34 - سورة سبا (مکیہ)

رکوع - 6 آیات - 54

مضمون: یہ اثبات توحید کے مضمون کی حامل سورتوں کے گروپ کی پہلی سورۂ ہے۔اس گروپ کا اختتام سورہ حجرات پر ہوگا۔اس سورۂ میں قریش کے امراء کو نعمت پر شکراداکرنے کی تلقین کی گئی ہے۔یہی شکر توحید کی بنیاد ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون:مشرکین مکہ کو توحید ،رسالت اور عقیدہ آخرت پر سطحی اعتراضات کرنے کی بجائے ،متکبر قیادت کی پیروی اور تشکیک سے بچتے ہوئے اسلام قبول کرلینے کا مشورہ۔آل داؤد سے جس شکر کا مطالبہ کیا گیا تھا وہی قریش سے کیا گیا اور انہیں قومِ سبا کے انجام سے ڈر ایاگیا ۔جنات اور ملائکہ کی عبادت نہ کرنے کا مشورہ ۔

شانِ نزول: سورۂ سبا ،اعلانِ عام عام کے بعد رسول اللہ کے قیام ِ مکہ کے دوسرے دور(4تا6 سن نبوی) کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب آپؐ پر شک و ریب کے ساتھ الزامات کی بوچھاڑ ہورہی تھی جیسے مجنون ، ساحر، مفتری وغیرہ۔لیکن مخالفت نے شدت اختیار نہیں کی تھی۔

نظمِ کلام:سورتوں کا پانچواں گروپ (سورۂ سبا سے سورۂ احقاف تک 13 مکی سورتیں اور تین مدنی سورتیں : محمد،الفتح، الحجرات) پچھلے گروپ کی طرح اس گروپ میں بھی قرآنی دعوت کے تینوں موضوعات (توحید،قیامت اور رسالت)پر بحث کی گئی ہے۔ لیکن توحید اس گروپ کا جامع عمود ہے علاوہ ازیں اس گروپ میں استدلال کا انداز اور اسلوب ِ بیان بھی مختلف ہے ۔

ترتیب مطالعہ: (i)ر۔1(انکارِ جزاوسزا)(ii)ر۔2( شکر گزاروں کو صلہ ضرور ملے گا( (iii)ر۔3( اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت نہ ہوگی) (iv) ر۔4(میدانِ حشر میں منکرین کا آپس میں مجادلہ)(v) ر۔5(معبودانِ باطل کا اظہارِ بیزاری) (vi)ر۔6 (حضورؐ کسی سے اجر نہیں مانگتے)۔


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ ﴿1﴾ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ ﴿2﴾ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗ ۙ ﴿3﴾ لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ ﴿4﴾ وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ ﴿5﴾ وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ﴿6﴾ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ ﴿7﴾ اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ ﴿8﴾ اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ ۧ ۧ ﴿9ع سبإ 34﴾
1. سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے (جو سب چیزوں کا مالک ہے یعنی) وہ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے۔ اور وہ حکمت والا خبردار ہے۔ 2. جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اُترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور وہ مہربان (اور) بخشنے والا ہے۔ 3. اور کافر کہتے ہیں کہ (قیامت کی) گھڑی ہم پر نہیں آئے گی۔ کہہ دو کیوں نہیں (آئے گی) ۔میرے پروردگار کی قسم وہ تم پر ضرور آکر رہے گی۔ (وہ پروردگار) غیب کا جاننے والا (ہے) ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔ (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز ذرے سے چھوٹی یا بڑی ایسی نہیں مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔ 4. اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو بدلہ دے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ 5. اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں کوشش کی کہ ہمیں ہرا دیں گے۔ ان کے لئے سخت درد دینے والے عذاب کی سزا ہے۔ 6. اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے۔ اور (خدائے) غالب اور سزاوار تعریف کا رستہ بتاتا ہے۔ 7. اور کافر کہتے ہیں کہ بھلا ہم تمہیں ایسا آدمی بتائیں جو تمہیں خبر دیتا ہے کہ جب تم (مر کر) بالکل پارہ پارہ ہو جاؤ گے تو نئے سرے سے پیدا ہوگے۔ 8. یا تو اس نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے۔ یا اسے جنون ہے۔ بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ آفت اور پرلے درجے کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں۔ 9. کیا انہوں نے اس کو نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے یعنی آسمان اور زمین۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔ اس میں ہر بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہے ایک نشانی ہے۔

تفسیر آیات

فِی الْاٰخِرَةِ کے دومطلب ہیں ایک یہ کہ اس دنیا میں اگر کسی انسان کے کارناموں کی تعریف کی جائے تو وہ بلآخر  اللہ کی ہی تعریف ہوگی کیونکہ انسان کو ہر طرح کی قوت، صلاحیت اور استعداد عطاکرنے والا اللہ ہی ہے۔یعنی فی الآخرۃ کا لفظ یہاں بالآخر کا معنی دے رہاہے ۔اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں تو کچھ اسباب ظاہرہیں جو سب کو دکھائی دیتے یا محسوس  ہوتے ہیں لیکن کچھ اسباب ایسے بھی ہیں جن پر پردہ پڑا ہواہے۔آخرت میں ایسے سب پردے اور حجابات اٹھ جائیں گے اور ہر ایک کو یہ نظر آئے گا کہ قابل تعریف ذات تو صرف اللہ ہی کی ہے۔(تیسیر القرآن)

مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ ۔زمین کے اندر داخل ہونے والی چیزیں  مثلاًبارش یا تخم نباتات وغیرہا۔مَا یَخْرُ جُ مِنْهَا۔ زمین سے باہر نکلنے والی چیزیں مثلاً نباتات،معدنیات وغیرہا۔مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ۔ آسمان سے اترنے والی چیزیں مثلاً ملائکہ ،احکامِ الٰہی وغیرہا۔ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا۔آسمان پر چڑھے والی چیزیں مثلاً ملائکہ ،اعمال انسانی، دعائیں۔(تفسیر ماجدی)

زمین میں داخل ہونے والی ،زمین سے نکلنے والی، زمین پر اترنے والی اور زمین سے چڑھنے والی اشیاء:۔زمین میں داخل ہونے والی چیزیں یہ ہیں: ہر قسم کی نباتات کے بیج، بارش کا پانی،تمام جانوروں کے مردہ اجسام۔ اور حشرات الارض وغیرہ اور زمین سے نکلنے والی چیزیں مثلاً کھیتی، پودے، درخت،معدنیات۔کئی قسم کے تیل اور گیسیں وغیرہ اور آسمان سے اترنے والی چیزیں مثلاً بارش اللہ کی رحمت و برکت ،وحی الٰہی،فرشتے وغیرہ اور جو آسمان کی طرف چڑھنے والی چیزیں مثلاً دعا، فرشتے،انسانوں کے اعمال وغیرہ ان سب انواع اور ان کی جزئیات سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔(تیسیر القرآن)

ــــ یعنی علاوہ حق تعالیٰ کے علم ذاتی کے وہ خدائی رجسڑ میں بھی باضابطہ درج ہے۔ کتاب مبین۔یعنی لوح محفوظ۔(تفسیر ماجدی)

یعنی جن کو علم حقیقی کی روشنی عطا ہوئی ۔مثلاً اچھے اہل کتاب یا سلیم الفطرت لوگ ،جیسے عرب کے دینِ حنیفی کے پیرو ۔یہ علم خدا کی معرفت اور آخرت کا علم ہے۔ اسی کےحاملین کو قرآن نے علماء کہا ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

