36 - سورة یٰسین (مکیہ)
| رکوع - 5 | آیات - 83 |
مضمون: حق کے مخالفین تکبر کے باعث ان نشانیوں پر غور نہیں کرتے جو رب کے شکر کو لازم کرتی ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: سورۃ میں زندگی بعد موت پر بھی استدلال کیا گیا ہے اور توحید اور آخرت کے عقیدے کو بھی بہت مؤثر انداز میں ذہن نشین کرایاگیا ہے۔حضورؐ نے اس سورت کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے ۔آپؐ نے اسے قلب ِقرآن یعنی قرآن کا دل کہاہے۔ اسے پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتاہے کہ واقعی یہ دھڑکتاہوادل ہے جو مردہ دلوں کےاندر بھی زندگی کی روح پھونک سکتاہے۔بدعملی اور جمود کے زنگ کو صاف کرکے دل و دماغ کو چمکا سکتاہے۔
زمانۂ نزول: سورت "یٰس"،رسول اللہؐ کے قیامِ مکہ کے تیسرے دور(6تا 10 نبوی)میں نازل ہوئی، جب آپ ؐ پر "شاعر"ہونے کا الزام تھا۔یہ ایک جلالی سورت ہے۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
سورۂ کا نام اور اہمیت: اس کا آغاز یٰسین سے ہوتاہے جو حضورؐ کے ناموں میں سے ایک نام ہے ۔اسی لئے بعض مفسرین نے یٰسین کے حروف سے یا سید لیا ہے۔علامہ اقبال نے فرمایا ہے :
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآن وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طٰہٰ
چونکہ اس سورت کو پڑھتے ہوئے قیامت مجسم صورت میں آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے اس لئے آنحضورؐ فرمایا کرتے تھے کے مرنے والوں کے سامنے اس کی تلاوت کی جائے ۔
شانِ نزول: چار سورتوں کا یہ گروپ سورۂ فاطر، سورۂ یٰس،سورۂ الصافات اور سورۂ ص پر مشتمل ہے۔ یہ سورتیں شدید مخالفت اور ظلم و جور کی شدت کے ایام میں حضورؐ کے قیامِ مکہ کے تیسرے دور 7 تا 10 سن نبوی میں نازل ہوئیں۔
یہ ایک جلالی سورت ہے ۔اس میں چالیس سے زیادہ مرتبہ اللہ کےلئے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اور صرف ایک مرتبہ توحید کے مضمون کی وضاحت کیلئے واحد کا صیغہ ۔
نظمِ کلام: سورۂ سبا۔
اہم کلیدی الفاظ و مضامین:
سورت یٰس ایک جلالی سورت ہے۔ اس کے باوجود کئی مرتبہ "رحمت"اور"رحمن"کا ذکر کیا گیاہے۔
ترتیبِ مطالعۂ: (i) ر۔1(رسالت ِ محمدیہ کا انکار اور منکرین کا انجام)(ii)ر۔2(اصحاب القریہ کا نصیحت آموز واقعہ)(iii)ر۔3( آیاتِ الٰہی کی روشنی میں دلائل توحید) (iv) ر۔4( اہلِ جنت و دوزخ کے احوال) (v)ر۔5( مسائلِ رسالت و توحید۔تمہیدی اور اختتامی آیات کی ہم آہنگی)
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ یٰسٓۚ ﴿1﴾ وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ ﴿2﴾ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ ﴿3﴾ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ ﴿4﴾ تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ ﴿5﴾ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ ﴿6﴾ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ﴿7﴾ اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ ﴿8﴾ وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ ﴿9﴾ وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ﴿10﴾ اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ ﴿11﴾ اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ ۧ ۧ ﴿12ع يس 36﴾ |
| 1. یٰسٓ۔ 2. قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے بھرا ہوا ہے۔ 3. اے محمدﷺ) بےشک تم پیغمبروں میں سے ہو۔ 4. سیدھے رستے پر۔ 5. یہ خدائے) غالب (اور) مہربان نے نازل کیا ہے۔ 6. تاکہ تم ان لوگوں کو جن کے باپ دادا کو متنبہ نہیں کیا گیا تھا متنبہ کردو۔ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ 7. ان میں سے اکثر پر (خدا کی) بات پوری ہوچکی ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ 8. ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک (پھنسے ہوئے ہیں) تو ان کے سر اُلل رہے ہیں۔ 9. اور ہم نے ان کے آگے بھی دیوار بنا دی اور ان کے پیچھے بھی۔ پھر ان پر پردہ ڈال دیا تو یہ دیکھ نہیں سکتے۔ 10. اور تم ان کو نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے وہ ایمان نہیں لانے کے۔ 11. تم تو صرف اس شخص کو نصیحت کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور خدا سے غائبانہ ڈرے۔ سو اس کو مغفرت اور بڑے ثواب کی بشارت سنا دو۔ 12. بےشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور (جو) ان کے نشان پیچھے رہ گئے ہم ان کو قلمبند کرلیتے ہیں۔ اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن (یعنی لوح محفوظ) میں لکھ رکھا ہے۔ |
تفسیر آیات
1۔ اگرچہ یہ لفظ بھی دو حروف مقطعات کا مجموعہ ہے۔ تاہم اس کے پہلے لفظ یا سے جو حرف ندا ہے یہ معلوم ہوتاہے کہ یہ صرف ندا اور منادیٰ سے مل کر ایک جملہ بن رہاہے۔اسی لئے اکثر مفسرین نے اس کا ترجمہ اے شخص ،اے مرد، یا اے انسان سے کیا ہے۔اور اس سے مراد رسول اللہؐ ہیں۔(تیسیر القرآن)
2۔قرآن کا نزول ہی آپ کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے:۔واؤ قسمیہ ہے اور قسم شہادت کے قائم مقام ہوا کرتی ہے۔لعان کی صورت میں جو قسمیں اٹھائی جاتی ہیں تو وہ شہادتوں ہی کے قائم مقام ہوتی ہیں۔(تیسیر القرآن)
۔معلوم ہواکہ قرآن کا اعجاز اس کی حکمت اور فلسفہ میں ہے۔زبان کی بلاغت مزید برآں ہے۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
