39 - سورة الزمر (مکیہ)
| رکوع - 8 | آیات - 75 |
مضمون:۔ قرآن کی دعوتِ توحید ان لوگوں کو متاثر کرتی ہے جن کی فطرت کا نور زندہ ہے۔ شرک و شفاعت کے عقیدوں نے جن لوگوں کی آنکھوں پر پردے ڈال رکھے ہیں۔ ان کی آنکھیں قیامت کے روز کھلیں گی۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون:خالص اور مکمل توحید اختیار کرو،چاہے اس کےلئے ہجرت ہی کیوں نہ کرنی پڑے ۔
نام: آیت 71 اور 73 میں زمر کا لفظ آیا ہے جس کا لفظی معنی ہے گروہ درگروہ ۔ دوزخیوں کو گروہ درگروہ جہنم میں پھینکے جانے اور جنتیوں کو گروہ درگروہ جنت کی طرف لیجانے اور ان کے استقبال کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔یہی اس کے نام کی وجہ ہے۔
شانِ نزول:سورۂ کہف کے بعد ہجرت حبشہ (رجب5 سن ِ نبوی ) سے پہلے،5 سنِ نبوی کے اوائل میں نازل ہوئی جب مسلمان ہلکے ظلم و ستم کا شکار تھے ۔حضورؐ سونے سے پہلے بنی اسرائیل اور سورۂ زمر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔(ترمذی) اس کی آیت:10 میں وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ کہہ کرہجرت کا اشارہ کیا گیا۔
نظمِ کلام: سورۂ سبا
ترتیبِ مطالعہ و خلاصہ:(i)ر۔1/2(اللہ کی یاد اور عبادت میں اخلاص)(ii)ر۔3(جس کا سینہ اسلام کےلئے کھول دیا گیا وہ اپنے رب کے نورپر ہے)(iii)ر۔4(اللہ اپنے بندوں کیلئے کافی ہے) (iv)ر۔5(تارکین اخلاص کو شفاعت نصیب نہ ہوگی(v)ر۔6(اللہ توبہ قبول کرنے والاہے۔اصل اخلاص کی نجات کا اعلان) (vi)ر۔ /8 7(قیام ِ قیامت کے احوال اور جنتیوں اور دوزخیوں کے احوال)۔
۔۔۔۔۔۔(ر۔1/2 کی آٹھ آیات۔ 8 تا 15 ،میں سات دفعہ لفظ "قل" آیاہے)
اہم کلیدی مضامین:۔سورۃ الزمر کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں باربار "خالص"کا لفظ استعمال کیا گیاہے اور خالص عبادت کی دعوت دی گئی۔(a) لوگوں کو خبردار کیا گیا کہ اللہ کے لئے ملاوٹ اور آمیزش سے پاک خالص عبادت اور اطاعت ہی زیبا ہے۔"اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ"(آیت:3)(b)رسول اللہؐ کی زبان سے کہلوایا گیا کہ مجھے بھی آمیزش اور ملاوٹ سے پاک خالص عبادت اور اطاعت کا حکم دیا گیا ہے"قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَ"۔(آیت نمبر 11)(c)قرآن سراسر حق ہے،اس لیے اللہ کی غلامی اور اطاعت بھی خالص ہونی چاہیے۔"اِنَّا اَنْزَلْنَا اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَ"(آیت نمبر 2)۔(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
پہلا رکوع |
| بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ ﴿1﴾ اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ ﴿2﴾ اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ ﴿3﴾ لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ﴿4﴾ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ ﴿5﴾ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ ﴿6﴾ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴿7﴾ وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ﴿8﴾ اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ ۧ ۧ ﴿9ع الزمر 39﴾ |
| 1. اس کتاب کا اُتارا جانا خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے ہے۔ 2. (اے پیغمبر) ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو خدا کی عبادت کرو (یعنی) اس کی عبادت کو (شرک سے) خالص کرکے۔ 3. دیکھو خالص عبادت خدا ہی کے لئے (زیبا ہے) اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں۔ تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں خدا ان میں ان کا فیصلہ کردے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکرا ہے ہدایت نہیں دیتا۔ 4. اگر خدا کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا۔ وہ پاک ہے وہی تو خدا یکتا (اور) غالب ہے۔ 5. اسی نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ (اور) وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو بس میں کر رکھا ہے۔ سب ایک وقت مقرر تک چلتے رہیں گے۔ دیکھو وہی غالب (اور) بخشنے والا ہے۔ 6. اسی نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لئے چار پایوں میں سے آٹھ جوڑے بنائے۔ وہی تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں (پہلے) ایک طرح پھر دوسری طرح تین اندھیروں میں بناتا ہے۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو؟ 7. اگر ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بےپروا ہے۔ اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لئے پسند کرے گا۔ اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے رہے وہ تم کو بتائے گا۔ وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے۔ 8. اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور) اس کی طرف دل سے رجوع کرتا ہے۔ پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا ہے اور خدا کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کرے۔ کہہ دو کہ (اے کافر نعمت) اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھالے۔ پھر تُو تو دوزخیوں میں ہوگا۔ 9. (بھلا مشرک اچھا ہے) یا وہ جو رات کے وقتوں میں زمین پر پیشانی رکھ کر اور کھڑے ہو کر عبادت کرتا اور آخرت سے ڈرتا اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے۔ کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں۔ |
تفسیر آیات
2۔ حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ میں کوئی صدقہ خیرات کرتا ہوں جس میں نیت اللہ کی رضا بھی ہو اور یہ بھی کہ لوگ میری تعریف کریں۔حضورؐ نے فرمایا کہ اللہ کوئی ایسی چیز قبول نہیں فرماتے جس میں کسی کو شریک ٹھہرایا گیا ہواور یہ آیت بھی پڑھی۔(معارف القرآن)
- یہ بالکل بے تکی بات ہے کہ عبادت کا حقدار کوئی ہو،اطاعت کا حقدار کوئی اور بن جائے۔جس طرح عبادت کا خالص ہونا لازمی ہے اسی طرح اطاعت بھی بے آمیز ہونی چاہئے۔
یاراں عجب انداز دورنگی دارند مصحف بہ بغل دین فرنگی دارند(تدبرقرآن)
- عبادت کا مادہ عبدہے۔۔۔ایک پوجا اور پرستش۔۔۔۔صرف اللہ تعالیٰ کی پُوجا اور پرستش ہی کا نہیں ہے بلکہ اس کے احکام کی بے چون و چرا اطاعت اور اس کے قانون ِ شرعی کی برضا و رغبت پیروی ،اور اُس کے امر و نہی کی دل و جان سے فرمانبرداری کا بھی ہے۔دین کا لفظ عربی میں متعدد مفہومات کا حامل ہے:۔۔۔ایک مفہوم ہے غلبہ و اقتدار، مالکانہ اور حاکمانہ تصرُف،سیاست و فرمانروائی اور دوسروں پر فیصلہ نافذ کرنا۔۔۔۔دوسرا مفہوم ہے اطاعت، فرمانبرداری اور غلامی۔۔۔۔تیسرا مفہوم ہے وہ عادت اور طریقہ جس کی انسان پیروی کرے۔۔۔۔اور دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اس کی بندگی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ"آدمی اللہ کی بندگی کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی میں شامل نہ رہے،بلکہ اسی کی پرستش،اسی کی ہدایت کا اتباع اور اسی کے احکام و اوامر کی اطاعت کرے۔"(تفہیم القرآن)
ـــ اَنْزَلْنَا۔ابھی ابھی قرآن مجید کے لیے تنزیل آچکاہے،جس کے مفہوم میں تدریج داخل ہے اور اب صیغۂ انزال آگیا۔جس سے بظاہر دفعۃً نزول معلوم ہوتاہے۔امام رازیؒ نے از خود یہ سوال پیدا کرکے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ جہاں انزال آیا ہے وہاں مراد یہ ہے کہ آپؐ پر کتاب نازل کرنے کا حکم ایک کلی صورت میں ہوگیا،اور جہاں تنزیل ہے وہاں مراد یہ ہے کہ واقعۃً و عملاً کتاب کا نزول تدریج ہی کے ساتھ ہواہے۔ (کبیر،ج26/ص:208)(تفسیر ماجدی)
3۔ مشرکین مکہ کا عقیدہ کہ جیسے شاہی مقرب کسی سے خوش ہوں تو وہ بادشاہ کے پاس ان کی سفارش کردیتے ہیں ۔ان کا کام کروادیتے ہیں یا بادشاہ کا مقرب بنوادیتے ہیں اسی طرح فرشتے ،جنات یا ان کے بت ان کے اس دنیا کے کاموں کیلئے بھی سفارش اور آخرت کیلئے بھی سفارش ۔سفارش کا اصول: وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ۔(النجم:26) (معارف القرآن)
