37 - سورة الصافات (مکیہ)

رکوع - 5 آیات - 182

مضمون: ملائکہ اور جنات کو خدا کا شریک ٹھہرانے والے آخرت میں رسواہوں گے۔دعوت توحید کا ساتھ دینے والوں کے لیے کامیابی مقدرہے خدا کی نصرت ان کو حاصل ہوگی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: فرشتے اللہ کی بیٹیاں نہیں بلکہ صف بستہ خادم و تسبیح خواں ہیں۔تمام انبیا مخلص ،مؤمن و محسن تھے۔ توحید و آخرت کے سلسلہ میں انبیائے کرام کی کوششوں کو خراجِ تحسین اور مشرکین کو خالص تو حید اختیار کرنے کی دعوت ۔الوہیت ِ ملائکہ کا ابطال۔

شانِ نزول: سورۂ فاطر، شدتِ مخالفت میں آپؐ پر ساحر ،شاعر، اور مجنون ہونے کا الزام تھا۔قریش فرشتوں کو  اللہ کی بیٹیاں سمجھتے تھے اور خود اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ انہیں فرشتوں کی صحیح حیثیت سے آگاہ کرکے ،توحید کا بیان واضح کیا گیا ہے۔

نظمِ کلام: سورۂ سبا

ترتیب مطالعۂ: (i) ر۔1/2(توحید ،آخرت اور جزو سزا) (ii)ر۔3(حضرت نوحؑ کا تذکرہ اور حضرت ابراہیم و اسماعیل اور دیگر انبیاء کی مثالی قربانی) (iii)ر۔4/5( حضرت موسیٰؑ و ہارونؑ ،حضرت یونس اور دیگر انبیاء کی کامیابیاں)

آیاتِ ترجیع: اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ۔پانچ دفعہ، قصص الانبیاء کے درمیان اور ساتھ ہی اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ۔اور اس سے پہلے سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ وغیرہ۔اس سورۃ میں "سلام "کے لفظ کی تکرار بھی ہے۔


پہلا رکوع

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ ﴿1﴾ فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ ﴿2﴾ فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ ﴿3﴾ اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ ﴿4﴾ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ ﴿5﴾ اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ ﴿6﴾ وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ ﴿7﴾ لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗ ۖ ﴿8﴾ دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ ﴿9﴾ اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ ﴿10﴾ فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ ﴿11﴾ بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ ﴿12﴾ وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ ﴿13﴾ وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ ﴿14﴾ وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ ۖ ﴿15﴾ ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ ﴿16﴾ اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ ﴿17﴾ قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ ﴿18﴾ فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ ﴿19﴾ وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ ﴿20﴾ هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿21ع الصافات 37﴾
1. قسم ہے صف باندھنے والوں کی پرا جما کر۔ 2. پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کر۔ 3. پھر ذکر (یعنی قرآن) پڑھنے والوں کی (غور کرکر)۔ 4. کہ تمہارا معبود ایک ہے۔ 5. جو آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان میں ہیں سب کا مالک ہے اور سورج کے طلوع ہونے کے مقامات کا بھی مالک ہے۔ 6. بےشک ہم ہی نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا۔ 7. اور ہر شیطان سرکش سے اس کی حفاظت کی۔ 8. کہ اوپر کی مجلس کی طرف کان نہ لگاسکیں اور ہر طرف سے (ان پر انگارے) پھینکے جاتے ہیں۔ 9. (یعنی وہاں سے) نکال دینے کو اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے۔ 10. ہاں جو کوئی (فرشتوں کی کسی بات کو) چوری سے جھپٹ لینا چاہتا ہے تو جلتا ہوا انگارہ ان کے پیچھے لگتا ہے۔ 11. تو ان سے پوچھو کہ ان کا بنانا مشکل ہے یا جتنی خلقت ہم نے بنائی ہے؟ انہیں ہم نے چپکتے گارے سے بنایا ہے۔ 12. ہاں تم تو تعجب کرتے ہو اور یہ تمسخر کرتے ہیں۔ 13. اور جب ان کو نصیحت دی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے۔ 14. اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو ٹھٹھے کرتے ہیں۔ 15. اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ 16. بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا پھر اٹھائے جائیں گے؟ 17. اور کیا ہمارے باپ دادا بھی (جو) پہلے (ہو گزرے ہیں)۔ 18. کہہ دو کہ ہاں اور تم ذلیل ہوگے۔ 19. وہ تو ایک زور کی آواز ہوگی اور یہ اس وقت دیکھنے لگیں گے۔ 20. اور کہیں گے، ہائے شامت یہی جزا کا دن ہے۔ 21. (کہا جائے گا کہ ہاں) فیصلے کا دن جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے یہی ہے۔

تفسیر آیات

1۔جمہور مفسرین کے یہاں جس تفسیر کو سب سے زیادہ قبولِ عام حاصل ہوا وہ یہ ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں اور یہاں ان کی تین صفات بیان کی گئی ہیں۔(معارف القرآن)

ــــ یعنی نہ تین،نہ اس سے زائد۔نہ تین میں سے  ایک، نہ ایک تین اقنوموں میں تقسیم ،بلکہ محض ایک۔بیان توحید کا ہورہاہے۔ہر قسم کے شرک اور توحید فی التثلیث کی تردید ہورہی ہے،اور زور توحید عددی ہی پر دیا جارہاہے۔(تفسیر ماجدی)

2۔ ڈانٹنے اور پھٹکارنے سے مراد بعض مفسرین کی رائے میں یہ ہے کہ کچھ فرشتے ہیں جو بادلوں کو ہانکنے اور بارش کا انتظام کرتے ہیں۔ زیادہ صحیح یہ ہے کہ نافرمانوں اور مجرموں کو (خاص طورپرشیطانوں اور جنوں کو) پھٹکارتے ہیں ،نہ صرف لفظی طورپربلکہ حوادثِ طبیعی اور آفاتِ تاریخی کی شکل میں بھی ۔(تفہیم القرآن)

3۔ فرشتوں کے اوصافِ بندگی کی قسم کھاکر ثابت کیا گیا ہے کہ اللہ کے ساتھ ان کا رشتہ باپ بیٹی کا نہیں بلکہ بندہ و آقا کا ہے۔ قسم کے بارے میں تین سوالات اور ان کے جوابات ۔(i) اللہ غنی الاغنیا کو قسم سے یقین دلانے کی کیا ضرورت ہے؟ (اختلاف مٹانے کا معروف دنیوی طریقہ ، دعوے پر شہادت پیش کی جائے ،شہادت نہ ہوتو قسم کھائی جائے) (ii) قسم کسی بڑے کی ،مگر مخلوق کمتر (حق تعالیٰ سے بڑی کوئی ذات نہیں ۔اپنی ذات ِ پاک کی قسمیں سات جگہ یا پھر مخلوق کی قسمیں عزت افزائی کیلئے ۔کثیرالمنافع ہونے کی وجہ جیسے والتین والزیتون)(iii) انسان کیلئے اللہ کے سواکسی کی قسم کھانا جائز نہیں مگر اللہ مخلوق کی قسم کیوں؟(اللہ کا اختیار کسی چیز میں بھی کم نہیں کیاجاسکتا)(معارف القرآن)

ــــ صفیں باندھے ہوئے فرشتے:  پہلی آیات میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جو اللہ کے احکام کے منتظر اور اس کے دربار میں ہر وقت صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور یہی ان کی عبادت ہے کہ ادھر اللہ کا حکم ہو تو فوراًاسے بجالائیں۔دوسری آیت میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جو تدبیر امور کائنات پر مامور ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ اس لئے کرتے ہیں کہ جلد سے جلد بجالائیں۔ ڈانٹنے ڈپٹنے سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اسی دوسری قسم کے فرشتوں میں وہ گروہ بھی شامل ہے جو مجرموں اور نافرمانوں پر لعنت اور پھٹکار کرتے ہیں۔ اور انسانوں پر جو حوادث یا عذاب آتے ہیں انہی کے واسطہ سے آتے ہیں۔اور تیسرے گروہ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو خود بھی اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں اور انسان کی روحانی غذا یا ہدایت کا واسطہ بھی بنتے  ہیں۔پیغمبروں پر اللہ کا حکم لاتے ہیں اور نیک لوگوں کے دلوں میں القاء و الہام کرتے ہیں۔(تیسیر القرآن)

۔ یہاں عربی زبان کا یہ قاعدہ پیش نظر رہے کہ جب صفات کا بیان اس طرح ’ف‘ کے ساتھ ہو جس طرح یہاں ہے تو یہ دو باتوں پر دلیل ہوتا ہے۔ ایک اس بات پر کہ یہ تمام صفات ایک ہی چیز کی ہیں اس وجہ سے جن لوگوں نے ان صفات کے الگ الگ موصوف قرار دیے ہیں ان کی رائے ہمارے نزدیک عربیت کے خلاف ہے۔ دوسری اس بات پر کہ ان صفات میں ایک تدریجی ترتیب ہے۔ ہم نے جو تاویل کی ہے اس سے پہلی تو بالکل واضح ہے کہ یہ تمام صفات ملائکہ کی ہیں۔ رہی دوسری بات تو غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ان صفات میں اسی طرح کی ترتیب ہے جس طرح کی ترتیب ہماری نمازوں میں ہوتی ہے۔ جس طرح ہم خدا کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر شیطان سے تعوذ کرتے ہیں۔ پھر اپنے رب کی حمدو تسبیح کرتے ہیں۔ اسی طرح ملائکہ عرشِ الٰہی کے ارد گرد صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر شیاطین کو زجر کرتے ہیں، پھر اپنے رب کی حمد و تسیبح کرتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