6۔ مکہ میں حضرت شعیبؑ کے دوہزار سال بعد آپؐ مبعوث ہوئے:۔ اس آیت کے دومطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ما اُنْذِرَ میں اگر ماکو نافیہ سمجھا جائے جیساکہ اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ چونکہ ان کی طرف کوئی نبی نہیں آیا لہذا یہ لوگ گہری غفلت اور جہالت میں پڑے ہوئے ہیں اور اگر ماکو موصولہ سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کے قدیمی آباء و اجدادمدتوں پہلے جس چیز سے ڈرائے گئے تھے۔اسی چیز سے آپ ان کو ڈرائیں۔اور یہ تو ظاہر ہے کہ سیدنا ابراہیمؑ،سیدنا اسمٰعیلؑ اور سیدنا شعیبؑ انہی کے آباء و اجداد کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور آخری شعیبؑ تھے انہیں بھی دوہزار سال کا عرصہ گذرچکاتھا اور اتنی مدت بعد رسول اللہؐ ان کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔(تیسیر القرآن)
ـــ لِتُنْذِرَ قَوْمًا۔ قوم سے مراد قریش یا قوم عرب ہے، جو پیام اسلام کی اولین مخاطب تھی۔ جس دور سے دنیا اُس وقت گزررہی تھی اور جس منزل میں اس وقت تھی ،لوگوں کی سمجھ میں یہی آنا ذرا مشکل تھا کہ کوئی نبی اپنی قوم یا قبیلے کی اصلاح کے لیے بھی آسکتاہے؟تو عالم گیر نبوت اور کائناتی پیامبری کا تخیل تو وقت کے عام ذہنوں کی گرفت سے بالکل ہی باہر تھا۔ یہی راز ہے اس کا کہ قرآن مجید نے رسول اللہؐ کے پیام کی عالم گیری کو اس تصریح اور اس تکرار کے ساتھ نہیں بیان کیا ہے جس طرح آپؐ کی پیامبری خود آپؐ ہی کی قوم ،قریش یا عرب کی طرف بیان کی ہے۔نبوت محمدیؐ کی یہ عالم گیر حیثیت بھی متعدد مقامات پر بیان ہوئی ہے۔مثلاً لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا۔ وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وغیرہا۔لیکن اس سے بھی زیادہ وضاحت و تکرار کے ساتھ زور آپؐ کی قومی نبوت پر دیاہے۔(تفسیرماجدی)
8۔تقلیدِ آباء اور رسم و رواج کے طوق:۔یہ طوق ان کی تقلید آباء کے طوق تھے،ان کی جاہلانہ اور مشرکانہ رسوم کے طوق تھے، ان کے کبرونخوت کے طوق تھے جنہوں نے ان کے گلوں کو اس حدتک دبارکھا تھا اور ان کے سر اس قدر جکڑے ہوئے تھے کہ وہ کسی دوسری طرف دیکھ ہی نہ سکتے تھے۔ نہ ہی ان کی نگاہیں نیچے اپنی طرف دیکھ سکتی تھیں کہ وہ کم از کم اپنے اندر ہی موجود اللہ کی نشانیوں اور قدرتوں کو دیکھ کر کچھ سبق حاصل کرسکیں۔(تیسیرالقرآن)
9۔ ایک دیوار آگے اور ایک پیچھے کھڑی کردینے سے مراد یہ ہے کہ اسی ہٹ دھرمی اور استکبار کا فطری نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یہ لوگ نہ پچھلی تاریخ سے کوئی سبق لیتے ہیں، اور نہ مستقبل کے نتائج پر کبھی غور کرتے ہیں۔ ان کے تعصبات نے ان کو ہر طرف سے اس طرح ڈھانک لیا ہے اور ان کی غلط فہمیوں نے ان کی آنکھوں پر ایسے پردے ڈال دیے ہیں کہ انہیں وہ کھلے کھلے حقائق نظر نہیں آتے جو ہر سلیم الطبع اور بےتعصب انسان کو نظر آ رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
10۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس حالت میں تبلیغ کرنا بےکار ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری تبلیغ عام ہر طرح کے انسانوں تک پہنچتی ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ اور کچھ دوسرے لوگ وہ ہیں جن کا ذکر آگے کی آیت میں آ رہا ہے۔ پہلی قسم کے لوگوں سے جب سابقہ پیش آئے اور تم دیکھ لو کہ وہ انکار و استکبار اور عناد و مخالفت پر جمے ہوئے ہیں تو ان کے پیچھے نہ پڑو۔ مگر ان کی روش سے دل شکستہ و مایوس ہو کر کام چھوڑ بھی نہ بیٹھو، کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ اسی ہجوم خلق کے درمیان وہ خدا کے بندے کہاں ہیں جو نصیحت قبول کرنے والے اور خدا سے ڈر کر راہ راست پر آجانے والے ہیں۔ تمہاری تبلیغ کا اصل مقصود اسی دوسری قسم کے انسانوں کو تلاش کرنا اور انہیں چھانٹ کر نکال لینا ہے۔ ہٹ دھرموں کو چھوڑتے جاؤ، اور اس قیمتی متاع کو سمیٹتے چلے جاؤ۔ (تفہیم القرآن)
12۔ فرقۂ شیعہ کے غالیوں نے لفظ امام کے اپنے اصطلاحی اور اختراعی معنی لے کر امام مبین سے مراد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے لی ہے۔(تفسیرماجدی)
۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کا نامۂ اعمال تین قسم کے اندراجات پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی اچھا یا برا عمل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دفتر میں لکھ لیا جاتا ہے۔ دوسرے، اپنے گرد و پیش کی اشیاء اور خود اپنے جسم کے اعضاء پر جو نقوش (Impressions) بھی انسان مرتسم کرتا ہے وہ سب کے سب ثبت ہوجاتے ہیں، اور یہ سارے نقوش ایک وقت اس طرح ابھر آئیں گے کہ اس کی اپنی آواز سنی جائے گی، اس کے اپنے خیالات اور نیتوں اور ارادوں کی پوری داستان اس کی لوح ذہن پر لکھی نظر آئے گی، اور اس کے ایک ایک اچھے اور برے فعل اور اس کی تمام حرکات و سکنات کی تصویریں سامنے آجائیں گی۔ تیسرے اپنے مرنے کے بعد اپنی آئندہ نسل پر، اپنے معاشرے پر، اور پوری انسانیت پر اپنے اچھے اور برے اعمال کے جو اثرات وہ چھوڑ گیا ہے وہ جس وقت تک اور جہاں جہاں تک کار فرما رہیں گے وہ سب اس کے حساب میں لکھے جاتے رہیں گے۔ اپنی اولاد کو جو بھی اچھی یا بری تربیت اس نے دی ہے، اپنے معاشرے میں جو بھلائیاں یا برائیاں بھی اس نے پھیلائی ہیں اور انسانیت کے حق میں جو پھول یا کانٹے بھی وہ بو گیا ہے ان سب کا پورا ریکارڈ اس وقت تک تیار کیا جاتا رہے گا جب تک اس کی لگائی ہوئی یہ فصل دنیا میں اپنے اچھے یا برے پھل لاتی رہے گی۔ (تفہیم القرآن)
دوسرا رکوع |
| وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ ﴿13﴾ اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ ﴿14﴾ قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ ﴿15﴾ قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ ﴿16﴾ وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ﴿17﴾ قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿18﴾ قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ﴿19﴾ وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ ﴿20﴾ اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ ﴿21﴾ پارہ:23 وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ﴿22﴾ ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ ﴿23﴾ اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ﴿24﴾ اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ ﴿25﴾ قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ ﴿26﴾ بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ ﴿27﴾ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ ﴿28﴾ اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ ﴿29﴾ یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ﴿30﴾ اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ ﴿31﴾ وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿32ع يس 36﴾ |
| 13. اور ان سے گاؤں والوں کا قصہ بیان کرو جب ان کے پاس پیغمبر آئے۔ 14. (یعنی) جب ہم نے ان کی طرف دو (پیغمبر) بھیجے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا۔ پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف پیغمبر ہو کر آئے ہیں۔ 15. وہ بولے کہ تم (اور کچھ) نہیں مگر ہماری طرح کے آدمی (ہو) اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ تم محض جھوٹ بولتے ہو۔ 16. انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف (پیغام دے کر) بھیجے گئے ہیں۔ 17. اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے اور بس۔ 18. وہ بولے کہ ہم تم کو نامبارک سمجھتے ہیں۔ اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے اور تم کو ہم سے دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا۔ 19. انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی۔ بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو۔ 20. اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا ۔کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو۔ 21. ایسوں کے جو تم سے صلہ نہیں مانگتے اور وہ سیدھے رستے پر ہیں۔ 22. اور مجھے کیا ہے میں اس کی پرستش نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔ 23. کیا میں ان کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں؟ اگر خدا میرے حق میں نقصان کرنا چاہے تو ان کی سفارش مجھے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے اور نہ وہ مجھ کو چھڑا ہی سکیں۔ 24. تب تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوگیا۔ 25. میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو۔ 26. حکم ہوا کہ بہشت میں داخل ہوجا۔ بولا کاش! میری قوم کو خبر ہو۔ 27. کہ خدا نے مجھے بخش دیا اور عزت والوں میں کیا۔ 28. اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر نہیں اُتارا اور نہ ہم اُتارنے والے تھے ہی۔ 29. وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی (آتشین) سو وہ (اس سے) ناگہاں بجھ کر رہ گئے۔ 30. بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا مگر اس سے تمسخر کرتے ہیں۔ 31. کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کردیا تھا اب وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ 32. اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کيے جائیں گے۔ |
تفسیر آیات
13۔اصحاب القریہ اور مردِ حق گو:۔ یہ بستی کون سی تھی؟ اس کے متعلق قرآن و حدیث میں کوئی صراحت نہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد روم میں واقع انطاکیہ شہر ہے ۔پھر اس بات میں بھی اختلاف ہے کہ یہ رسول بلاواسطہ رسول تھے یا بالواسطہ رسول یا مبلغ تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مبلغ سیدنا عیسیٰؑ نے ہی بھیجے تھے۔اور بعض کہتے ہیں کہ سیدنا عیسیٰؑ کے حواریوں میں سے تھے۔ قرآن کے بیان سے سرسری طورپر یہی معلوم ہوتاہے کہ وہ بلاواسطہ اللہ کے رسول تھے۔اور اگر یہی بات ہو تو ان کا زمانہ سیدنا عیسیٰؑ سے پہلے کا زمانہ ہونا چاہئے کیونکہ سیدنا عیسیٰؑ کے بعد رسول اللہؐ کی بعثت تک کوئی نبی یا رسول مبعوث نہیں ہوا۔اور بستی کے نام کی تعیین یا رسول کے بلاواسطہ ہونے کی تعیین کوئی مقصود بالذات چیز بھی نہیں کہ اس کی تحقیق ضروری ہو۔مقصود بالذات چیز تو کفارِ مکہ کو سمجھانا ہے کیونکہ کفارِ مکہ اور ان بستی والوں کے حالات میں بہت سی باتوں میں مماثلت پائی جاتی تھی۔(تیسیر القرآن)
۔ ان وجوہ سے یہ بات ناقابل قبول ہے کہ اس بستی سے مراد انطاکیہ ہے۔ بستی کا تعین نہ قرآن میں کیا گیا ہے، نہ کسی صحیح حدیث میں، بلکہ یہ بات بھی کسی مستند ذریعہ سے معلوم نہیں ہوتی کہ یہ رسول کون تھے اور کس زمانے میں بھیجے گئے تھے۔ قرآن مجید جس غرض کے لیے یہ قصہ یہاں بیان کر رہا ہے اسے سمجھنے کے لیے بستی کا نام اور رسولوں کے نام معلوم ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ قصے کے بیان کرنے کی غرض قریش کے لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ تم ہٹ دھرمی، تعصُّب اور انکار حق کی اسی روش پر چل رہے ہو جس پر اس بستی کے لوگ چلے تھے، اور اسی انجام سے دوچار ہونے کی تیاری کر رہے ہو جس سے وہ دوچار ہوئے۔ (تفہیم القرآن)
14۔ 'بستی'سے مراد مصر ہے۔قوم فرعون کی طرف اللہ تعالیٰ نے بیک وقت دورسول (حضرت موسیٰؑ و حضرت ہارونؑ)بھیجے۔جب ان کی تکذیب کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے شاہی خاندان کے اندرسے ایک مردِ حق کو ان رسولوں کی تائید کے لیے اٹھایا۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
