35 - سورة فاطر (مکیہ)

رکوع - 5 آیات - 45

مضمون:۔ مشرکین عرب کے مزعومہ معبودوں ، بالخصوص ملائکہ کی الوہیت کے تصور کی تردید اور قرآن کی دعوت شکرکااثبات۔ (ترجمہ:مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: کفار کو آیات ِ الٰہی اور قانون ِ جزا و سزا کا حوالہ دیکر سمجھایا گیا ہے کہ قرآن کی دعوتِ توحید و آخرت پر ایمان لے آؤ ورنہ وقتِ مقررہ پر تمہیں ہلاک کردیا جائے گا۔

شانِ نزول : چار سورتوں فاطر، یٰس،الصافات اور ص کا یہ گروپ ،شدید مخالفت اور ظلم و جور کی شدت کے ایام میں حضورؐ کے قیام مکہ کے تیسرے دور 7 تا 10 سن نبوی میں نازل ہوئیں۔

نظمِ کلام:34 ۔سورہ سبا۔

ترتیبِ مطالعہ: (i) ر۔1( تمہارا خالق تمہاری گرفت ضرور فرمائے گا )(ii)ر۔2(عزت ایمان اور عمل ِ صالح میں ہے) (iii) ر۔3تا  5( خیر و شر کا موازنہ ، نیکوکار وں کے درجات اور خلافتِ الٰہیہ کا پروانہ)


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴿1﴾ مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ﴿2﴾ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ ﴿3﴾ وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ﴿4﴾ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ ﴿5﴾ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ ﴿6﴾ اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ ۧ ۧ ﴿7ع فاطر 35﴾
1. سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار ہے) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (اور) فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں۔ وہ (اپنی) مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ 2. خدا جو اپنی رحمت (کا دروازہ) کھول دے تو کوئی اس کو بند کرنے والا نہیں۔ اور جو بند کردے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ 3. لوگو خدا کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو۔ کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق (اور رازق ہے) جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟ 4. اور (اے پیغمبر) اگر یہ لوگ تم کو جھٹلائیں تو تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے گئے ہیں۔ اور (سب) کام خدا ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ 5. لوگو خدا کا وعدہ سچا ہے۔ تو تم کو دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ (شیطان) فریب دینے والا تمہیں فریب دے۔ 6. شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ اپنے (پیروؤں کے) گروہ کو بلاتا ہے تاکہ دوزخ والوں میں ہوں۔ 7. جہنوں نے کفر کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔

تفسیر آیات

1۔ پچھلی سورۃ ،سورۂ سبا کا آغاز بھی الحمد للہ ہی سے ہوا ہے۔ اس سے دونوں سورتوں کے مزاج کی مناسبت واضح ہوتی ہے۔(تدبر قرآن)

ــــ عربوں کی تمام شکرگزاری اور عبادت کے مرکز ان کے وہ بت تھے جو انہوں نے فرشتوں کے ناموں پر رکھے تھے۔ یہ واضح کیا ہے کہ ان نادانوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ بلند کا پتا نہیں  ہے۔ فرشتے خدا کے محض پیغام رساں ہیں اور اس کام میں بھی ان سب کا مرتبہ ایک جیسانہیں ہے۔ ان کی صفات اورصلاحیتوں میں کمی بیشی اللہ کے اختیار میں ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ــــ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے جبرائیل کو ایک مرتبہ اس شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو تھے (بخاری، مسلم ، ترمذی) ۔۔۔۔۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورؐ نے جبرائیل ؑ کو دومرتبہ ان کی اصلی شکل میں دیکھا ۔ان کے چھ سو بازو  تھے اور وہ پورے افق پر چھائے ہوئے تھے۔(ترمذی)(تفہیم القرآن)

ــــ فطر کا مفہوم:۔  پیدا کرنے کے معنوں میں قرآن کریم میں چھ مترادف الفاظ آئے ہیں۔اور ہر لفظ کے مفہوم میں کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے۔فطر کا معنی کسی چیز کو پیدا کرنا،پھر اس کو تراش خراش کرکے اسے خوبصورت شکل دینا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں یا زمین یعنی کائنات کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ  اسے تراش خراش کر بہترین شکل و صورت پر بنایا ہے۔(تیسیر القرآن)


