33 - سورة الأحزاب (مدنیہ)

رکوع - 9 آیات - 73

مضمون: قرآن کے ساتھ وابستگی کا تقاضا سچا اور پکا کردار ہے ۔اس عظیم ذمہ داری کے حقوق و فرائض کی یاد دہانی اور منافقین کی ریشہ دوانیوں کے سدباب کے لیے ہدایات۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: مسلمانوں کو امانت کی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ،کفر ومنافقت چھوڑ کر، اخلاص کے ساتھ ،اسلام کے عائلی ،معاشرتی ، سماجی،عسکری، سیاسی اور دیگر اجتماعی احکام پر عمل کرنا چاہئے ۔

شانِ نزول: سورۃ الاحزاب ،غزوۂ احزاب (شوال 5 ہجری)کے بعد ذوالقعدہ 5ہجری میں نازل ہوئی ۔ایک سال بعد سورۂ نور نازل ہوئی ۔اگرچہ کتابی اعتبار سے الاحزاب بعد میں اور سورۂ نور پہلے ہے۔

نظمِ کلام:سورۂ فرقان

ترتیب مطالعۂ:(i)ر۔1( لے پالک یا متبنی کا درجہ اورحضوؐر کے حقوق ) (ii)  ر۔2/3(غزوۂ احزاب اور اسوۂ حسنہ) (iii) ر۔4(ازواج النبیؐ کو احکام) (iv) ر۔5تا 7(حضورؐ کی کامل اطاعت ،آپکے درجات اور آپؐ پر درود و سلام اور نکاحِ زینبؓ) (v) ر۔8(منافقین کا حال اور قیام قیامت) (vi)  ر۔  9(بارِ امانت)


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِْ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ ﴿1﴾ وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ ﴿2﴾ وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا ﴿3﴾ مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ ﴿4﴾ اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ﴿5﴾ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا ﴿6﴾ وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ ﴿7﴾ لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ ۧ ۧ ﴿8ع الأحزاب 33﴾
1. اے پیغمبر خدا سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا۔ بےشک خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ 2. اور جو (کتاب) تم کو تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اُسی کی پیروی کئے جانا۔ بےشک خدا تمہارے سب عملوں سے خبردار ہے۔ 3. اور خدا پر بھروسہ رکھنا۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے۔ 4. خدا نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے۔ اور نہ تمہاری عورتوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمہاری ماں بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا۔ یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں۔ اور خدا تو سچی بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا رستہ دکھاتا ہے۔ 5. مومنو! لےپالکوں کو اُن کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ کہ خدا کے نزدیک یہی بات درست ہے۔ اگر تم کو اُن کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں۔ لیکن جو قصد دلی سے کرو (اس پر مواخذہ ہے) اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 6. پیغمبر مومنوں پر اُن کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔ اور رشتہ دار آپس میں کتاب الله کے رُو سے مسلمانوں اور مہاجروں سے ایک دوسرے (کے ترکے) کے زیادہ حقدار ہیں۔ مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔ (تو اور بات ہے) ۔ یہ حکم کتاب یعنی (قرآن) میں لکھ دیا گیا ہے۔ 7. اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا اور تم سے نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے۔ اور عہد بھی اُن سے پکّا لیا۔ 8. تاکہ سچ کہنے والوں سے اُن کی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

تفسیر آیات

1۔  جیسا کہ ہم اس سورة کے دیباچے میں بیان کرچکے ہیں، یہ آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب حضرت زید ؓ حضرت زینب ؓ کو طلاق دے چکے تھے۔ اس وقت نبی ﷺ خود بھی یہ محسوس فرماتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی یہی تھا کہ منہ بولے رشتوں کے معاملہ میں جاہلیت کے رسوم و اوہام پر ضرب لگانے کا یہ ٹھیک موقع ہے، اب آپ کو  خود آگے بڑھ کر اپنے منہ بولے بیٹے (زید ؓ )کی مطلقہ سے نکاح کرلینا چاہیے تاکہ یہ رسم قطعی طور پر ٹوٹ جائے۔ (تفہیم القرآن)

4۔یہاں ظہار کا ابتدائی حکم ہے۔ اس کا قانون سورۂ مجادلہ میں آیا ہے۔(تفہیم القرآن)

- اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو یوں کہتا :انت علی کظہر امی(تو مجھ پر اس طرح ہے جس طرح میری ماں کی پشت)  ان الفاظ کو طلاق شمار کیا جاتا۔(ضیاء القرآن)

-جہالت میں ظہار سے طلاق مغلظ واقع ہو جاتی ۔ مراجعت کی کوئی شکل نہیں رہ جاتی ۔اسلام میں طلاق کا یہ طریقہ ختم کر دیا گیا۔ اگر کسی نے ایسا کیا ہو تو وہ ایک غلام آزاد کرے ،دوماہ کے روزے رکھے  یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔(تدبر قرآن)

- ظہار اور متبنٰی کا بیان ۔ جس طرح ایک آدمی کے سینے میں دودل نہیں ایسے ہی ایک شخص کی حقیقتاً دومائیں (ظہار ) یا  ایک بیٹے کے دو باپ  (متبنٰی ) نہیں ہوتے۔ متبنٰی کو اصل نام سے پکارو۔زید بن محمدؐ سے زید بن حارثہ۔(تفسیر عثمانی)

 اگر ان کے باپوں کا پتہ نہ ہو تو ان کی حیثیت دینی بھائیوں اور موالی کی ہوگی۔ دینی اخوت کے رشتہ سے تو عربوں کو اول اول اسلام نے آشنا کیا، جاہلیت میں عرب اس سے بالکل ناآشنا تھے، لیکن خاندانوں اور قبیلوں کے ساتھ وابستہ ہونے کا ایک طریقہ حلف اور ولا کا ان کے ہاں موجود تھا۔ خاندانِ یا قبیلہ سے باہر کا کوئی شخص اگر کسی خاندان یا قبیلہ میں شامل ہونا چاہتا اور اس خاندان والے اس کو شامل کرلیتے تو وہ اس خاندان کا مولیٰ، سمجھا جاتا اور جملہ حقوق اور ذمہ داریوں میں شریک خاندان و قبیلہ بن جاتا۔ اگر وہ قتل ہوجاتا تو جس خاندان یا قبیلہ کا وہ مولیٰ ہوتا اس کو یہ حق حاصل ہوتا کہ وہ اس کے قصاص کا مطالبہ کرے۔ (تدبرِ قرآن)

ـــــ  سلمان فارسیؓ اور صہیب رومیؓ: ۔ جیسے سیدنا سلمان فارسیؓ کے باپ کا علم خود انہیں بھی نہیں تھا۔بچپن میں ہی انہیں غلام بنالیا گیا۔وہ خود فرماتے ہیں کہ مجھے دس سے زیادہ مرتبہ بیچا اور خریدا گیا۔(بخاری۔کتاب المناقب۔باب اسلام سلمان الفارسی)اور جیسے سیدنا صہیب رومی ؓ جو اصل میں ایرانی تھے مگر اہل روم نے جب فارس پر حملہ کیا تو انہیں بچپن ہی میں قیدی بناکر روم لے گئے تھے اور دونوں صحابہ کرامؓ کو اپنے اپنے والد کے نام تک معلوم نہ تھے۔(تیسیر القرآن)

6۔ نبی ﷺ مسلمانوں کے لیے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر شفیق و رحیم اور ان کی اپنی ذات سے بڑھ کر خیر خواہ ہیں۔ ان کے ماں باپ اور ان کے بیوی بچے ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، ان کے ساتھ خود غرضی برت سکتے ہیں، ان کو گمراہ کرسکتے ہیں، ان سے غلطیوں کا ارتکاب کرا سکتے ہیں، ان کو جہنم میں دھکیل سکتے ہیں، مگر نبی ﷺ ان کے حق میں صرف وہی بات کرنے والے ہیں جس میں ان کی حقیقی فلاح ہو۔۔۔۔۔اسی مضمون کو نبی ﷺ نے اس حدیث میں ارشاد فرمایا ہے جسے بخاری و مسلم وغیرہ نے تھوڑے سے لفظی اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے کہ لا یؤمن احدُکم حتیٰ اکون احبَّ الیہ من والدہ و ولدہ والنّاس اجمعین۔ " تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کو اس کے باپ اور اولاد سے اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔ (تفہیم القرآن)

- نماز اچھی، روزہ اچھا، حج اچھا، زکوٰۃ اچھی                                                 مگرمیں باوجود اس کے مسلماں ہونہیں سکتا

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ یثرب کی عزت پر                                     خدا شاہد ہے،کامل میرا ایمان ہونہیں سکتا   (انوارالقرآن)

ع۔                       عقل قربان کن بہ پیش مصطفیؐ

مولانا روم: بود مورے ،ہوسے داشت کہ درکعبہ رسد                                  دست برپائے کبوتر زد و ناگاہ رسید

اسی طرح مسلمانوں کوہدایت کہ حضورؐ کے پاؤں سے لپٹ جائیں ۔

نواب عثمان علی خان، حیدرآباد دکن :۔

تھوڑی سی اگر خاک تیری راہ گزر کی                                          مل جاتی تو بن جاتی دوادردِ جگر کی

حضورؐ کی سیرت کا مطالعہ کریں ،اپنے آپ کو سیرت میں گم کردیں اور اپنے آپ کو ان کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کریں۔)انوار القرآن(

ــــ آپ مومنوں کے ان کی ذات سے بھی زیادہ خیر خواہ ہیں:۔  ۔۔۔۔   سیدنا عبداللہ بن ہشام فرماتے ہیں کہ ہم آپؐ کے ساتھ تھے اور آپؐ سیدنا عمرؓکا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ سیدنا عمرؓ کہنے لگے: یارسول اللہؐ آپؐ میرے نزدیک اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے محبوب ہیں۔آپؐ نے فرمایا :اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جب تک میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں، تم مومن نہیں ہوسکتے" سیدنا عمرؓ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! آپؐ میرے نزدیک میری جان سے بھی زیادہ عزیز  ہیں" آپؐ نے فرمایا:"اب اے عمر! "(یعنی اب تم صحیح مسلم ہو)۔(بخاری۔کتاب  الایمان والنذور۔باب کیف کان یمن النبی)(تیسیر القرآن)

۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قرآن مجید کی رو سے یہ مرتبہ تمام ازواج نبی ﷺ کو حاصل ہے جن میں لا محالہ حضرت عائشہ ؓ بھی شامل ہیں۔ لیکن ایک گروہ نے جب حضرت علی و فاطمہ ؓ اور ان کی اولاد کو مرکز دین بنا کر سارا نظام دین انہی کے گرد گھما دیا، اور اس بنا پر دوسرے بہت سے صحابہ کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ کو بھی ہدف لعن و طعن بنایا، تو ان کی راہ میں قرآن مجید کی یہ آیت حائل ہوگئی جس کی رو سے ہر اس شخص کو انہیں اپنی ماں تسلیم کرنا پڑتا ہے جو ایمان کا مدعی ہو۔ آخر کار اس شکل کو رفع کرنے کے لیے یہ عجیب و غریب دعویٰ کیا گیا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو یہ اختیار دے دیا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں آپ کی زوجیت پر باقی رکھیں اور جسے چاہیں آپ کی طرف سے طلاق دے دیں۔ (تفہیم القرآن)

انبیاء کا عہد کیاہے؟ انبیاء کا عہد، عہد الست سے الگ ہے۔اور اس عہد کا بھی قرآن میں متعدد بار ذکر آیا ہے(2: 83، 3: 187، 5: 67، 7: 169، تا 171،42: 13)اور وہ عہد یہ تھا کہ ہر پیغمبر اپنے سے پہلے پیغمبروں کی اور ان کی کتابوں کی تصدیق کرے گا، اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی سب سے پہلے خود اطاعت کرے گا پھر دوسروں سے کرائے گا۔اللہ تعالیٰ کے پیغام کو بلاکم و کاست دوسروں تک پہنچائے گا اور ان احکام کو عملاًنافذ کرنے میں اپنی  مقدور بھر کوشش سے دریغ نہ کرے گا۔اور اس مقام پر اس عہد کو یاد دلاتے اور بالخصوص مِنْكَ کہنے سے مراد یہ ہے کہ آپ جو منہ بولے رشتوں کے معاملہ میں جاہلیت کی رسم توڑنے سے جھجک رہے ہیں اور دشمنوں کے طعن و تشنیع سے ڈررہے ہیں تو ان لوگوں کی قطعاً پروا نہ کیجئے۔دوسرے پیغمبروں کی طرح  آپ سے بھی ہمارا پختہ معاہدہ ہے کہ جو کچھ بھی  ہم تمہیں حکم دیں گے اسے بجالاؤگے اور دوسروں کو اس کی پیروی کا حکم دو گے۔ لہذا جو خدمت ہم آپ سے لینا چاہتے ہیں اسے بلاتامل سرانجام دواور شماتتِ اعداء کا خوف نہ کرو۔(تیسیر القرآن)


دوسرا رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ ﴿9﴾ اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا ﴿10﴾ هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا ﴿11﴾ وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا ﴿12﴾ وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا ﴿13﴾ وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا ﴿14﴾ وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا ﴿15﴾ قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا ﴿16﴾ قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا ﴿17﴾ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ ﴿18﴾ اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا ﴿19﴾ یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ ۧ ۧ ﴿20ع الأحزاب 33﴾
9. مومنو خدا کی اُس مہربانی کو یاد کرو جو (اُس نے) تم پر (اُس وقت کی) جب فوجیں تم پر (حملہ کرنے کو) آئیں۔ تو ہم نے اُن پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (نازل کئے) جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اور جو کام تم کرتے ہو خدا اُن کو دیکھ رہا ہے۔ 10. جب وہ تمہارے اُوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ 11. وہاں مومن آزمائے گئے اور سخت طور پر ہلائے گئے۔ 12. اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ خدا اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکے کا وعدہ کیا تھا۔ 13. اور جب اُن میں سے ایک جماعت کہتی تھی کہ اے اہل مدینہ (یہاں) تمہارے ٹھہرنے کا مقام نہیں تو لوٹ چلو۔ اور ایک گروہ ان میں سے پیغمبر سے اجازت مانگنے اور کہنے لگا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے۔ وہ تو صرف بھاگنا چاہتے تھے۔ 14. اور اگر (فوجیں) اطراف مدینہ سے ان پر آ داخل ہوں پھر اُن سے خانہ جنگی کے لئے کہا جائے تو (فوراً) کرنے لگیں اور اس کے لئے بہت ہی کم توقف کریں۔ 15. حالانکہ پہلے خدا سے اقرار کر چکے تھے کہ پیٹھ نہیں پھیریں گے۔ اور خدا سے (جو) اقرار (کیا جاتا ہے اُس کی) ضرور پرسش ہوگی۔ 16. کہہ دو کہ اگر تم مرنے یا مارے جانے سے بھاگتے ہو تو بھاگنا تم کو فائدہ نہیں دے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائدہ اٹھاؤ گے۔ 17. کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے تو کون تم کو اس سے بچا سکتا ہے یا اگر تم پر مہربانی کرنی چاہے تو (کون اس کو ہٹا سکتا ہے) اور یہ لوگ خدا کے سوا کسی کو نہ اپنا دوست پائیں گے اور نہ مددگار۔ 18. خدا تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو (لوگوں کو) منع کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ۔ اور لڑائی میں نہیں آتے مگر کم۔ 19. (یہ اس لئے کہ) تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔ پھر جب ڈر (کا وقت) آئے تو تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں (اور) اُن کی آنکھیں (اسی طرح) پھر رہی ہیں جیسے کسی کو موت سے غشی آرہی ہو۔ پھر جب خوف جاتا رہے تو تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے بارے میں زبان درازی کریں اور مال میں بخل کریں۔ یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان لائے ہی نہ تھے تو خدا نے ان کے اعمال برباد کر دیئے۔ اور یہ خدا کو آسان تھا۔ 20. (خوف کے سبب) خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئیں۔ اور اگر لشکر آجائیں تو تمنا کریں کہ (کاش) گنواروں میں جا رہیں (اور) تمہاری خبر پوچھا کریں۔ اور اگر تمہارے درمیان ہوں تو لڑائی نہ کریں مگر کم۔

تفسیر آیات

غرضیکہ مدینہ تک پہنچتےپہنچتے اس لشکر کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی۔جبکہ مدینہ کی کل آبادی بھی دس ہزار سے کم تھی اس میں سے جنگجو افراد صرف تین ہزار تھے اور ان تین ہزار میں منافقین بھی شامل تھے۔۔۔۔۔(تیسیر القرآن)