یہ ان کی بات کا دوسرا جواب ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت نگاہ میں رہنی چاہیے کہ کفار قریش جن وجوہ سے زندگی بعد موت کا انکار کرتے تھے ان میں تین چیزیں سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔ ایک یہ کہ وہ خدا کے محاسبے اور باز پرس کو نہیں ماننا چاہتے تھے کیونکہ اسے مان لینے کے بعد دنیا میں من مانی کرنے کی آزادی ان سے چھن جاتی تھی۔ دوسرے یہ کہ وہ قیامت کے وقوع اور نظام عالم کے درہم برہم ہوجانے اور پھر سے ایک نئی کائنات بننے کو ناقابل تصور سمجھتے تھے۔ تیسرے یہ کہ جن لوگوں کو مرے ہوئے سینکڑوں ہزاروں برس گزر چکے ہوں اور جن کی ہڈیاں تک ریزہ ریزہ ہو کر زمین، ہوا اور پانی میں پراگندہ ہوچکی ہوں ان کا دوبارہ جسم و جان کے ساتھ جی اٹھنا ان کے نزدیک بالکل بعید از امکان تھا۔ اوپر کا جواب ان تینوں پہلوؤں پر حاوی ہے۔۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)


دوسرا رکوع

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ ﴿10﴾ اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ﴿11﴾ وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ ﴿12﴾ یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ ﴿13﴾ فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ ﴿14﴾ لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ ﴿15﴾ فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ ﴿16﴾ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ ﴿17﴾ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ ﴿18﴾ فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ ﴿19﴾ وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿20﴾ وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ ۧ ۧ ﴿21ع سبإ 34﴾
10. اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی۔ اے پہاڑو ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (ان کا مسخر کردیا) اور ان کے لئے ہم نے لوہے کو نرم کردیا۔ 11. کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک عمل کرو۔ جو عمل تم کرتے ہو میں ان کو دیکھنے والا ہوں۔ 12. اور ہوا کو (ہم نے) سلیمان کا تابع کردیا تھا اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینے بھر کی ہوتی۔ اور ان کے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا اور جِنّوں میں سے ایسے تھے جو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے۔ اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اس کو ہم (جہنم کی) آگ کا مزہ چکھائیں گے۔ 13. وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں۔ 14. پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا۔ جب عصا گر پڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے۔ 15. (اہل) سبا کے لئے ان کے مقام بودوباش میں ایک نشانی تھی (یعنی) دو باغ (ایک) داہنی طرف اور (ایک) بائیں طرف۔ اپنے پروردگار کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو۔ (یہاں تمہارے رہنے کو یہ) پاکیزہ شہر ہے اور (وہاں بخشنے کو) خدائے غفار۔ 16. تو انہوں نے (شکرگزاری سے) منہ پھیر لیا پس ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا اور انہیں ان کے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیئے جن کے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں۔ 17. یہ ہم نے ان کی ناشکری کی ان کو سزا دی۔ اور ہم سزا ناشکرے ہی کو دیا کرتے ہیں۔ 18. اور ہم نے ان کے اور (شام کی) ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی (ایک دوسرے کے متصل) دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمد ورفت کا اندازہ مقرر کردیا تھا کہ رات دن بےخوف وخطر چلتے رہو۔ 19. تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں میں بُعد (اور طول پیدا) کردے اور (اس سے) انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے (انہیں نابود کرکے) ان کے افسانے بنادیئے اور انہیں بالکل منتشر کردیا۔ اس میں ہر صابر وشاکر کے لئے نشانیاں ہیں۔ 20. اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے۔ 21. اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر (ہمارا) مقصود یہ تھا کہ جو لوگ آخرت میں شک رکھتے ہیں ان سے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان رکھتے تھے متمیز کردیں۔ اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے۔

تفسیر آیات

10۔وہ بزرگی یہ تھی کہ آپ پچپن میں محض ایک گڈریے تھے۔اور بکریاں چرایا کرتے تھے۔پھر اللہ نے آپ کو حکومت بھی عطافرمائی اور نبوت بھی۔اور یہ تفصیل پہلے سورہ بقرہ کی آیات نمبر 251 کے تحت گزرچکی ہے۔۔۔۔۔آپ کی خوش الحانی ،پہاڑوں اور پرندوں کی آپ سے ہم آہنگی کے لئے (سورۂ انبیاء کی آیت نمبر 79 کا حاشیہ نمبر 67 ملاحظہ کیجئے)۔۔۔۔۔آپ کے ہاتھ میں لوہے کا نرم ہونا اور آپ کے لوہے کی زرہیں بنانے کے لیے (دیکھئے سورہ انبیاء کی آیت نمبر 80 حاشیہ 68)(تیسیر القرآن)

ــــ امام رازیؒ نے بھی یہی مطلب لیا ہے کہ تسبیح میں معیت انھی دومخلوق تک محدود نہیں، بلکہ جبال و طیور کا ذکر صرف انتہائی نمونوں کے طورپر کیا گیا ہے۔(تفسیر ماجدی)

11۔ حضرت داؤدؑ ایک طرف نبوت و رسالت اور دوسری طرف حکومت و سلطنت کے باوجود اپنا مستقل ذریعۂ معاش صنعت زرہ سازی کو بنائے ہوئے تھے، اور اسی کی تجارت کرتے تھے۔تو آیت سے یہ مسئلہ بھی نکل آیا کہ صناعی و دست کاری منصب نبوت کے بھی منافی نہیں، چہ جائے کہ مرتبۂ ولایت کے۔۔۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ آیت سے تین مسئلے نکلے :ایک خرق عادت کا اثبات ،دوسرے دست کاری  سے کمانے کی فضیلت، تیسرے ہرکام میں اعتدال ،انتظام و تناسب کی رعایت یہاں تک کہ امورِ حسی و دنیوی میں بھی۔(تھانوی،ج2/ص:330)(تفسیر ماجدی)

12۔اس کی تشریح کے لئے دیکھئے(سورہ انبیاء کی آیت نمبر 81 کا حاشیہ 69)۔۔۔۔۔جنوں کا آپ کے لئے مزدوروں کی طرح کام کرنا:۔کہتے ہیں کہ ان جنوں پر اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ مقرر کردیا تھا  جس کے ہاتھ میں آگ کا کوڑا ہوتا۔جوکوئی جن سیدنا سلمانؑ کی نافرمانی کرتا یہ فرشتہ اس کو کوڑا مارکرجلا دیتا تھا۔ (تیسیر القرآن)

ــــ یعنی تانبے کو اس  کے معدن میں رقیق سیال کردیا تھا تاکہ اس سے بلا مدد آلات مصنوعات کے بنانے میں سہولت ہو، پھر وہ منجمد ہوجاتا۔یوں بھی کہا جاسکتاہے کہ زیر زمین جہاں گرم اور رقیق تانبے کے چشمے ہیں، وہ آپ پر منکشف کردیے گئےتھے۔(تفسیر ماجدی)

13۔ کہتے ہیں کہ اس حکم کے بعد داؤدؑ نے دن اور رات کے پورے اوقات اپنے گھروالوں پر تقسیم کررکھے تھے اور کوئی وقت ایسا نہ ہوتاتھا جبکہ آپ کے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد  اللہ کی عبادت میں مصروف نہ رہتاہو۔(تیسیر القرآن)

