40 - سورة غافر (مکیہ)
| رکوع - 9 | آیات - 85 |
مضمون: مصلحتوں سے بے پروا ہوکر دعوت توحید کی سربلندی کے لیے اٹھ کھڑے ہونے والوں کی نصرت و حمایت اللہ کے ذمہ ہے۔مستکبرین لازماً نامراد ہونے والے ہیں۔(ترجمہ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: آفاقی ،عقلی اور تاریخی دلائل پر غور کرنے ،فضول بحث و تکرار سے بچنے اور اقتدار و آثار کے نشہ سے نکلنے کی دعوت اور قرآن کی دعوتِ توحید و آخرت کو قبول کرلینے کا مشورہ۔سورۂ زمر سے سورۂ شوریٰ تک چار سورتیں توحید ِ عملی کی بہترین تعلیم ،دعا، عبادت اور اطاعت صرف اللہ کیلئے (مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ)
سورۂ المؤمن کا دوسرا نام سورۂ غافر ہے۔یہ"حوامیم "کے سلسلے کی پہلی سورت ہے۔(قرآنی سورتوں کا نظم جلی)
حوامیم: سورۂ مومن سے سورۂ احقاف تک(سورۂ مومن، السجدہ،الشوریٰ،الزخرف، الدخان، الجاثیہ اور الاحقاف) سات سورتیں حٰم سے شروع ہوتی ہیں اس لئے انہیں حوامیم یا آل حٰم کہاجاتاہے۔حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا کہ آل حٰم دیباج القرآن ہیں(دیباج ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں)مسعر بن کدام فرماتے ہیں کہ ان کو عرائس کہاجاتاہے یعنی دلہنیں۔حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا کہ ہرچیز کا ایک مغز یا خلاصۃ ہوتاہے ۔قرآن کا خلاصہ آل حٰم ہیں (امام عالم ابو عبید قاسمؒ فی فضائل القرآن )۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ جب میں تلاوت کرتے ہوئے آل حٰم پر آتاہوں تو میری بڑی تفریح ہوتی ہے۔(معارف القرآن)
نام: اس سورۂ کی آیت نمبر28 میں اس بندہ مومن کا تذکرہ ہے جو فرعون کی قوم میں سے تھا اور دربار میں اعلیٰ منصب پر فائز تھا۔دل سے موسیٰؑ پر ایمان لے آیاتھا مگر اظہار کئے بغیر دربار بادشاہی میں ان کے قتل کی سازش پر پکار اٹھا کہ کیا تم ایک شخص کو محض اس وجہ سے قتل کرنا چاہتے ہوکہ وہ کہتاہے کہ میرا رب اللہ ہے ۔جبکہ وہ تمہارے پاس روشن نشانیاں لے کر آیا ہے۔ فرعون کے دربار میں یہ پہلی نوائے حق تھی جس نے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔پورے قرآن میں کسی نبی کی بھی اتنی طویل تقریر نقل نہیں ہوئی جتنی طویل تقریر اس مردمومن کی۔
شانِ نزول : سورۂ مومن ،سورۂ الزمرکے بعد رسول اللہؐ کے قیامِ مکہ کے تیسرے دور (6 تا 10 نبوی) کے بالکل آخر میں غالباً 10 سن نبوی میں نازل ہوئی جب قریش ِ مکہ شدتِ مخالفت کے ساتھ آپکی دعوت کے بارے میں بدستور شک میں مبتلا تھے۔ فرعون نے جب حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو ایک مومن شخص نے اسے روکاتھا۔ قریش کو یہ واقعہ سناکر رسول اللہ ؐ کے ساتھ ان کے رویوں کا آئینہ دکھا یا گیا۔
نظمِ کلام: سورۂ سبا
ترتیبِ مطالعۂ اور خلاصۂ مضامین: (i)ر۔1(مخالفین ِ قرآن کا انجام اور اللہ کی قدرتوں کا بیان) (ii) ر۔2(روزِِ جزا کا منظر) (iii) ر۔3(حضرت موسیٰ اور فرعون) (iv)ر۔4/5(دربارِ فرعون میں مردمومن کی آواز حق اور فرعون کا انجام) (v)ر۔ 6(رسول اور اہل ایمان کی مدد برحق ہے) (vi) ر۔7(آیات الٰھی اور دعوت توحید کی ہدائت) (vii) ر۔8 (آفاقی اور تاریخی دلائل کی روشنی میں قرآن کی دعوت) (viii) ر۔9 (خاتمہ کلام۔ آیات: 4۔5 اور آیت: 21 کی روشنی میں)
پہلی تین آیات (صفاتِ باری تعالیٰ ،مرکبات کی صورت میں) صفاتِ الٰہی ۔معرفت الٰہی کا بہترین ذریعہ۔
پہلا رکوع |
| پبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ حٰمٓۚ ﴿1﴾ تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ ﴿2﴾ غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ ﴿3﴾ مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ ﴿4﴾ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ ﴿5﴾ وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘ ؔ ﴿6﴾ اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ﴿7﴾ رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ ﴿8﴾ وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ ۧ ۧ ﴿9ع غافر 40﴾ |
| 1. حٰم۔ 2. اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب ودانا کی طرف سے ہے۔ 3. جو گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے اور سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف پھر کر جانا ہے۔ 4. خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔ تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ 5. ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور اُمتوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی۔ اور ہر اُمت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی قصد کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور بیہودہ (شہبات سے) جھگڑتے رہے کہ اس سے حق کو زائل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا (سو دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا۔ 6. اور اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمہارے پروردگار کی بات پوری ہوچکی ہے کہ وہ اہل دوزخ ہیں۔ 7. جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور مومنوں کے لئے بخشش مانگتے رہتے ہیں۔ کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے رستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ 8. اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کے بہشتوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے۔ 9. اور ان کو عذابوں سے بچائے رکھ۔ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بےشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ |
تفسیر آیات
1۔ حروف مقطعات پر حاشیہ سورۃ البقرہ میں گزرچکا۔حٰم کے تین معنی ابن عباسؓ سے نقل ہوئے ہیں: ایک یہ کہ اللہ کا اسم اعظم یہی ہے۔دوسرا یہ کہ یہ قسم کے معنی میں ہے،تیسرا یہ کہ یہ الرحمٰن کا مخفف ہے،اور یہی قول زجاج لغوی کا بھی ہے (روح)سعید بن جبیرؒ اور عطاء خراسانی سے مروی ہے کہ ح مخفف ہے اسمائے حکیم،حمید، حی،حلیم،حنان کا اور م مخفف ہے اسمائے الٰہی ملک، مجید، منّان کا(معالم،ج4/ص:104) (تفسیر ماجدی)
3۔ قرآن مجید کے نازل کرنے والے کے اتنے اسمائے صفاتی قرآن کے اندر یکجا کہیں اور موجود نہیں بجز سورۂ حشر کے آخر کے۔ہر صفت بجائے خود بھی قابل غور ہے، اور کسی نہ کسی شرکیہ عقیدے کی اصلاح کرنے والی بھی۔۔۔۔۔ایک معتزلی کا یہ قول نقل کر کے کہ ان دونوں صفات کا ذکر عطف کے ساتھ اس لیے آیا ہے کہ ذنب (گناہ) توبہ کے بعد ہی معاف ہوتے ہیں۔ صاحب بحر لکھتے ہیں کہ یہ مغالطہ اعتزالی ہے، مذہب اہل سنت یہ ہے کہ ہرگناہ بجز شرک کے، بلاتوبہ بھی اللہ معاف کرسکتاہے۔ شَدِیْدِ الْعِقَابِ۔حسب ضرورت و مصلحت سزا بھی شدید ترین دے سکتاہے ۔بے حس و جامد نہیں۔(تفسیر ماجدی)
۔ ان پانچ صفات کے بعد دو حقیقتیں واشگاف طریقہ سے بیان کردی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ معبود فی الحقیقت اس کے سوا کوئی نہیں ہے، خواہ لوگوں نے کتنے ہی دوسرے جھوٹے معبود بنا رکھے ہوں۔ دوسری یہ کہ جانا سب کو آخر کار اسی کی طرف ہے۔ (تفہیم القرآن)
4۔ جھگڑا کرنے سے مراد ہے کج بحثیاں کرنا۔ مین میخ نکالنا۔ الٹے سیدھے اعتراضات جڑنا۔ سیاق وسباق سے الگ کر کے کوئی ایک لفظ یا فقرہ لے اڑانا اور اس سے طرح طرح کے نکتے پیدا کر کے شبہات و الزامات کی عمارتیں کھڑی کرنا۔ کلام کے اصل مدعا کو نظر انداز کر کے اس کو غلط معنی پہنانا تاکہ آدمی نہ خود بات کو سمجھے نہ دوسروں کو سمجھنے دے۔ یہ طرز اختلاف لازماً صرف وہی لوگ اختیار کرتے ہیں جن کا اختلاف بد نیتی پر مبنی ہوتا ہے۔۔۔۔۔" کفر " کا لفظ یہاں دو معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک کفران نعمت۔ دوسرے انکار حق۔ (تفہیم القرآن)
6۔ ’ كَلِمَتُ رَبِّ‘ سے وہی کلمۃ العذاب مراد ہے جس کا ذکر سورة زمر کی آیت 71 میں گزر چکا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ کلی فیصلہ جس سے اس نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں آگاہ فرما دیا تھا کہ جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کریں گے، اللہ ان سب کو جہنم میں بھر دے گا۔ (تدبرِ قرآن)
