42 - سورة الشورى (مکیہ)
| رکوع - 5 | آیات - 53 |
مضمون: انبیاء نے ہمیشہ دینِ توحید کی دعوت دی اور وحی کو ذریعۂ تعلیم بنایا۔ لوگوں نے تعلیم سے اختلاف محض باہمی عناد کی بناپر کیا۔ اب قرآن کو میزانِ حق بناکر نازل کیا گیا ہے۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)
مرکزی مضمون: وحی الٰہی کی روشنی میں اور اقامتِ دین کی شرعی حیثیت سمجھ کر ، اجتماعی اور شورائی نظام قائم کرنا۔
نام : آیت نمبر:38 میں اہل ِ ایمان کی صفت بیان کی گئی ہے کہ اُن کے معاملات باہمی مشاورت سے طے ہوتے ہیں اس لئے اس کا نام الشوریٰ رکھا گیا۔
شان ِ نزول: سورۂ شوریٰ رسول اللہؐ کے قیامِ مکہ کے چوتھے اور آخری دور (11 تا 13 سنِ نبوی)میں نازل ہوئی جب قریشِ مکہ رسول اللہؐ کی دعوت کے بارے میں بدستور شک میں مبتلا تھے ۔یہاں ہجرت ِ مدینہ کی تمہید بھی ہے اس سورت میں شریعتِ خداوندی اور خود ساختہ شریعتِ انسانی کا فرق بتا کر توحید حاکمیت کی وضاحت کی گئی ہے۔ جس کے نفاذ کے لئے شورائی نظامِ حکومت اور عادلانہ اجتماعی نظم کے قیام کا حکم دیا گیا ۔ لفظ کذٰ لک کی تکرار سے آپؐ پر نازل شدہ وحی کو سابقہ سلسلۂ رسالت سے مربوط کیا گیا ہے۔
نظم ِ کلام:سورۂ سبا (سورۂ حٰم السجدہ ۔سابقہ سورت کے مختصر نوٹس)
چند اہم نکات: اجتماعی عملی توحید کا نقطۂ عروج ۔پورا معاشرہ اللہ کے حکموں کو بالاتر قانون تسلیم کرتاہو۔اقامتِ دین کی سورۃ ۔دو حروفِ مقطعات(حٰم،عسق۔دوآیات) ۔۔۔۔13 تا 15 آیات مرکزی مضمون (اجتماعی عملی توحید یا اقامتِ دین)سے متعلق نہایت اہم ہیں۔سورۂ شوریٰ کا عمود یعنی اقامتِ دین (فحکمہ الی اللہ )اختلاف کی صورت میں حکم دینے کا حق اللہ کا۔اہل جنت کی اہم صفات(36 تا 43)
ترتیبِ مطالعۂ اور اہم مضامین: (i)ر۔1(نزول ِ قرآن کا مقصد۔ساری دنیا والوں کو خبردار کرنا)(ii) ر۔2(دعوتِ دین اور سابقہ امتیں)(iii) ر۔ 3/4 (مشرک اور مومن دوگروہ، اہل جنت کے اوصاف)(iv) ر۔5 (وحی الٰہی اور اس کی دعوت)
کلیدی الفاظ و مضامین:۔ 1۔ اس سورت میں "کَذٰلک "کے الفاظ سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ محمدؐ کی رسالت و نبوت پچھلے انبیاء و رسل ہی کی طرح ہے۔ یعنی یہ نبوت کوئی نئی اور نرالی بات نہیں ہے۔۔اس سورت میں لفظ "کَذٰلک "کی تکرارسے ،آپؐ پر نازل شدہ وحی کو سابقہ سلسلۂ رسالت سے مربوط کردیا گیاہے۔ چنانچہ"کَذٰلک"کا لفظ تین مرتبہ (آیات 3، 7 اور 53)اور ایک مرتبہ "فَکَذٰلک"(آیت15استعمال ہواہے)۔2۔ اس سورت میں وحی کے تین (3)طریقوں کی وضاحت ہے۔چوتھے طریقے خواب کا ذکر سورت "الصافات"میں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کے سلسلے میں ہواہے۔(i)سریع اشارے سے اللہ تعالیٰ دل میں بات ڈال دیتاہے"وحیاً"(ii)پردے کے پیچھے سے بات کرتاہے"اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ"(iii)کوئی فرشتہ بھیج کر وحی کردیتاہے"اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا"۔۔۔ (قرآنی سورتوں کا نظم جلی)
سورہ شوریٰ کا نظمِ جلی:۔ اقامتِ شریعت کرنے والوں کے دس (10) اوصاف بیان کیے گئے۔ (1)اہل ایمان رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں"عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ"(آیت: 36) (2)اہل ایمان بڑے بڑے گناہوں سے بچتے ہیں۔"یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ" (آیت: 37) (3)بے شرمی کے کاموں "فواحش"سے بچتے ہیں۔"وَ الْفَوَاحِشَ"(آیت: 37)(4)غصہ آجائے تو درگذر کرجاتے ہیں۔"وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَ"(آیت:37)(5)رب کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔"اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ"(آیت:38)(6)نماز قائم کرتے ہیں۔"وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ"(آیت :38)(7)تمام اہم باہمی معاملات مشورے سے چلاتے ہیں۔"وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ" (آیت: 38) اسلام میں ڈکٹیٹر شپ اور آمریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔(8)انفاق کرتے ہیں۔وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(آیت: 38)(9)"بغی" یعنی زیادتی کا مقابلہ کرتے ہیں ۔"اِذَا اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ"(آیت: 39)(10)برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے۔البتہ بدلے اور انتقام کے بجائے صبر اور درگذر ،حوصلے کی بات ہے"اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ"(آیت: 43)(قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی)
پہلا رکوع |
| حٰمٓۚ ﴿1﴾ عٓسٓقٓ ﴿2﴾ كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ﴿3﴾ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ﴿4﴾ تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ﴿5﴾ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ ﴿6﴾ وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ ﴿7﴾ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ ﴿8﴾ اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ ۧ ۧ ﴿9ع الشورى 42﴾ |
| 1. حٰمٓ۔ 2. عٓسٓقٓ۔ 3. خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے۔ 4. جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے۔ 5. قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں ۔اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیج کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں۔ سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ 6. اور جن لوگوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں وہ خدا کو یاد ہیں۔ اور تم ان پر داروغہ نہیں ہو۔ 7. اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکّے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو رستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ۔ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں۔ 8. اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے اور نہ مددگار۔ 9. کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ |
تفسیر آیات
