30 - سورة الروم (مکیہ)

رکوع - 6 آیات - 60

مضمون: لوگ سرسری طورپر حالات کو دیکھ کر غلط نتائج نکالتے ہیں۔ کائنات بالحق پیدا کی گئی ہے۔ تمام معاملات اللہ کے اختیارمیں ہیں۔ حق اور اہل حق کی سرفرازی کا وعدہ پورا ہوکررہے گا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون:  رومیوں کی فتح اور فتحِ بدر کی بشارت ۔دلائلِ آخرت و توحید ۔دنیاوی اور اخروی کامیابی کی بشارت۔

شانِ نزول:  چارسورتیں ،العنکبوت، الروم، لقمان اور السجدہ ،ہجرتِ حبشہ سے پہلے (5سن نبوی کو) نازل ہوئیں ۔اس سورت میں پیش گوئی کی گئی کہ ایرانیوں کی بڑھتی ہوئی فتوحات رک جائیں گی اور ایرانیوں پر رومی غالب آجائیں گے۔ اور ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی نصرت کی خوشخبری سنادی گئی۔

نظم کلام:سورۂ فرقان

ترتیب مطالعۂ: (i)ر۔1(اعلانِ غلبۂ اسلام اور رومیوں کی فتح) (ii) ر۔2(اللہ غالب ہے اور تمام قوتوں والاہے)(iii)ر۔3(اللہ کی  قدرتوں کے نشان) (iv) ر۔4(دینِ حنیف کی دعوت) (v) ر۔5( خشکی اور تری میں فساد کے اسباب اور ان کا خاتمہ)(vi)ر۔6(قادرِ مطلق کمزوروں کو غلبہ دے گا)

تاریخی پسِ منظر: جو پیشین گوئی اس سورۂ کی ابتدائی آیات میں کی گئی ہے۔وہ قرآن مجید کے کلامِ الٰہی ہونے اور محمدؐ کے رسول برحق ہونے کی نمایاں ترین شہادتوں میں سے ایک ہے۔ اسے سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ان تاریخی واقعات پر ایک تفصیلی نگاہ ڈال لی جائے جو ان آیات سے تعلق رکھتے ہیں۔نبی ؐ کی نبوت سے 8 سال پہلے کا واقعہ ہے کہ قیصرِ روم ماریس(Maurice)کے خلاف بغاوت ہوئی اور ایک شخص فوکاس(Phocas)تختِ سلطنت پر قابض ہوگیا۔اس شخص نے پہلے تو قیصر کی آنکھوں کے سامنے اس کے پانچ بیٹوں کو قتل کرایا،پھر خود قیصر کو قتل کراکے باپ بیٹوں کے سرقسطنطینیہ میں برسرِ عام لٹکوادیے،اور اس کے چند روزبعد اس کی بیوی اور تین لڑکیوں کو بھی مرواڈالا۔اس واقعہ سے ایران کے بادشاہ خسرو پرویز کو روم پر حملہ آور ہونے کیلئے بہترین اخلاقی بہانہ مل گیا۔قیصر ماریس اس کا محسن تھا۔اُسی کی مدد سے پرویز کو ایران کا تخت نصیب ہواتھا۔اسے وہ اپنا باپ کہتاتھا۔اس بناپر اُس نے اعلان کیا کہ میں غاصب فوکاس سے اُس کے ظلم کا بدلہ لوں گا جو اس نے میرے مجازی باپ اور اس کی اولاد پر ڈھایاہے۔603ء میں اس نے سلطنت روم کیخلاف جنگ کا آغاز کیا اور چند سال کے اندر وہ فوکاس کی فوجوں کو پے درپے شکستیں دیتاہوا ایک طرف ایشیائے کوچک میں ایڈیسا(موجودہ اورفا)تک اور دوسری طرف شام میں حلب اور انطاکیہ تک پہنچ گیا۔روم کے اعیان ِ سلطنت یہ دیکھ کر،کہ فوکاس ملک کونہیں بچاسکتا ،افریقہ کے گورنر سے مددکے طالب ہوئے ،اس نے اپنے بیٹے ہرقل (Heraclius)کو ایک طاقت ور بیڑے کے ساتھ قسطنطینیہ بھیج دیا۔اس کے پہنچتے ہی فوکاس معزول کردیا گیا ،اس کی جگہ ہرقل قیصر بنایا گیا ،اور اس نے برسرِِ اقتدار آکر فوکاس کے ساتھ وہی کچھ کیا جو اس نے ماریس کے ساتھ کیا تھا۔یہ 610ء کا واقعہ ہے اور یہ وہی سال ہے جس میں نبیؐ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب  نبوت پر سرفراز ہوئے۔خسرو پرویز نے جس اخلاقی بہانے کو بنیاد بناکر جنگ چھیڑی تھی، فوکاس کے عزل اور قتل کے بعد وہ ختم ہوچکا تھا۔اگر واقعی اس کی جنگ کا مقصد غاصب فوکاس سے اس کے ظلم کا بدلہ لینا ہوتا تو اس کے مارے جانے پر اسے نئے قیصر سے صلح کرلینی چاہیے تھی۔)تفہیم القرآن(


پہلا رکوع

الٓمّٓۚ  ﴿1﴾ غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ  ﴿2﴾ فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ  ﴿3﴾ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ  ﴿4﴾ بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ  ﴿5﴾ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿6﴾ یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ ﴿7﴾ اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ ﴿8﴾ اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ  ﴿9﴾ ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿10ع الروم 30﴾
1. الٓمٓ۔ 2. (اہلِ) روم مغلوب ہوگئے۔ 3. نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ 4. چند ہی سال میں۔ پہلے بھی اور پیچھے بھی خدا ہی کا حکم ہے اور اُس روز مومن خوش ہوجائیں گے۔ 5. (یعنی) خدا کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب (اور) مہربان ہے۔ 6. (یہ) خدا کا وعدہ (ہے) خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 7. یہ تو دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں۔ اور آخرت (کی طرف) سے غافل ہیں۔ 8. کیا اُنہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا۔ کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اُن کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل ہی نہیں۔ 9. کیا اُن لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی (سیر کرتے) تو دیکھ لیتے کہ جو لوگ اُن سے پہلے تھے ان کا انجام کیسے ہوا۔ وہ اُن سے زورو قوت میں کہیں زیادہ تھے اور اُنہوں نے زمین کو جوتا اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا تھا جو اُنہوں نے آباد کیا۔ اور اُن کے پاس اُن کے پیغمبر نشانیاں لےکر آتے رہے تو خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا۔ بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔ 10. پھر جن لوگوں نے برائی کی اُن کا انجام بھی برا ہوا اس لیے کہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور اُن کی ہنسی اُڑاتے رہے تھے۔

