41 - سورة فصلت (مکیہ)

رکوع - 6 آیات - 54

مضمون: توحید کے دلائل، قرآن کے مخالفین کو انذار اور مؤمنین کو کامیابی کی بشارت ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: قرآن کی دعوتِ توحید و آخرت کو تسلیم کرکے صبر و استقامت کا مظاہرہ کروگے تو دنیاوی اور اخروی کامیابی سے نوازے جاؤگے۔ربوبیت کو اللہ ہی سے منسوب کرکے اس پر ڈٹ جانا چاہئے(اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا)

شانِ نزول: سورۂ حٰم السجدہ رسولؐ کے قیام مکہ کے تیسرے دور (6تا10 سن نبوی) کے بالکل آخر میں غالباً 10 سن نبوی میں نازل ہوئی جب قریش مکہ شدت مخالفت کے ساتھ حضورؐ کی دعوت کے بارے میں بدستور شک میں مبتلا تھے۔عربی قرآن پر اعتراض تھا ۔قریش کے لیڈر عوام کو قرآن سننے سے روک رہے تھے۔قریش کے متکبر لیڈروں کے روئیے ،قوم ِ عاد کےمتکبرین کی طرح ، مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً کہنے والوں کی طرح کے تھے۔بعض روایات کے مطابق یہ حضرت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ کے قبولِ اسلام کے درمیانی عرصے یعنی ذوالحجہ 6 سن نبوی میں نازل ہوئی ۔ ترمذی کی روایت سے معلوم ہوتاہے کہ ان دونوں کے قبول اسلام میں صرف تین دن کا فرق تھا۔ ایک دفعہ قریش کے کچھ سردار مسجد حرام میں محفل جمائے بیٹھے تھے اور مسجد کے ایک دوسرے گوشے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنہا تشریف رکھتے تھے۔ اس موقع پر عتبہ بن ربیعہ (ابو سفیان کے خسر) نے سرداران قریش سے کہا کہ صاحبو، اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں جا کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کروں اور ان کے سامنے چند تجویزیں رکھوں، شاید کہ وہ ان میں سے کسی کو مان لیں اور ہم بھی اسے قبول کرلیں اور اس طرح وہ ہماری مخالفت سے باز آجائیں۔ سب حاضرین نے اس سے اتفاق کیا اور عتبہ اٹھ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا بیٹھا۔۔۔۔۔ اب ذرا میری بات سنو۔ میں کچھ تجویزیں تمہارے سامنے رکھتا ہوں۔ ان پر غور کرو۔ شاید کہ ان میں سے کسی کو تم قبول کرلو "۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابوالولید، آپ کہیں، میں سنوں گا۔ اس نے کہا، " بھتیجے، یہ کام جو تم نے شروع کیا ہے، اس سے اگر تمہارا مقصد مال حاصل کرنا ہے تو ہم سب مل کر تم کو اتنا کچھ دیے دیتے ہیں کہ تم ہم میں سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ۔ اگر اس سے اپنی بڑائی چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنائے لیتے ہیں۔ اور اگر تم پر کوئی جن آتا ہے جسے تم خود دفع کرنے پر قادر نہیں ہو تو ہم بہترین اطبا بلواتے ہیں اور اپنے خرچ پر تمہارا علاج کراتے ہیں۔ " عتبہ یہ باتیں کرتا رہا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش سنتے رہے۔ پھر آپ نے فرمایا، ابوالولید آپ کو جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے ؟ اس نے کہا، ہاں۔ ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اچھا، اب میری سنو۔ اس کے بعد آپ نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر اسی سورة کی تلاوت شروع کی اور عتبہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹیکے غور سے سنتا رہا۔ آیت سجدہ (آیت 38) پر پہنچ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ کیا، پھر سر اٹھا کر فرمایا، " اے ابوالولید، میرا جواب آپ نے سن لیا، اب آپ جانیں اور آپ کا کام۔ " عتبہ اٹھ کر سرداران قریش کی مجلس کی طرف چلا تو لوگوں نے دور سے اس کو دیکھتے ہی کہا، خدا کی قسم، عتبہ کا چہرہ بدلا ہوا ہے، یہ وہ صورت نہیں ہے جسے لے کر یہ گیا تھا۔ پھر جب وہ آ کر بیٹھا تو لوگوں نے کہا : کیا سن آئے ؟ اس نے کہا : " بخدا، میں نے ایسا کلام سنا کہ کبھی اس سے پہلے نہ سنا تھا۔ خدا کی قسم، نہ یہ شعر ہے، نہ سحر ہے نہ کہانت۔ اے سرداران قریش، میری بات مانو اور اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کلام کچھ رنگ لا کر رہے گا۔۔۔۔۔ سرداران قریش یہ سنتے ہی بول اٹھے، "ولید کے ابا آخر اس کا جادوتم پر بھی چل گیا "۔(تفسیر ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، تفہیم القرآن)

نظمِ کلام:  سورۂ سبا۔(پانچواں گروپ : سورۂ سبا سے سورۂ احقاف (13) اور سورۂ محمد، الفتح،الحجرات۔)

ترتیب مطالعۂ اور اہم مضامین:  (i)ر۔1( قرآن اور صاحب قرآن کا پیغام) (ii)ر۔2(تخلیق ِ کائنات اور سابقہ اقوام سے درس ِ عبرت ) (iii) ر۔3/4( اللہ کے اور قرآن کے دشمنوں کا انجام اور اہل استقامت کیلئے بشارت) (iv)ر۔5(دعوت الی اللہ اور جزائے عمل) (v) ر۔6 (قیامت کے علم اور انسان کی تھڑ دلی کا بیان)


پہلا رکوع

حٰمٓۚ  ﴿1﴾ تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ  ﴿2﴾ كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ  ﴿3﴾ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ﴿4﴾ وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ ﴿5﴾ قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ  ﴿6﴾ الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ ﴿7﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠   ۧ ۧ ﴿8ع فصلت 41﴾
1. حٰم۔ 2. (یہ کتاب خدائے) رحمٰن ورحیم (کی طرف) سے اُتری ہے۔ 3. کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔ 4. جو بشارت بھی سناتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیر لیا اور وہ سنتے ہی نہیں۔ 5. اور کہتے ہیں کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (یعنی بہراپن) ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے تو تم (اپنا) کام کرو ہم (اپنا) کام کرتے ہیں۔ 6. کہہ دو کہ میں بھی آدمی ہوں جیسے تم۔ (ہاں) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود خدائے واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف (متوجہ) رہو اور اسی سے مغفرت مانگو اور مشرکوں پر افسوس ہے۔ 7. جو زکوٰة نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں۔ 8. جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے (ایسا) ثواب ہے جو ختم ہی نہ ہو۔