3۔ افتتاح کلام کا یہ انداز خود بتارہا ہے کہ پس منظر میں وہ چہ میگوئیاں ہیں جو مکہ معظمہ کی ہر محفل، ہر چوپال، ہر کوہ و بازار، اور ہر مکان اور دکان میں اس وقت نبی ﷺ کی دعوت اور قرآن کے مضامین پر ہو رہی تھیں۔ لوگ کہتے تھے کہ نہ معلوم یہ شخص کہاں سے یہ نرالی باتیں نکال نکال کر لا رہا ہے۔ ہم نے تو ایسی باتیں نہ کبھی سنیں نہ ہوتے دیکھیں۔ وہ کہتے تھے، یہ عجیب ماجرا ہے کہ باپ دادا سے جو دین چلا آرہا ہے، ساری قوم جس دین کی پیروی کر رہی ہے، سارے ملک میں جو طریقے صدیوں سے رائج ہیں، یہ شخص ان سب کو غلط قرار دیتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
5۔ یعنی یہ کوئی معمولی بات تو نہیں ہے کہ کسی مخلوق کا نسب خدا سے جا ملایا گیا اور اسے خدا کا بیٹا یا بیٹی قرار دے دیا گیا۔ کسی کو حاجت روا اور فریاد رس ٹھہرا لیا گیا اور اس سے دعائیں مانگی جانے لگیں۔ (تفہیم القرآن)
6۔ " اللہ ہی ان پر نگراں ہے " یعنی وہ ان کے سارے افعال دیکھ رہا ہے اور ان کے نامۂ اعمال تیار کر رہا ہے۔ ان کا محاسبہ اور مواخذہ کرنا اسی کا کام ہے۔ " تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو "(تفہیم القرآن)
7۔ جیسا کہ امام احمد نے مسند میں حضرت عدی بن حمرا زہری سے روایت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت سنا جبکہ آپ (مکہ مکرمہ سے ہجرت کر رہے تھے اور) بازار مکہ کے مقام حزورہ پر تھے کہ آپ نے مکہ مکرمہ کو خطاب کر کے فرمایا۔
تو میرے نزدیک اللہ کی ساری زمین سے بہتر ہے اور ساری زمین سے زیادہ محبوب ہے، اگر مجھے اس زمین سے نکالا نہ جاتا تو میں اپنی مرضی سے کبھی اس زمین کو نہ چھوڑتا۔ (معارف القرآن)
دوسرا رکوع |
| وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ ﴿10﴾ فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ﴿11﴾ لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ﴿12﴾ شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ ﴿13﴾ وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ ﴿14﴾ فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ ﴿15﴾ وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ﴿16﴾ اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ ﴿17﴾ یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ ﴿18﴾ اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ ۧ ۧ ﴿19ع الشورى 42﴾ |
| 10. اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف (سے ہوگا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ 11. آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے) ۔ اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چارپایوں کے بھی جوڑے (بنائے اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ اور وہ دیکھتا سنتا ہے۔ 12. آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ 13. اسی نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے کا) نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے۔ الله جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگزیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف رستہ دکھا دیتا ہے۔ 14. اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) ۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں۔ 15. تو (اے محمدﷺ) اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں۔ خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا۔ ہم میں اور تم میں کچھ بحث وتکرار نہیں۔ خدا ہم (سب) کو اکھٹا کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ 16. اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے۔ اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ 17. خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل وانصاف کی) ترازو۔ اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آ پہنچی ہو۔ 18. جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے۔ دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں۔ 19. خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے۔ |
تفسیر آیات
10۔اس پورے پیراگراف کی عبارت اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے، لیکن اس میں متکلم اللہ تعالیٰ نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ گویا اللہ جل شانہ اپنے نبی کو ہدایت دے رہا ہے کہ تم یہ اعلان کرو۔ (تفہیم القرآن)
۔ تفرقہ بازی اور اختلافات سے بچنے کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ انسان کتاب و سنت کے سامنے کھلے دل سے سرتسلیم خم کردے اور اس مطلب کی تائید سور ۂ نساء کی آیت نمبر 59 اور 64 سے بھی ہوجاتی ہے۔(تیسیر القرآن)
۔ یہ دو فعل ہیں جن میں سے ایک بصیغۂ ماضی بیان کیا گیا ہے اور دوسرا بصیغۂ مضارع جس میں استمرار کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ صیغہ ماضی میں فرمایا " میں نے اس پر بھروسہ کیا، " یعنی ایک دفعہ میں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فیصلہ کرلیا۔۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
13۔ دین اورشریعت میں فرق اور متبدل احکام کی مثالیں:۔ اس آیت میں ایک شرع کا لفظ آیاہے اور شریعت کا لفظ اسی سے مشتق ہے۔ اور دوسرا دین کا۔اور"مِنَ الدِّیْنِ"سے معلوم ہوتاہے کہ شریعت بھی دین کا حصہ ہی ہوتی ہے۔اس فرق کو ہم یہاں ذرا وضاحت سے پیش کرتے ہیں: دین کا لفظ بہت وسیع مفہوم رکھتاہے ۔مختصراً یہ چار معانی میں استعمال ہوتاہے(1)اللہ کی کامل اور مکمل سیاسی اور قانونی حاکمیت،(2)انسان کی مکمل عبودیت اور بندگی ،(3)قانون جزاو سزا یا تعزیرات ملکی، (4)قانون جزاو سزا کے نفاذ کی قدرت، پھر یہ لفظ کبھی ایک معنی میں استعمال ہوتاہے اور کبھی ایک سے زیادہ معنوں میں۔اب دین کا تقاضایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو کچھ باتوں کا حکم دے، کچھ کاموں سے منع کرے اور جو شخص ان احکام کے مطابق عمل کرے انہیں اچھا بدلہ دے اور جو حکم عدولی کرے اسے سزا بھی دے۔ چنانچہ ایسے احکام جو سیدنا آدمؑ سے لے کر سیدنا محمدؐ پر غیر متبدل رہے ہیں یہی اصل دین ہے مثلاً شرک کی حرمت، آخرت اور اس کا محاسبہ،نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم، قتل ناحق،چوری،زنا اور فواحش سے اجتناب وغیرہ۔اور شرع کا لغوی معنی واضح راستہ متعین کرنا ہے۔(مفردات القرآن)اور شریعت سے مراد وہ احکام ہیں جو زمانہ کی ضرورتوں اور احوال و ظروف کے مطابق بدلتے رہتے ہیں ۔مثلاً سیدنا آدمؑ کی اولاد میں بہن بھائی کا نکاح جائز تھا اور یہ ایک اضطراری امر تھا۔ جو بعد کی شریعتوں میں حرام قراردیا گیا۔سیدنا یعقوبؑ کی زوجیت میں دوحقیقی بہنیں تھیں جو بعد کی شریعتوں میں حرام قراردی گئیں۔