تفسیر آیات

'پاس کے علاقہ'سے مراد شام و فلسطین کی سرزمین ہے۔اس پر اس زمانے میں رومیوں کی حکومت تھی جو نصرانیت کے پیرو ہونے کے باعث دین و عقیدہ کے اعتبار سے مسلمانوں سے قریب تھے۔ان کے اندرونی خلفشا رسے فائدہ اٹھا کر 614ء میں ایرانیوں نے، جو دین شرک کے پیروتھے،اس علاقہ پر قبضہ کرلیا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔  (اہل ایران سے، تقریباً 614ء و 615 ء میں)الروم  سے مراد قدیم  "رومن امپائر"  کا وہ مشرقی حصہ ہے، جو 398ء میں اس سے کٹ کر خود ایک مستقل سلطنت بن گیا تھا۔ مسیحیوں کے قبضہ میں یہ سلطنت 1454ء تک رہی ،اس کے بعد ترکوں کے قبضہ میں آگئی،اس کا دارالسلطنت استانبول یا قسطنطنیہ تھا۔ اس کو بیزنطینی سلطنت بھی کہتے تھے، اور اس کا ایک قدیم نام جدید رومہ بھی ہے، شام، فلسطین، ایشائے کوچک کے علاقے سب اسی میں شامل تھے۔(تفسیر ماجدی)

3۔ مسلمانوں کی ہمدردیاں روم کے ساتھ اور کفار کی ایران کے ساتھ ۔(i) ایرانیوں نے اسے مجوسیت اور عیسائیت کی لڑائی کا رنگ دے دیا تھا(ii) چونکہ ابھی آپکی دعوت بیرونِ عرب نہیں پہنچی تھی اس لئے مسلمان عیسائیوں کو کافر نہیں کہتے تھے البتہ یہودیوں کو کافر کہتے تھے کیونکہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔پھر ایرانیوں کے مقابلہ میں عیسائی توحید پرست تھے۔(iii)آغاز اسلام میں عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا برتاؤ ہواتھا۔ مثلاً حبش کے بادشاہ نجاشی کا ہمدردانہ رویہ۔)تفہیم القرآن(

4۔ یعنی پہلے جب ایرانی غالب آئے تو اس بنا پر نہیں کہ معاذ اللہ خداوند عالم ان کے مقابلے میں شکست کھا گیا، اور بعد میں جب رومی فتح یاب ہوں گے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا کھویا ہوا ملک مل جائے گا۔ فرمانروائی تو ہر حال میں اللہ ہی کی ہے۔ پہلے جسے فتح نصیب ہوئی اسے بھی اللہ ہی نے فتح دی اور بعد میں جو فتح پائے گا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے پائے گا۔۔۔۔۔ ابن عباس، ابو سعید خدری، سفیان ثوری اور سدی ؓ  وغیرہ حضرات کا بیان ہے کہ ایرانیوں پر رومیوں کی فتح اور جنگِ بدر میں مشرکین پر مسلمانوں کی فتح کا زمانہ ایک ہی تھا۔اس لئے دوہری خوشی حاصل  ہوئی ۔ )تفہیم القرآن(

۔ روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے پانچ سال پہلے پیش آیا ہے اور پورے سات سال ہونے پر غزوہ بدر کے وقت رومی دوبارہ فارس پر غالب آگئے۔۔۔۔۔ صدیق اکبر نے ابی بن خلف سے شرط لگائی کہ تین سال کے اندر رومی غالب نہ آ گئے تو تمہیں دس اونٹنیاں دوں گا۔ یہ کہہ کر صدیق اکبر حضورﷺ کے پاس آئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا۔ حضورؐ نے فرمایاکہ قرآن میں اس کے لیے لفظ بضع سنین مذکور ہے جس کا اطلاق تین سے نو سال تک ہو سکتا ہے۔ تم جاؤ اور اس سے کہو کہ میں دس اونٹنیوں کی بجائے سو اونٹنیوں کی شرط لگاتا ہوں مگر مدت تین سال کی بجائے نو سال مقرر کرتا ہوں۔ رومیوں کی فتح کے وقت ابی بن خلف مر چکا تھا۔ صدیق اکبر نے اس کے وارثوں سے اپنی شرط کے مطابق سو اونٹنیوں کا مطالبہ کیا، انہوں نے اونٹیاں دے دیں۔ (معارف القرآن)

- جو قوم اپنے نظریات و عقائد اور فکر و فلسفہ میں اسلام سے جتنی قریب ہوگی بین الاقوامی میدان میں مسلمانوں کی ہمدردیاں دوسروں کے مقابلہ میں ان کے ساتھ اتنی زیادہ ہوں گی۔ )تدبر قرآن(

5۔ نظمِ عبارت کے اعتبار سے ظاہر ہے کہ یہاں نصر اور مدد سے مراد رومیوں کی نصرت و امداد ہے ۔اور یہ بھی احتمال ہے کہ نصرت سے مراد یہاں مسلمانوں کی نصرت ہو۔اولاً مسلمانوں نے رومیوں کے غلبہ کو قرآن کی سچائی اور اسلام کی حقانیت کی دلیل بناکر پیش کیا تھا۔ثانیاً کفار کی دوبڑی طاقتیں باہم لڑ کر کمزور ہوئیں اور بلآخر مسلمانوں کو اس کا فائدہ ہوا ۔ )معارف القرآن(

یہ آخرت پر بجائے خود ایک مستقل استدلال ہے۔۔۔۔۔انسان کی تین امتیازی خصوصیات ایسی ہیں جو اس کو زمین کی دوسری موجودات سے ممیز کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔ ایک یہ کہ زمین اور اس کے ماحول کی بیشمار چیزیں اس کے لیے مسخر کردی گئی ہیں۔۔۔۔۔۔ دوسرے یہ کہ اسے اپنی راہ زندگی کے انتخاب میں آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔۔۔۔۔ تیسرے یہ کہ اس میں پیدائشی طور پر اخلاق کی حس رکھ دی گئی ہے۔۔۔۔۔یہ تینوں خصوصیتیں جو انسان کے اپنے وجود میں پائی جاتی ہیں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ کوئی وقت ایسا ہونا چاہیے جب انسان سے محاسبہ کیا جائے۔۔۔۔۔اس فقرے میں آخرت کی دو مزید دلیلیں دی گئی ہیں۔۔۔۔ ایک یہ کہ یہ کائنات برحق بنائی گئ ہے۔ یہ کسی بچے کا کھیل نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے اس نے ایک بےڈھنگا سا گھروندا بنا لیا ہو جس کی تعمیر اور تخریب دونوں ہی بےمعنی ہوں۔۔۔۔دوسری حقیقت جو اس کائنات کے نظام کا مطالعہ کرنے سے صاف نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کسی چیز کے لیے بھی ہمیشگی نہیں ہے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