ــــ مؤرخ غزوات نبی،ڈاکٹر محمد حمید اللہ حیدر آبادی ثم فرانسوی کا بیان ہے کہ  یہ جنگ یہودیوں کی تحریک پر شروع ہوئی تھی، اور اس کے لیے مخالفین نے تیاریاں دو برس تک پوری مستعدی سے کی تھیں،یہ خندق گہری اور چوڑی کتنی تھی اس کے جواب میں ڈاکٹر موصوف  قرائن کی بناپر لکھتے ہیں کہ"کوئی تعجب نہیں جو 10 گز چوڑی اور اتنی ہی گہری خندق کھودی گئی ہو"۔"یہ کھدائی بعض بیانوں کے مطابق کوئی تین ہفتے جاری رہی۔۔۔۔۔شہر کے مغرب میں بھی کوئی دو ڈھائی میل کی خندق کھدگئی ،اس کے علاوہ بعض آطام کے گرد خندق کھودلی گئی"۔(عہد نبوی کے میدان جنگ ،ص61تا 71 ملخصاً)۔۔۔۔۔بعض صحابہؓ (مثلاً حضرت حذیفہؓ)کا جو فرشتوں کو دیکھنا حدیث میں مروی ہے یہ لم تروھا کے منافی نہیں۔ لم تروھا سے مراد صرف اس قدر ہے کہ فرشتے عام طورپر غیرمرئی تھے بطور کرامت و خرق عادت کسی خاص صحابی پر ان کامکشوف ہوجانا اس عام قاعدہ  عدم مرئیت کے معارض نہیں۔(تفسیر ماجدی)

10۔   مدینہ کی مشرقی سمت بلند اور مغربی سمت نشیبی ہے۔ چونکہ دشمن کا حملہ دونوں طرف سے تھا اس وجہ سے فوق اور اسفل دونوں کو حوالہ دیا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ غطفان وغیرہ کا حملہ مشرق کی طرف سے ہوا تھا اور قریش اور ان کے حلیفوں کی فوجیں مغرب کی سمت سے آئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور جب مومنوں نے دشمن کی پارٹیوں کو دیکھا تو وہ پکار اٹھے کہ یہ تو وہی صورت حال ہمیں پیش آئی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کر رکھا تھا اور اللہ اور اس کے رسول کی بات سچی ہوئی، اور اس چیز نے ان کے ایمان اور ان کی اطاعت ہی میں اضافہ کیا۔ جب سچے مسلمانوں کا یہ حال بیان ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت ایسے ہی سرفروشوں پر مشتمل تھی تو آیت زیر بحث کا اشارہ انہی لوگوں کی طرف ہوسکتا ہے جو ضعیف الایمان تھے۔ اس بنا پر ہم ان تفسیری روایات کو بالکل بےسروپا سمجھتے ہیں جن میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ العیاذ باللہ غزوہ احزاب کے موقع پر ایک آدھ آدمی کے سوا اور کوئی شخص مسلمانوں میں عزم و ہمت رکھنے والا نہیں نکلا۔ (تدبرِ قرآن)

12۔ 'دلوں کے روگ'سے مراد کینہ ،حسد اور بغض و عناد ہے۔یہ لوگ صرف ضعف عزم و ارادہ کے مریض نہ تھے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

13۔اس کے دومطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ پریشان کن صورت حال دیکھ کرمنافقین اپنے ساتھیوں کو یہ دعوت دینے لگے کہ محاذ جنگ چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس لوٹ آؤ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ ان کی دعوت یہ تھی کہ اسلام کو چھوڑ کر پھر سے اپنے پہلے دین کی طرف واپس آجاؤ۔اسی میں تمہاری عافیت اور خیریت ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر اتحادیوں سے مل جاؤ۔(تیسیر القرآن)

15۔ یعنی جنگ اُحُد کے موقع پر جو کمزوری انہوں نے دکھائی تھی اس کے بعد شرمندگی و ندامت کا اظہار کر کے ان لوگوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اب آزمائش کا کوئی موقع پیش آیا تو ہم اپنے اس قصور کی تلافی کردیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو محض باتوں سے دھوکا نہیں دیا جاسکتا۔ جو شخص بھی اس سے کوئی عہد باندھتا اس کے سامنے کوئی نہ کوئی آزمائش کا موقع وہ ضرور لے آتا ہے تاکہ اس کا جھوٹ سچ کھل جائے۔ اس لیے وہ جنگ احد کے دو ہی سال بعد اس سے بھی زیادہ بڑا خطرہ سامنے لے آیا۔اور اس نے جانچ کر دیکھ لیا کہ ان لوگوں نے کیسا سچا  عہد اس سے کیا تھا۔ (تفہیم القرآن)

۔ پہلے تو انہوں نے بہت بڑھ چڑھ کے وعدے کیے تھے کہ آئندہ جنگ کی نوبت آئی توہ پیٹھ نہیں دکھائیں گے تو اب جب اس کی نوبت آئی تو رخصت کی عرضیاں اور گھروں کے غیر محفوظ ہونے کے بہانے لے کر کیوں اٹھ کھڑے ہوئے ! وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْــٴُـوْلًا‘ یہ ان کی دھمکی ہے انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ سے کیے ہوئے ہر عہد کی پرسش ہونی ہے۔ پرسش تو ہر جرم کی ہوگی لیکن خاص طور پر اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ سورة صف میں ارشاد ہے : یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (الصف : 2۔ 3) (اے ایمان والو ! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ! اللہ کے نزدیک یہ بات زیادہ غضب کی ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں)۔ (تدبرِ قرآن)

17۔ برائی مثلاً یہی کہ وہ تمہیں ہلاک کرنا چاہے تو کون تمہیں پچاسکتاہے؟ فضل مثلاً یہ کہ وہ تمہیں زندہ رکھنا چاہے تو کون اس میں مانع ہوسکتاہے۔(تفسیر ماجدی)

18۔(تو تمہاری جان بچ جائے گی اور تم چین اور سکھ سے زندگی بسر کرسکوگے)اخوانھم سے مراد وطنی یا قومی بھائی ہیں۔اخوت کا اطلاق ہر صفت مشترک پر ہوجاتاہے۔(تفسیر ماجدی)

دوسرا اور تیسرا رکوع:

تفسیر آیات:

غزوۂ بدر میں کفار 3/2 حصہ مکہ سےسفر کر کے مقام بدر پر پہنچے،غزوۂ احد، مدینہ کے نواح میں ، اور غزوۂ احزاب مدینہ کے اندر لڑی گئی۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ جارح کون اور اپنے دفاع پر مجبور کون۔ ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا۔ (ان دونوں   رکوعوں میں غزوہ  احزاب اور غزوہ بنی قریْظہ کا ذکر ہے)۔ (مرتب)

غزوۂ احزاب: یہ غزوہ دراصل عرب کے بہت سے قبائل کا ایک مشترکہ حملہ تھا جو مدینے کی اس طاقت کو کچل دینے کے لئے کیا گیا تھا۔۔۔ اس کے تحریک بنی النَّضِیر کے ان لیڈروں نے کے تھی جو جلا وطن ہو کر خیبر میں مقیم ہوگئے تھے۔ انہوں نے دورہ کر کے قریش اور غطفان اور ہُذَیل اور دوسرے بہت سے قبائل کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اب مل کر بہت بڑی جمیعت کے ساتھ مدینے پر ٹوٹ پڑیں۔ چنانچہ ان کی کوششوں سے شوال ٥ ھ میں قبائل عرب کی اتنی بڑی جمیعت اس چھوٹی سی بستی پر حملہ آور ہوگئی جو اس سے پہلے عرب میں کبھی جمع نہ ہوئی تھی۔ اس میں شمال کی طرف سے  بنی النَّضِیر اور قَیْنقُاع کے وہ یہودی آئے جو مدینے سے جلا وطن ہو کر خیبر اور وادی القریٰ میں آباد ہوئے تھے۔ مشرق کی طرف سے غَطَفان کے قبائل (بنو سُلَیم، فَزارہ، مُرَّہ، اَشجع، سَعد اور اَسَد وغیرہ) نے پیش قدمی کی۔ اور جنوب کی طرف سے قریش اپنے حلیفوں کی ایک بھاری جمیعت لے کر آگے بڑھے۔ مجموعی طور پر ان کی تعداد دس بارہ ہزار تھی۔ یہ حملہ اگر اچانک ہوتا تو سخت تباہ کن ہوتا۔ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ طیبہ میں بیخبر بیٹھے ہوئے نہ تھے بلکہ آپ کے خبر رساں اور تحریک اسلامی کے ہمدرد اور متاثرین جو تمام قبائل میں موجود تھے، آپ کو دشمنوں کی نقل و حرکت سے برابر مطلع کرتے رہتے تھے (یہ قوم پرست جتھوں کے مقابلے میں ایک نظریاتی تحریک کی فوقیت کا ایک اہم سبب ہوتا ہے۔ قوم پرست جتھے صرف اپنی قوم کے افراد کی تائید و حمایت ہی پر انحصار رکھتے ہیں۔ لیکن ایک اصولی و نظریاتی تحریک اپنی دعوت سے ہر سمت میں بڑھتی ہے اور خود ان جتھوں کے اندر سے اپنے حامی نکال لاتی ہے۔ ) قبل اس کے کہ یہ جم غفیر آپ کے شہر پہنچتا، آپ نے چھ دن کے اندر مدینہ کے شمال غربی رخ پر ایک خندق کھدوا لی اور کوہ سَلْع کو پشت پر لے کر تین ہزار فوج کے ساتھ خندق کی پناہ میں مدافعت کے لیے تیار ہوگئے۔ مدینہ کے جنوب میں باغات اس کثرت سے تھے (اور اب بھی ہیں) کہ اس جانب سے کوئی حملہ اس پر نہ ہوسکتا تھا۔ مشرق میں حرات (لادے کی چٹانیں) ہیں جن پر سے کوئی اجتماعی فوج کشی آسانی کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔ یہی کیفیت مغربی جنوبی گوشے کی بھی ہے۔ اس لیے حملہ صرف اُحُد کے مشرقی اور مغربی گوشوں سے ہوسکتا تھا اور اسی جانب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق کھدوا کر شہر کو محفوظ کرلیا تھا۔ یہ چیز سرے سے کفار کے جنگی نقشے میں تھی ہی نہیں کہ انہیں مدینے کے باہر خندق سے سابقہ پیش آئے گا، کیونکہ اہل عرب اس طریق دفاع سے ناآشنا تھے۔ ناچار انہیں جاڑے کے زمانے میں ایک طویل محاصرے کے لیے تیار ہونا پڑا جس کے لیے وہ گھروں سے تیار ہو کر نہیں آئے تھے۔ اس کے بعد کفار کے لیے صرف ایک ہی تدبیر باقی رہ گئی تھی، اور وہ یہ کہ بنی قریظہ کے یہودی قبیلے کو غداری پر آمادہ کریں جو مدینہ طیبہ کے جنوب مشرقی گوشے میں رہتا تھا۔ چونکہ اس قبیلے سے مسلمانوں کا باقاعدہ حلیفانہ معاہدہ تھا جس کی رو سے مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر مدافعت کرنے کا پابند تھا، اس لیے مسلمانوں نے اس طرف سے بےفکر ہو کر اپنے بال بچے ان گڑھیوں میں بھجوا دیے تھے جو بنی قریظہ کی جانب تھیں اور ادھر مدافعت کا کوئی انتظام نہ کیا تھا۔ کفار نے اسلامی دفاع کے اس کمزور پہلو کو بھانپ لیا۔ ان کی طرف سے بنی النَّضیر کا یہودی سردار حُیّی بن اَخْطَب بنی قریظہ کے پاس بھیجا گیا تاکہ انہیں معاہدہ توڑ کر جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کرے۔ ابتداءً انہوں نے اس سے انکار کیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ ہمارا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ ہے اور آج تک کبھی ہمیں ان سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی ہے۔ لیکن جب ابن اخطب نے ان سے کہا کہ " دیکھو، میں اس وقت عرب کی متحدہ طاقت اس شخص پر چڑھا لایا ہوں، یہ اسے ختم کردینے کا نادر موقع ہے، اس کو اگر تم نے کھو دیا تو پھر دوسرا کوئی موقع نہ مل سکے گا "، تو یہودی ذہن کی اسلام دشمنی اخلاق کے پاس ولحاظ پر غالب آگئی اور بنی قریظہ عہد توڑنے پر آمادہ ہوگئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس معاملے سے بھی بیخبر نہ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بر وقت اس کی اطلاع مل گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فوراً انصار کے سرداروں (سعد بن عبادہ، سعد بن معاذ، عبداللہ بن رواعہ اور خَوّات بن جبیر) کو ان کے پاس تحقیق حال اور فہمائش کے لیے بھیجا۔ چلتے وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ہدایت فرمائی کہ اگر بنی قریظہ عہد پر قائم رہیں تو آ کر سارے لشکر کے سامنے علی الاعلان یہ خبر سنا دینا۔ لیکن اگر وہ نقض عہد پر مصر ہوں صرف مجھ کو اشارۃً اس کی اطلاع دے دینا تاکہ عام مسلمان یہ بات سن کر پست ہمت نہ ہوجائیں۔ یہ حضرات وہاں پہنچے تو بنی قریظہ کو پوری خباثت پر آمادہ پایا اور انہوں نے برملا ان سے کہہ دیا کہ لا عقد بیننا وبین محمد ولا عھد۔ " ہمارے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کوئی عہد پیمان نہیں ہے " ،۔ اس جواب کو سن کر وہ لشکر اسلام میں واپس آئے اور اشارۃً حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کردیا : عَضَل وقارَہ۔ یعنی قبیلہ عَضَل وقارَہ نے رجیع کے مقام پر مبلغین اسلام کے وفد سے جو غداری کی تھی، وہی کچھ اب بنی قریظہ کر رہے ہیں۔ یہ خبر بہت جلدی مدینہ کے مسلمانوں میں پھیل گئی اور ان کے اندر اس سے سخت اضطراب پیدا ہوگیا۔ کیونکہ اب وہ دونوں طرف سے گھیرے میں آگئے تھے اور ان کے شہر کا وہ حصہ خطرے میں پڑگیا تھا جدھر دفاع کا بھی کوئی انتظام نہ تھا اور سب کے بال بچے بھی اسی جانب تھے۔ اس پر منافقین کی سرگرمیاں اور تیز ہوگئیں اور انہوں نے اہل ایمان کے حوصلے پست کرنے کے لیے طرح طرح کے نفسیاتی حملے شروع کردیے۔ کسی نے کہا کہ " ہم سے   وعدے تو قیصر و کسریٰ کے ملک فتح ہوجانے کے کیے جا رہے تھے، اور حال یہ ہے کہ ہم رفع حاجت کے لیے بھی نہیں نکل سکتے۔ " کسی نے یہ کہہ کر خندق کے محاذ سے رخصت مانگی کہ اب تو ہمارے گھر ہی خطرے میں پڑگئے ہیں ہمیں جا کر ان کی حفاظت کرنی ہے۔ کسی نے یہاں تک خفیہ پروپیگنڈا  شروع کردیا کہ حملہ آوروں سے اپنا معاملہ درست کرلو اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے حوالے کردو۔ یہ ایسی شدید آزمائش کا وقت تھا جس میں ہر اس شخص کا پردہ فاش ہوگیا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی نفاق موجود تھا۔ صرف صادق و مخلص اہل ایمان ہی تھے جو اس کڑے وقت میں بھی فدا کاری کے عزم پر ثابت قدم رہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نازک موقع پر بنی غطفان سے صلح کی بات چیت شروع کی اور ان کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہا کہ مدینے کے پھلوں کی پیداوار کا تیسرا حصہ لے کر واپس چلے جائیں۔ لیکن جب انصار کے سرداروں (سعد بن عبادہ اور سعد بن معاذ) سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان شرائط صلح کے متعلق مشورہ طلب کیا تو انہوں نے عرض کیا " یا رسول اللہ، یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواہش ہے کہ ہم ایسا کریں ؟ یا یہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمارے لیے اسے قبول کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے ؟ یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں بچانے کے لیے یہ تجویز فرما رہے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا " میں صرف تم لوگوں کو بچانے کے لیے ایسا کر رہا ہوں، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سارا عرب متحد ہو کر تم پر پل پڑا ہے، میں چاہتا ہوں کہ ان کو ایک دوسرے سے توڑ دوں۔ " اس پر دونوں سرداروں نے بالاتفاق کہا کہ " اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری خاطر یہ معاہدہ کر رہے ہیں تو اسے ختم کردیجیے۔ یہ قبیلے ہم سے اس وقت بھی ایک حبہ خراج کے طور پر کبھی نہ لے سکے تھے جب ہم مشرک تھے۔ اور اب تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا شرف ہمیں حاصل ہے۔ کیا اب یہ ہم سے خراج لیں گے؟  ہمارے اور ان کے درمیان اب صرف تلوار ہی ہے، یہاں تک کہ اللہ ہمارا اور ان کا فیصلہ کر دے "۔ یہ کہہ کر انہوں نے معاہدے کے اس مسودے کو چاک کردیا جس پر ابھی دستخط نہ ہوئے تھے۔ اسی دوران میں قبیلۂ غَطَفان کی شاخ اشجع کے ایک صاحب نعیم بن مسعود مسلمان ہو کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ابھی تک کسی کو بھی میرے قبول اسلام کا علم نہیں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے اس وقت جو خدمت لینا چاہیں میں اسے انجام دے سکتا ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، تم جا کر دشمنوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوئی تدبیر کرو (اسی موقعہ پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا اَلْحَرْبُ خُدْعَۃ۔ یعنی جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے۔ ) چنانچہ وہ پہلے بنی قریظہ کے پاس گئے جن سے ان کا بہت میل جول تھا، اور ان سے کہا کہ قریش اور غطفان تو محاصرے سے تنگ آ کر واپس بھی جاسکتے ہیں، ان کا کچھ نہ بگڑے گا، مگر تمہیں مسلمانوں کے ساتھ اسی جگہ رہنا ہے، وہ لوگ اگر چلے گئے تو تمہارا کیا بنے گا۔ میری رائے یہ ہے کہ تم اس وقت تک جنگ میں حصہ نہ لو جب تک ان باہر سے آئے ہوئے قبائل کے چند نمایاں آدمی تمہارے پاس یرغمال کے طور پر نہ بھیج دیے جائیں۔ یہ بات بنی قریظہ کے دل میں اتر گئی اور انہوں نے متحدہ محاذ کے قبائل سے یرغمال طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ پھر یہ صاحب قریش اور غطفان کے سرداروں کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ بنی قریظہ کچھ ڈھیلے پڑتے نظر آ رہے ہیں، بعید نہیں کہ وہ تم سے یرغمال کے طور پر کچھ آدمی مانگیں اور انہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے کر کے اپنا معاملہ صاف کرلیں۔ اس لیے ذرا ان کے ساتھ ہوشیاری سے معاملہ کرنا۔ اس سے متحدہ محاذ کے لیڈر بنی قریظہ کی طرف سے کھٹک گئے اور انہوں نے قرظی سرداروں کو پیغام بھیجا کہ اس طویل محاصرے سے اب ہم تنگ آگئے ہیں، اب ایک فیصلہ کن لڑائی ہوجانی چاہیے، کل تم ادھر سے حملہ کرو اور ہم ادھر سے یکبارگی مسلمانوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ بنی قریظہ نے جواب میں کہلا بھیجا کہ جب تک آپ لوگ اپنے چند نمایاں آدمی یرغمال کے طور پر ہمارے حوالہ نہ کردیں، ہم جنگ کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ اس جواب سے متحدہ محاذ کے لیڈروں کو یقین آگیا کہ نعیم کی بات سچی تھی۔ انہوں نے یرغمال دینے سے انکار کردیا اور اس سے بنی قریظہ نے سمجھ لیا کہ نعیم نے ہم کو ٹھیک مشورہ دیا تھا۔ اس طرح یہ جنگی چال بہت کامیاب ثابت ہوئی اور اس نے دشمنوں کے کیمپ میں پھوٹ ڈال دی۔ اب محاصرہ پچیس دن سے زیادہ طویل ہوچکا تھا۔ سردی کا زمانہ تھا۔ اتنے بڑے لشکر کے لیے پانی اور غذا اور چارے کی فراہمی بھی مشکل تر ہوتی چلی جا رہی تھی۔ اور پھوٹ پڑجانے سےبھی محاصرین کے حوصلے پست ہوچکے تھے۔ اس حالت میں یکایک ایک رات سخت آندھی آئی جس میں سردی اور کڑک اور چمک تھی، اور اتنا اندھیرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ نہ سوجھائی دیتا تھا۔ آندھی کے زور سے دشمنوں کے خیمے الٹ گئے اور ان کے اندر شدید افراتفری برپا ہوگئی۔ قدرت خداوندی کا یہ کاری وار وہ نہ سہہ سکے۔ راتوں رات ہر ایک نے اپنے گھر کی راہ لی اور صبح جب مسلمان اٹھے تو میدان میں ایک دشمن بھی موجود نہ تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان کو دشمنوں سے خالی دیکھ کر فوراً ارشاد فرمایا : لن تغزوکم قریش بعد عامکم ھٰذا ولکنکم تغزونھم۔ یعنی " اب قریش کے لوگ تم پر کبھی چڑھائی نہ کرسکیں گے۔ اب تم ان پر چڑھائی کرو گے "۔ یہ حالات کا بالکل صحیح اندازہ تھا۔ قریش ہی نہیں، سارے دشمن قبائل متحد ہو کر اسلام کے خلاف اپنا آخری داؤ چل چکے تھے۔ اس میں ہار جانے کے بعد اب ان میں یہ ہمت ہی باقی نہ رہی تھی کہ مدینے پر حملہ آور ہونے کی جرأت کرسکتے۔ اب حملے (offensive) کی قوت دشمنوں سے مسلمانوں کی طرف منتقل ہوچکی تھی۔۔)تفہیم القرآن(