7۔ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ۔ اس پر سوال یہ پیدا ہواہے کہ جب فرشتوں کے حامل عرش ہونے پر دونوں کی تسبیح و حمد کا ذکرآہی چکا تھا،تو پھر اب ان کے ایمان کی تصریح کی کیا حاجت تھی؟ زمخشری صاحبِ کشاف نے کہا ہے کہ یہ ایمان ملائکہ کا تذکرہ موقع مدح پر آیا ہے ،لیکن حاملانِ عرش اگر مشاہدۂ حضرت حق کے بعد ایمان رکھتے ہوتے تو اس میں کوئی بات خاص مدح و تحسین کی نہ تھی۔یہ تو ایسا ہی تھا ،جیساکوئی دن دہاڑے آفتاب روشن کو دیکھ کر اس کے وجود کا قائل ہو۔مدح کی توجیہ بھی یہی ہے کہ رویت و مشاہدہ ان ملائکہ کو بھی نصیب نہیں، اور ان کا ایمان تمام تر دلائل و شواہد پر مبنی ہے۔امام رازیؒ اس قول کو نقل کرنے کے بعد کمال فراخ دلی سے لکھتے ہیں:۔ "اللہ صاحب کشاف پر رحمت کرے،اپنی کتاب میں اس ایک نکتہ کے سوااور کچھ نہ لکھتے ،جب بھی ان کے فخر و شرف کے لیے کافی تھا۔"(تفسیر ماجدی)
8۔ جہنم کے عذاب سے بچ جانا بھی بڑی کامیابی ہے:۔ اگر چہ دوزخ کے عذاب سے بچ جانابھی بہت بڑی کامیابی ہے اور یہ خالصتاً اللہ کی مہربانی اور اس کے فضل سے ہوگا۔ تاہم اگر اللہ تعالیٰ دوزخ سے بچاکر اپنی جنت میں بھی داخل کردے تو یہ اللہ تعالیٰ کا دوسرا بڑا انعام اور اس کی مہربانی ہوگی۔ واضح رہے کہ دوزخ کے عذاب سے بچ جانے کا یہ لازمی نتیجہ نہیں کہ اسے جنت میں داخلہ بھی مل جائے۔اصحابِ اعراف دوزخ کے عذاب سے تو بچالئے جائیں گے۔لیکن وہ جنت اور دوزخ کے ایک درمیانی مقام اعراف میں ہوں گے اور وہ اس بات کے منتظر بیٹھے ہوں گے کہ کب ان پر اللہ کی مہربانی ہوتی ہے اور انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت ملتی ہے۔(تیسیر القرآن)
9۔ روزِ محشر کی برائیوں سے مراد اس دن کی ہولناکیاں، انتہائی تپش اور شدت پیاس، اپنےمحاسبہ کا خوف، مجرمین کی برسرِ عام رسوائی وغیرہ ہیں۔(تیسیر القرآن)
دوسرا رکوع |
| اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ ﴿10﴾ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ ﴿11﴾ ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ ﴿12﴾ هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ ﴿13﴾ فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ﴿14﴾ رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ ﴿15﴾ یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ﴿16﴾ اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ﴿17﴾ وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ ﴿18﴾ یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ ﴿19﴾ وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ ۧ ۧ ﴿20ع غافر 40﴾ |
| 10. جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور مانتے نہیں تھے تو خدا اس سے کہیں زیادہ بیزار ہوتا تھا جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو۔ 11. وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی۔ ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟ 12. یہ اس لئے کہ جب تنہا خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے۔ اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے تو حکم تو خدا ہی کا ہے جو (سب سے) اوپر اور (سب سے) بڑا ہے۔ 13. وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اُتارتا ہے۔ اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے۔ 14. تو خدا کی عبادت کو خالص کر کر اُسی کو پکارو اگرچہ کافر برا ہی مانیں۔ 15. مالک درجات عالی اور صاحب عرش ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈراوے۔ 16. جس روز وہ نکل پڑیں گے ان کی کوئی چیز خدا سے مخفی نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہت ہے؟ خدا کی جو اکیلا اور غالب ہے۔ 17. آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ آج (کسی کے حق میں) بےانصافی نہیں ہوگی۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے۔ 18. اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے۔ (اور) ظالموں کا کوئی دوست نہ ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے۔ 19. وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)۔ 20. اور خدا سچائی کے ساتھ حکم فرماتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے۔ بےشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔ |
تفسیر آیات
11۔ 'دوبار موت ' سے ایک تو وہ حالت موت مراد ہے جو اس دنیا میں وجود پذیر ہونے سے پہلے انسان پر طاری ہوتی ہے اور دوسری وہ موت ہے جس سے ہر زندہ کو لازماً دوچار ہونا پڑتا ہے۔اسی طرح زندگی ایک تو وہ ہے جو اس دنیامیں حاصل ہے اور دوسری وہ جو قیامت میں حاصل ہوگی۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
۔ دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی سے مراد و ہی چیز ہے جس کا ذکر سورة بقرہ، آیت 28 میں کیا گیا ہے کہ تم خدا کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو جبکہ تم بےجان تھے، اس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہ تمہیں موت دے گا اور پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ کفار ان میں سے پہلی تین حالتوں کا تو انکار نہیں کرتے، کیونکہ وہ مشاہدے میں آتی ہیں اور اس بنا پر ناقابل انکار ہیں، مگر آخری حالت پیش آنے کا انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے مشاہدے میں ابھی تک نہیں آئی ہے۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
13۔ رزق سے مراد یہاں بارش ہے، کیونکہ انسان کو جتنی اقسام کے رزق بھی دنیا میں ملتے ہیں ان سب کا مدار آخر کار بارش پر ہے۔(تفہیم القرآن)
15۔(روح کے مختلف معانی کے لئے دیکھئے سورہ النحل کی آیت نمبر 2 کا حاشیہ نمبر 3)مطلب یہ ہے کہ اللہ کو اپنے کسی بندے پر وحی بھیجنے کے سلسلے میں تمہارے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں ہے۔نہ ہی تم وحی کے ٹھیکیدار ہو کہ تمہاری مرضی کے خلاف اللہ تعالیٰ کسی کی طرف وحی نہ بھیج سکے۔وہ خالصتاً اپنی مرضی اور اپنی صوابدید کے مطابق جس پر چاہتاہے اپنی وحی نازل فرماتاہے۔(تیسیر القرآن)
۔ ابن کثیر کی تحقیق اس آیت کے متعلق یہ بھی ہے کہ یہ پچاس ہزار سال کی مقدار اس مسافت کا بیان ہے جو ساتویں زمین سے عرش تک ہے اور اسی کو سلف وخلف کی بڑی جماعت کے نزدیک راحج قرار دیا ہے۔ اور بیان کیا ہے کہ بہت سے علماء کے نزدیک عرش رحمٰن ایک یاقوت سرخ سے بنا ہے جس کا قطر اتنا بڑا ہے کہ وہ پچاس ہزار سال کی مسافت ہے۔ اس طرح اس کا ارتفاع ساتویں زمین سے پچاس ہزار سال تک کی مسافت تک ہے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ رفیع الدرجات بمعنے رافع الدر جات ہے یعنی اللہ تعالیٰ مومنین متقین کے درجات کو بلند فرمانے والا ہے جیسا کہ قرآن کی آیات اس پر شاہد ہیں (آیت) نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ اور هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ۔ (معارف القرآن)
ــــ وحی کو روح سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح روح سے جسم کو زندگی حاصل ہوتی ہے ،اسی طرح وحی سے انسان کی عقل اور اس کے دل کو زندگی ،حرارت اور روشنی حاصل ہوتی ہے۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)
16۔۔۔ابو وائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے، کہ تمام آدمی ایک صاف زمین پر جمع کئے جائیں گے جس پر کسی نے کوئی گناہ نہیں کیا ہوگا۔ اس وقت ایک منادی کو حکم ہوگا جو یہ ندا کرے گا لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ یعنی آج کے دن ملک کس کا ہے۔ اس پر تمام مخلوقات مومنین و کافرین یہ جواب دیں گے کہ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۔ مومن تو اپنے اعتقاد کے مطابق خوشی و تلذذ کی صورت میں کہیں گے اور کافر مجبور و عاجز ہونے کی بنا پر رنج و غم کے ساتھ اس کا اقرار کریں گے۔۔۔۔۔۔لیکن دوسری بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ارشاد حق تعالیٰ خود ہی اس وقت فرمائیں گے جبکہ نفخہ اولیٰ کے بعد ساری مخلوقات فنا ہوجاویں گی۔ اور سوائے ذات حق سبحانہ و تعالیٰ کے کوئی نہ ہوگا اس وقت حق تعالیٰ فرمائے گا لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ۔ اور چونکہ اس وقت جواب دینے والا کوئی نہ ہوگا تو خود ہی جواب دیں گے لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ۔ (معارف القرآن)