ــــ تمثَال۔جس قسم کی مُورت کو کہتے ہیں، اسی کو آج کی اصطلاح میں مجسمہ سے موسوم کرتے ہیں۔اگلی شریعتوں میں یہ چیز حرام نہ تھی۔۔۔۔ایک روایت یہ بھی نقل ہوئی ہے کہ یہ مجسمے انبیاء ، ملائکہ و صالحین کے تھے اور حضرت سلیمانؑ کی دعا سے ان میں جان پڑگئی تھی۔ لیکن بقول صاحب روح ھذا من العجب العجاب ولاینبغی اعتقاد صحتہ وماھوا الاحدیث خرافۃ،یہ حکایت بہت ہی عجیب و غریب ہے، ہرگز یقین کرنے کے قابل نہیں، یہ محض ایک لغو روایت ہے۔(روح،ج22/ص:118-119)۔۔۔۔۔حضرت سلیمانؑ اور ان کے متعلقین مراد ہیں، یہ انہیں مخاطب کرکے حکم ہوا تھا۔(تفسیر ماجدی)

۔ ۔۔۔(تفسیر کشاف) تمثال ہر اس تصویر کو کہتے ہیں جو کسی دوسری چیز کی صورت کے مماثل بنائی گئی ہو، خواہ وہ جان دار ہو یا بےجان "۔ اس بنا پر قرآن مجید کے اس بیان سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت سلیمان ؑ کے لیے جو " تماثیل " بنائی جاتی تھیں وہ ضرور انسانوں اور حیوانوں کی تصاویر یا ان کے مجسمے ہی ہوں گے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ پھول پتیاں اور قدرتی مناظر اور مختلف قسم کے نقش و نگار ہوں جن سے حضرت سلیمان نے اپنی عمارتوں کو آراستہ کرایا ہو۔۔ غلط فہمی کا منشا بعض مفسرین کے یہ بیانات ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ نے انبیاء اور ملائکہ کی تصویریں بنوائی تھیں۔ ۔۔۔ یہ بات ہر شخص کو معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ تک بنی اسرائیل میں جتنے انبیاء بھی آئے ہیں وہ سب تورات کے پیرو تھے ان میں سے کوئی بھی نئی شریعت نہ لایا تھا جو تورات کے قانون کی ناسخ ہوتی۔ اب تورات کو دیکھیے تو اس میں بار بار بصراحت یہ حکم ملتا ہے کہ انسانی اور حیوانی تصویریں اور مجسمے قطعاً حرام ہیں (تفہیم القرآن)

۔دیکھ لیجئے اس میں نہایت واضح الفاط میں صورت یا مورت بنانے کی ممانعت ہے۔ اس وجہ سے یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ پچھلی شریعتوں میں یہ چیزیں جائز تھیں، صرف اسلام میں یہ حرام قرار دی گئی ہیں۔ یہ چیزیں پہلے بھی ناجائز تھیں اور حضرت سلیمان ؑ کے متعلق یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے تورات کے کسی حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس وجہ سے ہمارا خیال یہ ہے کہ انہوں نے اسی قسم کی تماثیل بنوائی ہوں گی جن کا تعلق مجرد آرٹ سے ہے اور مذہبی تقدس کا جن کے اندر کوئی شائبہ نہیں تھا۔ لیکن جب یہود میں مورت پرستی کا رواج ہوا ہوگا تو اس قسم کی چیزیں ان کے بادشاہوں نے بنوائی ہوں گی اور ان کو سند جواز دینے کے لئے ان کو حضرت سلیمان ؑ کی طرف منسوب کردیا گیا ہوگا۔ آخر تمام علوم سفلیہ بھی تو حضرت سلیمان ؑ ہی کی طرف یہود نے منسوب کیے جس کی تردید سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ اسی طرح کی خرافات ان کی طرف کتاب سلاطین میں بھی منسوب کردی گئی ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ یہود نے حضرت سلیمان ؑ کو ایک پیغمبر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک بالکل دنیا دار بادشاہ کی حیثیت سے پیش کیا ہے اور ان کی سیرت ہر پہلو سے انہوں نے داغدار کرنے کی کوشش کی ہے۔(تدبرِ قرآن)

14۔۔۔۔اسی حالت میں تقریباً چارماہ گزرگئے۔چار ماہ بعد ادھر بیت المقدس کی تعمیر مکمل ہوئی۔(تیسیر القرآن)

15۔سلسلۂ بیان کو سمجھنے کے لیے رکوع اول کے مضمون کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کفار عرب آخرت کی آمد کو بعید از عقل سمجھتے تھے۔ اور جو رسول اس عقیدے کو پیش کر رہا تھا اس کے متعلق کھلم کھلا یہ کہہ رہے تھے کہ ایسی عجیب باتیں کرنے والا آدمی یا تو مجنون ہوسکتا ہے، یا پھر وہ جان بوجھ کر افترا پردازی کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے پہلے چند عقلی دلائل ارشاد فرمائے جن کی تشریح ہم حواشی نمبر 7۔ 8۔ 12 میں کرچکے ہیں۔ اس کے بعد رکوع دوم میں حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کا قصہ اور پھر سبا کا قصہ ایک تاریخی دلیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس سے مقصود یہ حقیقت ذہن نشین کرنا ہے کہ روئے زمین پر خود نوع انسانی کی اپنی سرگزشت قانون مکافات کی شہادت دے رہی ہے۔ انسان اپنی تاریخ کو غور سے دیکھے تو اسے معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے جس کا سارا کارخانہ اندھا دھند چل رہا ہو بلکہ اس پر ایک سمیع وبصیر خدا فرمانروائی کر رہا ہے جو شکر کی راہ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ایک معاملہ کرتا ہے اور ناشکری و کافر نعمتی کی راہ چلنے والوں کے ساتھ بالکل ہی ایک دوسرا معاملہ فرماتا ہے۔ کوئی سبق لینا چاہے تو اسی تاریخ سے یہ سبق لے سکتا ہے کہ جس خدا کی سلطنت کا یہ مزاج ہے اس کی خدائی میں نیکی اور بدی کا انجام کبھی یکساں نہیں ہو سکتا۔ اس کے عدل و انصاف کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آئے جب نیکی کا پورا اجر اور بدی کا پورا بدلہ دیا جائے۔ (تفہیم القرآن)

۔ ان باغوں میں ہر طرح کے درخت اور ہر قسم کے پھل اس کثرت سے پیدا ہوتے تھے کہ ائمہ سلف قتادہ وغیرہ کے بیان کے مطابق ان باغوں میں ایک عورت اپنے سر پر خالی ٹوکری لے کر چلتی تو درختوں سے ٹوٹ کر گرنے والے پھلوں سے خود بخود بھر جاتی تھی، اس کو ہاتھ بھی لگانا نہ پڑتا تھا۔ (ابن کثیر) (معارف القرآن)

۔ جو علاقہ اب یمن کہلاتاہے وہی پہلے سبا کا علاقہ تھا اس کے باشندوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل کی قدر نہیں کی جس کی پاداش میں اللہ نے ان پر ایک سیلاب بھیجا جس سے پورا ملک تباہ ہوگیا۔(تدبر قرآن)