ان کے آگے عاجزی و نیاز مندی کے ساتھ جھکنا اور ان سے دعا مانگنا بالکل ویسا ہی احمقانہ فعل ہے جیسے کوئی شخص کسی حاکم کے سامنے جائے اور اس کے حضور درخواست پیش کرنے کے بجائے جو دوسرے سائلین وہاں درخواستیں لیے کھڑے ہوں ان ہی میں سے کسی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوجائے۔ (تفہیم القرآن)

10۔لیکن اس عام خیال پر یقیناً کوئی دلیل قرآن سے موجود نہیں کہ جو ستارے ٹوٹتے ہوئے انسانی آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں(اور برسات کے موسم میں ان کی تعداد اور زیادہ ہوتی ہے)وہ بھی شیطانوں کو سزادینے والے شہاب ثاقب ہیں!یہ خبر تو عالم بالا سے متعلق ہے، جس کا ہماری حسی بصارت سے کوئی تعلق ہی نہیں، ہم جس طرح اپنی ظاہری آنکھوں سے نہ شیطانوں کو آسمان پر جاتے دیکھ سکتے ہیں، اور نہ ان کو وہاں سے بھاگتے ہوئے، اُسی طرح یہ بھی نہیں دیکھ سکتے کہ ان کے لیے آلۂ رجم کیا ہوتاہے۔اور جن روشن ٹکڑوں کے لیے ٹوٹے ہوئے تاروں کا لفظ بول چال میں چل گیاہے،اہل سائنس کا بیان ہے کہ یہ تارے سرے سے ہوتے ہی نہیں جو آسمان سے گریں،بلکہ ٹھوس تارے کے ٹکڑے ہوتےہیں جو فضامیں آوارہ گھومتے رہتے ہیں۔(ملاحظہ ہو ،سورہ الحجر کا حاشیہ نمبر 14 و 15)(تفسیر ماجدی)

11۔مٹی کی مختلف حالتیں جن سے آدم کا پتلا بنایا گیا، ڈارون کے نظریہ کا ابطال:۔مٹی کو جن سات مختلف حالتوں سے گزار کر انسان کو پیدا کیا گیا ان کی تفصیل یہ ہے(1)تراب بمعنی خشک مٹی(40: 67)(2)ارض بمعنی عام مٹی یا زمین(71: 17)(3) طین بمعنی گیلی مٹی یاگارا(6: 2) (4)طین لازب معنی لیسد ار یا چپکدار مٹی (37: 11)(5)حمأ مسنون بمعنی بدبودار کیچڑ(15: 26)(6)صلصال بمعنی ٹھیکرا یعنی حرارت سے پکائی ہوئی مٹی(15: 26)(7)صلصال کالفخار بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری(55: 14)یہ مٹی یا زمین کی مختلف شکلیں ہیں۔کسی وقت مٹی میں پانی کی آمیزش کی گئی تو بعد میں حرارت کے ذریعہ پانی کو خشک کردیا گیا۔قرآن نے مختلف مقامات  پر ان مختلف حالتوں میں سے کسی بھی ایک یا دو حالتوں کا ذکر کردیا ہے۔اور جس  حالت کا بھی نام لیا جائے وہ سب درست ہے۔اس بیان سے ڈارون کا نظریہ ارتقاء کا رد ہوجاتاہے جس کی رو سے انسان نباتات اور حیوانات کی منزلوں سے گزر کر وجود میں آیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جو سات مختلف حالتیں بیان کی ہیں وہ سب کی سب جمادات یا مٹی میں ہی پوری ہوجاتی ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دومزید باتیں ارشاد فرمائیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ جو عظیم الجثہ اور محیر العقول مخلوقات پیدا کرچکاہے اس کے مقابلہ میں انسان کی حیثیت ہی کیا ہے کہ اس کی تخلیق اس کے لئے کچھ مشکل ہوا اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی ہی کی سات مختلف حالتوں سے گزار کرپیدا کیا ہے۔پھر وہ مرکر مٹی میں مل کر مٹی ہی بن جائے گا۔تو کیا جس نے مٹی کی اتنی حالتوں سے گزار کر انسان کو پہلے پیدا کیا تھا اب دوبارہ مختلف حالتوں سے گزار کر پیدا نہ کرسکے گا؟(ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی تفصیل کے لئے دیکھئے 15: 29، حاشیہ نمبر 19)(تیسیر القرآن)

۔  عقیدہ توحید کو ثابت کرنے کے بعد ان آٹھ آیتوں میں عقیدہ آخرت کا بیان ہے۔   (معارف القرآن)

14۔ بعض منکرین معجزات یہ بھی کہتے ہیں کہ ”آیة“ سے مراد قرآن کریم کی آیات ہیں کہ یہ لوگ انہیں جادو قرار دیتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کا لفظ ”رأوا“ (دیکھتے ہیں) اس کی صاف تردید کر رہا ہے۔ آیات قرآنی کو دیکھا نہیں، سنا جاتا تھا۔ چنانچہ قرآن کریم میں جہاں کہیں آیات قرآنی کا ذکر ہے وہاں اس کے ساتھ سننے کے الفاظ آئے ہیں دیکھنے کے نہیں، اور قرآن کریم میں جگہ جگہ ”آیة“  کا لفظ معجزہ کے معنی میں آیا ہے۔

 مثلاً حضرت موسیٰ ؑ سے فرعون کا مطالبہ نقل کرتے ہوئے ارشاد ہے ”اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَااِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ “ ”اگر تم کوئی معجزہ لے کر آئے ہو تو لاؤ، اگر سچے ہو“ اسی کے جواب میں حضرت موسیٰ ؑ نے لاٹھی کو سانپ بنانے کا معجزہ دکھلایا تھا۔  (معارف القرآن)


دوسرا رکوع

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ ﴿22﴾ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ ﴿23﴾ وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ ﴿24﴾ مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ ﴿25﴾ بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ ﴿26﴾ وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ ﴿27﴾ قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ ﴿28﴾ قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ ﴿29﴾ وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ ﴿30﴾ فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ ﴿31﴾ فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ ﴿32﴾ فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ ﴿33﴾ اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ ﴿34﴾ اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ ﴿35﴾ وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ ﴿36﴾ بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ ﴿37﴾ اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ ﴿38﴾ وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ ﴿39﴾ اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ ﴿40﴾ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ ﴿41﴾ فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ ﴿42﴾ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ ﴿43﴾ عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ﴿44﴾ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ ﴿45﴾ بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚ ۖ ﴿46﴾ لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ ﴿47﴾ وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ ﴿48﴾ كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ ﴿49﴾ فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ ﴿50﴾ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ ﴿51﴾ یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ ﴿52﴾ ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ ﴿53﴾ قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ ﴿54﴾ فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ ﴿55﴾ قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ ﴿56﴾ وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ﴿57﴾ اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ ﴿58﴾ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ﴿59﴾ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ﴿60﴾ لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ ﴿61﴾ اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ ﴿62﴾ اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ ﴿63﴾ اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ ﴿64﴾ طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ ﴿65﴾ فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ ﴿66﴾ ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ ﴿67﴾ ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ ﴿68﴾ اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ ﴿69﴾ فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ ﴿70﴾ وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ ﴿71﴾ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ ﴿72﴾ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ ﴿73﴾ اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿74ع الصافات 37﴾
22. جو لوگ ظلم کرتے تھے ان کو اور ان کے ہم جنسوں کو اور جن کو وہ پوجا کرتے تھے (سب کو) جمع کرلو۔ 23. (یعنی جن کو) خدا کے سوا (پوجا کرتے تھے) پھر ان کو جہنم کے رستے پر چلا دو۔ 24. اور ان کو ٹھیرائے رکھو کہ ان سے (کچھ) پوچھنا ہے ۔ 25. تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟ 26. بلکہ آج تو وہ فرمانبردار ہیں۔ 27. اور ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال (وجواب) کریں گے۔ 28. کہیں گے کیا تم ہی ہمارے پاس دائیں (اور بائیں) سے آتے تھے۔ 29. وہ کہیں گے بلکہ تم ہی ایمان لانے والے نہ تھے۔ 30. اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا۔ بلکہ تم سرکش لوگ تھے۔ 31. سو ہمارے بارے میں ہمارے پروردگار کی بات پوری ہوگئی اب ہم مزے چکھیں گے۔ 32. ہم نے تم کو بھی گمراہ کیا (اور) ہم خود بھی گمراہ تھے۔ 33. پس وہ اس روز عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے۔ 34. ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ 35. ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو غرور کرتے تھے۔ 36. اور کہتے تھے کہ بھلا ہم ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں۔ 37. بلکہ وہ حق لے کر آئے ہیں اور (پہلے) پیغمبروں کو سچا کہتے ہیں۔ 38. بےشک تم تکلیف دینے والے عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو۔ 39. اور تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے۔ 40. مگر جو خدا کے بندگان خاص ہیں۔ 41. یہی لوگ ہیں جن کے لئے روزی مقرر ہے۔ 42. (یعنی) میوے اور ان کا اعزاز کیا جائے گا۔ 43. نعمت کے باغوں میں 44. ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر (بیٹھے ہوں گے)۔ 45. شراب لطیف کے جام کا ان میں دور چل رہا ہوگا۔ 46. جو رنگ کی سفید اور پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہوگی۔ 47. نہ اس سے دردِ سر ہو اور نہ وہ اس سے متوالے ہوں گے۔ 48. اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی اور آنکھیں بڑی بڑی۔ 49. گویا وہ محفوظ انڈے ہیں۔ 50. پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال (وجواب) کریں گے۔ 51. ایک کہنے والا ان میں سے کہے گا کہ میرا ایک ہم نشین تھا۔ 52. (جو) کہتا تھا کہ بھلا تم بھی ایسی باتوں کے باور کرنے والوں میں ہو۔ 53. بھلا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم کو بدلہ ملے گا؟ 54. (پھر) کہے گا کہ بھلا تم (اسے) جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟ 55.(اتنے میں) وہ (خود) جھانکے گا تو اس کو وسط دوزخ میں دیکھے گا۔ 56. کہے گا کہ خدا کی قسم تُو تو مجھے ہلاک ہی کرچکا تھا۔ 57. اور اگر میرے پروردگار کی مہربانی نہ ہوتی تو میں بھی ان میں ہوتا جو (عذاب میں) حاضر کئے گئے ہیں۔ 58. کیا (یہ نہیں کہ) ہم (آئندہ کبھی) مرنے کے نہیں۔ 59. ہاں (جو) پہلی بار مرنا (تھا سو مرچکے) اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہونے کا۔ 60. بےشک یہ بڑی کامیابی ہے۔ 61. ایسی ہی (نعمتوں) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنے چاہئیں۔ 62. بھلا یہ مہمانی اچھی ہے یا تھوہر کا درخت؟ 63. ہم نے اس کو ظالموں کے لئے عذاب بنا رکھا ہے۔ 64. وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کے اسفل میں اُگے گا۔ 65. اُس کے خوشے ایسے ہوں گے جیسے شیطانوں کے سر۔ 66. سو وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔ 67. پھر اس (کھانے) کے ساتھ ان کو گرم پانی ملا کر دیا جائے گا۔ 68. پھر ان کو دوزخ کی طرف لوٹایا جائے گا۔ 69. انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ ہی پایا ۔ 70 . سو وہ ان ہی کے پیچھے دوڑے چلے جاتے ہیں۔ 71. اور ان سے پیشتر بہت سے لوگ بھی گمراہ ہوگئے تھے۔ 72. اور ہم نے ان میں متنبہ کرنے والے بھیجے۔ 73. سو دیکھ لو کہ جن کو متنبہ کیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا۔ 74. ہاں خدا کے بندگان خاص (کا انجام بہت اچھا ہوا)۔

