32 - سورة السجدہ (مکیہ)
| رکوع - 3 | آیات - 30 |
مضمون:قرآن خداوند عالم کی اتاری ہوئی کتاب ہے جو حق پر مبنی ہے۔حق کے تمام مکذبین کی طرح قریش بھی پامال ہوں گے۔وہ یادرکھیں کہ اس کے صابر بندے ہی غالب ہونے والے ہیں۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
شانِ نزول:چار سورتیں ،العنکبوت، الروم، لقمان اور السجدہ (ہجرت حبشہ سےقبل) سن 5 نبوی میں نازل ہوئیں۔ابتدائی دور کی وجہ سے اس میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی شدت نظر نہیں آتی۔یہ حضورؐ کی محبوب سورتوں میں سے ہے ۔آپؐ جمعہ کے روز نمازِ فجر میں سورۂ السجدہ اور سورۂ الد ھر کی تلاوت فرماتے ۔
نظمِ کلام:سورۂ فرقان
ترتیب مطالعۂ: (i)ر۔1(جسم و روح کی ہدایت اللہ کی جناب سے) (ii) ر۔2 /3(مجرموں اور فاسقوں کا انجامِ بد ، مومنوں پر انعام اور عاملین قرآن کےلئے غلبہ کی بشارت )
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الٓمّٓۚ ﴿1﴾ تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ ﴿2﴾ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ ﴿3﴾ اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ ﴿4﴾ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ﴿5﴾ ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ ﴿6﴾ الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ ﴿7﴾ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ ﴿8﴾ ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ ﴿9﴾ وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ ﴿10﴾ قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿11ع السجدة 32﴾ |
| 1. الٓمٓ۔ 2. اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے پروردگار کی طرف سے ہے۔ 3. کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو از خود بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ہدایت کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تاکہ یہ رستے پر چلیں،۔ 4. خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ اس کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا۔ کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے؟ 5. وہی آسمان سے زمین تک (کے) ہر کام کا انتظام کرتا ہے۔ پھر وہ ایک روز جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگی۔ اس کی طرف صعود (اور رجوع) کرے گا۔ 6. یہی تو پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا (اور) غالب اور رحم والا (خدا) ہے۔ 7. جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا (یعنی) اس کو پیدا کیا۔ اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔ 8. پھر اس کی نسل خلاصے سے (یعنی) حقیر پانی سے پیدا کی۔ 9. پھر اُس کو درست کیا پھر اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو۔ 10. اور کہنے لگے کہ جب ہم زمین میں ملیامیٹ ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے جانے ہی کے قائل نہیں۔ 11. کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ |
تفسیر آیات
2۔" لاریب فیہ من رب العلمین "۔۔۔۔۔ سابق سورة کی طرح اس سورة کی تمہید بھی بقرہ کی تمہید سے ملتی جلتی ہوئی ہے۔ (تدبرِ قرآن)