ـــ حضرت داؤد ؑ ،حضرت سلیمان اورقو م سبا:۔ حضرت داؤدؑ کو اللہ تعالیٰ نے بڑی نعمتوں سے نوازا تھا ۔وہ بیت اللحم کے رہنے والے ایک قبیلے کے معمولی نوجوان تھے۔بنی اسرائیل کی مشرکین کے خلاف ایک جنگ میں جبکہ یہ ابھی کم سن تھے عین اس وقت پہنچے جب کہ مشرکین کی فوج کا سپہ سالار جالوت جو بڑا طاقتور پہلوان تھا بنی اسرائیل کو دعوت مبارزت دے رہاتھا۔اور بنی اسرائیل میں سے کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ اس کے مقابلہ کیلئے نکلے ۔حضرت داؤد یہ رنگ  دیکھ کربے محابا اس کے مقابلے میں میدان میں جاپہنچے اور اسے قتل کردیا۔اس واقعے نے انہیں تمام اسرائیلیوں کی آنکھوں کا تارا بنا دیا۔طالوت نے اپنی بیٹی ان سے بیاہ دی۔یہاں سے ان کا عروج  شروع ہوا۔طالوت کی وفات  کے بعد تمام اسرائیلیوں نے مل کر انہیں اپنا بادشاہ منتخب کرلیا۔انہوں نے یروشلم فتح کیا اوران کی قیادت میں ایک خداپرست سلطنت تاریخ میں پہلی مرتبہ وجود میں آئی ۔جس کے حدود خلیج عقبہ سے دریائے فرات کے مغربی کناروں تک پھیلے ہوئے تھے۔ ان عنایات پر مزید فضل خداوندی وہ ہے جو انہیں خداترسی ،علم وحکمت ،عدل و انصاف اور بندگئ رب کی صورت میں نصیب ہوا۔حضرت داؤد ؑ کو اللہ نے بڑی خوش آوازی دی تھی ۔جب وہ اللہ کی حمد و ثناکے گیت گاتےتھے تو ان کی بلند اورسریلی آواز سے پہاڑ گونج اٹھتے تھے اور پرندے ٹھہرجاتے تھے ۔ایک سماں بندھ جاتاتھا۔حضرت داؤدؑ کو اللہ تعالیٰ نے لوہے کے استعمال پر قدرت عطاکی تھی اور خاص طورپر جنگی اغراض کیلئے زرہ سازی کا طریقہ سکھایا تھا۔صنعت کاری انبیاء کی سنت ہے۔۔۔۔۔حضرت سلیمانؑ کیلئے ہواکواللہ تعالیٰ نے ان کے حکم کے تابع کردیا تھا ۔ان کی مملکت سے ایک ماہ کی مسافت باآسانی طے کی جاسکتی تھی ،جاتے ہوئے بھی ہوا موافق ملتی تھی  اور واپسی پر بھی۔حضرت سلیمانؑ نے اپنے دور حکومت میں بہت بڑے پیمانے پر بحری تجارت کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ان کے بحری بیڑے دور دراز تک جاتے تھے ۔ان دنوں بحری سفر کا انحصار بادِ موافق ملنے پر تھا۔اللہ نے ہوا کو ان کے حکم کےتابع کردیا تھا۔ان کے بحری تجارتی جہاز جدھر جاتے ان کو ہوا موافق ملتی تھی۔۔۔۔۔حضرت سلیمانؑ کے دور میں تانبے کو پگھلانے اور اس سے طر ح طرح کی چیزیں بنانے کاکام اتنے بڑے پیمانے پر کیا گیا گویا وہاں تانبے کے چشمے بہ رہے تھے۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے جن حضرت سلیمانؑ کے تابع کردئیے تھے۔وہ اللہ کے حکم سے ان سے کام لیتے تھے۔جوحکم نہیں مانتا تھااس کو سزا دی جاتی تھی۔حضرت سلیمانؑ کے ہاں بہت بڑے پیمانے پر مہمان نوازی ہوتی تھی۔اس لیے بڑے بڑے حوض جیسے لگن بنوائے جاتے تھےتاکہ ان میں لوگوں کیلئے کھانا نکال کر رکھاجاسکے۔اور بھاری دیگیں اس لیے بنوائی گئی تھیں تاکہ ان میں بیک وقت ہزاروں آدمیوں کا کھانا پک سکے۔۔۔۔۔اے داؤدؑ کی اولاد ! شکر کرو ،شکر کے طریقے پر کام کرو ،زبان سے بھی شکر اداکرو اور عملی شکر بھی کرو یعنی اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کرو۔۔۔۔۔۔حضور پاکؐ نے فرمایا کہ تین کام ایسے ہیں جو ان کو پورا کرلے تو جو فضیلت آل داؤدؑکو دی گئی تھی اس کو بھی مل جائےگی۔ رضا اور غضب دونوں حالتوں میں انصاف کرے ، غنااور فقر دونوں حالتوں میں میانہ روی اختیار کرے۔خفیہ اور اعلانیہ اللہ سے ڈرے۔۔۔۔۔حضرت سلیمانؑ کی حکومت انسانوں پر ہی نہیں بلکہ جنات، طیور اور ہوا پر بھی تھی۔بے شمار سروسامان کے باوجود موت سے ان کو بھی مفر نہ تھا۔وہ اپنے وقت مقررہ پر آگئی۔بیت المقدس کی تعمیر کا کام حضرت داؤد ؑ کے دور میں شروع ہوا،حضرت سلیمان کے دور میں مکمل ہوا ۔تعمیر کا کچھ کام رہتا تھا کہ موت کا وقت آگیا۔تعمیر کا کام جنات کے سپرد تھااور ان کی طبیعت میں سرکشی تھی۔وہ صرف حضرت سلیمانؑ سے ڈرتے تھے ۔کام مکمل کرانا ضروی تھا۔اس کا انتظام حضرت سلیمانؑ نے اللہ کے حکم سے اس طر ح کیا کہ جب موت کا وقت آیاتو اس کی تیاری کرکے اپنے کمرے میں چلے گئے  جو صاف و شفاف شیشے کا بناہواتھا۔باہر سے اندر کی ساری چیزیں نظر آتی تھیں ،اور اپنے معمول کے مطابق عبادت کیلئے سہارالیکر کھڑے ہوگئے۔عصا کے سہارے کھڑے تھے کہ رو ح اپنے وقت مقررہ پر پرواز کر گئی۔وہ باہر سے عبادت میں مشغول نظر آتے تھے۔جنات کی یہ مجال نہ تھی کہ وہ پاس آکر دیکھ  سکتے۔وہ حضرت کو زندہ سمجھ کر کام میں مشغول رہے۔یہاں تک کہ ایک سال گزرگیا اور تعمیر کاکام مکمل ہوگیا۔اللہ کے حکم سے دیمک نے عصا کو اندر سے کھوکھلاکردیا اور حضرت سلیمانؑ گرگئے۔اس وقت جنات کو ان کی موت کی خبر ہوئی۔مشرکین عرب جنات کو اللہ کا شریک قرار دیتے تھے،انہیں اللہ کی اولاد سمجھتے تھےاور ان سے پناہ مانگاکرتے تھے،انہیں عالم الغیب سمجھتے تھے۔غیب کی خبریں معلوم کرنے کیلئے ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔اللہ مشرکین کے ان عقائد کی تردید کیلئے حضرت سلیمانؑ کی موت کا یہ واقعہ سنارہاہے کہ اگر جن عالم الغیب ہوتے تو ان کو حضرت سلیمانؑ کی موت کی خبر ہوجاتی۔۔۔سبا کی قوم  کیلئے ان کی بستی میں نشانی تھی ،مطلب یہ ہے کہ اس بات کا واضح ثبوت تھا تا کہ اس سرسبز و شاداب بستی کو کوئی پیدا کرنے والا ہے۔یہ خود پیدا کرنے والے نہیں ہیں۔اور اس بات کی نشانی موجود تھی کہ یہ ساری دولت لازوال نہیں بلکہ یہ جس طرح آئی ہے اسی طرح جابھی سکتی ہے۔وہ باغ تھے یعنی سارا ملک زرخیز تھا،ہر طرف باغ ہی باغ نظر آتے تھے۔ترمذی نے   حضورؐ سے روایت نقل کی ہے سباعرب کا ایک شخص تھا جس کی نسل سے عرب کے کئی قبائل پیدا ہوئے۔۔۔۔۔یہ قوم یمن کے علاقے میں آبادتھی۔حضرت سلیمانؑ کے زمانے میں یہ دولتمند قوم کی حیثیت سے مشہور ہوچکی تھی۔آغاز میں یہ ایک بت پرست قوم تھی پھر جب اس کی ملکہ حضرت سلیمانؑ کے ہاتھ پر ایمان لائی تو اس قوم کی اکثریت مسلمان ہوگئی۔بعد میں پھر اس قوم میں بت پرستی شروع ہوگئی۔قوم سبا بہت دولت مند قوم تھی۔اس کی دولت کے قصے بہت مشہور تھے۔ان کی دولت کے قصے سن سن کر لوگوں کے منہ میں پانی بھر آتاتھا،یہ سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرتے تھے۔ان کے گھروں کی دیواروں ،چھتوں اور دروازوں پر سونے چاندی اور جواہر کا کام بناہوتا  تھا۔ان کے باغات رسیلے پھلوں سے اور کھیت غلوں سے بھرے ہوئے تھے۔ان کے ہاں مویشیوں کی کمی نہ تھی۔یہ لوگ اتنے عیش پر ست ہوگئے تھے کہ جلانے کی لکڑی کی بجائے دار چینی،صندل اور دوسری خوشبودارلکڑیاں جلاتے تھے۔یونانی مؤرخین لکھتے ہیں کہ ملک کے پاس سے جو بحری جہاز گزرتے تھے ان تک خوشبو کی لپٹیں پہنچتی تھیں۔جب تک اللہ کا  فضل شامل حال رہا ان پر دولت برستی رہی ۔جب اس قوم نے اللہ کی بندگی سے منہ پھیر لیا،کفران نعمت کی تو تجارت ٹھپ ہوگئی،آب پاشی کا نظام درہم برہم ہوگیا اور اس قوم کا نام و نشان تک مٹ گیا۔۔۔رسیلے پھل کی بجائے کڑوا کسیلا پھل پیدا ہونے لگا۔۔۔لوگ رزق کی تلاش میں ملک سے نکل گئے۔کوئی کسی طرف چلا گیا اور کوئی کسی طرف۔۔۔پوری قوم منتشر ہوگئی۔۔۔۔۔ ( تعلیم القرآن )