ــــ غزوۂ بنی قریظہ:۔خندق سےپلٹ کر جب حضور ؐ گھر پہنچے تو ظہر کے وقت جبریلؑ نے آکر حکم سنایا کہ ا بھی ہتھیار نہ کھولے جائیں۔بنی قریظہ کا معاملہ باقی ہے،ان سے بھی اسی وقت نمٹ لینا چاہیے ۔یہ حکم پاتے ہی حضورؐ نے فوراً اعلان فرمایا کہ"جوکوئی سمع و طاعت پر قائم ہووہ عصر کی نماز اس وقت تک نہ پڑھے جب تک دیار بنی قریظہ پر نہ پہنچ جائے۔"اس اعلان کے ساتھ ہی آپؐ نے حضرت علی رضی ‌ اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک دستے کے ساتھ مقدمۃ الجیش کے طورپر بنی قریظہ کی طرف روانہ کردیا۔جب وہ وہاں پہنچے تو یہودیوں نے کوٹھوں پر چڑھ کر نبیؐ اور مسلمانوں پر گالیوں کی بوچھاڑ کردی ۔لیکن یہ بدزبانی ان کو اس جرم عظیم کے خمیازے سے کیسے بچاسکتی تھی کہ انہوں نے عین لڑائی کے وقت معاہدہ توڑ ڈالااور حملہ آوروں سے مل کر مدینے کی پوری آبادی کو ہلاکت کے خطرے میں مبتلا کردیا ۔حضرت علی کے دستے کو دیکھ کر وہ سمجھے تھے کہ یہ محض دھمکانے آئے ہیں۔لیکن جب حضورؐ کی قیادت میں پورا اسلامی لشکر وہاں پہنچ گیا اور ان کی بستی کا محاصرہ کرلیا تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑگئے۔محاصرے کی  شدت کو وہ دو تین ہفتوں سے زیادہ برداشت نہ کرسکےاور آخر کار انہوں نے اس شرط پر اپنے آپ کو نبیؐ کے حوالے کردیا کہ قبیلۂ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ ان کے حق میں جو فیصلہ بھی   کردیں گے اسے فریقین مان لیں گے۔انہوں نے حضرت سعد کو اس امید پرحکم بنایا تھا کہ زمانۂ جاہلیت میں اوس اور بنی قریظہ کے درمیان جو حلیفانہ تعلقات مدتوں سے چلے آرہے تھے  وہ ان کا لحاظ کریں گے اور انہیں بھی اسی طرح مدینہ سے نکل جانے دیں گے جس طرح پہلے بنی قینقاع اور بنی النضیر کو نکل جانے دیاگیا تھا۔خود قبیلۂ اوس کے لوگ بھی حضرت سعد سے تقاضا کررہے تھے کہ اپنے حلیفوں کے ساتھ نرمی برتیں۔ لیکن حضرت سعد ابھی ابھی  دیکھ  چکے تھے کہ پہلے جن دویہودی قبیلوں کو مدینہ سے نکل جانے کا موقع دیا گیا تھا وہ کس طرح  سارے گرد و پیش کے قبائل کو بھڑکاکر مدینے پر دس بارہ ہزار کا لشکر چڑھالائے تھے ۔اور یہ معاملہ بھی ان کے سامنے تھا کہ اس آخری یہودی قبیلے نے بیرونی حملے کے موقع پر بدعہدی کرکے اہل مدینہ کو تباہ کردینے کا کیا سامان کیا تھا۔اس لیے انہوں نے فیصلہ دیا کہ بنی قریظہ کے تمام مردقتل کردیے جائیں ، عورتوں اور بچوں کو غلام بنالیاجائے،اور ان کی تمام املاک مسلمانوں میں تقسیم کردی جائیں۔اس فیصلے پر عمل کیا گیا اور جب بنی قریظہ کی گڑھیوں میں مسلمان داخل ہوئے تو انہیں پتہ چلا کہ جنگ احزاب میں حصہ  لینے کیلئے ان غداروں نے پندرہ سو تلواریں ،تین سو زرہیں، دوہزار نیزے اور پندرہ سو ڈھالیں فراہم کی تھیں۔اگر اللہ تعالیٰ کی تائید مسلمانوں کے شامل حال نہ ہوتی تو یہ سارا جنگی سامان عین اس وقت مدینہ پر عقب سے حملہ کرنے کیلئے استعمال ہوتا جبکہ مشرکین یکبارگی خندق پارکرکے ٹوٹ پڑنے کی تیاریاں کررہے تھے۔اس انکشاف کے بعد تو اس امر میں شک کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہ رہی کہ حضرت سعد نے ان لوگوں کے معاملہ میں جو فیصلہ دیا وہ بالکل حق تھا۔(تفہیم القرآن)

ــــ اس ساڑھے تین میل کے میدان میں خندق کھودنے والوں میں کسی کو رکاوٹ پیش نہ آئی جو عاجز کردے۔پیش آئی تو حضرت سلمان فارسی ؓ کو پیش آئی  جنہوں نے خندق کھودنے کا مشورہ دیا تھا اور اس کو قبول کرکے یہ سلسلہ جاری ہواتھا ۔دکھلا دیا گیا کہ اللہ کی طرف رجوع کے سوا چارہ نہیں۔حضرت براء بن عاذب فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپکے جسم ِ مبارک کو غبار نے ایسا ڈھانپ لیا تھا کہ پیٹ اور پیٹھ کی کھال نظر نہ آتی تھی۔حضورؐ کی چارنمازیں اس میں قضاہوئیں ۔(معارف القرآن)

19۔ بعض لوگوں کو یہ مغالطہ بھی ہوجاتا ہے کہ خدا بڑا مہربان و کریم ہے اس وجہ سے جو کچھ بھی اور جس طرح بھی کوئی نیکی کا کام کردے گا وہ اس کو قبول فرمالے گا۔ اس میں ذرا شبہ نہیں کہ خدا بڑا ہی مہربان و کریم ہے لیکن ساتھ ہی وہ نہایت غیور و غنی بھی ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کے ایسے اعمال کو پامال کردینا اس پر ذرا بھی گراں نہیں ہو گا  جن کا قبول کرنا  اس کی غیرت کے منافی ہو۔ یہود کو خدا کی صفتِ کریمی سے  جو مغالطے پیش آئے ان کی تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

20۔ ان لوگوں کی بزدلی کا ذکر اوپر کی آیات میں گزر چکا ہے۔ یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ جماعتوں کے چلے جانے سے ان کے دلوں کا خوف بھی چلا گیا ہے۔ جماعتیں پسپا ہو کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر پہنچ گئی ہیں لیکن ان کی ہیبت اس طرح ان کے دلوں پر مسلط ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ یہیں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)


تیسرا رکوع

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ ﴿21﴾ وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ ﴿22﴾ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ ﴿23﴾ لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ ﴿24﴾ وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ ﴿25﴾ وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ ﴿26﴾ وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ ۧ ۧ ﴿27ع الأحزاب 33﴾
21. تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی اُمید ہو اور وہ خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہو۔ 22. اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبر نے سچ کہا تھا۔ اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہوگئی۔ 23. مومنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار اُنہوں نے خدا سے کیا تھا اس کو سچ کر دکھایا۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور اُنہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا۔ 24. تاکہ خدا سچّوں کو اُن کی سچائی کا بدلہ دے اور منافقوں کو چاہے تو عذاب دے اور (چاہے) تو اُن پر مہربانی کرے۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 25. اور جو کافر تھے اُن کو خدا نے پھیر دیا وہ اپنے غصے میں (بھرے ہوئے تھے) کچھ بھلائی حاصل نہ کر سکے۔ اور خدا مومنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا۔ اور خدا طاقتور (اور) زبردست ہے۔ 26. اور اہل کتاب میں سے جنہوں نے اُن کی مدد کی تھی اُن کو اُن کے قلعوں سے اُتار دیا اور اُن کے دلوں میں دہشت ڈال دی۔ تو کتنوں کو تم قتل کر دیتے تھے اور کتنوں کو قید کرلیتے تھے۔ 27. اور اُن کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مال کا اور اس زمین کا جس میں تم نے پاؤں بھی نہیں رکھا تھا تم کو وارث بنا دیا۔ اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

تفسیر آیات

21۔ خندق کھودنے والوں میں آپؐ بھی شامل اور بنوقریظہ کی غداری سے سب کے ساتھ آپ کے بچے بھی غیر محفوظ ۔مگر نمونہ عملی طورپربھی ۔(تفہیم القرآن)

۔ یہ ان بزدلوں کو غیرت دلائی ہے کہ تمہارے اندر ہی محاذ پر خدا کا رسول بھی موجود تھا ۔تم نے اس کے نمونہ کی پیروی کیوں نہ کی ؟ کیوں بزدل اور ڈرپوک ہی بنے رہے؟ (تدبر قرآن)

۔ اگر صحابہ نے پیٹ پر ایک پتھر باندھ رکھا ہے تو شکمِ رسالت پردوپتھر بندھے ہوئے ہیں۔(ضیاء القرآن)

۔سوکھی سوکھی سنتیں ۔ اسوۂ یہ ہے کہ دوپتھر بندھے ہوئے ہیں ۔جسم گرد سے اٹا ہواہے۔پتھر نہیں ٹوٹتے تو آپ توڑتے ہیں ۔اپنے سرپر پتھر اٹھاتے ہیں۔ باقیوں کے اہل خانہ پریشان ہیں تو آپ کے بھی (i) سنت یہ ہے کہ سوفیصد وقت جہاد میں ۔دعوتِ دین ،اقامت دین۔ پتھر بھی کھائے ،الزامات بھی سہے ۔یہاں مسواک کررہے ہیں ۔مسواک قومی نشان۔پائنچے ۔داڑھیوں کے سائز تراش خراش کی فکر ۔(ii)وَلَنَـبْلُوَنَّكُمْ بِشَىْءٍ۔ مثالیں: حضرت انسؓ بن نضر (غزوۂ بدر میں شریک نہ تھے) احد میں 80 سے زیادہ زخم کھائے ۔سعد بن معاذ ؓ کی خواہش(شہادت اگر اسکے بعد کوئی جنگ نہ ہو۔ بنو قریظہ کی بدعہدی کا انجام اور حضرت سعد کا فیصلہ۔ فیصلہ کے بعد حضرت معاذ شہید ہو گئے) (بیان القرآن)

۔جنگ کے دوران آپؐ کا کردار ۔آپ سب مسلمانوں کے لئے واجب الاتباع نمونہ ہیں:۔  جنگ کی سب سے زیادہ ذمہ داری  سپہ سالار پر ہوتی ہے۔مسلمانوں کے سپہ سالار خود رسول اللہؐ تھے۔ دشمن کی کثرت تعداد خوراک کی شدید قلت، حالات کی سنگینی اس نبی کے پائے ثبات پر ذرہ بھر بھی لغزش پیدا نہیں کرسکی۔وہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنے اور اللہ کی طرف سے پرامید اور اس کی مدد کے منتظر ہیں۔ مگر ساتھ ساتھ پوری جانفشانی سے تمہارے دوش بدوش جنگ کے ایک ایک کام تمہارے ساتھ مل کرکررہے ہیں۔مسلمانو! تمہارا کردار بھی ایسا ہی ہونا چاہئے اور رسول اللہؐ کی ذات کو بطور نمونہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ربطِ مضمون کے لحاظ سے تو اس جملہ کا یہی مطلب ہے مگر یہ حکم عام ہے صرف جنگ میں ہی نہیں بلکہ ہر حالت میں اور صرف جنگی احکام و تدابیر میں ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں رسول کی ذات کو بطور نمونہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔۔۔۔۔(تیسیر القرآن)

23۔ عبدودّ کی لاش کا عوضانہ:۔ یعنی اتحادیوں کا لشکر نہایت ذلت، ناکامی اور غصہ سے پیچ و تاب کھاتاہوا بے نیل و مرام میدان چھوڑ کر واپسی پر مجبور ہوگیا اور مسلمانوں کے لئے اپنا بہت سامان چھوڑ گیا ۔اسی جنگ میں عمرو بن عبدودّ نے، جو ایک ہزار سواروں پر بھاری سمجھا جاتاتھا،مسلمانوں کو دعوتِ مبارزت دی اور سیدنا علیؓ اس کے مقابلے میں اترے اور اس کا کام تمام کردیا ۔مشرکوں نے درخواست کی کہ دس ہزار درہم کے عوض اس کی لاش انہیں دے دی جائے۔آپؐ نے انہیں فرمایا: لاش تم ہی لے جاؤ ہم مردوں کی قیمت نہیں کھایا کرتے۔(تیسیر القرآن)

