے ہیں جن میں بڑے بڑے واقعات و حوادث پیش آئے ہوں۔ (تدبرِ قرآن)

143۔ موت اور دشمن سے مڈبھیڑ کی آرزونہ کرو:۔ اس آیت میں غزوہ احد کا ایک دوسرا منظر پیش کیا گیاہے۔جبکہ مسلمان ابتداءً شکست سے دوچار ہوئے تھے جو صحابؓہ غزوہ بدر میں شرکت سے محروم رہ گئے تھے وہ شہدائے بدر کے فضائل سن سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ اگر پھر اللہ نے ایسا موقع فراہم کیا تو ہم اللہ کی راہ میں جان دے کر شہادت کے مراتب حاصل کریں گے۔مشورہ کے وقت ایسے ہی صحابہ نے زور دیا تھا کہ جنگ مدینہ سے باہر کھلے میدان میں لڑنا چاہئیے،لیکن جب شکست ہوئی تو ایسے صحابہ میں سے بھی کچھ لوگ بھاگ نکلے۔اس آیت میں انہی لوگوں سے خطاب ہے کہ جو چیز تم چاہتے تھےوہی تمہیں پیش آئی ہے۔اب پیچھے ہٹنے کا کیا مطلب ہے ؟ اسی سلسلہ میں ایک حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا مت کرو۔اور جب ایسا موقع آجائے تو پھر ثابت قدمی دکھاؤ۔(بخری،کتاب التمنی،باب کراہیۃ تمنی لقاء العدو نیز کتاب الجہاد ، باب لاتمنوا لقاء العدو۔)۔(تیسیر القرآن)


پندرہواں رکوع

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن 144 . اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا۔
وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ 145 . اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مر جائے (اس نے موت کا) وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال کا) بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دے دیں گے اور جو آخرت میں طالبِ ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب (بہت اچھا) صلہ دیں گے۔
 وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ 146 اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل الله (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصبتیں ان پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
 وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ 147 اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی ہے تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما۔
فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠   ۧ ۧ  148 تو خدا نے ان کو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ (دے گا) اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے۔

تفسیر آیات

144۔ابن قمیہ نے پتھر مار کر حضورؐ کو شدید زخمی کردیا تو یہ افواہ اڑگئی کہ حضورؐ شہید کردئیے گئے۔۔۔مسلمانوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ کاش عبداللہ بن ابی ہمارےلیے ابوسفیان سے امان طلب کرے۔۔۔منافقین نے کہاکہ حضورؐ نبی ہوتے تو شہید کیسے کیے جاتے آؤ اپنے پہلے دین کی طرف لوٹ جائیں۔۔۔صحابی کی ندا کہ جس مقصد کیلئے نبی اکرمؐ نے جان دی اسی کیلئے ہم بھی اپنا سرقربان کردیں۔حضورؐ کے بعد زندہ رہنے میں کیا لطف؟۔۔۔اس دنیا میں حضورؐ کے قیام کی مدت مقرر ہے ۔جب وہ فانی دنیا کو چھوڑ کر رفیق اعلیٰ کی طرف انتقال فرمائیں تو کیا تم ان کا دین چھوڑ دوگے۔۔۔۔(ضیاء القرآن)

میدان احد کے معرکہ کے حالات:۔جب سیدنا عبداللہ بن جبیرؓ کے ساتھی درہ چھوڑ کر لوٹ مار میں  لگ گئے تو خالد بن ولید(جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور کفار کے ایک دستہ کی کمان کررہے تھے)پہاڑی کا چکر کاٹ کر اسی درہ سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔سوسوار ان کے ہمراہ تھے۔ادھر سیدنا عبداللہ کے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے تھے۔دس بارہ تیرانداز بھلا سوسواروں کی یلغار کو کیسے روک سکتے تھے۔ انہوں نے مقابلہ تو بڑی بے جگری سے کیا مگر سب شہید ہوگئے ۔مسلمان مجاہدین اپنے عقب یعنی درہ کی طرف سے مطمئن تھے کہ اچانک مشرکین کا یہ رسالہ ان کے سروں پر جاپہنچا اور سامنے سے مشرکوں کی جو فوج بھاگ کھڑی ہوئی تھی وہ بھی پیچھے پلٹ آئی اور مسلمان دونوں طرف سے گھر گئے۔بہت زور کا رن پڑا اور بہت سے مسلمان شہید و زخمی ہوئے۔

- آپؐ کی وفات پر سیدنا ابوبکر کا خطبہ:۔واضح رہے کہ اس آیت کے نزول کے ساڑھے سات سال بعد جب فی الواقع آپؐ کی وفات ہوگئی تو اس وقت مسلمانوں کو اتنا صدمہ ہوا کہ ان کے اوسان خطا ہوگئے۔ دوسرے صحابہ کا کیا ذکر سیدنا عمرؓ جیسے فقہیہ اور مدبر صحابی کھڑے ہوکر تقریر کررہے تھے کہ جو شخص یہ کہے گا کہ محمدؐ فوت ہوگئے ہیں میں اس کی گردن اڑادوںگا۔اتنے میں سیدنا ابوبکرؓ آئے اور سیدنا عمرؓ کو بیٹھ جانے کو کہا لیکن جوش خطابت میں انہوں سے اس پر کان ہی نہ دھرا ۔سیدنا ابوبکرؓ الگ کھڑے ہوکر تقریر کرنے لگے تو لوگ ادھر متوجہ ہوگئے ۔آپ نے اللہ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا:تم میں سے جوشخص محمؐد کو پوجتاتھاتووہ سمجھ لے کہ بلاشبہ محمدؐ وفات پاگئے اور جو شخص اللہ کو پوجتاتھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں ۔پھرآپ نے یہی آیت پڑھی(مامحمد الا رسول ۔۔۔۔الشاکرین)تک ۔ابن عباس کہتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتاتھا گویا لوگوں کو پتہ نہیں تھا کہ اللہ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی ہے ۔جب سیدنا ابوبکرؓ نے یہ آیت پڑھی پھر ابوبکرصدیقؓ سے لوگوں نے یہ آیت سیکھی۔پھر جسے دیکھو وہ یہی آیت پڑھ رہاتھا اور خود سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! مجھے یوں معلوم ہواکہ میں نے یہ آیت ابوبکرؓ کی تلاوت کرنے سے پہلے سنی ہی نہ تھی اور جب سنی تو سہم گیا۔دہشت کے مارے میرے پاؤں نہیں اٹھ رہے تھے میں زمین پر گرگیا اور جب میں نے ابوبکرؓ کو یہ آیت پڑھتے سنا تب معلوم ہواکہ واقعی رسول اللہؐ کی وفات ہوگئی۔"(بخاری،کتاب المغازی،باب مرض النبیؐ)(تیسیر القرآن)

- اسم علم ہے ۔.ہمارے رسولؐ اور دنیا کے آخری نبی کا  نام  جس کا رواج حضورؐ کی بعثت سے قبل بہت کم تھا، علامہ ابوجعفر محمد بن حبیب بغدادی المتوفی 245ہجری نے کل سات آدمی اس نام کے گنائے ہیں(کتاب المعتبرص130)۔۔۔اور ان میں سے ایک محمد بن سفیان بن مجاشع کی بابت یہ لکھاہے کہ ان کے والد نے ایک شامی راہب سے یہی سن کرکہ آئندہ پیمبر کا نام محمدؐ ہوگا ،یہ نام اپنے لڑکے کا رکھ دیا۔۔۔ملاحظہ ہو اسمِ پاک"محمدؐ" پر ضمیمہ اسی سورہ کے اخیر میں۔۔۔رسول کا مرتبہ اسلام میں خوب سمجھ لیا جائے، رسول محض عبد ہوتے ہیں، صاحب ِ وحی ،عقیدۂ حلول،مظہریت ،ابنیت وغیرہ پر ضرب لگانے کیلئے مرتبۂ رسالت اور رسولیت کی بار بار تصریح ضروری تھی،حضورؐ کی وفات کا حادثہ اس قدر سخت تھا کہ حضرت فاروقؓ جیسے باوقار عالی ظرف بھی صبر وضبط کھو بیٹھے اور بے اختیار ہوگئے،عین اس وقت ایک ان سے بھی برتر شخصیت ابوبکرصدیقؓ اسی آیت کی برمحل تلاوت کرکے ان کے اور سب کے جذبات کو قابومیں لے آئے تھے۔)تفسیر ماجدی(

146۔  "رَبّی" اور  "وھن" کے الفاظ پر پیچھے بحث گذر چکی ہے۔ وھن  ضعف اور استکانت کے الفاظ اگرچہ اظہارِ کمزوری کے مفہوم کے لیے کچھ مشترک  سے ہیں لیکن ان تینوں میں ایک نازک سا فرق بھی ہے۔ موت سے خوف اور زندگی کی محبت  سے جو بزدلی پیدا ہوتی ہے ، یہ وہن ہے۔ اس وہن سے ارادے اور عمل میں جو تعطل پیدا ہوتا ہے  وہ ضعف ہے۔ اس ضعف سے حریف کے آگے گھٹنے  ٹیک دینے  کا جو نتیجہ ظہور میں آتا ہے وہ استکانت ہے۔۔۔۔ یہ اشارہ ہے ان جنگوں کی طرف جو حضرت موسیٰؑ ، حضرت داؤد ؑ ، حضرت سلیمانؑ اور بعض دوسرے انبیاء کو لڑنی پڑیں۔ حضرت سیموئیل کے زمانے کی ایک جنگ کا، جو غزوہ بدر سے مشابہ تھی، ذکر سورۃ  بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ مقصود اس اشارے سے ان لوگوں کو جو احد کی شکست سے بد دل ہو رہے تھے اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ نہ تو نبی اور اس کے صحابہ  کے لیے جنگ کا پیش آنا کوئی انوکھی بات ہے اور نا مصائب و شدائد سے ان کا گزرنا کوئی نیا حادثہ ہے۔ یہ انبیاء کی ایک سنت اور  خدا کے قانونِ ابتلا کا ایک لازمی تقاضہ ہے ۔ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ جو نبی ہوتا ہے  وہ اور اس کے ساتھی بغیر امتحان سے گزرے ہی منزل پر جا پہنچتے ہیں۔ اللہ کو محبوب تو صرف وہی لوگ ہیں جو اس کی راہ میں استقامت دکھائیں نہ کہ ہر مدعیِ دینداری ۔پھر جھوٹے اور سچے میں امتیاز آخر اس امتحان کے بغیر کیسے ہو گا؟۔۔۔۔۔ ۔ وَمَا كَانَ قَوْلَھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا الایہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں جب مصیبتیں اور آزمائشیں پیش آئیں تو انہوں نے اس طرح کی باتیں نہیں بنائیں جس طرح کی باتیں آج کمزور قسم کے مسلمان اور منافق لوگ بنا کر پیغمبر کے خلاف طرح طرح کے شبہات دلوں میں پیدا کر رہے ہیں، بلکہ جو افتاد انہیں پیش آئی اس کو انہوں نے خدا، اور رسول کی طرف منسوب کرنے کے بجائے خود اپنی کمزوری اور اپنے تجاوز پر محمول کیا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے قصوروں کی معافی مانگی۔ اس کا صلہ ان کو یہ ملا کہ دنیا میں بھی خدا نے ان کو اقتدار اور حکومت سے سرفراز فرمایا اور آخرت میں بھی ان کے لیے نہایت اعلی صلہ و انعام موجود ہے۔ آخر میں فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو مرتبہ احسان پر فائز ہیں اور اللہ ایسے ہی خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے۔ ۔۔۔۔۔ آگے بھی انہی کمزوریوں پر تبصرہ ہے جو جنگ احد اور اس کی شکست سے ابھر کر سامنے آئی تھیں۔ قرآن نے ان میں سے ایک ایک کو لے کر ان کے باطن کو نمایاں کیا ہے، ان کی اصلاح کی تدبیریں بتائی ہیں اور اس آزمائش سے مسلمانوں کی تربیت و تطہیر کے جو مصالح پورے ہوئے ہیں ان کی طرف اشارے فرمائے ہیں۔  (تدبرِ قرآن) 

147۔ ذنوبنا۔اسرافنا۔ذنوب سے یہاں مراد صغائر سے لی گئی ہے اور اسراف سے کبائر مراد ہیں۔۔۔امام رازی ؒ نے نقل کیا ہے کہ ذنوب عام ہے بڑے چھوٹے سارے گناہوں کیلئے اور اسرافِ امر سے مراد ہیں معاصیِ کبیرہ خصوصیت سے ۔ابن فورک نے کہاہے کہ اس سے قدریہ کا رد بھی نکل رہاہے جو کہتے ہیں کہ اللہ افعالِ عبدکا خالق نہیں (بحر)امام رازیؒ نے اس سے معتزلہ کارد بھی نکالا ہے۔)تفسیر ماجدی(

148۔ آیت کے الفاظ پر ذرا غور کرلیا جائے"دنیا" کے ساتھ محض"ثواب" (نتیجۂ عمل یا معاوضہ)کا لفظ ہے، اور "آخرت کے ساتھ" "حسنِ ثواب" کا ۔حسن تو آخرت ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔دنیا غریب کی قسمت میں حسن کہاں؟ یہاں تونری نمائش ہی نمائش رہتی ہے۔)تفسیر ماجدی(


سولہواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ  149 مومنو! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر کر (مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑ جاؤ گے۔
 بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ 150 (یہ تمہارے مددگار نہیں ہیں) بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور وہ سب سے بہتر مددگار ہے۔
سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ  151 ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ظالموں کا بہت بُرا ٹھکانا ہے۔
 وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ 152 اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کر دیا (یعنی) اس وقت جبکہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے خدا نے تم کو دکھا دیا اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی اور حکم (پیغمبر) میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے اور بعض آخرت کے طالب۔ اس وقت خدا نے تم کو ان (کے مقابلے) سے پھیر (کر بھگا) دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور خدا مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔
 اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 153 (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو ْپیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول الله تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصیبت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہ ناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔
ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ  154 پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہو گئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے؟ تم کہہ دو کہ بےشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں۔ یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے۔ کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے۔ اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠   ۧ 155 جو لوگ تم میں سے (اُحد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کر دیا بےشک خدا بخشنے والا اور بردبار ہے۔

تفسیر آیات

149۔غزوہ احد میں چونکہ مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ہوگیا اور بہت سے صحابہ زخمی بھی ہوگئے تھے تو مسلمانوں کے اس نقصان سے مشرکین، یہوداور منافق سب بہت خوش تھے اور مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے تھے کہ اگر محمدؐ سچے نبی ہوتے تو مسلمانوں کو کبھی شکست نہ ہوتی اور نہ ہی وہ خود زخمی ہوتے ۔نیز آئندہ بھی اگرجنگ ہوئی تو تمہارایہی حشر ہواتو اس سے یہ بہتر نہیں کہ اب بھی اپنا نفع و نقصان سوچ لو۔ کچھ مسلمانوں کو طعنے بھی دیتے ۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ اگر تم ان کی باتوں میں آگئے تو پھر یہ لوگ تمہیں اسی جاہلی دور کی طرف لوٹا دینگے جس سے اللہ نے اپنے فضل سے تمہیں اسلام کے ذریعہ نکالا ہے۔ نیز یہ کہ یہ لوگ کسی حال میں بھی تمہاری مدد نہیں کریں گے۔اللہ پر بھروسہ رکھو اور ثابت قدم رہو وہی تمہارا سب سے اچھا مددگارہے۔(تیسیر القرآن)

151۔آپؐ کے زخمی ہونے کے بعد جب مشرکین نے گھیرا ڈالا اور صحابہ کرامؓ نے نہایت جانبازی سے مشرکین کو منتشر کردیا تو آپؐ نے ہمت کرکے نہایت دانشمندی اور حربی مہارت سے نقشہ جنگ میں تبدیلی کی اور ثابت قدمی کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے ۔آپ کے اس اقدام سے فوراً جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ابوسفیان نے آپ کو دیکھا تو فوج لے کر پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کی اوپر سے صحابہؓ نے پتھر برسائے ،لہذاوہ آگے نہ بڑھ سکا ۔اس طرح شکست خوردہ مسلمان پھر سے برابری کی سطح پر آگئے اور ابوسفیان کو ناکام واپس جانا پڑا۔

- معبد خزاعی کا کردار :۔ چونکہ یہ جنگ فیصلہ کن نہ تھی اور اس حال میں ابوسفیان واپس چلا گیا۔ لہذا آپؐ کو خیال آیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ابوسفیان واپس مڑ کر مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کردے۔ لہذا آپ نے صحابہ کو تعاقب کا حکم دیا۔ چنانچہ زخم خوردہ اور غمزدہ مسلمانوں میں سے ستر آدمیوں کی ایک جماعت تعاقب کیلئے تیار ہوگئی اور وہ مدینہ سے نکل کھڑ ے ہوئے اور مدینہ سے آٹھ میل دور حمراء الاسد تک پہنچ گئے۔رسول اللہؐ کا گمان بالکل درست نکلا۔ابوسفیان جب مقام روحاء پر پہنچا تو اسے خیال آیا کہ کام تو ناتمام ہی رہ گیا ۔لہذا واپس مدینہ چل کر دوبارہ حملہ کرنا چاہئے ۔ان حالات میں اللہ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے شامل حال ہوئی ۔قبیلہ خزاعہ کا رئیس معبد(یہ قبیلہ ابھی تک مسلمان نہیں ہوا تھا۔تاہم وہ مسلمانوں کا حلیف اور خیرخواہ ضرور تھا)مسلمانوں کی شکست کی خبر سن کر دلجوئی کیلئے رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جب اسےصورت حال معلوم ہوئی تو آپؐ سےمشورہ کے بعد وہ ابوسفیان کے پاس گیا ۔ابوسفیان نے  اسے اپنا خیر خواہ سمجھ کر جب اپنا واپس جاکر حملہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو معبد کہنے لگا میں ادھر سے ہی آرہاہوں محمدؐ ایک لشکر جرار لے کر آپ لوگوں کے تعاقب میں آرہے ہیں اور اس لشکر میں وہ نوجوان بھی شامل ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے اس معرکہ میں شریک نہ ہوسکے تھے ۔ابوسفیان نے جب یہ قصہ سنا تو اس پر ایسا رعب طاری ہوا کہ اپنا ارادہ بدل دیا اور مکہ کی راہ لی۔(تیسیر القرآن)

- سنلقی فی قلوب الذین کفروالرعب۔دشمنانِ دین کے دلوں میں  القاء رعب یا ہیبت ِ حق کے معجزانہ ظہور کی ایک یادگار مثال تاریخ کے صفحات میں یوں محفوظ ہے کہ معرکۂ احد میں جب آخری فتح بظاہر مشرکین مکہ کو ہوگئی تو اب قدرتی نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ وہ لوگ وہیں سے شہر مدینہ پر چڑھ دوڑتے ،فاصلہ اب رہ ہی کتنا گیاتھا۔لیکن اس کی ہمت انہیں کسی طرح نہ پڑی بلکہ الٹے انہیں واپس ہی جاتے بنی۔اور تعاقب اس کے برعکس خود"شکست خوردہ" مسلمانوں نے اپنے مثل و بے مثال سالار لشکر کے ماتحت مدینہ سے آٹھ میل دور حمراء الاسد تک کیا، یہاں تین دن تک مسلمانوں کا کیمپ رہااورلگے ہاتھوں غنیم کا ایک آدمی بھی گرفتار کرکےلائے۔)تفسیر ماجدی(

152۔یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جن حضرات کے متعلق طالبِ دنیا ہونے کا ذکر ہے یہ ان کے کس عمل کی بنا پر ہے، ظاہر ہےکہ مالِ غنیمت جمع کرنے کے ارادے کو طلبِ دنیا ہی سے تعبیر کیا گیا ہے، اب غور کرو کہ اگر یہ حضرات اپنے مورچے پر جمے رہتے اور مالِ غنیمت جمع کرنے میں شریک نا ہوتے تو کیا ان کے حصۂ غنیمت میں کوئی کمی آ جاتی اور شریک ہو گئے تو کوئی زیادہ حصہ مل گیا۔ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ  قانونِ غنیمت کو جو  شخص جانتا ہے اس کو اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ  مالِ غنیمت سے جو حصہ ان کو ملے گا  اس میں کسی حال، کوئی فرق کمی بیشی کا نہ تھا۔ مالِ غنیمت جمع کرنے کی صورت میں بھی ان کا حصہ وہی رہے گا  جو اپنی جگہ مورچے پر جمے رہنے پر ملتا ہے۔۔۔۔ تو اب یہ ظاہر ہے کہ ان کا یہ عمل خالص طلبِ دنیا تو ہو نہیں سکتا بلکہ مجاہدین کے کام میں شرکت ہے۔ ہاں طبعی طور پر اس وقت مالِ غنیمت کا خیال دل میں آ جانا مستبعد نہیں، مگر حق تعالیٰ اپنے رسولؐ کے ساتھیوں کے قلوب کو اس سے بھی پاک صاف دیکھنا چاہتے ہیں۔  (معارف القرآن)

۔ ولقد صدقکم اللہ وعدہ ۔عبداللہ بن جبیر (50تیر انداز)۔خالد بن ولید کا حملہ ،70 مسلمان شہید ۔ابوسفیان نے اونچی جگہ کھڑے ہوکر حضورؐ کا نام لیکر پوچھا کیا تم میں محمدؐ ہیں؟حضورؐ نے جواب دینے سے منع کیا ۔ابن ابی قحافہ (یعنی ابوبکرؓ) ہیں؟ عمرؓ۔ ۔۔حضرت عمر ؓسے ضبط نہ ہوسکا ۔تم جھوٹ کہتے ہو اس کا نعرہ اعل ھبل(ھبل کی جے) حضورؐ نے فرمایا کہواللہ اعلیٰ و اجل اس نے کہا لنا عزا ولاعزی لکم (ہمارے لئے۔۔۔)حضورؐ نے کہا کہو اللہ مولانا ولامولالکم (آیت 150 میں تصدیق))ضیاء القرآن(

153۔ دوطرفہ حملہ سے بڑے بڑے بہادروں کی کمرِ ہمت ٹوٹ گئی لیکن اللہ کا رسول پہاڑ کی طرح اپنی جگہ پر جمارہا۔الیّ عباداللہ ،انا رسول اللہ ؐ

)ضیاء القرآن(

۔ جب مسلمانوں پر اچانک دو طرف سے بیک وقت حملہ ہوا اور ان کی صفوں میں ابتری پھیل گئی تو کچھ لوگ مدینہ کی طرف بھاگ نکلے اور کچھ احد پر چڑھ گئے، مگر نبی اکرمؐ ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹے۔ دشمنوں کا چاروں طرف ہجوم تھا، دس بارہ آدمیوں کی مٹھی بھر جماعت پاس رہ گئی  مگر اللہ کا رسول، اس موقع پر بھی پہاڑ کی طرح اپنی جگہ پر جما ہوا تھا اور بھاگنے والوں کو پکار رہا تھا " اِلَیَّ  عِبَادَاللہِ اِلَیَّ  عِبَادَاللہِ" اللہ کے بندو میری طرف آؤ، اللہ کے بندو میری طرف آؤ۔ (تفہیم القرآن)

- احد کے دن مسلمانوں کو کیا کیا غم پہنچے؟:۔غمابغم کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا معنی رنج کے بدلے رنج کیا جائےیعنی مسلمانوں نے رسول کی نافرمانی کرکے اسے رنج پہنچایا تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شکست دے کر انہیں رنج پہنچایا۔دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں کئی قسم کے رنج پہنچائے۔ ایک منافقوں کے واپس لوٹ جانے کا ،دوسرا شکست کا،تیسرا اپنے شہیدوں کا، چوتھا اپنے مجروحین کا ،پانچواں رسول کی شہادت کی خبر کا اور چھٹا اس جنگ کے انجام کا، اور تیسرا معنی یہ کہ اللہ نے جو تمہیں رسول کی شہادت کی افواہ کا غم پہنچایاوہ پہلے تمام قسم کے غموں سے بھاری تھا۔۔۔۔۔خوشی و غمی میں اعتدال کی روش:۔ اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنی ذات پر بھروسہ کرنے کا ایسا ضابطہ بتایا ہے جو ایک مسلمان کو کسی بھی مشکل کے وقت کم ہمت بننے سے بچاتاہے۔جو یہ ہے کہ جو بھی تکلیف یا مصیبت تمہیں پہنچتی ہےوہ پہلے ہی اللہ کے علم میں ہوتی ہے اور صرف وہی تکلیف اور رنج تمہیں پہنچ سکتاہے جو پہلے سے تمہارے لئے مقدر ہوچکاہے۔لہذا اس پر افسوس کرنے کے بجائے اللہ پر بھروسہ رکھواور اسی کی طرف لولگاؤوہی تمہاری مشکلات کو حل کرے گا۔اسی مضمون کو ذراتفصیل سے سورۂ حدید کی آیت نمبر23 میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا "تاکہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اس پر افسوس نہ کرو اور جب اللہ تمہیں کوئی بھلائی عطاکرے تو اس پر پھولے نہ سمایا کرو"(57: 23)یعنی ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ نہ تو مصیبت کے وقت ڈگمگاتااور آس توڑبیٹھتاہےاور نہ خوشی کے وقت بھی وہ حد سے زیادہ خوش ہوکر اترانے لگتاہے بلکہ وہ ہر حال میں اللہ کا شکر کرنے والا اور معتدل مزاج رکھنے والا ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)

۔ رنج ہزیمت کا، رنج اس خبر کا کہ نبی ﷺ شہید ہو گئے ہیں ، رنج اپنے کثیر التعداد مقتولوں اور مجروحوں کا، رنج اس بات کا کہ اب گھروں کی بھی خبر نہیں، تین ہزار دشمن ، جن کی تعداد مدینہ کی مجموعی آبادی سے بھی  ذیادہ ہے، شکست خوردہ فوج کو روندتے ہوئے قصبہ میں آ گھسیں گےاور سب کو تباہ کر دیں گے۔ (تفہیم القرآن)