دوسرا رکوع

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ ﴿8﴾ وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ ﴿9﴾ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ ﴿10﴾ وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ ﴿11﴾ وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ﴿12﴾ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ ﴿13﴾ اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ ۧ ۧ ﴿14ع فاطر 35﴾
8. بھلا جس شخص کو اس کے اعمال بد آراستہ کرکے دکھائے جائیں اور وہ ان کو عمدہ سمجھنے لگے تو (کیا وہ نیکوکار آدمی جیسا ہوسکتا ہے) ۔ بےشک خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ تو ان لوگوں پر افسوس کرکے تمہارا دم نہ نکل جائے۔ یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس سے واقف ہے۔ 9. اور خدا ہی تو ہے جو ہوائیں چلاتا ہے اور وہ بادل کو اُبھارتی ہیں پھر ہم ان کو ایک بےجان شہر کی طرف چلاتے ہیں۔ پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کردیتے ہیں۔ اسی طرح مردوں کو جی اُٹھنا ہوگا۔ 10. جو شخص عزت کا طلب گار ہے تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے۔ اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتے ہیں۔ اور جو لوگ برے برے مکر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ اور ان کا مکر نابود ہوجائے گا۔ 11. اور خدا ہی نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تم کو جوڑا جوڑا بنا دیا۔ اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے مگر (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے۔ بےشک یہ خدا کو آسان ہے۔ 12. اور دونوں دریا (مل کر) یکساں نہیں ہوجاتے۔ یہ تو میٹھا ہے پیاس بجھانے والا۔ جس کا پانی خوشگوار ہے اور یہ کھاری ہے کڑوا۔ اور سب سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے پہنتے ہو۔ اور تم دریا میں کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ (پانی کو) پھاڑتی چلی آتی ہیں تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو۔ 13. وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا ہے۔ ہر ایک، ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے۔ اور جن لوگوں کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی تو (کسی چیز کے) مالک نہیں۔ 14. اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں۔ اور قیامت کے دن تمہارے شرک سے انکار کردیں گے۔ اور (خدائے) باخبر کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا۔

تفسیر آیات

8۔  برائی کے ارتکاب کی ایک حالت تو وہ ہے کہ آدمی کے اندر اس کے برائی ہونے کا احساس زندہ رہتاہے،دوسری حالت یہ ہے کہ وہ اپنی برائی کو ہنر، فیشن، ترقی کا زینہ اور تہذیب و تعلیم کا مقتضاسمجھنے لگتاہے۔ پہلی حالت میں تو آدمی تنبیہ سے سنبھل سکتاہے لیکن دوسری حالت دل کے مسخ اور عقل کے ماؤف ہوجانے کی علامت ہے۔ ایسے لوگ ہدایت کی طرف نہیں آتے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

یہ حقیقت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم واضح کرتے آرہے ہیں کہ یہ دنیا اپنے وجود میں ان تمام حقائق کی تعلیم کے لئے ایک بہترین تعلیم گاہ ہے جن کی قرآن تعلیم دے رہا ہے۔ اگر انسان عقل و بصیرت سے کام لے تو قرآن کے ہر دعوے کی دلیل اس کو اپنے دہنے بائیں سے مل سکتی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

10۔پاکیزہ کلمہ اور اعمالِ صالحہ کا باہمی تعلق:۔پاکیز ہ کلمات اور پاکیزہ اعمال دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اور دونوں ایک دوسرے کے مؤید اور مددگار ہیں۔ پاکیزہ کلمات یا اقوال اللہ کی طرف اس وقت چڑھتے ہیں جب کہ ان کی تائید اعمال صالحہ سے بھی ہورہی ہو۔اور اگر عمل پاکیزہ اقوال کے خلاف ہو تو یہ پاکیزہ اقوال بھی نہ اوپر چڑھ سکتے ہیں نہ اللہ کے ہاں مقبول ہوسکتے ہیں۔اسی طرح اعمال صالحہ بھی اسی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتے ہیں جبکہ ان کی بنیاد پاکیزہ اقوال یا درست عقیدہ پر ہو۔اگر عقیدہ درست نہ ہوگا تو ایسے اعمال بھی نہ اوپر چڑھیں  گے اور نہ ہی مقبولیت کا درجہ حاصل کرسکتے ہیں۔پاکیزہ کلمات میں سب سے پہلے نمبر پر تو کلمہ طیبہ ہے جس میں شرک کا پورا رد موجود ہے اور توحید خالص کا اقرارہے۔پھر اللہ کا ذکر، دعا،قرآن کی تلاوت وغیرہ آخرت وغیرہ سے متعلق ٹھوس حقائق پر مبنی ہیں۔یہ کلمات اللہ کی طرف بلند ضرور ہوتے ہیں مگر اس شرط پر کہ انہیں اعمال صالحہ یا ان اقوال پاکیزہ کے مطابق افعال کی تائید بھی حاصل ہو۔ یہی صورت اعمال صالحہ کی ہے ان کی مقبولیت کی شرط یہ ہے کہ ان کی بنیاد اقوال پاکیزہ پر اٹھی ہو۔(تیسیر القرآن)