۔ یعنی دنیا میں تو بہت سے برخود غلط لوگ اپنی بادشاہی و جباری کے ڈنکے پیٹتے رہے اور بہت سے احمق ان کی بادشاہیاں اور کبریائیاں مانتے رہے، اب بتاؤ کہ بادشاہی فی الواقع کس کی ہے۔ اس موقع پر تاریخ کا یہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ سامانی خاندان کا فرمانروا انصر بن احمد 301-331 ھ جب نیشاپور میں داخل ہوا تو اس نے ایک دربار منعقد کیا اور تخت پر بیٹھنے کے بعد فرمائش کی کہ کاروائی کا افتتاح قرآن مجید کی تلاوت سے ہو۔ یہ سن کر ایک بزرگ آگے بڑھے اور انہوں نے یہی رکوع تلاوت کیا۔ جس وقت وہ اس آیت پر پہنچے تو نصر پر ہیبت طاری ہوگئی۔ لرزتا ہوا تخت سے اترا، تاج سر سے اتار کر سجدے میں گرگیا اور بولا اے رب، بادشاہی تیری ہی ہے نہ کہ میری۔ (تفہیم القرآن)
17۔ ظلم کی ممکنہ صورتیں:۔ ظلم کی کئی صورتیں ممکن ہیں۔ مثلاً پہلی یہ کہ کسی نے ظلم نہ کیا ہو لیکن اسے خواہ مخواہ سزادے دی جائے ۔ دوسری یہ کہ جرم تو تھوڑا ہو مگر اسے سزا زیادہ دے دی جائے۔ تیسری یہ کہ آدمی مستحق تو اجر کا ہوگا مگر اسے سزا دے دی جائے۔چوتھی یہ کہ جرم تو زید نے کیا ہو مگر اس کی سزا بکر کو دے دی جائے۔ پانچویں یہ کہ آدمی جتنے اجر کا مستحق ہوا سے اس سے کم دیا جائے۔چھٹی یہ کہ آدمی سزا کا مستحق ہو مگر اسے سزا نہ دی جائےاور مظلوم منہ دیکھتا رہ جائے۔غرضیکہ ظلم کی جتنی بھی صورتیں ممکن ہیں ان میں کسی بھی صورت کا ظلم اللہ کی عدالت میں ہونے نہ پائے گا۔(تیسیر القرآن)
18۔آزف کا لغوی مفہوم:۔ اٰزِفَة۔آزف میں وقت کی تنگی کا مفہوم پایا جاتاہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ گاڑی یا جہاز کے روانہ ہونے میں وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ لہذا جلدی کرو۔اسی طرح قیامت کا دن جو یقینی طورپر آنے والا ہے اسے بس آیا ہی سمجھو اور اس کے لئے جو کچھ سامان کرنا ہے جلدی جلدی کرلو۔۔۔۔۔کظم کا لغوی مفہوم:۔ كٰظِمِیْنَ ۔کظم سانس کی نالی کو کہتے ہیں اور کظم السقاء بمعنی مشک کو پانی سے لبالب بھر کر اس کا منہ بندکردینا ہے اور کاظم، کظیم اور مکظوم اس شخص کو کہتے ہیں جو غم و غصہ سے سانس کی نالی تک بھرا ہواہو مگر اس کا اظہار نہ کرے اور اسے دباجائے۔یعنی مجرموں کو اپنی دنیا کی زندگی کی کرتوتوں پر اس قدر غم ہوگا جس کی گھبراہٹ کی وجہ سے ان کے کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے۔(تیسیر القرآن)
۔ یہ بات برسبیل تنزل، کفار کے عقیدہ شفاعت کی تردید کرتے ہوئے فرمائی گئی ہے۔ حقیقت میں تو وہاں ظالموں کا کوئی شفیع سرے سے ہوگا ہی نہیں، کیونکہ شفاعت کی اجازت اگر مل بھی سکتی ہے تو اللہ کے نیک بندوں کو مل سکتی ہے، اور اللہ کے نیک بندے کبھی کافروں اور مشرکوں اور فساق و فجار کے دوست نہیں ہو سکتے کہ وہ انہیں بچانے کے لیے سفارش کا خیال بھی کریں۔ لیکن چونکہ کفار و مشرکین اور گمراہ لوگوں کا بالعموم یہ عقیدہ رہا ہے، اور آج بھی ہے، کہ ہم جن بزرگوں کے دامن گرفتہ ہیں وہ کبھی ہمیں دوزخ میں نہ جانے دیں گے بلکہ اڑ کر کھڑے ہوجائیں گے اور بخشوا کر ہی چھوڑیں گے، اس لیے فرمایا گیا کہ وہاں ایسا شفیع کوئی بھی نہ ہوگا جس کی بات مانی جائے اور جس کی سفارش اللہ کو لازماً قبول ہی کرنی پڑے۔ (تفہیم القرآن)
تیسرا رکوع |
| اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ ﴿21﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ﴿22﴾ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ ﴿23﴾ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ ﴿24﴾ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ ﴿25﴾ وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ ﴿26﴾ وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ ۧ ۧ ﴿27ع غافر 40﴾ |
| 21. کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا۔ 22. یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے سو خدا نے ان کو پکڑ لیا۔ بےشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے۔ 23. اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا۔ 24. (یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا۔ 25. غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں۔ 26. اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلالے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو نہ بدل دے یا ملک میں فساد (نہ) پیدا کردے۔ 27. موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے دن (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا۔ اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں۔ |
تفسیر آیات
23۔ سلطان کامطلب :۔ سُلْطٰن کا معنی ایسی دلیل ہے جو سندیا دستاویز کی حیثیت رکھتی ہو اور جس سے واضح طورپر یہ معلوم ہوتاہو کہ یہ شخص جو کچھ کررہاہے وہ صرف اپنی ہی نہیں کسی دوسری قوت کے بل بوتے پر کررہاہے۔۔۔۔ایسی تمام باتوں سے صاف واضح ہوتاتھا کہ سیدنا موسیٰؑ کی پشت پر کوئی غیبی طاقت موجود ہے۔جس سے فرعون اور اس کے سب درباری خائف تھے اور یہی سلطان مبین کا مطلب ہے۔(تیسیر القرآن)
25۔ سورة اعراف، آیت 128 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ فرعون کے درباریوں نے اس سے کہا تھا کہ آخر موسیٰ ؑ کو کھلی چھٹی کب تک دی جائے ْگی، اور اس نے کہا تھا کہ میں عنقریب بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دینے کا حکم دینے والا ہوں (تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 93) ۔ اب یہ آیت بتاتی ہے کہ فرعون کے ہاں سے آخر کار یہ حکم جاری کردیا گیا۔ اس سے مقصود یہ تھا کہ حضرت موسیٰ کے حامیوں اور پیروؤں کو اتنا خوف زدہ کردیا جائے کہ وہ ڈر کے مارے ان کا ساتھ چھوڑ دیں۔ (تفہیم القرآن)
26۔ ۔۔۔۔ورنہ اگر وہ خود خائف نہ ہوتااور اس کام کا ارادہ کرلیتا تو اسے کون روکنے والا تھا؟ (تیسیر القرآن)
۔ یہاں سے جس واقعہ کا بیان شروع ہو رہا ہے وہ تاریخ بنی اسرائیل کا ایک نہایت اہم واقعہ ہے جسے خود بنی اسرائیل بالکل فراموش کر گئے ہیں۔ بائیبل اور تَلْمود، دونوں اس کے ذکر سے خالی ہیں، اور دوسری اسرائیلی روایات میں بھی اس کا کوئی نام و نشان نہیں پایا جاتا۔ اس قصے کو جو شخص بھی پڑھے گا، بشرطیکہ وہ اسلام اور قرآن کے خلاف تعصب میں اندھا نہ ہوچکا ہو، وہ یہ محسوس کیے بغیر نہ رہ سکے گا کہ دعوت حق کے نقطۂ نظر سے یہ قصہ بہت بڑی قدر و قیمت رکھتا ہے، اور بجائے خود یہ بات بعید از عقل و قیاس بھی نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ کی شخصیت، ان کی تبلیغ، اور ان کے ہاتھوں ظہور پذیر ہونے والے حیرت انگیز معجزات سے متاثر ہو کر خود فرعون کے اعیان سلطنت میں سے کوئی شخص دل ہی دل میں ایمان لے آیا ہو اور فرعون کو ان کے قتل پر آمادہ دیکھ کر وہ ضبط نہ کرسکا ہو۔ لیکن مغربی مستشرقین، علم و تحقیق کے لمبے چوڑے دعوؤں کے باوجود، تعصب میں اندھے ہو کر جس طرح قرآن کی روشن صداقتوں پر خاک ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں مضمون " موسیٰ " کا مصنف اس قصے کے متعلق لکھتا ہے " قرآن کی یہ کہانی کہ فرعون کے دربار میں ایک مومن موسیٰ کو بچانے کی کوشش کرتا ہے، پوری طرح واضح نہیں ہے (سورة 40 آیت 28)۔ کیا ہمیں اس کا تقابل اس قصے سے کرنا چاہیے جو ہگادا میں بیان ہوا ہے اور جس کا مضمون یہ ہے کہ یتھرو نے فرعون کے دربار میں عفو سے کام لینے کا مشورہ دیا تھا " ؟ گویا ان مدعیان تحقیق کے ہاں یہ بات تو طے شدہ ہے کہ قرآن کی ہر بات میں ضرور کیڑے ہی ڈالنے ہیں۔ اب اگر اس کے کسی بیان پر حرف زنی کی کوئی بنیاد نہیں ملتی تو کم از کم یہی شوشہ چھوڑ دیا جائے کہ یہ قصہ پوری طرح واضح نہیں ہے، اور چلتے چلتے یہ شک بھی پڑھنے والوں کے دل میں ڈال دیا جائے کہ ہَگّادا میں یتھرو کا جو قصہ حضرت موسیٰ کی پیدائش سے پہلے کا بیان ہوا ہے وہ کہیں سے محمد ﷺ نے سن لیا ہوگا، اور اسے لا کر یہاں اس شکل میں بیان کردیا ہوگا۔ یہ ہے " علمی تحقیق " کا وہ انداز جو ان لوگوں نے اسلام اور قرآن اور محمد ﷺ کے معاملے میں اختیار کر رکھا ہے۔ (تفہیم القرآن)