154۔ اس جنگ اور پھر اس میں شکست کے واقعہ سے ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہواکہ ہر مسلمان کے متعلق سب کو پتہ چل گیا کہ وہ اپنے ایمان میں کس قدر مضبوط ہے،بہادر ہے اور عزم کا پکا ہے اور اسی طرح کمزور ایمان والوں، بزدلوں اور منافقوں کا بھی سب کو پتہ چل گیا۔گویا یہ جنگ ایک امتحان گاہ تھی جس نے واضح کردیا کہ ہر ایک کے دل میں کیا کچھ ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ مخلص مسلمان اپنی کمزوریوں کو دورکرسکیں اور ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ آئندہ کیلئے وساوس اور کمزور یوں سے پاک و صاف بنادے،اور منافقین کا نفاق کھل کر سامنے آجائے اور لوگ ان کے خبث باطن سے بچ سکیں۔(تیسیر القرآن)

۔ یہ ایک عجیب  تجربہ تھا جو اس وقت لشکرِ اسلام کے بعض لوگوں کو پیش آیا۔ حضرت ابو طلح جو اس جنگ میں شریک تھے خود بیان کرتے ہیں کہ  اس حالت میں ہم پر اونگھ  کا ایسا غلبہ ہو رہا تھا کہ تلواریں ہاتھ سے چھوٹی پڑتی تھیں۔ (تفہیم القرآن)

۔ یہ امر محتاجِ بیان نہیں ہے کہ ابتلا خدا کا عذاب نہیں ہےبلکہ اس کی رحمت ہے ۔ عذاب کفّار پر آتا ہےاور ابتلا میں اہلِ ایمان  مبتلا کیے جاتے ہیں۔ عذاب کا مقصد کفّار کو مٹانا ہوتا ہےاور ابتلا کا مقصد اہلِ ایمان کو عقلی اور اخلاقی کمزوریوں سے پاک کرنا۔ ایک موت ہے اور دوسرا زندگی۔ قانونِ الٰہی یہ ہے کہ جب تک اللہ کسی قوم کو باقی رکھنا چاہتا ہے اس وقت تک اس کے جرموں پر ایسی سزا نہیں  دیتا  جس طرح کی سزا مجرموں اور باغیوں ْکو دی  جاتی ہے بلکہ مختلف آزمائشوں اور امتحانوں کے زریعہ  سے اس کے اندر  پیدا ہونے والی بیماریوں کو وہ  دور فرماتا رہتا ہے ۔ ہلاکت کے حوالہ وہ کسی قوم کو وہ اس وقت کرتا ہےجب وہ  زندگی کے اصلی اوصاف سے  بالکل خالی ہو جاتی ہے۔  (تدبرِ قرآن)

۔ وَلِيَبۡتَلِىَ اللّٰهُ مَا فِىۡ صُدُوۡرِكُمۡ سے معلوم  ہوا کہ غزوہ احد میں جو مصائب اور تکالیف صحابہ اکرام کو پیش آئیں وہ بطورِسزا  نہیں بلکہ بطورِ آزمائش تھیں، اس امتحان کے زریعہ مومنین، مخلصین، اور منافقین میں فرق کا اظہار کرنا تھااور  "اثابکم غما" کے الفاظ سے جو اس کا سزا ہونا معلوم ہوتا ہے اس کی تطبیق یہ ہے کہ صورت تو سزا ہی کی تھی مگر یہ   سزا   مربیانہ اصلاح کے لیے تھی، جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو یا استاد اپنے شاگرد کوسزا دیتا ہے تو عرف میں اس کوسزا بھی کہہ سکتے ہیں مگر حقیقت میں یہ تربیت اور اصلاح کی ایک صورت ہوتی ہے، حاکمانہ سزا اس سے مختلف ہوتی ہے۔ (معارف القرآن)

- مسلمان توتھکے ماندے تھے ہی، دوپہر کے وقت ان پر نیند کا غلبہ ہوا،اس سے تازہ دم ہوگئے،تھکی ہوئی فوج کو نیند جیسی نعمت کے میسر آجانے کی قدرکْوئی خستہ و ماندہ اہل فوج ہی کے دل سے پوچھے۔(تفسیر ماجدی)

155۔ حضرت عبد اللہ بن عمر کے سامنے ایک مرتبہ کسی نے بعض صحابہ کرام پر غزوۂ احد کے اسی واقعہ کا ذکر کرکے طعن کیا کہ میدان چھوڑ کربھاگ گئے تھے اس پر انہوں نے فرمایا کہ جس چیز کی معافی کا اللہ نے اعلان فرمادیااس پر کسی کو طعن کرنے کا کوئی حق نہیں۔(معارف القرآن)

- سیدنا عثمانؓ بھی ان لوگوں میں شامل تھے ۔جنہوں نے راہ فرار اختیار کی تھی۔ چناچہ شیعہ حضرات سیدنا عثمانؓ پر ایک یہ بھی طعن کرتے ہیں۔حالانکہ خود اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ یہ فرار محض شیطانی اغوا تھا۔ایمان کی کمزور ی کی بناپر نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا قصور معاف فرمادیا ہے۔۔۔۔۔سیدنا سعدؓ اور طلحہؓ کی فضیلت:۔جب آپؐ زخمی ہوئے اور کفار نے آپ کے گرد گھیرا ڈال لیا تو اس دوران دو صحابہؓ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ اور سیدنا طلحہ بن عبید اللہؓ نے آپ کی جان کی حفاظت کیلئے جانثاری کے بے مثال نمونے پیش کئے۔چنانچہ سیدنا علیؓ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاصؓ کے بعد پھر کسی کیلئے نہیں دیکھا کہ رسول اللہؐ نے اس پر اپنے آپ کو یا اپنے ماں باپ کو فدا کیا ہو۔غزوۂ احد کے دن آپ سیدنا سعدؓ سے یوں فرماتے تھے ۔"تیر مارو،میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں"(بخاری،کتاب الجهاد باب المجن و من یتترس بترس صاحبه)سیدنا طلحہؓ آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے ۔آپ بھی ماہر تیر انداز تھے جوکوئی پاس سے گزرتا رسول اللہؐ فرماتے اپنے تیر طلحہؓ کے حوالے کردو۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کافروں کے تیر روکنے کیلئے سیدنا طلحہؓ کے پاس کوئی چیز نہ تھی تو اپنا بازوآگے کردیا اور سب تیر اسی پر برداشت کرتے رہے ۔حتیٰ کہ ایک بازو شل ہوگیا تو دوسرا آگے کردیا ۔چناچہ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ"میں نے طلحہؓ کا وہ ہاتھ دیکھا جس سے انہوں نے رسول اللہؐ کو بچایا تھا، وہ بالکل شل ہوگیا تھا۔(بخاری، کتاب المناقب ،باب ذکر سیدنا طلحہؓ بن عبیداللہ)۔(تیسیر القرآن)

- انما استزلھم الشیطٰن۔اس میں ادب کی تعلیم آگئی کہ گناہ جو بھی سرزد ہوجائے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ سے نہیں بلکہ شیطان کی جانب دینا چاہئے۔۔۔یہی مضمون تین آیت قبل بھی بیان ہوچکا ہے ولقد عفاعنکم۔تکرار سے ان صحابیوں کی مزید تسلی و اطمینان مقصود ہے، جو لوگ ان صحابیوں کو اس واقعۂ احد کی بناپر مورد طعن سمجھ رہے ہیں سمجھ لیں کہ یہ تو صاف آیاتِ قرآنی کی خلاف ورزی ہے۔(تفسیر ماجدی)


سترھواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ  156 مومنو! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی جب (خدا کی راہ میں) سفر کریں (اور مر جائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔
وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ 157 اور اگر تم خدا کے رستے میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو جو (مال و متاع) لوگ جمع کرتے ہیں اس سے خدا کی بخشش اور رحمت کہیں بہتر ہے۔
 وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ 158 اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکھٹے کئے جاؤ گے۔
 فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ 159 . (اے محمدﷺ) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے۔ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو۔ اور اپنے کاموں میں ان سے مشورت لیا کرو۔ اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسا رکھو۔ بےشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ  160 اور خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے اور مومنوں کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں۔
 وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ  161 اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں۔ اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لاحاضر کرنی ہوگی۔ پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی۔
اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ 162 بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
 هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ 163 ان لوگوں کے خدا کے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجے ہیں اور خدا ان کے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔
لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ 164 خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔
 اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ 165 (بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن کافر کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دوچند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے توتم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
 وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ   166 اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے (واقع ہوئی) اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم کرے۔
وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ   167 اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور (جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے رستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے۔ یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے۔ منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا ان سے خوب واقف ہے۔
 اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 168 یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ ہی رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا۔
 وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ   169 جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے۔
فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ 170 جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں۔ اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہوکر) ان میں شامل نہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں کہ (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔
 یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠   ۧ ۧ  171 اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں۔ اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

تفسیر آیات

156۔ حضرت خالد بن ولید نے خود اپنی وفات کے وقت یہ الفاظ کہے تھے کہ میرے بدن پر ایک بالشت بھی ایسی جگہ نہیں جو تلوار یا نیزہ کے زخم سے خالی ہومگر آج اونٹ کی طرح(گھر پر)مررہاہوں۔۔۔۔۔ ایسے خیالات کہ اگر وہ فلاں سفر یا جہاد پر نہ جاتاتو شاید بچ رہتا۔محض حسرت ہی حسرت ہے۔ورنہ جو اللہ گھر میں زندہ رکھتاہے جہاد میں بھی رکھ سکتاہے اور جوجہاد میں مارسکتاہےوہ گھر میں بھی مارسکتا ہے۔زندہ رکھنا اور مارنا سب اس کے قبضہ قدرت میں ہے اس کے علم میں ہے۔(تیسیر القرآن)

- امریکہ میں اس وقت سوشیالوجی(عمرانیات)کا ایک ماہر فاضل ڈینی سن (Denison)ہے وہ اپنی کتاب(Emotion as the basis of Civilization) میں ایک جگہ لکھتاہے:"مسلمانوں کے اس عقیدۂ تقدیر یا ہر امر تکوینی کو خدا کے تفویض کردینے کی عادت نے نیز عقیدۂ شہادت نے (کہ شہید معاً جنت میں داخل ہوجاتاہے،جہاں اسے بہتر حوریں ملتی ہیں، اور کھانے کیلئے سونے کے ظروف)مسلمانوں میں معرکۂ جنگ کے اندر بڑی ہی قوت اور استقامت پیدا کردی تھی"۔(تفسیر ماجدی)

159۔    وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا                                  مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

                          مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا                                     وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا                                                     

                             فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ  

                                      یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ                                                                                 (مسدس حالی)

 

۔منافقین پر سخت الفاظ میں جو تنقید ہوئی اس کا اثریہ پڑسکتاتھا کہ نبیؐ کا رویہ ان کے بارے میں سخت ہو جاتا۔اس مرحلے میں یہ تبدیلی پسند نہیں فرمائی گئی اور آنحضرتؐ کے اسی کریمانہ طرز عمل کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید و تصویب فرمادی گئی جو اب تک ان لوگوں کے ساتھ رہاتھا۔سربراہ کی نرمی و چشم پوشی کی روش سے اجتماعی نظام وحدت ،قوت اور استحکام کی برکتیں ظہور میں آتی ہیں۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔ اوپر سخت الفاظ میں منافقین پر جو تنقید ہوئی ہے اس کا اثر نبی ﷺ پر اور پھر قدرتی طور پر  باحمیت مسلمانوں پر یہ پڑ سکتا تھا  کہ آپؐ کا اور آپ کے مخلص صحابہ کا رویہ ان  کے بارے میں سخت ہو جاتا، اللہ تعالٰی نے اس  مرحلے میں یہ پسند نہیں فرمایا کہ یہ تبدیلی  واقع ہو۔ اگرچہ منافقین کی روش نہائت قابلِ اعتراض تھی، وہ حضور ؐ کی رافت اور چشم پوشی سے   بہت غلط فائدہ اٹھا رہے تھے لیکن یہ مریض تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہی پسند فرمایا کہ ابھی ان کو اصلاحِ حال کی مزید مہلت دی جائے۔  ۔۔۔یہ ملحوظ رہے کہ بعد میں جب منافقین کے ایک گروہ نے اپنے رویہ سے بالکل مایوس کر دیا  اوریہ بات واضح ہو گئی  کہ چشم پوشی کی روش سے یہ لوگ اصلاح قبول کرنے والے نہیں ہیں تو آنحضرتؐ اور مسلمانوں کو بھی یہ ہدائت ہوئی  کہ ان لوگوں کے بارے میں  اپنے رویے کو بدل دیں اور اگر یہ نرمی سے فائدہ اٹھا  رہے ہیں تو  سختی سے ان کو صحیح راہ پر لایا جائے۔ (تدبرِ قرآن)

- "حق تعالیٰ نے عجیب و غریب پیرایہ میں ان کی سفارش کی " (شیخ الہند)فاعف عنھم واستغفرلھم میں اپنے رسول کو فرمایا کہ ان سے جو غلطی ہوگئی ہےاسے خود بھی معاف کردیجئے اور میری جناب میں بھی شفاعت کیجئے کہ میں بھی ان سے راضی ہوجاؤں۔(ضیاء القرآن)