25۔ (کہ بغیر کسی بڑی لڑائی کے انہیں نجات دلادی) جہاد فقہی و اصطلاحی کے لیے قرآن مجید میں لفظ قتال آیا ہے۔محمدؐ بن عبداللہ(روحی فداہ)جس طرح حالت امن میں بہترین مدبر و بہترین منتظم تھے،اسی طرح حالت جنگ میں بہترین جنرل بھی تھے۔ترتیب صفوف،مورچہ بندی وغیرہ تمام مسائل فنِ حرب میں بے مثال بصیرت رکھنے والے، لیکن باوجود اس سب کے ، قرآن مجید آپؐ کے لشکروں کے فتح و ظفر کو آپؐ کے کمالات سپہ سالاری کی جانب نہیں،بلکہ اپنی ہی قدرت و حکمت کی جانب منسوب کرتارہتاہے۔۔۔۔اور قرآن کا مقصود ہی یہ ہے کہ زندگی کے ہرہر شعبے میں بندے کا تعلق براہ راست حق تعالیٰ ہی سے جڑا رہے۔(تفسیر ماجدی)

27۔ یہ بنی قریظہ کی طرف اشارہ ہے۔انہوں نے نبیؐ کے ساتھ معاہدۂ امن و صلح کررکھا تھا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)


چوتھا رکوع

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا ﴿28﴾ وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا ﴿29﴾ یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا ﴿30﴾ پارہ:22 وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا ﴿31﴾ یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ ﴿32﴾ وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ ﴿33﴾ وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ ۧ ۧ ﴿34ع الأحزاب 33﴾
28. اے پیغمبر اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت وآرائش کی خواستگار ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح سے رخصت کردوں۔ 29. اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں اُن کے لئے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ 30. اے پیغمبر کی بیویو تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ (الفاظ کہہ کر رسول الله کو ایذا دینے کی) حرکت کرے گی۔ اس کو دونی سزا دی جائے گی۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔ 31. اور جو تم میں سے خدا اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے گی اور عمل نیک کرے گی۔ اس کو ہم دونا ثواب دیں گے اور اس کے لئے ہم نے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔ 32. اے پیغمبر کی بیویو تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو کسی (اجنبی شخص سے) نرم نرم باتیں نہ کیا کرو تاکہ وہ شخص جس کے دل میں کسی طرح کا مرض ہے کوئی امید (نہ) پیدا کرے۔ اور ان سے دستور کے مطابق بات کیا کرو۔ 33. اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح (پہلے) جاہلیت (کے دنوں) میں اظہار تجمل کرتی تھیں اس طرح زینت نہ دکھاؤ۔ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوٰة دیتی رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتی رہو۔ اے (پیغمبر کے) اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی (کا میل کچیل) دور کردے اور تمہیں بالکل پاک صاف کردے۔ 34. اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد رکھو۔ بےشک خدا باریک بیں اور باخبر ہے۔

تفسیر آیات

28۔یہاں سے نمبر 35 تک کی آیات جنگ احزاب اور بنی قریظہ سے متصل زمانے میں نازل ہوئی تھیں۔ (تفہیم القرآن)

۔۔۔۔اس ساری بحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ ان آیات میں ازواج مطہرات ؓ پر دنیا طلبی کے جرم میں کوئی عتاب نہیں ہوا ہے، جیسا کہ لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ یہ اللہ و رسول کی طرف سے ان کو آزادی کا پروانہ دے کر ان کے اعلیٰ کردار کا مظاہرہ کرایا گیا تاکہ ان منافقین کے حوصلے ہمیشہ کے لئے پست ہوجائیں جو اس طمع خام میں مبتلا تھے کہ ازواج نبی ؓ کو دنیا کی کسی طمع کے پھندے میں پھنسا کر اپنی طرف مائل کیا جاسکتا ہے۔ اس اعلانِ تخیر کے بعد گویا ہر ایک کو حوصلہ آزمائی کا موقع دے دیا گیا لیکن سب پر ثابت ہوگیا کہ اہل بیت رسالت کا انتخاب خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اس حرم کے اندر کسی کے لئے کسی دراندازی کی گنجائش نہیں ہے۔ (تدبرِ قرآن)

۔واقعہ ایلاء کی تفصیل: ۔2 ۔ سیدنا عمرؓکہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک انصاری پڑوسی بنی امیہ بن زید کے گاؤں میں جو مدینہ کے بالائی دیہات میں سے ایک گاؤں ہے، رہاکرتے۔اور باری باری آپؐ کے پاس آیا کرتے۔ایک دن وہ آتااور ایک دن میں۔ جب میں آتا تو اس دن کی ساری خبر وحی جو آپ پر نازل ہوتی اسے بتاتا اور جس دن وہ آتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا۔ ایک دن میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے دن آیاتو واپس آکر زور سے میرا دروازہ کھٹکھٹایااور کہا:"عمرؓ ہیں؟"میں گھبرا کر باہر آیا تو کہنے لگا:"آج ایک بڑا حادثہ ہوگیا، (آپؐ نے اپنی بیویوں کوطلاق دے دی)میں حفصہ کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی۔۔۔۔"(بخاری۔کتاب العلم۔باب التناؤب فی العلم) ۔۔۔۔۔میں نے اسے پوچھا : کیا رسول اللہ نے تمہیں طلاق دے دی ؟ وہ کہنے لگیں : میں نہیں جانتی اور وہ اس جھروکے میں الگ ہو بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔میں اندر گیا تو اس وقت آپ ایک بوریے پر تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ کے پہلوؤں میں بوریے کے نشان پڑگئے ہیں۔ میں نے پوچھا : یارسول اللہ ! آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، میں نے اللہ اکبر پکارا۔ (تیسیر القرآن)

29۔ اس آیت کے نزول کے وقت حضور ﷺ کے نکاح میں چار بیویاں تھیں حضرت عائشہ ؓ، حضرت سودہ ؓ ، حضرت حفصہ ؓ ، اور حضرت ام سلمہ ؓ۔ ابھی حضرت زینب ؓ سے حضور ﷺ کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ (تفہیم القرآن)

30۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے فاحشۃ مبینۃ کی تفسیر بدمزاج اور شوہر کے سرچڑھتا(نشوز)آئی ہے۔۔۔۔اور متعدد مترجمین نے بھی اسی قسم کے ترجمے کیے ہیں۔ مثلاً"کھلی ہوئی بیہودگی"۔(تھانویؒ)۔۔۔۔۔اور بہترین تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اس سے مراد ہر وہ سوء معاشرت ہے جو رسول اللہؐ کے تکدّر قلب کا باعث ہو۔(تفسیر ماجدی)

32۔ یہاں سے آخر پیراگراف تک کی آیات وہ ہیں جن سے اسلام میں پردے کے احکام کا آغاز ہوا ہے۔ ان آیات میں خطاب نبی ﷺ کی بیویوں سے کیا گیا ہے مگر مقصود تمام مسلمان گھروں میں ان اصلاحات کو نافذ کرنا ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔ عورتوں کا اندازِ گفتگو اور ماڈرن عورتوں کا انداز۔ اب یہ ذراسوچنے کی بات ہے جو دین عورت کو غیر مرد سے بات کرتے ہوئے بھی لوچداراندازِ گفتگو اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اسے مردوں کے سامنے بلا ضرورت آواز نکالنے سے بھی روکتا ہے،کیا وہ کبھی اس کو پسند کرسکتاہے کہ عورت اسٹیج پر آکر گائے، ناچے، بھاؤ بتائے اور نازو نخرے دکھائے؟ کیا وہ اس کی اجازت دے سکتاہے کہ ریڈیو پر عورت عاشقانہ گیت گائے اور سریلے نغموں کے ساتھ فحش مضامین سنا سنا کر لوگوں کے جذبات میں آگ لگائے؟ کیا وہ اسے جائز رکھ سکتاہے کہ عورتیں ڈراموں میں کبھی کسی کی بیوی اور کبھی کسی کی معشوقہ کا پارٹ اداکریں؟ یاہوائی میزبان(Air- Hostess )بنائی جائیں اور انہیں خاص طورپر مسافروں کا دل لُبھانے کی تربیت دی جائے؟یا کلبوں اور عوامی اجتماعی تقریبات اور مخلوط مجالس میں بن ٹھن کر آئیں اور دوسروں سے خوب گھل  مل کر بات چیت اور ہنسی مذاق کریں؟ یہ کلچر آخر کس قرآن سے برآمدکی گئی ہے؟خدا کا نازل کردہ قرآن تو سب کے سامنے ہے۔اس میں کہیں اس کلچر کی گنجائش نظر آتی ہو تو اس مقام کی نشان دہی کردی جائے۔(تفہیم القرآن)

۔عرب کی تہذیب جاہلی میں آج کل کی جاہلی تہذیبوں کی طرح یہ دستور تھا کہ لیڈیاں تصنع کے بڑے بڑے طریقوں سے آواز اور لب و لہجہ میں طرح طرح کی رعنائی،نزاکت اور دل فریبی پیدا کرتی تھیں۔یہ ہنر وہاں کی فیشن ایبل سوسائٹی میں داخل تھا، اس لیے اس کی ممانعت خاص طورپر ہوئی۔۔۔۔۔یعنی حیا و عزت  و آبرو کے جو قاعدے شرفاء میں چلے ہوتے ہیں، اپنا لب و لہجہ ان کے مطابق رکھو،تاکہ کسی بدکردار فاسد المزاج کو آگے بڑھنے کی ہمت نہ پڑے۔اس حکم کی جو اہمیت مدینے کی ناموافق فضا میں تھی،وہی اہمیت عام مومنات کے لیے آج کی غیر صالح فاسقانہ فاجرانہ فضا میں بھی ہے۔ہاں مضبوط شریفانہ لہجہ  اور ہے اور دل شکن اور دل آزار لہجہ اور۔فقہاء نے اس پر قیاس کرکے لکھا ہے کہ اسی طرح مردوں کو بھی تلذذ فاسقانہ کی باتیں کرنا حرام ہیں ،اور خود مردوں مردوں ،عورتوں  عورتوں کے درمیان بھی۔ اور فقہائے حنفیہ نے اس آیت کے ذیل میں متعدد مسئلے ذکر کیے ہیں:مثلاً یہ کہ عورت کےلیے اتنی بلند آواز سے گفتگو کرنادرست نہیں جسے مرد سُنیں۔۔۔۔۔اور یہ بھی کہ جب عورت کے پیر کے زیوروں کی آواز ممنوع ہے تو جوان عورت کے کلام کی آواز تو بدرجۂ اولیٰ ممنوع ٹھہرے گی۔(تفسیر ماجدی)

33۔ امہات المؤمنین ،اہل بیت (آیت کے آغاز میں خطاب یٰنساء النبی اور آخر میں اہل بیت کا لفظ) حضرت علیؓ ،حضرت حسنؓ، حسینؓ اور سیدہ فاطمہؓ بھی اہل بیت (احادیث) ۔(تفسیر عثمانی)

-۔۔۔عورت کا اصل دائرۂ عمل  اس کا گھر ہے ۔۔۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ عورتوں نے حضورؐ سے عرض کیا کہ ساری فضیلت تو مرد لوٹ لے گئے،وہ جہاد کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں بڑے بڑے کام کرتے ہیں ۔ہم کیا عمل کریں کہ ہمیں بھی مجاہدین کے برابر اجر مل سکے؟جواب میں آپؐ نے فرمایا"جو تم میں سے گھر میں بیٹھے گی وہ مجاہدین کے عمل کو پالے گی"۔مطلب یہ ہے کہ مجاہد دل جمعی کے ساتھ اسی وقت تو خدا کی راہ میں لڑسکتاہے جبکہ اسے اپنے گھر کی طرف سے اطمینان ہو۔۔۔حضرت عائشہ جب تلاوت قرآن کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچتی تھیں تو بے اختیار روپڑتی تھیں۔۔۔تبرج کے معنی عربی زبان میں نمایاں ہونے،ابھرنے اور کھل کر سامنے آنے کے ہیں۔۔۔"بُرج " کو برج اس کے ظہورو ارتفاع کی بناپر ہی کہا جاتاہے۔۔۔عورت کیلئے جب لفظ تبرج استعمال کیا جائے تو اس کے تین مطلب ہوں گے۔ایک یہ کہ وہ اپنے چہرے اور جسم کا حُسن لوگوں کو دکھائے،دوسرے یہ کہ وہ اپنے لباس اور زیور کی شان دوسروں کے سامنے نمایاں کرے۔تیسرے یہ کہ وہ اپنی چال ڈھال  اور چٹک مٹک سے اپنے آپ کو نمایاں کرے۔حضورؐ نے فرمایاکہ  تین کام جاہلیت کے ہیں ۔"دوسروں کے نسب پر طعن کرنا، ستاروں کی روش سے فال لینا،اور مردوں پر نوحہ کرنا۔"۔۔جاہلیت سے مراد اسلام کی اصطلا ح میں ہر وہ طرز عمل ہے جو اسلامی تہذیب و ثقافت اور اسلامی اخلاق و آداب اور اسلامی ذہنیت کے خلاف ہو۔اور جاہلیت اولیٰ کا مطلب وہ برائیاں ہیں جن میں اسلام سے پہلے عرب کے لوگ اور دنیا بھر کے دوسرے لوگ مبتلا تھے۔اس تشریح سے یہ بات واضح  ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرزِ عمل سے عورتوں کو روکنا چاہتاہے وہ ان کا اپنے حسن کی نمائش کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکلنا ہے۔وہ ان کو ہدایت فرماتاہے کہ اپنے گھروں میں ٹک کر رہو ،کیونکہ تمہارا اصل کام گھر میں ہے نہ کہ اس سےباہر ۔لیکن اگرباہر نکلنے کی ضرورت پیش آئے تو اس شان کے ساتھ نہ نکلو جس کے ساتھ سابق دورجاہلیت میں عورتیں نکلا کرتی تھیں ۔بن ٹھن کر نکلنا ،چہرے اور جسم کے حُسن کو زیب و زینت اور چست لباسوں سے نمایاں کرنا،اور ناز و ادا سے چلنا ایک مسلم معاشرے کی عورتوں کا کام نہیں ہے۔یہ جاہلیت کے طورطریقے ہیں جو اسلام میں نہیں چل سکتے۔اب یہ بات ہر شخص خود دیکھ  سکتاہے کہ جو ثقافت ہمارے ہاں رائج کی جارہی ہے وہ قرآن کی روسے اسلام کی ثقافت ہے یا جاہلیت کی ثقافت ۔البتہ اگر کوئی اور قرآن ہمارے کارفرماؤں کے پاس آگیاہے جس سے اسلام کی یہ نئی روح نکال کر مسلمانوں میں پھیلائی جارہی ہے تو بات دوسری ہے۔(تفہیم القرآن)

- اگر آپ کو ان کی قید سے رہائی حاصل ہوجائے تو وقت کے بڑے بڑے سردار آپ لوگوں کو نکاح کا پیغام دیں گے۔اور آپ بھی اسی طرح بن ٹھن کر زیب و زینت کے ساتھ شاپنگ اور سیر سپاٹے کےلئے نکلا کریں گی جس طرح امراء کی بیگمات نکلا کرتی ہیں۔ قرآن نے امہات المؤمنین کو تلقین فرمائی کہ تم اپنے گھروں میں ٹک کے بیٹھو۔"جاہلیتِ اولیٰ" کو اب قصۂ ماضی سمجھو، اس کا دور اب ختم ہوچکا ۔بیگمات کے سامانِ زینت پر تعریض ہے کہ یہ زینت نہیں بلکہ گندگی کا بوجھ  ہےجسے لادے پھر رہی ہیں ۔(تدبر قرآن)

- قرن کا مادہ قرار بھی ہے اور وقار بھی ۔دونوں سے مقصد یہ ہے کہ امہات المؤمنین کو اپنے گھروں میں سکون و وقار سے ٹھہرنے کا حکم دیا جارہاہے۔(ضیاء القرآن)