اسی طرح اس دور میں سجدہ تعظیمی جائز تھا۔جو بعد میں حرام کردیا گیا۔سابقہ شریعتوں میں اموال غنیمت سے استفادہ ناجائز تھا جو امت مسلمہ کے لیے حلال قراردیا گیا۔سابقہ شریعتوں میں نماز وں کی تعداد اور ان کی ادائیگی کا طریقہ، زکوٰۃ کی شرح اور روزوں کی تعداد ہماری موجودہ شریعت سے بالکل مختلف تھی۔غرضیکہ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ دین اور شریعت کے اس فرق کو خود رسول اللہؐ نے ان الفاظ میں فرمایا:"تمام انبیاء علاتی(سوتیلے)بھائی ہیں۔ ان کی مائیں(شریعتیں )تو الگ الگ ہیں مگر ان کا باپ(دین)ایک ہی ہے"(بخاری۔کتاب الانبیاء۔باب و اذکر فی الکتاب مریم۔۔۔۔)گو یا اصول اوربنیادی احکام کا نام دین ہے اور دین کا یہ حصہ غیر متبدل ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جس میں ان اصولی احکام کی جزئیات میں تبدیلی واقع ہوتی رہی ہے۔اسی متبدل حصہ کا نام شریعت ہے۔یہاں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے اور خوب ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ صاحب شریعت نبی کی شریعت اگرچہ مختلف رہی ہے مگر وہ اس مخصوص نبی کے دین کا حصہ ہی ہوتی ہے اور دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ آپ چونکہ آخری نبی ہیں۔ لہذا آپ کو جو شریعت ملی ہے وہ بھی اب غیر متبدل ہے اور زمانہ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کا حل اب پوری شریعت اسلامیہ سے بذریعہ اجتہاد معلوم کیا جائے گا۔(تیسیر القرآن)
۔ پھر فرمایا مِنَ الدِّیْنِ ، " از قسم دین "۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے اس کا ترجمہ " از آئین " کیا ہے۔۔۔۔۔۔دین کے معنی ہی کسی کی سیادت و حاکمیت تسلیم کر کے اس کے احکام کی اطاعت کرنے کے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اس کی حیثیت محض سفارش (Recommendation) اور وعظ و نصیحت کی نہیں ہے، بلکہ یہ بندوں کے لیے ان کے مالک کا واجب الاطاعت قانون ہے جس کی پیروی نہ کرنے کے معنی بغاوت کے ہیں۔۔۔۔۔۔اقامت کے معنی قائم کرنے کے بھی ہیں اور قائم رکھنے کے بھی۔۔۔۔۔۔اب ہمارے سامنے دو سوالات آتے ہیں۔ ایک یہ کہ دین کو قائم کرنے سے مراد کیا ہے ؟ دوسرے یہ کہ خود دین سے کیا مراد ہے جسے قائم کرنے اور پھر قائم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ؟۔۔۔۔۔۔قائم کرنے کا لفظ جب کسی مادی یا جسمانی چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد بیٹھے کو اٹھانا ہوتا ہے، مثلاً کسی انسان یا جانور کو اٹھانا۔ یا پڑی ہوئی چیز کو کھڑا کرنا ہوتا ہے، جیسے بانس یا ستون کو قائم کرنا۔ یا کسی چیز کے بکھرے ہوئے اجزاء کو جمع کر کے بلند کرنا ہوتا ہے، جیسے کسی خالی زمین میں عمارت قائم کرنا لیکن جو چیزیں مادی نہیں بلکہ معنوی ہوتی ہیں ان کے لیے جب قائم کرنے کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد اس چیز کی محض تبلیغ کرنا نہیں بلکہ اس پر کما حقہ، عمل در آمد کرنا، اسے رواج دینا اور اسے عملاً نافذ کرنا ہوتا ہے۔ مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے اپنی حکومت قائم کی تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ اس نے اپنی حکومت کی طرف دعوت دی، بلکہ یہ ہوتے ہیں کہ اس نے ملک کے لوگوں کو اپنا مطیع کرلیا اور حکومت کے تمام شعبوں کی ایسی تنظیم کردی کہ ملک کا سارا انتظام اس کے احکام کے مطابق چلنے لگا۔ اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ ملک میں عدالتیں قائم ہیں تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ انصاف کرنے کے لیے منصف مقرر ہیں اور وہ مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں اور فیصلے دے رہے ہیں، نہ یہ کہ عدل و انصاف کی خوبیاں خوب خوب بیان کی جا رہی ہیں اور لوگ ان کے قائل ہو رہے ہیں۔ اسی طرح جب قرآن مجید میں حکم دیا جاتا ہے کہ نماز قائم کرو تو اس سے مراد نماز کی دعوت و تبلیغ نہیں ہوتی بلکہ یہ ہوتی ہے کہ نماز کو اس کی تمام شرائط کے ساتھ نہ صرف خود ادا کرو بلکہ ایسا انتظام کرو کہ وہ اہل ایمان میں باقاعدگی کے ساتھ رائج ہوجائے۔ مسجدیں ہوں۔ جمعہ و جماعت کا اہتمام ہو۔ وقت کی پابندی کے ساتھ اذانیں دی جائیں۔ امام اور خطیب مقرر ہوں۔ اور لوگوں کو وقت پر مسجدوں میں آنے اور نماز ادا کرنے کی عادت پڑجائے۔ اس تشریح کے بعد یہ بات سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آسکتی کہ انبیاء (علیہم السلام) کو جب اس دین کے قائم کرنے اور قائم رکھنے کا حکم دیا گیا تو اس سے مراد صرف اتنی بات نہ تھی کہ وہ خود اس دین پر عمل کریں، اور اتنی بات بھی نہ تھی کہ وہ دوسروں میں اس کی تبلیغ کریں تاکہ لوگ اس کا برحق ہونا تسلیم کرلیں تو اس سے آگے قدم بڑھا کر پورا کا پورا دین ان میں عملاً رائج اور نافذ کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔دعوت و تبلیغ اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ضرور ہے، مگر بجائے خود مقصد نہیں ہے، کجا کہ کوئی شخص اسے انبیاء کے مشن کا مقصدِ وحید قرار دے بیٹھے۔۔۔۔۔۔۔اس سے مراد صرف ایمانیات اور بڑے بڑے اخلاقی اصول ہی ہیں، یا شرعی احکام بھی۔ قرآن مجید کا جب ہم تتبع کرتے ہیں تو اس میں جن چیزوں کو دین میں شمار کیا گیا ہے ان میں حسب ذیل چیزیں بھی ہمیں ملتی ہیں: ۔1) ) وَمَآ اُمِرُؤٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَیُقِیْمُوا الصَّلوٰۃَ وَ یُؤْتُوا الزَّکوٰۃَ وَ ذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃ (البیّنہ، آیت 5)۔ " اور ان کو حکم نہیں دیا گیا مگر اس بات کا کہ یکسو ہو کر اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں اور زکوٰۃ دیں، اور یہی راست رو ملت کا دین ہے۔ " اس سے معلوم ہوا کہ نماز اور زکوٰۃ اس دین میں شامل ہیں، حالانکہ ان دونوں کے احکام مختلف شریعتوں میں مختلف رہے ہیں۔ کوئی شخص بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تمام پچھلی شریعتوں میں نماز کی یہی شکل و ہئیت، یہی اس کے اجزاء، یہی اس کی رکعتیں، یہی اس کا قبلہ، یہی اس کے اوقات، اور یہی اس کے دوسرے احکام رہے ہیں۔ اسی طرح زکوٰۃ کے متعلق بھی کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ تمام شریعتوں میں یہی اس کا نصاب، یہی اس کی شرحیں، اور یہی اس کی تحصیل اور تقسیم کے احکام رہے ہیں۔ لیکن اختلاف شرائع کے باوجود اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کو دین میں شمار کر رہا ہے۔ 2) ) حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَہُ وَالدَّمُ وَ لَحْمُ الخِنْزِیْرِ وَمَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ بِہ ........ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ........ (المائدہ۔3) " تمہارے لیے حرام کیا گیا مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، اور وہ جو گلا گھٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گر کر، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو، سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پا کر ذبح کرلیا، اور وہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو، نیز یہ بھی تمہارے لیے حرام کیا گیا کہ تم پانسوں کے ذریعہ سے اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ سب کام فسق ہیں۔ آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے مایوسی ہوچکی ہے لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا ........ " اس سے معلوم ہوا کہ یہ سب احکام شریعت بھی دین ہی ہیں۔ 3) ) قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ باللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوْلُہ وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ (التوبہ۔ 29 )" جنگ کرو ان لوگوں سے جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے "۔ معلوم ہوا کہ اللہ اور آخرت پر ایمان لانے کے ساتھ حلال و حرام کے ان احکام کو ماننا اور ان کی پابندی کرنا بھی دین ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے دیے ہیں۔ 4) ) اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ وَّ لَا تَأخُذْکُمْ بھِمَا رَأفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ (النّور :2) " زانیہ عورت اور مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملہ میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو " مَا کَانَ لِیَأخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ (یوسف: 76) یوسف ؑ اپنے بھائی کو بادشاہ کے دین میں پکڑ لینے کا مجاز نہ تھا "۔ اس سے معلوم ہوا کہ فوجداری قانون بھی دین ہے۔ اگر آدمی خدا کے فوجداری قانون پر چلے تو وہ خدا کے دین کا پیرو ہے اور اگر بادشاہ کے قانون پر چلے تو وہ بادشاہ کے دین کا پیرو۔یہ چار تو وہ نمونے ہیں جن میں شریعت کے احکام کو بالفاظ صریح دین سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن گناہوں پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی دھمکی دی ہے (مثلاً زنا، سود خوری، قتل مومن، یتیم کا مال کھانا، باطل طریقوں سے لوگوں کے مال لینا، وغیرہ) ، اور جن جرائم کو خدا کے عذاب کا موجب قرار دیا ہے (مثلاً عمل قوم لوط، اور لین دین میں قوم شعیب کا رویہ) ان کا سد باب لازماً دین ہی میں شمار ہونا چاہیے، اس لیے کہ دین اگر جہنم اور عذاب الہٰی سے بچانے کے لیے نہیں آیا ہے تو اور کس چیز کے لیے آیا ہے ؟ اسی طرح وہ احکام شریعت بھی دین ہی کا حصہ ہونے چاہییں جن کی خلاف ورزی کو خلود فی النار کا موجب قرار دیا گیا ہے، مثلاً میراث کے احکام، جن کو بیان کرنے کے بعد آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَاراً خَالِداً فِیْھَا وَلَہ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ (النساء۔ 14) " جو اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی اور اللہ کے حدود سے تجاوز کرے گا، اللہ اس کو دوزخ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے "۔ اسی طرح جن چیزوں کی حرمت اللہ تعالیٰ نے پوری شدت اور قطعیت کے ساتھ بیان کی ہے، مثلاً ماں بہن اور بیٹی کی حرمت، شراب کی حرمت، چوری کی حرمت، جوئے کی حرمت، جھوٹی شہادت کی حرمت، ان کی تحریم کو اگر اقامت دین میں شامل نہ کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ غیر ضروری احکام بھی دے دیے ہیں جن کا اجراء مقصود نہیں ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس جن کاموں کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے، مثلاً روزہ اور حج، ان کی اقامت کو بھی محض اس بہانے اقامت دین سے خارج نہیں کیا جاسکتا کہ رمضان کے 30 روزے تو پچھلی شریعتوں میں نہ تھے، اور کعبے کا حج تو صرف اس شریعت میں تھا جو اولاد ابراہیم کی اسماعیلی شاخ کو ملی تھی۔۔۔۔۔۔دراصل ساری غلط فہمی صرف اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ آیت لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّ مِنْھَا جاً (ہم نے تم میں سے ہر امت کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ مقرر کردی) کا الٹا مطلب لے کر اسے یہ معنی پہنا دیے گئے ہیں کہ شریعت چونکہ ہر امت کے لیے الگ تھی، اور حکم صرف اس دین کے قائم کرنے کا دیا گیا ہے جو تمام انبیاء کے درمیان مشترک تھا، اس لیے اقامت دین کے حکم میں اقامت شریعت شامل نہیں ہے۔ حالانکہ در حقیقت اس آیت کا مطلب اس کے بالکل بر عکس ہے۔ سورة مائدہ میں جس مقام پر یہ آیت آئی ہے اس کے پورے سیاق وسباق کو آیت 41 سے آیت 50 تک اگر کوئی شخص بغور پڑھے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ جس نبی کی امت کو جو شریعت بھی اللہ تعالیٰ نے دی تھی وہ اس امت کے لیے دین تھی اور اس کے دور نبوت میں اسی کی اقامت مطلوب تھی۔۔اور اب چونکہ سیدنا محمد ﷺ کا دور نبوت ہے۔ اس لیے امت محمدیہ کو جو شریعت دی گئی ہے وہ اس دور کے لیے دین ہے اور اس کا قائم کرنا ہی دین کا قائم کرنا ہے۔۔۔۔۔۔ہر نبی کی امت کے لیے اس وقت کی شریعت میں نماز اور روزے کے لیے جو قاعدے مقرر کیے گئے تھے انہی کے مطابق اس زمانے میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا دین قائم کرنا تھا۔۔۔۔۔جس کے بہت بڑے حصے پر صرف اسی صورت میں عمل کیا جاسکتا ہے جب حکومت کا اقتدار اہل ایمان کے ہاتھ میں ہو۔۔۔۔۔۔۔زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم، سود کو بند کرنے کا جو حکم دیا گیا، قاتل سے قصاص لینے کا حکم، چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم، زنا اور قذف پر حد جاری کرنے کا حکم سب ایک اسلامی حکومت کا تقاضا کرتے ہیں۔۔۔۔۔سب سے بڑھ کر جس چیز سے تعبیر کی یہ غلطی متصادم ہوتی ہے وہ خود رسول اللہ ﷺ کا وہ عظیم الشان کام ہے جو حضور ﷺ نے 23 سال کے زمانہ رسالت میں انجام دیا۔ آخر کون نہیں جانتا کہ آپ نے تبلیغ اور تلوار دونوں سے پورے عرب کو مسخر کیا اور اس میں ایک مکمل حکومت کا نظام ایک مفصل شریعت کے ساتھ قائم کردیا۔ (تفہیم القرآن)