تفسیر آیات

لفظ تنزیل  پر اس کے محل میں ہم گفتگو کر چکے ہیں کہ یہ لفظ اہتمام، تدریج اور تفخیم  شان پر دلیل ہوتا ہے۔ یعنی یہ خدائے رحمان و رحیم کی طرف سے نہایت اہتمام کے ساتھ اتاری ہوئی کتاب ہے۔ (تدبرِ قرآن)

قرآن کی چھ صفات :  پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ کلام خدا کی طرف سے نازل ہو رہا ہے۔ یعنی تم جب تک چاہو یہ رٹ لگاتے رہو کہ اسے محمد ﷺ خود تصنیف کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔دوسری بات یہ ارشاد ہوئی ہے کہ اس کا نازل کرنے والا وہ خدا ہے جو اپنی مخلوق پر بےانتہا مہربان (رحمان اور رحیم) ہے۔۔۔تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ اس کتاب کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ اس میں کوئی بات گنجلک اور پیچیدہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔چوتھی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ عربی زبان کا قرآن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔پانچویں بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہے جو علم رکھتے ہیں۔ یعنی اس سے فائدہ صرف دانا لوگ ہی اٹھا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔چھٹی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ یہ کتاب بشارت دینے والی اور ڈرانے والی ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ یہ محض ایک تخیل، ایک فلسفہ، اور ایک نمونہ انشاء پیش کرتی ہو جسے ماننے یا نہ ماننے کا کچھ حاصل نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔(تفہیم القرآن)

۔ یہ خبر کے بعد دوسری خبر اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت و عنایت کی تفصیل ہے جو قرآن کی صورت میں خاص طور پر اس نے اہل عرب پر فرمائی کہ اس کو عربی زبان میں اتارا ۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)

7۔ (i) آیات مکی مگر زکوٰ ۃ کی فرضیت مدینہ میں(اصل زکوٰۃ نماز کے ساتھ ہی فرض ہو گئی تھی ، صرف نصاب، شرح اور انتظامی امور بعد میں نازل کیے گئے) (ii) کفار مخاطب الفرع نہیں ہوتے یعنی نماز ،روزہ ، حج ، زکوٰۃ(عتاب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تم مسلمان ہوتے تو زکوٰۃ ادا کرتے ) (iii) سب سے مقدم نماز کا ذکر نہیں(قریش کے امیر لوگ غریبوں کی مدد کرتے تھے ۔لیکن انہوں نے مسلمانوں کی مدد بند کردی۔اس لئے زکوٰۃ کا خصوصی ذکر)  (معارف القرآن)

۔ اس تفسیر کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک کر کے خدا کا اور زکوٰۃ نہ دے کر بندوں کا حق مارتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)

۔ "لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ" میں ’ زَكٰوةَ‘ سے مراد انفاق فی سبیل اللہ ‘ ہے۔ اس مفہوم کے لئے یہ لفظ اسلام کے مکی دور میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ مدنی دور میں آ کر اس کی ایک باضابطہ شکل معین ہوگئی اور پھر اس کا اطلاق اسی پر ہونے لگا۔ یہاں یہ لفظ اپنے عام مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور اس مفہوم میں اس زمانے میں معروف تھا۔ (تدبرِ قرآن)

اصل میں اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کے دو معنی اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایسا اجر ہوگا جس میں کبھی کمی نہ آئے گی۔ دوسرے یہ کہ وہ اجر احسان جتا جتا کر نہیں دیا جائے گا جیسے کسی بخیل کا عطیہ ہوتا ہے کہ اگر وہ جی کڑا کر کے کسی کو کچھ دیتا بھی ہے تو بار بار اس کو جتاتا ہے۔(تفہیم القرآن)


دوسرا رکوع

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ  ﴿9﴾ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ ﴿10﴾ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ ﴿11﴾ فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ ﴿12﴾ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ  ﴿13﴾ اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ ﴿14﴾ فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ ﴿15﴾ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ ﴿16﴾ وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ  ﴿17﴾ وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿18ع فصلت 41﴾
9. کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا۔ اور (بتوں کو) اس کا مدمقابل بناتے ہو۔ وہی تو سارے جہان کا مالک ہے۔ 10. اور اسی نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا (سب) چار دن میں۔ (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں۔ 11. پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں۔ 12. پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس (کے کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں سے) محفوظ رکھا۔ یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں۔ 13. پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسے چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)۔ 14. جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔ 15. جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے۔ 16. تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) ان کو مدد بھی نہ ملے گی۔ 17. اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا رستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا دھند رہنا پسند کیا تو ان کے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا۔ اور وہ ذلت کا عذاب تھا۔ 18. اور جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے ان کو ہم نے بچا لیا۔

تفسیر آیات

10۔ فی اربعۃ ایام: یہاں بھی وہ 24 گھنٹے والے دنوں کے بجائے چار مختلف وقت یا دور مراد ہیں، جن کی یہ چار منزلیں صاف معلوم ہوتی ہیں:۔(1)پہلے خود زمین کا ظہور اپنے مدار میں۔(2)دوسرے اس کی سطح پر پہاڑوں وغیرہ کا وجود ۔(3)تیسیرے اس پر بارش کا نزول۔(4)چوتھے اس پر نباتات و حیوانات وغیرہ کی پیدائش۔(تفسیر ماجدی)

۔ زمین کی برکتوں سے مراد وہ بےحد و حساب سر و سامان ہے جو کروڑہا کروڑ سال سے مسلسل اس کے پیٹ سے نکلتا چلا آ رہا ہے اور خورد بینی کیڑوں سے لے کر انسان کے بلند ترین تمدن تک کی روز افزوں ضروریات پوری کیے چلا جا رہا ہے۔ ان برکتوں میں سب سے بڑی برکتیں ہوا اور پانی ہیں جن کی بدولت ہی زمین پر نباتی، حیوانی اور پھر انسانی زندگی ممکن ہوئی۔۔۔۔۔ابن زید اس کے معنی یہ بیان کرتے ہیں کہ " زمین میں اس کے ارزاق مانگنے والوں کے لیے چار دنوں کے اندر رکھ دیے ٹھیک اندازے سے ہر ایک کی طلب و حاجت کے مطابق "۔ (تفہیم القرآن)

