44 - سورة الدخان (مکیہ)

رکوع - 3 آیات - 59

مضمون:  قرآن اور رسالت کا اثبات اس پہلو سے کہ منکرین کا انجامِ بد دنیا میں بھی یقینی ہے اور آخرت میں بھی۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

مرکزی مضمون: انکارِ دعوتِ قرآن اور انکار توحید و آخرت کی سزا ہلاکتِ دنیا اور عذاب جہنم ہے۔

نام : آیت نمبر 10 میں دخان یعنی دھوئیں کا ذکر ہے جو عذاب ِ الٰہی کی علامت ہے اس لئے اس سورت کا نام الدُخان رکھا گیا ہے۔

شانِ نزول: رسول اللہؐ کے قیام مکہ کے تیسرے دور (6 تا 10 سنِ نبوی) میں 7 سن نبوی کے زمانۂ میں نازل ہوئی۔

نظمِ کلام: سورۂ سبا

ترتیب مطالعۂ و اہم مضامین: (i)ر۔1(احکام ِ الٰہی سے روگردانی کا انجام)(ii)ر۔2(فیصلے کا دن مقرر ہے) (iii)ر۔3(منکرین آخرت کا انجامِ بد اور متقین کیلئے انعامات).(تعلیم القرآن)


پہلا رکوع

حٰمٓۚۛ  ﴿1﴾ وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ  ﴿2﴾ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ ﴿3﴾ فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ  ﴿4﴾ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ  ﴿5﴾ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ  ﴿6﴾ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ ﴿7﴾ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ ﴿8﴾ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ ﴿9﴾ فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ  ﴿10﴾ یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿11﴾ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ ﴿12﴾ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ  ﴿13﴾ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ  ﴿14﴾ اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ  ﴿15﴾ یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ ﴿16﴾ وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ  ﴿17﴾ اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ  ﴿18﴾ وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ  ﴿19﴾ وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘  ﴿20﴾ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ ﴿21﴾ فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ ﴿22﴾ فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ  ﴿23﴾ وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ ﴿24﴾ كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ  ﴿25﴾ وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ  ﴿26﴾ وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ  ﴿27﴾ كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ ﴿28﴾ فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠   ۧ ۧ ﴿29ع الدخان 44﴾
1. حٰم۔ 2. اس کتاب روشن کی قسم۔ 3. کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا ہم تو رستہ دکھانے والے ہیں۔ 4. اسی رات میں تمام حکمت کے کام فیصل کئے جاتے ہیں۔ 5. (یعنی) ہمارے ہاں سے حکم ہو کر۔ بےشک ہم ہی (پیغمبر کو) بھیجتے ہیں۔ 6. (یہ) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ وہ تو سننے والا جاننے والا ہے۔ 7. آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگ یقین کرنے والے ہو۔ 8. اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) جِلاتا ہے اور (وہی) مارتا ہے۔ وہی تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا پروردگار ہے۔ 9. لیکن یہ لوگ شک میں کھیل رہے ہیں۔ 10. تو اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے صریح دھواں نکلے گا۔ 11. جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ درد دینے والا عذاب ہے۔ 12. اے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کر۔ ہم ایمان لاتے ہیں۔ 13. (اس وقت) ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جب کہ ان کے پاس پیغمبر آچکے جو کھول کھول کر بیان کر دیتے ہیں۔ 14. پھر انہوں نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہنے لگے (یہ تو) پڑھایا ہوا (اور) دیوانہ ہے۔ 15. ہم تو تھوڑے دنوں عذاب ٹال دیتے ہیں (مگر) تم پھر کفر کرنے لگتے ہو۔ 16. جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے تو بےشک انتقام لے کر چھوڑیں گے۔ 17. اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی آزمائش کی اور ان کے پاس ایک عالی قدر پیغمبر آئے۔ 18. (جنہوں نے) یہ (کہا) کہ خدا کے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کردو میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔ 19. اور خدا کے سامنے سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے پاس کھلی دلیل لے کر آیا ہوں۔ 20. اور اس (بات) سے کہ تم مجھے سنگسار کرو اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں۔ 21. اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہو جاؤ۔ 22. تب موسیٰ نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ یہ نافرمان لوگ ہیں۔ 23. (خدا نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ اور (فرعونی) ضرور تمہارا تعاقب کریں گے۔ 24. اور دریا سے (کہ) خشک (ہو رہا ہوگا) پار ہو جاؤ (تمہارے بعد) ان کا تمام لشکر ڈبو دیا جائے گا۔ 25. وہ لوگ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے۔ 26. اور کھیتیاں اور نفیس مکان۔ 27. اور آرام کی چیزیں جن میں عیش کیا کرتے تھے۔ 28. اسی طرح (ہوا) اور ہم نے دوسرے لوگوں کو ان چیزوں کا مالک بنا دیا۔ 29. پھر ان پر نہ تو آسمان کو اور زمین کو رونا آیا اور نہ ان کو مہلت ہی دی گئی۔