ــــ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى۔ نظام جاھلی ،ہر نظام غیر اسلامی ہے۔جاھلیت اولیٰ سے مراد وہ مشرکانہ تہذیب   و تمدن ہے ،جو اسلام سے قبل، دنیا خصوصاً عرب میں یونانی و رومی تمدن کے اثر سے رائج تھی۔مکہ و مدینہ میں عورتیں بن ٹھن کر اس طرح باہر آزادانہ گھوماپھرا کرتی تھیں، جس طرح آج فرنگی قوموں میں دستور ہے۔۔۔۔اور یہ لفظ اولیٰ کا اضافہ خود اس کی دلیل ہے کہ ایک دوسری جاہلی تہذیب (الجاھلیۃ الاخریٰ)کا نقشہ شروع ہی سے اسلام کے پیش نظر رہاہے۔ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ کی شرح سب نے یہی لکھی ہے کہ اس تہذیب کی عورتیں آزادی سے مردوں کے ساتھ چلتی پھرتی ،بیٹھتی  بولتی رہتی تھیں، اور یہاں ممانعت اسی سے آئی ہے۔۔۔۔۔ترتیب کلام پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ عورت پر حیا داری،حفظ و ناموس کی تاکید نماز و زکوٰۃ کے حکم سے بھی مقدم رکھی گئی ہے۔محققین نے لکھا ہے کہ آیت میں خطاب ازواج نبی سے ہے، لیکن جو تعلیم دی گئی ہے وہ ساری امت کی عورتوں کے لیے ہے۔۔۔۔۔فقیہ  مالکی قاضٰ ابوبکر عبداللہ بن العربی اندلسی(متوفی 542ھ)کہتے ہیں کہ میں نے اپنی سیّاحی میں کوئی ایک ہزار مقامات دیکھ ڈالے ۔نابلوس کی عورتوں سے بڑھ کر پاک دامن کہیں اور نہیں پائیں۔ان کے درمیان میں مہینوں ٹھہرارہا۔شہر میں یہ کبھی چلتی پھرتی نظر نہ آئیں،بس صرف جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لیے نکلتی تھیں اور بعد نماز اپنے گھروں میں پھر داخل ہوجاتی تھیں،اور پردہ داری اور باعصمتی کی یہی کیفیت میں نے مسجد اقصیٰ کی معتکف عورتوں میں بھی پائی ،ورنہ اور جگہ میں نے جہاں جہاں عورتوں کو بے پردہ چلتے پھرتے پایا، طرح طرح کی برائیوں اور فتنوں ہی میں مبتلا دیکھا۔۔۔۔نابلوس آج جس قدیم شہر کا نام ہے،وہ فلسطین میں بیت المقدس کے شمال میں واقع ہے ۔۔۔۔۔اہل بیت کے جو متعارف  معنی اردو میں چلے ہوئے ہیں وہ بھی حدیث سے نکلتے ہیں ،لیکن یہاں ذکر صرف اصطلاح قرآنی کا ہے۔قرآن مجید میں دوسری جگہ بھی اہل بیت کا لفظ ایک پیمبر کی زوجۂ محترمہ ہی کے لیے آیاہے۔(ہود،ع7)(تفسیر ماجدی)

34۔یہ ازواج مطہراتؓ کوان کا اصل مقصودِ زندگی بتایا ہے۔وہ یہ کہ اس کتاب و حکمت کی تعلیم کا ذریعہ بنیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

 ــــ حکمت کیا چیز ہے؟ : ۔ حکمت  کا معنی صرف دانائی کی باتیں ہیں۔ پھر اس کی دو قسمیں ہیں ایک حکمت علمی یعنی آیات قرآن سے استنباطات اور اجتہادات دوسرے حکمت عملی۔ یعنی احکامِ الٰہی کو عملی طورپر نافذ کرنے کا طریقۂ کار ۔قرآن میں بے شمار مقامات پر کتاب و حکمت کا لفظ اکٹھا آیاہے۔ اور امام شافعیؒ نے بے شمار دلائل سے یہ ثابت کیا ہے ہے کہ حکمت سے مراد سنت نبویؐ ہے۔یعنی خواہ آپ زبانی کسی آیت کی تشریح و تفسیر امت کو سمجھا دیں یا کسی حکم پر عمل کرکے امت کو دکھادیں۔یہ سب کچھ حکمت کے مفہوم میں شامل ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ساری حکمت صرف سنتِ نبوی میں ہی محصور ہے بلکہ قرآن میں بھی موجود ہے اسی لئے اسے القرآن الحکیم کہا گیا ہے۔اب چونکہ منکرین  حدیث، حدیث کی حجیت کے قائل نہیں تو ان کے ایک نمائندہ حافظ اسلم صاحب جیرا جپوری نے اس آیت پر اعتراض جڑدیا کہ کیا ازواج مطہرات کے گھروں میں اللہ کی آیات کے علاوہ رسول اللہؐ کی حدیثیں بھی پڑھی جاتی تھیں؟(مقام حدیث ص12 مطبوعہ ادارہ طلوع اسلام ،لاہور)(تیسیر القرآن)


پانچواں رکوع

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا ﴿35﴾ وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ ﴿36﴾ وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا ﴿37﴾ مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ ۙ ﴿38﴾ اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا ﴿39﴾ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ ۧ ۧ ﴿40ع الأحزاب 33﴾
35. (جو لوگ خدا کے آگے سر اطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی) مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور خدا کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لئے خدا نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ 36. اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا۔ 37. اور جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے احسان کیا اور تم نے بھی احسان کیا (یہ) کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دے اور خدا سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ کرتے تھے جس کو خدا ظاہر کرنے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے۔ حالانکہ خدا ہی اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ پھر جب زید نے اس سے (کوئی) حاجت (متعلق) نہ رکھی (یعنی اس کو طلاق دے دی) تو ہم نے تم سے اس کا نکاح کردیا تاکہ مومنوں کے لئے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے) میں جب وہ ان سے اپنی حاجت (متعلق) نہ رکھیں (یعنی طلاق دے دیں) کچھ تنگی نہ رہے۔ اور خدا کا حکم واقع ہو کر رہنے والا تھا۔ 38. پیغمبر پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے ان کے لئے مقرر کردیا۔ اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے۔ اور خدا کا حکم ٹھیر چکا ہے۔ 39. اور جو خدا کے پیغام (جوں کے توں) پہنچاتے اور اس سے ڈرتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ۔ اور خدا ہی حساب کرنے کو کافی ہے۔ 40. محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

تفسیر آیات

35۔ اسلام کی دس بنیادی اقدار:۔ اس آیت میں مسلمانوں کی دس صفات کا ذکر آیا ہے جنہیں اسلام کی بنیادی اقدار کا نام دیا جاسکتا ہے۔پہلی صفت اسلام لانا ہے۔ اور اس کا انحصار دوشہادتوں پر ہے کہ جو شخص یہ اقرار کرے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتاہے۔اسلام کے بعد دوسری صفت ایمان ہے۔ایمان کا مطلب یہ ہے کہ دو شہادتیں اس کے دل میں جانشین ہوجائیں اور دل بھی ان کی تصدیق کرے اور انسان اسلام کے تقاضے اور بنیادی ارکان کے لئے مستعد ہوجائے۔جب تک انسان دعویٰ اسلام کے ساتھ دل کی تصدیق اور ساتھ ہی ساتھ اعمال صالح بجانہ لائے اس کے ایمان کے دعویٰ کو غلط اور جھوٹ سمجھاجائے گا۔تیسری صفت یہ ہے کہ وہ لوگ صرف زبانی حدتک ہی اللہ کے اور اس کے رسول کے احکام کے قائل نہیں ہوتے۔بلکہ عملی لحاظ سے بھی ہروقت انہیں ماننے پر اور مطیع فرمان بن کررہنے پر تیار رہتے ہیں۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ سچے اور راست باز ہوتے ہیں۔اپنے معاملات میں جھوٹ، مکر، ریاکاری اور دغا بازی سے حتی الوسع اجتناب کرتے ہیں۔پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں۔نیز احکام الٰہی پر پورے صبر و ثبات کے ساتھ عمل پیرا ہوتے ہیں۔چھٹی صفت یہ ہے کہ ان میں تکبر نام کو نہیں ہوتا۔ان کی وضع قطع، چال ڈھال، اور گفتگو کبرو نخوت سے پاک ہوتی ہے۔اس کے بجائے ان میں دوسروں کے لئے تواضع اور انکسار موجود ہوتاہے۔ساتویں صفت یہ ہے کہ وہ متصدق ہوتے ہیں اور اس لفظ میں تین مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ زکوٰۃ(فرضی صدقہ)اداکرتے ہیں۔دوسرا یہ کہ نفلی صدقات سے محتاجوں کی احتیاج کو دور کرتے ہیں اور ان کاموں میں خرچ کرتے ہیں جن کا شریعت نےحکم دیا ہے اور تیسرا یہ کہ اگر کسی سے قرض وغیرہ لینا ہوتو وہ معاف کردیتے ہیں ۔یعنی اپنے حق سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔آٹھویں صفت یہ ہے کہ وہ فرضی روزے تو ضرور رکھتے ہیں ان کے علاوہ نفلی روزے بھی حسب توفیق رکھتے ہیں۔نویں صفت یہ ہے کہ وہ زنا سے بھی بچتے ہیں اور عریانی اور برہنگی سے بھی اجتناب کرتے ہیں اور دسویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنے اکثر اوقات میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں۔(تیسیر القرآن)

ــــ تصدق میں زکوٰۃ و صدقہ نفل و غیرہ سب آگئے۔۔۔۔۔آیت میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی بھی تصریح برابر ہوتی چلی گئی ہے، حالانکہ قرآن کا عام دستور ہے کہ مردوں کے ذکر میں عورتیں ضمناً و تبعاً شامل ہی سمجھ لی جاتی ہیں۔ اہل تفسیر نے توجیہ یہ کی ہے کہ یہاں اصلاً و مستقلاً  مدح ازواج پیمبر ہی کی مقصود تھی، اور جو مقصود ہو، اسے ضمناً و تبعاً نہیں پیش کیا جاتا۔(تفسیر ماجدی)

36۔یہاں سے وہ آیات شروع ہوتی ہیں جو حضرت زینب سے نبی ﷺ کے نکاح کے سلسلے میں نازل ہوئی تھیں۔ (تفہیم القرآن)

۔ سیدہ زینب کا اللہ اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیمِ خم کرنا:۔  آپؐ کا ایک غلام زید بن حارثہ تھا جسے آپؐ نے آزاد کرنے کے بعد اسے اپنا متبنیٰ بھی بنالیا تھا ۔لیکن اس کے باوجود آزاد لوگ اسے معاشرتی لحاظ سے اپنے برابر کا درجہ دینے کو تیار نہ تھے۔آپؐ نے زید کے لئے اپنی پھوپھی زاد بہن زینب کا رشتہ طلب کیا۔تو ان لوگوں کو یہ بات توہین آمیز معلوم ہوئی اور سخت ناگوارگزری ۔اسی وجہ سے ان لوگوں نے رشتہ دینے سے انکار کردیا۔مگر اللہ کو منظور تھا کہ یہ کام ضرورہونا چاہئے۔اسی ضمن میں یہ آیت نازل ہوئی۔چنانچہ آپؐ نے یہ آیت سیدہ زینب بنت جحش کو سنائی تو انہوں نے اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا اور یہ رشتہ قبول کرلیا۔اور سیدنا زید کا زینب بنت جحش سے نکاح ہوگیا۔(تیسیر القرآن)

۔ یہ آیت اگرچہ ایک خاص موقع پر نازل ہوئی ہے، مگر جو حکم اس میں بیان کیا گیا ہے وہ اسلامی آئین کا اصل الاصول ہے اور اس کا اطلاق پورے اسلامی نظام زندگی پر ہوتا ہے، اس کی رو سے کسی مسلمان فرد، یا قوم، یا ادارے، یا عدالت، یا پارلیمنٹ، یا ریاست کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جس معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی حکم ثابت ہو اس میں وہ خود اپنی آزادی رائے استعمال کرے۔ مسلمان ہونے کے معنی ہی خدا اور رسول کے آگے اپنے آزادانہ اختیار سے دستبردار ہوجانے کے ہیں۔ (تفہیم القرآن)

37۔ یہاں سے آیت 48 تک کا مضمون اس وقت نازل ہوا جب حضرت زینب ؓ سے نبی ﷺ نکاح کرچکے تھے۔ (تفہیم القرآن)

۔ آپؐ کے سیدنا زید بن حارثہؓ پر احسانات:۔ ۔۔۔۔جب رسول اللہؐ کا سیدہ خدیجہؓ سے نکاح ہوا اس وقت زیدبن حارثہ 15 سال کے تھے۔ان کی عادات و اطوار رسول اللہؐ کو اس قدر پسند آئیں کہ آپؐ نے سیدہ خدیجہؓ سے اپنے لئے مانگ لیا اور انہوں نے آپؐ کو دے دیا۔۔۔۔۔آپؐ کونسی بات دل میں چھپاتے تھے؟:۔آپؐ سیدنا زید کی شکایت پر ہربار اسے ہی سمجھاتے رہے کہ جب اس عورت نے اپنی خواہش کی قربانی دے کر تم سے نکاح کرلیا ہے تو آخر تمہیں بھی کچھ برداشت سے کام لینا چاہئے۔ آپؐ کے زید کو طلاق سے منع کرنے اور اس طلاق کے معاملہ کو التوامیں ڈالے رکھنے سے آپؐ کا مقصد یہ بھی تھا کہ جب بھی طلاق واقع ہوگئی تو سیدہ زینب کو مجھے اپنے نکاح میں لانا ہوگا۔ اس وقت مجھے تمام دشمنانِ اسلام کے طعن و تشنیع  کا نشانہ بننا پڑےگا۔یہ تھی وہ بات جسے آپؐ دل میں چھپانا چاہتے تھے۔جیساکہ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اگر آپؐ قرآن سے کوئی آیت چھپانے والے ہوتے  تو اس آیت کو ضرور چھپاتے ۔۔۔۔۔اللہ کا حکم ہی زینب کے لئے نکاح کے قائم مقام تھا:۔اس کے بھی  دومطلب ہیں۔ایک یہ نکاح تم نے اپنی مرضی اور اپنی خواہش کے مطابق نہیں کیا تھا بلکہ ہمارے حکم کے مطابق کیا تھا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ نکاح اس دنیا میں ہوا ہی نہیں تھا،بلکہ اللہ کا یہ حکم ہی نکاح کا درجہ رکھتا تھا ۔(تیسیر القرآن)

۔ حضرت زید ؓ کا ذکر یہاں انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ کی صفت کے ساتھ ہوا ہے یعنی اللہ اور رسول دونوں کے انعام یافتہ اور منظور نظر۔۔۔۔۔’زَوَّجْنٰكَهَا‘ کا مطلب یہ ہے کہ تم تو لوگوں کے اندیشہ سے اس نکاح کی ذمہ داری سے گریز کرنا چاہتے تھے لیکن ہم نے اپنے حکم سے یہ نکاح تمہارے ساتھ کرا دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ نے یہ نکاح اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت کیا۔ روایات میں آتا ہے کہ عدت گزرنے کے بعد حضور ﷺ نے حضرت زید ؓ ہی کے واسطہ سے حضرت زینب ؓ کو پیغام دیا۔ انہوں نے استخارہ کے بعد اس کو منظور کیا۔ حضرت زینب ؓ کے بھائی ابو احمد بن حجش ؓ نے حضور ﷺ کے ساتھ ان کا نکاح پڑھایا اور حضور ﷺ نے چار سو درہم مہر مقرر فرمایا اور نہایت اہتمام کے ساتھ ولیمہ کیا…بعض لوگوں نے لفظ ’زوجنا‘ سے یہ سمجھا ہے کہ یہ نکاح آسمان ہی پر ہوگیا تھا، زمین پر اس کی رسم ادا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی لیکن ابن ہشام میں وہ ساری تفصیل موجود ہے جو اوپر ہم نے نقل کی ہے اس وجہ سے صحیح بات یہ ہے کہ یہ نکاح اللہ تعالیٰ کے حکم سے بالکل اسی معروف طریقہ کے مطابق ہوا جو اللہ اور رسول ﷺ نے نکاح کے لئے پسند فرمایا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

۔تمام صحابیوں میں یہ شرف حضرت زیدؓ ہی کو حاصل ہے کہ ان کا نام صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں آیا ہے۔۔۔۔۔۔اور اسی بناپر بعض لوگوں نے حضرت زیدؓ کو افضل الصحابہ قراردیا ہے۔۔۔۔۔صحیح مسلم میں حضرت انسؓ کی روایت میں اس کی تصریح موجود ہے کہ جب عدّت ختم ہوگئی تو رسول اللہؐ  نے اپنے نکاح کا پیغام بھی حضرت زیدؓ ہی کی معرفت بھیجا،ضیافتِ ولیمہ بڑۓ پیمانے پر ہوئی ۔حضرت انسؓ ہی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہؐ نے اور کسی بیوی صاحبہ کا ولیمہ اس پیمانے  پر  اور اتنا اچھا نہیں کیا۔(تفسیر ماجدی)

38۔ یعنی انبیاء کے لیے ہمیشہ سے یہ ضابطہ مقرر رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حکم بھی آئے اس پر عمل کرنا ان کے لیے قضائے مُبْرَم ہے جس سے کوئی مفر ان کے لیے نہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر کوئی کام فرض کر دے تو اسے وہ کام کر کے ہی رہنا ہوتا ہے خواہ ساری دنیا اس کی مخالفت پر تل گئی ہو۔ (تفہیم القرآن)

۔ ’ فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ، کا مفہوم ’فَرَضَ اللہُ علیہٗ سے مختلف ہے۔ فرض اللہ علیہ کا مفہوم تو یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے اس پر فرض کیا ہے اور فرض اللہ لہ کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے اس کے لئے مقسوم کیا ہے کہ اس کی زندگی میں یہ یہ احوال و مراحل پیش آئیں گے۔ (تدبرِ قرآن)

40۔ تین فرزند حضرت خدیجہؓ سے قاسمؓ،طیبؓ،طاہرؓ(فوت ہوچکے)اور ایک حضرت ماریہ قبطیہ سے ابراہیمؓ(آیت کے نزول کے وقت پیدا ہوئے تھے)سب بچے فوت ہوئے،رجال کی تعریف میں نہیں آتے۔(معارف القرآن)