۔ اول یہ کہ آسمان سے مراد یہاں پوری کائنات ہے، جیسا کہ بعد کے فقروں سے ظاہر ہے۔ دوسرے الفاظ میں آسمان کی طرف متوجہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تخلیق کائنات کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ دوم یہ کہ دھوئیں سے مراد مادے کی وہ ابتدائی حالت ہے جس میں وہ کائنات کی صورت گری سے پہلے ایک بےشکل منتشر الاجزاء غبار کی طرح فضا میں پھیلا ہوا تھا۔ موجودہ زمانہ کے سائنسداں اسی چیز کو سحابیے (Nebula) سے تعبیر کرتے ہیں اور آغاز کائنات کے متعلق ان کا تصور بھی یہی ہے کہ تخلیق سے پہلے وہ مادہ جس سے کائنات بنی ہے، اسی دخانی یا سحابی شکل میں منتشر تھا۔ سوم یہ کہ " پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا " سے یہ سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ پہلے اس نے زمین بنائی، پھر اس میں پہاڑ جمانے، برکتیں رکھنے اور سامان خوراک فراہم کرنے کا کام انجام دیا، پھر اس سے فارغ ہونے کے بعد وہ کائنات کی تخلیق کی طرف متوجہ ہوا۔ اس غلط فہمی کو بعد کا یہ فقرہ رفع کردیتا ہے کہ " اس نے آسمان اور زمین سے کہا وجود میں آجاؤ اور انہوں نے کہا ہم آگئے فرماں برداروں کی طرح "۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس آیت اور بعد کی آیات میں ذکر اس وقت کا ہو رہا ہے جب نہ زمین تھی نہ آسمان تھا بلکہ تخلیق کائنات کی ابتدا کی جارہی تھی۔ محض لفظ ثُمَّ (پھر) کو اس بات کی دلیل نہیں بنایا جاسکتا کہ زمین کی پیدائش آسمان سے پہلے ہوچکی تھی۔ قرآن مجید میں اس امر کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ ثُمَّ کا لفظ لازماً ترتیب زمانی ہی کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ ترتیب بیان کے طور پر بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، سورة زمر، 12)۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قدیم زمانے کے مفسرین میں یہ بحث مدت ہائے دراز تک چلتی رہی ہے کہ قرآن مجید کی رو سے زمین پہلے بنی ہے یا آسمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں انسان کو خدا کی نعمتوں کا احساس دلانا مقصود ہوتا ہے وہاں بالعموم وہ زمین کا ذکر پہلے کرتا ہے، کیونکہ وہ انسان سے قریب تر ہے۔ اور جہاں خدا کی عظمت اور اس کے کمال قدرت کا تصور دلانا مقصود ہوتا ہے وہاں بالعموم وہ آسمانوں کا ذکر پہلے کرتا ہے، کیونکہ چرخ گردوں کا منظر ہمیشہ سے انسان کے دل پر ہیبت طاری کرتا رہا ہے۔ (تفہیم القرآن) 

12۔  زمین و آسمان کی تخلیق ،ترتیب اور زمانۂ تخلیق:۔ قر آن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان یعنی کائنات کو چھ ایام (یا ادوار)میں بنایا۔پھر بعض روایات میں بھی یہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ میں فلاں کام کیا تھا اور اتوار کو فلاں اور پیرکو فلاں اسی طرح  چھ دنوں کے الگ الگ کام بھی مذکور ہیں۔حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ ایسی سب روایات ناقابل اعتماد اور اسرائیلیات سے ماخوذ ہیں۔ لہذا ان کا کچھ اعتبار نہیں البتہ کسی مقام پر تو یہ مذکور ہے کہ زمین آسمانوں سے پہلے پیدا کی گئی اور کسی مقام سے یہ معلوم ہوتاہے کہ زمین بعد میں پیدا ہوئی اور کبھی یہ اشتباہ پیدا ہونے لگتاہے کہ کائنات کی پیدائش میں چھ کے بجائے آٹھ دن لگے تھے۔ایسے شبہات و اختلافات کا بہترین جواب وہ ہے جو سیدنا ابن عباسؓ نے ایک سائل کو دیا تھا۔اور یہ جواب سورہ نساء کی آیت نمبر 82 کے حاشیہ میں ملاحظہ کرلیا جائے۔(تیسیر القرآن)

ــــ سَمَآء کا ترجمہ کوئی اس سیاق میں اگر ضبابہ (Nebula) کہرسے کرنا چاہے تو بے تکلف کرسکتاہے ،ضبابہ یا کہر وہ لطیف مادّی چادر ہے، جو کرۂ زمین کو ہرطرف سے گھیرے ہوئے اور اپنے لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔۔۔۔۔اور یہی نہیں بلکہ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی مصباح آیا ہے(بجز سورۃ النور کی ایک آیت کے)ہرجگہ مراد ستارہ ہی سے ہے۔۔۔۔یہی مضمون سورۃ الصافات(آیت:7)سورہ الملک (آیت:5)میں بھی آیا ہے، دونوں کے شروع میں ان دونوں جگہوں کے حاشیے بھی دیکھ لیے جائیں ۔(تفسیر ماجدی)

ــــ دھوئیں سے مراد غبار یا سائنس دانوں کی اصطلاح میں نیبولا (Nebula)یا سحابیہ ہے۔ معلوم ہوا کہ اس وقت آسمان اپنی ایک ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا جو انہی دنوں میں وجود پذیر ہوتی رہی جن میں زمین کی خلقت کا مرحلہ طے پایا۔اللہ تعالیٰ نے آسمان کو سات آسمانوں کی شکل دی اور نظام کائنات میں اس کو ایک خاص فریضہ کا پابند کیا۔ اس طرح چھ دنوں میں تخلیق ِکائنات مکمل ہوئی۔'رضامندانہ حاضر ہیں'سے مراد یہ ہے کہ کائنات کی جو چیزیں جبلی طورپر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتی ہیں ان کی اطاعت مجبورانہ نہیں بلکہ رضامندانہ ہے۔ گویا کائنات کی ہر چیز اپنی جبلت کے لحاظ سے مسلم ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

13۔ ان قوموں پر جوعذاب آیا وہ شمال کی بادتند ،ژالہ باری اور ہولناک رعد و برق کا مجموعہ تھا ۔اس کو 'کڑکے 'سے تعبیر کیا ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

14۔ اس آیت کے کئی مطلب ہیں۔ایک یہ کہ ان کے پاس یکے بعد دیگرے رسول آتے رہے ۔دوسرا یہ کہ ان کے پاس جو رسول آئے انہوں نے ان لوگوں کو ہر پہلو سے سمجھانے کی کوشش کی اور تیسرا یہ کہ ان کے اپنے علاقہ میں بھی رسول آئے اور ان کے گردوپیش کے علاقہ میں بھی اور ان کی تعلیم بھی ان تک پہنچ چکی تھی۔(تیسیر القرآن)

16۔ " منحوس دنوں " کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دن بجائے خود منحوس تھے۔۔۔۔۔۔یہ مطلب اگر ہوتا اور بجائے خود ان دنوں ہی میں کوئی نحوست ہوتی تو عذاب دور و نزدیک کی ساری ہی قوموں پر آجاتا۔۔۔۔۔۔۔اس آیت سے دنوں کے سعد و نحس پر استدلال کرنا درست نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔ ’ رِیْح صَرْصَر‘ سے مراد وہ باد تند ہے جو عرب میں شدید سردیوں کے زمانے میں شمال سے چلتی ہے اور جس کے ساتھ سرما کے بادل بھی ہوتے ہیں اور گرج چمک بھی۔ ’ اَیَّامٌ نَّحِسَات‘ سخت سردی کے ان دنوں کو بھی کہتے ہیں جن میں سردی کی شدت کے سبب سے ہر چیز پر اداسی، افسردگی، خشکی اور ایک قسم کی نحوست چھا جاتی ہے۔ (تدبرِ قرآن)

۔ ضحاک نے فرمایا کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے تین سال تک بارش بالکل بند کردی اور تیز و تند خشک ہوائیں چلتی رہیں اور آٹھ روز سات راتیں مسلسل ہوا کا شدید طوفان رہا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ واقعہ آخر شوال میں ایک بدھ سے شروع ہو کر دوسرے بدھ تک رہا۔ اور جس کسی قوم پر عذاب آیا ہے وہ بدھ ہی کے دن آیا ہے۔ (قرطبی ومظہری) (معارف القرآن)


تیسرا رکوع

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ ﴿19﴾ حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿20﴾ وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ﴿21﴾ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ ﴿22﴾ وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴿23﴾ فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ ﴿24﴾ وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿25ع فصلت 41﴾
19. اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کرلیئے جائیں گے۔ 20. یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور چمڑے (یعنی دوسرے اعضا) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے۔ 21. اور وہ اپنے چمڑوں (یعنی اعضا) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں شہادت دی؟ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔ 22. اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے بلکہ تم یہ خیال کرتے تھے کہ خدا کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں۔ 23. اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔ 24. اب اگر یہ صبر کریں گے تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور اگر توبہ کریں گے تو ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ 25. اور ہم نے (شیطانوں کو) ان کا ہم نشین مقرر کردیا تھا تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے تھے اور جنات اور انسانوں کی جماعتیں جو ان سے پہلے گذر چکیں ان پر بھی خدا (کے عذاب) کا وعدہ پورا ہوگیا۔ بےشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

تفسیر آیات

19۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ ایک ایک نسل اور ایک ایک پشت کا حساب کر کے اس کا فیصلہ یکے بعد دیگرے کیا جاتا رہے، بلکہ تمام اگلی پچھلی نسلیں بیک وقت جمع کی جائیں گی اور ان سب کا اکٹھا حساب کیا جائے گا۔ (تفہیم القرآن)

20۔ یہ آیت منجملہ ان بہت سی آیات کے ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عالم آخرت محض ایک روحانی عالم نہیں ہوگا بلکہ انسان وہاں دوبارہ اسی طرح جسم و روح کے ساتھ زندہ کیے جائیں گے جس طرح وہ اب اس دنیا میں ہیں۔ یہی نہیں، ان کو جسم بھی وہی دیا جائے گا جس میں اب وہ رہتے ہیں۔ وہی تمام اجزاء اور جواہر (Atoms) جن سے ان کے بدن اس دنیا میں مرکب تھے، قیامت کے روز جمع کردیئے جائیں گے اور وہ اپنے انہی سابق جسموں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے جن کے اندر رہ کر وہ دنیا میں کام کرچکے تھے ظاہر ہے کہ انسان کے اعضاء وہاں اسی صورت میں تو گواہی دے سکتے ہیں جبکہ وہ وہی اعضاء ہوں جن سے اس نے اپنی پہلی زندگی میں کسی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ (تفہیم القرآن)

۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ لفظ ’ جلود ‘ قرآن مجید میں رونگٹوں کے مفہوم میں آیا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

22۔ کثرت سے مشرک "حکماء و فلاسفہ "نے علم کو ناقص سمجھا ہے، کسی نے یہ کہا ہے کہ خدا کو علم صرف کلیات کا ہوتاہے جزئیات کا نہیں، اور کسی نے کچھ اور ۔بہر حال مشرکین کو صفات کمالیہ الٰہیہ ہی کے سمجھنے میں شدید ٹھوکر لگی ہے خصوصاً علم کے باب میں۔(تفسیر ماجدی)


چوتھا رکوع

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ ﴿26﴾ فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ﴿27﴾ ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ ﴿28﴾ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ ﴿29﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ﴿30﴾ نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ  ﴿31﴾ نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠   ۧ ۧ ﴿32ع فصلت 41﴾
26. اور کافر کہنے لگے کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب پڑھنے لگیں تو) شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب رہو۔ 27. سو ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کے مزے چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی جو وہ کرتے تھے سزا دیں گے۔ 28. یہ خدا کے دشمنوں کا بدلہ ہے (یعنی) دوزخ۔ ان کے لئے اسی میں ہمیشہ کا گھر ہے۔ یہ اس کی سزا ہے کہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے۔ 29. اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں۔ 30. جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اُتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ۔ 31. ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (تمہارے رفیق ہیں) ۔ اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم کو (ملے گی) اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے (موجود ہوگی)۔ 32. (یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔

تفسیر آیات

30۔( آیات البر30 تا 36) استقامت کے معنی ۔جن لوگوں نے سچے دل سے اللہ تعالیٰ کو اپنا رب یقین کرلیا اور اس کا اقراربھی کرلیا ،یہ تو اصل ایمان ہوا ۔آگے اس پر مستقیم بھی رہے ۔یہ عمل ِ صالح ہوااس طرح ایمان اور عمل صالح کے جامع ہوگئے ۔قُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ، ثُمَّ اسْتَقِمْ ۔ (معارف القرآن)

- ابوحیانؒ نے بحر محیط میں فرمایا کہ میں تو کہتا ہوں کہ مومنین پر فرشتوں کا نزول ہرروز ہوتاہے جس کے آثار و برکات ان کے اعمال میں پائے جاتے ہیں۔(معارف القرآن)

- ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ شانِ بندگی کیا ہے؟  (استقامت ) اور شانِ بندہ نوازی کیا ہے؟( فرشتوں کا نزول اور جنت کی بشارت)۔۔۔۔۔ حضرت عمرؓ نے اسْتَقَامُوْا  کی تفسیر یوں کی : وہ ثابت قدمی سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اور لومڑی کی طرح حیلہ سازیاں کرکے راہِ فرار اختیار نہیں کرتے۔(ضیاء القرآن)

۔آیات: 30 تا 36 میں آیت 33 پوری سورت کا عمود ہے۔(بیان القرآن)

ــــ ربُّنَا۔ صفت ربوبیت کی تخصیص اس لیے فرمائی گئی کیونکہ مشرکوں کو سب سے زیادہ دھوکا اس ہی صفت ربوبیت پر ہوا ہے۔ کارساز ہی وہ دوسرے کو جانتے ہیں، ورنہ خالق تو شاید ہی کسی کافر نے کبھی غیراللہ کو سمجھا ہو۔۔۔۔شرک عموماً دنیا میں صفت ربوبیت اور اس کے مقتضیات میں دھوکا کھانے سے پیدا ہواہے۔۔۔۔مومن ناظر کو چاہئے  کہ جب اس آیت پُر بشارت پر پہنچے ،تو آگے بڑھنے سے قبل ذرا اپنی موت کے وقت کا اس وعدۂ الٰہی کے ساتھ مراقبہ کرلے۔ نزع میں کہ انتہائی بے بسی کا وقت ہوتاہے یہ مژدۂ رحمت کس درجہ باعثِ بشاشت و شادمانی ہوگا!۔۔۔۔ زبان کا کوئی لفظ مسرت و انبساط کی اس انتہائی کیفیت کو ادا  کرہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔جلال الدین سیوطیؒ نےشرح الصدور میں تمیم داری صحابیؓ کے حوالے سے ایک بڑی طویل حدیث اس مضمون کی نقل کی ہے کہ مومن صالح کی روح کے قبض کے وقت فرشتۂ موت اس کے پاس اس کی دلچسپیوں کا بہتر سے بہتر سامان لے کر آتاہے،اور جس طرح بچہ کے نشتر لگتے وقت اسے بہلا پھسلا لیا جاتاہے،اس احتضار والے مومن کو انہی دلچسپیوں میں بہلا کر چپکے سے بلا شائبہ تکلیف اُس کی روح کو جسم سے باہر لے آتاہے،اس گھڑی جسم روح کو مبارک باد دیتاہے اور روح  جسم کو، فرشتے اس کے حق میں دعائیں اور طلب مغفرت کرتے ہیں اور شیطان پچھاڑ یں کھاتاہے کہ شکار ہاتھ سے نکل گیا!(شرح الصدور،ص:24)۔۔۔۔۔ تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ۔ یہ فرشتے رحمت اور بشارت کے ہوں گے،اور ان کا نزول پہلے موت کے وقت ہوگا،پھر قبر میں ،اور پھر بعثت کے وقت۔۔۔۔ بلکہ محققین عارفین نے تو ترقی کرکے یہاں تک کہا ہے کہ ملائکہ رحمت کا نزول تو مومنین صادقین پر ہر وقت اور ہر آن ہوتا رہتاہے۔۔۔۔الفاظ آیت سے ایک پہلو ردِ شرک کا بھی نکل رہاہے ،مشرک قوموں نے اپنے دیوی دیوتاؤں کو باربار پکارا ہے۔قرآن مجید بالواسطہ یہ کہہ رہاہے کہ اگر نزولِ ملائکہ کے آرزو مند ہو تو اس کا بھی یہ طریقہ نہیں کہ خود ان ملائکہ کو پکارنے لگو،بلکہ اللہ، اپنے رب ہی سے دل لگاؤ،اور اس پر جم جاؤ (قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْابس اسی سے نزول ملائکہ بھی ہونے لگے گا(تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكةُ) ۔۔۔۔۔امام رازیؒ نے کہاہے کہ یہ آیت مومن کے حق میں بہت بڑی بشارت ہے،اور ایک وعدہ اس امر کا ہے کہ اسے کوئی غم و حزن  نہ موت کے وقت ہوگا،نہ قبر میں، نہ حشر میں، بلکہ ان سارے موقعوں پر وہ مطمئن و پُرسکون رہے گا۔(کبیر، ج27/ص: 106) (تفسیر ماجدی)

31۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس دنیا میں بھی اہل ایمان کے ساتھ رہتے ہیں ۔نیکی کی راہ سمجھانا اور اس سلسلہ میں مشکلات میں ہمت بندھانا۔ان کی مدد سے محروم تب ہوتاہے جب باگ شیطان کے ہاتھ میں پکڑا دیتا ہے ۔فرشتوں کی مدد و معیت پر سورۂ انفال میں لکھا جا چکا ۔(تدبرقرآن)

ـــ مومن جنتیوں سے متعلق یہ جو باربار مشاہدے میں آیا ہے کہ عین احتضار کے وقت اُن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی ہے،عجب نہیں کہ عین وہی وقت اس بشارت ملائکہ کا ہوتاہو!۔۔۔۔۔اکبر الٰہ آبادی نے اسے اپنی شاعرانہ زبان میں یوں کہا ہے۔

؎  احساس ہی ایذا کا نہ رہا فریاد و فغاں میں کیا کرتا                                           آنکھ اپنی لڑی بھی قاتل سے جس وقت تہہ خنجر تھا گلا  (تفسیر ماجدی)

؎  نشان مرد مومن بتو گوئم                                                 چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست     (علامہ اقبال)

32۔ نُزُلًا بمعنی مہمانی فرما کر اس طرف اشارہ کر دیا کہ بہت سی وہ نعمتیں جن کی تمنا بھی تمہارے دل میں پیدا نہیں ہوئی ملیں گی جیساکہ کسی بڑے کا مہمان وہ چیز یں بھی حاصل کرتاہے کہ جس کے بارے میں اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوتا ۔ (معارف القرآن)

- یہ کتنی بڑی عزت و توقیر ہے کہ ایک بندۂ ضعیف رب العزت کا مہمان ہو جیسے حاجی ضیوف الرحمن۔ بندہ مہمان اور خداوندِ عرش میزبان (تفسیرعثمانی)

ــــ اللہ! اللہ ! کوئی حد و نہایت ہے بندہ پروری،بندہ نوازی، اور حد بھی عزت افزائی کی !۔(تفسیر ماجدی)


پانچواں رکوع

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ﴿33﴾ وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ ﴿34﴾ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ ﴿35﴾ وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ﴿36﴾ وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ ﴿37﴾ فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩   ﴿38﴾ وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴿39﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ﴿40﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ  ﴿41﴾ لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ ﴿42﴾ مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ ﴿43﴾ وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠   ۧ ۧ ﴿44ع فصلت 41﴾
33. اور اس شخص سے بات کا اچھا کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور عمل نیک کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں۔ 34. اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے۔ 35. اور یہ بات ان ہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں۔ اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں۔ 36. اور اگر تمہیں شیطان کی جانب سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو خدا کی پناہ مانگ لیا کرو۔ بےشک وہ سنتا جانتا ہے۔ 37. اور رات اور دن اور سورج اور چاند اس کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو۔ بلکہ خدا ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے۔ 38. اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو (خدا کو بھی ان کی پروا نہیں) جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں۔ 39. اور (اے بندے یہ) اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی ہوئی (یعنی خشک) دیکھتا ہے۔ جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 40. جو لوگ ہماری آیتوں میں کج راہی کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے۔ (تو خیر) جو چاہو سو کرلو۔ جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ 41. جن لوگوں نے نصیحت کو نہ مانا جب وہ ان کے پاس آئی۔ اور یہ تو ایک عالی رتبہ کتاب ہے۔ 42. اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔ (اور) دانا (اور) خوبیوں والے (خدا) کی اُتاری ہوئی ہے۔ 43. تم سے وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو تم سے پہلے اور پیغمبروں سے کہی گئی تھیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بخش دینے والا بھی اور عذاب الیم دینے والا بھی ہے۔ 44. اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں۔ کیا (خوب کہ قرآن تو) عجمی اور (مخاطب) عربی۔ کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے (یہ) ہدایت اور شفا ہے۔ اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (یعنی بہراپن) ہے اور یہ ان کے حق میں (موجب) نابینائی ہے۔ گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے۔

تفسیر آیات

33۔  اصلاحِ نفس کے ساتھ ساتھ دوسروں کو تبلیغ:۔  پچھلی آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہواجو اللہ پر ایمان لانے کے بعد ساری زندگی اپنے اس قول و قرار پر پہرہ بھی دیتے ہیں۔ اس آیت میں ان سے بھی اگلے درجہ کے ایمانداروں کا ذکر ہے۔ یعنی وہ لوگ صرف خود ہی احکامِ الٰہی کی بجاآوری پر جمے نہیں رہتے بلکہ دوسروں کو اسی بات کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ سب سے پہلے خود عمل پیرا ہوکر اللہ کی فرماں برداری کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دوسروں کو بلاتے ہیں۔ ان لوگوں کا پہلے خود عمل پیراہونا پھر اس کے بعد اللہ کے دین کی طرف بلانا انتہائی بہترین عمل ہے۔(تیسیر القرآن)

۔ گزشتہ آیت میں ان کو بتایا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی پر ثابت قدم ہوجانا اور اس راستے کو اختیار کرلینے کے بعد پھر اس سے منحرف نہ ہونا بجائے خود وہ بنیادی نیکی ہے جو آدمی کو فرشتوں کا دوست اور جنت کا مستحق بناتی ہے۔ اب ان کو بتایا جا رہا ہے کہ آگے کا درجہ، جس سے زیادہ بلند کوئی درجہ انسان کے لیے نہیں ہے، یہ ہے کہ تم خوب نیک عمل کرو، اور دوسروں کو اللہ کی بندگی کی طرف بلاؤ، اور شدید مخالفت کے ماحول میں بھی، جہاں اسلام کا اعلان و اظہار کرنا اپنے اوپر مصیبتوں کو دعوت دینا ہے، ڈٹ کر کہو کہ میں مسلمان ہوں۔ اس ارشاد کی پوری اہمیت سمجھنے کے لیے اس ماحول کا نگاہ میں رکھنا ضروری ہے جس میں یہ بات فرمائی گئی تھی۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ جو شخص بھی مسلمان ہونے کا اظہار کرتا تھا اسے یکایک یہ محسوس ہوتا تھا کہ گویا اس نے درندوں کے جنگل میں قدم رکھ دیا ہے جہاں ہر ایک اسے پھاڑ کھانے کو دوڑ رہا ہے۔ اور اس سے آگے بڑھ کر جس نے اسلام کی تبلیغ کے لیے زبان کھولی اس نے تو گویا درندوں کو پکار دیا کہ آؤ اور مجھے بھنبھوڑ ڈالو۔ (تفہیم  القرآن)

34۔ حضرت صدیق اکبر کو کسی نے گالی دی یا براکہا تو آپؓ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر تم اپنے کلام میں سچے ہو تو اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے اور اگر تم نے جھوٹ بولا ہے تو اللہ تمہیں معاف فرمائے (قرطبی)(معارف القرآن)

36۔ اس مقام کی بہترین تفسیر وہ واقعہ ہے جو امام احمد نے اپنی مسند میں حضرت ابوہریرہ سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی ﷺ کی موجودگی میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو بےتحاشا گالیاں دینے لگا۔ حضرت ابوبکر خاموشی کے ساتھ اس کی گالیاں سنتے رہے اور نبی ﷺ انہیں دیکھ کر مسکراتے رہے۔ آخر کار جناب صدیق کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور انہوں نے بھی جواب میں اسے ایک سخت بات کہہ دی۔ ان کی زبان سے وہ بات نکلتے  ہی  حضور ﷺ پر شدید انقباض طاری ہوا جو چہرہ مبارک پر نمایاں ہونے لگا اور آپ فوراً اٹھ کر تشریف لے گئے۔ حضرت ابوبکر ؓ بھی اٹھ کر آپ کے پیچھے ہو لیے اور راستے میں عرض کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے، وہ مجھے گالیاں دیتا رہا اور آپ خاموش مسکراتے رہے، مگر جب میں نے اسے جواب دیا تو آپ ناراض ہوگئے ؟ فرمایا " جب تک تم خاموش تھے، ایک فرشتہ تمہارے ساتھ رہا اور تمہاری طرف سے اس کو جواب دیتا رہا، مگر جب تم بول پڑے تو فرشتے کی جگہ شیطان آ گیا۔ میں شیطان کے ساتھ تو نہیں بیٹھ سکتا تھا" یہ پانچواں موقع ہے جہاں حضورؐ اور آپ کے واسطہ سے اہل ایمان کو دعوتِ دین اور اصلاح خلق کی یہ حکمت سکھائی گئی ہے۔ اس سے پہلے چار مقامات (الاعراف:حواشی149-153،النحل123،122،المومنون حواشی89- 90،النعکبوت:81تا 82)۔ (تفہیم القرآن)