9۔  یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار دنیا میں دو چار آدمیوں ہی نے تو نہیں کیا ہے۔ (تفہیم القرآن)


دوسرا رکوع

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ﴿11﴾ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ ﴿12﴾ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ ﴿13﴾ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ ﴿14﴾ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ ﴿15﴾ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ ﴿16﴾ فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ ﴿17﴾ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ ﴿18﴾ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿19ع الروم 30﴾
11. خدا ہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے وہی اس کو پھر پیدا کرے گا پھر تم اُسی کی طرف لوٹ جاؤ گے۔ 12. اور جس دن قیامت برپا ہوگی گنہگار نااُمید ہوجائیں گے۔ 13. اور ان کے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں سے نامعتقد ہوجائیں گے۔ 14. اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز وہ الگ الگ فرقے ہوجائیں گے۔ 15. تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ (بہشت کے) باغ میں خوش حال ہوں گے۔ 16. اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا۔ وہ عذاب میں ڈالے جائیں گے 17. تو جس وقت تم کو شام ہو اور جس وقت صبح ہو خدا کی تسبیح کرو (یعنی نماز پڑھو)۔ 18. اور آسمانوں اور زمین میں اُسی کی تعریف ہے۔ اور تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو (اُس وقت بھی نماز پڑھا کرو)۔ 19. وہی زندے کو مردے سے نکالتا اور (وہی) مردے کو زندے سے نکالتا ہے اور (وہی) زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ اور اسی طرح تم (دوبارہ زمین میں سے) نکالے جاؤ گے۔

تفسیر آیات

16۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ مؤمنین کی جزائے خیر کے موقع پر ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کا بھی اضافہ کیا ہے۔ اس سے دوباتیں معلوم ہوئیں: ایک یہ کہ عمل صالح معتبر وہی ہے جو ایمان پر مبنی و متفرع ہو۔دوسرے گویا اس امر کو صاف کردیا ہے کہ مراتب عالیہ کے لیے اعمال صالحۃ بھی ضروری ہیں۔گونفس نجات کے لیے مجرد ایمان کافی ہے۔ بخلاف اس کے کافروں کی سزا کے سلسلے میں اعمال سیئہ کا کوئی ذکر نہیں، اس سے معلوم ہوا مجرد کفر انتہائی سزا کے لیے کافی ہے۔(کبیر،ج25/ص91)(تفسیر ماجدی)

17۔۔۔۔۔اور اگر ان دو آیات سے چار نمازوں کا ہی وقت سمجھا جائے تو سورۂ ہود کی آیت نمبر 14،بنی اسرائیل کی آیت نمبر 78 اور سورۂ طہٰٰ کی آیت نمبر 130 کو سامنے رکھا جائے تو قرآن سے ہی پانچ نمازوں کے اوقات کی صراحت ثابت ہوجاتی ہے۔(تیسیر القرآن)

18۔ یہاں ذرا تھوڑی دیر ٹھہر کر منکرین حدیث کی اس جسارت پر غور کیجیے کہ وہ " نماز پڑھنے " کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نماز جو آج مسلمان پڑھ رہے ہیں یہ سرے سے وہ چیز ہی نہیں ہے جس کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ قرآن تو اقامت صلوٰۃ کا حکم دیتا ہے اور اس سے مراد نماز پڑھنا نہیں بلکہ " نظام ربوبیت " قائم کرنا ہے۔ اب ذرا ان سے پوچھیے کہ وہ کون سا نرالا نظام ربوبیت ہے جسے یا تو طلوع آفتاب سے پہلے قائم کیا جاسکتا ہے یا پھر زوال آفتاب کے بعد سے کچھ رات گزرنے تک ؟ اور وہ کون سا نظام ربوبیت ہے جو خاص جمعہ کے دن قائم کیا جانا مطلوب ہے ؟ اِذَا نُوْدِيَ للصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ (الجمعہ، آیت9) اور نظام ربوبیت کی آخر وہ کون سی خاص قسم ہے کہ اسے قائم کرنے کے لیے جب آدمی کھڑا ہو تو پہلے منہ اور کہنیوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں دھو لے اور سر پر مسح کرلے ورنہ وہ اسے قائم نہیں کرسکتا ؟ اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ  (المائدہ، آیت 6) اور نظام ربوبیت کے اندر آخر یہ کیا خصوصیت ہے کہ اگر آدمی حالت جنابت میں ہو تو جب تک وہ غسل نہ کرلے اسے قائم نہیں کرسکتا ؟ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا  (النساء، آیت 43) اور یہ کیا معاملہ ہے کہ اگر آدمی عورت کو چھو بیٹھا ہو اور پانی نہ ملے تو اس عجیب و غریب نظام ربوبیت کو قائم کرنے کے لیے اسے پاک مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے چہرے اور منہ پر ملنا ہوگا ؟ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ (المائدہ، آیت 6) اور یہ کیسا عجیب نظام ربوبیت ہے کہ اگر سفر پیش آجائے تو آدمی اسے پورا قائم کرنے کے بجائے آدھا ہی قائم کرلے ؟ وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ (النساء، آیت 101 ) پھر یہ کیا لطیفہ ہے کہ اگر جنگ کی حالت ہو تو فوج کے آدھے سپاہی ہتھیار لیے ہوئے امام کے پیچھے " نظام ربوبیت " قائم کرتے رہیں اور آدھے دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہیں، اس کے بعد جب پہلا گروہ امام کے پیچھے " نظام ربوبیت " قائم کرتے ہوئے ایک سجدہ کرلے تو وہ اٹھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے چلا جائے اور دوسرا گروہ اس کی جگہ آکر امام کے پیچھے اس " نظام ربوبیت " کو قائم کرنا شروع کردے وَاِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ مَّعَكَ وَلْيَاْخُذُوْٓا اَسْلِحَتَھُمْ ۣفَاِذَا سَجَدُوْا فَلْيَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَاۗىِٕكُمْ ۠ وَلْتَاْتِ طَاۗىِٕفَةٌ اُخْرٰى لَمْ يُصَلُّوْا فَلْيُصَلُّوْا مَعَكَ (النساء، آیت 102 ) قرآن مجید کی یہ ساری آیات صاف بتارہی ہیں کہ اقامت صلوۃ سے مراد وہی نماز قائم کرنا ہے جو مسلمان دنیا بھر میں پڑھ رہے ہیں، لیکن منکرین حدیث ہیں کہ خود بدلنے کے بجائے قرآن کو بدلنے پر اصرار کیے چلے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بالکل ہی بےباک نہ ہوجائے وہ اس کے کلام کے ساتھ یہ مذاق نہیں کرسکتا جو یہ حضرات کر رہے ہیں۔ یا پھر قرآن کے ساتھ یہ کھیل وہ شخص کھیل سکتا ہے جو اپنے دل میں اسے اللہ کا کلام نہ سمجھتا ہو اور محض دھوکا دینے کے لیے قرآن قرآن پکار کر مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہو۔ (اس سلسلہ میں آگے حاشیہ 50 بھی ملاحظۃ ہو) (تفہیم القرآن)