۔ یہود کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی تکذیب کے نتیجہ میں ان پر اس طرح کا کوئی عذاب نہیں آیا جس طرح کا عذاب سابق رسولوں کے مکذبین پر آیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس جرم میں ان پر قیامت تک کے لئے لعنت کردی۔ لعنت کا عذاب تمام عذابوں سے زیادہ سخت ہے جس کے سبب سے وہ دنیا میں بھی ہمیشہ ذلیل و پامال رہیں گے اور آخرت میں بھی ان کے لئے ذلت و رسوائی ہے۔ اس کی وضاحت سورة اعراف اور سورة بنی اسرائیل کی تفسیر میں ہم کرچکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اس تیسرے سے کون مراد ہے ؟ میرے نزدیک اس سے وہ مومن آلِ فرعون مراد ہے جس کی جانبازیوں کا ذکر حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت کے ذیل میں یہاں بھی آگے ہوا ہے اور قرآن کے دوسرے مقامات، بالخصوص سورة مومن، میں بھی ہوا ہے۔۔۔۔۔۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی حیثیت حضرت موسیٰ ؑ کی امت میں وہی تھی جو اس امت میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی ہے۔۔۔۔۔(تدبرِ قرآن)
19۔اہل مصر پر تنبیہ کی غرض سے جو آفتیں آتیں وہ ان کو حضرت موسیٰؑ کی نحوست قراردیتے ۔حضرت موسیٰؑ جواب دیتے کہ یہ جو کچھ بھی پیش آرہاہے تمہارے اپنے ہی عقائد و اعمال کا نتیجہ ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
20۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ ان رسولوں اور ان کی قوم میں جو مکالمہ اوپر مذکورہواہے وہ کوئی چند دنوں پر مشتمل نہیں بلکہ کئی سالوں کی مدت پر محیط تھا اور رسولوں کی دعوت اور ان کے انکار اور دھمکیوں کا چرچا اس شہر کے علاوہ ارد گرد کے مضافات میں بھی پھیل چکا تھا۔چنانچہ انہیں مضافات میں سے ایک صالح مرد جس کا نام حبیب بتایا جاتاہے نے جب یہ سنا کہ شہر والے اپنے رسولوں کو قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور مبادا وہ کوئی ایسی حرکت نہ کربیٹھیں ،تو اس سے برداشت نہ ہوسکا ۔وہ خود ایک عبادت گزار انسان تھا۔اور اپنے ہاتھوں کی حلال کمائی کھاتاتھا۔اور اچھی شہرت رکھتاتھا،یہ باتیں سنتے ہی دوڑتا ہوااس کی طرف آیا تاکہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھائے کہ وہ ان رسولوں کی مخالفت سے باز آجائیں ۔(تیسیر القرآن)
ــــ رَجُلٌ یَّسْعٰى۔ یہ شخص اُس وقت تک مومن ہوچکاتھا۔(تفسیرماجدی)
21۔ اس مرد ِ حق گو نےاصحاب قریہ کو کیا کیا باتیں سمجھائیں؟ اس صالح مرد نے قوم کے پاس آکر انہیں دوباتیں سمجھائیں ایک یہ کہ یہ رسول جو تعلیم پیش کرتے ہیں پہلے خود اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور ان کی اخلاقی حالت بھی تم سے بہت بلند ہے۔دوسرے جو کچھ وہ تمہیں تعلیم دیتے ہیں اس پر نہ تو تم سے کچھ معاوضہ طلب کرتے ہیں اور نہ اس کام سے ان کا اپنا کوئی ذاتی مفاد وابستہ ہے۔اور جوبات وہ کہتے ہیں تمہاری ہی بھلائی کے لئے کہتے ہیں۔ لہذا ایسے بے لوث مخلصوں کی بات تمہیں ضرور مان لینا چاہئے۔بلکہ ان کی قدر کرنا چاہئے۔(تیسیر القرآن)
22۔تیسری بات جو مردِ صالح نے سمجھائی ۔اس میں قوم کو مخاطب نہیں کیا تاکہ وہ چڑ نہ جائیں بلکہ اسے اپنی ذات سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ عبادت کی مستحق وہی ہستی ہوسکتی ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی لئے میں صرف اسی کی عبادت کرتاہوں۔اور اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم نے اپنا حاجت روا قراردے رکھا ہے ان کا میرے پیدا کرنے اور رزق دینے میں کچھ حصہ ہی نہیں تو آخر میں انہیں کیوں پکاروں اور کیوں ان کی عبادت کروں۔۔۔۔ چوتھی بات ان کے انجام سے متعلق انہیں سمجھائی کہ آخر تم سب نے مرنا ہے۔اور تم سب کی روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں۔اور تمہیں اس ہستی کی طرف لوٹ کرجاناہے جس کی بندگی کی دعوت پر آج تمہیں اعتراض ہے اور جو تمہیں یہ بات سمجھائے اس کے درپے آزار ہوجاتے ہو۔ پھر تم خود ہی سوچ لو کہ تمہارا انجام کیا ہوسکتاہے؟(تیسیر القرآن)
23۔پانچویں بات اس نے یہ سمجھائی کہ میں ایسے مشکل کشاؤں کی مشکل کشائی کا ہرگز قائل نہیں کہ اگرمیرا پروردگار مجھے کسی تکلیف میں مبتلا کردے تو ان میں نہ تو اتنی طاقت ہے کہ وہ اللہ کے مقابلہ میں مجھے اس تکلیف سے بچا سکیں اور نہ یہ کرسکتے ہوں کہ اللہ سے سفارش کرکے مجھے اس مشکل سے نجات دلا سکیں۔یہ باتیں وہ کہہ تو اپنے آپ سے رہاتھا مگر"بمصداق گفتہ آید درحدیث دیگراں"سنا سب کچھ قوم کو رہاتھا کہ تمہیں اس طرح کی بے بس اور بے اختیار چیزوں کو ہرگز معبود نہ بنانا چاہئے۔اور یہی عیوب کفارِ مکہ میں پائے جاتے تھے۔(تیسیر القرآن)
26۔مشرک قوم اپنے اس ہم قوم مرد مومن کی دشمن ہوگئی،اور آخر اسے ہلاک کرڈالا۔جنت کی یہ بشارت اُس شہید کو اِ س دنیا سے رخصت ہونے کے وقت مل رہی ہے۔(تفسیرماجدی)
27۔ یہ آیت بھی منجملہ ان آیات کے ہے جن سے حیات برزخ کا صریح ثبوت ملتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد سے قیامت تک کا زمانہ خالص عدم اور کامل نیستی کا زمانہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض کم علم لوگ گمان کرتے ہیں، بلکہ اس زمانہ میں جسم کے بغیر روح زندہ رہتی ہے، کلام کرتی اور کلام سنتی ہے، جذبات و احساسات رکھتی ہے، خوشی اور غم محسوس کرتی ہے، اور اہل دنیا کے ساتھ بھی اس کی دلچسپیاں باقی رہتی ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتا تو مرنے کے بعد اس مرد مومن کو جنت کی بشارت کیسے دی جاتی اور وہ اپنی قوم کے لیے یہ تمنا کیسے کرتا کہ کاش وہ اس کے انجام نیک سے باخبر ہوجائے۔ (تفہیم القرآن)