ــــ اللہ تعالیٰ کوئی عمل بھی قبول نہیں کرتا جب تک وہ خالص اُسی کے لیے نہ ہو"۔اس کے بعد حضورؐ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔(تفہیم القرآن)
ــــ دین کا لفظ چارمعنوں میں آتاہے۔ (1)اللہ تعالیٰ کی مکمل سیاسی اور قانونی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔(2)دوسرا معنی اس کے بالکل برعکس ہے یعنی اپنے آپ کو ہمہ وقتی اللہ کا غلام سمجھا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے،(3)قانون جزا وسزا(4)اور اس قانون جزاوسزا کے مطابق اچھے اور برے لوگوں کو بدلہ دینا۔ آیت نمبر 2 اور 3 میں دین کا لفظ اپنے پہلے دونوں معنوں میں استعمال ہواہے۔(تیسیر القرآن)
4۔ انسان کو اولاد کی ضرورت اور خواہش جن جن اغراض سے بھی ہوتی ہے ،حق تعالیٰ ان سب سے پاک و برترہے۔(تفسیر ماجدی)
6۔تین تاریکیوں سے مراد پیٹ، رحم اور بچے کے غلاف کے تہ بہ تہ تاریکیاں ہیں۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
۔ مویشی سے مراد ہیں اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری۔ ان کے چار نر اور چار مادہ مل کر آٹھ نر و مادہ ہوتے ہیں۔۔۔۔ تین پردوں سے مراد ہے پیٹ، رحم اور مَشِیْمَہ (وہ جھلی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے)۔۔۔۔۔۔ یہ الفاظ قابل غور ہیں۔ یہ نہیں فرمایا کہ تم کدھر پھرے جا رہے ہو۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ تم کدھر سے پھرائے جا رہے ہو۔ (تفہیم القرآن)
7۔تکویر کا ترجمہ افسوس ہے کہ اردو مترجمین قرآن نے"لپیٹنے سے کردیاہے،حالانکہ تکویر کا جو مفہوم عربی میں ہے،وہ محض یا مطلق "لپیٹنے "سے ادانہیں ہوتا،بلکہ گھما کر لپیٹنے ،یا گھمانے اور اس کے ایک حصہ کو دوسرے سے ملانے سے اداہوتاہے ،جیسے عمامہ پیچ دے کر لپیٹا جاتاہے،اور اسی کو عربی میں"کوّرالعمامۃ"کہتے ہیں ۔(راغب،ص:494)(تفسیر ماجدی)
۔کفر کے مقابلے میں یہاں ایمان کے بجائے شکر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے خود بخود یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ کفر در حقیقت احسان فراموشی و نمک حرامی ہے، اور ایمان فی الحقیقت شکر گزاری کا لازمی تقاضا ہے۔ (تفہیم القرآن)
8۔ یعنی خود گمراہ ہونے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دوسروں کو بھی یہ کہہ کہہ کر گمراہ کرتا ہے کہ جو آفت مجھ پر آئی تھی وہ فلان حضرت یا فلاں دیوی یا دیوتا کے صدقے میں ٹل گئی۔ (تفہیم القرآن)
9۔ قنُوت کا اصل مفہوم اللہ تعالیٰ کیلئے تواضع ،عاجزی اور نیاز مندی ہے ۔یہ ایک قلبی حالت ہے جس کا بہترین اظہارنماز بالخصوص شب کی نمازوں سے ہوتاہے۔ امام شافعی۔(تدبرقرآن)
ـــ بند ےکا اپنے رب سے تعلق اسی وقت تک متوازن رہتاہے جب تک وہ خوف اور رجا کے بین بین رہے ۔اگر ان میں سے کسی ایک کا بھی زیادہ غلبہ ہو جائے تو توازن بگڑ جاتا ہے۔ رجائیت غالب آ جائے تو انسان عدل سے بے پروا ۔خوف غالب آجائے تو مایوسی اور قنوطیت راہ پاتی ہے ۔ (تدبرقرآن)
دوسرا رکوع |
| قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ﴿10﴾ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ ﴿11﴾ وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ ﴿12﴾ قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ﴿13﴾ قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ ﴿14﴾ فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ﴿15﴾ لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ ﴿16﴾ وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ ﴿17﴾ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ ﴿18﴾ اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ ﴿19﴾ لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ ﴿20﴾ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ ۧ ۧ ﴿21ع الزمر 39﴾ |
| 10. کہہ دو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے پروردگار سے ڈرو۔ جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے۔ اور خدا کی زمین کشادہ ہے۔ جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بےشمار ثواب ملے گا۔ 11. کہہ دو کہ مجھ سے ارشاد ہوا ہے کہ خدا کی عبادت کو خالص کرکے اس کی بندگی کروں۔ 12. اور یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ میں سب سے اول مسلمان بنوں۔ 13. کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کا حکم نہ مانوں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے۔ 14. کہہ دو کہ میں اپنے دین کو (شرک سے) خالص کرکے اس کی عبادت کرتا ہوں۔ 15. تو تم اس کے سوا جس کی چاہو پرستش کرو۔ کہہ دو کہ نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈالا۔ دیکھو یہی صریح نقصان ہے۔ 16. ان کے اوپر تو آگ کے سائبان ہوں گے اور نیچے (اس کے) فرش ہوں گے۔ یہ وہ (عذاب) ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ تو اے میرے بندو مجھ سے ڈرتے رہو۔ 17. اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور خدا کی طرف رجوع کیا ان کے لئے بشارت ہے۔ تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو۔ 18. جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں۔ 19. بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا۔ تو کیا تم (ایسے) دوزخی کو مخلصی دے سکو گے؟ 20. لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں۔ (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ (یہ) خدا کا وعدہ ہے۔ خدا وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ 21. کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اُگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو (کہ) زرد (ہوگئی ہے) پھر اسے چورا چورا کر دیتا ہے۔ بےشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے۔ |
تفسیر آیات
12۔ مسلمانوں کو بشارت دینے کے بعد یہ مخالفوں سے بے نیازی اور بے تعلقی کا اعلان کہ اب ان کی زیادہ ناز برداری کی ضرورت نہیں بلکہ ان کو فرمادیجئے کہ مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی اور اطاعت کروں اور سب سے پہلا اسلام لانے والا بنوں ۔تم جو چاہو کرتے پھرو۔ (تدبرقرآن)
15۔ دیوالہ عرف عام میں اس چیز کو کہتے ہیں کہ کاروبار میں آدمی کا لگایا ہوا سارا سرمایہ ڈوب جائے اور بازار میں اس پر دوسروں کے مطالبے اتنے چڑھ جائیں کہ اپنا سب کچھ دے کر بھی وہ ان سے عہدہ برآ نہ ہو سکے۔ یہی استعارہ کفار و مشرکین کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں استعمال کیا ہے۔ انسان کو زندگی، عمر، عقل، جسم، قوتیں اور قابلیتیں، ذرائع اور مواقع، جتنی چیزیں بھی دنیا میں حاصل ہیں، ان سب کا مجموعہ دراصل وہ سرمایہ ہے جسے وہ حیات دنیا کے کاروبار میں لگاتا ہے۔ یہ سارا سرمایہ اگر کسی شخص نے اس مفروضے پر لگا دیا کہ کوئی خدا نہیں ہے۔ یا بہت سے خدا ہیں جن کا میں بندہ ہوں، اور کسی کو مجھے حساب نہیں دینا ہے، یا محاسبے کے وقت کوئی دوسرا مجھے آ کر بچالے گا، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے گھاٹے کا سودا کیا اور اپنا سب کچھ ڈبو دیا۔ (تفہیم القرآن)
16۔ جن صوفیاء نے شاعری کا لباس پہن کر خوف دوزخ پر مضحکہ کیا ہے،کاش وہ اس قسم کی ساری آیات قرآنی کو پیش نظر رکھتے!۔ یعنی آج تو زمین سورج کی روشنی سے منور ہوتی ہے مگر میدانِ محشر کے لئے جو زمین تیار کی جائے گی۔وہ براہ راست اپنے پروردگار کے نور سے جگ مگ جگمگ کررہی ہوگی۔(تفسیر ماجدی)