۔ حضرات انبیاء کی اصل تاریخ تو حضرت آدم سے شروع ہوتی ہے لیکن قرآن نے بالعموم حضرت نوح ہی سے آغاز فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت نوح سے پہلے کی تاریخ بالکل پردہ خفا میں ہے۔ (تدبرِ قرآن)
15۔۔۔ایک مطلب یہ ہے کہ میں ان ساری گروہ بندیوں سے الگ رہ کر بےلاگ انصاف پسندی اختیار کرنے پر مامور ہوں۔۔۔۔۔دوسرا مطلب یہ ہے کہ میں جس حق کو تمہارے سامنے پیش کرنے پر مامور ہوں اس میں کسی کے لیے بھی کوئی امتیاز نہیں ہے۔۔۔۔۔تیسرا مطلب یہ ہے کہ میں دنیا میں عدل قائم کرنے پر مامور ہوں۔۔۔۔۔۔۔ان تین مطالب کے علاوہ اس فقرے کا ایک چوتھا مطلب بھی ہے جو مکہ معظمہ میں نہ کھلا تھا مگر ہجرت کے بعد کھل گیا، اور وہ یہ ہے کہ میں خدا کا مقرر کیا ہوا قاضی اور جج ہوں، تمہارے درمیان انصاف کرنا میری ذمہ داری ہے۔ (تفہیم القرآن)
۔ حافظ ابن کثیرؒ نے فرمایا کہ یہ آیت دس مستقل جملوں پر مشتمل ہے اور ہر جملہ خاص احکام پر مشتمل ہے۔ گویا اس ایک آیت میں احکام کی دس فصلیں مذکور ہیں۔اس کی نظیر پورے قرآن میں ایک آیت الکرسی کے سوا کوئی نہیں۔آیت الکرسی میں بھی دس احکام کی دس فصلیں آئی ہیں۔(i)اگرچہ مشرکین پر آپ کی دعوتِ توحید بھاری ہے مگر اس کی وجہ سے آپ اپنی دعوت کو نہ چھوڑیں اور مسسل اس دعوت کا کام جاری رکھیں۔(ii)اس دین پر جب کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے، خود مستقیم رہیں۔ یعنی ان تمام احکام ِ دین پر استقامت ۔(iii) اپنے فریضۂ تبلیغ میں کسی مخالف کی مخالفت کی پرواہ نہ کریں۔(iv)اعلان فرمادیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا اُن سب پر ایمان ہے۔(v) مجھے عدل و انصاف کا حکم دیا گیا ہے(جو معاملات باہمی جھگڑوں کے آئیں )(vi) اللہ ہمارا سب کا پالنے والا ہے۔(vii) ہمارے اعمال ہمارے کام آئیں گے تمہیں ان کا کوئی نفع و نقصان نہیں ہوگا اور تمہارے اعمال تمہارے کام آئیں گے ۔(viii) حق واضح ہوجانے کے بعد ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی بحث نہیں۔(ix) قیامت کے دن ہم سب کو اللہ جمع کرے گا اور ہر ایک کے اعمال کا بدلہ دے گا۔(x) ہم سب اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔(معارف القرآن)
17۔اللہ کے میزان اتارنے کے مختلف مفہوم:۔ یعنی اللہ نے صرف حق ہی نازل نہیں فرمایا بلکہ حق معلوم کرنے کا معیار بھی نازل فرمایا اور یہ معیار میزان ہے۔اللہ نے مادی میزان یا ترازو بھی اتاری جس میں اجسام تلتے ہیں اور علمی ترازو بھی جسے عقلِ سلیم کہتے ہیں۔عقلِ سلیم سرسری نظر میں ہی معلوم کرلیتی ہے کہ حق کس طرف ہے اور باطل کس طرف یا کسی چیز میں حق کا کتنا حصہ ہے اور باطل کا کتنا؟ علاوہ ازیں اخلاقی ترازو بھی ہے یعنی عدل و انصاف کی ترازو۔اور سب سے بڑی ترازوکتاب و سنت ہے۔جو خالق و مخلوق کے حقوق و فرائض کا ٹھیک ٹھیک تصفیہ کرتی ہے جس میں بات پوری تلتی ہے نہ کم نہ زیادہ۔(تیسیر القرآن)
۔ میزان سے مراد اللہ کی شریعت ہے جو ترازو کی طرح تول کر صحیح اور غلط، حق اور باطل، ظلم اور عدل، راستی اور ناراستی کا فرق واضح کردیتی ہے۔ اوپر نبی ﷺ کی زبان سے یہ کہلوایا گیا تھا کہ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں)۔ یہاں بتادیا گیا کہ اس کتاب پاک کے ساتھ وہ میزان آگئی ہے جس کے ذریعہ سے یہ انصاف قائم کیا جائے گا۔ (تفہیم القرآن)
19۔ حضرت حاجی امداد اللہؒ سے منقول ہے کہ جو شخص ستر مرتبہ صبح کے وقت پابندی سے یہ آیت پڑھا کرے وہ رزق کی تنگی سے محفوظ رہے گا۔اور فرمایا کہ یہ نہایت مجرب ہے۔(معارف القرآن)
۔ اصل میں لفظ لَطِیْفٌ استعمال ہوا ہے جس کا پورا مفہوم " مہربان " سے ادا نہیں ہوتا۔ اس لفظ میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ اپنے بندوں پر بڑی شفقت و عنایت رکھتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ بڑی باریک بینی کے ساتھ ان کی دقیق ترین ضروریات پر بھی نگاہ رکھتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
ــــ اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ۔ یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اللہ اپنے بندوں کے حق میں کامل الاحسان ہے۔ ابن اثیر نے لکھا ہے کہ اللطیف جب بطور اسم الٰہی کے آتاہے تو اس کےمعنی ایسی ہستی کے ہوتے ہیں جو ایک طرف شفقت کی اور دوسری طرف باریک مصلحتوں کے علم کی اور تیسری طرف خلق تک اس کے پہنچا دینے کی قدرت کی جامع ہو۔(تفسیر ماجدی)
تیسرا رکوع |
| مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ ﴿20﴾ اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿21﴾ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ ﴿22﴾ ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ ﴿23﴾ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴿24﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ ﴿25﴾ وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ﴿26﴾ وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ ﴿27﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ ﴿28﴾ وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ ۧ ۧ ﴿29ع الشورى 42﴾ |
| 20. جو شخص آخرت کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دیں گے۔ اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے۔ اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا۔ 21. کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا۔ اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے۔ 22. تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑے گا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے۔ وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا۔ یہی بڑا فضل ہے۔ 23. یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے۔ کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیئے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے۔ بےشک خدا بخشنے والا قدردان ہے۔ 24. کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے؟ اگر خدا چاہے تو (اے محمدﷺ) تمہارے دل پر مہر لگا دے۔ اور خدا جھوٹ کو نابود کرتا اور اپنی باتوں سے حق کو ثابت کرتا ہے۔ بےشک وہ سینے تک کی باتوں سے واقف ہے۔ 25. اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے۔ 26. اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کی (دعا) قبول فرماتا ہے اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ 27. اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے۔ لیکن وہ جو چیز چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے۔ بےشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے۔ 28. اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے۔ اور وہ کارساز اور سزاوار تعریف ہے۔ 29. اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قادر ہے۔ |