۔ ۔۔۔لیکن لاریب فیہ کا ایک ذراباریک پہلو بھی نکلتاہے کہ ریب و ارتیاب ،شک و اشتباہ،تردد و تذبذب کا اس کتاب کے اندر کہیں گزرنہیں،اس کے مضامین تو سرتا سر سرمایۂ تسکین و خزانۂ سکون ہیں، یقین و اطمینان اسی کتاب کے اندر ملے گا۔۔۔۔لاریب فیہ فقرے کا تعلق معاً مابعد کے فقرے من رب العالمین سے ہے، یعنی اس میں شک و شبہ نہیں کہ یہ تنزیل الٰہی ہے، نہ کہ شاعری یا ساحری یا کچھ اور۔(تفسیر ماجدی)
3۔ اوپر کے تمہیدی فقرے کے بعد مشرکین مکہ کے پہلے اعتراض کو لیا جا رہا ہے جو وہ محمد ﷺ کی رسالت پر کرتے تھے۔ (تفہیم القرآن)
۔عرب میں کون کون سے انبیاء مبعوث ہوئے؟:۔ عرب میں سیدنا ابراہیمؑ سے مدتوں پہلے سیدنا ہودؑ ،قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور صالحؑ قوم ثمود کی طرف ان کے بعد سیدنا ابراہیمؑ اور سیدنا اسماعیلؑ مبعوث ہوئے۔پھر ان کے بعد سیدنا شعیبؑ پیدا ہوئے۔باقی زیادہ تر انبیاءشام اور فلسطین کے علاقہ میں بھی مبعوث ہوتے رہے۔سیدنا شعیبؑ اور رسول اللہؐ کا درمیانی وقفہ دوہزار سال کے لگ بھگ ہے۔اورچونکہ یہ دوہزار سال کی مدت بھی ایک طویل مدت ہے جس میں بہت سے انبیاء عرب کی حدود سے باہر مبعوث ہوتے رہے اسی لئے فرمایا کہ اہل عرب کے پاس پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔(تیسیر القرآن)
۔۔۔۔ یہاں ایک اور سوال سامنے آجاتا ہے جس کو صاف کردینا ضروری ہے۔ اس آیت کو پڑھتے ہوئے آدمی کے ذہن میں یہ کھٹک پیدا ہوتی ہے کہ جب نبی ﷺ سے پہلے صدہا برس تک عربوں میں کوئی نبی نہیں آیا تو اس جاہلیت کے دور میں گزرے ہوئے لوگوں سے آخر باز پرس کس بنیاد پر ہوگی ؟ انہیں معلوم ہی کب تھا کہ ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیا ہے ؟ پھر اگر وہ گمراہ تھے تو اپنی اس گمراہی کے ذمہ دار وہ کیسے قرار دیے جاسکتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دین کا تفصیلی علم چاہے اس جاہلیت کے زمانہ میں لوگوں کے پاس نہ رہا ہو، مگر یہ بات اس زمانے میں بھی لوگوں سے پوشیدہ نہ تھی کہ اصل دین توحید ہے اور انبیاء (علیہم السلام) نے کبھی بت پرستی نہیں سکھائی ہے۔ یہ حقیقت ان روایات میں بھی محفوظ تھی جو عرب کے لوگوں کو اپنی سر زمین کے انبیاء سے پہنچی تھیں، اور اسے قریب کی سرزمین میں آئے ہوئے انبیاء حضرت موسیٰ ، حضرت داؤد، حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کی تعلیمات کے واسطے سے بھی وہ جانتے تھے۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
4۔ اب مشرکین کے دوسرے اعتراض کو لیا جاتا ہے جو وہ نبی ﷺ کی دعوت توحید پر کرتے تھے۔ ان کو اس بات پر سخت اعتراض تھا کہ نبی ﷺ ان کے دیوتاؤں، اور بزرگوں کی معبودیت سے انکار کرتے ہیں اور ہانکے پکارے یہ دعوت دیتے ہیں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود کوئی کار ساز، کوئی حاجت روا، کوئی دعائیں سننے والا، اور بگڑی بنانے والا، اور کوئی حاکم ذی اختیار نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ "اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ"کی تفسیر کے لئے سورہ اعراف آیت نمبر 54 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔(تیسیر القرآن)