۔  یعنی اس امر کی نشانی کہ جو کچھ ان کو میسر ہے وہ کسی کا عطیہ ہے نہ کہ ان کا اپنا آفریدہ۔ (تفہیم القرآن)

ــــ یہاں نشانی سے مراد تاریخی شہادت ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم اللہ کی فرمانبرداراور شکر گذار بن کر رہتی ہے وہ پھلتی پھولتی اور ترقی کی منازل طے کرتی جاتی ہے اور جب وہ اللہ کی نافرمانی اور ناشکری کرنے لگے تو اسے بتدریج زوال آناشروع ہوجاتاہے اور اگروہ اپنا رویہ نہ بدلے تو اسے صفحہ ہستی سے مٹادیا جاتاہے یہی حال قوم سبا کا ہواتھا۔قوم سبا کے حالات:۔ قوم سبا کا عرب کا جنوب مغربی علاقہ تھا۔اور یہی علاقہ آج کل یمن کا علاقہ کہلاتا ہے۔سبادراصل ایک شخص کا نام تھا جس کے دس بیٹے تھے۔بعد میں یہی دس قبیلے بن گئے انہی میں سے چار بیٹے اپنے خاندان سمیت شام کی طرف منتقل ہوگئے تھے۔ اس قوم کے عروج وزوال کا زمانہ تیرہ صدیوں پر محیط ہے(800ق م تا 450ء)ایک زمانہ تھا جب تہذیب و تمدن کے لحاظ سے اسی قوم کا طوطی بولتا تھا اور روم اور یونان کی تہذیبیں ان کے سامنے ہیچ تھیں۔زراعت اور تجارت کے میدان میں ان لوگوں نے بارش کا پانی روکنے اور ذخیرہ رکھنے کے لئے بند بنارکھے تھے۔ان کا دارالخلافہ مآرب تھا اور سب سے اعلیٰ اور بڑا عظیم الشان بند بھی اسی جگہ تعمیر کیا گیا تھا جو سدمآرب کے نام سے معروف تھا۔ ان کے علاقہ کے دونوں طرف پہاڑوں کے دامن میں باغات کا سینکڑوں میلوں میں پھیلا ہوا سلسلہ موجود تھا اور انسان کو یوں معلوم ہوتا تھا کہ جس جگہ وہ کھڑا ہے اس کے دونوں طرف باغات ہی باغات ہیں۔(تیسیر القرآن)

16۔ حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کی شکر گزاری کے تذکرے کے بعد ایک ناشکر گزار قوم، قوم سبا کا تذکرہ ہے ۔جس پر سیل عرم یعنی بند ٹوٹنے کاعذاب آیا۔ان کا سب سے مشہور بند سدمآرب تھا جو ان کے دارالحکومت مآرب کے قریب واقع تھا ۔یہ بند تقریباً ایک سو پچاس فٹ لمبی اور پچاس فٹ چوڑی دیوار پر مشتمل تھا ۔ارنارڈ،ایک یورپین سیاح نے ایک مضمون اس پر فرنچ ایشیا ٹک سوسائٹی کے جرنل میں لکھا ہے( مشرق و مغرب دوبڑے بڑے دروازے اور کئی کھڑکیاں ۔تین اوپر نیچے دروازے) (دیوار پر جابجا کتبے)ایک اور مغربی سیاح ( باغوں کی خوشبو دوردور تک جنت کی خوشبو سے کم نہیں)بعد ازاں جھاڑ جھنکاڑ اور کسیلے پھل۔(تفسیر عثمانی)

ــــ کہتے ہیں وقتاً فوقتاً ان کی طرف تیرہ انبیاء علیھم السلام مبعوث ہوئے تھے۔(تیسیر القرآن)

ــــ سدّ مارب،ایک مشہور تاریخی بند ہے جو پہاڑوں کے پانی کے ذخیرے کے لیے بنایا گیا تھا، مارب ملک سبا کا دارالسلطنت تھا، موجودہ شہر صنعاء سے کوئی 60 میل مشرق میں اور سطح سمندر سے کوئی 3900 فٹ بلند ۔۔۔قوم سبا ایک بڑی متمدن قوم تھی۔اس کا یہ کئی میل کا لانبا چوڑا بند سبا کے انجینئروں کی فنکاری کا اعلیٰ نمونہ تھا، یہ عظیم الشان بند ظہورِ اسلام سے کچھ قبل ٹوٹا ہے تخمیناً 542ء میں۔اس کی تباہ کاریوں کے آثار صدیوں بعد تک قائم رہے ۔چنانچہ ایک سیاح نے 848ء میں معائنہ کیا، طول میں یہ بند 150 فٹ اور عرض میں 50 فٹ تھا۔(تفسیر ماجدی)

18۔ " برکت والی بستیوں " سے مراد شام و فلسطین کا علاقہ ہے جسے قرآن مجید میں عموماً اسی لقب سے یاد کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔نمایاں بستیوں سے مراد ہیں ایسی بستیاں جو شاہراہ عام پر واقع ہوں، گوشوں میں چھپی ہوئی نہ ہوں، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بستیاں بہت زیادہ فاصلے پر نہ تھیں بلکہ متصل تھیں۔۔۔۔۔۔سفر کی مسافتوں کو ایک اندازے پر رکھنے سے مراد یہ ہے کہ یمن سے شام تک کا پورا سفر مسلسل آباد علاقے میں طے ہوتا تھا جس کی ہر منزل سے دوسری منزل تک کی مسافت معلوم و متعین تھی۔ آباد علاقوں کے سفر اور غیر آباد صحرائی علاقوں کے سفر میں یہی فرق ہوتا ہے۔(تفہیم القرآن)

