38 - سورة ص (مکیہ)
| رکوع - 5 | آیات - 88 |
مضمون:کبرو غرور اور شرک پرستی کے جنون میں قرآن کی یاددہانی کی مخالفت کرنے والوں کو تنبیہ اور اہل ایمان کے لیے صبرو استقامت کی تعلیم۔(ترجمہ:مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: قرآن کی دعوتِ توحید و آخرت تسلیم کرکے آخری رسول ؐ پر ایمان لانے کی دعوت ۔ کافروں کی ضد اور تکبرپر سخت تنقید اور ہلاکت کی دھمکی۔انسان اللہ کا شاہکار (خلَقتُ بِیَدیَّ ۔میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔آیت:75)قصۂ آدم (ساتویں اور آخری بار) توحیدِ عملی (توحید عقیدہ سے اگلی منزل) لامطلوب الا اللہ۔عقیدہ توحید مگر عملاً مشرک(نفس یا دولت کا پجاری) ہندولکشمی بائی کی پوجا۔براہِ راست پیسے کی پوجا یا پیسے والے کی پوجا۔۔۔ع ۔بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے ناامیدی۔
نام: ایک حرفِ مقطع۔ آیت نہیں جیسے ص،ق،ن۔
شانِ نزول:چار سورتوں کا یہ گروپ سورۂ فاطر، یٰسین ،الصافات اور ص پر مشتمل ہے۔یہ سورتیں شدید مخالفت اور ظلم و جور کی شدت کے ایام میں حضورؐ کے قیامِ مکہ کے تیسرے دور میں 6 تا 10 سن نبوی میں نازل ہوئیں۔ جب حضرت ابوطالب مرضِ وفات میں مبتلا تھے۔ قریش کے 25 سردار ،ابوجہل کی قیادت میں حضرت ابو طالب کے پاس آئے۔ ابو طالب نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلایا اور آپ سے کہا کہ بھتیجے، یہ تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ تم ایک منصفانہ بات پر ان سے اتفاق کرلو تاکہ تمہارا اور ان کا جھگڑا ختم ہوجائے۔ پھر انہوں نے وہ بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتائی جو سرداران قریش نے ان سے کہی تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا، چچا جان، میں تو ان کے سامنے ایک ایسا کلمہ پیش کرتا ہوں جسے اگر یہ مان لیں تو عرب ان کا تابع فرمان اور عجم ان کا باج گزار ہوجائے۔ بولے، تم ایک کلمہ کہتے ہو، ہم ایسے دس کلمے کہنے کو تیار ہیں، مگر یہ تو بتاؤ کہ وہ کلمہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ۔ اس پر وہ سب یک بارگی اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ باتیں کہتے ہوئے نکل گئے جو اس سورة کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے نقل کی ہیں۔ (تفہیم القرآن)
۔ یہ سورت حضورؐ کے قیامِ مکہ کے تیسرے دور کے آخر میں یعنی 10 سن نبوی میں نازل ہوئی جب مشرکین ِ مکہ بدستور تکذیب ،تکبر اورضد میں مبتلاتھے اور حضورؐ کو ساحر کہہ رہے تھے۔
نظمِ کلام: سورۂ سبا
ترتیب مطالعۂ: (i) ر۔1(قرآن کے منکر ،متکبرین کی ذہنیت) (ii)ر۔2تا 4 (حضرتِ داؤدؑ،حضرتِ سلیمانؑ ،حضرتِ ایوبؑ اور دیگر انبیاء کا تذکرہ (iii) ر۔ 5( قصۂ آدم و ابلیس )
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ ﴿1﴾ بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ ﴿2﴾ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ ﴿3﴾ وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖ ۚ ﴿4﴾ اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ ﴿5﴾ وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖ ۚ ﴿6﴾ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖ ۚ ﴿7﴾ ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ ﴿8﴾ اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ ﴿9﴾ اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ ﴿10﴾ جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ ﴿11﴾ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ ﴿12﴾ وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ ﴿13﴾ اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ ۧ ۧ ﴿14ع ص 38﴾ |
| 1. ص۔ قسم ہے اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)۔ 2. مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں۔ 3. ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا۔ 4. اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔ 5. کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ 6. تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اور اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو۔ بےشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف وفضلیت) مقصود ہے۔ 7. یہ پچھلے مذہب میں ہم نے کبھی سنی ہی نہیں۔ یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے۔ 8. کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت (کی کتاب) اُتری ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ میری نصیحت کی کتاب سے شک میں ہیں۔ بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ 9. کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے۔ 10. یا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ان (سب) پر ان ہی کی حکومت ہے۔ تو چاہیئے کہ رسیاں تان کر (آسمانوں) پر چڑھ جائیں۔ 11. یہاں شکست کھائے ہوئے گروہوں میں سے یہ بھی ایک لشکر ہے۔ 12. ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون (اور اس کی قوم کے لوگ) بھی جھٹلا چکے ہیں۔ 13. اور ثمود اور لوط کی قوم اور بن کے رہنے والے بھی۔ یہی وہ گروہ ہیں۔ 14. (ان) سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو میرا عذاب (ان پر) آ واقع ہوا۔ |
تفسیر آیات
1۔نصیحت والے قرآن کی قسم اٹھانے کے بعد بل کے لفظ سے معلوم ہورہاہے کہ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جسے پڑھنے اور سننے والے کی فہم و بصیرت پر چھوڑ دیا گیا ہے اور یہ عبارت یوں بنتی ہے کہ اس سراسر نصیحت والے قرآن کی قسم کہ اس کی عبارت میں کوئی پیچیدگی نہیں اس کے دلائل بھی عام فہم ہیں اور اس کے مطالب سمجھنے میں بھی کسی کو کوئی دشواری نہیں مگر کافر پھر بھی اس پر طرح طرح کے اعتراض کررہے ہیں تو اسکی وجہ یہ نہیں کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کی تعلیمات کو تسلیم کرنے میں اپنی، اپنے آباء و اجداد کی اور اپنے معبودوں کی ہتک محسوس کرتے ہیں۔ لہذا چڑکر اس کی مخالفت پر اتر آئے ہیں۔(تیسیر القرآن)
۔ اگر چہ تمام حروفِ مقطعات کی طرح"ص" کے مفہوم کا تعین بھی مشکل ہےلیکن ابنِ عباس اور ضحاک کا یہ قول بھی کچھ دل کو لگتا ہے کہ اس سے مراد"صادق فی قولہ یاصدق محمد"۔اردو میں بھی "میں اس پر صاد کرتاہوں" یعنی تصدیق کرتا ہوں۔(تفہیم القرآن)
۔ ذکر کا اصل مفہوم یاد دہانی کرنا ہے۔ قرآن سر تا سریا ددہانی ہے۔ اس وجہ سے اس کا نام بھی جگہ جگہ ذکر آیا ہے۔ ۔۔۔ اس کے اس نام اور اس صفت سے موسوم و موصوف ہونے کے کئی پہلو ہیں۔۔۔۔۔یہ ان تمام حقائق کی یاد دہانی کرتا ہے جو انسان کی فطرت کے اندر ودیعت ہیں لیکن انسان ان کو بھولا ہوا ہے۔ ۔۔۔اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے خلق کے لئے جو ہدایت نازل فرمائی اور جس کو لو گ بھلا بیٹھے تھے، یہ اس کی بھی یاد دہانی کرتا ہے۔ ۔۔۔رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو جس انجام سے دوچار ہونا پڑا، یہ ان سے بھی باخبر کرتا ہے۔ ۔۔۔اس دنیا کی زندگی کے بعد جس مرحلہ حساب و کتاب اور جزاء و سزا سے لوگوں کو سابقہ پیش آتا ہے۔ یہ اس کو بھی یاد دلاتا ہے۔۔۔ یہ سارے پہلو اس کی صفت ذی الذکر کے اندر موجود ہیں۔ آگے اسی سورة کی آیات 17-8، 49-46 اور 86 کے تحت ان کی وضاحت آرہی ہے۔(تدبرِ قرآن)