17۔ طاغوت کا مفہوم:۔ طاغوت کا معنی عموماً بت یا شیطان کرلیا جاتاہے۔ان الفاظ سے اس لفظ کا پورا مفہوم ادانہیں ہوتا۔طاغوت سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ کے مقابلہ میں اطاعت یا عبادت کی جاتی ہو یا وہ خود اللہ کے مقابلہ میں اپنی اطاعت یا عبادت لوگوں سے کروانا پسند کرتاہو،گویا طاغوت سے مراد دنیا دار چودھری اور حکمران بھی ہوسکتے ہیں کوئی ادارہ یا پارلیمنٹ بھی ہوسکتی ہے۔بت، شیطان اور جن بھی ہوسکتے ہیں اور ایسے پیر فقیر بھی ہوسکتے ہیں جو اللہ کے مقابلہ میں اپنی اطاعت کروانا پسند فرماتے ہیں اور شریعت پر طریقت کو ترجیح دیتے ہیں۔(تیسیر القرآن)
18۔ اور بہت سے حضرات مفسرین نے اس جگہ قول سے مراد عام لوگوں کے اقوال لئے ہیں جن میں توحید و شرک، کفر و اسلام، حق و باطل پھر حق میں حسن اور احسن اور راجح و مرجوح سب داخل ہیں۔ مطلب آیت کا اس تفسیر پر یہ ہے کہ یہ لوگ باتیں تو سب کی سنتے ہیں۔ کفار کی بھی مومنین کی بھی۔ حق بھی، باطل بھی، اچھی بھی اور بری بھی لیکن اتباع صرف اسی بات کا کرتے ہیں جو احسن ہے۔ (معارف القرآن)
21۔ السَّمَآء۔سابق کے حاشیوں میں کئی بار یہ امر صاف کیا جاچکاہے کہ السمآء کی وسعت مفہوم کا کوئی لفظ اردو میں موجود نہیں۔ بارش کے سلسلے میں جہاں جہاں یہ لفظ قرآن میں آیا ہے، بے تکلف معنی بادل کے لیے جاسکتے ہیں۔سمآء عربی میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں ،جو انسان کے اوپر واقع ہو، یہاں تک کہ مکان کی چھت بھی۔(تفسیر ماجدی)
تیسرا رکوع |
| اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ﴿22﴾ اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ ﴿23﴾ اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ ﴿24﴾ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ ﴿25﴾ فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ﴿26﴾ وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ ﴿27﴾ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ ﴿28﴾ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿29﴾ اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ ﴿30﴾ ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿31ع الزمر 39﴾ |
| 22. بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو (تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوسکتا ہے) پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں۔ اور یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔ 23. خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں)۔ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں۔ یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ 24. بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہو (کیا وہ ویسا ہوسکتا ہے جو چین میں ہو) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے تھے اس کے مزے چکھو۔ 25. جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی تکذیب کی تھی تو ان پر عذاب ایسی جگہ سے آگیا کہ ان کو خبر ہی نہ تھی۔ 26. پھر ان کو خدا نے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیا۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔ کاش یہ سمجھ رکھتے۔ 27. اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ 28. یہ) قرآن عربی (ہے) جس میں کوئی عیب (اور اختلاف) نہیں تاکہ وہ ڈر مانیں۔ 29. خدا ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی (آدمی) شریک ہیں۔ (مختلف المزاج اور) بدخو اور ایک آدمی خاص ایک شخص کا (غلام) ہے۔ بھلا دونوں کی حالت برابر ہے۔ (نہیں) الحمدلله بلکہ یہ اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 30. (اے پیغمبر) تم بھی مر جاؤ گے اور یہ بھی مر جائیں گے۔ 31. پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کے سامنے جھگڑو گے (اور جھگڑا فیصل کردیا جائے گا)۔ |
تفسیر آیات
22۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ہم نے شرح صدر کا مفہوم پوچھا تو حضورؐ نے فرمایا کہ جب نور ایمان انسان کے قلب میں داخل ہوتاہے تو اس کا قلب وسیع ہوجاتاہے۔(معارف القرآن)
- شرحِ صدر کے مقابلے میں انسانی قلب کی دوہی کیفیتیں ہوسکتیں ہیں۔ایک ضیقِ صدر (سینہ تنگ ہوجانے اور دل بھچ جانے )کی کیفیت جس میں کچھ نہ کچھ گنجائش اس بات کی رہ جاتی ہے کہ حق اُس میں نفوذ کرجائے اور دوسری قساوتِ قلب( دل کے پتھر ہوجانے) کی کیفیت ۔جس میں حق کیلئے نفوذ یا سرایت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔(تفہیم القرآن)
ــــ یعنی وہ کتاب اللہ پر عمل کرنے لگتے ہیں، اور اعمال قلب و اعمال جوارح میں خشوع و انقیاد کے ساتھ مشغول ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔بہت سے صوفیہ ایسے ہیں جن پر شاعروں کاکلام سن کر وجد طاری ہوجاتاہے،اور قرآن مجید کی آیتوں سے نہیں ہوتا۔(تفسیر ماجدی)
23۔ (i) مُتَشَابِه اور مَثَانِی کا مطلب یہ لیا ہے کہ بعض آیات میں ایک ہی طرح کے مضمون کا سلسلہ دور تک چلاگیا ہے وہ متشابہ ہوئیں اور بعض جگہ ایک نوعیت کے مضمون کے ساتھ دوسرے جملے میں اس کے مقابل کی نوعیت کا مضمون بیان کیا جاتاہے(مثانی یعنی دہرائی ہوئی)(تفسیر عثمانی)
- (ii) اس میں ایسی ہمہ گیروحدت ہے کہ آپ جہاں سے بھی دیکھیں گے قرآن کا اصلی جمال آپ کی نگاہ کے سامنے آجائیگا(مختلف زاویوں سے مشاہدہ)۔(تدبر قرآن)
اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ کے مقبول بندوں کا یہ حال ذکر کیا گیا تھا کہ (آیت) َ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ، اس آیت میں بتلا دیا کہ پورا قرآن ہی احسن الحدیث ہے۔ حدیث کے لفظی معنی اس کلام یا قصے کے ہیں جو بیان کیا جاتا ہے۔ قرآن کو احسن الحدیث فرمانے کا حاصل یہ ہے کہ انسان جو کچھ کہتا بولتا ہے اس سب میں احسن الکلام قرآن ہے۔ آگے قرآن کی چند صفات ذکر فرمائی ہیں۔ ایک کتاباً متشابہاً۔ متشابہ سے مراد اس جگہ متماثل ہے۔ یعنی مضامین قرآنیہ ایک دوسرے سے مربوط اور مماثل ہیں کہ ایک آیت کی تشریح و تصدیق دوسری آیت سے ہوجاتی ہے۔ اس کلام میں تضاد وتعارض کا نام نہیں ہے۔ دوسری صفت مثانی ہے جو مثنیٰ کی جمع ہے جس کے معنی مکرر کے ہیں۔ مطلب یہ کہ قرآن کریم میں ایک مضمون کو ذہن نشین کرنے کے لئے بار بار دہرایا جاتا ہے تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ (آیت) تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۔ یعنی اللہ کی عظمت سے متاثر ہو کر ڈرنے والوں کا قرآن پڑھ کر خشیت وہیبت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ان کے بدن پر بال کھڑے ہوجاتے ہیں۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ (آیت) ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ۔ یعنی تلاوت قرآن کا اثر کبھی عذاب کی وعید سن کر یہ ہوتا ہے کہ بدن کے بال کھڑے ہوجاتے ہیں اور کبھی رحمت و مغفرت کی آیات سن کر یہ حال ہوتا ہے کہ بدن اور قلب سب اللہ کی یاد میں نرم ہوجاتے ہیں۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر فرماتی ہیں کہ صحابہ کرام کا عام حال یہی تھا کہ جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے اور بدن پر بال کھڑے ہوجاتے۔ (قرطبی) (معارف القرآن)