تفسیر آیات

22۔ زوج کے تینوں معانی اکٹھے مراد ہیں:۔ ازواج کا لفظ تین معنوں میں استعمال ہوتاہے اور اس مقام پرتینوںمعنی دے رہاہے۔ایک معنی یہ ہے کہ مرد بیوی کا اور بیوی مرد کی زوج ہے۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا کہ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں اور ان کی بیویوں کو جو بغاوت میں ان کی شریک تھیں سب کو گھیر لاؤ۔ زوج کا دوسرا  معنی اس کے مماثل ہوتاہے ۔جیسے ایک جوتا دوسرے کا زوج ہے۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا ظالموں کی جتنی اقسام ہیں ان سب کو گھیر کر لے آؤ۔اور زوج کا تیسرا معنی اس کی ضد ہے جیسے رات دن کا زوج ہے اور دن رات کا، یاتاریکی روشنی کا زوج ہے۔اور روشنی تاریکی کا۔اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا۔ معبودوں اور ان کے عبادت گزاروں سب کو گھیر گھار ہمارے سامنے لا حاضر کرو۔(تیسیر القرآن)

28۔لفظ یمین کے مختلف  معنی اور ان سب کا اطلاقیمین کا لفظ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتاہے۔مثلاً (1)یمین بمعنی دایاں ہاتھ بھی اور دائیں طرف بھی اور(2)اصحاب الیمین کے معنی دائیں ہاتھ یا دائیں جانب والے بھی اور اصحاب خیر و برکت بھی (مفردات القرآن)(3)پھر جس طرح ید کا لفظ قوت اور قبضہ کے معنوں میں آتاہے یمین اس سے بھی زیادہ وسیع معنوں میں آتاہے۔کیونکہ قوت اور کارکردگی کے لحاظ سے دایاں ہاتھ بائیں سے افضل اور بہتر ہے۔ اور ایک یمین اس چیز کو کہتے ہیں جس پر پورا قبضہ اور اختیار ہو اور محاورۃً یہ لفظ لونڈی اور غلام کے معنوں میں آتاہے۔(4)علاوہ ازیں اہل عرب کی عادت تھی کہ اپنے عہد و پیمان اور قسم کو مضبوط تر بنانے کے لئے اپنا ہاتھ مخاطب کے ہاتھ  میں دیتے تھے یا مارتے تھے۔لہذا یہ لفظ قسم کے معنوں میں بھی استعمال ہونے لگا یعنی ایسی قسم جو عہد و پیمان کو پختہ کرنے کے لیے اٹھائی جائے۔(تیسیر القرآن)

32۔امام رازیؒ نے خوب لکھا ہےکہ اگر ہرگمراہ کی ذمہ داری مغوی پر ڈال دینے کا قاعدہ صحیح تسلیم کرلیا جائے،تو دنیا بھر میں کوئی شخص قابل سزا رہ ہی نہ جائے گا، کہ اس مغوی کا بھی تو کوئی اور مغوی ہوگا،اور اس کا کوئی اور۔اِس سے صاف دَور و تسلسل لازم آتاہے،اور ذمہ داری ایک سے دوسرے پر برابر بٹتی ہی چلی جائے گی۔(کبیر،ج26/ص118)(تفسیر ماجدی)

41۔ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ، کا لفظی ترجمہ یہ ہے ”انہی لوگوں کے لئے ایسا رزق ہے جس کا حال معلوم ہے“ مفسرین نے اس کے مختلف مطلب بتائے ہیں۔ بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ اس سے جنتی غذاؤں کی ان تفصیلی صفات کی طرف اشارہ ہے جو مختلف سورتوں میں بیان کی گئی ہیں۔ چنانچہ خلاصہ تفسیر میں حکیم الامت حضرت تھانوی نے اسی تفسیر کو اختیار فرمایا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ”رزق معلوم“ سے مراد یہ ہے کہ اس کے اوقات متعین اور معلوم ہیں، یعنی وہ صبح و شام پابندی کے ساتھ عطا کیا جائے گا، جیسا کہ دوسری آیت میں بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا(صبح و شام) کے الفاظ صراحةً آئے ہیں ایک تیسری تفسیر اور ہے، اور وہ یہ کہ ”رزق معلوم“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ یقینی اور دائمی رزق ہوگا، دنیا کی طرح نہیں کہ کوئی شخص یقین کے ساتھ نہیں بتاسکتا کہ کل مجھے کیا اور کتنا رزق ملنے والا ہے ؟ اور نہ کسی کو یہ علم ہے کہ جتنا رزق مجھے حاصل ہے وہ کب تک میرے پاس رہے گا ؟ ہر انسان کو ہر وقت یہ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ جو نعمتیں مجھے اس وقت حاصل ہیں وہ شاید کل میرے پاس نہ رہیں، جنت میں یہ خطرہ نہیں ہوگا بلکہ وہاں کا رزق یقینی ہوگا اور دائمی بھی۔ (تفسیر قرطبی وغیرہ) (معارف القرآن)

42۔ فَوَاكِهُ(میوے) جو لذت حاصل کرنے کیلئے کھائے جائیں ۔امام رازیؒ نے کہا کہ جنت میں تمام غذائیں لذت حاصل کرنے کیلئے نہ کہ بھوک مٹانے کیلئے ہونگی۔(معارف القرآن)

ـــــ  بھوک کیلئے نہیں بلکہ لذت کیلئے کیونکہ جنت میں ہرکوئی جوان رہے گا۔بھوک اس لئے کہ تحلیل شدہ اجزاء کی جگہ دوسرے اجزا غذا کے ذریعے فراہم کئے جاتے ہیں۔      (تفہیم القرآن)

45۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ شراب کے یہ ساغر لے کر جنتیوں کے درمیان گردش کون کرے گا۔ اس کی تفصیل دوسرے مقامات پر ارشاد ہوئی ہے  وَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمْ غِلْمَانٌ لَّھُمْ کَاَنَّھُمْ لُوءْ لُوءٌ مَّکْنُوْنٌ۔  اور ان کی خدمت کے لیے گردش کریں گے ان کے خادم لڑکے، ایسے خوبصورت جیسے صدف میں چھپے ہوئے موتی " (الطور، آیت 24) (تفہیم القرآن)

48۔ بعید نہیں ہے کہ یہ وہ لڑکیاں ہوں جو دنیا میں سن رشد کو پہنچنے سے پہلے مر گئی ہوں اور جن کے والدین جنت میں جانے کے مستحق نہ ہوئے ہوں۔ یہ بات اس قیاس کی بنا پر کہی جاسکتی ہے کہ جس طرح ایسے لڑکے اہل جنت کی خدمت کے لیے مقرر کردیے جائیں گے اور وہ ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، اسی طرح ایسی لڑکیاں بھی اہل جنت کے لیے حوریں بنادی جائیں گی اور وہ ہمیشہ نو خیز لڑکیاں ہی رہیں گی۔ واللہ اعلم با لصواب۔ (تفہیم القرآن)

49۔ كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ۔ بیض مکنون سے شتر مر غ کے انڈے مراد ہیں۔کلام ِ عرب میں نازنینوں کی تشبیہ شتر مر غ کے انڈوں سے بکثرت ملتی ہے اور غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ وہ اس تشبیہ میں عفت، صیانت اور رنگ تینوں چیزوں کا لحاظ رکھتے ہیں۔ مکنون سے ان کے اچھوتے ہونے کی طرف اشارہ ہے۔یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ جس طرح اہل عرب کنواریوں کی حفاظت میں بڑے غیورو حساس تھے  اسی طرح شترمرغ بھی اپنے انڈوں کی حفاظت میں جان لڑادیتاہے۔تشبیہ میں یہاں سنہرے رنگ کے انڈے مراد ہیں۔نازنینوں کے سنہرے رنگ کا شعرائے عرب بہت ذکر کرتے ہیں۔(تدبرقرآن)