ــــ دوسرے مقطعات کی طرح اس حرف ص کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں، البتہ امام رازیؒ نے اپنی تفسیر میں متعدد اقوال نقل کردیے ہیں۔مثلاً: (1) ص مخفف ہے کسی اسم الٰہی کا، مثلاً صمد، یا صادق الوعد یا صانع المصنوعات۔(2) ص مخفف ہے اس فقرے کا کہ صدق محمد فی کل ما أخبربہ عن اللہ۔(3) ص مخفف ہے اس فقرے کا صدالکفار عن قبول ھذاالدین۔(کبیر،ج26/ص152) (تفسیر ماجدی)
8۔ با الفاظ دیگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ یہ لوگ دراصل تمہیں نہیں جھٹلا رہے ہیں بلکہ مجھے جھٹلا رہے ہیں۔ تمہاری صداقت پر تو پہلے کبھی انہوں نے شک نہیں کیا تھا۔ آج یہ شک جو کیا جا رہا ہے یہ دراصل میرے " ذکر " کی وجہ سے ہے۔ میں نے ان کو نصیحت کرنے کی خدمت جب تمہارے سپرد کی تو یہ اسی شخص کی صداقت میں شک کرنے لگے جس کی راستبازی کی پہلے قسمیں کھایا کرتے تھے۔ یہی مضمون سورة انعام آیت 33 میں بھی گزر چکا ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، ص534)۔ (تفہیم القرآن)
9۔کیا یہ اپنے آپ کو اللہ کی رحمت کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں:۔ اللہ کی رحمت کے خزانوں کے یہ تو مالک نہیں کہ جس کو چاہیں اسے رسالت کے منصب پر فائز کردیں۔اور جس سے چاہیں چھین لیں۔یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کا ہے جو ہر ایک کودے رہاہے اور جونسی نعمت جسے چاہتا ہے اسے ہی دیتا ہے۔ اس کے کاموں میں کسی کو مداخلت کی ہمت نہیں۔(تیسیر القرآن)
10۔ یہ کفار کے اس قول کا جواب ہے کہ " کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کردیا گیا۔ " اس پر اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ نبی ہم کس کو بنائیں اور کسے نہ بنائیں، اس کا فیصلہ کرنا ہمارا اپنا کام ہے۔ یہ لوگ آخر کب سے اس فیصلے کے مختار ہوگئے۔ اگر یہ اس کے مختار بننا چاہتے ہیں تو کائنات کی فرمانروائی کے منصب پر قبضہ کرنے کے لیے عرش پر پہنچنے کی کوشش کریں تاکہ جسے یہ اپنی رحمت کا مستحق سمجھیں اس پر وہ نازل نہ ہو۔ یہ مضمون متعدد مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہوا ہے، کیونکہ کفار قریش بار بار کہتے تھے کہ یہ محمد ﷺ کیسے نبی بن گئے، کیا خدا کو قریش کے بڑے بڑے سرداروں میں سے کوئی اس کام کے لیے نہ ملا تھا (ملاحظہ ہو سورة بنی اسرائیل، آیت 100۔ الزخرف، آیات 31۔ 32) (تفہیم القرآن)
12۔ میخوں والا فرعون:۔ اگر محاورۃً اس کے معنی لئے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ایک بڑی مضبوط سلطنت کا مالک تھا۔ تاہم اس کے لفظی معنی بھی لئے جاسکتے ہیں۔فرعون کا دستور یہ تھا کہ جس شخص کو سولی پر چڑھاناہوتاتو اسے تختے کے ساتھ کھڑا کرکے اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں چار میخیں ٹھونک دیا کرتا تھا اسی وجہ سے وہ ذی الاوتاد یعنی میخوں والا مشہور ہوگیا تھا۔مزید تشریح سورۂ فجر کی آیت نمبر 10 کے حاشیہ میں دیکھئے۔(تیسیر القرآن)
۔ كَذَّبَتْ قَوْمُ۔ اس پر بحث ہوئی ہے کہ قوم تو مذکر ہے،پھر اس کا فعل ضمیر مؤنث کے ساتھ کیوں؟جواب دودیے گئے ہیں: ایک یہ کہ لفظ قوم کا استعمال تذکیر و تانیث دونوں میں جائز ہے۔دوسرا یہ کہ لفظ ہے تو مذکر ہی ،مگر جب معنی قبیلے یا خاندان کے ہوں تو تانیث بھی جائز ہے۔(قرطبی ،ج15/ص: 154)۔۔۔۔۔پرانی قوموں میں تعذیب کی ایک صورت مجرم کو چومیخہ کردینے (یعنی لٹاکر ہاتھ پیروں میں میخ ٹھونک دینے)کی جاری تھی،اور روایات میں ملتاہے کہ فرعون کے دورمیں بھی یہ سزا جاری تھی۔(تفسیر ماجدی)
دوسرا رکوع |
| وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ ﴿15﴾ وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ ﴿16﴾ اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴿17﴾ اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ ﴿18﴾ وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴿19﴾ وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ ﴿20﴾ وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ ﴿21﴾ اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴿22﴾ اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ ﴿23﴾ قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ ۞ ﴿24﴾ فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ ﴿25﴾ یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ ۧ ۧ ﴿26ع ص 38﴾ |
| 15. اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا جس میں (شروع ہوئے پیچھے) کچھ وقفہ نہیں ہوگا، انتظار کرتے ہیں۔ 16. اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دے دے۔ 17. (اے پیغمبر) یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو صاحب قوت تھے (اور) بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے۔ 18. ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کردیا تھا کہ صبح وشام ان کے ساتھ (خدائے) پاک (کا) ذکر کرتے تھے۔ 19. اور پرندوں کو بھی کہ جمع رہتے تھے۔ سب ان کے فرمانبردار تھے۔ 20. اور ہم نے ان کی بادشاہی کو مستحکم کیا اور ان کو حکمت عطا کی اور (خصومت کی) بات کا فیصلہ (سکھایا)۔ 21. بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی بھی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں داخل ہوئے۔ 22. جس وقت وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ ہم دونوں کا ایک مقدمہ ہے کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ تو آپ ہم میں انصاف کا فیصلہ کر دیجیئے اور بےانصافی نہ کیجیئے گا اور ہم کو سیدھا رستہ دکھا دیجیئے۔ 23. (کیفیت یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اس کے (ہاں) ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے (پاس) ایک دُنبی ہے۔ یہ کہتا ہے کہ یہ بھی میرے حوالے کردے اور گفتگو میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے۔ 24. انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملالے بےشک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔ اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔ ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گر پڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا۔ 25. تو ہم نے ان کو بخش دیا۔ اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔ 26. اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تو لوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ خدا کے رستے سے بھٹکتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب (تیار) ہے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا۔ |