19۔یعنی نعمتوں کے حقوق تو کیا اداکرتے ، ان کی ظاہری قدر بھی نہ کی، اور الٹی تمنا یہ کرنے لگے کہ سفر کی منزلیں دور دور ہوتیں ،تو کچھ مزہ بھی آتا۔یہ کیا کہ وطن و مسافرت میں کچھ فرق ہی نہیں۔۔۔۔یہ (Adventure)کی حرص تمدن جدید کا بھی ایک عام مرض ہے اور فرنگیوں میں قابل فخر عادت سمجھی جاتی ہے۔۔۔۔روایتوں میں آتاہے کہ انصارمدینہ یعنی قبائل اوس و خزرج انھی اہلِ سبا کی اولاد میں سے تھے۔(تفسیر ماجدی)

۔   علاوہ بریں آیت (رَبَّنَا بٰعِدْ بَيْنَ اَسْفَارِنَا) (خدایا ہمارے سفر دور دراز کردے) کے الفاظ سے کچھ یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ شاید سبا کی قوم کو اپنی آبادی کی کثرت کھلنے لگی تھی اور دوسری نادان قوموں کی طرح اس نے بھی اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کو خطرہ سمجھ کر انسانی نسل کی افزائش کو روکنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔۔۔یعنی سبا کی قوم ایسی منتشر ہوئی کہ اس کی پراگندگی ضرب المثل ہوگئی۔ آج بھی اہل عرب اگر کسی گروہ کے انتشار کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں " تفرقوا ایدی سبا " وہ تو ایسے پراگندہ ہوگئے جیسے سبا کی قوم پراگندہ ہوئی تھی۔ " اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب زوال نعمت کا دور شروع ہوا تو سبا کے مختلف قبیلے اپنا وطن چھوڑ چھوڑ کر عرب کے مختلف علاقوں میں چلے گئے۔ غسانیوں نے اردن اور شام کا رخ کیا۔ اوس و خزرج کے قبیلے یثرب میں جا بسے۔ خزاعہ نے جدے کے قریب تہامہ کے علاقہ میں سکونت اختیار کی۔ اَزد کا قبیلہ عمان میں جا کر آباد ہوا۔ لخم اور جذام اور کندہ بھی نکلنے پر مجبور ہوئے۔ حتی کہ " سبا " نام کی کوئی قوم ہی دنیا میں باقی نہ رہی۔ صرف اس کا ذکر افسانوں میں رہ گیا۔ (تفہیم القرآن)


تیسرا رکوع

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ ﴿22﴾ وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ ﴿23﴾ قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ﴿24﴾ قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ﴿25﴾ قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ ﴿26﴾ قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ﴿27﴾ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿28﴾ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿29﴾ قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿30ع سبإ 34﴾
22. کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو ان کو بلاؤ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے۔ 23. اور خدا کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب دور کردیا جائے گا تو کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے۔ (فرشتے) کہیں گے کہ حق (فرمایا ہے) اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے۔ 24. پوچھو کہ تم کو آسمانوں اور زمین سے کون رزق دیتا ہے؟ کہو کہ خدا اور ہم یا تم (یا تو) سیدھے رستے پر ہیں یا صریح گمراہی میں۔ 25. کہہ دو کہ نہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پرسش ہوگی۔ 26. کہہ دو کہ ہمارا پروردگار ہم کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے گا۔ اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا اور صاحب علم ہے۔ 27. کہو کہ مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے شریک (خدا) بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے۔ کوئی نہیں بلکہ وہی (اکیلا) خدا غالب (اور) حکمت والا ہے۔ 28. اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 29. اور کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب وقوع میں آئے گا۔ 30. کہہ دو کہ تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہوگے اور نہ آگے بڑھو گے۔

تفسیر آیات

23۔یہ فرشتوں کی عام حالت کا بیان ہے"جب کوئی حکم حضرت حق سے سنتے ہیں تو اُن کے مجمع میں ہلچل پڑجاتی ہے،حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔اپنی فہم ،اپنے حفظ کسی چیزپر اعتماد نہیں باقی رہ جاتا،گھبراگھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھ پاچھ شروع کردیتے ہیں،اور ایک دوسرے کی تسکین و تقویت قلب کا باعث بنتے ہیں کہ جو کچھ ارشاد ہوا،حق ہی ارشاد ہواہے"۔جس مخلوق کی یہ حالت ہو،وہ ابتداء ً خطاب کرنے کی جرأت بھلا کس طرح کرسکتی ہے،اور جب یہ حال ملائکہ جیسی مقبول ترین ہستیوں کا ہے تو غیر مقبولین کا ذکر ہی کیا ہے!۔۔۔۔۔(اس کی عظمت و ہیبت سے فرشتوں کے اس قدر گھبراجانے میں حیرت کی کوئی بات ہی نہیں)بعض نے یہ پورا فقرہ فرشتوں ہی کا مقولہ قراردیا ہے۔(تفسیر ماجدی)

27۔ اَرُوْنِی۔یعنی شرک پر کوئی دلیل تو قائم کرکے لاؤ،کوئی حجت تو پیش کرکے دکھاؤ۔یہ مراد نہیں کہ آنکھ سے دکھلاؤ۔(تفسیر ماجدی)

28۔ہرقل اور ابوسفیان کا مکالمہقیصر نے پوچھا: تم میں اس پیغمبر کا خاندان کیساہے؟ میں نے کہا: اس کا نسب اچھا ہے۔قیصر : تم میں سے پہلے بھی کسی نے پیغمبری کا دعویٰ کیا تھا؟ میں نے کہا:نہیں۔قیصر: اس کے بزرگوں میں کوئی بادشاہ گزراہے؟میں نے کہا نہیں۔قیصر : اس کی پیروی امیر لوگ کررہے ہیں یا غریب؟ میں نے کہا:غریب لوگ۔قیصر: اس کے پیروکار بڑھ رہے ہیں یا گھٹتے جاتے ہیں؟میں نے کہا:بڑھتے جاتے ہیں۔قیصر :کوئی شخص اس پر ایمان لاکر پھر اسے براسمجھ کر پھربھی جاتاہے؟ میں نے کہا نہیں۔قیصر: نبوت کے دعویٰ سے پہلے تم نے اسے کبھی جھوٹ سے متہم کیاہے؟ میں نے کہا نہیں۔۔۔۔۔یہ کہ کر بادشاہ نے آپ کا نامہ مبارک سب کے سامنے پڑھ کرسنایا۔جب درباریوں اورامیروں ،وزیروں نے بادشاہ کو اس حدتک اسلام کی طرف مائل دیکھا تو غصہ سے ان کے نتھنے پھولنے اور آنکھیں سرخ ہونے لگیں۔شورمچا اور آوازیں بلند ہونے لگیں۔ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ابوسفیان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا ابوکبشہ کے بیٹے (یہ آپ کے رضاعی  باپ کی کنیت تھی اور ابوسفیان نے ازراہِ حقارت یہ نام لیا تھا)کا تو بڑا درجہ ہوگیا۔ اس سے تو رومیوں کا بادشاہ ڈرتاہے۔اس دن سے مجھے یقین ہوگیا کہ محمدؐ غالب ہوں گے۔ تاآنکہ اللہ نے مجھے مسلمان کردیا۔(بخاری۔باب کیف کان بدء الوحی)۔۔۔۔۔تبلیغی خطوط کے اندرون و بیرون  عرب  اثرات۔۔۔۔۔2۔ ان تبلیغی خطوط سے بعض حکمران اور ان کی رعایا اسلام لے آئے جیسے حبشہ، یمن ،عمان اور بحرین کے حکمرانوں نے اسلام قبول کرلیا۔رعایا میں سے بھی بہت سے مسلمان ہوگئے۔اور کچھ حکمران اسلام کے قریب ہوگئے ۔تاہم اسلام کی آواز عرب سے باہر دوردور تک پہنچ گئی۔۔۔۔۔(تیسیر القرآن)