19۔یہاں سے آگے وہ دلائل بیان ہوئے ہیں جن سے توحید اور بعث و قیامت کا اثبات ہوتاہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)


تیسرا رکوع

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ ﴿20﴾ وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ ﴿21﴾ وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ ﴿22﴾ وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ﴿23﴾ وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ﴿24﴾ وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ ﴿25﴾ وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ ﴿26﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠   ۧ ۧ ﴿27ع الروم 30﴾
20. اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اُس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اب تم انسان ہوکر جا بجا پھیل رہے ہو۔ 21. اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ اُن کی طرف (مائل ہوکر) آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی۔ جو لوگ غور کرتے ہیں اُن کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔ 22. اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا۔ اہلِ دانش کے لیے ان (باتوں) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔ 23. اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے تمہارا رات اور دن میں سونا اور اُس کے فضل کا تلاش کرنا۔ جو لوگ سنتے ہیں اُن کے لیے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔ 24. اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ تم کو خوف اور اُمید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے مینھہ برساتا ہے۔ پھر زمین کو اس کے مر جانے کے بعد زندہ (و شاداب) کر دیتا ہے۔ عقل والوں کے لئے ان (باتوں) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔ 25. اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ تم کو زمین میں سے (نکلنے کے لئے) آواز دے گا تو تم جھٹ نکل پڑو گے۔ 26. اور آسمانوں اور زمین میں (جتنے فرشتے اور انسان وغیرہ ہیں) اسی کے (مملوک) ہیں (اور) تمام اس کے فرمانبردار ہیں۔ 27. اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے پھر اُسے دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور یہ اس کو بہت آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اس کی شان بہت بلند ہے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

تفسیر آیات

چھ آیات ِ قدرت۔

پہلی آیتِ قدرت: انسان کو مٹی سے پیداکرنا۔دوسری آیت قدرت: انسان ہی کی جنس سے سکون اور محبت و رحمت کےلئے عورتیں پیداکرنا۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ۔تیسری آیت قدرت: آسمان و زمین کی تخلیق اور انسانوں کے مختلف طبقات کی زبانیں ،لب و لہجہ اور رنگوں میں امتیاز۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ۔چوتھی آیت قدرت: رات اور دن میں انسان کا سونا اور تلاشِ معاش۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۔ پانچویں آیت قدرت: بجلی کا کوندنا(گرکر نقصان پہنچانے کا خطرہ بھی اور بارش کی امید بھی )۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ۔چھٹی آیت قدرت: آسمان و زمین کا قیام ،ان کی توڑ پھوڑ اور حشر کا برپاہونا۔)معارف القرآن(

سورۂ النحل (ر۔2) یہی انداز یعنی آیات ترجیع۔تمام سابقہ آیات کا ماحصل اور مقصد ۔اس لئے هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۔

22۔کائنات میں کثرت کے اندر و حدت مضمر ہے۔قوموں کی زبانیں الگ اور ناک نقشہ مختلف ہے۔ اس اختلاف و تنوع کے باوجود وہ مختلف خالقوں کی مخلوق نہیں بلکہ یہ سب اللہ ہی کی حیرت انگیز کاریگری کا کرشمہ ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ) 


چوتھا رکوع

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ﴿28﴾ بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ﴿29﴾ فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗ ۙ ﴿30﴾ مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ  ﴿31﴾ مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ ﴿32﴾ وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ  ﴿33﴾ لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ﴿34﴾ اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ ﴿35﴾ وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ ﴿36﴾ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ﴿37﴾ فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴿38﴾ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ ﴿39﴾ اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿40ع الروم 30﴾
28. وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ بھلا جن (لونڈی غلاموں) کے تم مالک ہو وہ اس (مال) میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے تمہارے شریک ہیں، اور (کیا) تم اس میں (اُن کو اپنے) برابر (مالک سمجھتے) ہو (اور کیا) تم اُن سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو، اسی طرح عقل والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ 29. مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا گمراہ کرے اُسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔ 30. تو تم ایک طرف کے ہوکر دین (خدا کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے جاؤ (اور) خدا کی فطرت کو جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو) خدا کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تغیر وتبدل نہیں ہو سکتا۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 31. (مومنو) اُسی (خدا) کی طرف رجوع کئے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور مشرکوں میں نہ ہونا۔ 32. (اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور (خود) فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے۔ 33. اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ اُن میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے۔ 34. تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اُس کی ناشکری کریں سو (خیر) فائدے اُٹھالو عنقریب تم کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا۔ 35. کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے کہ اُن کو خدا کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے۔ 36. اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر اُن کے عملوں کے سبب جو اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو نااُمید ہو کر رہ جاتے ہیں۔ 37. کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ 38. تو اہلِ قرابت اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دیتے رہو۔ جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں یہ اُن کے حق میں بہتر ہے۔ اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں۔ 39. اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰة دیتے ہو اور اُس سے خدا کی رضا مندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجبِ برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند سہ چند کرنے والے ہیں۔ 40. خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تمہیں مارے گا۔ پھر زندہ کرے گا۔ بھلا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کر سکے۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شریکوں سے بلند ہے۔

تفسیر آیات

28۔ ان کے اصل عقیدہ کا اظہار تلبیہ سے لبیک الھم لبیک ۔لاشریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وماملک۔ میں حاضر ہوں میرے اللہ میں حاضر ہوں۔تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس شریک کے جو تیرا اپنا ہے تو اس کا بھی مالک ہے اور جو کچھ اس کی ملکیت ہے اس کا بھی تو مالک ہے (طبرانی عن ابن عباسؓ)