تفسیر آیات
16۔ یعنی اللہ کے عذاب کا حال تو ہے وہ جو ابھی بیان کیا گیا، اور ان نادانوں کا حال یہ ہے کہ یہ نبی سے مذاق کے طور پر کہتے ہیں کہ جس یوم الحساب سے تم ہمیں ڈراتے ہو اس کے آنے تک ہمارے معاملے کو نہ ٹالو بلکہ ہمارا حساب ابھی چکوا دو ، جو کچھ بھی ہمارے حصے کی شامت لکھی ہے وہ فوراً ہی آجائے۔ (تفہیم القرآن)
17۔ید اور ذوالاید کا لغوی مفہوم۔ ذَالْاَیْدِ کا لفظی معنی ہاتھوں والا ہے اور تقریباً ہر زبان میں ایسے لفظ بول کر قوت اورطاقت مراد لی جاتی ہے۔ صاحب قوت سے مراد جسمانی قوت بھی ہوسکتی ہے۔چنانچہ آپ سے متعلق منقول ہے کہ پچپن میں جب آپ بکریوں کا ریوڑ چرایا کرتے تھے تو جب کوئی درندہ ان پر حملہ آورہوتاآپ اس کے ایک جبڑے کو پکڑ کر دوسرے کو اس زور سے کھینچتے تھے کہ اسے چیر دیتے تھے پھر یہ بھی آپ کی جسمانی قوت ہی تھی کہ آپ نے میدانِ کارزار میں جالوت کو مار ڈالاتھا۔اور فوجی اور سیاسی قوت بھی مراد ہوسکتی ہے کہ آپ نے گردو پیش کی مشرک قوموں کو شکست دے کر ایک مضبوط اسلامی سلطنت قائم کردی تھی۔(تیسیر القرآن)
20۔وَاٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ (اور ہم نے ان کو حکمت اور فیصلہ کردینے والی تقریر عطا فرمائی) حکمت سے مراد تو دانائی ہے، یعنی ہم نے انہیں عقل وفہم کی دولت بخشی تھی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ نبوت مراد ہے۔ اور ”فصل الخطاب“ کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد زور بیان اور قوت خطابت ہے۔ چنانچہ حضرت داؤد ؑ اونچے درجے کے خطیب تھے، اور خطبوں میں حمد وصلوٰة کے بعد لفظ ”اما بعد“ سب سے پہلے انہوں نے ہی کہنا شروع کیا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے بہترین قوت فیصلہ مراد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو جھگڑے چکانے اور تنازعات کا فیصلہ کرنے کی قوت عطا فرمائی تھی۔ درحقیقت ان الفاظ میں بیک وقت دونوں معنیٰ کی پوری گنجائش ہے اور یہ دونوں باتیں ہی مراد ہیں۔ حضرت تھانوی نے جو اس کا ترجمہ فرمایا ہے اس میں بھی دونوں معنے سما سکتے ہیں۔ (معارف القرآن)
21۔حضرت داؤد کا ذکر جس غرض کے لیے اس مقام پر کیا گیا ہے اس سے مقصود دراصل یہی قصہ سنانا ہے جو یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ان کی جو صفات عالیہ بطور تمہید بیان کی گئی ہیں ان کا مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ داؤد ؑ ، جن کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا ہے، کس مرتبے کے انسان تھے۔ (تفہیم القرآن)
۔ حضرتِ داؤدؑ (i )عدل کے معاملہ میں انکے نزدیک امیر و غریب برابر(ii)رعایا کو ان پر پورا اعتماد(پہریداروں کو دھوکہ دیکر ،دیوار پھاند کر، آرام کے وقت اندر داخل،گفتگو کا غلط انداز) (iii)اپنا جائزہ ہروقت لیتے رہتے ۔ حضرت عمر ؓکا طریقہ۔۔۔۔۔ایک عظیم حکمران کے محل میں اس طرح جا گھسنا اگرچہ ایک نہایت سنگین اقدام تھا، جس کی سزا عام حالات میں نہایت سخت ہے، لیکن انہیں چونکہ حضرت داؤد ؑ کے حلم پر پورا بھروسہ تھا اس وجہ سے وہ یہ جسارت کر گزرے۔)تدبرقرآن(
ــــ محراب سے مراد آپ کی عبادت کا حجرہ ہے(عمارت کے سامنے والے حصے کو بھی ) اس کا ماخذ "حرب"ہے کیونکہ وہاں آپ اپنے نفس سے برسرپیکار رہتے تھے اس لئے اس کو محراب کہاگیاہے۔)ضیاء القرآن(
ــــ اس سورۃ کے تمام قصے مشکلات القرآن میں ہیں۔بے شمار اسرائیلیات اور ہمارے قصہ گو۔)بیان القرآن(
22۔ آپ ایک روز حکومت کے کاروبار سرانجام دیتے(مقدمات کا فیصلہ کرتے ) ایک دن اپنے گھر کے کام کرتے اور ایک دن صرف عبادت کرتے(چوبیس گھنٹوں میں کوئی لمحہ ایسانہ گزرتا جس میں گھر کا کوئی نہ کوئی فرد عبادت میں مشغول نہ ہوتا)۔(ضیاء القرآن)
ـــــ دیوار پھاند کر اندر آنے والے دو شخص اور مقدمہ کی نوعیت:۔ اکثر مفسرین کا یہ خیال ہے کہ یہ آدمی نہیں بلکہ فرشتے تھے جو انسانی شکل میں آئے اور انہیں اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤدؑ کے پاس تنبیہ کے طورپر بھیجا تھا۔ جیساکہ اگلے بیان سے واضح ہوتاہے۔انہوں نے آپؐ کی گبھراہٹ کو محسوس کرلیا تو کہنے لگے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ہم دونوں میں ایک جھگڑا ہے۔وہ سن کر آپ ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کردیجئے تاکہ کسی فریق پر زیادتی نہ ہونے پائے۔(تیسیر القرآن)
ــــ طبعی جذبات و کیفیات (غصہ، غم،خوف،اندیشہ وغیرہ)کے طاری ہونے کو جو لوگ مرتبۂ ولایت کے منافی سمجھتےہیں،وہ حضرات ِ انبیاء ؑ کے ان تاثراتِ طبعی کی مثالوں کو سامنے رکھ لیں۔قرآن مجید نے یہ ساری تفصیلات بلاضرورت اور بے مصلحت تھوڑے ہی بیان کردی ہیں!۔۔۔۔ الْمِحْرَاب۔محراب سے یہاں مراد آپؑ کا کوئی خاص کمرہ ہے۔۔۔۔۔خَصْمٰنِ کے صیغۂ تثنیہ سے یہ خیال نہ گزرے کہ تعداد میں یہ دوفرد تھے۔ یہ دوفریق تھے،اور آج بھی مستغیث اور ملزم دونوں کا یہ عام معمول ہے کہ اپنے ساتھ عزیزوں ،گواہوں اور ہمدردوں کو لے کر عدالت کرتے ہیں ،تَسَوَّرُوا،دَخَلُوْا،عنھُم سب کے صیغۂ جمع سے ظاہر ہورہاہے کہ وہ دو نہیں ،کئی آدمی تھے۔(تفسیر ماجدی)
24۔ یہاں کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ حضرت داؤد نے ایک ہی فریق کی بات سن کر اپنا فیصلہ کیسے دے دیا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب مدعی کی شکایت پر مدعا علیہ خاموش رہا اور اس کی تردید میں کچھ نہ بولا تو یہ خود ہی اس کے اقرار کا ہم معنی تھا۔ اس بنا پر حضرت داؤد نے یہ رائے قائم کی کہ واقعہ وہی کچھ ہے جو مدعی بیان کر رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)
ــــ خلطاء خلیط کی جمع ہے اور خلیط کا معنی جزوی شریک کارہے۔یعنی ایسی کاروباری شراکت جس میں شریک کام کاج کے کچھ پہلوؤں میں تو آپس میں شریک ہوں اور کچھ پہلوؤں میں آزاد ہوں۔ مثلاً زید اور بکر دونوں کے پاس الگ الگ ریوڑ ہے جو ان کی اپنی اپنی ملکیت ہے لیکن ان کی حفاظت کے لئے جگہ مشترکہ طورپر کرایہ پر لے رکھی ہے۔چرواہے کو مل کر معاوضہ اداکرتے ہیں۔تو ایسے شریک ایک دوسرے کے خلیط کہلاتے ہیں۔۔۔۔سیدنا داؤدؑ اور اسرائیلیات:۔ جب فریقین مقدمہ آپ کا یہ فیصلہ سنتے ہی رخصت ہوگئے اور انہوں نے اس فیصلہ کے نفاذ کا بھی مطالبہ نہ کیا تو سیدنا داؤدؑ شش و پنج میں پڑگئے۔سوچنے پر انہیں خیال آیا کہ یہ مقدمہ ان فریقین مقدمہ کانہ تھا۔بلکہ یہ ان کا اپنا مقدمہ تھا۔ اور یہ شخص آپ کے پاس تنبیہ کے طورپر آئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے خود سیدنا داؤدؑ کو ایک آزمائش میں ڈال دیا تھا۔اس خیال کے آتے ہی انہوں نے اپنے پروردگار سے معافی مانگنی شروع کردی ۔یہ آزمائش کیا تھی؟ اس کے متعلق اسرائیلیات میں بہت لغو اور شرمناک باتیں مذکور ہیں جنہیں ہمارے بعض مفسرین نے بھی نقل کردیا ہے کہ سیدنا داودؤؑ کی اپنی نناوے بیویاں تھیں۔اس کے باوجود آپ اپنے ایک فوجی افسر"اور یاحتی"کی بیوی پر عاشق ہوگئے اور بعض روایات کے مطابق آپ نے نعوذ باللہ اس سے زنا بھی کیا پھر اس فوجی افسر کو کسی مہم پر بھیج دیا جہاں وہ ماراگیا۔یا آپ نے خود اسے قتل کروادیا۔اس کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کرلیا۔اسرائیلیات میں جس طرح انبیاء کی عصمت کو داغدار کیا گیا ہے یہ اس کی ایک بدترین مثال ہے اسی لئے اکثر مفسرین نے اس واقعہ کی پرزور تردید کی ہے۔اور سیدنا علیؓ تو یہ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ایسی ہرزہ سرائی کرے گا میں اس کو ایک سو ساٹھ کوڑے لگاؤں گا۔کیونکہ قذف کی حد اسی کوڑے ہے اور کسی نبی پر تہمت کی حد دگنی ہونی چاہئے۔(تیسیر القرآن)
25۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت داؤد سے قصور ضرور ہوا تھا، اور وہ کوئی ایسا قصور تھا جو دنبیوں والے مقدمے سے کسی طرح کی مماثلت رکھتا تھا اسی لیے اس کا فیصلہ سناتے ہوئے معاً ان کو یہ خیال آیا کہ یہ میری آزمائش ہوئی ہے، لیکن اس قصور کی نوعیت ایسی شدید نہ تھی کہ اسے معاف نہ کیا جاتا، یا اگر معاف کیا بھی جاتا تو وہ اپنے مرتبہ بلند سے گرا دیے جاتے۔ اللہ تعالیٰ یہاں خود تصریح فرما رہا ہے کہ جب انہوں نے سجدے میں گر کر توبہ کی تو نہ صرف یہ کہ انہیں معاف کردیا گیا، بلکہ دنیا اور آخرت میں ان کو جو بلند مقام حاصل تھا اس میں بھی کوئی فرق نہ آیا۔ (تفہیم القرآن)
26۔ یہ وہ تنبیہ ہے جو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول کرنے اور بلندی درجات کی بشارت دینے کے ساتھ حضرت داؤد کو فرمائی۔ اس سے یہ بات خود بخود ظاہر ہوجاتی ہے کہ جو فعل ان سے صادر ہوا تھا اس کے اندر خواہش نفس کا کچھ دخل تھا، اس کا حاکمانہ اقتدار کے نامناسب استعمال سے بھی کوئی تعلق تھا، اور وہ ایسا فعل تھا جو حق کے ساتھ حکومت کرنے والے کسی فرمانروا کو زیب نہ دیتا تھا۔ (نوٹ: تفصیل کے لیے جلد چہارم صفحہ 327 سے صفحہ 331 تک پڑھا جائے) (تفہیم القرآن)
تیسرا رکوع |
| وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ ﴿27﴾ اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ ﴿28﴾ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ﴿29﴾ وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ ﴿30﴾ اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ ﴿31﴾ فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ ﴿32﴾ رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ ﴿33﴾ وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ ﴿34﴾ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ ﴿35﴾ فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ ﴿36﴾ وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ ﴿37﴾ وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ ﴿38﴾ هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ﴿39﴾ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ ۧ ۧ ﴿40ع ص 38﴾ |
| 27. اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات ان میں ہے اس کو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا۔ یہ ان کا گمان ہے جو کافر ہیں۔ سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے۔ 28. جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے۔ کیا ان کو ہم ان کی طرح کر دیں گے جو ملک میں فساد کرتے ہیں۔ یا پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کر دیں گے۔ 29. (یہ) کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں۔ 30. اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے۔ بہت خوب بندے (تھے اور) وہ (خدا کی طرف) رجوع کرنے والے تھے۔ 31. جب ان کے سامنے شام کو خاصے کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ 32. تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی۔ یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا۔ 33. (بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ۔ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ 34. اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا۔ 35. (اور) دعا کی کہ اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا کر کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بےشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔ 36. پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیرفرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی۔ 37. اَور دیووں کو بھی (ان کے زیرفرمان کیا) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے۔ 38. اور اَوروں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ 39. (ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو یا (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے) کچھ حساب نہیں ہے۔ 40. اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قُرب اور عمدہ مقام ہے۔ |
تفسیر آیات
27۔یعنی محض کھیل کے طور پر پیدا نہیں کردیا ہے کہ اس میں کوئی حکمت نہ ہو، کوئی غرض اور مقصد نہ ہو، کوئی عدل اور انصاف نہ ہو، اور کسی اچھے یا برے فعل کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو۔ یہ ارشاد پچھلی تقریر کا ماحصل بھی ہے اور آگے کے مضمون کی تمہید بھی۔ پچھلی تقریر کے بعد یہ فقرہ ارشاد فرمانے سے مقصود یہ حقیقت سامعین سے ذہن نشین کرانا ہے کہ انسان یہاں شتر بےمہار کی طرح نہیں چھوڑ دیا گیا ہے، نہ یہ دنیا اندھیر نگری ہے کہ یہاں جس کا جو کچھ جی چاہے کرتا رہے اور اس پر کوئی باز پرس نہ ہو۔(تفہیم القرآن)
32۔سیدنا سلیمانؑ کے ہاں پیش کئے جانے والے گھوڑے:۔ تورات میں واحد مؤنث کی ضمیر کس طرف راجع ہے؟اس میں اختلاف کی وجہ سے اس آیت کی تفسیر میں بھی خاصا اختلاف واقع ہواہے۔"توارت بالحجاب"سے بعض مفسرین نے یہ مراد لی ہے کہ جب گھوڑوں کا رسالہ نظروں سے چھپ گیا۔اور بعض نے یہ مراد لی ہے کہ جب سورج غروب ہوگیا۔پہلے معنی کے لحاظ سے تفسیر یہ کی جاتی ہے کہ ایک دن پچھلے پہر سیدنا سلیمانؑ اپنے گھوڑوں کا معائنہ کررہے تھے پھر ان کی دوڑ کرائی تاآنکہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے چونکہ یہ سارا سلسلہ جہاد کی خاطر تھا اس لئے آپ اس شغل سے بہت محظوظ ہوئے اور کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد کی وجہ سے ہی یہ شغل پسند کیا ہے۔ پھر گھوڑے اپنے پاس طلب کئے اور شفقت سے ان کی گردنوں اور ان کی پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔دوسرے معنیٰ کے لحاظ سے تفسیر یہ ہے کہ آپؑ گھوڑوں کے شغل میں اتنے محو ہوئے کہ سورج ڈوب گیا اور اس شغل نے آپؑ کو اللہ کی یاد یعنی نماز سے غافل کردیا۔ اس واقعہ سے آپؑ کو بہت دکھ ہوا۔آپؑ نے گھوڑوں کو طلب کیا اور ان کی گردنیں اور پنڈلیاں کاٹنا شروع کردیں اور چند گھوڑے کاٹ کر ان کا گوشت محتاجوں میں تقسیم کردیا۔ چونکہ آپؑ نے یہ کام اللہ کی محبت کی خاطر کیا تھا اس لئے اللہ نے آپؑ کو یہ صلہ دیا کہ ہواؤں کو آپؑ کے تابع کردیا اور آپؑ کو گھوڑوں کے رسالے کی اتنی احتیاج ہی نہ رہی جتنی پہلے تھی۔(تیسیر القرآن)