- مبلغ میں عالی ظرفی (i) نرم مزاجی(ii)معاف کرنے کی صلاحیت(iii) خیرخواہی (مغفرت طلبی)(iv)مشاورت(v)توکل علی اللہ ۔

- توکل علی اللہ ۔ مالی داکم پانی دنیا بھر بھر مشکاں پاوے

      مالک داکم پھل پھل لانا لاوے یا نہ لاوے  (انوارالقرآن)

- نافرمان سپاہیوں کے ساتھ، یعنی ان سپاہیوں کے ساتھ جو عین معرکۂ جنگ میں خودرائی سے کام لے کر لشکر کی تفضیح و رسوائی کا سبب بنے، بجائے کورٹ مارشل کردینے کے شفقت و ملاطفت کا معاملہ قائم رکھنا دنیا کی جنگی تاریخ میں شاید اپنی نظیر آپ ہی ہو۔۔۔حضورانورؐ کے حلم و تحمل ، نرمی و خوش خوئی،شفقت و ملاطفت کے واقعات سے تو حدیث اور سیرت کی کتابیں بھری پڑی ہیں کوئی کہاں تک گنائے،اور یہ حقیقت تو خاص طورپر یادرکھنے کے قابل ہے کہ اپنی ذات کیلئے آپ نے کسی سے انتقام نہیں لیا ،غیروں (اور غیر بھی کیسے ،بعض معاندوں تک) کے دو ایک قول سننے کے قابل ہیں، لین پول نے کہا ہے کہ:"ظلم محمدؐ کی سرشت ہی میں نہ تھا"اور باسورتھ اسمتھ کا بیان ہے کہ:"انہوں نے عمر بھر کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا ،کوئی مصافحہ کرتا تو نہ وہ اپنا ہاتھ الگ کرنے میں سبقت کرتے نہ ازخود اس سے الگ ہوتے ،گفتگو بہت نرم و شیریں کرتے"۔اور ہسٹورینس ہسٹری آف دی ورلڈ میں ہے:۔ "پیمبر کا میلانِ طبع ہمیشہ نرمی ہی کی جانب رہتا"۔۔۔امام رازیؒ نے یہاں یہ نکتہ خوب لکھا ہے کہ جہاد میں بھاگنے سے بڑھ کر گناہ کبیرہ اور کیا ہوگا لیکن قرآن مجید نے ان اصحاب نبی کے عفو و مغفرت کی بار بار تصریح کرکے یہ صاف کردیا کہ ان حضرات کے کبائر بھی معاف ہوگئے تھے۔۔۔فقہائے مفسرین نے اس آیت سے اجتہاد اورقیاس شرعی کے جواز کی دلیل پکڑی ہے۔۔۔اسلام کے نظام ِ سیاسی کو شخصی اور جمہوری(یا عمومی)دونوں سے الگ جو نظامِ شوریٰ قراردیا گیاہے، اس کی ایک اہم بنیاد یہی آیتِ قرآنی ہے۔۔۔اسی تعلیم کا نتیجہ ہے کہ اس گئی گزری حالت میں بھی، نظام شرعی سے اس قدر بعد کے بعد بھی مسلمانوں کوصبر وقناعت کی دولت لازوال حاصل ہے اور خود کشی کے فیشن سے یہ امت اب تک ناواقف ہے۔(تفسیر ماجدی)

161۔ آیت کا پس منظر یہ ہے کہ جنگ بدر کے بعد جب مالِ غنیمت تقسیم ہورہاتھا تو ایک سرخ رنگ کا جبہ ذخیرہ سے غائب معلوم ہوا،اس پر کوئی بول اٹھا کہ رسولؐ نے لے لیا ہوگا،یہ قول اب اگر کسی منافق کا تھا تو اس بدبخت نے کھلا ہوا حملہ رسول اللہؐ کی دیانت پر کردیا اور اگر کسی نو مسلم کی زبان سےنکلا تھا تو وہ یقیناً اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگا کہ رسول کو بغیر اطلاع بھی تصرف کا حق حاصل ہے،آیت ان میں سے ہرمفروضہ کی تردید کررہی ہے،اور ایسے عمل کو خیانت سے تعبیر کررہی ہے،مشرک غریب تو سرے سے جانتے ہی نہ تھے کہ مرتبۂ نبوت کس منصب عظیم کا نام ہے اور پیمبرانہ اخلاق کے معنی کیا ہوتے ہیں ،یہود و نصاریٰ البتہ پیمبروں کے نام اور کارناموں سے آشنا تھے، لیکن ان ظالموں نے بھی رفتہ رفتہ مرتبۂ نبوت کی اخلاقی عظمت کو بالکل ہی بھلادیا تھا اور نبی کو کاہن قسم کا محض ایک پیشین گوئی کرنے والا انسان سمجھ رکھا تھا،آیت ان سب غلط خیالیوں کی اصلاح کررہی ہے۔۔۔اوریہ بھی لکھا ہے کہ حکام کا ہدیہ کو قبول کرنا بھی اسی حکم میں داخل ہے۔(تفسیر ماجدی)

ــــ منافقین کمزور لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالتے کہ ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ محمدؐ اپنی قوم کے بہی خواہ اور وفادار نہیں، وہ ان کے اعتماد سے غلط فائدہ اٹھا کر ان کے جان و مال کو اپنے ذاتی حوصلوں اور امنگوں کے لیے تباہ کررہے ہیں۔اس کے جواب میں فرمایا کہ نبی جو قدم اٹھاتاہے رضائے الٰہی کی طلب میں اور اس کے احکام کے تحت اٹھاتاہے ۔وہ اپنی امت کے ساتھ کبھی بے وفائی و بدعہدی نہیں کرتا۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؓ)

164۔ اوپر کی آیت میں نبیؐ کو ملت کے ساتھ بدخواہی اور بے وفائی کے الزام سے بری قراردیا گیا، اس آیت میں اس عظیم احسان کا اظہار کیا گیا جو آنحضرتؐ کی بعثت کی شکل میں تمام دنیا پر خاص طورپر قوم ِ عرب پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؓ)

۔  اس  روائت کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے  جو تفسیروں کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے کہ مالِ غنیمت میں سے ایک چادر گم ہو گئی تھی۔ (تدبرِ قرآن)

۔ اکابر صحابہ تو خیر حقیقت شناس تھے  اور کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو سکتے تھے ، مگر عام مسلمان یہ سمجھ رہے تھے کہ جب اللہ کا رسولؐ ہمارے درمیان موجود ہے اور اللہ کی تائید و نصرت  ہمارے ساتھ ہے تو  کسی حال میں کفار ہم پہ فتح پا ہی نہیں سکتے۔ اس لیے جب احد میں ان کو شکست ہوئی تو  ان کی توقعات کو سخت صدمہ پہنچا اور انھوں نے حیران ہو کر  پوچھنا شروع کیا کہ  یہ کیا ہوا؟ ہم اللہ کے دین کی خاطر لڑنے گئے، اس کا وعدہ نصرت ہمارے ساتھ تھا، اس کا رسول خود میدانِ جنگ میں موجود تھا، اور پھر بھی ہم شکست کھا گئے؟ اور شکست بھی ان سے جو اللہ کے دین کو مٹانے آئےتھے؟ یہ آیات اس حیرانی کو دور کرنے کے لئے ارشاد ہوئی ہیں۔ (تفہیم القرآن) 

167۔ منافقوں کا عذرلنگ:۔جب عبداللہ بن ابی اپنے تین سوساتھیوں سمیت واپس جانے لگا تو اسے مسلمانوں نے سمجھایا کہ آج مشکل پڑنے پر چھوڑکرجارہے ہو۔ اگر تم لڑنا نہیں چاہتے تو کم از کم دفاع ہی کرو۔ دفاع کے یہاں دومطلب ہوسکتے ہیں ۔ایک یہ کہ مسلمانوں کے لشکر میں شامل رہو۔واپس نہ جاؤ۔تاکہ مجموعی تعداد سے دشمن کسی حدتک مرعوب رہے او دوسرے یہ کہ جاکر شہر مدینہ کا دفاع کرو اور مسلمانوں کے گھروں کی حاظت کرو۔عبداللہ بن ابی نے مسلمانوں کو جوجواب دیا۔اس کے بھی دومطلب ہیں ایک یہ کہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لڑائی ہوگی ہی نہیں۔ پھر تمہارے ساتھ رہنے کا کیافائدہ۔ہمیں واپس ہی جانا چاہئے۔یہ جواب تو اس لیے غلط تھا کہ بھلا جو کافر اتنی دور دراز کی مسافت سے لڑنے آئے تھے اور ان کے دلوں میں بدر کے انتقام کی آگ بھی سلگ رہی تھی،وہ بھلالڑے بغیر واپس جاسکتے تھے وہ تو آئے ہی اس نیت سے تھے کہ مسلمانوں کاکچومر نکال کے رکھ دیں پھر وہ کیوں نہ لڑتے؟اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم تو فنون جنگ سے واقف ہی نہیں،پھر تمہاراساتھ کیسے دے سکتے ہیں؟یہ دراصل طنزیہ جواب تھا کہ جب ہمارے مشورہ کو درخور اعتناء سمجھا ہی نہیں گیا اور اس کے بجائے چند پرجوش نوجوانوں کے مشورہ کو ترجیح دی گئی ہے کہ باہر کھلے میدان میں لڑنا چاہئے توپھروہی لوگ تم لوگوں کا ساتھ دیں گے ہم کیسے دے سکتے ہیں۔ فنون جنگ کو جاننے والے وہ لوگ ہوئے ہم تو نہ ہوئے۔(تیسیر القرآن)

169۔ ایک قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جو چیز اللہ کی راہ میں قربان کردی جاتی ہے ،اللہ تعالیٰ اس چیز کو کئی گنا کرنے کے بعد واپس کردیتے ہیں۔کوئی شخص اللہ کی راہ میں مال خرچ کر ےتو اللہ تعالیٰ اُسے کئی گنا کر کے لوٹادیتے ہیں۔اسی طرح کوئی شخص اللہ کی راہ ہدایت میں وقت دینے لگ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے وقت میں اس قدر برکت ڈال دیتے ہیں کہ اکیلا شخص کئی کئی یونیورسٹیوں کے برابر کام کرجاتاہے۔امام غزالیؒ کا کام ہمارے سامنے ہے۔    علامہ اقبالؒ نے فرمایا:

                            چڑھتی ہے جب فقر کی سان پہ تیغِ خودی ایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کارِ سپاہ            (انوار القرآن)

- روح اور جسم کے اتصال کا نام زندگی اور انفصال کا نام موت ہے۔ قرآن میں دوبار کی زندگی اور دوبار کی موت کا ذکر آیاہےاور ان کی ترتیب یہ ہے(1)موت یعنی انسان کی پیدائش سے پہلے کا وقت جسے عالم ارواح کہتے ہیں۔(2)زندگی یعنی پیدائش سے موت تک کا وقت(3)موت یعنی موت سے قیامت(حشر)تک کا وقت اور(4)زندگی یعنی حشر سے لے کر تاابد لامتناہی مدت کیلئے،(جنت میں یا جہنم میں)دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ موت کے عرصہ میں بھی کلی موت واقع نہیں ہوتی بلکہ زندگی کے کچھ نہ کچھ اثرات اس میں موجود ہوتے ہیں جیسے عالم ارواح میں تمام پیدا ہونے والے انسانوں سے الست بربکم کا وعدہ لیا گیا تھا اور جیسے عالم برزخ میں بھی مردہ کو عذاب و ثواب ہوتاہے اور ان ادوار کو موت کا دور اس لیے کہاجاتاہے کہ ان میں زندگی کے اثرات خفیف اور موت کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔

- شہداء کی زندگی اور موت کے مراحل:۔تیسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان مراحل میں شارٹ کٹ تو ہوسکتاہے۔مگر ترتیب میں فرق نہیں آسکتا۔جیسے ایک بچہ پیداہوتے ہی مرجائے تو فوراً زندگی کے دور سے عالم برزخ (موت کے دور)میں داخل ہوجاتاہے یا جیسے شہید مرتے ہی عالم برزخ کو پھلانگ کر فوراً جنت میں(عالم عقبیٰ)میں داخل ہوجاتاہے۔جیساکہ مندرجہ بالاتین آیات میں مذکورہے۔اور چوتھی قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان مراحل میں رجعت ناممکن ہے۔مثلاً کوئی شخص پیداہوکرواپس عالم ارواح میں نہیں جاسکتا۔اسی طرح عالم برزخ میں پہنچ چکا ہےوہ دنیا میں نہیں آسکتا۔شہید چونکہ فوراً عالم عقبیٰ(جنت میں)پہنچ جاتاہے۔لہذا اس کا واپس عالم برزخ یا دنیا میں آناناممکن ہے۔جیساکہ مندرجہ ذیل دواحادیث سے یہ پورا مضمون واضح ہوجاتاہے۔(1)سیدنا جابرؓ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہؐ ملے اور پوچھا !کیا بات ہے جابرؓ؟ میں تمہیں شکستہ خاطر دیکھ رہاہوں؟"میں نے عرض کیا: یارسول اللہؐ ؐ! میرے والد (جنگ احدمیں)شہید ہوگئے اور قرض اور چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑگئے"آپؐ نے فرمایا :کیا میں تمہیں یہ بشارت نہ دوں کہ اس کی اللہ سے کیسے ملاقات ہوئی؟ "میں نے عرض کیا،"یارسول اللہؐ ضرور بتائیے"آپ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ کسی سے کلام نہیں کرتا،مگرپردے کے پیچھے سے اللہ نے تمہارے باپ کو زندہ کیا پھر اس سے رودررو بات کی اور پوچھا :"کچھ آرزو کروجو میں تمہیں عطاکروں"تیرے باپ نے کہا: اے میرے پروردگا! مجھے دوبارہ زندگی دے تاکہ میں دوسری مرتبہ تیری راہ میں شہید ہوجاؤں "اللہ تعالیٰ نے فرمایا:"یہ بات پہلے سے طے ہوچکی ہے کہ لوگ دوبارہ دنیا کی طرف نہیں لوٹیں گے"راوی کہتاہے۔یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی۔(ترمذی، ابواب التفسیر)(2)سیدنا عبداللہؓ بن مسعود سے روایت ہے کہ ہم نے اس آیت کے بارے میں رسول اللہؐ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں (طیورِ خضر) کی صورت میں ہوںگی۔ان کیلئے عرش الٰہی میں کچھ قندیلیں لٹکی ہیں۔یہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں سیرکرتی پھرتی ہیں۔پھران قندیلیوں میں واپس آجاتی ہیں۔ان کے پروردگار نے ان کی طرف دیکھا اور پوچھا:کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے؟توانہوں نے کہا:ہم کس چیز کی خواہش کریں۔ہم جہاں چاہیں سیر کرتی پھرتی ہیں۔ پروردگار نے ان سے تین باریہی سوال کیا:جب انہوں نے دیکھا کہ اب جواب دئیے بغیر چارہ نہیں تو کہا:اے ہمارے پروردگار ! ہم یہ چاہتے ہیں کہ توہماری روحیں واپس (دنیا میں)لوٹادے تاکہ ہم تیری راہ میں پھر جہاد کریں اور پھر شہید ہوں۔(مسلم، کتاب الامارۃ،باب فی بیان ان ارواح الشہداء فی الجنہ وانھم عندربھم یرزقون )۔سورۂ بقرہ کی آیت نمبر154 میں فرمایا گیا کہ شہداء کو مردہ نہ سمجھو۔قرآن کے شہداءکے متعلق یہ ارشادات محض اعزازی نہیں۔بلکہ شہداء کی فضیلت ہی یہ ہے کہ وہ عالم دنیا سے رخصت ہوتے ہی فوراً جنت میں پہنچ جاتے ہیں۔عالم برزخ یعنی موت والا تیسرا    دور ان پر نہیں آتا۔(تیسیر القرآن)

- سورۂ البقرۃ ،ع19(پ2)کے حاشیے ولاتقولوا لم یقتل فی سبیل اللہ اموات کے تحت بھی ملاحظہ کرلئے جائیں۔(مرتب)

170۔ کشتگان ِ خنجر ِ تسلیم را ہرزماں از غیب جانے دیگراست (انوارالقرآن)

- مسند احمد میں نبی ؐ کی ایک حدیث مروی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ جو شخص نیک عمل لے کر دنیا سے جاتاہے اسے اللہ کے ہاں اس قدر پر لطف اور پر کیفْ زندگی میسر آتی ہے جس کے بعد وہ کبھی دنیا میں واپس آنے کی تمنا نہیں کرتامگر شہید اس سے مستثنیٰ ہے ۔وہ تمنا کرتاہے کہ پھر دنیا میں بھیجا جائے اور پھر اس لذت ،اس سرور،اس نشے سے لطف اندوز ہوجو راہِ خدا میں جان دیتے وقت حاصل ہوتاہے۔(تفہیم القرآن)

-شہداء کی خواہش ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تمہاری یہ خواہش ان کو پہنچائے دیتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (قرطبی)(معارف القرآن)


اٹھارواں رکوع

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ  172 جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے۔
 اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ  173 (جب) ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے لشکر( کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو۔ تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا۔ اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔
فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ  174 پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا۔ اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔
اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ  175 یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا۔
 وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ 176 اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا۔ یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے اور ان کے لئے بڑا عذاب تیار ہے۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ  177 جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا۔
 وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ  178 اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیئے جاتے ہیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے۔ (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں۔ آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا۔
مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ 179 (لوگو) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کردے گا مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا۔ اور الله تم کوغیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گاالبتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے۔ تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤاور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا۔
 وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠   ۧ ۧ  180 جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں۔ (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لئے برا ہے وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہوخدا کو معلوم ہے۔

تفسیر آیات

172۔ احد میں مسلمانوں کی شکست کے بعد قریش کی فوج واپس چلی گئی لیکن روحاء کے مقام پر ابوسفیان نے اس کو دوبارہ منظم ہوکر مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کا حکم دیا ۔حضورؐ کو جب یہ خبر ہوئی تو آپؐ نے جاں نثار صحابہؓ کو ساتھ لیا اور قریش کے تعاقب میں حمراء الاسد تک جانکلے ۔یہ ان صحابہؓ کے عزم و ایمان کی تحسین کی ہے ۔اس مہم میں جنگ کی نوبت نہ آئی۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؓ)

173۔  ابو سفیان جب احد سے مکہ کو واپس گیا تو راستہ میں خیال آیا کہ ہم نے بڑی غلطی کی، ہزیمت یافتہ اور زخم خوردہ مسلمانوں کو یونہی چھوڑ کر چلے آئے، مشورے ہونے لگے کہ پھر مدینہ واپس چل کر ان کا قصہ تمام کردیں، آپ ﷺ کو خبر ہوئی تو اعلان فرما دیا کہ جو لوگ کل ہمارے ساتھ لڑائی میں حاضر تھے آج دشمن کا تعاقب کرنے کیلئے تیار ہوجائیں۔ مسلمان مجاہدین باوجودیکہ تازہ زخم کھائے ہوئے تھے، اللہ اور رسول کی پکار پر نکل پڑے۔ آپ ﷺ ان مجاہدین کی جمعیت لے کر مقام حمراء الاسد تک (جو مدینہ سے آٹھ میل ہے) پہنچے۔ ابو سفیان کے دل میں یہ سن کر کہ مسلمان اس کے تعاقب میں چلے آرہے ہیں، سخت رعب و دہشت طاری ہوگئی، دوبارہ حملہ کا ارادہ فسخ کر کے مکہ کی طرف بھاگا۔ عبدالقیس کا ایک تجارتی قافلہ مدینہ آرہا تھا۔ ابو سفیان نے ان لوگوں کو کچھ دے کر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر ایسی خبریں شائع کریں جن کو سن کر مسلمان ہماری طرف سے مرعوب و خوفزدہ ہوجائیں۔ انہوں نے مدینہ پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ مکہ والوں نے بڑا بھاری لشکر اور سامان مسلمانوں کے استیصال کی غرض سے تیار کیا ہے۔ یہ سن کر مسلمانوں کے دلوں میں خوف کی جگہ جوش ایمان بڑھ گیا اور کفار کی جمیعت کا حال سن کر کہنے لگے۔ حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْل ساری دنیا کے مقابلہ میں اکیلا خدا ہم کو کافی ہے۔ اسی پر یہ آیات نازل ہوئیں، بعض کہتے ہیں کہ جنگ احد تمام ہونے پر ابو سفیان نے اعلان کیا تھا کہ اگلے سال بدر پر پھر لڑائی ہے، حضرت ﷺ نے قبول کرلیا۔ جب اگلا سال آیا حضرت محمد ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ جہاد کیلئے چلو۔ اگر کوئی نہ جائیگا تب بھی اللہ کا رسول تنہا جائیگا۔ ادھر سے ابو سفیان فوج لیکر  مکہ سے نکلا تھوڑی دور چل کر کمر ہمت ٹوٹ گئی، رعب چھا گیا، قحط سالی کا عذر کر کے چاہا مکہ واپس جائے، مگر صورت ایسی ہو کہ الزام مسلمانوں پر رہے، ایک شخص مدینہ جاتا تھا، اس کو کچھ دینا کیا کہ وہاں پہنچ کر اس طرف کی ایسی خبریں مشہور کرنا جن کو سن کر مسلمان خوف کھائیں اور جنگ کو نہ نکلیں وہ مدینہ پہنچ کر کہنے لگا کہ مکہ والوں نے بڑی بھاری جمعیت اکٹھی کی ہے تم کو لڑنا بہتر نہیں مسلمانوں کو حق تعالیٰ نے استقلال دیا۔ انہوں نے یہ ہی کہا کہ ہم کو اللہ کافی ہے۔ آخر مسلمان حسب وعدہ بدر پہنچے، وہاں بڑا بازار لگتا تھا، تین روز رہ کر تجارت کر کے خوب نفع کما کر مدینہ واپس آئے اس غزوہ کو بدر صغریٰ کہتے ہیں۔ اس وقت جن لوگوں نے رفاقت کی اور تیار ہوئے ان کو بشارت ہے کہ احد میں زخم کھا کر اور نقصان اٹھا کر پھر ایسی جرات کی۔ مسلمانوں کی اس جرات و مستعدی کی خبر سن کر مشرکین راستہ سے لوٹ گئے ۔چنانچہ مکہ والوں نے اس مہم کا نام " جیش السویق " رکھ دیا۔ یعنی وہ لشکر جو محض ستو پینے گیا تھا پی کر واپس آگیا (تنبیہ: یہ جو فرمایا  لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ وَاتَّقَوْا محض ان کی مدح سرائی اور تنویہ شان کیلئے ہے ور نہ وہ سب کے سب ایسے ہی تھے۔(تفسیر عثمانی)

- حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں:کلمہ "حسبنا اللہ ونعم الوکیل"حضرت ابراہیمؑ نے اسوقت کہا تھا جب انہیں آگ میں ڈالا جارہاتھا اور حضرت محمدؐ نے بھی یہ کلمہ کہا جب لوگوں نے ان سے کہا:"قریش کے کافروں نے آپ سے لڑنے کیلئے بہت بڑا لشکر جمع کرلیا ہے،تو ان سے ڈرو ۔"ان (صحابہؓ) کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے یہی کہا :"حسبنا اللہ ونعم الوکیل" ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔"(صحیح بخاری)(احسن الکلام)

174۔(اور یہی رضائے الٰہی سرچشمہ ہے دنیوی اور اخروی ہر قسم کے نفع و راحت کا)۔فانقبلبوا۔ یعنی مقامِ بدر تک جاکر مسلمان واپس آئے،اہل سیر وتاریخ کی زبان میں یہ واقعہ غزوۂ بدر ثانیہ کے نام سے موسوم ہے اور اس کا زمانہ شعبان سنہ4 ہجری کا ہے، مہاجر مسلمان، عام اہلِ قریش کی طرح، اہل تجارت بھی تھے،جب دیکھا کہ میدان رزم خالی ہے، توبساط ِ تجارت پچھادی۔سیرت ابن ہشام میں ہے"آپ نے ابوسفیان کے چیلنج کے جواب میں بدر کا قصد فرمایا چنانچہ وہاں پہونچ گئے اور یہاں آپ نے ابوسفیان کا انتظار آٹھ دن تک کیا اور ابوسفیان بھی مکہ والوں کو لے کر روانہ ہو،مگرنواحی ظہران میں پہونچا تو اس کی رائے مکہ واپس چلےآنے کی ہوئی اور اس نے قریش سے مخاطب ہوکر کہا کہ تمہارے سفر کیلئے تو ایسا موسم  مناسب ہے جس میں تم اپنے جانوروں کو چرابھی سکو اور دودھ بھی خوب پی سکو اور یہ موسم تو خشکی کا ہے سو میں تو واپس چلا تم بھی واپس چلے چلو ،چنانچہ وہ لوگ واپس ہوگئے"۔یعنی نعمت مقبولیت اور ترقی ایمان کے ساتھ۔۔۔یعنی دنیوی نفع کے ساتھ بھی، چنانچہ مال کی نکاسی خوب ہوئی ،فضل کے ایک معنی مال اور آمدنی کے بھی ہیں۔۔۔چنانچہ یہاں اس کا فضل مسلمانوں پر ان صورتوں میں ظاہر ہوا،ان کے درجۂ ایمان میں ترقی ہوئی،انہیں معرکۂ جہاد میں نکلنے کی توفیق ہوئی، وہ پرقوت دشمن کی شوکت و صولت سے ذرا سے مرعوب نہ ہوئے ،مقابلہ کی ہمت قائم رکھی ،مالی و تجارتی نفع حاصل ہوئے،اجر عظیم کی بشارت ملی۔(تفسیر ماجدی)

179۔ اب تک مسلمانوں کی جماعت خام و پختہ ،خبیث و طیّب، اور مخلص و منافق ہر قسم کے افراد پر مشتمل رہی ۔یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف تھی کہ جو جماعت دنیا کی اصلاح و فلاح کا ذریعہ بننے والی ہو وہ اس طرح صالح و فاسد کا ملغوبہ بنی رہے۔(تدبر قرآن)

- اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسولؐ نے منافقین کی علامات تو بتادی ہیں۔لیکن کسی کا نام لے کر نہیں بتا یا کہ فلاں فلاں شخص منافق ہے۔دورنبویؐ میں صرف ایک ایسا واقعہ ملتاہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو شدید ضرورت کے تحت چند منافقین کے نام بھی بتادئیے تھے۔ غزوہ تبوک سے واپسی سفر کے دوران چودہ یا پندرہ منافقوں نے ایک سازش تیار کی تھی کہ رات کو سفر کے دوران گھاٹی پر سے گزرتے ہوئے رسول اللہؐ کو سواری سے گراکر گھاٹی میں پھینک کر ہلاک کردیا جائے۔اس وقت سیدنا حذیفہؓ بن یمان آپؐ کی سواری کو پیچھے سے چلا رہے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپؐ کو منافقوں کی سازش سے مطلع کردیا اور ان منافقوں اور ان کے باپوں کے نام بھی بتادئیے،جو آپؐ نے سیدنا حذیفہؓ کو بھی بتادئیے اور ساتھ ہی تاکید کردی کہ ان کے نام وغیرہ کسی کو نہ بتانا۔اسی لئے سیدنا حذیفہؓ کو رازدان رسولؐ کہاجاتاہے(مزید تفصیل کیلئے دیکھئے۔مسلم کتاب صفات المنافقین)(تیسیر القرآن)

180۔ اس میں زکوٰۃ نہ دینے والوں کیلئے وعید ہے۔حدیث میں ہے:"جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال عطافرمائے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادانہ کرے تو قیامت کے دن اس کا مال ایک گنجے سانپ جس کی آنکھوں پر دوکالے نقطے ہوں گے ،کی شکل بن کر اس کے گلے کا طوق ہوجائے گا اور اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا(مجھ کو نہیں پہچانتا)میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی"ولاتحسبن الذین یبخلون بما اٰتٰھم اللہ من فضلہ"(صحیح بخاری)(احسن الکلام)


انیسواں رکوع

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ 181 خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے۔ اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے۔ اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو۔
 ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ   182 یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا۔
اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 183 جو لوگ کہتے ہی کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمارے پاس ایسی نیاز لے کر نہ آئے جس کو آگ آکر کھا جائے تب تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے اور وہ (معجزہ) بھی لائے جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟
 فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ  184 . پھر اگر یہ لوگ تم کو سچا نہ سمجھیں تو تم سے پہلے بہت سے پیغمبر کھلی ہوئی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آچکے ہیں اور لوگوں نے ان کو بھی سچا نہیں سمجھا۔
 كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ  185 ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے اور تم کو قیامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلا دیا جائے گا۔ تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔
 لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ  186 (اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ اور تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔
 وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ 187 اور جب خدا نے ان لوگوں سے جن کو کتاب عنایت کی گئی تھی اقرار کرلیا کہ (جو کچھ اس میں لکھا ہے) اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا۔ اور اس (کی کسی بات) کو نہ چھپانا تو انہوں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ یہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں برا ہے۔
لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 188 جو لوگ اپنے (ناپسند) کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور( پسندیدہ کام) جو کرتے نہیں ان کے لئے چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ان کی نسبت خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے رستگار ہوجائیں گے۔ اور انہیں درد دینے والا عذاب ہوگا۔
 وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠   ۧ ۧ  189 اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کو ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر آیات

181۔یہ یہودیوں کا قول تھا۔ قرآن مجید میں جب  یہ  آیت آئی کہ " من  ذاالذی یقرض اللہ قرضا حسنا" (کون ہے  جو اللہ کو اچھا قرض دے ") تو اس کا مذاق اڑاتے ہوئے یہودیوں نے کہنا شروع کیا کہ جی ہاں ، اللہ میاں مفلس ہو گئے ہیں، اب وہ بندوں سے قرض مانگ رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن)

۔ قرآن کے مخاطب یہود مدینہ میں ہیں اور قتلِ انبیا ء کا واقعہ ان سے بہت پہلے  حضرت یحٰیؑ اور حضرت ذکریاؑ کے زمانے کا ہے، تو اس آیت میں قتلِ انبیا کا جرم ان کی طرف کیسے منسوب کیا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ یہودِ مدینہ اپنے سابق یہودیوں کے اس فعل پر راضی اور خوش تھے، اس لیے یہ خود بھی قاتلین کے حکم میں شمار کیے گئے۔۔۔ ۔ امام قرطبی نے فرمایا اپنی تفسیر میں کہ یہ بڑا اہم مسئلہ ہے کہ کفر پر راضی ہونا بھی کفر اور معصیت میں داخل ہے، رسولِ کریمؐ کا  ایک ارشاد   اس کی مزید توضیح کرتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ جب زمین پر کوئی گناہ کیا جاتا ہے تو جو شخص وہاں موجود ہو مگر اس گناہ کی مخالفت کرے اور اس کو برا سمجھے تو وہ   ایسا ہے گویا وہاں موجود نہیں، یعنی وہ ان کے گناہ کا شریک نہیں، اور جو شخص اگرچہ اس مجلس میں موجود نہیں مگر ان کے اس  فعل سے راضی ہے وہ باوجود غائب ہونے کے ان کا شریکِ گناہ سمجھا جائے گا۔ (معارف القرآن)

۔۔ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا (یہ جو کچھ انہوں نے کہاہے اس کو ہم نوٹ کررکھیں گے) ان دولفظوں کے اندر جو قہر و غضب چھپاہواہے اس کی تعبیر ہم عاجزوں کے قلم سے صفحوں میں بھی ممکن نہیں ہے، پھر اس سے زیادہ بلیغ بات یہ ہے کہ اس ہی پر عطف کر دیا ہے  وقتلھم الانبیاء بغیر حق کو یعنی ان کے ناحق قتل انبیاء کو بھی ہم نے لکھ رکھا ہے۔(تدبرقرآن)

183۔ حضرت الیاس(ایلیاہ) کا بعل کے بچاریوںکو چیلنج:۔بائیبل میں متعدد مقامات پر یہ ذکر آیاہےکہ خدا کے ہاں کسی قربانی کے مقبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ غیب سے ایک آگ نمودار ہوکر اسے بھسم کردیتی تھی(قضاۃ6: 20-21، 13: 19- 20)نیز یہ ذکر بھی بائیبل میں آتاہےکہ بعض مواقع پر کوئی نبی سوختنی قربانی کرتاتھا اور ایک غیبی آگ آکر اسے کھالیتی تھی(احبار۔9: 24۔تواریخ-7: 1-2)۔لیکن یہ کسی جگہ بھی نہیں لکھا کہ اس طرح کی قربانی نبوت کی کوئی ضروری علامت ہے، یایہ کہ جس شخص کو یہ معجزہ نہ دیا گیاہووہ ہرگز نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ محض ایک من گھڑت بہانہ تھاجویہودیوں نے محمدؐ کی نبوت کا انکارکرنے کیلئے تصنیف کرلیاتھا۔لیکن اس سے بھی بڑھ کر ان کی حق دشمنی کا ثبوت یہ تھا کہ خود انبیاء بنی اسرائیل میں سے بعض ایسے گزرے ہیں جنہوں نے آتشیں قربانی کا یہ معجزہ پیش کیا اور پھر بھی یہ جرائم پیشہ لوگ ان کے قتل سے باز نہ رہے۔مثال کے طورپر بائیبل میں حضرت الیاس(ایلیاہ تشبی)کے متعلق لکھاہے کہ انہوں نے بعل کے پُجاریوں کو چیلنج دیا کہ مجمع عام میں ایک بیل کی قربانی تم کرو اور ایک قربانی میں کرتاہوں ۔جن کی قربانی کو غیبی آگ کھالے وہی حق پرہے۔چنانچہ ایک خلق کثیر کے سامنے یہ مقابلہ ہوا اور غیبی آگ نے حضرت الیاس کی قربانی کھائی۔لیکن اس کا جوکچھ نتیجہ نکلا وہ یہ تھا کہ اسرائیل کے بادشاہ کی بعل پرست ملکہ حضرت الیاس کی دشمن ہوگئی اور وہ زن پرست بادشاہ اپنی ملکہ کی خاطر ان کے قتل کے درپے ہوااور ان کو مجبور اً ملک سے نکل کر جزیرہ نمائے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی(1۔سلاطین۔باب18و19)اسی بناپر ارشادہواہے کہ حق دشمنو!تم کس منہ سے آتشیں قربانی کا معجزہ مانگتے ہو؟جن پیغمبروں نے یہ معجزہ دکھایا تھا انہی کے قتل سے تم کب باز رہے۔(تفہیم القرآن)

۔ یہود کی  جس شرارت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو چپ کرانے کے  لیے  یہ کہتے کہ ہمیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ھدائت ہے کہ ہم کسی شخص کے دعوئے رسالت کی اس وقت تک تصدیق ہی نہ کریں جب تک اس سے یہ معجزہ نہ صادر ہو کہ وہ ایسی قربانی پیش کرے جس کو کھانے  کے لیے  قبولیت کے نشان کے طور پر آسمان سے آگ اترے۔ یہ بات یہود محض شرارت کی وجہ سے کہتے تھے۔ (تدبرِ قرآن)

ــــ اس عہد کا ذکر تورات اور انجیل دونوں میں مختلف اسلوبوں اور پیرایوں سے ہواہے۔(دیکھیے: کتاب استثناء،باب11: 18-21۔انجیل متی، باب10: 28)کا یہ فقرہ خاص طورپر آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے کہ جو کچھ میں تم سے اندھیرے میں کہتاہوں اجالے میں کہو اور جو کچھ تم کان میں سنتے ہو کوٹھوں پر اس کی منادی کرو۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؓ)

184۔ یہاں تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ بیّنات۔زبر۔کتاب منیر:بیّنات کے معنیٰ واضح اور روشن کے ہیں ۔یہ لفظ آیات کی صفت کے طورپر استعمال ہوتاہے ۔قرآن میں جہاں کہیں یہ لفظ تنہا بغیر موصوف کے استعمال ہواہے دومعنوں میں استعمال ہواہے ۔واضح اور مسکت دلائل کے معنی میں یا حسی معجزات کے معنی میں۔۔۔زبر،زبور کی جمع ہے۔اس کے معنی ٹکڑے ،قطعے اور صحیفے کے ہیں ۔مزامیر داؤد کیلئے اس کا استعمال معروف ہے۔یہاں اس سے مراد انبیاء کے وہ صحائف ہیں جو تورات کے مجموعہ میں شامل ہیں۔۔۔کتاب منیر سے مراد تورات ہے۔ قرآن سے پہلے کی نازل شدہ چیزوں میں سے تورات ہی ہے جو اس لفظ کا اصلی مصداق ہوسکتی ہے۔(تدبرقرآن)

- اس آیت میں بینات سے مراد معجزات ،زبر سے چھوٹی چھوٹی کتابیں اور نصیحت نامے اور کتاب منیر سے مراد ایسی جامع کتاب ہے جس میں اوامر و نواہی ،اخلاقیات،قصص اور مواعظ سب کچھ موجودہو۔جیسے تورات اور قرآن کریم ہیں۔یعنی یہود نے آتشیں قربانی پیش کرنے والے انبیاء کو قتل کیا اور بہت سے رسول جو معجزات ،نصیحت نامے اور جامع کتابیں لے کر آئے تھےانہیں بھی جھٹلاتے رہے ہیں۔پھر اگر آپؐ کو بھی جھٹلارہے ہیں تو تعجب نہ ہونا چاہئے بلکہ آپؐ صبر سے کام لیجئے۔(تیسیر القرآن)

185۔ اخروی کامیابی کا معیار:۔یعنی موت تو ہر ایک کو آکے رہے گی اور قیامت کے دن ان یہود کو ان کے اعمال کا بدلہ مل کے رہےگا۔اور ایک حدیث"مات َمن مَات فَقَد قَامَت قِیَامَتُہُ"یعنی جومرگیا اس کی قیامت قائم ہوگئی۔اس لحاظ سے عذاب و ثواب مرنے کے ساتھ ہی عالم برزخ میں شروع ہوجاتاہےاور کامیابی کا معیار یہ ہے کہ انسان دوزخ کے عذاب سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہوجائے۔اس آیت میں ان متصوفین کا رد موجود ہے،جویہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہ دوزخ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے اور نہ جنت کی طلب رکھنی چاہئے۔بلکہ محض اللہ کی رضا کو ملحوظ رکھ کر اس کی عبادت کرنا چاہئے ۔حالانکہ رسول اللہؐ خود اپنے لئے قبر کے عذاب اور دوزخ کے عذاب سے پناہ مانگاکرتے تھے اور جنت کیلئے دعافرماتے رہے۔(تیسیر القرآن)