27۔ یہاں دو برابر کے احتمال ہیں ، جن میں سے کسی کو کسی پر ترجیح دینے کے لیے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ اس وْقت دربار میں خود موجود ہوں، اور فرعون نے ان کی موجودگی میں انہیں قتل کردینے کا ارادہ ظاہر کیا ہو، اور حضرت نے اس کو اور اس کے درباریوں کو خطاب کر کے اسی وقت بر ملا یہ جواب دے دیا ہو۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کی غیر موجودگی میں فرعون نے اپنی حکومت کے ذمہ دار لوگوں کی کسی مجلس میں یہ خیال ظاہر کیا ہو، اور اس گفتگو کی اطلاع آنجناب کو اہل ایمان میں سے کچھ لوگوں نے پہنچائی ہو، اور اسے سن کر آپ نے اپنے پیروؤں کی مجلس میں یہ بات ارشاد فرمائی ہو۔ ان دونوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو، حضرت موسیٰ کے الفاظ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فرعون کی دھمکی ان کے دل میں ذرہ برابر بھی خوف کی کوئی کیفیت پیدا نہ کرسکی اور انہوں نے اللہ کے بھروسے پر اس کی دھمکی اسی کے منہ پر مار دی۔ اس واقعہ کو جس موقع پر قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے، اس سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ محمد ﷺ کی طرف سے بھی یہی جواب ان سب ظالموں کو ہے جو یوم الحساب سے بےخوف ہو کر آپ کو قتل کردینے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
چوتھا رکوع |
| وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ ﴿28﴾ یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ ﴿29﴾ وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ ﴿30﴾ مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ ﴿31﴾ وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ ﴿32﴾ یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ ﴿33﴾ وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ ﴿34﴾ اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴿35﴾ وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ ﴿36﴾ اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ ۧ ۧ ﴿37ع غافر 40﴾ |
| 28. اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہے۔ 29. اے قوم آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو۔ (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اس کے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی بات سُجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔ 30. تو جو مومن تھا وہ کہنے لگا کہ اے قوم مجھے تمہاری نسبت خوف ہے کہ (مبادا) تم پر اور اُمتوں کی طرح کے دن کا عذاب آجائے۔ 31 ) یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح (تمہارا حال نہ ہوجائے) اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا۔ 32. اور اے قوم مجھے تمہاری نسبت پکار کے دن (یعنی قیامت) کا خوف ہے۔ 33. جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے دن سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذاب) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ 34. اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو جو وہ لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو۔ 35. جو لوگ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ خدا کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ جھگڑا سخت ناپسند ہے۔ اسی طرح خدا ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ 36. اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لئے ایک محل بناؤ تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) رستوں پر پہنچ جاؤں۔ 37. (یعنی) آسمانوں کے رستوں پر، پھر موسیٰ کے خدا کو دیکھ لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ اور اسی طرح فرعون کو اس کے اعمال بد اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ رستے سے روک دیا گیا تھا۔ اور فرعون کی تدبیر تو بےکار تھی۔ |
تفسیر آیات
28۔اپنے ایمان کو چھپانے والا مردمومن:۔ کہتے ہیں کہ یہ شخص فرعون کا چچازاد بھائی تھا۔ یا کوئی اور بھی ہو تو کم از کم فرعون کے درباریوں اور قریبی لوگوں میں سے تھا۔ اور وہ سیدنا موسیٰؑ پر ایمان لاچکا تھا۔بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ موسیٰؑ سے جب ایک قبطی مارا گیا تھا تو اسی شخص نے سیدنا موسیٰؑ کو اطلاع دی تھی کہ تمہارے قتل کے منصوبے ہورہے ہیں لہذا جلد از جلد یہاں سے بھاگ جاؤ۔اس وقت اگر چہ موسیٰؑ نبی ؐ نہیں تھے اور اس وقت آپ پر ایمان کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتاتھا۔تاہم وہ سیدنا موسیٰؑ کے اخلاق و عادات سے متاثر تھااور اسی لئے آپ کا ہمدرد بھی تھا۔ اس جملہ سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ فرعون کی سختیوں کے باوجود سیدنا موسیٰؑ کی دعوت اندرہی اندرپھیل گئی تھی۔حتیٰ کہ فرعون کے ایوانوں تک پہنچ گئی تھی۔اور دوسری یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی ایماندار شخص کافر معاشرہ کے دباؤ کی وجہ سے اپنے ایمان کو ظاہر نہ کرے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔۔۔۔۔عقبہ بن ابی معیط کا آپ کا گلا گھونٹنا :۔ بالکل ایساہی ایک واقعہ دور نبویؐ میں پیش آیا ۔ایک بدبخت مشرک عقبہ بن ابی معیط نے آپؐ کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔اتفاق سے سیدنا ابوبکرؓ موقعہ پر پہنچ گئے تو انہوں نے بھی اس موقعہ پر یہی آیت پڑھی تھی۔جیساکہ درج حدیث سے واضح ہے:۔عروہ بن زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر بن عاصؓ سے پوچھا :"مجھے بتاؤ کہ مشرکین مکہ نے نبی اکرمؐ کو سب سے زیادہ جو تکلیف دی وہ کیا تھی؟ وہ کہنے لگے کہ ایک دفعہ رسول اللہؐ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے۔عقبہ بن ابی معیط آگے بڑھا ، آپؐ کے مونڈھے کو پکڑا پھر آپؐ کی گردن میں کپڑا ڈال کر مروڑا دیا اور اتنی زور سے گلا گھونٹا (جیسے مارہی ڈالے گا)۔اتنے میں ابوبکر صدیقؓ آگئے، انہوں نے عقبہ کا مونڈھا تھاما اور آپؐ سے اس کو پرے دھکیل دیا اور فرمایا "کیا تم اس شخص کو صرف اس لئے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے"۔(بخاری۔ کتاب التفسیر)(تیسیر القرآن)
32۔’ یَوْمَ التَّنَادِ‘ کے لغوی معنی ہیں ’ ہانک پکار کا دن ‘ یہ اس یوم عذاب کی تعبیر کے لئے آیا ہے جس سے لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔ جب کوئی بڑی ہلچل برپا ہوتی ہے تو دوڑو، بھاگو، لیجیو، چلیو کا ہر طرف شور ہوتا ہے اس وجہ سے یوم عذاب کی تعبیر کے لئے یہ نہایت موزوں لفظ ہے۔ (تدبرِ قرآن)
34۔ اِذَا هَلَكَ۔قرآن مجید انبیاء صادقین کے لیے بھی ایسے موقعوں پر بے تکلف وہی الفاظ لے آتاہے جو عام افراد بشری کے لیے لائے جاتے ہیں۔ ہلاکت و موت وغیرہ کے قسم کے الفاظ جس طرح ہر بشر کے لیے آتے ہیں انبیاء کے لیے بھی لائے گئے ہیں۔ ہم اردو والوں کی طرح یہ تکلف و تصنع کا پیرائیہ بیان نہیں اختیار کرتاکہ"فلاں نبی عالم بقا کو تشریف لےگئے"یہاں تو ذکر ایک پیمبر برحق حضرت یوسفؑ کا تھا!۔ (تفسیر ماجدی)