54۔(تو فوراً جھانک کر دیکھ ہی لو،بغیر کسی آلہ یامشین کی مددکے)قال کا فاعل حق تعالیٰ بھی ہوسکتاہے ،جیساکہ مفسر تھانویؒ نے قراردیا ہے(تھانوی،ج2/ص:380)اور بیضاوی وغیرہ میں بھی یہ قول نقل ہواہے (بیضاوی،ج5/ص6)اورخود وہ جنتی بھی ہوسکتاہے،جو اپنے رفیقوں ،ہم نشینوں سے یہ کلام کرے گا،اور یہ قول جمہور مفسرین کا اختیار کیا ہواہے۔یہ ہرگز ضروری نہیں کہ ساری جنت میں ایک ہی شخص اس کا قائل ہو، بلکہ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ کے صیغۂ جمع سے تو ظاہر ہورہاہے کہ یہ بہتوں کا تجربہ ہوگا۔(تفسیر ماجدی)

57۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ آخرت میں انسان کی سماعت اور بینائی اور گویائی کس پیمانے کی ہوگی۔(تفہیم القرآن)

61۔ افضل اعمال کونسے ہیں؟ درج ذیل دو احادیث میں ان اعمال کا ذکر ہے جنہیں رسول اللہؐ نے افضل الاعمال بتایاہے: 1۔سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ صحابہ نے آپؐ سے پوچھا :"کون سا عمل افضل ہے؟"فرمایا:"اللہ اور اس کے سول پر ایمان لانا"صحابہ نے پوچھا :"پھر کونسا؟"فرمایا:"اللہ کی راہ میں جہاد کرنا"پھر پوچھا : "اس کے بعد کون سا؟"فرمایا:"حج مبرور"(بخاری۔کتاب الایمان۔باب من قال ان الایمان ھو العمل)2۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے پوچھا :"اللہ تعالیٰ کو کون سا کام سب سے زیادہ پسندہے؟"فرمایا:"نماز کو اپنے وقت پر اداکرنا"میں نے پوچھا"پھر کون سا کام؟"فرمایا "ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا"میں نے پوچھا :"پھر کون سا؟"فرمایا:"اللہ کی راہ میں جہاد کرنا"آپؐ نے یہ تین باتیں بیان کیں اگر میں اور پوچھتا تو آپ اور زیادہ بیان فرماتے"۔(بخاری۔ کتاب مواقیت الصلوٰۃ۔باب فضل الصلوٰۃ لوقتھا)(تیسیر القرآن)

62۔ زَقُّوْم نام کا ایک درخت جزیرۂ عرب کے علاقہ تہامہ میں پایاجاتاہے ۔اردومیں "تھوہڑ" یا انڈیامیں"ناگ پھن"۔(معارف القرآن)

- کفارِ قریش کہنے لگے ،زقوم کیا ہے؟ اتفاق سے افریقہ کا ایک آدمی آگیا ۔اُس نے بتایا کہ ہمارے ہاں زقوم مکھن اور کھجور کو کہتے ہیں ۔بس پھر کیا تھا اس لفظ کو جا بجا استعمال کر کے مذاق اڑایا جانے لگا۔(ضیاء القرآن)

ــــ (جو تلخی و ناخوش گواری میں اپنی مثال آپ ہے)الزقوم ایک درخت ہے، جو عرب میں اپنی تلخی کے لیے مشہور تھا۔فارسی میں اسے حنظل اور اردو میں اندرائین کہتے ہیں۔ دوزخ میں آگ سے پیدا ہوگا،اور کسی طرح بھی انسانی غذا کے قابل نہ ہوگا۔مجازاً ہر زہریلی اور بدمزہ چیز کو کہتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

64۔ اللہ کی محیر العقول مخلوق:۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کافروں نے خوب مذاق اڑایا کہ بھلا آگ میں درخت کیسے پیدا ہوسکتا یا برقرار رہ سکتاہے۔اوریہ اعتراض محض ان کی کم عقلی اور کم علمی کی بناپر تھا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی صورتیں بعض دفعہ بڑی نرالی اور حیران کن ہوتی ہیں۔مثلاً جس فصل کے اوپر سے پانی گزرجائے ۔خواہ وہ پانی سیلاب کا ہو اور زیادہ بارش کا وہ فصل برباد ہوجاتی ہے۔ پودوں اور درختوں کا بھی یہی حال ہے مگر سمندر کی تہہ میں درخت اگتے ہیں۔پھر ایسی جمادات بھی ہیں جو درختوں کی طرح پھلتی پھولتی ہیں۔اور ان کی نشوونما پانی میں ہوتی ہے جیسے مرجان ۔اور یہاں تو آگ میں صرف تھوہر کا درخت یعنی نباتات اگنے کا ذکر ہے جبکہ آگ میں جاندار  بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔جیسے آگ کا کیڑا سمندر جو آگ میں ہی زندہ رہ سکتاہے۔(تیسیر القرآن)

65۔ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہوکہ شیطان کا سرکس نے دیکھا ہے؟ یہ ایک تشبیہ ہے جیسے بہت خوبصورت عورت کو پری، بدصورت کو چڑیل ،نورانی شکل کے انسان کو فرشتہ اور بھیانک شکل کو شیطان سے تشبیہ۔(تفہیم القرآن)

69۔اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَ۔آیت نے صاف کردیا کہ اس نتیجہ کا ترتب اہل جہنم پر صرف اس لیے ہوگا کہ انہوں نے دلیل صحیح کی پیروی چھوڑ کر محض اندھی تقلید شروع کردی تھی۔۔۔۔اور امام رازیؒ نے لکھا ہے کہ اندھی تقلید کے ضمن میں اگر کوئی اور آیت قرآن میں نہ ہوتی تو یہی ایک آیت کافی تھی۔(تفسیر ماجدی)


تیسرا رکوع

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ ﴿75﴾ وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ ﴿76﴾ وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ ﴿77﴾ وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ ﴿78﴾ سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ ﴿79﴾ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ﴿80﴾ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿81﴾ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ ﴿82﴾ وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ ﴿83﴾ اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ﴿84﴾ اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ ﴿85﴾ اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ ﴿86﴾ فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿87﴾ فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ ﴿88﴾ فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ ﴿89﴾ فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ ﴿90﴾ فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ ﴿91﴾ مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ ﴿92﴾ فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ ﴿93﴾ فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ ﴿94﴾ قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ ﴿95﴾ وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ ﴿96﴾ قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ ﴿97﴾ فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ ﴿98﴾ وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ ﴿99﴾ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ﴿100﴾ فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ ﴿101﴾ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ ﴿102﴾ فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ ﴿103﴾ وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ ﴿104﴾ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ﴿105﴾ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ ﴿106﴾ وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ ﴿107﴾ وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ ﴿108﴾ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ ﴿109﴾ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ﴿110﴾ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿111﴾ وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ﴿112﴾ وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ ۧ ۧ ﴿113ع الصافات 37﴾
75. اور ہم کو نوح نے پکارا سو (دیکھ لو کہ) ہم (دعا کو کیسے) اچھے قبول کرنے والے ہیں۔ 76. اور ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت سے نجات دی۔ 77. اور ان کی اولاد کو ایسا کیا کہ وہی باقی رہ گئے۔ 78. اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (جمیل باقی) چھوڑ دیا۔ 79. یعنی) تمام جہان میں (کہ) نوح پر سلام۔ 80. نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ 81. بےشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ 82. پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا۔ 83. اور ان ہی کے پیروؤں میں ابراہیم تھے۔ 84. جب وہ اپنے پروردگار کے پاس (عیب سے) پاک دل لے کر آئے۔ 85. جب انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن چیزوں کو پوجتے ہو؟ 86. کیوں جھوٹ (بنا کر) خدا کے سوا اور معبودوں کے طالب ہو؟ 87. بھلا پروردگار عالم کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ 88. تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی۔ 89. اور کہا میں تو بیمار ہوں۔ 90. تب وہ ان سے پیٹھ پھیر کر لوٹ گئے۔ 91. پھر ابراہیم ان کے معبودوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ تم کھاتے کیوں نہیں؟ 92. تمہیں کیا ہوا ہے تم بولتے نہیں؟ 93. پھر ان کو داہنے ہاتھ سے مارنا (اور توڑنا) شروع کیا۔ 94. تو وہ لوگ ان کے پاس دوڑے ہوئے آئے۔ 95. انہوں نے کہا کہ تم ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جن کو خود تراشتے ہو؟ 96. حالانکہ تم کو اور جو تم بناتے ہو اس کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے۔ 97. وہ کہنے لگے کہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ پھر اس کو آگ کے ڈھیر میں ڈال دو۔ 98. غرض انہوں نے ان کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی اور ہم نے ان ہی کو زیر کردیا۔ 99. اور ابراہیم بولے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے رستہ دکھائے گا۔ 100. اے پروردگار مجھے (اولاد) عطا فرما (جو) سعادت مندوں میں سے (ہو)۔ 101. تو ہم نے ان کو ایک نرم دل لڑکے کی خوشخبری دی۔ 102. جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تم کو ذبح کر رہا ہوں تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابا جو آپ کو حکم ہوا ہے وہی کیجیئے خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پایئے گا۔ 103. جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا۔ 104. تو ہم نے ان کو پکارا کہ اے ابراہیم۔ 105. تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ 106. بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی۔ 107. اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ دیا۔ 108. اور پیچھے آنے والوں میں ابراہیم کا (ذکر خیر باقی) چھوڑ دیا۔ 109. کہ ابراہیم پر سلام ہو۔ 110. نیکوکاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ 111. وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ 112. اور ہم نے ان کو اسحاق کی بشارت بھی دی (کہ وہ) نبی (اور) نیکوکاروں میں سے (ہوں گے)۔ 113. اور ہم نے ان پر اور اسحاق پر برکتیں نازل کی تھیں۔ اور ان دونوں کی اولاد میں سے نیکوکار بھی ہیں اور اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والے (یعنی گنہگار) بھی ہیں۔