- بیٹے کی منکوحہ سے نکاح۔ اس سلسلہ میں تفصیلی نکات یہ ہیں: (i)بیٹے کی منکوحہ سے نکاح، جواب وہ بیٹا تھا کب(رسول اللہؐ کسی کے باپ نہیں) (ii)دوسرا اعتراض نکاح بس جائز ہی ہوسکتاہے ،کرنا کیا ضروری تھا؟جواب: مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں (تمام غلط رسموں کو مٹانا ان کا فرض تھا)(iii)مزید تاکید کہ "اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے"۔اس سلسلہ میں سورہ احزاب کے بعد ختم نبوت کا ضمیمہ تفصیلی جواب ہے۔(تفہیم القرآن )

ــــ قرآن نے یہاں یہ اعلان کردیا کہ آنحضرتؐ آخری نبی ہیں اور آپؐ کے آنے سے دین کی تکمیل ہو گئی ہے۔ حضورؐ نے خود کو قصر نبوت کی حسین و جمیل عمارت کی آخری اینٹ کہا ۔ جب صحابہ نے مستقبل کے بارے میں سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ قیامت تک مومن کے سچے خواب باقی رہیں گے اور بس! نبوت کی جو ظلی و بروزی تقسیم بتائی جاتی ہے اس کی قرآن و حدیث میں کوئی بنیاد نہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)


چھٹا رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ ﴿41﴾ وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا ﴿42﴾ هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا ﴿43﴾ تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا ﴿44﴾ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ ﴿45﴾ وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا ﴿46﴾ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا ﴿47﴾ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا ﴿48﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا ﴿49﴾ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ﴿50﴾ تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا ﴿51﴾ لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ ۧ ۧ ﴿52ع الأحزاب 33﴾
41. اے اہل ایمان خدا کا بہت ذکر کیا کرو۔ 42. اور صبح اور شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔ 43. وہی تو ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی۔ تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے۔ اور خدا مومنوں پر مہربان ہے۔ 44. جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ (خدا کی طرف سے) سلام ہوگا اور اس نے ان کے لئے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ 45. اے پیغمبر ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ 46. اور خدا کی طرف بلانے والا اور چراغ روشن۔ 47. اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لئے خدا کی طرف سے بڑا فضل ہوگا۔ 48. اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا اور نہ ان کے تکلیف دینے پر نظر کرنا اور خدا پر بھروسہ رکھنا۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے۔ 49. مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرکے ان کو ہاتھ لگانے (یعنی ان کے پاس جانے) سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ۔ ان کو کچھ فائدہ (یعنی خرچ) دے کر اچھی طرح سے رخصت کردو۔ 50. اے پیغمبر ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اگر اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہے لیکن) یہ اجازت (اے محمدﷺ) خاص تم ہی کو ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 51. (اور تم کو یہ بھی اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو۔ اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ (اجازت) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو۔ اسے لے کر سب خوش رہیں۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا اسے جانتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور بردبار ہے۔ 52. (اے پیغمبر) ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے (یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے) اور خدا ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔

تفسیر آیات

43۔ 'یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓىٕكَتُهٗ' میں لفظ 'یصلی' اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت سے رحمت کرنے کے مفہوم میں ہوگا اور ملائکہ  کی طرف نسبت سے رحمت کی دعا کے مفہوم میں۔ نسبت کے بدل جانے سے الفاظ کے معانی میں تبدیلی کی مثالیں قرآن اور کلام عرب میں بہت ہیں۔ یہی لفظ اسی سورة میں دو مختلف مفہوموں میں استعمال ہوا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

44۔اس سلام کی بھی تین صورتیں ہیں اور تینوں ہی قرآن کی بعض دوسری آیات سے ثابت ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ خود انہیں سلام کہے گا،دوسرے یہ کہ فرشتے انہیں سلام کہیں گے اور تیسرے یہ کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کہیں گے۔(تیسیر القرآن)

45۔ قولی، عملی اور اخروی شہادت۔(تفہیم القرآن)

ــــ نبی کی شہادت کی تین صورتیں:۔  وہ گواہی یہ ہے کہ اس کائنات کا خالق و مالک اور معبود ِ برحق صرف ایک اللہ ہے دوسرا کوئی اس الوہیت اور حاکمیت میں شریک نہیں۔ اور نبی کی یہ گواہی تین طرح سے ہوتی ہے ایک یہ کہ نظامِ کائنات کے مطالعہ سے وہ خود اس نتیجہ پر پہنچتاہے اور بعض انبیاء کو ملکوت السمٰوات والارض دکھائی اوراس کی سیر بھی کرائی جاتی ہے تاکہ جس شہادت کے وہ داعی بننے والے ہیں اس کا انہیں عین الیقین حاصل ہو۔دوسری گواہی ان کی دعوت پر سب سے پہلے ان کا اپنا عمل ہوتاہے۔یعنی ان کی عملی زندگی اس بات پر گواہ ہوتی ہے کہ نبی جو شہادت دے رہاہے وہ درست اور برحق ہے۔اور تیسری شہادت وہ قیامت کے دن اپنی امت کے حق میں اور منکروں کے خلاف دیں گے۔(تیسیر القرآن)

۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز نبی ﷺ کی شہادت اپنی نوعیت میں اس شہادت سے مختلف نہ ہوگی جسے ادا کرنے کے لیے حضور ﷺ کی امت کو اور ہر امت پر گواہی دینے والے شہداء کو بلایا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ شہادت اعمال کی ہو تو ان سب کا بھی حاضر و ناظر ہونا لازم آتا ہے۔ اور اگر یہ گواہ صرف اس امر کی شہادت دینے کے لیے بلائے جائیں گے کہ خلق تک اس کے خالق کا پیغام پہنچ گیا تھا تو لامحالہ حضور ﷺ بھی اسی غرض کے لیے پیش ہوں گے۔ (تفہیم القرآن)

۔ شَاهِدًا۔ کے معنی ٰ یہ بھی کیے گئے ہیں کہ آپؐ تمام امتوں کے رسولوں پر بطور شاہد پیش ہوں گے کہ وہ ادائے رسالت کرچکے ۔۔۔۔۔اور مولانائے رومیؒ نے تو یہ پہلو لیا ہے کہ حق تعالیٰ نے آپؐ کو بندوں کے مختلف مراتب  ومنازل سے مطلع کررکھا ہے۔

ع۔                       در نظر بودش مقامات العباد                                      زاں سبب نامش خدا شاہد نہاد  (تفسیر ماجدی)

46۔ آیت نمبر:44 میں فرمایا تھا کہ اللہ کی رحمتیں مومنین کو اندھیرے سے نکال کر اجالے میں لاتی ہیں۔یہاں بتلادیا کہ وہ اجالا اس روشن چراغ سے پھیلا ہے ۔(تفسیر عثمانی)

ــــ اس مادی دنیا یا کائنات میں اللہ تعالیٰ نے سورج کو سراج(چراغ)کا نام دیا(سورہ نوح:16)جس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ چاند اور ستارے بالواسطہ اسی سورج سے روشنی حاصل کرتے ہیں اور روحانی دنیامیں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو سراج منیر (چمکتا ہواچراغ)کا لقب عطا فرمایا۔گویا نبوت  کےآفتاب آپؐ ہیں آپ کے طلوع ہونے کے بعد اب کسی دوسری روشنی کی ضرورت نہیں رہی۔ اب ہر انسان کو اپنے ہر شعبہ زندگی کے لئے ہدایت اسی آفتاب نبوت و ہدایت  سے حاصل کرنا ہوگی۔(تیسیر القرآن)

۔ یہ نبی ﷺ کو خطاب کرکے آپ کا منصب بتایا گیا ہے اور اس منصب کے ساتھ جو ذمہ داریاں وابستہ ہیں ان کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے تاکہ حضور ﷺ پر بھی یہ واضح ہوجائے کہ آپ کو کیا کام کرنے ہیں اور کس طرح کرنے ہیں اور دوسروں پر بھی آپ کی شخصیت کی اصلی نوعیت اچھی طرح واضح ہوجائے۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)

۔یہاں بھی ایک عام مبلغ کی تبلیغ اور نبی کی تبلیغ کے درمیان وہی فرق ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ دعوت الی اللہ تو ہر مبلغ دیتا اور دے سکتا ہے، مگر وہ اللہ کی طرف سے اس کام پر مامور نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس نبی اللہ کے اذن (Sanction) سے دعوت دینے اٹھتا ہے۔ اس کی دعوت نری تبلیغ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے بھی اس کے بھیجنے والے رب العالمین کی فرمانروائی کا زور ہوتا ہے۔ اسی بنا پر اللہ کے بھیجے ہوئے داعی کی مزاحمت خود اللہ کے خلاف جنگ قرار پاتی ہے، جس طرح دنیوی حکومتوں میں سرکاری کام انجام دینے والے سرکاری ملازم کی مزاحمت خود حکومت کے خلاف جنگ سمجھی جاتی ہے۔ (تفہیم القرآن)

47۔ مومنوں کو بشارت کہ ان کو حضورؐ کے طفیل سب امتوں پر بزرگی و برتری دی ۔(تفسیر عثمانی)

- وہ رب العزت جس کے سامنے ساری دنیا متاع قلیل ہے (یعنی تھوڑاساسامان) تو جس کو وہ کبیر فرمارہاہے اس کی وسعتوں کا اندازہ کون کرسکتاہے۔(ضیاء القرآن)

۔ مومنوں پر اللہ کا بہت بڑا فضل کیا ہے؟امت مسلمہ کی فضیلت :۔مومنوں پر اللہ کا فضل کبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آفتاب نبوت کو ان لوگوں میں مبعوث فرمایا اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو سب انبیاء سے افضل بنایا اسی طرح آپ کی امت کو دوسری امتوں پر فضیلت اور بزرگی عطافرمائی۔(تیسیر القرآن)

48۔ اس آیت کے اند رحضور ﷺ کے لئے جو تسلی ہے وہ بھی لفظ لفظ سے نمایاں ہے اور مخالفوں کے لئے جو قہر و غضب ہے وہ بھی حرف حرف سے ابلا پڑ رہا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

۔مسئلہ ختمِ نبوت تفصیلی نوٹ (  تدبرِ قرآن صفحہ 243 سے صفحہ 248)

49۔ لَكُمْ۔ کی ضمیر مذکر سے فقہاء نے یہ مطلب نکالا ہے کہ عدت حق  زوج ہے، جیساکہ ولد حق والد ہے۔(تفسیر ماجدی)

ــــ سورہ نساء میں بیویوں کی تعداد پر چار کی پابندی عائد کی گئی ۔اس حکم کی تعمیل میں بعض لوگوں کو زائد بیویوں کو طلاق دینی پڑی۔انہوں نے ایسی بیویوں  کو طلاق دینا زیادہ مناسب سمجھا جن کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی اور جن سے ازدواجی تعلقات ابھی قائم نہیں ہوۓتھے۔یہ ان کے بارے میں مبنی بر عدل سہولت مہیا فرمائی ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

50۔ اجازتِ خاص کے نمایاں پہلو یہ ہیں : ٭آپ کی وہ ازواج جن کے مہر آپ ادا کرچکے ہیں، بلا استثنا آپ کے لئے جائز کی گئیں۔ ٭ملکِ یمین جو بطورفے آپ کو حاصل ہوں، اگر آپ ان میں سے کسی کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔ ٭آپ کے قریبی رشتہ کی خواتین میں سے اگر کسی نے دین کی خاطر اپنے عزیزوں، رشتہ داروں کو چھوڑ کر، آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے، آپ ان میں سے بھی کسی سے نکاح کرسکتے ہیں۔ ٭اگر کوئی مومنہ اپنے آپ کو حبہ کردے اور آپ اس کو اپنے نکاح میں لینا چاہیں تو اس کی بھی آپ کو اجازت ہے۔ ٭یہ نکاح چونکہ تمام تر مصلحت ِ دین و ملت کی خاطر ہیں، اس وجہ سے حقوق زوجیت کے معاملے میں آپ پر سے وہ پابندیاں اٹھالی گئیں جو دوسروں پر تھیں۔ ان آزادیوں کے ساتھ حضور ﷺ پر دو پابندیاں بھی عائد کی گئیں جو دوسروں پر نہیں تھیں۔ ٭ایک یہ کہ اس دائرہ سے باہر آپ کوئی نکاح نہیں کرسکتے۔ ٭دوسری یہ کہ ان ازواج کو دوسری ازواج سے بدل نہیں سکتے۔ یہ آزادی اور پابندی جن مصالح پر مبنی ہے چند اصولی باتیں ان سے متعلق بھی سمجھ لیجئے۔۔۔۔۔ (تفصیلات صفحہ 249 سے صفحہ 250) (تدبرِ قرآن)

۔ آپ کو چار سے زائد بیویوں کی خصوصی اجازت اور اس کی وجہیہ دراصل ایک اعتراض کا جواب ہے۔سیدنا زینب بنت جحش جن سے آپؐ نے اللہ کے حکم سے نکاح کیا تھا یا جن کا نکاح سات آسمانوں پر ہوا تھا آپ کی پانچویں بیوی تھیں۔ اس سے پہلے چاربیویاں سیدہ عائشہؓ بنت ابی بکرؓ سیدہ سودہ بنت زمعہؓ ،سیدہ حفصہؓ بنت عمر اور سیدہ ام سلمہؓ موجود تھیں۔ اور عام مومنوں کے لئے چار بیویوں سے زائد کا جواز نہیں تھا۔ اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس عام قاعدہ سے مستثنیٰ کردیا۔ یہ اعتراض کافروں کی طرف سے تو یقیناً تھا تاہم مسلمانوں کو بھی اس کا خیال آسکتاتھا۔لہذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرمادی کہ عام مومنوں کے لیے چار بیویوں کے جواز کا قانون ہے۔ اور نبیؐ سے ہم جو کچھ لینا چاہتے ہیں اور جو ذمہ داریاں اس پر عائد ہوتی ہیں اس کی بناپر ہم ہی نبی کےلیے اس عام قانون میں استثناء کرنے والے ہیں۔  نیز اس آیت کی روسے اللہ نے آپؐ کومزید بھی تین قسم کی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت فرمادی۔پہلی قسم وہ عورتیں جو مال غنیمت کے طورپر آپ کی ملکیت میں آئیں۔ دوسری آپ کی چچاؤں ،پھوپھیوں،ماموؤں اور خالاؤں کی بیٹیاں جو ہجرت کرکے مدینہ آچکی ہوں۔اور سیدہ زینب بنت جحش ایسی ہی تھیں۔تیسری قسم وہ عورتیں جواز خود اپنے آپ کو آپ سے نکاح کے لئے پیش کریں اور اگر اپنا نفس ہبہ کرنے والی کوئی عورت آپؐ کو پسند آجائے تو اس کا حق مہر کچھ نہیں ہوگا۔نہ گواہوں کی ضرورت ہوگی اور نہ اس عورت کے ولی کی رضا کی۔بس عورت کا اپنا نفس ہبہ کردینا ہی نکاح سمجھا جائے گا۔ اس سلسلہ میں درج ذیل دواحادیث ملاحظہ فرمالیجئے۔کون کون سی عورت نبیؐ کی بیوی بن سکتی ہے؟1 ۔ ام ہانیؓ (ابوطالب کی بیٹی اور آپ کی چچازاد بہن)کہتی ہیں کہ آپؐ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا مگر میں نے معذرت کردی(کہ میرے چھوٹے چھوٹے رونے پیٹنے والے بچے ہیں)آپ نے میرا عذرقبول فرمالیا۔پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے آپؐ سے کہا کہ میں تو آپؐ پر حلال بھی نہیں کیونکہ میں نے ہجرت نہیں کی تھی اور فتح مکہ کے بعد اسلام لانے والوں سے تھی۔(ترمذی،کتاب التفسیر)سیدہ عائشہ کا تبصرہ: ۔2۔سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مجھے ان عورتوں پر غیرت آئی تھی جو اپنے تئیں نبی کریمؐ کو بخش دیتی تھیں میں کہتی، بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ کوئی عورت اپنے تئیں بخش دے۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو میں نے( آپؐ سے )کہا: "میں تو یہ دیکھ رہی ہوں کہ جیسی آپ ؐ کی خواہش ہو آپؐ کا پروردگار فوراً  ویسا ہی حکم دیتاہے۔"(بخاری۔ کتاب التفسیر)۔(تیسیر القرآن)