5۔ یعنی آسمان سے لے کر زمین تک امور کی تدبیر وہی فرماتا ہے۔ یہ مشرکین کے اس گروہ کی تردید ہے جو اس وہم میں مبتلا تھا کہ زمین چونکہ اللہ تعالیٰ کی کائنات کا ایک دور دراز علاقہ ہے اس وجہ سے اس نے اپنی حکومت صرف آسمان تک محدود رکھی ہے، زمین کا انتظام اس نے اپنے دوسرے کارندوں کے حوالہ کردیا ہے۔ اسی گروہ کو مخاطب کرکے قرآن میں بعض جگہ یہ سوال آیا ہے کہ کیا زمین میں الگ خدا اور آسمان میں الگ خدا ہیں؟ کیسی بےعقلی کی باتیں کرتے ہو !۔۔۔۔۔ "ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ" یعنی تمام امور صادر بھی اسی کی طرف سے ہوتے ہیں اور پھر رجوع بھی اسی کی طرف ہوتے ہیں۔ ' یَعْرُجُ اِلَیْهِ ' یہاں (Refer) ہونے کے مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ احکام صادر کرکے پھر بےتعلق نہیں ہو بیٹھتا بلکہ ہر چیز اس کے سامنے پیش ہوتی رہتی ہے۔ (تدبرِ قرآن)
9۔ رُوْحِه۔ میں اضافت تشریفی ہے، اظہار تعظیم کے لیے ،جیسے بیت اللہ میں گھر کی اضافت اللہ کی طرف۔یہ مراد نہیں کہ اللہ کی بھی کوئی روح ہے، اور اس کا کوئی جز انسان کے اندر پھونک دیا گیا، مراد صرف یہ ہے کہ وہ روح جسے اللہ نے معزز و مکرم بنایا ہے اپنی خلافت سے۔۔۔۔(تفسیر ماجدی)
۔ روح سے مراد محض وہ زندگی نہیں ہے جس کی بدولت ایک ذی حیات جسم کی مشین متحرک ہوتی ہے، بلکہ اس سے مراد وہ خاص جوہر ہے جو فکر و شعور اور عقل وتمیز اور فیصلہ و اختیار کا حامل ہوتا ہے، جس کی بدولت انسان تمام دوسری مخلوقات ارضی سے ممتاز ایک صاحب شخصیت ہستی، صاحب انا ہستی، اور حامل خلافت ہستی بنتا ہے۔ اس روح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح یا تو اس معنی میں فرمایا ہے کہ وہ اسی کی ملک ہے اور اس کی ذات پاک کی طرف اس کا انتساب اسی طرح کا ہے جس طرح ایک چیز اپنے مالک کی طرف منسوب ہو کر اس کی چیز کہلاتی ہے۔ یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر علم، فکر، شعور، ارادہ، فیصلہ، اختیار اور ایسے ہی دوسرے جو اوصاف پیدا ہوئے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی صفات کے پر تو ہیں۔ ان کا سر چشمہ مادے کی کوئی ترکیب نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اللہ کے علم سے اس کو علم ملا ہے، اللہ کی حکمت سے اس کو دانائی ملی ہے، اللہ کے اختیار سے اس کو اختیار ملا ہے۔ یہ اوصاف کسی بےعلم، بےدانش اور بےاختیار ماخذ سے انسان کے اندر نہیں آئے ہیں۔ (مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوّم،الحجر، حواشی 17-19)ْ۔۔۔۔۔ یہ ایک لطیف انداز بیان ہے۔ روح پھونکنے سے پہلے انسان کا سارا ذکر صیغۂ غائب میں کیا جاتا رہا۔ " اس کی تخلیق کی "، " اس کی نسل چلائی "، " اس کو نِک سک سے درست کیا "، " اس کے اندر روح پھونکی "۔ اس لیے اس وقت تک وہ خطاب کے لائق نہ تھا۔ پھر جب روح پھونک دی گئی تو اب اس سے فرمایا جا رہا ہے کہ " تم کو کان دیے "، " تم کو آنکھیں دیں "، " تم کو دل دیے " اس لیے کہ حامل روح ہوجانے کے بعد ہی وہ اس قابل ہوا کہ اسے مخاطب کیا جائے۔ کان اور آنکھوں سے مراد وہ ذرائع ہیں جن سے انسان علم حاصل کرتا ہے۔ اگرچہ حصول علم کے ذرائع ذائقہ اور لامسہ اور شامہ بھی ہیں، لیکن سماعت و بینائی تمام دوسرے حواس سے زیادہ بڑے اور اہم ذرائع ہیں، اس لیے قرآن جگہ جگہ انہی دو کو خدا کے نمایاں عطیوں کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد " دل " سے مراد وہ ذہن (Mind) ہے جو حواس کے ذریعہ سے حاصل شدہ معلومات کو مرتب کر کے ان سے نتائج نکالتا ہے اور عمل کی مختلف امکانی راہوں میں سے کوئی ایک راہ منتخب کرتا اور اس پر چلنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔۔۔