۔ یہ حقیقت بھی نگاہ میں رہے کہ ہرچند یہ عذاب اصلاً موسیٰ ؑ و حضرت ہارون ؑ کی تکذیب کے نتیجہ میں آیا لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کو اس بندہ مومن کی تکذیب کے نتیجہ کی حیثیت سے ذکر فرمایا ہے۔ اس سے رسول کے ساتھیوں کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ان کا یہ درجہ ہوتا ہے کہ ان کی تکذیب رسول کی تکذیب کے ہم معنی بن جاتی ہے اور اس کا وہی انجام ہوتا ہے جو رسول کی تکذیب کا ہوتا ہے۔۔۔۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ فرعون اور اس کی قوم پر دونوں قسم کے عذاب آئے۔ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی فوجوں کو ایک سائیکلونی طوفان کے ذریعے سے سمندر میں غرق کردیا، دوسری طرف، رعدو برق اور زلزلہ کے عذاب نے مصر کی تمام تعمیرات اور اس کے سارے باغ و چمن تاراج کردیے۔۔۔۔۔۔یہی بات سنت ِ الٰہی کے مطابق بھی ہے۔ رسول کی تکذیب کے نتیجہ میں جو عذاب کسی قوم پر آیا ہے اس نے قوم کے قومی وجود کی جڑ کاٹ دی ہے۔ یہ بات مجرد فرعون اور اس کی فوجوں کے غرق ہونے سے نہیں پوری ہوسکتی تھی۔ یہ اسی طرح کے کسی عذاب سے پوری ہوسکتی تھی۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)
29۔ "ڈانٹ" کایہ عذاب سمندر میں افواج کے غرق کے علاوہ پیش آیا۔ یہ رعد و برق اور زلزلہ کا عذاب تھا جس نے مصر کی تمام تعمیرات اور اس کے سارے باغ وچمن تاراج کردیے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحی)
تیسرا رکوع |
| وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ ﴿33﴾ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ ﴿34﴾ لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ ﴿35﴾ سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿36﴾ وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ ﴿37﴾ وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ ﴿38﴾ وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ ﴿39﴾ لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ ﴿40﴾ وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ ﴿41﴾ وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ ﴿42﴾ وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ ﴿43﴾ اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ ﴿44﴾ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ﴿45﴾ وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ ﴿46﴾ وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗ ۖۗاِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ﴿47﴾ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿48﴾ مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ ﴿49﴾ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿50ع يس 36﴾ |
| 33. اور ایک نشانی، ان کے لئے، زمین مردہ ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اُگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں۔ 34. اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کردیئے۔ 35. تاکہ یہ ان کے پھل کھائیں اور ان کے ہاتھوں نے تو ان کو نہیں بنایا تو پھر یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟ 36. وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے۔ 37. اور ایک نشانی ان کے لئے رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو اس وقت ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ 38. اور سورج اپنے مقرر رستے پر چلتا رہتا ہے۔ یہ (خدائے) غالب اور دانا کا (مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے۔ 39. اور چاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ (گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے۔ 40. نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں۔ 41. اور ایک نشانی ان کے لئے یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ 42. اور ان کے لئے ویسی ہی اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔ 43. اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں۔ پھر نہ تو ان کا کوئی فریاد رس ہوا اور نہ ان کو رہائی ملے۔ 44. مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔ 45. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو تمہارے آگے اور جو تمہارے پیچھے ہے اس سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ 46. اور ان کے پاس ان کے پروردگار کی کوئی نشانی نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ 47. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو رزق خدا نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ تو کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ بھلا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں جن کو اگر خدا چاہتا تو خود کھلا دیتا۔ تم تو صریح غلطی میں ہو۔ 48. اور کہتے ہیں اگر تم سچ کہتے ہو تو یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا؟ 49. یہ تو ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو ان کو اس حال میں کہ باہم جھگڑ رہے ہوں گے آپکڑے گی۔ 50. پھر نہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں میں واپس جاسکیں گے۔ |
تفسیر آیات
33۔دلائل ِ توحید۔۔۔۔ہرقسم کی نباتات کا بہترین حصہ انسان کے لئے ہوتاہے:۔ زمین سے جو اناج بھی پیدا ہوتاہے اس کا بہتر حصہ تو انسانوں کی خوراک بنتاہے اور ناقص حصہ مویشیوں اور دوسرے جانوروں کی۔مثلاً گندم کے اناج میں سے گندم کے دانے بہتر حصہ ہے اور یہ انسانوں کی خوراک ہے۔اور باقی کا حصہ جسے بھوسہ یا توڑی کہتے ہیں مویشیوں کی خوراک بنتاہے ۔یہی حال سب غلوں کا ہے اور پھل دار درختوں میں سے پھل انسان کی خوراک بنتے ہیں اور پتے وغیرہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں کی خوراک بنتے ہیں۔ پھر کچھ چیزیں انسانوں کے لباس کے کام آتی ہیں اور کچھ دواؤں کے اور کچھ جھاڑ جھنکاڑ ایندھن کے کام آتے ہیں اور کچھ سے انسان کئی قسم کی مصنوعات تیار کرتاہے۔غرضیکہ زمین کی نباتات میں کوئی چیز ایسی نہیں جو بلا واسطہ یا بالواسطہ آخر انسان ہی کے کام نہ آتی ہو۔(تیسیر القرآن)