تفسیر آیات

76۔ (اور کافروں کو غرق کردیا)الکرب العظیم سے مراد ہے کافروں کی تکذیب و ایذا سے پیش آنے والا غم۔۔۔قصۂ نوحؑ پر حاشیے کئی بار گزرچکے ہیں۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ طبعی غم کمال کے منافی نہیں، اقتضاءتِ طبعی کاملین میں بھی باقی رہتے ہیں، اور اس کے خلاف جو کچھ منقول ہے، وہ غلبۂ حال ہے۔(تھانوی،ج2/ص:382)(تفسیر ماجدی)

77۔کیا نوحؑ آدم ثانی ہیں؟ یہاں صرف اتنا ہی مذکور ہے کہ طوفان نوحؑ کے بعد نسل انسانی  صرف نوح کے تین بیٹوں(حام۔سام اور یافث)سے چلی (اور چوتھا بیٹا یام کافر تھا جو طوفان میں غرق ہوگیاتھا)اور اس کی تائید ترمذی کی درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے۔سیدنا سمرہ سے روایت ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ نوح کے تین بیٹے تھے۔حام ،سام، یافث،حام حبش کا باپ،سام عرب کا اور یافث روم کا (ترمذی۔ابواب التفسیر)مگر بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتاہے کہ طوفان نوح کے بعد نسل سیدنا نوحؑ کی اولاد اور ان لوگوں کی اولاد سے چلی تھی جو کشتی میں آپ کے ساتھ سوار تھے۔(سورۂ بنی اسرائیل آیت نمبر3)اس سے یہی معلوم ہوتاہے کہ پہلی آیت میں اجمال اور دوسری میں تفصیل ہے۔(تیسیر القرآن)

۔ وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ۔چنانچہ آج دنیا میں جتنی بھی آبادی ہے، سب حضرت نوحؑ ہی کی نسل ہے۔(تفسیر ماجدی)

83۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کے درمیان دو ہزار چھ سو چالیس سال کا وقفہ ہے، اور دونوں کے درمیان حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہما السلام) کے سوا کوئی اور نبی نہیں ہوا۔ (کشاف، ص 84 ج ) (معارف القرآن)

84۔قلب سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک و نفاق کے امراض سے بالکل محفوظ و پاک ہو۔ یہ تعبیر ہے حضرت ابراہیمؑ کی کامل حنیفیت ،اللہ کی طرف ان کی پوری یکسوئی اور ان کے کمال صدق و اخلاص کی۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحی)

87۔۔۔۔یہ سب اختیارات تو تم نے ان میں تقسیم کردئیے۔اب بتاؤ کہ جس ہستی نے اس کائنات اور ان سیاروں کو پیدا کیا ہے اور اس کا ان پر کنٹرول ہے اس کے پاس بھی کوئی اختیار تم نے چھوڑا ہے یا نہیں؟کیا اب وہ بالکل بے بس ہوچکا ہے؟آخر اس کے متعلق تم کیا سمجھتے ہو؟(تیسیر القرآن)

88۔ ۔۔۔رہے وہ لوگ جو دنیوی واقعات میں موثر حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں، لیکن ساتھ ہی اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ نے ستاروں کو ایسے خواص عطا فرمائے ہیں جو سبب کے درجہ میں انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سو یہ خیال شرک نہیں ہے، اور قرآن و حدیث سے اس خیال کی نہ تصدیق ہوتی ہے نہ تردید۔ لہٰذا یہ کچھ بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی گردش اور ان کے طلوع و غروب میں کچھ ایسے اثرات رکھے ہوں۔۔۔۔۔۔۔لیکن ان اثرات کی جستجو کرنے کے لئے علم نجوم کی تحصیل، اس علم پر اعتماد اور اس کی بنا پر مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنا بہرحال ممنوع اور ناجائز ہے، اور احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔۔۔۔۔۔حضرت ادریس ؑ کے بارے میں احادیث میں آیا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کا کوئی علم عطا فرمایا تھا لیکن اب وہ علم جس کی بنیاد وحی الٰہی پر تھی، دنیا سے مٹ چکا ہے، اب علم نجوم کے ماہرین کے پاس جو کچھ ہے وہ محض قیاسات، اندازے اور تخمینے ہیں، جن سے کوئی یقینی علم حاصل نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔(معارف القرآن)

89۔یہ موقع  قوم کے معبد میں کسی تقریب کا تھا۔ معلوم ہوتاہے تقریب ختم ہوتے ہوتے شب میں بہت دیر ہوگئی۔حضرت ابراہیمؑ تکان سے نڈھال ہورہے تھے اس لیے ستاروں کو دیکھ کر رات کا اندازہ لگانے کے بعدانہوں نے معبد ہی میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے اس عمل میں نہ کوئی جھوٹ شامل تھا نہ کسی بدعقیدگی کی آمیزش تھی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔انہی آیات سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ ضرورت کے مواقع پر توریہ کرنا جائز ہے توریہ ایک تو قولی ہوتا ہے، یعنی ایسی بات کہنا جس کا ظاہری مفہوم خلاف واقعہ ہو، اور باطنی مراد مطابق واقعہ۔ اور ایک توریہ عملی ہوتا ہے، یعنی ایسا عمل کرنا جس کا مقصد دیکھنے والا کچھ سمجھے اور درحقیقت اس کا مقصد کچھ اور ہو۔ اسے ایہام بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کا ستاروں کو دیکھنا (اکثر مفسرین کے قول کے مطابق) ایہام تھا، اور اپنے آپ کو بیمار کہنا توریہ۔۔۔۔۔۔۔۔مزاج اور خوش طبعی کے مواقع پر بھی آنحضرت ﷺ سے توریہ ثابت ہے۔شمائل ترمذی میں روایت ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ نے ایک بوڑھی عورت سے مزاحاً فرمایا”کوئی بوڑھی عورت جنت میں نہیں جائے گی“ وہ عورت یہ سن کر بہت پریشان ہوئی تو آپ نے تشریح فرمائی کہ بوڑھیوں کے جنت میں نہ جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بڑھاپے کی حالت میں جنت میں نہ جائیں گی ہاں جوان ہو کر جائیں گی۔۔۔۔ (معارف القرآن)

90۔یہاں ایک مشہور سوال یہ چلا آرہاہے کہ حضرت ابراہیمؑ تو مریض نہ تھے،پھر کیسے اپنے کو مریض ظاہر کردیا؟ جوابات اس کے مختلف اور متعدد دیے گئے ہیں، لیکن ایک سوال نفسِ سوال ہی پر پیدا ہوتاہے ،وہ یہ کہ آپ کا مریض نہ ہونا کہاں سے فرض کرلیا گیا ہے! قرآن مجید میں تو اس کی صراحت کیا معنی ،اشارہ بھی نہیں اور نہ کسی معتبر روایت میں یہ ذکر ہے۔بالکل آسانی سے ممکن ہے کہ آپ مریض ہوں اور اس حال کا اظہار بھی آپ نے کردیا۔ صرف ستاروں پر نظر کرنے کا جز الگ تھا،اور وہ اس مصلحت سے تھا کہ ستارہ پرست قوم کو مزید سوالات کا موقع نہ رہے۔پھر سقیم کے معنی بھی مریض کیوں فرض کرلیے گئے؟ اور اس کا اردو ترجمہ"بیمار"سے کرنا کیوں لازم آگیا؟سقیم کا اطلاق ہر مضمحل پر ہوتاہے۔جیسے خود قرآن مجید ہی میں، بلکہ اس کی اسی سورت میں آگے چل کر آرہاہے۔ فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌ۔(آیت نمبر145)جہاں کوئی اس کے معنی "بیمار"کے نہیں لیتا۔اور پھر جیساکہ علامہ راغب نے لکھا ہے،بیماری کا تعلق ماضی سے بھی ہوسکتاہے اور مستقبل سے بھی،اور حال سے بھی۔اور صحت کامل تو کسی کی بھی نہیں ہوتی،کچھ نہ کچھ بیمار تو تقریباً ہر شخص رہتاہی ہے۔(راغب،ص:264) (تفسیر ماجدی)

92۔ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ  پہلے انہوں نے ان پر کچھ طنزیہ فقرے چست کئے۔ فرمایا کہ یہ لذیذ کھانے اور حلوے جو آپ کے پجاریوں نے آپ لوگوں کے سامنے پیش کئے ہیں ان کو آخر تناول کیوں نہیں فرماتے ! اور یہ آپ لوگ چپ چپ سے کیوں ہیں، کچھ گفتگو کیوں نہیں کرتے ! ان طنزیہ فقروں سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جس وقت یہ اقدام کیا ان پر کسی گھبراہٹ کا کوئی اثر نہیں   تھا، بلکہ وہ نہایت خوشگوار موڈ میں تھے کہ ان کو اپنی اسکیم کے مطابق ان خداوندوں کی تواضع کرنے کا نہایت عمدہ موقع ہاتھ آگیا اور ان کی تدبیر بالکل کامیاب رہی۔ (تدبرِ قرآن)

100۔ اس دعا سے خود بخود یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اس وقت بےاولاد تھے۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر جو حالات  بیان کیے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صرف ایک بیوی اور ایک بھتیجے (حضرت لوط علیہ السلام) کو لے کر ملک سے نکلے تھے۔ اس وقت فطرۃً آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ کوئی صالح اولاد عطا فرمائے جو اس غریب الوطنی کی حالت میں آپ کا غم غلط کرے۔ (تفہیم القرآن)

۔اپنے خویش و اقارب اور خاندان و قبیلہ سے کٹنے کے بعد سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے وہ اچھے ساتھی ہیں چنانچہ ہجرت کے ساتھ ہی حضرت ابراہیم ؑ نے یہ دعا فرمائی کہ اے رب ! ان برے لوگوں کی جگہ تو مجھے اچھے ساتھی دے۔ حضرت ابراہیم ؑ کی یہ دعا میرے نزدیک صرف صالح اولاد ہی کے لئے نہیں بلکہ اچھے رفیقوں اور مددگاروں کے لئے بھی تھی جن میں صالح اولاد بدرجہ اولیٰ شامل ہے۔ (تدبرِقرآن)