ــــ تورات کی ترتیب اس سے بالکل مختلف ہے۔اس میں آدمی ہرسورہ سے نئے مضامین پاتااور پچھلی سورتوں سے بالکل بے تعلق ہوجاتاہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔۔قرآن سننے پر حال پڑنا محض ریاکاری ہے:۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر ؓ نے اپنی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکرؓ سے پوچھا کہ جب قرآن پڑھاجاتاتو رسول اللہؐ کے صحابہ کا کیا حال ہوتاتھا۔وہ کہنے لگیں کہ"ان کی آنکھوں میں آنسو آجاتے اور بدن پر رونگٹےکھڑے ہوجاتے "عبداللہ بن زبیر ؓ کہنے لگے کہ "ہمارے زمانہ میں تو بعض لوگ ایسے ہیں کہ قرآن سننے سے ان کو غش آجاتاہے"سیدہ اسماء نے کہا اللہ کی پناہ شیطان مردود سے" اور جلدوں اور دلوں کے نرم پڑنے کا اثر یہ ہوتاہے کہ وہ بڑی خوش دلی اور رغبت کے ساتھ اللہ کی عبادت بجالاتےہیں۔یہ تو صحابہ کرام اور ان لوگوں کی صفات ہیں جو فی الواقع قرآن کی تاثیر قبول کرتے ہیں۔ پھر کچھ لوگوں نے تصنع سے ایسے طریقے ایجاد کرلئے کہ قران سننے سے غش آجائے اور وہ گرپڑیں جسے ہماری زبان میں حال پڑنا یا حال کھیلنا کہتے ہیں۔ریاکار اور مصنوعی پیر قسم کے لوگ عام لوگوں پر اپنی بزرگی کی دھاک بٹھانے کے لئے ایسے کام کرتے ہیں۔چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ عراق کے ایک ایسے شخص پرسے گزرے جو مدہوش گراہوا تھا۔انہوں نے پوچھا: اسے کیا ہوا؟لوگوں نے کہا :"جب یہ قرآن سنتاہے تو اس کا یہی حال ہوجاتاہے"سیدنا عبداللہ کہنے لگے:"ہم بھی اللہ سے ڈرتے ہیں مگر گرتے نہیں اور ایسے لوگوں کے پیٹ میں شیطان ہوتاہے۔رسول اللہؐ کے اصحاب کا یہ طریقہ نہ تھا اور ابن سیرین سے کسی نے پوچھا :"کچھ لوگ قرآن سن کر گرجاتے ہیں۔ انہوں نےکہا :ایسے لوگوں کو ایک چھت پر ا س طرح بٹھا ؤ کہ وہ نیچے کی طرف دیوار کے ساتھ پاؤں لٹکائے ہوئے ہوں پھر انہیں قرآن سناؤ۔اگر وہ نیچےگر پڑیں تب وہ سچے ہیں ورنہ وہ جھوٹے اور ریاکار ہیں۔(تیسیر القرآن)
24۔ یعنی آخرت کے دن مستکبرین کے پاس کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہوگی جسکو وہ عذاب سے بچنے کے لیے سپر بناسکیں۔اس وجہ سے وہ اپنے چہرے اس کے آگے کرنے پر مجبور ہوں گے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
۔ کسی ضرب کو آدمی اپنے منہ پر اس وقت لیتا ہے جبکہ وہ بالکل عاجز و بےبس ہو۔ ورنہ جب تک وہ مدافعت پر کچھ بھی قادر ہوتا ہے وہ اپنے جسم کے ہر حصے پر چوٹ کھاتا رہتا ہے مگر منہ پر مار نہیں پڑنے دیتا۔ اس لیے یہاں اس شخص کی انتہائی بےبسی کی تصویر یہ کہہ کر کھینچ دی گئی ہے کہ وہ سخت مار اپنے منہ پر لے گا۔ (تفہیم القرآن)
28۔ معتقدوں کا نہیں، بلکہ منکروں کا بیان ہے کہ "قرآن دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے"۔(انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا،مقالہ"قرآن"طبع یازدہم)(تفسیر ماجدی)
29۔۔۔۔یہاں الحمد للہ کی معنویت سمجھنے کے لیے یہ نقشہ ذہن میں لایئے کہ اوپر کا سوال لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے بعد مقرر نے سکوت کیا، تاکہ اگر مخالفین توحید کے پاس اس کا کوئی جواب ہو تو دیں۔ پھر جب ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا اور کسی طرف سے یہ آواز نہ آئی کہ دونوں برابر ہیں، تو مقرر نے کہا الحمد للہ۔ یعنی خدا کا شکر ہے کہ تم خود بھی اپنے دلوں میں ان دونوں حالتوں کا فرق محسوس کرتے ہو اور تم میں سے کوئی بھی یہ کہنے کی جرأت نہیں رکھتا کہ ایک آقا کی بندگی سے بہت سے آقاؤں کی بندگی بہتر ہے یا دونوں یکساں ہیں۔۔۔۔۔۔ توحید کا مسلک اختیار کرنے کی دو شکلیں۔۔۔۔(i) انفرادی حیثیت میں خدائے واحد کا بندہ بن کر رہنے کا فیصلہ (زمانہ بتونہ سازد تو بزمانہ ستیز)(ii)پورا معاشرہ اس توحید کی بنیاد پر قائم ہوجائے (نہ ہو تو اس کے قیام کی کوشش)۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
30۔ اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ۔ لفظ میت بتشدید الیاء اس کو کہتے ہیں جو زمانہ مستقبل میں مرنے والا ہو اور میت بسکون الیاء اس کو کہتے ہیں جو مر چکا ہو۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ آپ بھی مرنے والے ہیں اور آپ کے دشمن اور احباب بھی سب مرنے والے ہیں۔ مقصد اس کے بیان کرنے سے سب کو فکر آخرت کی طرف متوجہ کرنا اور عمل آخرت میں لگنے کی ترغیب دینا ہے۔ اور ضمناً یہ بھی بتلا دینا ہے کہ افضل الخلائق اور سید الرسل ہونے کے باوجود موت سے رسول اللہ ﷺ بھی مستثنیٰ نہیں۔ تاکہ آپ کی وفات کے بعد ان لوگوں میں اس پر اختلاف پیدا نہ ہو۔ (از قرطبی) (معارف القرآن)
31۔ اور طبرانی نے ایک معتبر سند کے ساتھ حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے جو مقدمہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوگا وہ مرد اور اس کی بیوی کا ہوگا اور بخدا کہ وہاں زبان نہیں بولے گی۔ بلکہ عورت کے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ اپنے شوہر پر کیا کیا عیب لگایا کرتی تھی اور اسی طرح مرد کے ہاتھ پاؤں اس پر گواہی دیں گے کہ وہ کس طرح اپنی بیوی کو تکلیف و ایذا پہنچایا کرتا تھا۔ اس کے بعد ہر آدمی کے سامنے اس کے نوکر چاکر لائے جائیں گے ان کی شکایات کا فیصلہ کیا جائے گا۔ پھر عام بازار کے لوگ جن سے اس کے معاملات رہے تھے وہ پیش ہوں گے اگر اس نے ان میں سے کسی پر ظلم کیا ہے تو اس کا حق دلوایا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔تفسیر مظہری میں مذکورہ سب روایات حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مظلوموں کے حقوق میں ظالم کے اعمال دے دینے کا جو ذکر آیا ہے، اس سے مراد ایمان کے علاوہ دوسرے اعمال ہیں، کیونکہ جتنے مظالم ہیں وہ سب عملی گناہ ہیں، کفر نہیں ہیں اور عملی گناہوں کی سزا محدود ہوگی بخلاف ایمان کے کہ وہ ایک غیر محدود عمل ہے۔ اس کی جزا بھی غیر محدود یعنی ہمیشہ جنت میں رہنا ہے اگرچہ وہ گناہوں کی سزا بھگتنے اور کچھ عرصہ جہنم میں رہنے کے بعد ہو۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب ظالم کے اعمال صالحہ علاوہ ایمان کے سب مظلوموں کو دے کر ختم ہوجائیں گے۔ صرف ایمان رہ جائے گا تو ایمان اس سے سلب نہیں کیا جائے گا بلکہ مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال کر حقوق کی ادائیگی کی جائے گی، جس کے نتیجہ میں یہ گناہوں کا عذاب بھگتنے کے بعد پھر بالآخر جنت میں داخل ہوگا اور پھر یہ حال اس کا دائمی ہوگا۔ صاحب تفسیر مظہری نے فرمایا کہ امام بیہقی نے بھی ایسا ہی فرمایا ہے۔ (معارف القرآن)
چوتھا رکوع |
| پارہ:24 چوتھا رکوع: فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ ﴿32﴾ وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ ﴿33﴾ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ ﴿34﴾ لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿35﴾ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ ﴿36﴾ وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ ﴿37﴾ وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ ﴿38﴾ قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ ﴿39﴾ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ ﴿40﴾ اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ ۧ ۧ ﴿41ع الزمر 39﴾ |
| 32. تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بولے اور سچی بات جب اس کے پاس پہنچ جائے تو اسے جھٹلائے۔ کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں ہے؟ 33. اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں۔ 34. وہ جو چاہیں گے ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس (موجود) ہے۔ نیکوکاروں کا یہی بدلہ ہے۔ 35. تاکہ خدا ان سے برائیوں کو جو انہوں نے کیں دور کردے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے ان کو بدلہ دے۔ 36. کیا خدا اپنے بندوں کو کافی نہیں۔ اور یہ تم کو ان لوگوں سے جو اس کے سوا ہیں (یعنی غیر خدا سے) ڈراتے ہیں۔ اور جس کو خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ 37. اور جس کو خدا ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا خدا غالب (اور) بدلہ لینے والا نہیں ہے؟ 38. اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو کہہ دیں کہ خدا نے۔ کہو کہ بھلا دیکھو تو جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو۔ اگر خدا مجھ کو کوئی تکلیف پہنچانی چاہے تو کیا وہ اس تکلیف کو دور کرسکتے ہیں یا اگر مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو وہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ کہہ دو کہ مجھے خدا ہی کافی ہے۔ بھروسہ رکھنے والے اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ 39. کہہ دو کہ اے قوم تم اپنی جگہ عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا۔ 40. کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا۔ اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ 41. ہم نے تم پر کتاب لوگوں (کی ہدایت) کے لئے سچائی کے ساتھ نازل کی ہے۔ تو جو شخص ہدایت پاتا ہے تو اپنے (بھلے کے) لئے اور جو گمراہ ہوتا ہے گمراہی سے تو اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اور (اے پیغمبر) تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو۔ |