187۔یعنی انھیں یہ تو یاد رہ گیا کہ بعض پیغمبروں کو آگ میں جلنے والی قربانی بطور نشان کے دی گئی تھی، مگر یہ یاد نہ رہا کہ اللہ نے اپنی کتاب ان کے سپرد کرتے وقت ان سے کیا عہد لیا تھا اور کس خدمتِ عظمیٰ کی ذمہ داری ان پر ڈالی تھی۔ یہاں جس عہد کا ذکر کیا گیا ہےاس کا ذکرجگہ جگہ  بائیبل میں آتا ہے۔ خصوصاً کتابِ استثنا میں حضرت موسیٰؑ کی جو آخری تقریر نقل کی گئی ہے اس میں تو وہ بار بار بنی اسرائیل  سے عہد لیتے ہیں کہ جو احکام میں نے تم تک پہنچائے ہیں انھیں اپنے  دل پر نقش کرنا، آئندہ نسلوں کو سکھانا، گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اٹھتے، ہر وقت ان کا چرچا کرنا اپنے گھر کی چوکھٹوں پر اور اپنے پھاٹکوں پر ان کو لکھ دینا۔( 6: 9-4) (تفہیم القرآن)

188۔ مثلا" وہ اپنی تعریف میں یہ سننا چاہتے ہیں کہ حضرت بڑے متقی ہیں، دیندار اور پارسا ہیں، خادمِ دین ہیں، جامع شرع متین ہیں، مصلح و مزکّی ہیں، حالانکہ حضرت کچھ بھی نہیں۔ یا اپنے حق میں یہ ڈھنڈورا پٹوانا چاہتے ہیں کہ فلاں صاحب بڑے ایثار پیشہ اور مخلص اور دیانتدار رہنما ہیں اور انہوں نے ملت کی بڑی خدمت کی ہے، حالانکہ معاملہ بالکل بر عکس ہے۔ (تفہیم القرآن)


بیسواں رکوع

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚ ۙ   190 بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
 الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ  191 جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا۔ تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو۔
 رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ 192 . اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
 رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ   193 اے پروردگارہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی) اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے۔ اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا۔
 رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ 194 . اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجو کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا۔
فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ 195 تو ان کے پرردگار نے ان کی دعا قبول کر لی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا۔ تم ایک دوسرے کی جنس ہو ۔تو جو لوگ میرے لیے وطن چھوڑ گئے اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور لڑے اور قتل کیے گئے میں ان کے گناہ دور کردوں گا اور ان کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (یہ) خدا کے ہاں سے بدلہ ہے اور خدا کے ہاں اچھا بدلہ ہے۔
 لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ   196 (اے پیغمبر) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکا نہ دے۔
 مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ  197 (یہ دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ ہے پھر (آخرت میں) تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔
 لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ 198 لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے (یہ) خدا کے ہاں سے (ان کی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکو کاروں کے لیے بہت اچھا ہے۔
وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُبِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ 199 اور بعض اہلِ کتاب ایسے بھی ہیں جو خدا پر اور اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جو ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے آگے عاجزی کرتے ہیں اور خدا کی آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہیں لیتے یہی لوگ ہیں جن کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں تیار ہے اور خدا جلد حساب لینے والا ہے۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠   ۧ ۧ 200 اے اہل ایمان (کفار کے مقابلے میں) ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور مورچوں پر جمے رہو اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو۔

تفسیر آیات

خاتمۂ سورت اور سورۂ بقرہ سے تقابل

آغاز رکوع:  پہلی چھ آیات کے نزول کی خوشی میں حضورؐ پر ساری رات رقت کی کیفیت طاری رہی ۔نماز فجر کے لیے حضرت بلال اٹھانے کے لئے آئے تو انہوں نے دیکھا اور پوچھا کہ آپ کے چہرے کی کیفیت بدلی ہوئی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ مجھ پر آج ایسی چھ آیات نازل ہوئی ہیں کہ اس پر میں اپنے رب کا جس قدر شکر ادا کروں کم ہے (بیان القرآن)

پہلی چھ آیات: روایت ہے کہ بعض غیر مسلم حضورؐ کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ عصا اور یدِ بیضالائے ،اسی طرح دوسرے پیغمبر بھی کوئی نہ کوئی معجزہ لائے ،آپؐ کیا لائے ۔آپؐ نے آیات 95  1-190 پڑھ دیں کہ میں یہ لایا ہوں۔۔(تفہیم القرآن)

حسن ِ یوسف ،دم عیسیٰ یدِ بیضا داری آنچہ خوباں ہمہ دارند ،توتنہا داری (بیان القرآن)

۔ اس مجموعہ آیات کی حیثیت خاتمہ سورۃ کی ہے اور یہ خاتمہ موازنہ کیجیئے تو معلوم ہو گا کہ یہ بہت کچھ سورۃ بقرہ کے خاتمے سے  ملتا جلتا ہے۔ خاص طور پر اس میں جو دعا ہے وہ تو بالکل عکس ہے اس دعا کا جس پر سورۃ بقرہ ختم ہوئی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

190۔ دنیا کے اندھوں ،منافقوں اور ٹیڑی عقل والوں کے ذکر کے بعد ارباب بصیرت کی دوراندیشی اور تدبر کا ذکر کیا جارہاہے ۔۔۔۔۔ اس طرح اس کائنات کی قدرت و حکمت پر غور کرنے والا شخص نہ صرف خدا تک بلکہ اقرارِآخرت تک خود پہنچ جاتا ہے اور جس کا ذہن اس حقیقت تک پہنچ جائے گا  ظاہر ہے کہ جزا و سزا سے اس کا دل  کانپ اٹھے گا اور اس کے اندر  شدید داعیہ اس بات کے لیے پیدا ہو گا کہ وہ اس عذاب اور اس رسوائی سے  پناہ مانگے جو ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو اس دنیا کو بس ایک کھلنڈرے کا کھیل سمجھتے رہے اور اس طرح انہوں نے  اپنی ساری زندگی بطالت میں گزار دی۔  (تدبرقرآن)

- آخری آیت میں بطور خلاصہ چار ہدایات دی گئیں،جن کے ذریعے کافروں پر غلبہ پایا جاسکتاہے۔(1)ثابت"صبر"(2)"مصابرت"ثابت قدمی کی باہمی تلقین(3)"مرابطۃ"کمربستگی اور(4)"تقویٰ"یعنی خوفِ خدا اور حدود کی پاسداری۔(قرآنی سورتوں کا نظم جلی)

191۔ ذکر ِ الٰہی پر توجہ مرتکز کرنے کا طریقہ:۔ پہلی بات یہ ہے کہ ذکر جب راسخ ہوجاتاہے تو فکر میں ڈھل جاتاہے۔ اُسی کی فکر لگ جاتی ہے اور دھیان اُسی کی جانب بندھ جاتاہے۔ قرآن مجید میں ذکر پر باربار زور دیا گیاہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے ایسے کلمات باربار ہمارے منہ سے کہلوائے جاتے ہیں۔ہم اذان باربار سنتے ہیں اللہ اکبر، سبحان اللہ اور سورۂ فاتحہ کی نماز میں تکرار ، باربار کےیہ قول و قرار بے معنی نہیں۔یہ الفاظ ،یہ تکرار اور یہ اصرار انسان کی شخصیت میں آہستہ آہستہ اثر انداز ہوتے ہیں۔اسی طرح ذکر کا مطلب زبان سے تسبیح و تمحید کی شکل میں اللہ تعالیٰ کو پکارنا ہے۔ ذکر کی جتنی بھی صورتیں ہیں، ان سے ایک فکر جنم لیتی ہے اور سوچ اور دھیان کا ایک سلسلہ قائم ہوجاتاہے۔پھر فرمایا کہ اللہ کے ہوش مند بندے وہ ہیں جو آسمان اور زمین کی پیدائش پر غور کرتے ہیں۔سوچتے ہیں کہ یہ سب چیزیں کیسے وجود میں آگئیں؟ اور ہر ایک چیز کو مشاہدے کی نظر سے دیکھتے ہیں اور جب غور و فکر کرتے ہیں تو پکار اٹھتے ہیں کہ اللہ نے یہ تمام کارخانہ بے مقصد نہیں بنایا۔(انوار القرآن)

ـ معجزے اور کرشمے تلاش کرنے والوں کے لئے اس کائنات میں خدا کی قدرت و حکمت کی نشانیوں کی کوئی کمی نہیں لیکن ان کو دیکھنے کے لئے بیدار عقل اور بیدار دل کی ضرورت ہے۔ایسے ارباب بصیرت کا ذکر وفکر خود بخود ان کو اس نتیجے تک پہنچتادیتاہےکہ یہ عظیم کارخانہ  بے غایت و بے مقصد نہیں ہوسکتا۔ضروری ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں گنہگار اور نیکو کار دونوں اپنے اپنے اعمال کا بدلہ پائیں اور اس دنیا کی خلقت میں جو عظیم حکمت پوشیدہ ہے وہ ظاہر ہو۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؓ)

- شریعت میں ذکر کے علاوہ کسی اور عبادت کی کثرت کا حکم نہیں دیا گیا ،ا س کی وجہ یہ ہے کہ ذکر کے سوا سب عبادات کے کچھ شرائط و قواعد ہیں۔

۔۔۔۔حضرت حسن بصریؒ نے فرمایا : تفكر ساعة خير من قيام ليلة . ۔(ایک گھڑی آیات قدرت میں غو ر و فکر کرنا پوری رات کی عباد ت سے زیادہ مفید ہے)۔۔۔۔۔ حضرت حسن بن عامر نے فرمایا کہ میں نے بہت سے صحابہ کرام سے سنا ہے کہ تفکر ،ایمان کا نور اور روشنی ہے۔(معارف القرآن)

- انسان کی تخلیق کا مقصد:۔ اب اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ تو انسان کیلئے ہے تو پھر انسان کی زندگی کا مقصد کیاہے؟تو اس کا جواب اللہ تعالیٰ نےیہ دیا۔"وماخلقت الجن والانس الالیعبدون"(51: 56)یعنی میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔اور عبادت کا مفہوم اس قدر وسیع اور جامع ہے کہ اس میں ہر طرح کے شرک کا رد،توحید کی اہمیت،قانون جزاوسزا،جنت و دوزخ بلکہ ْپوری کی پوری شریعت اس میں آجاتی ہے۔کائنات، کائنات کا خالق اور اس کائنات میں انسان کا مقام، یہ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی حقیقت معلوم کرنے اور ان کا صحیح تعین کرنے پر اہل عقل و خرد ابتدائے آدم سے لے کر غوروفکر کرتے رہے ہیں۔پھر جس کسی سائنسدان یا فلاسفر نے بھی وحی الٰہی سے بے نیاز ہوکر سوچنا شروع کیا تو اکثر اس کی عقل نے ٹھوکر ہی کھائی ہے۔(تیسیر القرآن)

۔ یہ ان آیات کا سیدھا سادا مطلب ہوا۔ ان پر مزید غور کیجیئے تو چند اور باتیں بھی سامنے آئیں گی اور وہ بھی نہائت قیمتی ہیں۔ ۔۔۔  ایک یہ کہ قرآن کے نزدیک اولوالالباب صرف وہ لوگ ہیں جو اس کائنات کے نظام پر غور کر کے خدا کے ذکر اور آخرت کی فکر تک رہنمائی حاصل کریں۔۔۔ دوسری یہ کہ جہاں تک خدا کا تعلق ہے وہ فکرو نظر کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اس کائنات کی بدیہی  حقیقت بلکہ ابدہ البدیہیات ہے۔ تیسری یہ کہ جہاں  تک ذکرِ الہٰی کا تعلق ہے وہ ہر حال میں مطلوب ہے۔ ۔۔۔ چوتھی یہ کہ دین میں جس طرح ذکر مطلوب ہے اسی طرح فکر بھی مطلوب ہے۔۔۔۔ پانچویں یہ کہ اس کائنات میں تفکر سے جس طرح اولوالالباب اس  حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں کہ یہ کائنات کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہے اس وجہ سے ایک روزِ عدل کا ظہور ضروری  ہے اسی طرح یہ حقیقت بھی ان پر واضع ہو جاتی ہے کہ اس دن حقیقی رسوائی سے وہ لوگ دو چار ہوں گےجو جھوٹی شفاعتوں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں، اس لیے کہ اس دن ایسے بد قسمتوں کا کوئی بھی مدد گار نہ ہوگا۔ ۔۔۔۔ اگر  قیامت میں باطل شفاعتوں کے لیے گنجائش مان لی جائے تو یہ دنیا پھر اسی طرح بازیچہ اطفال بن کے رہ جاتی ہے جس طرح  آخرت نہ ماننے کی صورت میں ۔ اوریہ بات  با لبداہت غلط ہے۔ ۔۔۔۔

۔ اکابرِ اہلِ معرفت کی وصیت ہے کہ "تفکرو فی ایت اللہ ولا تفکر و فی اللہ " یعنی  اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی نشانیوں پر غور و فکر کرو مگر خود اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور و فکر نہ کرو کہ وہ  تمہاری رسائی سے بالا تر ہے، آفتاب کی روشنی میں ہر چیز کو دیکھا جا سکتا  ہے مگر خود اگر کوئی آفتاب کو دیکھنا چاہے تو آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ (معارف القرآن) 