101۔مراد حضرت اسمٰعیلؑ ہیں۔ حَلِیْم۔لڑکے کے لیے یہ صفت حِلم مزاجی کی تصریح یہود و نصاریٰ کے رد میں ہے، جو آپؑ کو آج تک تندمزاج ، بدخو مشہور کیے ہوئے ہیں۔ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۔فرزند صالح کی دعا مانگتے رہنا جو کسی کمال روحانی کے منافی ہونا  لگ رہاہے،عین سنت انبیاء رہاہے۔(تفسیر ماجدی)

103۔انسانی قربانی کا رواج اب تک بھی بعض باطل مذہبوں میں قائم ہے، اور اس زمانے میں تو یہ رواج عام تھا۔(تفسیر ماجدی)

۔ بعض تاریخی اور تفسیری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے تین مرتبہ حضرت ابراہیم ؑ کو بہکانے کی کوشش کی ، ہر بار حضرت ابراہیم ؑ نے اسے سات کنکریاں مار کر بھگا دیا۔ آج تک منیٰ کے تین جمرات پر اسی محبوب عمل کی یاد کنکریاں مار کر منائی جاتی ہے، بالآخر جب دونوں باپ بیٹے یہ انوکھی عبادت انجام دینے کے لئے قربان گاہ پر پہنچے تو حضرت اسماعیل ؑ نے اپنے والد سے کہا کہ ابا جان مجھے خوب اچھی طرح باندھ دیجئے، تاکہ میں زیادہ تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑوں کو بھی مجھ سے بچائیے، ایسا نہ ہو کہ ان پر میرے خون کی چھینٹیں پڑیں، تو میرا ثواب گھٹ جائے، اس کے علاوہ میری والدہ خون دیکھیں گی تو انہیں غم زیادہ ہوگا، اور اپنی چھری کو بھی تیز کرلیجئے، اور اسے میرے حلق پر ذرا جلدی جلدی پھیریئے گا، تاکہ آسانی سے میرا دم نکل سکے، کیونکہ موت بڑی سخت چیز ہے، اور جب آپ میری والدہ کے پاس جائیں تو ان سے میرا سلام کہہ دیجئے گا، اور اگر آپ میری قمیض والدہ کے پاس لے جانا چاہیں تو لے جائیں، شاید اس سے انہیں کچھ تسلی ہو۔ اکلوتے بیٹے کی زبان سے یہ الفاظ سن کر ایک باپ کے دل پر کیا گزر سکتی ہے ؟ لیکن حضرت ابراہیم ؑ استقامت کے پہاڑ بن کر جواب یہ دیتے ہیں کہ”بیٹے ! تم اللہ کا حکم پورا کرنے کے لئے میرے کتنے اچھے مددگار ہو۔“ یہ کہہ کر انہوں نے بیٹے کو بوسہ دیا، پر نم آنکھوں سے انہیں باندھا۔ (مظہری) (معارف القرآن)

107۔عَظِیْم۔یہاں بمعنی عظیم القدر ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ یہ ایک دنبہ تھا، جو جنت سے آیاتھا۔اس پر یہ شبہ نہ ہو کہ جنت کی چیز نے فنا کیسے قبول کرلی۔جب وہ ناسوت میں لایا گیا تو تاثیرات و خصوصیات بھی یہیں کی پیدا ہوگئیں ،اور ہوسکتاہے کہ یہ جنت میں شروع سے اسی غرض مخصوص کے لیے رکھا گیا ہو۔فقہاء نے یہاں یہ سوال پیدا کیا ہے کہ آیا ذبح ولد کی نذر ماننا اور اس کا ایفاء بکری کے ذبح سے کرنا جائز ہے؟ اور پھر جواب دیا ہے کہ آیت کو نذر سے کوئی تعلق نہیں، یہ تو محض امتثال امر تھا،نہ کہ ایفائے نذر۔لڑکے کے ذبح کرنے کی نذر بہرصورت اور بالاتفاق ناجائز ہے، لیکن اگر کوئی بے عقل ایسی نذر مان لے تو امام مالکؒ کے نزدیک اس کے بدلے بکری قربان کردے۔لیکن امام شافعیؒ نے کہاہے کہ یہ سرے سے معصیت ہے جس پر اسے استغفار کرنا چاہیے (ابن العربی،ج4/ص:33)  ۔حنفیہ میں امام ابوحنیفہؒ اور امام محمدؒ کی رائے ہے کہ بکری کی قربانی دینی چاہیے کہ یہ شریعت ابراہیمی سے ثابت ہے،اور اس کا نسخ منقول نہیں۔(تفسیر ماجدی)

112۔اس سے معلوم ہواکہ حضرت اسحاقؑ ،جو کہ حضرت اسماعیلؑ کے چھوٹے بھائی تھے، اس امتحان میں کامیابی کے صلہ میں عطاہوئے ۔لہذا وہ قربان ہونے والے فرزند نہیں اور اس بارے میں یہود کا دعویٰ بے اصل ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

113۔ذُرِّیَّتِهِمَا۔کے صیغۂ تثنیہ سے اشارہ ادھر بھی ہوگیا کہ نسل ابراہیمی علاوہ حضرت اسحاقؑ کے کسی اور واسطے سے بھی چلے گی۔(تفسیر ماجدی)


چوتھا رکوع

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ ﴿114﴾ وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ ﴿115﴾ وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ ﴿116﴾ وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ ﴿117﴾ وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ ﴿118﴾ وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ ﴿119﴾ سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ ﴿120﴾ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ﴿121﴾ اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿122﴾ وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ ﴿123﴾ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ ﴿124﴾ اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ ﴿125﴾ اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ ﴿126﴾ فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ ﴿127﴾ اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ ﴿128﴾ وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ ﴿129﴾ سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ ﴿130﴾ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ﴿131﴾ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ ﴿132﴾ وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ ﴿133﴾ اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ ﴿134﴾ اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ ﴿135﴾ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ ﴿136﴾ وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ ﴿137﴾ وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿138ع الصافات 37﴾
114. اور ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بھی احسان کئے۔ 115. اور ان کو اور ان کی قوم کو مصیبت عظیمہ سے نجات بخشی۔ 116. اور ان کی مدد کی تو وہ غالب ہوگئے۔ 117. اور ان دونوں کو کتاب واضح (المطالب) عنایت کی۔ 118. اور ان کو سیدھا رستہ دکھایا۔ 119. اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (خیر باقی) چھوڑ دیا۔ 120. کہ موسیٰ اور ہارون پر سلام۔ 121. بےشک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ 122. وہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ 123. اور الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھے۔ 124. جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟ 125. کیا تم بعل کو پکارتے (اور اسے پوجتے) ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو۔ 126. (یعنی) خدا کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے۔ 127. تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ سو وہ (دوزخ میں) حاضر کئے جائیں گے۔ 128. ہاں خدا کے بندگان خاص (مبتلائے عذاب نہیں) ہوں گے۔ 129. اور ان کا ذکر (خیر) پچھلوں میں (باقی) چھوڑ دیا۔ 130. کہ اِل یاسین پر سلام۔ 131. ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ 132. بےشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ 133. اور لوط بھی پیغمبروں میں سے تھے۔ 134. جب ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو سب کو (عذاب سے) نجات دی۔ 135. مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔ 136. پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔ 137. اور تم دن کو بھی ان (کی بستیوں) کے پاس سے گزرتے رہتے ہو۔ 138. اور رات کو بھی۔ تو کیا تم عقل نہیں رکھتے۔

تفسیر آیات

123۔ ۔۔۔۔یہاں تک کہ جب اسرائیل کے بادشاہ اخی اب (Ahab) نے صیدا (موجودہ لبنان) کے بادشاہ کی لڑکی ایزبل (Izabel) سے شادی کرلی تو یہ فساد اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس مشرک شہزادی کے اثر میں آ کر اخی اب خود بھی مشرک ہوگیا، اس نے سامریہ میں بعل کا مندر اور مذبح تعمیر کیا، خدائے واحد کی پرستش کے بجائے بعل کی پرستش رائج کرنے کی بھر پور کوشش کی اور اسرائیل کے شہروں میں علانیہ بعل کے نام پر قربانیاں کی جانے لگیں۔۔۔۔یہی زمانہ تھا جب حضرت الیاس ؑ یکایک منظر عام پر نمودار ہوئے اور انہوں نے جلعاد سے آ کر اخی اب کو نوٹس دیا کہ تیرے گناہوں کی پاداش میں اب اسرائیل کے ملک پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہ برسے گا، حتیٰ کہ اوس تک نہ پڑے گی۔ خدا کے نبی کا یہ قول حرف بحرف صحیح ثابت ہوا اور ساڑھے تین سال تک بارش بالکل بند رہی۔ آخر کار اخی اب کے ہوش کچھ ٹھکانے آئے اور اس نے حضرت الیاس کو تلاش کرا کے بلوایا۔ انہوں نے بارش کے لیے دعا کرنے سے پہلے یہ ضروری سمجھا کہ اسرائیل کے باشندوں کو اللہ رب العالمین اور بعل کا فرق اچھی طرح بتادیں۔ اس غرض کے لیے انہوں نے حکم دیا کہ ایک مجمع عام میں بعل کے پوجاری بھی آ کر اپنے معبود کے نام پر قربانی کریں اور میں بھی اللہ رب العلمین کے نام پر قربانی کروں گا۔ دونوں میں سے جس کی قربانی بھی انسان کے ہاتھوں سے آگ لگائے بغیر غیبی آگ سے بھسم ہوجائے اس کے معبود کی سچائی ثابت ہوجائے گی۔ اخی اب نے یہ بات قبول کرلی۔ چنانچہ کوہ کرمل (Carmel)پر بعل کے ساڑھے آٹھ سو پجاری جمع ہوئے اور اسرائیلیوں کے مجمع عام میں ان کا اور حضرت الیاس ؑ کا مقابلہ ہوا۔ اس مقابلے میں بعل پرستوں نے شکست کھائی اور حضرت الیاس نے سب کے سامنے یہ ثابت کردیا کہ بعل ایک جھوٹا خدا ہے، اصل خدا  وہی ایک اکیلا خدا ہے جس کے نبی کی حیثیت سے وہ مامور ہو کر آئے ہیں۔ اس کے بعد حضرت الیاس نے اسی مجمع عام میں بعل کے پجاریوں کو قتل کرا دیا اور پھر بارش کے لیے دعا کی جو فوراً قبول ہوئی یہاں تک کہ پورا ملک اسرائیل سیراب ہوگیا۔۔۔۔۔چند سال کے بعد حضرت الیاس پھر اسرائیل تشریف لے گئے اور انہوں نے اخی اب کو، اور اس کے بعد اس کے بیٹے اخزیاہ کو راہ راست پر لانے کی مسلسل کوشش کی، مگر جو بدی سامریہ کے شاہی خاندان میں گھر کرچکی تھی وہ کسی طرح نہ نکلی۔ آخر کار حضرت الیاس کی بد دعا سے اخی اب کا گھرانا ختم ہوگیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دنیا سے اٹھا لیا۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