آرٹ کی اصطلاح میں جس چیز کو تکمیلی یا اتمامی عمل (Finishing Touch) کہتے ہیں ٹھیک وہی مفہوم تسویۃ کا ہے۔۔۔۔۔’ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ‘ میں روح سے مراد وہ روح ہے جس کو ہم روح ملکوتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ انسان کے اندر حیوانی روح کے ساتھ ایک نوریز دانی (Divine Spark) بھی ہے اور اسی نور کے فیض سے انسان کے سمع و بصر اور فواد میں وہ روشنی پیدا ہوئی ہے جس سے اس کو اشرف المخلوقات کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ اگر اس روشنی سے وہ محروم ہوجائے تو پھر اس کا باطن بھی اسی طرح تیرہ و تار ہے جس طرح حیوانات کا ہے۔ کان، آنکھ اور دل حیوانات کے پاس بھی ہیں لیکن وہ نور یزدانی سے محروم ہیں اس وجہ سے ان کے کانوں، آنکھوں اور دلوں میں وہ صلاحیت نہیں ہے جو انسان کے سمع و بصر اور دل میں ہے۔ اگر انسان اپنے آپ کو اس نور سے محروم کرلے تو پھر وہ بھی ایک حیوان ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس نور کو باقی رکھنا اور اس کو بڑھانا یا گھٹانا انسان کے اپنے اختیار پر منحصر ہے۔ جو لوگ اس کی قدر کرتے اور اس کے حقوق ادا کرتے ہیں وہ اس میں اضافہ کرتے ہیں اور ان کے اندر یہ قوی سے قوی تر ہوتا جاتا ہے اور جو لوگ اس کی قدر نہیں کرتے ان کے اندر یہ ضعیف ہوتے ہوتے بالکل ہی بجھ جاتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
۔۔فرمایا ہے کہ یہ انسان جو آج اپنی قابلیتوں پر اتنا نازاں ہے اس کی تخلیق کا آغاز خدائے حکیم و قدیر نے کسی بڑے قیمتی جوہر سے نہیں بلکہ مٹی سے کیا۔ دوسرے مرحلہ میں مٹی کی بجائے اس کی نسل کے چلنے کا ذریعہ حقیر و ناپاک پانی بنا۔تیسرے مرحلہ میں خدانے انسان کے نوک پلک سنوارے اور اس کے اندر ایک نوریزدانی ڈالا۔ تب اس کے اندر سمع و بصر اور دل کی وہ صلاحیتیں نمودار ہوئیں جن کے باعث یہ اشرف المخلوقات ٹھہرا۔معلوم ہوا کہ روح کے پھونکے جانے سے پہلے انسان پر ایک دورایسا بھی گزراہے جب یہ حیوانات کی طرح ناتراشیدہ اور بصیرت و ادراک سے محروم تھا۔(قابل تحقیق)(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
10۔ رسالت اور توحید پر کفار کے اعتراضات کا جواب دینے کے بعد اب اسلام کے تیسرے بنیادی عقیدے یعنی آخرت پر ان کے اعتراض کو لے کر اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ آیت میں وَقَالُوْا کا واؤ عطف مضمون ماسبق سے اس پیراگراف کا تعلق جوڑتا ہے۔ گویا ترتیب کلام یوں ہے کہ " وہ کہتے ہیں محمد ﷺ اللہ کے رسول نہیں ہیں "، اور " وہ کہتے ہیں کہ ہم مر کر دوبارہ نہ اٹھیں گے "۔ (تفہیم القرآن)
11۔۔۔۔واضح رہے کہ یہاں روح سے مراد روح حیوانی نہیں ہے جو ہر ذی حیات کو متحرک کرنے کا سبب ہوتی ہے بلکہ یہاں روح سے مراد روح نفسانی ہے۔جس کی بناپر انسان دوسرے تمام حیوانات سے ممتاز ہوا ۔اسے عقل و شعور بخشا گیا اور ارادہ و اختیار دے کر خلافتِ ارضی کا حامل بنایا گیا۔(تیسیر القرآن)