۔حضرت عائشہ، حضرت سودہ، حضرت حفصہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہن کے مہر آپؐ اداکرچکے تھے۔ حضرت جویریہؓ اور حضرت صفیہؓ بالترتیب  بنو مصطلق اور بنو نضیر کے سرداروں کی بیٹیاں تھیں اور آپؐ کو غنیمت کے طورپر حاصل ہوئیں ۔اور حضرت زینبؓ اور حضرت ام حبیبہؓ آپؐ کی رشتہ دار مہاجر خواتین تھیں۔۔۔۔۔'ھبہ کردینے 'کا مطلب یہ ہے کہ کوئی خاتون اپنے ہر حق سے دستبردار ہوکر اپنے تئیں پیغمبرؐ کے حوالے کردے۔ یہ ایک انتہائی ایثار نفس کی صورت ہے جس کا جذبہ متعدد صحابیاتؓ کے اندر حضورؐ سے شرف و نسبت کے لیے موجود تھا اور انہوں نے حضورؐ سے اس کا اظہار بھی کیا لیکن آپؐ نے صرف حضرت میمونہؓ کو یہ شرف بخشا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔ اس فقرے کا تعلق اگر صرف قریب کے فقرے سے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ دوسرے کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی عورت اپنے آپ کو اس کے لیے ہبہ کرے اور وہ بلا مہر اس سے نکاح کرلے۔ اور اگر اس کا تعلق اوپر کی پوری عبارت سے مانا جائے تو اس سے مراد یہ ہوگی کہ چار سے زیادہ نکاح کرنے کی رعایت بھی صرف حضور ﷺ کے لیے ہے، عام مسلمانوں کے لیے نہیں ہے۔ اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ کچھ احکام نبی ﷺ کے لیے خاص ہیں جن میں امت کے دوسرے لوگ آپ ﷺ کے ساتھ شریک نہیں ہیں۔ قرآن و سنت کے تتبُّع سے ایسے متعدد احکام کا پتہ چلتا ہے۔ مثلاً حضور ﷺ کے لیے نماز تہجد فرض تھی اور باقی تمام امت کے لیے وہ نفل ہے۔ آپ ﷺ کے لیے اور آپ کے خاندان والوں کے لیے صدقہ لینا حرام ہے اور کسی دوسرے کے لیے وہ حرام نہیں ہے۔ آپ ﷺ کی میراث تقسیم نہ ہو سکتی تھی، باقی سب کی میراث کے لیے وہ احکام ہیں جو سورة نساء میں بیان ہوئے ہیں۔ آپ کے لیے چار سے زائد بیویاں حلال کی گئیں، بیویوں کے درمیان عدل آپ پر واجب نہیں کیا گیا، اپنے نفس کو ہبہ کرنے والی عورت سے بلا مہر نکاح کرنے کی آپ کو اجازت دی گئی، اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی بیویاں تمام امت پر حرام کردی گئیں۔ ان میں سے کوئی خصوصیت بھی ایسی نہیں ہے جو حضور ﷺ کے علاوہ کسی مسلمان کو حاصل ہو۔ مفسرین نے آپ ﷺ کی ایک خصوصیت یہ بھی بیان کی ہے کہ آپ کے لیے کتابیہ عورت سے نکاح ممنوع تھا، حالانکہ باقی امت کے لیے وہ حلال ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔اس آیت کے متعلق، بعض روایات کی بنا پر، لوگوں نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ حضور کے تمام نکاحوں کے بعد نازل ہوئی اور اس کے ذریعہ سے گویا آپ کو ایہ اطمینان دلادیا گیا کہ آپ ﷺ نے جتنے نکاح کیے سب جائز ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ بات صحیح نہیں ہے۔۔ ۔پہلی قابل توجہ بات یہ ہے کہ تحدید ازواج کا صریح حکم نازل ہوجانے کے بعد حضور ﷺ کے لئے یہ ممکن کس طرح تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر آپ کوئی نکاح اس ضابطہ کے خلاف کرتے۔ آپ ﷺ کے شایانِ شان بات تو یہ تھی کہ آپ ﷺ اس حکم پر سب سے بڑھ کر عمل کرنے والے بنتے۔۔۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر اتنی ہی بات کہنی تھی کہ آپ کے سب نکاح جائز ہیں تو یہ رشتوں اور عورتوں کی اقسام کی تفصیل کی کیا ضرورت تھی۔ پھر تو یہ مختصر سا فقرہ بالکل کافی ہوتا کہ اب تک آپ ﷺ نے جتنے نکاح کیے سب اللہ نے جائز کردیے۔ اس پر کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں ہے۔ ۔ ۔۔۔۔جس وقت تحدید ِ ازواج والی آیت  نازل  ہوئی ہے اس وقت تو آپ ﷺ کے نکاح میں چار ہی بیویاں تھیں، اس وجہ سے کسی کو طلاق دینے کا سوال ہی نہیں پید اہوتا تھا، البتہ بعد میں جب آپ نے جضرت زینب ؓ سے نکاح کیا تو یہ چیز معترضین کے لیے وجہ اعتراض بنی ہو گی، اور اس اعتراض سے دوسرے نیک نیت لوگوں کے اندر بھی شبہات پیدا ہونے کا امکان تھا۔ اس امکان کے سد باب کے لیے اللہ تعالی نے نہایت تفصیل سے واضح فرما دیا کہ حضرت زینب سے نکاح اللہ تعالی نے اپنے حکم سے کرایا ہے اور اس معاملے میں پیغمبرؐ کے لیے عام مسلمانوں سے الگ ضابطہ ہے۔ وہ فلاں فلاں اقسام کی خواتین سے آئندہ بھی نکاح کرسکتے ہیں۔ اس طرح حضرت زینب ؓ کے نکاح کو بھی جائز فرما دیا اور آئندہ کے لئے ایک ضابطہ بھی مقرر کردیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یہ آیت 5 ھ؁ میں حضرت زینب ؓ کے نکاح کے بعد نازل ہوئی ہے۔(تدبرِ قرآن)

 51۔ "ذلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ" یہ ازواج مطہرات ؓ کو تشویق و ترغیب ہے کہ وہ اپنے اوپر پیغمبر ﷺ کے تعلق کو عام میاں بیوی کے تعلق کی کسوٹی پر نہ رکھیں۔ بلکہ پیغمبر ﷺ کی اصل ذمہ داری اور اپنی اصل حیثیت کو سامنے رکھ کر جانچیں۔ اصل چیز زاویہ نگاہ ہے۔ اگر اس میں تبدیلی ہوجائے گی اور وہ یہ سمجھ جائیں گی کہ پیغمبر ﷺ کے ساتھ ان کا اصل تعلق صرف میاں بیوی کا نہیں بلکہ خدمت دین کا ہے تو پھر حقوق کے معاملے میں نہ باہم ازواج میں کوئی رقابت ہوگی اور نہ پیغمبرؐ  ہی سے کوئی گلہ و شکوہ رہے گا بلکہ اپنے مصروف لمحات میں سے پیغمبرؐ جو کچھ جس کو بخش دیں گے وہ اسی پر قناعت کریں گی۔ زاویہ نگاہ کی تبدیلی کے بعد دینی خدمت کے اعتبار سے جس کا مرتبہ بلند ہوگا اس کی قدر جس طرح نبی ﷺ کی نظروں میں ہوگی اسی طرح آپ کی ازواج کی نگاہوں میں بھی ہوگی اور باہمی رشک و رقابت کی تمام تلخیاں کافور ہوجائیں گی۔ ۔ (تدبرِ قرآن)

52۔ کنیزوں کی رخصت کا غلط استعمال:۔۔۔۔۔۔آپؐ کی کنیزیں صرف دو تھیں ایک ماریہ قبطیہ جن کے بطن سے سیدنا ابراہیم پیدا ہوئے تھے اور دوسری ریحانہؓ۔(تیسیر القرآن)

ــــ فقہاء نے آیت سے یہ بھی نکالا ہے کہ جس عورت سے شادی کا ارادہ ہو اس کا دیکھنا جائز ہے۔۔۔۔۔اور بعض نے اجازت سے بڑھ کر اس کو ارشاد کے معنی میں لیا ہے۔(تفسیر ماجدی)]


ساتواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا ﴿53﴾ اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا ﴿54﴾ لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا ﴿55﴾ اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا ﴿56﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی ا]لدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا ﴿57﴾ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ ۧ ۧ ﴿58ع الأحزاب 33﴾
53. مومنو پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھاچکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو۔ یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے۔ اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں (اور کہتے نہیں ہیں) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا۔ اور جب پیغمبروں کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر مانگو۔ یہ تمہارے اور ان کے دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔ اور تم کو یہ شایاں نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو۔ بےشک یہ خدا کے نزدیک بڑا (گناہ کا کام) ہے۔ 54. اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو مخفی رکھو تو (یاد رکھو کہ) خدا ہر چیز سے باخبر ہے۔ 55. عورتوں پر اپنے باپوں سے (پردہ نہ کرنے میں) کچھ گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے اور نہ اپنے بھتیجوں سے اور نہ اپنے بھانجوں سے نہ اپنی (قسم کی) عورتوں سے اور نہ لونڈیوں سے۔ اور (اے عورتو) خدا سے ڈرتی رہو۔ بےشک خدا ہر چیز سے واقف ہے۔ 56. خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو تم بھی ان پر دُرود اور سلام بھیجا کرو۔ 57. جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 58. اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا۔

تفسیر آیات

53۔یہی آیت ہے جس کو آیت حجاب  کہا جاتا ہے۔ بخاری میں حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ اس آیت کے نزول سے پہلے متعدد مرتبہ حضور ﷺ سے عرض کرچکے تھے کہ یا رسول اللہ، آپ ﷺ کے ہاں بھلے اور برے سب ہی قسم کے لوگ آتے ہیں۔ کاش آپ اپنی ازواج مطہرات کو پردہ کرنے کا حکم دے دیتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے ازواج رسول ﷺ سے کہا کہ " اگر آپ کے حق میں میری بات مانی جائے تو کبھی میری نگاہیں آپ کو نہ دیکھیں۔ " لیکن رسول اللہ ﷺ چونکہ قانون سازی میں خود مختار نہ تھے، اس لیے آپ اشارۂ الٰہی کے منتظر رہے۔۔۔۔۔۔۔اب جس شخص کو بھی خدا نے بینائی عطا کی ہے وہ خود دیکھ سکتا ہے کہ جو کتاب مردوں کو عورتوں سے رو در رو بات کرنے سے روکتی ہے، اور پردے کے پیچھے سے بات کرنے کی مصلحت یہ بتاتی ہے کہ " تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے یہ طریقہ زیادہ مناسب ہے " اس میں سے آخر یہ نرالی روح کیسے کشید کی جاسکتی ہے کہ مخلوط مجالس اور مخلوط تعلیم اور جمہوری ادارات اور دفاتر میں مردوں اور عورتوں کا بےتکلف میل جول بالکل جائز ہے اور اس سے دلوں کی پاکیزگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کسی کو قرآن کی پیروی نہ کرنی ہو تو اس کے لیے زیادہ معقول طریقہ یہ ہے کہ وہ خلاف ورزی کرے اور صاف صاف کہے کہ میں اس کی پیروی نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن یہ تو بڑی ہی ذلیل حرکت ہے کہ وہ قرآن کے صریح احکام کی خلاف ورزی بھی کرے اور پھر ڈھٹائی کے ساتھ یہ بھی کہے کہ یہ اسلام کی " روح " ہے جو میں نے نکال لی ہے۔ آخر وہ اسلام کی کونسی روح ہے جو قرآن و سنت کے باہر کسی جگہ ان لوگوں کو مل جاتی ہے ؟ (تفہیم القرآن)

۔ مسلمانوں کے لئے ایک دوسرے کے گھروں میں آنے جانے سے متعلق ضروری آداب سورة نور میں بیان ہوچکے ہیں۔ یہاں نبی کے گھروں سے متعلق انہی آداب کی مزید وضاحت ہو رہی ہے اور اس وضاحتِ مزید کی ضرورت انہی منافقین کی وجہ سے پیش آئی جن کا رویہ اس سورة میں زیر بحث ہے۔۔۔۔۔۔اس آیت کا انداز، تنبیہ کا ہے اس وجہ سے اس میں حضور ﷺ کا ذکر رسول اللہ کے لفظ سے ہوا ہے حالانکہ اوپر کی آیات میں بار بار آپ کا  ذکر نبی کے لفظ سے ہوا ہے۔ اس کی وجہ اس تنبیہ کی شدت کو ظاہر کرنا ہے۔ اس لئے کہ رسول، جیسا کہ ہم اس کتاب میں بار بار واضح کرچکے ہیں، اپنی قوم کے لئے خدا کی عدالت ہوتا ہے۔ وہ جب آتا ہے تو صرف وعظ سنانے کے لئے نہیں آتا، بلکہ قوم کے نیکوں اور بدوں کے درمیان فیصلہ کردینے کے لئے آتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے ساتھ مذاق یا اس کو اذیت پہنچانا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ یہ کھیل کھیل رہے ہیں وہ آگ سے کھیل رہے ہیں۔ اس کے اس انجام کو وہ سامنے رکھیں۔ (تدبرِ قرآن)

۔  لیکن ان سب امور کے ہوتے ہوئے ان کی طہارتِ  قلب اور نفسانی و ساوس سے بچنے کے لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ مرد و عورت کے درمیان پردہ کرایا جائے ۔ آج کون ہے جو اپنے نفس کو صحابہ کرام کے نفوسِ پاک سے اور اپنی عورتوں کے نفوس کو ازواج ِ  مطہرات کے نفوس سے زیادہ  پاک ہونے کا دعوٰی کر سکے ، اور یہ سمجھے کہ ہمارا اختلاط عورتوں کے ساتھ کسی خرابی کا موجب نہیں ہے؟ ۔۔۔۔  صحیحین بخاری و مسلم میں حضرت فاروقِ اعظم  کا یہ قول منقول ہے کہ انھوں نے فرمایا: " میں نے موافقت کی اپنے رب کے ساتھ تین چیزوں میں ایک یہ کہ میں نے رسولؐ  سے عرض  کیا کہ مقامِ ابراہیم کو اپنی جائے نمازبنا لیں اس پر اللہ تعالیٰ نے  یہ  آیت نازل فرمائی، وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى اور میں نے آنحضرتﷺ سے یہ عرض کیا کہ آپ کی ازواج مطہرات کے سامنے ہر نیک و بد انسان آتا ہے، بہتر ہو کہ آپ ان کو پردہ کرائیں، اس پر آیتِ حجاب نازل ہو گئی۔ اورجب ازواج مطہرات میں باہمی غیرت و رشک بڑھنے لگا تو میں نے ان سے کہا کہ اگر رسولؐ تمہیں طلاق دے دیں تو بعید نہیں کہ اللہ آپؐ کو تم سے بہتر ازواج  عطا فرما دیں۔ چنانچہ انہی الفاظ کے ساتھ قرآن نازل ہو گیا۔۔۔۔۔۔یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں ۔ آپؐ کی وفات کا درجہ ایسا ہے جیسے کوئی زندہ شوہر گھر سے غائب ہو ، اسی لیے آپ کی میراث تقسیم نہیں ہوئی، اسی بنا پر آپ کی ازواج کا وہ حال نہیں جو عام شوہروں کی وفات پر ان کی ازواج  کا ہوتا ہے۔   (معارف القرآن)

56۔ اللہ کی صلوٰ ۃ رحمت بھیجنا ،فرشتوں کی صلوٰۃ استغفار  مانگنا اور مؤمنین کی صلوٰۃ  دعا کرنا ہے۔صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ آپ نے نماز میں سلام (تشہد میں السلام علیک ایھاالنبی و رحمۃ للہ وبرکاتہ ) کا طریقہ بتا دیا  صلٰوۃ کا طریقہ بھی بتا دیجیے۔صلوٰۃ کا طریقہ حضورؐ نے درود ابراہیمی (اور بہت سے درود  بمع حضرت ابراھیم ؑ   کا ذکر)بتایا ۔ (تفسیر عثمانی)

۔ چوتھی یہ کہ مقصود درود وسلام کی تکثیر ہے۔ موقع و محل بھی اس مفہوم کا متقاضی ہے اور آیت کے الفاظ بھی اسی کے شاہد ہیں۔ اس لئے کہ تسلموا تسلیما“ میں مصدر تاکید و تکثیر کے مفہوم پر دلیل ہے۔ اس وجہ سے ہم ان فقہاء کے رائے کو صحیح نہیں سمجھتے جو کہتے ہیں کہ اگر عمر بھر میں ایک مرتبہ بھی کوئی درود پڑھ لے تو اس آیت کا حق ادا ہوجائے گا۔ (تدبرِ قرآن)

ــــ  سیدنا عمربن خطابؓ فرماتے ہیں:جب تک تو اپنے نبی پر درود نہ بھیجے دعازمین و آسمان کے درمیان موقوف رہتی ہے اور اوپر نہیں چڑھتی۔(ترمذی۔بحوالہ مشکوٰۃ۔باب الصلوٰۃ  علی النبی۔فصل ثانی)(تیسیر القرآن)