125۔ بعل کے لغوی معنی آقا، سردار اور مالک کے ہیں۔ شوہر کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا تھا اور متعدد مقامات پر خود قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے، مثلاً سورة بقرہ آیت 228، سورة نساء آیت 127، سورة ہود آیت 72، اور سورة نور آیت 31 میں۔ لیکن قدیم زمانے کی سامی اقوام اس لفظ کو الٰہ یا خداوند کے معنی میں استعمال کرتی تھیں اور انہوں نے ایک خاص دیوتا کو بعل کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔ خصوصیت کے ساتھ لبنان کی فنیقی قوم (Phoenicians) کا سب سے بڑا نر دیوتا بعل تھا اور اس کی بیوی عستارات (Ashtoreth) ان کی سب سے بڑی دیوی تھی۔ محققین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا بعل سے مراد سورج ہے یا مشتری، اور عستارات سے مراد چاند ہے یا زہرہ۔ بہرحال یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بابل سے لے کر مصر تک پورے مشرق اوسط میں بعل پرستی پھیلی ہوئی تھی، اور خصوصاً لبنان، اور شام و فلسطین کی مشرک اقوام بری طرح اس میں مبتلا تھیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلنے کے بعد فلسطین اور مشرق اردن میں آ کر آباد ہوئے، اور توراۃ کے سخت امتناعی احکام کی خلاف ورزی کر کے انہوں نے ان مشرک قوموں کے ساتھ شادی بیاہ اور معاشرت کے تعلقات قائم کرنے شروع کردیے، تو ان کے اندر بھی یہ مرض پھیلنے لگا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے خلیفہ اور حضرت یوشع بن نون کی وفات کے بعد ہی بنی اسرائیل میں یہ اخلاقی و دینی زوال رو نما ہونا شروع ہوگیا تھا۔  ۔۔۔۔۔اس زمانہ میں بعل پرستی اسرائیلیوں میں اس قدر گھس چکی تھی کہ بائیبل کے بیان کے مطابق ان کی ایک بستی میں علانیہ بعل کا مذبح بنا ہوا تھا جس پر قربانیاں کی جاتی تھیں۔ ایک خدا پرست اسرائیل اس حالت کو برداشت نہ کرسکا اور اس نے رات کے وقت چپکے سے یہ مذبح توڑ دیا۔ دوسرے روز ایک مجمع کثیر اکٹھا ہوگیا اور وہ اس شخص کے قتل کا مطالبہ کرنے لگا جس نے شرک کے اس اڈے کو توڑا تھا (قضاۃ  6: 25۔ 32) اس صورت حال کو آخر کار حضرت سموایل، طالوت، داؤد ؑ اور سلیمان ؑ نے ختم کیا اور نہ صرف بنی اسرائیل کی اصلاح کی بلکہ اپنی مملکت میں بالعموم شرک و بت پرستی کو دبا دیا۔ لیکن حضرت سلیمان کی وفات کے بعد یہ فتنہ پھر ابھرا اور خاص طور پر شمالی فلسطین کی اسرائیلی ریاست بعل پرستی کے سیلاب میں بہہ گئی۔ (تفہیم القرآن)

129۔  حضرت الیاس ؑ کو ان کی زندگی میں تو بنی اسرائیل نے جیسا کچھ ستایا اس کی داستان اوپر گزر چکی ہے، مگر بعد میں وہ ان کے ایسے گرویدہ و شیفتہ ہوئے کہ حضرت موسیٰ کے بعد کم ہی لوگوں کو انہوں نے ان سے  بڑھ کر جلیل القدر مانا ہوگا۔ ان کے ہاں مشہور ہوگیا کہ الیاس ؑ ایک بگولے میں آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئے ہیں  (2 سلاطین، باب دوم) اور یہ کہ وہ پھر دنیا میں تشریف لائیں گے۔(تفہیم القرآن)

130۔ اِلْ یَاسِیْنَ  میرے نزدیک الیاس کی جمع ہے اور اس سے مراد ان کے تمام آل و اتباع ہیں۔ عربی میں اس طرح جب کسی اسم کی جمع آتی ہے تو اس سے اس کے تمام اجزاء و فروع مراد ہوتے ہیں۔ قرآن میں طور سنین طور کی جمع اسی اصول پر استعمال ہوئی ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ نبی پر جو برکت و سلامتی نازل ہوتی ہے اس میں اس کے تمام جاں نثار ساتھی بھی شامل ہوتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

۔الیاسین اور الیاس ایک ہی بات ہے:۔ الیاس اور الیاسین ایک ہی بات ہے۔الیاسین بھی سیدنا الیاسؑ ہی کا دوسرا نام ہے اور تلفظ کی ایسی کمی بیشی تقریباً سب زبانوں میں پائی جاتی ہے۔قرآن میں اس کی دوسری مثال طورِ سینا ہے جسے سورہ والتین میں سینین کہا گیاہے۔(تیسیرالقرآن)


پانچواں رکوع

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ ﴿139﴾ اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ ﴿140﴾ فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ ﴿141﴾ فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ ﴿142﴾ فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ ﴿143﴾ لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ ﴿144﴾ فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ ﴿145﴾ وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ ﴿146﴾ وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ ﴿147﴾ فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ ﴿148﴾ فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ ﴿149﴾ اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ ﴿150﴾ اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ ﴿151﴾ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ﴿152﴾ اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ ﴿153﴾ مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ ﴿154﴾ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ ﴿155﴾ اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ ﴿156﴾ فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿157﴾ وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ ﴿158﴾ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ ﴿159﴾ اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ ﴿160﴾ فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ ﴿161﴾ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ بِفٰتِنِیْنَۙ ﴿162﴾ اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ ﴿163﴾ وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ ﴿164﴾ وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ ﴿165﴾وَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ﴿166﴾ز َانُوْا لَیَقُوْلُوْنَۙ ﴿167﴾ لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ ﴿168﴾ لَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ ﴿169﴾ فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ﴿170﴾ وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَۚۖ ﴿171﴾ اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۪ ﴿172﴾ وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ ﴿173﴾ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ ﴿174﴾ وَّ اَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ ﴿175﴾ اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِْلُوْنَ ﴿176﴾ فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ ﴿177﴾ وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ ﴿178﴾ وَّ اَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ ﴿179﴾ سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ ﴿180﴾ وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ ﴿181﴾ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿182ع الصافات 37﴾
139. اور یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے۔ 140. جب بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں پہنچے۔ 141. اس وقت قرعہ ڈالا تو انہوں نے زک اُٹھائی۔ 142. پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (قابل) ملامت (کام) کرنے والے تھے۔ 143. پھر اگر وہ (خدا کی) پاکی بیان نہ کرتے۔ 144. تو اس روز تک کہ لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اسی کے پیٹ میں رہتے۔ 145. پھر ہم نے ان کو جب کہ وہ بیمار تھے فراخ میدان میں ڈال دیا۔ 146. اور ان پر کدو کا درخت اُگایا۔ 147. اور ان کو لاکھ یا اس سے زیادہ (لوگوں) کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا۔ 148. تو وہ ایمان لے آئے سو ہم نے بھی ان کو (دنیا میں) ایک وقت (مقرر) تک فائدے دیتے رہے۔ 149. ان سے پوچھو تو کہ بھلا تمہارے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں اور ان کے لئے بیٹے۔ 150. یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے۔ 151. دیکھو یہ اپنی جھوٹ بنائی ہوئی (بات) کہتے ہیں۔ 152. کہ خدا کے اولاد ہے کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں۔ 153. کیا اس نے بیٹوں کی نسبت بیٹیوں کو پسند کیا ہے؟ 154. تم کیسے لوگ ہو، کس طرح کا فیصلہ کرتے ہو۔ 155. بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے۔ 156. یا تمہارے پاس کوئی صریح دلیل ہے۔ 157. اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو۔ 158. اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا۔ حالانکہ جنات جانتے ہیں کہ وہ (خدا کے سامنے) حاضر کئے جائیں گے۔ 159. یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے۔ 160. مگر خدا کے بندگان خالص (مبتلائے عذاب نہیں ہوں گے)۔ 161. سو تم اور جن کو تم پوجتے ہو۔ 162. خدا کے خلاف بہکا نہیں سکتے۔ 163. مگر اس کو جو جہنم میں جانے والا ہے۔ 164. اور (فرشتے کہتے ہیں کہ) ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے۔ 165. اور ہم صف باندھے رہتے ہیں۔ 166. اور (خدائے) پاک (ذات) کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ 167. اور یہ لوگ کہا کرتے تھے۔ 168. کہ اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی نصیحت (کی کتاب) ہوتی۔ 169. تو ہم خدا کے خالص بندے ہوتے۔ 170. لیکن (اب) اس سے کفر کرتے ہیں سو عنقریب ان کو (اس کا نتیجہ) معلوم ہوجائے گا۔ 171. اور اپنے پیغام پہنچانے والے بندوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے۔ 172. کہ وہی (مظفرو) منصور ہیں۔ 173. اور ہمارا لشکر غالب رہے گا۔ 174. تو ایک وقت تک ان سے اعراض کئے رہو۔ 175. اور انہیں دیکھتے رہو۔ یہ بھی عنقریب (کفر کا انجام) دیکھ لیں گے۔ 176. کیا یہ ہمارے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ 177. مگر جب وہ ان کے میدان میں آ اُترے گا تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا ان کے لئے برا دن ہوگا۔ 178. اور ایک وقت تک ان سے منہ پھیرے رہو۔ 179. اور دیکھتے رہو یہ بھی عنقریب (نتیجہ) دیکھ لیں گے۔ 180. یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں تمہارا پروردگار جو صاحب عزت ہے اس سے (پاک ہے)۔ 181. اور پیغمبروں پر سلام۔ 182. اور سب طرح کی تعریف خدائے رب العالمین کو (سزاوار) ہے۔