ــــ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ۔ کلام طیب میں اقرار ایمان اور ساری نیکیاں داخل ہیں۔۔۔۔الْعَمَلُ الصَّالِحُ۔عمل صالح میں تصدیق قلبی اور ساری ظاہری و باطنی عملی نیکیاں شامل ہیں۔(تفسیر ماجدی)

۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قول کو بغیر عمل کے اور کسی قول و عمل کو بغیر نیت کے اور کسی قول و عمل اور نیت کو بغیر مطابقت سنت کے قبول نہیں کرتا۔ (قرطبی) (معارف القرآن)

11۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابو الدردا سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس (مضمون کا ذکر) رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا تو آپ نے فرمایا کہ عمر تو اللہ کے نزدیک ایک ہی مقرر اور مقدر ہے جب مقررہ مدت پوری ہوجاتی ہے تو کسی شخص کو ذرا بھی مہلت نہیں دی جاتی۔ بلکہ زیادتی عمر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اولاد صالح عطا فرما دیتا ہے وہ اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں۔ یہ شخص نہیں ہوتا ہے اور ان لوگوں کی دعائیں اس کو قبر میں ملتی رہتی ہیں (یعنی مرنے کے بعد بھی ان کو وہ فائدہ پہنچتا رہتا ہے، جو خود زندہ رہنے سے حاصل ہوتا ہے، اسی طرح گویا اس کی عمر بڑھ گئی۔ یہ دونوں روایتیں ابن کثیر نے نقل کی ہیں) خلاصہ یہ ہے کہ جن احادیث میں بعض اعمال کے متعلق یہ آیا ہے کہ ان سے عمر بڑھ جاتی ہے، اس سے مراد عمر میں برکت کا بڑھ جانا ہے۔ (معارف القرآن)


تیسرا رکوع

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ﴿15﴾ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ ﴿16﴾ وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ ﴿17﴾ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ ﴿18﴾ وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ ﴿19﴾ وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ ﴿20﴾ وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ ﴿21﴾ وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ ﴿22﴾ اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ ﴿23﴾ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ ﴿24﴾ وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ ﴿25﴾ ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ ۧ ۧ ﴿26ع فاطر 35﴾
15. لوگو تم (سب) خدا کے محتاج ہو اور خدا بےپروا سزاوار (حمد وثنا) ہے۔ 16. اگر چاہے تو تم کو نابود کردے اور نئی مخلوقات لا آباد کرے۔ 17. اور یہ خدا کو کچھ مشکل نہیں۔ 18. اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا اپنا بوجھ بٹانے کو کسی کو بلائے تو کوئی اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قرابت دار ہی ہو۔ (اے پیغمبر) تم انہی لوگوں کو نصیحت کرسکتے ہو جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے اور نماز بالالتزام پڑھتے ہیں۔ اور جو شخص پاک ہوتا ہے اپنے ہی لئے پاک ہوتا ہے۔ اور (سب کو) خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ 19. اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں۔ 20. اور نہ اندھیرا اور روشنی۔ 21. اور نہ سایہ اور دھوپ۔ 22. اور نہ زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں۔ خدا جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے۔ اور تم ان کو جو قبروں میں مدفون ہیں نہیں سنا سکتے۔ 23. تم تو صرف ڈرانے والے ہو۔ 24. ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بھیجا ہے۔ اور کوئی اُمت نہیں مگر اس میں ہدایت کرنے والا گزر چکا ہے۔ 25. اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کرچکے ہیں۔ ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے لے کر آتے رہے۔ 26. پھر میں نے کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا ہوا۔