تفسیر آیات

3۔کتاب مبین کی قسم کھانے کا مطلب:  سورة  زخرف حاشیہ نمبر 1 میں بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں بھی قسم جس بات پر کھائی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف محمد ﷺ نہیں ہیں بلکہ "ہم" ہیں۔۔۔۔۔اس کے بعد مزید بات یہ فرمائی گئی کہ وہ بڑی خیر و برکت والی رات تھی جس میں اسے نازل کیا گیا۔ (تفہیم القرآن)

۔لَیْلَةٌ مُّبٰرَكَة جمہور مفسرین کے نزدیک شبِ قدر ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہے۔بعض کے نزدیک شبِ برأت ہے جو پندرہویں شعبان کی رات ہے مگریہ قرآنی نصوص کےخلاف ہے(شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ اور اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ) شب برأت کی فضیلت اگر چہ ضعیف احادیث مگر تعدد طرق اور تعدد روایات سے ان کو ایک قوت حاصل ہو گئی ہے۔بہت سے مشائخ نے ان کو قبول کیا کیونکہ فضائلِ اعمال میں ضعیف روایات پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔مگر اس کی بنیاد پر بے شمار خرافات دینی لٹریچر میں شامل ہو گئی ہیں۔)معارف القرآن(

ــــ ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد نصف شعبان کی رات ہے، لیکن محدثانہ رنگ کے مفسر ابن کثیر نے اس کی تردید پُرزور طریقے سے کی ہے۔(تفسیر ماجدی)

سورۃ قدر میں یہی مضمون اس طرح بیان کیا گیا ہے: تَنَزَّلُ الْمَلَآئِكَـةُ وَالرُّوْحُ فِيْـهَا بِاِذْنِ رَبِّـهِـمْ مِّنْ كُلِّ اَمْرٍ " اس رات ملایکہ اور جبرئیل اپنے رب کے اذن سے ہر طرح کا حکم لے کر اترتے ہیں"۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے شاہی نظم  و  نسق میں یہ ایک ایسی رات ہے جس میں وہ افراد اور قوموں اور ملکوں کی قسمتوں  کے فیصلے کر کے اپنے فرشتوں کے حوالے کر دیتا ہے اور پھر وہ انہی  فیصلوں کے مطابق عملدرآمد کرتے رہتے ہیں۔ بعض مفسرین کو جن میں حضرتِ عکرمہ سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔ یہ شبہ  لاحق ہوا ہے کہ یہ  نصف شعبان کی رات ہے کیوں کہ بعض احادیث   میں اسی رات کے متعلق  یہ بات منقول ہوئی ہے  کہ اس میں قسمتوں کے فیصلے کیے جاتے ہیں ۔ لیکن ابنِ عباس، ابنِ عمر، مجاہد، قتادہ، حسن بصری، سعید بن جبیر، ابن ِ زید، ابو مالک، ضحاک اور دوسرے بہت سے مفسرین،اس بات پر متفق ہیں کہ یہ رمضان کی وہی رات ہے جسے لیلۃ القدر کہا گیا ہے۔ اس لیے کہ قرآن  مجید  خود اس کی تصریح کر رہا ہے،اورجہاں قرآن کی صراحت موجود ہو وہاں  اخبار احاد کی بنا پر کوئی دوسری رائے  نہیں قائم کی جا سکتی۔ابنِ کثیر کہتے ہیں کہ " عثمان بن محمد کی جو روایت امام زہری نے شعبان سے شعبان تک قسمتوں کے فیصلے ہونے کے متعلق نقل  کی ہے وہ ایک مرسل روایت ہے ،اور ایسی روایات  نصوص کے مقابلے میں نہیں لائی جا سکتیں" قاضی ابو بکر ابن العربی کہتے ہیں کہ " نصف شعبان کی رات کے متعلق کوئی حدیث قابلِ اعتماد نہیں ہے، نہ اس کی فضیلت کے بارے میں اور نا اس امر میں کہ اس رات  قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ لہٰذا    ان کی طرف التفات  نہیں کرنا چاہیے۔ (تفہیم القرآن)

اس سیاق وسباق میں اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کو بیان کرنے سے مقصود لوگوں کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ صحیح علم صرف وہی دے سکتا ہے، کیونکہ تمام حقائق کو وہی جانتا ہے۔ ایک انسان تو کیا، سارے انسان مل کر بھی اگر اپنے لیے کوئی راہ حیات متعین کریں تو اس کے حق ہونے کی کوئی ضمانت نہیں، کیونکہ پوری نوع انسانی یکجا  ہو کر بھی ایک سمیع وعلیم نہیں بنتی۔ اس کے بس میں یہ ہے ہی نہیں کہ ان تمام حقائق کا احاطہ کرے جن کا جاننا ایک صحیح راہ حیات متعین کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ وہی سمیع وعلیم ہے، اس لیے وہی یہ بتاسکتا ہے کہ انسان کے لیے ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیا، حق کیا ہے اور باطل کیا، خیر کیا ہے اور شر کیا۔ (تفہیم القرآن)

10۔ دُخَانٌ مُّبِیْن  کے متعلق صحابہ و تابعین کے تین اقوال منقول ہیں (i)یہ علاماتِ قیامت میں سے ایک ہے (ii) اس کا مصداق مکہ مکرمہ کا قحط ہے اور انہیں آسمان دھوئیں کی مانند نظر آتا تھا(iii) وہ گردوغبار جو فتح مکہ کے وقت آسمان پر چھا گیا ۔تیسرے کو ابنِ کثیر نے قول ِ غریب کہا ہے۔حاظ ابن کثیرؒ نے احادیث کی بنیاد پر پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔(معارف القرآن)

ـــ دخان مبین سے کیا مراد ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ دخان مبین سے کیا مرادہے؟ دخان کے معنی دھوئیں کے ہیں۔ اور اس کے ساتھ مبین کی صفت کا واضح مطلب یہی معلوم ہوتاہے کہ دھواں ایسا ہوگا کہ ہر کہ و مہ اور ہرچھوٹے بڑے کو بالکل نمایاں نظر آئے گا۔کسی کے لیے بھی اس میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہوگی۔مفسرین میں سے ایک گروہ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ دھواں ظہور قیامت کے وقت ظاہر ہوگا۔۔۔۔۔ایک دوسرے گروہ نے اس سے ایک قحط مراد لیا ہے جو ان کے بیان کے مطابق، ہجرت کے بعد نبیؐ کی بددعاکے نتیجہ میں قریش پر آیا۔۔۔۔۔عام طورپر ہمارے مفسرین نے اسی دوسرے قول کو اختیار کیا ہے لیکن مجھے اس میں کئی باتیں کھٹکتی ہیں۔ اول یہ کہ اپنی پوری قوم کے لیے نبیؐ کی طرف سے اس طرح کی بددعا کا ذکر صرف اس تفسیری روایت ہی میں ملتاہے۔اس کے سوا کوئی اور شہادت اس کی موجود نہیں ہے کہ حضورؐ نے اپنی قوم کے لیے بددعا فرمائی ہو۔۔۔۔۔دوسری یہ کہ ہجرت کے بعد سب سے زیادہ نازک موقع حدیبیہ کا موقع ہے جب قریش کی عصبیّت جاہلیت بالکل عریاں ہوکر سامنے آئی اور مسلمانوں کے جذبات ان کے خلاف آخری حدتک مشتعل ہوگئے۔لیکن اس موقع پر بھی آپؐ نے قریش کے لیے کوئی بددعانہیں کی۔۔۔۔۔تیسری یہ کہ یہاں نبیؐ کو نہ کسی دعاکی ہدایت کی گئی ہے نہ کسی بددعاکی، بلکہ صبر کے ساتھ ایک ایسے دن کے انتظار کی ہدایت فرمائی گئی ہے جس دن آسمان ایک ایسے دھویں کے ساتھ نمودار ہو گا جو پوری قوم پر چھا جائے گا اور جو زبان حال سے منادی کرے گا کہ یہ وہی درد ناک عذاب ہے جس سے لوگوں کو آگاہ کیا گیا لیکن لوگ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔۔۔۔چوتھی یہ کہ قحط کی تعبیر 'دخان مبین' سے کوئی موزوں تعبیر نہیں ہے۔۔۔۔۔ان وجوہ سے قحط والی روایت اگر صحیح بھی ہے تو اس کا تعلق اس آیت سے نہیں ہے۔ ہوسکتاہے کہ کوئی قحط پڑا ہو،یہ بھی امکان ہے کہ یہ قحط بہت سخت ہوگیا ہو۔۔۔۔۔'دخان مبین'کی تعبیر سے ذہن اگر منتقل ہوتاہے تو قحط کی طرف نہیں بلکہ'حاصب'کے عذاب کی طرف منتقل ہوتاہے۔۔۔۔۔قوم عاد پر جب عذاب آیا تو انہوں نے فضا کے سیاہ غبار کو ابرِ سیاہ خیال کیا۔۔۔۔۔'حاصب'کا عذاب اپنے ابتدائی مرحلہ میں اُٹھتے ہوئے ابریا دھوئیں ہی کی شکل میں نظر آتاہے۔۔۔۔یہ دھمکی جیساکہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ مخالفین اگر رسول کی تکذیب کردیں گے تو ان پر عذاب آجائے گا لیکن مشرکین قریش کی اکثریت جیسا کہ معلوم ہے آہستہ آہستہ مسلمان ہو گئی۔۔۔۔۔چنانچہ قریش بحیثیت مجموعی اللہ کے عذاب سے محفوظ رہے۔صرف ان کے وہ اشرار مسلمانوں کی تلواروں کی زد میں آئے جو ان پر حملہ آورہوئے۔۔۔۔۔ یَغْشَى النَّاسَ-هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ یہ اس عذاب کی شدت کی تعبیر ہے کہ وہ لوگوں کو اس طرح چھالے گا کہ کسی کے لیے بھی اس سے فرار کی کوئی راہ باقی نہیں رہے گی۔ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ یہ زبانِ حال یا صورتِ حال کی تعبیر ہے کہ ہر شخص پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ کوئی وقتی جھونکا نہیں ہے جو آیا اور گزرگیا بلکہ قہرِ الٰہی ہے جو سب کی کمر توڑ کے رکھ دے گا۔(تدبرقرآن) 

ـــ روایتوں میں یہ بھی آتا ہے کہ آپؐ نے مکہ والوں کی مصیبت سن کر 500 اشرفیاں رئیس مکہ ابوسفیان کے پاس بھجوادیں کہ وہاں کی قحط زدہ آبادی  میں تقسیم کی جائیں۔۔۔۔۔دُخَانٌ مُّبِیْن۔ بھوک کی شدت اور دماغ کی خشکی میں فضائے آسمانی میں دھواں سانظر آنے لگتاہے ، اسی کو یہاں آسمانی دھوئیں سے تعبیر کیا ہے، کم سے کم یہ محاورۂ عرب کے عین مطابق ہے۔(تفسیر ماجدی)

ــــ دھوئیں سے مراد ریت اور کنکر اڑانے والی آندھی کا عذاب ہے جو عرب کی قدیم قوموں پر رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں کئی مرتبہ آیا اور اس سے عاد ،ثمود،قوم لوط اور اہل مدین تباہ ہوئے۔ابتدائی مرحلہ میں یہ اٹھتے ہوئے ابر یا دھوئیں ہی کی شکل میں نظر آتاہے ۔یہاں اس عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔(ترجمہ: مولاناا مین احسن اصلاحیؒ)

12۔  یہ واقعہ ہے کب کا؟ اہل تفسیر اس باب میں خود مضطرب ہیں، ایک قول یہ ہے کہ اس کا وقوع قبل ہجرت حضورؐ کے قیام مکہ میں ہی ہواتھا۔۔۔۔لیکن انہی  روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ واقعہ ہجرت کے بہت بعد سنہ7ھ کے آغاز میں پیش آیا ،جب قریش مکہ پر زمین یوں بھی تنگ ہورہی تھی۔۔۔۔۔جب وہ یمامہ پہنچے تو انہوں نے اپنی قوم والوں کو منع کردیا کہ اب مکہ والوں کو کچھ نہ بھیجیں، اس پر مکہ والوں نے رسول اللہؐ کو لکھا کہ تم حکم تو اہل قرابت کے ساتھ حسن سلوک کا دیتے ہو،لیکن خود ہی قطع رحم کرتے ہو، بڑوں کو تلوار سے مارچکے ہو،اور بچوں کو بھوک سے ماررہے ہو،اس پر آپ نے ثمامہ کو لکھ بھیجا کہ قریش کے ساتھ بدستور معاملت جاری رکھیں"۔(تفسیر ماجدی)

13۔ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ کے دو مطلب ہیں۔  ایک یہ کہ اس کا رسول ہونا اس کی سیرت، اس کے اخلاق و کردار اور اس کے کارناموں سے بالکل عیاں ہے۔ دوسرے یہ کہ اس نے حقیقت کو کھول، کھول کر بیان کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔ (تفہیم  القرآن)

16۔  الْبَطْشَةُ الْكُبْرٰى سے مراد عذاب آخرت ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکن بعضوں نے اس سے مراد یوم بدر بھی لی ہے،یعنی قریش کو پوری سزا بدر میں ملے گی۔(تفسیر ماجدی)

۔ قحط کا دھواں اور قیامت کا دھواں ۔ تقابل  صفحہ 563 سے 565 (تفہیم القرآن)

17۔ قریش اور قوم فرعون کے حالات میں مشابہت کی طرف قرآن نے جگہ جگہ اشارے کئے ہیں یہاں بھی اس کی طرف اشارہ ہے۔۔۔۔۔ (تدبرِ قرآن)

18۔یہ بات ابتدا ہی میں سمجھ لینی چاہیے کہ یہاں حضرت موسیٰ کے جو اقوال نقل کیے جا رہے ہیں وہ ایک وقت میں ایک ہی مسلسل تقریر کے اجزا نہیں ہیں، بلکہ سالہا سال کے دوران میں مختلف مواقع پر جو باتیں انہوں نے فرعون اور اس کے اہل دربار سے کہی تھیں ان کا خلاصہ چند فقروں میں بیان کیا جا رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)

۔اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ"اے اللہ کے بندو!میراحق مجھے اداکرو"یعنی میری بات مانو اور مجھ پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ کی طرف سے تم پر میرا حق ہے ۔اور مابعدکا جملہ کہ"میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں"اس دوسرے مطلب سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔(تیسیر القرآن)

19۔   سُلْطٰنٌ مُّبِیْن سے اشارہ عصا اور ید بیضاء کے معجزات کی طرف ہے۔ یعنی میں سفیر الٰہی ہونے کی اپنے پاس نہایت واضح سند رکھتا ہوں۔ (تدبرِ قرآن)

20۔ ۔۔۔اگر تم لوگ مجھے سنگسار کرنے کی نیت رکھتے ہو تو میں اپنے آپ کو اس رب کی پناہ میں دیتا ہوں جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ وَ رَبِّكُمْ(اور تمہارا بھی رب ہے) کے الفاظ میں ایک مئوثر اپیل بھی ہے، نہایت بلیغ دعوت بھی ہے اور نہایت پروقار تنبیہ بھی اور ساتھ ہی اس میں یہ طنز بھی مخفی ہے کہ اس خناس کے کہے میں آ کر جو تمہارا رب اعلیٰ بنا ہوا بیٹھا ہے کوئی ایسی حرکت نہ کر گزرنا جو تمہاری ساری قوم کا بیڑا ہی غرق کر دے۔(تدبرِ قرآن)

21۔ یعنی اگر تم میری دعوت قبول نہیں کرتے تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دواور مجھے ایذا نہ پہنچاؤ۔ورنہ تم کبھی اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکوگے۔اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو نہ لاؤ۔مگر میری راہ نہ روکو اور بنی اسرائیل کو میرے ہمراہ جانے دو۔(تیسیر القرآن)

24۔ یہ حکم اس وقت دیا گیا جب حضرت موسیٰ ؑ اپنے قافلہ کو لے کر سمندر پار کرچکے تھے اور چاہتے تھے کہ سمندر پر عصا مار کر اسے پھر ویسا ہی کردیں جیسا وہ پھٹنے سے پہلے تھا۔ (تفہیم القرآن)

28۔ یہ دوسری قوم کون تھی  جو فرعون اور اٰل فرعون کے محلات، باغات،چشموں اور کھیتوں کی وارث بنی تھی؟ اس کے متعلق بھی اختلاف ہے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل ہی کے کچھ لوگ مصرمیں باقی رہ گئے تھے۔ جو فرعون اور آلِ فرعون کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد ان چیزوں کے وارث بن گئے تھے۔ اور بعض کا خیال ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے علاوہ کوئی اور لوگ تھے۔قرآن کریم سے دوباتوں کی تائید ہوجاتی ہے۔جیساکہ یہاں بھی"قوماً اٰخرین"کے الفاظ دوسری صورت کی تائید کرتے ہیں۔نیز تاریخ سے بھی فرعون کی غرقابی کے بعد مصر میں بنی اسرائیل کی حکومت ثابت نہیں ہوتی۔(تیسیر القرآن)


دوسرا رکوع

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ  ﴿30﴾ مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ ﴿31﴾ وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ  ﴿32﴾ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ ﴿33﴾ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ  ﴿34﴾ اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ ﴿35﴾ فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴿36﴾ اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ﴿37﴾ وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ ﴿38﴾ مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿39﴾ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ  ﴿40﴾ یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ  ﴿41﴾ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠   ۧ ۧ ﴿42ع الدخان 44﴾
30. اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔ 31. (یعنی) فرعون سے۔ بےشک وہ سرکش (اور) حد سے نکلا ہوا تھا۔ 32. اور ہم نے بنی اسرائیل کو اہل عالم سے دانستہ منتخب کیا تھا۔ 33. اور ان کو ایسی نشانیاں دی تھیں جن میں صریح آزمائش تھی۔ 34. یہ لوگ یہ کہتے ہیں 35. کہ ہمیں صرف پہلی دفعہ (یعنی ایک بار) مرنا ہے اور (پھر) اُٹھنا نہیں۔ 36. پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ۔ 37. بھلا یہ اچھے ہیں یا تُبّع کی قوم اور وہ لوگ جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ ہم نے ان (سب) کو ہلاک کردیا۔ بےشک وہ گنہگار تھے۔ 38. اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے ان کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا۔ 39. ان کو ہم نے تدبیر سے پیدا کیا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ 40. کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن ان سب (کے اُٹھنے) کا وقت ہے۔ 41. جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کو مدد ملے گی۔ 42. مگر جس پر خدا مہربانی کرے۔ وہ تو غالب اور مہربان ہے۔

تفسیر آیات

31۔ اس میں ایک لطیف طنز ہے کفار قریش کے سرداروں پر۔ مطلب یہ ہے کہ حد بندگی سے تجاوز کرنے والوں میں تمہارا مرتبہ اور مقام ہی کیا ہے۔ بڑے اونچے درجے کا سرکش تو وہ تھا جو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کے تحت خدائی کا روپ دھارے بیٹھا تھا۔ اسے جب خس و خاشاک کی طرح بہا دیا گیا تو تمہاری کیا ہستی ہے کہ قہر الٰہی کے آگے ٹھہر سکو۔ (تفہیم القرآن)

32۔'جان بوجھ کر'سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا انتخاب اہل عالم کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یونہی اتفاق سے نہیں بلکہ اپنے علم کی بنیاد پر کیا تھا اور ان کو اس کا اہل پایا تھا۔۔۔۔۔بنی اسرائیل جب اللہ کے علم کی بنیادپر اس کے اہل نہیں رہے تو ان کو معزول کرکے ہدایت خلق کی ذمہ داری امت مسلمہ کے سپرد ہوئی ۔(ترجمہ: مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

33۔بَلٰٓؤٌا۔یہاں مصیبت کے معنی میں نہیں،انعام کے معنی میں ہے۔۔۔۔لیکن اگر وہی عام معنی آزمائش ہی کے رکھے جائیں،جب بھی "آیات"کا آزمائشی پہلو بھی بالکل ظاہرہے۔(تفسیر ماجدی)

37۔قوم تبع کا ذکر :۔  تُبَّع شاہان یمن کا لقب ہے۔جو حمیری قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جیسے ایران کے بادشاہوں کا لقب کسریٰ ،روم کے بادشاہوں کا لقب قیصر اور حبشہ کے بادشاہوں کا لقب نجاشی تھا۔ 'تُبَّع' قوم تبع کے جدامجد کا نام تھا۔ یہ بذاتِ خود ایک ایماندارآدمی تھا اور اپنے وقت میں اس کا ڈنکا بجتا تھا۔اس نے بہت سے علاقے بھی فتح کرلیے تھے۔مگر اس کے بعد میں آنے والے لوگ کفروشرک میں مبتلا ہوگئے اور اللہ سے سرکشی کی راہ اختیار کرلی تھی۔ ان بادشاہوں کا زمانہ 115 ق م سے 300ء تک ہے۔عرب میں صدیوں تک ان کی عظمت کے افسانے زبان زد خلائق رہے۔۔۔۔۔کفارکے اعتراض کا پہلا جواب تاریخ سے متعلق:۔ پہلے کے لوگوں سے مراد قوم عاد، قوم ثمود، قوم ابراہیم نیز نمرود،شداد اور فراعنہ مصر وغیرہ ہیں۔اپنے اپنے دورمیں ان سب قوموںکی عظمت کا ڈنکا بجتا تھا۔اور یہ سب لوگ اللہ کے نافرمان اور آخرت کے منکر تھے اور یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ جس قوم نے بھی آخرت کا انکار کیا وہ اخلاقی انحطاط فتنہ و فساد اور ظلم و جور میں مبتلا ہوگئی اور بلآخر اسے تباہ کردیا گیا۔کفار مکہ سے پوچھا یہ جارہاہے کہ ان قوموں نے جب آخرت کا انکار کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی تو ان کو ہلاک کرڈالا گیا تھا۔ حالانکہ وہ تم سے ہر لحاظ سے بہتر تھے تو پھر تم کس کھیت کی مولی ہوکہ تم اپنے انجام سے بچ جاؤگے۔یہ گویا کفار مکہ کی اس کٹ حجتی"کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارےآباء و اجداد کو لاکے دکھا دوکا پہلا جواب ہے جو تاریخ سے تعلق رکھتاہے۔"(تیسیر القرآن)

۔ یہ کفار کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ انکار آخرت وہ چیز ہے جو کسی شخص، گروہ یا قوم کو مجرم بنائے بغیر نہیں رہتی۔ اخلاق کی خرابی اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ (تفہیم القرآن)

ــــ بہرحال اہل عرب تبع کی عظمت و شان سے خوب اچھی طرح واقف تھے،بلکہ ان کے ہاں تبع کی عظمت  و جلالت بطور ضرب المثل مشہور و زبان زد عام تھی۔۔۔۔نیز ملاحظہ ہو،حاشیہ سورۂ ق(آیت:14)و حاشیہ سورۂ البروج(4)(تفسیر ماجدی)

39 ۔  اس جہاں  کو   کھیل  تماشے  کے طور  پر  نہیں   بنایا  بلکہ  ایک  برتر  غایت  اور مقصد   حق  کے ساتھ   پیدا کیا   ۔  معنی یہ  ہوئے  کہ اس کا  خالق  ، نعوذ باللہ  کوئی   کھلنڈرا ہے    جو  آسمانوں  پر  بیٹھا  ہوا   ظلم   و مظلومی    کا تماشا  دیکھ  رہا  ہے  اور  جب  اس کا جی  اس تماشے   سے بھر  جائیگا  تو اسکو  توڑ پھوڑ   کر رکھ  دیگا  یا یونہی   یہ تماشا   جاری  رہیگا  ۔(  تدبر  قرآن)

۔ یہ ان کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی حیات بعد الموت اور آخرت کی جزا و سزا کا منکر ہے وہ دراصل اس کارخانہ عالم کو کھلونا اور اس کے خالق کو نادان بچہ سمجھتا ہے، اسی بناء پر اس نے یہ رائے قائم کی ہے کہ انسان دنیا میں ہر طرح کے ہنگامے برپا کر کے ایک روز بس یونہی مٹی میں رل مل جائے گا اور اس کے کسی اچھے یا برے کام کا کوئی نتیجہ نہ نکلے گا۔ حالانکہ یہ کائنات کسی کھلنڈرے کی نہیں بلکہ ایک خالق حکیم کی بنائی ہوئی ہے اور کسی حکیم سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ وہ فعل عبث کا ارتکاب کرے گا۔ انکار آخرت کے جواب میں یہ استدلال قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے، ہم اس کی مفصل تشریح کرچکے ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد، اول،الانعام   حاشیہ   : 46 ، یونس   حواشی : 10 -11 ، الانبیا حواشی :  16 -17 ، المؤمنون  حواشی :  101 -102  ، الروم  حواشی :  4 – تا  10 ) (تفہیم القرآن)

40۔ یہ ان کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ " اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو "۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی بعد موت کوئی تماشا تو نہیں ہے کہ جہاں کوئی اس سے انکار کرے، فوراً ایک مردہ قبرستان سے اٹھا کر اس کے سامنے لا کھڑا کیا جائے۔ اس کے لیے تو رب العالمین نے ایک وقت مقرر کردیا ہے۔ (تفہیم القرآن)


تیسرا رکوع

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ  ﴿43﴾ طَعَامُ الْاَثِیْمۖ ۛ ۚ  ﴿44﴾ كَالْمُهْلِ١ۛۚ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ  ﴿45﴾ كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ ﴿46﴾ خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ  ﴿47﴾ ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ  ﴿48﴾ ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ ﴿49﴾ اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ ﴿50﴾ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ  ﴿51﴾ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ  ﴿52﴾ یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚ ۙ  ﴿53﴾ كَذٰلِكَ١۫ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ  ﴿54﴾ یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ  ﴿55﴾ لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى١ۚ وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ  ﴿56﴾ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ﴿57﴾ فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ ﴿58﴾ فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۠   ۧ ۧ ﴿59ع الدخان 44﴾
43. بلاشبہ تھوہر کا درخت۔ 44. گنہگار کا کھانا ہے۔ 45. جیسے پگھلا ہوا تانبا۔ پیٹوں میں (اس طرح) کھولے گا۔ 46. جس طرح گرم پانی کھولتا ہے۔ 47. (حکم دیا جائے گا کہ) اس کو پکڑ لو اور کھینچتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ لے جاؤ۔ 48. پھر اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی انڈیل دو (کہ عذاب پر) عذاب (ہو)۔ 49. (اب) مزہ چکھ۔ تو بڑی عزت والا (اور) سردار ہے۔ 50. یہ وہی (دوزخ) ہے جس میں تم لوگ شک کیا کرتے تھے۔ 51. بےشک پرہیزگار لوگ امن کے مقام میں ہوں گے۔ 52. (یعنی) باغوں اور چشموں میں۔ 53. حریر کا باریک اور دبیز لباس پہن کر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ 54. اس طرح (کا حال ہوگا) اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی سفید رنگ کی عورتوں سے ان کے جوڑے لگائیں گے۔ 55. وہاں خاطر جمع سے ہر قسم کے میوے منگوائیں گے (اور کھائیں گے)۔ 56. (اور) پہلی دفعہ کے مرنے کے سوا (کہ مرچکے تھے) موت کا مزہ نہیں چکھیں گے۔ اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔ 57. یہ تمہارے پروردگار کا فضل ہے۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔ 58. ہم نے اس (قرآن) کو تمہاری زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں۔ 59. پس تم بھی انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔

تفسیر آیات

43۔ زَقُّوْم کے معنی کسی نے یہ بھی بیان کئے ہیں کہ یہ قوم بربر کی زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں،اس پر فقیہ مالکی مفسر ابن العربیؒ بڑے غصہ کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ایسے قول کسی جاہل ہی کے ہوسکتے ہیں۔(تفسیر ماجدی)

51۔ اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ مَقَامٍ اَمِيْنٍ ، ان آیات کے ذریعہ جنت کی سرمدی نعمتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور نعمت کی تقریباً تمام اصناف کو جمع کردیا گیا ہے۔ کیونکہ انسانی ضرورت کی چیزیں عموماً یہ ہوتی ہیں۔ عمدہ رہائش گاہ، عمدہ لباس، بہتر شریک زندگی، بہتر ماکولات، پھر ان سب نعمتوں کے باقی رہنے کی ضمانت اور رنج و تکلیف سے کلی طور پر مامون رہنے کا یقین ۔یہاں ان چھ کی چھ باتوں کو اہل جنت کے لئے ثابت کردیا گیا ہے جیسا کہ ان چھ آیتوں پر غور کرنے سے صاف ظاہر ہے۔ یہاں اہل جنت کی قیام گاہ کو ”امین“ (پرامن) کہہ کر اس طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ انسانی رہائش گاہ کی سب سے قابل تعریف صفت اس کا پر امن یعنی خطرات سے محفوظ ہونا ہے۔ (معارف القرآن)

56۔اخروی زندگی میں موت نہیں:۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ اور سیدنا ابوہریرۃؓ دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے  فرمایا کہ:"ایک پکارنے والا جنت کے لوگوں کو پکارے گا اور کہے گا آئندہ تم ہمیشہ تندرست رہوگے کبھی بیمارنہ ہوگے،تم ہمیشہ زندہ رہوگے،کبھی مروگےنہیں، تم ہمیشہ جوان رہوگے کبھی بوڑھے نہیں ہوگے، اور تم ہمیشہ امن اور چین میں رہوگے کبھی کوئی رنج نہ ہوگا"(مسلم۔ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا) (تیسیر القرآن)

57۔  ایک یہ کہ جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد جہنم سے بچائے جانے کا ذکر خاص طور پر الگ فرمایا گیا ہے، حالانکہ کسی شخص کا جنت میں پہنچ جانا آپ اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ جہنم میں جانے سے بچ گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرمانبرداری کے انعام کی قدر انسان کو پوری طرح اسی وقت محسوس ہوسکتی ہے جبکہ اس کے سامنے یہ بات بھی ہو کہ نافرمانی کرنے والے کہاں پہنچے ہیں، اور وہ کس برے انجام سے بچ گیا ہے۔۔۔۔۔دوسری قابل توجہ بات اس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے جہنم سے بچنے اور جنت میں پہنچنے کو اپنے فضل کا نتیجہ قرار دے رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)