ــــ اتنی صراحت کے ساتھ اپنے پیام ہدایت کی عالم گیری کا دعویٰ دنیا کے کسی  دین نے بھی نہیں کیا ہے۔ یہ خصوصیت آسمانی کتابوں میں صرف قرآن کی ہے۔ قرآن ہی اعلان کے ساتھ کہتاہے کہ پیامِ محمدیؐ ہر ملک، ہرقوم، ہرطبقۂ انسانیت اور ہرزمانے کی ہدایت کے لیے ہے۔اسلام کے دودعوے ایسے ہیں، جن میں دنیا کا کوئی دوسرا دین اس کا شریک نہیں۔ دونوں دعوے اسلام کے امتیازات خصوصی میں سے ہیں: ایک یہ کہ باربار تصریح ووضاحت کے ساتھ کہنا کہ میری تعلیم ساری دنیا کے لیے ہے۔(دوسرے مذاہب جیسے اپنی قوم یا ملک کے باہر کسی کو جانتے ہی نہیں)دوسرے پیغمبر اسلام کوسلسلۂ انبیاء کا خاتم قراردینا۔(تفسیر ماجدی)

۔ ۔۔۔صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں ملیں۔ ایک یہ کہ میری مدد اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسا رعب دے کر فرمائی کہ ایک مہینہ کی مسافت تک لوگوں پر میرا رعب چھا جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ میرے لئے پوری زمین کو مسجد اور طہور قرار دے دیا گیا ہے۔ (پچھلے انبیاء کی شریعتوں میں ان کی عبادت خالص عبادت گاہوں ہی میں ہوتی تھی، ان کی مساجد سے باہر میدان یا گھر میں عبادت نہ ہوتی تھی، اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے لئے پوری زمین کو اس معنی میں مسجد بنادیا کہ ہر جگہ نماز ادا ہو سکتی ہے۔ اور زمین کی مٹی کو پانی نہ ملنے یا پانی کا استعمال مضر ہونے کی صورت میں طہور یعنی پاک کرنے والا بنادیا کہ اس سے تیمم کرلیا جائے تو وضو کے قائم مقام ہوجاتا ہے)۔ تیسرے یہ کہ میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا، مجھ سے پہلے کسی امت کے لئے یہ مال حلال نہیں تھا (بلکہ یہ حکم تھا کہ جنگ میں جو مال کفار کا ہاتھ آتا اس کو جمع کر کے ایک جگہ رکھ دیں، وہاں ایک آسمانی آگ بجلی وغیرہ آ کر اس کو جلا دے گی، اور یہ جلا دینا ہی اس جہاد کی مقبولیت کی علامت ہوگی۔ امت محمدیہ کے لئے مال غنیمت کو قرآن کے بتلائے ہوئے اصول کے مطابق تقسیم کرلینا اور اپنی ضروریات میں صرف کرنا جائز کردیا گیا) چوتھے یہ کہ مجھے شفاعت کبریٰ کا مقام دیا گیا (یعنی حشر کے میدان میں جس وقت کوئی پیغمبر شفاعت کی ہمت نہ کرے گا، مجھے اس وقت شفاعت کا موقع دیا جائے گا) پانچویں یہ کہ مجھ سے پہلے ہر نبی اپنی مخصوص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا، مجھے تمام اقوام عالم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (ابن کثیر) (معارف القرآن)


چوتھا رکوع

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ ﴿31﴾ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ ﴿32﴾ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿33﴾ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ ﴿34﴾ وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ﴿35﴾ قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿36ع سبإ 34﴾
31. اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو ان سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ردوکد کر رہے ہوں گے۔ جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے۔ 32. بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تم کو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی روکا تھا؟ (نہیں) بلکہ تم ہی گنہگار تھے۔ 33. اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا)۔ جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں۔ اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔ اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ بس جو عمل وہ کرتے تھے ان ہی کا ان کو بدلہ ملے گا۔ 34. اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوش حال لوگوں نے کہا کہ جو چیز تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے قائل نہیں۔ 35. اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا۔ 36. کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

تفسیر آیات

31۔ ’ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ‘ کی دو تاویلیں لوگوں نے کی ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد قرآن سے پہلے نازل ہونے والے آسمانی صحیفے ہیں، دوسری یہ کہ یہ اس عذاب اور قیامت کی طرف اشارہ ہے جس سے قرآن ان کو آگاہ کر رہا تھا۔ ہمارے نزدیک یہ دوسرا قول سیاق وسباق سے زیادہ موافق ہے۔  (تدبرِ قرآن)

32۔ یعنی وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس ایسی کوئی طاقت نہ تھی جس سے ہم چند انسان تم کروڑوں انسانوں کو زبردستی اپنی پیروی پر مجبور کردیتے۔ اگر تم ایمان لانا چاہتے تو ہماری سرداریوں اور پیشوائیوں اور حکومتوں کا تختہ الٹ سکتے تھے۔ ہماری فوج تو تم ہی تھے۔ ہماری دولت اور طاقت کا سر چشمہ تو تمہارے ہی ہاتھ میں تھا۔ تم نذرانے اور ٹیکس نہ دیتے تو ہم مفلس تھے۔ تم ہمارے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے تو ہماری پیری ایک دن نہ چلتی۔ تم زندہ باد کے نعرے نہ مارتے تو کوئی ہمارا پوچھنے والا نہ ہوتا۔ تم ہماری فوج بن کر دنیا بھر سے ہمارے لیے لڑنے پر تیار نہ ہوتے تو ایک انسان پر بھی ہمارا بس نہ چل سکتا تھا۔ اب کیوں نہیں مانتے کہ دراصل تم خود اس راستے پر نہ چلنا چاہتے تھے جو رسولوں نے تمہارے سامنے پیش کیا تھا۔ تم اپنی اغراض اور خواہشات کے بندے تھے اور تمہارے نفس کی یہ مانگ رسولوں کی بتائی ہوئی راہ تقویٰ کے بجائے ہمارے ہاں پوری ہوتی تھی۔ تم حرام و حلال سے بےنیاز ہو کر عیش دنیا کے طالب تھے اور وہ ہمارے پاس ہی تمہیں نظر آتا تھا۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

33۔ دوسرے الفاظ میں ان عوام کا جواب یہ ہوگا کہ تم اس ذمہ داری میں ہم کو برابر کا شریک کہاں ٹھہرائے دے رہے ہو۔ کچھ یہ بھی یاد ہے کہ تم نے اپنی چال بازیوں، فریب کاریوں اور جھوٹے پروپیگنڈوں سے کیا طلسم باندھ رکھا تھا، اور رات دن خلق خدا کو پھانسنے کے لیے کیسے کیسے جتن تم کیا کرتے تھے۔ (تفہیم القرآن)

۔ ندامت کی وجہ یہ ہوگی کہ فی الحقیقت انہوں نے بالکل اپنے ضمیر کے خلاف اپنے لیڈروں کی پیروی کی تھی۔ جو آدمی اپنے ضمیر کے خلاف کسی باطل کی پیروی کرتاہے تو اس کا نتیجہ سامنے آنے پر وہ اس نتیجہ کی تلخی ہی سے بدمزہ نہیں ہوتا بلکہ اپنے ضمیر کی لعنت سے بھی دوچار ہوتاہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)