تفسیر آیات

15۔  " غَنِیُّ" سے مراد یہ ہے کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے، ہر ایک سے مستغنی اور بےنیاز ہے، کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ اور " حمید " سے مراد یہ ہے کہ وہ آپ سے آپ محمود ہے، کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے مگر حمد (شکر اور تعریف) کا استحقاق اسی کو پہنچتا ہے۔ ان دونوں صفات کو ایک ساتھ اس لیے لایا گیا ہے کہ محض غنی تو وہ بھی ہوسکتا ہے جو اپنی دولت مندی سے کسی کو نفع نہ پہنچائے۔ اس صورت میں وہ غنی تو ہوگا مگر حمید نہ ہوگا۔ حمید وہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ وہ کسی سے خود تو کوئی فائدہ نہ اٹھائے مگر اپنی دولت کے خزانوں سے دوسروں کو ہر طرح کی نعمتیں عطا کرے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ ان دونوں صفات میں کامل ہے اس لیے فرمایا گیا ہے کہ وہ محض غنی نہیں ہے بلکہ ایسا غنی ہے جسے ہر تعریف اور شکر کا استحقاق پہنچتا ہے کیونکہ وہ تمہاری اور تمام موجودات عالم کی حاجتیں پوری کر رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)

18۔ گمراہ کرنے والے اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور گمراہ ہونے والوں کا بھی مگر اس سے گمراہ ہونے والوں کا بوجھ کم نہیں ہوگا۔ایک نیکی کےلئے باپ اپنے بیٹے سے اور پھر اپنی بیوی سے سوال کرے گا لیکن وہ انکار کر دیں گے ۔(معارف القرآن)

ــــ (پس اس بھروسہ پر رہنا کہ ہمارے آباء و اجداد مقبولین میں ہوئے ہیں، کیسی شدید حماقت ہے) وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى۔یہ سب کشف حقائق و ظہور  نتائج کے دن، یعنی قیامت میں ہوگا۔وزر۔سے مراد کفر و معصیت کا بوجھ ہے،اور اس کا تعلق ذاتی عمل سے ہے،ورنہ اعانت جرم، یعنی اغواو اضلال تو خود ایک مستقل جرم ہے،آیت میں خاص طورپر رد اُ ن مذہبوں کا ہے،جن کا دارومدار ہی کفارہ و شفاعت کے عقائد پر ہے۔(تفسیر ماجدی)

22۔ سماعِ موتیٰ کا رد۔  ربطِ مضمون کے لحاظ سے یہ مطلب بھی لیا جاسکتاہے کہ قبروں میں پڑےلوگوں سے مراد یہی مردہ دل کافر لوگ ہیں مگر الفاظ کے ظاہری معنوں کا اعتبار کرنا زیادہ صحیح ہوگا۔ یعنی جو لوگ قبروں میں جاچکے ہیں انہیں اللہ توسناسکتاہے آپ نہیں سنا سکتے۔کیونکہ قبروں میں پڑے ہوئے لوگ عالمِ برزخ میں جاپہنچے ہیں۔عالم دنیا میں نہیں ہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک سویا ہوا شخص اپنے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کی گفتگو نہیں سن سکتا۔اس لیے عالمِ خواب الگ عالم  ہے۔ اور عالمِ بیداری الگ عالم ہے۔ حالانکہ یہ دونوں عالم ، عالم دنیا سے ہی متعلق ہیں مگر عالم ِ برزخ دنیا سے متعلق نہیں بالکل الگ عالم ہے۔لہذا قبروں میں پڑے ہوئے لوگ بدرجہ اولیٰ دنیا والوں کی بات سن نہیں سکتے۔ یہ آیت سماعِ موتیٰ کا کلیتاً  رد ثابت کرتی ہے۔ رہا قلیبِ بدر کا واقعہ جو احادیث ِ صحیحہ میں مذکور ہے۔کہ جنگ ِ بدر میں ستر مقتول کافروں کی لاشیں بدر کے کنوئیں میں پھینک دی گئیں۔تو تیسرے دن رسول اللہؐ نے اس کنوئیں کے کنارے کھڑے ہوکر فرمایا:"تمہارے مالک نے جو سچا وعدہ تم سے کیا تھا وہ تم نے پالیا؟"لوگوں نے عرض کیا :"یا رسول اللہؐ ! کیا آپؐ مردوں کو سناتے ہیں؟آپؐ نے فرمایا : تم کچھ ان سےزیادہ نہیں سنتے،البتہ وہ جواب نہیں دےسکتے"(بخاری، کتاب المغازی۔بب قتل ابی جہل۔۔۔بخاری کتاب الجنائز۔باب ماجاء فی عذاب القبر)اور سیدنا قتادہ نے اس حدیث کی تفسیر میں کہا کہ اللہ نے اس وقت ان مردوں کو جلا دیا تھاان کی زجر و توبیخ، ذلیل کرنے،بدلہ لینے اور شرمندہ کرنے کے لیے "(بخاری۔کتاب المغازی۔ باب قتل ابی جھل)گویا یہ ایک معجزہ تھا اور فی الحقیقت سنانے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا۔اور یہ اس آیت کا مفہوم ہے۔(تیسیر القرآن)