33۔ مسح کے ایک معنی بے شک قطع کرنے کے بھی آئے ہیں، لیکن یہ اس صورت میں جب کہ مسح بالسیف وارد ہو،ورنہ مسح کے عام معنی تو ہاتھ پھیرنے یا ہاتھ سے تھپتھپانے ہی کے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
34۔ اس آیت کے تحت بعض مفسرین نے درج ذیل حدیث درج کی ہے:۔ سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ سیدنا سلیمان ؑ نے کہا کہ میں آج رات اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ان سے ہر ایک ،ایک سوار جنے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ آپ کے کسی ساتھی نے کہا ان شاء اللہ کہو مگر انہوں نے یہ بات نہ کہی تو ان میں سے کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی ماسوائے ایک کے اور وہ بھی ادھورا بچہ جنی۔اس پروردگار کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو سب کے ہاں بچے پیدا ہوتے اور سوار ہوکر اللہ کی راہ میں جہادکرتے"(بخاری۔کتاب الایمان والنذور۔باب کیف کانت یمین النبی)۔۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
ــــ اسلامی روایتوں میں(جو نہ روایۃً ہی اعلیٰ درجہ کی ہیں اور نہ عقلاً آسانی سے قابل قبول)آتاہے کہ حضرت سلیمانؑ کے محل میں 70 کی تعداد میں حرم تھے۔ اولاد کی خواہش خصوصاً غزا وجہاد کے اغراض سے دل میں پیدا ہونی قدرتی تھی۔ایک روز آپ کے دل میں آیا کہ ایک شب میں اگر کل حرم حمل سے رہ جائیں ، تو سوکڑیل جوان غزاو جہاد کے لیے ہاتھ آسکتے ہیں،ارادےپر عمل فرمایا،لیکن نتیجہ حسب مراد نہ نکلا صرف ایک خاتون کے حمل رہااور ان سے بھی اولا ناقص الخلقت پیدا ہوئی۔(70 یا 100 بیویوں سے ایک ہی شب باش ہونا کیسے آسانی سے قابل قبول ہے؟)جس کا جسم لاکر کرسی پر ڈال دیا گیا۔(تفسیر ماجدی)
وَهَبْ لِیْ مُلْكًا۔اپنے لیے ملک و سلطنت تک کی تمنا کرنا، جب کہ غرض صحیح کے ساتھ ہو،مرتبۂ پیمبری کے بھی منافی نہیں،چہ جائے کہ مرتبۂ ولایت و مقبولیت عامہ کے۔(تفسیر ماجدی)
35۔ تاریخوں سے معلوم ہوتاہے کہ ایک مرتبہ دشمنوں نے یورش کرکے حضرت سلیمانؑ کی سلطنت کے بیشتر علاقے چھین لیے اور ان کی حکومت سمٹ سمٹا کر مرکز تک محدود رہ گئی۔حالات نے ان کو اس قدر بے بس اور غمزدہ بنادیا کہ وہ اپنے تخت حکومت پر ایک جسد بے جان ہوکر رہ گئے۔اس پر ان کو احساس ہواکہ یہ ان کی غلطی پر ان کی پکڑہوئی ہے تو انہوں نے توبہ کی ۔ان کی دعا بے مثال عظمت و شوکت کی طلب میں نہیں، بلکہ یہ دعاہے کہ اگرچہ میں اپنے گناہ کے سبب سے حکومت کا اہل نہیں رہ گیا ہوں تاہم تو اپنے فضل خاص سے مجھے ایسی بادشاہی عطافرماجس کا سزاوار نہ میں ہوں نہ میرے بعد کوئی اور ہوگا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ سلسلہ کلام کے لحاظ سے اس جگہ اصل مقصد یہی واقعہ بیان کرنا ہے اور پچھلی آیات اسی کے لیے بطور تمہید ارشاد ہوئی ہیں۔ جس طرح پہلے حضرت داؤد کی تعریف کی گئی، پھر اس واقعہ کا ذکر کیا گیا جس میں وہ مبتلائے فتنہ ہوگئے تھے، پھر بتایا گیا کہ اللہ جل شانہ نے اپنے ایسے محبوب بندے کو بھی محاسبہ کیے بغیر نہ چھوڑا، پھر ان کی یہ شان دکھائی گئی کہ فتنے پر متنبہ ہوتے ہی وہ تائب ہوگئے اور اللہ کے آگے جھک کر انہوں نے اپنے اس فعل سے رجوع کرلیا، اسی طرح یہاں بھی ترتیب کلام یہ ہے کہ پہلے حضرت سلیمان ؑ کے مرتبہ بلند اور شان بندگی کا ذکر کیا گیا ہے، پھر بتایا گیا ہے کہ ان کو بھی آزمائش میں ڈالا گیا پھر ان کی یہ شان بندگی دکھائی گئی ہے کہ جب ان کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا گیا تو وہ فوراً ہی اپنی لغزش پر متنبہ ہوگئے اور اپنے رب سے معافی مانگ کر انہوں نے اپنی اس بات سے رجوع کرلیا جس کی وجہ سے وہ فتنے میں پڑے تھے۔۔۔۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ یہ مقام قرآن مجید کے مشکل ترین مقامات میں سے ہے اور حتمی طور پر اس کی کوئی تفسیر بیان کرنے کے لیے ہمیں کوئی یقینی بنیاد نہیں ملتی۔ لیکن حضرت سلیمان کی دعا کے یہ الفاظ کہ " اے میرے رب، مجھے معاف کر دے اور مجھ کو وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو "، اگر تاریخ بنی اسرائیل کی روشنی میں پڑھے جائیں تو بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے دل میں غالباً یہ خواہش تھی کہ ان کے بعد ان کا بیٹا جانشین ہو اور حکومت و فرمانروائی آئندہ انہی کی نسل میں باقی رہے۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں "فتنہ " قرار دیا اور اس پر وہ اس وقت متنبہ ہوئے جب ان کا ولی عہد رَجُبعام ایک ایسا نالائق نوجوان بن کر اٹھا جس کے لچھن صاف بتا رہے تھے کہ وہ داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کی سلطنت چار دن بھی نہ سنبھال سکے گا۔ ان کی کرسی پر ایک جَسَد لا کر ڈالے جانے کا مطلب غالباً یہی ہے کہ جس بیٹے کو وہ اپنی کرسی پر بٹھانا چاہتے تھے وہ ایک کندہ ناتراش تھا۔ تب انہوں نے اپنی اس خواہش سے رجوع کیا، اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر درخواست کی کہ بس یہ بادشاہی مجھی پر ختم ہوجائے، میں اپنے بعد اپنی نسل میں بادشاہی جاری رہنے کی تمنا سے باز آیا۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اپنے بعد کسی کے لیے بھی جانشینی کی نہ وصیت کی اور نہ کسی کی اطاعت کے لیے لوگوں کو پابند کیا۔ بعد میں ان کے اعیان سلطنت نے رجبعام کو تخت پر بٹھایا، مگر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ بنی اسرائیل کے دس قبیلے شمالی فلسطین کا علاقہ لے کر الگ ہوگئے اور صرف یہوداہ کا قبیلہ بیت المقدس کے تخت سے وابستہ رہ گیا۔ (تفہیم القرآن)
39۔ یہ اس اختیار کی تعبیر ہے جو ہر مالک کو اس کی ملکیت اور ہربادشاہ کو اس کی مملکت میں حاصل رہتاہے ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ چاہو تو لوگوں پر خرچ کرو،چاہوتو مارِ گنج بن کر بیٹھے رہو، تم سے کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے کسی مالک کو اس طرح کی کھلی چھٹی نہیں دی۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
چوتھا رکوع |
| وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ ﴿41﴾ اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ ﴿42﴾ وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ ﴿43﴾ وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴿44﴾ وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ ﴿45﴾ اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ ﴿46﴾ وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ ﴿47﴾ وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ ﴿48﴾ هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ ﴿49﴾ جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ ﴿50﴾ مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ ﴿51﴾ وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ ﴿52﴾ هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ ﴿53﴾ اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚ ۖ ﴿54﴾ هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ ﴿55﴾ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ ﴿56﴾ هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ ﴿57﴾ وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ ﴿58﴾ هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ ﴿59﴾ قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ ﴿60﴾ قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ ﴿61﴾ وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ ﴿62﴾ اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ ﴿63﴾ اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ ۧ ۧ ﴿64ع ص 38﴾ |
| 41. اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہٰا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے۔ 42. (ہم نے کہا کہ زمین پر) لات مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں)۔ 43. اور ہم نے ان کو اہل و عیال اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے۔ (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی۔ 44. اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔ بےشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا۔ بہت خوب بندے تھے بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے۔ 45. اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے۔ 46. ہم نے ان کو ایک (صفت) خاص (آخرت کے) گھر کی یاد سے ممتاز کیا تھا۔ 47. اور ہمارے نزدیک منتخب اور نیک لوگوں میں سے تھے۔ 48. اور اسمٰعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کرو۔ وہ سب نیک لوگوں میں سے تھے۔ 49. یہ نصیحت ہے اور پرہیزگاروں کے لئے تو عمدہ مقام ہے۔ 50. ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے۔ 51. ان میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور (کھانے پینے کے لئے) بہت سے میوے اور شراب منگواتے رہیں گے۔ 52. اور ان کے پاس نیچی نگاہ رکھنے والی (اور) ہم عمر (عورتیں) ہوں گی۔ 53. یہ وہ چیزیں ہیں جن کا حساب کے دن کے لئے تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ 54. یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ 55. یہ (نعمتیں تو فرمانبرداروں کے لئے ہیں) اور سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے۔ 56. (یعنی) دوزخ۔ جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بری آرام گاہ ہے۔ 57. یہ کھولتا ہوا گرم پانی اور پیپ (ہے) اب اس کے مزے چکھیں۔ 58. اور اسی طرح کے اور بہت سے (عذاب ہوں گے)۔ 59. یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہوگی۔ ان کو خوشی نہ ہو یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔ 60. کہیں گے بلکہ تم ہی کو خوشی نہ ہو۔ تم ہی تو یہ (بلا) ہمارے سامنے لائے سو (یہ) برا ٹھکانا ہے۔ 61. وہ کہیں گے اے پروردگار جو اس کو ہمارے سامنے لایا ہے اس کو دوزخ میں دونا عذاب دے۔ 62. اور کہیں گے کیا سبب ہے کہ (یہاں) ہم ان شخصوں کو نہیں دیکھتے جن کو بروں میں شمار کرتے تھے۔ 63. کیا ہم نے ان سے ٹھٹھا کیا ہے یا (ہماری) آنکھیں ان (کی طرف) سے پھر گئی ہیں؟ 64. بےشک یہ اہل دوزخ کا جھگڑنا برحق ہے۔ |
تفسیر آیات
41۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شیطان نے مجھے بیماری میں مبتلا کردیا ہے اور میرے اوپر مصائب نازل کردیے ہیں، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ بیماری کی شدت، مال و دولت کے ضیاع، اور اعزہ و اقربا کے منہ موڑ لینے سے میں جس تکلیف اور عذاب میں مبتلا ہوں اس سے بڑھ کر تکلیف اور عذاب میرے لیے یہ ہے کہ شیطان اپنے وسوسوں سے مجھے تنگ کر رہا ہے، وہ ان حالات میں مجھے اپنے رب سے مایوس کرنے کی کوشش کرتا ہے، مجھے اپنے رب کا ناشکرا بنانا چاہتا ہے، اور اس بات کے درپے ہے کہ میں دامن صبر ہاتھ سے چھوڑ بیٹھوں۔ حضرت ایوب کی فریاد کا یہ مطلب ہمارے نزدیک دو وجوہ سے قابل ترجیح ہے، ایک یہ کہ قرآن مجید کی رو سے اللہ تعالیٰ نے شیطان کو صرف وسوسہ اندازی ہی کی طاقت عطا فرمائی ہے، یہ اختیارات اس کو نہیں دیے ہیں کہ اللہ کی بندگی کرنے والوں کو بیماری ڈال دے اور انہیں جسمانی اذیتیں دے کر بندگی کی راہ سے ہٹنے پر مجبور کرے۔ دوسرے یہ کہ سورة انبیاء میں جہاں حضرت ایوب علیہ السلام اپنی بیماری کی شکایت اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں وہاں شیطان کا کوئی ذکر نہیں کرتے بلکہ صرف یہ عرض کرتے ہیں کہ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ ، " مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے۔ "(تفہیم القرآن)
44۔"بہت سے لوگوں نے اسے احکام میں حیلہ پیدا کرنے کی اصل و مدار ٹھہرالی ہے،حالانکہ ہر ایسا حیلہ ناجائز ہے جس سے حکم شرعی کا ابطال ہوتاہو،مثلاً حیلہ سقوط زکوٰۃ و حیلہ سقوط استبراء وغیرہا۔"۔۔۔۔فَاضْرِبْ بِّهٖ۔ فقہاء نے یہاں سے یہ استدلال کیا ہے کہ شوہر بہ غرض تادیب بیوی کو سزائے جسمانی دے سکتاہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ مفسرین نے عام طور پر یہ سمجھا ہے کہ قسم انہوں نے اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنے کی کھائی تھی لیکن قرآن میں اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے اور قرینہ بھی اس کے خلاف ہے اس لئے کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور ابتلاء میں صرف ان کی بیوی ہی کی اکیلی ذات تھی جس نے رات دن حضرت ایوب کی خدمت کی۔ ایسی وفا دار بیوی پر یہ عتاب بعید از عقل ہے۔ (تدبرِقرآن)
47۔یعنی منتخب مقبولانِ حق کی صف میں بھی افضل و اعلیٰ۔۔۔علماء نے یہیں سے یہ نکالاہے کہ انبیاء بہترین خلق اللہ ہیں۔ابراہیمؑ،اسحٰقؑ،یعقوبؑ، سب پر حاشیے پیشتر گزرچکے ،حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ ساتھ حضرت اسحٰق و یعقوب کا ذکر انتہائی مدح کے موقع پر ایک اسمٰعیلی نبی کی زبان سے اداکرانا بجائے خود ایک دلیل آنحضرتؐ کی صداقت کی ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ یعنی ان کو قوت اور بصیرت دونوں نعمتوں سے اللہ تعالیٰ نے نوازا تھا۔ اگر قوت کے ساتھ بصیرت نہ ہو تو آدمی ایک نہایت خطرناک جانور بن جاتا ہے۔ (تدبرِ قرآن)
48۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ سب ہی بہترین لوگ تھے۔قرآن نے ان انبیاء کا اور بھی بہت سے مقامات پر ذکر فرمایا ہے اور ہرمقام پرقرآن انبیاء کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتاہے ۔جبکہ بائیبل نے بہت سے اولو العزم انبیاءپر اتہام لگائے اور ان کی کردار کشی کی ہے۔جن انبیاء پر بائیبل میں اتہام لگائے گئے ہیں وہ یہ ہیں:سیدنا نوحؑ،سیدنا لوطؑ،سیدنا یعقوبؑ،سیدنا ہارونؑ ،سیدنا داؤدؑ،سیدنا سلیمانؑ اور سیدنا عیسیٰؑ۔( تفصیل کے لئے دیکھئے سورہ انعام کی آیت نمبر 86 پر حاشیہ نمبر 86 الف)(تیسیر القرآن)