تفسیر آیات
32۔ بعض اکابر نے کہا ہے کہ آیت اپنے عمومی لفظ سے ان لوگوں کو بھی شامل ہے، جو دعوئے ولایت میں کاذب ہیں، اور شریعت کو پس پشت ڈال کر اسے محض قشر بتاتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)
34۔ یہ بات ملحوظ رہے کہ یہاں فی الجنّۃ (جنت میں) نہیں بلکہ عِنْدَ رَبِّھِمْ (ان کے رب کے ہاں) کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اپنے رب کے ہاں تو بندہ مرنے کے بعد ہی پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے آیت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں پہنچ کر ہی نہیں بلکہ مرنے کے وقت سے دخول جنت تک کے زمانے میں بھی مومن صالح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہی رہے گا۔ وہ عذاب برزخ سے، روز قیامت کی سختیوں سے، حساب کی سخت گیری سے، میدان حشر کی رسوائی سے، اپنی کوتاہیوں اور قصوروں پر مواخذہ سے لازماً بچنا چاہے گا اور اللہ جل شانہ اس کی یہ ساری خواہشات پوری فرمائے گا۔ (تفہیم القرآن)
۔ یہ نہایت جامع الفاظ میں ان کا صلہ بیان فرما دیا کہ ان کے لئے وہ سب کچھ ان کے رب کے پاس ہوگا جو وہ چاہیں گے ان کی خواہشوں اور چاہتوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی ہر آرزو پوری کر دے گا۔ عندربھم کے الفاظ سے یہ بات نکلی کہ بندوں کے لئے سب سے اونچا مرتبہ خدا کا قرب ہے نہ کہ اس کی ذات میں ضم ہوجانا جیسا کہ صوفیوں کے ایک گروہ نے سمجھا ہے۔ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَ یہ ایک تنبیہ ہے کہ یہ صلہ جو بیان ہوا ہے خوب کاروں کے لئے ہے۔ قرآن پر ایمان کا ہر مدعی اس کا حقدار نہیں ہوگا۔ اس کے حق دار صرف وہی ہوں گے جو ایمان کے ساتھ احسان کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔ (تدبرِ قرآن)
35۔ اس میں رد نکل آیاایک تو ان غالی صوفیہ و مشائخ کا جواولیاء و صالحین کو ذنوب و معاصی سے ماوراء و منزہ سمجھنے لگتے ہیں اور دوسری طرف ان خارجی اور نیم خارجی فرقوں کا جو ز لات و معاصی کی بناپر مؤمنین کو دائرہ ایمان سے خارج کردیا کرتے ہیں!جنتی ہونے، بلکہ جنت میں اعلیٰ سے اعلیٰ مرتبہ پر بھی فائز ہونے سے یہ لازم ہر گز نہیں آتاکہ یہ لوگ دنیا میں معصوم اور ہرگناہ سے پاک رہے تھے۔(تفسیر ماجدی)
36۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ یہ مشرکین تمہاری دعوت توحید پر تم کو اپنے اصنام و آلہہ کے قہر و غضب سے ڈراتے ہیں کہ تم نے ان کی مخالفت جاری رکھی تو وہ کسی مصیبت میں پھنسا دیں گے۔ کیا ان نادانوں کے نزدیک اللہ اپنے بندے کی حفاظت و کفالت کے لئے کافی نہیں ہے۔ (تدبرِ قرآن)
38۔ مشرکین کا تضاد فکر: یعنی یہ لوگ تضاد فکر میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف تو ان کا حال یہ ہے کہ ان سے سوال کرو کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے تو اس کا جواب دیں گے کہ اللہ ! دوسری طرف یہ اللہ کے سوا دوسروں کو اللہ کی خدائی میں شریک بنائے بیٹھے ہیں اور ان سے تم کو بھی ڈرا رہے ہیں۔ گویا ان کے خیال میں خدا خالق تو ہے لیکن اپنی پیدا کی ہوئی دنیا کا مالک اور اس میں متصرف نہیں ہے۔ ان نادانوں سے پوچھو کہ خدا مجھے کوئی گزند پہنچانا چا ہے تو کیا تمہارے یہ فرضی دیوی دیوتا مجھے اس سے بچالیں گے ؟ اسی طرح اگر وہ مجھے اپنے کسی فضل سے نوازنا چاہے تو کیا تمہاری اینٹ پتھر کی یہ مورتیاں اس کا ہاتھ پکڑ لیں گی۔ لفظ اَفَرَءَیْتُمْ پر دوسری جگہ ہم بحث کرچکے ہیں کہ اس سیاق وسباق میں جب یہ آتا ہے تو تحقیر اور اظہار تعجب کے لئے آتا ہے۔ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ-عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ فرمایا کہ ان نادانوں کو بتا دو کہ میرے لئے اللہ کافی ہے نہ اس کے سوا مجھے کسی کا ڈر ہے نہ اس کے سوا مجھے کسی سے امید ہے۔ میری ہر ضرورت کا وہی کفیل ہے اس وجہ سے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں جو اس کی جگہ دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں ان کی امیدوں کی ساری عمارت ریت پر قائم ہے۔ (تدبرِ قرآن)
پانچواں رکوع |
| اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ ﴿42﴾ اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ ﴿43﴾ قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ﴿44﴾ وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ ﴿45﴾ قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ ﴿46﴾ وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ ﴿47﴾ وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ﴿48﴾ فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿49﴾ قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ ﴿50﴾ فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ﴿51﴾ اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿52ع الزمر 39﴾ |
| 42. خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں (ان کی روحیں) سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کرچکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔ 43. کیا انہوں نے خدا کے سوا اور سفارشی بنالئے ہیں۔ کہو کہ خواہ وہ کسی چیز کا بھی اختیار نہ رکھتے ہوں اور نہ (کچھ) سمجھتے ہی ہوں۔ 44. کہہ دو کہ سفارش تو سب خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ اسی کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔ 45. اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں۔ اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں۔ 46. کہو کہ اے خدا (اے) آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے (اور) پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں فیصلہ کرے گا۔ 47. اور اگر ظالموں کے پاس وہ سب (مال ومتاع) ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اسی قدر اور ہو تو قیامت کے روز برے عذاب (سے مخلصی پانے) کے بدلے میں دے دیں۔ اور ان پر خدا کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا۔ 48. اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اُڑاتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا۔ 49. جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے۔ (نہیں) بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ 50. جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی یہی کہا کرتے تھے تو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آیا۔ 51. ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑ گئے۔ اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں ان پر ان کے عملوں کے وبال عنقریب پڑیں گے۔ اور وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے۔ 52. کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق کو فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔ |
تفسیر آیات