۔ یعنی اللہ کی مشیت کی تو بات ہی دوسری ہے، وہ چاہے تو پتھروں کو سماعت بخش دے، لیکن رسول اللہ ﷺ کے بس کا یہ کام نہیں ہے کہ جن لوگوں کے سینے ضمیر کے مدفن بن چکے ہوں ان کے دلوں میں اپنی بات اتار سکے اور جو بات سننا ہی نہ چاہتے ہوں ان کے بہرے کانوں کو صدائے حق سنا سکے۔ وہ تو انہی لوگوں کو سنا سکتا ہے جو معقول بات پر کان دھرنے کے لیے تیار ہوں۔ (تفہیم القرآن)

24۔ مگر اس سلسلے میں دو باتیں سمجھ لینی چاہییں تاکہ کوئی غلط فہمی نہ ہو۔ اول یہ کہ ایک نبی کی تبلیغ جہاں جہاں تک پہنچ سکتی ہو وہاں کے لیے وہی نبی کافی ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ہر بستی اور ہر ہر قوم میں الگ الگ ہی انبیا بھیجے جائیں۔ دوم یہ کہ ایک نبی کی دعوت و ہدایت کے آثار اور اس کی رہنمائی کے نقوش قدم جب تک محفوظ  ہیں اس وقت تک کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ لازم نہیں کہ ہر نسل اور ہر پشت کے لیے الگ نبی بھیجا جائے۔ (تفہیم القرآن)

25۔ صحیفوں اور کتاب میں غالباً یہ فرق ہے کہ صحیفے زیادہ تر نصائح اور اخلاقی ہدایات پر مشتمل ہوتے تھے، اور کتاب ایک پوری شریعت لے کر آتی تھی۔ (تفہیم القرآن)


چوتھا رکوع

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ ﴿27﴾ وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ ﴿28﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ ﴿29﴾ لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ ﴿30﴾ وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ ﴿31﴾ ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ ﴿32﴾ جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ ﴿33﴾ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ ﴿34﴾ اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ ﴿35﴾ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ ﴿36﴾ وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ ۧ ۧ ﴿37ع فاطر 35﴾
27. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے مینہ برسایا۔ تو ہم نے اس سے طرح طرح کے رنگوں کے میوے پیدا کئے۔ اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور (بعض) کالے سیاہ ہیں۔ 28. انسانوں اور جانوروں اور چارپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں۔ خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔ بےشک خدا غالب (اور) بخشنے والا ہے۔ 29. جو لوگ خدا کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیدوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی۔ 30. کیونکہ خدا ان کو پورا پورا بدلہ دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی دے گا۔ وہ تو بخشنے والا (اور) قدردان ہے۔ 31. اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے۔ اور ان (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں۔ بےشک خدا اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے۔ 32. پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھیرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا۔ تو کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ اور کچھ میانہ رو ہیں۔ اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ یہی بڑا فضل ہے۔ 33. (ان لوگوں کے لئے) بہشتِ جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے۔ اور ان کی پوشاک ریشمی ہوگی۔ 34. وہ کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا۔ بےشک ہمارا پروردگار بخشنے والا (اور) قدردان ہے۔ 35. جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ کے رہنے کے گھر میں اُتارا۔ یہاں نہ تو ہم کو رنج پہنچے گا اور نہ ہمیں تکان ہی ہوگی۔ 36. اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے۔ نہ انہیں موت آئے گی کہ مرجائیں اور نہ ان کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ہر ایک ناشکرے کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ 37. وہ اس میں چلائیں گے کہ اے پروردگار ہم کو نکال لے (اب) ہم نیک عمل کیا کریں گے۔ نہ وہ جو (پہلے) کرتے تھے۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا۔ تو اب مزے چکھو۔ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