38-ٹھکانے سے مراد وہ جگہ بھی ہو سکتی ہے جہاں جا کر سورج کو آخر کار ٹھہر جانا ہے اور وہ وقت بھی ہوسکتا ہے جب وہ ٹھہر جائے گا۔ اس آیت کا صحیح مفہوم انسان اسی وقت متعین کرسکتا ہے جب اسے کائنات کے حقائق کا ٹھیک ٹھیک علم حاصل ہوجائے۔ لیکن انسانی علم کا حال یہ ہے کہ وہ ہر زمانہ میں بدلتا رہا ہے اور آج جو کچھ اسے بظاہر معلوم ہے اس کے بدل جانے کا ہر وقت امکان ہے۔ سورج کے متعلق قدیم زمانے کے لوگ عینی مشاہدے کی بنا پر یہ یقین رکھتے تھے کہ وہ زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ پھر مزید تحقیق و مشاہدہ کے بعد یہ نظریہ قائم کیا گیا کہ وہ اپنی جگہ ساکن ہے اور نظام شمسی کے سیارے اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ لیکن یہ نظریہ بھی مستقل ثابت نہ ہوا۔ بعد کے مشاہدات سے پتہ چلا کہ نہ صرف سورج، بلکہ وہ تمام تارے جن کو ثوابت (Fixed Stars) کہا جاتا ہے، ایک رخ پر چلے جا رہے ہیں۔ ثوابت کی رفتار کا اندازہ 10 سے لے کر 100 میل فی سکنڈ تک کیا گیا ہے۔ اور سورج کے متعلق موجودہ زمانہ کے ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ وہ اپنے پورے نظام شمسی کو لیے ہوئے 20 کلو میٹر (تقریباً 12 میل) فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کر رہا ہے۔ (ملاحظہ ہو انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، لفظ " اسٹار "۔ اور لفظ " سن ")۔ (تفہیم القرآن)
40۔ فلک کا لفظ عربی زبان میں سیاروں کے مدار (Orbit) کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کا مفہوم سماء (آسمان) کے مفہوم سے مختلف ہے۔ یہ ارشاد کہ " سب ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔ " چار حقیقتوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ ایک یہ کہ نہ صرف سورج اور چاند، بلکہ تمام تارے اور سیارے اور اجرام فلکی متحرک ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان میں سے ہر ایک کا فلک، یعنی ہر ایک کی حرکت کا راستہ یا مدار الگ ہے۔ تیسرے یہ کہ افلاک تاروں کو لیے ہوئے گردش نہیں کر رہے ہیں بلکہ تارے افلاک میں گردش کر رہے ہیں۔ اور چوتھے یہ کہ افلاک میں تاروں کی حرکت اس طرح ہو رہی ہے کہ جیسے کسی سیال چیز میں کوئی شے تیر رہی ہو۔ (تفہیم القرآن)
46۔مطلب یہ ہے کہ تمہارے آگے اور پیچھے جو آسمان اور زمین ہیں ان سے ڈرو۔تمہارے اعراض کے سبب سے ایسا نہ ہوکہ تمہارے اوپر عذاب کی بارش نازل کردی جائے یا زمین کو تمہارے سمیت دھنسا دیا جائے۔لیکن تم لوگ ہو کہ پھر بھی اپنی روش سے باز نہیں آتے۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
چوتھا رکوع |
| وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ ﴿51﴾ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ ﴿52﴾ اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ﴿53﴾ فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿54﴾ اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ ﴿55﴾ هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ ﴿56﴾ لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚ ۖ ﴿57﴾ سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ﴿58﴾ وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ ﴿59﴾ اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ ﴿60﴾ وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ﴿61﴾ وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ ﴿62﴾ هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ﴿63﴾ اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ﴿64﴾ اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ ﴿65﴾ وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ ﴿66﴾ وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿67ع يس 36﴾ |
| 51. اور (جس وقت) صور پھونکا جائے گا یہ قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے۔ 52. کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خوابگاہوں سے کس نے (جگا) اُٹھایا؟ یہ وہی تو ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔ 53. صرف ایک زور کی آواز کا ہونا ہوگا کہ سب کے سب ہمارے روبرو آحاضر ہوں گے۔ 54. اس روز کسی شخص پر کچھ ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے۔ 55. اہل جنت اس روز عیش ونشاط کے مشغلے میں ہوں گے۔ 56. وہ بھی اور ان کی بیویاں بھی سایوں میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے 57. وہاں ان کے لئے میوے اور جو چاہیں گے (موجود ہوگا)۔ 58. پروردگار مہربان کی طرف سے سلام (کہا جائے گا)۔ 59. اور گنہگارو! آج الگ ہوجاؤ۔ 60. اے آدم کی اولاد ہم نے تم سے کہہ نہیں دیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ 61. اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا۔ یہی سیدھا رستہ ہے۔ 62. اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں تھے؟ 63. یہی وہ جہنم ہے جس کی تمہیں خبر دی جاتی ہے۔ 64. (سو) جو تم کفر کرتے رہے ہو اس کے بدلے آج اس میں داخل ہوجاؤ۔ 65. آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤں (اس کی) گواہی دیں گے۔ 66. اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا کر (اندھا کر) دیں۔ پھر یہ رستے کو دوڑیں تو کہاں دیکھ سکیں گے۔ 67. اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں پھر وہاں سے نہ آگے جاسکیں اور نہ (پیچھے) لوٹ سکیں۔ |
تفسیر آیات