42۔اس آیت سے درج ِ ذیل امور کا پتہ چلتاہے بالفاظ دیگر اس میں مندرجہ ذیل نشانیاں موجود ہیں۔1۔ روح حیوانی اور روح نفسانی :۔ روح کی دو قسمیں ہیں۔ایک روح حیوانی جس کا تعلق دوران خون سے ہوتاہے ۔اور یہ نیند کی حالت میں بھی جسم کے اندر موجود رہتی ہے۔دوسری روح نفسانی یا نفس ناطقہ ہے جو نیند یا خواب کی حالت میں بدن کو چھوڑ کر سیر کرتی پھرتی ہے اور ہر طرح کے واقعات سے خواب میں ہی دوچار ہوتی رہتی ہے۔اسی روح کو اللہ تعالیٰ مخاطب فرماتے ہیں۔۔۔۔۔دوام روح نفسانی کو ہے:۔ اور اسی روح کو دوام ہے یہ روح جب بدن کو چھوڑ دیتی ہے تو انسان کے حواس خمسہ میں نمایاں کمی واقع ہوجاتی ہے۔نیند کے دوران انسان کی قوت باصرہ،لامسہ اور ذائقہ کی کارکردگی تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔قوت سامعہ بھی ماند پڑجاتی ہے۔ہاں اگر غل غپاڑہ ہو یا کوئی دوسرا آدمی سوئے ہوئے کو بلند آواز سے پکار کر جگا دے تو روح نفسانی دوبارہ اپنے جسم میں لوٹ آتی ہے۔اس روح کو اپنے جسم سے عشق کی حدتک محبت ہوتی ہے۔کیونکہ یہی جسم اس روح کی آرزؤں کی تکمیل کا ذریعہ بنتاہے۔2۔عذاب قبر کی ماہیت :۔ ان دونوں قسم کی روحوں کا آپس میں نہایت گہرا اور قریبی تعلق ہوتاہے کیونکہ یہ ایک ہی اکائی کے دوجز ہوتے ہیں۔روح نفسانی اگر خواب میں کسی بات پر یا کسی چیز سے لطف اندوز ہوتی ہے تو انسان جاگنے پر ہشاش بشاش نظر آتاہے۔اور اگر اس روح نفسانی کو خواب میں کوئی ناگوار حادثہ پیش آجائے تو بعض دفعہ انسان سوتے میں ہی چیخنے چلانے لگتاہے اور جاگتاہے تو سخت اندوہناک ہوتاہےاور کہیں مار پٹے تو حیرت کی بات ہے کہ اس مار پٹائی کے اثرات اور نشانات بعض دفعہ انسان کے جسم پر نمودار ہوجاتے ہیں۔جنہیں جاگنے کے بعد انسان خود بھی مشاہدہ کرسکتاہے۔اس حقیقت سے عذابِ قبر یا عالمِ برزخ کے عذاب کی ماہیت کو کسی حدتک سمجھا جاسکتاہے۔3۔ روح حیوانی موت کے ساتھ ہی فنا ہوجاتی ہے:۔روح حیوانی کا تعلق محض بدن سے ہے۔ بدن نہ ہو تو اس روح کا کوئی وجود نہیں رہتا۔بلکہ یہ روح تو بدن کے بوسیدہ ہونے یا فنا ہونے کا بھی انتظار نہیں کرتی بلکہ موت کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہے۔اس کے ختم ہونے سے بدن بدن نہیں کہلاتاہے بلکہ جسد، میت، لاش اور نعش کہلاتاہے۔4۔ ان دونوں قسم کی روحوں میں سے کسی بھی ایک قسم کی روح کے خاتمہ سے دوسری قسم کی روح کا از خود جسم سے تعلق ختم ہوجاتاہےاس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک شخص سوتے میں کوئی خواب دیکھ رہاہے کہ کسی دوسرےشخص نے اسے سوتے میں قتل کردیا۔تو اب روح نفسانی خواہ کہیں بھی سیر کرتی ہوگی،دوبارہ اس جسم میں داخل نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ اسے وہیں قبض کرلے گا ۔اس کے برعکس صورت یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی انسان کی روح نفسانی کو خواب میں قبض کرلیں تو بستر پر سونے والا آدمی بغیر کسی حادثہ یا بیماری کے مرجائے گا۔5۔نیند آدھی موت ہوتی ہے:۔اللہ تعالیٰ موت کی حالت میں بھی روح نفسانی کو قبض کرتاہے اور نیند کی حالت میں بھی۔ اور یہی وہ روح ہے جسے انا یا (EGO)کہا جاتاہے۔اس لحاظ سے نیند بھی بہت حدتک موت کے مشابہ ہوتی ہے ۔اسی لئے سوتے وقت ہمیں جو دعا سکھائی گئی ہے۔وہ یہ ہے۔(اللّھم باسمک اموت واحیٰ)"یعنی اے اللہ ! میں تیرے ہی نام سے مرتاہوں اور تیرے ہی نام سے زندہ ہوجاؤں گا"اور بیدار ہوتے وقت یہ دعا سکھائی گئی ہے۔(الحمد للہ الذی أحیانا بعدما اماتنا والیہ النشور)"سب طرح کی تعریف اس اللہ کو سزا وار ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھا دیا اور اسی کے حضور حاضر ہونا ہے۔"6۔نیند سے اٹھنے اور دوبارہ اٹھنے میں مماثلت:۔وہ اللہ جو ہمیں ہر روز سلاکر موت کا نمونہ دکھاتااور پھر اس کے بعد زندہ کرتارہتاہے وہ اس بات پر بھی پوری قدرت رکھتاہے کہ حقیقی موت کے بعد دوبارہ زندہ کردے ۔(تیسیر القرآن)
45۔ یہ شرک و شفاعت کے وجود میں آنے کے ایک بہت بڑے سبب کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ آخرت خدا کے عدل کامل اور جزاء و سزا کے ظہور کا دن ہے اور اس کے ماننے سے انسان پر نہایت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں اس وجہ سے جو لوگ ان ذمہ داریوں سے گریز اختیار کرنا چاہتے ہیں وہ شرک و شفاعت کی آڑ لیتے ہیں وہ ایمان و عمل کے تقاضے پورے کرنے کا نہ حوصلہ رکھتے اور نہ اپنے نفس کی خواہشوں پر کوئی پابندی ہی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں اس وجہ سے اول تو وہ آخرت کو مانتے ہی نہیں اور اگر مانتے بھی ہیں تو شرک و شفاعت کا عقیدہ ایجاد کر کے اس کے تمام خطرات سے اپنے زعم کے مطابق وہ اپنے آپ کو محفوظ کرلیتے ہیں۔ ان لوگوں کا سارا اعتماد اپنے مزعومہ شفعاء کی شفاعت پر ہوتا ہے اس وجہ سے اگر ان کے سامنے توحید کا ذکر آئے تو ان کے دل بھینچنے لگتے ہیں اس لئے کہ پھر آخرت ان کے سامنے اپنی پوری ہولناکی کے ساتھ آن کھڑی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔شفاعتِ باطل کا عقیدہ آخرت کی باز پرس سے فرار کیلئے ایک چوردروازہ ہے۔(تدبرقرآن)
49۔ مال کی آزمائش بڑی سخت ہے۔بحرین کے جزیہ کی رقم کی تقسیم:۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے اور اس دنیا میں ہر انسان کی ہرحال میں آزمائش ہورہی ہے اور ہروقت ہورہی ہے ۔ اور جن چیزوں سے انسان کا امتحان ہورہاہے ان میں سے ایک نہایت اہم چیز مال و دولت کی فراوانی ہے۔ یہ انسان کے لئے کتنی بڑی آزمائش ہے؟ درج ذیل احادیث سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتاہے: 1۔ رسول اللہؐ نے سیدنا ابوعبیدہ بن الجراحؓ کو بحرین سے جزیہ لانے کے لیے بھیجا ۔جب ابوعبیدہ ؓ جزیہ کامال لے کر واپس آئے تو اگلے دن صبح کی نماز میں معمول سے زیادہ لوگ شریک ہوئے اور سلام پھیرتے ہی (حسن طلب کے طور پر) آپ کے سامنے آئے۔آپؐ بات سمجھ کر مسکرادئیے اور فرمایا: تم خوش ہوجاؤ اور خوشی کی امید رکھو۔(یعنی تم کو روپیہ ضرورملے گا)پھر فرمایا:"اللہ کی قسم! مجھ کو تمہاری محتاجی کا ڈر نہیں ہے بلکہ مجھ کو تو یہ ڈرہے کہ تم پر سامانِ زیست کی یوں فراوانی ہوجائے جیسے اگلے لوگوں پر ہوئی اور تم بھی اسی طرح دنیا کے پیچھے پڑجاؤجس طرح وہ پڑگئے اور یہ مال کی کشادگی تمہیں آخرت سے اسی طرح غافل نہ کردے جس طرح ان لوگوں کو کیا تھا"(بخاری۔ کتاب الرقاق۔باب مایحذر من زھرۃ الدنیا والتنافس فیھا)2 ۔ آپؐ نے فرمایا:"اللہ کی قسم!مجھے یہ ڈر نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگ جاؤگے بلکہ میں تو اس بات سے ڈرتاہوں کہ تم دنیا پر ریجھ نہ جاؤ"۔3۔ نیز آپؐ نے فرمایا: "ہرامت کی ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے"(ترمذی۔بحوالہ مشکوٰۃ۔کتاب الرقاق۔دوسری فصل)۔(تیسیر القرآن)
چھٹا رکوع |
| قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ﴿53﴾ وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ ﴿54﴾ وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ ﴿55﴾ اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ ﴿56﴾ اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ ﴿57﴾ اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ﴿58﴾ بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ ﴿59﴾ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ ﴿60﴾ وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ ﴿61﴾ اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ ﴿62﴾ لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿63ع الزمر 39﴾ |