تفسیر آیات

27۔وہی حقیقت جو آیات 20۔ 22 میں سمجھائی گئی ہے اس کائنات کی دوسری مثالوں کی روشنی میں سمجھائی جا رہی ہے۔ گویا آیت 23۔ 26 بیچ میں بطور التفات آگئی تھیں۔ ان کے ختم ہونے کے بعد کلام پھر اپنے اصل سلسلہ سے مربوط ہوگیا۔ فرمایا کہ دیکھتے ہی نہیں کہ اللہ آسمان سے بارش نازل کرتا ہے تو اس سے ایک ہی قسم کی چیز نہیں اگتی بلکہ طرح طرح کی مختلف النوع اور مختلف الالوان چیزیں اگ پڑتی ہیں۔ اسی سے خوش نماء خوش رنگ اور خوش ذائقہ پھلوں والی چیزیں بھی اگتی ہیں اور اسی سے ناقص زمینوں میں جھاڑ جھنکار بھی اگتے ہیں۔ یہی حال اس قرآنی بارش کا بھی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

28۔اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ خدا کی پیدا کردہ کائنات میں کہیں بھی یک رنگی و یکسانی نہیں ہے۔ ہر طرف تنُّوع ہی تنُّوع ہے۔  (تفہیم القرآن)

۔ فرمایا کہ جمادات کی طرح انسانوں، جانداروں اورچوپایوں میں بھی قدرت کی یہی گونا گونی و بوقلمونی نمایاں ہے۔ لفظ ’ الوان ‘ یہاں بھی صرف رنگوں کے مفہوم میں نہیں بلکہ انواع و اقسام کے وسیع مفہوم میں ہے۔ یعنی صورت، سیرت، صفات، مزاج، خصوصیات اور عادات واطوار کے اعتبار سے ان میں بڑا فرق و اختلاف پایا جاتا ہے۔(تدبرِ قرآن)

۔ مذکورہ تصریحات سے یہ شبہ بھی جاتا رہا کہ بہت سے علماء کو دیکھا جاتا ہے کہ ان میں خدا کا خوف و خشیت نہیں۔ کیونکہ تصریحات بالا سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نزدیک صرف عربی جاننے کا نام علم اور جاننے والے کا نام عالم نہیں جس میں خشیت نہ ہو وہ قرآن کی اصطلاح میں عالم ہی نہیں۔ البتہ خشیت کبھی صرف اعتقادی اور عقلی ہوتی ہے جس کی وجہ سے آدمی بہ تکلف احکام شرعیہ کا پابند ہوتا ہے، اور کبھی یہ خشیتہ حالی اور ملکہ راسخہ کے درجہ میں ہوجاتی ہے جس میں اتباع شریعت ایک تقاضائے طبیعت بن جاتا ہے۔ خشیت کا پہلا درجہ ماموربہ اور عالم کے لئے ضروری ہے دوسرا درجہ افضل واعلیٰ ہے ضروری نہیں۔ (از بیان القرآن) (معارف القرآن)

29۔تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَ۔ قرآن مجید میں کثرت کے ساتھ تجارتی اور کاروباری اصطلاحات کے آنے سے ایک طرف تو اس پر روشنی پڑتی ہے کہ اُس وقت کے عربوں کے قومی مزاج پر تجارتی مذاق اچھا خاصہ غالب تھا،اور دوسری طرف اس پر کہ قرآن کو اسی مذاق کا امت اسلامی میں پھیلا رہنا مقصود بھی تھا۔(تفسیر ماجدی)

31۔ خَبِیْرٌ۔ان کے ہر حال کی خبر رکھنے والا۔ بَصِیْرٌ۔ ان کی ہر مصلحت پر نظر رکھنے والا۔(تفسیر ماجدی)

32۔ تین طبقے امتِ مسلمہ کے ہیں اور ان کو بزرگی اور بخشش عطا ہوئی مگر درجہ بدرجہ ۔حساب کے ساتھ اور بغیر حساب کے ۔(معارف القرآن)

- مفسرین نے عام طورپر الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا سے امت مسلمہ کو مراد لیا ہے اور پھر اس سے یہ نتیجہ بھی ،معلوم نہیں کس طرح ، نکال لیا ہے کہ یہ ظالمین بھی بخش دئیے جائیں گے۔تفسیر ابن کثیر اور ابن جریر نے ان سے اصحاب المشئمہ مراد لیا ہے۔(تدبر قرآن)