تفسیر آیات
23۔ الا المودّۃ فی القربیٰ کے مختلف مفہوم :۔ اس جملہ کی کئی تفسیریں بیان کی گئی ہیں مگر بہترین تفسیر وہی ہے جو صحیحین میں سیدنا ابن عباسؓ سے منقول ہے اور وہ یہ ہے: سیدنا ابن عباسؓ سے کسی نے پوچھا کہ"الاّ المودّۃ فی القربیٰ"کا کیا مطلب ہے؟ سعید بن جبیرؓ نے (جھٹ)کہہ دیا کہ اس سے آپؐ کی آل مراد ہے۔ابن عباسؓ کہنے لگے: تم جلدبازی کرتے ہو۔بات یہ ہے کہ قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس سے آپؐ کی کچھ نہ کچھ قرابت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ انہیں کہیے کہ اگر تم اور کچھ نہیں کرتے (مسلمان نہیں ہوتے)تو کم از کم قرابت ہی کا لحاظ رکھو۔(اور مجھے ایذائیں دینا چھوڑ دو)(بخاری۔ کتاب التفسیر)۔۔۔۔(تیسیر القرآن)
24۔ ایک عام آدمی پر بھی ایساالزام لگانا شدید جرم ہے مگریہ لوگ اس قدر بے باک ہوگئے ہیں کہ آپؐ پر بھی الزام لگانے سے نہیں چوکتے اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن اس نے خود ہی تصنیف کرڈالا ہے۔یہ بدبخت آپؐ کو بھی اپنے ہی جیساسمجھتے ہیں اور اللہ ایسے ہی بدبختوں کے دلوں پر مہر لگادیا کرتاہے۔او راگر ان کا الزام درست ہوتاتو اللہ آپ کے دل پر بھی مہر لگادیتا۔آپ کے دل پر مہر نہ لگنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہی بدبخت جھوٹے اور الزام تراش ہیں۔(تیسیر القرآن)
25۔توبہ کی شرائط:۔ کافروں کی توبہ اسلام لاناہے۔ اسلام لانے سے ہی ان کے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔اور اگر اس کا خطاب ایمانداروں سے ہو تو توبہ کی شرائط اپنے گناہ پر نادم ہونا ، پھر اللہ کی طرف رجوع اور توبہ و استغفار کرنا اور آئندہ اس کام کو مطلقاًچھوڑدینے کا عہد کرنا ہے۔توبہ کی سب سے اہم شرط یہی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے یہ کام چھوڑا جائے۔اور کوئی شخص کسی دوسری وجہ سے کوئی گناہ کا کام چھوڑدے تو اس پر توبہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔ مثلاً کسی شخص کو معلوم ہوجائے کہ شراب اس کی صحت تباہ کررہی ہے اور وہ اپنے کئے پر نادم بھی ہواور آئندہ کے لیے شراب نوشی ترک کردے تو اس پر توبہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس طرح کوئی زانی اپنے اس فعل پر نادم ہو اور یہ فعل آئندہ اس لیے ترک کردینے کا عہد کرے کہ اب وہ بوڑھا ہوچکا ہے اور زنا کے قابل ہی نہیں رہا۔ تو یہ اس کی توبہ نہ ہوگی ۔ اور اللہ کو تو معلوم ہے کہ کوئی کس نیت سے توبہ کررہاہے۔(تیسیر القرآن)
26۔ دعا کی قبولیت کے لئے نیک اعمال کی شرط:۔ دعا کی قبولیت کے لیے نیک اعمال کی شرط لگائی ۔ان نیک اعمال میں کسب حلال بہت بڑا نیک عمل ہے۔کیونکہ اگر انسان کی کمائی حلال نہ ہوگی تو اس کی دعا قبول نہ ہوگی جیساکہ آپ نے فرمایا :"ایک شخص دور سے آتاہے پریشان حال اور پراگندہ بال ہے، اور اگر کعبہ کا غلاف پکڑ کرکہتاہے کہ یارب ،یارب میری دعا قبول فرما۔مگر اس کی دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے جبکہ اس کا کھانا حرام پینا حرام اور گوشت پوست بھی حرام کمائی سے بناہو"(مسلم۔ کتاب الزکوٰۃ ،باب بیا ن ان اسم الصدقہ یقع علیٰ کل نوع من المعروف)(تیسیر القرآن)
29۔ اور اگرچہ مفسرین کا ایک گروہ اس جانب بھی گیا ہے کہ وجودِحیوانات کا اثبات مجموعۂ زمین و آسمان کے لیے ہے،نہ کہ آسمان کے لیے منفرداً بھی، اس لیے تحقیقات ِ قدیم کی روسے حیوانات کا وجود صرف زمین ہی تک محدود تھا، تاہم انہی حضرات نے کسی خاص نوع کے حیوانات کا امکان آسمانوں میں بھی صراحت سے تسلیم کیا ہے۔۔۔۔۔اور زمخشری نے اسی طرح کی تفسیر کرکے آگے لکھا ہے کہ خدائے پاک نے ایسی مخلوقات بھی تو پیدا کررکھی ہے،جو ہمارے دائرۂ علم سے باہر ہیں۔۔۔۔۔"لفظ دَآبَّة شامل ہے فرشتوں اور انسان اور جنات اور سارے ہی حیوانات پر، ان کے اختلافات شک و رنگ ،زبان و طبیعت ،جنس و نوع کے باوجود ،اور اللہ نے انہیں اطراف آسمان و زمین میں پھیلا رکھا ہے۔"(تفسیر ماجدی)
۔یعنی زمین میں بھی اور آسمانوں میں بھی۔ یہ کھلا اشارہ ہے اس طرف کہ زندگی صرف زمین پر ہی نہیں پائی جاتی، بلکہ دوسرے سیاروں میں بھی جاندار مخلوقات موجود ہیں۔ (تفہیم القرآن)
چوتھا رکوع |
| وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ ﴿30﴾ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ ﴿31﴾ وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ ﴿32﴾ اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ ﴿33﴾ اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ ﴿34﴾ وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ ﴿35﴾ فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ ﴿36﴾ وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ ﴿37﴾ وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ ﴿38﴾ وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ ﴿39﴾ وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ ﴿40﴾ وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ ﴿41﴾ اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿42﴾ وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ ۧ ۧ ﴿43ع الشورى 42﴾ |