36۔فرعون اس مرد مومن کی تقریروں کا تو کچھ جواب دے نہ سکا،لاجواب ہوکر فرمایش ہامان سے یہ کردی۔ یٰهَامٰنُ۔ھامان پر حاشیہ سورۃ القصص (آیت6)میں گذرچکا۔هَامٰنُ۔جو دیوتا آمن کے مندر کا سب سے بڑا پروہت یا پجاری تھا،عجب نہیں کہ وہی سلطنت کا میر تعمیر بھی ہو۔۔۔۔ہامان سے متعلق اسی سابق حاشیے میں گذر چکا ہے کہ یہ شخصی نام نہیں بلکہ ایک عظیم الشان سرکاری عہدے کا لقب تھا؛ جیسے کہ خود فرعون شاہی لقب تھا۔ ابْنِ لِیْ صَرْحًا۔ روایات ِ یہود میں بھی آتاہے کہ شاہِ مصر کے لیے زمین و آسمان کے درمیان ایک محل تعمیر ہواتھا۔۔۔۔اس نسل فرعون سے جو بعض خاندان مصر کے حکمران تھے، ان میں یہ بات عام تھی کہ خدا تک پہنچنے کے لیے اونچی اونچی سیڑھیاں(Sky ladders in stair way)آسمان کے لیے تیار کرتے رہتے ۔عرب کے ایک اُمی کو ایک دوسرے ملک کی ہزاروں سال قبل کی تاریخ سے متعلق یہ باریک معلومات آخر کہاں سے حاصل ہوجاتے تھے؟ لَعَلِّیْ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ۔سیکڑوں ہزاروں برس گزرجانے کے بعد اس قسم کی حماقت کا اظہار روس کے وزیر اعظم خروشیف نے ابھی چند سال ہوئے کیا تھا،جب اس نے طنز و تمسخر کے ساتھ کہا تھا کہ"ہمارے خلائی جہاز رانوں کو تو اوپر کہیں خدا کا پتانشان نہ ملا"۔۔۔۔۔گویافرعون و ہامان کی طرح خروشیف بھی اس کا قائل تھا کہ مادی فاصلہ طے کرنے سے خدا تک پہنچا جاسکتاہے، اور چونکہ نہ پہنچا جاسکا،اس لیے خدا کا وجود ہی ثابت نہ ہوسکا۔ لَعَلِّیْ۔لعل میں آئندہ کی توقع تو ہوتی ہی ہے،اکثر آرزو بھی شامل رہتی ہے۔لغت کی دو کتابوں منتہی الارب اور بیان اللسان میں لعل کے ایک معنی"کاش"بھی آئے ہیں۔(منتہی الأرب، ج4/ ص: 123،بیان اللسان،ص:668) ۔۔۔۔صرحاً یہ مینار پختہ بنی ہوئی اینٹوں کا تھا۔(تفسیر ماجدی)
پانچواں رکوع |
| وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ ﴿38﴾ یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ ﴿39﴾ مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ ﴿40﴾ وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ ﴿41﴾ تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ ﴿42﴾ لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ ﴿43﴾ فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ ﴿44﴾ فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ ﴿45﴾ اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ﴿46﴾ وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ ﴿47﴾ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ ﴿48﴾ وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ ﴿49﴾ قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ ۧ ۧ ﴿50ع غافر 40﴾ |
| 38. اور وہ شخص جو مومن تھا اس نے کہا کہ بھائیو میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کا رستہ دکھاؤ ں۔ 39. بھائیو یہ دنیا کی زندگی (چند روزہ) فائدہ اٹھانے کی چیز ہے۔ اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے۔ 40. جو برے کام کرے گا اس کو بدلہ بھی ویسا ہی ملے گا۔ اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے وہاں ان کو بےشمار رزق ملے گا۔ 41. اور اے قوم میرا کیا (حال) ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے (دوزخ کی) آگ کی طرف بلاتے ہو۔ 42. تم مجھے اس لئے بلاتے ہو کہ خدا کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اس کا شریک مقرر کروں جس کا مجھے کچھ بھی علم نہیں۔ اور میں تم کو (خدائے) غالب (اور) بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں۔ 43. سچ تو یہ ہے کہ جس چیز کی طرف تم مجھے بلاتے ہو اس کو دنیا اور آخرت میں بلانے (یعنی دعا قبول کرنے) کا مقدور نہیں اور ہم کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں۔ 44. جو بات میں تم سے کہتا ہوں تم اسے آگے چل کر یاد کرو گے۔ اور میں اپنا کام خدا کے سپرد کرتا ہوں۔ بےشک خدا بندوں کو دیکھنے والا ہے۔ 45. غرض خدا نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تدبیروں کی برائیوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا۔ 46 . (یعنی آتش جہنم) کہ صبح وشام اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ اور جس روز قیامت برپا ہوگی (حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو۔ 47. اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجے کے لوگ بڑے آدمیوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم دوزخ (کے عذاب) کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو؟ 48. بڑے آدمی کہیں گے کہ تم (بھی اور) ہم (بھی) سب دوزخ میں (رہیں گے)۔ خدا بندوں میں فیصلہ کرچکا ہے۔ 49. اور جو لوگ آگ میں (جل رہے) ہوں گے وہ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کردے۔ 50. وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے۔ وہ کہیں گے کیوں نہیں تو وہ کہیں گے کہ تم ہی دعا کرو۔ اور کافروں کی دعا (اس روز) بےکار ہوگی۔ |
تفسیر آیات
43۔ " حد سے گزر جانے " کا مطلب حق سے تجاوز کرنا ہے۔ ہر وہ شخص جو اللہ کے سوا دوسروں کی خدائی مانتا ہے یا خود خدا بن بیٹھتا ہے، یا خدا سے باغی ہو کر دنیا میں خود مختاری کا رویہ اختیار کرتا ہے، اور پھر اپنی ذات پر، خلق خدا پر اور دنیا کی ہر اس چیز پر جس سے اس کو سابقہ پیش آئے، طرح طرح کی زیادتیاں کرتا ہے، وہ حقیقت میں عقل اور انصاف کی تمام حدوں کو پھاند جانے والا انسان ہے۔ (تفہیم القرآن)
46۔ یہ آیت اس عذاب برزخ کا صریح ثبوت ہے جس کا ذکر بکثرت احادیث میں عذاب قبر کے عنوان سے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہاں صاف الفاظ میں عذاب کے دو مرحلوں کا ذکر فرما رہا ہے، ایک کم تر درجے کا عذاب جو قیامت کے آنے سے پہلے فرعون اور آل فرعون کو اب دیا جا رہا ہے، اور وہ یہ ہے کہ انہیں صبح و شام دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہتے ہیں کہ یہ ہے وہ دوزخ جس میں آخر کار ہمیں جانا ہے۔ اس کے بعد جب قیامت آجائے گی تو انہیں وہ اصلی اور بڑی سزا دی جائے گی جو ان کے لیے مقدر ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ یہ اس عذاب کی تفصیل ہے کہ برزخی زندگی میں ان کو صبح و شام دوزخ کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے کہ دیکھتے رہیں کہ ان کا اصلی ٹھکانا یہ ہوگا۔۔۔۔۔۔حدیثوں میں عذاب قبر کا جو ذکر آیا ہے وہ اسی برزخی زندگی سے متعلق ہے۔ (تدبرِ قرآن)
چھٹا رکوع |
| اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ ﴿51﴾ یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ ﴿52﴾ وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ ﴿53﴾ هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ ﴿54﴾ فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ ﴿55﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ﴿56﴾ لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿57﴾ وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ ﴿58﴾ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ ﴿59﴾ وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ ۧ ۧ ﴿60ع غافر 40 |
| 51. ہم اپنے پیغمبروں کی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے (یعنی قیامت کو بھی)۔ 52. جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان کے لئے لعنت اور برا گھر ہے۔ 53. اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت (کی کتاب) دی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا۔ 54. عقل والوں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے۔ 55. تو صبر کرو بےشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور صبح وشام اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو۔ 56. جو لوگ بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ان کے دلوں میں اور کچھ نہیں (ارادہٴ) عظمت ہے اور وہ اس کو پہنچنے والے نہیں تو خدا کی پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔ 57. آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے کی نسبت بڑا (کام) ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 58. اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں۔ اور نہ ایمان لانے والے نیکوکار اور نہ بدکار (برابر ہیں) (حقیقت یہ ہے کہ) تم بہت کم غور کرتے ہو۔ 59. قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے۔ 60. اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر کنیاتے ہیں۔ عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔ |
تفسیر آیات
51۔ اس آیت کا تعلق اوپر آیت 45 سے ہے۔ بیچ میں پانچ آیتیں ضمنی طور پر اس عذاب کی وضاحت کے لئے آگئی ہیں جس سے فرعون اور اس جیسےمتکبروں اور ان کے پیروؤں کو سابقہ پیش آئے گا۔ فرمایا کہ جس طرح ہم نے موسیٰ ؑ اور اس مرد مومن کی مدد فرمائی اسی طرح ہم اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جس دن گواہ گواہی کے لئے کھڑے ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔اس آیت کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑی الجھن پیش آئی ہے۔ اس لئے کہ اس میں نہایت صراحت کے ساتھ اس بات کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں بھی مدد فرماتا ہے۔ اس الجھن کی وجہ یہ ہے کہ ان حضرات کے سامنے وہ فرق واضح طور پر نہیں ہے جو رسول اور نبی کے درمیان ہے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اس فرق کو واضح کرتے آ رہے ہیں اس کو نگاہ میں رکھیئے۔ رسولوں کے لئے سنت الٰہی یہی ہے کہ وہ جس قوم کی طرف بھیجے جاتے ہیں اس کے لئے وہ خدا کی عدالت ہوتے ہیں۔ اگر قوم ان کی تکذیب کردیتی ہے تو وہ لازماً فنا کردی جاتی ہے عام اس سے کہ وہ کسی خدائی عذاب سے تباہ ہو یا اہل حق کی تلوار سے شکست کھائے اور عام اس سے کہ یہ واقعہ رسول کے سامنے ہی پیش آئے یا رسول کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد۔ حضرت نوح ؑ سے لے کر حضرت مسیح ؑ تک ہر رسول کی زندگی اس سنت الٰہی کی شہادت دیتی ہے اور ہم برابر اس کی وضاحت کرتے آ رہے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
55۔ انبیاء کے گناہوں سے مراد معمولی قسم کی اجتہادی لغزشیں ہیں:۔ انبیاء سے عمداً کسی گناہ کا سرزد ہونا ناممکنات سے ہے ۔ان کے گناہ سے مراد ان کی چھوٹی چھوٹی اجتہادی لغزشیں ہی ہوسکتی ہیں جو بھول چوک کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہیں اور یہ بشریت کا خاصہ ہے۔ یہاں ان لغزشوں کا تعلق یقیناً صبر سے ہے۔جیسے آپ کو کبھی کبھی یہ خیال آجاتاتھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کفار مکہ کے مطالبہ کے مطابق کوئی معجزہ عطا فرمادے تو اسلام کو کافی فائدہ پہنچ سکتاہے۔یا جب کفار آپؐ سے سمجھوتہ کی راہیں ہموار کرنا چاہتے تھے تو آپؐ کو ایسا خیال آنے لگا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے خیال سے بھی سختی سے روک دیا تھا۔ اس بناپر یہاں آپؐ کو پہلے صبر کی تلقین کی گئی ہے۔(تیسیر القرآن)
۔ اشارہ ہے اس وعدے کی طرف جو ابھی ابھی اوپر کے اس فقرے میں کیا گیا تھا کہ " ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں "۔۔۔۔۔۔جس سیاق وسباق میں یہ بات ارشاد ہوئی ہے اس پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس مقام پر " قصور " سے مراد بےصبری کی وہ کیفیت ہے جو شدید مخالفت کے اس ماحول میں خصوصیت کے ساتھ اپنے ساتھیوں کی مظلومی دیکھ دیکھ کر، نبی ﷺ کے اندر پیدا ہو رہی تھی۔ آپ چاہتے تھے کہ جلدی سے کوئی معجزہ ایسا دکھا دیا جائے جس سے کفار قائل ہوجائیں، یا اللہ کی طرف سے اور کوئی ایسی بات جلدی ظہور میں آجائے جس سے مخالفت کا یہ طوفان ٹھنڈا ہوجائے۔ یہ خواہش بجائے خود کوئی گناہ نہ تھی جس پر کسی توبہ و استغفار کی حاجت ہوتی، لیکن جس مقام بلند پر اللہ تعالیٰ نے حضور کو سرفراز فرمایا تھا اور جس زبردست اولوالعزمی کا وہ مقام مقتضی تھا، اس کے لحاظ سے یہ ذرا سی بےصبری بھی اللہ تعالیٰ کو آپ کے مرتبے سے فرو تر نظر آئی، اس لیے ارشاد ہوا کہ اس کمزوری پر اپنے رب سے معافی مانگو اور چٹان کی سی مضبوطی کے ساتھ اپنے موقف پر قائم ہوجاؤ جیسا کہ تم جیسے عظیم المرتبت آدمی کو ہونا چاہیے۔۔۔۔۔یعنی یہ حمد و تسبیح ہی وہ ذریعہ ہے جس سے اللہ کے لیے کام کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی طاقت حاصل ہوتی ہے۔ صبح و شام حمد و تسبیح کرنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ دائماً اللہ کو یاد کرتے رہو۔ دوسرے یہ کہ ان مخصوص اوقات میں نماز ادا کرو۔ اور یہ دوسرے معنی لینے کی صورت میں اشارہ نماز کے ان پانچوں اوقات کی طرف ہے جو اس سورت کے نزول کے کچھ مدت بعد تمام اہل ایمان پر فرض کردیے گئے۔ اس لیے کہ عَشِیّ کا لفظ عربی زبان میں زوال آفتاب سے لے کر رات کے ابتدائی حصے تک کے لیے بولا جاتا ہے جس میں ظہر سے عشاء تک کی چاروں نمازیں آجاتی ہیں۔ اور اِبْكَارِ صبح کی پو پھٹنے سے طلوع آفتاب تک کے وقت کو کہتے ہیں جو نماز فجر کا وقت ہے۔۔۔ (تفہیم القرآن)
۔ اس طرح کے خطابات میں نبی ﷺ شخصًا مخاطب نہیں ہوتے بلکہ امت کے وکیل کی حیثیت سے مخاطب ہوتے ہیں۔ جو لوگ خطاب کی اس نوعیت اور اس کی بلاغت سے چھی طرح آشنا نہیں ہیں وہ آنحضرت ﷺ کی طرف ’ ذنب ‘ کے لفظ کی نسبت سے متوحش ہوتے ہیں حالانکہ اس کا ایک خاص محل ہے جس کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ (تدبرِ قرآن)
56۔ اللہ کی آیات سے مراد:۔ آیاتِ الٰہی سے مراد یہاں دلائل توحید اور دلائل بعث بعد الموت ہیں۔ کیونکہ انہی دو باتوں میں کفار مکہ زیادہ ترتکرار کرتے تھے اور فضول قسم کی بحث اور استہزاء کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پاس کوئی عقلی دلیل تو ہے نہیں جس کی بنیاد پر وہ مدلل بحث کرسکیں بلکہ ان کے جھگڑاکی اصل وجہ ان کا تکبر ہے ۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے رسول کی بات مان لی تو پھر ہمیں اس کا مطیع بن کر رہنا پڑے گا۔ اور یہی پندار ِ نفس ان کے ایمان لانے میں آڑے آرہاہے۔ مگر جس بڑا بنے رہنے کی انہیں فکر دامنگیر ہے وہ بڑائی ان کے پاس رہ نہیں سکتی۔ کیونکہ عزت اور ذلت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والا کبھی عزت نہیں پاسکتا۔ جس بلند مقام پر وہ اپنے آپ کو کھڑا سمجھ رہے ہیں لازماً انہیں اس مقام سے نیچے اترنا اور ذلیل ہونا پڑے گا۔(تیسیر القرآن)
۔ دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ جس کو اللہ نے بڑا بنایا ہے وہی بڑا بن کر رہے گا، اور یہ چھوٹے لوگ اپنی بڑائی قائم رکھنے کی جو کوششیں کر رہے ہیں وہ سب آخر کار ناکام ہوجائیں گی۔ (تفہیم القرآن)
57۔ اوپر کے ساڑھے تین رکوعوں میں سرداران قریش کی سازشوں پر تبصرہ کرنے کے بعد اب یہاں سے خطاب کا رخ عوام کی طرف پھر رہا ہے اور ان کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ جن حقائق کو ماننے کی دعوت محمد ﷺ تم کو دے رہے ہیں وہ سراسر معقول ہیں، ان کو مان لینے ہی میں تمہاری بھلائی ہے اور نہ ماننا تمہارے اپنے لیے تباہ کن ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے آخرت کے عقیدے کو لے کر اس پر دلائل دیے گئے ہیں، کیونکہ کفار کو سب سے زیادہ اچنبھا اسی عقیدے پر تھا اور اسے وہ بعید از فہم خیال کرتے تھے۔ (تفہیم القرآن)
58۔ ۔۔۔۔۔کیونکہ آخرت نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ نیک و بد دونوں آخر کار مر کر مٹی ہوجائیں اور ایک ہی انجام سے دوچار ہوں۔ اس صورت میں صرف عقل و انصاف ہی کا خون نہیں ہوتا بلکہ اخلاق کی بھی جڑ کٹ جاتی ہے۔ اس لیے کہ اگر نیکی اور بدی کا انجام یکساں ہے تو پھر بد بڑا عقل مند ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے دل کے سارے ارمان نکال گیا اور نیک سخت بیوقوف ہے کہ خواہ مخواہ اپنے اوپر طرح طرح کی اخلاقی پابندیاں عائد کیے رہا۔(تفہیم القرآن)
60۔ آخرت کے بعد اب توحید پر کلام شروع ہو رہا ہے جو کفار اور نبی ﷺ کے درمیان دوسری بنائے نزاع تھی۔ (تفہیم القرآن)
۔ ترمذی و مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ من شغلہ القرآن عن ذکری ومسئلتی اعطیتہ افضل ما اعطی السائلین۔ یعنی جو شخص تلاوت قرآن میں اتنا مشغول ہو کہ مجھ سے اپنی حاجات مانگنے کی بھی اسے فرصت نہ ملے تو میں اس کو اتنا دوں گا کہ مانگنے والوں کو بھی اتنا نہیں ملتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر عبادت بھی وہی فائدہ دیتی ہے جو دعا کا فائدہ ہے۔۔۔۔۔۔ (معارف القرآن)
ساتواں رکوع |
| اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ ﴿61﴾ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ ﴿62﴾ كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ ﴿63﴾ اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿64﴾ هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿65﴾ قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿66﴾ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ﴿67﴾ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ ۧ ۧ ﴿68ع غافر 40﴾ |
| 61. خدا ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا (کہ اس میں کام کرو) بےشک خدا لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ 62. یہی خدا تمہارا پروردگار ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو؟ 63. اسی طرح وہ لوگ بھٹک رہے تھے جو خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے۔ 64. خدا ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے ٹھیرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی خوب بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے۔ پس خدائے پروردگار عالم بہت ہی بابرکت ہے۔ 65. وہ زندہ ہے (جسے موت نہیں) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی عبادت کو خالص کر کر اسی کو پکارو۔ ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔ 66. (اے محمدﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھے اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ان کی پرستش کروں (اور میں ان کی کیونکر پرستش کروں) جب کہ میرے پاس میرے پروردگار (کی طرف) سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ پروردگار عالم ہی کا تابع فرمان ہوں۔ 67. وہی تو ہے جس نے تم کو (پہلے) مٹی سے پیدا کیا۔ ہھر نطفہ بنا کر پھر لوتھڑا بنا کر پھر تم کو نکالتا ہے (کہ تم) بچّے (ہوتے ہو) پھر تم اپنی جوانی کو پہنچتے ہو۔ پھر بوڑھے ہوجاتے ہو۔ اور کوئی تم میں سے پہلے ہی مرجاتا ہے اور تم (موت کے) وقت مقرر تک پہنچ جاتے ہو اور تاکہ تم سمجھو۔ 68. وہی تو ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ پھر جب وہ کوئی کام کرنا (اور کسی کو پیدا کرنا) چاہتا ہے تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ جاتا ہے۔ |
تفسیر آیات
63۔ یَجْحَدُوْنَ۔جحدپر اوپر حاشیہ گزرچکا ہے کہ اس سے مراد اس انکار سے ہوتی ہے، جو محض غلط فہمی سے نہیں بلکہ ہٹ دھرمی سے ہوتاہے۔(تفسیر ماجدی)
۔ نوٹ: دعا کی حقیقت اور اس کے فضائل و درجات اور شرطِ قبولیت 610 تا 613(معارف القرآن)
64۔ یعنی تمہیں کھلی فضا میں نہیں چھوڑ دیا گیا کہ عالم بالا کی آفات بارش کی طرح برس کر تم کو تہس نہس کردیں، بلکہ زمین کے اوپر ایک نہایت مستحکم سماوی نظام (جو دیکھنے والی آنکھ کو گنبد کی طرح نظر آتا ہے) تعمیر کردیا جس سے گزر کر کوئی تباہ کن چیز تم تک نہیں پہنچ سکتی، حتیٰ کہ آفاق کی مہلک شعاعیں تک نہیں پہنچ سکتیں، اور اسی وجہ سے تم امن و چین کے ساتھ زمین پر جی رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔یعنی تمہارے پیدا کرنے سے پہلے تمہارے لیے اس قدر محفوظ اور پر امن جائے قرار مہیا کی۔ پھر تمہیں پیدا کیا تو اس طرح کہ ایک بہترین جسم، نہایت موزوں اعضاء اور نہایت اعلیٰ درجہ کی جسمانی و ذہنی قوتوں کے ساتھ تم کو عطا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔اور کس نے یہ انتظام کیا ہے کہ غذا کے یہ بےحساب خزانے زمین سے پے در پے نکلتے چلے آئیں اور ان کی رسد کا سلسلہ کبھی ٹوٹنے نہ پائے ؟ یہ رزق کا انتظام نہ ہوتا اور بس تم پیدا کردیے جاتے تو سوچو کہ تمہاری زندگی کا کیا رنگ ہوتا۔ کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ تمہارا پیدا کرنے والا محض خالق ہی نہیں بلکہ خالق حکیم اور رب رحیم ہے ؟ (تفہیم القرآن)
67۔ سیدنا خالدبن ولید تقریباً ایک سو جہاد کے معرکوں میں شریک ہوئے لیکن موت آئی تو بستر مرگ پر گھر میں ہی آئی۔(تیسیر القرآن)
68۔ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ زندگی و موت دونوں تمام تر اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ نہیں کہ زندگی بخشنے والے دیوتافلاں ہیں اور موت لانے والے دیوتا فلاں۔(تفسیر ماجدی)
آ ٹھواں رکوع |
| اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَۖ ۛ ۚ ﴿69﴾ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ ﴿70﴾ اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ ﴿71﴾ فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ ﴿72﴾ ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ ﴿73﴾ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ ﴿74﴾ ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ ﴿75﴾ اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ ﴿76﴾ فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ ﴿77﴾ وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿78ع غافر 40﴾ |
| 69. کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ یہ کہاں بھٹک رہے ہیں؟ 70. جن لوگوں نے کتاب (خدا) کو اور جو کچھ ہم نے پیغمبروں کو دے کر بھیجا اس کو جھٹلایا۔ وہ عنقریب معلوم کرلیں گے۔ 71. جب کہ ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی (اور) گھسیٹے جائیں گے۔ 72. (یعنی) کھولتے ہوئے پانی میں۔ پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔ 73. پھر ان سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم (خدا کے) شریک بناتے تھے۔ 74. (یعنی غیر خدا) کہیں گے وہ تو ہم سے جاتے رہے بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو پکارتے ہی نہیں تھے۔ اسی طرح خدا کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔ 75. یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں حق کے بغیر (یعنی اس کے خلاف) خوش ہوا کرتے تھے اور اس کی (سزا ہے) کہ اترایا کرتے تھے۔ 76. (اب) جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اسی میں رہو گے۔ متکبروں کا کیا برا ٹھکانا ہے۔ 77. تو (اے پیغمبر) صبر کرو خدا کا وعدہ سچا ہے۔ اگر ہم تم کو کچھ اس میں سے دکھادیں جس کا ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں۔ (یعنی کافروں پر عذاب نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ 78. اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سے) پیغمبر بھیجے۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کئے۔ اور کسی پیغمبر کا مقدور نہ تھا کہ خدا کے حکم کے سوا کوئی نشانی لائے۔ پھر جب خدا کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل نقصان میں پڑ گئے۔ |
تفسیر آیات
69۔ قرآن کی آیات سے اپنے نظریات کشید کرنا اور ان میں جھگڑا اور فرقہ بازی:۔ اللہ کی آیات سے مراد آیات آفاق و انفس بھی ہوسکتی ہے جن کا قرآن نے بے شمار مقامات پر اور یہاں بھی توحید کے دلائل کے طورپر ذکرکیا ہے۔پھر بھی مشرک لوگ ان میں جھگڑا کرتے اور اللہ کے پیاروں کو اللہ کے اختیارات میں شریک بنالیتے ہیں اور اگر ان آیات سے مراد اللہ کے احکام و ارشادات لئے جائیں تو اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی ایک پہلو کی انتہا کو پہنچ کر ایک نظریہ قائم کرلیتے ہیں پھر جو آیات اپنے اس قائم کردہ نظریہ کے خلاف نظر آئیں ان کی تاویل کرلیتے ہیں۔مثلاً کچھ لوگوں نے جب موت و حیات اور رزق وغیرہ کے معاملہ میں انسان کی بے بسی دیکھی تو یہ نظریہ قائم کرلیا کہ انسان مجبور محض اور قدرت کے ہاتھوں میں محض ایک کھلونے کی حیثیت رکھتاہے پھر جن آیات سے انسان کا اختیار ثابت ہوتاتھا ان کی تاویل کرڈالی۔ایسے لوگوں کے مقابلہ میں کچھ دوسرے لوگ اٹھے جنہوں نے قرآن ہی کی آیات سے یہ نظریہ قائم کرلیاکہ انسان مختار مطلق ہے اور جو کام بھی وہ کرنا چاہے کرسکتاہے ۔اور ایسی آیات جن سے انسان کی بے بسی ثابت ہوتی تھی ان کی تاویل کرڈالی۔اس طرح اللہ کی آیات میں بحث و جدال اور ایک ہی طرف انتہا کو پہنچنے اور دوسرے پہلو سے صرف نظر کرنے کی بناپر آغاز اسلام میں دو فرقے جبریہ اور قدریہ ایک دوسرے کے مد مقابل کے طورپر سامنے آگئے۔وہی مسئلہ تقدیر جس پر بحث کرنے سے رسول اللہؐ نے سختی سے روک دیا تھا۔ اسی مسئلہ پر بحث و جدال کے نتیجہ میں یہ دو فرقے پیدا ہوئے اور اپنے اپنے نظریہ کی حمایت میں قرآن کی آیات میں بحث و جدال اور انہی سے استدلال کرنے لگے۔۔۔حالانکہ اس مسئلہ میں راہِ صواب اور راہِ اعتدال یہ ہے کہ انسان بعض معاملات میں مجبور ہے اور بعض میں مختار ۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت ہے اب اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ جس کام میں انسان مجبور ہے وہاں اس پر کوئی مؤخذہ نہ ہوگا۔ مؤاخذہ یا باز پرس صرف اس کام کے متعلق ہوگی جس میں وہ مختار ہے۔یا جس حدتک مختار ہے۔۔۔بعدازاں جتنے بھی بدعی فرقے پیدا ہوئے ہر ایک نے اپنی بنائے استدلال قرآن ہی پر رکھی اور من مانی تاویل حتیٰ کہ اپنی بات کی اپچ میں آکر معنوی اور لفظی تحریف تک سے باز نہ آئے اور ایسی چند تاویلات ہم اپنے حواشی میں پیش کرچکے ہیں۔(تیسیر القرآن)