ـــ  بعض کفار کی اس "لبیک"کو اور اس آیت کو پڑھ کر ہم اہل سنت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ تمہارا بھی یہی عقیدہ ہے جو کفار کا اپنے بتوں کے بارے میں تھا۔آیت کی اس سادہ توضیح کے بعد آپ خود فیصلہ فرمالیں کہ یہ لوگ یہ الزام لگانے میں کتنی زیادتی کرتے ہیں۔(کیا کوئی کلمہ گو کسی کو خواہ اس کا مرتبہ کتنا بلند اور اس کی شان کتنی ارفع ہوکیا کسی چیز میں کسی پہلو سے کسی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کا ہم پلہ خیال کرتاہے۔اور تو اور ہم تو اپنے آقا و مولیٰ ؐ کے متعلق بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضور محبوب رب العالمین،رحمۃ العالمین،شفیع المذنبین  سیدالاولین والآخرین ،صاحبِ مقام محمود ،حاملِ لواء الحمد ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔اشھد انّ محمداً عبدہ ورسولہ۔) (ضیاء القرآن)

30۔ یعنی فطرتِ سلیم پر قائم رہنا ہی سیدھا اور صحیح طریقہ ہے۔ (تفہیم القرآن)

ــــ  تمام انسانوں کی فطرت۔  اول یہ کہ فطرت سے مراد اسلام ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان اپنی فطرت اور جبلت کے اعتبار سے مسلمان پیدا کیا ہے۔اگر اس کو گردوپیش اور ماحول میں کوئی خراب کرنے والا خراب نہ کردے تو ہر پیدا ہونے والا بچہ مسلمان ہی ہوگا۔مگر عادۃً ہوتایہ ہے کہ ماں باپ اس کو بعض اوقات اسلام کے خلاف چیزیں سکھا دیتے ہیں،جس کے سبب وہ اسلام پر قائم نہیں رہتا ۔جیساکہ صحیحین کی ایک حدیث میں مذکور ہے۔قرطبی نے اسی قول کو جمہور سلف کا قول قراردیا ہے۔دوسرا قول یہ ہے کہ فطرت سے مراد استعداد ہے۔ یعنی تخلیق انسانی میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ہر انسان میں اپنے خالق کو پہچاننے اور اس کو ماننے کی صلاحیت و استعداد موجود ہے جس کا اثر اسلام کا قبول کرنا ہوتاہے،بشرطیکہ اس استعداد سے کام لے۔ مگر قول پر متعدد اشکالات ہیں، اول یہ کہ خو داسی آیت میں یہ بھی آگے مذکور ہے لاتبدیل لخلق اللہ اور یہاں خلق اللہ سے مراد وہی فطرۃ اللہ ہے  جس کا اوپر ذکر ہواہے  اس لئے معنی اس جملے کے یہ ہیں کہ اللہ کی اس فطرت کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا،حالانکہ حدیث صحیحین میں خود یہ آیاہے کہ پھر ماں باپ بعض اوقات بچے کو یہودی یا نصرانی بنادیتے ہیں۔۔۔۔دوسرے حضرت خضرؑنے جس لڑکے کو قتل کیا تھا اس کے متعلق صحیح حدیث میں ہے کہ اس لڑکے کی فطرت میں کفر تھا،اس لئے خضرؑ نے اس کو قتل کیا، یہ حدیث بھی اس کے منافی ہے کہ ہر انسان اسلام پر پیدا ہوتاہو۔۔۔۔۔تیسرا شبہ یہ ہے کہ اگر اسلام کوئی ایسی چیز ہے جو انسان کی فطرت میں اس طرح رکھ  دیا گیا ہے جس کی تبدیلی پر بھی اس کو قدرت نہیں تو وہ کوئی اختیاری فعل نہ ہوا پھر اس پر آخرت کا ثواب کیسا؟کیونکہ ثواب تو اختیاری عمل پر ملتاہے۔۔۔۔چوتھا شبہ یہ ہے کہ احادیث ِ صحیحہ کے مطابق فقہاء ِ امت کے نزدیک بچہ بالغ ہونے سے پہلے ماں باپ کے تابع سمجھا جاتاہے،اگر ماں باپ کافرہوں تو بچے کو بھی کافر قراردیا جائے گا۔اس کی تجہیز و تکفین اسلامی طرز پر نہیں کی جائے گی۔۔۔۔۔اور حضرات سلف سے جو پہلا قول منقول ہے بظاہر اس کی مراد بھی اصل اسلام نہیں، بلکہ یہی استعداد ِ اسلام اور اس کی قابلیت و صلاحیت ہے۔ محدث دھلویؒ نے لمعات شرح مشکوٰۃ میں جمہور کے قول کا یہی مطلب بیان فرمایا ہے۔اور اسی کی تائید اس مضمون سے ہوتی ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حجۃ اللہ البالغہ میں تحریر فرمایا ہے،۔۔۔۔شہد کی مکھی میں یہ مادّہ رکھ دیا کہ وہ درختوں اور پھولوں کو پہچانے اور انتخاب کرے پھر اس کے رس کو اپنے پیٹ میں محفوظ کرکے اپنے چھتّے میں لاکر جمع کرے، اسی طرح انسان کی فطرت جبلت میں ایسا مادّہ اور استعداد رکھ دی ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانے ،اس کی شکر گذاری اور اطاعت شعاری کرے، اسی کا نام اسلام ہے۔۔۔۔۔اس کو غلط ماحول کافرتوبناسکتاہے مگر اس کی استعدادِ قبولِ حق کو بالکل فنا نہیں کرسکتا۔۔۔۔اہل باطل کی صحبت اور غلط ماحول سے الگ رہنا فرض ہے:۔۔۔۔۔انسان کو ایسے اسباب سے بہت پرہیز کرنا چاہئے جو اس قبولِ حق کی استعداد کو معطل یا کمزور کردیں۔ اور وہ اسباب بیشتر غلط ماحول اور بُری صحبت ہے ،یا اہل باطل کی کتابیں دیکھنا جب کہ خود اپنے مذہب اسلام کا پورا عالم اور مبصّر نہ ہو۔(معارف القرآن)

32۔  یہ اشارہ ہے اس چیز کی طرف کہ نوع انسانی کا اصل دین وہی دین فطرت ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ یہ دین مشرکانہ مذاہب سے بتدریج ارتقاء کرتا ہوا توحید تک نہیں پہنچا ہے، جیسا کہ قیاس و گمان سے ایک فلسفہ مذہب گھڑ لینے والے حضرات سمجھتے ہیں، بلکہ اس کے برعکس یہ جتنے مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں یہ سب کے سب اس اصلی دین میں بگاڑ آنے سے رونما ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