51۔ صور کے متعلق تفصیلی کلام کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، ص 122۔ پہلے اور دوسرے صور کے درمیان کتنا زمانہ ہوگا، اس کے متعلق کوئی معلومات ہمیں حاصل نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ زمانہ سینکڑوں اور ہزاروں برس طویل ہو۔ حدیث میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اسرافیل صور پر منہ رکھے عرش کی طرف دیکھ رہے ہیں اور منتظر ہیں کہ کب پھونک مارنے کا حکم ہوتا ہے۔ یہ صور تین مرتبہ پھونکا جائے گا۔ پہلا نفخۃ الفَزَع، جو زمین و آسمان کی ساری مخلوق کو سہما دے گا۔ دوسرا نفخۃ الصَّعق جسے سنتے ہی سب ہلاک ہو کر گر جائیں گے۔ پھر جب اللہ واحد صمد کے سوا کوئی باقی نا رہے گا تو زمین بدل کر کچھ سے کچھ کر دی جائے گی اور اسےعکاظی بساط کی طرح ایسا سپاٹ کر دیا جائے گا کہ اس میں ذرا سی سلوٹ تک نہ رہے گی۔ پھر اللہ اپنی خلق کو بس ایک جھڑکی دے گا جسے سنتے ہی ہر شخص جس جگہ مر کر گرا تھا اسی جگہ وہ اس بدلی ہوئی زمین پر اٹھ کھڑا ہوگا، اور یہی نفخۃ القیام لرب العالمین ہے۔ اسی مضمون کی تائید قرآن مجید کے بھی متعدد اشارات سے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ص 492۔ 493۔ جلد سوم، ص 124۔ 125۔ (تفہیم القرآن)
52۔اس جملہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ جب وہ اس ماحول کو سمجھنے کے لئے اپنے ذہن پر زور ڈالیں گے تو انہیں از خود یہ معلوم ہوجائے گا کہ یہ تووہی چیز ہے جو رسول ہمیں کہا کرتے تھے اور ہم اس کا انکار کردیا کرتے تھے۔اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان کی اس سراسیمگی کی حالت میں اہل ایمان یا فرشتے انہیں مطلع کریں گے کہ یہی وہ دن ہے جس کا اللہ نے تم لوگوں سے وعدہ کیا تھا اور جب بھی رسول تمہیں اللہ کے اس وعدہ اور اس قیامت کے دن سے ڈراتے تھے تو ہربار تم یہی کہہ دیتے تھے کہ وہ کب ہوگا سو آج اپنی آنکھوں سے وہ دن دیکھ لو۔(تیسیر القرآن)
56۔ وَ اَزْوَاجُهُمْ۔ أزواج سے مراد بیویوں ہی سے لی گئی ہے۔۔۔۔۔بیویاں کوئی گندی چیز نہیں، جو جنت کے طہارت و نزاہت کے منافی ہوں۔(تفسیرماجدی)
59۔ اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اب یہ مجرموں کا حشر بیان ہو رہا ہے۔ ان کو حکم ہوگا کہ اے مجرموں ! دنیا میں تو تم میرے باایمان بندوں کے ساتھ ملے رہے ا س لئے کہ دنیا دار لا امتحان تھی لیکن اب جزائے اعمال کا دن آگیا۔ اس وجہ سے اب تم میرے باایمان بندوں سے الگ ہو جاؤ اور اپنے اعمال کی سزا بھگتو۔ اب تمہاری دنیا الگ اور ان کی دنیا الگ ہے۔ (تدبرِ قرآن)
60۔شیطان کی عبادت کیسے ہوتی ہے؟ اس آیت میں عبادت کا لفظ دو معنی اداکررہاہے۔ایک یہ کہ عبادت بمعنی اطاعت لیا جائے۔کیونکہ شیطان کی عبادت تو کوئی کیا کرے گا اس پر تو سب لعنت ہی بھیجتے ہیں اور دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ آج تک اللہ کے سواجتنے بھی معبودوں کی عبادت کی جاتی رہی ہے شیطان کے بہکانے کی وجہ سے ہی کی جاتی رہی ہے۔لہذا فی الحقیقت یہ شیطان ہی کی عبادت ہوئی۔(تیسیر القرآن)
67۔ وَ لَوْ نَشَآءُ ۔یہ ترکیب قرآن میں جہاں بھی آتی ہے مراد یہ ہوتی ہے کہ اگر ہم اپنی مشیت ایسی ہی رکھتے۔(تفسیرماجدی)
۔ قیامت کا نقشہ کھینچنے کے بعد اب انہیں بتایا جا رہا ہے کہ یہ قیامت تو خیر تمہیں دور کی چیز نظر آتی ہے، مگر ذرا ہوش میں آ کر دیکھو کہ خود اس دنیا میں، جس کی زندگی پر تم پھولے ہوئے ہو، تم کس طرح اللہ کے دست قدرت میں بےبس ہو۔ یہ آنکھیں جن کی بینائی کے طفیل تم اپنی دنیا کے سارے کام چلا رہے ہو، اللہ کے ایک اشارے سے اندھی ہو سکتی ہیں۔ یہ ٹانگیں جن کے بل پر تم یہ ساری دوڑ دھوپ دکھا رہے ہو، اللہ کے ایک حکم سے ان پر اچانک فالج گر سکتا ہے۔ جب تک اللہ کی دی ہوئی یہ طاقتیں کام کرتی رہتی ہیں، تم اپنی خودی کے زعم میں مدہوش رہتے ہو، مگر جب ان میں سے کوئی ایک طاقت بھی جواب دے جاتی ہے تو تمہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ تمہاری بساط کتنی ہے۔ (تفہیم القرآن)
پانچواں رکوع |
| وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ ﴿68﴾ وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ ﴿69﴾ لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ ﴿70﴾ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ ﴿71﴾ وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ ﴿72﴾ وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ ﴿73﴾ وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ ﴿74﴾ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ ﴿75﴾ فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ ﴿76﴾ اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ ﴿77﴾ وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ ﴿78﴾ قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ ﴿79﴾ اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ ﴿80﴾ اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ ﴿81﴾ اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ ﴿82﴾ فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿83ع يس 36﴾ |