تفسیر آیات

123۔ ۔۔۔۔یہاں تک کہ جب اسرائیل کے بادشاہ اخی اب (Ahab) نے صیدا (موجودہ لبنان) کے بادشاہ کی لڑکی ایزبل (Izabel) سے شادی کرلی تو یہ فساد اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس مشرک شہزادی کے اثر میں آ کر اخی اب خود بھی مشرک ہوگیا، اس نے سامریہ میں بعل کا مندر اور مذبح تعمیر کیا، خدائے واحد کی پرستش کے بجائے بعل کی پرستش رائج کرنے کی بھر پور کوشش کی اور اسرائیل کے شہروں میں علانیہ بعل کے نام پر قربانیاں کی جانے لگیں۔۔۔۔یہی زمانہ تھا جب حضرت الیاس ؑ یکایک منظر عام پر نمودار ہوئے اور انہوں نے جلعاد سے آ کر اخی اب کو نوٹس دیا کہ تیرے گناہوں کی پاداش میں اب اسرائیل کے ملک پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہ برسے گا، حتیٰ کہ اوس تک نہ پڑے گی۔ خدا کے نبی کا یہ قول حرف بحرف صحیح ثابت ہوا اور ساڑھے تین سال تک بارش بالکل بند رہی۔ آخر کار اخی اب کے ہوش کچھ ٹھکانے آئے اور اس نے حضرت الیاس کو تلاش کرا کے بلوایا۔ انہوں نے بارش کے لیے دعا کرنے سے پہلے یہ ضروری سمجھا کہ اسرائیل کے باشندوں کو اللہ رب العالمین اور بعل کا فرق اچھی طرح بتادیں۔ اس غرض کے لیے انہوں نے حکم دیا کہ ایک مجمع عام میں بعل کے پوجاری بھی آ کر اپنے معبود کے نام پر قربانی کریں اور میں بھی اللہ رب العلمین کے نام پر قربانی کروں گا۔ دونوں میں سے جس کی قربانی بھی انسان کے ہاتھوں سے آگ لگائے بغیر غیبی آگ سے بھسم ہوجائے اس کے معبود کی سچائی ثابت ہوجائے گی۔ اخی اب نے یہ بات قبول کرلی۔ چنانچہ کوہ کرمل (Carmel)پر بعل کے ساڑھے آٹھ سو پجاری جمع ہوئے اور اسرائیلیوں کے مجمع عام میں ان کا اور حضرت الیاس ؑ کا مقابلہ ہوا۔ اس مقابلے میں بعل پرستوں نے شکست کھائی اور حضرت الیاس نے سب کے سامنے یہ ثابت کردیا کہ بعل ایک جھوٹا خدا ہے، اصل خدا  وہی ایک اکیلا خدا ہے جس کے نبی کی حیثیت سے وہ مامور ہو کر آئے ہیں۔ اس کے بعد حضرت الیاس نے اسی مجمع عام میں بعل کے پجاریوں کو قتل کرا دیا اور پھر بارش کے لیے دعا کی جو فوراً قبول ہوئی یہاں تک کہ پورا ملک اسرائیل سیراب ہوگیا۔۔۔۔۔چند سال کے بعد حضرت الیاس پھر اسرائیل تشریف لے گئے اور انہوں نے اخی اب کو، اور اس کے بعد اس کے بیٹے اخزیاہ کو راہ راست پر لانے کی مسلسل کوشش کی، مگر جو بدی سامریہ کے شاہی خاندان میں گھر کرچکی تھی وہ کسی طرح نہ نکلی۔ آخر کار حضرت الیاس کی بد دعا سے اخی اب کا گھرانا ختم ہوگیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دنیا سے اٹھا لیا۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)

125۔ بعل کے لغوی معنی آقا، سردار اور مالک کے ہیں۔ شوہر کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا تھا اور متعدد مقامات پر خود قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے، مثلاً سورة بقرہ آیت 228، سورة نساء آیت 127، سورة ہود آیت 72، اور سورة نور آیت 31 میں۔ لیکن قدیم زمانے کی سامی اقوام اس لفظ کو الٰہ یا خداوند کے معنی میں استعمال کرتی تھیں اور انہوں نے ایک خاص دیوتا کو بعل کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔ خصوصیت کے ساتھ لبنان کی فنیقی قوم (Phoenicians) کا سب سے بڑا نر دیوتا بعل تھا اور اس کی بیوی عستارات (Ashtoreth) ان کی سب سے بڑی دیوی تھی۔ محققین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا بعل سے مراد سورج ہے یا مشتری، اور عستارات سے مراد چاند ہے یا زہرہ۔ بہرحال یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بابل سے لے کر مصر تک پورے مشرق اوسط میں بعل پرستی پھیلی ہوئی تھی، اور خصوصاً لبنان، اور شام و فلسطین کی مشرک اقوام بری طرح اس میں مبتلا تھیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلنے کے بعد فلسطین اور مشرق اردن میں آ کر آباد ہوئے، اور توراۃ کے سخت امتناعی احکام کی خلاف ورزی کر کے انہوں نے ان مشرک قوموں کے ساتھ شادی بیاہ اور معاشرت کے تعلقات قائم کرنے شروع کردیے، تو ان کے اندر بھی یہ مرض پھیلنے لگا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے خلیفہ اور حضرت یوشع بن نون کی وفات کے بعد ہی بنی اسرائیل میں یہ اخلاقی و دینی زوال رو نما ہونا شروع ہوگیا تھا۔  ۔۔۔۔۔اس زمانہ میں بعل پرستی اسرائیلیوں میں اس قدر گھس چکی تھی کہ بائیبل کے بیان کے مطابق ان کی ایک بستی میں علانیہ بعل کا مذبح بنا ہوا تھا جس پر قربانیاں کی جاتی تھیں۔ ایک خدا پرست اسرائیل اس حالت کو برداشت نہ کرسکا اور اس نے رات کے وقت چپکے سے یہ مذبح توڑ دیا۔ دوسرے روز ایک مجمع کثیر اکٹھا ہوگیا اور وہ اس شخص کے قتل کا مطالبہ کرنے لگا جس نے شرک کے اس اڈے کو توڑا تھا (قضاۃ  6: 25۔ 32) اس صورت حال کو آخر کار حضرت سموایل، طالوت، داؤد ؑ اور سلیمان ؑ نے ختم کیا اور نہ صرف بنی اسرائیل کی اصلاح کی بلکہ اپنی مملکت میں بالعموم شرک و بت پرستی کو دبا دیا۔ لیکن حضرت سلیمان کی وفات کے بعد یہ فتنہ پھر ابھرا اور خاص طور پر شمالی فلسطین کی اسرائیلی ریاست بعل پرستی کے سیلاب میں بہہ گئی۔ (تفہیم القرآن)

129۔  حضرت الیاس ؑ کو ان کی زندگی میں تو بنی اسرائیل نے جیسا کچھ ستایا اس کی داستان اوپر گزر چکی ہے، مگر بعد میں وہ ان کے ایسے گرویدہ و شیفتہ ہوئے کہ حضرت موسیٰ کے بعد کم ہی لوگوں کو انہوں نے ان سے  بڑھ کر جلیل القدر مانا ہوگا۔ ان کے ہاں مشہور ہوگیا کہ الیاس ؑ ایک بگولے میں آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئے ہیں  (2 سلاطین، باب دوم) اور یہ کہ وہ پھر دنیا میں تشریف لائیں گے۔(تفہیم القرآن)

130۔ اِلْ یَاسِیْنَ  میرے نزدیک الیاس کی جمع ہے اور اس سے مراد ان کے تمام آل و اتباع ہیں۔ عربی میں اس طرح جب کسی اسم کی جمع آتی ہے تو اس سے اس کے تمام اجزاء و فروع مراد ہوتے ہیں۔ قرآن میں طور سنین طور کی جمع اسی اصول پر استعمال ہوئی ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ نبی پر جو برکت و سلامتی نازل ہوتی ہے اس میں اس کے تمام جاں نثار ساتھی بھی شامل ہوتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

۔الیاسین اور الیاس ایک ہی بات ہے:۔ الیاس اور الیاسین ایک ہی بات ہے۔الیاسین بھی سیدنا الیاسؑ ہی کا دوسرا نام ہے اور تلفظ کی ایسی کمی بیشی تقریباً سب زبانوں میں پائی جاتی ہے۔قرآن میں اس کی دوسری مثال طورِ سینا ہے جسے سورہ والتین میں سینین کہا گیاہے۔(تیسیرالقرآن)