50۔ اصل الفاظ ہیں مُفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ۔ اس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان جنتوں میں وہ بےروک ٹوک پھریں گے، کہیں ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ دوسرے یہ کہ جنت کے دروازے کھولنے کے لیے کسی کوشش کی حاجت نہ ہوگی بلکہ وہ مجرد ان کی خواہش پر خود بخود کھل جائیں گے۔ تیسرے یہ کہ جنت کے انتظام پر جو فرشتے مقرر ہوں گے وہ اہل جنت کو دیکھتے ہی ان کے لیے دروازے کھول دیں گے۔ یہ تیسرا مضمون قرآن مجید میں ایک اور مقام پر زیادہ صاف الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے حَتّیٰ اِذَا جَآءُوْھَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُھَا وَقَالَ لَھُمْ خَزَنَتُھَا سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْھَا خٰلِدِیْنَ۔ " یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جاچکے ہوں گے تو جنت کے منتظمین ان سے کہیں گے کہ سلام علیکم، خوش آمدید، ہمیشہ کے لیے اس میں داخل ہو جایئے "۔ (الزمر 73) (تفہیم القرآن)
57۔غساق کا لغوی مفہوم:۔ غَسَّاقٌ کا معنی عموماً پیپ یا بہتی پیپ کرلیا جاتاہے جس میں خون کی بھی آمیزش ہوجبکہ صاحب منجد ،فقہ اللغہ اور منتہی الارب سب نے اس کے معنی انتہائی ٹھنڈا اور بدبودار پانی بتائے ہیں۔قرآن میں دومقامات پر غساق کا لفظ حمیم کے مقابلہ میں استعمال ہواہے ایک اس مقام پر اور دوسرے سورہ نبا کی آیت نمبر 25 میں جس سے معلوم ہوتاہے کہ اس کے معنی شدید ٹھنڈااور بدبودار پانی ہی کرنا زیادہ مناسب ہے۔ (تیسیر القرآن)
60۔(اورتمہیں نے تو ہم کو بہکایا )یہ مقلدین اور عوام اپنے سردار وں سے کہیں گے، تقریباً انہی کے الفاظ کو الٹ کر۔غرض یہ کہ جہنم میں باہم دگر ملامت و شماتت کا سلسلہ جاری رہے گا۔(تفسیر ماجدی)
پانچواں رکوع |
| قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ ﴿65﴾ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ ﴿66﴾ قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ ﴿67﴾ اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ ﴿68﴾ مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ ﴿69﴾ اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ﴿70﴾ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ ﴿71﴾ فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ ﴿72﴾ فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ ﴿73﴾ اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ ﴿74﴾ قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ ﴿75﴾ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ ﴿76﴾ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚ ۖ ﴿77﴾ وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ ﴿78﴾ قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ﴿79﴾ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ ﴿80﴾ اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ﴿81﴾ قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ ﴿82﴾ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ﴿83﴾ قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ ﴿84﴾ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ ﴿85﴾ قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ ﴿86﴾ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ﴿87﴾ وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ ۧ ۧ ﴿88ع ص 38﴾ |
| 65. کہہ دو کہ میں تو صرف ہدایت کرنے والا ہوں۔ اور خدائے یکتا اور غالب کے سوا کوئی معبود نہیں۔ 66. جو آسمانوں اور زمین اور جو مخلوق ان میں ہے سب کا مالک ہے غالب (اور) بخشنے والا۔ 67. کہہ دو کہ یہ ایک بڑی (ہولناک چیز کی) خبر ہے۔ 68. جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے۔ 69. مجھ کو اوپر کی مجلس (والوں) کا جب وہ جھگڑتے تھے کچھ بھی علم نہ تھا۔ 70. میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں۔ 71. جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔ 72. جب اس کو درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا۔ 73. تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔ 74. مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں ہوگیا۔ 75. خدا نے) فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اس کے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا۔ کیا تو غرور میں آگیا یا اونچے درجے والوں میں تھا؟ 76. بولا کہ میں اس سے بہتر ہوں (کہ) تو نے مجھ کو کو آگ سے پیدا کیا اور اِسے مٹی سے بنایا۔ 77. فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے۔ 78. اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت (پڑتی) رہے گی۔ 79. کہنے لگا کہ میرے پروردگار مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔ 80. فرمایا کہ تجھ کو مہلت دی جاتی ہے۔ 81. اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے۔ 82. کہنے لگا کہ مجھے تیری عزت کی قسم میں ان سب کو بہکاتا رہوں گا۔ 83. سوا ان کے جو تیرے خالص بندے ہیں۔ 84. فرمایا سچ (ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں۔ 85. کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ 86. اے پیغمبر کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں۔ 87. یہ قرآن تو اہل عالم کے لئے نصیحت ہے۔ 88. اور تم کو اس کا حال ایک وقت کے بعد معلوم ہوجائے گا۔ |
تفسیر آیات
65۔اب کلام کا رخ پھر اسی مضمون کی طرف پھر رہا ہے جس سے تقریر کا آغاز ہوا تھا۔ اس حصے کو پڑھتے ہوئے پہلے رکوع سے مقابلہ کرتے جائیے، تاکہ بات پوری سمجھ میں آسکے۔۔۔۔کہو میرا کام بس تمہیں خبردار کردینا ہے۔ یعنی میں کوئی فوجدار نہیں ہوں کہ زبردستی تمہیں غلط راستے سے ہٹا کر سیدھے راستے کی طرف کھینچوں۔ (تفہیم القرآن)
۔الْقَهَّارُ۔وہی سب پر حاکم و غالب ،اس پر کوئی بھی حاکم و متصرف نہیں۔القھار کے معنی اردو کے"قہر"پر قیاس کرکے غضب ناک اور غصہ ورکے نہ سمجھے جائیں۔القاھر کے معنی فقط غالب و بالادست کے ہیں۔ھو القاھر فوق عبادہ۔۔۔۔القاھر ھو الغالب جمیع الخلائق،قھار للمبالغۃ۔(نھایۃ۔ض۔4/ص:113) (تفسیر ماجدی)
66۔ وہ اپنے ہرارادے پر قادرہے، ہر ایک کی مغفرت پر۔کوئی قید،کوئی شرط نہ اس کی قوت و قدرت پر عائد ہوتی ہے،نہ اس کی صفت غفاری پر۔یہ رد ہے ان گمراہ قوموں کا جنہوں نے خداکی قدرت و قوت کو محدود سمجھاہے،اور یہ عقیدہ پھیلایا ہے کہ وہ کرم (مکافات)کے قاعدے کے آگے خود مجبور ہے،کسی کو اپنی طرف سے معاف کرہی نہیں سکتا،اور یا یہ کہ بغیر عوض و کفار ہ کے وہ مغفرت سے معذور ہے۔(تفسیر ماجدی)