| 30. اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے۔ 31. اور تم زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے۔ اور خدا کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار۔ 32. اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں (جو) گویا پہاڑ (ہیں)۔ 33. اگر خدا چاہے تو ہوا کو ٹھیرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں۔ 34. یا ان کے اعمال کے سبب ان کو تباہ کردے۔ اور بہت سے قصور معاف کردے۔ 35. اور (انتقام اس لئے لیا جائے کہ) جو لوگ ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ وہ جان لیں کہ ان کے لئے خلاصی نہیں۔ 36. (لوگو) جو (مال ومتاع) تم کو دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا (ناپائدار) فائدہ ہے۔ اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے (یعنی) ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں۔ 37. اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں۔ 38. اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ 39. اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں۔ 40. اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ 41. اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اس کے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں۔ 42. الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کو تکلیف دینے والا عذاب ہوگا۔ 43. اور جو صبر کرے اور قصور معاف کردے تو یہ ہمت کے کام ہیں۔ |
تفسیر آیات
30۔ واضح رہے کہ یہاں تمام انسانی مصائب کی وجہ بیان نہیں کی جا رہی ہے، بلکہ روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو اس وقت مکہ معظمہ میں کفر و نافرمانی کا ارتکاب کر رہے تھے۔ (تفہیم القرآن)
آیات البر(36- 43)منتخب نصاب
36۔ بنیادی شرط:۔ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔اس کے بغیر اعمال کی کوئی حیثیت نہیں۔ دعویٰ ہی نہیں۔۔۔۔پہلی صفت ۔ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ۔ہرکام اور ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ۔(معارف القرآن)
37۔ دوسری صفت کبیرہ گناہوں خصوصاً فواحش سے بچنے والے۔ اعمالِ بد ڈھٹائی کے ساتھ علانیہ یا بذات خود بے حیائی جیسے زنا۔۔۔۔۔۔۔تیسری صفت۔جب غصہ میں ہوتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔
؎ ظفر آدمی اس کو نہ جانئے گا ہو وہ کیسا ہی صاحبِ فہم و ذکا جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا (معارف القرآن)
38۔ چوتھی صفت۔ جو حکم ملے اُسے بے چون و چرا فوراً قبول کرتے ہیں خصوصاً اقامتِ صلوٰۃ ۔(معارف القرآن)
ـــ جس نے نماز کا اہتمام نہیں کیا اُس نے گویا ایمان کی دعوت بھی قبول نہیں کی ۔اگر وہ ایمان کا مدعی ہے تو اس کا یہ دعویٰ محض خود فریبی ہے۔(تدبر قرآن)
ــــ پانچویں صفت۔ ان کے کام آپس میں مشورہ سے طے ہوتے ہیں۔(مشورہ سے ایک فیصلہ ہوگیا پھر اس پر ڈٹ گئے۔اسلام میں امیر کا انتخاب مشورہ سے ،شخصی بادشاہتوں کا خاتمہ۔مغربی جمہوریت کے برعکس حقیقی جمہوریت ۔شوریٰ پر پابندیاں)۔(معارف القرآن)
ــــ مسلمانوں کا جماعتی اور سیاسی نظم خودسری،انانیت، خاندانی برتری،نسبی غرور پر مبنی نہیں بلکہ اہل ایمان کے باہمی مشورہ پر مبنی ہے۔قریش کی طرح تمام عصبیتوں کی موت۔ آخر شوریٰ کا وہ خاص پہلو کیا ہے جس کی بناپر اس کو نماز کے پہلو میں جگہ دی گئی (اسلام کا نظم اجتماعی نماز کی صورت میں تشکیل کیا گیا۔ نماز کے امام کی طرح سیاسی معاملات میں امام۔شوریٰ کا انعقاد مسجد میں)۔(تدبر قرآن)
ــــ حضورؐ نے بعض اوقات اپنی رائے کے مقابلے میں صحابہ کی رائے کو ترجیح دی مثلاً غزوۂ احد میں باہر نکل کر لڑنا۔غزوۂ بدر میں خیمے اکھاڑ کر دوسری جگہ نصب کرنا۔(بیان القرآن)
۔ اَمْرُھُمْ شُوْریٰ بَیْنَھُمْ کا قاعدہ خود اپنی نوعیت اور فطرت کے لحاظ سے پانچ باتوں کا تقاضا کرتا ہے۔۔۔۔انہیں اظہار رائے کی پوری آزادی حاصل ہو۔۔۔۔۔۔جس شخص پر بھی ذمہ داری ڈالنی ہو اسے لوگوں کی رضامندی سے مقرر کیا جائے۔۔۔۔۔۔سوم یہ کہ سربراہ کار کو مشورہ دینے کے لیے بھی وہ لوگ مقرر کیے جائیں جن کو قوم کا اعتماد حاصل ہو۔۔۔۔۔۔چہارم یہ کہ مشورہ دینے والے اپنے علم اور ایمان و ضمیر کے مطابق رائے دیں۔۔۔۔۔۔اسے تسلیم کیا جائے۔۔۔۔۔۔یہ شوریٰ مسلمانوں کے معاملات چلانے میں مطلق العنان اور مختار کل نہیں ہے بلکہ لازماً اس دین کے حدود سے محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنی تشریع سے مقرر فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
ــــ چھٹی صفت: اللہ کےدئیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں(مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ)۔زکوٰۃ ،فرض اور نفلی صدقات ۔(معارف القرآن)
ــــ نماز بندے کا تعلق اس کے خالق سے استوار کرتی ہے اور انفاق اسے مخلوق سے جوڑتا ہے۔انہی دونوں بنیادوں پر تمام شریعت قائم ہے۔(تدبر قرآن)
39۔ ساتویں صفت: جب ان پر کوئی ظلم کرتاہے تو یہ برابر کاانتقام لیتے ہیں (وگرنہ خود ظالم ٹھہریں گے)۔تیسری صفت میں معاف کرنا(بعض اوقات معاف کرنے سے فساد بڑھتاہے)(معارف القرآن)
ــــ بعض اوقات دینی غیرت کا تقاضا(محض معاف کرتے چلے جانا)
؎ جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہووہ شبنم دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان (ضیاء القرآن)
ــــ بلکہ وہ بدلہ لیتے ہیں تو کسی بغی کا لیتے ہیں۔"بَغْیُ"مخالف کی کسی کھلی ہوئی تعدی،سرکشی اور زیادتی کو کہتےہیں۔(تدبرقرآن)
40۔ مِثْلُهَا۔یعنی سزائے جرم بھی درجۂ جرم کی مناسبت ہی سے دی جائے ،اس سے تجاوز نہ کیا جائے۔(تفسیر ماجدی)
۔ یہ پہلا اصولی قاعدہ ہے جسے بدلہ لینے میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ بدلے کی جائز حد یہ ہے کہ جتنی برائی کسی کے ساتھ کی گئی ہو، اتنی ہی برائی وہ اس کے ساتھ کرلے، اس سے زیادہ برائی کرنے کا وہ حق نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔۔یہ دوسرا قاعدہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادتی کرنے والے سے بدلہ لے لینا اگرچہ جائز ہے، لیکن جہاں معاف کردینا اصلاح کا موجب ہوسکتا ہو وہاں اصلاح کی خاطر بدلہ لینے کے بجائے معاف کردینا زیادہ بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔کسی شخص کو دوسرے کے ظلم کا انتقام لیتے لیتے خود ظالم نہیں بن جانا چاہیے۔ ایک برائی کے بدلے میں اس سے بڑھ کر برائی کر گزرنا جائز نہیں ہے۔ (تفہیم القرآن)
43۔ واضح رہے کہ ان آیات میں اہل ایمان کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ اس وقت عملاً رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کی زندگیوں میں موجود تھیں، اور کفار مکہ اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔ (تفہیم القرآن)
پانچواں رکوع |
| وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ ﴿44﴾ وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ ﴿45﴾ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ ﴿46﴾ اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ ﴿47﴾ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ ﴿48﴾ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ ﴿49﴾ اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ ﴿50﴾ وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ ﴿51﴾ وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ ﴿52﴾ صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ ۧ ۧ ﴿53ع الشورى 42﴾ |
| 44. اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی بھی کوئی سبیل ہے؟ 45. اور تم ان کو دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی (اور نیچی) نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور مومن لوگ کہیں گے کہ خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ دیکھو کہ بےانصاف لوگ ہمیشہ کے دکھ میں (پڑے) رہیں گے۔ 46. اور خدا کے سوا ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے کہ خدا کے سوا ان کو مدد دے سکیں۔ اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کے لئے (ہدایت کا) کوئی رستہ نہیں۔ 47 . (ان سے کہہ دو کہ) قبل اس کے کہ وہ دن جو ٹلے گا نہیں خدا کی طرف سے آ موجود ہو، اپنے پروردگار کا حکم قبول کرو۔ اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا۔ 48. پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ تمہارا کام تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے۔ اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے۔ اور اگر ان کو ان ہی کے اعمال کے سبب کوئی سختی پہنچتی ہے تو (سب احسانوں کو بھول جاتے ہیں) بےشک انسان بڑا ناشکرا ہے۔ 49. (تمام) بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے۔ 50. یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے۔ 51. اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القا کرے۔ بے شک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے۔ 52. اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے سے (قرآن) بھیجا ہے۔ تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو۔ لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں۔ اور بےشک (اے محمدﷺ) تم سیدھا رستہ دکھاتے ہو۔ 53. (یعنی) خدا کا رستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے۔ دیکھو سب کام خدا کی طرف رجوع ہوں گے (اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا)۔ |
تفسیر آیات
45۔ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ۔ڈری سہمی ہوئی نگاہوں سے، جھکی ہوئی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے جیساکہ مجرموں کی عادت ہے۔(تفسیر ماجدی)
47۔ نکیر کے مختلف مفہوم:۔ نکیر کا مادہ نکر ہے اور اس میں بنیادی طورپر دوباتیں پائی جاتی ہیں۔(1)اجنبیت،(2)ناگواری (نکرہ کی ضد معرفہ ہے)نکر بمعنی ناگوار ۔نازیبا اور نامعقول چیز اور نکیر کے معنی ناگوار، نازیبا، نامعقول چیز بھی اور ایسی چیز کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھانا یا ناراضگی کا اظہار کرنا بھی اور نکرکے معنی کسی چیز کو بگاڑدینا اور اس کی شکل بدل دینا بھی ہے۔اس لحاظ سے اس جملہ کے کئی معنی بن سکتے ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ تم اجنبی نہیں ہوگے سب تمہیں جانتے پہچانتے ہوں گے ۔تیسرا مطلب یہ ہے کہ بھیس بدل کر چھپ نہ سکوگے ۔چوتھا مطلب یہ ہے کہ اس دن تم جیسی بھی حالت میں ہوگے اس میں کوئی تبدیلی نہ لاسکوگے۔(تیسیر القرآن)
۔ نکیر کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے انکار کیا لیکن اس کا صحیح مفہوم کسی ناگوار چیز کو احساسِ غیرت کے ساتھ رد یا دفع کرنا ہے۔ (تدبر قرآن)
50۔ بلکہ پیغمبر اس سلسلہ میں خود بھی ایسے ہی بے بس ہیں جیسے عام انسان مثلاً سیدنا لوطؑ اور سیدنا شعیبؑ کی بیٹیاں ہی بیٹیاں تھیں۔بیٹا کوئی نہ تھا۔(تیسیر القرآن)
51۔ وحی کی اقسام ۔191 تا 193 (برائے مطالعہ) (تدبر قرآن)
ــــ ص 519 برائے مطالعہ(تفسیر عثمانی)
ــــ وحی کے مختلف طریقے:۔ اس آیت میں لفظ وَحْیًا اپنے لغوی معنی(سریع اور تیز اشارہ ۔یعنی القاء و الہام)کے معنوں میں آیا ہے اور لفظ یُوْحِی اپنے اصطلاحی معنوں میں (یعنی اللہ کا اپنے نبی کو فرشتہ کے ذریعہ پیغام بھیجنا)استعمال ہواہے۔گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے کسی انسان سے کلام کرنے کے تین طریقے مذکور ہیں:۔(1)القاء یا الہام۔ اس قسم کی وحی غیر نبی کو بھی ہوسکتی ہے۔ جیسے ام موسیٰ کو ہوئی تھی۔(28: 7) بلکہ غیر انسان کی طرف بھی ہوسکتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی(16: 68) اور ایسی وحی انبیاء کو خواب میں بھی ہوسکتی ہے ۔جیسے سیدنا ابراہیمؑ کو یہ خواب آیا تھا کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کررہاہوں۔(37: 102)(2)دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پردے کے پیچھے سے بات کرے اور پردہ کا مطلب ہے کہ انسان اللہ کا کلام سن تو سکتاہے ۔لیکن اللہ تعالیٰ کو دیکھ نہیں سکتا۔انسان کے اس مادی جسم اور ان ظاہری حواس سے اللہ تعالیٰ کا دیدار ناممکن ہے۔ایسی بات چیت اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰؑ سے کوہ طورکے دامن میں کی تھی۔مگر آپ دیدار الٰہی کی تمنااور سوال کے باوجود اللہ تعالیٰ کو دیکھ نہیں سکے تھے۔(3)فرشتہ بھیجنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ جبرئیلؑ نبی کے دل پر نازل ہوا ور اسے اللہ کا پیغام پہنچائے ۔تمام کتب سماویہ کا نزول اسی طرح ہواہے۔اور دوسری یہ کہ فرشتہ انسانی شکل میں سامنے آکر کلام کرے۔ جیسے فرشتے سیدنا ابراہیمؑ اور سیدنا لوطؑ کے پاس آئے تھے۔ اور سیدنا ابراہیمؑ کو بیٹے اسحٰقؑ کی خوشخبری دی تھی ۔اور سیدنا لوطؑ کو ان کی قوم پر عذاب آنے کی خبردی تھی اور ایسی وحی غیر نبی کی طرف بھی ہوسکتی ہے جیسے سیدنا جبرائیلؑ نے سیدہ مریم کے سامنے آکر بیٹے سیدنا عیسیٰؑ کی بشارت دی تھی۔(تیسیر القرآن)
52۔ آپ کو وحی کی تمام صورتوں میں وحی ہوئی:۔ اسی طرح سے مراد یہ ہے کہ ہم نے ان تمام قسموں کی وحی آپ کی طرف بھی کی ہے۔ القاء و الہام سے متعلق سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ پہلے جو وحی رسول اللہؐ پر ہوئی وہ سچا خواب تھا جو کچھ آپؐ نیند کی حالت میں دیکھتے وہ (بیداری میں)صبح کی روشنی کی طرح ظاہرہوتا۔(بخاری۔باب کیف کان بدء الوحی)۔۔۔۔روح سے یہاں مراد صرف قرآن نہیں بلکہ ہر طرح کی وحی ہے جس کا تفصیلی ذکر سابقہ حاشیہ میں کیا گیا ہے۔(تیسیر القرآن)