۔ یعنی تمہارا " ہم " مٹی میں رَل مِل نہ جائے گا، بلکہ اس کی مہلت عمل ختم ہوتے ہی خدا کا فرشتہ موت آئے گا اور اسے جسم سے نکال کر سَمُوچا اپنے قبضے میں لے لے گا۔ اس کا کوئی ادنیٰ جز بھی جسم کے ساتھ مٹی میں نہ جاسکے گا۔ اور وہ پورا کا پورا حراست (Custody) میں لے لیا جائے گا اور اپنے رب کے حضور پیش کردیا جائے گا۔۔۔۔۔ یہ انا دنیا میں کام کر کے جیسی کچھ شخصیت بھی بنتی ہے وہ پوری جوں کی توں (Intact) نکال لی جاتی ہے بغیر اس کے کہ اس کے اوصاف میں کوئی کمی بیشی ہو۔ اور وہی چیز موت کے بعد اپنے رب کی طرف پلٹائی جاتی ہے۔ اسی کو آخرت میں نیا جنم اور نیا جسم دیا جائے گا اسی پر مقدمہ قائم کیا جائے گا ‘ اسی سے حساب لیا جائے گا اور اسی کو جزا و سزا دیکھنی ہوگی۔ (تفہیم القرآن)
دوسرا رکوع |
| وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ ﴿12﴾ وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ﴿13﴾ فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿14﴾ اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ ۞ ﴿15﴾ تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ ﴿16﴾ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿17﴾ اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ ﴿18﴾ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿19﴾ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ ﴿20﴾ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ ﴿21﴾ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿22ع السجدة 32﴾ |
| 12. اور تم (تعجب کرو) جب دیکھو کہ گنہگار اپنے پروردگار کے سامنے سرجھکائے ہوں گے (اور کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے کہ نیک عمل کریں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں۔ 13. اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے۔ لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھردوں گا۔ 14. سو (اب آگ کے) مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اُس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا (آج) ہم بھی تمہیں بھلا دیں گے اور جو کام تم کرتے تھے اُن کی سزا میں ہمیشہ کے عذاب کے مزے چکھتے رہو۔ 15. ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب اُن کو اُن سے نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گرپڑتے اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور غرور نہیں کرتے۔ 16. اُن کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُمید سے پکارتے اور جو (مال) ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ 17. کوئی متنفس نہیں جانتا کہ اُن کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ یہ ان اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے۔ 18. بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ 19. جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اُن کے (رہنے کے) لئے باغ ہیں۔ یہ مہمانی اُن کاموں کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے۔ 20. اور جنہوں نے نافرمانی کی اُن کے رہنے کے لئے دوزخ ہے جب چاہیں گے کہ اس میں سے نکل جائیں تو اس میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ اور اُن سے کہا جائے گا کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو۔ 21. اور ہم اُن کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے سوا عذاب دنیا کا بھی مزہ چکھائیں گے۔ شاید (ہماری طرف) لوٹ آئیں۔ 22. اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ اُن سے منہ پھیر لے۔ ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں۔ |