۔ ۔۔۔اس سلسلۂ بیان میں یہ بات کس لیے ارشاد فرمائی گئی ہے۔ وقت وہ تھا جب دشمنان اسلام اس دین مبین کے فروغ پر اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے حضور ﷺ کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کر رہے تھے اور اپنے نزدیک یہ سمجھ رہے تھے کہ اس طرح کیچڑ اچھال کر وہ آپ ﷺ کے اس اخلاقی اثر کو ختم کردیں گے جس کی بدولت اسلام اور مسلمانوں کے قدم روز بروز بڑھتے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔ساری کائنات کا نظم و نسق جن فرشتوں کے ذریعہ سے چل رہا ہے وہ سب اس کے حامی اور ثنا خواں ہیں۔۔۔۔۔۔وہ اپنے اوچھے ہتھیاروں سے اس کا کیا بگاڑ سکتے ہیں جبکہ میری رحمتیں اور برکتیں اس کے ساتھ ہیں اور میرے فرشتے شب و روز دعا کر رہے ہیں کہ رب العالمین، محمد ﷺ کا مرتبہ اور زیادہ اونچا کر اور اس کے دین کو اور زیادہ فروغ دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صلوٰۃ کا لفظ جب علیٰ کے صلہ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے تین معنی ہوتے ہیں۔ ایک، کسی پر مائل ہونا، اس کی طرف محبت کے ساتھ متوجہ ہونا اور اس پر جھکنا۔ دوسرے، کسی کی تعریف کرنا۔ تیسرے، کسی کے حق میں دعا کرنا۔ یہ لفظ جب اللہ تعالیٰ کے لیے بولا جائے گا تو ظاہر ہے کہ تیسرے  معنی میں نہیں ہوسکتا، کیونکہ اللہ کا کسی اور سے دعا کرنا قطعاً ناقابل تصور ہے۔ اس لیے لامحالہ وہ صرف پہلے دو معنوں میں ہوگا۔ لیکن جب یہ لفظ بندوں کے لیے بولا جائے گا، خواہ وہ فرشتے ہوں یا انسان، تو وہ تینوں معنوں میں ہوگا۔ اس میں محبت کا مفہوم بھی ہوگا۔ مدح و ثنا کا مفہوم بھی اور دعائے رحمت کا مفہوم بھی۔ لہٰذا اہل ایمان کو نبی ﷺ کے حق میں صَلُّوْ عَلَیْہِ کا حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم ان کے گرویدہ ہوجاؤ، ان کی مدح و ثنا کرو، اور ان کے لیے دعا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سَلَام کا لفظ بھی دو معنی رکھتا ہے۔ ایک، ہر طرح کی آفات اور نقائص سے محفوظ رہنا، جس کے لیے ہم اردو میں سلامتی کا لفظ بولتے ہیں۔ دوسرے صلح اور عدم مخالفت۔ پس نبی ﷺ کے حق میں سَلِّمُوْا تِسْلِیْماً کہنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ تم ان کے حق میں کامل سلامتی کی دعا کرو۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم پوری طرح دل و جان سے ان کا ساتھ دو ، ان کی مخالفت سے پرہیز کرو، اور ان کے سچے فرمانبردار بن کر رہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوّلاً ، ان سب میں حضور ﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا ہے کہ مجھ پر درود بھیجنے کا طریقہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اے خدا، تو محمد ﷺ پر درود بھیج۔ نادان لوگ جنہیں معنی کا شعور نہیں ہے اس پر فوراً یہ اعتراض جڑ دیتے ہیں کہ یہ تو عجیب بات ہوئی، اللہ تعالیٰ تو ہم سے فرما رہا ہے کہ تم میرے نبی ﷺ پر درود بھیجو، مگر ہم الٹا اللہ سے کہتے ہیں کہ تو درود بھیج۔ حالانکہ دراصل اس طرح نبی ﷺ نے لوگوں کو یہ بتایا ہے کہ تم مجھ پر " صلوٰۃ " کا حق ادا کرنا چاہو بھی تو نہیں کرسکتے ‘ اس لیے اللہ ہی سے دعا کرو کہ وہ مجھ پر صلوٰۃ فرمائے۔ ظاہر بات ہے کہ ہم حضور ﷺ کے مراتب بلند نہیں کرسکتے۔ اللہ ہی بلند کرسکتا ہے۔ ہم حضور ﷺ کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتے۔ اللہ ہی ان کا اجر دے سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثانیاً حضور ﷺ کی شان کرم نے یہ گوارا نہ فرمایا کہ تنہا اپنی ہی ذات کو اس دعا کے لیے مخصوص فرما لیں، بلکہ اپنے ساتھ اپنی آل اور ازواج اور ذریت کو بھی آپ ﷺ نے شامل کرلیا۔ ازواج اور ذریت کے معنی تو ظاہر ہیں۔ رہا آل کا لفظ، تو وہ محض حضور ﷺ کے خاندان والوں کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس میں وہ سب لوگ آجاتے ہیں جو آپ ﷺ کے پیرو ہوں اور آپ کے طریقہ پر چلیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثالثاً ہر درود جو حضور ﷺ نے سکھایا ہے اس میں یہ بات  ضرور شامل ہے کہ آپ پر ویسی ہی مہربانی فرمائی جائے جیسی ابراہیم ؑ اور آل ابراہیم ؑ پر فرمائی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اکثریت کا یہ مسلک بھی ہے کہ حضور ﷺ کے سوا کسی نبی کے لیے بھی ﷺ کے الفاظ کا استعمال درست نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)

57۔ اللہ کو اذیت دینے سے مراد دو چیزیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کی نافرمانی کی جائے، اس کے مقابلے میں کفر و شرک اور دہریت کا رویہ اختیار کیا جائے، اور اس کے حرام کو حلال کرلیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی جائے، اور رسول کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے۔ (تفہیم القرآن)


آ ٹھواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ﴿59﴾ لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًاۖ ۛ ۚ ﴿60﴾ مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا ﴿61﴾ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا ﴿62﴾ یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا ﴿63﴾ اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ ﴿64﴾ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ ﴿65﴾ یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا ﴿66﴾ وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا ﴿67﴾ رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ ۧ ۧ ﴿68ع الأحزاب 33﴾
59. اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا (کر گھونگھٹ نکال) لیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی ان کو ایذا نہ دے گا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 60. اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے (کے شہر میں) بری بری خبریں اُڑایا کرتے ہیں (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن۔ 61. (وہ بھی) پھٹکارے ہوئے۔ جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے۔ 62. جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کی یہی عادت رہی ہے۔ اور تم خدا کی عادت میں تغیر وتبدل نہ پاؤ گے۔ 63. لوگ تم سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں (کہ کب آئے گی) کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو۔ 64. بےشک خدا نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے (جہنم کی) آگ تیار کر رکھی ہے۔ 65. اس میں ابدا لآباد رہیں گے۔ نہ کسی کو دوست پائیں گے اور نہ مددگار۔ 66. جس دن ان کے منہ آگ میں الٹائے جائیں گے،کہیں گے اے کاش ہم خدا کی فرمانبرداری کرتے اور رسول (خدا) کا حکم مانتے۔ 67. اور کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہا مانا تو انہوں نے ہم کو رستے سے گمراہ کردیا۔ 68. اے ہمارے پروردگار ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔

تفسیر آیات

59۔ روایات میں ہے  کہ اس آیت کے نازل ہونے پر مسلمان عورتیں بدن اور چہرہ چھپاکر اس طرح نکلتی تھیں کہ صرف ایک آنکھ دیکھنے کےلئے کھلی رہتی ۔(تفسیر عثمانی)

۔بنات النبیؐ:۔  ضمناً اس سے اس بات کا پتہ لگتاہے کہ رسول اللہؐ کی بیٹیاں تین یا تین سے زیادہ تھیں اور حقیقتاً یہ چارتھیں۔سیدہ زینب، سیدہ رقیہ،سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ ؓ ۔جبکہ شیعہ حضرات آپؐ کی صرف ایک بیٹی (سیدہ فاطمہؓ)کو تسلیم کرتے ہیں۔باقی کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔(تیسیر القرآن)

۔ زمانہ جاہلیت میں سب متبرجات اور  بیگمات ہی نہیں تھیں بلکہ شرفاء کے خاندانوں کی بہو  بیٹیاں بھی تھیں جو باہر نکلنے کی صورت میں اپنی اوڑھنیوں کے اوپر جلباب ڈالا کرتی تھیں۔ (تدبرِ قرآن)

61۔ ’ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ ٗ میں ’مرض ‘ سے، جیسا کہ دوسرے محل میں اس کی وضاحت ہوچکی ہے، حسد، کینہ اور بغض وعناد مراد ہے۔ (تدبرِ قرآن)


نواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ ﴿69﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ ﴿70﴾ یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا ﴿71﴾ اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ ﴿72﴾ لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ ۧ ۧ ﴿73ع الأحزاب 33﴾
69. مومنو تم ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ (کو عیب لگا کر) رنج پہنچایا تو خدا نے ان کو بےعیب ثابت کیا۔ اور وہ خدا کے نزدیک آبرو والے تھے۔ 70. مومنو خدا سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو۔ 71. وہ تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک بڑی مراد پائے گا۔ 72. ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے۔ اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بےشک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ 73. تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور خدا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر آیات

69۔بنی اسرائیل کی موسیٰؑ کو ایذارسانی:۔ سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا : بنی اسرائیل برہنہ غسل کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھتا رہتاتھا ،مگرموسیٰؑ تنہا غسل فرمایا کرتے ۔۔۔۔۔اب ظاہر ہے کہ جو لوگ خرق عادت واقعات یا معجزات کے منکر ہیں۔ انہیں یہ تفسیر راس نہیں آسکتی۔تاہم اس حدیث کے الفاظ میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ بھی اسے تسلیم کرلیں وہ یوں کہ حجر کے معنی پتھربھی ہیں اور گھوڑی بھی۔(منجد)اس لحاظ سے یہ واقعہ یوں ہوگاکہ موسیٰؑ گھوڑی پر سوار تھے۔کسی تنہائی کے مقام پر نہانے لگے تو گھوڑی کوکھڑاکیا اور اسی پر اپنے کپڑے رکھ دئیے۔جب نہانے کے بعد کپڑے لینے کے لئے آگے بڑھے تو گھوڑی دوڑپڑی اور اور موسیٰؑ ثوبی یا حجر کہتے اس کے پیچھے دوڑے تاآنکہ کچھ لوگوں نے آپ کو ننگے بدن دیکھ لیا کہ آپ بالکل بے داغ اور ان کی مزعومہ بیماری سے پاک ہیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کو ان لوگوں کے الزام سے بری کردیا۔(تیسیر القرآن)

۔  دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ " اے مسلمانو ! تم یہودیوں کی سی حرکتیں نہ کرو۔ تمہاری روش اپنے نبی کے ساتھ وہ نہ ہونی چاہیے جو بنی اسرائیل کی روش موسیٰ ؑ کے ساتھ تھی "۔ بنی اسرائیل خود مانتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ ان کے سب سے بڑے محسن تھے۔ جو کچھ بھی یہ قوم بنی، انہی کی بدولت بنی، ورنہ مصر میں اس کا انجام ہندوستان کے شودروں سے بھی بدتر ہوتا۔ (تفہیم القرآن)

۔ تورات میں بار بار اس بات کا ذکر آتا ہے کہ بنی اسرائیل کو جب کوئی آزمائش پیش آتی تو وہ اس کا الزام حضرت موسیٰ ؑ پر ڈال کر ان کو ہدفِ ملامت بناتے۔ مثال کے طور پر ہم یہاں بعض واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مصر میں حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کے بعد جب بنی اسرائیل کو آزمائشوں سے سابقہ پیش آیا تو انہوں نے ان سب کا سبب حضرت موسیٰ ؑ کو ٹھہرایا اور کہا کہ اس شخص کی بدولت ہم اس کی پیدائش سے پہلے بھی آفتوں میں مبتلا رہے اور اس کی پیدائش کے بعد بھی ہدفِ مصائب رہے۔ حضرت موسیٰ ؑ جب ان کو ملک ِ مصر سے لے کر نکلے اور مصریوں نے ان کا تعاقب کیا تو ساری قوم نے بڑبڑانا شروع کیا کہ یہ دیکھو، اس شخص نے ہمیں کہاں لا کر ہمارے مروانے کا سامان کیا ہے۔ دریا پار کرنے کے بعد جب حضرت موسیٰ ؑ طور پر تورات لینے گئے تو قوم کے ایک بہت بڑے حصہ نے کہنا شروع کیا کہ یہ شخص تو ہمیں یہاں چھوڑ کر معلوم نہیں کہاں غائب ہوگیا اور اب وہ آنے والا نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے سامری سے ایک بچھڑا بنوایا اور اس کی پرستش شروع کردی۔ قارون نے اپنی ایک پارٹی بنائی اور لوگوں میں یہ فتنہ پھیلایا کہ یہ شخص (حضرت موسیٰ ؑ  ) تنہا سارے دین کے جاننے اور لوگوں کی پیشوائی کا اجارہ دار بن بیٹھا ہے حالانکہ خداوند کی نظر میں سب برابر ہیں۔ اس شخص کو ہم پر کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے۔ بیابان کی زندگی کے دور میں جب کھانے پینے کی تکلیف ہوئی تو انہوں نے علانیہ حضرت موسیٰ ؑ کو ملامت کی کہ کیا مصر میں ہمارے لئے قبروں کی جگہ نہیں تھی کہ تو نے ہمیں بھوک پیاس سے مرنے کے لئے یہاں بیابان میں لا کر ڈال دیا ہے۔ بیابان میں جب کھانے کے لئے من وسلویٰ اور پانی کے لئے اکٹھے بارہ چشموں کا انتظام ہوگیا تو انہوں نے پھر بڑبڑانا شروع کیا کہ اس من وسلویٰ سے تو ہماری جان سوکھ گئی، ہمیں تو مصر کے کھیرے، ککڑیاں اور لہسن پیاز یاد آتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے جب ان کو فلسطین پر حملہ کرنے کے لئے ابھارا تو انہوں نے کہا کہ تم وہاں کے زور آور اور جبار باشندوں کی تلواروں سے ہمارا قیمہ کرانا چاہتے ہو۔ ہم اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔ لڑنا ہے تو تم اور تمہارا خدا دونوں جا کر لڑو۔ ہم تویہیں بیٹھے ہیں۔بنی اسرائیل کی اس روش پر حضرت موسیٰ ؑ نے جن درد انگیز الفاظ میں بار بار اپنے رنج و غم کا اظہار فرمایا ہے ان کو تورات میں پڑھیے تو کچھ اندازہ ہوگا کہ انہیں اپنی قوم کے ہاتھوں کیا کیا دکھ جھیلنے پڑے ہیں۔ بنی اسرائیل کی اسی طرح کی ایذارسانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہاں مسلمانوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ تم اپنے رسول کے ساتھ اس طرح کا معاملہ نہ کرو جس طرح کا معاملہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ کیا ورنہ اسی انجام سے دو چار ہوگے جس انجام سے وہ دو چار ہوئے۔ (تدبرِ قرآن)

72۔ امانت سے مراد احکام شریعت کو سرانجام دینے کی ذمہ داری ہے ۔یہ عرضِ امانت کا واقعہ میثاق ِ ازل یعنی عہد الست سے پہلے کا ہے۔خلافت ِ ارضی کےلئے بارِ امانت اٹھانے کی صلاحیت ضروری تھی۔۔۔۔۔اور بعض حضرات نے فرمایا کہ لفظ ظلوم وجہول اس جگہ بھولے بھالے کے معنی میں بطور محبانہ خطاب کے ہے کہ اس نے اللہ جل شانہ کی محبت اور اس کے مقام قرب کی جستجو میں کسی انجام کا نہیں سوچا۔ اسی طرح یہ لفظ پوری بنی نوع کے لئے بھی ہوسکتا ہے۔ تفسیر مظہری میں حضرت مجدد الف ثانی اور دوسرے صوفیائے کرام سے اسی طرح کا مضمون منقول ہے۔ (معارف القرآن)

- اس جگہ "امانت" سے مراد وہی خلافت ہے جو قرآن کی روسے انسان کو زمین میں عطا کی گئی ۔ایک تمثیل ۔ص137۔ زمین ، آسمان ، پہاڑ اور ایک پانچ چھ فٹ کا آدمی۔(تفہیم القرآن)

- ہر ذمہ داری کے تحمل کےلئے ایک خاص صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ اگر صلاحیت نہ ہوتو وہ لازماً اس سے اباء کریگی۔ظلوم اس کو کہیں گے۔ جو عدل و حق کا شعور رکھتے ہوئے ظلم کا ارتکاب کرے۔ اسی طرح جہول اس کو کہیں گے جو علم و حلم کی صلاحیت کے باوصف جہل اور جذبات سے مغلوب ہوجائے ۔یہی چیز انسان کی صلاحیت ہے۔ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔(تدبر قرآن)

ــــ معلوم ہواکہ انسان اگرچہ اپنے مادی وجود کے اعتبارسے کائنات کی ایک حقیر ہستی ہے لیکن اپنی معنوی صلاحیتوں کے اعتبار سے آسمانوں سے بلند، زمین سے وسیع تر اور پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ــــ امانت سے مراد "روح" ، سجود ملائکہ روح کی وجہ سے ۔روح ،امر ربی کی شے ہے (عالم ِ خلق اور عالمِ امر کی بحث میں روح کا تعلق عالم امر سے ہے ) ظلوماً جہولاً سے مراد انسانی کمزوریاں ہیں۔(بیان القرآن)

73۔ یہ سورة قرآن حکیم کی مشکل سورتوں میں سے ہے اور میں اس پر قلم اٹھانے سے گبھراتا رہا ہوں۔ اگرچہ اس کی مشکلات، اپنے علم کے حد تک، میں نے بہت پہلے حل کرلی تھیں لیکن یہ تردد سراسرا دامن گیر رہا کہ دل و دماغ میں جو کچھ ہے قلم اس کو ادا بھی کرسکے گا یا نہیں۔ (تدبر قرآن)