۔ حضرت عبداللہ بن عمر اپنے قلب کی اصلاح و نگرانی کے لیے شہر سے باہر کسی  ویرانہ کی طرف نکل جاتے تھےاور وہاں پر پہنچ کر   کہتے " این اھلک" یعنی تیرے بسنے والے کہاں گئے پھر خود ہی جواب دیتے "کل شیء ھالک الا وجھہ"  (28: 88) یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا  ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے (ابنِ کثیر) اس طرح تفکر کے ذریعہ آخرت کی یاد اپنے قلب میں مستحضر کرتے تھے۔ (معارف القرآن)

193- ذنوبنا۔ذنوب سے مراد بڑے گناہ ہیں۔۔۔سیّئاتنا۔سّٰیات۔ سے مراد چھوٹے گناہ۔۔۔ایک تشریح یہ بھی کی گئی ہے کہ ذنوب سے مراد وہ گناہ ہیں، جوبندہ سے اپنے رب و خالق کے معاملہ میں ہوں، اور سیّات سے مراد وہ کوتاہیاں ہیں جو بندہ سے بندوں کے معاملات میں ہوں۔(تفسیر ماجدی)

194۔ ربنا۔دعامیں باربار اس لفظ کی تکرار ،اللہ کی صفتِ ربوبیت کو بار بار مخاطب کرنا اور گویا اسے اس کی صفت کا واسطہ دینا دلیل ہے، دعا کرنے والے کی خشیت اور الحاح اور تضرع کی۔(تفسیر ماجدی)

195۔ من ذکر او انثیٰ ۔روایات میں ہے کہ ام سلمہ نے حضورؐ سے عرض کیا کہ قرآن میں کہیں ہم عورتوں کی ہجرت وغیرہ  اور اعمالِ حسنہ کا بالتخصص ۔ذکر نہیں آتا ۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔(تفسیر عثمانی)

- بعضکم من بعض ،اثنائے کلام میں بالکل ضمنی طورپر اس بات کی دلیل بیان ہوگئی ہے کہ کیوں اللہ تعالیٰ کی میزان میں مرد اور عورت دونوں کا عمل بالکل یکساں وزن رکھتاہے؟فرمایا کہ اس لیے کہ عورت اور مرددونوں ایک ہی جنس سے ہیں، دونوں ایک ہی آدمؑ و حوا کی اولاد ہیں، دونوں ایک ہی قسم کے گوشت پوست سے بنے ہوئے ہیں۔ ان دولفظوں سے قرآن نے ان تمام جاہلی نظریات اور غلط مذہبی تصورات کی تردید کردی جو عورت کو مردکے مقابل میں ،ایک فروتر مخلوق قرار دیتے تھے۔اس مسئلے پر ہم آگے والی سورہ میں بحث کرنے والے ہیں اس وجہ سے یہاں اس مختصر اشارے پر کفایت کرتے ہیں۔(تدبر قرآن)

- روایات میں آیا ہے کہ ایک دفعہ سیدہ ام سلمہؓ نے آپؐ سے عرض کیا:یارسول اللہؐ ! قرآن میں جہاں کہیں ہجرت یا اعمال حسنہ کا ذکر آتاہےتو مردوں کا ہی آتاہے عورتوں کا کیوں نہیں آتا؟تو اس بات کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔ (تیسیر القرآن)

- (اور تم  دونوں الگ الگ قسم کی مخلوق نہیں، ایک ہی نوع کی دوشاخیں ہو۔)انّی لااضیع۔ہرزبان کا ایک مخصوص اسلوب بیان و طرز انشا ہوتاہے،اوپر سے برابر صیغۂ غائب چلا آرہاہے۔اب دفعۃً اس آیت کے اندر صیغۂ متکلم آگیا،عربی ادب و انشا میں یہ فوری انتقال صیغۂ داخل ِ عیب نہیں، داخل ہنر ہے اور اپنے موقعہ و محل پر ایک خاص صنعت ،جسے صنعت ِ التفات کہتے ہیں۔یہاں صیغۂ متکلم دلالت کررہاہے،تخصیص و شفقت پر۔۔۔من ذکراوانثیٰ۔جاہلی مذہبوں میں بلکہ مسیحیت میں بھی عورت ہونا بجائے خود ایک نقص بلکہ جرم تھا۔عورت غریب محض اس لئے کہ عورت تھی، بہت سے ثوابوں سے محروم تھی۔اس گمراہی کو مٹانے کیلئے صراحت کے ساتھ یہ بیان کرنے کی ضرورت تھی کہ جنس مذکرومؤنث سے عمل و اجر ِ عمل پر مطلق کوئی اثر نہیں پڑتا ۔عمل کے لحاظ سے مرد ہو یا زن، ہرعامل یکساں ہے،نماز اس کی بھی مقبول ،اس کی بھی ،روزہ اس کا بھی مقبول اس کا بھی ،عصمت اس کی بھی قابل قدر،اس کی بھی ،وقس علیٰ ھذا۔۔۔لااُضیع۔صیغۂ متکلم لاکر یہ بھی بتادیا کہ عمل پر ثمرات کا ترتب تمام تر اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے یہ نہیں کہ ارادۂ الٰہی کے بغیر ثمرات کا ترتب از خود اور میکانکی طورپر ہوجایا کرے۔۔۔بعضکم من بعض۔یہ تصریح ہے اس کی کہ انسانیت دونوں جنسوں میں مشترک ہے۔اس لئے حکم بھی دونوں کا مشترک ہی رہے گا۔اور عمل اور قبول عمل کے لحاظ سے دونوں جنسیں بالکل ایک ہیں۔۔۔لاکفّرن عنھم سیّٰاتھم۔ اس تصریح سے صاف ظاہر ہوگیا کہ یہ حضرات باوجود ان مرتبوں کے باوجود ِصحابی،مہاجر اور مظلوم فی سبیل اللہ اور غازی اور شہید ہونے کے معصوم نہ ہونگے،لغزش و خطا سے ماوراء نہ ہونگے،صاحب سّئیات ہونگے،عام بشری لغزشوں کے یہ بھی مرتکب ہونگے،البتہ فضلِ خداوندی ان کے حسنات کو ان کے سیّیئات پر غالب رکھے گا۔آج جوہر "شیخ"اور ہر"بزرگ"کو عملاً تقدس مآب و معصوم اور بشریت سے ماوراء سمجھا جانے لگاہے،اس عقیدۂ فاسد کی تردید قرآن مجید قدم قدم پر کررہاہے۔(تفسیر ماجدی)

197۔ اگر ایک شخص کو چار دن پلاؤ قورمے کھلانے کے بعد پھانسی یا حبس ِ دوام کی سزا دیجائے تو کیا وہ خوش نصیب ہوگا۔(تفسیر عثمانی)

198۔ "نزل" اس ضیافت و میزبانی کو کہتے ہیں جو کسی مہمان کی آمد پر سب سے پہلے پیش کی جاتی ہے ۔(تدبرقرآن)

199۔ دوہرے اجروثواب کے مستحق کون ہیں؟یہود میں کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو اللہ سے ڈرنے والے،حرام خوری سے بچنے والے دیانتدار اور نیک سرشت تھے۔اگرچہ ایسے لوگ بہت کم تھے ،تاہم ان کا ذکر پہلے سورۂ آل عمران کی آیت 113تا 115 میں گذرچکاہے۔یہی وہ لوگ تھے جو رسول اللہؐ پر ایمان لائے اور ایسے لوگ دوہرے ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ایک اپنے نبی اور کتاب پر ایمان لانےکا دوسرے نبی آخر الزمانؐ اور قرآن پر ایمان لانے کا۔چنانچہ آپؐ نے فرمایا ہے کہ تین آدمیوں کو دہرا اجر ملے گا،ایک تو اس کو جس کی لونڈی ہو اور وہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے ،ادب سکھائے پھر اس سے نکاح کرلے ،دوسرے اس یہودی یا عیسائی کوجو اپنے پیغمبر پر ایمان لایا ، پھر محمدؐ پر ایمان لایا ۔تیسرے اس غلام کو جو اللہ اور اپنے آقادونوں کا حق اداکرے۔(بخاری،کتاب الجہاد،باب فضل من اسلم من اھل الکتاب) (تیسیر القرآن) 

200۔ صبر کے لفظی معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں ، اور اصطلاح قرآن و سنت میں نفس کو خلاف طبع چیزوں پر جمائے رکھنے میں صبر کہا جاتاہے،جس کی تین قسمیں ہیں:اول : صبر علی الطاعات ، یعنی جن کاموں کا اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول اللہؐ نے حکم دیا ہے ،ان کی پابندی طبیعت پر کتنی بھی شاق ہو اس پر نفس کو جمائے رکھنا ۔دوسرے،صبر عن المعاصی ،یعنی جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہؐ نے منع فرمایا ہے وہ نفس کیلئے کتنی ہی مرغوب و لذیذ ہوں نفس کو اس سے روکنا۔تیسرے صبر علی المصائب : یعنی مصیبت و تکلف پر صبر کرنا حد سے زائد پریشان نہ ہونا، اور سب تکلیف و راحت کو حق تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کر نفس کو بے قابو نہ ہونے دینا۔مصابرت اسی لفظ صبر سے ماخوذ ہے،اس کے معنی ہیں دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا ،مرابطہ کے معنی  گھوڑے باندہنے اور جنگ کی تیاری کے لئے جاتے ہیں (8-60)۔۔۔ان دونوں صورتوں میں رباط کے فضائل بے شمار ہیں ،صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ" اللہ کے راستہ میں ایک دن کا رباط تمام دنیا ومافیہا سے بہتر ہے"۔اور صحیح مسلم میں بروایت سلمان ؓ مذکور ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ"ایک دن کا رباط ایک مہینہ کے مسلسل روزے اور تمام شب عبادت میں گذارنے سے بہتر ہےاور اگر وہ اسی حال میں مرگیا تو اس کے عملِ رباط کا روزانہ ثواب ہمیشہ کیلئے جاری رہے گا،اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا رزق جاری رہے گا اور وہ شیطان سے مامون و محفوظ رہے گا"۔۔۔۔۔۔

حضرت ابوہریرۃؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ"جوشخص حالتِ رباط میں مرجائے تو وہ جو کچھ عمل صالح دنیا میں کیا کرتاتھا ان سب اعمال کا ثواب برابر جاری رہے گا،اور اس کا رزق بھی جاری رہے گا اور شیطان سے (یا سوال قبر سے)محفوظ رہے گا۔اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو ایسا مطمئن اٹھائیں گے کہ محشر کا کوئی خوف اس پر نہ ہوگا"۔۔۔۔۔۔

نماز باجماعت کی پابندی ایک نماز کے بعد دوسری کے انتظار میں رہنا بھی رباط فی سبیل اللہ ہے۔۔۔۔۔۔

۔ابوسلمہ بن عبدالرحمنؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ میں تمہیں وہ چیز بتاتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرمادیں  اور تمہارے درجات بلند کریں، وہ چیزیں یہ ہیں : وضو کو مکمل طور پر کرنا باوجود یکہ سردی یا کسی زخم یا درد وغیرہ کے سبب اعضاء وضو کا دھونا مشکل نظرآرہاہو،اور مسجد کی طرف کثرت سے جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار ،پھر فرمایا: ذٰلکم الرباط(یعنی رباط فی سبیل اللہ ہے)امام قرطبی ؒ نے اس کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اس حدیث کی روسے امید ہے کہ جو شخص ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کی پابندی کرے اس کو بھی اللہ تعالیٰ وہ ثواب عظیم عطافرمادیں گے جو رباط فی سبیل اللہ  کیلئے احادیث میں مذکور ہے۔۔۔اس آیت میں اول تو مسلمانوں کو صبر کا حکم دیا گیا ہے جو ہر وقت ہر حال میں ہر جگہ ہوسکتا ہے، اور اس کی تفصیل اوپر بیان ہوچکی ہے ،دوسرا حکم مصابرہ کا جو کفار سے مقابلہ اور مقاتلہ کے وقت ہوتاہے،تیسرا حکم مرابطہ  کا جو کفار سے مقابلہ کا احتمال اور خطرہ لاحق ہونے کے وقت ہوتاہے ،اور سب سے آخر میں تقویٰ کا حکم ہے جو ان سب کاموں کی روح اور قبولیت ِ اعمال کا مدار ہے یہ مجموعہ تقریباً تمام احکام شرعیہ پر حاوی ہے ،حق تعالیٰ ہم سب کو ان احکام پر عمل کرنے کی توفیق کامل عطا فرمائیں۔(معارف القرآن)

ــــ اس آیت میں حالات و مشکلات سے عہدہ برآہونے کے لیے مسلمانوں کو چار چیزوں کی ہدایت فرمائی ہے: پہلی صبر یعنی مزاحمتوں کے مقابل میں حق پر جمے رہنا،دوسری مصابرت یعنی حریف کے مقابل میں استقلال و پامردی کے وصف میں بازی لے جانا ،تیسری مرابطہ یعنی دشمن کے مقابلہ کے لیے مادی تیاری اور چوتھی تقویٰ یعنی خدا کے مقرر کردہ حدود و قیود کی اخلاص و خشیت کے ساتھ نگرانی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؓ)