43 - سورة الزخرف (مکیہ)

رکوع - 7 آیات - 89

مضمون: ملائکہ کی الوہیت اور شفاعت کا عقیدہ توحید کے منافی ہے۔اس دعوت کی تکذیب کرنے والے اپنے لیے ہلاکت کا سامان کررہے ہیں۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

نام: آیت نمبر 35میں لفظ زُخرف آیا ہے جس سے اس سورت کا نام زُخرف رکھا گیا ہے ۔زُخرف کا مطلب زینت ،سونا،زیور یا متاعِ دنیا ۔

شانِ نزول: حوامیم میں سب سے آخر میں، سورۂ الزُخرف،رسول اللہؐ کے قیام ِ مکہ کے چوتھے اور آخری دور (11 تا 13 سن نبوی) میں نازل ہوئی۔ جب آپؐ پر ساحر ہونے کا الزام تھا اور آپکے قتل کی سازشیں ہورہی تھیں(

نظمِ کلام: سورۂ سبا

ترتیبِ مطالعۂ و اہم مضامین:(i) ر۔1(قرآنِ عربی باقی اور غالب رہے گا) (ii) ر۔2( ملائکہ کی الوہیت کے تصور کا ابطال)(iii)ر۔3(دعوتِ قرآن، دعوتِ ابراہیمی کے مانند) (iv)ر۔4(ذکرالٰہی سے روگرداں لوگ) (v)ر۔5(حضرت موسیٰ کی دعوت اور ان کی قوم)  (vi)ر۔6( حضرت عیسیٰ سے قوم کا سلوک)(vii)ر۔7( نیکوکاروں اور بدکرداروں کا انجام )


پہلا رکوع

حٰمٓۚۛ  ﴿1﴾ وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ  ﴿2﴾ اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ  ﴿3﴾ وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ  ﴿4﴾ اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ ﴿5﴾ وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ ﴿6﴾ وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ﴿7﴾ فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ ﴿8﴾ وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ  ﴿9﴾ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ  ﴿10﴾ وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ ﴿11﴾ وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ  ﴿12﴾ لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ  ﴿13﴾ وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ﴿14﴾ وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠   ۧ ۧ ﴿15ع الزخرف 43﴾
1. حٰم۔ 2. کتاب روشن کی قسم۔ 3. کہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو۔ 4. اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے۔ 5. بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے۔ 6. اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے پیغمبر بھیجے تھے۔ 7. اور کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے۔ 8. تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلے لوگوں کی حالت گزر گئی۔ 9. اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے (خدا) نے پیدا کیا ہے۔ 10. جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ اور اس میں تمہارے لئے رستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو۔ 11. اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا۔ پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کیا۔ اسی طرح تم زمین سے نکالے جاؤ گے۔ 12. اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کئے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چارپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ 13. تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب اس پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ (ذات) پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کر دیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کرلیتے۔ 14. اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ 15. اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لئے اولاد مقرر کی۔ بےشک انسان صریح ناشکرا ہے۔

تفسیر آیات

واضح کتاب کا لفظ بڑا وسیع مفہوم اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ کیونکہ یہ کتاب بہت سی باتوں کی وضاحت کرتی ہے۔مثلاً یہ کتاب شرک کی جملہ اقسام کی وضاحت کرتی ہے۔دین حق اور شریعت کے امور کی وضاحت کرتی ہے۔احوال آخرت اور جنت و دوزخ کی وضاحت کرتی ہے۔الغرض حق اور باطل کی ایک ایک چیز کو پوری وضاحت سے پیش کررہی ہے۔(تیسیر القرآن) 

" اُمُّ الْكِتٰبِ" سے مراد ہے " اصل الکتاب " یعنی وہ کتاب جس سے تمام انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہونے والی کتابیں ماخوذ ہیں۔ اسی کو سورة واقعہ میں کِتَابٌ مَّکْنُوْنٌ  (پوشیدہ اور محفوظ کتاب) کہا گیا ہے، اور سورة بروج میں اس کے لیے لوح محفوظ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، یعنی ایسی لوح جس کا لکھا مٹ نہیں سکتا اور جو ہر قسم کی در اندازی سے محفوظ ہے۔ قرآن کے متعلق یہ فرما کر کہ یہ " اُمُّ الْكِتٰبِ" میں ہے ایک اہم حقیقت پر متنبہ فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف زمانوں میں مختلف ملکوں اور قوموں کی ہدایت کے لیے مختلف انبیاء پر مختلف زبانوں میں کتابیں نازل ہوتی رہی ہیں، مگر ان سب میں دعوت ایک ہی عقیدے کی طرف دی گئی ہے، حق ایک ہی سچائی کو قرار دیا گیا ہے، خیر و شر کا ایک ہی معیار پیش کیا گیا ہے، اخلاق و تہذیب کے یکساں اصول بیان کیے گئے ہیں اور فی الجملہ ایک ہی دین ہے جسے یہ سب کتابیں لے کر آئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سب کی اصل ایک ہے اور صرف عبارتیں مختلف ہیں۔ ایک ہی معنی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک بنیادی کتاب میں ثبت ہیں اور جب کبھی ضرورت پیش آئی ہے، اس نے کسی نبی کو مبعوث کر کے وہ معنی حال اور موقع کی مناسبت سے ایک خاص عبارت اور خاص زبان میں نازل فرما دیے ہیں۔ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کا فیصلہ محمد ﷺ کو عرب کے بجائے کسی اور قوم میں پیدا کرنے کا ہوتا تو یہی قرآن وہ حضور ﷺ پر اسی قوم کی زبان میں نازل کرتا۔ اس میں بات اسی قوم اور ملک کے حالات کے لحاظ سے کی جاتی، عبارتیں کچھ اور ہوتیں، زبان بھی دوسری ہوتی، لیکن بنیادی طور پر تعلیم و ہدایت یہی ہوتی، اور وہ یہی قرآن ہوتا (اگرچہ قرآن عربی نہ ہوتا اسی مضمون کو سورة شعراء میں یوں ادا کیا گیا ہے وَ اِنَّہ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ............ بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ وَّ اِنَّہ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ(192-196)" یہ رب العٰلمین کی نازل کردہ کتاب ہے ............. صاف صاف عربی زبان میں، اور یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ " (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الشعراء، حواشی 119۔ 121) (تفہیم القرآن)

۔ قرآن کے مخلوق ہونے سے متعلق معتزلہ کا استدلال اور اس کا جواب:۔  اس سے مراد ام الکتاب بھی ہوسکتی ہے۔اور قرآن کریم بھی ۔یعنی تم لوگ اگر اس کی قدر و منزلت نہیں کرتے تو اس سے حقیقت میں کچھ فرق نہیں پڑسکتا۔واضح رہے کہ عقل پرست فرقہ معتزلہ نے قرآن کے متعلق انّا جعلناہ سے یہ استدلال کیا کہ قرآن مخلوق ہے۔ یہ استدلال غلط اور باطل ہے کیونکہ جعل کا لفظ صرف ایجاد اور تخلیق کے معنوں میں نہیں آتابلکہ اور بھی کئی معنی دیتا ہے ۔اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ قدیم ہے۔ اس کی صفات بھی قدیم ہیں۔ اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور یہ اس کی صفت ہے۔ اس کے مقابلہ میں معتزلہ کا استدلال یہ ہے کہ اگر اللہ کے ساتھ اللہ کی صفات کو بھی قدیم مانا جائے تو تعدد قدماء لازم آتاہے اور یہ شرک ہے اسی لیے وہ اپنے آپ کواہل العدل و التوحید کہتے تھے اور دوسرے سب مسلمانوں کو مشرک سمجھتے تھے۔مگر انہوں نے اس طرف غور نہ کیا کہ جو چیز مخلوق یا حادث  ہو وہ کسی وقت فنا بھی ضرور ہوگی تو کیا نعوذباللہ اللہ کی صفات یا مثلاً یہی قرآن کسی وقت فنا بھی ہوسکتاہے؟چونکہ کچھ عباسی خلیفے بھی اعتزال سے متاثر تھے اور مامون الرشید پکا معتزلی تھا۔لہذا قرآن کے مخلوق ہونے کی بحث یا مناسب الفاظ میں اس فتنہ نے پوری ایک صدی طوفان کھڑا کئے رکھا۔ بعد میں خلیفوں کو ہی اللہ نے سیدھی راہ دکھادی تو یہ اپنی موت آپ مرگیا۔ سیدنا امام احمد بن حنبل نے اسی فتنہ کے خلاف بڑی مدت تک قید و بند اور مارپیٹ کی مصیبتیں جھیلی تھیں اور ایسی ہی باتیں اللہ کی صفات میں الحاد کے ضمن میں آتی ہیں۔(تیسیر القرآن)

۔اس فقرے کا تعلق کتاب مبین سے بھی ہے اور امّ الکتاب سے بھی۔ یعنی یہ تعریف قرآن کی بھی ہے اور اس اصل کتاب کی بھی جس سے قرآن منقول یا ماخوذ ہے۔ (تفہیم القرآن)

  یعنی کفار مکہ! اگر تم اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے ۔قرآن کی آیات کا مذاق اڑاتے ہو، کبھی اسے پہلوں کی کہانیاں قراردیتے ہو، کبھی اسے بندوں کا کلام کہتے ہو۔تو کیاہم تمہاری ایسی شرارتوں کی وجہ سے خلقت کی رہنمائی کاکام چھوڑ دیں گے اور قرآن کو نازل کرنا بندکردینگے ؟ اس کے نزول کے دو فائدے تو بہر حال ہوہی رہے ہیں ایک یہ کہ بہت سی سعید روحیں اس سے مستفید ہو رہی ہیں۔اور دوسرے یہ کہ تم لوگوں پر حجت پوری ہورہی ہے۔(تیسیر القرآن)

10۔دوسرے مقامات پر تو زمین کو فرش سے تعبیر کیا گیا ہے مگر یہاں اس کے لیے گہوارے کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے۔ یعنی جس طرح ایک بچہ اپنے پنگھوڑے میں آرام سے لیٹا ہوتا ہے، ایسے آرام کی جگہ تمہارے لیے اس عظیم الشان کرے کو بنادیا جو فضا میں معلق ہے۔ جو ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے محور پر گھوم رہا ہے۔ جو 66600 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں دواں ہے۔ جسکے پیٹ میں وہ آگ بھری ہے کہ پتھروں کو پگھلا دیتی ہے اور آتش فشانوں کی شکل میں لاوا اگل کر کبھی کبھی تمہیں بھی اپنی شان دکھا دیتی ہے۔ مگر اس کے باوجود تمہارے خالق نے اسے اتنا پر سکون بنادیا ہے کہ تم آرام سے اس پر سوتے ہو اور تمہیں ذرا جھٹکا تک نہیں لگتا۔ تم اس پر رہتے ہو اور تمہیں یہ محسوس تک نہیں ہوتا کہ یہ کرہ معلق ہے اور تم اس پر سر کے بل لٹکے ہوئے ہو۔ تم اطمینان سے اس پر چلتے پھرتے ہو اور تمہیں یہ خیال تک نہیں آ تاکہ تم بندوق کی گولی سے بھی زیادہ تیز رفتار گاڑی پر سوار ہو، حالانکہ اس کی ایک معمولی سی جھر جھری کبھی زلزلے کی شکل میں آ کر تمہیں خبر دے دیتی ہے کہ یہ کس بلا کا خوفناک دیو ہے جسے اللہ نے تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل، حواشی 74۔ 75)۔۔۔۔۔ پہاڑوں کے بیچ بیچ میں درے، اور پھر کوہستانی اور میدانی علاقوں میں دریا وہ قدرتی راستے ہیں جو اللہ نے زمین کی پشت پر بنا دیے ہیں۔ انسان ان ہی کی مدد سے کرہ زمین پر پھیلا ہے۔ اگر پہاڑی سلسلوں کو کسی شگاف کے بغیر بالکل ٹھوس دیوار کی شکل میں کھڑا کردیا جاتا اور زمین میں کہیں دریا، ندیاں، نالے نہ ہوتے تو آدمی جہاں پیدا ہوا تھا اسی علاقے میں مقید ہو کر رہ جاتا۔ پھر اللہ نے مزید فضل یہ فرمایا کہ تمام روئے زمین کو یکساں بنا کر نہیں رکھ دیا، بلکہ اس میں قسم قسم کے ایسے امتیازی نشانات (Land marks) قائم کردیے جن کی مدد سے انسان مختلف علاقوں کو پہچانتا ہے اور ایک علاقے اور دوسرے علاقے کا فرق محسوس کرتا ہے۔ یہ دوسرا اہم ذریعہ ہے جس کی بدولت انسان کے لیے زمین میں نقل و حرکت آسان ہوئی۔ اس نعمت کی قدر آدمی کو اس وقت معلوم ہوتی ہے جب اسے کسی لق و دق صحرا میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے، جہاں سینکڑوں میل تک زمین ہر قسم کے امتیازی نشانات سے خالی ہوتی ہے اور آدمی کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچا ہے اور آگے کدھر جائے۔۔۔۔۔۔یہ فقرہ بیک وقت دو معنی دے رہا ہے۔ ایک معنی یہ کہ تم ان قدرتی راستوں اور ان نشانات راہ کی مدد سے اپنا راستہ معلوم کرسکو۔ دوسرے معنی یہ کہ اللہ جل شانہ کی اس کاریگری کو دیکھ کر تم ہدایت حاصل کر سکو (تفہیم القرآن)

۔ یہ آیت اور بعد کی تین آیات مشرکین کے جواب کا حصہ نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہیں کہ جو شخص اس کائنات کی خلقت پر تدبر کی نگاہ ڈالے گا وہ اس میں خالق کی قدرت، ربوبیت اور حکمت کے ایسے آثار  پائے گا کہ لازماً وہ اس کی توحید کا بھی اقرار کرے گا اور ایک روز جزاء و سزا کا بھی۔ (تدبرِ قرآن)

11۔اور اسی خدائے عزیز وعلیم کا یہ کرشمہ ربوبیت بھی ہے کہ اس نے آسمان سے پانی اتارا ایک خاص اندازے کے ساتھ۔ پانی کا ایک خاص اندازے کے ساتھ اترنا اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ یہ محض ابرو ہوا کے تصرف سے نہیں بلکہ ایک عزیز وعلیم کی تقدیر سے اترتا ہے جو اپنی حکمت کے تحت صرف اتنا ہی پانی اتارتا ہے جس کا زمین تحمل کرسکتی ہے۔(تدبرِ قرآن)

12۔جوڑوں سے مراد صرف نوع انسانی کے زن و مرد، اور حیوانات و نباتات کے نر و مادہ ہی نہیں ہیں، بلکہ دوسری بیشمار چیزیں بھی ہیں جن کو خالق نے ایک دوسرے کا جوڑا بنایا ہے اور جن کے اختلاط یا امتزاج سے دنیا میں نئی نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں۔ مثلاً عناصر میں بعض سے جوڑ لگتا ہے اور بعض کا بعض سے نہیں لگتا۔ (تفہیم القرآن)

۔ انسان کی سواریاں دوقسم کی ہوتی ہیں ۔ایک وہ سواریاں جنہیں  انسان اپنی صنعت و حرفت کے ذریعے خود بناتاہے اور دوسرے وہ حیوانات جن کی تخلیق میں انسانی صنعت کا کوئی دخل نہیں " کشتیاں" بول کر سواریوں کی پہلی قسم مراد لی گئی ہے اور  "چوپائے" سے دوسری قسم۔(معارف القرآن)

13۔ سفر کے وقت کی گئی دعائیں احادیث میں موجود ہیں مثلاً سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا۔ حضرت علیؓ نے اس کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ سواری پرپاؤں رکھتے وقت "بسم اللہ" کہے پھر سوار ہوجانےکے بعد الحمد للہ اور اس کے بعد یہ آیات۔ پھر تین تین مرتبہ الحمد للہ اور اللہ اکبر۔(معارف القرآن)

- گھوڑوں اور کاروں پرسوارہونے والوں کا تکبر۔ص 212 (تدبر قرآن)

- یہاں جودعا  تلقین  کی گئ ہے اس کاظاہری تعلق تو اونٹ اور گھوڑے وغیرہ کی سواریوں ہی سے ہے لیکن یہی دعااس زمانے کی دوسری ترقی یافتہ سواریوں کے لئے بھی موزوں ہے ۔مثلاً موٹر اور ہوئی جہاز وغیرہ ۔البتہ بحری سواریوں کیلئے موزوں تر دعا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا-اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ہے۔جو حضرت نوحؑ سے منقول ہے۔(تدبرقرآن)

15۔ فلسفۂ قدیم کی اصطلاحوں میں مسئلہ کی تقدیریوں ہوگی کہ خدا کو جب خالق مان لیا تو لازم ہے کہ وہ قدیم بھی ہو،کیوں کہ حادث موجدِکُل ہوہی نہیں سکتا، اور جب وہ قدیم ٹھہرا ،تو اسی سے عدم ترکیب بھی اس کے لیے لازم آئی،جو مرکب ہے وہ قدیم کیوں کر ہوسکتاہے تو جو قدیم غیر مرکب ہے اس کا کوئی جز تسلیم کرنا اُسے مرکب و حادث قراردینا ہوا۔(تفسیر ماجدی)

۔غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت کی زد اس عقیدہ وحدت الوجود پر بھی پڑتی ہے جس کے اصل موجد تو ہندو فلسفی ہیں لیکن ہمارے صوفیوں کے ایک گروہ نے اسلام میں بھی اس کو لا گھسایا ہے۔ اس عقیدے کے بموجب تمام کائنات اور اس کی ہر چیز خدا کے جزو کی حیثیت حاصل کرلیتی ہے۔ تو جب مشرکین عرب کا فرشتوں کو خدا کا جزو بنانا شرک ٹھہرا تو ساری کائنات کو خدا کا جزو بنا دینا توحید کس طرح بن جائے گا۔ (تدبرقرآن)

ــــ مراد ملائکہ ہیں جن کو وہ خدا کی بیٹیاں تصور کرتے تھے ۔فرمایا کہ خدا کے سوا سب اس کی مخلوق ہیں، کسی چیز کو بھی اس کے جزو کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ اس آیت کی زد میں صوفیوں کے عقیدۂ وحدت الوجود پر بھی پڑتی ہے۔جب فرشتوں کو خدا کا جزو بنانا شرک ہے تو ساری کائنات کو اس کا جزوبنادینا توحید کس طرح بن جائے گا؟(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)


دوسرا رکوع

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ ﴿16﴾ وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ ﴿17﴾ اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ ﴿18﴾ وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ ﴿19﴾ وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ  ﴿20﴾ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ ﴿21﴾ بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ ﴿22﴾ وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ ﴿23﴾ قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ ﴿24﴾ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿25ع الزخرف 43﴾
16. کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دیئے۔ 17. حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔ 18. کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے؟۔ 19. اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں (خدا کی) بیٹیاں مقرر کیا۔ کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے بازپرس کی جائے گی۔ 20. اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے۔ ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔ 21. یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے سند پکڑتے ہیں۔ 22. بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک رستے پر پایا ہے اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں۔ 23. اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں کوئی ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں۔ 24. پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس رستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا وہ اس سے کہیں سیدھا رستہ دکھاتا ہے۔ کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔ 25. تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔

تفسیر آیات

17۔اس آیت میں ایک نفسیاتی پہلو سے ان کے اس عقیدے کے بھونڈے پن کو واضح فرمایا کہ صرف یہی ستم نہیں ہے کہ خدا کی مخلوقات کو اس کا ایک جزو بنائے دے رہے ہیں بلکہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بیٹیوں کو اپنے لئے تو ایک نہایت نفرت کی چیز سمجھتے ہیں لیکن خدا کی طرف ان کو منسوب کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے۔ (تدبرقرآن)

۔ محققین نے آیت سے استنباط کیا ہے کہ کسی عقیدے کا بلا دلیل قائل ہوجانا قابل ملامت ہے،اور تقلید جامد جو محض رسم پرستی کی مرادف ہے، مستحق وعید ہے۔(تفسیر ماجدی)


تیسرا رکوع

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ  ﴿26﴾ اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ ﴿27﴾ وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ ﴿28﴾ بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ ﴿29﴾ وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ ﴿30﴾ وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ ﴿31﴾ اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ﴿32﴾ وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ  ﴿33﴾ وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ  ﴿34﴾ وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿35ع الزخرف 43﴾
26. اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔ 27. ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا رستہ دکھائے گا۔ 28. اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع کریں۔ 29. بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آ پہنچا۔ 30. اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔ 31. اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکّے اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟ 32. کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے۔ 33. اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں گے تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں۔ 34. اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں۔ 35. اور (خوب) تجمل وآرائش (کردیتے) اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے۔ اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے۔

تفسیر آیات

26۔ بَرَآءٌ‘ مصدر ہے جو صفت کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ مصدر جب صفت کے مفہوم میں استعمال ہو تو اس کے اندر مبالغہ کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے جیسے زید عدل اس وجہ سے اننی برآء کے معنی ہوں گے۔ میں تم سے یک قلم بری ہوں، میرے اور تمہارے درمیان اب کوئی رابطہ باقی نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔ قریش پر اس حقیقت کا اظہار ہے کہ وہ اپنے شرک کی حمایت میں اپنے آباء و اجداد کا حوالہ جو دیتے ہیں تو آخر اپنے اصل جدامجد کو کیوں بھول جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔سب سے زیادہ مایہ ناز تو حضرت ابراہیم ؑ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے جد امجد نے ان کے لئے روایت تقلیدِ آباء میں شرک پرستی کی نہیں بلکہ مبتلائے شرک باپ دادا سے بیزاری کی چھوڑی ہے۔۔۔۔۔۔ (تدبرِقرآن)

28۔ اولاد کی اصلاح کے لئے زیادہ کارگر عمل یہ ہے کہ والدین ان کی دینی اصلاح کے لئے دعا کا اہتمام کریں۔ افسوس ہے کہ اس آسان تدبیر سے آج کل غفلت عام ہوتی جا رہی ہے۔ اور اس کے انجام بد کا مشاہدہ خود والدین کرتے رہتے ہیں۔ (معارف القرآن)

32۔ یہ حکمت بیان فرمائی اس بات کی کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ذہنی اور مادی دونوں ہی اعتبار سے درجات ومراتب کا تفاوت کیوں رکھا ہے ؟ فرمایا کہ ایسا اس نے اس وجہ سے کیا ہے کہ لوگ باہم دگر تعاون کی زندگی بسر کریں اور ایک دوسرے کو اپنے کام میں لگا سکیں۔۔۔۔ جب ہر شخص لینن اور سٹالن بننے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرلے گا تو آخر وہ لینن یا ماؤ کی کار چلانے والا ڈرائیور یا ان کے جوتوں پر پالش کرنے والا خدمت گار بننے پر کیوں قانع ہوگا ؟ پھر تو ہر شخص خداوند بننے کی کوشش کرے گا اور اتنے خداؤں کی کشمکش میں اس دنیا کا جو حشر ہوگا اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے ! ! (تدبرِ قرآن)

35۔ زخرُف کے معنی زینت کے بھی آتے ہیں اور سونے کے بھی جو زینت کا ذریعہ ہوتا ہے۔ تالیف کلام کے اعتبار سے اس کو مِنْ فِضَّةٍ کے محل پر عطف بھی کرسکتے ہیں اور فعل بھی محذوف مان سکتے ہیں یعنی لَجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ زُخْرُفًا مدعا میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوگا۔ یعنی اگر ہم چاہیں تو مذکورہ ساری چیزیں ان کے لئے سونے کی بھی بنا دیں یا ان کے لئے سونے کے ڈھیر اکٹھے کردیں۔ (تدبرِ قرآن)


چوتھا رکوع

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ ﴿36﴾ وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ ﴿37﴾ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ ﴿38﴾ وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ ﴿39﴾ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ﴿40﴾ فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ  ﴿41﴾ اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ ﴿42﴾ فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﴿43﴾ وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ ﴿44﴾ وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿45ع الزخرف 43﴾
36. اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرکے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے۔ 37. اور یہ (شیطان) ان کو رستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے رستے پر ہیں۔ 38. یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق ومغرب کا فاصلہ ہوتا تو برا ساتھی ہے۔ 39. اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو۔ 40. کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو یا اندھے کو رستہ دکھا سکتے ہو اور جو صریح گمراہی میں ہو (اسے راہ پر لاسکتے ہو)۔ 41. اگر ہم تم کو (وفات دے کر) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے۔ 42. یا (تمہاری زندگی ہی میں) تمہیں وہ (عذاب) دکھا دیں گے جن کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔ 43. پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو۔ بےشک تم سیدھے رستے پر ہو۔ 44. اور یہ (قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو) تم سے عنقریب پرسش ہوگی۔ 45. اور (اے محمدﷺ) جو اپنے پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ہیں ان سے دریافت کرلو۔ کیا ہم نے (خدائے) رحمٰن کے سوا اور معبود بنائے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے۔

تفسیر آیات

36۔ رحمان کے ذکر سے مراد اس کی یاد بھی ہے،اس کی طرف سے آئی ہوئی نصیحت بھی اور یہ قرآن بھی۔(تفہیم القرآن)

- "قَیض" کہتے ہیں اس خول کو جو انڈے پر ہوتاہے اسی اعتبار سے نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا  کا معنیٰ ہوگا کہ ہم اس کے لئے شیطان مخصوص کردیتے  ہیں جواس کو ہر جانب سے گھیر لیتاہے۔(ضیاء القرآن)

- البتہ جو لوگ اپنے دل اپنے رب کی یاد سے آباد رکھتے ہیں شیطان کو ان کے اندر گھسنے کی راہ نہیں ملتی اور اگر کبھی کسی غفلت کے سبب سے اس کو دراندازی کا کوئی موقع مل بھی جائے تو اس کو وہاں ٹکنے کی جگہ نہیں ملتی بلکہ بندہ کے متنبہ ہوتے ہی شیطان کو وہاں سے بھاگنا پڑتاہے۔(تدبرقرآن)

38۔ بُعْدُ الْمَشْرِقَیْنِ۔مشرقین سے محاورے میں مراد"دومشرقوں "سے نہیں، بلکہ مشرق و مغرب سے ہوتی ہے۔(تفسیر ماجدی) 

۔ مشرقین کا مفہوم عام طور پر مفسرین نے مشرق اور مغرب لیا ہے لیکن میرے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔ عربی میں بعض مرتبہ مثنیٰ کسی شئے کے دونوں کناروں کی وسعت کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ اسی طرح جمع بھی کسی شے کے اطراف و اکناف کی وسعت کے اظہار کے لئے آتی ہے۔ قرآن میں مغربین و مشرقین، اور مشارق  و مغارب، وغیرہ الفاظ اسی پہلو سے استعمال ہوئے ہیں۔ اس کی وضاحت دوسرے محل میں ہوچکی ہے۔ (تدبرقرآن)

44۔ یعنی اس سے بڑھ کر کسی شخص کی کوئی خوش قسمتی نہیں ہو سکتی کہ تمام انسانوں میں سے اس کو اللہ اپنی کتاب نازل کرنے کے لیے منتخب کرے اور کسی قوم کے حق میں بھی اس سے بڑی کسی خوش قسمتی کا تصور نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا کی دوسری سب قوموں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ اس کے ہاں اپنا نبی پیدا کرے اور اس کی زبان میں اپنی کتاب نازل کرے اور اسے دنیا میں پیغام خداوندی کی حامل بن کر اٹھنے کا موقع دے۔ اس شرف عظیم کا احساس اگر قریش اور اہل عرب کو نہیں ہے اور وہ اس کی ناقدری کرنا چاہتے ہیں تو ایک وقت آئے گا جب انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔ (تفہیم القرآن)

45۔ بعد از موت انبیاء کی زندگی کے قائلین اور ان کا رد:۔ اس آیت میں وَ سْــٴَـلْ کا مطلب اکثر مفسرین نے دو طرح سے بیان کیا ہے ایک یہ کہ ان انبیاء کے وارث علماء یا علمائے بنی اسرائیل سے پوچھ لیجئے ۔اور دوسرا مطلب یہ کہ ان رسولوں کی کتابوں میں تلاش کرکے دیکھوکہ ان میں کہیں یہ لکھا ہے کہ ہم نے اپنے علاوہ کچھ اور بھی الٰہ بنادئیے ہیں جن کی عبادت کی جایاکرے۔لیکن کچھ حضرات ایسے بھی ہیں جو انبیاء و اولیائے کرام کی عرصہ برزخ میں مکمل زندگی ثابت کرناچاہتے ہیں۔یعنی وہ لوگوں کی پکار سنتے بھی ہیں اور ان کا جواب بھی دیتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی آگے ان کے تصرف کا یہ ہے ۔ وہ پکارنے والے کی مشکل کشائی اور حاجت روائی بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسے ہی ایک صاحب اس آیت کا ترجمہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ"اگر انبیاء کرام میں حیات نہ ہوتی ۔وہ خطاب و ندا کو نہ سمجھتے ہوتے اور جواب دینے کی قدرت ان میں نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے حبیبؐ کو انبیاء و رسل سے دریافت کرنے کا حکم نہ فرماتا"ایسے حضرات چونکہ عموماً بریلوی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔لہذا ہم یہاں ترجمہ احمد رضا خان بریلوی(کنزالایمان)پر حاشیہ نمبر45 از نعیم الدین مرادآبادی درج کرتے ہیں:۔"رسولوں سے سوال کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ان کے ادیان میں دخل کی تلاش کرو۔کہیں بھی کسی نبی کی امت میں بت پرستی روا   رکھی گئی ہے؟ اور اکثر مفسرین نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ مومنین اہل کتاب سے دریافت کرو۔کیا کسی نبی نے غیر اللہ کی عبادت کی اجازت دی؟ تاکہ مشرکین پر ثابت ہوجائے کہ مخلوق پرستی نہ


پانچواں رکوع

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴿46﴾ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ ﴿47﴾ وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ ﴿48﴾ وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ ﴿49﴾ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ ﴿50﴾ وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ  ﴿51﴾ اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ ﴿52﴾ فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ ﴿53﴾ فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ﴿54﴾ فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ  ﴿55﴾ فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠    ۧ ۧ ﴿56ع الزخرف 43﴾
46. اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا کہ میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا ہوں۔ 47. جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے ہنسی کرنے لگے۔ 48. اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے تھے وہ دوسری سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آئیں۔ 49. اور کہنے لگے کہ اے جادوگر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بےشک ہم ہدایت یاب ہو جائیں گے۔ 50. سو جب ہم نے ان سے عذاب کو دور کردیا تو وہ عہد شکنی کرنے لگے۔ 51. اور فرعون نے اپنی قوم سے پکار کر کہا کہ اے قوم کیا مصر کی حکومت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اور یہ نہریں جو میرے (محلوں کے) نیچے بہہ رہی ہیں (میری نہیں ہیں) کیا تم دیکھتے نہیں۔ 52. بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں۔ 53. تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اُتارے گئے یا (یہ ہوتا کہ) فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے۔ 54. غرض اس نے اپنی قوم کی عقل مار دی۔ اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔ بےشک وہ نافرمان لوگ تھے۔ 55. جب انہوں نے ہم کو خفا کیا تو ہم نے ان سے انتقام لے کر اور ان سب کو ڈبو کر چھوڑا۔ 56. اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لئے عبرت بنا دیا۔

تفسیر آیات

46۔ یہ قصہ یہاں تین مقاصد کے لیے بیان کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ملک اور کسی قوم میں اپنا نبی بھیج کر اسے وہ موقع عطا فرماتا ہے جو محمد ﷺ کی بعثت سے اب اہل عرب کو اس نے عطا فرمایا ہے، اور وہ اس کی قدر کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اس حماقت کا ارتکاب کرتی ہے جس کا ارتکاب فرعون اور اس کی قوم نے کیا تھا تو پھر اس کا وہ انجام ہوتا ہے جو تاریخ میں نمونہ عبرت بن چکا ہے۔ دوسرے یہ کہ فرعون نے بھی اپنی بادشاہی اور اپنی شوکت و حشمت اور دولت و ثروت پر فخر کر کے موسیٰ ؑ کو اسی طرح حقیر سمجھا تھا جس طرح اب کفار قریش اپنے سرداروں کے مقابلے میں محمد ﷺ کو حقیر سمجھ رہے ہیں۔ مگر خدا کا فیصلہ کچھ اور تھا جس نے آخر بتادیا کہ اصل میں حقیر و ذلیل کون تھا۔ تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ مذاق اور اس کی تنبیہات کے مقابلے میں ہیکڑی دکھانا کوئی سستا سودا نہیں ہے بلکہ یہ سودا بہت مہنگا پڑتا ہے۔ اس کا خمیازہ جو بھگت چکے ہیں ان کی مثال سے سبق نہ لو گے تو خود بھی ایک روز وہی خمیازہ بھگت کر رہو گے۔ (تفہیم القرآن)

48۔ ان نشانیوں سے مراد وہ پے درپے عذاب ہیں جن کا ذکر سورۂ اعراف کی آیت نمبر 133 میں گزرچکا ہے۔ وہی حاشیہ ملاحظہ فرمالیا جائے۔یہ ہلکے ہلکے عذاب دراصل تنبیہات تھیں جن سے غرض یہ تھی کہ شاید وہ ڈرکر اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔(تیسیر القرآن)

ــــ (اپنے کفر و عناد سے) وَ مَا نُرِیْهِمْ ۔۔۔۔ اُخْتِهَا۔یہاں آیت یا نشانی سے مراد قحط وغیرہ کے نومشہور معجزے یا خوارق ہیں۔"مطلب یہ ہواکہ سب نشانیاں بڑی ہی تھیں،اور یہ مطلب نہیں کہ ہرنشانی ہرنشانی سے بڑی تھی۔یہ ایک محاورہ ہے جب کئی چیزوں کا کمال بیان کرناہوتاہے تو یوں ہی بولتے ہیں کہ ایک سے بڑھ کر ایک"(تھانوی،ج2/ص: 488)۔(تفسیر ماجدی)

۔ ان نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو بعد میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے ان کو دکھائیں، اور وہ یہ تھیں۔۔۔۔(1) جادوگروں سے اللہ کے نبی کا برسر عام مقابلہ ہوا اور وہ شکست کھا کر ایمان لے آئے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 88 تا 92، جلد سوم، طٰہٰ، حواشی 30 تا 50، الشعراء، حواشی 29 تا 40۔  (2) حضرت موسیٰؑ کے پیشگی اعلان کے مطابق مصر کی سر زمین میں شدید قحط برپا ہوگیا اور وہ انکی دعا پر ہی دور ہوا۔ (3) ان کے پیشگی اعلان کے بعد سارے ملک میں ہولناک بارشوں اور ژالہ باری اور گرج اور کڑک کے طوفان آئے جنہوں نے بستیوں اور کھیتوں کو تباہ کر ڈالا، اور یہ بلا بھی ان کی دعا سے ہی دفع ہوئی۔ (4) پورے ملک پر ان کے اعلان کے مطابق ٹڈی دلوں کا خوفناک حملہ ہوا اور یہ آفت بھی اس وقت تک نہ ٹلی جب تک انہوں نے اسے ٹالنے کے لیے اللہ سے دعا نہ کی۔ (5) ملک بھر میں ان کے اعلان کے مطابق جوئیں اور سرسریاں پھیل گئیں جن سے ایک طرف آدمی اور جانور سخت مبتلائے عذاب ہوئے اور دوسرے طرف غلوں کے گودام تباہ ہوگئے۔ یہ عذاب بھی اس وقت ٹلا جب حضرت موسیٰ سے درخواست کر کے دعا کرائی گئی۔ (6) ملک کے گوشے گوشے میں ان کی قبل از وقت تنبیہ کے مطابق مینڈکوں کا سیلاب امنڈ آیا جس نے پوری آبادی کا ناطقہ تنگ کردیا۔ اللہ کی یہ فوج بھی حضرت موسیٰ کی دعا کے بغیر واپس نہ گئی۔ (7) ٹھیک ان کے اعلان کے مطابق خون کا عذاب رونما ہوا، جس سے تمام نہروں، کنوؤں، تالابوں اور حوضوں کا پانی خون میں تبدیل ہوگیا، مچھلیاں مرگئیں، ہر جگہ پانی کے ذخیروں میں عفونت پیدا ہوگئی، اور پورے ایک ہفتے تک مصر کے لوگ صاف پانی کو ترس گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بائیبل کی کتاب خروج، باب 7۔ 8۔ 9۔ 10 اور 12 میں بھی ان عذابوں کی مفصل رو داد درج ہے، مگر وہ گپ اور حقیقت کا مجموعہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جب خون کا عذاب آیا تو جادوگروں نے بھی ویسا ہی لا کر دکھایا۔ مگر جب جوؤں کا عذاب آیا تو جادوگر جواب میں جوئیں پیدا نہ کرسکے اور انہوں نے کہا کہ یہ خدا کا کام ہے۔ پھر اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب مینڈکوں کا سیلاب اٹھا تو جادوگر بھی جواب میں مینڈک چڑھا لائے، لیکن اس کے باوجود فرعون نے حضرت موسیٰ ہی سے یہ درخواست کی کہ اللہ سے دعا کر کے اس عذاب کو دفع کرایئے۔ سوال یہ ہے کہ جب جادوگر مینڈک چڑھا لانے پر قادر تھے تو فرعون نے ان ہی کے ذریعہ سے یہ عذاب کیوں نہ دور کرا لیا ؟ اور آخر یہ معلوم کیسے ہوا کہ مینڈکوں کی اس فوج میں اللہ کے مینڈک کون سے ہیں اور جادوگروں کے مینڈک کون سے ؟ یہی سوال خون کے بارے میں بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ کی تنبیہ کے مطابق ہر طرف پانی کے ذخیرے خون میں تبدیل ہوچکے تھے تو جادوگروں نے کس پانی کو خون بنایا اور کیسے معلوم ہوا کہ فلاں جگہ کا پانی جادوگروں کے کرتب سے خون بنا ہے ؟ ایسی ہی باتوں سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ بائیبل خالص کلام الٰہی پر مشتمل نہیں ہے بلکہ اس کو جن لوگوں نے تصنیف کیا ہے انہوں نے اس کے اندر اپنی طرف سے بھی بہت کچھ ملا دیا ہے۔ اور غضب یہ ہے کہ یہ مصنفین کچھ تھے بھی واجبی سی عقل کے لوگ جنہیں بات گھڑنے کا سلیقہ بھی نصیب نہ تھا۔ (تفہیم القرآن)

49۔"فرعون بولا کہ میں تمہیں جانے دوں گا تاکہ تم خداوند اپنے خدا کے لیے بیابان میں قربانی کرو، لیکن تم بہت دورمت جاؤ،میرے لیے شفاعت کرو"۔(خروج،8: 28)۔۔۔۔۔ یٰاَیُّهَ السّٰحِرُ۔ اہل مصر حضرت موسیٰؑ کی قوتِ اعجازی کے پوری طرح قائل تھے،البتہ وہ اس کو آپؑ کی صداقت کی دلیل نہ سمجھتے ،اور نبوت و رسالت کا تو مسئلہ ہی سرے سے ان کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا۔وہ آپؑ کے لائے ہوئے تمام خوارق کو آپ کی زبردست قوتِ تسخیری تکوینی پر محمول کررہے تھے۔(تفسیر ماجدی)

۔ حضرت موسیٰ ؑ کو یَآ اَیّہَ السٰحر سے مخاطب کرنا کسی تحقیر یا سوء ادب پر مبنی نہیں ہے۔ مصر میں اس وقت ساحروں کو سوسائٹی میں وہی مقام حاصل تھا جو کسی سوسائٹی میں علماء اور صوفیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ اے ساحر! ہمارے لئے دعا کیجیے تعظیم کا خطاب ہے۔۔۔۔۔۔۔ بِمَا عَھِدَ عِندَکَ کی وضاحت سورة اعراف میں ہوچکی ہے۔ یعنی چونکہ آپ کے رب نے آپ کی دعا کی قبولیت کا آپ سے وعدہ کر رکھا ہے اس وعدہ کے واسطہ سے آپ دعا کریں گے تو وہ ضرور ہی قبول ہوگی۔ (تدبرِ قرآن)

50۔ رہا یہ سوال کہ جب دعا کی درخواست کرتے وقت بھی وہ علانیہ حضرت موسیٰؑ کی توہین کرتا تھا تو آپ اس کی درخواست قبول ہی کیوں کرتے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آنجناب کے پیش نظر اللہ کے حکم سے ان لوگوں پر حجت تمام کرنا تھا۔ عذاب ٹالنے کے لیے ان کا آپ سے دعا کی درخواست کرنا خود یہ ثابت کر رہا تھا کہ اپنے دلوں میں وہ جان چکے ہیں کہ یہ عذاب کیوں آ رہے ہیں، کہاں سے آ رہے ہیں، اور کون انہیں ٹال سکتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

51۔ الْاَنْهٰرُ۔أنھار کے مفہوم دوہوسکتے ہیں۔اور اردو میں ان کے لیے لفظ بھی دوہیں : ایک تو انسانی صنعت سے تیار کیے ہوئے پانی کے چشمے اور دھارے،اردو میں نہر انہی کوکہتے ہیں۔دوسرے قدرتی ندیاں اور دریا۔ یہاں مراد دونوں ہی ہوسکتی ہیں،اگر ندیاں سمجھی جائیں تو اس سے مراد عظیم الشان مصری دریانیل کی شاخیں ہوں گی۔دریائے نیل بھی کہیں تو اپنے گرنے کے مقام کے قریب متعدد چھوٹی چھوٹی شاخوں میں تقسیم ہوگیا ہے ،بلکہ بجائے خودمجموعہ ہے کئی معاون دریاؤں (نیل الأزرق وغیرہ)کا۔اور قاہرہ کے بعد خود نیل کی دو شاخیں ہوجاتی ہیں : ایک شاخ دمیاط اور ایک شاخ رشیدیہ ۔اور اگر مراد اردوہی کی نہریں سمجھی جائیں تو وہ نہریں مراد ہوں گی جن کا جال مصر میں قدیم سے بچھا چلا آرہاہے۔(تفسیر ماجدی)

52۔ بعض مفسرین نے یہ خیال کیا ہے کہ فرعون کا اعتراض اس لکنت پر تھا جو حضرت موسیٰ کی زبان میں بچپن سے تھی۔ لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ سورة طٰہٰ میں گزر چکا ہے کہ حضرت موسیٰ کو جب نبوت کے منصب پر سرفراز کیا جا رہا تھا اس وقت انہوں نے حق تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ میری زبان کی گرہ کھول دیجیے تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ لیں، اور اسی وقت ان کی دوسری درخواستوں کے ساتھ یہ درخواست بھی قبول کرلی گئی تھی (آیات 27 تا     36)۔ پھر قرآن مجید میں مختلف مقامات پر حضرت موسیٰ کی جو تقریریں نقل کی گئی ہیں وہ کمال درجے کی طاقت لسانی پر دلالت کرتی ہیں۔ لہٰذا فرعون کے اعتراض کی بنا کوئی لکنت نہ تھی جو آنحضرت کی زبان میں ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ شخص نہ معلوم کیا الجھی باتیں کرتا ہے، مابدولت کی سمجھ میں تو کبھی اس کا مدعا آیا نہیں۔ (تفہیم القرآن)

53۔ مشرکوں کی سمجھ ہی میں یہ نہیں آتاکہ کوئی انسان عام و محض معمولی انسانیت کے ساتھ نبی کیوں کر ہوسکتاہے،ان کے عقیدہ میں خدا کا اوتار یامظہرجب دنیامیں آئے گا تو لازم ہے کہ فوق الانسان ہستیوں کے پورے جلسہ اور جلوس کے ساتھ آئے۔ڈاکٹر بی ایسٹر کی کتاب ہسٹری آف دی اینشینٹ ورلڈ (تاریخ  دنیائے قدیم)میں ہے کہ ایک عجیب و غریب تصویر اب تک موجود ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ رعمسیس ثانی (فرعون مصری)ایک بت کے سامنے کھڑا  ہوا،جوخود اُسی رعمسیس کا بت ہے ،وہ اس کی پوجا کررہاہے! گویا بادشاہ اپنی انسانی حیثیت سے پرستش اپنی بھی اس کی الوہیتی حیثیت سے کررہاہے"۔(ص:77) (تفسیر ماجدی)

۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ اس عہد میں عام طور پر سلاطین، بالخصوص مصر اور ایران کے سلاطین، اظہار شان و شوکت کے لئے سونے کے کنگن پہنتے تھے اور فوجی دستوں کے جلو میں نکلنا تو جس طرح آج شکوہ خسروی کے اظہار کے لئے ضروری ہے اسی طرح اس زمانے میں بھی اس کا اہتمام تھا۔ (تدبرِ قرآن)

54۔ اس مختصر سے فقرے میں ایک بہت بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ جب کوئی شخص کسی ملک میں اپنی مطلق العنانی چلانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے کھلم کھلا ہر طرح کی چالیں چلتا ہے، ہر فریب اور مکر و دغا سے کام لیتا ہے، کھلے بازار میں ضمیروں کی خریدو فروخت کا کاروبار چلاتا ہے، اور جو بکتے نہیں انہیں بےدریغ کچلتا اور روندتا ہے، تو خواہ  زبان سے وہ یہ بات نہ کہے مگر اپنے عمل سے صاف ظاہر کردیتا ہے کہ وہ در حقیقت اس ملک کے باشندوں کو عقل اور اخلاق اور مردانگی کے لحاظ سے ہلکا سمجھتا ہے۔۔۔۔۔۔ان مسائل کے بجائے ان کے لیے اصل اہمیت صرف اپنے ذاتی مفاد کی ہوتی ہے جس کے لیے وہ ہر ظالم کا ساتھ دینے، ہر جبار کے آگے رہنے، ہر باطل کو قبول کرنے، اور ہر صدائے حق کو دبانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)


چھٹا رکوع

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ ﴿57﴾ وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ ﴿58﴾ اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ  ﴿59﴾ وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ ﴿60﴾ وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ﴿61﴾ وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ﴿62﴾ وَ لَمَّا جَآءَ عِیْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَ لِاُبَیِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ ﴿63﴾ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ﴿64﴾ فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ ﴿65﴾  هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ  ﴿66﴾  اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠   ۧ ۧ ﴿67ع الزخرف 43﴾
57. اور جب مریم کے بیٹے (عیسیٰ) کا حال بیان کیا گیا تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے چِلا اُٹھے۔ 58. اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا عیسیٰ؟ انہوں نے عیسیٰ کی جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔ 59. وہ تو ہمارے ایسے بندے تھے جن پر ہم نے فضل کیا اور بنی اسرائیل کے لئے ان کو (اپنی قدرت کا) نمونہ بنا دیا۔ 60. اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتے بنا دیتے جو تمہاری جگہ زمین میں رہتے۔ 61. اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ تو (کہہ دو کہ لوگو) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو۔ یہی سیدھا رستہ ہے۔ 62. اور (کہیں) شیطان تم کو (اس سے) روک نہ دے۔ وہ تو تمہارا اعلانیہ دشمن ہے۔ 63. اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی (کی کتاب) لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم کو سمجھا دوں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔ 64. کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے۔ 65. پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے۔ سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے۔ 66. یہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت ان پر ناگہاں آموجود ہو اور ان کو خبر تک نہ ہو۔ 67. (جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ مگر پرہیزگار (کہ باہم دوست ہی رہیں گے)۔

تفسیر آیات

57۔ معبودوں کا جہنم میں داخلہ اور سیدنا عیسیٰؑ کا معاملہ:۔   جب سورۂ انبیاء کی یہ آیت "اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ"(21: 98)"یعنی تم بھی اور اللہ کے سوا تم جن چیزوں کو پوجتے ہو، وہ سب جہنم کا ایندھن بنیں گے"نازل ہوئی تو مشرکینِ مکہ نے یہ اعتراض اٹھایا کہ عبادت تو عیسیٰؑ کی بھی کی جاتی ہے۔ تو کیا وہ بھی جہنم کا یندھن بنیں گے؟پھر اس اعتراض کا خوب پروپیگنڈا شروع کردیا ۔عبداللہ بن الزبعریٰ نے یہی سوال رسول اللہؐ سے کیا تو آپ خاموش رہے کیونکہ آپ خود کوئی جواب دینے کی بہ نسبت یہ بات زیادہ پسند فرماتے تھے کہ مشرکوں کے ایسے اعتراضات کے جو جواب بذریعہ وحی نازل ہوں وہی ان کو جواب دیا جائے۔ آپ کی خاموشی پر مشرکین قہقہے لگانے اور کھل کھلا کرہنسنے لگے جس کا مطلب یہ تھا کہ ہماری اس دلیل نے محمدؐ کو چپ کرادیا۔بالفاظ دیگر ایسی مسکت دلیل پیش کرکے میدان مارلیاہے۔   (تیسیر القرآن)

58۔ قرآن حضرت مسیح کا ذکر کرتا ہے تو معبود کی حیثیت سے نہیں بلکہ اللہ کے ایک بندے اور ایک رسول کی حیثیت سے کرتا ہے۔۔۔۔۔یہ امر یہاں واضح رہے کہ قریش کے جھگڑالو لیڈروں نے اسی طرح کا فتنہ اسم رحمان کی آڑلے کر اٹھانے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کے اسم رحمان سے قریش ناواقف نہیں تھے لیکن اس کا غالب استعمال چونکہ اہل کتاب، بالخصوص نصاریٰ کے ہاں تھا، اس وجہ سے انہوں نے اپنی قوم کو یہ کہہ کر بھڑکا یا کہ یہ شخص دوسروں کے عقائد و نظریات ہمارے اوپر مسلط کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح کی باتوں کی آڑ لے کر مشرکین یہ بھی کہتے تھے کہ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ہیں جو اس شخص کو سکھاتے ہیں اور مقصود اس سازش کا ہمارے دین اور ہماری روایات کو مٹانا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

60۔ ۔۔۔تم نے اگر مجرد اس بنیاد پر فرشتوں کو معبود بنایا ہے کہ ان کی خلقت ایک اعلیٰ عنصر (نور) سے ہوئی ہے تو یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کسی کو معبود بنا دینے کی دلیل بن سکے۔۔۔۔۔اللہ جس طرح فرشتوں کو نور سے بنا سکتا ہے اسی طرح چاہے تو وہ خود تمہارے اندر سے فرشتوں کی صفات کے لوگ پیدا کر دے۔۔۔۔۔۔۔مطلب یہ ہے کہ مجرد کسی کا نور یا نار سے پیدا ہونا یا کسی کا بن باپ کے وجود میں آنا اس کے خدایا شریک خدا ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ ساری باتیں ہیں اس وجہ سے مستحق عبادت وہی ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ہے۔ (تدبرِ قرآن)

61۔اس فقرے کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قیامت کے علم کا ایک ذریعہ ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ " وہ ‘’‘ سے کیا چیز مراد ہے ؟ حضرت حسن بصری اور سعید بن جبیر کے نزدیک اس سے مراد قرآن ہے، یعنی قرآن سے آدمی یہ علم حاصل کرسکتا ہے کہ قیامت آئے گی۔ لیکن یہ تفسیر سیاق وسباق سے بالکل غیر متعلق ہے۔ سلسلہ کلام میں کوئی قرینہ ایسا موجود نہیں ہے جس کی بنا پر یہ کہا جاسکے کہ اشارہ قرآن کی طرف ہے۔ دوسرے مفسرین قریب قریب بالاتفاق یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ بن مریم ہیں اور یہی سیاق وسباق کے لحاظ سے درست ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔ یعنی سیدنا عیسیٰؑ کی پیدائش اور پہلی مرتبہ دنیا میں آنا تو خاص بنی اسرائیل کے لیے ایک نشان تھااور دوبارہ آنا قیامت کا نشان ہوگا ۔ان کے نزول سے لوگ معلوم کرلیں گے کہ اب قیامت بالکل نزدیک آلگی ہے۔اکثر مفسرین نے اس آیت کا یہی مطلب لیا ہے ۔اور بے شمار احادیث صحیحہ سیدنا عیسیٰؑ کے آسمان سے نزول کی تائید بھی کرتی ہیں جو بالکل قیامت کے قریب ہوگا۔ تاہم اس سے یہ مطلب بھی لیا جاسکتاہے کہ سیدنا عیسیٰؑ کی بن باپ پیدائش اور آپ کو عطاکردہ معجزات بذات خود قیامت کی علامت بن سکتے ہیں۔یعنی جو ہستی عام عادی طریقے سے ہٹ کر کسی کو بغیر باپ کے پیدا کرسکتی  ہے اوراسے محیر العقول معجزات عطاکرسکتی ہے وہ قیامت کو قائم کرنے کی بھی یقیناً قدرت رکھتی ہے۔یہ مطلب صرف اس لحاظ سے درست معلوم ہوتاہے کہ اس آیت میں کوئی ایسا قرینہ نہیں پایا جاتا جو سیدنا عیسیٰؑ کی دوبارہ آمد یا نزولِ مسیح پر دلالت کرتاہو۔(تیسیر القرآن)

62۔ یعنی قیامت پر ایمان لانے سے روک دے۔(تفہیم القرآن)

63۔  جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ۔معارف و حقائق کا درس پیمبر سے بڑھ کر اور کون لاتاہے !انہیں علوم حقیقی کو الحکمۃ کے جامع لفظ سے تعبیر کیا گیا ۔(تفسیر ماجدی)

67۔ قیامت کو دینی دوستی کے علاوہ سب قسم کے دوست باہم دشمن بن جائیں گے:۔ قیامت کے دن صرف اور  صرف وہ دوستی برقرار رہے گی جس کی بنیاد تقویٰ پر ہوگی اور جنہوں نے صرف اللہ کی خاطر اور اللہ کے دین کی خاطر ایک دوسرے سے دنیا میں دوستی رکھی ہوگی۔ باقی سب دوستیاں دشمنی میں تبدیل ہوجائیں گی۔ اور ایسی دوستیاں بھی کئی قسم کی ہوتی ہیں۔مثلاً مشرکوں کی اپنے بتوں سے محبت اور آپس میں دوستی ۔اسلام کے خلاف متحدہ محاذ بنانے میں ہر قسم کے کافروں سے دوستی ۔مجرموں کی مجرموں سے جیسے ڈاکوؤں سے دوستی، دنیوی مفادات کی خاطر دوستی ۔ایسی سب دوستیاں اور رشتے نہ صرف یہ کہ منقطع ہوجائیں گے بلکہ یہ سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور سب ایک دوسرے پر یہ الزام دھریں گے کہ فلاں میری گمراہی کا باعث بنا اور فلاں اپنے ساتھ مجھے بھی لے ڈوبا۔(تیسیر القرآن)


ساتواں رکوع

یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَۚ  ﴿68﴾ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَۚ  ﴿69﴾ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُوْنَ ﴿70﴾ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ١ۚ وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُ١ۚ وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ  ﴿71﴾ وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ﴿72﴾ لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ  ﴿73﴾ اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ ۖ  ﴿74﴾ لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ  ﴿75﴾ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ ﴿76﴾ وَ نَادَوْا یٰمٰلِكُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّكَ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ مّٰكِثُوْنَ ﴿77﴾ لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ ﴿78﴾ اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَۚ  ﴿79﴾ اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ ﴿80﴾ قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ ﴿81﴾ سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ﴿82﴾ فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ ﴿83﴾ وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ ﴿84﴾ وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ﴿85﴾ وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ ﴿86﴾ وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ  ﴿87﴾ وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ  ﴿88﴾ فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠   ﴿89ع الزخرف 43﴾
68. میرے بندو آج تمہیں نہ کچھ خوف ہے اور نہ تم غمناک ہوگے۔ 69. جو لوگ ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرمانبردار ہوگئے۔ 70. (ان سے کہا جائے گا) کہ تم اور تمہاری بیویاں عزت (واحترام) کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ۔ 71. ان پر سونے کی پرچوں اور پیالوں کا دور چلے گا۔ اور وہاں جو جی چاہے اور جو آنکھوں کو اچھا لگے (موجود ہوگا) اور (اے اہل جنت) تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ 72. اور یہ جنت جس کے تم مالک کر دیئے گئے ہو تمہارے اعمال کا صلہ ہے۔ 73. وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہیں جن کو تم کھاؤ گے۔ 74. (اور کفار) گنہگار ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہیں گے۔ 75. جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں نا امید ہو کر پڑے رہیں گے۔ 76. اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہی (اپنے آپ پر) ظلم کرتے تھے۔ 77. اور پکاریں گے کہ اے مالک تمہارا پروردگار ہمیں موت دے دے۔ وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ (اسی حالت میں) رہو گے۔ 78. ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن تم اکثر حق سے ناخوش ہوتے رہے۔ 79. کیا انہوں نے کوئی بات ٹھہرا رکھی ہے تو ہم بھی کچھ ٹھہرانے والے ہیں۔ 80. کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو سنتے نہیں؟ ہاں ہاں (سب سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس (ان کی سب باتیں) لکھ لیتے ہیں۔ 81. کہہ دو کہ اگر خدا کے اولاد ہو تو میں (سب سے) پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوں۔ 82. یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کا مالک (اور) عرش کا مالک اس سے پاک ہے۔ 83. تو ان کو بک بک کرنے اور کھیلنے دو۔ یہاں تک کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے اس کو دیکھ لیں۔ 84. اور وہی (ایک) آسمانوں میں معبود ہے اور (وہی) زمین میں معبود ہے۔ اور وہ دانا (اور) علم والا ہے۔ 85. اور وہ بہت بابرکت ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کی بادشاہت ہے۔ اور اسی کو قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔ 86. اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں جو علم ویقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں (وہ سفارش کرسکتے ہیں)۔ 87. اور اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ تو پھر یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟ 88. اور (بسااوقات) پیغمبر کہا کرتے ہیں کہ اے پروردگار یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ 89. تو ان سے منہ پھیر لو اور سلام کہہ دو۔ ان کو عنقریب (انجام) معلوم ہوجائے گا۔

تفسیر آیات

71۔ وَ فِیْهَا۔۔۔۔ الْاَعْیُنُ۔نفس و عین کی لذات کی اس تصریح نے  حسی و بصری لذات کی اس صراحت نے ان باطل فرقوں کی جڑ کاٹ دی، جو سمجھتے ہیں کہ جنت صرف کیفیات ِ روحانی کا محل ہے اور لذات مادّی کا وہاں پتانشان ہی نہ ہوگا۔(تفسیر ماجدی)

72۔اگر کوئی عزت افزائی بلا استحقاق ہو تو دل کو اس سے سچی خوشی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کے اس پہلو کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ (تدبرِ قرآن)

75۔ یُفَتَّرُ فتر بمعنی کسی چیز کی قوت یا رفتار میں بتدریج کمی واقع ہوتے جانا۔قوت کے بعد کمزوری ،تیزرفتاری کے بعد آہستہ آہستہ رفتار سست ہوتے جانا اور فتور کے معنی تیزی کے بعد سستی یا ٹھہراؤ۔ گویا اہلِ دوزخ کو جو عذاب دیا جائے گا اس میں نہ تو کمی واقع ہوگی اور نہ ہی کبھی کوئی وقفہ پڑے گا ۔مدت ہائے مدید جب ان پرایسا سخت عذاب ہی ہوتارہے گا اور اس میں کوئی کمی یا وقفہ نہ آئے گاتو ایسی کمی یا وقفہ سے وہ بلآخر مایوس ہوجائیں گے۔(تیسیر القرآن) 

77۔یٰمٰلِكُ۔مالک لقب ہے داروغۂ جہنم کا۔(تفسیر ماجدی)

79۔ اشارہ ہے ان باتوں کی طرف جو سرداران قریش اپنی خفیہ مجلسوں میں رسول اللہ ﷺ کے خلاف کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانے کے لیے کر رہے تھے۔(تفہیم القرآن)

۔ قوم جب تک رسول کی دعوت کے باب میں مذبذب رہتی ہے اس وقت تک تو اللہ تعالیٰ اس کو مہلت دیتا ہے لیکن جب وہ داعی اور دعوت کو ختم کردینے کا حتمی فیصلہ کرلیتی ہے تو اس کے باب میں خدا کا آخری فیصلہ بھی ظہور میں آجاتا ہے۔(تدبرِ قرآن)

88۔ یہ مضمون نہایت دوٹوک انداز میں سورہ سبا کی آیات 40اور 41 میں اور سورہ احقاف کی آیات 5 اور6 میں بیان ہواہے۔حضرت عیسیٰؑ کے اظہار برأت کے لیے دیکھیے سورہ مائدہ (5)آیت116۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

۔یہ قرآن مجید کی نہایت مشکل آیات میں سے ہے (تفہیم القرآن)

۔وَقِيْلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۔ یہ جملہ اس بات کو واضح کرنے کے لئے لایا گیا ہے کہ ان کافروں پر غضب خداوندی نازل ہونے کے کتنے شدید اسباب موجود ہیں۔ ایک طرف تو ان کے جرائم فی نفسہ سخت ہیں، دوسری طرف وہ رسول جو رحمتہ للعالمین اور شفیع المذنبین بنا کر بھیجے گئے ہیں ﷺ جب خود ان لوگوں کی شکایت کریں اور یہ فرمائش کہ یہ لوگ بار بار فہمائش کے باوجود ایمان نہیں لاتے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو   کس قدر اذیت پہنچائی ہوگی، ورنہ معمولی تکلیف پر رحمت للعالمین ﷺ اللہ تعالیٰ سے ایسی پردرد شکایت نہ فرماتے۔ اس تفسیر کے مطابق وَ قِیْلِهٖ ایک آیت پہلے کے لفظ السَّاعَة پر معطوف ہے، اس آیت کی اور بھی متعدد تفسیریں کی گئی ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہاں واؤ عطف کی نہیں بلکہ قسم کی ہے۔ یٰرَبِّ”قیل“ کا مقولہ ہے اور اِنَّ هٰؤُلَآءِالخ جواب قسم ہے۔ ان تفسیروں کی تفصیل اہل علم روح المعانی وغیرہ میں دیکھ سکتے ہیں۔ (معارف القرآن)

89۔ سلام یہاں وداع کے مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑو اور ان سے اس طرح درگزر کرو جس طرح ابراہیمؑ نے اپنے باپ سے درگزر کیا۔(ترجمہ: مولاناامین احسن اصلاحیؒ)