68۔عالمِ بالا میں فرشتوں کی بحثیں:۔ عالم بالا سے مراد فرشتوں کا مستقر ہے۔ان میں بھی کبھی کبھار کوئی بحث چھڑ جاتی ہے۔انہیں میں سے ایک بحث وہ ہے جو سیدنا آدمؑ کی پیدائش کے وقت ہوئی تھی اور جس کا ذکر آگے آرہاہے ۔اوررسول اللہؐ سے یہ خطاب ہے۔کہ آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ عالم بالا میں جو کچھ بحثیں وغیرہ ہوتی ہیں۔مجھے ان کا قطعاً کچھ علم نہیں ہوتا صرف اسی بات کا علم ہوتاہے جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔ اور میں چونکہ لوگوں کو ان کے انجام سے خبردار کرنے والا ہوں لہذا مجھے صرف انہی بحثوں کے متعلق وحی کی جاتی ہے جن کا تعلق انسانوں کی ہدایت سے ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)
71۔ یہ جھگڑے کی تفصیل ہے جس کی طرف اوپر کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور جھگڑے سے مراد شیطان کا خدا سے جھگڑا ہے جیسا کہ آگے کے بیان سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ " ملاء اعلیٰ " سے مراد فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطان کا مکالمہ دو بدو نہیں بلکہ کسی فرشتے ہی کے توسط سے ہوا ہے۔ اس لیے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بھی ملاء اعلیٰ میں شامل تھا۔۔۔۔بَشَر کے لغوی معنی ہیں جسم کثیف جس کی ظاہری سطح کسی دوسری چیز سے ڈھکی ہوئی نہ ہو۔ انسان کی تخلیق کے بعد تو یہ لفظ انسان ہی کے لیے استعمال ہونے لگا ہے۔ لیکن تخلیق سے پہلے اس کا ذکر لفظ بشر سے کرنے اور اس کو مٹی سے بنانے کا صاف مطلب یہ ہے کہ " میں مٹی کا ایک پتلا بنانے والا ہوں جو بال و پر سے عاری ہوگا۔ یعنی جس کی جلد دوسرے حیوانات کی طرح اون، یا صوف یا بالوں اور پروں سے ڈھکی ہوئی نہ ہوگی۔ (تفہیم القرآن)
72۔ امام رازیؒ نے لکھا ہے کہ من روحی میں اللہ نے روح کو اپنی جانب نسبت دے کر اس امر کو ظاہر کردیا ہے کہ روح ایک جوہر شریف و معظم ہے۔۔۔۔امام رازیؒ نے یہ بھی لکھا ہے کہ آیت سے معلوم ہوتاہے کہ خلقت انسانی کی تکمیل دوامور پر موقوف ہے:پہلے تسویۂ جسد اور پھر نفخ روح پر۔ (کبیر،ج26/ص198) (تفسیر ماجدی)
74۔فرشتوں کو سیدنا آدم کو سجدہ کا حکم:۔ اللہ تعالیٰ کے آدمؑ کو مٹی سے بنانے،اس میں اپنی روح پھونکنے ،فرشتوں کو آدمؑ کو سجدہ کا حکم دینے ابلیس کی حقیقت اور اس کے آدمؑ کو سجدہ سے انکار کرنے کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزرچکی ہے۔مثلاً سورہ بقرہ کا چوتھا رکوع،سورہ حجر کی آیات 25 تا 43 ،سورہ اعراف آیات 11 تا 15 ،سورہ بنی اسرائیل آیات 61 تا 65،سورہ کہف آیت نمبر 50، سورہ طٰہٰ آیات نمبر 116 تا 123 میں گزرچکی ہے۔اور نظریہ ارتقاء کی تردید کے لئے سورہ حجر کا حاشیہ نمبر 19 ملاحظہ فرمائیے۔(تیسیر القرآن)
75۔ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پاؤں:۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی صراحت سے فرمایا کہ آدم کے پتلے کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔اس سے کائنات کی تمام اشیاء پر آدمؑ اور بنی آدم کا شرف اور فضیلت ثابت ہوئی۔ دوسرے اس سے ڈارون کے نظریہ ارتقاء کا رد ہوا۔تیسرے ان لوگوں کا جو اللہ کے ہاتھ، آنکھیں اور پاؤں وغیرہ ہونے کے یکسر منکر ہیں۔ان کی بنائے استدلال یہ ہے کہ اللہ کی ذات ہرجگہ موجود ہے تو اس کے ہاتھ پاؤں کیسے ہوسکتے ہیں لامحالہ ایسی آیات اور ایسے الفاظ کی تاویل کرنا ضروری ہے۔جس کا جواب یہ ہے کہ اللہ اپنی صفات علم اور قدرت وغیرہ کے لحاظ سے ہر جگہ موجود ہے لیکن اس کی ذات عرش پر ہے۔پھر جب اللہ تعالیٰ خود اپنے ہاتھ، پاؤں اور آنکھوں کا صراحت سے ذکر کرتاہے تو دوسرا کون اس سے بڑھ کر اس کی تنزیہہ کرسکتاہے۔خواہ اس نے اپنے ہاتھ، پاؤں وغیرہ کا ذکر ہمارے سمجھانے کے لئے کیا ہو تاہم کیا تو ہے۔رہی یہ بات کہ اس کے ہاتھ ،آنکھیں اور پاؤں کیسے ہیں۔تو یہ بات ہم سمجھنے کے نہ مکلف ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں ہماری عافیت بس اس میں ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ فرمائے اسے جوں کا توں تسلیم کرلیں۔(تیسیر القرآن)
ــــ امام رازیؒ نے لکھا ہے کہ جب کوئی سلطان اعظم کسی عمل کو اپنے دوست خاص کی جانب منسوب کرتاہے تو اس سے اس کی مراد عنایت خاص ہوتی ہے۔(کبیر، ج26/202) (تفسیر ماجدی)
۔یہ الفاظ تخلیق انسانی کے شرف پر دلالت کرنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ بادشاہ کا اپنے خدام سے کوئی کام کرانا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ ایک معمولی کام تھا جو خدام سے کرا لیا گیا۔ بخلاف اس کے بادشاہ کا کسی کام کو بنفس نفیس انجام دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایک افضل و اشرف کام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جسے میں نے خود بلا واسطہ بنایا ہے اس کے آگے جھکنے سے تجھے کس چیز نے روکا ؟ " دونوں ہاتھوں " کے لفظ سے غالباً اس امر کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس نئی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی شان تخلیق کے دو اہم پہلو پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اسے جسم حیوانی عطا کیا گیا جس کی بنا پر وہ حیوانات کی جنس میں سے ایک نوع ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کے اندر وہ روح ڈال دی گئی جس کی بنا پر وہ اپنی صفات میں تمام ارضی مخلوقات سے اشرف و افضل ہوگیا۔(تفہیم القرآن)
76۔ ابلیس احمق اتنا نہ سمجھا کہ اول تو مٹی پر آگ کی ہر جہتی افضلیت و اشرفیت ہی مسلم نہیں، اور بالفرض ہوبھی تو کیا کسی مصلحت سے افضل کو غیر افضل اور اشرف کو غیر اشرف کے آگے نہیں جھکایا جاسکتا؟۔۔۔۔ایک مفسر نے اسی حقیقت سے یہ نکتہ خوب پیدا کیا ہے کہ ابلیس جب اتناکج فہم ہے تو انسان کو اس سے ڈرنا ہی کیا،بجز اس کے کہ انسان اپنی قوتِ ارادی سے کام نہ لے کر خود ہی اپنے کو نورعقل سے محروم کردے!۔ (تفسیر ماجدی)
88۔ مفسر تھانویؒ نے لکھا ہے کہ اس سورت میں قرآن مجید کی مدح تین جگہ آئی ،اور تینوں جگہ اس کو ذکر سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔شروع میں ذی الذکر سے، درمیان میں لیتذکر سے اور آخر میں سب سے بڑھ کر مصرّح اور مفصل ذکر للعالمین سے۔(تھانوی،ج2/ص:412)۔۔۔۔۔ ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۔اتنے ذرا سے ٹکڑے میں صاف اشارہ دوچیزوں کی طرف آگیا:۔ایک یہ کہ قرآن اصلاً ایک نصیحت نامہ ہے،لائحہ عمل ہے، دستورِحیات ہے۔ اسے دنیوی علوم و فنون کی کسی پُرتکلف ، پُرتصنع کتاب پر قیاس نہ کرنا۔دوسرے یہ کہ یہ دنیا جہاں کے اور قیام قیامت کے لیے ہے ،اسے کسی محدود ملک و قوم کے لیے ،اور کسی مخصوص زمانے کے لیے نہ سمجھو۔۔۔۔۔ بَعْدَ حِیْنٍ۔مرتے ہی انکشاف حقیقت ہونا ہی ہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ یعنی جو تم میں سے زندہ رہیں گے وہ چند سال کے اندر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ جو بات میں کہہ رہا ہوں وہ پوری ہو کر رہی۔ اور جو مر جائیں گے ان کو موت کے دروازے سے گزرتے ہی پتہ چل جائے گا کہ حقیقت وہی کچھ ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔ (تفہیم القرآن)