تفسیر آیات
12۔ اب اس حالت کا نقشہ پیش کیا جاتا ہے جب اپنے رب کی طرف پلٹ کر یہ انسانی " اَنا " اپنا حساب دینے کے لئے اس کے حضور کھڑی ہوگی۔ (تفہیم القرآن)
۔ آیت مذکورہ میں اسی کا بیان ہے اور اس میں ملک الموت بلفظ مفرد ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد عزرائیل ؑ ہیں۔ اور ایک دوسری آیت میں فرمایا ہے (آیت) الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ۔ اس میں ملائکہ بلفظ جمع لایا گیا ہے، اس میں اشارہ ہے کہ عزرائیل ؑ تنہا یہ کام انجام نہیں دیتے، ان کے ماتحت بہت سے فرشتے اس میں شریک ہوتے ہیں۔ (معارف القرآن)
16۔ اس آیت میں دوچیزوں کا ذکر آیا ہے ۔ایک نماز ،دوسری انفاق ایمان کے بعد یہی دو چیزیں اس کے اولین مظاہر کی حیثیت رکھتی ہیں اور پھر انہی دو پر پورے دین کی عمارت کھڑی ہے۔(تدبر قرآن)
ـــ عشا اور فجر کی نمازیں جماعت کے ساتھ ۔ان دونوں نمازوں کے درمیان( اور مغرب و عشا کی نمازوں کے درمیان)نوافل پڑھنے والوں کے بارے میں ۔نماز تہجد پڑھنے والوں کےلئے ۔حضرت ابن عباس نے اس آیت کے متعلق فرمایا کہ جو لوگ جب آنکھ کھلے اللہ کا ذکر کریں ،لیٹے، بیٹھے اور کروٹ پر بھی ، وہ اس میں داخل ہیں۔ ایسے لوگوں سے قیامت کے دن حساب نہیں لیا جائے گا۔(معارف القرآن)
- اس کی تفسیر میں حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی حدیث ہے، نبی کریمؐ نے ان سے فرمایا :"کیا میں تمہیں نیکی کے دروازے نہ بتاؤں؟ (اور وہ یہ ہیں:)1۔روزہ :دوزخ کے خلاف ڈھال ہے۔2۔ صدقہ: گناہوں کو اس طرح مٹاتاہے جیسے پانی آگ کو بجھادیتا ہے۔3۔"اللہ کے بندے کا رات کے آخری تہائی حصے میں نماز پڑھنا۔"پھرآپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :"ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں۔"(جامع ترمذی،الایمان،باب ماجآءفی حرمۃ الصلاۃ،حدیث:2616)و تفسیر قرطبی:14/100)گویا کروٹوں کا بستر وں سے الگ رہنے کا مطلب، رات کی تنہائی میں نرم گرم بستر چھوڑ کر قیام اللیل یعنی اللہ کی عبادت کرنا ہے۔(احسن الکلام)
ـــ ۔۔۔اگرچہ اس آیت سے معلوم یہی ہوتاہے کہ اس آیت میں بستروں سے الگ رہنے اور اللہ کو پکارنے سے مراد نمازِ تہجد ہے۔جس کی احادیث میں بہت فضیلت مذکور ہے۔تاہم بعض علماء نے اس سے صبح کی نماز مراد لی ہے۔بعض نے عشاء کی اور بعض نے نماز مغر ب اور عشاء کے درمیان نوافل کی۔تاہم راجح بات وہی معلوم ہوتی ہے جو اولاً مذکور ہوئی۔(تیسیر القرآن)
17۔ بخاری، مسلم، ترمذی اور مسند احمد میں متعدد طریقوں سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ فراہم کر رکھا ہے جسے نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کبھی کسی کان نے سنا، نہ کوئی انسان کبھی اس کا تصور کرسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
18۔ یہاں مومن اور فاسق کی دو متقابل اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں۔ مومن سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب واحد مان کر اس قانون کی اطاعت اختیار کرلے جو اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے بھیجا ہے۔ اس کے برعکس فاسق وہ ہے جو فسق (خروج از طاعت، یا با الفاظ دیگر بغاوت، خود مختاری اور اطاعت غیر اللہ) کا رویہ اختیار کرے۔ (تفہیم القرآن)