| 68. اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں تو اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے نہیں؟ 69. اور ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے۔ یہ تو محض نصیحت اور صاف صاف قرآن (پُرازحکمت) ہے۔ 70. تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا رستہ دکھائے اور کافروں پر بات پوری ہوجائے۔ 71. کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائیں ان میں سے ہم نے ان کے لئے چارپائے پیدا کر دیئے اور یہ ان کے مالک ہیں۔ 72. اور ان کو ان کے قابو میں کردیا تو کوئی تو ان میں سے ان کی سواری ہے اور کسی کو یہ کھاتے ہیں۔ 73. اور ان میں ان کے لئے (اور) فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں۔ تو یہ شکر کیوں نہیں کرتے؟ 74. اور انہوں نے خدا کے سوا (اور) معبود بنا لیے ہیں کہ شاید (ان سے) ان کو مدد پہنچے۔ 75. (مگر) وہ ان کی مدد کی (ہرگز) طاقت نہیں رکھتے۔ اور وہ ان کی فوج ہو کر حاضر کیے جائیں گے۔ 76. تو ان کی باتیں تمہیں غمناک نہ کردیں۔ یہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے۔ 77. کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے پیدا کیا۔ پھر وہ تڑاق پڑاق جھگڑنے لگا۔ 78. اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا۔ کہنے لگا کہ (جب) ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا؟ 79. کہہ دو کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے۔ 80. جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس (کی ٹہنیوں کو رگڑ کر ان) سے آگ نکالتے ہو۔ 81. بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ (ان کو پھر) ویسے ہی پیدا کر دے۔ کیوں نہیں۔ اور وہ تو بڑا پیدا کرنے والا اور علم والا ہے۔ 82. اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ 83. وہ (ذات) پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔ |
تفسیر آیات
69۔ ۔۔خاص طور پر سورة شعراء میں اس فرق کو نہایت تفصیل سے نمایاں فرمایا ہے جو ایک نبی اور ایک شاعر کے درمیان ایک عامی کو بھی نظر آسکتا ہے۔ تفصیل کے طالب اس پر ایک نظر ڈال لیں۔۔۔سورة شعراء میں شاعروں کی تین خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔۔۔وہ صرف گفتار کے غازی ہوتے ہیں۔۔۔ان کا کلام متضاد افکار کا مجموعہ ہوتا ہے۔۔۔ان کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔شاعری کا تعلق تمام تر جذبات سے ہے۔۔۔یہ اچھے جذبات ابھارتی ہے کہ اگر اس کے اندر اچھے جذبات ظاہر کئے گئے ہوں اور برے جذبات بھی برانگیختہ کرتی ہے۔ اگر اس کو برے جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا جائے۔۔۔۔۔۔۔حضرات انبیائے کرام جس مشن پر مامور ہوتے ہیں اس کا تعلق صرف جذبات سے نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ہر پہلو سے ہوتا ہے۔۔۔انہیں لوگوں کو صرف ابھارنا ہی نہیں ہوتا بلکہ ان کی تربیت بھی کرنی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ جب شاعری حضرات انبیائے کرام کی شان اور ان کے مقصد سے ایک فروتر چیز ہے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو زبور شعر کی شکل میں کیوں عطا فرمائی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت داؤد ؑ کے پاس اصل رہنما کتاب زبور نہیں بلکہ تورات تھی۔ زبور کی حیثیت محض تورات کے ایک ضمیمہ کی سمجھیئے۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)
70۔ زندہ سے مراد سوچنے اور سمجھنے والا انسان ہے جس کی حالت پتھر کی سی نہ ہو کہ آپ اس کے سامنے خواہ کتنی ہی معقولیت کے ساتھ حق اور باطل کا فرق بیان کریں اور کتنی ہی درد مندی کے ساتھ اس کو نصیحت کریں، وہ نہ کچھ سنے، نہ سمجھے اور نہ اپنی جگہ سے سرکے۔ (تفہیم القرآن)
73۔ نعمت کو منعم کے سوا کسی اور کا عطیہ سمجھنا، اس پر کسی اور کا احسان مند ہونا، اور منعم کے سوا کسی اور سے نعمت پانے کی امید رکھنا یا نعمت طلب کرنا، یہ سب کفران نعمت ہے۔ اسی طرح یہ بھی کفران نعمت ہے کہ آدمی منعم کی دی ہوئی نعمت کو اس کی رضا کے خلاف استعمال کرے۔ (تفہیم القرآن)
75۔یعنی وہ جھوٹے معبود بےچارے خود اپنی بقا اور اپنی حفاظت اور اپنی ضروریات کے لیے ان عبادت گزاروں کے محتاج ہیں۔ ان کے لشکر نہ ہوں تو ان غریبوں کی خدائی ایک دن نہ چلے۔ یہ ان کے حاضر باش غلام بنے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی بارگاہیں بنا اور سجا رہے ہیں۔ یہ ان کے لیے پروپیگنڈا کرتے پھرتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
77۔ ابن عباس، قتادہ اور سعید بن جبیر کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر کفار مکہ کے سرداروں میں سے ایک شخص قبرستان سے کسی مردے کی ایک بوسیدہ ہڈی لیے ہوئے آگیا اور اس نے نبی ﷺ کے سامنے اسے توڑ کر اور اس کے منتشر اجزا ہوا میں اڑا کر آپ سے کہا، اے محمد ﷺ تم کہتے ہو کہ مردے پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ بتاؤ، ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا ؟ اس کا جواب فوراً ان آیات کی صورت میں دیا گیا۔ (تفہیم القرآن)
۔ اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ۔ سورة یٰسین کی یہ آخری پانچ آیتیں ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہیں جو بعض روایات میں ابی بن خلف کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور بعض میں عاص بن وائل کی طرف۔ اور اس میں بھی کوئی بعد نہیں کہ دونوں سے ایسا واقعہ پیش آیا ہو۔ پہلی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں اور دوسری روایت ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے۔ وہ یہ ہے کہ عاص بن وائل نے بطحاء مکہ سے ایک بوسیدہ ہڈی اٹھائی اور اس کو اپنے ہاتھ سے توڑ کر ریزہ ریزہ کیا پھر رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ کیا اللہ اس ہڈی کو زندہ کرے گا، جس کا حال یہ دیکھ رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اللہ تعالیٰ مجھے موت دے گا، پھر زندہ کرے گا پھر تجھ کو جہنم میں داخل کرے گا۔ (ابن کثیر)۔۔۔۔۔۔ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ، یعنی یہ نطفہ حقیر سے پیدا کیا ہوا انسان کیسا کھل کر مقابلہ پر آنے لگا کہ اللہ کی قدرت کا انکار کر رہا ہے۔ (معارف القرآن)