| 53. (اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔ 54. اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو، اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار ہوجاؤ پھر تم کو مدد نہیں ملے گی۔ 55. اور اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو اس نہایت اچھی (کتاب) کی جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے پیروی کرو۔ 56. کہ (مبادا اس وقت) کوئی متنفس کہنے لگے کہ (ہائے ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے خدا کے حق میں کی اور میں تو ہنسی ہی کرتا رہا۔ 57. یا یہ کہنے لگے کہ اگر خدا مجھ کو ہدایت دیتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا۔ 58. یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے کہ اگر مجھے پھر ایک دفعہ دنیا میں جانا ہو تو میں نیکوکاروں میں ہو جاؤں۔ 59. (خدا فرمائے گا) کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی ہیں مگر تو نے ان کو جھٹلایا اور شیخی میں آگیا اور تو کافر بن گیا۔ 60. اور جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ بولا تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہو رہے ہوں گے۔ کیا غرور کرنے والوں کو ٹھکانا دوزخ میں نہیں ہے۔ 61. اور جو پرہیزگار ہیں ان کی (سعادت اور) کامیابی کے سبب خدا ان کو نجات دے گا نہ تو ان کو کوئی سختی پہنچے گی اور نہ غمناک ہوں گے۔ 62. خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور وہی ہر چیز کا نگراں ہے۔ 63. اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں۔ اور جنہوں نے خدا کی آیتوں سے کفر کیا وہی نقصان اُٹھانے والے ہیں۔ |
تفسیر آیات
53۔ تحریف معنوی کی ایک مثال:۔ اس آیت کی بعض لوگوں نے بہت عجیب سی تاویل کی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے کہہ رہاہے کہ آپؐ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو! یعنی بندے اللہ کے نہیں بلکہ رسول اللہؐ کے ہیں۔یہ تاویل دراصل تاویل نہیں بلکہ بدترین قسم کی تحریف ہے۔ کیونکہ یہ تاویل قرآن کی ساری تعلیم کے برخلاف ہے۔نیز اس سے رسول اللہؐ کی شان بڑھتی نہیں بلکہ ان پر سخت الزام آتاہے۔آپ اس لئے مبعوث ہوئے تھے کہ سب لوگوں کو دوسرے معبودوں کی بندگی سے ہٹا کر خالص اللہ کے بندے بنائیں۔نہ یہ کہ اپنے ہی بندے بنانا شروع کردیں۔ آپؐ خود بھی اللہ کے بندے تھے اور اس بندگی کا اقرار کرنے سے ہی ایک شخص اسلام میں داخل ہوسکتاہے اور اس بندگی کا اقرار ہم سب نمازوں میں کئی بار کرتے ہیں۔اس تاویل کو دیکھ کر بے اختیار ڈاکٹر اقبالؒ کے یہ شعر یاد آجاتے ہیں:
زمن بر صوفی و ملا سلامے۔۔۔۔۔کہ پیغام خدا گفتند مارا ولے تاویل شاں درحیرت انداخت۔۔۔۔خدا وجبرئیل و مصطفیٰؐ را
(ترجمہ:میری طرف سے صوفی و ملا کو سلام ہو جنہوں نے ہمیں اللہ کا پیغام پہنچایا ۔لیکن ان کی تاویل نے اللہ ، جبرئیل اور رسول اللہؐ سب کو حیرت میں ڈال دیا(کہ ہم نے کیا کہاتھا اور ان لوگوں نے اس کا کیا مطلب لے لیا ہے)(تیسیر القرآن)
۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓنے فرمایا کہ یہ آیت گناہگاروں کیلئے قرآن کی سب آیتوں سے زیادہ امید افزاء ہے مگر حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ امید و رجا کی آیت ہے۔ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ۔(معارف القرآن)
- بعض لوگوں نے ان الفاظ کی عجیب تاویل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود نبیؐ کو "اے میرے بندو" کہہ کرلوگوں سے خطاب کرنے کا حکم دیا ہے۔۔۔۔ان کو اللہ نے رب نہیں رسول بناکر بھیجا ۔۔۔۔آخر کسی صاحب عقل انسان کے دماغ میں یہ بات کس طرح سما سکتی ہے کہ محمد ؐ نے توحید کا اعلان کرتے کرتے اچانک ایک دن اعلان کردیا ہوگا کہ تم عبدالعزی یا عبد الشمس کی بجائے عبدِ محمد ہو۔ (تفہیم القرآن)
۔ عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت علیؓ دونوں سے منقول ہے کہ قرآن مجید بھر میں سب سے زیادہ پُرامید اور تسلی والی آیت گناہ گناروں کے حق میں یہی ہے۔۔۔۔۔اور یہی اس سیاہ محرّر سطور کا بھی عین ایمان و ایقان ہے ،رزاق و احد اللہ ہی ہے،چنانچہ وہ اپنے وارثوں سے وصیت کیے جاتاہے کہ اس کی قبر پر بطور کتبہ کے یہی آیت کندہ کردی جائے۔(تفسیر ماجدی)
۔آخری دو رکوع توحید ِ عبادت کو بڑے زور دار انداز میں پیش کرتے ہیں ۔(بیان القرآن)
ساتواں رکوع |
| قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ ﴿64﴾ وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴿65﴾ بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ ﴿66﴾ وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ﴿67﴾ وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ ﴿68﴾ وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ﴿69﴾ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿70ع الزمر 39﴾ |
| 64. کہہ دو کہ اے نادانو! تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ میں غیر خدا کی پرستش کرنے لگوں۔ 65. اور (اے محمدﷺ) تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے۔ کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے۔ 66. بلکہ خدا ہی کی عبادت کرو اور شکرگزاروں میں ہو۔ 67. اور انہوں نے خدا کی قدر شناسی جیسی کرنی چاہیئے تھی نہیں کی۔ اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے۔ (اور) وہ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور عالی شان ہے۔ 68. اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے مگر وہ جس کو خدا چاہے۔ پھر دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو فوراً سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔ 69. اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اُٹھے گی اور (اعمال کی) کتاب (کھول کر) رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور (اور) گواہ حاضر کئے جائیں گے اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی۔ 70. اور جس شخص نے جو عمل کیا ہوگا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اس کو سب کی خبر ہے۔ |
تفسیر آیات
ــــ میزانِ عدل اور فیصلے کے بعد جنتی اور جہنمی اپنے اپنے راستوں پر روانہ ہونگے۔(بیان القرآن)
66۔خٰسرون اور خاسرین۔ابھی دوجگہ آچکاہے،دونوں جگہ(اور اسی طرح اور بھی جہاں قرآن مجید میں آیاہے) مراد ہمیشہ "خسران"اخروی ہی ہے،اسی سے ظاہر ہے کہ قرآن نے دنیوی، مادی نقصان مال کا کیا درجہ رکھاہے،اسے کتناہلکا سمجھا ہے، اور آخرت کو اس دنیا کے مقابلے میں کتنا زیادہ اہم قراردیاہے۔(تفسیر ماجدی)
67۔ بعض احادیث میں ہے وکلتا یدیہ یمین (اس کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں) تجسیم و جہت کی نفی ہوئی ۔(تفسیر عثمانی)
- اور علمائے متاخرین نے اس آیت کو ایک تمثیل و مجاز قرار دیکر یہ معنی بیان کئےکہ کسی چیز کا مٹھی میں ہونا اور داہنے ہاتھ میں ہونا کنایہ ہوتاہے اس پر پوری طرح قبضہ و قدرت سے ۔(معارف القرآن)
ــــ یعنی ان جاہلوں نے خدا کی شان بالکل نہیں سمجھی۔۔۔۔۔خدا کی عظمت کا حال تو یہ ہے کہ وہ ایک دن آسمان و زمین سب کی بساط اپنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
68۔ نفخۂ صور کی بے ہوشی سے کون مستثنیٰ ہوگا؟ اس سے معلوم ہوتاہے کہ کچھ ایسی مخلوق بھی ہے جو بے ہوش نہیں ہوگی ۔بعض نے اس استثناء سے چاروں بزرگ فرشتے یعنی جبرائیل ،میکائیل،اسرافیل اور عزرائیل مراد لیے ہیں۔بعض نے ان میں حاملینِ عرش کو بھی شامل کیا ہے اور بعض نے انبیاء و صلحاء اور شہداء کو بھی ۔ لیکن اگلے حاشیہ میں مندرج حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ انسانوں میں سے کوئی بھی اس بے ہوشی سے نہ بچے گا۔جب رسول اللہؐ بھی بے ہوش ہوں گے تو دوسرے کیسے بچے رہ سکتے ہیں۔البتہ موسیٰؑ کو آپؐ نے مستثنیٰ کیا۔ وہ بھی اس صورت میں کہ شاید وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے ہوں یا بے ہوش ہوئے ہی نہ ہوں۔اس لئے کہ وہ دنیا میں ایک بار بے ہوش ہوچکے ۔۔۔۔۔اس آیت سے واضح طورپر معلوم ہوتاہے کہ صور دوبارپھونکا جائے گا۔درج ذیل احادیث اسی آیت کی تفسیر پیش کرتی ہیں:1۔نفخۂ صور دوبار یا تین بار:۔ "سیدنا ابوہریرۃؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ دونوں نفخۂ صور میں چالیس کا فاصلہ ہوگا۔لوگوں نے پوچھا:"ابوہریرۃ ؓ کیا چالیس دن کا؟"انہوں نے کہا :یہ میں نہیں کہہ سکتا" پھر لوگوں نے کہا:"کیا چالیس برس کا؟ "کہنے لگے یہ میں نہیں کہہ سکتا"پھر لوگوں نے کہا "کیا چالیس ماہ کا"کہنے لگے "یہ میں نہیں کہہ سکتا"اور آپؐ نے فرمایا کہ انسان کا سارا جسم (مٹی)گھل جاتاہےماسوائے ریڑھ کی ہڈی کے سرے کے۔(جورائی کے دانہ برابر ہوتی ہے)اسی سے تمام خلقت کو ترکیب دے کراٹھا کھڑا کیا جائے گا۔(بخاری۔ کتاب التفسیر)۔۔۔۔۔2۔سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: دوسری دفعہ صور پھونکنے پر سب سے پہلے میں سر اٹھاؤں گا تو دیکھوں گا کہ موسیٰؑ عرش تھامے لٹک رہے ہیں۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ پہلےصور پر بے ہوش ہی نہ ہوں گے یا دوسرے صور پر مجھ سے پہلے ہوش میں آجائیں گے۔ (کیونکہ دنیا میں وہ ایک دفعہ بے ہوش ہوچکے ) لیکن سورہ نمل کی آیت87 میں ایک اور نفخۂ کا بھی ذکر آیاہے۔جسے سن کر زمین و آسمان کی ساری مخلوق دہشت زدہ ہوجائے گی۔پھر اس کی بعض احادیث سے بھی تائید ہوجاتی ہے اسی لئے بعض علماء کہتے ہیں کہ نفخہ صور تین بار ہوگا۔پہلے نفخہ پر صرف گھبراہٹ واقع ہوگی دوسرے نفخہ پر لوگ بے ہوش ہو کر گرپڑیں گے اور مرجائیں گے۔ اور تیسرے نفخہ پر سب انسان جی اٹھیں گے اور اپنی قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کے حضور چل کر کھڑے ہوں گے۔(تیسیر القرآن)
- مسند احمد، بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ ، ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اور حضرت ابوھریرہؓ کی روایات منقول ہوئی ہیں کہ ایک مرتبہ نبیؐ منبر پر خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔ دوران ِ خطبہ یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا" اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں (یعنی سیاروں) کو اپنی مٹھی میں لیکر اس طرح پھرائے گا جیسے ایک بچہ گیند پھراتاہے اور فرمائے گا میں ہوں خدائے واحد ، میں ہوں بادشاہ، میں ہوں جبار، میں ہوں کبریائی کا مالک،کہاں ہیں زمین کے بادشاہ ؟ کہاں ہیں جبار ؟ کہاں ہیں متکبر؟ یہ کہتے ہوئے حضورؐ پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ ہمیں خطرہ ہونے لگا کہ کہیں آپؐ منبر سمیت گرنہ پڑیں۔(تفہیم القرآن)
69۔ گواہوں میں انبیاء کرام، فرشتے، امت محمدیہ، انسان کے اعضاو جوارح وغیرہ۔(معارف القرآن)
- الارض سے مراد وہ زمین ہے جو نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ قیامت کے دن ظہور میں آئے گی۔ہماری زمین سورج کی روشنی سے روشن ہوتی ہے اس وجہ سے اس میں ہمارا مشاہدہ محسوسات و مرئیات تک ہوتاہے مگر جب زمین اللہ کے نور سے روشن ہوگی اس وجہ سے اس میں تمام معانی و حقائق بھی لوگو ں کے سامنے آجائیں گے۔(تدبرقرآن)
- حضرت ابوبکرؓ کی دعوت سے چھ عشرہ مبشرہ مسلمان ہوئے۔(بیان القرآن)
ــــ یعنی آج تو زمین سورج کی روشنی سے منور ہوتی ہے مگر میدانِ محشر کے لئے جو زمین تیار کی جائے گی۔وہ براہ راست اپنے پروردگار کے نور سے جگ مگ جگمگ کررہی ہوگی۔(تیسیر القرآن)
ــــ قرآن مجید میں وجد آفریں ٹکڑے ایک دو نہیں ،بہت سے ہیں،لیکن اس بے علم راقم السطور کا جن چند مقامات کی فصاحت و بلاغت پر بے اختیار جھوم جانے اور وجد کرنے کو جی چاہتاہے ،ان میں سے ایک مقام اسی سورۃ کا یہاں سے آخر تک کا حصہ ہے!۔ (تفسیر ماجدی)
آ ٹھواں رکوع |
| وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ ﴿71﴾ قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ ﴿72﴾ وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ ﴿73﴾ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ ﴿74﴾ وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ ﴿75ع الزمر 39﴾ |
| 71. اور کافروں کو گروہ گروہ بنا کر جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے۔ کہیں گے کیوں نہیں۔ لیکن کافروں کے حق میں عذاب کا حکم متحقق ہوچکا تھا۔ 72. کہا جائے گا کہ دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اس میں رہو گے۔ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔ 73. اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ گروہ بنا کر بہشت کی طرف لے جائیں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے تو اس کے داروغہ ان سے کہیں کہ تم پر سلام تم بہت اچھے رہے۔ اب اس میں ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ۔ 74. وہ کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے اپنے وعدہ کو ہم سے سچا کردیا اور ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا ۔ہم بہشت میں جس مکان میں چاہیں رہیں تو (اچھے) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے۔ 75. تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد گھیرا باندھے ہوئے ہیں (اور) اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ |
تفسیر آیات
73۔ جنت کے درجات :۔ جس طرح کفر کے بہت سے درجات اور اقسام ہیں اسی طرح ایمان اور تقویٰ کے بھی بہت سے درجات ہیں۔اور ایک حدیث کے مطابق جنت کے سو درجات ہیں جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایمان و تقویٰ کے بھی اتنے ہی درجات ہیں۔ان متقین کی بھی درجوں کے لحاظ سے گروہ بندی کی جائے گی۔انہیں بڑی عزت و تکریم کے ساتھ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔جب یہ گروہ جنت کے پاس پہنچیں گے۔تو ان کے پہنچنے سے پہلے ہی جنت کے دروازے کھول دئیے جائیں گے۔جنت کے محافظ فرشتے ان کے استقبال کو آگے بڑھ کر ان پر سلام پیش کریں گے۔انہیں داخلہ کی بشارت اور مبارک باد دیں گے اور اعلان عام ہوگا کہ اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل ہوجاؤ۔ (تیسیر القرآن)
74۔یوں بھی أرض کا مفہوم عربی میں نہایت وسیع ہے، اورجس طرح سمآء کے اندر ہر وہ چیز داخل ہے جو سر کے اوپر ہو،اسی طرح أرض کے اطلاق میں ہر وہ چیز شامل ہے ،جو پیروں کے نیچے ہو۔اس لیے قرآن مجید میں کہیں اگر أرض یا الأ رض سے مراد کوئی اور زمین ہو(ارض جنت، ارض ماہتاب،ارض کواکب وغیرہ)تو اس سے فرط استعجاب کی بناپر انکار ہرگز نہ ہونا چاہیے۔(تفسیر ماجدی)
۔ وارث بنانے میں ایک لطیف تلمیح اس بات کی طرف ہے کہ یہ جنت ہمارے باپ آدم کو ملی تھی لیکن شیطان نے ان کو ورغلا کر اس سے محروم کردیا تھا اور اس کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ شرط ٹھہرائی تھی کہ اولاد آدم دنیا میں جا کر شیطان سے مقابلہ کرے تو جو شیطان سے جیت جائیں گے وہ اس جنت کے وارث ٹھہریں گے اور جو شیطان کے فتنوں میں پھنس جائیں گے وہ شیطان کے ساتھ دوزخ میں پڑیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس امتحان میں ہم کو کامیابی حاصل ہوئی اور ہم نے اپنے باپ کی کھوئی ہوئی جنت پھر حاصل کرلی۔(تدبرِ قرآن)
75۔ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔اس نعرۂ مسرت و انبساط میں فرشتے اور انسان سب ہی شریک ہوں گے،اور عجب نہیں جو اسی پر اجلاس عدالت برخواست ہو۔۔۔۔دنیوی بادشاہوں کے بھی دربار جم سکتے ہیں تو کچھ اسی قسم کا اعلان ہے،ان بادشاہوں کی جے لگادی جاتی ہے۔(تفسیر ماجدی)
ــــ معلوم ہواکہ اللہ تعالیٰ کو جو چیز سزاوار حمد بناتی ہے وہ لوگوں کے درمیان اس کا عدل اور نیک و بد کے درمیان اس کا فرق و امتیاز ہے۔اگر یہ چیز نہ ہوتو یہ دنْیا ایک اندھیرنگری ہے اور ایک اندھیر نگری کے خالق کو کوئی حمد و شکر کا سزاوار نہیں مان سکتا۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)