37۔ہئیت و فلکیات کے مسائل پر بحث قرآن کے موضوع سے یکسر خارج ہے۔(تفسیر ماجدی)

40۔عوام الناس کو چند فقروں میں یہ سمجھانے کے بعد کہ محمد ﷺ جس توحید آخرت کے عقیدے کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہی معقول ہے اور آثار کائنات اسی کے حق ہونے کی شہادت دے رہے ہیں، اب روئے سخن پھر ان مخالفین کی طرف مڑتا ہے جو پوری ہٹ دھرمی کے ساتھ مخالفت پر تلے ہوئے تھے۔ (تفہیم القرآن)

۔ الحاد کے معنی:۔"یُلْحِدُوْنَ"کا مادہ لحد ہے اور لحد بمعنی قبر اور اس کا بغلی حصہ اور الحَدَ بمعنی راہ راست سے کسی ایک طرف ہوجانا اور اَلحَدَ السَّھمُ کے معنی تیر کا نشانہ کے کسی ایک پہلو میں لگنا اور اَلحَدَ عَنِ الدِّینِ کے معنی دین میں طعن کرنا۔ (مفردات القرآن)اور اس الحاد کا تعلق عقائد سے ہوتاہے(فق۔ل189)جیسے اللہ کی ذات و صفات میں شک کرنا یا اس کے غلط معنی لینا یا معجزات سے انکار کرنا ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا:"والذین یُلحدون فی اسمائِہٖ"(7: 180)یعنی جو لوگ اللہ کے ناموں (صفات)میں کجی اختیار کرتے ہیں۔الحادکا تعلق اللہ کی صفات سے۔ملحدین کون کون سے ہیں؟:َاس لحاظ سے اس مقام پر اللہ کی آیات سے مراد اللہ کی صفات بیان کرنے والی آیات ہوگا اس کی مثال جیسے اللہ کی تقدیر سے تعلق رکھنے والی آیات میں الحاد کی بناپر قدریہ اور جبریہ دوفرقے وجود میں آگئے ۔خوارج نے بھی اللہ کے حکم ہونے سے مراد یہ لی کہ اللہ کے علاوہ نہ اللہ کا قرآن حکم بن سکتاہے اور نہ ہی انسان حکم بن سکتاہے ۔معتزلہ نے  اللہ کی صفات کو اللہ کی ذات سے جدا کرکے اللہ کی صفات کو حادث قراردیا اور مسئلہ خلق قرآن کا فتنہ اٹھا کھڑا کیا۔علاوہ ازیں جتنے بھی گمراہ فرقے ہیں سب ہی اللہ کی صفات میں الحاد کرکے اس سے اپنا مفید مطلب مفہوم کشید کرلیتے ہیں۔ایسے ملحدین جو خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنتے ہیں سب اللہ کی نظر میں ہیں۔اور وہ اس سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے۔(تیسیر القرآن)

42۔قرآن کی حفاظت کے بعض پہلو: ایک یہ کہ قرآن کے زمانہ نزول میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا خاص اہتمام فرمایا کہ قرآن کی وحی میں شیاطین کوئی مداخلت نہ کرسکیں۔۔۔۔۔دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے اپنے جس فرشتہ کو منتخب کیا اس کی صفت قرآن میں ذِی قُوَّۃٍ ،مُطَاع، قَوِیّ، اَمِین اور عِندَ ذِی العَرشِ مَکِینٌ وارد ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو اٹھانے کے لئے جس بشر کو منتخب فرمایا اول تو وہ ہر پہلو سے خود خیر الخلائق تھا ثانیاً قرآن کو یاد رکھنے اور اس کی حفاظت و ترتیب کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے تنہا اس کے اوپر نہیں ڈالی بلکہ یہ ذمہ داری اپنے اوپر لی۔۔۔۔۔چوتھا یہ کہ قرآن اپنی فصاحت الفاظ اور بلاغت معنی کے اعتبار سے معجزہ ہے۔ جس کے سبب سے کسی غیر کا کلام اس کے ساتھ پیوند نہیں ہوسکتا۔ یہاں تک کہ نبی ﷺ کا اپنا کلام بھی۔۔۔۔۔۔پانچواں یہ کہ قرآن کی حفاظت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی زبان کی حفاظت کا بھی قیامت تک کے لئے وعدہ فرما لیا۔ (تدبرِ قرآن)

44۔مراد قیامت کا دن ہے جس میں داعی ان کو بہت دور سے پکارے گا اور یہ اس کی طرف بھاگیں گے۔ مجال نہیں کہ ذرا بھی تاخیر یا سرموانحراف کرسکیں۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)


چھٹا رکوع

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ ﴿45﴾مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ﴿46﴾ اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ  ﴿47﴾ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ ﴿48﴾ لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ ﴿49﴾ وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ ﴿50﴾ وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ ﴿51﴾ قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ ﴿52﴾ سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ ﴿53﴾ اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠   ۧ ۧ ﴿54ع فصلت 41﴾
45. اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں۔ 46. جو نیک کام کرے گا تو اپنے لئے۔ اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ 47. قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے (یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے) اور نہ تو پھل گا بھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ ان کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں۔ 48. اور جن کو پہلے وہ (خدا کے سوا) پکارا کرتے تھے (سب) ان سے غائب ہوجائیں گے اور وہ یقین کرلیں گے کہ ان کے لئے مخلصی نہیں۔ 49. انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا اور آس توڑ بیٹھتا ہے۔ 50. اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہو۔ اور اگر (قیامت سچ مچ بھی ہو اور) میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو میرے لئے اس کے ہاں بھی خوشحالی ہے۔ پس کافر جو عمل کیا کرتے وہ ہم ان کو ضرور جتائیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ 51. اور جب ہم انسان پر کرم کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے۔ اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ 52. کہو کہ بھلا دیکھو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو (حق کی) پرلے درجے کی مخالفت میں ہو۔ 53. ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ (قرآن) حق ہے۔ کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے۔ 54. دیکھو یہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے سے شک میں ہیں۔ سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔

تفسیر آیات

45۔ اس ارشاد کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے یہ طے نہ کردیا ہو تاکہ لوگوں کو سوچنے سمجھنے کے لیے کافی مہلت دی جائے گی تو اس طرح کی مخالفت کرنے والوں کا خاتمہ کردیا جاتا۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ نے پہلے ہی یہ طے نہ کرلیا ہوتا کہ اختلافات کا آخری فیصلہ قیامت کے روز کیا جائے گا تو دنیا ہی میں حقیقت کو بےنقاب کردیا جاتا اور یہ بات کھول دی جاتی کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون۔ (تفہیم القرآن)