34۔۔۔۔ اس کے بعد نہایت تند لہجہ میں مخاطب کرکے فرمایا کہ اچھا کچھ دن ہماری نعمتوں سے اپنی اس ناسپاسی و ناشکری کے باوجود، فائدہ اٹھا لو، عنقریب تمہاری اس حرکت کا خمیازہ تمہارے سامنے آنے والا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

38۔ انفاق فی سبیل اللہ ۔امیروں کا قرض اور غریبوں کا حق۔ آیت میں "حقه" کا لفظ بڑا غور طلب ہے یعنی اپنے غریب رشتہ داروں اور مسافروں اور دوسرے محتاج انسانوں کو جو کچھ تم دے رہے ہو وہ کوئی انعام نہیں کہ دے کر تم ان پر احسان جتلاتے پھرو اور ان کو ہر محفل میں رسواکرتے رہو۔ بلکہ یہ انکا حق ہے جو تمہارے ذمہ واجب الاداء ہے اور جو تمہیں ضرور اداکرنا چاہئے۔وہ تم سے بھیک نہیں مانگ رہے بلکہ اپنا حق لے رہے ہیں۔علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ آیت سے ثابت ہوتاہے کہ ہر غریب اور مفلس رشتہ دار کی ضروریات کی بہم رسانی اس کے متمول رشتہ دار پر فرض ہے ۔۔۔۔۔نیز یہاں مال زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم نہیں دیا جارہاہے بلکہ ان لوگوں کا زکوٰۃ کے علاوہ بھی متمول لوگوں کے اموال میں حق ہے۔۔۔۔۔مجاہداور قتادہ فرماتے ہیں،اللہ تعالیٰ نے صلہ رحمی کو فرض کیا ہے۔مجاہد نے تو یہاں تک فرمایا کہ اس آدمی کا صدقہ قبول نہیں ہوتاجس کا کوئی رشتہ دار محتاج ہو۔"(ضیاء القرآن)

ــــ فقہائے حنفیہ نے آیت سے استنباط کیا ہے کہ قریب کے حاجت مند عزیزوں کا نفقہ واجب ہے۔۔۔۔۔نظام معاشیات کو ان ضوابط الٰہی کے ماتحت چلانے والے انفرادی طورپر بھی فلاح یاب رہیں گے اور اجتماعی طور پر بھی۔دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔(تفسیر ماجدی)

39۔ یہاں سے سود کے متعلق صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا گیا ہے کہ یہ وہ چیز نہیں جس سے دولت کی افزائش ہوتی ہو بلکہ حقیقی افزائش زکوٰۃ سے ہوتی ہے ۔اس کے بعد سود در سود سے منع کیا گیا (آل عمران:130)اور سب سے آخر میں بجائےخود  سود ہی کی قطعی حرمت کا فیصلہ کردیاگیا (البقرۃ: 275) ۔۔۔۔۔اس سے بڑھوتری کےلئے کوئی حد مقرر نہیں ۔جتنی خالص نیت اور جتنے گہرے جذبۂ ایثار اور جس قدر شدید طلبِ رضا الٰہی کے ساتھ کوئی شخص راہِ خدا میں مال صرف کرے گا اسی قدر اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ سے زیادہ اجر دے گا ۔چنانچہ ایک صحیح حدیث میں آیا ہے کہ اگر ایک شخص راہِ خدا میں ایک کھجور بھی دے تو اللہ تعالیٰ اس کو بڑھا کر احد پہاڑ کے برابر کردیتاہے۔(تفہیم القرآن)

ــــ نوتہ کی رسم۔ پنجابی میں نیو ندرہ۔گھرداگھر اور وادھا۔ایسی مقامی رسومات میں اگر  واپسی کی بجائے صدقہ کی نیت ہو تو کار ثواب ہے۔ (معارف القرآن)

ــــ (اور پھر بڑھ کر اپنے ہی پاس واپس آجائے) ربًا۔ ربایہاں اپنے وسیع و عام لغوی معنی میں ہے۔۔۔۔یعنی دنیا میں بھی برکت انفرادی، اجتماعی، ہرحیثیت سے اسی مال سے حاصل ہوگی،اور آخرت میں بھی اجر کئی گنایہی مال دلائے گا۔۔۔یہی مال جو رضا ئے الٰہی کی نیت سے اداکیا گیا تھا،نہ کہ سودی کاروبار اور نمایشی داد دہش ،حالانکہ ظاہراً پُرمنفعت تمام تر وہی معلوم ہوتاہے۔(تفسیر ماجدی)

40۔(قیامت میں)یعنی ایجاد ،ابقا و فنا تینوں صفات کا مالک صرف وہی ہے،پیدا کرنے والا،پالنے والا، فنا کرنے والا، سب صرف وہی ایک ہے، الگ الگ اور تین تین ہستیاں نہیں، جیساکہ ہندومذہب کا عقیدہ ہے۔اور پھرقیامت میں اٹھانے کا وصف بھی اسی کے لئے مخصوص ہے۔یہ حقیقت بھی یہاں کھل کر بیان ہوگئی کہ(1)پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔۔۔قانونِ تخلیق کے سلسلے کی چھوٹی بڑی کڑیاں سب اسی کے ہاتھ میں ہیں۔(2)رزق دینے والا بھی وہی ہے۔۔۔۔معاشی خدا بھی وہی ہے،سلسلۂ رزاقیت کے سارے مرتبے اور مرحلے اسی کے بس میں ہیں۔(3)موت لانے والا بھی وہی ہے۔۔۔۔موت کے سارے اسباب و متعلقات کی کنجی اسی کے ہاتھ میں ہے۔(4)دوبارہ اٹھانے والا بھی وہی ہے۔۔۔۔الٰہ المعاد بھی وہی ہے، معاد آخرت میں بھی ساری حکومت اور سارے اختیارات اس کے ہیں۔(تفسیر ماجدی)