20۔بڑے عذاب سے مراد قیامت کے دن جہنم کا عذاب ہے اور عذاب الادنیٰ سے مراد دنیا میں پہنچنے والے مصائب ہیں جو انفرادی طورپر بھی ہر انسان کو دیکھنا پڑتے ہیں۔مثلاً بیماریاں ، مالی نقصان، عزیز و اقرباء کی موت یا کوئی دوسرے حادثے اور اجتماعی زندگی کے مصائب الگ نوعیت کے ہوتے ہیں۔مثلاًقحط،زلزلے،وبا،فسادات اور لڑائیاں جن سے بیک وقت ہزاروں انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔یہ اللہ کی طرف سے ہلکے ہلکے عذاب ہی نہیں بلکہ تنبیہات بھی ہیں کہ وہ بروقت سنبھل جائیں اور انہیں معلوم ہوجائے کہ ان سے بالاتر کوئی ہستی موجود ہے جو ان کی بداعمالیوں پر ان پر گرفت کرسکتی ہے۔اور اس سے انہیں اپنا عقیدہ اور عمل درست کرنے میں مددملے۔اس طرح شاید وہ بداعمالیوں سے اور آخرت میں ان کے برے انجام سے بچ جائیں۔(تیسیر القرآن)
21۔ " عذاب اکبر " سے مراد آخرت کا عذاب ہے جو کفر و فسق کی پاداش میں دیا جائے گا۔ اس کے مقابلہ میں " عذاب ادنیٰ " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد وہ تکلیفیں ہیں جو اسی دنیا میں انسان کو پہنچتی ہیں۔ (تفہیم القرآن)
22۔اللہ کی آیات کی پانچ اقسام:۔ یعنی قیامت کا دن دراصل مجرمین سے بدلہ لینے کا دن ہے۔ اس دن کوئی بھی مجرم اپنے جرم کی سزا سے بچ نہیں سکے گا۔ اور جو شخص اپنے کبر و نخوت کی بناپر اللہ کی آیات سننا اور ان سے سبق حاصل کرنا گوارانہیں کرتا بلکہ پہلے سے ہی منہ موڑ کر چل دیتاہے وہ تو سب سے بڑھ کر ظالم ہے۔وہ بھلا اس دن انتقام سے کیسے بچ سکے گا؟واضح رہے کہ اللہ کی آیات کی بہت سی اقسام ہیں۔ مثلاً ایک تو وہ آیات ہیں جو کائنات میں ہرسوبکھری ہوئی ہیں۔جنہیں ہم آفاقی نشانیاں کہہ سکتے ہیں اور ان میں سورج ،چاند، ستارے،گردش لیل و نہار۔ زمین کی قوت روئیدگی۔ہواؤں اور بارشوں کا نظام وغیرہ وغیرہ امور شامل ہیں۔ دوسری قسم وہ آیات ہیں جو انسان کے اندر کی دنیا سے تعلق رکھتی ہیں۔ انسان کی تخلیق،جسم کی ساخت،اعضاء کا خود کار نظام، اور محیر العقول قوتیں جو اللہ نے انسان کے اندر رکھ دی ہیں۔اسی جسم میں بعض ایسے داعیے بھی موجود ہیں جو انسان کے تحت الشعور میں ہوتے ہیں۔ لیکن وقت پڑنے پر فوراً جاگ اٹھتے ہیں۔ جیسے جب موت سامنے کھڑی نظر آئے تو مشرکین کیا دہریے تک اللہ کو پکارنے لگتے ہیں۔اس قسم کو قرآن آیاتِ انفس کا نام دیتاہے تیسری قسم وہ تاریخی واقعات ہیں جن سے ہمیشہ ایک ہی نتیجہ برآمد ہوتاہے اور وہ یہ ہے کہ جس قوم نےبھی اللہ کے مقابلہ میں سرکشی کی راہ اختیار کی اور اس کے رسول اور آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے اسے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ اس قسم کو شرعی اصطلاح میں تذکیر بایام اللہ کہا جاتاہے۔اور یہ اصطلاح قرآن ہی کے الفاظ "وذکرھم بایام اللہ"سے ماخوذ ہے اور چوتھی قسم وہ نشانیاں ہیں جو مصائب کی شکل میں تنبیہ کے طورپر انفرادی طورپربھی اور اجتماعی طورپر انسانوں پربصورت عذاب ادنیٰ نازل کی جاتی ہیں۔اور جن کا ذکر سابقہ آیت میں ہواہے۔اور پانچویں قسم اللہ تعالیٰ کی وہ آیات ہیں جو اس نے انسانوں کی ہدایت کے لئے اپنے انبیاء پر وقتاً فوقتاً نازل کیں۔ان آیات میں دراصل انسان پر سابقہ چاروں قسم کی آیات کو غورو فکر کے لئے پیش کیا جاتارہاہے۔اور عقلی اور عام فہم دلائل کے ساتھ پیش کیا جاتاہے۔(تیسیر القرآن)
تیسرا رکوع |
| وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ ﴿23﴾ وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ ﴿24﴾ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ ﴿25﴾ اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ ﴿26﴾ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ ﴿27﴾ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿28﴾ قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ ﴿29﴾ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿30ع السجدة 32﴾ |
| 23. اور ہم نے موسٰی کو کتاب دی تو تم اُن کے ملنے سے شک میں نہ ہونا اور ہم نے اس (کتاب) کو (یا موسٰی کو) بنی اسرائیل کے لئے (ذریعہ) ہدایت بنایا۔ 24. اور ان میں سے ہم نے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے۔ جب وہ صبر کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔ 25. بلاشبہ تمہارا پروردگار ان میں جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے، قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا۔ 26. کیا اُن کو اس (امر) سے ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے اُن سے پہلے بہت سی اُمتوں کو جن کے مقامات سکونت میں یہ چلتے پھرتے ہیں ہلاک کر دیا۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں۔ تو یہ سنتے کیوں نہیں۔ 27. کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی (کھاتے ہیں) تو یہ دیکھتے کیوں نہیں۔ 28. اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا؟ 29. کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ اُن کو مہلت دی جائے گی۔ 30. تو اُن سے منہ پھیر لو اور انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔ |
تفسیر آیات
23۔ بعض علماء نے اس آیت لِقَآىٕهٖ میں ہ کی ضمیر کو موسیٰؑ کی طرف راجع سمجھا ہے اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ آپؐ کی موسیٰؑ سے اسی دنیا کی زندگی میں ضرور ملاقات ہوگی اور آپ کو اس ملاقات کے بارے میں شک نہ رہنا چاہئے کہ آپ کی سیدنا موسیٰؑ سے یہ ملاقات معراج کے موقعہ پر چھٹے آسمان پر ہوئی تھی۔(تیسیر القرآن)
24۔ ۔۔۔اس سے معلوم ہوا کہ قیادت و امامت کتاب الٰہی کے لازمی ثمرات میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ جس قوم کو اپنی کتاب سے سرفراز فرماتا ہے وہ جب تک اس کتاب پر قائم رہتی ہے اس کو قوموں کی امامت حاصل رہتی ہے اور اس کے دشمن اس کے آگے ذلیل و پامال ہوتے ہیں۔۔(تدبرِ قرآن)
27۔ سیاق وسباق کو نگاہ میں رکھنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں یہ ذکر حیات بعدالموت پر استدلال کرنے کے لیے نہیں کیا گیا ہے، جیسا کہ قرآن میں بالعموم ہوتا ہے، بلکہ اس سلسلۂ کلام میں یہ بات ایک اور ہی مقصد کے لیے فرمائی گئی ہے۔ اس میں دراصل ایک لطیف اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس طرح ایک بنجر پڑی ہوئی زمین کو دیکھ کر آدمی یہ گمان نہیں کرسکتا کہ یہ بھی کبھی لہلہاتی کشت زار بن جائے گی، مگر خدا کی بھیجی ہوئی برسات کا ایک ہی ریلا اس کا رنگ بدل دیتا ہے، اسی طرح یہ دعوت اسلام بھی اس وقت تم کو ایک نہ چلنے والی چیز نظر آتی ہے، لیکن خدا کی قدرت کا ایک ہی کرشمہ اس کو وہ فروغ دے گا کہ تم دنگ رہ جاؤ گے۔ (تفہیم القرآن)