۔ یہود، یہ اعتراض بھی لوگوں کو سکھاتے تھے کہ جب تورات، اللہ کی کتاب موجود ہے اور اس کا کتاب الٰہی ہونا قرآن کو بھی تسلیم ہے تو آخر ایک نئی کتاب نازل کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔تورات میں اس طرح کے تضادات کے پیدا ہونے کی وجہ کی طرف ہم پیچھے اشارہ کرچکے ہیں کہ حفاظت کا وہ اہتمام اس کو حاصل نہ ہوسکا جو قرآن کو حاصل ہوا۔ اس پر متعدد بار ایسی آفتیں آئیں کہ پوری تورات ناپید ہوگئی۔ بعد میں جن لوگوں نے اس کو مرتب کیا محض اپنی یادداشت سے مرتب کیا اور یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کے مرتب کرنے والے کون اور کن صفات کے لوگ تھے۔ اس کے بعض صحیفے بالکل صیغہ راز میں رکھے جاتے تھے جن کے مندرجات سے خاص محرمان راز کے سوا دوسرے لوگ واقف نہیں ہو سکتے تھے اس لئے کہ ان میں ایسی باتیں جن کی عام اشاعت علمائے یہود اپنے مصالح کے خلاف سمجھتے تھے۔ اس طرح کی باتوں میں انہوں نے اپنے حسب منشا تحریفات بھی کیں اور وہ اس تحریف میں کامیاب ہوگئے۔ کسی ایسی کتاب میں تناقضات کا پیدا ہوجانا ذرا بھی تعجب انگیز نہیں ہے اور ان تناقضات کا بالکل بدیہی اور لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اصل حقیقت بالکل گم ہوجائے، لوگ اسی تاریکی میں پھر گھر جائیں جس سے نکالنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ روشنی نازل فرمائی تھی اور ان کے درمیان ایسے اختلافات پیدا ہوجائیں جن کے دور کرنے کی کوئی سبیل باقی ہی نہ رہ جائے۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)

47۔ صحاح اور سنن اور مسانید میں حد تواتر کو پہنچی ہوئی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ سفر میں کہیں تشریف لے جا رہے تھے۔ راستہ میں ایک شخص نے دور سے پکارا یا محمد۔ آپ ﷺ نے فرمایا بولو کیا کہنا ہے۔ اس نے کہا قیامت کب آئے گی ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا ویحک انھا کائنۃ لا محالۃ فما اعددت لھا ؟ " بندہ خدا، وہ تو بہرحال آنی ہی ہے۔ تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی" ؟ (تفہیم القرآن)

49۔سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ نے فرمایا کہ رسول اللہؐ نے فرمایا "اگر آدمی کو ایک وادی بھر سونا مل جائے جب بھی (قناعت  نہیں کرنے کا)دوسری وادی چاہے گا اوراگر دوسری مل جائے تو تیسری چاہے گا۔بات یہ ہے کہ آدمی کا پیٹ مٹی ہی بھرتی ہے"(بخاری۔ کتابْ الرقاق۔باب مایتقی  من فتنۃ المال)(تیسیر القرآن)

۔ بھلائی سے مراد ہے خوشحالی، کشادہ رزق، تندرستی، بال بچوں کی خیر وغیرہ۔ اور انسان سے مراد یہاں نوع انسانی کا ہر فرد نہیں ہے، کیونکہ اس میں تو انبیاء اور صلحاء بھی آجاتے ہیں جو اس صفت سے مبرا ہیں جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ بلکہ اس مقام پر وہ چھچورا اور کم ظرف انسان مراد ہے جو برا وقت آنے پر گڑ گڑانے لگتا ہے اور دنیا کا عیش پاتے ہی آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ چونکہ نوع انسانی کی اکثریت اسی کمزوری میں مبتلا ہے اس لیے اسے انسان کی کمزوری قرار دیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔ مطلب یہ ہوا کہ اس قماش کے لوگ نعمت میں تو خدا کو بھولے رہتے ہیں، صرف مصیبت میں اس کو یاد کرتے ہیں اور مصیبت میں بھی خدا کے ساتھ ان کے تعلق کی نوعیت یہ ہے کہ جب مصیبت دور ہوجائے تو اس کو پھر بھول جاتے ہیں اور اگر دور ہوتی نظر نہ آئے تو خدا سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ یہ دونوں صورتیں کفر و ناشکری کی ہیں۔ صحیح مومنانہ کردار یہ ہے کہ آدمی نعمت و رفاہیت کی حالت میں اپنے پروردگار کا شکر گزار رہے اور جب کوئی آزمائش پیش آجائے تو صبر کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار رہے۔ (تدبرِ قرآن)

50۔یعنی یہ سب کچھ مجھے اپنی اہلیت کی بنا پر ملا ہے اور میرا حق یہی ہے کہ میں یہ کچھ پاؤں۔ (تفہیم القرآن)

۔ غَلِیْظ کے معنی  موٹا ۔دبیز ،گاڑھا،سخت اور گندہ سب کچھ آتاہے۔اور یہاں یہ لفظ سخت اور گندہ دونوں معنوں میں استعمال ہورہاہے ۔غلاظت مشہور لفظ ہے۔ اور یہ عذاب گندہ اس لحاظ سے ہوگا کہ ایسے لوگوں کو پینے کے لیے پیپ ،کچ لہو،زخموں کا دھوون، انتہائی متعفن بدبودار اور شدید ٹھنڈا پانی، ایسی ہی چیزیں پینے کو ملیں گی جن سے انسان کو گھن آتی ہے ۔اور اس کے سخت ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔(تیسیر القرآن)

53۔ اس آیت کے دو مفہوم ہیں اور دونوں ہی اکابر مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ عنقریب یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اس قرآن کی دعوت تمام گرد و پیش کے ممالک پر چھا گئی ہے اور یہ خود اس کے آگے سرنگوں ہیں۔ اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ جو کچھ آج ان سے کہا جا رہا ہے اور یہ مان کر نہیں دے رہے ہیں، وہ سراسر حق تھا۔۔۔۔۔ دوسرا مفہوم اس آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آفاق ارض و سماء میں بھی اور انسانوں کے اپنے وجود میں بھی لوگوں کو وہ نشانیاں دکھائے گا جن سے ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن جو تعلیم دے رہا ہے وہی برحق ہے۔  (برائے مطالعہ صفحہ    469  و 470  تفہیم القرآن)