پانچواں رکوع

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ ﴿41﴾ قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ ﴿42﴾ فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ ﴿43﴾ مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ  ﴿44﴾ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ ﴿45﴾ وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ﴿46﴾ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿47﴾ اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ  ﴿48﴾ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ ﴿49﴾ فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴿50﴾ وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ ﴿51﴾ فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ﴿52﴾ وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿53ع الروم 30﴾
41. خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا اُن کو اُن کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے۔ عجب نہیں کہ وہ باز آ جائیں۔ 42. کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ (تم سے) پہلے ہوئے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے۔ 43. تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا، دین (کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو۔ اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے۔ 44. جس شخص نے کفر کیا تو اس کے کفر کا ضرر اُسی کو ہے اور جس نے نیک عمل کئے تو ایسے لوگ اپنے ہی لئے آرام گاہ درست کرتے ہیں۔ 45. جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کو خدا اپنے فضل سے بدلہ دے گا۔ بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔ 46. اور اُسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ اس کے فضل سے (روزی) طلب کرو۔ عجب نہیں کہ تم شکر کرو۔ 47. اور ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ اُن کے پاس نشانیاں لےکر آئے۔ سو جو لوگ نافرمانی کرتے تھے ہم نے اُن سے بدلہ لےکر چھوڑا اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی۔ 48. خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اُبھارتی ہیں۔ پھر خدا اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا اور تہ بتہ کر دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے مینھہ نکلنے لگتا ہے۔ پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اُسے برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں۔ 49. اور بیشتر تو وہ مینھہ کے اُترنے سے پہلے نااُمید ہو رہے تھے۔ 50. تو (اے دیکھنے والے) خدا کی رحمت کی نشانیوں کی طرف دیکھ کہ وہ کس طرح زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ بیشک وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 51. اور اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں کہ وہ (اس کے سبب) کھیتی کو دیکھیں (کہ) زرد (ہو گئی ہے) تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں۔ 52. تو تم مردوں کی (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں آواز سنا سکتے ہو۔ 53. اور نہ اندھوں کو اُن کی گمراہی سے (نکال کر) راہ راست پر لاسکتے ہو۔ تم تو انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں۔

تفسیر آیات

41۔یہ پھر اس جنگ کی طرف اشارہ ہے جو اس وقت روم و ایران کے درمیان برپا تھی جس کی آگ نے پورے شرق اوسط کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ " لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی " سے مراد وہ فسق و فجور اور ظلم و جور ہے جو شرک یا دہریت کا عقیدہ اختیار کرنے اور آخرت کو نظر انداز کردینے سے لازمًا انسانی اخلاق و کردار میں رونما ہوتا ہے۔ " شاید کہ وہ باز آئیں " کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت کی سزا سے پہلے اس دنیا میں انسانوں کو ان کے تمام اعمال کا نہیں، بلکہ بعض اعمال کا برا نتیجہ اس لیے دکھاتا ہے کہ وہ حقیقت کو سمجھیں اور اپنے تخیلات کی غلطی کو محسوس کر کے اس عقیدہ صالحہ کی طرف رجوع کریں جو انبیاء (علیہم السلام) ہمیشہ سے انسان کے سامنے پیش کرتے چلے آرہے ہیں، جس کو اختیار کرنے کے سوا انسانی اعمال کو صحیح بنیاد پر قائم کرنے کی کوئی دوسری صورت نہیں ہے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، التوبہ، آیت 126۔ الرعد آیت 31۔ السجدہ 21۔ الطور 47۔ (تفہیم القرآن) 

42۔ یعنی روم و ایران کی تباہ کن جنگ آج کوئی نیا حادثہ نہیں ہے۔ پچھلی تاریخ بڑی بڑی قوموں کی تباہی و بربادی کے ریکارڈ سے بھری ہوئی ہے۔ اور ان سب قوموں کو جن خرابیوں نے برباد کیا ان سب کی جڑ یہی شرک تھا جس سے باز آنے کے لیے آج تم سے کہا جارہا ہے۔  (تفہیم القرآن)

 ۔۔۔۔۔صاحب ْروح المعانی نے لکھا ہے کہ شر مقصود بالذات نہیں ہوتا، اس کی حیثیت نشتر کی ہے، یعنی جس طرح نشتر کا زخم مقصود بالذات نہیں ہوتا،مقصود و مطلوب تو صحت ہوتی ہے،نشتر تو اس کا محض ذریعہ ہوتاہے۔(روح، ج2/ص:115)(تفسیر ماجدی)

46۔ہواؤں کے فائدے:۔ قرآن میں جہاں بھی ارسال الریاح کے الفاظ مذکور ہوں (یعنی ریح کا لفظ جمع کے صیغہ میں ہو)تو اس سے مرادخوشگوار ہوائیں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔(تیسیر القرآن)

۔ یہ ایک اور قسم کی ہواؤں کا ذکر ہے جو جہاز رانی میں مددگار ہوتی ہیں۔ قدیم زمانہ کی بادبانی کشتیوں اور جہازوں کا سفر زیادہ تر باد موافق پر منحصر تھا اور باد مخالف ان کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ہوتی تھی۔ اس لیے بارش لانے والی ہواؤں کے بعد ان ہواؤں کا ذکر ایک نعمت خاص کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔۔۔۔۔ یعنی تجارت کے لیے سفر کرو۔ (تفہیم القرآن)

47۔ وہ روشن دلیلیں کیا تھیں؟ وہ اللہ کی کتاب تھی،رسولوں کی اپنی پاکیزہ سیرت تھی جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی نبوت کے ثبوت کے طورپر پیش کیا۔ پھر ان نبیوں نے ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جو احکامِ الٰہی کا چلتا پھرتا عملی نمونہ تھا۔اللہ کی کتاب میں  اللہ کی ہر سو بکھری ہوئی نشانیوں میں غور و فکر کی دعوت دی گئی تھی۔کتاب کی آیات کائنات کی آیات کی تائید کرتی تھیں اور کائناتی آیات کتاب کی آیات کی تائید کرتی تھیں۔یہ دونوں قسم کی نشانیاں ایک دوسری کی تائید و تصدیق کرتی تھیں۔پھر بھی لوگ اس نبی پر ایمان نہ لائے اور اکڑگئے۔الٹا ایمان لانے والوں پر ستم ڈھانا شروع کردئیے۔پھر جب ان کی سرکشی بڑھتی ہی گئی تو ہم نے ایمانداروں کو تو بچا لیا اور انہیں پچالینا ہی ہماری ذمہ داری بھی تھی۔ اور مجرم لوگوں کو تباہ کرڈالا۔(تیسیر القرآن)

ــــ فانتقمنا۔  بعض نافہموں نے"انتقام"حق کو اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی اور اس سے پست سمجھا ہے۔ یہ نتیجہ ہے تمام تر"انتقام"اور "کینہ پروری"کے درمیان خلط مبحث کردینے کا۔انتقام جس کے معنی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے ہیں،وہ تو قیام عدل کے لیے لازمی ہے، ورنہ پھر نظام عدل کو سرے سے خیرباد کہہ دیا جائے۔(تفسیر ماجدی)