پانچواں رکوع

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ ﴿37﴾ وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ ﴿38﴾ قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ﴿39﴾ وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ ﴿40﴾ قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ ﴿41﴾ فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ ﴿42﴾ وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ ﴿43﴾ وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ ﴿44﴾ وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ ۧ ۧ ﴿45ع سبإ 34﴾
37. اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنا دیں۔ ہاں (ہمارا مقرب وہ ہے) جو ایمان لایا اور عمل نیک کرتا رہا۔ ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب دگنا بدلہ ملے گا اور وہ خاطر جمع سے بالاخانوں میں بیٹھے ہوں گے۔ 38. جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے۔ 39. کہہ دو کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا (تمہیں) عوض دے گا۔ اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ 40. اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے۔ 41. وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے۔ نہ یہ۔ بلکہ یہ جِنّات کو پوجا کرتے تھے۔ اور اکثر انہی کو مانتے تھے۔ 42. تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کا جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے مزہ چکھو۔ 43. اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں یہ ایک (ایسا) شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمہارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے ان سے تم کو روک دے اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض جھوٹ ہے (جو اپنی طرف سے) بنا لیا گیا ہے۔ اور کافروں کے پاس جب حق آیا تو اس کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ 44. اور ہم نے نہ تو ان (مشرکوں) کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی ڈرانے والا بھیجا مگر انہوں نے تکذیب کی۔ 45. اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا یہ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے تو انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ سو میرا عذاب کیسا ہوا۔

تفسیر آیات

39۔اس مضمون کو بتکرار بیان کرنے سے مقصود اس بات پر زور دینا ہے کہ رزق کی کمی و بیشی اللہ کی مشیت سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ اس کی رضا سے۔ (تفہیم القرآن)

۔صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ہر روز جب لو گ صبح میں داخل ہوتے ہیں دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں اور یہ دعا ء کرتے ہیں اللّٰھم  اعط منفقا خلفاً واعط ممسکاً تلفاً،یعنی "یا اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرمااور بخل کرنے والے کا مال ضائع کردے"اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے ارشاد فرمایا ہے کہ آپ لوگوں پر خرچ کریں میں آپؐ پر خرچ کروں گا۔(معارف القرآن)

40۔ قدیم ترین زمانے سے آج تک ہر دور کے مشرکین فرشتوں کو دیوی اور دیوتا قرار دے کر ان کے بت بناتے اور ان کی پرستش کرتے رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن)

41۔  لیکن ہوسکتاہے کہ مشرک قومیں آج جن دیوتاؤں کی پوجا کررہی ہیں یہ اپنے زمانے کے پُر قوت جنات رہے ہوں،اور آیت میں اشارہ بھی اسی جانب ہو۔(تفسیر ماجدی)

44۔ (اور اس لیے اب جب انہیں پہلی با رنبوت اور کتاب کی دولت ملی تو انہیں نعمت کی قدر اور زیادہ کرنا چاہئے تھی) هُمْ۔ ھم ضمیر یں بنی اسمٰعیل یا قوم عرب کی جانب ہیں کہ انہی میں نبوت پہلی بار آئی تھی۔ قوم کے مورث ِ اعلیٰ مراد نہیں کہ ان میں تو ابراہیم ، اسمٰعیل،ہود، صالح علیھم السلام وغیرہ متعدد انبیاء پیدا ہوچکے تھے۔ آیت کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ ہم نے کوئی کتاب ان پر نازل نہیں کی، جس کے اندر شرک کی تعلیم ہو اور نہ کوئی رسول بھیجا جس نے یہ پیام دیا ہوکہ شرک نہ کرنے پر عذاب آئے گا۔(تفسیر ماجدی)

45۔ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَا اٰتَیْنٰهُمْ، لفظ معشار بعض نے بمعنی عشر کہا ہے۔ یعنی دسواں حصہ اور بعض علماء نے عشرالعشر یعنی سوواں حصہ اور بعض نے عشرالعشیر یعنی ہزارویں حصہ کو معشار کہا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اس لفظ میں بہ نسبت عشر کے مبالغہ ہے، معنی آیت کے یہ ہیں کہ دنیا کی ثروت و دولت و حکومت اور عمر طویل اور صحت قوت وغیرہ، جو پچھلی امتوں کو دی گئی تھی اہل مکہ کو اس کا دسواں بلکہ ہزارواں حصہ بھی حاصل نہیں، اسی لئے ان کو چاہئے کہ ان پچھلی اقوام کے حالات اور انجام بد سے عبرت حاصل کریں کہ وہ لوگ رسولوں کی تکذیب کر کے خدا تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوئے اور وہ عذاب آ گیا تو ان کی قوت و شجاعت اور مال و دولت اور محفوظ قلعے کچھ کام نہ آسکے۔(معارف القرآن)


چھٹا رکوع

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ ﴿46﴾ قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ ﴿47﴾ قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ ﴿48﴾ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ ﴿49﴾ قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ ﴿50﴾ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ ﴿51﴾ وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚ ۖ ﴿52﴾ وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ ﴿53﴾ وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ ۧ ۧ ﴿54ع سبإ 34﴾
46. کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق کو سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں۔ 47. کہہ دو کہ میں نے تم سے کچھ صلہ مانگا ہو تو وہ تم ہی کو (مبارک رہے) ۔ میرا صلہ خدا ہی کے ذمے ہے۔ اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے۔ 48. کہہ دو کہ میرا پروردگار اوپر سے حق اُتارتا ہے (اور وہ) غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ 49. کہہ دو کہ حق آچکا اور (معبود) باطل نہ تو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا۔ 50. کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا ضرر مجھی کو ہے۔ اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس کا طفیل ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے۔ بےشک وہ سننے والا (اور) نزدیک ہے۔ 51. اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرا جائیں گے تو (عذاب سے) بچ نہیں سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لئے جائیں گے۔ 52. اور کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) اتنی دور سے ان کا ہاتھ ایمان کے لینے کو کیونکر پہنچ سکتا ہے۔ 53. اور پہلے تو اس سے انکار کرتے رہے اور بن دیکھے دور ہی سے (ظن کے) تیر چلاتے رہے۔ 54. اور ان میں اور ان کی خواہش کی چیزوں میں پردہ حائل کردیا گیا جیسا کہ پہلے ان کے ہم جنسوں سے کیا گیا وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے۔

تفسیر آیات

46۔ اَنْ تَقُوْمُوْا۔کھڑے ہوجاؤ، یعنی مستعد و آمادہ ہوجاؤ،یہ مراد نہیں کہ اپنے دونوں پیروں پر کھڑے ہو۔(تفسیر ماجدی)

49۔ ہم حق کو باطل پر ماریں گے پس وہ اس کا بھیجا نکال کے رکھ دیگا(الانبیا:18)فتح مکہ کے موقع پر حضورؐ نے فرمایا ، جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ  اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا (حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا بے شک باطل نابود ہونے والی چیز ہے) )تدبر قرآن(

۔ زَھَقَ البَاطِلُ کے الفاظ محذوف ہیں اس کا متبادل مایبدی الباطل وما یعید۔یادرکھیں کہ ان کے دیوتاؤں کے اختیار میں نہ کسی چیز کا ابداء ہے نہ اعادہ ،یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین ِ عرب اس کائنات کے ابداء میں کسی کو شریک نہیں مانتے تھے لیکن وہ اس بات کے قائل تھے کہ اگر آخرت کا مرحلہ پیش آیا تو ان کی واپسی ان کے معبودوں کی طرف ہوگی جو اپنی سفارشوں سے وہاں بھی ان کو اعلیٰ مراتب دلوادیں گے۔)تدبر قرآن(

54۔ 'ہم مشربوں'سے اشارہ عاد، ثمود، اہل مدین اور فرعون وغیرہ کی طرف ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحی)