4 - سورة النساء (مدنیہ)

رکوع - 24 آیات - 176

مضمون:اجتماعی ثابت قدمی کے لیے مضبوط جماعتی ارتباط کی ضرورت۔ اسلامی معاشرہ اور اس کے فطری نتیجہ پر تبصرہ۔اسلامی حکومت کو مستحکم رکھنے کی ہدایت۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحی)

زمانۂ نزول :   یہ سورة متعدد خطبوں پر مشتمل ہے جو غالباً سن ٣ ہجری کے اواخر سے لے کر سن ٤ ہجری کے اواخر یا سن ٥ ہجری کے اوائل تک مختلف اوقات میں نازل ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ کس مقام سے کس مقام تک کی آیات ایک سلسلہ تقریر میں نازل ہوئی تھیں اور ان کا ٹھیک زمانہ نزول کیا ہے، لیکن بعض احکام اور واقعات کی طرف بعض اشارے ایسے ہیں جن کے نزول کی تاریخیں ہمیں روایات سے معلوم ہوجاتی ہیں اس لیے ان کی مدد سے ہم ان مختلف تقریروں کی ایک سرسری سی حد بندی کرسکتے ہیں جن میں یہ احکام اور یہ اشارے واقع ہوئے ہیں۔(تفہیم القرآن)

ترتیب مطالعہ: (i)تمہید ،پہلی آیت (ii) پہلے پانچ رکوع:میراث ،یتیموں ْکے حقوق اور عائلی قوانین .(iii) چھٹا رکوع: مردو زن کے تعلقات "الرجال قوامون علی النساء"،ایمانیات   .(iv)ساتواں رکوع: تیمم اور یہودیوں کو آخری انتباہ .(v)آٹھواں رکوع: اہل کتاب سے خطاب اور اسلام کا سیاسی و معاشرتی نظم۔(vi)نویں رکوع سے چودھویں تک: اہل کتاب،منافقین اور مسلمانوں سے ملا جلا خطاب۔جہاد کا حکم. (vii)15واں رکوع: نماز قصر،صلاۃ خوف(viii)16تا 18 رکوع: نمبر vi. کے مطابق (ix)19 واں رکوع: عائلی قوانین ۔(x) 20ویں رکوع سے آخر تک : اہل کتاب ،منافقین  اور مسلمانوں سے خطاب۔

شانِ نزول اور مباحث:

نبی اکرم ؐ کے سامنے اس وقت جو کام تھا اسے تین بڑے شعبوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے ۔

(i) نئی منظم اسلامی سوسائٹی کا قیام(ii)مشرکین عرب،یہودی قبائل اور منافقین سے مسلمانوںکی کشمکش(iii) اسلام کی دعوت کو پھیلانا۔ اس سورۃ کے تمام خطبے انہی تین شعبوں پرمشتمل ہیں۔ علاوہ ازیں : افواہوں کو ذمہ دارلوگوں تک پہنچانا۔تیمم کی اجازت۔ نمازِ قصر اور صلاۃ خوف ۔یہودیوں میں بنی نضیر کا رویہ اور ان کا مدینہ سے اخراج۔منافقین کے مختلف گروہوں سے برتاؤ۔غیر جانبدار معاہد قبائل ۔مسلمانوں کا اپنا بے داغ کیریکٹرہو۔دعوت و تبلیغ کا فلسفہ۔اسلامی سوسائٹی کی تنظیم کے لئے ہدایات :اسلامی سوسائٹی کی تنظیم کیلئے سورۂ بقرہ میں جوہدایات دی گئی تھیں،اب یہ سوسائٹی ان سے زائد ہدایات کی طالب تھی،اس لیے سورۂ نساء کے ان خطبوں میں زیادہ تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ مسلمان اپنی اجتماعی زندگی کو اسلام کے طریق پر کس طرح درست کریں۔خاندان کی تنظیم کے اصول بتائے گئے۔نکاح پر پابندیاں عائد کی گئیں۔معاشرت میں عورت اور مرد کے تعلقات کی حدبندی کی گئی ۔یتیموں  کے حقوق معین کیے گئے ۔وراثت کی تقسیم کا ضابطہ مقررکیا گیا ۔معاشی معاملات کی درستی کے متعلق ہدایات دی گئیں ۔خانگی جھکڑوں کی اصلاح کا طریقہ سکھایا گیا ۔تعزیری قانون کی بنا ڈالی گئی ۔شراب نوشی پر پابندی عائد کی گئی۔طہارت و پاکیزگی کے احکام دیے گئے۔مسلمانوں کو بتایا گیا کہ ایک صالح انسان کا طرز عمل خدا اوربندوں کے ساتھ کیساہونا چاہیے۔مسلمانوں کے اندر جماعتی نظم و ضبط(ڈسپلن)قائم کرنے کے متعلق ہدایات دی گئیں۔اہل کتاب کے اخلاقی و مذہبی رویہ پر تبصرہ کرکے مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا کہ اپنی ان پیش رو امتوں کے نقش قدم پر چلنے سے پرہیز کریں۔منافقین کے طرزعمل پر تنقید کرکے سچی ایمانداری کے مقتضیات واضح کیے گئے ۔اور ایمان و نفاق کے امتیازی اوصاف کو بالکل نمایاں کرکے رکھ دیا گیا۔(تفہیم القرآن)

- جب جنگ احدمیں کئی مسلمانوں کی شہادت کے بعدبیواؤں اوریتیموں کے کئی مسائل بشمول نکاح ،مہر،وراثت وغیرہ پیدا ہوگئے تھے اور منافقین کی ہمتیں بڑھ گئیں تھیں۔۔۔یہودی قبیلہ بنی نضیر کی جلاوطنی(ربیع الاول 4ھ)سے پہلے ،یہودیوں اور منافقین کا بغض و عداوت کھل کر سامنے آگیاتھا۔اس موقع پر نوزائدہ اسلامی مملکت کے استحکام کیلئے منافقین کی سرگرمیوں کا نوٹس لینا ضروری تھا،جو اسلامی ریاست کو کھوکھلاکردیتی ہیں، چناچہ یہاں اس سورت میں اسلام کے نظام معاشرت ، نظام حکومت اور نظام عدل و قسط کی وضاحت کی گئی ہے۔(قرآنی سورتوں کا نظم جلی)

سورۃ النساء کا کتابی ربط:۔

1۔ سورت (آل عمران)کے دوسرے حصے میں، نئی امت کی تنظیم اور اتحاد کی ہدایات دی گئی تھیں۔یہاں سورت(النساء)میں اس کی مزید توضیح ہے کہ یہ تنظیم صرف میدانِ جہادتک محدود نہیں، بلکہ خاندان سے لے کر ریاستی اداروں تک وسیع ہوگی۔2۔یہاں سورۂ(النساء)میں اسلامی حکومت کے قیام کی طرف اشارہ ہے۔اگلی سورت(المائدہ)میں اسلامی عدالتوں کے قیام کی طرف اشارہ ہے، تاکہ اسلام کے فوجداری نظام پر عمل درآمد ہوسکے۔(قرآنی سورتوں کا نظم جلی)


پہلا رکوع

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا  1 لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اول) اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد وعورت (پیدا کرکے روئے زمین پر) پھیلا دیئے۔ اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت بر آری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع مودت) ارحام سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔
 وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا 2 اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو۔ اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے۔
 وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ   3 اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے۔
وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا 4 اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔ ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو اسے ذوق شوق سے کھالو۔
 وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا 5 اور بےعقلوں کو ان کا مال جسے خدا نے تم لوگوں کے لئے سبب معیشت بنایا ہے مت دو (ہاں) اس میں سے ان کو کھلاتے اور پہناتے رہو اور ان سے معقول باتیں کہتے رہو۔
 وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا  6 اور یتیموں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو۔ پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے) اس کو فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا۔ جو شخص آسودہ حال ہو اس کو (ایسے مال سے قطعی طور پر) پرہیز رکھنا چاہیئے اور جو بے مقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو۔ اور حقیقت میں تو خدا ہی (گواہ اور) حساب لینے والا کافی ہے۔
 لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا  7 جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تھوڑا ہو یا بہت۔ اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی۔ یہ حصے (خدا کے) مقرر کئے ہوئے ہیں۔
 وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا 8 اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار اور یتیم اور محتاج آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو۔ اور شیریں کلامی سے پیش آیا کرو۔
 وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا 9 اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیئے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیئے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠   ۧ ۧ  10 جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اور وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔

تفسیر آیات

 ”اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا“ ، اس کی تفصیلی کیفیت ہمارے علم میں نہیں ہے۔ عام طور پر جو بات اہل تفسیر بیان کرتے ہیں اور جو بائیبل میں بھی بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آدم کی پسلی سے حوا کو پیدا کیا گیا (تلمود میں اور تفصیل کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت حوا کو حضرت آدم ؑ کی دائیں جانب کی تیرھویں پسلی سے پیدا کیا گیا تھا)۔ لیکن کتاب اللہ اس بارے میں خاموش ہے۔ اور جو حدیث اس کی تائید میں پیش کی جاتی ہے اس کا مفہوم وہ نہیں ہے جو لوگوں نے سمجھا ہے۔ لہٰذا بہتر ہے کہ بات کو اسی طرح مجمل رہنے دیا جائے جس طرح اللہ نے اسے مجمل رکھا ہے اور اس کی تفصیلی کیفیت متعین کرنے میں وقت نہ ضائع کیا جائے۔(تفہیم القرآن)

- تقویٰ کی وجہ سے حضورؐ اس آیت کو خطبۂ نکاح میں پڑھا کرتے تھےاور خطبۂ نکاح میں اس کا پڑھنا مسنون ہے۔کسی محتاج کی مدد کرنا صرف صدقہ ہے اور کسی عزیز کی مدد کرنا دو امروں پر مشتمل ہے ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی(مشکوٰۃ )(معارف القرآن)

- وحدتِ نوع انسانی کا یہ سبق اپنے عملی اور دوررس نتائج کے لحاظ سے نہایت اہم ہے، آخری جد اعلیٰ ہر گورے اور ہر کالے کے،ہر وحشی اور ہر مہذب کے،ہر ہندی اور ہر چینی کے،ہر حبشی اور ہر فرنگی کے ایک ہی ہیں،اور وہ آدمؑ ہیں،یہ نہیں کہ فلاں نسل کے مورثِ اعلیٰ کوئی اور تھے،اور فلاں نسل کے کوئی اور ،اور نہ یہ کہ برہمن ذات والے برہماجی کے منہ سے پیداہوئے اور چھتری نسل والے ان کے سینے سے اور ویش جاتی والے ان کے پیٹ سے اور شودر ذات والے ان کی ٹانگوں سے ،نہیں ،بلکہ اصلاً انسان سب ایک ہیں۔۔۔اور اس معنیٰ کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ حدیث میں ذکر جنس عورت کا ہے کہ نہ شخصاً حضرت حواؑ کا۔۔۔۔اور بعض شارحینِ حدیث مثلاً کرمانی حدیث مذکور کی شرح میں اسی طرف گئے ہیں کہ یہ فطرت ِ نسوانی کی کجی کی طرف صرف استعارہ ہے۔(تفسیر ماجدی)

2۔لاتأکلوا۔میں اکل سے مراد کھانا، لفظی معنی میں نہی،بلکہ اپنےتصرف میں لانا، وسیع معنیٰ میں ہے۔"اردو محاورہ میں بھی کھانا علاوہ اپنے لفظی معنیٰ کےمجازی معنیٰ میں بھی مستعمل ہے، مثلاً دوروپیہ کھاگیا"۔(تفسیر ماجدی)

3۔ مسئلہ تعدد ازدواج کا خلاصہ:۔

اسلام  کے ناقدین خصوصاً اہل مغرب نے تعدد ازدواج کے مسئلہ پر پڑی لے دے کی ہے اور وہ مسلمان بھی اس کے متعلق بہت پریشان رہتے ہیں جن کے نزدیک خیروشر اور حسن و قبح کا صرف وہی معیار قابل قبول ہے جو ان کے ذہنی مربیوں نے مقرر کررکھا ہے۔اس لیے اس کے متعلق اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے چند حقائق پیش کرنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا:۔1۔ یہ حکم نہیں جس کی پابندی پیروان اسلام پر لازمی ہو بلکہ یہ ایک رخصت ہے ۔2۔رخصت بھی بے قید و شرط نہیں بلکہ سخت قیود سے مقید اور سنگین شرائط سے مشروط۔3۔طب جدید وقدیم اس پر متفق ہےکہ مرد کی طبعی کیفیت عورت کی طبعی کیفیت سے جداگانہ ہے۔4۔مرد میں جنسی رغبت عورت  سےکہیں زیادہ  جس کی ظاہروجہ یہ ہے کہ جنسی عمل کے بعد عورت کو مدت دراز تک مختلف نازک سے نازک مرحلوں سے گذرنا پڑتاہے۔استقرار ِ حمل ،وضع حمل، رضاعت اور ننھے بچے کی تربیت یہ سارے مرحلے اسے یوں مشغول رکھتے ہیں کہ اس میں کوئی طلب کم ہی رونما ہوتی ہے لیکن مرد ان تمام ذمہ داریوں سے آزاد ہوتاہے۔5۔ اکثر ممالک میں عورتوں کی شرح پیدائش مردوں سے زیادہ ہے۔اس کے علاوہ جنگ آزما قوموں کے مردہی ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں جنگ کے شعلوں کی نذر ہوتے ہیں ۔اس لیے عورتوں کی تعدادمیں مزید اضافہ ہوجاتاہے ۔6۔تاریخ انسانی جب سے مرتب کی گئی ہے اس کے ہر اس قانونی نظام میں جس میں تعدد ازواج قانونا "ممنوع ہے زناکی کھلی اجازت ہے اور یہ فعل شنیع اپنی ان گنت خرابیوں کے باوجود جرم ہی تصور نہیں کیا جاتا۔7۔کیا بیوی اور اس کے بچوں کیلئے اس کے خاوند کی دوسری بیوی قابل برداشت ہے یا اس کی داشتہ ۔ذہنی ،روحانی،مادی اور جسمانی صحت کے جملہ پہلوؤں پر غور فرمائیے۔8۔کیا کسی باحمیت و باغیرت عورت کیلئے یہ مناسب ہے کہ وہ گھر کی مالکہ بن کے رہے اس کا خاوند اس کے آرام کا ذمہ دار، اس کی ناموس کا محافظ ہو۔اس کی اولاد جائز اولاد متصور ہو اور سوسائٹی میں اسے باعزت مقام حاصل ہو یا ایسی عورت بن کررہے جس کا حسن و شباب ہوسناک نگاہوں کا کھلونا بنا رہے لیکن نہ کوئی اس کی اولاد کا باپ بننا گوارا کرے اور نہ کوئی دوسری ذمہ داری لینے کیلئے تیار ہو۔(ضیاء القرآن)

- صحیح بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ عہد رسالت میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا کہ ایک شخص کی ولایت میں ایک یتیم لڑکی تھی اور اس کا ایک باغ تھا جس میں یہ لڑکی بھی شریک تھی، اس شخص نے اس یتیم لڑکی سے خود اپنا نکاح کرلیا، اور بجائے اس کے کہ اپنے پاس سے مہر وغیرہ دیتا اس کے باغ کا حصہ بھی اپنے قبضہ میں لے لیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی وان خفتم الاتفسطوا فی الیتمی فانکحوا ماطاب لکم من النسآء یعنی اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ یتیم لڑکیوں سے خود اپنا نکاح کرنے میں تم انصاف پر قائم نہ رہو گے، بلکہ ان کی حق تلفی ہوجائے گی، تو تمہارے لئے دوسری عورتیں بہت ہیں، ان میں جو تمہارے لئے حلال اور پسند ہیں ان سے نکاح کرلو۔“۔ (معارف القرآن)

-امہات المؤمنین اور تعدد ازدواج : رحمۃ للعالمین ؐ کیلئے تعدد ازواج۔آپؐ نے اسلام کی تعلیمات کو قولاً و عملاً دنیا میں پھیلا دیا ،یعنی آپؐ  بتاتے بھی تھے اور کرتے بھی تھے۔۔۔اندرون ِ خانہ کیا کیا کام کیا،بیویوں سے کیسے میل جول رکھا ،اور گھر میں آکر مسائل پوچھنے والی خواتین کو کیا کیا جواب دیا ،اسی طرح کے سینکڑوں مسائل ہیں جن سے ازواج مطہرات ؓ کے ذریعہ  ہی امت کو رہنمائی ملی ہے،۔۔۔صرف حضرت عائشہؓ سے احکام و مسائل ،اخلاق و آداب اور سیرت نبویؐ سے متعلق دوہزار دوسو دس روایات مروی ہیں جو کتب حدیث میں پائی جاتی ہیں ،حضرت ام سلمہ ؓ کی مرویات کی تعداد تین سو اٹہترتک پہنچی ہوئی ہے،۔۔۔حضرت عائشہؓ کا روایت و درایت اور فقہ و فتاویٰ میں جو مرتبہ ہے وہ محتاج بیان نہیں، ان کے شاگردوں کی تعداد دوسو کے لگ بھگ ہے، حضور اقدسؐ کی وفات کے بعد انہوں نے مسلسل اڑتالیس سال تک علم دین پھیلایا۔۔۔انبیاء اسلام کے مقاصد بلند اور پورے عالم کی انفرادی و اجتماعی ،خانگی اور ملکی اصلاحات کی فکروں کو دنیا کے شہوت پر ست انسان کیا جانیں ،وہ تو سب کو اپنے اوپر قیاس کرسکتے ہیں ۔۔۔آپؐ کے دشمنوں نے آپؐ پر ساحر ،شاعر،مجنون، کذاب،مفتری جیسے الزامات میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ،لیکن آپ ؐ کی معصوم زندگی پر کوئی ایسا حرف کہنے کی جرأ ت نہیں ہوئی جس کا تعلق جنسی اور نفسانی جذبات کی بے راہ روی سے ہو۔۔۔پچیس سال کی عمر سے لے کر پچاس سال کی عمر شریف ہونے تک تنہا حضرت خدیجہؓ آپ کی زوجہ رہیں،ان کی وفات کے بعد حضرت سودہ اور حضرت عائشہ سے نکاح ہوا ،مگر حضرت سودہؓ تو آپؐ کے گھر تشریف لے آئیں اور حضرت عائشہؓ صغر سنی کی وجہ سے اپنے والد کے گھر ہی رہیں،پھر چند سال کے بعد 2 سنہ ہجری میں مدینہ منورہ میں حضرت عائشہؓ کی رخصتی عمل میں آئی ،اس وقت آپؐ کی عمر چون سال ہوچکی ہے،اور دوبیویاں اس عمر میں آکر جمع ہوئی ہیں ،یہاں سے تعددِ ازواج کا معاملہ شروع ہوا۔۔۔آپؐ کی عمر شریف اٹھاون سال ہوچکی تھی، اور اتنی بڑی عمر میں آکر چار بیویاں جمع ہوئیں ،حالانکہ امت کو جس وقت چاربیویوں کی اجازت ملی اس وقت ہی آپؐ کم از کم چار نکاح کرسکتے تھے لیکن آپؐ نے ایسا نہیں کیا ، ان کے بعد سنہ 6 ہجری میں حضرت جویریہ ؓ سے ،اور سنہ 7ہجری میں حضرت ام حبیبہ ؓ سے اور پھر سنہ 7 ہجری میں حضرت صفیہؓ سے پھر اسی سال حضرت میمونہ ؓ سے نکاح ہوا۔۔50سال کی عمر تک آپؐ نے صرف ایک بیوی کے ساتھ گذارہ کیا ، پچیس سال حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ اور چار پانچ سال حضرت سودہؓ کے ساتھ گذارے ،پھر اٹھاون سال کی عمر میں چار بیویاں جمع ہوئیں،اور باقی ازواج مطہراتؓ دوتین سال کے اندر حرمِ نبوت میں آئیں۔۔۔اور یہ بات خاص طورپر سے قابل ذکر ہے کہ ان سب بیویوں میں صرف ایک ہی عورت ایسی تھیں  جن سے کنوارے پن میں نکاح ہوا،یعنی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ ۔۔۔۔۔ حضرت ام سلمہؓ کے شوہر حضرت ابوسلمہؓ کی وفات کے بعد آپؐ نے ان سے نکاح کرلیا تھا،وہ اپنے سابق شوہر کے بچوں کے ساتھ آپؐ کے گھر تشریف لائیں،ان کے بچوں کی آپؐ نے پرورش کی،اور اپنے عمل سے بتادیا کہ کس پیارو محبت سے سوتیلی اولاد کی پرورش کرنی چاہئیے،آپؐ کی بیویوں میں صرف یہی ایک بیوی ہیں جو بچوں کے ساتھ آئیںْ،اگر کوئی بھی بیوی اس طرح کی نہ ہوتی تو عملی طورپر سوتیلی اولاد کی پرورش کا خانہ خالی رہ جاتا اور امت کو اس سلسلے میں کوئی ہدایت نہ ملتی۔۔۔حضرت جویریہ ؓ ایک جہاد میں قید ہوکر آئی تھیں۔۔۔دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت ام حبیبہؓ  ابوسفیانؓ کی صاحبزادی تھیں، اور حضرت ابوسفیان اس وقت اس گروہ کے سرخیل تھے جس نے اسلام دشمنی کو اپنا سب سے بڑا مقصد قرار دیا تھا،اور وہ مسلمانوں کواور پیغمبر خداؐ کو اذیت دینے اور انہیں فنا کے گھاٹ اتار دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے،جب ان کو اس نکاح کی اطلاع ہوئی تو بلااختیار ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے۔"هو الفحل لا يُجدع أنفه "(یعنی محمدؐ جوانمرد ہیں ان کی ناک نہیں کاٹی جاسکتی) مطلب یہ کہ وہ بلند ناک والے معزز ہیں ان کو ذلیل کرنا آسان نہیں ،ادھر تو ہم ان کو ذلیل کرنے کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں اور ادھر ہماری لڑکی ان کے نکاح میں چلی گئی۔۔۔" وَلَن تَسْتَطِيعُواْ أَن تَعْدِلُواْ بَيْنَ النِّسَاء (4: 129)"عورتوں کے درمیان تم پوری برابری ہرگز نہ کرسکوگے"۔۔" فَلاَ تَمِيلُواْ كُلَّ الْمَيْلِ " یعنی اگر کسی ایک بیوی سے زیادہ محبت ہو تو اس میں تم معذور ہو لیکن دوسری بیوی سے کل بے اعتنائی اور بے توجہی اس حالت میں بھی جائز نہیں"۔۔۔مذکورہ بالا تفصیل و تشریح کو نظر انداز کردینے کی وجہ سے بعض لوگ سورۂ نساء کی آیت مذکورہ اور اس آیت(4: 129)کو ملانے سے ایک عجیب مغالطہ میں مبتلا ہوگئے ،وہ یہ کہ  آیت سورۂ نساء میں تو یہ حکم دیا گیا کہ اگر عدل و مساوات قائم نہ رکھنے کا خطرہ ہو تو پھر ایک ہی نکاح پر بس کرو، اور اس دوسری آیت میں قطعی طور پر یہ واضح کردیا کہ عدل و مساوات ہوہی نہیں سکتا،تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک سے زائدنکاح مطلقاًجائزنہ رہے۔(معارف القرآن)

-سرداروں کی بیٹیوں سے شادی کے بعد ،مخالفت ختم ہو گئی۔کیوں؟قبائلی معاشروں میں تو غیرت کے نام پر قتل ہو جاتے ہیں اور داماد اور بیٹی کے سسرال کی ایک خاص پوزیشن ہوتی ہے۔(انوار القرآن)

- یہ لوگ تو وہ تھے جو افراط کی طرف گئے اور کچھ لوگ تفریط کی طرف چلے گئے کہ عام اصول یہی ہے کہ صرف ایک عورت سے شادی کی جائے،ان کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ"اگر تمہیں خدشہ ہوکہ ان میں انصاف نہ کرسکوگے تو پھر ایک ہی کافی ہے۔"پھر اسی سورۂ کی آیت نمبر 129 میں فرمایا کہ"اگر تم چاہو بھی کہ اپنی بیویوں کے درمیان انصاف کرو تو تم ایسا نہ کرسکو گے ۔"گویا آیت نمبر23میں تعددازواج کی جو مشروط اجازت دی گئی تھی وہ اس آیت کی روسے یکسر ختم کردی گئی ۔لہذا اصل یہی ہے کہ بیوی ایک ہی ہونی چاہیے ۔۔۔نظریہ یک زوجگی کی دلیل اور اس کا رد:۔یہ استدلال اس لحاظ سے غلط ہے کہ اسی سورت کی آیت 129 میں آگے یوں مذکور ہے"لہذا اتنا تو کرو کہ بالکل ایک ہی طرف نہ جھک جاؤاور دوسری کو لٹکتاچھوڑدو"۔(تیسیر القرآن)

- یعنی تم پر نکاح کے باب میں کوئی تنگی نہیں، اپنی زیر نگرانی یتیم لڑکیوں کو زیر عقدلانے میں اتلافِ حقوق کا اندیشہ بھی ہو تو اس خیال کوجانے دو ،اور بجائے ان کے باہر والی آزاد عورتوں میں سے اپنے حسب پسند انتخاب کرلو، ایک ہی کا نہیں ،بلکہ ایک سے لے کر چار تک کی گنجائش ہے۔مثنیٰ وثلٰث وربٰع۔میں "و"عطف کا نہیں، تخییر کا ہے اور "او" کے مترادف ہے۔۔۔بلکہ فقہ کی بعض کتابوں میں تو نو9 کا قول بعض مستند اکابرِ اہل سنت مثلاً امام ابن ابی لیل اور امام ابراہیم نخعیؒ کی جانب بھی منسوب دیکھا گیاہے۔۔۔اگر نوہی کی تعداد منظور تھی تو صاف یہی کیوں نہ ارشاد ہوگیا،اس قدرگھوم پھیرکر بیان کرکے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ تعداد ازواج کی اجازت ہرگز کوئی ایسی چیز نہیں جس پر کسی مسلمان کو شرمانے اور اس کی طرح طرح کی تاویلیں کرنیکی ضرورت محسوس ہو،مرد کے قویٰ اور اس کے جسمانی ساخت و ترکیب ہی اس نوعیت کی ہے کہ بہ کثرت مردوں میں ایک بیوی مرد کی طبعی خواہش کی تشفی کیلئے کافی نہیں ہوتی،مردو عورت کے اتحاد و تناسل کا جہاں تک تعلق ہے مردکا عمل چند منٹ کے اندر ختم ہوجاتاہے،اور اس کے بعد مردپر جسمانی حیثیت سے کوئی ذمہ داری نہیں رہ جاتی، برخلاف اس کے عورت کیلئے اس دومنٹی عمل کے نتائج کا سلسلہ دنوں اور ہفتوں نہیں،حمل اور رضاعت کی مدت ملاکر ڈھائی ڈھائی سال،بلکہ اس سے بھی آگے تک پھیلاہو ارہتاہے ،پھر زمانۂ حمل کے علاوہ بھی ہر جوان، تندرست عورت کیلئے ہر مہینے ایک ایک ہفتے کی معذوری ایک امر طبعی ہے، اور وہ قانونی نظام  کامل نہیں ناقص ہے جو مرد کی طبعی ضرورتوں کی طرف سے آنکھ بند کرلے ،اور عورت کی طبعی معذوریوں کا لحاظ کرکے مرد کیلئے کوئی سہولت جائز رکھے ۔پھر یورپ کے بڑے بڑے ڈاکٹروں اور ماہرین حیاتیات کی شہادتیں اس عام تجربے اور مشاہدے کی تائید میں ہیں کہ نفس خواہش جنسی سے قطع نظر مرد کی شہوانی جبلت تنوع پسند بھی ہے،اس لئے جو شریعت مرد کی اس جبلت کی کوئی رعایت اپنے نظام میں نہیں رکھتی وہ اور کچھ بھی ہو بہرحال خدائی اور مطابق فطرت نہیں کہی جاسکتی ،یہی سبب ہے کہ تاریخ  پتا   دیتی ہے،داعیان توحید و پیمبران ِ برحق نے اس دستور کو نہ صرف جائز رکھاہے بلکہ اس پر عمل کرکے اسے اور زیادہ قوت پہنچادی ہے، حضرت ابراہیمؑ،حضرت یعقوبؑ ،حضرت موسیٰؑ،حضرت داؤدؑ،حضرت سلیمانؑ میں سے کسی کے یہاں بھی ایک زوجی روایت کی سند نہیں ملتی ،بلکہ بعض کی حرم سرا تو مشہورہی کثرتِ تعداد کیلئے ہے،ہند قدیم میں اکابر ہنود کی بابت بھی زوجی روایتیں وحدت کی نہیں تعدد ہی کی ہیں، اور یورپ و امریکہ میں آج عقد ِ نکاح کو درمیان میں لائے بغیر شہوانی اندھیرکھلے بندوں ہورہاہے ،اس کی نقل و حکایت کی بھی تاب ان صفحات میں نہیں۔۔۔اسلام نے ایک طرف تو یک زوجی کی قید اڑا کر تعدد کو سند جواز دے دی،اور دوسری طرف اس کی مناسب حدبندیاں بھی کئی کئی طرح کردیں اور یہی اس کی حکمت کا کمال ہے۔۔۔وان خفتم۔ان کے لفظ سے یہ نتیجہ نکالنا کہ جواز تعدد ازواج کیلئے ،یتیم لڑکیوں کے ساتھ ناانصافی کا اندیشہ ،بطور شرط لازم کے ہے،یکسر غلط فہمی ہے،قرآن مجید میں متعدد آیاتِ احکام ایسی ہیں جو شروع"ان"سے ہوتی ہیں،مگر یہ مرادنہیں ہوتی، اگر وہ شرط پوری نہ ہوئی تو حکم کا نفاذ بھی نہ ہوگا ،مثلاً ایک آیت سورۂ النورکی ہے: وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّناً ۔اپنی باندیوں کو زنا کرنے پر مجبور نہ کرو ،اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہیں۔اس کا یہ مطلب کون لے سکتاہے کہ اگر باندیاں پاکدامن نہ رہنا چاہیں تو انہیں زناکاری پر مجبورکردو؟اسی طرح اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ (اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے ہی بندے ہیں)کا یہ مطلب کون لے سکتاہے، اگر توانہیں عذاب نہ دے تو یہ تیرےبندے نہیں؟ وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا (اگر یہ لوگ صلح کیلئے جھکیں تو آپ بھی صلح کیلئے جھک جائیے)سے یہ مفہوم کون لے سکتا ہے کہ کافروں سے صلح صرف اسی وقت ہوسکتی ہے،جب وہ پہلے صلح کیلئے جھکیں ،اور اس کے سوا کوئی اور صورت جائز نہیں؟اسی طرح جہاں قصرِ صلوٰۃ کا حکم ہے وہاں الفاظ یہ ہیں"وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُواْ مِنَ الصَّلاَةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ "گویا قید یہ لگی ہوئی ہے کہ قصر نماز کا حکم مسافر کو اس صورت میں ہے، جب کافروں سے ستائے جانے کا خطرہ درپیش ہو، لیکن مفسر،کس فقیہہ نے آج تک یہ معنیٰ لئے ہیں؟ کس نے نماز قصر کے حکم کو سفر میں اس خوف کے ساتھ مقید کیا ہے؟ اجماع امت اور اسوۂ رسول دونوں ہی سے قصرِ صلوٰۃ ِ سفر کا حکم عام ہے۔۔۔پھر اگر آیت کا مطلب وہی ہو،جو بیسویں صدی کے مغرب زدہ مفسرین نے نکالا ہے تو خود رسول کریمؐ اور صحابہ کرامؓ نے جو اس کثرت سے تعدد ازواج کو برتاہےتو کیا ہر جگہ یا اکثر جگہ،یہی صورت یتیم عورتوں سے ناانصافی کے اندیشہ کی پیش آرہی تھی؟۔۔۔عدل سے یہاں مراد ادائے حقوقِ واجب میں عدل و مساوات ہے جو انسان کے قصد و اختیار کے اندر کی چیز ہے،مثلاً یہ کہ کوئی بیوی بغیر کھائے،کپڑے ،مکان کے نہ رہے ،باقی جہاں تک محبتِ طبعی اور تعلق ِ قلب کا سوال ہے ، اس میں مساوات قدرتِ بشری سے باہر ہے ، اور اس باب میں شریعت نے کوئی گرفت نہیں رکھی ہے۔۔۔۔فقہاء نے عدل بین الازواج کو فرض قرار دیا ہے لیکن خود عدل کی تفسیر عدم ظلم سے کی ہے کہ کسی پر زیادتی نہ ہونے پائے۔۔۔ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا ۔خوب خیال کرلیا جائے کہ آیت مخاطب کون ہیں، اور وحدت ِ ازواج کا حکم کس کو مل رہاہے؟ظاہرہے کہ خود شوہروں کو،نہ کہ حکامِ وقت کو۔۔۔عقلاً بھی ظاہر ہےکہ عدل و حسن معاشرت کا فیصلہ شوہر خود ہی کرسکتاہے نہ کہ کوئی دوسرا،اس لئے جو لوگ اس سراسر نجی اور ذاتی معاملہ میں حکومت کو مداخلت کی دعوت دیتے ہیں،وہ غلطی ہی پر ہیں۔(تفسیر ماجدی)

حق مہر کا تعین:۔ یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ حق مہر کتنا ہونا چاہیے؟اس سلسلہ میں سب سے پہلے ہمیں سنت نبویؐ کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔چناچہ ابوسلمہؓ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ ؐ کی بیویوں کا مہر کتنا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ "بارہ اوقیہ چاندی اور نش" پھر سیدہ عائشہ نے مجھ سے پوچھا ،جانتے ہونش کیا ہے؟میں نے کہا نہیں۔توکہنے لگیں:نش سے مراد نصف ہے اور یہ کل ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی پانچ سودرہم ہوئے ۔رسول اللہؐ کا اپنی بیویوں کیلئے یہی حق مہر تھا۔"(مسلم:کتاب النکاح،باب الصداق)۔۔۔ہم ان دونوں روایات میں سے مسلم میں سیدہ عائشہ ؓ والی حدیث کے مطابق ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی(ایک اوقیہ 40 درہم)یا 500 درہم والی روایت کو ترجیح دیتے ہیں۔درہم چاندی کا ایک سکہ تھا۔جس کا وزن 3ماشےایک بٹہ پانچ رتی ۔اس حساب سے 131بٹہ ایک بٹہ 4 تولے چاندی ہوئی اور اگر موجودہ حساب سے 150 روپیہ فی تولہ فرض کیا جائے تو یہ آج کل 50۔19687 روپے پاکستانی بنتے ہیں۔۔۔۔قرآن مجید نے حق مہر کو مرد کی مالی حیثیت سے مشروط کیا ہے۔اگر ہم ازواج مطہرات کے مختلف حق مہروں کا حساب لگائیں تو سیدہ ام حبیبہ کا حق مہر 4000 درہم یا 400 دینار تھا۔سیدہ خدیجہ کا حق مہر 20 اونٹ تھا(لگ بھگ 5 لاکھ قیمت)جبکہ ازواج مطہرات کا اوسط حق مہر 500 درہم یا 50 دینار تھا۔ (واضح رہے کہ درہم چاندی کا اور دینار سونے کا سکہ تھا۔ایک دینار دس درہم کے مساوی تھا۔فقہ الزکوٰۃ للقرضاوی)اگر 500درہم چاندی کا حساب لگایا جائے تو یہ ہمارے حساب سے 131 بٹہ ایک بٹہ چار تولے بنتی ہے۔اگر 150 روپے تولہ چاندی (موجودہ نرخ)ہو تو یہ قیمت  50۔19687 روپے پاکستانی بنتی ہے اور اگر 50 دینار کا حساب لگایا جائے تو یہ موجودہ 50۔212 گرام سونا بنتاہے۔اسی حساب سے اس رقم کا تعین کیا جاسکتاہے۔بہرحال رسول پاک کے ان مختلف مہروں میں سے کوئی ایک اپنی مالی حیثیت کے مطابق اختیار کیا جاسکتاہے۔۔۔اب اسی سے متعلق ایک تیسری روایت بھی ملاحظہ فرمایئے۔جب سیدنا عمرؓ لوگوں سے یہ خطاب فرمارہے تھے تو ایک عورت پکار اٹھی(کیونکہ یہ بات عورتوں کے حقوق سے تعلق رکھتی تھی)کہ"تم یہ کیسے پابندی لگاسکتے ہوجبکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے"وَّ اٰتَیْتُمْ  اِحْدٰىهُنَّ  قِنْطَارًا "(4۔2)"یعنی اگرچہ تم اپنی کسی بیوی کو خزانہ بھر بھی بطور حق مہر دے چکے ہو"عورت کی یہ بات سن کر سیدنا عمرؓ  بے ساختہ پکار اٹھے۔"مجھے معاف فرما،یہاں تو ہر شخص عمرؓ سے زیادہ فقیہ ہے۔"پھر منبر پر چڑھے اور کہا"لوگو!میں نے تمہیں چارسودرہم سے زیادہ حق مہر باندھنے سے روکا تھا ۔ میں اپنی رائے واپس لیتا ہو۔تم میں سے جو جتنا چاہے ،مہر دے۔"۔۔ان احادیث کے علاوہ ایک اور متفق علیہ حدیث ہمیں سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے متعلق ملتی ہے کہ انہوں نے ایک کھجور کی گٹھلی بھر سونا حق مہر کے عوض ایک انصاری عورت سے نکاح کیا تھا لیکن یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ وہ گٹھلی کتنی بڑی یا چھوٹی تھی اور اس کا وزن کتنا تھا۔سونا چونکہ سب سے وزنی دھات ہے اس لیے گمان یہی ہےکہ وہ بھی چھ سات تولے سونے کے لگ بھگ ہوگی۔۔۔ ان تمام احادیث سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ حق مہر خاوند کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے اور ایسا ہونا چاہیے جس پر فریقین راضی اور مطمئن ہوں اور آج کل پاکستانی کرنسی کے حساب سے اس کا درمیانی سامعیار تیس ہزار روپے ہے۔(تیسیر القرآن)

- عَنْ  شَیْءٍ ۔چاہے وہ جز چھوٹا ہویا بڑا،یہاں تک کہ کل کا کل بھی ،بی بی اگر شوہر سے وصول کرکے پھر اسے واپس کردے تو اسے ہبہ کہیں گے اور اگر لئے بغیر پہلے ہی معاف کردے تو اس کا نام اصطلاح فقہ میں براء ہے اور شرعاً دونوں صورتیں بالکل درست ہیں۔۔۔فکلوہ ھنیئاً مریئاً۔ محاورۂ زبان میں مراد اس کے لفظی معنی مزہ دار و خوشگوار طعام نہیں،بلکہ مراد یہ ہے کہ بی بی کی اجازت کے بعد اس مال کو بے تکلف اپنے تصرف و استعمال میں لاسکتے ہو۔(تفسیر ماجدی)

6۔ واضح رہے کہ پاکستان میں نکاح نامہ پر بلوغت کی جو عمر درج ہے کہ لڑکی 16 سال اور لڑکا 18 سال سے کم نہ ہو یہ حد بندی غیرشرعی ہے۔اور بالغ ہونے کے بعد ہی نکاح کی قید لگانا بھی غیر شرعی ہے ۔نیز اس میں نکاح ثانی کیلئے پہلی بیوی کی اجازت حاصل کرنے کی شرط بھی غیر شرعی ہے۔اسی طرح عورت کے حق طلاق کی شق بھی غیر شرعی ہے۔(تیسیر القرآن)

- ۔۔۔اور بلوغ کی عمر حنفیہ کے ہاں لڑکے کیلئے 18 سال اور لڑکی کیلئے 17 سال کی رکھی گئی ہے۔۔۔حدِّ کبر میں داخل ہونے کے بعد جائدادبہر حال صحیح الحواس اصل مالک کو مل جائے گی،خواہ رشد سے انتظامی صلاحیت حاصل ہو یا نہ ہو،فاترالعقل کے احکام الگ ہیں۔۔۔اور حدِّ کبر میں داخل ہونے کی عمر امام ابوحنیفہؓ کے یہاں 25 سال کی ہےکہ اس سن میں انسان دادا بن سکتاہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ اس آیت میں واضع  طور پر پانچ قانونی حکم دیے گئے ہیں: ایک یہ کہ میراث صرف مردوں کا حصہ نہیں ہے بلکہ عورتیں بھی اس کی حق دار ہیں۔ دوسرے یہ کہ میراث بہر حال  تقسیم ہونی چاہیے خواہ وہ کتنی ہی کم ہو حتیٰ کہ اگر مرنے والے نے اگر ایک گز  کپڑا چھوڑا ہے اور دس وارث ہیں تو اسے بھی دس حصوں میں تقسیم ہونا چاہیے۔ یہ اور بات ہے کہ ایک وارث دوسرے وارث سے اس کا حصہ خرید لے۔ تیسرے یہ کہ  وراثت کا قانون ہر قسم کے اموال و املاک پر جاری ہو گا۔  خواہ وہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ، زرعی ہو یا صنعتی یا کسی اور صنفِ مال میں شمار ہوتے ہوں۔ ۔ چوتھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میراث کا حق  اس وقت پیدا ہوتا  ہے  جب موروث کوئی مال  چھوڑ مرا ہو۔پانچویں اس سے یہ قاعدہ بھی نکلتا ہے  کہ قریب تر رشتہ دار کی موجودگی میں بعید تر رشتہ دار میراث نہ پائے گا۔  (تفہیم القرآن)


دوسرا رکوع

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا 11 خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے۔یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
 وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ   12 اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ۔ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) ۔ اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے۔
 تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ 13 (یہ تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گےاور یہ بڑی کامیابی ہے۔
 وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ ۧ  14 اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدوں سے نکل جائے گا اس کو خدا دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کو ذلت کا عذاب ہوگا۔

تفسیر آیات

11۔۔۔ایک یہ کہ کوئی شخص اپنے تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہیں کرسکتا اور دوسرے یہ کہ وصیت ذوی الفروض کے حق میں نہیں کی جاسکتی۔۔۔۔اور جب مرد کمانے کے قابل نہیں رہتامثلاً باپ ،داداوغیرہ تو اس کا حصہ عورت یعنی ماں ،دادی وغیرہ کے برابر ہوتاہے۔۔۔۔اگر میت کی اولادبھی ہواور والدین بھی تو والدین میں سے ہر ایک کو ایک بٹہ 6 حصہ (یہاں مرد عورت کا حصہ برابر ہوگیا)باقی 3/2 اولاد کو ۔،مثلاًاولاد دوبیٹیاں ہیں تو باقی 3/2 ان کو مل جائے گااور اگر ایک بھائی بھی ہے تو پھر 3/2 کے چار حصے کیے جائیں گے ۔دوحصے بیٹے کو ملیں گے اور ایک ایک دونوں بیٹیوں کو ۔کیونکہ اب بھائی ان بہنوں کا کفیل ہوگا۔(تیسیر القرآن)

۔ دوسری چیز یہ ہے کہ وراثت میں لڑکوں کا حصہ اللہ تعالیٰ نے لڑکیوں کے با لمقابل  دونا رکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے نظامِ معاشرت  میں کفالتی ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ نے تمام تر مرد پر ہی ڈالی ہیں۔ مرد ہی  بیوی کے نان نفقے کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور وہی بچوں کا بھی کفیل بنایا گیا ہےقرآن نے یہ بات بھی واضع طور پر بتا دی ہے  کہ اپنی خلقی صفات کے اعتبار سے مرد ہی اس کا اہل ہے  کہ وہ خاندان کا سردھرا اور قوّام بنایا جائے اور یہ قوّامیت  ، خاندان کے نظم اور اس کے قیام و بقا کے لیے نا گزیر ہے۔ اگر خاندان  کا کوئی قوّام نا ہو تو یہ بات خاندان کی فطرت کے خلاف ہےاور اگر خاندان کی قوّام مرد کی بجائے عورت ہو  تو یہ چیز انسانی فطرت کے خلاف ہے اور فطرت کی ہر مخالفت لازماً   فساد و اختلال کا سبب ہو گی جس سے سارا معاشرہ درہم برہم ہو کر رہ جائے گا ۔ یہ چیز مقتضی  ہوئی کہ مردکو  اس کی ذمہ داریوں  کے لحاظ سے بعض  حقوق میں ترجیح ہو ۔ جو لوگ ہر پہلو  سے مرد و عورت کی کامل مساوات کے مدعی  ہیں  ان کا دعویٰ عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے۔  (تدبرِ قرآن)

12۔ میت اگر عورت ہے تو اس کے خاوند کو آدھا ترکہ ملے گا ۔بشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو اور اگر اولاد ہو تو خاوند کو 4/1 ملے گا۔اور اگر میت مرد ہے تو بیوی کو 4/1 ملے گابشرطیکہ میت کی اولاد نہ ہو اور اگر بیویاں ایک سے زیادہ ہوں تو 4/1 ان میں برابر تقسیم ہوگا۔اور اگر میت کی اولاد بھی ہو وہ کسی بھی بیوی سے ہو تو بیو ی یا بیویوں کو 8/1 ملے گا ۔ایک سے زیادہ بیویوں کی صورت میں یہ ان میں برابربرابر تقسیم ہوگا۔(یہ زوجین کے حصے ہوئے)۔۔۔بھتیجے کا حصہ پھوپھی سے۔سیدنا عمرؓ(تعجب سے)فرمایا کرتے تھے کہ"بھتیجا تو پھوپھی کا وارث ہے مگر پھوپھی بھتیجے کی وارث نہیں(موطا۔کتاب الفرائض،باب فی میراث العمۃ)۔۔۔وارثو ں کی اقسام ۔ عصبات ۔عصبہ میت کے قریب ترین رشتہ دار کو کہتے ہیں اور ذوی الفروض کی ادائیگی کے بعد جو بچے وہ اسے ملتاہے۔جیسے سعد بن ربیع کے بھائی کو آپ نے دو بیٹوں کا 3/2 اور بیوی کا8/1 نکال کر باقی 24/5 حصہ دلایا تھا۔ عصبہ کے متعلق آپؐ نے فرمایا :"اللہ کے مقرر کردہ حصے حصہ داروں کو اداکرو۔پھر جوباقی بچے وہ قریب ترین رشتہ دارمرد کا ہے۔"(بخاری،کتاب الفرائض،باب میراث الولد من ابیہ وامہ۔مسلم ۔کتاب الفرائض۔باب الحقوا الفرائض باھلھا۔)بسااوقات ذوی الفروض عصبہ کے ساتھ مل کر عصبہ بن جاتے ہیں مثلاً میت کی اولاد صرف دوبیٹیاں ہیں۔ نہ والدین ہیں نہ بیوی۔تو بیٹیوں کو 3/2 ملے گا اور باقی کیلئے عصبہ تلاش کرنا پڑے گا لیکن اگر ان بیٹیوں کے ساتھ ایک بیٹا ہو تو بیٹا چونکہ عصبہ ہے لہذا وہ بہنوں کو بھی عصبہ بنادے گا اور تقسیم اس طرح ہوگی ،بیٹے کا 2/1 اور دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کا 4/1۔عصبہ کی تلاش ۔عصبہ سب سے پہلے اولاد سے دیکھا جائے گا۔پھر اوپر کی طرف سے ۔پھر چچاؤں میں سے پھر ان کے بیٹوں سے۔۔۔۔عرب میں رائج وراثت کے تین طریقے اسلام کا قانون میراث نازل ہونے سے پیشتر عرب میں وراثت کے تین طریقے رائج تھے(1)ایک دوسرےسے عہد یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کو کہہ دیتا کہ میری جان تیری جان ،میرا خون تیرا خون ،میں تیرا وارث تو میرا وارث ۔جب کوئی شخص کسی سے ایسا عہد کرلیتا تو اس کے مقابلہ میں بھائی یا بیٹے کسی کو بھی ورثہ نہیں  ملتا تھا۔(2)اور اقرباء کو وراثت سے محروم کرنے کا دوسرا طریقہ متبنیٰ بنانے کا تھا۔ اگر کسی کی نرینہ اولاد نہ ہوتی تو وہ کوئی متبنیٰ بنا لیتا تھا جو اس کی پوری میراث کا حقدار سمجھا جاتا تھا(3)اور اگر اولاد میں میراث تقسیم ہوتی تو اس کی صورت یہ تھی کہ حصہ صرف ان بیٹوں کو ملتا تھا جو میت کی طرف سے نیزہ لے کر لڑسکتے تھے۔ اسلام کے قانون میراث نے پہلے دوطریق کو تو کلیتاً منسوخ کردیا اور تیسرے میں یہ اصلاح کی کہ ورثہ لڑکیوں کو بھی ملے، چھوٹے بچوں اور والدین کو بھی ملے۔۔۔اسلامی قانون وراثت کا مدار تین چیزوں پر ہے :نسب، نکاح اور ولاء (1)نسب میں تین پہلوؤں کو اس ترتیب سے ملحوظ رکھا کہ سب سے پہلے اولاد کا جیساکہ ابتدا ہی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا "یُوصیکُمُ اللّهُ فی أَوْلادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَیَیْنِ"دوسرے نمبر پر والدین کے حصوں کا ذکر ہواا ور تیسرے نمبر پر بہن بھائیوں کاذکر ہے۔(2)نکاح سے مراد مختلف صورتوں میں میاں بیوی کے حصوں کا ذکر ہے۔(3)ولاء سے مراد یہ ہے کہ ایک ایسا غلام جس کا کوئی رشتہ دار موجود نہ ہو تو اس کا وارث وہ مالک ہوتاہے جس نے اسے آزاد کیا تھا اور یہ صورت آج کل مفقود ہے۔(تیسیر القرآن)

- امام رازیؒ نے یہاں یہ سوال پیدا کیا ہے کہ النساء تو خود ہی صیغۂ جمع ہے،پھر اس کے ساتھ فوق اثنتین ۔لانے کی کیا ضرورت تھی؟اور خود ہی جواب دیا ہے کہ یہ تاکید ِ کلام کی غرض سے ہے، جیساکہ قرآن مجید کی بعض دوسری آیتوں میں بھی استعمال ہواہے۔مثلاً۔ اِنَّمَا  یَاْكُلُوْنَ  فِیْ  بُطُوْنِهِمْ  نَارًا ۔ یا  لَا تَتَّخِذُوا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ ۔۔۔لڑکیاں اگر صرف دوہوں تو ان کا کل حصہ 2 بٹہ 3 ہونا ظاہرہے،ہر ایک کو 1بٹہ 2 کے حساب سے ،لیکن یہ شرح یہیں ختم ہوجاتی ہے، تین کو 3 بٹہ 3 یعنی کل کا کل نہیں مل جائے گا،بلکہ لڑکیاں جتنی بھی ہوں ان کا مجموعی حصہ ترکہ کا 2 بٹہ 3 ہی رہے گا،باقی 1بٹہ 3 میں اور اعزّۂ خاص شریک ہونگے،تفصیل فرائض کی کتابوں میں ملے گی۔۔۔(کل ترکہ)اور بقیہ نصف حصہ میں دوسرے متعین اعزہ شریک ہونگے لیکن اگر وہ نہ موجود ہوئے تو پھر وہ نصف بھی اس لڑکی کی طرف عود کرآئے گا۔۔۔اور بقیہ 5 بٹہ 6 اولاد اور دوسرے وارثوں میں تقسیم ہوگا۔۔۔۔۔۔اور بقیہ دوتہائی باپ کا۔۔۔۔۔۔۔(اور بقیہ 5بٹہ 6 حصہ باپ کا )باپ کے باعث بھائی بہنوں کو حصہ نہ ملے گا۔۔۔فقہاء نے یہاں دوقاعدے اور بیان کئے ہیں، ایک یہ کہ قرض اور وصیت میں ادائے قرض مقدم ہے،گوقرآن مجید میں لفظ وصیت پہلے مذکور ہے۔۔۔۔۔۔۔۔او۔لفظ او لانے سے اشارہ ادھر نکل رہاہے کہ وجوب کے لحاظ سے اجراءِ وصیت اور ادائے دین برابرہی ہیں۔۔۔اور ادائے دین کا تقدم حکم نبویؐ کی بناپر ہے۔۔۔فقہاء نے ذکر کیا ہے کہ چند حالات ایسے بھی ہوسکتے ہیں جن میں میراث جاری نہ ہوگی۔ مثلاً (1)وارث مرتد ہوجائے(2)وارث اپنے مورث کے قتل عمد کا مجرم ہو(3)وارث جاکر دارالحرب میں قیام اختیار کرلے،تفصیل ان موانع کی میراث کی کتابوں میں ملے گی۔(تفسیر ماجدی)

12۔ اور بیبیاں اگرکئی ہوں تو شوہر کے ترکہ کی وہی چوتھائی سب میں برابر تقسیم ہوجائے گی۔۔۔۔۔۔(اور شوہر کے ترکہ کا بقیہ7 بٹہ8 دوسرے وارثوں کی طرف جائے گا)بیبیوں کو 1بٹہ 8 بہر صورت ملے گا خواہ اولاد ہو یا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔یعنی مورث کسی وارث کو نقصان نہ پہنچائے نہ عملاً نہ ارادۃً ،عملاً کی مثال یہ کہ وصیت 1بٹہ 3 سے زائد کردی ،ایسی وصیت قانونِ شریعت کیخلاف ہونے کی بناپر ناقابل ِ نفاذ ہوگی،ارادۃً یہ کہ وصیت رکھے 1بٹہ 3 کے اندر ہی لیکن نیت و مقصود یہ ہو کہ وارث کا حصہ کٹ جائے۔(تفسیر ماجدی)

13۔اللہ تعالیٰ نے جن رشتوں کو کسی مورث کا وارث قراردیا ہے ان کے لیے اس نے انصاف اور حکمت پر مبنی وصیت خود فرمادی ہے اور یہ اس کی ٹھہرائی ہوئی حدود ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی مورث کسی وارث کے لیے وصیت کرتاہے تو وہ خدا کی مقرر کردہ حدوں کو توڑتاہے ۔اس سے یہ بات نکلی کہ وصیت کی جو اجازت ہے وہ صرف غیر وارثوں کے لیے ہے،وارثوں کے لیے نہیں۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحی)

۔تاہم یہ نکتہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ اگر عملا" وصیت مؤخر  ہے، تو لفظا"  اس کو دین سے پہلے کیوں بیان کیا گیا، صاحبِ روح المعانی اس بارے میں لکھتے ہیں:۔  ۔۔۔ بخلاف وصیت کے کہ جب میت مال چھوڑتا ہے تو  اس کا یہ بھی دل چاہتا ہے کہ صدقہ جاریہ کے طور پر اپنے مال کا  حصہ کسی کارِ خیر میں صرف کر جائے، یہاں چونکہ اس مال میں کسی کی طرف سے مطالبہ نہیں ہوتا، اس لیے وارثوں کی طرف سے کوتاہی کا امکان تھا، جس کا سدِ باب کرنے کے لیے بطورِ خاص ہر جگہ وصیت کو مقدم کیا گیا۔  ۔۔۔ دَین یا وصیت  کے ذریعہ ضرر پہنچانے  کی کئی  صورتیں ممکن ہیں۔ ، مثلا یہ کہ قرض کا جھوٹا اقرار کر لے، کسی دوست وغیرہ کو دلانے کے لیے ، یا اپنے مخصوص مال کو جو  اس کا اپنا ذاتی ہے یہ  ظاہر کر دے کہ فلاں شخص کی امانت ہے، تا کہ اس میں میراث نا چلے، یا ایک تہائی سے زائد مال  کی وصیت کرے، یا کسی شخص پر اپنا قرض ہو اور وہ وصول نا ہوا ہو، اور جھوٹ کہہ دے کہ وصول ہو گیا ہے تا کہ وارثوں کو نا مل سکے یا مرض الوفات میں ایک تہائی سے زیادہ کسی کو ہبہ کر دے۔  (معارف القرآن)

14۔ یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ: اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں یتیموں سے خیر خواہی ،ان سے انصاف اور ان کے حقوق کی نگہداشت کی بڑی تفصیل سے تاکید فرمائی ۔لیکن یہ ذکر نہیں فرمایا کہ یتیم پوتا بھی وراثت کا حقدار ہوتاہے۔اس مسئلہ کی اہمیت یہ ہے کہ رسول اللہؐ خود عبدالمطلب کی وفات کے وقت ان کے یتیم پوتے تھے لیکن وراثت سے حصہ نہیں ملا۔نہ ہی اللہ نے اس کا کہیں ذکر فرمایا ۔حالانکہ اگر یتیم پوتے کو وراثت میں حصہ دلانا اللہ کو منظور ہوتاتو اللہ تعالیٰ اس کے متعلق بھی قرآن میں کوئی واضح حکم نازل فرمادیتے ۔اور ایسے حکم کا نازل نہ ہونا ہی اس بات کی قوی دلیل ہے۔ کہ یتیم پوتا اپنے چچا یا چچاؤں اور پھوپھیوں وغیرہ کی موجودگی میں وراثت کا حق دار نہیں ہوتا ۔بلکہ وہ اپنے مرنے والے باپ کی وراثت کا ہی حقدار ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)


تیسرا رکوع

وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا  15 مسلمانو تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی شہادت لو۔ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کردے یا خدا ان کے لئے کوئی اور سبیل (پیدا) کرے۔
وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا 16 اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے۔
 اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا  17 خدا انہی لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو نادانی سے بری حرکت کر بیٹھے ہیں۔ پھر جلد توبہ قبول کرلیتے ہیں پس ایسے لوگوں پر خدا مہربانی کرتا ہے۔ اور وہ سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے۔
وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا  18 اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو (ساری عمر) برے کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو اس وقت کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان کی (توبہ قبول ہوتی ہے) جو کفر کی حالت میں مریں۔ ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا 19 مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو۔ انہیں (گھروں میں) مت روک رکھنا ۔ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا مناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح رہو سہو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے۔
 وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا 20 اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو۔ اور پہلی عورت کو بہت سال مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لے لوگے؟
 وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا 21 اور تم دیا ہوا مال کیونکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہے۔
 وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠   ۧ ۧ  22 اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا)۔ یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا۔

تفسیر آیات

15۔ احکام میراث کے خاتمہ پر ایسی شدید وعید کا آنا اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ کے ہاں ان احکام کی عظمت و اہمیت کس درجہ ہے۔۔۔اور احادیث نبویؐ میں اور بھی وعید یں وارد ہوئی ہیں۔احکام ظاہری فقہی کو حقیر سمجھنے والے کا ش ان حقیقتوں پر نظر رکھیں!۔۔۔زنا کی ایک سزا ابتداء اسلام میں عمر قید یا دائم الحبس تھی۔ اربعۃ منکم۔اربعۃ اول تو نصاب شہادت اس معاملہ میں دوگنا ہے یعنی جہاں مسلمان مرد یا عورت کی عزت کا سوال ہے گواہوں کی تعداد بجائے دو کے چار ہونا چاہیے اور پھر یہ چاروں :۔(1)مسلم ہوں ،غیرمسلم نہ ہوں(2)آزاد ہوں،غلام نہ ہوں(3)عاقل ہوں،فاتر العقل نہ ہوں(4)بالغ ہوں نابالغ نہ ہوں(5)گواہی چشم دید دیں ،سماعی یا قیاسی شہادت کا یہاں دخل نہیں۔۔۔چنانچہ کچھ روز بعد سورۂ النور میں قرآن ہی کے ذریعہ سے دوسری سزا تجویز ہوئی یعنی زانی مرد،اور زانی عورت دونوں کیلئے سو سو تازیانے۔اور سنت رسولؐ نے اس کی مزید تشریح یہ کی کہ یہ سزاء زناء محض کی ہے اور جب ارتکاب زنا سے حق شوہر کا بھی اتلاف ہورہاہویعنی عورت بیاہی ہوئی ہو تو ایسے جرم کی سزا سنگساری ہے۔(تفسیر ماجدی)

 ــــ صنفی انتشار اور شہوانی بے قیدی سے مسلم معاشرہ کو بچانے کے لیےیہ ابتدائی حکم ہے۔ یہ اس عورت کا حکم ہے جو مسلمان ہو لیکن اس کا شریک مرد اسلامی معاشرہ کے دباؤ میں نہیں ہے۔اس باب میں آخری حکم  سورہ نور میں نازل ہوا۔اس کے بعد اس آیت کی تعزیرات منسوخ ہوگئیں لیکن بدکاری کے معاملےمیں شہادت کا یہی ضابطہ بعد میں بھی رہا۔(ترجمہ، مولاناامین احسن اصلاحیؒ)

16۔زنا ہو یا  اغلام یا چپٹی بازی ہو یا محض تہمت ہو۔ ان سب میں چارمردوں کی شہادت ضروری ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے ہرایک دعویٰ میں دوافراد ملوث ہوتے ہیں خواہ ایک مرداور ایک عورت ہویا دونوں عورتیں ہوں یا دونوں مرد ہوں۔(تیسیر القرآن)

وَ  الَّذٰنِ  یَاْتِیٰنِهَا میں ھا کی ضمیر فاحشۃ کی طرف ہے،یعنی کوئی بھی جوڑا جو حرام کا مرتکب ہو،اس عموم میں ہرطرح کے مرتکب آگئے بجز فاتر العقلوں کے،الذان صیغہ تثنیہ مذکر ہے،لیکن تغلیباً یہ ایک مرد اور ایک عورت کیلئے بھی آتاہے،چنانچہ حنیفہ نے اس کو اسی معنی میں لے کر اس کا مفہوم زانی مرد،اور زانیہ(عورت)کا رکھا ہے،دوسرے ائمہ نے البتہ لفظ کے معنیٰ "دومرد"لے کر اس کا تعلق زناسے نہیں بلکہ لواطت سے سمجھا ہے،تفصیلات فقہ کی کتابوں میں ملیں گی،پہلی آیت کا تعلق صرف زانیہ سے، اور دوسری کا زانی اور زانیہ دونوں سے۔(تفسیر ماجدی)

ــــ یعنی جب بدکاری کا ارتکاب کرنے والا  مرد اور عورت  دونوں مسلمانوں ہی سے تعلق رکھتے ہوں ان کو ایذادی جائے۔اس باب میں بھی آخری حکم سورہ نور میں نازل ہوا۔(ترجمہ،مولاناامین احسن اصلاحیؒ)

18۔ ایں درگہِ مادرگہِ نومیدی نیست صدبار اگر تو بہ شکستی بازآ   (تفہیم القرآن)

ــــ جہالت  کے معنی صرف نہ جاننے کے نہیں آتے بلکہ اس لفظ کا غالب استعمال جذبات سے مغلوب ہوکر کوئی شرارت یا ظلم یاگناہ کا کام کرنے کے معنی میں ہے۔ان آیتوں سے توبہ کی قبولیت اور عدم قبولیت کی دوصورتیں معین ہوجاتی ہیں۔جو لوگ جذبات سے مغلوب ہوکر کوئی برائی کربیٹھتے ہیں،پھر فوراًتوبہ اور اصلاح کرلیتے ہیں،اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر ان کی تو بہ قبول کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔اس کے برعکس جولوگ برابر گناہ کیے چلے جاتے ہیں ،جب ملک الموت ان پر آدھمکتاہے اس وقت وہ توبہ کرتے ہیں ،یا وہ جو کفر کی حالت ہی میں مرتے ہیں ،ان کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔جن لوگوں کا معاملہ ان دونوں صورتوں کے درمیان ہے،ان کے بارے میں آیت خاموش ہے اور یہ خاموشی جس طرح امید پیدا کرتی ہے اسی طرح خوف بھی پیداکرتی ہے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔خلاصہ یہ ہے کہ انسان کوئی گناہ قصدًا کرے یا خطاءً  دونوں  حالت میں گناہ جہالت ہی سے ہوتا ہے، اسی لیے صحابہ و تابعین ؒ اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص قصدًا کسی گناہ کا مرتکب ہو اس کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ (بحرِ محیط)۔۔۔۔ خلاصہ یہ ہے کہ "مِن قریب" کی جو تفسیر خود رسولِ کریم ؐ نے فرمائی، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی پوری عمر کا زمانہ  قریب ہی میں داخل ہے۔ موت سے پہلے پہلے جو توبہ کر لی جاوے قبول ہو گی، البتہ  غرغرۂ موت کے وقت کی توبہ مقبول نہیں۔۔۔۔      ا لبتہ یہ ضروری ہے کہ توبہ سچی اور  توبۃ النصوح ہو، جس  کے تین رکن ہیں ، اول اپنے کیے پر ندامت اور شرمساری، حدیث میں ارشاد ہے:  " انماالتوبۃ  الندام" یعنی توبہ نام ہی ندامت کا ہے۔ ۔ دوسرا رکن توبہ کا یہ ہے کہ جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس کو  فوراً چھوڑ دے اور آئندہ کو بھی اس سے با ز رہنے  کا  پختہ عزم و ارادہ کرے۔۔۔۔تیسرا رکن یہ ہے کہ  تلافی مافات کی فکر کرے، یعنی جو گناہ سرزد ہو چکا ہے اس کا جتنا تدارک اس کے قبضہ میں ہے اس کو پورا کرے، مثلاً نماز روزہ  فوت ہوا ہے تو اس کی قضا  کرے۔ فوت شدہ نمازوں اور روزوں کی صحیح تعداد یاد نا ہو تو غور و فکر سے کام لے کر تخمینہ مقرر کرے۔ پھر ان کی  قضاء کرنے کا پورا اہتمام کرے۔ بیک وقت نہیں کر سکتا تو ایک ایک نماز کے ساتھ قضاء عمری پڑھ لیا کرے۔ ایسے ہی متفرق اوقات میں روزوں کی  قضاء کا اہتمام کرے۔ فرض  زکوٰۃ ادا نہیں کی تو یک مشت یا تدریجاً ادا کرے۔ کسی انسان کا حق لے لیا ہے تو اس کو واپس کرے، کسی کو تکلیف پہنچائی ہے تو معافی طلب کرے لیکن اگر اپنے کیے پر ندامت نا ہو  یا ندامت  تو ہو لیکن اس گناہ کو ترک نا کرے تو یہ توبہ نہیں ہے گو ہزار مرتبہ زبان سے توبہ توبہ کہا کرے۔ (معارف القرآن)

19۔ عرب جاہلیت میں میت کی جائداد کی طرح اس کی بیویاں بھی سوتیلے لڑکوں کے ورثہ میں آجاتی تھیں اور یہی دستور یونانی تمدن اور رومی تمدن کے بھی کسی کسی دور میں رہ چکا ہے(ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر)قرآن مجید کتنے دور دراز کے پہلوؤں کو بھی سامنے رکھتاہے۔مفسر غریب یہ ہمہ گیر نظر کہاں سے لاسکتاہے؟عرب جاہلیت میں وارث اگر چاہتاتو ان سے جبراً یا خود نکاح کرلیتا یا دوسروں کے نکاح میں دیدیتا۔۔۔فیصلہ یہ ہے کہ لفظ کے اندر زنا کاری اور نافرمانی دونوں ہی کے مفہوم شامل ہیں۔۔۔اس پر ایک سوال یہ پیدا ہواہے کہ حدیث میں تو مہر کی زیادتی کی ممانعت آئی ہے، لیکن خلیفۂ راشد حضرت عمرؓ نے ایک بار مسجد میں سرِ منبر گوپہلے مہرکی زیادتی سے روکا لیکن ایک ضعیفہ کے ٹوکنے پر اس کا جواز بھی تسلیم کرلیا اور خود اس آیت سے بھی ڈھیروں مال کا جواز ثابت ہوتاہے،سوال کا ایک مشہور جواب تو امام رازیؒ کے قلم و دماغ سے ہے یعنی آیت سے جواز کہاں ثابت ہوا،آیت نے تو محض ایک مفروض و مشروط  حالت کا ذکر کیا ہے، کہ اگر تم ڈھیروں مال دے چکے ہو جب بھی اس کی واپسی کا مطالبہ درست نہیں اس سے اس مفروضہ یا شرط کا صحیح ہونا لازم نہیں آتا،لیکن اس سے بھی صاف ،دل نشین اور بے تکلف جواب ہمارے زمانہ کے امام شریعت مفسر تھانویؒ کے قلم سے نکلا ہے فرماتے ہیں کہ"یہ جواز مفہوم من القرآن بہ معنی صحتِ نفاذ ہے،اور حدیث میں جواز بہ معنی اباحت ،مطلقہ و عدم کراہت کی نفی ہے،بس کچھ تعارض نہیں، اور حضرت عمرؓ کا ایک واقعہ میں زیادہ مہر کے جواز کو مان لینا اس لئے تھا کہ سامعین اس کو حرام نہ سمجھنے لگیں،پس اس سے کراہت کا عدم ثابت نہیں ہوتا،نہ حضرت عمرؓ پر کوئی اعتراض لازم آتاہے۔"(تفسیر ماجدی)


چوتھا رکوع

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ   23 . تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے۔
 وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا 24 . اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔
 وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ ۧ  25 ور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کرکے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں۔ پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی ان کو (دی جائے) ۔یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر آیات

23۔حرام رشتوں کی تفصیل:۔آیت نمبر 23 کی روسے درج ذیل عورتوں سے نکاح حرام ہے اور سنت سے اس کی مزید وضاحتیں کی گئی ہیں:۔1۔مائیں اور ان میں دادیاں نانیاں بھی شامل ہیں۔۔۔تاآخر۔2۔بیٹیاں اور ان میں پوتیاں،نواسیاں بھی شامل ہیں۔تاآخر۔3۔ بہنیں اور ان میں سگی ،علاتی اور اخیافی بہنیں سب شامل ہیں۔4۔ پھوپھیاں۔5۔خالائیں خواہ یہ سگی ہوں یا اخیافی یا علاتی ،سب حرام ہیں۔6۔بھتیجیاں اور ان کی بیٹیاں ۔7۔ بھانجیاں اور ان کی بیٹیاں۔8۔رضاعی مائیں ۔9۔ رضاعی بہنیں اور رضاعت کی روسے وہ سب رشتے حرام ہیں جو نسب کی روسے حرام ہیں۔10۔ساس اور سالیاں جب تک  کہ ان کی بہن نکاح میں ہو۔11۔ بیٹیاں اور سوتیلی بیٹیاں۔12۔بہو (حقیقی بیٹے کی بیوہ)سے نکاح حرام ہے۔13۔ دوبہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔اس حکم کے بعد فوراً ایک کو طلاق دے دی جائے گی۔14۔اور اگلی آیت نمبر 24 کی روسے تمام شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں ۔(تیسیر القرآن)

۔نبیؐ کی ھدائت ہے کہ خالہ اور بھانجی  اور پھوپھی اور بھتیجی کو بھی ایک  ساتھ نکاح میں رکھنا حرام ہے۔ اس معاملہ میں یہ اصول سمجھ لینا چاہیے  کہ ایسی دو عورتوں کو جمع کرنا بہر حال حرام ہے جن میں سے کوئی اگر مرد ہوتی  تو اس کا نکاح دوسری سے حرام ہوتا۔ (تفہیم القرآن)

- دخلتم بھنّ۔اصلاً کنایہ تو صرف صحبت سے ہے۔۔۔لیکن حنفیہ نے لمس شہوانی اور بوس وکنار کوبھی اسی حکم میں داخل کیا ہے، اور امام مالکؒ و امام شافعیؒ اور بہت سے ائمہ فقہ اس میں حنفیہ کے ہمراہ ہیں۔۔۔حنفیہ و مالکیہ نے علاوہ لمس ِ شہوانی نظر کو بھی سبب تحریم قراردیاہے۔۔۔من اصلابکم۔یہ صلب یا نسل کی قید اس لئے لگادی کہ متبنیّٰ یا محض منہ بولے بیٹوں کی بیبیاں اس میں شامل نہ ہوجائیں جیساکہ عرب جاہلیت میں دستور تھا۔(تفسیر ماجدی)

24۔ موجودہ دور کے مہذب معاشرہ میں فاتح قوم قیدی عورتوں سے جس طرح کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرتی ہے،اسلامی نقطہ نظر سے یہ صریح زنا ہے اور جس طرح آج کل قیدی عورتوں کو ایک کیمپ میں رکھا جاتاہے اور فوجیوں کو عام اجازت دی جاتی ہے کہ جس عورت سے چاہیں زناکرتے رہیں۔ یہ صرف زنا ہی نہیں بلکہ ایک وحشیانہ فعل بھی بن جاتاہے۔چنانچہ اسلام نے ایسی عورتوں سے تمتع پر چند درچند پابندیاں لگائی ہیں ۔اس سلسلہ میں پہلے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے:۔

قیدی عورتوں اور لونڈیوں سے تمتع کی شرائط: ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ نے حنین کے دن ایک لشکر اوطاس کی طرف روانہ کیا ۔ ان کا دشمن سے مقابلہ ہوا، مسلمانوں نے فتح پائی اور بہت سے قیدی ہاتھ آئے ۔صحابہ کرامؓ نے ان قیدی عورتوں سے صحبت کرنے کو گناہ سمجھا کہ ان کے مشرک شوہر موجود تھے۔اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرماکر عدت کے بعد ان لونڈیوں کو ان کیلئے حلال کردیا (مسلم۔ کتاب الرضاع،باب جواز وطی المسبیہ)اس آیت اور مندرجہ بالا حدیث سے درج ذیل باتوں کا پتہ چلتاہے۔1۔ صرف اس قیدی عورت سے تمتع کیا جاسکتا ہے جو امیر لشکر دیگر اموال غنیمت کی طرح کسی مجاہد کی ملکیت میں دے دے۔اس سے پہلے اگر کوئی شخص کسی عورت سے تمتع کرے گا تو وہ دوگناہوں کا مرتکب ہوگا۔ ایک زناکا اور دوسرامشترکہ اموال غنیمت کی تقسیم سے پیشتر ان میں خیانت کا۔2۔ امیر لشکر کا کسی عورت کو کسی کی ملکیت میں دینے کے بعد اس سے نکاح کی ضرورت نہیں رہتی۔ملکیت میں دے دینا ہی کافی ہوگا اور اس کا سابقہ نکاح ازخود ختم ہوجائے گا۔3۔تقسیم کے بعد ایسی عورت سےفوری طورپرجماع نہیں کیا جاسکتا۔جب تک اسے کم از کم ایک حیض نہ آلے۔اور یہ معلوم نہ ہوجائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں۔اور اگر وہ حاملہ ہوگی تو اس کی عدت تا وضع حمل ہے۔اس سے بیشتر اس سے جماع نہیں کیا جاسکتا ۔اور مزید احکام یہ ہیں:4۔ایسی عورت سے صرف وہی شخص جماع کرسکتا ہے جس کی ملکیت میں وہ دی گئی ہو۔کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔5۔اگر اس قیدی عورت سے اولاد پیدا ہوجائے تو پھر اسے فروخت نہیں کیا جاسکتا۔6۔ اگر ایسی قیدی عورت کو اس کا مالک کسی کے نکاح میں دے دے تو پھر وہ اس سے دوسری خدمات تو لے سکتاہے لیکن صحبت نہیں کرسکتا۔7۔جب عورت سے مالک کی اولاد پیدا ہوجائے تو مالک کے مرنے کے بعد وہ ازخود آزاد ہوجائے گی۔شرعی اصطلاح میں ایسی عورت کو ام ولد کہتے ہیں۔8۔ اگر امیر لشکر یا حکومت ایک عورت کو کسی کی ملکیت میں دے دے تو پھر وہ خود بھی اس کو واپس لینے کی مجاز نہیں ہوتی ۔الایہ کہ اس تقسیم میں کوئی ناانصافی کی بات واقع ہو جس کا علم بعد میں ہو۔اس طرح چند درچند شرائط عائد کرکے اسلام نے ایسی عورتوں سے تمتع کی پاکیزہ ترین صورت پیش کردی ہے جس میں سابقہ اور موجودہ دور کی فحاشی ،وحشت اور بربریت کو حرام قرار دے کر اس کا خاتمہ کیا گیا ہے اور تمتع کے بعد اس کے نتائج کی پوری ذمہ داری مالک پر ڈالی گئی ہے۔ نیز رسول اللہؐ نے فرمایا ہے کہ"جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو وہ اس کی تعلیم و تربیت کرے اسے ادب سکھائے پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اس کے لئے دوہرااجر ہے۔"(بخاری،کتاب العتق،باب فضل من ادب جاریتہ وعلمھا)ان سب باتوں کے باوجود یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ لونڈیوں سے تمتع کی ایک رخصت ہے حکم نہیں اور یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ایسی اجازت دے دی ہے کیونکہ جہاد اور اس میں عورتوں کی گرفتاری ایسی چیز ہے جس سے مفر نہیں اور ایسا بھی عین ممکن ہے کہ جنگ کے بعد قیدیوں کے تبادلہ یا اور کوئی باعزت حل نہ نکل سکے اسی لیے اللہ نے اسے کلیتاً حرام قرار نہیں دیا۔(تیسیر القرآن)

- یعنی تعداد مہر ایسی شے نہیں ،جو ایک مرتبہ بندھ جانے کے بعد پھر کسی طرح قابل تبدیل نہ ہو،میاں بیوی باہمی رضامندی سے اُسے گھٹا سکتے ہیں ،بڑھاسکتے ہیں یا بالکل معاف بھی کرسکتے ہیں۔۔۔علیم اور حکیم۔یہ دوصفات باری، قانونی احکام کے موقع پر اکثر بیان ہوئی ہیں،یہاں بھی انہیں لاکر قانون یہ یاد دلادیاکہ اللہ کا علم کامل بھی ہے اور بندوں کی ضرورتوں اور مصلحتوں پر محیط بھی، اور اسی علمِ کامل و محیط کے لحاظ سے اس نے قانون اور ضابطے بھی حکیمانہ مقرر کئے ہیں، کوئی انسان ،تمدن کے کسی دور میں اپنی حماقت سے یہ زعم نہ کر بیٹھے کہ میں شریعت الٰہی کے کسی جزئیہ میں کوئی مناسب ترمیم اپنی رائے سے کرسکتاہوں۔(تفسیر ماجدی)

25۔یعنی باندی کی زناکاری کی سزا پچاس درے ہے،شریف کنواری عورت کی سزائے زناکاری سودرے ہے۔ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ اس کے نصف پچاس درے ہوتے ہیں ،شریف نکاحی عورت کیلئے سزائے زنا سنگ ساری ہے،اور اس کی تنصیف ممکن نہیں ،پھر مملوک پر سرے سے رجم ہی نہیں ،اس کی سزا بہر صورت وہی پچاس درے ہے۔(تفسیر ماجدی)


پانچواں رکوع

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ  26 خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو اگلے لوگوں کے طریقے بتائے اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔
وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا  27 اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو۔
 یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا  28 خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا ہے۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا 29 مومنو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ حاصل ہو جائے تو وہ جائز ہے)۔ اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کچھ شک نہیں کہ خدا تم پر مہربان ہے۔
وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا  30 اور جو تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا ہم اس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اور یہ خدا کو آسان ہے۔
 اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا  31 اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے۔
 وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا  32 اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی ہوس مت کرو۔ مردوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے۔
 وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠   ۧ ۧ  33 اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حق داروں میں تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو بےشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے۔

تفسیر آیات

تفسیر آیات:

26۔ ۔۔۔اس آیت سے بھی رجم کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ تورات میں یہی سزا مقرر تھی۔(تیسیر القرآن)

27۔ اللہ تعالیٰ نے معاشرتی برائیوں کے خاتمہ کیلئے بے شمار ایسے احکامات نازل فرمائے جن پر عمل کرنا اکثر لوگوں کو ناگوار تھا۔مثلاً میراث میں لڑکیوں اور چھوٹے بچوں کا حصہ مقرر کرنا،بیوہ سے سسرال کی بندشوں کو ختم کرنا اور عدت کے بعد اسے نکاح کیلئےپوری آزادی دلانا،متبنیٰ کی وراثت کا خاتمہ،عورت کو خاوند کی طرح طرح کی زیادتیوں سے نجات دلاکرمعاشرہ میں اس کا مقام بلند کرنا وغیرہ وغیرہ ۔ایسی تمام اصطلاحات پر بڑے بوڑھے اورآبائی رسوم کے پرستار چیخ اٹھتے تھے اور لوگوں کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے۔(تیسیر القرآن)

۔ یہ اشارہ ہے منافقین اور قدامت پرست جہلاء  اور نواح مدینہ کے یہودیوں کی طرف ۔ منافقین اور قدامت پرستوں کو تو وہ اصلاحات  سخت نا گوار تھیں جو تمدن و معاشرت میں صدیوں کے جمے اور رچے ہوئے تعصبات  اور رسم و رواج کے خلاف کی جا رہی تھیں۔ میراث میں لڑکیوں کا حصہ۔ بیوہ عورت  کا سسرال کی  بندشوں سے رہائی پانا  اور عدت کے بعد اس کا ہر شخص سے نکاح کے لیے آزاد ہو جانا۔ سوتیلی ماں سے  نکاح حرام ہونا۔ دو بہنوں کے ایک ساتھ نکاح میں جمع کیے جانے کو  نا جائز قرار دینا۔ متبنّی کو وراثت سے محروم کرنا اور منہ بولے  باپ  کے لیے متبنّی کی بیوہ اور مطلقہ کا حلال ہونا۔ یہ  اور اس طرح کی دوسری  اصلاحات  میں  سے ایک ایک چیز ایسی تھی جس پر بڑے بوڑھے  اور آبائی رسوم کے پرستار  چیخ چیخ اٹھتے تھے۔ مدتوں  ان احکام پر چہ میگوئیاں ہوتی رہتی تھیں۔ شرارت پسند لوگ ان باتوں کو لے کر  نبیؐ  اور آپ کی دعوتِ اصلاح کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتے پھرتے تھے۔ مثلاً جو شخص کسی ایسے نکاح سے پیدا ہوا تھا جسے اب اسلامی شریعت حرام قرار دے  رہی تھی۔ اس کو یہ کہہ کہہ کر اشتعال دلایا جا رہا تھا کہ لیجیے آج جو نئے احکام وہاں آئے ہیں ان کی رو سے آپ کی ماں  اور آپ کے باپ کا تعلق ناجائز ٹھہرا دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ نادان لوگ اس اصلاح کے کام میں رکاوٹیں  ڈال رہے تھے جو اس وقت احکامِ الٰہی کے تحت انجام دیا جا رہا  تھا۔ ۔۔۔۔ دوسری طرف یہودی تھے جنہوں نے صدیوں کی موشگافیوں سے اصل خدائی شریعت پر اپنے خود ساختہ احکام و قوانین  کا ایک بھاری خول چڑھا رکھا تھا۔ (تفہیم القرآن)

29۔ باطل طریقے کون کون سے ہیں؟ باطل طریقوں سے مراد ہر وہ ذریعہ آمدنی ہے جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہو۔اور اس کی کئی صورتیں ہیں:مثلاً۔1۔ ہر وہ کام جس سے دوسرے کا مالی نقصان ہو جیسے چوری ،ڈاکہ،غصب،غبن وغیرہ۔2۔ سود اور اس کی تمام شکلیں خواہ یہ سود مفرد ہویا رباالفضل (ایک ہی جنس میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ ) ہو۔3۔ ہر ایسا کام جس میں تھوڑی سی محنت سے کثیر مال ہاتھ آتاہو۔جیسے جوا ،لاٹری اور سٹہ بازی وغیرہ اور بعض حالتوں میں بیمہ پالیسی۔4۔ اندھے سودے یا قسمت کے سودے جن میں صرف ایک ہی عوض مقرر ہوتاہے دوسرا نہیں ہوتا۔(عوضین یہ ہے کہ مثلاً ایک کتاب کی قیمت سوروپے ہے تو کتاب کا عوض سوروپے اور سوروپے عوض کتاب)جیسے غوطہ خور سے ایک غوطہ کی قیمت مقرر کرنا،بیع ملامسہ،منابذہ۔بچوں کے کھیل کہ جس چیز پر بچے کا نشانہ لگے وہ اتنی قیمت میں اس کی۔5۔ہروہ لین دین جس میں کسی ایک فریق کا فائدہ یقینی ہو دوسرے کو خواہ فائدہ ہو یا نقصان جیسے سود اور ایسے تمام سودے اور معاملات جن میں یہ شرط پائی جاتی ہو۔6۔ ایسے سودے جو محض تخمینہ سے طے کیے جائیں اور ان میں دھوکہ کا احتمال موجود ہو جیسے کسی ڈھیر کا بالمقطع سودا کرنا یا مال خریدکر قبضہ کیے بغیر آگے چلادینا یا غیر موجود مال کا سودا کرنا اور باغات وغیرہ کے پیشگی سودے(ان میں بیع سلم اور بیع عرایا کی رخصت ہے جو چھوٹے پیمانہ پر ہوتی ہے اور غریبوں کی سہولت کیلئے جائز کی گئی ہے۔)۔7۔ وہ بیع جس میں مشتری دھوکہ دینے کی کوشش کرے مثلاً عیب چھپانا،جانور کا دودھ روک کربیچنا،ناپ تول میں کمی بیشی کرجانا،دوسرے کو پھنسانے کیلئے بولی چڑھانا وغیرہ۔8۔جو اشیاء حرام ہیں ان کی خرید و فروخت جیسے شراب کی سودا گری یا ان اشیاء کی جو شراب خانے میں استعمال ہوتی ہیں ، مردار کا گوشت ،تصویریں  اور مجسمے ،فحاشی پر مشتمل کتابیں اور تصویریں،کسی حرام کاروبار کیلئے دکان یا مکان کرایہ پردینا ،کاہن کی کمائی ،فاحشہ کی کمائی ،کتے کی قیمت وغیرہ۔9۔حکومت کے ذریعہ دوسروں کے مال بٹورنامثلاً لین دین کے جھوٹے مقدمات اور رشوت وغیرہ یا حکومت کا لوگوں کی زمین پر قبضہ کرکے ان کو اپنی مرضی کے مطابق لین دین پر مجبور کرنا ۔جیسے حکومت کے محکمہ ہائے ایل ڈی اے، کے ڈی اے وغیرہ دوسرے لوگوں کی زمینیں ان کی رضامندی کے بغیر حاصل(AQUIRE)کرلیتے ہیں۔10۔کتاب اللہ میں تحریف و تاویل اور غلط فتوؤں سے مال بٹورنا اور یہ کام بالخصوص علماء سے مختص ہے۔۔۔۔سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ "اللہ عزوجل چار قسم کے آدمیوں سے دشمنی رکھتا ہے۔ایک وہ جو قسمیں کھاکر سودا بازی کرتاہو، دوسرے محتاج جو اکڑ باز ہو۔تیسرے بوڑھے زانی سے اور چوتھے ظلم کرنے والے حاکم سے۔"(نسائی ،کتاب الزکوٰۃ،باب الفقیر المحتال)۔۔۔سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا ۔"قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گااور انہیں دردناک عذاب ہوگا۔"میں نے پوچھا "یا رسول اللہؐ ! وہ کون ہیں؟وہ تو نامراد ہوگئے اور خسارہ میں رہے۔"فرمایا۔"ایک تہبند(ٹخنوں سے نیچے)لٹکانے والا۔دوسرا احسان جتلانے والا اور تیسرا جھوٹی قسم کھاکر اپنا مال بیچنے والا۔"(مسلم ،کتاب الایمان۔باب غلیظ تحریم تنفیق السلعہ بالحلف)۔۔۔آپؐ نے فرمایا بازار میں غلہ لانے والے کو رزق ملتا ہے اور ذخیرہ اندوز ملعون ہے۔"(ابن ماجہ،دارمی بحوالہ مشکوٰۃ شریف، کتاب البیوع،بابا الاحتکار،فصل ثانی)۔۔۔واحدکلام :۔سیدہ قیلہؓ ام نماز کہتی ہیں کہ میں نے کہا "یارسول اللہؐ !میں خرید و فروخت کیا کرتی ہوں اور جو چیز مجھے خریدنا ہوتی ہے اس کے کم دام لگاتی ہوں۔پھر دام بڑھاتے بڑھاتے اس قیمت پر آجاتی ہوں جو میرا مقصود ہوتاہے۔اسی طرح اگر کوئی چیز بیچنا ہو تو زیادہ دام کہتی ہوں اور پھر کم کرتے کرتے اپنے مقصود پر آجاتی ہوں۔ "آپؐ نے فرمایا "قیلہؓ !یہ کام اچھا نہیں جو چیز جتنے کو بیچنا چاہتی ہو اتنے ہی دام کہہ دو۔ لینے والا چاہے گا تو لے لے گا ورنہ نہیں اور جو چیز خریدواس کی بھی ایک ہی قیمت کہہ دو، دینے والا چاہے تو لے لے ورنہ نہ لے۔"(ابن ماجہ،ابواب التجارات،بابا السوم)۔۔۔قیمت بتانا۔آپؐ نے فرمایا :"مال کی قیمت صاحب مال ہی لگانے کا زیادہ حقدار ہے۔"(بخاری، کتاب البیوع۔باب صاحب السلعۃ احق ابالسوم)۔۔۔کج بحث جھگڑالو: سید عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپؐ نے فرمایا"اللہ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ شخص کج بحث جھگڑالو ہے(جو خوامخواہ جھگڑے کا پہلو پیداکرلیتاہے۔)(بخاری،کتاب المظالم۔باب قول اللہ وھو الدالخصام)۔۔۔جمعہ کی اذان کے بعد لین دین یا دوسرے مشاغل حرام ہیں"(سورہ جمعہ":9)یہی صورت عام نمازوں کیلئے بھی ہے۔۔۔ایک یہ کہ اس آیت کو سابقہ مضمون سے متعلق سمجھا جائے۔اس صورت میں اس کا معنیٰ یہ ہوگا کہ باطل طریقوں سے دوسروں کا مال ہضم کرکے اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔اور اگر اسے الگ جملہ سمجھا جائے تو پھر اس کے دو مطلب ہیں ۔ایک یہ کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو یعنی قتل ناحق،جو حقوق العباد میں سب سے بڑا گناہ ہے۔۔۔اور دوسرا مطلب یہ کہ خودکشی نہ کرو۔(تیسیر القرآن)

۔ احترام ِ مال ،احترام جان کا خیال نہ رکھا جائے تو معاشرے کا سکون و چین حرام ہو جاتا ہے۔ سعودی عرب کی اسلامی سزاؤں پر مغرب میں بڑی تنقید ہوتی ہے۔ ایک دفعہ شاہ فیصل مرحوم امریکہ گئے تو صحافیوں نے اس ہی قسم کے اعتراض اٹھائے۔ شاہ فیصل نے اس دن کا اخبار منگوایا اور پوچھا کہ آج کے اخبار کے مطابق صرف نیویارک میں ایک دن میں کتنے قتل اور ریپ ہوئے۔ بتانے پر انہوں نے کہا کہ پورے سعودی دور میں پورے سعودی عرب میں اتنے قتل اور ریپ نہیں ہوئے جتنے ایک دن میں آپ کے ایک شہر میں ہوئے۔ آپ کی ترقی آپ کو مبارک ۔(بیان القرآن)   

- حضرت معاذ  بن جبل سے روایت کہ  حضورؐ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ پاک کمائی تاجروں کی ہے۔بشرطیکہ وہ جھوٹ نہ بولیں ، وعدہ خلافی نہ کریں ، امانت میں خیانت نہ کریں ، خریدتے وقت سامان کو برا اور خراب نہ بتائیں،بیچتے وقت اپنے مال کی بہت تعریف نہ کریں ،ادائیگی قرض کو نہ ٹالیں ،کسی وجہ سے قرض لینا ہو تو اسے تنگ نہ کریں(تفسیر مظہری)

- ولاتقتلوانفسکم میں باتفاق مفسرین خودکشی بھی داخل ہے اور ایک دوسرے کو ناحق قتل کرنا بھی۔(معارف القرآن)

30۔ یہاں ایسے کام سے مراد وہ تمام اوامر و نواہی ہیں جن کا ذکر اس سورہ کی ابتدا سے چلا آرہاہے۔اور ازراہ ظلم و زیادتی سے مراد یہ ہے کہ جو شخص ازراہ معصیت و تکبر اللہ کے اوامر و نواہی کی پرواہ نہ کرے اور گناہوں کا ارتکاب کرتا جائے اس کی سزا دوزخ ہی ہوسکتی ہے۔(تیسیر القرآن)

31۔ کبیرہ گناہ کون کون سے ہوتے ہیں:۔احادیث میں جن کبیرہ گناہوں کا ذکر آیا ہے وہ درج ذیل ہیں:۔ 1۔ سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ " سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔"صحابہؓ نے پوچھا "یارسول اللہؐ ! وہ کون کون سے ہیں ؟"فرمایا "شرک باللہ، جادو،ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے،سود،یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے فرار ،پاکباز بھولی بھالی مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔"(مسلم ، کتاب الایمان۔باب بیان الکبائر و اکبرھا)،(بخاری، کتاب المحاربین من اھل الکفرۃ و الردۃ۔باب رمی المحصنات)2۔ ۔۔تو اولاد کو اس ڈرسے مارڈالے کہ اسے کھلاناپڑے گا۔"۔۔۔"یہ کہ تو ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرے"۔۔۔سیدنا انس بن مالک ؓکہتے ہیں کہ رسول اللہؐ کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا تو فرمایا "بڑے گناہ یہ ہیں:اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق خون کرنا، والدین کو ستانا،پھر فرمایا کیا میں تمہیں بڑے سے بڑا گناہ نہ بتاؤں قول الزور(جھوٹ کو ہیرا پھیری سے سچ بتانا)یا ایسی ہی  جھوٹی گواہی دینا۔(بخاری ،کتاب الادب۔باب عقوق الوالدین من الکبائر۔)۔۔۔کبائر معلوم کرنے کیلئے درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے:۔1۔بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جو موقع و محل کے لحاظ سے مزید شدت اختیار کرجاتے ہیں ۔مثلاً لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے کھانا کبیرہ گناہ ہے مگر یتیم کا مال کھانا اور بھی بڑا گناہ ہے یا داؤفریب سے مال بیچنا گناہ ہے مگر جھوٹی قسم کھاکر مال بیچنا اور بڑا گناہ بن جاتاہے۔عام عورتوں پر تہمت لگانا بھی بڑا گناہ ہے مگر بھولی بھالی انجان عورتوں پر تہمت لگانا مزید شدت اختیار کرجاتاہے،اولاد کا قتل بڑا گناہ ہے مگر مفلسی کے ڈر سے اولاد کا قتل اور بھی بڑا گناہ بن جاتاہے۔اسی طرح زنا ایک گناہ کبیرہ ہے مگر جب یہ زنا اپنی ماں ، بیٹی یا بہن یا دیگر محرمات سے کیا جائے تو گناہ مزید شدید ہوجائے گا۔اسی طرح اگر شادی شدہ عورت یا مرد زنا کرےگاتو یہ گناہ کنوارے مرد یا عورت سے زیادہ شدید ہوجائے گا۔ایسے ہی ہمسایہ کی بیوی سے زناکرنا کسی دوسری عورت سے زناکرنے کی بہ نسبت شدید ہوگا۔یا بوڑھے آدمی کا زنا کرنا جوان آدمی کے زنا کرنے کی نسبت زیادہ شدید ہوگا اور اگر بوڑھا زانی اپنے ہمسایہ کی بیوی سے زناکرے تو کسی دوسری عورت سے زناکرنے کی بہ نسبت اس کا گناہ تین گنا بڑھ جائے گا۔یہی صورت باقی گناہوں کی ہوتی ہے۔2۔کسی چھوٹے گناہ کو حقیر سمجھتے ہوئے اسے مسلسل کرتے جانا بھی اسے کبیرہ گناہ بنادیتاہے۔3۔ جس گناہ کے کام کے بعد کرنے والے پر اللہ کی ،فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت کا ذکر ہو۔یا صرف اللہ کی یا صرف رسول اللہؐ کی لعنت کا ذکر ہو وہ بھی حسب مراتب کبیرہ گناہ ہوتاہے۔4۔ جس گناہ کی بابت یہ ذکر ہوکہ قیامت کے دن اللہ اس کی طرف دیکھے گا بھی نہیں یا اس سے کلام نہ کرے گا یا اس پر غصے ہوگا۔وہ بھی کبیرہ گناہ ہوگا۔۔۔۔یعنی بڑے گناہوں سے اجتناب کے بعد چھوٹے گناہ اللہ ویسے ہی معاف کردے گا اور جواب طلبی نہیں کرے گا۔لیکن اگر بڑے گناہوں سے اجتناب نہ کیا جائے تو ساتھ ہی ساتھ چھوٹے گناہوں کا بھی مواخذہ ہوگا۔ واضح رہے کہ سورہ نجم کی آیت نمبر32 میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے اور وہاں سیئات کی بجائے اللمم کا لفظ آیا ہے اور اس کا معنیٰ بھی چھوٹے گناہ ہیں۔سیدنا ابن عباسؓ کی وضاحت کے مطابق سیئات یا اللمم سے مراد وہ چھوٹے گناہ ہیں جو کسی بڑے گناہ کا سبب بنتے ہیں۔ مثلاً حدیث میں آتاہے کہ آپؐ نے فرمایا "آنکھ کا زنا ہے، کان کا بھی،زبان کا بھی اور ہاتھ پاؤں کا بھی۔پھر فرج یا ان کی تصدیق کردیتاہے یا تکذیب "(بخاری،کتاب الاستیذان،باب زنا الجوارح دون الفرج)گویا آنکھ کا زنا غیرمحرم کی طرف دیکھنا ،پاؤں کا اس کے پاس چل کرجانا،زبان کا اس سے شہوانی گفتگوکرنا،نفس کا اس زنا کی خواہش کرنا ہے۔اب اگر زنا اس سے صادر ہوجاتاہےتو باقی چھوٹے گناہ بھی برقراررہیں گے اور اگر بچ جاتاہے تو یہ چھوٹے گناہ معاف کردیے جائیں گےبشرطیکہ وہ نیک اعمال بھی بجالانے والا ہو تو ان نیک اعمال کی وجہ سے یہ چھوٹے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔(تیسیر القرآن)

32۔ (یہ نہ ہوگا کہ مرد کا اجر اس کے مرد ہونے کی بناپر کچھ بڑھ جائے اور عورت کا اجر اس کے عورت ہونے کی بناپر کچھ گھٹ جائے)مرد بحیثیت مرد ہرگز اللہ کے ہاں مقرب تر اور نجات کا مستحق ترنہیں، اور عورت اپنی جنس کی بناپر ہرگز کسی اجر و قرب سے محروم نہ رہے گی،جیساکہ بعض دوسرے مذہبوں نے قراردے رکھا ہے،اس میں عورت کیلئے تعلیم ہے کہ وہ اپنا احساس کمتری دور کرے اور سمجھ لے کہ ایک مکلف مخلوق کی حیثیت سے وہ اور مرددونوں بالکل ایک سطح پر ہیں،اور حصولِ نجات و قرب حق میں وہ مردوں سے ذرا بھی فروتر نہیں،ہندؤں نے اپنی منوسمرتی کے اوراق میں اور کیتھولک کلیسا نے صدیوں تک اپنی کونسلوں میں جوفیصلے عورت کی پستی اور پست فطرتی کے کئے ہیں،آیت ان سب کی تردید کررہی ہے۔(تفسیر ماجدی)

33۔ مواخات اور میراث:۔ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ موالی سے مراد ۔۔۔۔وارث ہیں اور"والذین عقدت ایمانکم"کا مطلب یہ ہے کہ مہاجرین اسلام ابتداًجب مدینہ آئے تو مہاجر اپنے انصاری بھائی کا وارث ہوتا اور انصاری کے رشتہ دار کو ترکہ نہ ملتاتھا کیونکہ نبی اکرمؐ نے مواخات کرادی تھی۔پھر (جب مسلمانوں کی معیشت سنبھل گئی تو)یہ آیت اتری "وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ "تو اب ایسے بھائیوں کو ترکہ ملنا موقوف ہوگیا اور اب "والذین عقدت ایمانکم"سے مراد وہ لوگ ہیں جن سے قسم کھاکر دوستی ،مدد اور خیر خواہی کا عہد کیا جائے ان کیلئے ترکہ نہ رہا البتہ وصیت کا حکم باقی ہے۔(بخاری، کتاب التفسیر نیز کتاب الکفالہ باب قول اللہ والذین عقدت ایمانکم)(تیسیر القرآن)

- الذین عقدت ایمانکم۔اصطلاح میں یہ لوگ مول الموالاۃ کہلاتے ہیں، عرب قدیم  میں دستور تھا کہ دوشخص باہم قول و قرار کرکے ایک دوسرے کے اس طرح دوست و مددگار ہوجاتےکہ اگر ایک پر دیت لازم آئے تو دوسرا اسے ادا کرے اور ایک کی وفات پر دوسرا اس کی میراث پائے،اسی عہد کو عقد موالاۃ کہتے،شریعت نے شروع شروع اس دستور کو تھوڑی سی ترمیم کے بعد قائم رکھا اور انصار و مہاجرین میں مواخاۃ قائم کرکے باہم میراث جاری کرادی،پھر اس عہدوالے کا حصہ 1 بٹہ 6 متعین کیا،پھر جب سورۃ احزاب کی یہ آیت نازل ہوئی وَأُوْلُواْ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ ۔تو سب وارثوں کے حصے متعین ہوگئے ،اور اب اس کیلئے گنجائش نہ رہی ،شریعت کے کسی جزو کے منسوخ ہونے کے معنیٰ بس اسی قدرہوتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)


چھٹا رکوع

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا  34 مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال وآبرو کی) خبرداری کرتی ہیں اور جن عورتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی (اور بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو زدوکوب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈو۔ بےشک خدا سب سے اعلیٰ (اور) جلیل القدر ہے۔
 وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا  35 اور اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو۔ وہ اگر صلح کرا دینی چاہیں گے تو خدا ان میں موافقت پیدا کردے گا ۔کچھ شک نہیں کہ خدا سب کچھ جانتا اور سب باتوں سے خبردار ہے۔
 وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ   36 اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔
 اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ   37 جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو (مال) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا 38 اور خرچ بھی کریں تو (خدا کے لئے نہیں بلکہ) لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہ خدا پر لائیں اور نہ روز آخرت پر (ایسے لوگوں کو ساتھی شیطان ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو (کچھ شک نہیں کہ) وہ برا ساتھی ہے۔
وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا  39 اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے۔
 اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا 40 خدا کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کرتا اور اگر نیکی (کی) ہوگی تو اس کو دوچند کردے گا اور اپنے ہاں سے اجرعظیم بخشے گا۔
فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاؕ ؐ  41 بھلا اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے۔
یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠   ۧ ۧ 42 اس روز کافر اور پیغمبر کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش ان کو زمین میں مدفون کرکے مٹی برابر کردی جاتی اور خدا سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔

تفسیر آیات

34۔ حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ بہترین بیوی وہ ہے کہ جب تم اسے دیکھوتو تمہارا جی خوش ہوجائے ،جب تم اسے کسی بات کا حکم دو تو وہ تمہاری اطاعت کرے اور جب تم گھر میں نہ ہو تو وہ تمہارے پیچھے تمہارے مال کی اور اپنے نفس کی حفاظت کرے۔یہ حدیث اس آیت کی بہترین تفسیر ہے۔   مگر شوہر کی اطاعت سے اقدم خالق کی اطاعت ہے ۔اگر شوہر معصیت کا حکم دے یا فرض سے منع کرے تو عورت انکار کردے۔نفل نماز یا روزہ سے خاوند منع کرے تو اطاعت لازم ہے ۔ایسے نفل مقبول نہ ہوں گے۔(تفہیم القرآن)

- ایک صحابیہ نے اپنے خاوند کی نافرمانی بہت کی ۔آخر کو مرد نے ایک طمانچہ مارا۔عورت نے اپنے باپ سے فریاد کی ۔اس نے حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر صورت حال بیان کی ۔آپؐ نے فرمایا کہ خاوند سے بدلہ لے۔اتنے میں یہ آیت اتری تو آپؐ نے فرمایا کہ ہم نے کچھ چاہا اور اللہ تعالیٰ نے کچھ اور چاہا اور جو کچھ اللہ نے چاہا وہی خیر ہے۔(تفسیر عثمانی)

- قوّام ،قیّام، قیّم عربی زبان میں اس شخص کو کہاجاتاہے جو کسی کام یا نظام کا ذمہ دار اور چلانے والا ہو۔

- ایک حدیث میں رسول کریمؐ نے فرمایا کہ جو عورت اپنے شوہر کی تابعدار و مطیع ہو اس کے لئے استغفار کرتے ہیں پرندے ہوامیں ،مچھلیاں دریا میں ، فرشتے آسمانوں میں اور درندے جنگلوں میں (بحر محیط)(معارف القرآن)

- اولاد کی تربیت کا بڑا حصہ عورت کے ذمہ ہے۔ جدید نفسیات اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ انسانی شخصیت کا 75٪ حصہ اس کی زندگی کے ابتدائی تین سالوں میں تکمیل پاجاتاہے۔ اگر عورت اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو بچے کی شخصیت ناقص رہ جائے گی۔(انوارالقرآن)

- مطلب یہ ہوا کہ مرد کی فضیلت عورت پر دُہری حیثیت رکھتی ہے، ایک تو طبعی یعنی جسمانی و دماغی قویٰ میں خلقی برتری،دوسری قانونی یا معاشری کہ عورت خرچ میں مرد کے دست نگر رہتی ہے،یہیں سے یہ بات بھی نکل آئی کہ قرآنی نظام کی روسے کمانا یا کسبِ معاش کرنا اور بیوی کے خرچ کا بار اٹھانا مردوں کے ذمہ ہے۔۔۔یعنی اس سے تعلقات ہم بستری منقطع کرلو،اور اس کے پاس لیٹنا چھوڑدو،یہ سزا کی دوسری منزل ہے،جب زبانی گفتگو و فہمائش سے اصلاحِ حال نہ ہو اور نافرمانی و سرکشی بدستور قائم رہے تو اب پہلا عملی قدم یہ اٹھاؤ لیکن تحقیق و تجربہ کے بعد ،اس سے قبل محض ظن و بدگمانی کی بناپر نہیں ،فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ محض بدگمانی پر دوسری اور تیسری سزاؤں کا قدم اٹھانا جائز نہ ہوگا۔۔۔یہ تیسرا علاج اس وقت کیلئے ہے جب دوسرا علاج بھی ناکام ثابت ہوجائے۔(تفسیر ماجدی)

35۔ میاں بیوی میں ناموافقت کی صورت میں معاملہ عدالت میں پہنچنے سے پہلے گھرہی گھر میں طے ہو جائے تو بہتر ہے ۔دوپنچ ثالث مقرر کرلیے جائیں۔ ثالثوں کے اختیارات کے بارے میں بعض فقہاء صرف تصفیہ کی اجازت دیتے ہیں۔ موافقت کا اختیار ہے مگر علیحدگی کا نہیں۔ دوسرے فقہا ملانے اور جدا کردینے کے پورے اختیارات دیتے ہیں۔ حضرت عثمانؓ اور حضرت علی پورے اختیارات دیتے ہیں ۔پنچ خود تو عدالتی اختیارات نہیں رکھتے مگر عدالت اختیار دیدے تو ان کا فیصلہ عدالتی فیصلے کی طرح نافذ ہو گا ۔(تفہیم القرآن)

- یہاں دونوں سے مراد میاں بیوی بھی ہوسکتے ہیں اور طرفین کے ثالث حضرات بھی۔ یعنی اگر ان کی نیت بخیر ہوگی تو اللہ تعالیٰ زوجین میں ضرور موافقت کی راہ نکال دے گا۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ثالث سمجھوتہ کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں توفہو المراد۔اور اگر وہ اس نتیجہ پر پہنچیں کہ تفریق کے بغیر اب کوئی چارہ کار نہیں رہا۔تو کیا وہ یہ اختیار بھی رکھتے ہیں (یعنی مرد سے طلاق دلوانے کا یا خلع کا)یا نہیں ۔اکثر علماء کے نزدیک  یہ ثالثی بنچ یہ اختیار بھی رکھتاہے کیونکہ یہ بھی ایک طرح کی عدالت ہی ہوتی ہے۔اوربعض علماء کہتے ہیں کہ ایسے اختیارات صرف عدالت کو ہیں اور یہ بنچ عدالت کے سامنے اپنی سفارشات پیش کرسکتاہے ۔عدالت یہ اختیار خود بھی استعمال کرسکتی ہے اور وہ یہ اختیار اس ثالثی بنچ کو بھی تفویض کرسکتی ہے اور چاہے تو اپنی طرف سے علیحدہ بنچ مقرر کرکے اسے یہ اختیار دے سکتی ہے ۔جیساکہ آج کل ہمارے ہاں یونین کونسلوں کو ایسے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔(تیسیر القرآن)

36۔ متن میں الصاحبِ بالجنبِ فرمایا گیا ہے جس سے مراد ہم نشین دوست بھی ہے اور ایسا شخص بھی جس سے کہیں کسی وقت آدمی کا ساتھ ہوجائے مثلاً آپ بازار میں جارہے ہوں اور کوئی شخص آپکے ساتھ چل رہاہویا کسی دوکان پر آپ سودا خرید رہے ہوں اور کوئی دوسرا خریدار بھی آپ کے پاس بیٹھا ہویا سفر کے دوران کوئی شخص آپ کا ہم سفر ہو۔یہ عارضی ہمسائیگی بھی ہر مہذب اور شریف انسان پر ایک حق عائد کرتی ہے جس کا تقاضا حتی الامکان نیک سلوک اور تکلیف دینے سے اجتناب ہے۔(تفہیم القرآن)

- ترمذی کی ایک روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضاباپ کی رضا میں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے۔۔۔۔۔بیہقی کی ایک روایت میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ تمام گناہوں کو اللہ تعالیٰ معاف  فرمادیتے ہیں لیکن جو شخص ماں باپ کی نافرمانی و دل آزاری کرے اس کو آخرت سے پہلے دنیا ہی میں طرح طرح کی آفتوں میں مبتلا کردیا جاتاہے۔

- قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید:۔قرآن کریم کی ایک جامع اور مشہور آیت میں جس کو آنحضرتؐ اکثر اپنے خطبات کے آخر میں تلاوت فرمایا کرتے تھے، اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے:ان اللہ یامر بالعدل والاحسان واِیتائ ذی القربیٰ، یعنی  "اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں ،سب کے ساتھ انصاف اور حسن سلوک کا اور رشتہ داروں کے حقوق اداکرنے کا"۔ عام مفسرین نےفرمایا جار ذی القربیٰ سے مراد وہ پڑوسی ہے جو تمہارے مکان کے متصل رہتاہے اور جارجنب سے مراد وہ پڑوسی مراد ہے جو تمہارے مکان سے کچھ فاصلہ پر رہتاہے۔۔۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ جار ذی القربیٰ سے وہ شخص مراد ہے جو پڑوسی بھی ہے اور رشتہ دار بھی اس طرح  اس میں دو حق جمع ہوگئے اور جار جنب سے مراد وہ ہے جو صرف پڑوسی ہے رشتہ دار نہیں ،اس لئے اس کا درجہ پہلے سے مؤخر رکھا گیا۔۔۔۔بعض حضرات مفسر ین نے فرمایا کہ جار ذی القربیٰ وہ پڑوسی ہے جو اسلامی برادری میں داخل اور مسلمان ہے اور جارجنب سے غیر مسلم پڑوسی مراد ہے۔۔۔البتہ جس کا حق علاوہ پڑوسی کے دوسرا بھی ہے وہ دوسرے پڑوسیوں سے درجہ میں مقدم ہے،ایک حدیث میں خود رسول اللہؐ نے اس کو واضح فرمادیا ۔ارشاد فرمایا کہ "بعض پڑوسی وہ ہیں جن کا صرف ایک حق ہے،بعض وہ ہیں جن کے دو حق ہیں اور بعض وہ جن کے تین حق ہیں ،ایک حق والا پڑوسی وہ غیر مسلم ہے جس سے کوئی رشتہ داری بھی نہیں ،دو حق والا پڑوسی وہ ہے جو پڑوسی  ہونے کے ساتھ مسلمان بھی ہے،تین حق والا پڑوسی وہ ہے جو پڑوسی بھی ،مسلمان بھی اور رشتہ دار بھی "۔(ابن کثیر)    ۔۔۔۔۔  رسول کریمؐ کا ارشاد ہے کہ جبرائیل امین ہمیشہ مجھے پڑوسی کی رعایت و امداد کی تاکید کرتے رہے ،یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسی کو بھی رشتہ داروں کی طرح وراثت میں شریک کردیا جائے گا(بخاری و مسلم)۔۔۔مسند احمد کی ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ایک پڑوسی کو پیٹ بھر کر کھانا جائز نہیں، جب اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔۔۔ہمنشین کا حق: چھٹے نمبر میں ارشاد فرمایا :والصاحب بالجنب ،اس کے لفظی معنی ہم پہلوساتھی"کے ہیں ،جس میں رفیق سفر بھی داخل ہے جو ریل میں ،جہازمیں، بس میں، گاڑی میں آپ کے برابر بیٹھا ہو، اور وہ شخص بھی داخل ہے جو کسی عام مجلس میں آپ کے برابر بیٹھاہو۔(معارف القرآن)

- لونڈی غلاموں سے بہتر سلوک : ۔۔۔۔آپؐ نے فرمایا "کوئی شخص (اپنے لونڈی غلام کو)عبد(بندہ)اور امۃ(بندی)نہ کہے کیونکہ تم سب اللہ کے بندے ہو اور سب عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں بلکہ یوں کہو۔میرا خادم اور میری خادمہ اور میرا بچہ اور میری بچی۔(مسلم،کتاب الالفاظ من الادب،باب حکم اطلاق لفظۃ العبد و الامۃ والمولی والسید)۔۔۔سیدنا عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرمؐ کے پاس آیا اور کہا " میں اپنے غلام کو کتنی بار معاف کروں؟"آپؐ خاموش رہے۔اس نے اپنی بات دہرائی تو بھی آپ خاموش رہے۔پھر تیسری بار جب یہی بات پوچھی تو آپؐ نے فرمایا"خادم کو ہردن میں ستر دفعہ معاف کرو"(ابوداؤد،کتاب الادب فی حق الملوک)۔۔۔۔آپؐ نے فرمایا "جو شخص کسی آزاد آدمی کو غلام بنائے، قیامت کے دن میں خود اس کے خلاف استغاثہ کروں گا۔"(بخاری، بحوالہ مشکوٰۃ۔کتاب البیوع۔ باب الاجارۃ،فصل اول)جنگ بدر کے بعد رسول اللہ ؐ نے جنگی قیدیوں کو مختلف صحابہ کرامؓ کے گھروں میں بانٹ دیا اور ساتھ ہی یہ تاکید فرمائی کہ "استوصوا بالاسارٰی خیراً"یعنی ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔انہی قیدیوں میں سے ایک قیدی ابوعزیز کا بیان ہے کہ مجھے جس انصاری کے گھر میں رکھا گیا تھا وہ خود تو ْکھجوریں کھاتے تھے۔لیکن مجھے صبح و شام روٹی کھلاتے تھے۔۔۔اسلام سے پہلے غلاموں کی جس قدر بدتر حالت تھی وہ سب کو معلوم ہے۔اسلام نے غلاموں کو اتنے حقوق عطاکیے کہ وہ معاشرہ کا معزز فرد بن گئے۔اسلام نے ان سے حسن سلوک کی جو تاکید کی تھی یہ اسی کا اثر تھا کہ نام کے علاوہ غلام اور آزاد میں کچھ فرق نہ رہ گیا۔غلاموں کا فقیہ اور محدث ہونا تاریخ سے ثابت ہےاور یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔پھر آپؐ نے زیدؓ بن حارثہ کو اپنا متبنیٰ بنایا۔پھر اپنی پھوپھی زاد بہن سے ان کا نکاح کردیا ۔زید بن حارثہؓ اور ان کے بیٹے اسامہ بن زیدؓ دونوں کو کئی بار سپہ سالار لشکر بنایا۔جن کے تحت صحابہ کبار جنگ میں شریک ہوئے۔ سیدنابلالؓ کو جوکالے رنگ اور موٹےہونٹوں والے حبشی غلام تھے سیدنا عمرؓ سیدنا بلالؓ کہہ کرپکارا کرتے تھے۔سیدنا عمرؓ نے اپنی وفات کے وقت ابوحذیفہؓ کے آزاد کردہ غلام سیدنا سالمؓ کے متعلق فرمایا کہ آج اگر وہ زندہ ہوتے تو میں انہیں خلیفہ نامزد کردیتا اور رسول اللہؐ نے یہ بھی فرمایا تھاکہ"اگر تم پر نکٹا غلام بھی امیر بنادیا جائے تو جب تک وہ تمہیں اللہ کے احکام کے مطابق چلاتارہے اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔"(مسلم، کتاب الامارۃباب وجوب طاعۃ  الامراء فی غیرمعصیۃ۔۔۔)چنانچہ تاریخ میں ایسے بے شمار مسلمان بادشاہ گزرے ہیں جو غلام تھے۔محمود غزنویؒ مشہور فاتح ہند بھی آزاد کردہ غلام تھا۔ہندوستان اور مصر میں غلاموں کے خاندان نے صدیوں تک حکومت کی ۔مغلوں کی ہند میں آمد سے بہت پہلے خاندان غلاماں کے کئی فرمانرواؤں نے ہند پر حکومت کی۔اب وہ کونسا اعزاز باقی رہ جاتاہے جو آزاد کے ساتھ مخصوص ہو اور غلام اس سے محروم ہو۔اور بعض لوگوں نے"اوماملکت ایمانکم"میں ان جانوروں اور مویشیوں کو بھی شامل کیا ہے جو انسان اپنی ضرورت کے تحت اپنے گھر میں پالتاہے مثلاً سواری کیلئے گھوڑا یااونٹ۔دودھ حاصل کرنے کیلئے بھیڑ بکری یا گائے بھینس اور انڈوں اور گوشت وغیرہ کیلئے مرغیاں پالنا وغیرہ۔کہ یہ جانور بھی اپنے مالک کے حسن سلوک کے مستحق ہیں اور یہ توجیہ اس لحاظ سے بہت خوب ہے کہ رسول اللہؐ نے جانوروں پر رحم کرنے اوران سے بہتر سلوک کرنے کی بہت تاکید فرمائی ہے۔(تیسیر القرآن)

- خیال کرکے دیکھ لیا جائےکہ حسن سلوک کی تاکید والدین سے لے کر غلاموں اور باندیوں، غرض معاشرہ کے ہر طبقہ کے ساتھ ہورہی ہے، پھر اس حکم کا عطف توحید الٰہی پر! دنیا کی کسی دوسری آسمانی کتاب میں اس بے نظیر تعلیم کی نظیر ملے گی؟ اور اس کے ساتھ محققین کی یہ تصریح بھی ملالی جائے کہ"اہل حقوق اگر کافر ہوں تب بھی ان کے ساتھ احسان کرے،البتہ مسلمان کا حق اسلام کی وجہ سے انسے زائد ہوگا"(تھانویؒ)۔۔۔اسلامی نظام ِ معاشرت عالی شان ہوٹلوں بلکہ مہمان سراؤں کا بھی محتاج نہیں ،وہ اپنے قلمرو کے اندر مہمانداری ،مسافر نوازی ،بہ قدر وسعت و ظرف ہر ہر فرد پر عائد کرتاہے۔(تفسیر ماجدی)

37۔ "حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے وہ شخص جہنم میں "ہمیشہ کیلئے"نہیں جائےگاجس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو،اور جنت میں ایسا کوئی شخص نہیں جاسکے گاجس کے دل میں رائی کے دانہ کے مقدار تکبر ہو"۔۔۔آیت میں بخل کا لفظ آیا ہے،جس کا اطلاق عرفِ عام میں حقوق مالیہ کے اندر کوتاہی کرنے پر ہوتاہے،لیکن آیت کے شان نزول سے معلوم ہوتاہے کہ یہاں بخل کا لفظ عام معنی میں استعمال کیا گیا ہے، جو بخل بالمال اور بخل بالعلم دونوں کو شامل ہے۔۔۔حضرت ابن عباسؓ کی روایت سے معلوم ہوتاہے کہ یہ آیت یہود مدینہ کے حق میں نازل ہوئی تھی،یہ لوگ بہت زیادہ مغرور تھے،انتہاءدرجہ کے کنجوس تھے،مال خرچ کرنے میں  بھی بخل کرتے تھے اور اس علم کو بھی چھپاتے تھے جو انہیں اپنی الہامی کتابوں سے حاصل ہواتھا۔۔۔اور جاہل آدمی جو سخاوت کرتاہو( اور فرائض کو اداکرنے اور محرمات سے بچنے کا اہتمام کرتاہو)اس کنجوس سے بہتر ہے جوعباد ت گذارہو"۔۔۔حضرت ابوسعیدؓ سے روایت ہے نبی کریمؐ نے فرمایا دوعادتیں کسی مؤمن میں جمع نہیں ہوتیں،بخل اور بداخلاقی"۔۔۔"زداد بن اوسؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس نے نماز پڑھی دکھانے کیلئے تو اس نے شرک کیا ،اور جس نے کوئی صدقہ دیا دکھانے کیلئے تو اس نے شرک کیا"۔(معارف القرآن)

40۔ آیت میں جو لفظ  " ذرۃ" آیا ہے اس کا ایک ترجمہ تو معروف ہی ہے جو ما قبل میں گزر چکا اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ "ذرۃ" لال رنگ کی سب سے چھوٹی چیونٹی کو کہا جاتا ہے، اہلِ عرب کم وزن  اور حقیر ہونے میں اس کو بطورِ مثال پیش کیا کرتے تھے۔(معارف القرآن)

41۔ بخاری شریف میں روایت ہے حضور اقدسؐ نے عبداللہ بن مسعود  سے  فرمایا کہ مجھے  قرآن سناؤ حضرت عبداللہ  نے  عرض کیا آپ مجھ سے سننا  چاہتے ہیں؟ حالانکہ قرآن  آپؐ  ہی پر نازل ہوا ہے ۔ آپؐ نے فرمایا ہاں پڑھو۔ میں نے سورۃ  نساء کی تلاوت شروع کر دی  اور جب  فَكَيۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡنَا بِكَ عَلٰى هٰٓؤُلَآءِ شَهِيۡدًاؔ  پر پہنچا تو آپؐ نے فرمایا کہ اب بس کرو، اور جب میں نے آپؐ کی طرف نظراٹھا کر   دیکھا  تو آپؐ  کی مبارک آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔علامہ  قسطلانی لکھتے ہیں کہ حضور ؐ کو اس آیت سے آخرت کا منظر مستحضر ہو گیا، اور اپنی امت کے کوتاہ عمل اور بے عمل لوگوں کی بابت خیال آیا اس لیے آنسو مبارک جاری ہو گئے۔  ۔(معارف القرآن)


ساتواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا  43 مومنو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے (نہ) لگو نماز کے پاس نہ جاؤ اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے پاس نہ جاؤ) جب تک کہ غسل (نہ) کرلو ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کرسکو تو تیمم کرکے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو، سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی لو اور منہ اور ہاتھوں پر مسح (کرکے تیمم) کرلو۔ بےشک خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
 اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ   44 بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا تھا کہ وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی رستے سے بھٹک جاؤ۔
 وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا 45 اور خدا تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور خدا ہی کافی کارساز ہے اور کافی مددگار ہے۔
 مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا 46 اور یہ جو یہودی ہیں ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا اور سنیئے نہ سنوائے جاؤ اور زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کی راہ سے (تم سے گفتگو) کے وقت راعنا کہتے ہیں اور اگر (یوں) کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف) اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا (کہتے) تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور بات بھی بہت درست ہوتی لیکن خدا نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے تو یہ کچھ تھوڑے ہی ایمان لاتے ہیں۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا  47 اے کتاب والو! قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے مونہوں کو بگاڑ کر ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہاری کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لے آؤ اور خدا نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہوچکا۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا  48 خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کردے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا۔
 اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا  49 کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں پاکیزہ کہتے ہیں (نہیں) بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا۔
 اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠   ۧ ۧ 50 دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ (طوفان) باندھتے ہیں اور یہی گناہ صریح کافی ہے۔

تفسیر آیات

43۔ حرمت شراب کے احکام میں تدریج:۔ یہ آیت حرمت شراب کے تدریجی احکام کی دوسری کڑی ہے۔اس سلسلہ میں پہلی آیت جو نازل ہوئی وہ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 219 ہے جس میں فقط یہ بتایا گیا کہ شراب اور جوئے میں گوکچھ فائدے بھی ہیں تاہم ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں۔چند محتاط صحابہ کرامؓ نے اسی وقت سے شراب چھوڑدی تھی۔پھر اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔جس کے شان نزول کے متعلق درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے:۔ سیدنا علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے ہمارے لیے کھانا بنایا ،دعوت دی اور ہمیں شراب پلائی ۔شراب نے ہمیں مدہوش کردیا،اتنے میں نماز کا وقت آگیا ۔انہوں نے مجھے امام بنایا۔میں نے پڑھا(قل یا ایھا الکٰفرون لااعبد ماتعبدون ونحن نعبد ماتعبدون)تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی(ترمذی۔ابواب التفسیر)پھر اس کے بعد سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 90 تا91 کی روسے شراب کو ہمیشہ کیلئے حرام قرار دے دیا گیا۔اس میں لفظ خمر (شراب)کے بجائے سکر(نشہ)کا لفظ استعمال ہواہے۔جس سے از خود یہ معلوم ہوگیا کہ شراب کی طرح ہر نشہ آور چیز حرام ہوتی ہے جیساکہ احادیث میں اس کی تصریح بھی موجود ہے۔دوسرے یہ معلوم ہواکہ چونکہ نشہ کی حالت بھی نیند کی غشی کی طرح ایک طرح کی غشی ہی ہوتی ہے لہذا انسان کو یہ معلوم رہنا مشکل ہے کہ آیا اس کا وضو بھی بحال ہے یا ٹوٹ چکاہے۔غالباًاسی نسبت سے اس آیت میں آگے طہارت کے احکام بیان ہورہے ہیں۔۔۔۔تیّمم کا طریقہ:۔ سیدنا عمار بن یاسرؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ نے مجھے کسی مہم پر بھیجا (اس دوران)میں جنبی ہوگیا،مجھے پانی نہ ملا تو میں نے مٹی میں اس طرح لوٹ لگائی جس طرح چوپایہ لوٹ لگاتاہے۔میں نے آپؐ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا "تمہیں اس طرح کرنا کافی تھا پھر آپؐ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ایک بار مٹی پر مارا پھر انہیں اپنے منہ کے قریب کیا اور ان پر پھونک ماری (زائد مٹی اڑادی)پھر آپ نے بائیں ہتھیلی سے داہنے ہاتھ کی پشت پر اور داہنی ہتھیلی سے بائیں ہاتھ کی پشت پر مسح کیا۔پھر دونوں ہتھیلیوں سے اپنے چہرے کا مسح کیا۔"(بخاری،کتاب التیمم۔باب التیمم للوجہ والکفین۔۔۔مسلم۔فی باب التیمم)(تیسیر القرآن)

- یعنی نشہ اترجائے اور زبان قابومیں آجائے۔آیت اس وقت کی ہے جب حرمت ِ شراب کا حکم ابھی نازل نہیں ہواتھا،مطلب آیت کا ہے کہ اوقات نماز میں تو شراب پینے سے باز رہو،یہ مطلب نہیں کہ شراب تو اسی طرح پیتے چلے جاؤ اور نشہ کی حالت میں نماز چھوڑ ے رہو۔۔۔ اور مس تو قرآن مجید میں بھی ہم بستری کے معنیٰ  میں آیا ہے"ثم طلقتموھنّ من قبل ان تمسوھنّ "اس لئے فقہاء حنفیہ نے یہاں لمس سے ہم بستری ہی مراد لی ہے اور یہی مذہب قوی ہے، حضرت علی ؓ اور حضرت عبداللہ ابن عباسؓ  جیسے صحابیوں اور مجاہدؒ وطاؤسؒ ،حسن بصریؒ، سعید بن جبیرؒوغیرہم تابعین سے بھی یہی منقول ہے۔۔۔۔یعنی ایسی مٹی ہو جو خود غیر ظاہر یا گندی نہ ہو، دو دوہاتھ مار کرپہلی بار چہرےاور دوسری بار ہاتھوں پر کہنیوں تک پھیر لیا کرو۔۔۔ماء کے صیغۂ نکرہ میں آنے سے فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ پانی کسی قسم کا بھی ہو،وضو کیلئے درست ہے۔۔۔۔امام ابوحنیفہؒ نے اس میں اتنی وسعت یہ رکھی ہے کہ ،رنگ ،مزہ یا بوبدلے ہوئے پانی تک کی اجازت دے دی ہے(تفسیر ماجدی)

۔اسی بنا پر  نبیؐ  نے ہدایت فرمائی ہے کہ جب کسی شخص پر نیند کا غلبہ ہو رہا ہو اور وہ نماز پڑھنے میں باربار اونگھ جاتا ہو  تو اسے نماز چھوڑ کر سو جانا چاہیے۔ بعض لوگ اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ جو شخص  نماز کی عربی عبارت کا مطلب نہیں سمجھتا  اس کی نماز نہیں ہوتی۔ لیکن علاوہ اس کے کہ یہ ایک بے جا تشدد ہے، خود قرآن کے الفاظ بھی اس کا ساتھ نہیں دیتے۔ قرآن میں  " حتی تفقھوا یا حتی تفھمو ما تقولون" نہیں فرمایا ہے بلکہ "  حتی تعلموا ما تقولون" فرمایا ہے۔ یعنی نماز مین آدمی کو اتنا ہوش رہنا چاہیے  کہ وہ جانے کہ وہ کیا چیز اپنی زبان سے ادا  کر رہا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ کھڑا تو ہو نماز پڑھنے اور شروع کر دے کوئی غزل۔ ۔۔۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس طرح مٹی پر ہاتھ مار کر منہ اور   ہاتھوں پر پھیر  لینے سے آخر طہارت کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن در حقیقت  یہ آدمی  میں طہارت کی حس  اور نماز کا احترام قائم رکھنے کے لیے ایک اہم نفسیاتی تدبیر ہے۔ اس سے فائدہ یہ ہے کہ آدمی خواہ کتنی ہی مدت  پانی استعمال کرنے  پر قادر نہ ہو ، اس کے اندر بہر حال طہارت کا احساس زندہ رہے گا۔ پاکیزگی کے جو قوانین شریعت میں مقرر کر دیے گئے ہیں  اس کی پابندی وہ برابر کرتا رہے گا اور اس کے ذہن سے  قابلِ نماز ہونے کی حالت اور ناقابلِ نماز ہونے  کی حالت کا فرق و امتیاز کبھی محو نا ہو سکے گا۔ (تفہیم القرآن)

۔ نشہ  اور جنابت دونون کو ایک  ساتھ ذکر کر کے اور دونوں کو ایک ساتھ مفسدِ نماز قرار دے کر قرآن نے اس حقیقت کی طرف رہنمائی فرمائی ہے کہ یہ دونوں حالتیں نجاست کی ہیں  بس فرق یہ ہے کہ  نشہ عقل کی نجاست ہے اور  جنابت  جسم کی۔ شراب کو قرآن نے  جو "ر جس" کہا ہے یہ اس کی وضاحت ہو گئی۔ ۔۔۔ تیمم کے یہاں تین مواقع بیان ہوئے ہیں ۔ مرض ، سفر اور پانی کی نایابی ۔ اس سے یہ بات خود بخود نکلتی ہے کہ مرض  اور سفر کی حالت میں پانی موجود  ہوتے ہوئے بھی آدمی تیمم کر سکتا ہے۔ مرض میں وضو یا غسل سے ضرر کا اندیشہ ہوتا ہے اس وجہ سے یہ رعایت ہوتی ہے۔ اسی طرح سفر میں مختلف حالتیں ایسی پیش آ سکتی ہیں  کہ آدمی کو  تیمم ہی پر قناعت کرنی پڑتی ہے۔ مثلاً یہ کہ پانی نایاب نا ہو لیکن کم یاب ہو۔  اندیشہ ہے کہ اگر غسل کے کام لایا گیا تو پینے کے لیے پانی تھڑ جائے گا یا ڈر ہو کہ نہانے کے اہتمام میں لگے تو قافلے کے ساتھیوں سے بچھڑ جائیں گے یا ریل اور جہاز کا ایسا سفر ہو کہ غسل کرنا شدید زحمت کا باعث ہو۔  (تدبرِ قرآن)

45۔ کچھ حصہ اس لحاظ سے کہ علمائے یہود نے کتاب الٰہی کا ایک حصہ گم کردیا تھااور جو باقی رہ گئی تھی، اس میں بھی تحریف و تاویل سے انہوں اسے کچھ کا کچھ بنادیاتھاان کی تمام تردلچسپیاں اور قابلیتیں ظاہری الفاظ اور لفظی بحثوں اور فقہی موشگافیوں اور فلسفیانہ پیچیدگیوں تک محدود ہوکر رہ گئی تھیں۔لیکن ان کے قلوب و اذہان منشائے الٰہی اور دینداری کی روح سے خالی تھے اور اپنی ایسی گمراہ کن باتوں میں مسلمانوں کو بھی الجھاناچاہتے تھے۔(تیسیر القرآن)

۔ پچھلے آسمانی صحیفوں اور قرآنِ عظیم میں نسبت جزو اور کل کی ہے۔ قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی کامل کتاب ہے  اور دوسرے آسمانی صحیفے  اس کے اجزاء اور حصص کی حیثیت  رکھتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ اس کتاب کے اجزاء و حصص کے حامل بنائے گئے تھےان سے سب سے ذیادہ  توقع اس بات کی ہو سکتی تھی  کہ جب یہ کتابِ کامل ان کے پاس آئے گی تو  وہ اس کا آگے بڑھ کر خیر مقدم کریں گے۔  (تدبرِ قرآن)

46۔اور لفظی و معنوی ہر قسم کی تحریف کرتے رہتے ہیں۔۔۔الکلم۔کلام سے مراد کلامِ الٰہی یا توریت ہے۔۔۔الذین ھادوا۔یہ وہ لوگ تھے جو نسلاً اسرائیل نہیں،بلکہ عرب تھے لیکن یہود کی طویل صحبت سے متأثر ہوکرخود بھی یہود کے شعائر و عقائد اختیار کرکے رفتہ رفتہ ان میں جذب ہوچکے تھے ،شرارت و خباثت میں یہ بھی نسلی یہود سے کچھ کم نہ تھے، تفصیل پارۂ اول میں گزرچکی ۔(تفسیر ماجدی)

۔ یعنی دورانِ گفتگو جب وہ کوئی بات حضورؐ سے کہنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں "اسمع" (سنیے)اور پھر ساتھ ہی" غیر مسمع"بھی  کہتے جو ذو معنی ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے  کہ آپ ایسے محترم ہیں کہ آپ کو کوئی بات خلافِ مرضی سنائی نہیں جا سکتی۔  دوسرا یہ کہ تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں کوئی کچھ سنائے۔ ایک اور مطلب بھی ہے کہ خدا کرے تم بہرے ہو جاؤ۔ (تفہیم القرآن)

۔  سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا،اسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ اور رَاعِنَا وغیرہ الفاظ  جیسا کہ ہم سورۃ بقرہ کی تفسیر میں واضع کر چکے ہیں ، عرب کے مجلسی الفاظ میں سے تھے جو متکلم کی تحسین  و  قدر افزائی ، سامع کے اظہارِذوق و  شوق  اور مخاطب کے اعتراف و قبول پر دلیل ہوتے تھے۔ جس طرح ہمارے ہاں کہتے ہیں ، بجا ارشاد ہے، سرِ تسلیم خم ہے، سنیے، کیا خوب بات فرمائی ہے۔  نادر نکتہ ہے۔ مکرر ارشاد ہو۔ پھر فرما ئیے۔ اسی طرح عرب میں بھی مذکورہ الفاظ و کلمات رائج تھے۔ یہ الفاظ اصلاً تو اظہارِ تحسین یا اعتراف و قبول کے لیے ہیں لیکن اگر کوئی گروہ  شرارت اور بد تمیزی کرنا چاہے تو ذرا زبان کو توڑ موڑ کر ، تلفظ کو بگاڑ کر  ، یا  لب و لہجہ میں ذرا مصنوعی انداز پیدا کر کے  بڑی آسانی سے تحسین کوتنقبیح اور  اعتراف  و اقرار کو طنز و استہزا        بنا سکتے ہیں۔ اس  طرح متکلم کے وقار کو کوئی نقصان پہنچے یا نا پہنچے  لیکن شرارت پسند اشخاص اس طرح   اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کر کے خوش ہوتے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)

47۔ ۔۔۔اس آیت میں دوطرح کے متبادل عذابوں کا ذکر ہے یعنی یا توہم تمہیں پہلی سی خستہ حالی اور غلامی و رسوائی کی حالت میں لوٹا دیں گے یا پھر ایسا عذاب بھیج دینگے جیساکہ داؤدؑ کے زمانہ میں اصحاب سبت پر آیا تھا اور انہیں بندر بنادیا گیا تھا۔چنانچہ ان دونوں میں سے پہلی صورت کا عذاب ہی ان سرکش یہود مدینہ کے مقدر ہواہے۔(تیسیر القرآن)

49۔ آیت کا اشارہ خاص یہود کی جانب ہے،اپنے کو نسل ِ انبیاء میں سے ہونے کی بناپر مقدس سمجھ رہے تھے،باقی ہندوستان میں برہمن ،چھتری وغیرہ اپنے کو محض اونچے خاندانوں سے انتساب کی بناپر مقدس سمجھنے والے، اپنے چند ربنسی ،سورج بنسی ہونے پر فخر وناز کرنے والے ،یاجاپانیوں کی طرح اپنے کو دیوتاؤں کی نسل میں قرار دینے والے سب اس کے تحت آجاتے ہیں اور پھر اسی طرح کسی درجہ میں وہ مسلمان بھی جو اپنی پیرزادگی ،مخدوم زادگی ،سیدزادگی کے زعم و پندار میں اپنے کو دوسروں سے بالاتر سمجھتے رہتے ہیں۔۔۔(تفسیر ماجدی)


آ ٹھواں رکوع

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا 51 بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ   52 یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے۔
 اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ   53 کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے تو لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں گے۔
 اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا  54 یا جو خدا نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کا حسد کرتے ہیں تو ہم نے خاندان ابراہیم ؑ کو کتاب اور دانائی عطا فرمائی تھی اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی۔
 فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا  55 پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا ۔تو نہ ماننے والوں (کے جلانے) کو دوزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا  56 جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے۔ جب ان کی کھالیں گل (اور جل) جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمیشہ) عذاب (کا مزہ چکھتے) رہیں۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے۔
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا  57 اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ان کو ہم گھنے سائے میں داخل کریں گے۔
 اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا  58 خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بےشک خدا سنتا اور دیکھتا ہے۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠   ۧ ۧ  59 مومنو! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہیں ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اس کے رسول (کے حکم) کی طرف رجوع کرو یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے۔

تفسیر آیات

51۔ جبت اور طاغوت کا معنیٰ:۔ جبت دراصل اوہام و خرافات کیلئے ایک جامع لفظ ہے جس میں جادو،ٹونے ،ٹوٹکے، جنتر منتر ،سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات ،فال گیری ،گنڈے،نقش اور تعویذ وغیرہ سب کچھ شامل ہے اور طاغوت ہر وہ باطل قوت اور نظام ہے جس کی اطاعت کرنے پر لوگ مجبور ہوں اور اللہ کی اطاعت کے مقابلہ میں انہیں اس فرد،ادارہ یا حکومت کی اطاعت کرنے پر مجبور کیا جائے یا مجبور بنادیا جائے اور لوگ انہیں احکام الٰہیہ کے علی الرغم تسلیم کرلیں۔یہ گاؤں کے چودھری بھی ہوسکتے ہیں،پیر ومشائخ بھی، سوشلزم یا جمہوریت کی طرح باطل نظام بھی ۔اور فرعون و نمرودکی طرح کے سرکش بادشاہ بھی۔(تیسیر القرآن)

۔ پس "جبت " کامفہوم وہی ہے جسے ہم اردو زبان میں اوہام کہتے ہیں اور جس کے لیے انگریزی میں (superstition)  کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ۔۔۔  تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۃ بقرۃ حاشیہ نمبر 286  و  288۔  (تفہیم القرآن)

۔  حضرت ابنِ  عباس سے روایت ہے کہ یہود کے سردار حیی بن اخطب اور کعب بن اشرف اپنی ایک جماعت کو جنگِ احد کے بعد لے کر مکہ میں  قریش کے ساتھ ملنے آئے یہود کا سردار کعب بن اشرف ، ابو سفیان کے پاس آیا اور اس نے حضور ؐکے خلاف ان کے ساتھ تعاون کرنے کا وعدہ کیا، اہلِ مکہ نے کعب بن اشرف سے کہا تم ایک دھوکہ دینے والی قوم ہو اگر تم واقعی اپنے قول میں سچے ہو تو ہمارے ان دو بتوں (جبت اور طاغوت) کے سامنے سجدہ کرو۔ ۔ چنانچہ اس نے قریش کو مطمئن    کرنے کے لیے  ایسا ہی کیا، اس کے بعد  کعب نے قریش سے کہا کہ تیس آدمی تم میں سے اور تیس ہم  میں سے سامنے آئیں، تاکہ ربِ کعبہ کے ساتھ    اس چیز کا عہد کریں کہ ہم سب مل کر محمد ؐ کے خلاف جنگ کریں گے۔ ۔ کعب کی اس تجویز کو قریش نے پسند کیا اور اس طرح سے انھوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک متحدہ محاز قائم کر دیا   ، اس کے بعد  ابو سفیان نے کعب سے کہا  کہ تم اہلِ علم ہو تمہارے پاس اللہ کی کتاب ہے لیکن ہم بالکل جاہل ہیں اس لیے آپ ہمارے متعلق  بتائیں  کہ ہم حق پر چلنے والے ہیں یا محمدﷺ۔ ۔ کعب  نے پوچھا تمہارا دین کیا ہے۔ ابو سفیان نے کہا ہم حج کے لیے اپنے اونٹوں کو ذبح کرتے ہیں، اور ان کا دودھ پلاتے ہیں ، مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اپنے خویش و اقرباء  کے تعلقات کو قائم رکھتے ہیں، اور بیت اللہ کا طواف و عمرہ کرتے ہیں، اس کے بر خلاف محمدؐ  نے اپنے آبائی دین کو چھوڑ دیا ہے، وہ اپنوں سے علیحدہ ہو چکا ہےاور اس نے ہمارے قدیم دین کے بر خلاف اپنا نیا دین پیش کیا ہے۔ ان باتوں  کو سن کر کعب بن اشرف نے کہا کہ تم لوگ حق پر ہو ، محمدؐ (معاز اللہ) گمراہ ہو چکا ہے۔ ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ  آیات نازل فرما کر ان کے دجل و فریب کی مذمت کی۔ ۔۔۔۔ کعب بن اشرف یہودیوں کا ایک ممتاز عالم تھا جو خدا پر بھی عقیدہ رکھتا تھا اور اسی کی عبادت کرتا تھا،لیکن جب اس  کے دل و دماغ پر  نفسانی خواہشات کا بھوت سوار ہوا تو اس نے مسلمانوں کے خلاف  قریش سے الحاق کرنا چاہا۔ ۔۔۔ مفسرین نے لکھا  ہے کہ ملعم بن باعورہ ایک جلیل القدر عالم اور صاحب ِ تصرف درویش تھا، لیکن جب اس نے اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے موسیٰؑ کے خلاف ناپاک تدبیریں کرنی شروع  کیں تو ان کا  تو کچھ نا بگاڑ سکا، لیکن خود مردود  اور گمراہ ہو گیا۔  (معارف القرآن)

53۔ نقیراً۔ نقیر کے لفظی معنی اس گڑھے کے ہیں جو کھجور کی گٹھلی میں ہوتاہے،عربی محاورہ میں مثل فتیل کے اس سے مراد حقیر سے حقیر اور چھوٹی سے چھوٹی چیز ہوتی ہے جیسے اردو میں رائی بھر،رتی بھر،وغیرہ بولتے ہیں،"تل برابر"ترجمہ شاہ عبدالقادر دہلویؒ کا ہے (تفسیر ماجدی)

54ــ یعنی اصل چیز اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے، اسباب ظاہرکا پردہ ہیں۔قرآن میں اس حقیقت کو کلمہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔  آلِ ابراہیم اگرچہ عام ہے لیکن یہاں مراد بنی اسمٰعیل ہیں۔ قرینہ اس پر دلیل ہے۔ اس لیے کہ یہ بات بنی اسرائیل کو  بطورِ سرزنش  کہی جا رہی ہے۔ اس وجہ سے وہ اس میں شامل نہیں ہو سکتے اور جب وہ شامل نہیں ہو سکتے تو اس کے واحد مصداق صرف بنی اسمعٰیل ہی رہ جاتے ہیں۔  (تدبرِ قرآن)

57۔یہ آیات بنی اسماعیل سے متعلق ہیں۔ فرمایا کہ ان میں سے ایک گروہ تو کتاب و حکمت کو قبول کر کے ایمان سے مشرف ہو چکا ہے لیکن ایک گروہ ابھی اس سے روگرداں ہے۔ بنی اسماعیل اس حقیقت سے آگاہ رہیں کہ اللہ کا یہ فضل مجرد خاندان و نسب کی بنیاد پر نہیں حاصل ہوتا بلکہ ان میں سے وہی لوگ اس انعام الہی میں حصہ دار ہوں گے جو قرآن اور نبی ﷺ پر ایمان لائیں گے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔ قرآن نے جہاں کہیں بنی اسما عیل پر اپنے اس احسانِ عظیم کا ذکر فرمایا ہے وہاں اس امر کی وضاحت ضرور فرما دی ہے کہ اس احسان کا تعلق ایمان و اسلام سے ہے ۔ مجرد خاندان و نسب سے نہیں ہے۔ بنی اسمٰعیل  میں سے بھی وہی لوگ اس انعامِ الہٰی میں حصہ دار ہیں جو اس قرآن اور اس نبی پر ایمان لائے  ہیں  اور جو ایمان نہیں لائے وہ سب دوزخ میں جائیں گے۔ (تدبرِ قرآن)

59-58 (Legislature,Judiciary ,؛ عدلیہ؛مقننہ ؛ انتظامیہExecutive)۔۔۔اولی الامر منکم سے پہلے اطیعونہیں آیا ۔پھر فردُّوہ یعنی قرآن و سنت سے مدد لو۔    Repugnant to Quran & Sunnah(بیان القرآن)

58۔ یعنی ان تمام برائیوں سے بچے رہنا جن میں بنی اسرائیل مبتلا ہوگئے ہیں ۔بنی اسرائیل کی بنیادی غلطیوں میں سے ایک یہ تھی کہ انہوں نے اپنے انحطاط کے زمانہ میں امانتیں ،یعنی ذمہ داری کے منصب اور مذہبی پیشوائی اور قومی سر داری کے مرتبے(Positions of Trust)ایسے لوگوں کو دینے شروع کردیے جو نااہل ،کم ظرف،بداخلاق،بددیانت اور بدکار تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ برے لوگوں کی قیادت میں ساری قوم خراب ہوتی چلی گئی۔مسلمانوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ تم ایسانہ کرنا بلکہ امانتیں ان لوگوں کے سپرد کرنا جوان کے اہل ہوں، یعنی جن میں بارِ امانت اٹھانے کی صلاحیت ہو۔بنی اسرائیل کی دوسری بڑی کمزوری یہ تھی کہ وہ انصاف کی روح سے خالی ہوگئے تھے۔وہ شخصی اور قومی اغراض کیلئے بے تکلف ایمان نگل جاتے تھے۔صریح ہٹ دھرمی برت جاتے تھے۔انصاف کے گلے پر چھری پھیرنے میں انہیں ذرا تامل نہ ہوتاتھا ۔ان کی بے انصافی کا تلخ ترین تجربہ اس زمانہ میں خود مسلمانوں کو ہورہاتھا۔ایک طرف ان کے سامنے محمد رسول اللہؐ اور ان پر ایمان لانے والوں کی پاکیزہ زندگیاں تھیں۔دوسری طرف وہ لوگ تھے جو بتوں کو پوج رہے تھے ،بیٹیوں کو زندہ گاڑتے تھے، سوتیلی ماؤں تک سے نکاح کرلیتے تھے اور کعبہ کے گرد مادر زاد ننگے ہوکرطواف کرتے تھے۔ یہ نام نہاد اہل کتاب ان میں سے دوسرے  گروہ کو پہلے گروہ پر ترجیح دیتے تھے اور ان کو یہ کہتے ہوئے ذرا شرم نہ آتی تھی کہ پہلے گروہ کے مقابلہ میں یہ دوسرا گروہ زیادہ صحیح راستہ پر ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی اس بے انصافی پر تنبیہ کرنے کے بعد اب مسلمانوں کو ہدایت کرتاہے کہ تم کہیں ایسے بے انصاف نہ بن جانا ۔خواہ کسی سے دوستی ہو یا دشمنی ،بہر حال بات جب کہو انصاف کی کہو اور فیصلہ جب کرو عدل کے ساتھ کرو۔(تفہیم القرآن)

- یہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے ان کو نصیحت کی ہے کہ شریعت الہی کی امانت یہود سے چھین کر اب تمہارے حوالے کی جا رہی ہے لہذا تم تمام حقوق و فرائض، خواہ حقوق اللہ میں سے ہوں یا حقوق العباد سے، انفرادی نوعیت کے ہوں یا اجتماعی نوعیت کے، صلح و امن کے دور کے ہوں یا جنگ کے، ٹھیک ٹھیک ادا کرنا اور ہمیشہ اپنے فیصلوں میں عدل کو ملحوظ رکھنا جو ایک صاحب اقتدار کی اولین ذمہ داری ہے ۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

58- امانت کے احکام :۔عثمان بن طلحہؓ کہتے ہیں کہ جب میں کنجی لے کر خوشی خوشی چلنے لگا تو آپؐ نے پھر مجھے آواز دی اور فرمایا :کیوں عثمان جو بات میں نے کہی تھی وہ پوری ہوئی یا نہیں؟اب مجھے وہ بات یاد آگئی جو آنحضرتؐ نے ہجرت سے پہلے فرمائی تھی،کہ ایک روز تم یہ کنجی میرے ہاتھ میں دیکھوگے ،میں نے عرض کیا کہ بیشک آپؐکا ارشاد پوراہوا،اور اس وقت میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔(مظہری بروایت ابن سعد)۔۔حضرت فاروق  اعظمؓ فرماتے ہیں کہ اس روز جب آنحضرتؐ بیت اللہ سے باہر تشریف لائے تو یہ آیت آپؐ کی زبان پر تھی:" إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا "۔اس سے پہلے میں نے یہ آیت کبھی آپؐ سے نہ سنی تھی،ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت اس وقت جوفِ کعبہ میں نازل ہوئی تھی،اسی آیت کی تعمیل میں آنحضرتؐ نے دوبارہ عثمان بن طلحہؓ کو بلاکر کنجی ان کو سپرد کی، کیونکہ عثمان بن طلحہؓ نے جب یہ کنجی آنحضرتؐ کو دی تھی تو یہ کہہ کردی تھی کہ میں یہ امانت آپؐ کے سپرد کرتاہوں۔اگرچہ ضابطہ سے ان کا یہ کہنا صحیح نہ تھا، بلکہ رسول کریمؐ ہی کو ہر طرح کا اختیار تھا کہ جو چاہیں کریں، لیکن قرآن کریم نے صورت ِ امانت کی بھی رعایت فرمائی،اور آنحضرتؐ کو اس کی ہدایت کی کہ کنجی عثمانؓ ہی کو واپس فرمادیں،حالانکہ اس وقت حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ نے بھی آنحضرتؐ سے یہ درخواست کی تھی کہ جس طرح بیت اللہ کی خدمت سقایہ  اور سدانہ ہمارے پاس ہے یہ کنجی برداری کی خدمت بھی ہمیں عطافرمادیجئے،مگر آیت مذکورہ کی ہدایت کے موافق آنحضرتؐ نے ان کی درخواست ردکرکے کنجی عثمان بن طلحہؓ کو واپس فرمائی(تفسیر مظہری)یہاں تک آیت کے شان نزول پر کلام تھا، اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ آیت کا شانِ نزول اگرچہ خاص واقعہ ہواکرتاہے لیکن حکم عام ہوتاہے ،جس کی پابندی پوری امت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔۔۔۔۔" لَا اِیمانَ لِمَنْ لا أ مانةَ لَہ، وَلَا دِینَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہ "(یعنی جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں)۔۔۔۔امانت کی قسمیں:۔ اس جگہ یہ بات غور طلب ہے کہ قرآن حکیم نے لفظ امانت بصیغہ جمع استعمال فرمایا ،جس میں اشارہ ہے کہ امانت صرف یہی نہیں کہ کسی کا کوئی مال کسی کے پاس رکھا ہو جس کو عام طورپر امانت کہا اور سمجھا جاتاہے ،بلکہ امانت کی کچھ اور قسمیں بھی ہیں، جو واقعہ آیت کے نزول کا ابھی ذکر کیا گیا خود اس میں بھی کوئی مالی امانت نہیں ،بیت اللہ کی کنجی کوئی خاص مال نہ تھا، بلکہ یہ کنجی خدمتِ بیت اللہ کے ایک عہدہ کی نشانی تھی۔۔۔۔حکومت کے مناصب اللہ کی امانتیں ہیں۔ اس سے معلوم ہواکہ حکومت کے عہدے اور منصب جتنے ہیں وہ سب اللہ کی امانتیں ہیں، جس کے امین وہ حکّام اور افسر ہیں جن کے ہاتھ میں عزل و نصب کے اختیارات ہیں،ان کے لئے جائز نہیں کہ کوئی عہدہ کسی ایسے شخص کے سپرد کردیں جو اپنی عملی یا علمی قابلیت کے اعتبار سے اس کا اہل نہیں ہے، بلکہ ان پر لازم ہے کہ ہرکام اور ہر عہدہ کے لئے اپنے دائرہ حکومت میں اس کے مستحق کو تلاش کریں۔۔۔۔ایک حدیث میں رسول کریمؐ کا ارشاد ہے کہ جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپرد کی گئی ہو پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی و تعلق کی مد میں بغیر اہلیت معلوم کئے ہوئے دیدیا اس پر اللہ کی لعنت ہے ،نہ اس کا فرض مقبول ہے،نہ نفل یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہوجائے۔(جمع الفوائد،ص325)۔۔۔۔اسی لئے آنحضرتؐ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا : إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَیعنی جب دیکھو کہ کاموں کی ذمہ داری ایسے لوگوں کی سپردکردی گئی جو اس کام کے اہل اور قابل نہیں تو(اب اس فساد کا کوئی علاج نہیں)قیامت کا انتظارکرو"یہ ہدایت صحیح بخاری کتاب العلم میں ہے۔۔۔۔مطلب یہ ہے کہ مجلس میں جو بات کہی جائے وہ اسی مجلس کی امانت ہے،ان کی اجازت کے بغیر اس کو دوسروں سے نقل کرنا اور پھیلانا جائز نہیں۔اسی طرح ایک حدیث میں :"المستشار مؤتمن"یعنی جس شخص سے کوئی مشورہ لیا جائے وہ امین ہے۔اس پر لازم ہے کہ مشورہ وہی دے جو اس کے نزدیک مشورہ لینے والے کے حق میں مفید اور بہتر ہو،اگر جانتے ہوئے خلاف مشورہ دیدیا تو امانت میں خیانت کا  مرتکب ہوگیا، اسی طرح کسی نے آپ سے اپنا راز کہا تو وہ اس کی امانت ہے،بغیر اس کی اجازت کے کسی سے کہہ دینا خیانت ہے،آیت مذکورہ میں ان سب امانتوں کا حق اداکرنے کی تاکید ہے۔۔۔۔علاقائی اور صوبائی بنیادوں پر حکومت کے مناصب سپرد کرنا اصولی غلطی ہے:۔اس کے ساتھ قرآن حکیم کے اس جملہ نے اُس عام غلطی کو بھی دور کردیا جو اکثر ممالک کے دستوروں میں چل رہی ہے ،کہ حکومت کے عہدوں کو باشندگانِ ملک کے حقوق قراردیدیا ہے۔اور اس اصولی غلطی کی بناء پر یہ قانون بنانا پڑا کہ حکومت کے عہدے تناسب آبادی کے اصول پر تقسیم کئے جائیں ،ہر صوبۂ ملک کے لیے کوٹے مقرر ہیں،ایک صوبہ کے کوٹہ میں دوسرے صوبہ کا آدمی نہیں رکھا جاسکتا،خواہ وہ کتنا ہی قابل اور امین کیوں نہ ہو، اور اس صوبہ کا آدمی کتنا ہی غلط کار نااہل ہو، قرآن حکیم نے صاف اعلان فرمادیا کہ یہ عہدے کسی کا حق نہیں بلکہ امانتیں ہیں جو صرف اہل امانت ہی کو دی جاسکتی ہیں،خواہ وہ کسی صوبہ اور کسی خطہ کے رہنے والے ہوں،البتہ کسی خاص علاقہ اور صوبہ پر حکومت کے لئے اسی علاقہ کے آدمی کو ترجیح دی جاسکتی ہے کہ اس میں بہت سی مصالح ہیں،مگر شرط یہ ہے کہ کام کی صلاحیت اور امانت میں اس پر پورا اطمینان ہو۔۔۔۔دستور مملکت کے چند زریں اصول:۔ اس طرح مختصر آیت میں دستور مملکت کے چند بنیادی اصول آگئے جو مندرجہ ذیل ہیں:۔1۔ اول یہ کہ آیت کے پہلے جملہ کو  إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ سے شروع فرماکر اس طرف اشارہ کردیا کہ اصل امر اور حکم اللہ تعالیٰ کا ہے،سلاطینِ دنیا سب اس کے مامورہیں ،اس سے ثابت ہواکہ ملک میں اقتدار اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔2۔ دوسرے یہ کہ حکومت کے عہدے باشندگانِ ملک کے حقوق نہیں جن کو تناسب آبادی کے اصول پر تقسیم کیا جائے،بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی امانتیں ہیں جو صرف ان کے اہل اور لائق لوگوں کو دئیے جاسکتے ہیں۔3۔تیسرے یہ کہ زمین پر انسان کی حکمرانی صرف ایک نائب و امین کی حیثیت سے ہوسکتی ہے وہ ملک کی قانون سازی میں ان اصولوں کا پابند رہے گا جو حاکم مطلق حق تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی بتلادئیے گئے ہیں۔4۔چوتھے یہ حکام و امراء کا فرض ہے کہ جب کوئی مقدمہ ان کے پاس آئے تو نسل و وطن اور رنگ و زبان یہاں تک کہ مذہب و مسلک کا امتیاز کئے بغیر عدل و انصاف کا فیصلہ کریں۔اس آیت میں دستور مملکت کے زریں اصول بتلا کر آخر میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو جو نصیحت کی ہے وہ بہت ہی اچھی ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کی سنتاہے ،اور جو بولنے اور فریاد کرنے پر بھی قدرت نہ رکھتاہو اس کے حالات کو خود دیکھتاہے ، اس لئے اس کے بتلائے اور بنائے ہوئے اصول ہی ایسے ہیں جو ہمیشہ ہر ملک میں اور ہر دور میں قابلِ عمل ہوسکتے ہیں، انسانی دماغوں کے بنائے اصول و دستور صرف اپنے ماحول کے اندر محدود ہواکرتے ہیں، اور تغیر ِ حالات کے بعد ان کا بدلنا ناگزیر ہوتاہے،جس طرح پہلی آیت کے مخاطب حکام و امراء تھے دوسری آیت میں عوام کو مخاطب فرماکر ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو! تم اللہ کی اور رسولؐ کی اور اپنے اولی الامر کی اطاعت کرو۔۔۔۔یہ اطاعت بھی درحقیقت اللہ جل شانہ کے احکام ہی کی اطاعت ہے، لیکن ظاہری سطح کے  اعتبار سے یہ احکام نہ قرآن میں ہیں نہ سنت میں ،بلکہ ان کا بیان یا علماء کی طرف سے ہو یا حکام کی طرف سے ،اس لئے اس اطاعت کو تیسرانمبر جداگانہ قراردے کر اولو الامر کی اطاعت نام رکھا گیا،اور جس طرح منصوصات قرآن میں قرآن کا اتباع اور منصوصاتِ رسولؐ میں رسولؐ کا اتباع لازم و واجب ہے،اسی طرح غیر منصوص فقہی چیزوں میں فقہاء کا،اور انتظامی امور میں حکام و امراء کےاتباع کابھی یہی مفہوم ہے یعنی اطاعت اولی الامر کا۔۔۔۔چنانچہ حضورؐ کا ارشاد ہے:" لاَ طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ "یعنی مخلوق کی ایسی اطاعت جائز نہیں جس سے خالق کی نافرمانی لازم آتی ہو۔۔۔۔حضرت ابوذر ؓنے حضورؐ سے درخواست کی کہ آپؐ مجھے کسی جگہ کا حاکم مقرر فرمالیں تو آپؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ:"اے ابوذر آپ ضعیف آدمی ہیں، اور منصب ایک امانت ہے جس کی وجہ سے قیامت کے دن انتہائی ذلت اور رسوائی ہوگی، سوائے اس شخص کے جس نے امانت کا حق پورا کردیا ہو(یعنی وہ ذلت سے بچ جائے گا)"۔۔۔۔کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ کتاب و سنت کے احکام منصوصہ کی جانب رجوع کیا جائے،دوسری صورت یہ ہے کہ اگر احکام ِ منصوصہ موجود نہیں ہیں تو ان کے نظائر پر قیاس کرکے رجوع کیا جائے گا،فرُدوہ کے الفاظ عام ہیں جو دونوں صورتوں کو شامل ہیں۔(معارف القرآن)

58- 59:۔ تیسرے پیراگراف میں ،اسلامی ریاست کے اندر رعایا اور حکومت کے حقوق و فرائض پر روشنی ڈالی گئی ہے۔تیسرا پیراگراف صرف دو(2)آیات پر مشتمل ہے۔(a)آیت 58 میں عدل وانصاف کے ساتھ اور مناصب،اہل(Eligible)لوگوں کو تفویض کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔(b)آیت نمبر 59 میں ، اللہ اور رسول ؐ کی اطاعت کے ماتحت ،حکمرانوں (اولواالامر)کی اطاعت کا حکم دیا گیا ۔اللہ اور رسول ؐ کی اطاعت مطلق(Absolute)اور غیر مشروط (Un-Conditional)ہے،جب کہ حکمرانوں اور دیگر بزرگوں ،اماموں اور مفتیوں (اولوالامر)کی اطاعت(Bound & Conditional)مقید اور مشروط ہے۔حکمرانوں اور دیگر(اولوالامر)سے اختلاف اور نزاع کی صورت میں، کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔(فان تنازعتم فی شئ فردوہ الی اللہ والرسول)(قرآنی سورتوں کا نظم جلی)

- اس جملہ کے بہت سےمطلب ہوسکتے ہیں۔مثلاً ایک یہ کہ جس کسی نے تمہارے پاس کوئی امانت رکھی ہو اسی کو اس کی امانت اداکردو۔زید کی امانت بکر کے حوالے نہ کرو۔امانت کا دوسرا مطلب ذمہ دارانہ مناصب ہیں۔یعنی حکومت کے ذمہ دارانہ مناصب انہی کے حوالے کرو جو ان مناصب کے اہل ہوں۔نااہل، بے ایمان بددیانت اور راشی قسم کے لوگوں کے حوالے نہ کرو۔اس لحاظ سے یہ مسلمانوں سے اجتماعی خطاب ہے کیونکہ بدکار لوگوں کی حکومت سے ساری قوم کی اخلاقی حالت تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔امانت کا تیسرا مطلب حقوق بھی ہیں یعنی تمہارے ذمہ جو حقوق ہیں خواہ اللہ کے ہوں یا بندوں کے، سب کے حقوق بجالاؤ۔کسی حکومت کے استحکام کی یہ پہلی بنیاد ہے اور انہی حقوق کی عدم ادائیگی سے فساد رونما ہوتاہے۔(تیسیر القرآن)

- امانۃ کا لفظ عربی میں بڑا وسیع مفہوم رکھتاہے،ہر قسم کی ذمہ داریاں اس کے تحت میں آجاتی ہیں اور یہ لفظ حقوق اللہ و حقوق العباد کا جامع ہے۔۔۔ضمناً یہ بات نکل آئی کہ نظام شریعت میں کوئی گنجائش بھی سعی و سفارش ،اقرباپروری وغیرہ کی نہیں حکومت میں عہدے صرف انہیں کو ملنے چاہئیں جو ان خدمتوں اور منصبوں کے واقعی اہل ہوں۔۔۔اب خطاب حکام اور اہل حل و عقد سے ہورہاہے۔(تفسیر ماجدی)

59۔ یہ آیت اسلام کے پورے مذہبی ،تمدنی اور سیاسی نظام کی بنیاد اور اسلامی ریاست کے دستور کی اولیں دفعہ ہے۔جس میں حسب ذیل اصول مستقل طورپر قائم کردیئے گئے ہیں ۔(i) اسلامی نظام میں اصل مطاع اللہ ہے۔ (ii)اسلامی نظام کا دوسرا منبع اطاعتِ رسول ہے(iii)اولی الامر کی اطاعت جو خود مسلمانوں میں سے ہوں(iv)خدا کا حکم اور رسول کا طریقہ بنیادی قانون اور آخری سند (Final authority)(تفہیم القرآن)

امیر سے تنازعہ: ۔سیدنا علیؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے ایک لشکر روانہ کیا اور اس کا امیر ایک انصاری (عبداللہ بن حذافہؓ)کو مقرر کیا اور لشکر کو ان کی اطاعت کا حکم دیاوہ امیر ان سے کسی بات پر خفا ہوگیا اور ان سے پوچھا "کیا رسول اللہ ؐ نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا تھا"وہ کہنے لگے کیوں نہیں ؟ امیر نے کہا"ایندھن جمع کرو اور آگ لگاؤ اور اس میں داخل ہوجاؤ"انہوں نے لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی اور جب داخل ہونےکا ارادہ کیا تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔کسی نے کہا"ہم نے رسول اللہؐ کی اطاعت ہی اس لیے کی ہے کہ آگ سے بچ جائیں،تو کیا ہم آگ میں داخل ہوں؟"اتنے میں آگ بجھ گئی اور امیر کا غصہ بھی ٹھنڈا  ہوگیا۔اس بات کا ذکر آپؐ سے کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا "اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو اس سے کبھی نہ نکلتے۔اطاعت تو صرف معروف کاموں میں ہے۔"اور مسلم کی روایت کے مطابق آپؐ نے فرمایا "اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ۔اطاعت صرف معروف کاموں میں ہے"۔(بخاری، کتاب الاحکام،باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ۔۔۔۔مسلم، کتاب الامارۃ،باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ)۔۔۔یہ تواطاعت امیر سے متعلقہ احکام تھے۔اب امیر سے تنازعہ کا مسئلہ یوں ہے کہ سیدنا عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبویؐ کی توسیع کا ارادہ کیا تو سیدنا ابی بن کعبؓ کا مکان اس میں رکاوٹ تھی۔سیدنا عمرؓ نے ابی بن کعبؓ سے کہا بلکہ انہیں مجبور کیا کہ وہ جائز قیمت لیکر مکان دے دیں لیکن ابی بن کعبؓ مکان فروخت کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔تنازعہ بڑھ گیا تو فریقین نے جن میں مدعی حکومت وقت یا امیر المومنین سیدناعمرؓ تھے اور مدعا علیہ سیدنا ابی بن کعبؓ ،اور سیدنا زید بن ثابتؓ کو اپنا ثالث (یا عدالت)بنانامنظورکرلیا۔تنقیح طلب معاملہ یہ تھا کہ اسلام انفرادی ملکیت کو کس قدر تحفظ دیتاہے اور آیا اجتماعی مفاد کی خاطر انفرادی مفادکو قربان کیا جاسکتاہے یا نہیں؟ چنانچہ کتاب و سنت کی روسے سیدنا زیدبن ثابتؓ نےاس مقدمہ کا فیصلہ سیدنا عمرؓ کے خلاف دے دیا ۔اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ یہ تنازعہ دراصل مکان کی فروخت کا نہیں بلکہ ضد بازی اور امیر اور اس کی رعیت کے درمیان اپنے اپنے حقوق کی تحقیق سے تعلق رکھتاتھا۔ جب سیدنا عمرؓ نے ابی بن کعبؓ کو مکان فروخت کردینے پر مجبور کیا تو سیدنا ابی بن کعبؓ جو اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ کسی چیز کا مالک اسے بیچنے یا نہ بیچنے کے مکمل اختیارات رکھتاہے ،تووہ بھی احقاق  حق کیلئے ڈٹ گئے اور ثالث نے فیصلہ بھی انہی کے حق میں دیا۔(تیسیر القرآن)

- منکم۔اس تصریح کے ہوتے ہوئے اس آیت سے جن صاحبوں نے کسی غیر اسلامی حکومت کی اطاعت پر استدلال کیا ہے،انہوں نے اپنی فہم ِ سلیم پر بڑا ظلم کیا، اطاعت تو مسلم امیر کی بھی ہر صورت  حال میں جائز نہیں، چہ جائیکہ کسی غیر مسلم کی، وہ اگر جائز ہے بھی تو کم از کم اس آیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔(اور اس کی تحقیق مزید کرلیا کرو کہ اولو الامر کا حکم احکامِ شریعت کے کہاں تک مطابق ہے) ۔۔۔الی اللہ۔اللہ کے احکام کی طرف مراجعت کرنا تو ظاہر ہے کہ کتاب اللہ کی طرف رجوع کرنے سے ہر وقت ممکن ہےلیکن الی الرسول کی تعمیل کی کوئی صورت رسول اللہؐ کی وفات کے بعد بجز اس کے ممکن نہیں کہ دفترِ احادیث و سنن کی طرف رجوع کیا جائے۔۔۔حدیث و سنت کی حجیت اس طرح فرقۂ اہل قرآن کی سطحیت کے علی الرغم خود قرآن مجید سے ثابت ہے۔۔۔یہیں سے اس فرقہ کا بھی رد نکل آئے گا جو رسول ِ معصومؐ کے علاوہ مستقل ائمہ معصوم کا بھی وجود تسلیم کئے ہوئے ہے، ہر امام وقت اپنی ساری بزرگیوں کے باوجود بہرحال غیر معصوم ہے۔۔۔(اور اس لئے شُتر بے مہار نہیں ہو،بلکہ اپنی ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس رکھتے ہو)یہ سوال آخرت کا استحضار ہی تو ہے،جو مومن کو جادۂ مستقیم پر ہروقت قائم رکھتاہے۔(تفسیر ماجدی)

ــــ مراد وہ اختلاف رائے ہے جو کسی معاملے میں حکم شریعت معین کرنے کے باب میں ہوسکتاہے ۔امت کے ارباب حل و عقد کو یہ ہدایت دی کہ وہ کتاب و سنت کی طرف رجوع کریں اور جو بات اس سے زیادہ موافق نظرآئے اس کو اختیار کریں ۔ قانون اسلامی کے مرجع کی حیثیت سے کتاب اللہ کی طرح سنت رسول کی حیثیت بھی مستقل اور دائمی ہے۔اولو الامر قانون کے مرجع کی حیثیت سے دین میں کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)


نواں رکوع

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا  60 کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے۔
 وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ   61 اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف (رجوع کرو) اور پیغمبر کی طرف آؤ تو تم منافقوں کو دیکھتے ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں۔
فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا 62 . تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا۔
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا 63 . ان لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے خدا اس کو خوب جانتا ہے تم ان (کی باتوں) کو کچھ خیال نہ کرو اور انہیں نصیحت کرو اور ان سے ایسی باتیں کہو جو ان کے دلوں میں اثر کر جائیں۔
 وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا  64 اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول (خدا) بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے۔
فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا  65 تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے۔
وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ 66 اور اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالو یا اپنے گھر چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر یہ اس نصیحت پر کاربند ہوتے جو ان کو کی جاتی ہے تو ان کے حق میں بہتر اور (دین میں) زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا۔
 وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ   67 اور ہم ان کو اپنے ہاں سے اجر عظیم بھی عطا فرماتے۔
وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا 68 اور سیدھا رستہ بھی دکھاتے۔
وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ   69 اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے
 ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠   ۧ ۧ  70 یہ خدا کْا فضل ہے اور خدا جاننے والا کافی ہے۔

تفسیر آیات

60۔یہاں صریح طورپر"طاغوت"سے مراد وہ حاکم ہے جو قانون ِ الٰہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتاہو،اور نظامِ عدالت ہے جونہ تو اللہ کے اقتدار اعلیٰ کا مطیع ہو اور نہ اللہ کی کتاب کو آخری سند مانتا ہو۔لہذا یہ آیت اس معنیٰ میں بالکل صاف ہے کہ جو عدالت"طاغوت " کی حیثیت رکھتی ہو اس کے پاس اپنے معاملات فیصلہ کیلئے لے جانا ایمان کے منافی ہے اور خدا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کا لازمی اقتضایہ ہےکہ آدمی ایسی عدالت کو جائز تسلیم کرنے سے انکار کردے ۔قرآن کی روسے اللہ پر ایمان اور طاغوت سے کفر، دونوں لازم و ملزوم ہیں،اور خدااور طاغوت دونوں کے آگے بیک وقت جھکنا عین منافقت ہے۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ منافقین کی عام روش تھی کہ جس مقدمہ میں انہیں توقع تھی کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا اس کو تو نبیؐ کے پاس لے آتے تھے مگر جس مقدمہ کا اندیشہ ہوتاتھا کہ فیصلہ ان کیخلاف ہوگا تو اس کو آپ کے پاس لانے سے انکار کردیتے تھے ۔یہی حال اب بھی بہت سے منافقوں کا ہے کہ اگر شریعت کا فیصلہ ان کے حق میں ہو تو سر آنکھوں پر ورنہ ہر اس قانون ،ہراس رسم و رواج اور ہر اس عدالت کے دامن میں جاپناہ لیں گے جس سے انہیں اپنے منشاء کے مطابق فیصلہ حاصل ہونے کی توقع ہو۔ ۔۔۔۔۔۔۔ طاغوت کی تعریف   (سورۃ بقرہ ، صفحہ 196):۔ "طاغوت"لغت کےاعتبار سے ہر اس شخص کو کہا جائے گا،جو اپنی جائز حد سے تجاوز کرگیا ہو۔قرآن کی اصطلاح میں طاغوت سے سے مراد وہ بندہ ہے، جوبندگی کی حد سے تجاوز کرکے خود آقائی و خداوندی کا دم بھرے اور خداکے بندوں سے اپنی بندگی کرائے ۔خدا کے مقابلے میں ایک بندے کی سرکشی کے تین مرتبے ہیں۔پہلا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ اصولاً اس کی فرماں برداری ہی کوحق مانے،مگر عملاً اس کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔ اس کا نام فسق ہے۔دوسرامرتبہ یہ ہے کہ وہ اس کی فرماں برادری سے اصولاً منحرف ہوکریا توخود مختار بن جائے یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے لگے۔یہ کفر ہے۔تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ مالک سے باغی ہوکر اس کے ملک اور اس کی رعیت میں خود اپنا حکم چلانے لگے۔اس آخر مرتبے پر جو بندہ پہنچ جائے،اسی کا نام طاغوت ہے اور کوئی شخص صحیح معنوں میں اللہ کا مومن نہیں ہوسکتا ،جب تک کہ وہ اس طاغوت کا منکر نہ ہو۔  (تفہیم القرآن)

- سیدنا عمرؓ کا منافق کے حق میں فیصلہ:۔ ہوا یہ تھا کہ ایک یہودی اور ایک منافق (مسلمان )کا کسی معاملہ میں جھگڑا ہوگیا ۔یہودی چونکہ حق بجانب تھا لہذا اس نے منافق سے کہا چلو اس کا فیصلہ تمہارے رسول اللہؐ سے کرواتے ہیں (یعنی یہودیوں کا بھی یہ ایمان ضرور تھا کہ یہ نبی حق ہی کا ساتھ دیتاہے)مگر منافق اس سے پس و پیش کرنے لگا۔اسے یہ بھی   خطرہ تھا کہ آپؐ حق کا ساتھ دینگے اور فیصلہ میرے خلاف ہوجائے گالہذا وہ لیت ولعل کرنے لگا اور کہنے لگا کہ یہ مقدمہ تمہارے سردار کعب بن اشرف کے پاس لے چلتے ہیں جہاں اس منافق کو توقع تھی کہ مکروفریب اور رشوت سے فیصلہ میرے حق میں ہوسکتاہے۔مگر یہودی یہ بات نہ مانا کیونکہ اسے بھی اپنے سردار کے کردار کا پتہ تھاا ور منافق چونکہ کھل کر یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ میں رسول اللہؐ کے پاس نہ جاؤں گا اس لیے بلآخر یہی طے پایا کہ فیصلہ رسول اللہؐ سے کرایا جائے۔آپؐ نے فریقین کی بات سن کر یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا تو اب منافق کہنے لگا کہ چلو اب یہ مقدمہ سیدنا عمرؓ کے پاس لے جاکر ان کا بھی فیصلہ لیتے ہیں۔سیدنا عمرؓ ان دنوں رسول اللہؐ کی اجازت سے اور ان کے نائب کی حیثیت سے مدینہ میں مقدمات کے فیصلے کیا کرتے تھے۔منافق کا یہ خیال تھا کہ چونکہ سیدنا عمرؓ میں اسلامی حمیت بہت ہے لہذا وہ میرے حق میں فیصلہ دے دینگے۔چناچہ یہودی اور منافق دونوں نے سیدنا عمرؓ کے ہاں جاکر اس مقدمہ کا فیصلہ چاہا۔پھر اپنے اپنے بیان دیے۔یہودی نے اپنا بیان دینے کے بعد یہ بھی کہہ دیا کہ ہم یہ مقدمہ تمہارے نبیؐ کے پاس لے گئے تھے اور انہوں نے میرے حق میں فیصلہ دیا ہے یہ سنتے ہیں سیدنا عمرؓ اندر گئے اور تلوار نکال لائے اور آتے ہی اس منافق کا سر قلم کردیا اور فرمایا جو شخص نبیؐ کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرے اس کیلئے میرے پاس یہی فیصلہ ہے۔(تیسیر القرآن)

62۔ جس مصیبت کا یہاں ذکر ہے وہ بعد میں یوں پیش آئی کہ جب اسلام نےطاقت پکڑلی اور یہود کی سیاسی طاقت کمزور ہوگئی تو مسلمانوں کو منافقین کے معاملے میں چشم پوشی کی روش بدلنے کا حکم دیا گیا ۔جب منافقین کا قدم قدم پر احتساب شروع ہوا تو یہ اپنی منافقت کو مصالحت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرنے لگے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔ غالباً اس سے مراد یہ ہے کہ جب ان کی اس منافقانہ حرکت کا مسلمانوں کو علم ہو جاتا ہے اور انھیں خوف ہوتا ہے کہ اب باز پرس ہو گی اور سزا  ملے گی  اس وقت قسمیں کھا کھا کر اپنے ایمان کا یقین دلانے لگتے ہیں۔  (تفہیم القرآن)

64۔ یعنی خدا کی طرف سے رسول اس لئے نہیں آتا کہ بس اس کی رسالت پر ایمان لے آؤ اور پھر اطاعت جس کی چاہوکرتے رہو،بلکہ رسول کے آنے کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ زندگی کا جوقانون وہ لیکر آیا ہے تمام قوانین چھوڑ کر صرف اسی کی پیروی کیجائے اور خدا کی طرف سے جو احکام وہ دیتاہے تمام احکام کو چھوڑ کر صرف انہی پر عمل کیا جائے ۔اگر کسی نے یہی نہ کیا تو پھر اس کا محض رسول کو رسول مان لینا کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔(تفہیم القرآن)

- یہ آیت اگرچہ خاص واقعہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن اس کے الفاظ سے ایک عام ضابطہ نکل آیا ،کہ جو شخص رسول اللہؐ کی خدمت  میں حاضر ہوجائے اور آپؐ اس کیلئے دعاء مغفرت کردیں اس کی مغفرت ضرور ہوجائے گی،اور آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضری جیسے آپؐ کی دنیوی  حیات کے زمانہ میں ہوسکتی تھی اسی طرح آج بھی روضۂ اقدس پر حاضری اسی حکم میں ہے۔۔۔حضرت علی المرتضیٰؓ نے فرمایا کہ جب ہم رسول اللہؐ کو دفن کرکے فارغ ہوئے تو اس کے تین روز بعد ایک گاؤں والا آیا،اور قبر شریف کے پاس آکر گرگیا،اور زار زار روتے ہوئے آیت ِ مذکورہ کا حوالہ دے کر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے کہ اگر گنہگار ،رسولؐ کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور رسولؐ اس کیلئے دعائے مغفرت کردیں تو اس کی مغفرت ہوجائےگی،اسی لئے میں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہواہوںکہ آپؐ میرے لئے مغفرت کی دعا کریں،اس وقت جولوگ حاضرتھے ان کا بیان ہے کہ اس کے جواب میں روضۂ اقدس کے اندر سے آواز آئی قدغفرلک یعنی مغفرت کردی گئی۔(بحر محیط)(معارف القرآن)

65۔ اس آیت کا حکم صرف حضورؐ کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک کےلئے ہے۔جو کچھ آپؐ لائے وہ ہمیشہ ہمیشہ کےلئے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کن سند ہے ۔حدیث نبویؐ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتاجب تک اس کی خواہش ِ نفس اس طریقہ کے تابع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیا ہوں۔(تفہیم القرآن)

- قسم کھاکر کہاکہ رسول اللہ کا حکم مانے بغیر ایمان ممکن نہیں فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ (ترجمہ:پس اے مصطفیٰؐ تیرے رب کی قسم یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ حاکم بنائیں آپ کو ہر اس جھگڑے میں جو پھوٹ پڑا ان کے درمیان ) (تفسیر عثمانی)]

- مثلاً جہاں شریعت نے تیمم کرکے نماز پڑھنے کی اجازت دی وہاں تیمم کرنے پر جس شخص کا دل راضی نہ ہو وہ اس کو تقویٰ نہ سمجھے بلکہ اپنے دل کا روگ سمجھے۔حضورؐ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جس طرح عزیمتوں پر عمل کرنے سے خوش ہوتے ہیں اسی طرح رخصتوں پر عمل کرنیکوبھی پسند فرماتے ہیں۔(معارف القرآن)

- یہ سابقہ آیات کا تتمہ ہے جس میں ایک مستقل قانون دیا گیا ہے جو صرف مقدمہ کے منافق کیلئے ہی نہیں بلکہ ساری امت کیلئے ہے اور قیامت تک کیلئے ہے اور وہ یہ ہے کہ جو مسلمان آپؐ کے ارشاد ،حکم یا فیصلہ کو بدل و جان قبول کرلینے اور اس کے آگے سر تسلیم خم کردینے پر آمادہ نہیں ہوتا وہ سرے سے مسلمان ہی نہیں ہوسکتا۔اور آپؐ کے ارشادات ،احکام اور فیصلے سب کچھ کتب احادیث میں مذکور ہوچکے ہیں ۔اب جو شخص ان کے مقابلہ میں کسی اور شخص، عالم ،پیر یا امام کے قول کو ترجیح دے گا وہ بھی اس حکم میں داخل ہے۔(تیسیر القرآن)

69۔ اس آیت کا شان نزول یوں بیان کیا گیاہے کہ حضورؐ کے عاشق ِ زار حضرت ثوبانؓ حاضر ہوئے تو ان کا چہرہ اترا ہوااور رنگ اڑا ہوادیکھ کر حضورؐ نے وجہ بوچھی تو دردمند عاشق نے عرض کیا یا رسول اللہؐ !نہ کوئی جسمانی تکلیف ہے اور نہ کہیں درد ہے۔بات یہ ہے کہ رخ انور جب آنکھوں سے اوجھل ہوتاہے تو دل بے تاب ہوجاتاہے۔فوراً  زیارت سے اس کو تسلی دیتاہوں۔اب رہ رہ کر مجھے یہ خیال ستارہاہے کہ جنت میں حضورؐ کا مقام بلند کہاں ہوگا اور یہ مسکین کس گوشہ میں پڑا ہوگا۔اگر روئے تاباں کی زیارت نہ ہوئی تو میرے لیے جنت کی ساری لذتیں ختم ہوجائیں گی۔فراق و ہجر کا یہ جانکاہ  صدمہ تو اس دل ناتواں سے برداشت نہ ہوسکےگا۔حضورؐ یہ ماجرا سن کر خاموش ہوگئے یہاں تک کہ جبرائیل امینؐ یہ مژدہ لے کر تشریف  لائے کہ ہم اطاعت گزار عشاق کو جنت میں جدائی کا صدمہ نہیں پہنچائیں گے بلکہ ان کو اپنے محبوب کی معیت و وصال میسر ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ عشق مصطفویؐ میں صرف ثوبانؓ کی یہ کیفیت نہ تھی بلکہ سب کا تقریباً یہی حال تھا۔چناچہ علامہ قرطبی اور دیگر مفسرین جنہوں نے یہ روایت لکھی ہے انہوں نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ جملہ صحابہ کے شکوہ فراق پر یہ آیت نازل ہوئی۔(ضیاء القرآن)

-اعلیٰ اور ادنیٰ درجے کے جنتیوں کا ملاپ:۔  مؤطاء امام مالک میں بروایت ابوسعید خدریؓ منقول ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ اہل جنت اپنی کھڑکیوں میں اپنے سے اوپر کے طبقات والوں کو دیکھیں گے جیسے دنیا میں تم ستاروں کو دیکھتے ہو۔۔۔اونچے درجات والے نیچے درجات کی طرف اتر کر آیا کریں گے۔۔۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ نیچے کے درجات والوں کو ملاقات کیلئے اعلیٰ درجات میں جانے کی اجازت ہو،اس آیت کی بناپر رسول کریمؐ نے بہت سے لوگوں کو جنت میں اپنے ساتھ رہنے کی بشارت دی۔۔۔صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت کعب بن اسلمیؓ آنحضرتؐ کے ساتھ رات گزارتے تھے، ایک رات تہجد کے وقت کعب بن اسلمیؓ نے آنحضرتؐ کیلئے وضو کا پانی اور مسواک وغیرہ ضروریات لاکر رکھی،تو آپؐ نے خوش ہوکر فرمایا : مانگو کیا مانگتے ہوتو کعب اسلمیؓ نے عرض کیا میں جنت میں آپؐ کی صحبت چاہتاہوں،آپؐ نے فرمایا اور کچھ ؟تو انہوں نے عرض کیا اور کچھ نہیں،اس پر آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم جنت میں میرے ساتھ رہنا چاہتے ہوتو"اعنی علی نفسک بکثرۃ السجود" یعنی تمہارا مقصد حاصل ہوجائے گالیکن اس میں تم میری مدد اس طرح کرو کہ کثرت سے سجدے کیا کرو،یعنی نوافل کثرت سے اداکرو۔(مسلم، کتاب الصلوٰۃ)۔۔۔۔۔

قرب کی شرط محبت ہے:۔رسول کریمؐ کی صحبت اور رفاقت آپؐ کے ساتھ محبت کرنے سے حاصل ہوگی،چنانچہ صحیح بخاری میں طرق متواترہ کے ساتھ صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت سے منقول ہے کہ رسول اللہؐ سے دریافت کیا گیا کہ اس شخص کا کیا درجہ ہوگا جو کسی جماعت سے محبت اور تعلق رکھتاہے مگر عمل میں ان کے درجہ کو نہیں پہنچا،آپؐ نے فرمایا"المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" یعنی محشر میں ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا جس سے اس کو محبت ہے"۔(معارف القرآن)


دسواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا 71 مومنو! (جہاد کے لئے) ہتھیار لے لیا کرو پھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو یا سب اکھٹے کوچ کیا کرو۔
 وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا 72 اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے کہ (عمداً) دیر لگاتا ہے۔ پھر اگر تم پر کوئی مصیبت پڑ جائے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھ پر بڑی مہربانی کی کہ میں ان میں موجود نہ تھا۔
 وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا 73 اور اگر خدا تم پر فضل کرے تو اس طرح سے کہ گویا تم میں اس میں دوستی تھی ہی نہیں (کہ افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرتا۔
 فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا  74 تو جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں اُن کو چاہیئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے اور شہید ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے۔
وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ   75 اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اُن بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما۔
 اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠   ۧ ۧ  76 جو مومن ہیں وہ تو خدا کے لئے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ بتوں کے لئے لڑتے ہیں سو تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو۔ (اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا داؤ بودا ہوتا ہے۔

تفسیر آیات

۔ واضع رہے کہ یہ خطبہ  اس زمانہ میں نازل ہوا تھا جب احد  کی شکست کی وجہ   سے اطراف و نواح کے قبائل کی ہمتیں بڑھ گئی تھیں اور مسلمان ہر طرف سے خطرات میں گھر گئے تھے ۔  آئے دن خبریں آتی رہتی تھیں کہ فلاں قبیلے  کے تیور بگڑ رہے ہیں، فلاں قبیلہ دشمنی پر آمادہ ہے، فلاں مقام پر حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ  پے در پے غداریاں کی جا رہی تھیں۔ اس کے مبلغین  کو فریب سے دعوت دی  جاتی تھی اور قتل کر دیا جاتا تھا۔ مدینہ کے حدود سے باہر ان کے لیے جان و مال کی سلامتی باقی نہ رہی تھی۔  ان حالات میں مسلمانوں کی طرف سے ایک زبردست سعی و جہد اور سخت جاں فشانی کی ضرورت تھی تا کہ ان خطرات کے ہجوم سے اسلام  کی یہ تحریک مٹ نہ جائے۔ (تفہیم القرآن)

74۔سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا "جو شخص اس حال میں مرے کہ نہ اس نے اللہ کے راستے میں جنگ کی اور نہ ہی کبھی اس کے دل میں اس کا خیال گزرا ہو تو اس کی موت نفاق کی ایک شاخ پر ہوگی۔"(مسلم،کتاب الامارۃ،باب ذم من مات ولم یغزو ولم یحدث نفسہ  بالغزو)(تیسیر القرآن)

75۔ یہ دوسرا  داعی جہاد کیلئے ارشاد ہوا، کمزوروں کی دستگیری و نصرت اور مظلوموں کی اعانت اور انہیں ظالم کافروں کے پنجہ سے رہائی دلانا بجائے خود مقاصدِ جہاد میں سے ہے۔۔۔ھذہ القریۃ۔مراد مکہ کا شہر اور مکہ کی حکومت ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔(تفسیر ماجدی)

ــــ یہ اس دور میں کفار کے نرغے میں گھرے ہوئے مسلمانوں کی نصرت پر ابھارا ہے۔اگر کہیں مسلمان اس طرح کی مظلومیت کی حالت میں گھر جائیں کہ ظالم کفار نے ان پر خود ان کے وطن کی زمین تنگ کردی ہو اور ان کا دین و ایمان اس میں محفوظ نہ ہو تو ان تمام مسلمانوں پر جو ان کی مدد کرنے کی پوزیشن میں ہوں جہاد فرض ہوجاتاہے ۔اگر وہ ان کی مدد کے لیے نہ اٹھیں تو یہ صریح نفاق ہے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

76۔ فی سبیل اللہ۔کی قید جو باربار لگائی جارہی ہے،بے معنی نہیں بہت ہی پر معنی ہے، درحقیقت یہ آیت سلسلۂ جہاد کی آیتوں میں سے ایک کلیدی آیت ہے ، اس نے صاف صاف اسلامی جہاد کا فرق دنیا جہان کی تمام جنگوں اور جاہلی محاربات سے واضح کردیا ، اس نے وضاحت کے ساتھ بتادیا کہ سچا مسلمان جب اپنے ابنائے جنس پر ہاتھ اٹھائے گا تو توسیع ملک کیلئے نہیں،قومی تفوق کیلئے نہیں،تجارتی منڈیاں قائم کرنے کو نہیں،دوسرے کو نیچا دکھانے کو نہیں،دوسروں پر اپنی برتری ثابت کرنے کو نہیں، رشک و ہوس اور جاہ پرستی کے جذبات سے متأثر ہوکر نہیں،بلکہ دنیا کے بلندترین مقصد،انسانیت کے بلندترین نصب العین،کلمۂ توحید کی برتری اور سربلندی کیلئے !رنگ اور نسل مرزبوں اور قوم ،وطن اور قبیلہ کی عزت و حمیت پر کٹ مرنے والے، اسلامی نقطۂ نظر کی بلندی کو سمجھ  بھی سکتے ہیں؟اسلامی جہاد جب تک اسلامی جہاد رہا،کیا وہاں بھی کسی لشکر کیلئے ہزاروں من اور سیکڑوں ٹن شرابوں کی ضرورت پڑی؟ کیا اس لشکر میں بھی سوز اک اور آتشک کے سیکڑوں ہزاروں مریض سپاہیوں اور افسروں کیلئے امراض خبیثہ کے مخصوص اسپتالوں کا انتظام کرنا پڑا؟مسلمان سپاہی کے سینہ میں تو یہ زندہ ایمان رہتاہے کہ اسے ایک ایک قدم کا حساب دینا ہے کبھی اس کا قدم ان گندے راستوں پر پڑبھی سکتاہے؟!۔(تفسیر ماجدی)


گیارہواں رکوع

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا 77 بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑبڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی ۔ (اے پیغمبر ان سے )کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
 اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا  78 (اے جہاد سے ڈرنے والو) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہے گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو۔ اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمدﷺ تم سے) کہتے ہیں کہ یہ گزند آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے۔ کہہ دو کہ (رنج وراحت) سب الله ہی کی طرف سے ہے۔ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔
 مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا 79 اے (آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال) کی وجہ سے ہے۔ اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے۔
 مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ 80 جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے پیغمبر تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔
وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا 81 اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور ہے) لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو اور خدا ہی کافی کارساز ہے۔
 اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا  82 بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے۔
 وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا  83 اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے۔ اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے۔
 فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا 84 . تو (اے محمدﷺ) تم خدا کی راہ میں لڑو تم اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں اور مومنوں کو بھی ترغیب دو قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی کو بند کردے اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے۔
 مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا  85 . جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں سے حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے اس کو اس (کے عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا 86 اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہی لفظوں سے دعا دو بےشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔
 اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠   ۧ ۧ  87 خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟

تفسیر آیات

77۔ تین مفہوم(i) ہمیں ستایا جاتالیکن جنگ کی اجازت نہیں۔پہلے خود بیتاب تھے اب جنگ کے خطرات دیکھ کر سہم رہے ہیں۔(ii) جب تک مطالبہ صرف نماز روزے تک تھا پکے دیندار تھے ،اب دین کے لئے جنگ سے کترا رہے ہیں(iii)لوٹ کھسوٹ اور عزت کی جنگ کے لئے ہر وقت تیار تھے۔مگر دین کی خاطر جان دینے سے کترارہے ہیں۔)تفہیم القرآن(

- تیرہ چودہ سال کی صحبتِ رسولؐ کی زبردست ٹریننگ کے بعد جب علمِ الٰہی میں مسلمانوں کے اخلاق ِ فاضلہ پختہ ہوگئے،اور طاعت،اطاعت اور بے نفسی ان کے کردار کے جزو بن گئے تو حکمِ قتال نازل ہوا لیکن اس اثناء میں مدینہ کی پر امن فضا میں رہتے رہتے مسلمانوں کے جذباتِ انتقام دھیمے پڑچکے تھے ،اور وہ جوش وولولۂ قتال باقی نہیں رہاتھا ،اب طبعی تقاضے سے میدان جنگ میں جانے سے حیلے حوالے ڈھونڈھے جانے لگے،یہاں ذکر انہی عافیت کوش مسلمانوں کا ہے۔۔۔بہر صورت آیت ان ظالم پادریوں کی پرزور تردید کررہی ہے جو یہ کہتے رہتے ہیں کہ مسلمان تو غنیمت کی طمع میں جنگ کیلئے تلے بیٹھے تھے، رسول اللہؐ کو صرف اشارہ کی دیر تھی یا معاذ اللہ یہاں الٹے ان کو ترغیب دینے اور آمادہ کرنے کی ضرورت تھی۔)تفسیر ماجدی(

79۔  آپؐ کی رسالت تمام عالم کے لیے عام ہے۔ "وارسلنٰک لناس رسولا" اس سے ثابت ہوا کہ آنحضرتؐ کو تمام لوگوں کے لیے  رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپؐ محض عربوں کے لیے ہی رسول نہیں تھے، بلکہ آپؐ کی رسالت پورے عالم کےانسانوں کے لیے عام ہے۔ خواہ اس وقت موجود ہوں یا آئندہ تا قیامت پیدا ہوں (مظہری)۔  (معارف القرآن)

82۔ آدمی ہر حالت میں اسی حالت کے موافق کلام کرتاہے جو حالت پیش ہوتی ہے۔دوسری حالت کا دھیان نہیں رہتا۔چونکہ قرآن خالق کا کلام ہے یہاں ہر چیز کے بیان میں ہر جانب نظر رہتی ہے جبکہ انسان کی کوتاہ نظر ہے۔)تفسیر عثمانی(

قرآن میں غور : اس آیت سے یہ بات سمجھائی جارہی ہے کہ وہ اگر گہری نظر سے قرآن کو دیکھیں تو ان کو اس کے معانی و مضامین میں کوئی اختلاف نظر نہیں آئے گا،اور یہ مفہوم تدبر کے عنوان سے ہی اداہوسکتاہے،صرف تلاوت اور قرأت جس میں تدبر اور غور و فکر نہ ہو اس سے بہت سے اختلاف نظر آنے لگتے ہیں جو حقیقت کے خلاف ہے۔۔۔دوسری بات اس آیت سے یہ معلوم ہوئی کہ قرآن کا مطالبہ ہے کہ ہر انسان اس کے مطالب میں غور کرے،لہذایہ سمجھنا کہ قرآن میں تدبر کرنا صرف اماموں اور مجتہدوں ہی کیلئے ہے،صحیح  نہیں ہے،البتہ تدبر و تفکر کے درجات علم و فہم کے درجات کی طرح مختلف ہونگے،آئمہ مجتہدین کا تفکر ایک ایک آیت سے ہزاروں مسائل نکالیگا ،عام علماء کا تفکران مسائل کے سمجھنے تک پہنچے گا،عوام اگر قرآن کا ترجمہ اور تفسیر اپنی زبان میں پڑھ کر تدبر کریں تو اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت اور آخرت کی فکر پیدا ہوگی،جو کلید کامیابی ہے،البتہ عوام کیلئے غلط فہمی اور مغالطوں سے بچنے کیلئے بہتر یہ ہے کہ کسی عالم سے قرآن کو سبقاً سبقاً پڑھیں ،یہ نہ ہوسکے تو کوئی مستند و معتبر تفسیر کا مطالعہ کریں،اور جہاں کوئی شبہ پیش آئے اپنی رائے سے فیصلہ نہ کریں اور ماہر علماء سے رجوع کریں۔۔۔۔۔

۔قرآن و سنت کی تفسیر و تشریح پر کسی جماعت یا فرد کی اجارہ داری نہیں ہے لیکن اس کیلئے شرائط ہیں:آیت مذکورہ سے معلوم ہواکہ ہرشخص کو یہ حق ہے کہ وہ قرآن میں تدبر و تفکر کرلے، لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ تدبر کے درجات متفاوت اور ہر ایک کا حکم الگ ہے۔ مجتہدانہ تدبر جس کے ذریعہ قرآن حکیم سے دوسرے مسائل کا استخراج کیا جاتاہے اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس کی مبادیات کو حاصل کرے تاکہ وہ نتائج کا استخراج صحیح کرسکے،اور اگر اس نے مقدمات کو بالکل حاصل نہ کیا یا اس نے ناقص حاصل کیا ، جن اوصاف و شرائط کی ایک مجتہد کوضرورت ہوتی ہے۔وہ اس کے پاس نہیں ہیں تو ظاہر ہے کہ نتائج غلط نکالے گا، اب اگر علماء اس پر نکیر کریں تو حق ہے۔۔۔اگر ایک شخص جس نے کبھی کسی میڈیکل کالج کی شکل تک نہ دیکھی ہو یہ اعتراض کرنے لگے کہ ملک میں علاج و معالجہ پر سندیافتہ ڈاکٹروں کی اجارہ داری کیوں قائم کردی گئی ہے؟ مجھے بھی بحیثیت ایک انسان کے یہ حق ملنا چاہئے۔۔۔یا کوئی عقل سے کورا انسان یہ کہنے لگے کہ ملک میں نہریں،پل اور بند تعمیر کرنے کا ٹھیکہ صرف ماہر انجیئنروں ہی کو کیوں دیا جاتاہے؟میں بھی بحیثیت شہری کے یہ خدمت انجام دینے کا حق دار ہوں۔۔۔یا کوئی عقل سے معذور آدمی یہ اعتراض اٹھانے لگے کہ قانون مسلک کی تشریح و تعبیر پر صرف ماہرین قانون ہی کی اجارہ داری کیوں قائم کردی گئی؟میں بھی عاقل  و بالغ ہونے کی حیثیت سے یہ کام کرسکتاہوں،اس آدمی سے یہی کہا جاتاہے کہ بلاشبہ بحیثیت شہری کے تمھیں ان تمام کاموں کا حق حاصل ہے لیکن ان کاموں کی اہلیت پیدا کرنے کیلئے سالہاسال دیدہ ریزی کرنی پڑتی ہے،ماہر اساتذہ سے ان علوم و فنون کو سیکھنا پڑتاہے،اس کیلئے ڈگریاں حاصل کرنی پڑتی ہیں،پہلے یہ زحمت تو اٹھاؤ،پھر بلاشبہ تم بھی یہ تمام خدمتیں انجام دے سکتے ہو،لیکن یہی بات اگر قرآن و سنت کی تشریح کےدقیق اور نازک کام کیلئے کہی جائے تو اس پر علماء کی اجارہ داری کے آوازے کسے جاتے ہیں؟کیا قرآن و سنت کی تشریح و تعبیر کرنے کیلئے کوئی اہلیت اور کوئی قابلیت درکار نہیں؟ کیا پوری دنیا میں ایک قرآن و سنت ہی کا علم ایسا لاوارث  رہ گیا ہے کہ اس کے معاملہ میں ہرشخص کو اپنی تشریح و تعبیر کرنے کا حق حاصل ہے، خواہ اس نے قرآن و سنت کا علم حاصل کرنے کیلئے چند مہینے بھی خرچ نہ کئےہوں۔(معارف القرآن)

83۔ یعنی اس خبر کی صحیح حیثیت متعین کرلیتے۔الذین یستنبطونہ منھم۔اس سے ایک بڑی اہم فقہی حقیقت روشنی میں آگئی ،معلوم ہوا کہ استنباط ِ مسائل و اجتہاد و احکام ،ہر ایک کاکام نہیں، اس کیلئے ایک خاص فہم و سلیقہ اور مرتبۂ تحقیق کی ضرورت ہے،ہر فرد امت اس سے بہرور نہیں ہوتا۔(تفسیر ماجدی)

۔ علامہ ابنِ کثیر نے اس آیت سے متعلق واقعات  نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اس آیت کے شانِ نزول میں حضرت عمر بن خطاب کی حدیث کو  ذکر کرنا چاہیے، وہ یہ کہ حضرت  عمر کو یہ  خبر پہنچی کہ   رسولؐ نے  اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے تو وہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف آئے، جب دروازہ  پر پہنچے تو سنا  کہ مسجد کے اندر لوگوں میں بھی یہی ذکر ہو رہا ہے، یہ دیکھ کر آپ نبیؐ کے  پاس پہنچے اور پوچھا کہ کیا آپؐ نے اپنی بیویوں کو طلاق دی ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ نہیں، حضرت عمر فرماتے ہیں کہ یہ  تحقیق کرنے کے بعد میں مسجد کی طرف واپس آیا اور دروازہ پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا کہ  رسولؐ نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی، جو آپ سب لوگ کہہ رہے ہیں غلط ہے، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی:  و اذا جاء ھم امر الخ (تفسیر ابنِ کثیر)۔۔۔۔۔ یعنی کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی ہی  بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بغیر تحقیق کے بیان کر دے۔ (معارف القرآن)

84۔اوپر مضمون جہاد و قتال کا چل رہاتھا ،درمیان میں دوسرے مضمون ضمنی مناسبتوں سے آگئے تھے، اب پھر اس مستقل مضمون کی طرف رجوع ہے۔۔۔(جہاد پر)یعنی درجۂ ترغیب میں تبلیغ آپ کے فرائضِ رسالت میں داخل ہے۔۔۔حرّض۔تحریض کے معنی ہیں کسی شے کی خوبیاں بہ کثرت بیان کرکرکے اس کی جانب شوق و رغبت دلانا،گویا صحیح اور سچا پروپیگنڈاکرنا۔آیت ان ظالم اور بے دردپادریوں کا پول کھول رہی ہےجنہوں نے یہ جھوٹ اُچھال رکھا ہے کہ"پیروان محمدؐ لوٹ مار کے شوق میں جہاد پر ٹوٹے پڑتے تھے، کیا بار بار ترغیب دلانے اور آمادہ کرنے کی ضرورت لٹیروں کو ہواکرتی ہے؟۔۔۔عسیٰ ۔پہلے بھی حاشیہ گزرچکے ہیں کہ اس کلمہ کا استعمال جب اللہ تعالیٰ کے کسی قول میں ہوتاہے تو اس میں معنیٰ محض امید یا توقع کے بجائے وعدہ اور یقین کے پیدا ہوجاتاہے۔(تفسیر ماجدی)

85۔ سفارش کرنے والے کا اجر:۔سیدنا ابوموسیٰؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ کے پاس جب کوئی سائل آتایا آپؐ سے کسی چیز کا سوال کیا جاتاتوآپؐ صحابہ کرامؓ سے فرماتے "تم سفارش کرو اس کا تمہیں ثواب ملے گا اور اللہ جو چاہتا ہے اسے نبی کی زبان سے جاری کرادیتاہے یا فیصلہ کرادیتاہے۔"(بخاری،کتاب الزکوٰۃ،باب التحریص علی الصدقۃ والشفاعۃ فیھا۔۔۔۔مسلم،کتاب البروالصلۃ والادب۔باب استحباب الشفاعۃ فیما لیس بحرام)  اسی طرح اگر کوئی شخص چور کی سفارش کرکے اسے چھڑاتاہے جو پھر چوریاں کرتا ہے تو سفارش کرنے والے کو اس کے گناہ سے حصہ ملتا رہے گا۔(تیسیرالقرآن)

86۔ اس وقت مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات نہایت کشیدہ ہو رہے تھے۔اور جیساکہ تعلقات کی کشیدگی میں ہواکرتا ہے، اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں مسلمان دوسرے لوگوں کے ساتھ کج خلقی سے نہ پیش آنے لگیں۔اس لیے انہیں ہدایت کی گئی کہ جو تمہارے ساتھ احترام کا برتاؤ کرے اس کے ساتھ تم بھی ایسے ہی بلکہ اس سے زیادہ احترام سے پیش آؤ۔شائستگی کا جواب شائستگی ہی ہے،بلکہ تمہارا منصب یہ ہے کہ دوسروں سے بڑھ کر شائستہ بنو۔ایک داعی و مبلغ گروہ کیلئے،جودنیا کو راہِ راست پر لانے اور مسلک حق کی طرف دعوت دینے کیلئے اٹھا ہو،درشت مزاجی، ترش روئی اور تلخ کلامی مناسب نہیں ہے۔اس سے نفس کی تسکین تو ہوجاتی ہے مگر اس مقصد کو الٹانقصان پہنچتاہے جس کیلئے وہ اٹھاہے۔(تفہیم القرآن)

- حضورؐ نے فرمایا کہ جب تک ایمان نہیں لاؤگے جنت میں داخل نہ ہوسکوگے اور جب تک آپس میں محبت نہ کروگے تو ایمان نصیب نہ ہوگا ۔پھر فرمایا کہ ایک دوسرے کو السلام علیکم کہا کرو،آپس میں پیار ومحبت پیدا ہوجائے گا۔(ضیاء القرآن)

ـــ  سلام کے آداب:حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں "سلام کے اختیار کرنے میں تو اختیار ہے مگر سوال کا جواب دینا فرض ہے"۔۔۔رسول کریمؐ نے اس حکم قرآنی کی مزید تشریح کے طورپر سلام اور جواب سلام کے متعلق اور بھی کچھ تفصیلات بیان فرمائی ہیں،وہ بھی مختصر طورپر ملاحظہ کرلیجئے۔صحیحین کی حدیث میں ہے کہ جو شخص سواری پر ہواس کو چاہئے کہ پیادہ چلنے والے کو خود سلام کرے،اور جو چل رہاہووہ بیٹھے ہوئے کو سلام کرے،اور جو لوگ تعداد میں قلیل ہوں وہ کسی بڑی جماعت پر گذریں تو ان کو چاہئے کہ سلام کی ابتدا کریں۔۔۔ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ جب آدمی اپنے گھر میں جائے تو اپنے گھر والوں کو سلام کرنا چاہئے کہ اس سے اس کیلئے بھی برکت ہوگی،اور اس کے گھر والوں کیلئے بھی

۔۔۔ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ ایک مسلمان سے بار بار ملاقات ہوتو ہر مرتبہ سلام کرنا چاہئے ،اور جس طرح اول ملاقات کے وقت سلام کرنا مسنون ہے اسی طرح رخصت کے وقت بھی سلام کرنا مسنون اور ثواب ہے، ترمذی،ا بوداؤد میں یہ حکم بروایت قتادہؓ اور ابوہریرۃؓ نقل کیا ہے۔۔۔اور یہ حکم جو ابھی بیان کیا گیا ہے کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے، اس سے چند حالات مستثنیٰ ہیں،جو شخص نماز پڑھ رہاہے اگر کوئی اس کو سلام کرے تو جواب دینا  واجب نہیں بلکہ مفسد نماز ہے،اسی طرح جو شخص خطبہ دے رہاہے یا قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہے،یا اذان یا اقامت کہہ رہاہے،یا دینی کتابوں کا درس دے رہاہے یا انسانی ضروریات استنجاء وغیرہ میں مشغول ہے اس کو اس حالت میں سلام کرنا بھی جائز نہیں اور اس کے ذمہ جواب دینا بھی واجب نہیں۔(معارف القرآن)

87۔ اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت سے ہے لیکن یہی آیت اس پورے سلسلۂ کلام کا خاتمہ بھی ہے جو پچھلے دوتین ْرکوعوں سے چلا آرہاہے۔ (تفہیم القرآن)


بارہواں رکوع

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا 88 تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو رستے پر لے آؤ اور جس شخص کو خدا گمراہ کردے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہیں پاؤ گے۔
 وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ   89 . وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ۔
اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا  90 مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضروری نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی۔
 سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠   ۧ 91 تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گر پڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے۔

تفسیر آیات

88۔یہاں ان منافق مسلمانوں کے مسئلہ سے بحث کی گئی ہے جو مکہ میں عرب کے دوسرے حصوں میں اسلام تو قبول کرچکے تھےمگر دارالسلام (مدینہ) کو ہجرت کرنے کی بجائے اپنی کافر قوم کے ساتھ ہی رہ رہے تھے اور اپنے مفادات کےلئے ان کا ساتھ دے رہے تھے ۔۔۔۔۔ ان کافر منافقین کے بارے میں جو مسلمانوں سے ملتے رہتے تھےتاکہ اگر ان کے لوگوں پر مسلمان چڑھائی کریں تو یہ محفوظ رہیں ۔مسلمانوں کا ایک گروہ ان سے میل جول کے حق میں (شاید ایمان لاویں) اور دوسرا مخالف ۔اللہ نے فرمایا کہ تم ان کی ہدایت و گمراہی کی فکر نہ کرویہ ہمارا کام ہے۔(تفسیر عثمانی)

۔ یہاں ان منافق مسلمانوں کے مسئلہ سے بحث کی گئی ہے جو مکہ میں اور عرب کے دوسرے  حصوں میں اسلام  تو قبول کر چکے تھے مگر ہجرت  کر کے دار الاسلام کی طرف منتقل ہونے کے  بجائے بدستور  اپنی کافر قوم ہی  کے ساتھ رہتے بستے تھے اور کم و بیش  ان تمام  کاروائیوں میں عملاً حصہ لیتے تھے جو ان کی قوم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کرتی تھی۔ مسلمانوں کے لیے یہ مسئلہ سخت پیچیدہ تھا کہ ان کے ساتھ آخر کیا معاملہ کیا جائے۔ بعض  لوگ کہتے تھے  کہ کچھ بھی ہو ، آخر یہ ہیں تو مسلمان ہی، کلمہ پڑھتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں، روزہ  رکھتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، ان کے ساتھ کفار کا سا معاملہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔  اللہ تعالیٰ  نے اس  رکوع میں اسی اختلاف کا فیصلہ فرمایا ہے۔ (تفہیم القرآن) 

- منافقوں کے بارے میں دوگروہ:۔ اس آیت کا شان نزول درج ذیل حدیث سے واضح ہوتاہے:"زید بن ثابتؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم احد کی طرف نکلے تو کچھ لوگ(منافقین)آپؐ کو چھوڑ کرمدینہ واپس آگئے۔ان واپس ہونے والوں کے بارے میں صحابہ کرامؓ کے دوگروہ ہوگئے۔ایک کہتاتھا کہ ہم ان سے (بھی)لڑائی کرینگے اور دوسرا کہتاتھا کہ ہم ان سے لڑائی نہ کرینگے۔اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔"(بخاری،کتاب التفسیر،نیز کتاب المغازی،باب غزوۃ احد۔۔۔مسلم،کتاب صفۃ المنافقین)(تیسیر القرآن)

- (اے مسلمانو!کہ تم میں سے بعض ان کو اب بھی مومن کہے جارہے ہیں)یہ آیت کس گروہ ِ منافقین کے باب میں ہے؟ روایتیں اس بارہ میں مختلف ہیں، ہوسکتاہے کہ یہ وہ منافقین ہوںجو غزوۂ احد کے موقع پر عبداللہ بن ابی کی سیادت میں جنگ سے قبل ہی واپس چلے آئے تھے،یہ بھی ممکن ہے کہ یہ وہ گروہ ہو جس نے مدینہ کی چراگاہ پر ڈاکہ ڈالا تھا، اس کا بھی امکان ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں ، جو دارالحرب مکہ سے دارالہجرت مدینہ آئے، اپنا اسلام ظاہر کیا ،مال تجارت لے کر مکہ گئے اور پھر واپس نہ آئے ،مشرکوں میں مل جل کر وہیں دارالحرب میں رہ پڑے اور سیاقِ قرآنی کی روسے یہی قول سب سے زیادہ قوی ہے، بہر حال وہ کوئی سے بھی ہوں ،تھے منافقین ہی جو مسلمانوں کے ساتھ نہ صرف شرکتِ جنگ سے جی چراتے تھے ،بلکہ ان کے خلاف طرح طرح کی سازشوں اور منصوبوں میں لگے رہتے تھے ،جیساکہ قبل والے رکوع میں ذکر آچکا ہے بلکہ بعض تو دارالاسلام کا قیام جو اس وقت عین علامتِ اسلام تھی، ترک کرکے دارالحرب میں کافروں سے جاملے تھے۔(تفسیر ماجدی)

89۔ اس آیت سے معلوم ہواکہ کفار سے طلبِ نصرت حرام ہے ۔ایک روایت میں آتاہے کہ کفار کے خلاف انصار نے جب یہود سے مدد طلب کرنے کی اجازت آپ سے چاہی تو آپؐ نے فرمایا : یہ خبیث قوم ہے اس کی ہمیں کوئی حاجت نہیں (تفسیر مظہری) آج کے یہود و نصاریٰ اور مدد کے دعوے۔(معارف القرآن)


تیرہواں رکوع

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا 92 اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کردے اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے ہاں اگر وہ معاف کردیں (تو ان کو اختیار ہے) اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھے یہ (کفارہ) خدا کی طرف سے (قبول) توبہ (کے لئے) ہے اور خدا (سب کچھ) جانتا اور بڑی حکمت والا ہے۔
 وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا  93 اور جو شخص مسلمان کو قصداً مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لئے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا 94 مومنو! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلا کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے نزدیک بہت سے غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے۔
لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ   95 جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے خدا نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے۔
 دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠   ۧ ۧ 96 (یعنی) خدا کی طرف سے درجات میں اور بخشش میں اور رحمت میں اور خدا بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہے۔

تفسیر آیات

92۔ واضح رہے کہ سیدنا حذیفہؓ کے والد جنگ احد میں اجتماعی صورت میں کئی مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوئے جنہیں سیدنا حذیفؓہ نے علی الاعلان معاف کردیا تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے اہل احد کی خطائیں معاف کردی تھیں لہذا وہاں کفارے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتاتھا۔(تیسیر القرآن)

ـــــ اس زمانہ میں غلامی ختم ہوچکی ہے، اب اس کا بدل صدقہ ہے جو غلام کی قیمت کے تناسب سے ہو۔ اگر یہ صدقہ غریب و نادار مسلمانوں کے قرضوں کی ادائیگی اور ان کے رہن شدہ املاک کے چھڑانے پر صرف کیا جائے تو ان شاء اللہ یہ طریقہ شریعت کے منشاء کے خلاف نہ ہوگا ۔خون بہا کے معاملہ میں اسلام نے عرب کے معروف کو قانون کی حیثیت دے دی تھی۔ جن معاملات کا تعلق معروف سے ہو وہ زمانہ اور حالات کے تغیر سے اپنے اصل مقصد کو باقی رکھتے ہوئے متغیر ہوجاتے ہیں ۔اس تغیر کی نوعیت کو طے کرنا ارباب اجتہاد کا کام ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

- ۔۔۔(خواہ وہ غلطی غصّہ میں ہوئی ہو یا نفسِ عمل میں)شرک کفر وغیرہ اعتقادی معصیتوں سے قطع نظر ،عملی گناہوں میں انسان کیلئے اکبر الکبائر قتل مومن ہے ،اتنے بڑے گناہ کی جسارت کسی مومن سے بہ ثبات ہوش و سلامتی عقل بہت مستبعد ہے، ہاں غلطی اور دھوکے ہی سے ہوجائے تو اور بات ہے۔۔۔رقبۃمؤمنۃ ۔اس کے تحت میں جس طرح غلام ہے، کنیز بھی شامل ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ اس آیت کے احکام کا خلاصہ یہ ہے۔ اگر مقتول دارلاسلام کا باشندہ ہو  تو اس کے قاتل کو خون بہا بھی دینا ہو گا اور خدا سے اپنے قصور کی معافی مانگنے کے لیے ایک غلام بھی آزاد کرنا ہو گا۔۔اگر وہ دار الحرب کا باشندہ ہو  تو قاتل کو صرف  غلام آزاد  کرنا ہو گا ۔ اس کا خونبہا کچھ نہیں ہے۔ ۔ اگر وہ کسی ایسے دارالکفر کا باشندہ  ہو جس سے اسلامی حکومت کا معاہدہ ہے تو قاتل کو ایک غلام آزاد کرنا ہو گا اور اس کے علاوہ خونبہا بھی دینا ہو گا، لیکن خونبہا کی مقدار وہی ہو گی   جتنی اس  معاہد قوم کے کسی غیر مسلم فرد کو  قتل کر دینے کی صورت میں  از روئے معاہدہ دی جانی چاہئے۔ ۔۔۔۔ یعنی یہ "جرمانہ" نہیں بلکہ" توبہ اور کفارہ" ہے۔ جرمانہ میں ندامت و شرمساری اور اصلاحِ نفس کی کوئی روح  نہیں ہوتی بلکہ عموماً وہ سخت ناگواری اور جبر  کے ساتھ مجبوراً دیا جاتا ہے۔ اور بیزاری و تلخی اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔  بر عکس  اس کے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ جس بندے سے خطا ہوئی ہے وہ عبادت اور کارِ خیر اور ادائے حقوق کے ذریعہ سے اس کا اثر اپنی روح پر سے دھو  دے اور شرمساری و ندامت کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے، تاکہ نا صرف یہ گناہ معاف ہو بلکہ آئندہ سے اس کا نفس ایسی غلطیوں کے اعادہ سے بھی محفوظ رہے۔۔۔۔۔۔۔ ابتدائے اسلام میں   "السلام علیکم "  کا لفظ مسلمانوں کے لیے شعار اور علامت کی حیثیت رکھتا تھا۔۔۔۔ لیکن لڑائیوں کے موقع پر ایک پیچیدگی یہ پیش آتی تھی کہ مسلمان جب کسی دشمن گروہ پر حملہ کرتے اور وہاں کوئی مسلمان اس لپیٹ میں آ جاتا تو وہ حملہ آور  مسلمانوں کو یہ بتانے کے لیے کہ وہ بھی ان کا دینی بھائی ہے " السلام علیکم " یا " لا الٰہ الااللہ" پکارتا تھا، مگر مسلمانوں کو اس پر یہ شبہ ہوتا تھا کہ یہ کوئی کافر ہے جو محض جان بچانے کے لیے حیلہ کر رہا ہے، اس لیے بسا اوقات وہ اسے قتل کر بیٹھتے تھےاور اس کی چیزیں غنیمت  کے طور پر لوٹ لیتے تھے۔ نبی  پاک ؐ نے ہر ایسے موقع پر سختی  کے ساتھ سرزنش فرمائی ہے۔  مگر اس قسم کے واقعات   برابر  پیش آتے رہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید  میں اس پیچیدگی  کو حل کیا۔ آیت کا منشا یہ ہے کہ جو شخص  اپنےآپ کو مسلمان کی حیثیت  سے پیش کر رہا ہے اس کے متعلق تمہیں سرسری طور پر یہ فیصلہ کر دینے کا  حق نہیں ہے کہ وہ محض  جان بچانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ سچا ہو   اور ہو سکتا ہے کہ جھوٹا ہو ۔ حقیقت  تو تحقیق ہی سے معلوم ہو سکتی ہے۔ تحقیق کے بغیر چھوڑ دینے میں اگر یہ امکان ہے کہ ایک کافر جھوٹ بول کر جان بچا لے جائے، تو قتل کر دینے میں اس کا امکان بھی ہے کہ ایک مومن بے گناہ تمہارے ہاتھ سے مارا جائے۔ اور بہرحال تمہارا ایک کافر کو چھوڑ دینے میں  غلطی کرنا  اس سے بدر جہا زیادہ بہتر ہے   کہ تم ایک مومن کو قتل کرنے  میں غلطی کرو۔  (تفہیم القرآن)

93۔ اکٹھی اتنی سخت وعیدیں بجز کفر، شرک کے اور کسی جرم کی قرآن مجید میں وارد نہیں، اور اسی لئے قتل مومن ،اشاعرہ اور معتزلہ سب کے نزدیک بالاتفاق اکبر الکبائر ہے اور یہ ڈرنے اور لرزجانے کی چیز ہے۔۔۔ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُتَعَمِّداً ۔قتل عمد کی جو معروف اور براہ راست صورتیں ہیں وہ توہیں ہی لیکن عجب نہیں کہ اس وعید کے تحت قتل مسلم کی وہ ساری صورتیں بھی آجائیں جو کسی غیر شرعی قانون کے مطابق اور کسی کافرانہ آئین و نظام کے تحت کی جاتی ہیں،مثلاً کسی کافر حکومت کی فوج یا پولیس میں داخل ہوکر اس حکومت کے باغی اور مجرم مسلمان پر گولی چلادینا یا کسی غیر اسلامی عدالت کی کرسی پرمجسٹریٹ یا جج کی حیثیت سے بیٹھ کر کسی مسلمان کو سزائے موت کا حکم سنادینا وقسِ علی ہذا۔(تفسیر ماجدی)

94۔ ۔۔اب دیکھئےان تینوں صورتوں میں مسلمان غلام آزاد کرنا لازم قرار دیا گیا ہے وہ اس لیے کہ جس طرح اس نے بے احتیاطی سے ایک مسلمان کو مار ڈالاہے تو اس کے کفارہ میں مسلمان غلام آزاد کرنے کا مطلب یہ ہواکہ مسلمان غلام کو آزاد کردینا گویا ایک مسلمان کو زندہ کردینے کے مترادف ہے کیونکہ غلامی انسان کی صفت ملکیت اور آزادی کو، جسے اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھا ہے اور یہی اس کی زندگی کا مقتضیٰ ہے، زائل کرتی ہے اور اس کفارہ میں نوع انسان پر احسان بھی ہے۔۔۔۔(تیسیر القرآن)

۔  لیکن جو شخص  اظہارِ اسلام اور اقرار ایمان کے ساتھ ساتھ کچھ کلمات ِ کفر بھی بکتا ہے ، یا کسی کو سجدہ کرتا ہے، یا اسلام کے کسی ایسے حکم کا انکار کرتا ہے جس کا اسلامی حکم ہونا قطعی اور بدیہی ہے ، یا کافروں کے کسی مذہبی شعار کو اختیارکرتا ہے جیسے گلے میں زنّا ر وغیرہ ڈالنا وغیرہ، وہ بلا شبہ اپنے اعمالِ کفریہ کے سبب کافر قرار دیا جائے گا۔ آیت مذکورہ میں لفظ تبیّنو سے اس کی طرف اشارہ موجود ہے، ورنہ یہود و نصاریٰ تو سب ہی اپنے آپ کو مومن مسلمان کہتے تھےاور مسیلمہ کذاب جس کو با جماعِ صحابہ کافر قرار دے کر قتل کیا گیاوہ تو صرف کلمہ اسلام کا اقرار ہی نہیں بلکہ اسلامی شعایر، نماز اذان  وغیرہ کا بھی پابند تھا، اپنی اذان میں اشھد ان لا الہ الا اللہ کے ساتھ  اشھد ان محمد ارسول اللہ ، مگر اس کے ساتھ وہ اپنے آپ کو بھی نبی اور  رسول صاحبِ وحی کہتا تھا، جو نصوص قرآن و  سنت کا کھلا ہوا انکار تھا۔ اسی بنا پر اس کو مرتد قرار دیا گیا، اور اس کے خلاف با جماع ِ صحابہ جہاد کیا گیا۔ (معاف القرآن)

95۔  یہاں ان  بیٹھنے والوں کا ذکر نہیں ہے جن کو جہاد  پر جانے کا حکم دیا جائے اور وہ بہانے کر کے بیٹھ رہیں۔ یا  نفیرِ عام ہو اور  جہاد فرضِ عین ہو جائے پھر بھی وہ جنگ پر جانے سے جی چرائیں۔ بلکہ یہاں ذکر ان بیٹھنے والوں  کا ہےجو جہاد کے فرضِ کفایہ ہونے کی صورت میں میدانِ جنگ کی طرف جانے کے بجائےدوسرے کاموں میں لگے رہیں۔ پہلی دو صورتوں میں جہاد  کے لیے نہ نکلنے  والا صرف منافق ہی ہو سکتا ہے۔ (تفہیم القرآن) 


چودھواں رکوع

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ   97 اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔
 اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ 98 ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کر سکتے ہیں اور نہ رستہ جانتے ہیں۔
 فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا 99 قریب ہے کہ خدا ایسوں کو معاف کردے اور خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے۔
 وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠   ۧ 100 اور جو شخص خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے وہ زمین میں بہت سی جگہ اور کشائش پائے گا اور جو شخص خدا اور رسول کی طرف ہجرت کرکے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب خدا کے ذمے ہوچکا اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔

تفسیر آیات

97۔"اپنی جانوں پر ظلم" سے مقصود یہاں ہجرت کی استطاعت کے باوجود دارالکفر میں پڑے رہنا ہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ) 

100۔  ہجرت کے مقاصد اور ضرورت:۔ ۔۔بلکہ بنظر غائر دیکھا جائے تو ہجرت بھی جہاد کا ہی ایک حصہ ہوتی ہے۔پھر جب اس علاقہ میں اسلام کا غلبہ ہوجائے تو وہاں بھی ہجرت کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔(تیسیر القرآن)

۔بعض  لوگوں کو ایک حدیث سے  غلط فہمی ہوئی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے"  لا ھجرۃ بعد  الفتح" یعنی فتح  مکہ کے بعد اب ہجرت نہیں ہے۔ حالانکہ دراصل یہ حدیث کوئی دائمی حکم نہیں ہے۔۔۔۔ اس سے یہ مراد ہر گز نہ تھی کہ تمام  دنیا کے مسلمانوں کے   لیے تمام حالات میں قیامت تک کے لیے ہجرت کی فرضیت منسوخ ہو گئی ہے۔  (تفہیم القرآن)


پندرہواں رکوع

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا 101 اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کرکے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں۔
 وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا 102 اور (اے پیغمبر) جب تم ان (مجاہدین کے لشکر) میں ہو اور ان کو نماز پڑھانے لگو تو چاہیئے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ مسلح ہو کر کھڑی رہے جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہو جائیں پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے اور ہوشیار اور مسلح ہو کر تمہارے ساتھ نماز ادا کرے۔ کافر اس گھات میں ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کردیں۔ اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں یا بیمار ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا ۔خدا نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
 فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا   ۧ ۧ  103 پھر جب تم نماز تمام کرچکو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حالت میں) خدا کو یاد کرو پھر جب خوف جاتا رہے تو (اس طرح سے) نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) بےشک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے۔
وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠   104 اور کفار کا پیچھا کرنے میں سستی نہ کرنا اگر تم بےآرام ہوتے ہو تو جس طرح تم بےآرام ہوتے ہو اسی طرح وہ بھی بےآرام ہوتے ہیں اور تم خدا سے ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھ سکتے اور خدا سب کچھ جانتا اور (بڑی) حکمت والا ہے۔

تفسیر آیات

101۔سفر میں قصر جمع اور سفر کی تعیین:۔ 1۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں "ابتداء سفر و حضر میں نماز دورکعت فرض کی گئی تھی۔پھر سفر کی نماز تو اتنی ہی برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کیا گیا۔(بخاری،ابواب تقصیر الصلوٰۃ ،باب یقصر اذا خرج من موضعہ۔۔۔مسلم، کتاب الصلوٰۃ ،باب صلوٰۃ المسافرین)۔۔۔4۔سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کو دیکھا کہ جب آپؐ کو سفر میں جلدی ہوتی تو مغرب کو مؤخر کرکے تین رکعت پڑھتے پھر سلام پھیرتے۔پھر تھوڑی دیر بعد عشاء کی اقامت ہوتی تو آپؐ دورکعت پڑھتے پھر سلام پھیرتے ۔"(بخاری، ابواب تقصیر الصلوٰۃ،باب یصلی المغرب ثلاثا فی السفر)۔5۔ عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ نے مدینہ میں رہ کر (یعنی بلاسفر)سات رکعتیں مغرب اور عشاء کی اور آٹھ رکعتیں ظہر و عصر کی (ملاکر )پڑھیں۔ایوب سختیانی نے جابر بن زید سے کہا "شاید بارش کی رات میں ایسا کیا ہو؟"انہوں نے کہا "شاید"(بخاری کتاب مواقیت الصلوٰۃ،باب تاخیر الظہر الی العصر)۔(تیسیر القرآن)

- حنفیہ کے ہاں مسافت تین منزل کی ہونی چاہئے اور شافعیہ و مالکیہ کے ہاں دومنزل کی،اور منزل کا اندازہ بیس میل کا ہے۔۔۔حنفیہ کے ہاں سفر میں نماز قصر مستحب نہیں واجب ہے۔(تفسیر ماجدی)

۔ اس امر میں اختلاف ہے کہ سفر میں صرف فرض پڑھے جائیں یا سنتیں بھی۔ نبیؐ کے عمل سے جو کچھ ثابت ہے وہ یہ ہے کہ  آپ سفر میں  فجر کی سنتوں  اور عشاء  کے وتر کا تو التزام فرماتے تھے مگر باقی اوقات مین صرف  فرض پڑھتے تھے، سنتیں پڑھنے کا التزام آپ سے ثابت نہیں ہے۔ البتہ نفل نمازوں کا جب موقع ملتا تھا پڑھ لیا کرتے تھے، حتیٰ کہ سواری پر بیٹھے ہوئے بھی پڑھتے رہتے تھے۔ اس بنا پر حضرت عبداللہ بن عمر نے لوگوں کو سفر میں فجر کے سوا   دوسرے اوقات کی سنتیں پڑھنے سے منع کیا ہے۔ مگر اکثر علماء ترک اور فعل دونوں کو جائز قرار دیتے ہیں اور اسے بندے کے اختیار پر چھوڑ دیتے ہیں۔حنفیہ کا مختار  مذہب یہ ہے کہ مسافر جب راستہ طے کر رہا ہو تو سنتیں نہ پڑھنا افضل ہے اور جب  کسی مقام پر منزل کرے اور اطمینان حاصل ہو تو  پڑھنا افضل ہے۔۔۔۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ قصر ہر سفر  میں کیا جا سکتا ہے ، رہی سفر کی نوعیت  تو وہ  بجائے خود ثواب یا عتاب  کی مستحق ہو سکتی ہے مگر قصر کی اجازت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ۔۔ امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک قصر کرنا واجب ہےاور یہی رائے  ایک روایت   میں امام مالک سے بھی منقول ہے۔ حدیث سےثابت ہے کہ حضور ؐ نے ہمیشہ سفر میں قصر کیا ہے اور کسی معتبر روایت میں یہ منقول نہیں ہے  کہ آپ نے   کبھی سفر میں چار رکعتیں پڑھی ہوں۔۔۔۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک جس سفر میں پیدل یا اونٹ کی سواری سے تین دن صرف ہوں  (یعنی تقریباً 18 فرسنگ یا 54 میل)اس میں قصر  کیا جا سکتا ہے۔ یہی رائے ابنِ عمر ، ابنِ مسعود  اور حضرت عثمان کی ہے۔ ۔ ۔۔۔۔ ابو حنیفہ 15 دن یا   اس سے زیادہ کی نیت ِ قیام پر  پوری نماز ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔   (تفہیم القرآن)

102۔ اس آیت میں نماز خوف کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔نماز خوف کی کئی صورتیں ممکن ہیں ۔اور احادیث میں ایسی چھ صورتیں مذکور بھی ہیں۔۔۔اس طرح ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ،اور نبی اکرمؐ کی دورکعتیں ہوگی۔(ترمذی، ابواب التفسیر)۔3۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے جب کوئی پوچھتا کہ ہم نماز خوف کیسے پڑھیں ؟ تو وہ کہتے کہ"امام آگے بڑھے کچھ لوگ اس کے ساتھ نماز اداکریں ۔امام انہیں ایک رکعت پڑھائے۔باقی لوگ ان کے اور دشمنوں کے درمیان کھڑے رہیں۔نماز نہ پڑھیں ،جب لوگ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ چکیں تو سرک کر پیچھے چلے جائیں اور جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اب وہ لوگ آجائیں اور امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں ۔امام تو اپنی نماز(دورکعت)سے فارغ ہوگیا ۔اب یہ دونوں گروہ باری باری ایک ایک رکعت پوری کرلیں تو ان کی بھی دورکعت ہوجائیں گی اور اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو پاؤں پر کھڑے کھڑے ،پیدل یا سواری پر سوار رہ کر نماز اداکرلیں ۔منہ قبلہ رخ ہویا نہ ہو۔" امام مالکؒ کہتے ہیں کہ نافع نے کہا کہ عبداللہ بن عمرؓ نے رسول اللہ سے نقل کیا ہے۔(بخاری،کتاب التفسیر)۔(تیسیر القرآن)

۔ یہ سب بیان صلوٰۃ الخوف کا ہورہاہے۔۔۔۔۔نماز خوف کی جو صورتیں یہاں ارشاد ہوئی ہیں، وہ سب اس وقت کیلئے ہیں جب سب سپاہی ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھنا چاہیں اور حضورؐ کی موجودگی میں سب کا آپؐ ہی کے پیچھے پڑھنے پر حریص ہونا بالکل قدرتی تھا،جب امام ہی دویا زائد ہوں تو پھر ان انتظامات کی ضرورت ہی نہیں رہتی،فقہاء نے لکھا ہے کہ خوف کی بھی دوحالتیں ہیں اور دونوں کے حکم الگ الگ ہیں :۔(1)ایک یہ کہ عین معرکہ قتال گرم ہوا اور جماعت کا اہتمام ہی سرے سے نہ بن پڑے ایسی حالت میں نماز باجماعت اڑادی جائے گی اور اس کا ذکر سورۂ بقرہ آیت 239 میں موجود ہے ،شدت خوف کی حالت میں نماز الگ الگ پڑھی جائے گی۔سوار یا پیادہ ہرحال میں جائز ہے ،رکوع و سجدہ کیلئے اشارہ کافی ہے استقبال قبلہ بھی ضروری نہ رہے گا۔(2)دوسرے یہ کہ ہوتومیدان جنگ میں لیکن قتال ابھی شروع نہ ہواہو،اور نماز باجماعت کا موقع ہو، جیساکہ  فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلاَةَ سے اشارہ ہورہاہے ،اس آیت میں جن انتظامات کی ہدایت ہوئی ہے وہ اسی صورت سے متعلق ہے۔(تفسیر ماجدی)

103-حضور ﷺ کے بعد بھی صحابہ نماز خوف پڑھتے رہے ہیں۔ حالت خوف میں دشمن کے مقابل اس اہتمام سے نماز ادا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کس قدر ضروری ہے (خزائن العرفان: حضرت صدر الافاضل مراد آبادی قدس سرہ) یہ اہتمام اس وقت ضروری ہے جب ساری فوج ایک ہی امام کی اقتدا میں نماز ادا کرنا چاہتی ہو جیسے عہد رسالت پناہ ﷺ میں۔ اور جہاں ایسا نہ ہو اور لوگ الگ الگ اماموں کے پیچھے نماز ادا کرنے پر معترض نہ ہوں تو پھر ایک جماعت اپنے امام کے پیچھے پوری نماز ادا کر لے اور دوسری جماعت دشمن کے مقابل ڈٹی رہے۔ جب پہلی جماعت فارغ ہو کر مورچے سنبھال لے تو پھر دوسری جماعت آ کر اپنے امام کی اقتدا میں نماز ادا کرے۔ نیز یہ حکم اس وقت کا ہے جب صفیں تو آراستہ ہوں اور لڑائی شروع نہ ہوئی ہو۔ اگر معرکہ جنگ جاری ہے اور مسلمان دشمنوں سے گتھم گتھا ہو چکے ہیں تو اس وقت جماعت کا اہتمام ضروری نہیں۔ جیسے بن آئے خواہ فقط اشاروں سے ہی نماز ادا کر لیں اور اگر اتنی بھی فرصت نہ ہو تو بے شک اس وقت نماز کو ملتوی کر دیں اور جب فراغت ہو تو ادا کریں جیسے غزوہ خندق کے روز حضور ﷺ نے چار نمازیں بعد میں ادا فرمائی تھیں ۔(ضیاء القرآن)

۔ صلوۃِ قصر اور صلوۃ خوف :۔ مسئلہ : جو سفر تین منزل سے کم ہو اس سفر میں نماز پوری پڑھی جاتی ہے۔۔۔مسئلہ: اور جب سفر ختم کرکے منزل پر جاپہنچے تو اگر وہاں پندرہ روز سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تب تو وہ حکم سفر میں ہے، فرض نماز چارگانہ آدھی پڑھی جائے گی ،اور اس کو قصر کہتے ہیں،اور اگر پندرہ روزیا زیادہ کا رہنے کا ایک ہی بستی میں ارادہ ہو، تو وہ وطن اقامت ہوجائے گا،وہاں بھی وطن اصلی کی طرح قصر نہیں ہوگا،تو نماز پوری پڑھی جائے گی۔۔۔۔۔مسئلہ: قصر صرف تین وقت کے فرائض میں ہے،اور مغرب اور فجر میں اور سنن و وتر میں نہیں ہے۔۔۔مسئلہ: سفر میں خوف نہ ہوتو بھی قصر نماز پڑھی جائے گی۔۔۔مسئلہ: بعض لوگوں کو پوری نماز کی جگہ قصر پڑھنے میں دل میں گناہ کا وسوسہ پیدا ہوتاہے،یہ صحیح نہیں ہے،اس لئے کہ قصر بھی شریعت کا حکم ہے، جس کی تعمیل پر گناہ نہیں ہوتا، بلکہ ثواب ملتاہے۔۔۔مسئلہ: جیسے آدمی سے خوف کے وقت صلوٰۃ خوف پڑھنا جائز ہے ،ایسے ہی اگر کسی شیر یا اژدہاوغیرہ کا خوف ہو اور نماز کا وقت تنگ ہو اس وقت بھی جائز ہے۔۔۔مسئلہ:آیت میں دونوں گروہوں کے ایک ایک رکعت پڑھنے کا تو ذکرفرمایا  دوسری رکعت کا طریقہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہؐ نے جب دورکعت پر سلام پھیر دیا تو دونوں گروہ نے اپنی ایک ایک رکعت بطور خود پڑھ لی ،مزید تفصیل احادیث میں ہے۔(معارف القرآن)

-ضمناً ۔حضرت جبرئیل نے آپکو دودفعہ پانچ نمازیں پڑھائیں ،پہلی دفعہ اول وقت میں اور دوسری دفعہ آخروقت میں۔(بیان القرآن)

نمازوں کے اوقات:۔ 2۔ عبداللہ بن عمرؓ اور ابوہریرۃؓ دونوں فرماتے ہیں، آپؐ نے فرمایا "گرمی کے موسم میں ظہر کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو اس لیے کہ گرمی کی سختی دوزخ کی بھاپ سے ہوتی ہے"(بخاری،کتاب ،مواقیت الصلوٰۃ،باب الابراد بالظھر فی شدۃ الحر۔۔۔۔مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلوٰۃ باب استحباب الابراد بالظھر فی شدۃ الحر)۔3۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی جب نماز صبح سے فارغ ہوکر مسجد سےنکلتیں تو اندھیرے کی وجہ سے کوئی ان کو پہچان نہ سکتاتھا۔(بخاری،کتاب مواقیت الصلوٰۃ،باب وقت الفجر)۔4۔سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ  ایک دفعہ آپؐ نے عشاء کی نماز اس وقت پڑھائی جب رات کا کافی حصہ گزرچکا تھا۔پھر فرمایا "اگر میری امت پر یہ بات شاق نہ ہوتی تو عشاء کی نماز کا اصل وقت یہی وقت ہے۔(بخاری، کتاب واقیت الصلوٰۃ،باب النوم قبل العشاء لمن غلب)۔۔۔6۔سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا"جب کوئی شخص سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالے وہ اپنی نماز پوری کرے(اس کی نماز اداہوئی یا قضا)اور سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالے وہ بھی اپنی نمازپوری کرے۔"(بخاری،کتاب مواقیت الصلوٰۃ،باب من ادرک رکعۃ العصر قبل الغروب)۔۔۔11۔ سیدہ ام فروہؓ کہتی ہیں کہ کسی نے آپؐ سے پوچھا کہ کون ساعمل افضل ہے؟آپؐ نے فرمایا"نماز اول وقت پر ادا کرنا۔"(ترمذی،ابواب الصلوٰۃ،باب ماجاء فی الوقت الاول من الفضل)(تیسیر القرآن)

-اقیموالصلوٰۃ ۔صلوٰۃ اصلی کیلئے یہاں لفظ اقامت استعمال کرنا اس کی دلیل ہے کہ اقامتِ صلوٰۃ سے مراد نماز کا اس کے جملہ شرائط ہی کے ساتھ اداکرنا ہوتاہے۔)تفسیر ماجدی)


سولہواں رکوع

 اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ   105 . (اے پیغمبر) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ خدا کی ہدایت کے مطابق لوگوں کے مقدمات میں فیصلہ کرو اور (دیکھو) دغابازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا
 وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ   106 اور خدا سے بخشش مانگنا بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔
 وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚ ۙ   107 اور لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ خدا خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔
 یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا  108 یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپتے حالانکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کے مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہیں کرتا ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا ان کے (تمام) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے
هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا 109 بھلا تم لوگ دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے بحث کر لیتے ہو قیامت کو ان کی طرف سے خدا کے ساتھ کون جھگڑے گا اور کون ان کا وکیل بنے گا؟
 وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا  110 اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا
 وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا  111 اور جو کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔
وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠   ۧ ۧ 112 اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو مہتم کردے تو اس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا۔

تفسیر آیات

105۔ گمشدہ سامان کی برآمدگی سے چوری ثابت نہیں ہوتی:  اس آیت اور اس سے اگلی چند آیات کا پس منظر یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر کے ایک آدمی بشیر بن ابیرق نے کسی دوسرے انصاری کے گھر سے آٹے کا تھیلا اور ایک زرہ چوری کی۔ اور چالاکی یہ کی کہ آٹے کا تھیلا اور زرہ راتوں رات ایک یہودی کے ہاں امانت رکھ آیا۔تھیلا اتفاق سے کچھ پھٹا ہواتھا جس سے آٹا تھوڑا تھوڑا گرتا گیا جس سے سراغ لگانے میں بہت آسانی ہوگئی۔اصل مالک نے پیچھا کیا تو بشیر بن ابیرق کے گھر پہنچ گیا اور اس سے اپنی چوری کا ذکر کیا لیکن وہ صاف مکر گیا اور خانہ تلاشی بھی کرادی جہاں سے برآمد نہ ہوسکا ۔اب مالک پیچھا کرتاہوا اس یہودی کے ہاں پہنچا اور اپنی چوری کا ذکر کیا تو یہودی کہنے لگا ایسی زرہ تو میرے پاس موجود ہے لیکن وہ تو فلاں شخص نے میرے پاس بطور امانت رکھی ہے ۔لہذا میں تمہیں نہیں دے سکتا۔بلآخر یہ مقدمہ رسول اللہؐ کی عدالت میں لے گیا۔اب چور اور اس کے خاندان والوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ اصل مجرم اس یہودی کو ہی ثابت کیا جائے اور امانت کا درمیان میں نام ہی نہ آنے دیا جائے اور واقعہ سے قطعی لاعلمی کا اظہار کردیا جائے اور وہ یہ سمجھے کہ آپؐ یہود کی بات کا اعتبار نہیں کرینگےاس طرح ہم بری ہوجائیں گے۔چنانچہ فی الواقع ایسا ہی ہوا ۔انصاری چور اور اس کے حمایتیوں سے اس واقعہ سے قطعاً لاعلمی کا اظہار کیا اور قسمیں بھی کھانے لگےجس کے نتیجہ میں آپؐ ان خائنوں کی باتوںمیں آگئے اور یہودی کو جھوٹا سمجھا اور قریب تھا کہ آپؐ اس انصاری چور کو بری قرار دے دیں اور یہودی کو مجرم قراردے دیں اوریہودی کے حق میں قطع ید کا فیصلہ سنادیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو بذریعہ وحی اصل صورت حال سے مطلع فرمادیا اور تنبیہ فرمائی ، کہ آپؐ کو ایسے بددیانت لوگوں کی قطعاً حمایت نہ کرنا چاہیے۔۔۔اس آیت میں ایسے مسلمانوں کو خائن قرار دیا گیا ہے جنہوں نے محض خاندان اور قبیلہ کی عصبیت کی بناپر مجرم کی حمایت کی تھی اور تمام لوگوں کو یہ بتادیا گیاہے کہ انصاف کے معاملہ میں کسی قسم کا تعصب برداشت نہیں کیا جائے گا۔اگر ایک فریق دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہے اور وہ حق پرہے تو اسی کی حمایت کی جائے گی۔مسلمانوں کی نہیں کی جائے گی۔(تیسیر القرآن)

- بالحق۔ یعنی قانون عدل کے مطابق ،آیت اس باب میں صریح ہے کہ فیصلے جو کچھ بھی کئے جائیں قرآن ہی کے مطابق و ماتحت کئے جائیں نہ کہ اپنے ہوائے نفس کے موافق یا کسی انسانی دماغ کے گھڑے ہوئے آئین و دستور کے ماتحت، آیت کا پس منظر یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنو اُبیرق کے ایک گھرانے میں تین بھائی بشیر، بشر، مبشر مسلمان تھے،اور ان کا ایک بھائی بشیر منافق تھا،ایک مرتبہ چور حضرت رفاعہ بن زید انصاریؓ کے گھر نقب لگاکر ان کے ہتھیار اور میدے کی ایک بوری لے گئے ، تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ بشیر منافق اور اس کے بدمعاش ساتھیوں نے چوری کی ہے، حضرت رفاعہؓ نے اپنے برادرزادہ جناب قتادہ بن نعمان سے کہا کہ تم آستانِ نبوت میں جاکر واقعہ بیان کرو عجب نہیں کہ ہمارامال مل جائے،انہوں نے جاکر سارا واقعہ آنحضرتؐ کے گوش گزار کیا جب بشیر کے اقرباء نے سنا کہ نبی ؐ کے پاس استغاثہ ہواتو وہ آکر کہنے لگے"یارسول اللہؐ! قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا رفاعہ ہمارے آدمی پر جو مسلمان ہوچکاہے ناحق چوری کی تہمت لگا تے ہیں"اس کے بعد قتادہ حاضر ہوئے تو آپؐ نے ان سے فرمایا تم ایسے شخص پر بغیر کسی ثبوت کے چوری کی تہمت لگاتے ہو جو دائرہ اسلام میں داخل ہوچکاہے؟یہ سن کر قتادہ کے دل میں آرزو ہوئی کہ کاش میں نے آپ سے چوری کی شکایت نہ کی ہوتی، تھوڑی دیر گزری تھی کہ خالق پروردگار نے اپنے رسول اللہؐ پر یہ آیت نازل فرمائی (ترمذی، ابواب تفسیر القرآن)۔۔۔خائنوں سے بنو اُبیرق مراد ہیں ،جب یہ آیت نازل ہوئی تو بنو اُبیرق نے بُشیر اور اس کے ساتھیوں کو مجبور کرکے چوری کا مال برآمد کرلیا ،اور تمام اسلحہ نبی اکرمؐ کے پاس بھجوادیے،بُشیر نفاق کا لباس ِ فریب اتار کر علانیہ مشرکوں سے جاملا(ترمذی) )تفسیر ماجدی(

107۔ ان لوگوں سے مراد ہی چور انصاری کے خاندان کے لوگ ہیں جنہوں نے محض خاندانی تعصب کی بناپر چور کی حمایت کی۔پھر آپؐ کے سامنے چور کے مجرم نہ ہونے کے متعلق قسمیں بھی کھائی تھیں اور سارا الزام بے گناہ یہودی کے سرتھوپ دیا تھا اور مجرم کے گناہ دوتھے،ایک چوری، دوسرے اس یہودی کو مورد الزام ٹھہرانا۔(تیسیر القرآن)

۔ جو شخص دوسرے کے ساتھ  خیانت کرتا ہے وہ دراصل سب سے پہلے خود اپنے نفس کے ساتھ خیانت کرتا ہے کیونکہ دل اور دماغ کی   جو قوتیں اس کے پاس بطورِ امانت ہیں ان پر بے جا تصرف کر کے وہ انھیں مجبور کرتا ہے  کہ خیانت میں اس کا ساتھ دیں۔ اور اپنے ضمیر کو جسے اللہ نے  اس کے اخلاق کا محافظ بنایا تھا ، اس حد تک دبا دیتا ہے کہ وہ اس خیانت کاری میں  سدِّ راہ بننے کے  قابل نہیں رہتا۔ جب انسان اپنےاندر اس ظالمانہ دست برد کو پایہ تکمیل تک پہنچا لیتا ہے  تب کہیں باہر اس سے خیانت و معصیت کے افعال صادر ہوتےہیں۔ (تفہیم القرآن) 

108۔ زرہ کا چور دراصل سچا مسلمان نہیں بلکہ منافق آدمی تھا اور اس کے خاندان والے بھی کچھ پختہ ایمان والے نہ تھے۔جب یہ مقدمہ رسول اللہؐ کے ہاں چلاگیا تو ان لوگوں کے مشورے کا موضوع یہ ہوتا تھاکہ چور کس طرح چوری کے اس جرم سے بچ سکتاہے اور یہ جرم اس یہودی کے سرکیسے تھوپاجائے۔دراصل اس طرح راتوں کو مشورے کرنا اور یہ سمجھنا کہ اس طرح ان کے جرم پر پردہ پڑارہے گا ۔ان لوگوں کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے اور اللہ سے کوئی معاملہ بھلا کیسے چھپا  رہ سکتاہے؟ ۔(تیسیرالقرآن)

110۔ اپنے گناہ دوسروں کے ذمہ لگانااور بہتان تراشی:  اصل چور کی حمایت کی دوصورتیں تھیں۔ایک یہ کہ چور نے جھوٹ بول کر اپنے حمائیتوں کو مطمئن کردیا ہو کہ میں فی الواقع مجرم نہیں ہوں یعنی ان کا یہ گناہ نادانستہ یا غلطی کی بناپر ہو۔ اور دوسری صورت یہ تھی حمائتیوں کو ٹھیک طرح معلوم ہوچکا ہوکہ جس کی حمایت کررہے ہیں وہ فی الواقع مجرم ہے اوراس کا یہ گناہ دیدہ دانستہ ہو۔پہلی صورت کو اللہ تعالیٰ نے سوء اً سے تعبیر فرمایا اور دوسری صورت کو اپنے آپ پر ظلم سے۔ان دونوں صورتوں میں اگر یہ حمایتی لوگ مجرم کی حمایت سے دستبردار ہوجاتے اور اللہ سے بخشش مانگتے تو یقیناً اللہ ان کا گناہ معاف کردیتا۔واضح رہے کہ ان آیات میں اگر چہ خطاب مذکورہ بالا لوگوں سے ہے تاہم ایسی سب آیتوں کا حکم عام ہوتاہے۔غلطی سے یا نادانستہ کوئی گناہ کسی بے قصور کے سرتھوپ دینے کی ایک مثال حدیث میں مذکورہے:۔بہتان تراشی ،کالی عورت اور کمربند:۔ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ کسی عرب قبیلے کے پاس ایک کالی لونڈی تھی۔ جسے انہوں نے آزاد کردیا تھا مگر وہ ان کے ساتھ ہی رہا کرتی ۔ایک دفعہ اسی قبیلہ کی ایک لڑکی جو دلہن تھی،نہانے کو نکلی اور اپنا لال تسموں والا کمربند اتار کررکھ دیا ۔ایک چیل نے اسے جو پڑا دیکھا تو گوشت سمجھ کر جھپٹ لے گئی۔لوگوں نے کمربند تلاش کیا مگر وہ نہ ملا۔آخر انہوں نے اس کالی لونڈی پر تہمت لگادی۔وہ کہنے لگی کہ"ان لوگوں نے میری تلاشی شروع کی حتیٰ کہ میری شرمگاہ بھی دیکھی،اللہ کی قسم !میں ان کے پاس ہی کھڑی تھی کہ وہی چیل گزری جس نے کمربند پھینک دیا اور وہ ان کے درمیان گرا ۔میں نے کہا یہ ہے وہ کمربند جس کی تم مجھ پر تہمت لگارہے تھے۔حالانکہ میں اس سے بری تھی۔اب سنبھالواسے۔"پھر وہ لڑکی رسول اللہؐ کے پاس آئی اور اسلام لے آئی ۔اس کا خیمہ مسجد میں تھا۔کبھی کبھی وہ میرے پاس آکر باتیں کیا کرتی اور جب وہ میرے پاس آتی ،وہ یہ شعر ضرور پڑھتی تھی:

ویوم الوشاح من تعاجیب ربنا                                                                            الا انہ من بلدۃ الکفر انجانی

ترجمہ:"کمربند کا دن ہمارے پروردگار کے عجائبات میں سے ہے ۔اسی واقعہ نے تو مجھے کفر کی سرزمین سے نجات بخشی تھی۔"(بخاری، کتاب الصلوٰۃ ۔باب نوم المرأۃ فی المسجد)۔(تیسیر القرآن)

۔ اسی لیے علماء کا اس پر  اتفاق ہے کہ جو شخص کسی گناہ میں مبتلا ہے  اس پر اس کو ندامت بھی نہیں اور اس کو چھوڑا بھی نہیں  یا آئندہ اس کو چھوڑنے کا عزم نہیں کیا اور اس  حالت میں زبان سے  استغفراللہ کہتا ہے تو یہ توبہ کے ساتھ مذاق کرنا  ہے۔۔۔۔ خلاصہ یہ کہ توبہ کے لیے تین  چیزوں کا  ہونا ضروری ہے۔ ایک گذشتہ گناہوں  پر نادم ہونا، دوسرے جس گناہ میں مبتلا ہوا  اس کو اسی وقت چھوڑ  دینا، اور تیسرے  آئندہ کے لیے  گناہ سے بچنے کا پختہ ارادہ کرنا، البتہ جن گناہوں کا تعلق حقوق العباد سے ہے  ان کو ان ہی سے معاف کرانا یا حقوق ادا کرنا بھی توبہ کی شرط ہے۔  (معارف القرآن)


سترھواں رکوع

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا 113 اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے۔
 لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا  114 . ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے۔
وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠   ۧ ۧ  115 اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے۔

تفسیر آیات

فقہاء کے مطابق وحی کی دوقسمیں ہیں متلو(جو تلاوت کی جاتی ہے) اور غیر متلو جس کی تلاوت نہیں کی جاتی) وحی متلو قرآن کا نام ہے جس کے معانی اور الفاظ دونوں اللہ کی جانب سے ہیں اور غیر متلو حدیثِ رسولؐ کا نام ہے جس کے الفاظ حضورؐ کے اور معانی اللہ تعالیٰ کے ہیں۔(معارف القرآن)

 اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت یہ تھی کہ اس نے رسول اللہؐ کو اصل صورت حال سے بذریعہ وحی مطلع فرمادیا۔ورنہ اس کے نتائج صرف یہی نہ تھے کہ مجرم بچ جاتا اور ایک بے قصور مجرم قرارپاتا بلکہ اس کے نتائج بڑے دور رس تھے جو عوام الناس کی نظروں میں مسلمانوں کی ساکھ اور ان کے کردار کو مجروح بناسکتے تھے، ایسے لوگ جو آپ کو بہکاکر اپنے حق میں فیصلہ کرانا چاہتے تھے اپنی ہی عاقبت خراب کررہے تھے۔اس سے آپؐ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتاتھا۔اور اللہ کے ہاں مجرم وہ تھے نہ کہ آپؐ۔۔۔مقدمہ میں چالاکی سے دوسرے کا مال ہتھیانا:۔ جو شخص کسی حاکم کو دھوکہ دے کر اپنے حق میں فیصلہ کرالیتا ہے۔وہ دراصل خود اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرتاہےکہ ان تدبیروں سے وہ فی الواقع اس چیز کا حقدار بن گیا ۔حالانکہ اللہ کے نزدیک حق جس کا ہوتاہے اسی کا رہتاہے اور فریب خوردہ حاکم کے فیصلہ سے حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔چنانچہ آپؐ نے فرمایا کہ"میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہی ہوں۔تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہواور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی زیادہ چرب زبان ہو اور میں اس کے دلائل سن کر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں تو اس طرح اگر میں اس کے بھائی کے حق سے کوئی چیز اس چرب زبان کے حق میں فیصلہ کرکے دےدوں تویارکھوکہ میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہاہوں۔"(بخاری،کتاب الاحکام، باب موعظۃ الامام للخصوم)ربط مضمون کے لحاظ سے اس جملہ کاوہی مطلب ہے جو اوپر مذکور ہواتاہم اس کا حکم عام ہے اور اس کا مطلب ایسے فضائل ہیں جو دوسرے کسی پیغمبر کو بھی نہیں ملے وہ فضائل آپؐ نے خود ان الفاظ میں بتائے ہیں:

جابر بن عبداللہؓ (انصاری)کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا۔مجھے پانچ چیزیں ایسی ملی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر کو نہیں ملیں۔ایک یہ کہ ایک ماہ کی مسافت پر دشمن پر میرا رعب طاری رہتاہے۔ دوسرا یہ کہ ساری زمین میرے لیے مسجد اور پاک بنائی گئی ہے۔لہذا میری امت کا ہر شخص جہاں نماز کا وقت آئے نماز پڑھ لے ۔تیسرے یہ کہ اموال غنائم میرے لیے حلال ہوئے جو مجھ سے پہلے کسی کیلئے جائز نہیں تھے۔چوتھے یہ کہ شفاعت کبریٰ (قیامت کے دن)ملی اور پانچویں یہ کہ پہلے ہر نبی کسی خاص قوم کی طرف بھیجا جاتاتھا جبکہ میں تمام لوگوں کیلئے بھیجا گیا ہوں۔(بخاری۔ کتاب الصلوٰۃ ۔باب قول النبیؐ جعلت لی الارض مسجدا و طہورا)اور سیدنا ابوہریرۃؓ کی حدیث میں مندرجہ ذیل چھ باتیں مذکور ہیں:۔رسول اللہؐ نے فرمایا کہ مجھے چھ باتوں میں دوسرے پیغمبروں پر فضیلت دی گئی ہے مجھے جوامع الکلم عطاکیے گئے۔یعنی ایسا کلام جس میں الفاظ کم اور معانی بہت ہوں دوسرے دشمن پر رعب سے میری مدد کی گئی تیسرے مجھ پر غنیمتیں حلال کی گئیں۔چوتھے میرے لیے ساری زمین پاک کرنے والی اور نماز کی جگہ بنائی گئی۔پانچویں میں تمام لوگوں (جنوں اور انسانوں)کی طرف بھیجاگیا ہوں اور چھٹے مجھ پر نبوت ختم کی گئی۔(مسلم، کتاب المساجد ۔باب المساجد و مواضع الصلوٰۃ))تیسیر القرآن(

۔ دوسرا مسئلہ "علمک ما لم تکن تعلم    ۔ الخ" سے یہ ثابت ہوا کہ رسولِ کریمؐ   کو اللہ تعالیٰ کے برابر تمام کائنات  کا علم محیط نہ تھا ، جیسے بعض جاہل کہتے ہیں، بلکہ جتنا علم حق تعالیٰ عطا فرماتے تھے وہ مل جاتا تھا۔ ہاں اس میں کلام نہیں کہ آنحضرتؐ کو جو علم عطا ہوا وہ ساری مخلوقات کے علم سے زائد ہے۔  (معارف القرآن)

114۔  کون سے خفیہ مشورے بہتر ہیں؟منافق لوگ جوراتوں کو الگ بیٹھ کر مشورے کرتے ہیں ۔وہ بسااوقات بری باتیں ہی سوچتے ہیں،جو خیر سے خالی ہوتی ہیں۔کیونکہ بھلائی کی اور صاف ستھری سچی بات کو چھپانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی البتہ کچھ امور ایسے ہیں جو چھپا کر کرنا بہتر ہوتے ہیں مثلاً کسی کو صدقہ دےتو چھپا کردے تاکہ لینے والا شرمندہ نہ ہو۔یا صدقہ دینے کے متعلق الگ مشورہ کرنا بھی اچھا کام ہے۔اسی طرح بھلائی کے کاموں اور بالخصوص لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے متعلق اگر خفیہ مشورہ بھی کیا جائے تو بھی یہ ایک نیکی کا کام ہے لیکن افسوس ہے کہ یہ لوگ ان امور میں سے تو کسی بات کا مشورہ نہیں کرتے۔وہ ایسے مشورے کرتے ہیں جن سے شرپید اہواور دوسروں کو نقصان پہنچے ۔اور جو شخص مذکورہ بالا امور کے متعلق محض اللہ کی رضا کیلئے مشورہ کرے تو یہ بڑے نیکی کے کام ہیں۔)تیسیر القرآن(

115۔ رسول اللہؐ کی مخالفت کی صورتیں:۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس آیت کا خطاب اسی منافق سے ہے جس نے چوری کی تھی۔جب رسول اللہؐ نے وحی الٰہی کی بناپر مذکورہ مقدمہ کا فیصلہ بے گناہ یہودی کے حق میں دے دیا۔تو اس منافق کو سخت صدمہ ہوا۔وہ مدینہ سے نکل کر اسلام اور رسول اللہؐ کے دشمنوں کے پاس مکہ چلاگیا اور کھلم کھلا مخالفت پر اتر آیا۔لیکن ظلم کے لحاظ سے یہ خطاب سب لوگوں کیلئے ہے جس میں مسلمان بھی شامل ہیں اور یہ حکم قیامت تک کیلئے ہے۔یعنی جو شخص رسول اللہؐ اور صحابہ کرامؓ کے طریق زندگی کو چھوڑ کر کوئی دوسرا طریق اختیار کرے گا وہ گمراہ ہوجائے گا اور جس قدر زیادہ مخالفت کرے گااسی قدر گمراہی میں بڑھتا چلا جائے گا۔اس کی یہ ذہنی اور عملی مخالفت اسے جہنم میں پہنچا کے چھوڑے گی۔اب اس مخالفت یا گمراہی کی کئی صورتیں ہیں ۔مثلاً شرکیہ عقائد و اعمال اپنالے یا سنت کو چھوڑ کر بدعات میں جاپڑے یا سنت رسول اللہؐ کو حجت ہی نہ سمجھے ،یا کوئی نیا نبی بھی تسلیم کرلے یا ایسے بدعی عقائد اپنے مذہب میں شامل کرے جن کا اس دور میں وجود نہ تھاوغیرہ وغیرہ۔غرض مخالفت اور گمراہی کی بے شمار اقسام ہیں لہذا اس معاملہ میں مسلمانوں کو انتہائی محتاط رہنا چاہئے۔)تیسیر القرآن(

- من بعد ماتبین لہ الھدیٰ۔اسے صاف کردیا کہ آیت میں بیان مرتد وں کے خصائل ِ رذیلہ کا ہورہاہے۔نوّلہ ماتولیّٰ۔یعنی ہم اسے اسی طریق پر چھوڑ رکھتے ہیں اپنے قانونِ مشیت تکوینی کے موافق،مقصود یہ ہے کہ جبرواکراہ سے کسی کو راہ ِ حق کے قبول کرنے اور ماننے پر مجبور نہیں کیا جاتابلکہ وضوحِ حق کے بعد جو بدبخت اپنی کجروی پر قائم رہنا چاہتاہے،اسی پر اسے قائم رہنے دیا جاتاہے۔۔۔یتبع۔۔۔جھنم۔آیت کے اس جزء سے فقہاء کو ایک بہت بڑی اصل ہاتھ آگئی ہے،اور اس کو انہوں نے اجماع امت کے حجت ِ شرعی ہونے کا مبنیٰ قرار دیا ہے اور تقریراستدلال یہ ہے کہ طریق مومنین سے الگ ہونا جب حرام اور مستحقِ جہنم ٹھہرا تو لازمی ہے کہ اس کا عکس یعنی اتباع طریق مومنین واجب ہو،اور اس کی مخالفت بھی کتاب و سنت کی مخالفت کے بعد ناجائز ٹھہرے ،اور یہاں قرآن مجید نے عدم اتباع طریق مومنین کو مخالفتِ رسول ؐ کے ساتھ جمع کرکے فرمایا ہے۔)تفسیر ماجدی(

۔  اجماعِ امت حجت ہے۔  وَمَنۡ يُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُ الۡهُدٰى۔ الخ (آیت  115)  اس آیت میں دو  چیزوں کا جرمِ عظیم  اور دخولِ جہنم کا سبب ہونا بیان فرمایا ہے، ایکِ مخالفتِ رسولؐ، اور  یہ ظاہر ہے کہ مخالفتِ رسول ؐ کفر اور وبالِ عظیم ہے، دوسرے جس کام پر سب مسلمان متفق ہوں اس کو چھوڑ کر ان کے خلاف کوئی راستہ اختیار کرنا ، اس سے معلوم  ہواکہ اجماع امت حجت ہے۔۔۔۔۔ یعنی جس طرح قرآن و سنت کے بیان کردہ احکام پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے اسی طرح امت کا اتفاق جس چیز پر ہو جائے اس پر بھی عمل کرنا واجب ہے اور  اس کی مخالفت  گناہِ  عظیم  ہے جیسا کہ آپؐ  نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ،  " یَداللہ  علیَ الَجمَاعَتہِ مَن شَدَّ شدَّ فِی النّاَرِ"   یعنی جماعت کے سر پر اللہ کا ہاتھ ہے اور جو شخص جماعت المسلمین سے علیحدہ ہو گا وہ علیحدہ کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا۔۔۔۔۔ حضرت امام شافعی ؒ سے کسی نے سوال کیا کہ کیا اجماع امت کے حجت ہونے کی دلیل قرآن میں ہے؟ آپ نے  قرآن سے دلیل معلوم کرنے کے لیے تین روز تک مسلسل تلاوتِ قرآن کو معمول بنایا، ہر روز دن میں تین مرتبہ اور رات میں تین مرتبہ   پورا قرآن ختم کرتے تھے ، بلآخر یہی مذکورہ آیت ذہن میں آئی اور علماء کے سامنے بیان کیا تو سب نے اقرارکیا کہ اجماع کی حجت پر یہ دلیل کافی ہے۔ (معارف القرآن)


اٹھارواں رکوع

ْاِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا 116 خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہے گا بخش دے گا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا۔
اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ   117 یہ جو خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں تو عورتوں کی اور پکارتے ہیں تو شیطان سرکش ہی کو
 لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ 118 جس پر خدا نے لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر خدا کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا۔
 وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًاؕ   119 اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا رہوں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں۔ اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا وہ صریح نقصان میں پڑ گیا۔
یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیْهِمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا  120 وہ ان کو وعدے دیتا اور امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے دھوکا ہی دھوکا ہے۔
 اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١٘ وَ لَا یَجِدُوْنَ عَنْهَا مَحِیْصًا 121 ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ وہاں سے مخلصی نہیں پاسکیں گے۔
 وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا 122 اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ ابدالآباد ان میں رہیں گے۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے۔
 لَیْسَ بِاَمَانِیِّكُمْ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَهْلِ الْكِتٰبِ١ؕ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖ١ۙ وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا 123 (نجات) نہ تو تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی (طرح) کا بدلا دیا جائے گا اور وہ خدا کے سوا نہ کسی کو حمایتی پائے گا اور نہ مددگار۔
 وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا 124 اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل برابر بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔
 وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا  125 اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسو (مسلمان) تھے اور خدا نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا۔
 وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا۠   ۧ 126 اور آسمان وزمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر احاطے کئے ہوئے ہے۔

تفسیر آیات

116۔ یہاں بعض لوگ یہ  شبہ کرتے ہیں  کہ سزا بقدرِ عمل ہونی چاہیے، مشرک اور کافر نے جو جرم کفر اور شرک کا کیا ہے ، وہ محدود مدتِ عمر کے  اندر کیا ہےتو اس کی سزا غیر محدود اور دائمی کیوں ہوئی؟ جواب یہ ہے کہ کفر اور شرک کرنے والا اس کو جرم ہی نہیں سمجھتا بلکہ نیکی  سمجھتا ہے، اس لیے اس کا عزم و قصد یہی ہوتا ہے کہ ہمیشہ اسی حال  پر قائم رہے گا۔ اور جب مرتے دم تک وہ اس پر قائم رہا  تو اپنے اختیار کی حد تک اس نے جرم دائمی کر لیا۔  اس لیے سزا بھی دائمی ہو گی۔ ۔۔۔ ظلم کی تین قسمیں: ظلم کی ایک قسم وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہر گز نہ بخشیں گے، دوسری قسم وہ ہے جس کی مغفرت ہو سکے گی، اور تیسری قسم وہ ہے کہ جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ لیے بغیر نہ چھوڑیں گے۔ ۔۔۔ پہلی قسم کا ظلم شرک ہے، دوسری قسم کا ظلم حقوق اللہ میں کوتاہی ہے اور تیسری قسم کا ظلم حقوق العباد کی خلاف ورزی ہے۔  (ابنِ کثیر بحوالہ مسندِ بزار) (معارف القرآن)

117۔مشرکوں میں شرک کی جملہ اقسام پائی جاتی ہیں:۔ شرک کی موٹی موٹی تین اقسام ہیں اور وہ تینوں ہی اس جملہ میں آگئی ہیں مثلاً(1)شرک فی الذات ۔اس لحاظ سے مشرکین اپنی دیویوں کو اللہ کی بیویاں اور بیٹیاں سمجھتے تھے اور ان دیویوں کے ناموں سے ہی یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے جیسے الٰہ سے لات اور عزیز سے عزیٰ وغیرہ(2)شرک فی الصفات۔اللہ کی یہ صفت ہے کہ جہاں سے بھی اسے کوئی شخص پکارے وہ اس کی فریاد سنتاہے اور مشرکین کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ دیویاں ان کی فریاد سنتی ہیں(3)شرک فی العبادت۔قرآن کی تصریح کے مطابق کسی کو اس عقیدہ سے پکارنا کہ وہ اس کی فریاد سن کر اس کی مشکل دورکرسکتاہے یا اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتاہے اس کی عین عبادت ہے اور مشرکین بھی ایسا ہی عقیدہ رکھ کر دیویوں کو پکارتے تھے اور یہ صریح شرک ہے۔نیز وہ اپنی دیویوں کے سامنے عبادت کے وہ سب مراسم بجالاتے تھے جو صرف اللہ کیلئے سزاوار ہیں۔(تیسیر القرآن)

۔شیطان کو اس معنی میں تو کوئی بھی معبود نہیں بناتا  کہ اس کے آگے مراسمِ پرستش ادا کرتا ہواور اس کو الوہیت کا درجہ دیتا ہو، البتہ اسے معبود بنانے کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے نفس کی باگیں شیطان کے ہاتھ میں دے دیتا ہے اور جدھر جدھر وہ چلاتا ہے ادھر چلتا ہے گویا کہ یہ اس کا بندہ ہے اور وہ اس کا خدا۔  اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے احکام  کی بے چون و چرا  اطاعت اور اندھی پیروی کرنا بھی "عبادت" ہے اور جو شخص اس طرح کی اطاعت کرتا ہے وہ دراصل اس کی  عبادت بجا لاتا ہے۔  (تفہیم القرآن)

119۔شیطانی فریب کی صورتیں :۔ ایسی جھوٹی آرزوئیں جن کا شریعت میں کوئی ثبوت نہ ہو۔ جیسے یہود کا یہ عقیدہ کہ انہیں دوزخ کی آگ چھوہی نہیں سکے گی۔ماسوائے ان چند دنوں کے جن میں گؤسالہ پرستی کی تھی۔یا جیسے یہ کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں اور اللہ کے چہیتے اور پیارے ہیں لہذا ہمیں آخرت میں عذاب نہ ہوگا۔ایسی جھوٹی آرزوئیں اور عقائد شیطان ہی خوبصورت بناکر پیش کرتاہے جس سے انسان گناہوں پر دلیر ہوجاتاہےاور یہ بات یہودہی تک محدود نہیں نصاریٰ اور مسلمان بھی اس معاملہ میں شیطان سے فریب خوردہ ہیں۔نصاریٰ نے کفارۂ مسیح کا عقیدہ گھڑرکھاہے اور مسلمانوں میں سید حضرات کہتے ہیں کہ ہماری خیر سے نسل ہی پاک ہے نیز پیروں کی سفارش کا عقیدہ بھی اسی ضمن میں آتاہے۔پھر آرزوئیں صرف آخرت سے ہی متعلق نہیں ہوتیں ،شیطان انسان کو کئی طرح کی دنیوی کامیابیوں ،شادمانیوں اور عیش و عشرت کے سبز باغ دکھا کر بسااوقات اسے گمراہ کرنے میں کامیاب رہتاہے۔۔۔جیساکہ اہل عرب کیا کرتے تھے کہ جب کوئی اونٹنی دس بچے جن لیتی یا جس اونٹ کے نطفے سے دس بچے پیدا ہوچکتے تو اسے اپنے دیوتاکے نام پر چھوڑ دیتے اور اس سے کام لینا حرام سمجھتے اور علامت کے طورپر اس کے کان چیر دیتے۔۔۔

شکل و صورت میں تبدیلی:۔اس آیت کے بہت سے مفہوم ہیں مثلاً ایک یہ کہ کوئی مرد ایسی شکل و صورت بنائے کہ وہ عورت معلوم ہونے لگے یا کوئی عورت ایسی ہئیت کذائی بنائے کہ وہ مرد معلوم ہو۔دوسرے یہ کہ بہروپ دھار کر لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے ۔تیسرے یہ کہ اپنی ہی شکل و صورت میں اپنی مرضی کے مطابق ایسی قطع وبرید کی جائے جس سے وہ خوبصورت بن سکے ۔داڑھی منڈانا بھی اس ضمن میں آتاہے۔ چوتھے یہ کہ کسی مخلوق سے وہ کام لیا جائے جس کیلئے اللہ نے اسےپیدا نہیں کیا۔مثلاًلڑکوں سے لواطت کرنا یا جس کام کیلئے اللہ نے کسی مخلوق کو پیدا کیا ہے،اس سے وہ کام نہ لینا ۔مثلاً مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنانا ،برتھ کنڑول ،منصوبہ بندی ،اسقاط حمل سے انسانی نسل کو روکنا،خصی کرنا وغیرہ۔عورتوں کو گھر کے میدان سے باہر لاکر کھیتوں اور معیشت کے میدان میں لانا۔ اور ایسے کام دراصل فطرت کیخلاف جنگ ہے جس کے نتائج ہمیشہ برے ہی نکلتے ہیں اور فطرت کیخلاف جنگ میں بلآخر انسان ہی ناکام رہتاہے۔اور یہ سب پٹیاں شیطان ہی پڑھاتاہے۔اور ہرزمانہ میں اس کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔(تیسیر القرآن)

ــ اس سے  مراد اس فطرت اللہ کو بدلنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام خلائق کو پیدا کیا،مثلاً توحید دین فطرت ہے لیکن شیطان اور اس کے ایجنٹوں نے اس کو شرک سے مسخ کیا۔ضمناً بہت سی خرافات اس کے حکم کے تحت آتی ہیں۔مثلاً عورتوں کا مرد بننا یا مردوں کا عورت بننایا عورتوں  مردوں کو ناقابل اولاد بنانا وغیرہ۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحی)

123۔ سستی نجات کا عقیدہ:۔ شیطان جن راہوں سے انسان کو گمراہ کرتاہےان میں سب سے زیادہ قابل ذکر "سستی نجات کا عقیدہ"ہے ۔ تو اس میدان میں مسلمان یہود و نصاریٰ سے بھی دوہاتھ آگے ہی ہونگے جنہوں نے پیروں کی سفارش کے علاوہ اس دنیا میں بھی بہشتی دروازے بنارکھے ہیں کہ جو شخص اس دروازے سے اس پیر کے عرس کے دن گزر گیا وہ بہشتی ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایسی خرافات کی تردید کرتے ہوئے نجات کی صحیح راہ بیان فرمائی اور وہ راہ اللہ تعالیٰ کا قانون جزاوسزا ہے۔یہ قانون قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مذکور ہے اور اس قانون کی قابل ذکر دفعات یہ ہیں:۔ (1)قانون جزاوسزا:۔ ہرانسان کو صرف وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایا ہو ،برے عمل کا بدلہ براہوگا اور اچھے عمل کااچھا۔(2)جزاوسزا کے لحاظ سے مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں(3)اگر کسی نے چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی کی ہوگی تو بھی اس کا اسے ضرور بدلہ ملے گا اللہ کسی کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی نظر انداز نہیں فرمائے گا ۔کسی کی ذرہ برابر بھی حق تلفی نہیں ہوگی ۔(4)قیامت کے دن کوئی بھی شخص خواہ وہ اس کا پیر ہویا کوئی قریبی رشتہ دار ہو دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا(5)یہ ناممکن ہے کہ زید کے گناہ کا بار بکر کے سر ڈال دیا جائے (6)شفاعت کے مستحق صرف گناہگار موحدین ہونگے وہ بھی ان شرائط کے ساتھ کہ اللہ جس کے حق میں خود سفارش چاہے گا اسی کے حق میں کی جاسکے گی اور جس شخص کو سفارش کی اجازت دے گا صرف وہی سفارش کرسکے گا۔اس قانون کے علاوہ نجات کی جتنی راہیں انسان نے سوچ رکھی ہیں ،وہ سب شیطان کی بتلائی ہوئی راہیں ہیں ۔ان کا کچھ فائدہ نہ ہوگا البتہ یہ نقصان ضرور ہوگا کہ انسان ایسی امیدوں کے سہارے دنیا میں گناہوں پر اور زیادہ دلیر ہوجاتاہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرمادی کہ قیامت کے دن لوگوں کے ایسے من گھڑت سہارے کسی کام نہ آسکیں گے جو اسے اللہ کے عذاب سے بچاسکیں ۔(تیسیر القرآن)

۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ مسلمانوں اور اہلِ کتاب کے درمیان مفاخرت کی گفتگو ہونے لگی، اہلِ کتاب نے کہا کہ ہم تم سے افضل و اشرف ہیں  کیونکہ ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے ہیں اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہم تم سب سے افضل ہیں  اس لیے کہ ہمارے نبیؐ  خاتم النبین ہیں اور ہماری کتاب آخری کتاب ہے۔  جس نے  پہلی سب کتابوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی "لَـيۡسَ بِاَمَانِيِّكُمۡ وَلَاۤ اَمَانِىِّ اَهۡلِ الۡـكِتٰبِ ۔ الخ  "          یعنی  یہ تفاخر اور تعلق کسی کے لیے زیبا نہیں اور محض خیالات اور تمناؤں اور دعوں سے کوئی کسی پر افضل نہیں ہوتا، بلکہ مدار اعمال پر ہے۔ کسی کا نبی اور کتاب کتنی ہی افضل و  اشرف ہو اگر وہ عمل غلط کرے گا تو اس کی ایسی سزا پائے گا کہ اس سے بچانے والا اس کو کوئی نہ ملے گا۔ (معارف القرآن) 

125۔ حسنِ عمل صرف حضورؐ کی تعلیمات اور سنتِ نبوی کے اتباع پر موقوف ہے اس سے کم کرنا بھی جرم ہے اور بڑھانا بھی جرم ہے جس طرح ظہر کے چار فرض کی بجائے تین یا پانچ پڑھنا ۔(معارف القرآن)

-  دین ابراہیمی کی صفات :۔سیدنا ابراہیمؑ کے دین کی قابل ذکر صفات دوہیں ۔ ایک یہ کہ اللہ کے مقابلہ میں انہوں نے تمام طاغوتیں طاقتوں سے ٹکر لی۔تقلید آباء کا انکار کیا ،بت پرستی اور نجوم پرستی سے ٹکرلی ۔نمرود کی خدائی کا انکار کیا اور چونکہ انہوں نے اپنے وقت کی تمام طاغوتی طاقتوں سے ٹکرلی اور ان کا مقابلہ کرتے ہوئے صرف ایک اللہ کے دامن میں پناہ لی ۔لہذا وہ حنیف کہلائے اور حنیف کا یہی معنیٰ ہے اور دوسری صفت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کے تمام تر احکام کے سامنے برضاو رغبت اپنا سر تسلیم خم کردیا تھا ۔یہ نہیں کیا کہ جو بات آسان یا نفس کو مرغوب تھی اسے تو قبول کرلیا اور جو مشکل یا ناپسند تھی اسے چھوڑدیا ،یا اس کی حسب پسند تاویل کرکے اسی کے مطابق عمل کرلیا ۔یہی دوصفات تھیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیمؑ کو مختلف تجربوں اور آزمائشوں سے گزارنے کے بعد اپنا دوست بنالیا تھا۔(تیسیر القرآن)


انیسواں رکوع

وَ یَسْتَفْتُوْنَكَ فِی النِّسَآءِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِیْهِنَّ١ۙ وَ مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ فِیْ یَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ١ۙ وَ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰى بِالْقِسْطِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِیْمًا 127 (اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے۔
وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ١ؕ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ١ؕ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا 128 اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلو۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔
 وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِ١ؕ وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا 129 اور تم خواہ کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہرگز برابری نہیں کرسکو گے تو ایسا بھی نہ کرنا کہ ایک ہی کی طرف ڈھل جاؤ اور دوسری کو (ایسی حالت میں) چھوڑ دو کہ گویا ادھر ہوا میں لٹک رہی ہے اور اگر آپس میں موافقت کرلو اور پرہیزگاری کرو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔
وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِیْمًا  130 اور اگر میاں بیوی (میں موافقت نہ ہوسکے اور) ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں تو خدا ہر ایک کو اپنی دولت سے غنی کردے گا اور خدا بڑی کشائش والا اور حکمت والا ہے۔
 وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَنِیًّا حَمِیْدًا 131 اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ان کو بھی اور (اے محمدﷺ) تم کو بھی ہم نے حکم تاکیدی کیا ہے کہ خدا سے ڈرتے رہو اور اگر کفر کرو گے تو (سمجھ رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا بے پروا اور سزاوار حمدوثنا ہے۔
 وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا 132 اور (پھر سن رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور خدا کارساز کافی ہے۔
 اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ اَیُّهَا النَّاسُ وَ یَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِیْرًا  133 لوگو! اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمہاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔اور خدا اس بات پر قادر ہے۔
 مَنْ كَانَ یُرِیْدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا۠   ۧ ۧ  134 جو شخص دنیا (میں عملوں) کی جزا کا طالب ہو تو خدا کے پاس دنیا اور آخرت (دونوں) کے لئے اجر (موجود) ہیں۔ اور خدا سنتا دیکھتا ہے۔

تفسیر آیات

127۔ اس کی تصریح نہیں فرمائی گئی کہ عورتوں کے معاملے میں لوگ کیا پوچھتے تھے۔ مگر آگے چل کر جو فتویٰ دیا گیا ہے  اس سے سوال کی نوعیت خود واضع ہو جاتی ہے (تفہیم القرآن)

۔اسلامی معاشرہ کی تاسیس ،تنظیم اور تطہیر سے متعلق اصولی باتیں اوپر بیان ہوگئیں۔آگے انہی کی کچھ وضاحتیں ہیں۔ سورہ کی آیات  2 تا 4میں یتامیٰ کی مصلحت سے ان کی ماؤں سے نکاح کرنے کی اجازت چار کی قید، ادائے مہر اور عدل کی شرط کے ساتھ دی ہے۔مہر اور عدل کی شرط ان لوگوں پر شاق گزری جو یتیموں کی مصلحت سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔یہاں ان پر واضح کیا ہے کہ عام عورتوں کو بھی اور یتامیٰ کی ماؤں کو بھی ان کے مہردو اور ان کے ساتھ عدل کا معاملہ کرو اور بے بس یتیموں کے لیے حق و انصاف کے قائم کرنے والے بنو۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ــ آیت کے مضمون کا ربط سورت کی ابتدائی آیتوں کے مضمون سے ہے۔۔۔ترغبون کے ساتھ اس کا صلہ عن یہاں مذکور نہیں ،لیکن اکثر ائمۂ تفسیر نے مقدرماناہے اور اسی لئے تفسیر "بیزاری"سے کی ہے اور خود عائشہ صدیقہؓ کی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔۔۔دوسری تفسیر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مقدر بجائے عن کے فی یا الیٰ کو مانا جائے اور معنی یہ کئے جائیں کہ "تم رغبت تو ان سے عقد کی رکھتے ہوان کے صاحب ِ مال یا صاحبِ جمال ہونے کی بناپر ،لیکن ان کے مہرپورے نہیں دیناچاہتے ہو"اکابر کی ایک جماعت اس طرف بھی گئی ہے۔۔۔لب لباب دونوں کا ایک ہی ہے، یعنی عورتوں کے باب میں عدمِ ادائے حقوق۔۔۔یہاں یہ بتایا ہے کہ یہ ساری آیات ِ احکام جو پہلے گزر چکی ہیں،بدستور واجب العمل ہیں، ان احکام میں کوئی ترمیم یا تنسیخ نہیں ہوئی ہے،یتیموں کی حق رسی ،یتیم لڑکوں کے ساتھ حسنِ سلوک ،عورتوں کی مردوں کے ساتھ میں وجہ مساوات وغیرہ کے باب میں اسی سورۂ النساء کی آیاتِ ذیل پہلے گزرچکی ہیں۔ وَ  اٰتُوا  الْیَتٰمٰۤى  اَمْوَالَهُمْ ۔الخ(4: 2) وَ  اِنْ  خِفْتُمْ  اَلَّا  تُقْسِطُوْا  فِی  الْیَتٰمٰى الخ(4: 3) وَلَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا الخ(4: 6) یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ الخ(4:11) لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا(4: 32)۔ )تفسیر ماجدی(

۔۔ تَرۡغَبُوۡنَ اَنۡ تَـنۡكِحُوۡهُنَّ کا  مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے  کہ " تم ان سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو" اور یہ  بھی ہو سکتا ہے  کہ " تم ان سے نکاح کرنا پسند نہیں کرتے" حضرت  عائشہ اس کی تشریح میں فرماتی ہیں کہ جن لوگوں کی سرپرستی میں ایسی یتیم لڑکیاں ہوتی تھیں جن کے پاس والدین کی چھوڑی ہوئی کچھ دولت ہوتی تھی وہ ان لڑکیوں کے ساتھ مختلف طریقوں سے ظلم  کرتے تھے۔ اگر لڑکی مالدار  ہونے کے ساتھ  خوبصورت بھی ہوتی تو یہ لوگ چاہتے تھے کہ خود اس سے نکاح کر لیں اور مہر و نفقہ ادا کیے بغیر اس کے مال اور جمال دونوں سے فائدہ اٹھائیں۔ اور   اگر وہ بد صورت  ہوتی  تو یہ  لوگ نہ خود اس سے نکاح کرتے اور نا کسی اور  سے اس کا نکاح  ہونے دیتے  تھے تاکہ  اس کا کوئی سر دھرا پیدا نہ ہو جائے جو کل اس کے حق کا مطالبہ کرنے والا ہو ۔ (تفہیم القرآن)

128۔ یہاں سے اصل استفتاء  کا جواب شروع ہوتا ہے ۔ (تفہیم القرآن)

۔ اس  آیت کی تفسیر میں درج ذیل دواحادیث ملاحظہ فرمائیے:۔1۔زوجین کا باہمی سمجھوتہ :۔ سیدہ عائشہؓ اس آیت کا مطلب یہ بیان فرماتی ہیں کہ مثلاً ایک شخص کے پاس عورت ہو جس سے وہ کوئی میل جول نہ رکھتا ہو اور اسے چھوڑ دینا چاہے اور عورت کہے کہ اچھا میں تجھے اپنی باری یا نان و نفقہ معاف کردیتی ہوں(مگر مجھے طلاق نہ دے)یہ آیت اس باب میں اتری(بخاری،کتاب التفسیر)2۔ سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ سیدہ سودہؓ کو اندیشہ ہواکہ رسول اللہؐ انہیں طلاق نہ دے دیں ،تو انہوں نے آپؐ سے کہا "مجھے طلاق نہ دیجئے اپنے پاس ہی رکھیے اور میں اپنی باری عائشہؓ کو دے دیتی ہوں چنانچہ رسول اللہؐ نے ایسا ہی کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔گویا میاں بیوی جس شرط پر بھی صلح کرلیں وہ جائز ہے۔"(ترمذی،ابواب التفسیر)(تیسیر القرآن)

- فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ صلح اگر کسی حرام شرط کے ساتھ مشروط ہوگی تو باطل ہوگی ،مثلاً شوہر نے صلح کی یہ شرط لگادی کہ وہ بیوی کے ساتھ اس کی بہن کو بھی زوجیت میں رکھے گا،اور بیوی نے اسے منظور کرلیا ،جب بھی چونکہ یہ امرِ حرام ہے، اس لئے یہ مصالحت باطل رہے گی۔۔۔ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا۔مثلاً اس طورپر کہ بیوی اپنے شوہر کو رضامندرکھنے کیلئے اپنے حقوق میں سے کچھ چھوڑ دے،اپنا مہر معاف کردے ،یا اس میں کمی کردے،اپنی باری کا دن دوسری بیوی کو دیدے اپنے مصارف کابار ہلکا کردے۔وقس علیٰ ہذا۔۔۔فقہاء نے لکھا ہے کہ بیوی  کےحق شوہر پر دوطرح کے ہوتے ہیں، ایک ثابت و مستقل مثلاً رقم مہر، دوسرے وہ جو وقتاً فوقتاً پیدا ہوتے رہتے ہیں، مثلاً نفقہ یا ہمبستری ،صلح کیلئے عورت دست برداری دونوں قسم کے حقوق سے کرسکتی ہے، البتہ یہ فرق ہے کہ قسم اول کے حقوق میں نقض صلح کا ختیار نہ رہے گا،یعنی جو چھوڑا،بس وہ ساقط ہوگیا اور الساقط لایعود لیکن دوسرے قسم کے حقوق میں بیوی کو یہ اختیار باقی رہے گا کہ وہ جب چاہے کسی چھوڑے ہوئے حق کا مطالبہ از سر نو کردے۔۔۔ وتتقوا۔اور جب تقویٰ اختیار کرے گا تو نشوز و اعراض خود ہی کافور ہوجائیں گے،خوب خیال کرکے دیکھ لیا جائے کہ قرآن مجید میں جہاں جہاں حسنِ معاشرت زوجین کا ذکر آیا ہے، میاں بیوی میں سے کسی کو ادائے حقوق پر توجہ دلائی ہے،ایک جامع لفظ تقویٰ کا لایا گیا ہے اور اس خانگی حسنِ معاشرت کو تقویٰ ہی کی ایک اہم فرد قراردیاگیاہے،اور حق یہ ہے کہ اس سے بہتر اور مؤثر تدبیر کوئی اور ہے ہی نہیں۔(تفسیر ماجدی)

۔ عورت کی طرف سے تنگ دلی یہ ہے کہ وہ اپنے اندر شوہر کے لیے  بے رغبتی کے اسباب کو خود  محسوس کرتی ہو  اور پھر بھی وہ سلوک چاہے  جو ایک مرغوب بیوی ہی کے ساتھ برتا جا سکتا ہے۔ مرد کی طرف سے تنگ دلی یہ ہے کہ  عورت دل سے اتر جانے پر  بھی  اس کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہو۔ وہ اس کو وہ حد سےزیادہ   دبانے کی کوشش کرے اور اس کے حقوق  نا قابلِ برداشت  حد تک گھٹا دینا چاہے۔  (تفہیم القرآن)

129۔ ۔۔اس موقع پر عدل سے مرادتھی ،عدل معاملات میں، عدل اموراختیاری میں، یعنی ہر بیوی کی ضروریات کا مزاج و مذاق کا لحاظ رکھنا ، بہ خلاف اس کے یہاں جس عدل کی نفی کی جارہی ہے اور ارشاد ہورہاہےکہ ایسے عدل پر تم قادرہی نہیں ہوسکتے ،چاہے لاکھ اس کی تمنا کرو۔۔۔اس عدل سے مراد ہے مساوات امور ِ غیراختیاری میں، کیفیات ِ قلب میں، مثلاً محبت و رغبت میں اور ایسی مساوات ِ کامل تو والدین عادۃً اپنی ساری اولاد کے درمیان نہیں رکھ سکتے۔۔۔۔پس بعض جدید محرفین نے اس آیت سے یہ جونکالنا چاہاہے کہ قرآن مجید نے عدل بین الازواج کو ناممکن بتایاہے اور تعدد ازواج کی اجازت عدل کے ساتھ دی ہے تو اس طرح اس اجازت کو ایک باردے کر پھر واپس لے لیا ہے تو ایسے لوگوں نے نادانستہ سہی ،لیکن بہرحال قرآن پر بڑا ظلم کیا ہے اور اس کی جانب بے تکلف اس عیب کو منسوب کردیاہے کہ وہ جس چیز کو روکنا چاہتاہے اسے براہ راست منع نہیں کردیتا بلکہ اس کیلئے خوامخواہ ایک پرپیچ راستہ اختیار کرتاہے۔(تفسیر ماجدی)

133۔ جو تیسری بار اس جملہ کو دہرایا تو اس کا مدلول مسلمانوں کے مستقبل کے حالات ہیں یعنی اے مسلمانو!اگر تم اللہ کی نافرمانی کروگے تو اس کے کاموں کا انحصار تمہی  پر نہیں وہ ایسا کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے کہ اس صورت میں کوئی اور قوم آگے لے آئے اور اس کے ہاتھ سے تمہیں پٹواکر پیچھے دھکیل دے جیساکہ یہود اللہ کی نافرمانیوں اور بدکرداریوں میں مبتلا ہوئے تو انہیں عیسائیوں کے ہاتھوں پٹواکر پیچھے دھکیل دیا تھا۔اور اب تمہارے ہاتھوں ان دونوں کو پٹوا رہاہے۔اللہ کو تو اپنے دین کو سربلند کرنا ہے لہذا جولوگ بھی اللہ کے اس مشن کو جاری رکھنے کے قابل ہونگے وہ انہی کو آگے لے آئے گا لہذا تمہارا مفاد اسی میں ہے کہ تم ہی اس کے فرمانبردار بن کر رہو۔(تیسیر القرآن)

134۔ بالعموم قانونی احکام بیان کرنے کے بعد  اور بالخصوص تمدن و معاشرت کے ان پہلووں کی اصلاح پر زور دینے کے بعد جن میں انسان اکثر  ظلم کا ارتکاب کرتا رہا ہے، اللہ تعالیٰ اس قسم کے چند پر اثر  جملوں میں ایک مختصر وعظ ضرور  فرمایا کرتا ہے۔ ۔۔۔۔ایک یہ کہ تم کبھی اس بھلاوے میں نہ رہنا کہ کسی قسمت کا بنانا اور بگاڑنا تمہارے ہاتھ میں ہے، اگر تم اس سے ہاتھ کھینچ  لو گے تو اس کا  کوئی ٹھکانا نہ رہے گا۔ ۔۔۔دوسرے یہ کہ تمہیں اور تمہاری طرح پچھلے تمام انبیاء کی امتوں کو ہمیشہ یہی ہدایت کی جاتی رہی ہے کہ خدا ترسی کے ساتھ کام کرو۔ ۔۔۔ تیسرے یہ کہ خدا کے پاس دنیا کے فائدے بھی ہیں اور آخرت کے فائدے بھی، عارضی اور وقتی فائدے بھی ہیں، پائدار اور دائمی بھی ہیں۔  ۔۔۔آخر میں فرمایا اللہ سمیع و بصیر ہے۔ اس کا مطلب یہ  ہے کہ اللہ اندھا  اور بہرا نہیں ہے کہ کسی شاہِ بے خبر کی طرح اندھا دھند کام کرے اور اپنی عطاو بخشش میں بھلے اور برے کے درمیان کوئی تمیز نہ کرے۔  (تفہیم القرآن)


بیسواں رکوع

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا 135 اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لئے سچی گواہی دو خواہ (اس میں) تمہارا یا تمہارےماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو۔ اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے۔ تو تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔ اگر تم پیچیدہ شہادت دو گے یا (شہادت سے) بچنا چاہو گے تو (جان رکھو) خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا 136 مومنو! خدا پر اور اس کے رسول پر اور جو کتاب اس نے اپنے پیغمبر (آخرالزماں) پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں سب پر ایمان لاؤ۔ اور جو شخص خدا اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور روزقیامت سے انکار کرے وہ رستے سے بھٹک کر دور جا پڑا۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ   137 جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ان کو خدا نہ تو بخشے گا اور نہ سیدھا رستہ دکھائے گا۔
 بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ   138 (اے پیغمبر) منافقوں (یعنی دو رخے لوگوں) کو بشارت سناد دو کہ ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔
 اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ   139 جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے۔
وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ 140 اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں۔ ان کے پاس مت بیٹھو۔ ورنہ تم بھی انہی جیسے ہوجاؤ گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں سب کو دوزخ میں اکھٹا کرنے والا ہے۔
 اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠   ۧ ۧ  141 جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے۔ اور اگر کافروں کو (فتح) نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھ) سے بچایا نہیں۔ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔ اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔

تفسیر آیات

135۔ گواہی میں ہیراپھیری کی صورتیں:۔  شہادت کے وقت لگی لپٹی یا گول مول سی بات مت کرو جس سے کسی فریق کو نقصان پہنچ جائے۔اور اس کی کئی صورتیں ہیں مثلاً مبنی برحق شہادت کا کچھ حصہ چھپایاجائے اور سمجھے کہ میں نے شہادت کے وقت جھوٹ نہیں بولا۔تو یہ کتمان حق،جھوٹی شہادت سے بھی بڑا گناہ ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ گواہ کو واقعہ کا پورا پورا علم ہے لیکن وہ اس ترتیب سے توڑ موڑ کر اور ہیراپھیری کرکے بیان کرے کہ بات کچھ کی کچھ بن جائے۔اور اس کا مقصد کسی ایک فریق کو فائدہ پہنچاناہوتاہےجس سے دوسرے کو ازخود نقصان پہنچ جاتاہے اور بعض دفعہ گواہ کسی اپنے ذاتی مفاد کیلئے بھی ایسے کام کرنے لگتاہے ۔یہ سب صورتیں عدل و انصاف اور تقویٰ کے خلاف ہیں۔(تیسیر القرآن)

۔ یہ فرمانے پر اکتفا نہیں کیا کہ انصاف کی روش پر  چلو بلکہ یہ فرمایا کہ  انصاف  کے علمبردار  بنو۔ تمہارا کام صرف انصاف کرنا ہی نہیں ہے بلکہ انصاف کا جھنڈا لے کر اٹھنا  ہے۔ تمہیں اس بات پر کمر بستہ ہونا چاہیے کہ ظلم مٹے اور اس کی جگہ عدل و راستی قائم ہو۔ عدل کو اپنے قیام کے لیے جس سہارے کی ضرورت ہے، مومن ہونے کی حیثیت سے تمہارا مقام یہ ہے کہ وہ سہارا تم بنو۔۔۔۔ یعنی تمہاری گواہی محض خدا کے لیے ہونی چاہیے ، کسی کی رو  رعایت اس میں نہ ہو، کوئی ذاتی  مفاد یا خدا کے سوا کسی کی خوشنودی تمہارے مدِّ نظر نہ ہو۔ (تفہیم القرآن)

۔ اب سے سو سال پہلے  1857سے 1957 تک کا ہی موازنہ  کریں، اعداد و شمار محفوظ ہیں وہ گواہی دیں گے کہ جوں جوں  قانون سازی بڑھی  اور تنقید قانون کے لیے مشینری بڑھی ، ایک پولیس کی بجائے مختلف اقسام کی پولیس بروئے کار آئی ، اتنے ہی روز بروز  جرائم بھی بڑھے، اور لوگ انصاف سے دور ہوتے  چلے گئے۔  اور اسی  رفتار سے دنیا کی بد امنی بڑھتی چلی گئی۔ (معارف القرآن)

136۔یہ آیت اس کلمۂ جامعہ کی طرف اشارہ کررہی ہے جو امت وسط اور قائم بالقسط امت کا کلمہ ہے،یعنی بلاتفریق تمام انبیاء و رسل اور تمام آسمانی صحیفوں پر ایمان ۔اس کا ذکر سورہ بقرہ(2)آیت 136 میں  گزرچکاہے۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ـــــ قرآن سے پہلے کی نازل شدہ کتاب یاکتابوں پر ایمان لانےکامطلب یہ ہے کہ فی الواقع وہ کتاب بھی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ جو کچھ مواد ان میں آجکل پایا جاتاہے وہ سب کچھ منزل من اللہ ہے اس آیت میں اور اسی طرح دیگر آیات میں ایمان بالغیب کے پانچ اجزاء کا ذکر آیاہے جو یہ ہیں اللہ پر ،اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، اس کے فرشتوں پر اور آخرت کے دن پر بن دیکھے ایمان لایا جائے۔یعنی ان پر پختہ یقین رکھا جائے۔ایمان بالغیب کا چھٹا جزوتقدیر پر ایمان ہے یعنی ہرطرح کی بھلائی اور برائی اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور یہ عقیدہ بھی قرآن ہی کی متعدد آیات سے مستنبط ہے۔اگرچہ اس آیت میں مذکور نہیں۔(تیسیر القرآن)

۔ ایمان لانے والو ں سے کہنا کہ ایمان لاؤ  بظاہر  عجیب معلوم ہوتا ہے ۔ لیکن یہاں لفظ ایمان دو الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایمان لانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آدمی انکار کی بجائے اقرار کی راہ اختیار کرے ، نا ماننے والوں سے الگ ہو کر ماننے والوں میں شامل ہو جائے، اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو مانے اسے سچے دل سے مانے۔ پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مانے۔ اپنی فکر کو، مذاق کو، اپنی پسند کو، اپنے رویے اور چلن کو، اپنی دوستی اور دشمنی کو ، اپنی سعی و جدو جہد کے مصرف کو بالکل اس عقیدے کے مطابق بنا لے جس پر وہ ایمان لایا ہے۔ آیت میں خطاب ان تمام مسلمانوں سے ہے جو پہلے معنی کے لحاظ سے " ماننے والوں" میں شمار ہوتے ہیں۔ اور ان سے مطالبہ یہ کیا گیا ہے کہ دوسرے معنی میں سچے مومن بنیں۔ (تفہیم القرآن)

۔ یہاں  نَزَّلَ  اور اَنۡزَلَ  کا فرق بھی قابلِ توجہ ہے۔ جو لوگ عربی زبان کی باریکیوں سے واقف ہیں  وہ جانتے ہیں کہ انزل کا مفہوم تو مجرد اتار دینا ہے لیکن  نزل کے اندر اہتمام اور تدریج کا  مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ لفظوں کا یہ فرق  تورات اور قرآن دونوں کے اتارے جانے کی نوعیت کو واضع  کر رہا ہے۔  (تدبرِ قرآن)

137۔  (قولِ تعالیٰ) لَّمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَـغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَـهۡدِيَهُمۡ سَبِيۡلاَؕ‏  مطلب اس  آیت کا یہ ہے کہ ان کے بار بار کفر کی طرف لوٹنے سے ان کی توفیقِ حق ہی سلب ہو جائے گی، اور آئندہ توبہ  کرنے اور ایمان لانے کا موقع ہی نصیب نہ ہو گا، ورنہ جو قاعدہ قرآن و سنت کی نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ کیسا ہی کافر یا مرتد ہو اگر سچی توبہ کر لے تو پچھلا گناہ معاف ہو جاتا ہے، یہ لوگ بھی توبہ کر لیں تو معافی کا قانون کھلا ہوا ہے۔ (معارف القرآن)

139۔ مستدرک حاکم میں ہے کہ حضرت فاروقِ اعظم نے ملکِ شام کے عامل (گورنر)  سے فرمایا:  "کنتم اقل الناس و اذن الناس فاعز کم  اللہ بالاسلام مھما  تطلبوا العذۃ بغیرہ یذلکم اللہ" (مستدرک ص82)   یعنی (اے ابو عبیدہ) تم   تعداد میں سب سے کم اور سب سے زیادہ کمزور تھے، تم کو محض اسلام کی وجہ سے عزت و شوکت  ملی ہے۔تو خوب  سمجھ لو کہ  اگر تم اسلام کے سوا کسی اور ذریعہ سے عزت حاصل کرنا چاہو گے تو اللہ تم کو ذلیل کر دے گا۔ (معارف القرآن) 

140۔ و اذا  رأیت الذین یخوضون فی اٰیٰتنافاعرض عنھم حتیّٰ یخوضوا فی حدیث غیرہ(سورۂ انعام۔آیت67)۔۔۔یہ سورۂ نساء مدنی ہے اور سورۂ انعام اس سے بہت قبل کی مکیّ ہے۔)تفسیر ماجدی(

۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک مرتبہ چند لوگوں کو اس جرم میں گرفتار  کیا کہ وہ شراب پی رہے تھے، ان میں سے ایک شخص کے بارے میں ثابت ہوا کہ وہ روزہ رکھے ہوئے ہے، اس نے شراب نہیں پی لیکن اس مجلس میں شامل تھا،  حضرت عمر بن عبدالعزیز نےاس کو بھی سزا دی کہ وہ اس مجلس میں بیٹھا کیوں تھا۔ (بحر محیط، صفحہ 375، جلد 3) (معارف القرآن)


اکیسواں رکوع

ْاِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ   142 منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہی کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم۔
 مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا 143 بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ ان کی طرف اور جس کو خدا بھٹکائے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہ پاؤ گے۔
 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا 144 اے اہل ایمان! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا صریح الزام لو؟
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ   145 کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجے میں ہوں گے۔ اور تم ان کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے۔
اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا 146 ہاں جنہوں نے توبہ کی اور اپنی حالت کو درست کیا اور خدا (کی رسی) کو مضبوط پکڑا اور خاص خدا کے فرمانبردار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے زمرے میں ہوں گے اور خدا عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا۔
 مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا  147 اگر تم (خدا کے شکرگزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو خدا تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔ اور خدا تو قدرشناس اور دانا ہے۔
لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا 148 خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے۔
اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا  149 اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا بھی معاف کرنے والا (اور) صاحب قدرت ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا   150 جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا  151 وہ بلا اشتباہ کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
 وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠   ۧ ۧ 152 اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

تفسیر آیات

145۔منافقوں کی علامات :۔ جس طرح جنت کے بہت سے درجات ہیں اسی طرح جہنم کے بھی بہت سے درجات ہیں۔اور منافقین یا ان سے دوستی رکھنے والوں کا ٹھکانہ جہنم کا سب سے نچلا درجہ ہوگا۔جہاں سب سے زیادہ عذاب ہوگا اور یہ کافروں کے عذاب سے بھی سخت ہوگا کیونکہ کافر اپنے دین و ایمان کے معاملہ میں کسی کو دھوکہ نہیں دیتا ۔جبکہ منافق ،کافروں اور مسلمانوں دونوں کو دھوکہ میں رکھ کر ان دونوں سے مفادات حاصل کرتا یا حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتاہے۔منافقوں کی چند ظاہری علامات احادیث میں مذکور ہیں۔جو یہ ہیں:(1)سیدنا ابوہریرۃؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا "منافق کی تین نشانیاں ہیں۔جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور وعدہ کرے تو اس کا خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے۔"(2)سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا "جس میں چارباتیں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک ہوگی تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی تاآنکہ اسے چھوڑ نہ دے۔(اور وہ یہ ہیں)جب اس کے پاس امانت رکھیں تو خیانت کرے اور جب بات کرےتو جھوٹ بولے، کوئی عہد کرےتو بے وفائی کرے اور جب جھگڑے تو بکواس بکے۔"(بخاری، کتاب الایمان،باب علامۃ المنافق))تیسیر القرآن(

ــــ  منافقین کی صفات بیان کی گئیں(آیات 141تا 147)(1)"تربُّص"یعنی انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں۔(2)" یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ  "یعنی اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔(3)"  قَامُوْا كُسَالٰى "نماز کیلئے کسل مندی سے کام لیتے ہیں۔(4)" یُرَآءُوْنَ النَّاسَ "یعنی ریاء کاری کرتے ہیں۔(5)" وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا "نماز میں اللہ کو بہت کم یادکرتے ہیں(6)" مُّذَبْذَبِیْنَ  "ہوتے ہیں، پختہ ایمان کے بجائے تذبذب کا شکار ہوتے ہیں۔کچے مسلمانوں کو حکم دیا گیاکہ وہ کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں۔(لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ )(آیت :144)منافقین کیلئے دوزخ میں(الدرک الاسفل)سب سے نچلا حصہ ہوگا۔(آیت:146)۔(قرآنی سورتوں کا نظم جلی)

148۔ بترس از آہِ مظلوماں کہ ہنگام ِ دعاکردن                             اجابت ازدرِ حق بہرِ استقبال می آید

               ترجمہ: مظلوموں کی آہ سے ڈرو کیونکہ دعا کرنے کے وقت قبولیت حق تعالی ٰکے در سے استقبال کے لیے آتی ہے )بیان القرآن(

- الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ  کے تحت میں پس ِ پشت بھی کسی کے عیب کی تشہیرآگئی اور اس کے روبروتلخ کلامی بھی،بلاضرورت اور بلامصلحتِ شرعی کسی کی بدگوئی کسی حال میں بھی جائز نہیں،نہ سامنے نہ پیچھے۔۔۔  اِلَّا مَنْ ظُلِمَ۔مظلوم البتہ اپنے دل کا بخار بک جھک کر بھی نکال سکتاہے اور حاکم کے سامنے فریاد بھی لے جاسکتاہے۔انسان کے طبعی تقاضوں اور اضطراری یا نیم اضطراری ضرورتوں کا اس حدتک لحاظ بجز شریعت اسلامی کے اور کس نے کیا ہے؟)تفسیر ماجدی(

151۔ یعنی کافر ہونے میں وہ لوگ جو خدا کو مانتے ہیں نہ اس کے رسولوں کو، اور وہ جو خدا کو مانتے ہیں مگر رسولوں کو نہیں مانتے اور وہ جو کسی رسول کو مانتے ہیں اور کسی کو نہیں مانتے، سب یکساں ہیں۔ ان میں سے کسی کے کافر ہونے میں زرہ برابر شک کی گنجائش نہیں۔ (تفہیم القرآن) ۔۔۔۔۔ ا ْن آیات میں اہلِ کتاب کی جو فرد قراردادِ جرم بیان ہوئی ہے اس کے ہر جزو پر مفصل بحث پچھلی سورتوں میں گذر چکی ہے۔ البتہ اس کا موقع و محل وضاحت طلب ہے۔ اوپر آیت 144 کے تحت یہ بات گذر چکی ہے کہ  لَا تَتَّخِذُوا الۡكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآء میں کافرین سے مراد اہلِ کتاب ہیں۔اگرچہ اہلِ کتاب کا کفر بالکل واضع ہے لیکن حیلہ جو طبیعتیں جو ان سے ساز باز رکھنا چاہتی  تھیں، اپنے روابط ان  سے کاٹنے کے   لیے تیار نہ تھیں ، وہ اپنے اس رویے کو جائز ثابت کرنے کے لیے  یہ حیلہ شرعی تراشتی تھیں کہ اہلِ کتاب بہر حال اہلِ کتاب ہیں، ان کے اندر  دین کے نقطہ نظر سے کچھ خرابیاں ہو سکتی ہیں اور ہیں لیکن ان خرابیوں کی بنا پر ان کو بالکل کفار کی صف میں کھڑا کر دینا اور ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کرنا قرینِ انصاف نہیں ہے۔  قرآن نے انہی حیلہ بازوں  کے اس فریب کا ان آیات  میں پردہ چاک کیا ہے اور نہایت صراحت  کے ساتھ  بتایا ہےکہ پکے  کافر تو درحقیقت یہ اہلِ کتاب ہی ہیں، اس لیے کہ یہ اللہ اور رسول کے درمیان تفریق کرتے ہیں، جن کو خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے ان میں سے  جس کو چاہتے ہیں مانتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں نہیں مانتے۔ مطلب یہ ہے کہ  یہ خدا پر ایمان  اپنی شرائط پر لانا چاہتے ہیں نہ کہ خدا کی  شرائط پر، حالانکہ ایمان صرف وہ معتبر ہے جو خدا کی شرائط پر ہو۔ (تدبرِ قرآن)

۔ اسلام جس طرح غیر مسلموں  کے ساتھ رواداری اور حسنِ سلوک کی تعلیم  میں نہایت سخی اور فیاض ہے۔ اسی طرح وہ اپنی سرحد ات کی حفاظت میں نہایت  محتاط اور سخت بھی ہے۔ وہ غیر مسلموں کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی اور انتہائی رواداری کے ساتھ کفر اور رسومِ کفر سے پوری طرح اعلانِ برا     ت بھی کرتا ہے، مسلمانوں کو  غیر مسلموں سے الگ  ایک قوم بھی قرار دیتا ہےاور ان کے  قومی شعائر کی پوری طرح حفاظت  بھی کرتا ہے، وہ عبادت کی طرح مسلمانوں کی معاشرت کو بھی دوسروں سے ممتاز رکھنا چاہتا ہے، جس کی بے شمار مثالیں قرآن و سنت میں موجود ہیں۔ (معارف القرآن)
152۔ یہود کا ایمان لانے کیلئے نوشتہ کا مطالبہ :۔ مثل مشہور ہے"خوئے بدرابہانہ بسیار" اسی مثل کے مصداق یہود مدینہ نے آپؐ سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب آپؐ پر نازل ہوتو ہم اس پر ایمان لے آئیں گےجیساکہ موسیٰؑ پر تورات کی تختیاں نازل ہوئی تھیں۔ان کے اس مطالبہ کے اللہ نے مختلف مقامات پر کئی طرح سے جواب دیے ہیں ۔الزامی بھی اور تحقیقی بھی ۔الزامی جواب یہ ہے کہ سوال کرنا اور سوال کرتے جانا یہود کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ان پر آسمان سے تورات لکھی لکھائی نازل ہوئی تھی تو کیا یہ اس پر ایمان لے آئے تھے؟)تیسیر القرآن(


بائیسواں رکوع

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا 153 (اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا۔
وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا 154 اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاوز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا۔
 فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪   155 (لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں۔ (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔
وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ   156 اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر ایک بہتان عظیم باندھنے کے سبب۔
وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ   157 اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح کو جو خدا کے پیغمبر (کہلاتے) تھے قتل کردیا ہے (خدا نے ان کو ملعون کردیا) اور انہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور پیروئےظن کے سوا ان کو اس کا مطلق علم نہیں۔ اور انہوں نے عیسیٰ کو یقیناً قتل نہیں کیا۔
 بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا 158 بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور خدا غالب اور حکمت والا ہے۔
وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ ]الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ   159 اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔ اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔
 فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ   160 . تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان پر حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے رستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے۔
 وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا 161 اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے۔ اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
 لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠   ۧ ۧ  162 مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے۔

تفسیر آیات

۔ آگے اہلِ کتاب ۔۔ یہود اور نصاریٰ۔۔ کو تنبیہ ہے اور تنبیہ اتنی سخت اور شدید ہے کہ لفظ لفظ سے   جوشِ غضب ابلا پڑ رہا ہے۔ پوری تقریر از  ابتدا تا انتہا صرف فرد قرارداد جرائم پر مشتمل ہے اور  کلام کے جوش اور روانی کا یہ عالم ہے کہ بات شروع ہونے کے بعد یہ متعین کرنا  مشکل ہوتا ہے کہ ختم کہاں ہوئی۔ اس قسم کے پر جوش اور پر غضب کلام میں  عموماً خبر حذف ہو  جاتی ہے۔ گویا  متکلم کا جوش ہی خبر کا قائم مقام  بن جاتا ہے اور مبتدا ہی سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ متکلم کیا کہنا چاہتا ہے۔ (تدبرِ قرآن) 

153۔ آگے کی دس آیات میں تاریخ بنی اسرائیل کے جن واقعات کا حوالہ ہے وہ سور بقرہ(2)آیات 47 تا 96 میں بیان ہوچکے ہیں۔ یہاں ان کا حوالہ یہود و نصاریٰ کو تنبیہ کے لیے ہے اور تنبیہ اتنی سخت ہے کہ لفظ لفظ سے جوشِ غضب ابلا پڑرہاہے ۔یہ صرف جرائم کی فہرست ہے۔جملوں میں بکثرت حذف ہے۔ یہ اسلوب بیان متکلم کے زور بیان اور جوش،سامع کی ذہانت اور ہوش ،دعوے کی قوت اور فیصلہ کے ظاہر ہونے کو ظاہر کرتاہے۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

ــــ بنی اسرائیل کے خلاف فردِ جرم کا خلاصہ۔آیات:153 تا    158 ۔(ترجمہ،مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

معجزات موسیٰ:۔یہ واضح دلائل تھے۔عصائے موسیٰؑ ،یدبیضاء آل فرعون پر چچڑیوں ،جوؤں،مینڈکوں اور خون کا عذاب،جو سیدنا موسیٰؑ کی دعاسے دور کردیا جاتامگرپھر بھی وہ لوگ ایمان نہ لاتے۔جادوگروں کے مقابلہ میں سیدنا موسیٰؑ کی نمایاں کامیابی اور جادوگروں کا ایمان لانا، دریا کا پھٹنا اور اس میں فرعون و آل فرعون کا غرق ہونا،اور بنی اسرائیل کا فرعونیوں سے نجات پانا وغیرہ۔ غرض ایسے دلائل یا معجزات بے شمار تھے ۔انہیں دیکھ کر بھی جولوگ کماحقہ ،ایمان نہ لائے تھے۔اگر آپؐ پر کتاب اتار بھی دی جائےتو کیا یہ لوگ ایمان لائیں گے؟)تیسیر القرآن(

- محققین نے کہا ہے کہ آیت میں اس گروہ کا رد نکل رہاہے،جو وقوع رویت باری کا اسی دنیوی زندگی میں قائل ہے۔)تفسیر ماجدی(

155۔ بل طبع اللہ سے لیکر الا قلیلا تک جملہ معترضہ ہے ۔(تفہیم القرآن)

156- (کہ نعوذباللہ وہ بدوضع تھیں)بہتاناً عظیماً۔یہود کی کتابوں میں ایسی ایسی گندی روایتیں،اس پاک سرشت خاتون کی بابت لکھی ہوئی ہیں کہ ان صفحات پر بغرض ردبھی نقل ہونے کے قابل نہیں ،قرآن مجید نے اس سارے طومار خرافات کی طرف بہ کمال بلاغت بہتان اور بہتان عظیم لاکر اشارہ کردیا،یعنی یہ نہیں کہ الزام میں بڑے مبالغہ سے کام لیا ، بلکہ ایساالزام لگایا جس کی کوئی بنیاد ہی سرے سے نہ تھی۔۔۔ یہ حضرت مریم عمران کی صاحبزادی اور حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ ماجدہ تھیں،نکاح حسب روایت انجیل یوسف سے ہواتھا اور ولادتِ عیسیٰؑ تک صرف منگنی ہوئی تھی(متی۔1: 19، لوقا۔1: 27۔ 2: 4)یہ یوسف نجاری کا پیشہ اختیار کئے ہوئے تھے،اور میاں بیوی دونوں بڑے عابد و خدارسیدہ تھے،معاشرت یہود میں منگنی ہمارے ہاں عقد کی جگہ پر تھی اور ان کے ہاں نکاح ہمارے ہاں رخصتی کا مرادف تھا۔)تفسیر ماجدی(

157۔ ۔۔تاریخ کا بیان ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو سزائے موت اگر چہ رومی عدالت سے ملی اور وہی ملکی عدالت نفاذ سزا پر قادر تھی لیکن آپ کو سزا دلوانے میں اور آپ کیلئے سزائے موت کا حکم سنوانے میں ہاتھ تمام تریہودی کاکام کررہاتھا،اسی لئے قرآن مجید نے بھی جو تاریخ کی دقیق حقیقتوں کوبھی نظر انداز نہیں ہونے دیتا،بالکل صحیح طورپر آپ کے قتل یا اقدامِ قتل کی ذمہ داری یہودہی پر رکھی ،انجیلیں اتنے جزوپر متفق المعنی (بلکہ ایک حدتک متفق اللفظ)ہیں کہ رومی عدالت کا حاکم پیلاطیس آپ کو سزا دینا ہرگز نہیں چاہتاتھا،بلکہ اس سے برابر بچ رہاتھا،یہ یہودی تھے کہ جنہوں نے استغاثہ جھوٹا گھڑا ،گواہیاں جھوٹی فراہم کیں اور بلوہ و فساد کی دھمکی دے دے کر عدالت کو سزائے موت سنانے پر مجبور کردیا، انجیل متی کا ایک مختصر سا بیان ملاحظہ ہو:"۔۔۔۔جب پیلاطیس نے دیکھا کہ کچھ نہیں بن پڑتا،بلکہ اُلٹابلوہ ہواجاتاہے،تو پانی لے لے کر لوگوں کے روبرو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا کہ میں راست باز کے خون سے بری ہوں، تم جانو، سب لوگوں نے کہا کہ اس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر،اس پر اس نے برابا کو ان کی خاطر چھوڑدیا اور یسوع کو کوڑے لگواکر حوالہ کیا تاکہ صلیب دی جائے"(27: 24: 26)اس کی تائید دوسری انجیلیں بھی کرتی ہیں،بلکہ لوقا میں تو اتنی صریح اور زائد ہے کہ حاکم نے ملزم کو سزائے موت سے بچانے کی تین بار کوشش کی،لیکن یہود نے ہردفعہ اس کی بات کو رد کردیا۔(23: 22)یہ بیانات تو مسیحیوں کے تھے، خود یہود کی لکھی ہوئی جو قدیم ترین تاریخ عہد مسیح و ماقبل بعد کی دنیائے معلوم میں موجود ہے یعنی جوزیفس کی،اور جس کا ترجمہ (ANTIQUITIES: OF JEWISH) کے نام سے شائع ہوچکاہے ،اس میں اس واقعہ کو فخر کے ساتھ اپنی ہی جانب منسوب کیا ہے، انجیلوں میں بھی جو پیش گوئیاں حضر ت مسیح کی زبان سے اپنے ہلاک ہونے کی بابت منقول ہیں، ان میں بھی ساری ذمہ داری سرداران یہود ہی کے سرملتی ہے،اور رومیوں یا حاکموں کا ذکر نہیں آتا:"اس وقت سے یسوع  اپنے شاگردوں پر ظاہر کرنے لگاکہ مجھے ضرور ہے کہ یروشلم کو جاؤں اور بزرگوں اور سردار کاہنوں اور فقیہوں کی طرف سے بہت دکھ اٹھاؤں اور قتل کیا جاؤں"۔(متی۔ 16: 21)"پھر وہ انہیں تعلیم دینے لگا کہ ضرور ہے کہ ابن آدم بہت دکھ اٹھائے اور بزرگ اور سردار کاہن اور فقیہ اُسے ردکردیں،اور وہ قتل کیا جائے"(لوقا۔ 9: 22)

۔ بظاہر یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی قوم کسی شخص کو نبی جانتے اور مانتے ہوئے اسے قتل کر دے۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ بگڑی ہوئی قوموں کے انداز و اطوار ہوتے ہی کچھ عجیب ہیں ۔ وہ اپنے درمیان  کسی ایسے شخص کو  برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں جو ان کی برائیوں پر انھیں ٹوکے اور ناجائز کاموں سے ان کو روکے۔ ایسے لوگ چاہے وہ نبی ہی کیوں نہ ہوں، ہمیشہ بدکردار قوموں میں قید اور قتل کی سزا پاتے ہی رہے ہیں۔ تلمود میں لکھا ہے کہ بخت نصر  نے جب بیت المقدس فتح کیا تو وہ ہیکلِ سلیمانی میں داخل ہوا اور اس کی سیر کرنے لگا۔ عین قربان گاہ کے سامنے ایک جگہ دیوار پر اسے ایک تیر  کا نشان  نظر آیا۔ اس نے یہودیوں سے پوچھا یہ کیسا نشان ہے؟ انہوں نے کہا " یہاں ہم نے ذکریا نبی کو قتل کیا تھا۔ وہ ہماری برائیوں پر ہمیں ملامت کرتا تھا۔ آخر جب ہم ان کی ملامتوں سے تنگ آگئے تو ہم نے اسے مار ڈالا" بائبل میں یرمیاہ نبی کے متعلق لکھا ہے کہ جب بنی اسرائیل کی بد اخلاقیاں  حد سے گذر گئیں اور  حضرت یرمیاہ نے ان کو متنبہ کیا کہ ان اعمال کی پاداش میں خدا تم کو دوسری قوموں سے پامال کرا دے گا تو ان پر الزام لگایا گیا کہ یہ شخص کسدیوں (کلدانیوں) سے ملا ہوا ہے اور قوم کا غدار ہے۔ اس الزام میں ان کو جیل بھیج دیا گیا۔ خود حضرت مسیح کے واقعہ صلیب سے دو ڈھائی سال پہلے ہی حضرت یحٰی کا معاملہ پیش آچکا تھا۔ یہودی بالعموم ان کو نبی جانتے تھے اور کم از کم یہ تو مانتے ہی  تھے کہ وہ ان کی قوم کے صالح ترین  لوگوں میں سے ہیں۔ مگر جب انہوں نے ہیرو دیس (والی ریاست یہودیہ)  کے دربار کی برائیوں پر تنقید کی  تو اسے برداشت نہ کیا گیا۔ پہلے جیل بھیجے گئے اور پھر والی ریاست کی معشوقہ کے مطالبے پر ان کا سر قلم کر دیا گیا۔ یہودیوں کے اس ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کوئی حیرت  کی بات  نہیں ہے کہ انہون نے اپنے زعم میں مسیحؑ     کو سولی پر چڑھانے کے بعد سینے پر ہاتھ مار کر کہا ہو " ہم نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے۔ (تفہیم القرآن)

- ۔۔۔یا"وہ دھوکے میں ڈال دیے گئے"یا حقیقت ان پر مشتبہ ہوگئی۔یہ شبہ میں کون پڑگئے یا حقیقت کن پر مشتبہ و ملتبس ہوگئی؟ ظاہرہے کہ مراد وہی یہود یا اعدائے مسیح ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلاآرہاہے۔یا یوں کہا جائے کہ شبہ انہیں مقتول سے متعلق ہوا،اور وہ دھوکے میں اس کی شخصیت کے بارہ میں پڑگئے۔۔۔بہرحال اس پر ہمارے سارے مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہود کو دھوکا ہوا، اور وہ حضرت مسیحؑ کے دھوکے میں کسی اور کو سولی پر چڑھاگئے، لیکن یہ شخص کون تھا، اور دھوکے کی صورت کیا ہوئی،اس کا تصریحی جواب نہ قرآن مجید میں ہے نہ کسی حدیث صحیح میں، اب سوا اس کے چارہ نہیں رہتاکہ تاریخ کی روشنی میں واقعہ جزئیات کو ایک ایک کرکے لایاجائے،اس وقت کے پس منظر کو سامنے لے آیا جائے اور جو صورت واقعہ نسبۃً زیادہ قرین قیاس اور مطابق مقتضائے حال معلوم ہواسی کو ترجیحی طورپر اختیار کیا جائے۔پہلی بات اس سلسلہ میں یادرکھنے کے قابل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ یروشلم کے لوگوں سے ملتے جلتے کم تھے،نتیجہ یہ تھا کہ عوام تو عوام ، خواص بھی آپ کو پوری طرح پہچانتے نہ تھے،چنانچہ جب آپ کی گرفتاری کا وقتْ آیا تو اس کیلئے اکابر یہود اور متعدد سپاہیوں کا ایک پورا گروہ مل کر بھی اس ضرورت کیلئے کافی نہ ہوا،بلکہ آپ کی شناخت کیلئے آپ ہی کی مختصرسی پارٹی کے ایک منافق و غدار کو ساتھ لینا پڑا ،یہ ایک خالص تاریخی حقیقت ہے،لیکن امام رازی اس راز سے بھی واقف ہیں،فرماتے ہیں:۔ والناس ماکانوایعرفون المسیح الاباسم بانہ کان قلیل المخالطۃ للناس(کبیر)(تفسیر ماجدی)

۔  بعض  روایات میں ہے کہ یہودیوں نے ایک شخص طیطلانوس کو حضرت عیسیٰؑ کے قتل کے واسطے بھیجا تھا،  حضرت عیسیٰؑ تو مکان میں نہ ملے  ، اس لیے کہ ان کو اللہ تعالیٰ  نے اٹھا لیا تھا اور یہ شخص جب  گھر سے نکلا تو حضرت عیسیٰؑ کا ہمشکل بنا دیا گیا تھا، یہود یہ سمجھے کہ یہی عیسیٰؑ ہے اور اس اپنے ہی آدمی کو لیجا کر قتل کر دیا (مظہری)۔۔۔۔۔بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ کچھ لوگوں کو تنبہ ہوا تو انھوں نے کہا کہ ہم نے تو اپنے ہی آدمی کو قتل کر دیا ہے۔ اس لیے کہ یہ مقتول چہرے میں تو   حضرت مسیحؑ کےمشابہ  ہے لیکن باقی جسم  میں ان کی طرح نہیں اور یہ کہ اگر یہ مقتول  مسیحؑ ہیں تو ہمارا آدمی کہاں ہے اور اگر یہ ہمارا آدمی ہے تو مسیحؑ  کہاں ہیں۔ (معارف القرآن)

158۔ وما قتلوہ سے  عزیزا حکیما  تک جملہ معترضہ ہے۔ (تدبرِ قرآن)

۔ بلکہ یہ  جملہ معترضہ آیت 159 پر ختم ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔ واقعے کی جو روداد انجیلوں میں موجود ہے اس سے چند باتیں بالکل واضع  طور پر سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس  وقت ملک پر رومیوں کی حکومت تھی اور وہی تمام  سیاسی و تعزیزی اختیارات کے مالک تھے۔ دوسری یہ کہ رومی حکام اور پولیس کو  نہ صرف یہ کہ حضرت مسیحؑ کو سولی دینے سے کوئی دلچسپی نہ تھی بلکہ رومی حاکم پیلاطوس اور دوسرے حکام اس  ظلم کی ذمہ داری کسی طور پر بھی اپنے اوپر لینے کو تیارنہ تھے ۔ تیسری یہ کہ گرفتاری اور سزا کے وقت  کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں وہ ایسے ہنگامہ خیز ہیں  کہ ایسے حالات میں عوام کو ہر بات باور کرائی جا سکتی تھی اور وہ بڑی آسانی سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ مان سکتے تھے۔ چوتھے یہ کہ  سولی کے مزعومہ واقعے کے بعد بھی انجیلوں سے ثابت ہے کہ حضرت مسیحؑ کے شاگردوں نے ان کو دیکھا۔ پانچویں  یہ کہ سیدنا مسیحؑ کے وعظوں ، ان کے معجزوں اور ان کے کارناموں کی تو بڑی دھوم تھی لیکن اس وقت تک صورۃً  نہ وہ عوام میں اچھی طرح متعارف تھے اور نہ رومی حکام اور ان کی پولیس کے آدمی ہی ان کو پہچانتے تھے۔ چھٹی یہ کہ خود نصاریٰ میں بھی ایک جماعت شروع سے اس بات کی قائل رہی کہ  سولی حضرت مسیحؑ کو نہیں بلکہ ایک اور ہی شخص کو دی گئی لیکن مشہور یہ کر دیا گیا کہ انہی کو سولی دی گئی۔ ان تمام باتوں کے دلائل خود انجیلوں میں موجود ہیں اور نہایت آسانی سے ہم ان کو جمع  کر سکتے ہیں  لیکن اس سے بس اتنی ہی بات ثابت ہو گی جو قرآن نے بتا دی ہے کہ معاملہ ان کے لیے گھپلا کر دیا گیا۔ رہا یہ سوال کہ اس گھپلے کی شکل کیا ہوئی  تو اس باب میں جو کچھ بھی کہا جائے گا اس کی حیثیت ظن و گمان سے کچھ ذیادہ نہیں ہےاور ہم گمان کے پیچھے پڑنا پسند نہیں کرتے۔  (تدبرِ قرآن)

159۔ نزول عیسیٰؑ کے منکرین کی تاویل:۔بعض منکرین معجزات یہ کہتے ہیں کہ "وان من اھل الکتٰب الالیؤمن بہ قبل موتہ"میں موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف لوٹتی ہے ۔اس لحاظ سے وہ اس کا مطلب یہ  بتاتے ہیں کہ اہل کتاب اپنی موت کے وقت جبکہ غیب کے سب پردے ہٹ جاتے ہیں مرنے سے پیشتر ضرور عیسیٰؑ کی رسالت اور نبوت پر ایمان لے آئیں گے۔اس تاویل کے بعد وہ احادیث مندرجہ بالا کو ناقابل اعتماد قرار دے کر نزول مسیح سے انکار کردیتے ہیں۔یہ تاویل اس لحاظ سے غلط ہے کہ موت کے وقت غیب کے پردے ہٹ جانے سے تو بے شمار حقائق منکشف ہوجاتے ہیں اور یہود کو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ جن جن انبیاءؑ کو یہود نے جھوٹا سمجھ کر قتل کردیا تھا وہ سب سچے تھے پھر اس میں سیدنا عیسیٰؑ کی کیا تخصیص رہ گئی اور ان  کی کیا خصوصیت اور فوقیت ثابت ہوئی جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے؟ علاوہ ازیں ہمیں کوئی کمزور سے کمزور روایت بھی ایسی نہیں ملتی جو ان لوگوں کے اس نظریہ کی تائید کرتی ہو۔جبکہ نزول عیسیٰؑ سے متعلق اس قدر احادیث کتب احادیث میں موجود ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔(تیسیر القرآن) 

۔ قرآنِ کریم کی اس آیت  میں یہ بتلا دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اگرچہ اس  وقت حضرت عیسیٰؑ کی نبوت پر صحیح ایمان نہیں رکھتے، لیکن جب وہ قیامت کے قریب اس زمین پر پھر نازل ہونگے تو یہ سب اہلِ کتاب ان پر صحیح ایمان لے آئیں گے، نصاریٰ تو سب کے سب صحیح اعتقادات کے ساتھ مسلمان ہو جائیں گے۔ یہود میں جو مخالفت کریں گے قتل کر دیے جائیں گے ، باقی مسلمان ہو جائیں گے۔ اس وقت کفر اپنی تمام قسموں کے ساتھ دنیا سے فنا کر دیا جائے گا۔  اور اس زمین پر صرف اسلام ہی کی حکمرانی ہو گی۔ (معارف القرآن)

161۔ ذلت اور مسکنت:۔آج بھی دنیا میں سب سے بڑی سود خور، حرام خور اور مالدار قوم یہود ہی ہے لیکن اپنی اس مالداری کے باوجود یہود ہمیشہ پٹتے ہی رہے ہیں اور کہیں بھی امن کی زندگی بسر نہیں کرسکے ۔موجودہ دور میں جویہود کی حکومت اسرائیل میں قائم ہوئی ہے وہ بھی دوسری حکومتوں کی مدد سے قائم ہے اور انہی کے زیر سایہ چل رہی ہے اور ان کی اس غاصبانہ حکومت کو آج تک بیشتر ممالک نے تسلیم ہی نہیں کیا۔عذاب تو دنیا میں ملا۔اور آخرت میں تو بہرحال انہیں ان کی سب نافرمانیوں اور بدعہدیوں کی سزا مل کے ہی رہے گی۔(تیسیر القرآن)


تئیسواں رکوع

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ   163 (اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف بھی ہم نے وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی۔
وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ 164 اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں۔
 رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا 165 (سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے اور خدا غالب حکمت والا ہے۔
لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ   166 لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اس کی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں۔ اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے۔
 اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا  167 جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکا وہ رستے سے بھٹک کر دور جا پڑے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ 168 جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں رستہ ہی دکھائے گا۔
 اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا 169 . ہاں دوزخ کا رستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔
 یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا 170 لوگو! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں تو (ان پر) ایمان لاؤ (یہی) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر کفر کرو گے تو (جان رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خداہی کا ہے اور خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔
 یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠   ۧ 171 اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اور اس کا کلمہٴ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اوراس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور خدا ہی کارساز کافی ہے۔

تفسیر آیات

163۔ یہود زبور کو وحی الٰہی تسلیم کرتے ہیں حالانکہ وہ الواح تورات کی طرح یکبارگی نازل نہیں ہوئی تھی۔یہاں یہود کیلئے زبور کا ذکر بالخصوص اس لیے آیا ہے کہ تم اگر یکبارگی نازل نہ ہونے کے باوجود اسے وحی الٰہی مانتے ہوتو آخر قرآن کو وحی الٰہی ماننے سے کیا چیز مانع ہے۔یہ دراصل یہود کے مذکورہ مطالبہ کا ہی جواب ہے۔(تیسیر القرآن)

۔ حضرت ابو زر غفّاری سے روایت ہے کہ آنحضرتؐ  نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے ہیں جن میں سے تین سو تیرہ اصحابِ شریعت رسول تھے (قرطبی) (معارف القرآن)

۔ موجودہ بائبل میں زبور کے نام سے جو کتاب پائی جاتی ہےوہ ساری  کی ساری زبورِ داؤد نہیں ہے۔ ان میں بکثرت مزامیر دوسرے لوگوں کے بھی بھر دیے گئے ہیں اور وہ اپنے اپنے مصنفین کی طرف  منسوب ہیں۔ البتہ جن مزامیر پر  تصریح ہے کہ وہ حضرت داؤد کے ہیں ان کے اندر فی الواقع کلامِ حق کی روشنی محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح بائبل میں امثالِ سلیمان ؑ کے نام سے جو کتاب موجود ہے اس  میں بھی  اچھی خاصی آمیزش پائی جاتی ہے اور اس کے آخری دو باب تو صریحاً الحاقی ہیں مگر اس کے باوجود ان امثال کا بڑا حصہ صحیح و برحق محسوس ہو تا ہے۔ ان دو کتابوں کے ساتھ ایک اور کتاب حضرت ایوب ؑ  کے نام سے  بھی بائبل میں درج ہے، لیکن حکمت کے بہت سے جواہر اپنے اندر رکھنے کے باوجود  ، اسے پڑھتے ہوئے یہ یقین نہیں آتا کہ  واقعی حضرت ایوب کی طرف اس کتاب کی نسبت صحیح ہے۔ اس لیے کہ قرآن میں اور خود اس کتاب کی ابتدا میں  حضرت ایوبؑ کے جس صبرِ عظیم کی تعریف کی گئی ہے ، اس کے بالکل برعکس وہ ساری کتاب ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حضرت ایوبؑ اپنی مصیبت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کے خلاف سراپا شکایت بنے ہوئے تھے، حتیٰ کہ ان کے ہمنشیں ان کو اس امر پریقین دلانے کی کوشش کرتے تھے کہ خدا ظالم نہیں ہے ، مگر کسی طرح مان کر نہ دیتے تھے۔ ۔۔۔۔ان صحیفوں کے علاوہ بائبل میں انبیاء بنی اسرائیل کے  17 صحائف اور بھی درج  ہیں جن کا بیشتر حصہ صحیح معلوم ہوتا ہے خصوصاً  یسعاہ، یرمیاہ، حزقی ایل، عاموس اور بعض دوسرے صحیفوں میں تو بکثرت مقامات ایسے آتے  ہیں جنہیں پڑھ کر آدمی کی روح وجد کرنے لگتی ہے۔ ان میں الہامی   کلام کی شان صریح طور پر محسوس ہوتی ہے۔ ان کی اخلاقی تعلیم ، ان کا شرک کے خلاف جہاد، ان کا توحید کے حق میں  پر زور استدلال، اور ان کا بنی اسرائیل  کے   اخلاقی زوال پر سخت تنقیدیں پڑھتے وقت آدمی یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اناجیل میں حضرت مسیحؑ کی تقریریں  اور قرآن مجید اور یہ صحیفے ایک ہی سر چشمے سے نکلی ہوئی سوتیں ہیں۔  (تفہیم القرآن)

164۔ دوسرے انبیاء پر تو وحی اس طرح آتی تھی کہ ایک آواز آ رہی ہے یا فرشتہ پیغام سنا رہا ہے اور وہ سن رہے ہیں۔ لیکن موسیٰؑ کے ساتھ یہ خاص معاملہ برتا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان سے گفتگو کی۔ بندے اور خدا کے درمیان  اس طرح    باتیں ہوتی تھیں جیسے دو شخص آپس میں بات کرتے ہیں۔ مثال کے لیے اس گفتگو کا حوالہ کافی ہے جو سورۃ  طٰحٰہ میں نقل کی گئی ہے۔ بائبل میں بھی حضرت موسیٰؑ کی اس خصوصیت  کا ذکر اسی طرح کیا گیا ہے، چنانچہ لکھا ہے کہ " جیسے کوئی شخص اپنے دوست سے بات کرتا ہے ویسے ہی خداوند رو برو ہو کے موسیٰؑ سے باتیں کرتا تھا۔  (خروج 11:33) (تفہیم القرآن)

171۔ مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ یہود کا غلو احکامِ ظاہری میں تعمق تھا اور مسائل ِ باطن کی طرف سے اعراض تھا، اور مسیحیوں کا غلو مسائل باطن میں تعمق اور ظاہری کی طرف سے اعراض تھا، طریقِ حق ظاہر و باطن کو جمع کرناہے۔۔۔روح منہ۔ روح کا انتساب اللہ کی جانب محض اس کے شرف و عظمت کیلئے ہے، جیسے بیت اللہ یا نعمۃ من اللہ میں نسبت تشریفی و تعظیمی ہوتی ہے۔۔۔یہ مراد نہیں کہ صرف انہی میں اللہ کی روح تھی،کسی اور میں اللہ کی روح نہیں ہوتی،اللہ کی روح تو ہرفرد بسر میں ہے، وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ ۔قرآن مجید میں موقع تخصیص و امتیاز پر کبھی کسی کو عبدہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور کبھی کسی کو عبدنا سے، حالانکہ ظاہر ہے کہ اللہ کے عبد سب ہی ہیں۔۔۔اور اللہ کی روح سے تائید عامۂ مومنین کے حق میں بھی آئی ہے، ولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ(المجادلۃ، آیت 22)۔۔۔خواہ وہ تین اقنوم ہوں یا تین مستقل بالذات ہستیاں مسیحی تثلیث کا عقیدہ خود مسیحیوں کے الفاظ میں حسب ذیل ہے:۔"باپ بیٹے اور روح القدس کی الوہیت ایک ہی ہے، جلال برابر ،عظمتِ ازلی یکساں ، جیساباپ ہے ویسابیٹا اور ویساہی روح قدس ہے،باپ غیر مخلوق اور روح قدس غیر مخلوق ،باپ غیر محدود،بیٹا غیر محدود، اور روح قدس غیر محدود ،باپ ازلی، بیٹا ازلی اور روح قدس ازلی، تاہم تین ازلی نہیں بلکہ ایک ازلی ،اسی طرح تین غیر محدودنہیں ،اور نہ تین مخلوق ،بلکہ ایک غیر مخلوق اور ایک غیر محدود۔یوں ہی باپ قادر مطلق،اور روح قدس قادر مطلق ،تویہی تین قادر مطلق نہیں،بلکہ ایک قادر مطلق ہے، ویسا باپ خدا،بیٹاخدا،اور روح قدس خدا،بس یہی تین خدانہیں بلکہ ایک خدا" ایک طرف یہ گورکھ دھندا،اور دوسری طرف اسلام کا صاف و سادہ کلمہ لاالٰہ الا اللہ۔کوئی مناسبت بھی دونوں میں ہے؟۔۔۔مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ یہ آیت حلول و اتحاد کے بطلان صریح پر دلالت کرتا ہے جس کے قائل بعض جہلاء صوفیہ ہوئے ہیں۔۔۔۔واحد ہراعتبار سے اور اپنے ہرمعنی میں، نہ وہ ایک تین میں تقسیم ہے، نہ وہ ایک اپنے کو تین شکلوں میں ظاہر کرنے والاہے،نہ تریمورتی کی کوئی قسم بھی صحیح ہے۔نہ کوئی اس کا اوتار ،نہ  کوئی اس کا اقنوم ،نہ کوئی اس کا بروز،نہ وہ کسی میں حلول،وہ واحد عدد کے اعتبارسے بھی،اور ہردوسرے اعتبار سے بھی ،کیا ظاہراً کیا باطناً۔۔۔۔۔ثنویت تثلیث اور شرک مطلق کے عقیدے بہت قدیم ہی نہیں،بلکہ یونان، ایران ،مصر،ہند،عراق،چین وغیرہ دنیاکے اکثر ملکوں میں شائع رہ چکے ہیں ،آیت کا یہ جزو سارے ہی عقائد پر ضرب لگاتاہے۔(تفسیر ماجدی)


چوبیسواں رکوع

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا  172 مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندے ہوں اور نہ مقرب فرشتے (عار رکھتے ہیں) اور جو شخص خدا کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو خدا سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا۔
فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا  173 تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے وہ ان کو ان کا پورا بدلا دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا۔ اور جنہوں نے (بندہ ہونے سے) عاروانکار اور تکبر کیا ان کو تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔ اور یہ لوگ خدا کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا  174 لوگو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس دلیل (روشن) آچکی ہے اور ہم نے (کفر اور ضلالت کا اندھیرا دور کرنے کو) تمہاری طرف چمکتا ہوا نور بھیج دیا ہے۔
 فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ   175 پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اس (کے دین کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہے ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کے بہشتوں) میں داخل کرے گا۔ اور اپنی طرف (پہچنے کا) سیدھا رستہ دکھائے گا۔
 یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلٌَ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠   ۧ ۧ  176 (اے پیغمبر) لوگ تم سے (کلالہ کے بارے میں) حکم (خدا) دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ خدا کلالہ بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کے اولاد نہ ہو (اور نہ ماں باپ) اور اس کے بہن ہو تو اس کو بھائی کے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا۔ اور اگر بہن مرجائے اور اس کے اولاد نہ ہو تو اس کے تمام مال کا وارث بھائی ہوگا اور اگر (مرنے والے بھائی کی) دو بہنیں ہوں تو دونوں کو بھائی کے ترکے میں سے دو تہائی۔ اور اگر بھائی اور بہن یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ (یہ احکام) خدا تم سے اس لئے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

تفسیر آیات

172۔ مرشد تھانویؒ نے فرمایا کہ مراتب ِشرف میں عبدیت مرتبۂ اعلیٰ ہے۔۔۔بعض مفسرین نے اس آیت کے تحت میں انبیاء و ملائکہ کے درمیان تفاضل کی بحث چھیڑ دی ہے، اور ایک گروہ افضلیتِ ملائکہ کا قائل ہوگیاہے۔۔۔دوسرے گروہ نے فیصلہ افضلیتِ انبیاء کے حق میں دیا ہے۔۔۔بہ حیثیت مجموعی معتزلہ اور بعض اشاعرہ فریق اول کے ساتھ ہیں،اور جمہور اشاعرہ فریق دوم کے ساتھ۔۔۔لیکن انصاف کی عدالت کا فیصلہ یہ ہے کہ آیت زیربحث کو اس مسئلہ سے کوئی تعلق ہی نہیں، اور نہ اس مسئلہ میں مناظرہ سے کچھ حاصل ہی ہے ،جس میں قرآن و سنت دونوں خاموش ہیں۔(تفسیر ماجدی)

173۔ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ۔ولی اور نصیر میں فرق یہ ہے کہ ولی ایجابی طورپر ایصالِ نفع پر قادر ہوتاہے،اور نصیر سلبی طورپر دفع مضرت پر۔(تفسیر ماجدی)

174۔ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۔ اس برہان سے مرادرسول اللہ ؐ کی ذات اقدس ہے، جن کی سیرت پاک اور تعلیم کی جامعیت نے ہر مشکل کو آسان اورہر پتھرکو پانی بنادیا ہے۔(تفسیر ماجدی)

175-اسی سے تارکینِ ایمان و اعمال ِصالحہ کی حالت معلوم ہوگئی کہ ان کو یہ ثمرات نہ ملیں گے(تھانویؒ)(تفسیر ماجدی)

176۔ یہ آیت آپؐ کی زندگی کے آخری ایام میں نازل ہوئی جس وقت سورۂ نساء مکمل ہوچکی تھی۔اس میں کلالہ کی میراث کے ایک دوسرے پہلو کا ذکر ہے جس کے متعلق صحابہ کرامؓ نے آپؐ سے استفسار کیا تھا ۔چونکہ کلالہ کی میراث کا حکم اسی سورہ کی آیت نمبر 12 میں مذکور ہے اور باقی احکام میراث بھی اسی سورہ کی آیت نمبر 11،12 میں بیان ہوئے ہیں۔اس لیے اس آیت کو بھی بطور تتمہ اسی سورہ کے آخر میں شامل کیا گیا ۔واضح رہے کہ کسی بھی سورہ کی آیات میں ربط اور ان کی ترتیب توقیفی ہے۔یعنی رسول اللہؐ نے وحی الٰہی کی روشنی میں سب آیات کو اپنے مناسب مقام پر رکھا ہے۔(تیسیر القرآن)

۔ کلالہ کی میراث کی تقسیم:۔ اولاد  تین قسم کی ہوتی ہے(1)عینی یا حقیقی یا سگے بہن بھائی جن کے ماں اور باپ ایک ہوں(2)علاتی یا سوتیلے جن کا باپ تو ایک ہو اور مائیں الگ الگ ہوں۔(3)اخیافی یا ماں جائے۔جن کی ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہوں ۔اسی سورہ کی آیت نمبر 12 میں جوکلالہ کی میراث کے احکام بیان ہوئے تھے وہ اخیافی بہن بھائیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جو اس آیت نمبر 176 میں بیان ہورہے ہیں یہ حقیقی یا سوتیلے بہن بھائیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔کلالہ کی میراث کی تقسیم میں دوباتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، ایک یہ کہ اگر کلالہ  کے حقیقی بہن بھائی بھی موجود ہوں اور سوتیلے بھی تو حقیقی بہن بھائیوں کی موجودگی میں سوتیلے محروم رہیں گے اور اگر حقیقی نہ ہوں تو پھر سوتیلوں میں جائیداد تقسیم ہوگی۔اور دوسرے یہ کہ کلالہ کے بہن بھائیوں میں تقسیم میراث کی بالکل وہی صورت ہوگی جو اولاد کی صورت میں ہوتی ہے۔یعنی اگر صرف ایک بہن ہو تو آدھا حصہ ملے گا ۔دوہوں یا دوسے زیادہ بہنیں ہوں تو ان کو دوتہائی ملے گا اور اگر صرف بھائی ہی ہو تو تمام ترکہ کا واحد وارث ہوگا اور اگر بہن بھائی ملے جلے ہوں تو ان میں سے ہر مرد کو 2 حصے اور ہر عورت کو ایک حصہ ملے گا۔کلالہ اس مرد یا عورت کو کہتے ہیں جس کی نہ اولاد ہو اور نہ ماں باپ،بلکہ آباء کی جانب سے کوئی رشتہ دار موجود نہ ہو۔اب کلالہ کی بھی دوصورتیں ہیں ۔ایک یہ کہ عورت ہو اور اس کاخاوند بھی موجود نہ ہو یا مرد ہو اور اس کی بیوی بھی نہ ہو۔اور دوسری یہ کہ میت مرد ہواور اس کی بیوی موجود ہو۔یا میت عورت ہو اور اس کا خاوند موجود ہو۔دوسری صورت میں زوجین بھی وراثت میں مقررہ حصہ کے حقدار ہونگے ۔مثلاً کلالہ عورت ہے جس کا خاوند موجود ہے اور اس کی ایک بہن بھی زندہ ہے تو آدھا حصہ خاوند اور آدھا بہن کو مل جائے گا۔اور اگر بہنیں دو یا دوسے زیادہ ہوں تو پھر عول کے طریقہ پر کل جائیدادکے بجائے سات حصے کرکے تین حصے خاوند کو اور چار حصے بہنوں کو مل جائیں گے اور اگر بہن بھائی ملے جلے ہیں تو حسب قاعدہ للذکر مثل حظ الانثیین۔آدھی میراث ان میں تقسیم ہوگی۔اب سوال یہ ہے کہ اگر پہلی صورت یعنی کلالہ عورت کا خاوند بھی نہ ہو یا مرد کی بیوی بھی نہ ہو اور اس کی صرف ایک بہن ہو تو آدھا تو اس کو مل گیا۔باقی آدھا کسے ملے گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ آدھا     ر دکے طورپر بہن کو بھی دیا جاسکتاہے اور ذوی الارحام(یعنی ایسے رشتہ دار جو ذوی الفروض ہوں اور نہ عصبہ)یعنی دور کے رشتہ داروں مثلاً ماموں،پھوپھی وغیرہ یا ان کی اولاد موجود ہو تو انہیں ملے گا۔اور اگر وہ بھی نہ ہوں تو بقایا آدھا حصہ بیت المال میں بھی جمع کرایا جاسکتا ہے اور ایسے حالات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں۔(تیسیر القرآن)

پہلی  منزل کا   اختتام: الحمد للہ