ـــــمسلمانوں کی یہاں تین قسمیں بیان ہوئی ہیں:  پہلی قسم: ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖٖ۔ یعنی ہیں تو مسلمان ، لیکن گناہ کرکرکے اپنی جانوں پر ظلم کررہے ہیں۔ امام رازیؒ نے چند اور صفات بھی بیان کیے ہیں ، مثلاً : ظالم وہ ہے جس کے سیّٰات زائد ہوں، یا جس کا ظاہر باطن سے بہتر ہو،یا جو صاحب کبیرہ ہو، یا جو بعد حساب قابل نار ہو۔ مُقْتَصِدٌ۔یہ دوسری قسم ہے یعنی نہ تو گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، اور نہ طاعت ہی میں کچھ ترقی کرتے ہیں،بس بقدر ضرورت پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔امام رازیؒ نے کچھ اور بھی خصوصیات ذکر کیے ہیں، مثلاً مقتصد وہ ہے جس کے خیر و شر  مساوی ہوں یا جس کا ظاہر و باطن یکساں ہو، یا جوصاحب صغیرہ ہو،یا جوبعد حساب نجات پائے۔۔۔۔۔سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ۔یہ تیسری قسم ہوئی کہ گناہوں سے بچتے  بھی ہیں اور طاعات میں فرائض  کے علاوہ بھی بہت کچھ کیے رہتے ہیں۔امام رازیؒ کے الفاظ میں سابق بالخیرات وہ ہے جس کے حسنات زائد ہوں یا جس کا باطن ظاہر سے بہتر ہو، یا جو گناہوں سے محفوظ ہو ، یا جو بے حساب و کتاب جنت  میں جائے۔(کبیر،ج26/ص: 23) ذٰلِكَ۔یعنی ایسی کامل کتاب کا مسلمانوں کو حامل بنادینا۔۔۔۔۔فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ۔ آیت کا یہ جز اس باب میں نص صریح ہے کہ مومن باوجود سخت گنہگارہونے کے بہر حال مغفور ہی ہوتاہے۔۔۔۔اور یہ تصریح مسلک خارجیت کی جڑ کاٹ دینے کے لیے کافی ہے۔۔۔۔روایات اہم اور آثار سے تقویت اسی کی ہوتی ہے کہ تینوں طبقات اہل جنت ہی کے ہیں اس لیے ظالم کی تفسیر کافر سے کرنا قابل التفات  بھی نہیں"۔(تفسیر ماجدی)

35۔'اقامت کا گھر 'اس لیے کہ اس سے پہلے وہ دنیا میں ایک سرائے فانی میں تھے اور انہوںنے اس کو ایک سرائے فانی ہی سمجھا۔اب اس گھر میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

37۔ حضرت علی مرتضیٰ نے فرمایا وہ عمر جس پر اللہ تعالیٰ نے گناہگار بندوں کو عار دلائی ساٹھ سال ہے۔ اور حضرت ابن عباس نے ایک روایت میں چالیس اور دوسری میں ساٹھ سال کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ وہ عمر ہے جس میں انسان پر اللہ کی حجت تمام ہوجاتی ہے اور انسان کو کوئی عذر کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ ابن کثیر نے حضرت ابن عباس کی اس دوسری حدیث کو ترجیح دی ہے۔ (معاف القرآن)


پانچواں رکوع

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴿38﴾ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا ﴿39﴾ قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا ﴿40﴾ اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا ﴿41﴾ وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرًاۙ ﴿42﴾ اِ۟سْتِكْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّیِّئِ١ؕ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا ﴿43﴾ اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا ﴿44﴾ وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ ۧ ۧ ﴿45ع فاطر 35﴾
38. بےشک خدا ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے۔ وہ تو دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے۔ 39. وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں (پہلوں کا) جانشین بنایا۔ تو جس نے کفر کیا اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے۔ اور کافروں کے حق میں ان کے کفر سے پروردگار کے ہاں ناخوشی ہی بڑھتی ہے اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی زیادہ کرتا ہے۔ 40. بھلا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو۔ مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین سے کون سی چیز پیدا کی ہے یا (بتاؤ کہ) آسمانوں میں ان کی شرکت ہے۔ یا ہم نے ان کو کتاب دی ہے تو وہ اس کی سند رکھتے ہیں (ان میں سے کوئی بات بھی نہیں) بلکہ ظالم جو ایک دوسرے کو وعدہ دیتے ہیں محض فریب ہے۔ 41. خدا ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے رکھتا ہے کہ ٹل نہ جائیں۔ اگر وہ ٹل جائیں تو خدا کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ان کو تھام سکے۔ بےشک وہ بردبار (اور) بخشنے والا ہے۔ 42. اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہدایت کرنے والا آئے تو ہر ایک اُمت سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں۔ مگر جب ان کے پاس ہدایت کرنے والا آیا تو اس سے ان کو نفرت ہی بڑھی۔ 43. یعنی (انہوں نے) ملک میں غرور کرنا اور بری چال چلنا (اختیار کیا) اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ یہ اگلے لوگوں کی روش کے سوا اور کسی چیز کے منتظر نہیں۔ سو تم خدا کی عادت میں ہرگز تبدل نہ پاؤ گے۔ اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے۔ 44. کیا انہوں نے زمین میں کبھی سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا حالانکہ وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے۔ اور خدا ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اس کو عاجز کرسکے۔ وہ علم والا (اور) قدرت والا ہے۔ 45. اور اگر خدا لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑنے لگتا۔ تو روئے زمین پر ایک چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا۔ لیکن وہ ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ سو جب ان کا وقت آجائے گا تو (ان کے اعمال کا بدلہ دے گا)۔ خدا تو اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔

تفسیر آیات

38۔ یہ بیان ہوا حق تعالیٰ کے کمال علمی کا۔ صفت قدرت کے بعد صفت علم بھی تمام صفات باری تعالیٰ میں سے ایسی صفت ہے ،جس کے باب میں، مشرک جاہلی قوموں کو سب سے زیادہ ٹھوکریں لگی ہیں۔قرآن مجید کو اسی لیے ضرورت پیش آئی کہ اللہ تعالیٰ کے علم کی کاملیت کو اور اسرار و خفا یا جزئیات و دقائق پر اس کے محیط ہونے کوباربار بیان کیا جائے۔(تفسیر ماجدی)

39۔ غور کیجئے تو اس پیرے میں، جس کو خاتمہ سورة کی حیثیت حاصل ہے، فواصل یعنی قوافی بدل گئے ہیں۔ قوافی کی یہ اچانک تبدیلی متکلم کے لب و لہجہ کی تبدیلی کی دلیل ہوتی ہے اور اس تبدیلی سے مقصود مخاطب کو ایک نئے پہلو سے متوجہ کرنا ہوتا ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔۔۔۔۔یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ اس سرزمین میں آج جو اقتدار تم کو حاصل ہے یہ نہ تمہارا اپنا پیدا کردہ ہے اور نہ تم اس ملک میں پہلی بار برسر اقتدار آئے ہو بلکہ تم سے پہلے بھی قومیں گزر چکی ہیں جن کو خدا نے ان کے کفر و استکبار کی پاداش میں ہلاک کردیا اور ان کی جگہ تم کو متمکن کیا تو اگر وہی روش تم نے اختیار کی تو اسی انجام سے دو چار ہونے کے لئے بھی تیار رہو جو ان کے سامنے آیا۔ (تدبرِ قرآن)

40۔ یعنی یوں ہی بے دلیل و سند ایک دوسرے کو سبز باغ دکھا رہے ہیں، مثلاً یہ کہ ان کے فلاں بت کے یہ یہ اختیارات ہیں ،اور فلاں کی پوجا پاٹ سے یہ برکات حاصل ہوتی ہیں ،اور قدرتی آفتوں سے فلاں دیوی دیوتا بچائے ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ یہ ساری باتیں محض فریب ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

42۔ صحیح راہ بتانے والے کی مخالفت کرنا خود اپنی راہ گم اور اپنی عاقبت خراب کرنا ہوتاہے۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)

۔ یہ بات نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب کے لوگ عموماً اور قریش کے لوگ خصوصاً یہود و نصاریٰ کی بگڑی ہوئی اخلاقی حالت کو دیکھ کر کہا کرتے تھے۔ ان کے اس قول کا ذکر اس سے پہلے سورة انعام  (156-157) میں بھی گزر چکا ہے اور آگے سورة صافّات (167-169) میں بھی آ رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)

43۔ تبدیلی یہ کہ مثلاً ایسے مجرموں کو بجائے سزا و عقوبت کے انعام و اکرام ملنے لگے، اور منتقلی یہ کہ مثلاً عذاب بجائے مجرموں کے کسی اورپر ہونے لگے۔یایہ مطلب لیا جائے کہ نہ تبدیلی نفس عذاب میں ہوسکتی ہے اور نہ منتقلی اس کے اوقات میں۔(تفسیر ماجدی)