48۔ بارش برسنے کے عمل میں اللہ کی قدرتیں اور حکمتیں:۔ اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی نشانیاں بیان فرمادیں مثلاً ہوا جو ایک کنکر کا بوجھ بھی برداشت نہیں کرسکتی اور کنکر زمین پر آپڑتاہے مگریہ ہوا آبی بخارات کو ایک کاغذ کے پرزے کی طرح اپنے دوش پر اٹھائے پھرتی ہیں۔وہ آبی بخارات جن میں کروڑوں ٹن پانی موجود ہوتاہے۔اور اس وزن کا اندازہ زمین کے اس رقبہ سے لگایا جاسکتاہے جس میں یہ بارش ہوئی اور جتنے انچ بارش ہوئی۔دوسری یہ کہ ان باربردار ہواؤں کا رخ طبعی طورپر متعین نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ جس طرف خود چاہے اسی طرف ہی موڑ دیتاہے اس لئے جہاں چاہتاہے وہیں بارش ہوتی ہے دوسرے علاقہ میں نہیں ہوتی۔تیسری یہ کہ جب یہ بادل کسی ایسے ٹھنڈے فضائی علاقے تک پہنچتے ہیں جو آبی بخارات کو پھر سے پانی میں منتقل کرسکیں تو وہاں بھی بادلوں کا سارا پانی یک لخت پانی بن کر زمین پر نہیں گر پڑتا، بلکہ قطرہ قطرہ بن کر گرتاہے ۔حتیٰ کے اگر برودت زیادہ ہو تو بھی وہ قطرے ہی اولے بن کر گرتے ہیں ۔یہ نہیں ہوتاکہ زیادہ سردی کی وجہ سے یک لخت سارا پانی بن کر ایک ہی دفعہ کسی جگہ گر پڑے ۔اور اس میں اللہ کی بہت سی حکمتیں ہیں۔(تیسیر القرآن)

ــ اس قسم کی جتنی بھی آیتیں قرآن مجید میں تکوینات سے متعلق ہیں، ان کے پہلو دو دو اور رخ دہرے ہیں: ایک رخ  تو رد الحاد کا ہے، یعنی یہ ساری مشین خود بہ خود چلتی نہیں رہتی ہے، بلکہ چھوٹے بڑے ہرتغیر ، ہر سکون اور ہر حرکت کی ڈور ایک فعال اور صاحب الارادہ کے ہاتھ میں ہے، جو اپنی حسبِ حکمت اسے گھماتاچلاتا رہتاہے ۔اور دوسرا رخ رد شرک کا ہے،یعنی ہر ہر صیغۂ موجودات کے حاکم و متصرف الگ الگ اور مستقل نہیں، ایک ہی حاکم ، مقتدر اعلیٰ سب کا ہے، وہی ایک ہے جو پانی سے بخارات اٹھاتاہے،اور چلاتاہے۔بادلوںکو کہیں کثیف و دبیز کہیں لطیف و خفیف رکھتاہے۔جب اور جہاں اور جتنا چاہتاہے پانی برساتاہے یا بارش کو روکے رہتاہے،اس ایک کے سوا کوئی دیوی دیوتااس نظام کائنات میں ذرہ بھر بھی مؤثر نہیں۔(تفسیر ماجدی)

50۔   یہاں جس انداز سے نبوت اور بارش کا ذکر یکے بعد دیگرے کیا گیا ہے اس میں ایک لطیف اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ نبی کی آمد بھی انسان کی اخلاقی زندگی کے لیے ویسی ہی رحمت ہے جیسی بارش کی آمد اس کی مادی زندگی کے لیے رحمت ثابت ہوتی ہے۔ (تفہیم القرآن)

53۔ اس سورہ کی آیات نمبر 52،53 اور سورۂ نمل کی آیات نمبر 80، 81 کے الفاظ تک آپس میں ملتے جلتے ہیں۔لہذا انہی آیا ت کے حواشی ملاحظہ فرمالئے جائیں۔(تیسیر القرآن)


چھٹا رکوع

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ ﴿54﴾ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ ﴿55﴾ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ﴿56﴾ فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ ﴿57﴾ وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ ﴿58﴾ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿59﴾ فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿60ع الروم 30﴾
54. خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے۔ 55. اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ اسی طرح وہ (رستے سے) اُلٹے جاتے تھے۔ 56. اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ خدا کی کتاب کے مطابق تم قیامت تک رہے ہو۔ اور یہ قیامت ہی کا دن ہے لیکن تم کو اس کا یقین ہی نہیں تھا۔ 57. تو اس روز ظالم لوگوں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ اُن سے توبہ قبول کی جائے گی۔ 58. اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے اور اگر تم اُن کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو یہ کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو۔ 59. اسی طرح خدا اُن لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے مہر لگا دیتا ہے۔ 60. پس تم صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور (دیکھو) جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں۔

تفسیر آیات

 اس کے برخلاف قبر کے سوال و جواب میں احادیث صحیحہ میں مذکور ہے کہ جب کافر سے پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے اور محمد مصطفیٰ ﷺ کون ہیں ؟ تو وہ کہے گا، ھاہ ھاہ لا ادری، یعنی ہائے ہائے میں کچھ نہیں جانتا۔  اگر وہاں جھوٹ بولنے کا اختیار ہوتا تو کیا مشکل تھا، کہہ دیتا کہ میرا رب اللہ ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ تو یہ ایک عجیب بات ہے کہ کافر لوگ اللہ کے سامنے تو جھوٹ بولنے پر قادر ہوں اور فرشتوں کے سامنے جھوٹ نہ بول سکیں۔ مگر غور کیا جائے تو کچھ تعجب کی بات نہیں وجہ یہ ہے کہ فرشتے نہ تو عالم الغیب ہیں نہ ان کو یہ اختیار ہے کہ ہاتھ پاؤں کی گواہی لے کر اس پر حجت تمام کردیں، اگر ان کے سامنے جھوٹ بولنے کا اختیار ہوتا تو سب کافر فاجر عذاب قبر سے بےفکر ہوجاتے، بخلاف اللہ جل شانہ کے کہ وہ دلوں کے حال سے بھی واقف ہیں اور اعضاء وجوارح کی شہادت سے اس کا جھوٹ کھول دینے پر قادر بھی ہیں۔ اس لئے محشر میں یہ آزادی دے دینا عدالتی انصاف میں کوئی خلل پیدا نہیں کرتا۔ واللہ اعلم۔ (معارف القرآن)