70۔ ’ کتاب ‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ یہ ان کے جرم کا بیان ہے کہ انہوں نے قرآن کی بھی تکذیب کی اور ان تمام تعلیمات کی بھی جن کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا۔ تمام رسولوں کی تعلیم بنیادی طور پر یہی رہی ہے جو قرآن دے رہا ہے تو قرآن کی تکذیب سب کی تکذیب ہوئی۔ ’فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ‘ یہ دھمکی ہے۔ یعنی اگر انہوں نے یہ جسارت کی ہے تو عنقریب وہ اس کا انجام بھی دیکھیں گے۔(تدبرِ قرآن)
72۔ يُسْحَبُوْنَ فِي الْحَمِيْمِ ڏ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُوْنَ۔ حمیم کھولتا ہوا گرم پانی ہے۔ اس آیت سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اہل جہنم کو پہلے حمیم میں ڈالا جائے گا۔ اس کے بعد جحیم یعنی جہنم میں اور بظاہر اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ حمیم جہنم سے باہر کسی جگہ ہے۔ سورة صٰفٰت کی آیت (آیت) ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے کہ حمیم جہنم سے باہر کوئی جگہ ہے اہل جہنم کو اس کا پانی پلانے کے لئے لایا جائے گا۔ پھر جہنم میں لوٹا دیا جائے گا۔ اور بعض آیات قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ حمیم بھی جحیم ہی میں ہے جیسے (آیت) هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَ۔ یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ۔ اس میں تصریح ہے کہ حمیم بھی جہنم کے اندر ہے۔۔۔۔۔۔۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد وتعارض نہیں۔ جہنم ہی کے بہت سے طبقات ہوں گے جن میں قسم قسم کے عذاب ہوں گے۔ انہی میں ایک طبقہ حمیم کا بھی ہوسکتا ہے جس کو بوجہ ممتاز اور الگ ہونے کے جہنم سے خارج بھی کہا جاسکتا ہے اور چونکہ یہ بھی ایک طبقہ جہنم ہی کا ہے اس لئے اس کو جہنم بھی کہا جاسکتا ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اہل جہنم زنجیروں میں جکڑے ہوئے کبھی کھینچ کر حمیم میں ڈال دیئے جاویں گے کبھی جحیم میں۔ (معارف القرآن)
74۔ ۔۔۔۔قیامت کے دن مشرکین پر ایسی بدحواسی طاری ہوگی کہ وہ ایک ہی سانس میں اپنے معبودوں کا اقرار بھی کریں گے اور انکار بھی ۔ (تدبرِ قرآن)
75۔ تَفْرَحُوْنَ۔ تَمْرَحُوْنَ۔ فرح کا تعلق قلب سے ہے اور مرح کا جسم سے۔آیت کا یہ مطلب نہیں کہ فرح یا خوشی اپنی مطلق صورت میں ممنوع ہے، مذمت صرف اس فرح کی وارد ہوئی ہے جو آخرت فراموشی اور خدا فراموشی کا نتیجہ ہو،یا اہل ایمان کے مصائب پر بطور طنز و تمسخر کے ہو، طبعی مسرتیں تو سب کی سب بالکل جائز ہیں، اور جو خوشی اللہ کی نعمتوں پر یا اللہ کی رحمت کو یاد کرکے ہو، وہ تو بجائے خود ایک عبادت ہے اور ہر طرح سے محمود و مستحسن ۔فَرِحَ بِغَیرِ الَحقِّ سے مراد شرک و کفر پر خوش ہونا ہے۔۔۔۔ تَمْرَحُوْنَ کے معنی ہیں فخر وناز کرنا، غرور سے اکڑنا ۔۔۔۔آیت سے ضمناً یہ بھی نکل آیا کہ منکروں اور کافروں کو اس دنیا میں اکڑنے، پھولنے، اترانے کے مواقع برابر ملتے رہیں گے۔(تفسیر ماجدی)
77۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو قسم کے عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک وہ عذاب جو اسی دنیا میں پیش آتا ہے اگر قوم رسول کی تکذیب کردیتی ہے اور دوسرا وہ عذاب جس سے آخرت میں سابقہ پیش آئے گا۔ یہاں ’ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ ‘ سے اسی دنیا کے عذاب کی طرف اشارہ ہے۔(تدبرِ قرآن)
78۔ یعنی کسی نبی نے بھی کبھی اپنی مرضی سے کوئی معجزہ نہیں دکھایا ہے، اور نہ کوئی نبی خود معجزہ دکھانے پر قادر تھا۔ معجزہ تو جب بھی کسی نبی کے ذریعہ سے ظاہر ہوا ہے اس وقت ظاہر ہوا ہے جب اللہ نے یہ چاہا کہ اس کے ہاتھ سے کوئی معجزہ کسی منکر قوم کو دکھایا جائے۔ یہ کفار کے مطالبے کا پہلا جواب ہے۔ (تفہیم القرآن)
نواں رکوع |
| اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ ﴿79﴾ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ ﴿80﴾ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ ﴿81﴾ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ ﴿82﴾ فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ﴿83﴾ فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ ﴿84﴾ فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ ۧ ۧ ﴿85ع غافر 40﴾ |
| 79. خدا ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے چارپائے بنائے تاکہ ان میں سے بعض پر سوار ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو۔ 80. اور تمہارے لئے ان میں (اور بھی) فائدے ہیں اور اس لئے بھی کہ (کہیں جانے کی) تمہارے دلوں میں جو حاجت ہو ان پر (چڑھ کر وہاں) پہنچ جاؤ۔ اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو،۔ 81. اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تو تم خدا کی کن کن نشانیوں کو نہ مانو گے۔ 82. کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ (حالانکہ) وہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے اعتبار سے بہت بڑھ کر تھے۔ تو جو کچھ وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آیا۔ 83. اور جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم (اپنے خیال میں) ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز سے تمسخر کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا۔ 84. پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس سے نامعتقد ہوئے۔ 85. لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ (یہ) خدا کی عادت (ہے) جو اس کے بندوں (کے بارے) میں چلی آتی ہے۔ اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑ گئے۔ |
تفسیر آیات
81۔ اٰیٰتِهٖ۔ اٰیٰتِ اللّٰهِ۔مراد وہ سارے واقعات کائنات ہیں جن سے صانع عالم کی توحید پر ،قدرت و عظمت پر، اور صفت علم و حکمت پر روشنی پڑتی ہے۔(تفسیر ماجدی)
82۔ یہ خاتمہ کلام ہے۔ اس حصے کو پڑھتے وقت آیات 4۔ 5۔ اور آیت 21 پر ایک دفعہ پھر نگاہ ڈال لیں۔ (تفہیم القرآن)
83۔ وحی کے علاوہ لوگوں کے پاس اپنے علوم کون سے تھے؟ وہ علم ان کے پاس کیا تھا؟ دیومالائی علم(Mythology)جس کی رو سے انہوں نے ہزاروں دیوتاؤں اور دیویوں کو اللہ کے اختیارات میں شریک بنارکھا تھا۔ پھر ان کا آپس میں بھی اور اللہ سے نسبی رشتہ قائم رکھا تھا۔ علاوہ ازیں علم سے مراد ہر قوم کے اختراعی مذہبی فلسفےاور سائنس اور اپنے ضابطۂ حیات سے متعلق قوانین وغیرہ ہیں۔جب انبیاء ان کے پاس آئے اور انہیں وحی الٰہی کے علم کی دعوت دی تو انہوں نے اپنے ہاں مروجہ علوم کے مقابلہ میں وحی الٰہی کے علم کو ہی ،ہیچ سمجھا اور اس طرف توجہ ہی نہ دی۔کہتے ہیں ارسطو حکیم کو، جو خود اپنے فلسفہ الٰہیات کا موجد تھا جب سیدنا موسیٰؑ کے دین کی طرف عوت دی گئی تو وہ کہنے لگا میں سوچ کر بتاؤں گا۔ بعد میں اس نے یہ جواب دیا کہ ہم خود ہی راہ پائے ہوئے ہیں۔ دوسروں کو ہمیں راہ بتانے کی ضرورت نہیں۔(تیسیر القرآن)